Baaghi TV

Tag: ایران

  • اسرائیل کا ایرانی بحریہ کے سربراہ  کو شہید کرنے کا دعویٰ

    اسرائیل کا ایرانی بحریہ کے سربراہ کو شہید کرنے کا دعویٰ

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نیوی کے کمانڈر علی رضا تنگسیری کو بندر عباس میں ایک فضائی حملے میں شہید کر دیا گیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا نے ایک عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ علی رضا تنگسیری کو ساحلی شہر بندر عباس میں ایک کارروائی کے دوران شہید کیا گیا وہ آبنائے ہرمز کی بندش کے فیصلوں میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔

    رپورٹ کے مطابق تنگسیری ان چند اہم کمانڈرز میں شامل تھے جو اس سے قبل بھی حملوں میں محفوظ رہے تھ ۔ وہ 2018 سے اس عہدے پر فائز تھے اور ایران کی بحری حکمت عملی میں اہم کردار رکھتے تھے کمانڈر علی رضا آبنائے ہرمز کی بندش کے منصوبے کے مرکزی ذمہ دار سمجھے جاتے تھے تاہم ایران یا اسرائیلی فوج کی جانب سے اس خبر کی باضابطہ تصدیق ابھی تک نہیں کی گئی۔

    آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، اس پر ایران کے کنٹرول کے باعث شپنگ سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں، شپنگ ڈیٹا کے مطابق یکم مارچ سے 25 مارچ کے درمیان جہازوں کی آمدورفت میں تقریباً 95 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں عام حالات میں روزانہ تقریباً 120 جہاز گزرتے تھے، وہیں اس عرصے میں صرف 155 جہازوں نے یہ راستہ استعمال کیا ایران نے اس اہم گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں، اور بعض جہازوں سے چینی کرنسی یوآن میں ادائیگی لی جا رہی ہے۔

  • ابوظبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے مزید 2 افراد جاں بحق

    ابوظبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے مزید 2 افراد جاں بحق

    ابوظبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے مزید 2 افراد جاں بحق جبکہ 3 زخمی ہوگئے۔

    ابو ظبی حکام کے مطابق اماراتی فضائی دفاعی نظام نے بیلسٹک میزائل کو تباہ کردیا جس کے بعد سویجان میں بیلسٹک میزائل کا ملبہ گرنے 2 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہوئے،بیلسٹک میزائل کا ملبہ گرنے سے متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے-

    حکام کے مطابق ابوظبی کے علاقے سویحان اسٹریٹ پر اماراتی فضائی دفاعی نظام نے بیلسٹک میزائل تباہ کر دیا تباہ کیے گئے میزائل کا ملبہ گرنے سے متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ گئیں اور صورتِ حال کو قابو میں لے لیا گیا۔

    حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور افواہوں یا غیر مصدقہ خبروں کے پھیلاؤ سے گریز کریں۔

  • خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی : یہودیوں کی حفاظت کیلئے یونان کے جزائر خریدنے کی تجویز

    خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی : یہودیوں کی حفاظت کیلئے یونان کے جزائر خریدنے کی تجویز

    اسرائیل کے ایک سیاستدان کی جانب سے یونان کے جزائر خریدنے کی تجویز دی گئی ہے، یہ تجویز خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ میزائل حملوں کے خدشات کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اسرائیلی سیاسی شخصیت اوری اسٹینر نے تجویز پیش کی کہ یونان کے تقریباً 40 غیر آباد جزائر خرید کر انہیں اسرائیلی شہریوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے،اس تجویز کا مقصد ممکنہ جنگی صورتحال میں شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا بتایا گیا ہے۔

    اسٹینر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس ہزاروں بیلسٹک میزائل موجود ہیں جو اسرائیل کو نشانہ بنا سکتے ہیں، اس لیے متبادل حفاظتی منصوبہ ضروری ہے، انہو ں نے اس تصور کو ایک ’متبادل آئرن ڈوم‘ قرار دیا تاہم اس تجویز کوجلد ہی مسترد کر دیا گیا جیوئش نیشنل فنڈ کی ذیلی کمپنی ہمنوتا کے بورڈ ممبران نے اس منصو بے کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے کے بنیادی مقاصد کے خلاف ہے، بورڈ نے واضح کیا کہ ادارہ اسرائیل یا فلسطینی علاقوں سے با ہر زمین خریدنے کا مجاز نہیں، اس لیے یونان کے جزائر خریدنے کی تجویز قابل عمل نہیں ہے۔

  • پاکستان کی سفارتکاری:بھارتی حکمرانوں کی نیندیں حرام ، بھارتی وزیر خارجہ کی پاکستان کیخلاف نازیبا زبان

    پاکستان کی سفارتکاری:بھارتی حکمرانوں کی نیندیں حرام ، بھارتی وزیر خارجہ کی پاکستان کیخلاف نازیبا زبان

    مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدہ صورتحال اور ایران امریکہ مذاکرات میں پاکستان کے ممکنہ کلیدی کردار سے بھارتی حکمران تلملا اٹھے-

    آل پارٹیز اجلاس کے دوران بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے بیان نے نئی بحث چھیڑ دی، جبکہ اپوزیشن نے حکومتی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھائے ہیں، اپوزیشن ارکان نے سوال اٹھایا کہ جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، تو پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے متحرک ہے، جبکہ بھارت تنہائی کا شکار نظر آ رہا ہے-

    اجلاس میں اپوزیشن نے مودی سرکار کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تزویراتی اہمیت عالمی سطح پر تسلیم کی جا رہی ہے،ایران اور امریکا جیسے بڑے ممالک پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں، بھارت کی ’’وشو گرو‘‘ بننے کی دعویداری صرف بیانات تک محدود رہ گئی ہے،اجلاس کے دوران اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران بھارت کا کردار محدود کیوں دکھائی دے رہا ہے۔

    اپوزیشن کے ان سوالات پر ڈاکٹر جے شنکر اپنا غصہ قابو میں نہ رکھ سکے پاکستان کا نام لیے بغیر جے شنکر نے کہا کہ بھارت کسی دوسرے ملک کے ایجنڈ ے کو آگے بڑھانے والا ’’ایجنٹ” یا ‘‘دلال ملک‘‘ نہیں بنے گا –

  • اقوام متحدہ  میں ایرانی حملوں کیخلاف قرارداد منظور، 100 سے زائد ممالک کی حمایت

    اقوام متحدہ میں ایرانی حملوں کیخلاف قرارداد منظور، 100 سے زائد ممالک کی حمایت

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف ایک اہم قرارداد منظور کر لی گئی ہے، جس کی 100 سے زائد ممالک نے حمایت کی۔

    یہ قرارداد خلیجی ممالک اور اردن کی درخواست پر بلائے گئے ہنگامی اجلاس کے بعد منظور کی گئی، قرارداد میں ایران کے حملوں کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی گئی ہے،اس موقع پر امارات کی وزارت خارجہ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے، خاص طور پر ایسے ممالک میں جو اس تنازع کا حصہ نہیں ہیں۔

    قرارداد میں آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہازرانی میں مداخلت کو عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ موجودہ کشیدگی عالمی تجارت، توانائی کے تحفظ اور سپلائی چین کو متاثر کر رہی ہے قرارداد میں متاثرہ ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کی حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے ، ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر حملے بند کرے، اشتعال انگیزی سے گریز کرے اور متاثرہ فریقین کو مکمل معاوضہ ادا کرے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں ممالک کی جانب سے اس قرارداد کی حمایت ایران پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی سفارتی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔

  • ایران نے  خارگ جزیرے پر  اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط کر دیا

    ایران نے خارگ جزیرے پر اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط کر دیا

    خلیج فارس میں واقع ایران نے اپنے خارگ جزیرے کی حفاظت کے لیے اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔

    امریکی انٹیلی جنس سے واقف ذرائع نے نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کو بتایا کہ ایران نے جزیرے پر اضافی فوجی دستے تعینات کیے ہیں اور فضائی دفاعی نظام کو بھی مزید فعال بنایا ہے، کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ امریکا اس جزیرے پر قبضے کی کوشش کر سکتا ہے۔

    خارگ جزیرہ ایران کی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ ملک کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات یہیں سے ہوتی ہیں امریکی انتظامیہ اس جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے تاکہ ایران پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔

    تاہم امریکی حکام اور فوجی ماہرین اس منصوبے کو انتہائی خطرناک قرار دے رہے ہیں ان کے مطابق ایران نے جزیرے پر تہہ در تہہ دفاعی نظام قائم کر رکھا ہے، جس میں کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل بھی شامل ہیں اس کے علاوہ ایران نے جزیرے کے اطراف میں بارودی سرنگیں بھی بچھا دی ہیں، خاص طور پر ساحلی علاقوں میں، جہاں امریکی فوج ممکنہ طور پر سمندر کے راستے آکر اتر سکتی ہے۔

    امریکی فوج اس سے قبل 13 مارچ کو خارگ جزیرے پر حملے کر چکی ہے، جن میں تقریباً 90 اہداف کو نشانہ بنایا گیا ان میں بارودی سرنگوں کے ذخیرے، میزا ئل بنکرز اور دیگر فوجی تنصیبات شامل تھیں اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ تیل کی تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائی سے امریکی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہےاسرائیلی ذرائع نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر امریکا نے خارگ جزیرے پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو ایران ڈرونز اور میزائل حملوں کے ذریعے شدید ردعمل دے سکتا ہے، جس سے امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

