Baaghi TV

Tag: ایران

  • ایران اور امریکا  مذاکرات میں پیشرفت:قطر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد تہران پہنچ گیا

    ایران اور امریکا مذاکرات میں پیشرفت:قطر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد تہران پہنچ گیا

    ایرانی میڈیا کے مطابق قطر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تہران پہنچ گیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی آئی ایس این اے کے مطابق اس ثالثی وفد کی قیادت قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی کے مشیر کر رہے ہیں وفد کا مقصد ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مذاکرات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینا اور سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے امکانات پر بات چیت کرنا ہے۔

    ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دورہ گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات کے تسلسل میں کیا جا رہا ہے قطر طویل عرصے سے ایران اور امریکا کے درمیان اہم ثالثی کردار ادا کرتا رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کے لیے ایک مؤثر سفارتی پل سمجھا جاتا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق قطری وفد اپنے دورے کے دوران مذاکراتی عمل سے متعلق تازہ ترین پیش رفت، ممکنہ معاہدوں اور مستقبل کے سفارتی اقدامات پر ایرانی حکام سے تبادلہ خیال کرے گا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قطر کے اس دورے کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایران و امریکا کے درمیان ممکنہ مفاہمت کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • مشرق وسطیٰ تنازع: اگلی چنگاری کسی بڑے عالمی بحران کا سبب بن سکتی ہے،روسی میڈیا

    مشرق وسطیٰ تنازع: اگلی چنگاری کسی بڑے عالمی بحران کا سبب بن سکتی ہے،روسی میڈیا

    ایران اور اسرائیل کے درمیان تاریخ کی پہلی براہِ راست اور کھلی جنگ کو 1 سال مکمل ہو چکا ہے، اس تنازع سے یہ پورا خطہ ایک ایسے غیر متوقع دور میں داخل ہو گیا ہے جہاں اگلی چنگاری کسی بڑے عالمی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔

    روس کے سرکار ی ٹی وی نیٹ ورک ’آرٹی‘ نےاپنےمضمون میں ایران اسرائیل جنگ سے متعلق اہم انکشافات کیے گئے ہیں، ’آرٹی‘ کے مطابق دہائیوں سے جاری بالواسطہ یا ’خفیہ جنگ‘ کا اب باقاعدہ خاتمہ ہو چکا ہے اور یہ پورا خطہ ایک ایسے غیر متوقع دور میں داخل ہو گیا ہے جہاں اگلی چنگاری کسی بڑے عالمی بحران کا سبب بن سکتی ہے مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا موڑ پچھلے سال 13 جون 2025 کو آیا تھا، جب اسرائیل نے دہائیوں پرانی خفیہ دشمنی کو سامنے رکھتے ہوئے ایران کی فوجی اور جوہری تنصیبات سے وابستہ حساس مقامات پر براہِ راست فضائی حملے کیے۔

    ’آر ٹی ‘ میں شائع مضمون کے مطابق ان حملوں کے ساتھ ہی برسوں سے جاری وہ خفیہ معرکہ آرائی کھلے فوجی تصادم میں بدل گئی جو اس سے قبل صرف سائبر حملوں،اقتصادی پابندیوں، پراکسی گروپوں، سفارتی دباؤ اور محدود نوعیت کی خفیہ کارروائیوں تک محدود تھی اسرائیل کا بنیادی مقصد ان حملوں کے ذریعے ایران کی اسٹرٹیجک اور دفاعی صلاحیتوں کو ایسا نقصان پہنچانا تھا جس سے وہ مفلوج ہو جائے، تاہم توقعات کے برعکس تہران نہ تو سیاسی طور پر کمزور ہوا اور نہ ہی اس نے پسپائی اختیار کی۔

