Baaghi TV

Tag: ایران

  • ٹرمپ کا ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے پرغور

    ٹرمپ کا ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے پرغور

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نئی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے پرغور جاری ہے، جو پہلے ہونے والی کارروائیوں سے کہیں زیادہ بڑا ہوگا۔

    جمعرات کو امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر نئی فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں، جو آپریشن ایپک فیوری کے دوران کیے گئے حملوں سے بھی زیادہ شدید ہو سکتا ہےمیں پہلے سے کہیں زیادہ بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں، میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور ہم اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ ابھی اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی انہوں نے کسی ٹائم لائن کا اعلان کیا۔

    رپورٹ کے مطابق دو امریکی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ تاحال صدر ٹرمپ کی جانب سے کوئی حتمی حکم جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی امریکی فوج کو نئی کارروائی کے لیے کوئی نیا حکم ملا ہے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ کے اندر نئی کارروائی میں شامل ہو سکتا ہے تاہم ان کے بقول امریکا کو ایران کے خلاف کارروائی کے لیے کسی دوسرے ملک کی ضرورت نہیں، اگر اسرائیل اس کارروائی میں شامل ہوتا ہے تو اس کے نتائج بھی سامنے آئیں گے، جس سے انہوں نے ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کی طرف اشارہ کیا، ایرانی حکام مذاکرات کرنا چاہتے ہیں لیکن اس وقت وہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار نہیں ہیں ،ایران نے ابھی تک اتنی تکلیف نہیں اٹھائی کہ وہ معاہدے پر آمادہ ہو جائے،

    رپورٹ کے مطابق خطے میں ثالثی کی کوششوں سے آگاہ دو ذرائع نے بتایا کہ ایرانی قیادت نے اب تک پیش کی گئی تازہ تجویز قبول نہیں کی۔ ایک ذریعے کے مطابق مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں لیکن ایران کی جانب سے تعاون نہیں کیا جا رہا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 12 روز کے دوران امریکا نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کو روکنے کے لیے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارر و ائیوں میں اضافہ کیا ہے تاہم ایران نے بھی اپنے حملے تیز کر دیے ہیں اور کسی قسم کی پسپائی کے آثار نظر نہیں آئے۔

    اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ اگر حوثیوں نے بحیرہ احمر میں جہازوں پر دوبارہ حملہ کیا تو امریکا اس کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرائے گا، حوثی ایران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں، اس لیے ایسی صورت میں ایران اور حوثیوں دونوں کو سخت فوجی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو آئندہ ہفتے واشنگٹن میں امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی تعزیتی تقریب میں شرکت کرنا چاہتے ہیں،نیتن یاہو کے ساتھ ان کے تعلقات بہت اچھے ہیں اور اگر وہ واشنگٹن آئے تو ان سے ملاقات بھی کریں گے-

  • امریکی افواج کے ایران پر مسلسل 13ویں رات حملے

    امریکی افواج کے ایران پر مسلسل 13ویں رات حملے

    امریکی افواج نے ایران پر مسلسل 13ویں رات بھی حملےکئے-

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پرکہا کہ ایران کے خلاف مسلسل 13ویں رات فضائی حملے کامیابی سے مکمل کیے، حملوں میں ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہوں، مواصلاتی نیٹ ورکس، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا، یہ حملے اس لیےکیے گئے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے شہری ملاحوں اور تجارتی جہازوں کو ایران سے لاحق خطرات کو مزید کم کیا جا سکے۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی حالیہ کارروائیوں کے باوجود آبنائے ہرمز بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہوئی ہے اور امریکی فوج کی معاونت سے تجارتی جہاز معمول کے مطابق اس راستے سے گزر رہے ہیں اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں نئے حملوں کا آغاز امریکی وقت کے مطابق شام 6 بج کر 45 منٹ پر کیا گیا۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مغربی ایران کے شہر بندر عباس میں دھماکا سنا گیا ہےایرانی خبر ایجنسی کے مطابق ایران کے جنوبی شہر اہواز میں بھی دھماکے سنے گئے ہیں جبکہ جزیرہ قشم میں بھی دھماکے کی اطلاعات ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نےکہا ہے کہ تجارتی جہازوں کے نقصان کی ادائیگی ایران کے منجمد اثاثوں سے کی جائے گی، تمام نقصانات ایرانی رقم سے پورے کیے جائیں گےآج سے جہازوں، ان کے کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی قسم کے نقصان کا ازالہ امریکا کے زیرِ قبضہ اور کنٹرول میں موجود ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا۔

