Baaghi TV

Tag: ایران

  • ایران: خارگ جزیرے کے قریب ایرانی ٹینکر پر امریکی میزائل حملے کی غیر مصدقہ اطلاعات

    ایران: خارگ جزیرے کے قریب ایرانی ٹینکر پر امریکی میزائل حملے کی غیر مصدقہ اطلاعات

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کے روز خلیج میں ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو امریکی فورسز نے نشانہ بنایا ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی خبر ایجنسی تسنیم نے دعویٰ کیا ہے کہ خارگ جزیرے سے موجود اس کے نمائندے نے بتایا کہ ٹینکر پر 4 امریکی میزائل داغے گئے ہیں رپورٹ کے مطابق یہ حملہ خارگ جزیرے کے لنگر انداز ہونے والے علاقے کے قریب کیا گیا۔

    ایرانی نیوز ویب سائٹ عصر ایران نے بھی دعویٰ کیا کہ ایرانی ٹینکر پر امریکی فورسز کی جانب سے 4 میزائل داغے گئے رپورٹ کے مطابق حملے کے وقت ٹینکر سے تیل اتارا جا رہا تھا تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ حملے میں ٹینکر کو کتنا نقصان پہنچا یا اس میں سوار افراد کس حال میں ہے ایرانی حکام کی جانب سے بھی فوری طور پر اس واقعے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی فوری طور پر اس واقعے کے بارے میں تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا اس لیے ٹینکر پر حملے سے متعلق تسنیم کی رپورٹ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

    اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ خلیج کے علاقے میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، تاہم دھماکوں کے بعد دھوئیں کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔

    ریاست سے وابستہ ایرانی نیوز ویب سائٹ نور نیوز نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ ایسی غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ خارگ جزیرے کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو امریکی فورسز کی جانب سے داغے گئے میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بھی خارگ جزیرے کے حوالے سے سخت بیانات دے چکے ہیں 31 اگست کو سوشل میڈیا پر ایک مختصر پیغام میں، جس کے ساتھ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیو بھی شامل تھی، ٹرمپ نے کہا تھا کہ خارگ جزیرہ مکمل طور پر تباہ کیا جا رہا ہے۔

    اس سے پہلے 11 جون کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ خارگ جزیرے پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں تاہم چند روز بعد انہوں نے کہا کہ جزیرے کے خلاف مجوزہ امریکی فوجی کارروائی فی الحال زیر غور نہیں ہے۔ اس کے بعد 17 جون کو تہران اور واشنگٹن نے جنگ ختم کرنے کے مقصد سے ایک عبوری معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

    اگر خارگ جزیرے یا وہاں موجود تیل کی تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس سے ایران کی تیل کی صنعت اور پہلے ہی مشکلات کا شکار ملکی معیشت پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

    ایرانی حکام پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ اگر خارگ جزیرے کو نشانہ بنایا گیا تو ایران کی جانب سے سخت ردعمل دیا جائے گا تاہم ہفتے کے روز ایرانی ٹینکر پر مبینہ امریکی حملے کے حوالے سے واشنگٹن یا تہران کی جانب سے تاحال کوئی مکمل سرکاری تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

  • ایران نے حملہ کیا تو ’بھرپور طاقت‘ کے ساتھ جوابی کارروائی کریں گے،اسرائیل

    ایران نے حملہ کیا تو ’بھرپور طاقت‘ کے ساتھ جوابی کارروائی کریں گے،اسرائیل

    اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسرائیل ’بھرپور طاقت‘ کے ساتھ جوابی کارروائی کرے گا۔

    اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیلی فوج یہودیوں کے اہم مذہبی تہواروں کے سیزن کے دوران ایران کی جانب سے ممکنہ حملے کے لیے تیار ہے۔ یہ مذہبی تہوار ستمبر کے وسط میں شروع ہونے والے ہیں،فی الحال ایران خطے میں مختلف مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے، تاہم اسرائیل کو بھی ممکنہ ایرانی حملے کا خد شہ ہے انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج دفاعی طور پر مکمل تیار ہے۔

    اسرائیل کاٹز نے واضح کیا کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسرائیل کسی دوسرے ملک کی مدد یا اجازت کا انتظار کیے بغیر خود کارروائی کرے گا ان کے مطابق اسرائیلی جنگی طیارے حملے کے لیے تیار ہیں-

