Baaghi TV

Tag: ایران

  • امریکا نے ایران کیخلاف  اقدامات نہ کیے ہوتے تو آج اسرائیل شاید موجود نہ ہوتا،صدر ٹرمپ

    امریکا نے ایران کیخلاف اقدامات نہ کیے ہوتے تو آج اسرائیل شاید موجود نہ ہوتا،صدر ٹرمپ

    لبنان کے صدر جوزف عون چار روزہ دورے پر امریکا پہنچے تھے جہاں انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے اہم ملاقات بھی کی۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس اہم ملاقات امریکا اور لبنان کے صدور کے درمیان ملاقات میں لبنان اور اسرائیل کے تعلقات، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے، ایران کے ساتھ جاری کشیدگی، شام کی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں امن کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اوول آفس میں ملاقات کے آغاز پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا لبنان کی ہر ممکن مدد کرے گا یہ ملک کئی دہائیوں سے مشکلات کا شکار رہا ہے اب اسے وہ احترام ملے گا جس کا وہ حق دار ہے،لبنان کو درپیش مسائل میں اس وقت حزب اللہ سب سے بڑا مسئلہ ہے تاہم امریکا نے اس حوالے سے ایسے مؤثر اقدامات کیے ہیں جن کے نتائج دنیا جلد دیکھے گی۔

    ملاقات میں لبنان اور اسرائیل کے تعلقات اور لبنانی حکومت کی جانب سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں پر بھی بات چیت ہوئی۔

    صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف اپنی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف سخت اقدامات نہ کیے ہوتے تو آج اسرائیل شاید موجود نہ ہوتا،انھوں نے دعویٰ کیا کہ اگر سابق صدر براک اوباما کا جوہری معاہدہ برقرار رہتا تو ایران کئی سال پہلے ایٹمی ہتھیار حاصل کر لیتا۔

    صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی B-2 بمبار طیاروں کی کارروائیوں نے ایران کی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا، جس سے ایران کی ایٹمی صلاحیت کو بڑا دھچکا لگا،امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران اب جنگ ختم کرنے کے لیے بے حد بے تاب ہے اور مسلسل مذاکرات کی خواہش ظاہر کر رہا ہے،جب تک ایران سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوتا امریکا کی اس سے بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں۔

    امریکی صدر نے کہا کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوجی پوزیشنز دوبارہ ترتیب دے رہا ہے جب صدر ٹرمپ سے جنوبی لبنان سے مکمل اسرائیلی انخلا کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لیں گے تاہم کوئی واضح ٹائم لائن نہیں دی،ایران اردن میں ایک حملے میں امریکی دفا عی نظام کو جزوی طور پر چکمہ دینے میں کامیاب رہا اگر کچھ مختلف آپریشنل انتظامات ہوتے تو یہ حملہ کامیاب نہ ہوتا۔

    لبنانی صدر جوزف عون نے صدر ٹرمپ کو عظیم صدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی ثالثی میں گزشتہ ماہ طے پانے والا فریم ورک معاہدہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کے خاتمے کی بنیاد بن سکتا ہے لبنان اور پورے خطے کو اب استحکام اور امن کی ضرورت ہے اور ان کا امن کا وژن صدر ٹرمپ کے وژن سے مطابقت رکھتا ہے،امید ہے کہ دونوں ممالک مل کر لبنان اور اسرائیل کے درمیان دیرپا امن کی راہ ہموار کریں گے۔

  • فیلڈ مارشل سے ایرانی وزیر داخلہ کی ملاقات، خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تبادلہ خیال

    فیلڈ مارشل سے ایرانی وزیر داخلہ کی ملاقات، خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تبادلہ خیال

