Baaghi TV

Tag: ایران

  • ایرانی سفیر کی پاکستان کو امن معاہدے کے لیے کامیاب سفارتکاری پر مبارکباد

    ایرانی سفیر کی پاکستان کو امن معاہدے کے لیے کامیاب سفارتکاری پر مبارکباد

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی-

    ملاقات میں ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے، پاک۔ایران تعلقات اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے پر ایرانی قیادت اور عوام کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے معاہدے کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کے فروغ کی جانب ایک مثبت اور حوصلہ افزا قدم ہے، جو علاقائی اور عالمی سطح پر امن کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    اس موقع پر ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور امن معاہدے کے حصول کے لیے پاکستانی پارلیمنٹ اور سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں کو سراہا،انہوں نے پاکستان کی پارلیمانی، سیاسی، سفارتی، سول اور عسکری قیادت کی کاوشوں کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے امن معاہدے کے لیے کامیاب سفارتکاری پر مبارکباد پیش کی۔

    ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران کی حکومت اور عوام، ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور امن معاہدے کے لیے پاکستان کی پارلیمنٹ، حکومت، عسکری قیادت اور عوام کی جانب سے ادا کیے گئے مخلصانہ کردار کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاک ایران دوطرفہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے امور، پارلیمانی روابط کے فروغ اور خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا،بعد ازاں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اپنے وفد کے ہمراہ قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی بھی دیکھی۔

  • اسرائیل کا لبنان میں قبضے میں لیے گئے علاقوں سے انخلا سے انکار

    اسرائیل کا لبنان میں قبضے میں لیے گئے علاقوں سے انخلا سے انکار

    اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل لبنان میں قبضے میں لیے گئے علاقوں سے انخلا نہیں کرے گا۔

    اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نےواضح کیا کہ اگر ایران نے لبنان میں پیش آنے والے واقعات کے ردعمل میں اسرائیل پر حملہ کیا تو اسرائیل بھرپور جوابی کارروائی کرے گا ، اس حملے کا ہدف ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کے جنگجو تھے۔

    یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان پر اسرائیلی حملے پر تنقید کی تھی،صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک فریم ورک معاہدہ تقریباً طے پا چکا ہے معاہدہ اب بھی ممکن حد تک قریب ہے۔

    ایران کے مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے جنوبی بیروت کے مضافات پر اسرائیلی حملے کو اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ امریکا اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت یا سیاسی عزم نہیں رکھتا،ایران کی وزارت خارجہ نے اس حملے کی ذمہ داری امریکا پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اس کے سخت جواب کا حق محفوظ رکھتا ہے،ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انگلی ٹریگر پر ہے اور وہ دشمن کے دل پر وار کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ بیروت پر حملہ ایسے دن نہیں ہونا چاہیے تھا جب ایران کے ساتھ امن معاہدہ قریب تر ہے۔

  • امت مسلمہ  اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرے تو مسئلہ فلسطین بھی حل ہو سکتا ہے،خواجہ‌آصف

    امت مسلمہ اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرے تو مسئلہ فلسطین بھی حل ہو سکتا ہے،خواجہ‌آصف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہےکہ جینیوا میں امریکا اور ایران کےد رمیان معاہدے کی تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا۔

    قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جنگ کی تاریک رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہوگیا ہے، امریکا اور ایران نے تمام محاذوں پر فوجی کارروائی کے مستقل خاتمے کا اعلان کردیا ہے، فریقین نے مشکلات حالات میں صبر، تحمل اور دانشمندی کا دامن نہیں چھوڑا، امریکا اور ایران کے درمیان جینیوا میں ہونے والی امن معاہدے کی تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اکستانی قیادت، بالخصوص وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک نہایت نازک مسئلے کو دانشمندی اور حکمت عملی کے ساتھ حل کیا ہے-

    قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئےوزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان اس وقت تاریخ ساز لمحات سے گزر رہا ہے اور حالیہ پیش رفت کے نتیجے میں دنیا بھر میں پاکستان کے عزت و وقار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے پاکستانی قیادت، بالخصوص وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک نہایت نازک مسئلے کو دانشمندی اور حکمت عملی کے ساتھ حل کیا ہے اس حوالے سے معاہدے پر جمعہ کے روز دستخط کیے جائیں گےپاکستان کو حالیہ عرصے میں ایسا اعزاز پہلے کبھی حاصل نہیں ہوا۔

    خواجہ آصف نے ایرانی قیادت اور عوام کو بھی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سخت اور مشکل حالات میں ایرانی قیادت نے اپنی قوم کی بہترین انداز میں رہنما ئی کی اگر امت مسلمہ اسی طرح اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرے تو وہ وقت دور نہیں جب مسئلہ فلسطین بھی حل ہو سکتا ہے اگر گزشتہ دہائیوں میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان اسی نوعیت کا مضبوط تعاون موجود ہوتا تو پاکستان کئی مزید بین الاقوامی کامیابیاں حاصل کر چکا ہوتا۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ 3 سال کی کوششوں کا اللہ تعالیٰ نے آج بڑا ثمر عطا کیا ہے، پاکستان نے ایک سال قبل ایک اور جنگ بھی لڑی جس میں مسلح افواج نے قوم کا سر فخر سے بلند کیا ملک اس وقت دہشتگردی کے خلاف ایک بڑی جنگ لڑ رہا ہے جو دراصل 25 کروڑ عوام کی مشترکہ جنگ ہے، قومی اتحاد کے ذریعے ہی اس چیلنج پر قابو پایا جا سکتا ہے پاکستان معاشی محاذ پر بھی آگے بڑھ رہا ہے اور انشا اللہ مستقبل میں مزید کامیابیاں حاصل ہوں گی، انہوں نے سیاسی اختلافات کے باوجود قومی مفاد کو مقدم رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    وزیر دفاع نے امریکی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ خطے میں امن کے لیے ان کا کردار قابلِ تعریف ہے، انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ دہائیوں سے جاری ناانصافیوں کے خاتمے کی امید پیدا ہوئی ہے انہوں نے خلیجی ممالک سے بھی اپیل کی کہ وہ اس موقع پر امت مسلمہ کے اتحاد میں کردار ادا کریں، ان کا موقف تھا کہ ہمیں فلسطین اور کشمیر کے مسائل کے حل کے لیے بھی متحد ہو کر آواز بلند کرنی چاہیے۔

  • امریکا مذاکرات شروع ہونے سے پہلےایران کے 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرے گا، ایرانی میڈیا

    امریکا مذاکرات شروع ہونے سے پہلےایران کے 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرے گا، ایرانی میڈیا

    تہران: امریکا کے ساتھ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد ایرانی میڈیا مہر نیوز ایجنسی نے پیر کو رپورٹ کیا کہ واشنگٹن ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر مذاکرات کے آغاز سے قبل جاری کر سکتا ہے۔

    مہر نیوز ایجنسی نے ایک ایسی دستاویز شائع کی ہے جس میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں تاہم اس دستاویز کی تاحال کسی بھی فریق نے باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

    رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے میں یہ شق شامل ہے کہ مفاہمتی یادداشت طے پانے کے بعد شروع ہونے والے 60 روزہ مذاکراتی دور کے دوران ایران کے 24 ارب ڈالر مالیت کے منجمد اثاثے مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے اس رقم کا نصف، یعنی 12 ارب ڈالر، مذاکرات کے باقاعدہ آغاز سے پہلے ایران کو فراہم کیا جائے گا تاکہ اعتماد سازی کے عمل کو فروغ دیا جا سکے۔