    اسرائیلی وزیر دفاع نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب ایرانی فورسز نے خطے کے مختلف مقامات پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں کی ہیں،تاہم اسرائیلی وزیر دفاع کے بیان سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

  • ایران کی موجودہ ترجیح نہ جنگ ہے اور نہ ہی مذاکرات،محمد رضا نقدی

    ایران کی موجودہ ترجیح نہ جنگ ہے اور نہ ہی مذاکرات،محمد رضا نقدی

    ایران کے سپریم لیڈر کے عسکری مشیر جنرل محمد رضا نقدی نے ایران کی میزائل صلاحیتوں میں کمی کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے 90 فیصد سے زائد میزائل بدستور موجود اور محفوظ ہیں۔

    الجزیرہ نے ایرانی خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا ہے کہ محمد رضا نقدی نے جنگ کے بعد ایران کی فوجی تنصیبات اور دفاعی پیداوار کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جن مراکز کو جنگ کے دوران نقصان پہنچا تھا، انہیں نئے اور نسبتاً محفوظ مقامات پر منتقل کرکے دوبارہ فعال کردیا گیا ہے،اور ہ جو میزائل کم ہوئے وہ جنگ کے دوران داغے گئے تھے اور ان کی جگہ نئے میزائل حاصل کر لیے گئے ہیں،جبکہ ایران کا میزائل بنانے کا نظام خود کفیل اور طویل عرصے تک برقرار رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    ایرانی عہدیدار کے مطابق ان مراکز میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے، جبکہ بعض مقامات پر دفاعی پیداوار کی رفتار جنگ سے پہلے کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے ان کا دعویٰ ہے کہ جنگ کے دوران فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے باوجود ایران نے اپنی دفاعی پیداواری صلاحیت بحال کر نے میں تیزی دکھائی ہے۔

    بریگیڈیئر جنرل محمد رضا نقدی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاسداران انقلاب اور ایرانی حکومت کے درمیان تعلقات مضبوط ہیں۔ ان کے مطابق دونوں اداروں کے درمیان تعاون اور رابطہ برقرار ہے اور ملک کی موجودہ صورتحال میں کسی قسم کی اندرونی تقسیم نہیں ہے۔

    محمد رضا نقدی کے مطابق ایران کی موجودہ ترجیح نہ جنگ ہے اور نہ ہی مذاکرات، بلکہ ملک کے لیے ایسی قوت قائم کرنا ہے جس کے باعث کسی بھی مخالف کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے پہلے کئی مرتبہ سوچنا پڑے،ایران کا مقصد جنگ شروع کرنا نہیں بلکہ اپنی دفاعی صلاحیت اس حد تک مضبوط کرنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ حملے کو روکا جاسکےمضبوط دفاعی بازدار قوت خطے میں مستقبل کے تنازعات کے امکانات کم کرسکتی ہے۔

    انہوں نے امریکا کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے مفاد میں یہ نہیں کہ وہ ایران کے ساتھ ایک اور بڑے فوجی تنازع میں داخل ہو۔ ان کے مطابق کسی نئے بڑے تنازع کے نتیجے میں امریکا کو بھی بھاری سیاسی، فوجی اور دیگر نقصانات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

    تاہم ایرانی عہدیدار کی جانب سے فوجی مراکز کی بحالی اور پیداوار میں اضافے سے متعلق دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔

    امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی حالیہ رپورٹس نے ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو تباہ کرنے سے متعلق وائٹ ہاؤس کے دعووں پر سوالات اٹھائے ہیں،امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فوجی کارروائیاں ایران کے زیرِ زمین میزائل نیٹ ورکس اور ڈرون لانچنگ پلیٹ فارمز کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنانے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔ تاہم مسلسل ایرانی حملوں کو روکنے کی کوششوں کے نتیجے میں امریکی فضائی دفاعی نظام کے اہم ذخائر پر دباؤ بڑھا ہے۔

  • ٹرمپ کی مقبولیت سیاسی کیریئر کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی

    ٹرمپ کی مقبولیت سیاسی کیریئر کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت ان کے سیاسی کیریئر کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے-

