Baaghi TV

Tag: ایران

  • ایران نواز عراقی ملیشیا کا ٹرمپ کے قتل پر ایک کروڑ ڈالر انعام کا اعلان

    ایران نواز عراقی ملیشیا کا ٹرمپ کے قتل پر ایک کروڑ ڈالر انعام کا اعلان

    ایران سے قریبی تعلق رکھنے والی عراقی ملیشیاؤں کے اتحاد ’اسلامک ریزسٹنس اِن عراق‘ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل پر ایک کروڑ ڈالر (10 ملین ڈالر) انعام دینے کا اعلان کیا ہے-

    یہ اعلان ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے ایک بار پھر ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا رہنما ابو مہدی المہندس کی ہلاکت میں اپنے کردار کا ذکر کیا تھا ایران نواز عراقی ملیشیاؤں کے اتحاد ’اسلامک ریزسٹنس اِن عراق‘ (آئی آر آئی) نے اعلان کیا ہے کہ جو بھی شخص امریکی صدر ڈو نلڈ ٹرمپ کو قتل کرے یااس کارروائی میں مالی یا عملی معاونت فراہم کرے گااسے ایک کروڑ ڈالر انعام دیا جائے گا، ملیشیا نے دعویٰ کیا کہ یہ رقم اس کے ارکان اور حامیوں کے عطیات سے جمع کی گئی ہے، تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

    یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں عراقی وزیراعظم علی الزیدی سے ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے 2020 میں بغداد کے قریب امریکی ڈرون حملے میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی پاپولر موبلائزیشن فورسز کے نا ئب سربراہ ابو مہدی المہندس کی ہلاکت کا دوبارہ حوالہ دیا تھا۔

    اسلامک ریزسٹنس اِن عراق دراصل ایران کی حمایت یافتہ شیعہ مسلح گروہوں کا ایک اتحاد ہے، جس میں کتائب حزب اللہ، حرکۃ حزب اللہ النجباء، عصائب اہل الحق اور دیگر تنظیمیں شامل ہیں، امریکا ان گروہوں پر عراق، شام اور خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں، سفارتی مراکز اور اتحادیوں پر متعدد راکٹ، ڈرون اور میزائل حملوں کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق ان ملیشیاؤں کو ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس سے مالی، عسکری اور لاجسٹک معاونت حاصل ہے، جبکہ بعض گروہوں پر سرحدی گزرگاہوں، کاروباری سرگرمیوں، اسمگلنگ نیٹ ورکس اور سرکاری وسائل سے مالی فوائد حاصل کرنے کے بھی الزامات ہیں، ادھر امریکی حکام ماضی میں بھی دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ایران سے منسلک عناصر نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے ٹرمپ کو نشانہ بنا نے کی کوشش کی، تاہم تہران ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔

    یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر چکی ہےحالیہ ہفتوں میں امریکا نے ایران پر فوجی دباؤ اور پابندیاں مزید سخت کی ہیں، جبکہ ایران سے وابستہ گروہوں نے عراق، شام، لبنان اور یمن میں امریکی مفادات کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

  • قطر نے ایران کے خلاف کارروائی میں شامل ہونے کی خبروں کو مسترد کردیا

    قطر نے ایران کے خلاف کارروائی میں شامل ہونے کی خبروں کو مسترد کردیا

    قطری حکومت نے ایک بیان میں اسرائیلی میڈیا کی ان غلط خبروں کو سختی سے مسترد کردیا ہے جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ قطر نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں شرکت پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

    قطر کے انٹرنیشنل میڈیا آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض اسرائیلی میڈیا اداروں کی رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ قطر نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں حصہ لینے پر رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم ان دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں اس قسم کی جھوٹی خبریں ایسے عناصر کی جانب سے پھیلائی جا رہی ہیں جو قطر کو جاری علاقائی تنازع میں گھسیٹنا چاہتے ہیں، اس کے ثالثی کے کردار کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں۔