  • ایران کا اردن میں امریکی ریڈار سسٹم اور ہیلی کاپٹر ہینگر تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایران کا اردن میں امریکی ریڈار سسٹم اور ہیلی کاپٹر ہینگر تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن میں واقع امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد اہم عسکری آلات اور دفاعی نظام تباہ کر دیے ہیں-

    پاسدارانِ انقلاب نے سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ کارروائی کے دوران اردن میں موجود امریکی فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا حملے میں امریکی تھاڈ میزائل دفاعی نظام کے ریڈار، پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام، سی ریم ریڈار اور ایک ہیلی کاپٹر ہینگر کو تباہ کر دیا گیا یہ کارروائی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں کی گئی، تاہم بیان میں حملے کے وقت، مقام یا ممکنہ جانی نقصان سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    دوسری جانب امریکی حکام یا اردن کی حکومت کی جانب سے فوری طور پر ایران کے اس دعوے کی نہ تو تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی اس پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے آیا ہے دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران کا دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے تاہم آزاد ذرائع سے اس دعوے کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔

  • امریکا کی ایران کیخلاف مشرقِ وسطیٰ میں خصوصی فوجی دستوں کی تعیناتی شروع

    امریکا کی ایران کیخلاف مشرقِ وسطیٰ میں خصوصی فوجی دستوں کی تعیناتی شروع

    واشنگٹن: امریکا نے ایران کیخلاف ممکنہ کارروائی کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ میں خصوصی فوجی دستوں کی تعیناتی شروع کردی۔

    امریکی اخبار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں مزید فوجی دستے، طبی عملہ اور اسلحہ بھیجنا شروع کر دیا ہے تاکہ صدر ڈونلڈ ٹر مپ کو ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے لیے مزید مضبوط فوجی آپشنز فراہم کیے جا سکیں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران امریکی اسپیشل آپریشنز فورسز اپنے ملکی اڈوں سے مشرقِ وسطیٰ پہنچ چکی ہیں، جبکہ فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا اور امریکی حکام بھی اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہیں، لڑاکا طیاروں کے اسکواڈرن مشر قِ وسطیٰ کے مختلف مقامات پر تعینات کر دیے گئے ہیں، جبکہ امریکا اور برطانیہ کے فوجی اڈوں پر موجود بمبار طیاروں کو بھی ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائیاں تیزی سے بڑھائی جا سکیں۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کو ایران پر جہنم کے دروازے کھولنے کا حکم دے دیا ہےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دیتے ہوئےکہا ہےکہ ایران کو بڑی قیمت ادا کرنا پڑے گی، انہیں تباہ کیا جا رہا ہے، حملے جاری رہیں گے۔

    دوسری جانب ایران نے امریکا کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں کے باوجود ایران نہ صرف مسلسل میزائل اور حملہ آور ڈرون تیار کر رہا ہے بلکہ اس کے میزائل سازی کے مراکز بھی امریکی انٹیلی جنس کی پہنچ سے باہر ہیں پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران پر حملے جاری رہے تو مزید سخت فوجی کارروائیاں کی جائیں گی-

  • ایرانی ہیکرز امریکی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں، ایف بی آئی ،سی آئی ایس اےکا الرٹ جاری

    ایرانی ہیکرز امریکی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں، ایف بی آئی ،سی آئی ایس اےکا الرٹ جاری

    امریکا کے اہم سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایران سے منسلک سائبر حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ملک بھر کے سرکاری اور نجی اداروں کو الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایرانی ہیکرز انٹرنیٹ سے منسلک آلات اور اہم تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔

    امریکی سائبر سیکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سکیورٹی ایجنسی (CISA)، فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (FBI) اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری مشترکہ مشاورتی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایران سے وابستہ سائبر عناصر انٹرنیٹ سے منسلک مختلف آلات اور نظاموں کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔

    ایف بی آئی کے سائبر ڈویژن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر بریٹ لیتھرمین نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی سائبر عناصر امریکی اہم انفراسٹرکچر کو مسلسل ہدف بنا رہے ہیں، اور ایف بی آئی ان حملوں کے ذمہ دار عناصر کی نشاندہی، ان کی سرگرمیوں کو ناکام بنانے اور انہیں اس کی قیمت چکانے پر مجبور کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جاری کردہ مشاورتی اعلامیہ نیٹ ورک سیکیورٹی کے ذمہ دار اداروں کو ضروری معلومات فراہم کرتا ہے تاکہ وہ مشتبہ اور نقصان دہ سرگر میو ں کی بروقت نشاندہی کر سکیں، اپنے دفاعی نظام کو مزید مؤثر بنا سکیں اور ایرانی سائبر عناصر کو امریکی عوام کے لیے ضروری خدمات میں خلل ڈالنے کے موا قع سے محروم کر سکیں۔

    امریکی حکام نے سرکاری اور نجی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے سائبر سیکیورٹی نظام کا ازسرِنو جائزہ لیں، انٹرنیٹ سے منسلک آلات کی حفاظت یقینی بنائیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں، تاکہ ممکنہ سائبر حملوں کے اثرات کو بروقت روکا جا سکے۔

  • امریکا ایران جنگ :تہران کا ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ کی پالیسی پر عمل کا اعلان

    امریکا ایران جنگ :تہران کا ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ کی پالیسی پر عمل کا اعلان

    امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی،جنگ کے دارالحکومت کے قریب پہنچنے کے خدشات کے پیش نظر ایران نے بدھ کے روز تہران اور اس کے اطراف فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر فعال کر دیا۔

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کا دفاعی نظریہ ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ پر مبنی ہےان کا بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس انتباہ کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایرانی افواج نے آبنائے ہرمز میں کسی بحری جہاز کو نشانہ بنایا تو امریکا ہر ایسے حملے کے جواب میں ایرا ن کے کسی پل یا بجلی گھر پر بمباری کرے گا۔

    غیرملکی میڈیا نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس نے کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر مزید حملے کیے ہیں، جنہیں امر یکا کی کارروائیوں کے جواب میں انجام دیا گیا یہ حملے صرف امریکی فوجی اہداف کے خلاف تھے اور ان کا مقصد کسی بھی صورت کویتی عوام کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ علی السالم ایئر بیس پر واقع امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جہاں ایک بڑے فوجی سازوسامان کے گودام، پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام اور امریکی ایم کیو-9 (MQ-9) ڈرونز کے ہینگر کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے العدیری (Al-Adiri) بیرکس میں امریکی فوجیوں کی رہائش گاہوں اور 2 ہیلی کاپٹر ہینگرز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا اور ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کو بھاری نقصان پہنچا ایرانی فورسز نے ایک مواصلاتی ٹا ور کو بھی نشانہ بنایا، جسے ایران میں امریکی حملوں کے دوران ٹیلی کمیونی کیشن ٹاورز پر کی جانے والی کارروائیوں کا جواب قرار دیا گیا۔

    تاہم، اس خبر کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ امریکی یا کویتی حکام کی جانب سے بھی ان دعوؤں پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے امریکی محکمہ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث دنیا بھر میں موجود امریکی شہریوں کو اضافی احتیاط برتنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    محکمے کے مطابق سیکیورٹی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے اور کسی بھی وقت غیر متوقع کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے امریکی شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ امریکی سفارتی تنصیبات اور امریکا سے وابستہ کاروباری یا دیگر ادارے دنیا کے مختلف حصوں میں ممکنہ حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں محکمہ خارجہ نے خاص طور پر مشرقِ و سطیٰ میں موجود امریکیوں کو پروازوں اور سفر میں ممکنہ رکاوٹوں سے آگاہ رہنے اور خطے سے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

    سائبر سکیورٹی کمپنی گلوبل سائبر رسک کی چیف ایگزیکٹو جوڈی ویسٹبی نے خبردار کیا ہے کہ ایران سے منسلک ہیکرز امریکی اہم تنصیبات کے لیے حقیقی خطرہ بن چکے ہیں امریکی حکام ایسے متعدد سائبر حملوں کا مشاہدہ کر چکے ہیں جنکا ہدف اسپتال، پانی کی فراہمی،فضلہ ٹھکانے لگانے کےنظام اور بجلی کی تنصیبا ت ہیں، اور ان حملوں کے پیچھے ایرانی پاسداران انقلاب کے الیکٹرانک سائبر کمانڈ گروپ کے ملوث ہونے کا شبہ ہے امریکا میں نجی شعبے کا منتشر نیٹ و رک ایسے حملوں کے خلاف فوری اور مؤثر ردعمل میں رکاوٹ بن سکتا ہے، جس سے ان حملوں کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔

    امریکا کے سابق سفیر جوی ہڈ نے کہا ہے کہ اگر جنگ کا خاتمہ مذاکرات کے ذریعے نہ ہوا تو امریکا، اسرائیل اور ایران سمیت تمام فریق نقصان اٹھائیں گے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیجی ممالک سے مشاورت کیے بغیر ایران پر حملے کر کے ایک بڑی تزویراتی غلطی کی، جبکہ ایران بھی اپنے جوابی حملوں میں امریکا کے بجائے خطے کے دیگر ممالک کو نشانہ بنا کر کوئی فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں کر سکا انہوں نے زور دیا کہ موجودہ صورتحال کا واحد پائیدار حل مذاکرات ہیں، بصورت دیگر اس جنگ میں آخرکار ہر فریق کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 12ویں روز حملے، میزائل اور ڈرون مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    امریکا کے ایران پر مسلسل 12ویں روز حملے، میزائل اور ڈرون مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف حملوں کا ایک اور مرحلہ مکمل کر لیا ہے،جن میں ایران کی متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا،جبکہ جنوب مغربی ایران میں ہونے والے حملوں میں کم از کم 2 افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوگئے۔

    سینٹ کام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ کارروائیاں بدھ کی رات واشنگٹن کے مقامی وقت کے مطابق رات 10 بج کر 30 منٹ پر مکمل ہوئیں، جو گرین وچ وقت کے مطابق جمعرات کو 2 بج کر 30 منٹ بنتا ہے امریکی افواج نے ایران کی متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف، میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کی جگہیں، ساحلی نگرانی کے مراکز اور فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ بدھ تک سینٹ کام نے ایران جانے یا وہاں سے نکلنے والے بحری راستوں پر کارروائی کرتے ہوئے 9 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا، جبکہ ایک جہاز کو بھی ناکارہ بنا دیا تاکہ کوئی بھی جہاز ایرانی بندرگاہوں میں داخل نہ ہو سکے یا وہاں سے روانہ نہ ہو سکے۔

    سینٹ کام کے مطابق یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب ایران آبنائے ہرمز میں اپنی جانب سے بحری ناکہ بندی نافذ کیے ہوئے ہے، جبکہ امریکی افواج بھی ایرانی بحری نقل و حمل کو محدود کرنے کے لیے کارروائیاں کر رہی ہیں اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں اور وہ ہر قسم کی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

    ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ عراق سے ملحق شلامچہ بارڈر کراسنگ کے قریب ایک مسافر ٹرمینل کے نزدیک دھماکوں کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔ اس کے علاوہ خوزستان کے مختلف شہروں، جن میں اہواز، ماہشہر، اندیمشک اور رامشیر شامل ہیں، میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں رامشیر میں اسفالٹ ذخیرہ کرنے کی ایک تنصیب کو بھی نشانہ بنایا گیا امریکا کے حالیہ حملوں کے آغاز سے اب تک کم از کم 10 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ گزشتہ چند ہفتوں میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد کم از کم 8 بتائی گئی تھی۔

    ایران کے صوبہ ہرمزگان کے شہروں سیریک اور جاسک میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں یہ علاقے آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہیں اور اس اہم عالمی بحری گزرگاہ کی نگرانی کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ صوبہ بوشہر میں بھی رات کے دوران 2 دھماکے رپورٹ ہوئے۔

    دوسری جانب ایران نے امریکا کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں کے باوجود ایران نہ صرف مسلسل میزائل اور حملہ آور ڈرون تیار کر رہا ہے بلکہ اس کے میزائل سازی کے مراکز بھی امریکی انٹیلی جنس کی پہنچ سے باہر ہیں پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران پر حملے جاری رہے تو مزید سخت فوجی کارروائیاں کی جائیں گی-

  • نئے برطانوی وزیراعظم نے ایران پر امریکی حملوں کیلئے فوجی اڈوں کے استعمال کی منظوری دیدی

    نئے برطانوی وزیراعظم نے ایران پر امریکی حملوں کیلئے فوجی اڈوں کے استعمال کی منظوری دیدی

    برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے برطانوی عسکری اڈوں کے استعمال کی منظوری دے دی ہے۔