    رائٹرز اور اِپسوس کے تازہ سروے کے مطابق صرف 33 فیصد امریکی شہری وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں،یہ مسلسل تیسرا سروے ہے جس میں ٹرمپ کی منظوری کی شرح 33 فیصد ریکارڈ کی گئی،موجودہ شرح ان کی دوسری صدارتی مدت کے ابتدائی دنوں میں حاصل ہونے والی 47 فیصد منظوری کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔

    سروے کے نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ریپبلکن پارٹی نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس میں اپنی معمولی اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی،صدر ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت کو ریپبلکن امیدواروں کے لیے ممکنہ سیاسی بوجھ قرار دیا جارہا ہے۔

    دوسری جانب ڈیموکریٹک ووٹرز انتخابات کے حوالے سے ریپبلکنز کے مقابلے میں زیادہ پرجوش دکھائی دیتے ہیں،سروے میں 46 فیصد ڈیموکریٹس نے کہا کہ وہ نومبر کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے بہت زیادہ پرجوش ہیں، جبکہ ریپبلکنز میں یہ شرح صرف 31 فیصد رہی۔

    آزاد ووٹرز میں بھی ڈیموکریٹس کو واضح برتری حاصل ہے اگر کانگریس کے انتخابات آج ہوں تو 36 فیصد آزاد ووٹرز نے ڈیموکریٹس جبکہ صرف 22 فیصد نے ریپبلکن امیدواروں کو ووٹ دینے کا ارادہ ظاہر کیا۔

    ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اور اس کے معاشی اثرات ہیں سروے کے مطابق صرف 36 فیصد امریکی ایران کے خلاف جنگ میں ٹرمپ کی پالیسی کی حمایت کرتے ہیں۔

    ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس نے پہلے ہی مہنگائی سے پریشان امریکی عوام کی مشکلات بڑھا دی ہیں روزمرہ اخراجات کے معاملے پر عوامی ناراضی اس سے بھی زیادہ واضح ہے، تقریباً 71 فیصد امریکی شہریوں نے کہا کہ وہ زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے نمٹنے کے ٹرمپ کے طریقہ کار سے ناخوش ہیں۔

    حیران کن طور پر ان میں تقریباً 40 فیصد ریپبلکن ووٹرز بھی شامل ہیں، معاشی پالیسی کے میدان میں بھی ڈیموکریٹس نے طویل عرصے بعد ریپبلکنز پر برتری حاصل کی ہے گزشتہ ایک ماہ سے سروے میں رجسٹرڈ ووٹرز مسلسل ڈیموکریٹک پارٹی کو معیشت کے حوالے سے بہتر خیالات رکھنے والی جماعت قرار دے رہے ہیں۔

    تقریباً ایک دہائی میں یہ پہلا موقع ہے کہ ڈیموکریٹس نے اس معاملے پر ریپبلکنز کو پیچھے چھوڑا ہے رائٹرزاور اِپسوس کا 4 روزہ سروے ملک بھر میں 1,167 بالغ امریکیوں سے کیا گیا، جس میں تقریباً 3 فیصد پوائنٹس کا ممکنہ فرق موجود ہے سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کو مہنگائی، جنگ اور عوامی اعتماد کی بحالی جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔

  • اسحاق ڈار کی چینی وزیر خارجہ سے ملاقات

    اسحاق ڈار کی چینی وزیر خارجہ سے ملاقات

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس کے موقع پر چین کے وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور چین کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ملاقات خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئی، جس کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور چین کے درمیان ہر آزمائش پر پورا اترنے والی تزویراتی تعاون کی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    ملاقات میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 2026 کے اجلاس سمیت مختلف اہم امور پر گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے نیویارک میں ہونے والے جنرل اسمبلی اجلاس سے متعلق معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا،اس موقع پر اقوام متحدہ کے آئندہ سیکریٹری جنرل کے انتخاب کے جاری عمل پر بھی بات چیت کی گئی اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور کا جائزہ لیا گیا۔

  • امریکا اور اسرائیل اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کے اصل اعداد و شمار چھپا رہے ہیں،ترجمان ایرانی مسلح افواج

    امریکا اور اسرائیل اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کے اصل اعداد و شمار چھپا رہے ہیں،ترجمان ایرانی مسلح افواج