    خلیجی ممالک بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور امریکا کو خبردار کر رہے ہیں کہ زمینی کارروائی سے جنگ مزید طول پکڑ سکتی ہے اور پورے خطے میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہےاس کے بجائے ایران کے میزائل پروگرام کو محدود کرنا زیادہ اہم ہوگا۔

    ایران کی قیادت نے بھی سخت ردعمل دیا ہے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی نے ایرانی جزیرے پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے ایران کی مسلح افواج دشمن کی ہر نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں خطے کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    فوجی ماہرین کے مطابق خارگ جزیرہ سائز میں چھوٹا ہونے کے باوجود اسٹریٹیجک لحاظ سے نہایت اہم ہے، اور اس پر قبضہ کرنے کے لیے امریکا کو بڑی تعداد میں فوجی اور بحری وسائل تعینات کرنے ہوں گے سی این این کا کہنا ہے کہ امریکی میرینز کے خصوصی یونٹس اور ایئر بورن ڈویژن کے اہلکار خطے میں بھیجے جا رہے ہیں، جو ایسی کارروائیوں میں مہارت رکھتے ہیں۔

  • ایران نےمجھے سپریم لیڈر بننے کی پیشکش کی،صدر ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

    ایران نےمجھے سپریم لیڈر بننے کی پیشکش کی،صدر ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نےمجھے سپریم لیڈر بننے کی پیشکش کی ہے-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ریپبلکن فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باوجود پس پردہ مذاکرات جاری ہیں اور تہران جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے انہوں نے (ایران نے) کہا آپ سپریم لیڈر بن جائیں، میں نے کہا ’نو تھینک یو‘ (معذرت)“۔

    ٹرمپ کے مطابق کسی بھی ملک کی سربراہی سے زیادہ مشکل کام ایران کی قیادت ہے اور انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ اس عہدے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے، ایران کے خلاف کارروائیوں کو اس ملک کی ’مکمل تباہی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اس جنگ میں واضح برتری حاصل کر چکا ہے، ایران خفیہ طور پر جنگ بندی چاہتا ہے لیکن داخلی ردعمل کے خوف سے کھل کر سامنے نہیں آ رہا۔

    دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے سرکاری ٹی وی پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ خود سے ہی مذاکرات کر رہے ہیں،ایران کبھی بھی امریکا کے ساتھ اس طرح کا معاہدہ نہیں کرے گا۔

  • ایران کا امریکی لڑاکا طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایران کا امریکی لڑاکا طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک امریکی ایف ایٹین لڑاکا طیارے کو نشانہ بنایا ہے تاہم امریکی فوج نے اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق امریکی جنگی طیارے کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ روس کے خبررساں ادارے آر ٹی نے ایرانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے اس دعوے کے ثبوت کے طور پر ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے، اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر بھی بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے،اس ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے-

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اس دعوے کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے کسی بھی امریکی طیارے کو نشانہ بنانے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اس قسم کے دعوے معلوماتی جنگ کا حصہ ہو سکتے ہیں، جس میں غلط یا غیر مصدقہ ویڈیوز اور خبریں پھیلائی جاتی ہیں تاکہ عوامی رائے کو متاثر کیا جا سکے۔

    ماہرین کے مطابق موجودہ جنگ صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ اب یہ معلوماتی محاذ پر بھی لڑی جا رہی ہے، جہاں دونوں فریق اپنی کامیابیوں کے دعوے کر رہے ہیں۔

  • امریکا کے ساتھ جنگ کا اختتام کیا ہو گا؟ایران کی جانب سے جاری اے آئی ویڈیو نے انٹر نیٹ پر ہلچل مچا دی

    امریکا کے ساتھ جنگ کا اختتام کیا ہو گا؟ایران کی جانب سے جاری اے آئی ویڈیو نے انٹر نیٹ پر ہلچل مچا دی

    ایران کی جانب سے جاری کی گئی مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے تیار کردہ ایک ویڈیو نے انٹر نیٹ پر ہلچل مچا دی ہے-

    53 سیکنڈ کی اس ویڈیو میں امریکا سے بدلہ لینے کے مناظر دکھائے گئے ہیں ویڈیو کا اختتام ایک میزائل حملے پر ہوتا ہے جو نیویارک میں نصب مشہورِ زمانہ مجسمہ آزادی سے ٹکراتا ہے اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے ویڈیو میں مجسمہ آزادی کا سر بدل کر اس کی جگہ ایک قدیم شیطانی دیوتا ’بعل‘ کا سر لگا دکھایا گیا ہے، جسے مذ ہبی اور تاریخی حوالے سے طاقت اور برائی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

