Baaghi TV

Tag: ایران

  • بحری محاصرہ ختم ، ایرانی جہاز پچاس لاکھ بیرل  خام تیل لے کر روانہ،ایران کی تصدیق

    بحری محاصرہ ختم ، ایرانی جہاز پچاس لاکھ بیرل خام تیل لے کر روانہ،ایران کی تصدیق

    امریکا نے ایران کا بحری محاصرہ ختم کر دیا ہے جس کے بعد لاکھوں بیرل خام تیل لے کر ایرانی ٹینکرز سمندر میں روانہ ہو چکے ہیں۔

    ایران کے نائب وزیرِ خارجہ ماجد تخت روانچی نے اپنے ایک بیان میں بحری محاصرہ ختم ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر بٹھایا گیا اپنا پہرہ مکمل طور پر ہٹا لیا ہے۔

    بحری جہازوں کی آمدورفت پر نظر رکھنے والے ادارے ’ٹینکرز ٹریکر‘ نے بھی بتایا ہے کہ تقریباً بیس لاکھ بیرل ایرانی خام تیل سے لدا ہوا ایک بہت بڑا دیو ہیکل ٹینکر امریکی ممنوعہ بحری لائن کو کامیابی سے پار کر چکا ہے، جبکہ ایران کے درجنوں دیگر بحری جہاز بھی اب بندرگاہوں سے نکل کر اس علاقے کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں پچھلے دو مہینوں میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ تقریباً پچاس لاکھ بیرل خام تیل لے کر کم از کم تین ایرانی ٹینکرز آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کے محاصرے سے باہر نکلے ہیں۔

    سمندری ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے ’کے پی ایل ای آر‘ کے مطابق، ڈیونا اور ہیرو ٹو نامی دو بڑے ٹینکرز، جو ایرانی قومی کمپنی کی ملکیت ہیں اور جن پر امریکی پابندیاں بھی لگی ہوئی ہیں، امریکی بحریہ کے گھیرے کو توڑ کر باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں ان دونوں جہازوں پر مجموعی طور پر اڑتیس لاکھ بیرل ایرانی خام تیل لدا ہوا ہے، جبکہ ایک تیسرا جہاز بھی دس لاکھ بیرل تیل لے کر بدھ کے دن اس محاصرے کی لائن سے باہر نکل آیا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران نے پیر کے روز تقریباً چار ماہ سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے تھے، اور اب جمعہ کے دن سوئٹزرلینڈ میں اس کی اصل اور باقاعدہ تقریب ہوگی اس معاہدے کی تمام تفصیلات تو ابھی سامنے نہیں آئیں لیکن امید ہے کہ اس سے آبنائے ہرمز کا راستہ کھل جائے گا اور ایران کے تیل بیچنے پر لگی پابندیاں بھی ہٹ جائیں گی۔

    لائڈز لسٹ انٹیلی جنس نامی ادارے کا کہنا ہے کہ سمندری شعبہ اس خبر کو جشن کے بجائے ایک ڈر اور بے یقینی کے ساتھ دیکھ رہا ہے پچھلے کئی مہینوں سے جہازوں کے مالکان کرایوں اور جنگ کے بیمہ کی بھاری قیمتوں سے بہت پریشان تھے، اس لیے کچھ مالکان نے تو تیل کی مانگ بڑھنے کی امید پر اپنے جہاز خلیج کی بندرگاہوں کی طرف بھیجنا شروع کر دیے ہیں، لیکن زیادہ تر مالکان اب بھی بہت محتاط ہیں اور پیچھے ہٹے ہوئے ہیں انشورنس کمپنیاں اب بھی جنگ کے خطرے کا بھاری ٹیکس مانگ رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جب تک ٹھوس ثبوت نہیں ملتا کہ یہ سمندری راستہ اب بالکل محفوظ ہے، وہ قیمتیں کم نہیں کریں گی۔