    ’آر ٹی‘ کے مطابق ایران نے فوری اور مؤثر جوابی عسکری کارروائی کے ذریعے دنیا پر واضح کر دیا کہ وہ شدید ترین دباؤ کو برداشت کرنے اور اس کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہےاکتوبر 2023 میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی اگرچہ بعض اسرائیلی حکام نے حماس کو ایران کا نمائندہ قرار دیا، تاہم کئی تجزیہ کاروں کے مطابق حماس اپنی الگ سیاسی حکمتِ عملی اور اہداف رکھتی ہے اس کے باوجود اس بحر ان نے ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست تصادم کے خدشات کو مزید تقویت دی۔

    ’آر ٹی ‘ نے لکھا کہ اسرائیل کا مقصد ایران کی اسٹریٹجک صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچانا تھا اوراس میں سب سے اہم بات ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای تھے، تاہم آیت اللہ علی خامنہ ای سےزیادہ ایران کے اسٹرٹیجک اثاثے ہدف تھے تاہم توقعات کے برعکس ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے یہ ظاہر کیا کہ وہ شدید دباؤ برداشت کرنے اور مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے جنگ نے نہ صرف دونوں ممالک کی عسکری طاقت بلکہ ریاستی استحکام، اتحادوں اور عوامی یکجہتی کا بھی امتحان لیا بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے جنگ بندی عمل میں آئی، لیکن یہ معاہدہ تنازع کی بنیادی وجوہات کو ختم کرنے میں ناکام رہا۔ بداعتمادی برقرار رہی اور مستقبل میں دوبارہ کشیدگی کے خدشات بھی ختم نہ ہو سکے۔

    ’آر ٹی‘ نے لکھا کہ مبصرین کے مطابق جون 2025 کی جنگ دراصل ایک بڑے تصادم کی ’آزمائش‘ تھی، نہ کہ اس تنازع کا اختتام۔ اگرچہ ایران کو فوجی، سیاسی اور بنیادی ڈھانچے کے لحاظ سے نقصان اٹھانا پڑا، لیکن وہ اپنی دفاعی اور علاقائی صلاحیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا اس دوران ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے امکانات پر غور کیا گیا تھا، اگرچہ ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر کبھی تصدیق نہیں ہوئی 2026 کے دوران دوبارہ ابھرنے والی کشیدگی نے یہ تاثر مزید مضبوط کیا ہے کہ یہ تنازع ابھی ختم نہیں ہوا اور مستقبل میں ایک نئی محاذ آرائی کا امکان موجود ہے۔

    ’آر ٹی ‘ نے لکھا کہ جون 2025 کی جنگ نے خطے کی سیاسی اور سکیورٹی حکمتِ عملیوں کو بدل کر رکھ دیا اس نے ثابت کر دیا کہ ایران اور اسرائیل کے در میان بالواسطہ جنگ کا دور ختم ہو چکا ہے اور اب براہِ راست تصادم ایک حقیقت بن چکا ہے ایران کے لیے یہ جنگ قومی عزم اور مزاحمت کی علامت بن گئی، جبکہ اسرائیل کے لیے یہ اس کی پیشگی فوجی کارروائیوں کی پالیسی کا اہم امتحان ثابت ہوئی دونوں ممالک نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا، لیکن ساتھ ہی ایک بڑے علاقائی بحران کے خطرات بھی واضح ہو گئے، جس میں آج مشرقِ وسطیٰ سب سے زیادہ خود کو غیر محفوظ سمجھ رہا ہے۔

    ایک سال بعد بھی سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آیا خطہ مستقبل میں کسی اور بڑی جنگ سے بچ سکے گا یا نہیں ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پچھلی جنگ ختم ہو چکی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اگلی جنگ کی نوعیت کیا ہوگی اور اس کے اثرات کتنے وسیع ہوں گے۔

  • ایران نے افزودہ یورینیم کے ذخائر کے لیے زیرِ زمین تنصیبات سیل کردیں،سی این این کا انکشاف

    ایران نے افزودہ یورینیم کے ذخائر کے لیے زیرِ زمین تنصیبات سیل کردیں،سی این این کا انکشاف

    امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے لیے زیرِ زمین جوہری تنصیبات کو سیل کر دیا ہے اور ان تک رسائی کے راستوں پر بارودی سرنگیں نصب کر دی ہیں۔