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے ملاقات کی ، ملاقات میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے جب کہ ایرانی وزیر داخلہ نے علاقائی کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق منگل کے روز ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راو لپنڈی کا دورہ کیا اور آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی اور دو طرفہ سیکیورٹی اور مؤثر بارڈر مینجمنٹ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ایرانی وزیر داخلہ نے علاقائی کشیدگی کو کم کرنے اور امن کے لیے بامقصد کوششوں پر پاکستان کی مؤثر سفارتی کردار کو سراہا،ملاقات میں علاقائی سلامتی اور باہمی خوشحالی کے فروغ کے لیے قریبی رابطہ کاری اور تعاون پر مبنی میکانزم کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی مجموعی صورت حال پر غور کیا گیا، ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا خصوصی پیغام بھی پہنچایا اور حالیہ کشیدگی کی وجوہات سے بھی آگاہ کیا جب کہ اسکندر مومنی نے ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی تعریف کی۔

  • وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وزیر داخلہ کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وزیر داخلہ کی ملاقات

    وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے ایران کے وزیرِ داخلہ اسکندر مؤمنی کی وزیرِاعظم ہاؤس میں ملاقات کی، جس میں خطے کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ،ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی اپنے وفد کے ہمراہ وزیرِاعظم ہاؤس پہنچے، جہاں وزیرِاعظم شہباز شریف نے ان کا استقبال کیا ملاقات میں دونوں مما لک کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے،وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی مجموعی صورت حال پر غور کیا گیا۔

    ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا خصوصی پیغام بھی پہنچایا اور حالیہ کشیدگی کی وجوہات سے بھی آگاہ کیا جب کہ اسکندر مومنی نے ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی تعریف کی۔

    وزیراعظم نے ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کر تے ہوئے فریقین پر مذاکرات کی طرف واپس آنے پر بھی زور دیا شہباز شریف نے ایران کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا جب کہ اس اہم ملاقات میں پاکستان اور ایران کا قریبی روابط جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

    قبل ازیں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے اعزاز میں پولیس لائنز اسلام آباد میں شاندار پریڈ کا انعقاد کیا گیا، جہاں ان کا وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پرتپاک استقبال کیا گیا۔

    تقریب کے دوران اسلام آباد پولیس کے خصوصی دستے نے ایرانی وزیر داخلہ کو گارڈ آف آنر پیش کیا، جبکہ پاکستان اور ایران کے قومی ترانے بھی بجائے گئے اسکندر مومنی نے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پولیس پریڈ کا معائنہ کیا اور اسلام آباد پولیس کے چاق و چوبند دستوں کی سلامی قبول کی۔

    اس موقع پر ایرانی وزیر داخلہ نے اسلام آباد پولیس کے جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور کارکردگی کو سراہتے ہوئے شاندار خدمات انجام دینے وا لے پولیس اہلکاروں میں انعامات بھی تقسیم کیے تقریب پاک ایران دوستانہ تعلقات اور دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون کے فروغ کی علامت قرار دی گئی تقریب میں انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی سمیت پولیس کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔

  • ایران کا جدید فضائی دفاعی نظام سے امریکی MQ-9 ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    ایران کا جدید فضائی دفاعی نظام سے امریکی MQ-9 ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس نے ملک کے جنوب مغربی شہر اہواز کی فضائی حدود میں ایک امریکی MQ-9 ریپر ڈرون کو جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا ہے۔

    ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس نے کارروائی کے دوران امریکی ڈرون کو نشانہ بنایا، جس کے بعد وہ تباہ ہو کر گر گیا، اس کارروائی میں ایران کے نئے اور جدید فضائی دفاعی نظام کا استعمال کیا گیا، تاہم اس نظام کی نوعیت یا تکنیکی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی MQ-9 ڈرون نگرانی اور انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور بعض اوقات یہ حملہ آور کارروائیوں کی صلاحیت بھی رکھتا ہے،دوسری جانب امریکی حکام نے تاحال ایران کے اس دعوے کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی اس پر کوئی باضابطہ ردعمل جار ی کیا ہے، آزاد ذرائع سے بھی اس واقعے کی فوری طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔

  • ایران پر جہنم کے دروازے کھول دو،ٹرمپ کی امریکی فوج کو سخت ہدایت

    ایران پر جہنم کے دروازے کھول دو،ٹرمپ کی امریکی فوج کو سخت ہدایت

    ایران کے حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے امریکی فوج کو سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر جہنم کے دروازے کھول دو-