    ایرانی مسلح افواج کے سینیئر ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران ایک ہزار اسرائیلی اہلکار ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے، جبکہ مارے جانے والے امریکی فوجیوں کی تعداد بھی سیکڑوں میں ہے۔

    بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کے اصل اعداد و شمار چھپا رہے ہیں افغانستان اور عراق جنگ کے دوران بھی امریکا نے ہلاکتوں کی مکمل تعداد فوری طور پر ظاہر نہیں کی تھی، امریکا نے بعض ہلاک فوجیوں کی باقیات بھی بعد میں ان کے اہل خانہ کے حوالے کیں۔

    انہوں نے امریکی فوج کو ’’ہالی ووڈ اور پروپیگنڈا فوج‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ مسلم ممالک کے وسائل کو لوٹ کا مال سمجھتی ہے حالیہ جنگ نے دنیا پر واضح کردیا ہے کہ امریکی فوج اور اسرائیلی حکومت کی طاقت کے حوالے سے بنائی گئی شبیہ حقیقت سے مختلف ہے جن ممالک نے اپنی سرز مین پر امریکی فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں، انہیں بھی اندازہ ہوگیا ہے کہ امریکا ان کا تحفظ نہیں کرسکتا ’’جو امریکا اپنا تحفظ نہیں کرسکتا، وہ دوسروں کا تحفظ کیسے کرے گا، آیت اللہ علی خامنہ ای اور میناب اسکول کے طلبہ کی ہلاکت کا بدلہ ضرور لیا جائے گا۔

  • ٹرمپ کی حملوں کے جواب میں ایران کیخلاف سخت کارروائی کی دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امریکی اہداف پر جوابی حملوں کے بعد تہران کے خلاف مزید سخت کارروائی کی دھمکی دی ہے۔‘۔

    یہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب امریکا نے ایران کے آبنائے ہرمز کے قریب واقع جزیرے لارک پر حملہ کیا۔ امریکی حکام کے مطابق کارروائی میں ایران کے دو میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں دو افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی فورسز نے جزیرہ لارک پر ’’محدود اور انتہائی درست‘‘ کارروائی کی۔ امریکی مؤقف کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکار آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کے لیے راکٹ داغنے کی تیاری کررہے تھے، جسے امریکا نے جہاز رانی کے لیے ایک ’’فوری خطرہ‘‘ قرار دیا۔

    ایران نے امریکی کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے اس کا فوری جواب دیا ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق ایران نے اردن میں موجود دو ایسے فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا جہاں امریکی فورسز موجود ہیں۔ٕ ایران نے دعویٰ کیا کہ حملوں میں امریکی تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔

    تاہم امریکا نے ابھی تک ایرانی دعوے کے مطابق نقصان کی تصدیق نہیں کی۔ اردن کے حکام نے کہا ہے کہ ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 8 میزائلوں کو روک لیا گیا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان میزائلوں کو کہاں سے داغا گیا تھا۔

    ایران نے متحدہ عرب امارات میں واقع المنہاد ایئر بیس کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جہاں امریکی اہلکار موجود ہیں۔ تاہم متحدہ عرب امارات نے اس دعوے کو مسترد کردیا اور کہا کہ المنہاد ایئر بیس پر میزائل حملے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔

    البتہ اماراتی وزارت دفاع نے تصدیق کی کہ اس کی فضائیہ نے ایران کی جانب سے آنے والے ایک ڈرون کو اپنی علاقائی سمندری حدود کے اوپر مار گرایا۔ متحدہ عرب امارات نے اس واقعے کو خطرناک کشیدگی قرار دیتے ہوئے اپنی خودمختاری اور سلامتی کی خلاف ورزی کی مذمت کی ہے۔

    ایرانی وزارت خارجہ نے اردن میں امریکی اہداف کے خلاف کارروائی کو ’’جائز دفاع‘‘ قرار دیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ یہ حملے امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کیے گئے تازہ فوجی حملوں کے جواب میں کیے گئے۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران کے جوابی حملوں کے بعد سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کو سخت جواب دے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی دوبارہ خطرناک سطح تک پہنچنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

    یہ تازہ کشیدگی کئی ہفتوں کے نسبتاً سکون کے بعد سامنے آئی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ حملوں کا تبادلہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب واشنگٹن ایران پر فوجی دباؤ کے ساتھ ساتھ اقتصادی دباؤ بڑھانے کی کوشش بھی کررہا ہے۔