  • صدر ٹرمپ کی فون کال کے بعد  ایران پربڑا حملہ ایک گھنٹہ پہلے منسوخ کیا،سربراہ اسرائیلی فضائیہ

    صدر ٹرمپ کی فون کال کے بعد ایران پربڑا حملہ ایک گھنٹہ پہلے منسوخ کیا،سربراہ اسرائیلی فضائیہ

    اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ میجر جنرل اوہمر ٹشلر نے انکشاف کیا ہے کہ 8 جون کو ایران کے خلاف ایک بڑے فضائی آپریشن کی تمام تیاریاں مکمل تھیں، تاہم حملہ روانگی سے محض ایک گھنٹہ قبل روک دیا گیا۔

    ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق فضائیہ کے اہلکاروں کے نام اپنے پیغام میں جنرل اوہمر ٹشلر نے بتایا کہ 8 جون کی دوپہر پوری اسرائیلی فضائیہ ایران پر وسیع پیمانے پر حملے کے لیے تیار تھی اس آپریشن کے دوران ایران کے اندر سیکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا جانا تھا، تاہم اسکواڈرنز میں بریفنگ کے دوران آخری لمحے میں کارروائی روکنے کا فیصلہ کیا گیا،دفاعی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فضائیہ نے گزشتہ ہفتے ایران کے خلاف تقریباً 1500 کلومیٹر دور حملے بھی کیے تھے، جن میں درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا، ان حملوں کے نتیجے میں ایرانی فضائی دفاعی نظام کو نقصان پہنچا اور دیگر سرکاری تنصیبات بھی متاثر ہوئیں۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق پہلے مرحلے میں جنگی طیاروں نے مغربی اور وسطی ایران میں فضائی دفاع کے 9 نظاموں کو نشانہ بنایا، جبکہ دوسرے مرحلے میں جنوب مغربی ایران کے ایک پیٹروکیمیکل کمپلیکس میں قائم 3 فیکٹریوں پر حملے کیے گئے اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ان تنصیبات کو میزائلوں کی تیاری کے لیے خام مال فراہم کرنے میں استعمال کیا جا رہا تھا۔

    اسرائیلی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو مزید حملوں سے باز رہنے کا مشورہ دیا تھا ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیل نے جنگ میں مزید شدت پیدا کی تو اسے اس محاذ پر تنہا رہنا پڑ سکتا ہے گزشتہ ہفتے جاری کشیدگی کے دوران صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان متعدد بار رابطے ہوئے نیتن یاہو ایران کے خلاف مزید کارروائی کے حق میں تھے، جبکہ ٹرمپ جنگ بندی اور تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی حل پر زور دیتے رہے نیتن یاہو نے ایران کے خلاف ایک بڑ ے آپریشن کی منظوری بھی دے دی تھی، تاہم بعد ازاں صدر ٹرمپ کی فون کال کے بعد اس کارروائی کو روک دیا گیا اور طیاروں کی روانگی سے قبل ہی حملہ منسوخ کر دیا گیا-

  • ایران معاہدہ: امریکا نے اسرائیل کو تفصیلات دینے سے انکار کردیا

    ایران معاہدہ: امریکا نے اسرائیل کو تفصیلات دینے سے انکار کردیا

    امریکا نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی تفصیلات اسرائیل کو فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے،جس پر اسرائیلی حکام نے حیرت کا اظہار کیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات سے متعلق مفاہمتی یادداشت تک رسائی کی باضابطہ درخواست کی تھی، تاہم واشنگٹن نے اسے مسترد کردیا، امریکی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ قومی سلامتی سے متعلق حساس نوعیت کا ہے، اس لیے معاہدے کی مکمل تفصیلات اسرائیل کے ساتھ شیئر نہیں کی جاسکتیں،امریکی فیصلے نے تل ابیب کے حکام کو حیران کر دیا، کیونکہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان ایران سے متعلق امور پر طویل عرصے سے قریبی مشاورت رہی ہے۔

    واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ایک 14 نکاتی مفاہمتی مسودے کی تفصیلات سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، ایرانی ذرائع کے مطابق مجوزہ مسودے میں امریکی بحری ناکہ بندی 30 دن کے اندر ختم کرنے، جبکہ ایران کے تیل اور پیٹروکیمیکل شعبے پر عائد پابندیاں معطل کرنے کی تجاویز شامل ہیں ممکنہ معاہدے میں لبنان سمیت مختلف محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی کی شق بھی شامل ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ مسودے کے تحت امریکا اور اس کے اتحادی ایران کی تعمیر نو کے لیے 300 ارب ڈالر تک کی معاونت فراہم کر سکتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 24 ارب ڈالر جاری کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جبکہ امریکا مذاکرات سے قبل 12 ارب ڈالر جاری کرنے پر آمادہ ہوسکتا ہےمجوزہ معاہدے میں ایران کےمیزائل پروگرام اور علاقائی اتحادی گروپوں کی حمایت کو حتمی مذاکرات کا حصہ بنانے کی بات بھی سامنے آئی ہے، جبکہ کسی بھی حتمی سمجھوتے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے کیے جانے کی تجویز شامل ہے۔

  • اسرائیل باز نہ آیا تومسلح افواج  سخت جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں، خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹر

    اسرائیل باز نہ آیا تومسلح افواج سخت جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں، خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹر

    ایرانی مسلح افواج کے مرکزی کمانڈ خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھیں تو اسے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    ایرانی فوجی ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دو روز کے دوران اسرائیلی افواج نے مبینہ طور پر جنوبی لبنان میں جنگ بندی کی 84 بار خلاف ورزی کی ہے اور عام شہریوں کو شہید کیا گیا جو خطے میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بن رہی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی یا کشیدگی میں کمی کے دعوؤں کے باوجود زمینی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی اور اسرائیلی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔

    خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے واضح کیا کہ اگر صورتحال یہی رہی اور اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیاں نہ روکی تو ایران کی مسلح افواج مناسب اور سخت جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں، خطے میں کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کیا جائے گا اور یکطرفہ کارروائیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

  • ایران جنگ کے خاتمے کا مطلب لبنان میں جنگ کا مکمل اختتام بھی ہے،عباس عراقچی

    ایران جنگ کے خاتمے کا مطلب لبنان میں جنگ کا مکمل اختتام بھی ہے،عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کا مطلب لبنان میں جنگ کا مکمل اختتام بھی ہے، اور جب تک اسرائیلی افواج جنگ کے دوران قبضے میں لیے گئے لبنانی علاقوں سے واپس نہیں جاتیں جنگ کو مکمل طور پر ختم نہیں سمجھا جا سکتا۔

    ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق عباس عراقچی نے منگل کے روز غیر ملکی سفارت کاروں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ اس کے مکمل خاتمے کا ایک لازمی اور ناقابلِ علیحدگی حصہ ہے جب تک اسرائیلی افواج ان علاقوں سے انخلا نہیں کرتیں جن پر انہوں نے اس جنگ کے دوران قبضہ کیا، جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی لبنان پر اسرائیل کے کسی بھی مزید حملے کو ایران کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گاجمعہ کو جنیوا میں دونوں مذاکراتی ٹیموں کے سربراہان ملیں گے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فورا بعد ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوگا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں، تاہم معاہدے کی تفصیلات تاحال منظرعام پر نہیں آئیں جبکہ دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ مستقل جنگ بندی کے لیے ابھی مزید مذاکرات ہونا باقی ہیں صدر ٹرمپ نے پیر کے روز فرانس پہنچنے کے بعد جی 7 ممالک کے سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ معاہدے پر مکمل دستخط ہو چکے ہیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جمعے کے روز جنیوا میں ہونے والی ایک باضابطہ دستخطی تقریب میں شرکت کریں گے۔