    سی این این کے مطابق امریکی انٹیلی جنس سے واقف پانچ ذرائع کے مطابق ایران نے حالیہ ہفتوں میں اپنے جوہری مواد کو مزید محفوظ بنانے کے لیے متعدد حفاظتی اقدا مات کیے ہیں ان اقدامات میں بعض زیرِ زمین سرنگوں کو بند یا منہدم کرنا اور داخلی راستوں پر بارودی سرنگیں نصب کرنا شامل ہے، ان اقدامات کے بعد تقریباً نصف ٹن انتہائی افزودہ یورینیم تک رسائی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل، خطرناک اور وقت طلب ہو گئی ہے،جتنا کہ صرف ایک ماہ پہلے تھا، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ عوامی طور پر یہ اشارہ دے رہے تھے کہ وہ امریکی فوج کو اسے ضبط کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق بین الاقوامی اندازوں کے تحت اس ذخیرے کا بڑا حصہ وسطی ایران میں واقع اصفہان کی جوہری تنصیب کے قریب زیرِ زمین سرنگوں میں موجود ہے، جبکہ کچھ مقدار دیگر خفیہ مقامات پر بھی منتقل کی جا چکی ہے،ایرانیوں کی جانب سے نئی قلعہ بندیوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے تہران کے ساتھ اس کے یورینیم کو ہٹانے اور تلف کرنے کے مجوزہ معاہدے میں پیچیدگی کی ایک اضافی تہہ ڈال دی ہے، اور اس اقدام سے یہ سوالات اٹھتے ہیں کہ اسے کھودنے کا خطرناک کام کون کرے گا-

    سی این این کی رپورٹ کے مطابق مئی کے وسط میں امریکی فوج نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کے لیے ممکنہ زمینی آپریشن پر غور کیا تھا، تاہم اس منصوبے کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے مؤخر کر دیا گیا،امریکی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ایران نے اپنی جوہری تنصیبات اور ذخائر کے تحفظ کے لیے مزید سخت حفاظتی اقدامات اختیار کیے، جس سے کسی بھی ممکنہ کارروائی کی پیچیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے،خود ایرانیوں کے لیے بھی، کئی ذرائع نے کہا کہ افزودہ مواد کو ہٹانا اب مشکل اور خطرناک ہوگا، اس کے لیے کھدائی کے بھاری آلات اور کان کنی کی کوششوں کی ضرورت ہوگی ، جو مشکل اور خطرناک ہیں۔

    اقوام متحدہ میں ایران کے سفارتی وفد نے فوری طور پر اس رپورٹ پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا،جبکہ ہاؤس نے فوری طور پر سی این این کے سوالات کا جواب نہیں دیاماہرین کے مطابق اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو ایران کے جوہری ذخائر تک رسائی مستقبل میں کسی بھی ممکنہ فوجی یا انٹیلی جنس آپریشن کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔

    ٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے جاری مذاکرات میں مواد کی حفاظت امریکہ کی ترجیح ہے جسے ایران نے مؤثر طریقے سے بند کر دیا ہے۔

    اور انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق جس نے جمعہ کو صحافیوں کو بریفنگ دی، دونوں فریق ایک معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں جس کے تحت ایران کو اپنی افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرنے کی ضرورت ہوگی اس اہلکار کے مطابق، اسے سائٹ پر تباہ کر دیا جائے گا اور پھر ملک سے باہر لے جایا جائے گا۔

    لیکن امریکی اور ایرانی حکام نے عارضی معاہدے کے متضاد اکاؤنٹس پیش کیے ہیں، اور اس کی صحیح شرائط ابھی تک واضح نہیں ہیں معاہدے کے مسود ے کا متنبہ جمعہ کو نیم سرکاری ایرانی خبر رساں ایجنسی کو لیک کیا گیا، جس سے سوشل میڈیا پر ٹرمپ کی جانب سے غصے کی لہر دوڑ گئی-