    امریکی میڈیا کو ٹیلیفونک انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اردن میں ایرانی حملے کے نتیجے میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ ہدایت جاری کیں یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے، دونوں فوجیوں نے اپنے وطن کے لیے جان قربان کی اور قوم ان کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔

    بعد ازاں صدر ٹرمپ نے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کو سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر جہنم کے دروازے کھول دو،امریکا کا بنیادی مقصد ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، کیونکہ ایسے ہتھیار نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

    انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اپنے فوجیوں پر ہونے والے حملوں کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا،صدر ٹرمپ کے اس بیان کو ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ خطے میں سیکیورٹی صورتحال پر عالمی برادری بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اردن میں واقع امریکی ایئربیس پر ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت جب کہ ایک اہلکار کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی تھی۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران کے حملوں میں 29 امریکی فوجی زخمی ہوئے جبکہ متعدد ہیلی کاپٹر شدید متاثر ہوئے اور فوجی تنصیبات کو بھی بھاری نقصان پہنچا،ایران کی جانب سے کی گئی کارروائیوں میں عراق کے شہر اربیل میں امریکی قونصل خانے کے قریب دھماکا خیز ڈرون تباہ کیا، کویت میں امریکی لاجسٹک مرکز، کیمپ اور ایئربیس کے ریڈار سسٹم کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں ہینگرز اور دیگر فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

  • ایرانی افواج کے پاس میزائلوں کا بڑاذخیرہ موجود ہے، نیویارک ٹائمز کا دعویٰ

    ایرانی افواج کے پاس میزائلوں کا بڑاذخیرہ موجود ہے، نیویارک ٹائمز کا دعویٰ

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایران نے گزشتہ پانچ روز کے دوران اردن میں موجود امریکی افواج کو چار بڑے حملوں میں نشانہ بنایا، جن کے نتیجے میں دو امریکی فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ایرانی حملوں کے دوران امریکی فوجی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ متعدد ہیلی کاپٹرز متاثر ہوئے، مسلسل حملوں نے خطے میں امریکی فوجی موجودگی کو درپیش خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔

    امریکی اخبار کے مطابق اردن میں ہونے والے یہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایرانی افواج کے پاس اب بھی میزائلوں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے، جبکہ امریکی فضائی دفاعی نظام کو چکمہ دینے کی ایرانی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوا ہے ایران کی جانب سے مختلف مقامات پر حملوں کا سلسلہ خطے میں جار ی کشیدگی کی شدت کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی ایرانی کارروائیوں کے جواب میں اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی کر رہے ہیں۔

    امریکی حکام نے بتایا کہ گزشتہ پانچ دنوں میں پہلا حملہ کنگ فیصل ایئربیس کی رہائشی عمارت پر ہوا، جس میں 5 امریکی فوجی زخمی ہوئے دوسرے حملے میں مشرقی اردن کے ایک اڈے کو نشانہ بنایا گیا جہاں امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر موجود تھے اور کئی ہیلی کاپٹرز کو نقصان پہنچا اس کے بعد عراق کی سرحد کے قر یب واقع موفق السلتی ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا، جہاں جمعے کو ہونے والے حملے میں دو امریکی فوجی ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔

    ایرانی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے اردن کے ازرق ایئربیس پر امریکی اڈے کے ایندھن کے ذخائر کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا، جبکہ ایران کے پاسداران انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے فارس کے مطابق میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے طیاروں کے شیلٹرز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

    امریکی فضائیہ کے سابق جنرل ڈیوڈ ڈیپٹولا نے کہا کہ یہ صرف ایک فوجی اڈے پر حملہ نہیں تھا بلکہ یہ امریکا کے علاقائی اتحاد کو نشانہ بنانے کی کوشش تھی تاکہ امریکی فوج کی میزبانی کی سیاسی قیمت بڑھائی جا سکے۔

    پینٹاگون نے حملوں پر تفصیلی تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہیں تاکہ امریکی فوجیوں پر حملے کرنے والے ایرانی پاسداران انقلاب کو نشانہ بنایا جا سکے۔

