Baaghi TV

Tag: بجلی

  • کوئٹہ: لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 20 گھنٹوں تک پہنچ گیا:صوبے کے دیگرعلاقوں کا توبہت بُرا حال

    کوئٹہ: لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 20 گھنٹوں تک پہنچ گیا:صوبے کے دیگرعلاقوں کا توبہت بُرا حال

    کوئٹہ:ایک طرف سیلاب کی تباہ کاریاں ہیں تو دوسری طرف اس مشکل صورت حال میں بلوچستان والوں کو دوہرے مسائل اورمصائب کا سامنا ہے ، اطلاعات ہیں کہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 20 گھنٹے تک پہنچ گیا جب کہ دیگر اضلاع میں بجلی غائب ہے۔حالیہ بارشوں کے سیلاب سے بلوچستان ملک میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں متاثرین لقمہ اجل بن چکے ہیں، سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن کر گھروں سے کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

    تمام صوبوں سے نجی اور سرکاری املاک کی تباہی اور علاقے میں گیس کی معطلی کے باعث بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔ .

    صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں 24 گھنٹے کے دوران صرف 4 گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے اور لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 20 زون تک پہنچ جاتا ہے جب کہ دیگر اضلاع میں بجلی دستیاب نہیں ہے۔

    دوسری جانب بجلی کے متبادل کے طور پر استعمال ہونے والے سولر پینلز کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں اور دکاندار من مانی قیمتوں پر سولر پینل فروخت کر رہے ہیں۔سولر پینلز کی بڑھتی ہوئی مانگ کے ساتھ ساتھ کوئٹہ میں بجلی کی قلت کے باعث پینلز کی قیمتوں میں بھی 6 ہزار روپے تک کا اضافہ ہوگیا ہے۔

    شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کی منظوری

    دکانداروں کا کہنا ہےکہ دوسرے صوبوں سے منقطع ہونے کےبعد اشیا نایاب ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا ہےصارفین کی سپلائی فوری طور پر بحال کی جائے تاکہ ان کی مشکلات میں کمی آئے۔

    دنیا میں تیل کی قیمت گررہی جبکہ حکومت مہنگا کررہی. شیخ رشید

    ایگزیکٹو آفیسر کیسکو کا کہنا ہے کہ سیلاب سے 27 بجلی کی لائنیں اور 336 فیڈرز متاثر ہوئے ہیں جن کی بحالی کا کام ایک ہفتے میں مکمل کر لیا جائے گا، ایک ہفتے میں بجلی کی فراہمی بحال کر دی جائے گی۔

  • وزیراعظم شہبازشریف نے آج ہنگامی اجلاس طلب کرلیا، ملکی صورتحال پر اہم فیصلے متوقع

    وزیراعظم شہبازشریف نے آج ہنگامی اجلاس طلب کرلیا، ملکی صورتحال پر اہم فیصلے متوقع

    اسلام آباد :وزیراعظم شہبازشریف نے حکومتی اتحادی جماعتوں کا ہنگامی اجلاس آج (پیر کو) طلب کرلیا۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس اہم اجلاس میں ملک کی موجودہ صورتحال پرغورہوگا اور اہم فیصلے متوقع ہیں۔

    اجلاس آج شام 6 بجےوزیراعظم ہاؤس میں ہوگا جس میں تینوں مسلح افواج کی قیادت بھی شریک ہوگی۔ہنگامی اجلاس میں وزرائے اعلیٰ کو بھی مدعو کیا گیا ہے جبکہ اجلاس میں حکومت کے تمام اتحادی بھی شریک ہوں گے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ کمراٹ میں سیلاب میں پھنسے لوگوں کو با حفاظت طور پر نکال لیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ آج بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے دوران مجھے بتایا گیا کہ کمراٹ میں سیلاب میں پھنسے لوگوں بشمول طالبِعلموں کو الحمداللّہ با حفاظت طور پر نکال لیا گیا ہے۔