    بلوم برگ کے مطابق برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم نے امریکا کو ایران کے خلاف ان حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈے استعمال کرنے کی منظور ی دے دی ہے جنہیں برطانیہ "دفاعی کارروائیاں” قرار دیتا ہے۔اینڈی برنہم کا یہ فیصلہ سابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی تیار کردہ پالیسی کا تسلسل ہے، جس کے تحت ان حملوں کو ایک کھلی جنگ کے بجائے دفاعی نوعیت کی کارروائی قرار دیا گیا ہے۔

    کیئر اسٹارمر نے اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے سے قبل سینئر وزراء اور اعلیٰ حکام کے ساتھ اجلاس میں اس پالیسی کا جائزہ لیا تھا، تاہم نئے وزیراعظم کے دفتر سے اس فیصلے پر کوئی باقاعدہ بیان سامنے نہیں آیا ہےرپورٹ میں ذرائع کے حوالے بتایا گیا کہ کیئر اسٹارمر نے جمعہ کو سینئر وزرا اور اعلیٰ حکام کا اجلاس طلب کیا، جس میں رواں ماہ کے آغاز میں امریکی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہونے کے بعد برطانیہ کی پالیسی پر غور کیا گیا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈیاگو گارسیا اور آر اے ایف فیئرفورڈ کے فوجی اڈے امریکی طیاروں کے استعمال کے لیے بدستور دستیاب رہیں گے، تاکہ وہ ایرانی میزائل خطرات کا مقابلہ کر سکیں اور آبنائے ہرمز سے متعلق اہداف پر کارروائیاں جاری رکھ سکیں۔

    پیر کے روز وزیراعظم بننے والے اینڈی برنہم کو اجلاس میں ہونے والی گفتگو سے آگاہ کیا گیا اور انہوں نے اس فیصلے سے اتفاق کیا رپورٹ میں ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ دفاعی امریکی حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کی منظوری سے متعلق سابق حکومت کی پالیسی برقرار رکھیں گے اس فیصلے کا مطلب ہے کہ امریکا کی موجودہ فوجی کارروائیوں کے بعض مراحل میں برطانوی فوجی اڈے استعمال کیے جانے کا امکان ہے۔

    یہ پیش رفت امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف دسویں روز بھی جاری فوجی کارروائیوں کے بعد سامنے آئی ہے امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق رات بھر ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، لانچ سائٹس اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا،تاہم برطانوی حکام صدر ٹرمپ کی جانب سے پلوں اور بجلی گھروں پر حملوں کی دھمکیوں پر تشویش کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر سفارتی حل نہ نکلا تو ایران کا پکس ایکس ماؤنٹین پر واقع ایٹمی مرکز امریکی حملوں کا ہدف بن سکتا ہے امریکا کے اس موقف کے بعد ایران کی جانب سے بھی سخت ردِعمل ظاہر کیا گیا ہے۔

    ایران کے اعلیٰ عسکری کمانڈ سینٹر ’خاتم الانبیاء‘ کے ترجمان نے ایرانی نیشنل ٹی وی پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن نے اسلامی جمہوریہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا تو خطے بھر میں امریکی اور اس کے اتحادیوں کے تمام اثاثوں کو نشانہ بنایا جائے گا-

    اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد عرب خلیجی ممالک شدید تشویش میں مبتلا ہیں اور وہ امریکا پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اسرائیل کو ایران پر مزید حملے کرنے سے روکےخلیجی ریاستوں کو خدشہ ہے کہ اگر اسرائیل نے کوئی کارروائی کی تو ایران ان کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی جوابی کارروائی کا نشانہ بنا سکتا ہے،اس کے ساتھ ساتھ امریکا اور اسرائیل کے درمیان بن گوریان ایئرپورٹ پر اضافی امریکی ملٹری ری فیولنگ طیاروں کو کھڑا کرنے کی تجویز پر بھی غور ہو رہا ہے۔

  • محسن نقوی سے ایرانی وزیر داخلہ کی  ملاقات

    محسن نقوی سے ایرانی وزیر داخلہ کی ملاقات

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے اسلام آباد میں ملاقات کی۔

    وزارت داخلہ آمد پر محسن نقوی نے ایرانی ہم منصب کا پُر تپاک خیر مقدم کیا، فیڈرل کانسٹیبلری کے چاق و چوبند دستے نے ایرانی وزیر داخلہ کو سلامی پیش کی اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پربھی مذاکرات ہوئے، دونوں وزرائے داخلہ نے دوطرفہ تعلقات اور باہمی تجارت کو مزید مستحکم بنانے کا عزم کیا اور علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    پاکستان اور ایران نے انسداد دہشت گردی اور انسداد منشیات کے شعبوں میں اشتراک بڑھانے، غیر قانونی امیگریشن اور انسانی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا دونوں ممالک نے افغان سرحد سے منشیات اور دہشتگردی روکنے کے لیے مشترکہ موقف اپنانے کی ضرورت پر زور دیا جبکہ دوطرفہ اشتراک کار بڑھانے کے لئے کوآرڈینیشن بہتر بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے امن کیلئے غیر معمولی کام کیا۔ امید ہے اب بھی اچھی خبر جلد سامنے آئے گی اور امن قائم ہو گا۔

