Baaghi TV

Tag: ایران

  • امریکا کا 5 ایرانی تیل بردار جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ، ایران کا اردن پر  جوابی میزائل حملہ

    امریکا کا 5 ایرانی تیل بردار جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ، ایران کا اردن پر جوابی میزائل حملہ

    امریکا نے خلیج عمان اور خارگ جزیرے کے قریب ایران کے پانچ تیل کے ٹینکرز پر حملہ کر کے انہیں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے. جس کے جواب میں ایران نے اردن میں قائم امریکی فوجی اڈے پر میزائلوں اور راکٹوں کی بارش کردی۔

    سینٹکام کا کہنا ہےکہ اس کی فورسز نے ایرانی جہازوں پر حملہ ایک امریکی جنگی جہاز پر بیلسٹک میزائل داغنے کی کوششوں کے جواب میں کیا،اس کے جواب میں ایران نے اردن میں قائم امریکی فوجی اڈے اور خطے میں امریکی جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن میں الازرق امریکی اڈے کو نشانہ بنایا ساتھ ہی امریکی بحریہ کے دو ڈسٹرائیرز کو بھی نشانہ بنایا اردن میں امریکا کے ایف 35 اور ایف 15 ہینگرز کو تباہ کردیا گیا ہے، امریکی عملے کو فوری اپنے جہاز چھوڑنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حملوں کے جواب میں کویت اور بحرین میں امریکی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنائیں گے، ساتھ ہی مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفادات کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک باضابطہ بیان میں بتایا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے دو دنوں میں دو بار ہمارے جنگی جہاز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم جہاز ان حملوں سے محفوظ رہا اور کسی بھی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا، جواب میں ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، تاہم حملے سے قبل جہاز کے عملے کو بحفاظت نکلنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

    دوسری جانب ایران کے مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف علی عبداللہی نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اگر ہمارے ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا تو ہم خطے میں امر یکی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے حملوں کے بعد ایرانی امورِ خارجہ نے اسے اقوامِ متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی اور جنگی جرم قرار دیا ہے۔

    اس کشیدگی کے حوالے سے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے، اور ہر بار جب وہ ایسا کریں گے تو انہیں اپنے ٹینکرز سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔

    دوسری جانب اردن کی افواج نے تصدیق کی ہے کہ ان کے دفاعی نظام نے بیس میں سے اٹھارہ ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا اور کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

  • ایران کے ساتھ جھڑپیں جنگ نہیں،پینٹاگون کا ہلاک امریکی فوجیوں کو اضافی مراعات دینے سے انکار

    ایران کے ساتھ جھڑپیں جنگ نہیں،پینٹاگون کا ہلاک امریکی فوجیوں کو اضافی مراعات دینے سے انکار

    امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کے اہلِ خانہ اور پینٹاگون کے درمیان اضافی مراعات اور مالی امداد کے حوالے سے شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔

    برطانوی اخبار ’دی ٹیلیگراف‘ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پینٹاگون نے ہلاک امریکی فوجیوں کو اضافی مراعات دینے سے انکار کرتے ہوئے عذر پیش کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جھڑپیں جنگ نہیں ہیں۔

    یہ معاملہ اس وقت میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا جب مارچ کے مہینے میں عراق کے مغرب میں حادثے کے شکار ایندھن فراہم کرنے والے طیارے کے پا ئلٹ میجر الیکس کلینر کی بیوہ لیبی کلینر نے ایک بیان جاری کیاان کا کہنا تھا کہ امریکی فضائیہ نے باضابطہ جنگ کا اعلان نہ ہونے کو بنیاد بنا کر انہیں اضافی فوائد دینے سے انکار کر دیا ہے۔

    اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لیبی کلینر نے خبر رساں ادارے ’دی ٹیلیگراف‘ سے بات چیت میں کہا کہ میرے شوہر نے ایک جنگ میں اپنی جان گنوائی، لیکن بعد میں مجھے بتایا گیا کہ یہ تکنیکی طور پر جنگ نہیں ہے اس لیے ہم حقوق سے محروم رہ جائیں گے اس تجربے نے مجھے دکھایا کہ ایک غمزدہ خاندان کے لیے حکومتی اصطلاحات اور پیچیدہ کارروائیوں کو سمجھنا کتنا مشکل ہوتا ہےالیکس اپنے کام کے خطرات سے واقف تھے اور انہیں بھروسہ تھا کہ ان کے بعد ان کے خاندان کا خیال رکھا جائے گا۔