    واضح رہے کہ اردن خطے میں امریکا کا ایک اہم اتحادی ملک ہے جہاں امریکی فوجی دستے مختلف سیکیورٹی اور دفاعی مشنز کے لیے موجود ہیں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں صورتِ حال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

  • ایران کیساتھ کشیدگی میں اضافہ امریکا کا اپنے شہریوں کیلئے عالمی ٹریول الرٹ جاری

    ایران کیساتھ کشیدگی میں اضافہ امریکا کا اپنے شہریوں کیلئے عالمی ٹریول الرٹ جاری

    امریکا نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اپنے شہریوں کے لیے دنیا بھر میں سفری انتباہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کسی بھی وقت غیر متوقع طور پر مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سفر کے دوران غیر معمولی احتیاط برتیں، تازہ ترین صورتحال پر نظر رکھیں اور قریبی امریکی سفارت خانوں یا قونصل خانوں کی ہدایات پر عمل کریں مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے باعث پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی عارضی بندش اور بین الاقوامی سفر میں رکاوٹوں کا خدشہ موجود ہےایران کے حامی گروہ دنیا کے مختلف حصوں میں امریکی مفادات، سفارتی تنصیبات یا امریکی شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

    یہ انتباہ ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی کہ اردن میں ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے دوران 2 امریکی فوجی ہلاک جبکہ ایک لاپتا ہو گیا، جس کے بعد امریکا نے ایران میں نئے فضائی حملے بھی کیے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایرانی پاسداران انقلا ب کی ان تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا جو امریکی فوجیوں پر حملوں میں ملوث تھیں۔

  • امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امریکی فضائی حملے جاری،ایران کے خلیجی ممالک پر نئے جوابی حملے

    امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امریکی فضائی حملے جاری،ایران کے خلیجی ممالک پر نئے جوابی حملے

    امریکا نے ایران پر مسلسل آٹھویں رات بمباری کی ہے، جس کے جواب میں تہران نے بھی خلیجی ممالک میں میزائل اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ ’صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر 18 جولائی کی رات ساڑھے گیارہ بجے ایران پر فضائی حملوں کا ایک اور دور مکمل کیا گیا ہے ان فضائی حملوں میں ایرانی فوج کی ساحلی نگرانی کے نظام، فضائی دفاعی تنصیبات، بحری صلاحیتوں اور میزائلوں و ڈرونز کے ذخیرہ کرنے والے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا تاکہ ایران کی فوجی طاقت کو کمزور کیا جا سکے۔

    سینٹ کام کے مطابق، یہ کارروائی ان پاسدارانِ انقلاب کے دستوں کے خلاف بھی کی گئی جنہوں نے ایک دن قبل اردن میں امریکی فوجیوں پر حملہ کیا تھ،اسینٹ کام نے تصدیق کی کہ جمعہ کے روز اردن میں ہونے والے ایرانی حملے میں دو امریکی فوجی ہلاک جبکہ ایک لاپتہ ہے۔

    ایران کی نیوز ایجنسی ’مہر‘ کے مطابق امریکا نے جنوبی ایران میں سریک کے مقام پر حملہ کیا ہے، تاہم وہاں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، ایر انی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں میں امریکی حملوں کی وجہ سے ایران میں 50 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں-

    اس جنگ کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 16 ہو گئی ہے جبکہ 420 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

    ادھر روسی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اردن میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون کو ایران کے خلاف بھرپور فوجی کارروا ئی کی ہدایت دی،ٹرمپ نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجیوں کی ہلاکت افسوسناک ہے اور امریکا ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ ”ان کی قربانی ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہے“۔

    امریکا کی جانب سے ایرانی پلوں، بجلی گھروں اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے بعد ایران نے بھی ہفتے کے روز سعودی عرب، اردن اور دیگر خلیجی اتحادیوں کو نشانہ بنایا اس کشیدہ صورتحال کے پیشِ نظر امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر میں موجود اپنے شہریوں کے لیے ٹریول الرٹ جاری کر دیا ہے کیونکہ فضائی حدود کی بندش سے سفری نظام متاثر ہو سکتا ہے۔