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے مزیدکہا کہ گزشتہ روز جیسے ہی یہ میرے علم میں لایا گیاتو میں نے تمام تر وسائل استعمال کرکے ان کے ریسکیو کی ہدایت کی تھی، پھنسے ہوئے افراد کو ریسکیو کرنے پر پاک آرمی سمیت تمام اہلکار شاباشی کے مستحق ہیں۔

  • صارفین کو بجلی بلوں سے  فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ختم کرکے نئے بل جاری کئے جارہے ہیں۔لیسکو چیف

    صارفین کو بجلی بلوں سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ختم کرکے نئے بل جاری کئے جارہے ہیں۔لیسکو چیف

    لیسکو چیف چوہدری محمد امین کا کہنا ہے کہ لیسکو کے 21 لاکھ سے زائد گھریلو اور زرعی صارفین کو فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 3 ارب اٹھاسی کروڑ روپے کا ریلیف دے دیا گیا ہے۔

    لیسکو چیف چوہدری محمد امین نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان اور وزارت توانائی (پاور ڈویژن) کی ہدایات کے مطابق لیسکو ریجن میں صارفین کے بجلی بلوں سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو ختم کرکے انہیں نئے بل جاری کئے جارہے ہیں۔ یہ بات لیسکو چیف چوہدری محمد امین نے آج لیسکو ہیڈکوارٹر میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کے دوران کہی۔

    لیسکو چیف ایگزیکٹو نے بتایا کہ گورنمنٹ کی جانب سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی کٹوتی کی سہولت 200 یا 200 سے کم یونٹس استعمال کرنے والے گھریلو اور زرعی صارفین پر لاگو ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ 200 سے زائد یونٹس استعمال کرنے والے صارفین پر اس سہولت کا اطلاق نہیں ہوگا۔

    لیسکو چیف چوہدری محمد امین نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صارفین کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام بینکوں کو ہدایات جاری کردی گئیں ہیں کہ وہ تاحکم ثانی مینوئل طریقے سے تصیح شدہ بل کی وصولی کو یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے 200 یونٹس استعمال کرنے والے صارفین جنہوں نے اس ماہ اپنے بل جمع کروادیئے ہیں ان کے اگلے ماہ کے بل سے یہ رقم نکال دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام صارفین کے ترمیم شدہ بلز کی تاریخ میں 31اگست تک کی توسیع کردی گئی اور یہ ترمیم شدہ بلز لیسکو کی ویب سائٹ پر بھی اپلوڈ کردیئے گئے ہیں۔

    لیسکو چیف چوہدری محمد امین کا کہنا تھا کہ لیسکو اسٹاف صارفین کی سہولت کے لئے ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران بھی کام کرئے گا تاکہ صارفین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ صارفین کو بہتر سے بہتر سروسز فراہم کرنا ہی ہمارا بنیادی مقصد ہے۔

  • وزیراعظم صاحب:لوگ پانیوں میں گھرے ہوئےہیں،بجلی کے بلوں کا کیا بنےگا:کچھ تو خیال کریں

    وزیراعظم صاحب:لوگ پانیوں میں گھرے ہوئےہیں،بجلی کے بلوں کا کیا بنےگا:کچھ تو خیال کریں

    لاہور:وزیراعظم صاحب:لوگ پانیوں میں گھرے ہوئےہیں،بجلی کے بلوں کا کیا بنےگا:کچھ تو خیال کریں ، ایک طرف پاکستان بھر میں طوفانی بارشوں اورشدید ترین سیلابوں کا سلسلہ شروع ہے تو دوسری طرف متاثرین بھی ایک وقت مئی کئی مسائل سے دوچار ہیں ، اس سلسلے میں اس وقت ایک نئی صورت حال جو سامنے آئی ہے وہ واقعی قابل غور ہے