    دوسری جانب سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل سامنے آنے کے بعد امریکی فضائیہ نے تسلیم کیا کہ ابتدائی طور پر غلط معلومات دی گئی تھیں اور کہا کہ میجر کی آخری تنخواہ میں خطرناک ڈیوٹی کا الاؤنس شامل کر دیا گیا ہے۔

    سیاسی سطح پر اس مسئلے نے اس وقت نئی بحث چھیڑ دی جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے وائٹ ہاؤس کی بریفنگ میں اس بارے میں پوچھا گیا جے ڈی وینس نے کہا کہ ہم متاثرہ خاتون کی ہر ممکن مدد کرنا چاہتے ہیں اور ان کا پیغام ہے کہ ہم ان کی قربانی کی قدر کرتے ہیں اور ان کے تمام حقوق کی فراہمی کے لیے پرعزم ہیں، تاہم وینس نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے لفظ جنگ کے استعمال کو مسترد کر دیا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی وضاحت کی اور کہا کہ بہت سے لوگ اسے جنگ نہیں کہتے، میں اسے ایک عسکری تنازع کہتا ہوں کیونکہ یہ ہمارے لیے ایک محدود نوعیت کا معاملہ ہے جبکہ پینٹاگون نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کی مسلسل دیکھ بھال کی یقین دہانی کرائی ہے-

    واضح رہے کہ پینٹاگون کے مطابق، ایران کے ساتھ ’تنازع‘ میں پچھلے چھ ماہ میں 18 امریکی فوجی ہلاک اور 780 زخمی ہو چکے ہیں۔

  • ایران جنگ نے  عالمی معیشت کے کام کرنے کا طریقہ بدل ڈالا ہے،امریکی اخبار

    ایران جنگ نے عالمی معیشت کے کام کرنے کا طریقہ بدل ڈالا ہے،امریکی اخبار

    ایران جنگ نے صرف تیل کی قیمتیں نہیں بڑھائیں بلکہ عالمی معیشت کے کام کرنے کا طریقہ بھی بدل دیا ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں اس جنگ کے اثرات عام شہریوں تک بھی پہنچے پیٹرول کی قیمت کئی ہفتوں سے 4 ڈالر فی گیلن سے زیادہ رہی، گھر کے قرض کی شرح سود تقریباً 7 فیصد تک پہنچنے لگی جبکہ ڈیزل مہنگا ہونے کے باعث کمپنیوں نے سامان کی ترسیل پر اضا فی چارجز وصول کرنا شروع کردیئے، جنگ کے دوران آبنائے ہرمز پر ایران کا اثر و رسوخ بڑھا، چین نے تیل کی عالمی منڈی میں اپنی طاقت دکھائی جبکہ امریکا، برازیل، گیانا، کینیڈا اور ناروے سمیت کئی ممالک نے تیل کی پیداوار بڑھا دی۔

    ماہرین کے مطابق جنگ بندی کے بعد ان میں سے کچھ اثرات کم ہوسکتے ہیں، لیکن عالمی معیشت میں آنے والی بعض تبدیلیاں طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہیں،جنگ سے پہلے دنیا کے مختلف ممالک کے بحری جہاز آبنائے ہرمز سے آزادانہ گزر کر خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ سے سامان اور تیل لے جا تے تھے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل کی سپلائی روزانہ اسی تنگ سمندری راستے سے گزرتی تھی۔

    فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد صورتِ حال تبدیل ہوگئی ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول ظاہر کرتے ہوئے وہاں سے گزرنے والے بعض بحری جہازوں کو نشانہ بنایا اس کے نتیجے میں عالمی منڈی کو روزانہ تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہوئی۔

    مئی میں ایران نے مکمل طور پر آبنائے ہرمز بند رکھنے کے بجائے وہاں سے گزرنے والے جہازوں کے لیے نئے قواعد نافذ کردیئے اس مقصد کے لیے ’پرشیئن گلف اسٹریٹ اتھارٹی‘ قائم کی گئی، جس کے تحت جہازوں کو رجسٹریشن، مخصوص راستے کی پابندی اور گزرنے کے لیے فیس ادا کرنا تھی،جون میں امریکا -ایران ایک مفاہمتی معاہدے کے بعد ایران نے 60 دن کے لیے فیس وصول نہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی، تاہم رجسٹریشن نہ کرانے والے جہازو ں پر حملے جاری رہے۔