  • فیفا ورلڈ کپ: اسٹیڈیم میں ایران کا صرف سرکاری پرچم لہرانے کی اجازت

    فیفا ورلڈ کپ: اسٹیڈیم میں ایران کا صرف سرکاری پرچم لہرانے کی اجازت

    فیفا نے ورلڈ کپ میچز کے دوران اسٹیڈیم کے اندر صرف ایران کا موجودہ اور سرکاری قومی پرچم لہرانے کی اجازت دی ہے –

    ورلڈ کپ ضوابط کے تحت فیفا نے یہ واضح کر دیا ہے کہ کھیل کے میدانوں میں صرف رکن ممالک کے تسلیم شدہ سرکاری جھنڈے ہی لائے جا سکتے ہیں اس فیصلے کے باعث لاس اینجلس کے سوفائی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ کے دوران ایران کے سابق شاہی دور کا پرچم لہرانے کی ممانعت تھی، کیونکہ سیکیورٹی انتظامیہ کی جانب سے ایسے بینرز اور لباس پر سختی برتنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

    عالمی میڈیا کے مطابق اسٹیڈیم میں سیکیورٹی عملے نے کچھ ایسے شائقین کو روکا جنہوں نے پرانے جھنڈے والی ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں اور متبادل لباس نہ ہونے پر انہیں شرٹس الٹی کر کے پہننے کی ہدایت کی گئی تاہم، ایک بار جب شائقین اسٹیڈیم کے اندر داخل ہو گئے، تو انتظامیہ اس پابندی پر سختی سے عمل درآمد کروانے میں ناکام رہی اورمیچ کے دورا ن یہ جھنڈے بھی لہرائے گئے۔

    واضح رہے کہ ایران کے سابق دور سے منسلک علامتی پرچم موجودہ سرکاری پرچم سے مختلف ہے، اس میں ’شیر اور سورج‘ کا نشان شامل ہے جو 1979ء کے انقلاب سے قبل کے دور کی علامت سمجھا جاتا ہے فیفا کا مؤقف ہے کہ وہ کھیل کے میدانوں کو کسی بھی قسم کے سیاسی احتجاج یا تنازعات سے دور رکھنا چاہتی ہے، اسی لیے اسٹیڈیم کے اندر صرف موجودہ ایرانی حکومت کا سرکاری پرچم ہی جائز تصور ہوگا اور ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کو روکا جائے گا۔

  • حالیہ تنازع نے امریکا کو مکمل طور پر بدنام  اور  اسرائیل کا زوال تیز کردیا،کمانڈر قدس فورس

    حالیہ تنازع نے امریکا کو مکمل طور پر بدنام اور اسرائیل کا زوال تیز کردیا،کمانڈر قدس فورس

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر جنرل اسماعیل قانی نے کہا ہے کہ حالیہ تنازع نے امریکا کو مکمل طور پر بدنام کر دیا ہے جبکہ اسرائیلی حکومت کے زوال کے عمل کو مزید تیز کر دیا ہے-

    ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل قانی کا کہنا تھا کہ شدید فوجی دباؤ اور بڑے پیمانے پر تباہی کے باوجود مزاحمتی محاذ کا ایک بھی گروہ میدان نہیں چھوڑا مزاحمتی گروہوں کی مسلسل موجودگی نے ایران کے مخالفین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے خطے میں موجود مزاحمتی گروہوں نے ایران کی حمایت میں امریکا کا مقابلہ کرنے کے لیے خود اقدام کیا اور اس حوالے سے تہران کی جانب سے انہیں براہِ راست کوئی ہدایات نہیں دی گئیں۔

    اسماعیل قانی نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کو ختم کیے جانے یا اس کی طاقت کمزور ہونے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ لبنانی معاشرے میں گہری جڑیں رکھتی ہے اور اسے ختم کرنا ممکن نہیں، حزب اللہ کی صلاحیتیں عوامی سطح پر نظر آنے والی طاقت سے کہیں زیادہ ہیں اور ماضی میں اس تنظیم کی جانب سے دکھائی گئی قوت درا صل برفانی تودے کی صرف نوک تھی۔