    قطری حکام نے واضح کیا کہ تنازع کے آغاز سے ہی قطر کا مؤقف مستقل اور واضح رہا ہے کہ وہ کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف فوجی کارروائی میں نہ شر یک ہوا ہے اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کرنے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے قطر اپنے فعال سفارتی کردار کو گمراہ کن اطلاعات سے متاثر نہیں ہونے دے گا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا قطر علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ موجودہ کشیدگی کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے اور ایسا جامع اور دیرپا معاہدہ طے پائے جو تمام متعلقہ فریقوں کے تحفظات کو دور کر سکے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق قطر گزشتہ کئی برسوں سے مختلف علاقائی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے، اسی لیے دوحہ اپنی غیر جانب دار سفارتی پالیسی پر زور دے رہا ہے۔

  • امریکا کے ایران پر مسلسل چھٹے روز بھی بڑے پیمانے پر فضائی حملے

    امریکا کے ایران پر مسلسل چھٹے روز بھی بڑے پیمانے پر فضائی حملے

    امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل چھٹے روز بھی بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے، جن میں جنوبی ایران کے مختلف شہروں اور ساحلی علاقوں میں واقع شہری اور بنیادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔

    جنوبی ایران کے شہر بندر عباس کے حکام کے مطابق امریکی حملوں میں بجلی کی تنصیبات، ریلوے اسٹیشن اور دیگر شہری سہولیات کو نقصان پہنچا ہے،ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 3 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہوئے، جبکہ ایران نے ان حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق امریکی طیاروں نے مختلف شہروں میں فوجی اور بنیادی ڈھانچے (انفرااسٹرکچر) کو نشانہ بنایا صوبہ ہرمزگان میں ہونے والے حملے میں 2 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے، جبکہ خورستان پل اور بندر خمیر کے علاقے میں تین پلوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

    دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا نے ایرانی فوج کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس نے بحرین میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے پر تعینات امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا، جبکہ کویتی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔ قطری حکام کے مطابق ایرانی حملوں کو ناکام بنانے کے دورا ن گرنے والے میزائل کے ملبے سے ایک بچہ زخمی ہوا۔

    ایران کی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا ہے کہ جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کبھی بھی اپنی سابقہ صورتحال میں واپس نہیں آئے گی ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں نے خلیج عمان میں ایک بحری جہاز پر سوار ہو کر ایران کے خلاف نافذ بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کرایا۔

    الجزیرہ نے ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے حوالے سے خبر دی ہے کہ امریکی میزائل حملے میں چابہار میری ٹائم کنٹرول ٹاور کو نشانہ بنایا گیا،رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یہ تیسرا موقع ہے کہ اس تنصیب پر امریکی حملہ کیا گیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق امریکی حملوں میں ،اہواز، قشم، بوشہر، دشتی، بستان، سیریک اور بندر لنگہ میں متعدد دھماکے ہوئے، جن سے بنیادی انفراسٹرکچر کو گزشتہ راتوں کے مقابلے میں زیادہ نقصان پہنچابندر خمیر کے قریب 2 پل تباہ کر دیے گئے بندر عباس میں ٹپہ اللہ اکبر کے علاقے سمیت شہر کے مختلف حصوں میں دھماکے ہوئے صوبہ ہرمزگان میں سڑکوں اور ریلوے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا ایران شہر کے ہوائی اڈے پر حملے کے نتیجے میں تنصیبات کو نقصان پہنچا اور کئی علاقوں میں بجلی منقطع ہوگئی کیش جزیرہ بھی فضائی حملوں کی زد میں رہا، جہاں بعض علاقوں میں عارضی طور پر بجلی بند ہوگئی امریکی فضائی حملوں میں جنو بی صوبہ ہرمزگان کے 5 پلوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ہرمزگان گورنری کے حوالے سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حملوں میں متاثر ہونے والے پلوں میں گریوہ پل بھی شامل ہے، جو بندر عباس کو خمیر اور لار سے ملاتا ہے اس طرح لتی دان گاؤں کے قریب واقع ایک پل۔ کہورستان۔لار شاہراہ پر قائم دو پل۔ بندر خمیر، کشار اور بندر عباس کو ملانے والا زیرِ تعمیر پل۔ خمیر ضلع کے گاؤں مارو میں واقع ایک پل شامل بھی ہے حملوں کے بعد متعلقہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم فوری طور پر جانی نقصان یا زخمیوں کے بارے میں کوئی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت میں امریکی فوج کی تعیناتی کے مقامات اور لاجسٹک سپورٹ مراکز کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم اپنی تاریخ، عوامی حمایت، تجربے اور جنگی تیاری پر بھروسہ کرتے ہوئے ہر قسم کے دباؤ اور دھمکی کا پوری چوکسی اور قوت کے ساتھ مقابلہ کریں گے۔