    بعد میں امریکا نے رات کے وقت آبنائے ہرمز سے ایسے بحری جہازوں کو فوجی نگرانی اور سکیورٹی فراہم کرنا شروع کردی جن کی شناخت واضح نہیں ہوتی تھی اس کا مقصد خلیج فارس سے تیل کی برآمدات جاری رکھنا اور ایرانی ڈرون حملوں سے بچنا تھا۔

    سرمایہ کاری کی حکمت عملی کے ماہر راس فیلڈ نے کہا کہ امکان ہے ایران جنگ کے بعد آبنائے ہرمز پر پہلے سے زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہوگا اور مشرق وسطیٰ کے تیل پر انحصار کرنے والے ممالک کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا پڑے گی،آبنائے ہرمز کی بندش جو پہلے صرف ایک ممکنہ خطرہ سمجھی جاتی تھی، اب ایک عملی اور مؤثر حربے کے طور پر سامنے آچکی ہے۔

    ماہرین کے مطابق مستقبل میں ایسا معاہدہ بھی ہوسکتا ہے جس کے تحت ایران آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کے لیے فیس وصول کرے،جے پی مورگن کی کموڈیٹیز اینالیسس کی سربراہ نتاشا کانیوا کے مطابق بین الاقوامی سمندری راستوں میں مختلف خدمات کے عوض فیس وصول کرنے کی مثالیں پہلے سے موجود ہیں، اگر ایران ترکی کی جانب سے آبنائے باسفورس اور داردانیلز میں وصول کی جانے والی فیس جیسا نظام اپناتا ہے تو تیل کی قیمت میں تقریباً ایک ڈالر فی بیرل اضافہ ہوسکتا ہے ایک بڑا تیل بردار جہاز دونوں طرف کے سفر کے لیے تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار ڈالر ادا کرسکتا ہے۔

    سی این این کے مطابق ایران جنگ کا دوسرا بڑا اثر چین کے کردار میں نظر آیا چین خود دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل نہیں، لیکن جنگ کے دوران اس نے ثابت کیا کہ عالمی تیل کی منڈی میں اس کا اثر بہت زیادہ ہے امریکی کاروباری اور مالیاتی مشاورتی ادارے آر ایس ایم یو ایس کے چیف اکانومسٹ جو برسیولاس کے مطابق چین میں تیل کی طلب کو تیزی سے کم یا زیادہ کرنے کی صلاحیت نے اسے خاص اہمیت دی۔

    چین نے جنگ سے پہلے تیل کے بڑے ذخائر جمع کرلیے تھے اسی وجہ سے جنگ کے دوران اس نے خام تیل کی درآمد میں تقریباً 50 لاکھ بیرل یومیہ کمی کردی تاہم مستقبل میں ان ذخائر کو دوبارہ بھرنے کے لیے چین کی تیل کی طلب بڑھ سکتی ہے۔

    دوسری جانب چین میں لوگوں کے رویے میں بھی ایسی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں جو طویل مدت تک برقرار رہ سکتی ہیں مئی کی 5روزہ چھٹیوں کے دورا ن چین کی شاہراہوں پر الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 55.6 فیصد اضافہ ہوا، اسی عرصے میں چین کی شاہراہوں پر سفر کر نے والی تقریباً ہر چار میں سے ایک گاڑی الیکٹرک تھی، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ تھی۔

    سی این این نے بتایا کہ چین نے بجلی بنانے کے لیے تیل اور گیس سے چلنے والے پلانٹس کے بجائے تیزی سے کوئلے کا استعمال بھی بڑھایا، جس سے اسے تیل کی عالمی سپلائی میں بڑی کمی کے باوجود اپنی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملی۔

    جے پی مورگن کے مطابق جنگ کے دوران مشرق وسطیٰ سے عالمی منڈی کو ملنے والے تیل میں تقریباً 1.9 ارب بیرل کی کمی ہوئی، لیکن اس میں سے تقریباً 80 کروڑ بیرل یعنی تقریباً نصف حصہ اس طرح پورا ہوا کہ لوگوں اور کاروباروں نے تیل کا استعمال کم کردیا۔