    ایرانی جنرل نے باب المندب آبنائے کو ایران کے حامی گروہوں کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک برتری قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حالیہ تنازع کے دوران امریکی جنگی جہازوں نے اس علاقے سے گزرنے سے گریز کیاانہوں نے حالیہ سفارتی کوششوں میں شریک ایرانی مذاکرات کاروں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ لبنان میں ہونے والی پیشرفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ عسکری اور سفارتی محاذوں پر سرگرم عناصر ایک ہی مقصد کے حصول کے لیے کام کر رہے ہیں، حالیہ تنازع نے امریکا کو مکمل طور پر بدنام کر دیا ہے جبکہ اسرائیلی حکومت کے زوال کے عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔

  • حماس کا امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کا خیر مقدم

    حماس کا امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کا خیر مقدم

    فلسطین تنظیم حماس نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔

    مزاحمتی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ امید ہے معاہدے سے غزہ اور لبنان میں اسرائیلی جارحیت ختم ہوگی، امید ہے معاہدہ علاقائی مسائل میں مثبت اثرات کا حامل ہوگا معاہدے سے لبنان اور دیگر محاذوں پر ہونے والے حملے رُکنے کی بھی امید ہے فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی، بھوک مسلط کرنے، جبری بے دخلی کی اسرائیلی جنگ جاری رہنے تک خطے میں امن نہیں ہو سکتا۔

    واضح رہے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے تصدیق کر دی ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر امریکا اور ایران نے دستخط کر دیے ہیں امریکا کی طرف سے صدر ٹرمپ اور جے ڈی وینس جبکہ ایران کی طرف سے اسپیکر باقر قالیباف نے دستخط کیے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) ایک مختصر اور عمومی نوعیت کی دستاویز ہے جو تقریباً ڈیڑھ صفحے پر مشتمل ہے، جبکہ حتمی معاہدے کی تفصیلات آئندہ مذاکرات اور تکنیکی سطح کی بات چیت کے دوران طے کی جائیں گی۔

    علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط ہوگئے، آبنائے ہرمز بھی کھل گئی ہے اور جمعے تک مکمل طور پر کھول دی جائے گی، ایران میں اب سمجھدار قیادت ہے، تہران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پیر کو ٹرمپ جی 7 اجلاس میں شرکت کے لیے فرانس پہنچے، جہاں انہوں نے اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانوئیل میکرون کے ساتھ ملاقات کی۔

    اس موقع پر فرانسی صدر کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کردیے ہیں، جس میں ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

  • معاہدہ کب عوام کے سامنے لایا جائے گا؟کیا ایران کو  منجمد اثاثےملیں گے؟ڈی جے وینس کی میڈیا سے گفتگو

    معاہدہ کب عوام کے سامنے لایا جائے گا؟کیا ایران کو منجمد اثاثےملیں گے؟ڈی جے وینس کی میڈیا سے گفتگو

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے مجوزہ معاہدے کو جمعے سے قبل ہی عوام کے سامنے جاری کرنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جے ڈی وینس نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران متعدد معروف نشریاتی اداروں سے گفتگو کی، جہاں انہوں نے ایران معاہدے کے حوالے سے اٹھائے جانے والے سوالات اور تنقید کا جواب دیا جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر دونوں ممالک کی قیادت کی جانب سے الیکٹرانک دستخط کیے جا چکے ہیں، جبکہ معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تقریب جمعے کے روز متوقع ہے، معاہدے کی بعض تفصیلات ابھی تک زیر غور ہیں، تاہم دونوں فریقین اہم نکات پر اتفاق رائے کے قریب پہنچ چکے ہیں،صدر ٹرمپ معاہدے کی تفصیلات کو جلد عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ کرسکتے ہیں تاکہ عالمی برادری کو پیش رفت سے آگاہ کیا جا سکے۔