    عوام الناس کی طرف سے وزیراعظم شہبازشریف سے ایک درخواست کی گئی ہے کہ حکومت کی طرف سے بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ واپس لینے کا جواعلان کیا گیا ہے وہ قابل عمل بھی ہونا چاہے ، صارفین کا کہنا ہے کہ وہ تو پانیوں میں گھرےہوئے ہیں ، لوگ اپنی ،اپنے اہل وعیال کی زندگیاں بچانے لیے پانیوں کی لہروں سے کھیل رہے ہیں اس اثنا میں وہ کیسے دفاتر کے چکرلگا کر فیول ایڈجسٹمنٹ کی رقم کی کٹوتی کروائیں گے ، یہ کیسے ممکن ہے

     

    صارفین کا کہنا ہے کہ یہ تو کسی بھی صورت ممکن نہیں لٰہذا مہربانی کرکے کوئی سسٹم ڈویلپ کریں‌ لوگوں‌ کو مزید مشکلات میں نہ ڈالیں بلکہ فی الفور متعلقہ حکام کو حکم جاری کریں کہ بجلی کے بل ادا کرنے کی صورت میں‌ وہ بجلی کے بلوں‌ میں قابل واپسی فیول ایڈجسٹمنٹ کی رقم کو اگلے بل میں صارف کی طرف سے ایڈوانس جمع کرلیں یا اسے ریفنڈ کردیں‌ تاکہ لوگوں کو دفتروں کے چکر نہ لگانا پڑیں ،

    وزیراعظم سے کہا گیا ہے کہ بعض علاقوں میں بجلی کے بل ادائیگی کی مقررہ تاریخ سے ایک دو دن پہلے آتے ہیں تو لوگوں کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ دفتروں میں جاکراس عزاب سے جان چھڑا لیں‌، ویسے بھی ایک عام صارف کو دفتروں میں کون داخل ہونے دیتا ہے اورخاص کر ان حالات میں جب بہت زیادہ رش ہو اور آخری تاریخ‌ہو ، اس لیے مہربانی کرکے بیان کئے گئے فارمولے کواپلائی کرکے لوگوں کے آسانیاں پیدا کریں،

    وزیراعظم سے یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ تین سو یونٹ کے استعمال تک فیول ایڈجسٹمنٹ رقم کی ایڈجسٹمنٹ کا حکم فی الفور جاری کریں ، واپڈا دفتروں والے صارفین کو بہت پریشان کررہے ہیں

    یاد رہے کہ چند دن پہلے وزیراعظم شہبازشریف نے بجلی کے بلوں میں 300 یونٹ کے استعمال تک فیول ایڈجسٹمنٹ کی رقم کو واپس لینے کا اعلان کیا تھا ، جس پر عمل درآمد کے لیے صارفین کو بہت زیادہ مشکلات آرہی ہیں‌

  • برطانیہ میں لوگوں کے لیے گیس بجلی کے بل پہنچ سے دور ہوگئے

    برطانیہ میں لوگوں کے لیے گیس بجلی کے بل پہنچ سے دور ہوگئے

    لندن :برطانیہ میں لوگوں کے لیے گیس بجلی کے بل پہنچ سے دور ہوگئے،اطلاعات کے مطابق پہلے کورونا اور اب روس یوکرین جنگ کی وجہ سے یورپ بھر میں توانائی کا ایک بحران ہے اور اس بحران میں سب سے زیادہ متاثر برطانیہ بھی ہوا ہے ،کہا جارہا ہے کہ برطانوی صارفین کے لیے توانائی کی قیمت اکتوبر سے 80 فیصد بڑھ جائے گی، برطانیہ کے ریگولیٹر نے کہا۔ اوسطاً سالانہ گھریلو بلز £3,549 (€4,204) تک بڑھ جائیں گے۔

    یوکے ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، یہ اقدام برطانوی شہریوں پر قیامت بن کر گزرے گا ، اور افراط زر کو مزید ہوا دے گا اور حکومت پر عمل کرنے کے لیے دباؤ ڈالے گا۔