    نتاشا کانیوا نے کہا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ ماضی میں تیل کی قیمتوں میں بڑے جھٹکوں کے بعد پیٹرول کی طلب میں مستقل کمی دیکھی گئی، اور ممکن ہے اس بار بھی ایسا ہی ہو،اس صورتحال نے یہ بحث بھی چھیڑ دی ہے کہ شاید دنیا تیل کی طلب کی بلند ترین سطح یعنی ’پیک آئل‘ کے قریب پہنچ چکی ہے۔

    سی این این کے مطابق ایران جنگ کے دوران ایک اور اہم تبدیلی یہ ہوئی کہ مشرق وسطیٰ سے باہر کئی ممالک نے تیل کی پیداوار بڑھانا شروع کردی۔

    امریکا کی ایک نجی آئل اینڈ انرجی کنسلٹنگ فرم لپاؤ آئل ایسوسی ایٹس کے صدر اینڈی لپاؤ کے مطابق مشرق وسطیٰ سے باہر تیل کی تلاش اور متبادل توانائی کے منصوبوں میں تیزی آرہی ہے جبکہ پہلے سے موجود تیل کے منصوبوں میں بھی پیداوار بڑھائی جارہی ہے۔

    جے پی مورگن کے اعداد و شمار کے مطابق برازیل نے اپنی تیل کی پیداوار میں روزانہ 8 لاکھ بیرل، گیانا نے 3 لاکھ بیرل، کینیڈا نے 2 لاکھ بیرل اور ناروے نے ڈیڑھ لاکھ بیرل یومیہ اضافہ کیا۔

    امریکا نے بھی گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 9 لاکھ بیرل یومیہ زیادہ تیل پیدا کرنا شروع کردیا ہے۔

    امریکا میں اضافی پیداوار کا بڑا حصہ نجی کمپنیوں کے زیر انتظام کنوؤں سے آیا، جہاں سے تیل ریفائنریوں کو بھیجا گیا تاکہ یورپی مارکیٹ کے لیے جیٹ فیول اور قدرتی گیس کی ضروریات پوری کی جاسکیں۔

    ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلنے کے بعد امریکا کی پیداوار میں معمولی کمی آسکتی ہے، لیکن جے پی مورگن کا خیال ہے کہ امریکی پیداوار موجودہ سطح کے قریب برقرار رہ سکتی ہے برازیل نے بھی ماہرین کو حیران کیا اور توقع سے کہیں زیادہ تیل پیدا کیا دوسری جانب گیانا میں ایک نیا سمندری پیداواری جہاز پہنچنے والا ہے، جس سے وہاں تیل کی پیداوار مزید تیز ہونے کی توقع ہے۔

    سعودی عرب نے آبنائے ہرمز سے بچنے کے لیے بڑی تعداد میں ٹرکوں کے ذریعے تیل اور دیگر سامان بحیرہ احمر تک پہنچانے کا انتظام کیا جبکہ اس کی مشرق سے مغرب تک جانے والی پائپ لائن کو بھی مکمل صلاحیت کے ساتھ استعمال کیا گیا عراق بھی خلیج فارس سے نکلنے والے تیل کے لیے ایک نیا راستہ بنانے پر غور کررہا ہے اور بحیرہ روم تک پائپ لائن کی تعمیر کے لیے امریکی کمپنی شیورون سے بات چیت جاری ہے۔

    جنگ کے بعد تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کو بھی نئے چیلنج کا سامنا ہے متحدہ عرب امارات نے اپریل میں اوپیک چھوڑنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ عراق بھی مستقبل میں تنظیم سے الگ ہونے پر غور کرسکتا ہے۔

    عراق کے وزیر تیل کے مطابق اگر اوپیک نے پیداوار کے اہداف میں بڑا اضافہ نہ کیا تو عراق کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اسے تنظیم میں رہنا ہے یا نہیں،عراق جنگ کے بعد روزانہ 50 لاکھ بیرل تیل پیدا کرنے کی اجازت چاہتا ہے جبکہ طویل مدت میں اس کا ہدف 70 لاکھ بیرل یومیہ پیداوار تک پہنچنا ہے۔

    اگر عراق اور دیگر ممالک کو زیادہ تیل پیدا کرنے کی اجازت مل جاتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی مقدار طلب سے زیادہ ہوسکتی ہے، اس کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ صارفین کے لیے تیل کی قیمتیں کم ہوسکتی ہیں، تاہم دوسری جانب عالمی سطح پر تیل کی اضافی پیداوار مستقل ہوگئی تو تیل کمپنیوں کے منافع میں بڑی کمی بھی آسکتی ہے۔

  • ہمارے اثاثوں کو نشانہ بنایاتو  امریکی تیل اور گیس کمپنیوں پر جوابی حملہ کریں گے،ایران

    ہمارے اثاثوں کو نشانہ بنایاتو امریکی تیل اور گیس کمپنیوں پر جوابی حملہ کریں گے،ایران

    ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی فورسز نے ایران کے قومی یا سمندری اثاثوں کو نشانہ بنایا تو خطے میں موجود امریکی تیل اور گیس کی کمپنیوں اور ان کی اہم تنصیبات کو جوابی حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔

    ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں امریکی وزیر دفاع کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ یہ بات بہت سادہ اور قابلِ فہم ہے، اس وسیع خطے میں پھیلائی گئی تیل و گیس کی پیداواری تنصیبات اور نظام ہماری پہنچ میں ہیں اور بے حد حساس ہیں،اگر آپ ہمارے اثاثوں پر حملہ کریں گے تو آپ پر بھی حملہ ہو گا، اور ہم پہلے بھی اپنی اس جوابی صلاحیت کو ثابت کر چکے ہیں، آپ اپنے ان فوجی اڈوں سے پوچھ لیں جو اب قابلِ استعمال نہیں رہے ہیں۔

    باقر قالیباف کی اس دھمکی سے قبل امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اپنے بیان میں واضح کیا تھا کہ اگر ایران نے امریکی جہازوں پر فائرنگ کی تو ہم ان کے آئل ٹینکرز کو تباہ کر کے ڈبو دیں گے ایران کو امریکی بحریہ پر فائرنگ سے گریز کرنا ہو گا۔

    دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے خطے پر ایک وحشیانہ جنگ مسلط کی ہے اور اب اس کے معاشی اثرات اور ادائیگی کی توقع پوری دنیا سے کر رہا ہے تجارتی جہاز رانی کا نظام متاثر ہونے کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اور ایسی صورتحال میں صرف ایران کو خطے میں افراتفری کا ذمہ دار قرار دینا سراسر مضحکہ خیز ہے۔

    اسماعیل بقائی نے یہ اہم انکشاف بھی کیا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے لیے عارضی اور محفوظ راستے کی فراہمی پر ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور توقع ہے کہ اس معاہدے کو جلد بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن میں باقاعدہ رجسٹر کرا لیا جائے گا۔

  • امریکا نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کی تفصیلات جاری کردیں

    امریکا نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کی تفصیلات جاری کردیں

    امریکا نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کی تفصیلات جاری کردیں –

    امریکی سینٹ کام کے مطابق کارروائی کے دوران 94 بحری جہازوں کے راستے تبدیل کیے گئے جبکہ ناکہ بندی کی مبینہ خلاف ورزی پر 3 ایرانی بحری جہازوں کو ناکارہ بنا دیا گیا۔، امریکی فورسز نے معائنے کے لیے 2 تجارتی جہازوں کی تلاشی بھی لی، جبکہ ایک خفیہ آپریشن کے دوران سمندر میں موجود 80 بحری بارودی سرنگیں صاف کی گئیں، سمندری راستے کی صفائی کے بعد اس علاقے میں بحری جہازوں کی آمدورفت میں اضافہ متوقع ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق 20 امریکی طیارہ بردار جہاز بحیرہ عرب میں بحری ناکہ بندی کی کارروائی میں مصروف ہیں۔ امریکی حکام نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی اور امریکی بحریہ کے کنٹرول میں ہے-

    دوسری جانب امریکی دعوؤں پر ایران کی جانب سے تاحال کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔

  • ایران کا خلیج میں جلد ایک اور ‘ممنوعہ زون’ قائم کرنے کا اعلان

    ایران کا خلیج میں جلد ایک اور ‘ممنوعہ زون’ قائم کرنے کا اعلان

    ایران نے آبنائے ہرمز کے باہر ایک نیا ممنوعہ بحری زون قائم کرنے کا اعلان کیا ہے-

    ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ نیا بحری زون آئندہ چند روز میں قائم کیا جائے گا جو امریکی بحریہ کی قائم کردہ ناکہ بندی کی حد سے شروع ہو کر خلیج کے مختلف حصوں تک پھیلے گا، اس علاقے میں داخل ہونے والے ہر بحری جہاز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کردیا جائے گا۔