    ایرانی فوج کے اس دعوے پر تاحال امریکی یا کویتی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ حملوں سے ہونے والے ممکنہ نقصان یا جانی نقصان کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف تازہ بڑے پیمانے کی فضائی کارروائی کامیابی سے مکمل کر لی گئی ہے سینٹ کام کے مطابق امریکی لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور جنگی بحری جہازوں نے انتہائی درست نشانے والے ہتھیار استعمال کرتے ہوئے ایران کی درجنوں عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا حملوں میں ساحلی نگرانی کے مراکز، فضائی دفاعی نظام، فوجی لاجسٹکس انفراسٹرکچر اور بحری صلاحیتوں سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا یہ ایران پر مسلسل چھٹے روز کیے گئے حملے تھے۔

    سینٹ کام نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات کے مطابق ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کیا جا رہا ہے اور تجارتی بحری جہازوں پر حالیہ حملوں کا جواب دیا جا رہا ہے مشرق وسطیٰ میں اس وقت 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں، جو مکمل طور پر چوکس اور ہر قسم کی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔

  • ایران  کی جانب سے  امریکی شہری کی رہائی پر ٹرمپ کا اہم بیان سامنے آ گیا

    ایران کی جانب سے امریکی شہری کی رہائی پر ٹرمپ کا اہم بیان سامنے آ گیا

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے ایک امریکی شہری کی رہائی کو خیرسگالی کا اشارہ قرار دیتے ہوئے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے-

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایک امریکی شہری، جسے ان کے بقول 2024 میں بائیڈن انتظامیہ کے دور میں غلط طور پر حراست میں لیا گیا تھا اب ایران سے بحفاظت باہر آ چکا ہے،متعلقہ امریکی شہری محفوظ مقام پر پہنچ چکا ہے اور اس کی صحت بھی بہتر ہے، امریکا اس اقدام کو ایران کی جانب سے ایک مثبت اور خیرسگالی کے اظہار کے طور پر دیکھتا ہےایسے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، اگرچہ خطے میں موجودہ سکیورٹی صورتحال اب بھی انتہائی نازک ہے-

    سیاسی مبصرین کے مطابق امریکی شہری کی رہائی ایک اہم سفارتی پیش رفت سمجھی جا سکتی ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی اور فوجی تنازع کے باعث مستقبل کی صورتحال کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

  • پڑوسی یا خطے کے اسلامی ممالک کے ساتھ تصادم کا کوئی ارادہ نہیں، ایران

    پڑوسی یا خطے کے اسلامی ممالک کے ساتھ تصادم کا کوئی ارادہ نہیں، ایران

    ایران نے کہا ہے کہ اس کا اپنے پڑوسی ممالک یا خطے کے اسلامی ممالک کے ساتھ تصادم کا کوئی ارادہ نہیں، تاہم اگر امریکا نے ایران پر حملے جاری رکھے تو جنگ کا دائرہ نئے محاذوں تک پھیل سکتا ہے۔

    ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایران ہمیشہ خطے کے ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات اور باہمی تعاون کے فروغ کا حامی رہا ہے ایران کی مسلح افواج کی اولین ذمہ داری ملک کی سلامتی، قومی مفادات اور خودمختاری کا دفاع ہے، اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا-

    ترجمان نے واضح کیا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف کسی قسم کی محاذ آرائی نہیں چاہتا، بلکہ خطے میں استحکام اور تعاون کو ترجیح دیتا ہے،اگر امریکا کی جانب سے ایران پر فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو ایران اپنی جوابی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کر سکتا ہے۔

    انہوں نےکہا کہ اگر امریکی جارحیت برقرار رہی تو جنگ نئے محاذوں تک پھیل جائے گی۔ ان کے مطابق ایران کی مسلح افواج کی تمام صلاحیتیں ابھی تک استعمال نہیں کی گئیں، اور اگر دشمن نے مزید حملے کیے تو ایران کا ردعمل حالات کے مطابق ہوگا، جو مخالفین کی توقعات سے بھی زیادہ سخت ہو سکتا ہے-