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ریاستی میڈیا پر جاری ایک تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی اقدامات نے ثابت کر دیا ہے کہ ٹرمپ کے دستخط کی کوئی حیثیت نہیں اور وہ بالکل بے اعتبار ہیں انہوں نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ”امریکا کو اس کی اس سے بھی بھاری قیمت چکانی پڑے گی اور مزید ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا“۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ”امریکا آبنائے ہرمز پر اپنا مکمل کنٹرول قائم کرنا چاہتا ہے-

    دونوں ممالک ایک دوسرے کے بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ امریکا نے بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے اور ایران کا کہنا ہے کہ وہ صرف ان جہازوں کو روک رہا ہے جو اس کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں اس دوران یورپی یونین اور خلیجی ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بحری جہاز رانی میں مداخلت اور تمام حملے فوری طور پر بند کرے اور بغیر کسی فیس یا شرط کے اس اہم سمندری راستے کو کھلا رکھے-

  • ایرانی جوہری تنصیبات پر نئے حملوں کی تیاری،ٹرمپ کا اسرائیل کو درجنوں طیارے بھیجنے پر غور

    ایرانی جوہری تنصیبات پر نئے حملوں کی تیاری،ٹرمپ کا اسرائیل کو درجنوں طیارے بھیجنے پر غور

    امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا خطے میں ممکنہ شدید لڑائی کی تیاریوں کے سلسلے میں اسرائیل کو درجنوں ایسے طیارے بھیج رہا ہے جو فضا میں ہی دوسرے طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں-

    رپورٹ کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ایک اہم میٹنگ کی، جہاں انہوں نے کئی نئے فوجی منصوبو ں پر بریفنگ لی، اس بریفنگ کے بعد اب وہ آبنائے ہرمز کے گرد جاری موجودہ حملوں سے ہٹ کر، ایران کے اندرونی حصوں میں زیادہ بڑے پیمانے پر بمباری کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

    رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکا خطے میں ممکنہ شدید لڑائی کی تیاریوں کے سلسلے میں اسرائیل کو درجنوں ایسے طیارے بھیج رہا ہے جو فضا میں ہی دوسرے طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ایگزیوس نے تین امریکی اور اسرائیلی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ واشنگٹن نے اسرائیل کو ایندھن بھرنے والے مزید طیارے بھیجنے کے فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔

    جوہری تنصیبات کے حوالے سے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ زیرِ غور آپشنز میں سے ایک یہ ہے کہ ایران کے جوہری مراکز پر نئے حملے کیے جائیں تاکہ وہاں موجود یورینیم کے ذخائر کو زمین میں مزید گہرائی میں دفن کر دیا جائے اس کارروائی کا مقصد یہ ہے کہ مستقبل میں ایران کے لیے ان ذخائر تک پہنچنے یا انہیں استعمال کرنے کے تمام امکانات کو ختم کیا جا سکے۔

    اس کے علاوہ امریکی انتظامیہ ایران کے اندر اہداف کی فہرست کو بھی بڑھا رہی ہے، تاہم ان نئے مقامات کی نوعیت یا کسی حتمی فیصلے کے وقت کو ابھی خفیہ رکھا گیا ہےاگرچہ امریکی اور اسرائیلی حکام کی رپورٹس سے ان منصوبوں کی تصدیق ہوتی ہے، لیکن وائٹ ہاؤس، امریکی محکمہ دفاع یا اسرائیل کی جانب سے اب تک اس پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا اور فوجی آپشنز پر غور کا مطلب یہ نہیں کہ اس پر عمل کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے۔

    دوسری جانب، اسرائیل کو توقع ہے کہ اگلے ہفتے کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان اس عسکری محاذ آرائی میں مزید تیزی آئے گی اسرائیلی میڈیا خصوصاً ’چینل 12‘ کے مطابق، واشنگٹن اب ایران کے بجلی گھروں اور توانائی پیدا کرنے والے مراکز کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہا ہے، جنہیں وہ ایرانی بنیادی ڈھانچے کی سب سے کمزور کڑی سمجھتا ہے۔