    محسن رضائی نے کہا کہ ایران اور عمان آئندہ چند روز میں آبنائے ہرمز سے متعلق ایک نئے بحری راستے کے معاہدے پر دستخط کریں گے، جس کے داخلی اور خارجی راستے ایران کے کنٹرول میں ہوں گے، آبنائے ہرمز ’مکمل طور پر بند‘ ہے اور مسلح افواج کے کنٹرول میں ہے ان کے بقول امریکی صدر ڈونلڈ ٹر مپ کا یہ کہنا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے ’بڑا جھوٹ‘ ہے۔

    ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے قبل روزانہ 100 سے زائد بحری جہاز اس راستے سے گزرتے تھے، جو 10 کروڑ ٹن سے زیادہ سامان لے جاتے تھے، تاہم اب صرف 7 یا 8 جہاز ایران کے لیے ضروری اشیا لے کر آبنائے سے گزر رہے ہیں مریکا بھاری اخراجات کے باوجود 5 سے 6 بحری جہاز آبنائے سے گزارنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ’عموماً یہ جہاز نشانہ بن جاتے ہیں‘۔

    محسن رضائی نے کہا کہ ایران نے ان جہازوں کو غرق کرنے سے گریز کیا کیونکہ ان میں تیل موجود ہے اور ایسا کرنے سے خطے کے ماحول کو نقصان پہنچ سکتا ہے “48 گھنٹے پہلے ہم نے پہلی بار ایک امریکی بحری جہاز کے اوپر سے نئے اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہ کیا” جس سے خوفزدہ ہو کر امریکی وہاں سے بھاگ گئے تاہم انہوں نے جہاز کا نام یا تجربے کی جگہ کے بارے میں بات نہیں کی۔

    دوسری جانب انہوں نے ایران میں امریکی معاشی ناکہ بندی کے باعث بڑے پیمانے پر قحط کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے طویل عرصے سے اس صورتحال کی تیاری کر رکھی ہے اور خوراک و دیگر ضروری اشیا کے وافر ذخائر موجود ہیں۔

  • آبنائے ہرمز میں کسی بھی ملک کی فوجی موجودگی جارحیت تصور ہوگی،ایران

    آبنائے ہرمز میں کسی بھی ملک کی فوجی موجودگی جارحیت تصور ہوگی،ایران

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی ملک کی فوجی موجودگی جارحیت تصور ہوگی، کسی بھی خودمختار ملک کو امریکی دباؤ یا دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکنا چاہی

    تہران میں وزارت خارجہ کی پریس کانفرنس کے دوران اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکی حملوں نے ایران کو اپنے دفاع کا مکمل حق دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی بحری جہازوں کی جانب سے ایرانی جہازوں پر حملے دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں،امریکا اپنی غلطیوں کی قیمت پوری دنیا سے ادا کروانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم کسی بھی خودمختار ملک کو امریکی دباؤ یا دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکنا چاہیے۔

    ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتِ حال کی بنیادی وجہ امریکا اور اسرائیل ہیں، جبکہ خطے میں امن کی راہ میں بھی دونوں ممالک رکاوٹ بن رہے ہیں آبنائے ہرمز میں کسی بھی غیرملکی فوجی موجودگی کو جارحیت تصور کیا جائے گا موجودہ صورتِ حال میں خطے میں فوجی سرگرمیوں میں اضافہ کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے اور اس کے اثرات صرف ایران یا خلیجی ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔

    اسماعیل بقائی کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی بحری افواج کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت بھی نمایاں طور پر متاثر ہوئی ہے، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک نئے محدود علاقے کے قیام اور جہازوں کی آمدورفت کے لیے نئے نقشے جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

  • ایران کا امریکی آبدوز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایران کا امریکی آبدوز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکی آبدوز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کر دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کے ایک بغیر پائلٹ، ریموٹ سے چلنے والے بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے،پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بغیر پائلٹ بحری جہاز آبنائے ہرمز کے ایک محفوظ علاقے میں دا خل ہونے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم امریکی حکام نے تاحال ایرانی دعوے کی تصدیق نہیں کی۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل پاسداران انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں غیر مجاز راستوں سے گزرنے والے تین آئل ٹینکروں اور دیگر علاقوں میں موجود تین امریکی بحری جہازوں سے منسلک اہداف کو نشانہ بنایا گیا،ایران نے ان کارروائیوں کو امریکی افواج کی جانب سے تین ایرانی آئل ٹینکرو ں پر کیے گئے حملوں کا جواب قرار دیا ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی افواج نے تین ایرانی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا تھا، جن میں ایک کو جزیرہ خارگ کے قریب نشانہ بنایا گیا جو ایران کی تیل برآمدات کا اہم مرکز ہے۔