    Ofgem کے چیف ایگزیکٹیو جوناتھن بریرلی نے کہا کہ اس اضافے کا برطانیہ بھر کے گھرانوں پر "بڑے پیمانے پر اثر” پڑے گا، اور جنوری میں ایک اور اضافے کا امکان ہے، جو توانائی کی منڈیوں میں قیمتوں کے اہم دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو گھرانوں تک مزید مدد پہنچانے کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے کہا، "حکومتی امدادی پیکج ابھی مدد فراہم کر رہا ہے، لیکن یہ واضح ہے کہ نئے وزیر اعظم کو اکتوبر اور اگلے سال آنے والے قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہوگی۔”انہوں نے مزید کہا ، "ردعمل کو ہمارے سامنے موجود بحران کے پیمانے سے ملنے کی ضرورت ہوگی۔”

    وزیر خزانہ ندیم زہاوی نے کہا کہ وہ اگلی حکومت کے لیے تیار رہنے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں، جس کا تقرر اس وقت کیا جائے گا جب 5 ستمبر کو لز ٹرس یا رشی سنک وزیر اعظم بنیں گے۔

    ریگولیٹر کا یہ اقدام گیس کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کے درمیان سامنے آیا ہے، جو یوکرین میں روس کی جنگ کے آغاز کے بعد سے بڑھ گئی ہے جس نے ماسکو پر مغربی پابندیاں عائد کی ہیں۔

  • وسطی بلوچستان تاریکی میں ڈوب گیا

    وسطی بلوچستان تاریکی میں ڈوب گیا

    خضدار:سیلاب اوربارشوں کے بعد صوبہ بلوچستان میں جس طرح عوام الناس سخت مشکلات کا شکار ہیں وہاں‌ ان کی مشکلات میں اس وقت اضافہ ہوا جب سندھ میں مین ٹرانسمیشن ٹاور گرنے کے باعث بلوچستان کے وسطی علاقوں کو بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی، کئی علاقے تاریکی میں ڈوب گئے، موبائل سگنلز بھی متاثر ہیں۔

    خضدار دادو 220 کے وی کی ٹرانسمیشن لائن کا ایک ٹاور سندھ کے علاقے رتو ڈیرو میں گر گیا، جس کے باعث وسطی بلوچستان کے علاقے تاریکی میں ڈوب گئے۔مین ٹرانسمیشن ٹاور گرنے سے خضدار، وڈھ، قلات، منگچر اور سوراب گرڈ اسٹیشنز کو بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔

    رپورٹ کے مطابق وسطی بلوچستان میں بجلی نہ ہونے سے ذرائع مواصلات بھی بری طرح متاثر ہوگئے، موبائل سگنلز بھی معطل ہیں۔

    سندھ اور بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب کے باعث صورتحال انتہائی خراب ہے، سڑکیں اور پل تباہ ہونے کے باعث کئی شہروں اور دیہات کا رابطہ منقطع ہے، حادثات میں سیکڑوں افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے۔

    دوسری طرف بلوچستان، سندھ، جنوبی پنجاب اور خیبرپختونخوا میں تباہ کن سیلاب کے متاثرین کی مدد کیلئے پاک فوج کے جنرل آفیسرز نے ایک ماہ کی تنخواہ متاثرین کی مدد کیلئے عطیہ کردی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل آفیسرز کی طرح دیگر فوجی افسران بھی رضاکارانہ بنیاد پرمالی عطیات دے رہے ہیں جبکہ عوام سے عطیات جمع کرنے کیلئے تمام بڑے شہروں میں عطیہ مراکز قائم کیے جائیں گے۔

    ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں منظم امدادی سرگرمیوں کیلئے ریلیف اینڈ ریسکیو آرگنائزیشن قائم کردیا گیا ہے۔ پاک فوج نے عوام کو سیلاب متاثرین کی مدد میں بڑھ چڑھ کرحصہ لینے کی اپیل بھی کردی ہے۔