    سیاسی مبصرین کے مطابق ایران ایک جانب اپنے پڑوسی ممالک کو یہ یقین دہانی کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس کی پالیسی ان کے خلاف نہیں، جبکہ دوسری جانب امریکا کو سخت پیغام دے رہا ہے کہ مزید حملوں کی صورت میں تنازع مزید وسیع ہو سکتا ہے۔

  • آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محفوظ بنانے کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں، دفترخارجہ

    آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محفوظ بنانے کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں، دفترخارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے، مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل اور آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

    طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال، علاقائی سلامتی اور خارجہ امور سے متعلق اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی ہےترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ تمام تنازعات اور اختلافات کا پائیدار حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہےاسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں امن، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے اگرچہ اس مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کو بعض چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم پاکستان تمام متعلقہ فریقوں کو تشدد ختم کرنے اور 22 جون 2026 کے پاک قطر مشترکہ اعلامیے اور مفاہمتی یادداشت کے مطابق تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔

    ترجمان نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے خصوصاً ترقی پذیر ممالک شدید متاثر ہو رہے ہیں پاکستان عالمی توانائی کی فراہمی، تجارت، خوراک کے تحفظ اور دیگر اقتصادی شعبوں پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے بخوبی آگاہ ہے امید ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال جلد معمول پر آئے گی اور بحری جہازوں کی محفوظ، آزاد اور بلا تعطل آمدورفت یقینی بنائی جائے گی۔

    ترجمان نے پاکستانی قیادت کی حالیہ سفارتی مصروفیات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے 10 جولائی کو قطری قیادت اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے الگ الگ رابطے کیے جن میں انہوں نے تمام فریقین پر ہر ممکن تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز کرنے پر زور دیا قطری قیادت نے اس موقع پر خطے میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستان کے فعال اور مثبت کردار کی بھرپور تعریف کی۔

    طاہر اندرابی نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران پاکستان نے اہم علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطے برقرار رکھے ہیں تاکہ کشیدگی میں کمی، مذاکرات کے فروغ اور تنازعات کے پرامن حل کی راہ ہموار کی جا سکے 13 جولائی کو وزیراعظم شہباز شریف نے سابق وزیرا عظم محمد نواز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے ہمراہ قطر کے دارالحکومت دوحہ کا دورہ کیا اس دورے کا مقصد پاکستان کے د یرینہ دوست ملک قطر کے امیر اور قطری قیادت سے تعزیت اور اظہارِ ہمدردی کرنا تھا۔ پاکستانی قیادت نے اس موقع پر قطر کے ساتھ یکجہتی اور قریبی تعلقا ت کے عزم کا اعادہ کیا۔

    ترجمان نے بتایا کہ حال ہی میں ایک دوست ملک کے وزیر خارجہ نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر پاکستان کا سرکاری دورہ بھی کیا اس موقع پر وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے، جن میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، اعلیٰ تعلیم، سیاحت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا دونوں ممالک نے اقتصادی روابط میں اضافے، سفارتی مکالمے کو مضبوط بنانے اور عوامی روابط کے فروغ پر اتفاق کیا۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں پاکستان اور پرتگال کے درمیان سالانہ دوطرفہ مشاورت بھی منعقد ہوئی پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکریٹری برائے یورپ سفیر عائشہ علی نے جبکہ پرتگال کے وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل برائے خارجہ پالیسی سفیر ہیلینا مالکاٹا نے کی دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ اس حوالے سے دفتر خارجہ کی جانب سے تفصیلی اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔

    ترجمان نے کہا کہ پاکستان اسلامی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے اور او آئی سی کے رکن ممالک میں خواتین کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے تعاون جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ پاکستان اور چین کے درمیان ہر سطح پر رابطے موجود ہیں اور پاکستان ملک میں موجود تمام چینی شہریوں اور عملے کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔

    انہوں نے برطانیہ میں بچوں کے جنسی استحصال کے مقدمے سے متعلق سوال پر کہا کہ پاکستان اس جرم کی سخت مذمت کرتا ہے، تاہم یہ برطانیہ کا اندرونی معاملہ ہے، شبیر حسین برطانوی شہری ہیں، ان کی پرورش بھی برطانیہ میں ہوئی، اس لیے حکومت پاکستان کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنماؤں کے خلاف بھارتی قومی تحقیقاتی ادارے (این آئی اے) کی جانب سے چارج شیٹ دائر کیے جانے کی بھی مذمت کی انہوں نے کہا کہ بھارت سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات اور جعلی ٹرائلز کے ذریعے حریت قیادت کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم کشمیری عوام کو ان کے حق خودارادیت سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ پہلگام واقعے کے حوالے سے بھارت اب تک کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا، حالانکہ پاکستان نے تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی تھی، لیکن بھارت سیاسی نعرے بازی اور سنسنی پھیلانے میں مصروف ہے۔

  • امریکی حملوں میں 30 سے زائد ایرانی شہری اور 7 فوجی جاں بحق، 260 سے زائد زخمی

    امریکی حملوں میں 30 سے زائد ایرانی شہری اور 7 فوجی جاں بحق، 260 سے زائد زخمی

    ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران جنوبی ایران پر ہونے والے امریکی حملوں میں 30 سے زائد عام شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔

    ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم سوگوار خاندانوں سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والوں کی یاد کو سلام پیش کرتے ہیں حکومت اپنی پوری طاقت کے ساتھ عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی کیونکہ جنوبی ایرا ن اس سرزمین کا دھڑکتا ہوا دل ہے۔

    دوسری جانب ایرانی فوج نے بھی تصدیق کی ہے کہ جنوب مشرقی ایران میں واقع ایران شہر کے بمپور گیریژن پر امریکی میزائل حملوں میں سات ایرانی فوجی جاں بحق ہوئے ہیں ایرانی فوج نے اس کارروائی کو بزدلانہ جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس جرم کا مناسب وقت پر فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

    ایرانی نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق، امریکی فوج کی جانب سے تیرہ میزائلوں کے ذریعے بمپور کی بیرکوں پر حملہ کیا گیا جس سے 388 ویں بریگیڈ کے سات اہلکار جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ان کے دفاعی اقدامات کی وجہ سے جانی نقصان کو ایک حد تک محدود رکھنے میں مدد ملی، ورنہ امریکی حملوں کا مقصد گیسٹ ہاؤس، گارڈ پوسٹس اور رہائشی تنصیبات کو نشانہ بنا کر زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا تھا۔

    ایران کی وزارت صحت کے ترجمان حسین کرمانپور نے بتایا کہ حالیہ امریکی حملوں میں 260 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے 222 افراد کو ضرور ی طبی امداد کی فراہمی کے بعد اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے زخمیوں میں تین بچے بھی شامل ہیں جن کی عمریں 18 سال سے کم ہیں، جبکہ ان مخصوص حملوں میں کم از کم دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    واضح رہے کہ امریکی افواج نے ایران کی بندرگاہوں پر دوبارہ بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ درجنوں ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا ہے جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پانچویں دن بھی لڑائی کا سلسلہ جاری ہے۔

  • امریکی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ، ایران میں فوجی اہداف پر حملے

    امریکی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ، ایران میں فوجی اہداف پر حملے

    امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کرتے ہوئے ایران کے مختلف علاقوں میں فوجی اہداف پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جس کے بعد خلیجی خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

    امریکی سینٹرل کمان یعنی سینٹ کام کے مطابق امریکی افواج نے 7 گھنٹے پر محیط کارروائی کے دوران آبنائے ہرمز اور ایران کے ساحلی علاقوں کے قریب درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا،ان حملوں میں میزائل اور ڈرون تنصیبات، بحری اثاثے اور ساحلی دفاعی نظام شامل تھے، یہ کارروائی ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے بحری جہازوں کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے کے چند گھنٹے بعد کی گئی۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق صوبہ ہرمزگان کے شہر سیریک، بامپور، چابہار، بندر عباس، اہواز اور جزیرہ قشم سمیت مختلف علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں،الجزیرہ کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکی ہتھیاروں کو تباہ کر دیا ہے، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوکس نیوز سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان منگل کو مذاکرات ہوئے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران پر امریکی حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک وہ اسے کافی قرار نہ دیدیں،صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر 20 فیصد ٹیرف عائد کرنے سے متعلق اپنے سابقہ بیان سے ٰیو ٹرن لیتے ہوئے کہا کہ اس کے بجائے خلیجی ممالک امریکا میں سرمایہ کاری کریں گے۔