    ایرانی وفد میں گورنر جنرل سیستان بلوچستان، نائب وزیر داخلہ، نائب وزیر اربن ڈویلپمنٹ ٹرانسپورٹ، نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے سربراہ، وزیر زراعت کے خصوصی نمائندے اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔

    وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری، وفاقی سیکرٹری داخلہ، چیئرمین نادرا، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس، آئی جی فیڈرل کانسٹیبلری، ڈی جی این سی سی آئی اے، ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس، چیئرمین سی ڈی اے، آئی جی اسلام آباد پولیس اور ایڈیشنل سیکرٹریز داخلہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔

  • امریکا کے ایران پر مسلسل گیارہویں رات فضائی حملے

    امریکا کے ایران پر مسلسل گیارہویں رات فضائی حملے

    ایران کے خلاف مسلسل گیارہویں رات فضائی حملے کیے، جن میں متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے-

    سینٹ کام کے مطابق ایران کے خلاف مسلسل گیارہویں رات فضائی حملے کیے، جن کا مقصد ایران کی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت کو کمزور کرنا بتایا گیا ہے حملوں میں ایرانی فوجی آپریشن مراکز، بحری تنصیبات، طیاروں کے ہینگرز، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور فوجی لاجسٹک انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔منگل کی رات کیے گئے یہ حملے تقریباً 75 منٹ تک جاری رہے۔

    دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق تہران، بوشہر، سیریک، بہبہان، امیدیہ اور تبریز کے قریب مختلف مقامات پر دھماکے ہوئے جبکہ تہران میں فضائی دفاعی نظام بھی فعال کر دیا گیا،مقامی حکام نے تبریز کے مضافات میں فوجی تنصیب پر حملے کی تصدیق کی، تاہم شہر کے اندر کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    ادھر کویتی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے بھیجے گئے ایک ڈرون کو مار گرایا۔ ایران اس ماہ امریکی کارروائیوں کے دوبارہ آغاز کے بعد کویت، بحرین اور قطر سمیت کئی خلیجی ممالک کو بھی نشانہ بنا چکا ہے-

    امریکا اور ایران کے درمیان اس جنگ کا آغاز 28 فروری کو اس وقت ہوا تھا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے بھی اسرائیل اور ان خلیجی ریاستوں پر جوابی کارروائیاں کیں جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں اس جنگ کے دوران ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں اور لبنان پر اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

    ایرانی وزارتِ صحت کے ایک اہلکار کے مطابق سیز فائر ختم ہونے کے بعد ایران پر کیے گئے حالیہ امریکی حملوں میں 50 شہری ہلاک اور 500 زخمی ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد بھی حالیہ دنوں میں بڑھ کر 18 ہو گئی ہے،واشنگٹن کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین مہینوں کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 30 سے زائد تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن اب بھی سفارتی حل کا خواہاں ہے، تاہم ایران کو مذاکرات میں سنجیدگی دکھانا ہوگی، انہوں نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے جبکہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کانگریس کو بتایا کہ ایران کے خلاف کارروائیوں پر اب تک 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جبکہ پینٹاگون کو مزید 90 ارب ڈالر درکار ہیں۔ اس مطالبے پر ڈیموکریٹ ارکان نے شدید اعتراضات کیے-

    پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ایران سے بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

    اس سے قبل گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے ایران میں توانائی کے پاور پلانٹس اور پلوں کو بھی اپنے عسکری ہدف کا حصہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔

    جنگوں میں انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق 1949 کے جنیوا کنونشنز ایسے تمام مقامات پر حملوں کی سخت ممانعت کرتے ہیں جو عام شہریوں کی زندگی کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں صدر ٹرمپ کی جانب سے ان تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے بعد امریکا کے بین الاقوامی قانون کے ماہرین نے اپریل میں خبردار کیا تھا کہ اس طرح کے حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