  • بجلی 4 روپے 69 پیسے فی یونٹ مذید مہنگی ہونے کا امکان

    بجلی 4 روپے 69 پیسے فی یونٹ مذید مہنگی ہونے کا امکان

    سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے بجلی 4 روپے 69 پیسے مہنگی کرنے کے لیے نیپرا میں درخواست دائر کر دی۔

    سی پی پی اے کی جانب سے اضافہ جولائی کے ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مانگا گیا ہے، حالیہ اضافے سے بجلی صارفین پر 65 ارب کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

    سی پی پی اے نے درخواست میں موقف دیا کہ جولائی میں پانی سے 35.17 فیصد، کوئلے سے 12.74 فیصد، ڈیزل سے 1.46فیصد اور فرنس آئل سے 6.42 فیصد بجلی پیدا کی گئی جبکہ ڈیزل سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت 27 روپے 88 پیسے فی یونٹ رہی اور فرنس آئل سے 35 روپے 69 پیسے فی یونٹ بجلی پیدا کی گئی۔
    اسی طرح، مقامی گیس سے 10.36 فیصد اور درآمدی ایل این جی سے 14.98 فیصد بجلی پیدا کی گئی، ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت 28 روپے 28 پیسے فی یونٹ رہی، جوہری ایندھن سے 14.20 فیصد بجلی پیدا کی گئی جبکہ جوہری ایندھن سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت ایک روپے فی یونٹ رہی۔

    جولائی کے لیے ریفرنس لاگت 6 روپے 28 پیسے فی یونٹ مقرر تھی، بجلی کی پیداواری لاگت 10 روپے 98 پیسے فی یونٹ رہی جبکہ جولائی میں کل 13 ارب 76 کروڑ یونٹس بجلی پیدا کی گئی۔

    واضح رہے کہ نیپرا 31 اگست کو درخواست پر سماعت کرے گا۔

  • بجلی بھی مہنگی مگرپھربھی میسرنہیں :بدترین لوڈشیڈنگ، مشتعل شہریوں کا کے الیکٹرک دفتر پر حملہ

    بجلی بھی مہنگی مگرپھربھی میسرنہیں :بدترین لوڈشیڈنگ، مشتعل شہریوں کا کے الیکٹرک دفتر پر حملہ

    کراچی :شہرقائد میں بجلی کی بندش کے باعث شہریوں کا صبر جواب دے گیا، مشتعل افراد نے K Electric کے دفاتر پر حملے شروع کردیے۔اسکیم 33 میں مدراس چوک پر شہریوں نے کے الیکٹرک کے دفتر پر دھاوا بول دیا اور وہاں موجود کے الیکٹرک کی گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے۔

    احتجاج کے باعث کے الیکٹرک کا عملہ دفتر میں محصور ہوگیا، مشتعل شہریوں نے سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کرکے ٹریفک معطل کردیا اور ٹائر بھی نذر آتش کیے۔گلشن حديد ميں بھی کےاليکٹرک کے دفتر کے سامنے احتجاج کیا گیا، احتجاج میں تاجربرادری اورعوام کی بڑی تعداد شريک ہوئی۔

    ہجرت کالونی کے مکینوں نے احتجاج کرتے ہوئے PIDC پل کو ٹریفک کیلئے بند کردیا، مظاہرین نے کےالیکٹرک آفس کا گھیراؤ کرلیا اور کے الیکٹرک کیخلاف شدید نعرے بازی کی۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ 12 سے 16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جس کی وجہ سے انکی زندگی اجیرن ہوچکی ہے، اس موقع پر پولیس اور رینجرزکی بھاری نفری بھی موجود تھی۔

    واضح رہے کہ K Electric کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں رات 3 بجے سے صبح 5 تک لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث شہری شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں اور انہیں صبح دفاتر جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

  • فی یونٹ بجلی مزید9روپے90پیسےمہنگی کردی گئی

    فی یونٹ بجلی مزید9روپے90پیسےمہنگی کردی گئی

    نیپرا نے اگست کیلئے فی یونٹ بجلی مزید 9 روپے 90 پیسے مہنگی کردی,اطلاعات کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کیلئے بجلی 9 روپے 90 پیسےفی یونٹ مہنگی کردی۔

    نیپرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جون کے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی مدمیں 9 روپے 90 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔

     

    پُرانا پاکستان مبارک ہو:حکومت نےآتے ہی 5 روپے بجلی مہنگی کردی

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی (سی پی پی اے جی) نے 9 روپے 91 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی تھی، پہلےمئی کا فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ صارفین سے7 روپے 91 پیسے چارج کیا گیا تھا جو صرف ایک ماہ کیلئے تھا۔

    نیپرا کا کہنا ہے کہ جون کا ایف سی اے مئی کی نسبت ایک روپے 99 پیسے اگست میں زیادہ چارج کیا جائے گا، جون کے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق صرف اگست کے ماہ کے بلوں پر ہوگا۔نوٹیفکیشن کے مطابق اس اضافے کا اطلاق الیکٹرک کے صارفین پر نہیں ہوگا۔

    عمران خان بجلی مہنگی کرکے انٹرنیشنل کٹھ پتلی بن گئے ہیں: بلاول بھٹو نے کل احتجاج

    یاد رہے کہ تین دن پہلے بھی کچھ ایسی خبریں آرہی تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ نیشنل الیکٹراک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کراچی کے صارفین کےلیے فی یونٹ بجلی آئندہ 3 ماہ کے لیے مزید 57 پیسے مہنگی کردی گئی ہے۔

    نیپرا نے بجلی یونٹ میں اضافے کے حوالے سے فیصلہ جاری کردیا ہے، جس کا اطلاق وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن کے بعد ہوگا۔

    نیپرا فیصلے کے مطابق اگست ستمبر اور اکتوبر میں ہر ماہ 57، 57 پیسے فی یونٹ اضافہ وصول کیا جائے۔فیصلے مطابق ماہانہ 100یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے لائف لائن صارفین پر اضافے کا اطلاق نہیں ہو گا۔

    نیپرا کی طرف سے جاری فیصلے کے مطابق وفاقی حکومت نے ملک میں بجلی کے یکساں ٹیرف کو برقرار رکھنے کے لئے کےالیکٹرک کے صارفین کے لئے 3 ماہ فی یونٹ بجلی 57پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی تھی۔

    غریب عوام کی چیخیں نکل گئیں‌ : نیپرا نے بجلی مہنگی کرنے کی منظوری دے دی

    نیپرا فیصلے کے مطابق کےالیکٹرک کے سوا ملک بھر کی 10 ڈسکوز کے صارفین سے یہ اضافہ پہلے ہی وصول کیا جا چکا ہے، اب کراچی کے صارفین سے جون جولائی اور اگست کی بجلی کھپت کی بنیاد پر 3 ماہ تک یہ اضافہ وصول کیا جائے گا۔

  • بجلی کے بل یا عوام پر کوڑے بازی — حسام درانی

    بجلی کے بل یا عوام پر کوڑے بازی — حسام درانی

    پیٹرولیم مصنوعات، آٹا، چینی، کھانے کا تیل، سبزیاں پھل و دیگر روز مرہ استعمال کی اشیاء کی روزبروز بڑھتی ہوئی قیمتوں نے جہاں عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے وہیں پر بجلی و گیس کے بلوں نے بھی جینا اجیرن کر دیا ہے۔

    بجلی جہاں عام عوام کے لئے ضروری ہے وہیں پر ملک میں صنعتوں کا پہیہ چلنے میں بھی عضو خاص کا مقام رکھتی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اتار چڑھاو جہاں لوگوں کی جیبوں پر بھاری پڑتا ہے وہیں پر اشیاء کی پیداواری لاگت میں اضافہ بھی اشیاء کو عوام کی پہنچ سے دور کرتی جا رہی ہیں۔