    اے بی سی نیوز کے پروگرام ’گڈ مارننگ امریکا‘ میں گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران سے متعلق معاہدے پر ڈیجیٹل طور پر دستخط ہو چکے ہیں، تاہم انہوں نے معاہدے کی بعض اہم تفصیلات کے بارے میں واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔

    سی بی ایس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں نائب صدر نے ان خبروں کی تردید کی کہ ایران کو معاہدے کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے اثاثے منتقل کیے جائیں گے ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پھیلائی جانے والی بعض اطلاعات درست نہیں ہیں۔

    سی این بی سی کے پروگرام ’اسکواک باکس‘ میں جے ڈی وینس نے کہا کہ معاہدے کی کئی تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں، تاہم امریکا کے پاس مذاکرات میں مضبوط پوزیشن موجود ہے اور ’تمام اہم کارڈز‘ امریکا کے ہاتھ میں ہیں۔

    سی این این کے پروگرام ’دی لیڈ‘ میں انہوں نے ریپبلکن حلقوں کی جانب سے کی جانے والی تنقید کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور طویل مدتی استحکام کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

    فاکس نیوز کے پروگرام ’ہینیٹی‘ میں گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ اگر ایران اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لاتا تو اسے کسی بھی جانب سے مالی فوائد حاصل نہیں ہوں گے۔

    این بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں نائب صدر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ جنگ کے خاتمے کے مجوزہ فریم ورک کے تحت بین الاقوامی جوہری معائنہ کار دوبارہ ایران کا دورہ کریں گے اور جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کریں گے۔

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے اور دونوں ممالک مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور دیرپا استحکام کے لیے ایک جامع فریم ورک پر کام کر رہے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق جے ڈی وینس کی مسلسل میڈیا مہم اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وائٹ ہاؤس ایران معاہدے کے حوالے سے پیدا ہونے والے سیاسی اور عوامی سوالات کا جواب دینے اور اس کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اگر معاہدہ باضابطہ طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو اس سے نہ صرف خطے میں جاری تناؤ میں کمی آسکتی ہے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

  • چین کا امریکا اور ایران کے مابین معاہدے کا خیرمقدم،پاکستان کے ثالثی کردار  کی تعریف

    چین کا امریکا اور ایران کے مابین معاہدے کا خیرمقدم،پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف

    چین نے امریکا اور ایران کے درمیان معاہدےکا خیرمقدم کرتے ہوئے اس پیشرفت میں پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا ہے۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے پیر کو معمول کی پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ چین امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو مثبت پیش رفت سمجھتا ہے،پاکستان کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتتے ہوئے چینی ترجمان نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک طے شدہ شیڈول کے مطابق معاہدے پر دستخط کریں گے۔

    لن جیان نے کہا کہ چین امید کرتا ہے کہ تمام متعلقہ فریق امن کے راستے پر کاربند رہیں گے اور اپنے اختلافات کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کریں گے،انہوں نے مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چین علاقائی تنازعات کے حل کے لیے سفارتی اور سیاسی ذرائع کی حمایت جاری رکھے گا، چین عالمی برادری کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امن و استحکام کی جلد بحالی کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

    چینی ترجمان نے کہا کہ چین ہمیشہ سے سیاسی مکالمے اور پرامن مذاکرات کو تنازعات کے حل اور کشیدگی میں کمی کا مؤثر ترین ذریعہ قرار دیتا آیا ہے،امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمت نہ صرف علاقائی کشیدگی میں کمی کا باعث بن سکتی ہے بلکہ وسیع تر استحکام اور امن کے لیے بھی سازگار ماحول پیدا کرے گی۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم تصور کی جا رہی ہے، جبکہ پاکستان کے سفارتی کردار کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملنا اس کی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