    ذرائع کے مطابق مجوزہ مفاہمت میں پابندیوں میں نرمی، اقتصادی تعاون اور جوہری پروگرام سے متعلق معاملات پر بھی بات چیت شامل ہو سکتی ہے تاہم ابھی تک ایران یا امریکا کی جانب سے اس دستاویز کی صداقت یا اس میں شامل نکات کی سرکاری توثیق نہیں کی گئی۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی اور اقتصادی تعلقات میں بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے-

    دوسری جانب اتوار کو جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے کے مطابق برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے کہا ہے کہ وہ ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار ہیں ان ملکوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم بھی کیا۔

    مشترکہ اعلامیے کے مطابق ’ہم ایران کی جانب سے اپنے ایٹمی پروگرام پر واضح اور قابل تصدیق اقدامات کے جواب میں متعلقہ پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار ہیں ہم اس موقعے سے فائدہ اٹھانے، اس تسلسل کو برقرار رکھنے اور ایک طویل مدتی سفارتی تصفیہ حاصل کرنے کے لیے امریکہ، ایران اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر بھرپور کام کریں گے ہم اس مقصد کے لیے امریکہ، ایران اور آئی اے ای اے (بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی) کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اتوار کو بتایا کہ ان کا چند دنوں میں سوئٹزرلینڈ میں ایران امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کا ارادہ ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جائیں، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس تقریب میں شریک ہوں گے، جس کے بارے میں ثالث پاکستان نے کہا ہے کہ 19 جون کو جنیوا میں منعقد ہوگی تو وینس نے فاکس نیوز کو بتایا ’میرا یقینی طور پر وہاں جانے کا ارادہ ہےلیکن یہ ممکن ہے کہ صدر خود وہاں موجود ہوں۔

  • ایران معاہدہ بچانا ہے توسرائیل کی فوجی اور انٹیلی جنس معاونت روک دیں،ٹرمپ کے سابق مشیر کا مشورہ

    ایران معاہدہ بچانا ہے توسرائیل کی فوجی اور انٹیلی جنس معاونت روک دیں،ٹرمپ کے سابق مشیر کا مشورہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر اور نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سابق سربراہ جو کینٹ نے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو کامیاب بنانا چاہتا ہے تو اسے اسرائیل کو فراہم کی جانے والی فوجی اور انٹیلی جنس معاونت روک دینی چاہیے۔

    جو کینٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم کیا اور د عویٰ کیا کہ اسرائیل نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو ناکام بنانے کی متعدد کوششیں کیں اور اگر امریکا نے کوئی عملی اقدام نہ کیا تو مستقبل میں بھی ایسی کوششیں جاری رہ سکتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا کو خلیجی ممالک میں موجود اپنی فوجی تنصیبات اور اڈوں پر تعینات اہلکاروں کو بھی خاموشی سے واپس بلانے پر غور کرنا چاہیے کیونکہ یہ اڈے ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں،اگر امریکی فوجی اہداف ایران کی پہنچ سے دور ہوں گے تو ایرانی سخت گیر عناصر کے لیے امریکا کو دوبارہ جنگ میں دھکیلنا مشکل ہو جائے گا واشنگٹن کو ایسے تمام عوامل ختم کرنے چاہئیں جو امریکا کو دوبارہ ایران یا اسرائیل کے ساتھ کسی نئے تنازع میں الجھا سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ جو کینٹ نے ایران جنگ کے معاملے پر اختلافات کے باعث ٹرمپ انتظامیہ سے استعفیٰ دیا تھا ان کا حالیہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور ممکنہ سیاسی معاہدے سے متعلق سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

  • اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہوتے تو اسرائیل کا وجود شدید خطرے میں پڑ سکتا تھا،ٹرمپ

    اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہوتے تو اسرائیل کا وجود شدید خطرے میں پڑ سکتا تھا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ نئے معاہدے کے تحت ایران کو صرف کم سطح پر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت ہوگی، جسے کسی بھی صورت فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے متعلق اہم تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو صرف غیر فوجی مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور یہ پابندی مستقل نوعیت کی ہوگی۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ حد سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور کے جوہری معاہدے میں مقرر کردہ 3.67 فیصد افزودگی کے برابر ہوگی تو انہوں نے واضح شرح بتانے کے بجائے کہا کہ ایران صرف پرامن مقاصد کے لیے افزودگی کر سکے گا اگر ایرانی حکومت مستقبل میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلا ف سخت کارروائی کرتی ہے یا انہیں قتل کرتی ہے تو ایسی صورت میں ایران کو مکمل پابندیوں میں نرمی حاصل نہیں ہو سکے گی تاہم ذرائع کے مطا بق یہ شرط مجوزہ مفاہمتی یادداشت کا باضابطہ حصہ نہیں ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر بھی سخت تنقید کی، انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو ایک بہت مشکل آدمی ہیں اور انہیں امریکا کا شکر گزار ہونا چاہیے اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہوتے تو اسرائیل کا وجود شدید خطرے میں پڑ سکتا تھا۔

    امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ لبنان میں اسرائیلی حملوں نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل کو نقصان پہنچایا اور معاہدے کے حتمی مراحل میں رکاوٹیں پیدا کیں ایران کے خلاف امریکی میزائل اور فضائی حملوں نے تہران پر دباؤ بڑھایا اور اسی وجہ سے ایران مذاکرات پر آمادہ ہوا۔

    ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کے حوالے سے حتمی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کر سکتا ہے ایرا ن مزید حملوں سے بچنا چاہتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت ممکن ہوئی۔

  • ایرانی فٹبال ٹیم امریکا پہنچ گئی

    ایرانی فٹبال ٹیم امریکا پہنچ گئی

    امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ایرانی قومی فٹبال ٹیم فیفا ورلڈ کپ 2026 میں اپنے پہلے میچ کے لیےٹیم لاس اینجلس پہنچ گئی جہاں وہ آج پیر کو نیوزی لینڈ کے خلاف اپنی مہم کا آغاز کرے گی-

    ایرانی قومی فٹبال ٹیم اتوار کو فیفا ورلڈ کپ کے سلسلے میں پہلی بار امریکا پہنچ گئی ٹیم لاس اینجلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتری اور اسی روز پریس کانفرنس بھی کی، جبکہ اسی دن امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے اعلان نے اس آمد کو مزید اہم بنا دیا،جبکہ یہ 1930 میں ورلڈ کپ کے آغاز کے بعد پہلا موقع ہے کہ کسی میزبان ملک نے ایسے ملک کی میزبانی کی ہو جس کے ساتھ وہ حالیہ جنگ میں شامل رہا ہو۔

    ایرانی اسکواڈ میکسیکو کے شہر تیجوانا سے مختصر پرواز کے ذریعے لاس اینجلس پہنچا روانگی کے وقت ہوٹل کے باہر موجود شائقین نے ٹیم کو بھرپور انداز میں رخصت کیا ایران اپنا پہلا گروپ میچ پیر کو لاس اینجلس اسٹیڈیم میں نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے گا۔

    ایران کے ہیڈ کوچ امیر قلعہ نویی نے پریس کانفرنس میں مترجم کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عظیم، باوقار اور مضبوط ایرانی قوم کی نمائندگی پر فخر ہے مجھے امید ہے کہ فٹبال خوشی اور تفریح کا ذریعہ بنے گا اور مختلف ثقافتوں اور ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد دے گا۔“

    ایران نے گزشتہ ماہ اپنے ورلڈ کپ بیس کیمپ کو امریکی ریاست ایریزونا کے ایک اسپورٹس کمپلیکس سے میکسیکو منتقل کر دیا تھا یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب امریکا اور اسرائیل نے فروری کے آخر میں ایران پر مشترکہ حملے شروع کیے تھےاب ایرانی ٹیم کو اپنے تینوں گروپ میچز کے لیے میکسیکو سے امریکا آنا جانا پڑے گا امیر قلعی نویی کے مطابق مسلسل سفر اور ایرانی فٹبال فیڈریشن کے بعض ارکان کو امریکی ویزے جاری نہ کیے جانے سے ٹیم متاثر ہوئی ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کا معاہدہ آئندہ جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ایک سرکاری تقریب کے دوران دستخط کیا جائے گا۔