    اگرچہ یہ تو ہماری حکومتوں کا وطیرہ ہی رہا ہے کہ جب چاہیں اپنی آمدنی کو بڑھانے کے لئے نت نئے ٹکسسز لگا دیتی ہیں لیکن حالیہ حکومت کی اگر بات کی جائے تو رہتی سہتی کسر انہوں نے پوری کر دی ہیں ، جولائی کے مہنے میں بجلی کے بلوں میں تقریبا 8 روپے فی یونٹ کا فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج کے طور پر ڈالے گئے جن کی منظوری پیمرا نے دے دی۔

    تحریک انصاف کی حکومت نے پیٹرول و ڈیزل پر دی جانے والی سبسڈی کے ساتھ بجلی پر بھی پانچ روپے فی یونٹ سبسڈی کا اعلان کیا تھا تاہم نئی حکومت آنے کے بعد اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) کے ساتھ قرضہ پروگرام کی بحالی کی شرائط کے تحت بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کا بھی خاتمہ کیا گیا جس کی وجہ سے بیس ٹیرف میں اضافہ ہوا اور جولائی کے بلوں میں سبسڈی کے خاتمے کا بعد کا اثر نظر آیا۔

    یاد رہے کہ مارچ میں سابقہ حکومت کی جانب سے بجلی پر سبسڈی کے بعد بیس ٹیرف 16 روپے فی یونٹ سے گر کر گیارہ روپے فی یونٹ ہو گیا تھا۔

    بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی اصل مسلہ تو تب شروع ہوتا ہے جب ان تمامتر ٹیر ف اضافہ کے بعد اسپر سیلز ٹیکس و انکم ٹیکس لگتا ہےمطلب سونے پر سوہاگا۔۔۔

    موجودہ مالی سال کے بجٹ میں ریٹیلر ٹیکس کا اعلان کیا گیا تھا جو اب جولائی کے مہینے میں لگ کر آیا جس کی وجہ سے کمرشل میٹروں پر بجلی کے بل میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔

    جبکہ اگر دیکھا جائے تو حکومت 36000 روپے سالانہ اور تین ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے ریٹیل سطح پر فل اینڈ فائنل ٹیکس لینا چاہتی ہے جس کی شروعات جولائی کے بل میں کی گئی ہے۔

    جون کے مہینے کا فیول ایڈجسٹمنٹ ابھی وصول کرنا باقی ہے جو آنے والے مہینے میں ہو گا تاہم اس کے ساتھ اب بجلی کے بیس ٹیرف یعنی بنیادی نرخ میں بھی اضافہ اگلے چند مہینوں میں بلوں میں اضافی رقم کی صورت میں نکلے گا۔

    26 جولائی سے 3.50 روپے فی یونٹ بیس ٹیرف کا اطلا ق ہو گیا ہے جو اگست کے بلوں میں نظر آئے گا اسی طرح 3.50 روپے فی یونٹ کے ایک اور اضافے کا اطلاق اگست کے مہینے میں ہو گا جو ستمبر کے بلوں میں نظر آئے گا۔

    پھر ایک اور اضافہ ستمبر، اکتوبر میں ہو گا جس سے ملک میں بیس ٹیرف میں اضافہ ہو گا اور یہ بجلی کے بل میں اضافے کا سبب بنے گا۔ اس کے ساتھ 17 فیصد کے حساب سے لگنے والا سیلز ٹیکس بھی نئے اضافی ٹیرف کی وجہ سے صارفین کے لیے بجلی کو مہنگا کرے گا۔

    فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج کا اثر اکتوبر تک نظر آئے گا جب صارفین سے فیول کی لاگت بڑھنے کی وجہ سے زیادہ بل وصول کیا جائے گا۔

    حالیہ دنوں میں اس ہوشربا اضافہ کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئی اور خصوصا تاجر برادری جو کے پہلے ہی کمرشل ریٹس پر بجلی کے بل ادا کر رہے ہیں انپر فکس ٹیکس کی شکل میں ایک اور بوجھ لاد دیا عوام کی اس حالت زار پر کسی بھی حکومتی ادارے یا حکومتی ترجمان کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