    آبنائے ہرمز کی صورتحال اس تنازع میں خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ دنیا کی اہم ترین توانائی اور تجارتی گزرگاہوں میں شامل ہے۔ اس راستے میں کسی بھی بڑے فوجی تصادم یا بحری آمدورفت میں رکاوٹ سے عالمی تیل کی سپلائی، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔

    ایران اور امریکا کے درمیان تازہ حملوں کے بعد خطے میں موجود امریکی اڈوں، خلیجی ممالک کی فضائی حدود اور آبنائے ہرمز کی سکیورٹی پر بھی عالمی سطح پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ اگر امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف مزید کارروائی کی جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی مزید پھیلنے کا خدشہ موجود ہے۔

    علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے امکان کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

    پیر کو واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جب ایک رپورٹر نے ان سے سوال پوچھا کہ ”کیا آپ نے ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیار کے استعمال کا آپشن رد کر دیا ہے؟“ تو صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ ”وہ (ایران) فوجی طور پر مکمل طور پر شکست کھا چکے ہیں، میں نے انہیں شکست دے دی ہے اور اب میں ان پر ایٹمی ہتھیار استعمال کروں؟ یہ کتنا احمقانہ سوال ہے۔

    صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی یہ واضح کر چکے ہیں کہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی کسی کو بھی اجازت نہیں ہونی چاہیےایران کی موجودہ صورتحال اور جنگ کے دائرہ کار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کو ایک ناکام ریاست قرار دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران میں ساڑھے تین سو فیصد مہنگائی ہے، ان کی کرنسی ختم ہو چکی ہے، وہ اپنے فوجیوں کو تنخواہیں نہیں دے رہے، ان کے اکثر رہنما مارے جا چکے ہیں اور ان کی بحریہ اور فضائیہ تباہ ہو چکی ہے”اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم انہیں مزید نقصان نہیں پہنچائیں گے، دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔“

    انہوں نے یہ بھی دہرایا کہ ”ایران کے پاس کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں ہوگا، کیونکہ اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتا تو اسرائیل کا وجود ختم ہو چکا ہوتا اور مشرقِ وسطیٰ میں کچھ نہ بچتا، لہٰذا تہران کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی۔“

    آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی ترسیل کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ صورتحال انتہائی بہتر ہے ہماری بحریہ کی مدد سے گزشتہ رات متعدد جہاز وہاں سے گزرے ہیں اور ہم روزانہ اوسطاً تیس جہازوں کی آمد و رفت یقینی بنا رہے ہیں جس سے بڑی مقدار میں تیل باہر جا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ تیل کی قیمتیں اس حد تک نہیں بڑھیں جس کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا تہران پر بڑھتا ہوا دباؤ عالمی تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے اور خطے کی سلا متی کو برقرار رکھنے کا حصہ ہے۔

  • ایران کا امریکی بیسز پر حملوں کا دعویٰ، یو اے ای کی تردید

    ایران کا امریکی بیسز پر حملوں کا دعویٰ، یو اے ای کی تردید

    امریکی فوج کی جانب سے آبنائے ہرمز کے قریب لارک آئی لینڈ پر موجود ایرانی راکٹ لانچرز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ایران نے تلافی کے طور پر اردن اور متحدہ عرب امارات میں امریکی بیسز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے-

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج نے لاڑک جزیرے پر دو ایرانی لانچرز پر حملہ کیا ہے کیونکہ پاسدارانِ انقلاب کی فورسز کو آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگوں کے ساتھ راکٹ داغنے کی تیاری کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

    دوسری طرف ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے دفاعی نظام نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایک امریکی ایم کیو نائن ڈرون کو مار گرایا ہے جو خلیج کے پانیوں میں جا گرا۔

    ایران نے امریکی حملے میں فوجی اہلکاروں اور شہریوں کی شہادت کا دعویٰ کیا اور اس کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے فوری جوابی کارروائیاں شروع کیں۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے اردن میں امریکی زیرِ انتظام شاہ حسین اور الازرق ایئر بیسز پر فنی انفراسٹرکچر اور دیکھ بھال کی سہولیات کو نشانہ بنایا، جبکہ بعد میں امارات کی المنہاد ایئر بیس پر ڈرون حملے کا دعویٰ بھی کیا۔

    تاہم امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ اردن میں داغے گئے تمام میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا تھا اور وہاں کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے بھی المنہاد ایئر بیس پر میزائل حملے کی خبروں کی تردید کی ہے اور ایک بیان میں کہا ہے کہ ہماری مسلح افواج کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے اور امارات کی سالمیت، سیکیورٹی اور استحکام کی حفاظت کے لیے مکمل تیار ہیں۔

    اس کشیدگی کے چند گھنٹوں بعد آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے سے گزرنے کی کوشش کے دوران دو سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد ایک سپر ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ان کے قوانین کی پابندی لازمی ہے اور ان کے قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی دوسرے جہاز کا انجام بھی یہی ہوگا۔

    اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کے سب سے بڑے توانائی مرکز خارگ آئی لینڈ کو تباہ کیا جا رہا ہے، تاہم اس دعوے کے حوالے سے امریکی دفاعی اداروں یا ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

  • آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آئل ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی

    آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آئل ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی

    ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے ’غیر قانونی‘ قرار دیے گئے راستے سے گزرنے کی کوشش کے دوران دو سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گیا جس کے باعث اس میں آگ بھڑک اٹھی-

    ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق ایران کی اسلامی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے پیر کو جاری کیے گئے بیان میں واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آئل ٹینکر دو سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد مکمل طور پر رک گیا۔

    ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے ’آئی آر آئی بی‘ کے مطابق آئی آر جی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’جہاز دو سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد مکمل طور پر رک گیا ٹینکر میں ٹکر کے بعد آگ بھڑک اٹھی، تاہم واقعے میں کسی شخص کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع فراہم نہیں کی گئی، آئی آر جی سی نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ جہاز کو کتنا نقصان پہنچا ہے۔

    پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دیگر بحری جہازوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس اہم سمندری راستے سے گزرنے کے لیے تہران کی جانب سے اعلان کردہ طریقہ کار پر عمل کریں۔

    یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے اطراف ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اس سے قبل پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایک امریکی ڈرون مار گرایا، جس کے نتیجے میں ڈرون خلیج کے پانیوں میں جاگرا۔

    دوسری جانب امریکی حکام کے مطابق اتوار کو امریکی فورسز نے ایران کے جزیرے لارک پر موجود دو میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا امریکی عہدیدار نے ’ایکسِیوس‘ کو بتایا کہ جولائی کے آخر کے بعد ایرانی سرزمین پر امریکا کی جانب سے یہ پہلا حملہ تھا۔

    حالیہ واقعات کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت اور خطے میں فوجی کشیدگی پر عالمی سطح پر تشویش مزید بڑھ گئی ہے، تاہم آئل ٹینکر کے سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے واقعے میں جانی نقصان یا بارودی سرنگوں کی اصل کے بارے میں فی الحال مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

  • ایران کا آبنائے ہرمز کے اوپر امریکی ڈرون مار گرنے کا دعویٰ

    ایران کا آبنائے ہرمز کے اوپر امریکی ڈرون مار گرنے کا دعویٰ

    ایرانی فورسز نے امریکی ڈرون MQ-9 کو آبنائے ہرمز کے اوپر مار گرنے کا دعویٰ کیا ہے.

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پاسداران انقلاب نے کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایک امریکی ڈرون کو مار گرایا، جس کے نتیجے میں وہ خلیج کے پانیوں میں گر کر تباہ ہوگیا-

    ایران کی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق پاسداران انقلاب کے جدید فضائی دفاع کے ہمہ وقت چوکس جنگجوؤں نے پیر کی صبح طویل فاصلے تک مار کرنے والے امریکی MQ-9 ریپر ڈرون کو میزائل سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ خلیج میں گر گیا،بیان میں ایرانی عوام کی میدان میں مسلسل موجودگی کو قوم کے جنگجوؤں کی سب سے بڑی حمایت کے طور پر بھی سراہا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی افواج نے لارک جزیرے پر دو ایرانی لانچروں کو نشانہ بنایا، جو جولائی کے آخر کے بعد ایرانی سرزمین پر پہلا امریکی حملہ تھا، ایک امریکی اہلکار نے Axios کو بتایا۔