    اس سے قبل تیجوانا میں ایرانی ٹیم کے ہوٹل کے باہر بڑی تعداد میں شائقین جمع ہوئے انہوں نے ”ٹیم ملی“ کے نعرے لگائے اور کھلاڑیوں کا بھرپور استقبال کیا کئی کھلاڑیوں نے شائقین کی جانب ہاتھ ہلایا جبکہ وفد کے بعض ارکان نے اپنے موبائل فونز سے اس منظر کی ویڈیوز بھی بنائیں ایک مداح نے زرد رنگ کا بینر اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا کہ ایران، تم کبھی تنہا نہیں چلو گے، میکسیکو تمہارے ساتھ ہے،شائقین نے ہسپانوی زبان میں نعرہ لگایا، ایران، بھائی! اب تم میکسیکن ہو۔

    ایرانی فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج بھی ہوٹل کے باہر موجود تھے اور جب ٹیم کی بس روانہ ہوئی تو متعدد شائقین کافی دور تک اس کے ساتھ ساتھ چلتے رہےتیجوانا میں ایرانی کمیونٹی کی تعداد تقریباً 20 افراد پر مشتمل ہے، جبکہ لاس اینجلس ایران سے باہر دنیا کی سب سے بڑی ایرانی کمیونٹی کا مرکز سمجھا جاتا ہے لاس اینجلس میں دسیوں ہزار ایرانی نژاد امریکی آباد ہیں اور شہر میں ایرانی تارکین وطن کی ایک نمایاں آبادی موجود ہے جسے اکثر ”تہرانجلس“ کہا جاتا ہے۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا

    امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا

    امریکااور ایران کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد دونوں ملکوں نے لبنان سمیت ہر جگہ پر جاری لڑائی اور فوجی کارروائیوں کو فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ امریکا اورایران کے درمیان معاہدہ طے پانے پر عالمی برادری کا ردعمل سامنے آ گیا۔

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس بڑی کامیابی کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ طویل اور مشکل مذاکرات کے بعد ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور اس معاہدے پر باقاعدہ دستخط کی تقریب 19 جون بروز جمعہ سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔

    وزیراعظم نے اس امن عمل میں مدد کرنے پر سعودی عرب، ترکیہ اور خاص طور پر قطر کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم برادر ملک قطر کی عظیم قیادت کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں جن کی حمایت نے اس معاہدے تک پہنچنے میں بےحد اہم اور قابلِ قدر خدمات انجام دیں، اس ہفتے ثالثی کرنے والے ملک مزید ملاقاتیں کروائیں گے تاکہ آگے کے تکنیکی مذاکرات اور دستخط کی تقریب کو اچھے طریقے سے پورا کیا جا سکے۔

    دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس بڑی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سب کو مبارکباد دی اور اپنے سوشل میڈیا پر سب کو مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو گیا ہے اور جمعہ کو اس عظیم ڈیل پر دستخط کے بعد سمندر کا اہم راستہ یعنی آبنائے ہرمز کھول دیا جائے گا، اس عظیم ڈیل سے پورے خطے میں امن ہوگا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ مجھ سے پہلے کے تمام امریکی صدور ایران کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کی کوششوں میں ناکام ہو گئے تھے، لیکن خطے کے رہنماؤں کو پہلی بار کوئی ایسا صدر ملا ہے جس نے ان کی اصل امن کے حصول میں سچی مدد کی ہے جمعہ کو سمندر سے بارودی سرنگوں کو ہٹانے کے لیے ڈیل پر دستخط ہوں گے جس کے بعد تیل لانے اور لے جانے والے جہاز دونوں طرف سے آسانی سے گزر سکیں گے، ہمیں ایران سے ایٹمی مواد نکالنے کی کوئی جلدی نہیں ہے، یہ کام بعد میں بھی کیا جا سکتا ہے اور اس معاہدے کے بدلے ایران کو کوئی نقد رقم یا پیسہ نہیں دیا جائے گا۔

    امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق اس معاہدے میں یہ خاص شرط شامل ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور آبنائے ہرمز کو فوراً کھولا جائے گا۔

    ادھر ایران نے بھی اس امن معاہدے کے طے پانے کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہےایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اتوار کے روز لبنان پر اسرائیلی حملے کے بعد، ایران کی جانب سے معاہدے کے کاغذات میں تجویز کی گئی کچھ تبدیلیاں قبول کر لی گئی ہیں، جس کے بعد امریکا کے ساتھ مختلف محاذوں پر جاری جنگ اور عسکری کارروائیاں فوری طور پر ختم کرنے کا عمل آج سے ہی شروع کر دیا جائے گا،اس معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تقریب جمعہ کو ہوگی اور اس کے بعد ہی اس کا متن عوام کے سامنے لایا جائے گا۔

    انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ امریکا اپنے وعدوں کی کتنی پاسداری کرتا ہے اور جب ہمیں اس بات کا پورا یقین ہو جائے گا تو پھر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 دنوں کا مذاکراتی عمل شروع ہوگا ان 60 دنوں کے مذاکرات میں جوہری معاملات، ایران کے روکے گئے پیسوں کی بحا لی، ناکہ بندی کے خاتمے، جنگ کی مکمل بندش، ایران پر لگی اقتصادی پابندیوں کو ہٹانے اور ایران کی دوبارہ تعمیرِ نو کے طریقوں پر تفصیلی بات چیت ہو گی تاہم اگر امریکا نے معاہدے کی پاسداری نہ کی تو ایران اس کا سخت ردِعمل دے گا۔

    ایران کے سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنی بہترین حکمتِ عملی سے امریکا کو اس معاہدے پر مجبور کیا ہے اور صدر ٹرمپ کی اپیل پر اسرائیل پر ہونے والا ممکنہ جوابی حملہ بھی منسوخ کر دیا ہے۔

    ایران کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز نے اپنی قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ کے حکم سے امریکا اور اسرائیل کو شکستِ فاش ہوئی ہے اور ایرانی قوم کی مرضی دشمن پر مسلط کر دی گئی ہے، ہم اپنی مسلح افواج اور مزاحمت کاروں کی ثابت قدمی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

    اس تاریخی امن معاہدے کا دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر خیرمقدم کیا جا رہا ہے،سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ،ترکیہ قطر ،برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے بھی اس معاہدے کی کھل کر حمایت کی ہے

    قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی نے اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ ہم اپنے برادر ملک پاکستان کا، نیز ان تمام علاقائی اور بین الاقوامی فریقوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس مفاہمت تک پہنچنے کے لیے ایک اچھا ماحول پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا، اور ہمیں امید ہے کہ تمام فریق آئندہ کے مذاکرات میں بھی مثبت اور تعمیری جذبے کے ساتھ حصہ لیں گے قطر ہمیشہ امن کی کوششوں اور دنیا میں سلامتی کو فروغ دینے والے اقدامات کا حامی رہے گا۔

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میں امن معاہدے پر امریکا، پاکستان، قطر اور دیگر فریقین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اب آبنائے ہرمز میں بغیر کسی رکاوٹ کے کشتیوں اور جہازوں کی آمدورفت بحال ہونی چاہیے۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس ڈیل پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کی تصویر شیئر کی اور لکھا کہ فیلڈ مارشل نے ایک بار پھر کر دکھایا ہے، اور انہوں نے یہ کام نہ صرف اپنے ملک کے لیے بلکہ اس بار پوری دنیا کے امن کے لیے کر کے دکھایا ہے۔

    سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتیرس نے کہا کہ یہ تنازع کے پرامن حل کی جانب اہم اور مثبت پیشرفت ہے، معاہدہ مستقل جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھلنے کی جانب اہم قدم ہے، مذاکراتی عمل میں پاکستان، قطر،سعودی عرب اور دیگر ممالک کا کردار قابل تعریف ہے۔

    ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ معاہدے سے خطے میں دیرپا امن اور سلامتی کی راہ ہموار ہو گی، دنیا کو طویل عرصے سے ایسی مثبت خبر کا انتظار تھا معاہدے سے قبل اشتعال انگیزی اور کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز کیا جائے، ممکنہ تخریب کاری کے خلاف چوکس رہنے کی ضرورت ہے، پاکستان کی غیر معمولی ثالثی کوششیں قابل ستائش ہیں، پاکستان کی کامیاب سفارتکاری نے معاہدے کی راہ ہموار کی۔

    جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر اور ایرانی قیادت کو سفارتی کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، معاہدہ عالمی معیشت کو نئی توانائی دے سکتا ہے، امن معاہدے سے مشرقِ وسطیٰ محفوظ بنے گا۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کی اہم تفصیلات سامنے آ گئیں

    امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کی اہم تفصیلات سامنے آ گئیں

    امریکہ اور ایران کے درمیان زیرِ غور مجوزہ امن و مفاہمتی معاہدے کی اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں جن کا مقصد کشیدگی کا خاتمہ اور خطے میں استحکام لانا ہے تاحال ایران کی جانب سے اس معاہدے پر حتمی دستخط نہیں کیے گئے ہیں اور تہران میں اس کا تفصیلی جائزہ جاری ہے-

    غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز نے اعلیٰ ایرانی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران اس بات پر متفق ہوا ہے کہ وہ نہ تو جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی حاصل کرے گا ایران اپنے انتہائی افزودہ یورینیم ذخائر کو ملک کے اندر ہی کم درجے پر لائے گا جبکہ اس کے طریقہ کار پر آئندہ 60 دنوں میں مزید بات چیت کی جائے گی۔

    عہدیدار کے مطابق امریکا ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کو مخصوص مدت کے لیے نرم کرے گا جس سے ایران کو تیل فروخت کرنے اور اس کی آمدنی حاصل کرنے کی اجازت ہو گی حتمی معاہدہ ہونے تک امریکا ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد نہیں کرے گامجوزہ معاہدے کے تحت امریکا ایران کے 25 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بھی جاری کرے گا ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو کھول دے گا جبکہ امریکا بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔

  • ایران اور امریکا  مذاکرات میں پیشرفت:قطر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد تہران پہنچ گیا

    ایران اور امریکا مذاکرات میں پیشرفت:قطر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد تہران پہنچ گیا

    ایرانی میڈیا کے مطابق قطر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تہران پہنچ گیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی آئی ایس این اے کے مطابق اس ثالثی وفد کی قیادت قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی کے مشیر کر رہے ہیں وفد کا مقصد ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مذاکرات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینا اور سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے امکانات پر بات چیت کرنا ہے۔

    ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دورہ گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات کے تسلسل میں کیا جا رہا ہے قطر طویل عرصے سے ایران اور امریکا کے درمیان اہم ثالثی کردار ادا کرتا رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کے لیے ایک مؤثر سفارتی پل سمجھا جاتا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق قطری وفد اپنے دورے کے دوران مذاکراتی عمل سے متعلق تازہ ترین پیش رفت، ممکنہ معاہدوں اور مستقبل کے سفارتی اقدامات پر ایرانی حکام سے تبادلہ خیال کرے گا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قطر کے اس دورے کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایران و امریکا کے درمیان ممکنہ مفاہمت کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