  • ایران کو درپیش چیلنجز اور بیرونی دباؤ کے باوجود عوام نے قومی یکجہتی کی ایک مثال قائم کی،ایرانی صدر

    ایران کو درپیش چیلنجز اور بیرونی دباؤ کے باوجود عوام نے قومی یکجہتی کی ایک مثال قائم کی،ایرانی صدر

    صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کو درپیش چیلنجز اور بیرونی دباؤ کے باوجود عوام نے قومی یکجہتی کی ایک مثال قائم کی۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ گزشتہ سال اسرائیل کے خلاف 12 روزہ جنگ نے ثابت کر دیا کہ جب ایران کی خودمختاری اور قومی مفادات کا معاملہ درپیش ہو تو پوری ایرانی قوم تمام اختلافات سے بالاتر ہو کر متحد ہو جاتی ہے جنگ کے دوران مختلف سیاسی، سماجی اور فکری حلقوں سے تعلق رکھنے والے ایرانی شہری ایک صف میں کھڑے نظر آئے۔

    ایرانی صدر نے کہا کہ 12 روزہ جنگ نے یہ حقیقت واضح کر دی کہ ذاتی پسند، ناپسند اور مختلف نقطہ ہائے نظر سے قطع نظر، جب ہمارے عزیز وطن ایران کا معاملہ آتا ہے تو ہم ایک قوم، ایک بندھی ہوئی مٹھی اور ایک دھڑکتے ہوئے دل کی مانند ہوتے ہیں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران اپنی قومی سلا متی، خودمختاری اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے متحد رہے گا اور کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے جھکے گا نہیں۔

  • آج کسی قسم کے معاہدے پر دستخط کا امکان موجود نہیں،ایران نے ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کر دیا

    آج کسی قسم کے معاہدے پر دستخط کا امکان موجود نہیں،ایران نے ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کر دیا

    ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معاہدے پر دستخط کے دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار واضح کر چکے ہیں کہ اتوار کے روز کسی قسم کے معاہدے پر دستخط کا امکان موجود نہیں ٹرمپ کے بیانات زمینی حقائق کے برعکس ہیں اس نوعیت کے دعوے سنجیدہ سفارتی عمل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

    ایرانی فوجی ذرائع کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے معاہدے کی تقریب 14 جون کو رکھنے کا ذکر محض علامتی سیاسی پیغام ہے جس کا مقصد ذاتی تشہیر اور میڈیا توجہ حاصل کرنا ہے۔

    واضح رہے صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ اتوار کو طے پا جائے گا اور اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو تمام فریقین کے لیے کھول دیا جائے گا۔

    دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا تھا کہ ایران کی وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکہ کے ساتھ دشمنی کے خاتمے کے لیے متوقع مفاہمتی یادداشت پر اتوار کو دستخط نہیں کیے جائیں گے۔

    ارنا نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا تھا کہ وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہمیں دستخط کے صحیح وقت کے بارے میں انتظار کرنا ہوگا؛ اگرچہ یہ کل نہیں ہوگا،ثالث پاکستان کی جانب سے اس بیان کے بعد کہ ایران اور امریکہ آئندہ 24 گھنٹوں میں معاہدے کو حتمی شکل دے سکتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ”آئندہ دنوں میں ایسا ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔“

  • ایران سے متعلق کسی بھی معاہدے میں اسرائیل فریق نہیں بنے گا،نیتن یاہو

    ایران سے متعلق کسی بھی معاہدے میں اسرائیل فریق نہیں بنے گا،نیتن یاہو

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ ایران سے متعلق کسی بھی ممکنہ بین الاقوامی معاہدے یا مفاہمت میں اسرائیل فریق نہیں بنے گا اور اپنی قومی سلامتی سے متعلق فیصلے خود کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے اور سفارتی پیش رفت کے تناظر میں اسرائیل پر زور دے رہا ہے کہ وہ لبنان میں اپنی فوجی کارروائیوں کو محدود کرے یا انہیں روک دے لبنان میں کشیدگی میں کمی سے خطے میں سفارتی ماحول بہتر ہوگا اور ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔

    تاہم اس معاملے پر واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان اختلافات موجود ہیں اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ حزب اللہ اور دیگر ممکنہ خطرات کے خلاف کارروائی اس کی قومی سلامتی کا معاملہ ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا نیتن یاہو نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اسرائیل اپنی سکیورٹی پالیسی کسی دوسر ے ملک کی خواہشات کے مطابق ترتیب نہیں دے گا اور اپنے دفاع کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گاایران سے متعلق کسی عالمی معاہدے کا حصہ بننا اسرائیل کے لیے لازمی نہیں اسرائیل اپنی قومی سلامتی سے متعلق فیصلے خود کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

  • ایران امریکا  معاہدہ خطے میں پائیدار اور دیرپا امن کے قیام کا باعث بننا چاہیئے،برطانوی وزیراعظم

    ایران امریکا معاہدہ خطے میں پائیدار اور دیرپا امن کے قیام کا باعث بننا چاہیئے،برطانوی وزیراعظم

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے کی حمایت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں پائیدار اور دیرپا امن کے قیام کا باعث بننا چاہیے۔

    برطانوی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ ایران سے متعلق کسی بھی مفاہمتی معاہدے کا مقصد صرف فوری کشیدگی کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک ایسا فریم ورک ہونا چاہیے جو مستقبل میں بھی امن اور استحکام کو یقینی بنا سکے،برطانیہ کسی بھی ممکنہ امن معاہدے پر عمل درآمد میں تعاون کے لیے تیار ہے اور اس سلسلے میں بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ معاہدے کی کامیابی اور خطے میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

    برطانوی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورتحال، ایران کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی مکمل بحالی ضروری ہے انہوں نے آئندہ دنوں میں بھی قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

    یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دعویٰ کر چکے ہیں کہ کل بروز اتوار ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے جائیں گے-

  • اتوار کو ایران کیساتھ معاہدہ  طے پاتے ہی ’آبنائے ہرمز‘ کو فوری طور پر کھول دیا جائے گا،ٹرمپ

    اتوار کو ایران کیساتھ معاہدہ طے پاتے ہی ’آبنائے ہرمز‘ کو فوری طور پر کھول دیا جائے گا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر اتوار کے روز دستخط ہونے جا رہے ہیں،اس معاہدے کے طے پاتے ہی ’آبنائے ہرمز‘ کو فوری طور پر کھول دیا جائے گا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری تفصیلی بیان میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والا معاہدے پر اتوار کے روز دستخط ہوں گے انہوں نے سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ معاہدہ ایران کے لیے جوہری ہتھیار تک پہنچنے کا ایک آسان راستہ تھا ہمارا ایران کے ساتھ معاہدہ اس کے برعکس ہے اور یہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ایک دیوار کی حیثیت رکھتا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران اب جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہش مند نہیں ہے اور وہ اب ان ہتھیاروں کی خریداری، تیاری یا کسی اور ذریعے سے حاصل کرنے کی کوشش بھی نہیں کر سکے گا، اتوار کو ایران کے ساتھ طے شدہ معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد آبنائے ہرمز کو سب کے لیے کھول دیا جائے گا میری انتظامیہ کے ماضی کی امریکی حکومتوں کے مقابلے میں ایران کے ساتھ زیادہ بہتر تعلقات ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے بیان میں اوباما انتظامیہ کے اُس فیصلے پر بھی کڑی تنقید کی جس کے تحت معاہدے کے وقت ایران کو اربوں ڈالر کے فنڈز واپس کیے گئے تھے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ممکنہ معاہدے کے تحت ایران کو کسی قسم کی مالی ادائیگی نہیں کی جائے گی۔

    امریکی صدر نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ مناسب وقت آنے پر اسے محفوظ طریقے سے تلف کیا جائے گا ’حالات معمول پر آنے کے بعد امریکا ایران کے پہاڑوں میں دفن جوہری مواد تک رسائی حاصل کرے گا اور اسے بی ٹو بمبار طیاروں اور ماہر پائلٹس کی مدد سے باہر نکال کر ایران یا امریکا میں مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔

    صدر ٹرمپ نےکہا کہ وہ ایران اور پورے مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ کام کرنے کے خواہاں ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ عمل تیزی کے ساتھ شروع ہوگا تاہم انہوں نے ایران کو دبے لفظوں میں ایٹمی حملے کی دھمکی ہوئے کہا کہ ’اگر ایسا نہ ہوا تو امریکا کے پاس آخری متبادل موجود ہے، جسے وہ دوبارہ استعمال ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی سے لے کر ممکنہ امن معاہدے تک، پاکستان نے مرکزی ثالث کے طور پر بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ اس پورے عمل میں خاص طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر متحرک نظر آئے، جنہوں نے خود بھی ایران کے دورے کیے اور وزیر داخلہ محسن نقوی کو بھی پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا۔

    ٹرمپ کے اس بیان سے قبل ہی وزیراعظم شہباز شریف امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ کے حوالے سے کہہ چکے ہیں کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں اس معاہدے کو حتمی شکل دے دی جائے گی شہباز شریف کے اس بیان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر شیئر کیا تھا جب کہ عرب میڈیا نے عباس عراقچی کی قیادت میں ایرانی وفد کی اتوار کو پاکستان آمد کا بھی دعویٰ کیا ہے جو ممکنہ طور پر اس معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شریک ہوگا۔

  • ایران کی ایم او یو پر دستخط کے حوالے سے جاری خبروں پر وضاحت جاری

    ایران کی ایم او یو پر دستخط کے حوالے سے جاری خبروں پر وضاحت جاری

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے یادداشتِ مفاہمت (ایم او یو) پر دستخط کے حوالے سے جاری خبروں پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دستاویز پر دستخط کا اصل وقت کل نہیں ہوگا۔

    ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ بعض اطلاعات کے برعکس ایم او یو پردستخط فوری طور پرمتوقع نہیں، تاہم آنے والے دنوں میں اسلام آباد میں یادداشتِ مفاہمت پردستخط کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا دونوں ممالک کے درمیان مختلف امور پر رابطے اورمشاورت جاری ہے اوراس حوالے سے مناسب وقت پر پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔

    ایرانی ترجمان کے بیان کے بعد ایم او یو پر دستخط کی متوقع تاریخ کے حوالے سے پائی جانے والی قیاس آرائیوں کو نئی جہت مل گئی ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی روابط پر بھی توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔

  • ملک کی سر بلندی اور حتمی فتح تک اپنے موقف پر قائم رہیں گے،ایرانی اسپیکر

    ملک کی سر بلندی اور حتمی فتح تک اپنے موقف پر قائم رہیں گے،ایرانی اسپیکر

    ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور سربراہ مذاکرات کمیٹی محمد باقر قالیباف نےکہا کہ اپنے شہدا کے مشن کو جاری رکھیں گے اور کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق باقر قالیباف نے گزشتہ برس کی 12 روزہ جنگ کے ایک سال مکمل ہونے پر اپنے بیان میں شہدا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران عام شہریوں کو نشانہ بنانے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا نے گزشتہ برس 12 روزہ جنگ کے دوران بھی معصوم بچوں تک کو قتل کیا اور کسی جرم یا ظلم سے گریز نہیں کیا یہ کیسی بہادری تھی جو نہتے بچوں پر دکھائی گئی ہم اپنے شہدا کی قربانیوں سے حوصلہ حاصل کرتے ہوئے ملک کی سر بلندی اور حتمی فتح تک اپنے موقف پر قائم رہیں گے اور کبھی اپنی منزل یا مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل نے حزب اللہ اور حماس کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہوئے امریکا کی مدد سے ایران پر گزشتہ برس جون میں شدید حملے کیے تھے جس میں ملکی ایٹمی سائنسدانوں، اہم کمانڈرز اور سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنایا تھا۔