  • ایران پر حملہ ہوا تو جواب پہلے سے زیادہ تیز اور دردناک ہوگا، قالیباف کی دھمکی

    ایران پر حملہ ہوا تو جواب پہلے سے زیادہ تیز اور دردناک ہوگا، قالیباف کی دھمکی

    تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کا جواب پہلے سے زیادہ دردناک ہوگا۔

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ایران کی مسلح افواج کی جانب سے امریکی فورسز پر کیے گئے خوفناک حملوں کے بعد امریکی حکام مایو س اور اپنے بے معنی اور کھوکھلے نعروں کے ساتھ میدانِ جنگ کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہے ہیں، امریکی حکام یقینی طور پر سمجھتے ہیں کہ متناسب جوابی کارروائیوں کا دور ختم ہوچکا ہے، جبکہ حالیہ کارروائیوں کے دوران امریکی اڈوں پر ایران کے حملے صرف ابتدا تھے۔

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مطابق اگر امریکا نے اب تک اس حقیقت کو نہیں سمجھا تو اسے بہت دیر ہونے سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کھیل کے اصول تبدیل ہوچکے ہیں،اب ایران کی سیکیورٹی اور اثاثوں کی کسی بھی خلاف ورزی کا جواب پہلے سے زیادہ تیزی، شدت اور تکلیف دہ انداز میں دیا جائے گا۔

    قالیباف نے امریکی حکام کی جانب سے میدانِ جنگ سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز کے حوالے سے بھی الزام عائد کیا کہ انہیں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا جا رہا ہے امریکی حکام ایران کی مسلح افواج کی جانب سے امریکی فورسز پر کیے جانے والے خوفناک حملوں کے باعث مایوسی کا شکار ہیں اور اپنے بے معنی اور کھوکھلے نعروں کے ذریعے صورتِ حال کو پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    محمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ ایران کی حالیہ کارروائیوں کو متناسب ردعمل کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ ان کے بقول متناسب جوابی کارروائیو ں کا دور ختم ہوچکا ہے، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے یہ بیانات ایران کی مسلح افواج کی جانب سے امریکی فورسز کے خلاف حالیہ کاررو ائیوں کے تناظر میں سامنے آئے ہیں-

  • امریکا کا ایران کے 3 آئل ٹینکرز پر حملوں کا دعویٰ

    امریکا کا ایران کے 3 آئل ٹینکرز پر حملوں کا دعویٰ

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے 3 آئل ٹینکرز تباہ کر دیئے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سینٹ کام نے جاری بیان میں کہا ہے کہ یہ کارروائی ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے علاقائی پانیوں میں گشت کرنے والے دو امریکی بحری جنگی جہازوں پر حملے کے بعد کی گئی،امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر نے متعدد حملوں سے بچنے میں کامیاب رہے اور کوئی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔

    سینٹ کام کے مطابق امریکی فورسز نے ایرانی تیل بردار جہاز ایم ٹی ڈاؤنی کو جزیرہ خارگ کے ساحل کے قریب اور ایم ٹی اسٹارک ون کو جاسک کے قریب نشانہ بنایا، جبکہ خلیج عمان میں موجود خالی تیل بردار جہاز ایم ٹی کائلو کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

    سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ پاسداران انقلاب کے لیے پیغام واضح ہے، اگر ایران نے امریکی بحری جہازوں پر حملہ کیا تو امریکا اس سے بھی زیادہ معاشی پابندیاں عائد کرے گا امریکی افواج کے دفاع کے لیے امریکا ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا اور ضرورت پڑنے پر ایران کے محدود اور غیر محفوظ تیل بردار بیڑے کو تباہ کر دے گا۔

    واضح رہے کہ چند دنوں کی جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز میں ایک بار پھر حالات کشیدہ ہوگئے اور یہاں سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد نہایت کم ہوجانے سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت آسمان سے باتیں کرنی لگی ہیں۔