    یروشلم میں ہونے والے سیکیورٹی اجلاسوں کے بعد ایک اسرائیلی عہدیدار نے نام نہ بتانے کی شرط پر صورتحال کی سنگینی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ہم محاذ آرائی میں اضافے کے امکان کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور ہم ہر اس منظر نامے کے لیے تیار ہیں جس کے اثرات اسرائیل پر پڑ سکتے ہیں-

  • امریکا کی مسلسل ساتویں روز بمباری ، ایران کا اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ ، کئی فوجی زخمی

    امریکا کی مسلسل ساتویں روز بمباری ، ایران کا اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ ، کئی فوجی زخمی

    امریکی فوج نے ایران کے خلاف مسلسل ساتویں رات حملے کئے، جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق حملوں میں ایران کے نگرانی کے مراکز، فوجی لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے، زیرِ زمین ہتھیاروں کے ذخائر اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا،امریکی فورسز نے دیگر ذرائع کے علاوہ جنگی طیاروں، فضائی ڈرونز اور جنگی بحری جہازوں کا بھی استعمال کیا۔

    سینٹکام نے کہا کہ سینٹکام کمانڈر اِن چیف کی ہدایت پر ایران کو جواب دہ ٹھہرانے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے اور ایرانی بندرگاہوں کے خلاف بحری نا کہ بندی پر مکمل طور پر عمل درآمد کر رہا ہے 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار مشرق وسطیٰ میں تعینات ہیں اور مسلسل چوکس، مہلک کارروائی کے لیے تیار اور مکمل طور پر مستعد ہیں۔

    ادھرا یرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق صوبہ ہرمزگان کے ڈپٹی گورنر نے کہا ہے کہ امریکی فضائی حملوں میں 3 افراد شہید اور 8 زخمی ہو گئے ہیں اس سے قبل گزشتہ روز بھی ایران نے ہرمزگان صوبے پر امریکی حملوں میں 8 شہری شہید ہوئے تھے شہدا میں 4 خواتین اور 2 معذور بھائیوں سمیت 4 مرد شامل ہیں۔

    ایران نے ہرمزگان صوبے پر امریکی حملوں میں شہید ہونے والے 8 شہریوں کی تصاویر جاری کردیں،ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات ہرمزگان صوبے میں اپنے غیر قانونی حملوں کے دوران امریکا نے پلوں کو نشانہ بنا کر ایک اور کھلے جنگی جرم کا ارتکاب کیا اور 8 بے گناہ ایرانیوں کو قتل کر دیا، جن میں 4 مرد اور 4 خواتین شامل ہیں ایرانی عوام اب پہلے سے کہیں زیادہ پرعزم اور متحد ہیں اور ا پنے محبوب وطن کے خلاف اس مجرمانہ جارحیت پر اپنے سفاک دشمنوں کو سخت پچھتاوا دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

    اس کے علاوہ ایرانی وزیرخارجہ نے بندر خمیر میں امریکی حملے سے شہید ہونے والے 3 شہریوں کی بھی تصویر جاری کر دی اور کہا کہ تینوں بندرخمیر پل سے گزر رہے تھے جب انہیں نشانہ بنایا گیا، امریکی حملوں سے شہید افراد کاخون رائیگاں جانے نہیں دیں گے، آخری سانس تک وطن کا دفاع کیا جائے گا۔

    دوسری جانب ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں اردن میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیا ہے جن میں کئی امریکی فوجی زخمی ہوئے تاہم ہلاکتوں کی اطلاع موصول نہیں ہوئی روسی میڈیا کے مطابق اس حملے سے پہلے امریکی فوجیوں کا انخلا نہیں کرایا گیا تھا، امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اس حملے میں جانی نقصان بھی ہوا ہے۔

    علاوہ ازیں ایران کی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایرانی بندرگاہی شہر بوشہر کے اوپر ایک امریکی ڈرون مار گرایا ہے ایم کیو-9 ڈرون کو ایران کے مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک کے زیرِ کنٹرول کام کرنے والے جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے روکا گیا اور تباہ کر دیا گیاخلاف ورزی پر آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے 4 ٹینکر جہازوں کو میزائل اور ڈرون کے مشترکہ آپریشن میں روک دیا گیا۔