    روسی خبر رساں ادارے ’آر ٹی‘ نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے یہ کلپ شیئر کیا ہے جس کا عنوان ’سب کی طرف سے ایک ہی انتقام‘ رکھا گیا ہے، ویڈیو دراصل امریکا کی جانب سے جاری طویل مظالم اور ماضی کے مختلف تنازعات کو ایک کہانی کی شکل میں پیش کرتی ہے،ویڈیو کا آغاز شمالی امریکا کے مقا می قبائل کی زمینوں سے ہوتا ہے جس کے بعد جاپان کے شہر ہیروشیما کے مناظر دکھائے جاتے ہیں جہاں دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکا نے ایٹمی بمباری کی تھی۔

    اس کے بعد کہانی ویتنام کے جنگ زدہ کھیتوں، یمن کی تباہی اور غزہ کے پناہ گزین کیمپوں تک پہنچتی ہے ہر منظر میں وہاں موجود کردار آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں، جو ان ممالک میں امریکی فوجی مداخلت یا مدد سے ہونے والی مبینہ تباہی کی طرف اشارہ ہےاس ویڈیو میں ایپسٹین جزیرے میں کھڑی ایک بچی کو بھی دکھایا گیا ہے جو آسمان کی جانب دیکھ رہی ہے، اس کا مقصد امریکی اشرافیہ اور عالمی رہنماؤں کے غلیظ کارناموں کی طرف اشارہ دلانا تھا۔

    ویڈیو میں جنوبی ایران کے شہر میناب کے ایک اسکول کی بچی کو دکھایا جاتا ہےیہ منظر اس اسکول پر ہونے والے اس ٹوما ہاک میزائل حملے کی یاد دلاتا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 160 سے زائد بچیاں جاں بحق ہوئیں اور اس کا الزام امریکا پر لگایا گیا تھا ویڈیو میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر بھی دکھائی گئی ہیں، جو بالترتیب 2020 اور فروری 2026 میں امریکی و اسرائیلی کارروائیوں میں شہید ہوگئے تھےویڈیو کے آخر میں ایک میزائل بادلوں کو چیرتا ہوا مجسمہ آزادی سے ٹکراتا ہے اور اسے تباہ کر دیتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس میں ’بعل‘ کا سر دکھانا ایک گہرا علامتی پیغام ہے، کیونکہ یہ کردار تاریخی طور پر بت پرستی اور اخلاقی بگاڑ سے منسوب کیا جاتا ہے۔

  • آبنائےسے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائدکرنے کی قانون سازی کی تیاری شروع

    آبنائےسے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائدکرنے کی قانون سازی کی تیاری شروع

    ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کے لیے قانون سازی کی تیاری شروع کر دی ہے، جس نے عالمی سطح پر تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔

    ’الجزیرہ‘ کے مطابق، پارلیمنٹ میں ایک قانونی مسودہ تیار کیا گیا ہے جس کے تحت اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں اور آئل ٹینکرز سے فیس وصول کی جائے گی ایرانی پارلیمنٹ کی متعلقہ کمیٹی کے سربراہ کے مطابق یہ اقدام اس بنیاد پر کیا جا رہا ہے کہ ایران اس بحری گزرگاہ کی سیکیورٹی کو یقینی بناتا ہے، اس لیے دیگر عالمی تجارتی راہداریوں کی طرح یہاں بھی فیس لینا ایک ”فطری عمل“ ہے ایران پہلے ہی اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ آبنا ئے ہرمز پر اس کے اختیار کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جائے، اور یہ مطالبہ اس کی جنگ بندی کی شرائط میں بھی شامل ہے۔

    دوسری جانب اس پیش رفت کے عالمی معیشت پر اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں، خاص طور پر تیل کی عالمی منڈی اس سے متاثر ہوتی دکھائی دے رہی ہے ماہر معاشیات ولیم لی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے اسٹریٹیجک ذخائر سے 172 ملین بیرل تیل جاری کرنا ایک ”نفسیاتی چال“ ہے تاکہ مارکیٹ کو یہ یقین دلایا جا سکے کہ تیل کی سپلائی برقرار رہے گی۔

    انہوں نے وضاحت کی کہ خلیج کے علاقے سے روزانہ 10 سے 15 ملین بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جس کا بڑا حصہ ایشیائی ممالک کو جاتا ہے۔ ان کے مطابق امریکا خود تیل برآمد کرنے والا ملک ہے، اس لیے وہ کسی حد تک محفوظ ہے، لیکن عالمی منڈی میں خلا کو مکمل طور پر پُر کرنا آسان نہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی ذخائر کے استعمال سے وقتی طور پر قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں سپلائی کی کمی برقرار رہ سکتی ہے۔ ولیم لی کے مطابق اصل مسئلہ جنگ کا دورانیہ ہے، اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو تیل کی قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ دیگر بڑی معیشتیں بھی کردار ادا کریں، خاص طور پر چین، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر موجود ہیں تاہم اب تک چین کی جانب سے اپنے ذخائر استعمال کرنے کے کوئی واضح اشارے نہیں ملے۔