    ادھر امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے متعدد افراد، اداروں اور بحری جہازوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

  • آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں کی ٹکر، ایران نے 23 ڈوبتے غیر ملکیوں کو بچا لیا

    آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں کی ٹکر، ایران نے 23 ڈوبتے غیر ملکیوں کو بچا لیا

    ایران کے قریب آبنائے ہرمز میں قشم جزیرے کے شمالی حصے کے نزدیک دو مال بردار بحری جہازوں کے درمیان شدید تصادم کے نتیجے میں ایک جہاز کو سنگین نقصان پہنچا، تاہم ایران کی امدادی ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس پر سوار 23 غیر ملکی عملے کے ارکان کو بحفاظت بچا لیا ہے۔

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک بڑا مال بردار جہاز دوسرے بحری جہاز سے بری طرح ٹکرا گیا، تصادم اس قدر شدید تھا کہ متاثرہ جہاز کے نچلے حصے کو شدید نقصان پہنچا، جس کے باعث اس میں تیزی سے پانی بھرنا شروع ہوگیا اور جہاز کے ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔

    رپورٹ کے مطابق صورت حال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے جہاز کے کپتان نے فوری طور پر ہنگامی انخلا کا حکم دیا، جس کے بعد عملے نے جہاز خالی کرنا شروع کر دیا ایرانی حکام اور امدادی اداروں نے اطلاع ملتے ہی ریسکیو آپریشن شروع کیا اور جہاز پر سوار تمام 23 غیر ملکی عملے کے ارکان کو بحفاظت نکال کر قشم جزیر ے پر منتقل کر دیا۔

    فارس نیوز ایجنسی کے مطابق امدادی کارروائی بروقت مکمل کی گئی، جس کے باعث کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تصادم کے بعد متاثرہ جہاز میں تیزی سے پانی بھر رہا تھا، تاہم امدادی ٹیموں نے تمام افراد کو محفوظ مقام تک منتقل کرنے میں کامیابی حاصل کی حادثے کے بعد متاثرہ جہاز کی صو رتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو محفوظ رکھنے اور حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے بھی تحقیقات اور ضروری اقدا ما ت جاری ہیں۔

    دوسری جانب ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے رپورٹ کیا کہ منگل کے روز بندر عباس میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ جزیرہ کیش پر چھ دھماکوں اور قشم جزیرے پر بھی مزید دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ تاہم ان دھماکوں اور بحری حادثے کے درمیان کسی براہ راست تعلق کی تصدیق نہیں کی گئی۔

  • ٹرمپ کا یو اے ای، قطر اور بحرین سے ایران جنگ کے اخراجات کا مطالبہ

    ٹرمپ کا یو اے ای، قطر اور بحرین سے ایران جنگ کے اخراجات کا مطالبہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں اور خطے کے تحفظ پر آنے والے اخراجات میں حصہ ڈالنا چاہیے۔

    ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکا کو ان اخراجات کی ادائیگی کی جائے، کیونکہ امریکا دنیا کے امیر ترین خطوں میں سے ایک کے تحفظ کی ذمہ داری اٹھا رہا ہے،میں چاہتا ہوں کہ یہ اخراجات ہمیں واپس ملیں، کیونکہ ہم ایک ایسے خطے کی حفاظت کر رہے ہیں جو دنیا کے امیر ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے، ہم اس پر بہت زیادہ رقم خرچ کر رہے ہیں، اس لیے اس تحفظ کی قیمت وصول کریں گے۔

    صدر ٹرمپ نے اس موقع پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین کا نام لیتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک خطے کے استحکام اور امریکی سکیورٹی انتظامات سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اس لیے انہیں بھی ان اخراجات میں حصہ ڈالنا چاہیے۔

    دوسری جانب تاحال سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر یا بحرین کے ٹرمپ کے اس مطالبے کو قبول کر نے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی-