Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • عمران خان ٹانگ کا پلاسٹر اب تمہیں مزید نہیں بچائے گا، مرد بنو اور قانون کا سامنا کرو،مریم نواز

    عمران خان ٹانگ کا پلاسٹر اب تمہیں مزید نہیں بچائے گا، مرد بنو اور قانون کا سامنا کرو،مریم نواز

    لاہور: مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز نےعمران خان کو “سازشوں کا بادشاہ” قرار دیا-

    باغی ٹی وی: عمران خان نے اپنے ایک ٹوئٹر بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ کے ججوں پر پی ڈی ایم کے بے شرم اور بے حساب حملے اور بدعنوانی کے پیسوں سے پالی جانے والی بی بی مریم کا صرف ایک مقصد ہے آئین کی خلاف ورزی کرکے بھی انتخابات سے بھاگنا۔ ایس سی پی پر حملہ کرکے، وہ فیڈریشن کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور پاکستان میں جنگل کے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنا رہے ہیں۔


    عمران خان کی ٹویٹ کے جواب میں مریم نواز نے عمران خان کو “سازشوں کا بادشاہ” قرار دیاکہا کہ آپ کی چیخیں غلط نہیں کیوںکہ آپ اپنے گاڈ فادر فیض اور ان کی باقیات کی مدد سے ‘سازشوں کے بادشاہ’ ہیں۔


    مریم نواز نے کہا کہ آپ فیض اوران کی باقیات کی سازشوں پر پھلتے پھولتےاورزندہ رہتےہیں، اب آپ دیکھیں گےکہ “بگڑی ہوئی شہزادی” آپ کو کیسے مات دیتی ہے، آپ جیسے پیادے غیر متعلقہ ہو جائیں گے۔

    مریم نے مزید کہا کہ تم عدالتوں سے بچتے پھر رہے ہو اور التوا کی بھیک مانگ رہے ہو، جو تمہارے مجرم ہونے کا واضح ثبوت ہے، ٹانگ کا پلاسٹر اب تمہیں مزید نہیں بچائے گا، مرد بنو اور قانون کا سامنا کرو-


    مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ چور ڈاکو کا بیانیہ اب پٹ چکا ہے، بلکہ تم اور تمہاری بیوی توشہ خانہ کیس میں چوری کرتے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہو 190 ملین پاؤنڈ (58 ارب روپے) کی چوری ، بیوی کے زیورات اور توشہ خانہ کی ڈکیتی، 5 کیرٹ ہیرے کی انگوٹھی کے لیے فائلوں پر دستخط کرنے تک ہر قسم کی بدعنوانی کا مجرم بننے والے پہلے وزیراعظم ہو-

  • سرائیکی زبان کے معروف شاعر شاکر شجاع آبادی کا یومِ پیدائش

    سرائیکی زبان کے معروف شاعر شاکر شجاع آبادی کا یومِ پیدائش

    شاکر شجاع آبادی کا تعلق شجاع آباد کے ایک چھوٹے سے گاوٗں راجہ رام سے ہے جو ملتان سے ستر70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔۔ شاکر شجاع آبادی 25 فروری 1968 کو پیدا ہوئے وہ عصرِ حاضر میں سرائیکی زبان کےمشہور اور ہر دل عزیز اور سرائیکی کے نمائندہ شاعر ہیں۔ جسے سرائیکی زبان کا شیکسپیئر اور انقلابی شاعر کہا جاتا ہے ان کا اصل نام محمد شفیع ہے اور تخلص شاکرؔ ہے، شجاع آباد کی نسبت سے شاکر شجاع آبادی مشہور ہے۔

    خواجہ غلام فرید کوشاعری میں اپنا روحانی استاد مانتے ہیں 1994ء تک بول سکتے تھے، اس کے بعد فالج کا حملہ ہوا جس کے باعث درست طور پر بولنے سے قاصر ہیں اور ان کا پوتا ان کی ترجمانی کرتا رہا۔

    گزشتہ کئی سالوں سے وہ سرائیکی کے مظلوم عوام کے دلوں کی آواز بنے ہوئے ہیں ۔۔۔ وہ خود بولنے کی صلاحیت سے محروم ہیں لیکن انھوں نے سرائیکی عوام کی محرومیوں کو اجاگر کر کے ان کو جذبات کی عکاسی کے لیے زبان دی ہے ۔۔ 1986 سے باقاعدہ شاعری کر رہے ہیں ۔۔ نصابی تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے وہ کتابیں نہیں پڑھ سکے ۔۔ ان کا شاعری سے متعلق تمام علم ریڈیو پروگراموں کا مرہون منت ہے ۔۔ غلام فرید اور وارث شاہ کو انھوں بہت سنا ۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘‘میرا مسئلہ صرف سرائیکی وسیب نہیں ہے بلکہ میں پوری دنیا کے مظلوم لوگوں کی بات کرتا ہوں چاہے کوئی کافر ہی کیوں نہ ہو ۔’’ 1994 تک بول سکتے تھے ۔۔ اس کے بعد فالج کا حملہ ہوا جس کے باعث درست طور پر بولنے سے قاصر ہیں ۔۔

    کہتے ہیں میں زیادہ سکول نہیں گیا ’’سب کچھ غور کرنے سے اور دنیا کے تجربات سے سیکھا ہے‘‘ ۔۔ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ‘‘پاکستان کے زوال کی اصل وجہ وڈیروں کا قابض ہونا اور لوگوں کا ان کے خلاف نہ اٹھنا ہے ۔۔ اگر لوگوں کو شعور دیا جائے کہ ان کی غلامی سے کیسے نکلنا ہے تو مسائل حل ہو سکتے ہیں ‘‘۔۔ موجودہ سیاسی نظام سے وہ منتفر ہیں ۔۔ماضی کے لیڈران میں سے وہ ذوالفقار علی بھٹو کو پسند کرتے ہیں ۔۔ جنھوں نے عوام کو حقوق کا شعور دیا ۔۔

    وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک بار انھیں دو لاکھ کا چیک دیا تھا جو انھوں نے اپنے علاقے کے ایک سکول کی عمارت پر لگا دیا ۔۔ لیکن سٹاف نہ ہونے کی وجہ سے وہ سکول بند ہے ۔۔۔ وہ خود انتہائی غربت میں زندگی بسر کر رہے ہیں ۔۔ اکثر بیمار رہتے ہیں اور روزمرّہ اخراجات کو پورا کرنے کے لیےبھی معلوم نہیں کیا کیا پاپڑبیلنے پڑتے ہیں انھوں نے اپنی شاعری کی فکر اور فلسفہ کسی کتاب ، یونیورسٹی یا عظیم دانشوروں کے افکار و نظریات سے نہیں لیا ۔۔ بلکہ جو انھوں نے دیکھا ، سوچا ، سمجھا اور جو ان پر بیتا اسے قلم بند کرتے رہے ۔۔

    ایک مشاعرے میں جہاں مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء اور پروفیسرز ان کی شاعری سننے کے لیے جمع تھے ۔۔۔ تو ان سے پوچھا گیا کہ وہ ان تعلیم یافتہ لوگوں کے درمیان کیا محسوس کر رہے ۔۔ تو انھوں نے کہا کہ میں بچپن میں پڑھ لکھ کر سائنس دان بننا چاہتا تھا ۔۔۔ لیکن غربت کی وجہ سے نہ پڑھ سکا ۔۔ جس کا افسوس ہوتا تھا ۔۔ لیکن اب خوشی ہوتی ہے کہ میں لوگوں کی آواز بنا ہوں ۔۔ اور بہت سے پڑھے لکھے لوگ مجھے سنتے ہیں اور میرے بارے میں لکھتے ہیں ۔۔۔

    ان کی شاعری زبان کی حدود و قیود کو پھلانگ کر مظلوم قوموں اور پسے ہوئے طبقات کی آواز بن چکی ہے ۔۔۔ پاکستان کے کونے کونے میں مزدور ، کسان ، جھونپڑیوں میں رہنے والے اور مذہبی فرسودگی سے تنگ آئے ہوئے لوگ آپ کو شاکر شجاع آبادی کے اشعار گنگناتے ہوئے ملیں گے ۔۔ اور ممکن ہے انھیں یہ بھی علم نہ ہو کہ ان اشعار کا خالق کون ہے ۔۔۔۔

    ان کی شاعری کا موضوع ، غربت ، پسماندگی ، غیر مساویانہ معاشی تقسیم ،بددیانتی اور مذہبی ٹھیکیداروں کی رجعت پسندی ہےبظاہر تو یوں لگتا ہے کہ ان کی شاعری ان کے ذاتی مسائل خطے کی صورتحال اور سرائیکی بیلٹ کی پسماندگی کا فطری ردِ عمل ہےلیکن اپنے طرزِ اظہار کے باعث انھوں نے اپنی شاعری کو عالمی صورتحال سے جوڑ دیا ہے ۔۔ اور جب تک یہ مسائل ہیں ۔۔ اس خطے کے لوگ شاکر شجاع آبادی کو نہیں بھول سکتے ۔۔ ان کی شاعری ان کے مسائل کی عکّاسی کرنے کے ساتھ ساتھ اُن میں تبدیلی کی تڑپ کو زندہ رکھے گی –

    ان کی شاعری کے کئی مجموعے چھپ چکے ہیں ۔۔ کلامِ شاکر ، خدا جانے ، شاکر دیاں غزلاں ، منافقاں توں خدا بچائے اور شاکر دے دوہڑے ان کے مجموعہ ہائے کلام ہیں-

    حکومت پاکستان کی طرف سے اعلیٰ کارکردگی کی وجہ سے 14 اگست 2006ء میں انہیں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی ملا۔

    ہر چند کہ شاکر شجاع آبادی صاحب کی تعلیمی قابلیت پرائمری ہے لیکن اﻥ کا ﮐﻼﻡ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯿﻮﮞﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎﯾﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ
    ﺍﺳﻼﻣﯿﮧ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺑﮩﺎﻟﭙﻮﺭ،،ﺑﮩﺎﺀﺍلدﯾﻦﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻣﻠﺘﺎﻥ،،ﺍﯾﮕﺮﯼ ﮐﻠﭽﺮﻝ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻻﮨﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﻋﻼﻣﮧ ﺍﻗﺒﺎﻝ ﺍﻭﭘﻦ، ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺍﺳﻼﻡ ﺁﺑﺎﺩ –

    ﺟﻨﺎﺏ_ ﺷﺎﮐﺮ ﺷﺠﺎﻉ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻥ ﺑﻨﻨﺎ ﭼﺎﮨﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﻏﺮﺑﺖ ﻧﮯ ﺁﻥ ﮔﮭﯿﺮﺍ ﻣﮕﺮ ﺍﺏ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﮐﭽﮫ ﺧﻮﺍﺏ ﭘﻮﺭﺍﮨﻮﺍ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﻟﻮﮒ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﻼﻡ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﭘﯽ ﺍﯾﭻ ﮈﯼ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺮﺍﺋﯿﮑﯽ ﮐﻼﻡ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﻨﮯ ﭘﮍﮬﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﻭ ﮐﻼﻡ ﺍﺭﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﻣﻼﺧﻄﮧ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ –
    ____
    ﺳﺘﻢ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺪﺭﺕ ﺳﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ
    ﻭﮦ ﺑﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﻻﭨﮭﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ
    ﺳﺘﻢ ﺟﺐ ﻟﻮﭨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺳﺘﻢ ﮔﺮ ﭘﺮ ﺟﮭﭙﭩﺘﮯﮨﯿﮟ
    ﺳﺘﻢ ﺟﯿﺴﮯ ﻋﻘﺎﺑﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﻠﯽ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ
    ___
    ﺟﮭﻮﻧﮑﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﺁﯾﺎ ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ
    ﮐﺸﺘﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﮈﺑﻮ ﮐﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﺍﺗﺮ ﮔﯿﺎ
    ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺎﺭ ﭘﮧ ﺟﻮ ﺻﺪﻗﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﯾﺎﺭ ﻧﮯ ﺩﯾﺎ
    ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﻮ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﯽ ﺳﺮ ﮔﯿﺎ
    ﺑﭩﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﺏ ﻧﯿﺎﺯﯾﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮ
    ﮐﭽﮫ ﺭﻭﺯ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﻓﺎﻗﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺮ
    ﮔﯿﺎ
    ﻣﺠﮭﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺷﺎﮐﺮ ﻭﮦ ﺭﻭﯾﺎ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ
    ﮐﺘﻨﯽ ﮨﯽ ﺳﺎﺩﮔﯽ ﺳﮯ ﻗﺎﺗﻞ ﻣﮑﺮ ﮔﯿﺎ

    تصنیفات

    لہو دا عرق
    پیلے پتر
    بلدین ہنجو
    منافقاں تو خدا بچاوے
    روسیں تو ڈھاڑیں مار مار کے
    گلاب سارے تمہیں مبارک
    کلامِ شاکر
    خدا جانے
    شاکر دیاں غزلاں
    شاکر دے دوہڑے

    بشکریہ وکی پیڈیا

    ان کے کچھ منتخب اشعار پیش ہیں ۔۔۔۔۔ ان کی شاعری کا انتخاب بھی ایک کٹھن مرحلہ تھا ۔۔۔۔ کسی بھی موجود شعر کو چھوڑنا گراں محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔ لیکن کچھ تو کرنا ہی تھا ۔۔ سو انتخاب حاضر ہے ۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔

    مرے رازق رعایت کر نمازاں رات دیاں کر دے
    کہ روٹی رات دی پوری کریندے شام تھیں ویندی
    انھاں دے بال ساری رات روندن بھک تو سوندے نئیں
    جنھاں دی کیندے بالاں کوں کھڈیندے شام تھی ویندی
    میں شاکر بھکھ دا ماریا ہاں مگر حاتم توں گھٹ کئی نئیں
    قلم خیرات ہے میری چلیندے شام تھی ویندی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔

    کیہندے کتّے کھیر پیون کیہندے بچّے بھکھ مرن
    رزق دی تقسیم تے ہک وار ول کجھ غور کر
    غیر مسلم ہے اگر مظلوم کوں تاں چھوڑ دے
    اے جہنمی فیصلہ نہ کر اٹل کجھ غور کر

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔

    اے پاکستان دے لوکو پلیتاں کوں مکا ڈیوو
    نتاں اے جے وی ناں رکھے اے ناں اوں کوں ولا ڈیوو
    جتھاں مفلس نمازی ہن او مسجد وی اے بیت اللہ
    جو ملاں دیاں دکاناں ہن مسیتاں کوں ڈھا ڈیوو
    اتے انصاف دا پرچم تلے انصاف وکدا پئے
    ایہوجی ہر عدالت کوں بمعہ املاک اڈا ڈیوو
    پڑھو رحمن دا کلمہ بنڑوں شیطان دے چیلے
    منافق توں تے بہتر ہے جے ناں کافر رکھا ڈیوو
    جے سچ آکھن بغاوت ہے بغات ناں اے شاکر دا
    چڑھا نیزے تے سر مینڈھا مینڈے خیمے جلا ڈیوو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔

    میکوں مینڈا ڈکھ ، میکوں تینڈا ڈکھ ، میکوں ہر مظلوم انسان دا ڈکھ
    جتھاں غم دی بھا پئی بلدی ہے میکوں روہی چولستان دا ڈکھ
    جتھاں کوئی انصاف دا ناں کوئی نئیں میکوں سارے پاکستان دا ڈکھ
    جیہڑے مر گئے ہن او مر گئے ہن میکوں جیندے قبرستان دا ڈکھ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔

    غریب کوں کئیں غریب کیتے ، امیرزادو جواب ڈیوو
    ضرورتاں دا حساب گھنو ، عیاشیاں دا حساب ڈیوو
    سخاوتاں دے سنہرے پانڑیں ، دے نال جیہڑے مٹا ڈتے نیں
    او لفظ موئے بھی بول پوسن ، شرافتاں دی کتاب ڈیوو
    شراب دا رنگ لال کیوں اے ، کباب دے وچ اے ماس کیندا
    شباب کیندا ہے ، کئیں اُجاڑے حساب کر کے جناب ڈیوو
    زیادہ پھلدا اے کالا جیکوں ، خرید گھن دا اے اوہو کرسی
    الیکشناں دا ڈرامہ کر کے ، عوام کوں نہ عذاب ڈیوو
    قلم اے منکر نکیر شاکر ، جتھاں وی لکسو اے تاڑ گھن سی
    غلاف کعبے دا چھک کے بھانوں ، ناپاک منہ تے نقاب ڈیوو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔

    72 حور دے بدلے گزارہ ہک تے کر گھنسوں
    71 حور دے بدلے اساں کوں رج کے روٹی دے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔

    نجومی نہ ڈراوے دے اساکوں بدنصیبی دے
    جڈاں ہتھاں تے چھالے تھئے لکیراں خود بدل ویسن

  • صوفیہ مرزا کو بڑا دھچکا، عدالت نے عمر فاروق ظہور کے خلاف بیٹیوں کے اغوا کا مقدمہ خارج کردیا

    صوفیہ مرزا کو بڑا دھچکا، عدالت نے عمر فاروق ظہور کے خلاف بیٹیوں کے اغوا کا مقدمہ خارج کردیا

    لاہور کی مقامی عدالت نے عمر فاروق ظہور کے خلاف بیٹیوں کو اغوا کرنے کا مقدمہ خارج کردیا۔

    باغی ٹی وی :جوڈیشل مجسٹریٹ لاہور غلام مرتضیٰ ورک نے فیصلے میں کہا ہے کہ ایف آئی اے کو لاہور میں مقدمہ درج ہی نہیں کرنا چاہیے تھا 14 برس قبل بچیوں زینب اور زنیرہ کے اغوا کا مبینہ واقعہ کراچی میں ہوا تو کارروائی بھی وہیں ہونی چاہیے تھی۔

    عدالت نے حکم دیا کہ معاملہ ہمارے دائرہ کار میں نہ نہیں ہے اس لیے اس کیس کی فائل تمام انکلوژرز اور شواہد کے ساتھ استغاثہ کو واپس کر دی جاتی ہے تاکہ اسے مناسب فورم پر دائر کیا جا سکے۔

    عدالت میں عمر ظہور کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سپریم کورٹ میں معاملہ 2013 میں حل ہوچکا، صوفیہ مرزا نے 10 لاکھ لے کر کیس نمٹا دیا تھا۔

    ایف آئی اے نے مقدمے میں لائبیریا کے سفیر عمر فاروق، صدف ناز اور محمد زبیر کو نامزد کیا تھا،مجسٹریٹ کے فیصلے کے بعد تفتیشی عمل مکمل کرنے کیلئے کیس ایف آئی اے کراچی کو بھیجا جائے گا۔

    عمر فاروق ظہور نے شکایت کی درج کرائی تھی کہ ان کی سابق اہلیہ صوفیہ مرزا سابق وزیر احتساب شہزاد اکبر اور ایف آئی اے کے ڈائریکٹر (مرحوم) ڈاکٹر رضوان کے ساتھ مل کر سازش کی اور ان کے خلاف منی لانڈرنگ اور اغوا کے جعلی مقدمات درج کرائے تاکہ ان پر ایف آئی اے کو سزا دی جائے۔

    انتقام کی مہم اور آج کے آرڈر آف لرنڈ مجسٹریٹ نے اپنے موقف کی توثیق کی ہے کہ شہزاد اکبر نے ایف آئی اے لاہور کو اس حقیقت کے باوجود کہ ایف آئی اے لاہور کے دائرہ اختیار میں کمی کے باوجود ایف آئی اے لاہور کو اپنے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرنے پر مجبور کر کے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔

    حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ صدف ناز کی درخواست کے مطابق کراچی میں 2009 میں ہونے والے مبینہ جرم کی ایف آئی آر کے اندراج میں 10 سال سے زائد کی غیر وضاحتی تاخیر ہوئی ہے اور استغاثہ نے 9 گواہ پیش کیے ہیں لیکن وہ جرم کا ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ملزم کے خلاف مواد صدف ناز نے استدعا کی تھی کہ انہیں بغیر کسی وجہ کے "جعلی اور فرضی” کیس میں گھسیٹا گیا اس لیے ان کے خلاف مقدمہ خارج کیا جائے۔

    سمجھا جاتا ہے کہ جج غلام مرتضیٰ ورک کے فیصلے کے بعد کیس اب باقی تفتیش مکمل کرنے کے لیے ایف آئی اے کراچی کو بھیجا جائے گا۔

    اس حوالے سےعمر فاروق ظہورکا کہنا تھا کہ سابقہ اہلیہ صوفیہ مرزا نے جون 2020 میں نےانتقامی کارروائی کیلئےجعلی مقدمہ درج کرکے ایف آئی کو ملوث کیا تھا، مقدمہ درج کرانے کیلئے صوفیہ مرزا کو سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر اور ایف آئی اے کے ڈائریکٹر مرحوم ڈاکٹر رضوان کی معاونت حاصل تھی۔

    انہوں نے کہا کہ مجسٹریٹ کے فیصلے سے ثابت ہوگیا ایف آئی اے کو غلط مقدمہ درج کرنے کیلئے مجبور کیا گیا۔

    گزشتہ سال جون میں جیو اور دی نیوز نے تحقیقات کے بعد انکشاف کیا کہ صوفیہ مرزا کی طرف سے عمر فاروق ظہور پر مبینہ فراڈ اور 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے الزامات لگائے گئے شہزاد اکبر نے ایف آئی اے کو استعمال کرنے کیلئے صوفیہ مرزا کو شکایت درج کرانے کا مشورہ دیا، شکایت وزارت داخلہ کے ذریعے پی ٹی آئی حکومت کی کابینہ تک پہنچی تاہم کابینہ نے عمر فاروق ظہور اور ان کے عزیز کے خلاف 16 ارب روپے کے مبینہ فراڈ کی ایف آئی اے کو تحقیقات کی اجازت دی۔

    ایف آئی اے نے تفتیش مکمل کرنے کے بعد عمر فاروق ظہور کے خلاف دو کیسز درج کیے، تحقیقات کے مطابق عمر فاروق ظہور اور شریک ملزم نے ناروے اور سوئٹزرلینڈ میں فراڈ کیے، اوسلو میں 2010 میں 89.2 ملین ڈالر کا بینک فراڈ اور برن میں 12 ملین ڈالر کے فراڈ کا الزام عائد کیا گیا۔

    ایف آئی اے کو شکایت میں خوش بخت مرزا نے یہ نہیں بتایا کہ وہ بطور اداکارہ و ماڈل صوفیہ مرزا کے نام سے معروف ہیں، صوفیہ مرزا نے شکایت میں یہ بھی نہیں بتایا کہ عمر فاروق ظہور ان کے سابق شوہر ہیں۔

    شکایت میں الزام لگایا گیا کہ عمر فاروق ظہور نےکئی ممالک میں فراڈ کیا اور ناروے میں سزا یافتہ اور مطلوب ہے،عمر فاروق ظہور نے مبینہ طور پر 9.37 ملین ترک لیرا کا بھی فراڈ کیا، گھانا میں 510 ملین ڈالر کا مشکوک معاہدہ بھی کیا، عمر فاروق ظہور کے پاس کالے دھن کے کئی ملین ڈالر اور پاکستان و دبئی میں کئی جائیدادوں کا الزام بھی لگایا گیا۔

    صوفیہ مرزا نے سابق شوہر پر سونے کی اسمگلنگ، مہنگی گاڑیاں اورگھڑیوں کی ملکیت اور سونا و رقم گھر میں رکھنے کا الزام بھی لگایا۔

    ماڈل صوفیہ مرزا نے ایف آئی سے استدعا کی کہ وہ پاکستان کو بدنام کرنے والے شخص کے خلاف تحقیقات کرے، کابینہ میں شہزاد اکبر کی طرف سے پیش کی گئی سمری کے حوالے سے کوئی سوال نہیں کیا گیا تھا کابینہ کو یہ بتانے کی زحمت بھی نہیں کی گئی کہ خوش بخت مرزا ہی اصل میں صوفیہ مرزا ہیں،کابینہ کو عمر فاروق ظہور کے خوش بخت کا سابق شوہر ہونے اور جڑواں بچیوں کی تحویل کی لڑائی سے بھی لا علم رکھا گیا۔

    جوڑے کی 2008 میں طلاق کے بعد بچیاں اپنی مرضی سے والد کے ساتھ دبئی میں مقیم ہیں، کابینہ کو اس بات سے بھی لاعلم رکھا گیا کہ پاکستان اور یو اے ای کی اعلیٰ عدالتوں میں بچیوں کی تحویل کا معاملہ طے ہوچکا ہے۔

    صوفیہ مرزا نے بدعنوانی کے دو مقدمات سے قبل سابق شوہر پر بچیوں کے اغوا کا مقدمہ بھی درج کروایا، والدین پر اپنے بچوں کے اغوا کا مقدمہ نہ بننے کے قانون کے باوجود شہزاد اکبر کی ہدایت پر عمر فاروق ظہور کے خلاف مقدمہ بنا، کابینہ میں سمری کی منظوری کے بعد عمر فاروق ظہور کا نام ایگزٹ کنٹرول میں ڈال دیا گیا، قانونی کارروائی مکمل کیے بغیر ناقابل ضمانت وارنٹس کے اجرا کے علاوہ پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ بلیک لسٹ کردیے گئے، انٹرپول کے ذریعے عمر فاروق ظہور کی گرفتاری کیلئے ریڈ وارنٹس بھی جاری کر دیے گئے۔

    عمر فاروق ظہور نے لائبیریا کے سفیر کے طور پر ایف آئی اے کے اقدامات کو ختم کرانے کیلئے کارروائی شروع کی، عدالتی کارروائی کے بعد ناقابل ضمانت وارنٹس اور ریڈ وارنٹس منسوخ ہوئے۔

    عدالت نے یہ مشاہدہ کیا کہ اشتہاری قرار دینے سے قبل مجوزہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا تھا، عدالت نے یہ مشاہدہ بھی کیا کہ 2019 سے لائبیریا کا سفیر ہونے کی حیثیت سے عمر فاروق ظہور کو قانونی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہے۔

    عمر فاروق ظہور کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہونے کے باوجود ایف آئی اے نے ڈفیوژن نوٹس جاری کیا، عمر فاروق کو استثنیٰ اور ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود ان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹس جاری کرائےگئے۔

    عدالتی حکم نامے کے مطابق ایف آئی اے نے ڈفیوژن نوٹس کی اجازت کے حوالے سے انٹرپول سے جھوٹ بولا، ایف آئی اے کے غیر قانونی اقدامات سے بچانے کیلئے عمر فاروق نے جوڈیشل مجسٹریٹس لاہور غلام مرتضیٰ ورک سے رابطہ کیا۔

    جوڈیشل مجسٹریٹس لاہور غلام مرتضیٰ ورک کے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ دونوں کیسز میں نہ تو ناقابل ضمانت وارنٹس جاری کیےگئے اور نہ ایف آئی اے کی جانب سے کوئی رپورٹ پیش کی گئی، عمر فاروق ظہور کا نام سرخیوں میں اس وقت آیا جب سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے عمران خان کے غیرقانونی احکامات ماننے سے انکار کا انکشاف کیا۔

    بشیر میمن پر مارچ 2022 میں الزام لگایا گیا کہ انہوں نے عمر فاروق کو پاکستان کے دورے کرنے کی غیر قانونی اجازت دی، سوئس حکام نے 7 دسمبر 2020 کو تصدیق کےشواہدکی کمی اور ٹائم بار کے سبب عمر فاروق کے خلاف کیس خارج کردیا گیا۔

    ترک باشندے کی طرف سے لگائےگئے فراڈ کے الزام کی نیب نے انکوائری کی، کرپشن کا کوئی ثبوت نہ ملنے پر اگست 2013 کو احتساب عدالت نے عمر فاروق کو کلین چٹ دی تھی۔

    مئی 2020 میں ناروے حکام نے بینک فراڈ کیس عدم ثبوت پر عمر فاروق کے خلاف کیس بند کردیا تھا، سوئٹزرلینڈ اور ناروے کی طرف سے عمر فاروق ظہور پر کیسز ختم ہوتے ہی ان پر پاکستان میں عجلت میں کیسز بنائےگئے۔

  • امیر کویت شاٹ گن کپ،پاکستانی شوٹر نے گولڈ میڈل جیت لیا

    امیر کویت شاٹ گن کپ،پاکستانی شوٹر نے گولڈ میڈل جیت لیا

    پاکستان شوٹر نے امیر کویت شاٹ گن کپ میں ریکارڈ اپنے نام کرتے ہوئے گولڈ میڈل جیت لیا۔

    باغی ٹی وی: پاکستانی شوٹر عثمان چاند نے ایشیا شاٹ گن کپ کے کوالیفکیشن راؤنڈ میں بھی پہلی پوزیشن حاصل کی تھی جبکہ انہوں نے امیر کویت شاٹ گن کپ میں گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا ہے۔


    پاکستان کے عثمان چاند نے امیر کویت شاٹ گن کپ میں 125 میں سے 124 شاٹ نشانے پر لگا کر منفرد ریکارڈ قائم کیا۔


    واضح رہے کہ نیشنل رائیفل ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکرٹری کے مطابق پاکستان کی جانب سے کویت میں ہونے والے ایشین شاٹ گن کپ میں سینیئر کیٹیگری کیلئے عثمان چاند اور جونیئر کیٹیگری کیلئے امام ہارون پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ پاکستان ایشیا شاٹ گن کپ شوٹنگ چیمپئن شپ کی میزبانی کرے گا جو 2023 میں مارچ میں لاہور میں ہوگی۔ رائفل ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکرٹری رضی احمد خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو پہلی بار ایشیاکپ کی میزبانی دی گئی ہے ۔

  • اسلام آباد کی عدالت نے عمران خان کو 28 فروری کو طلب کر لیا

    اسلام آباد کی عدالت نے عمران خان کو 28 فروری کو طلب کر لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کی عدالت نے عمران خان کو 28 فروری کو طلب کر لیا،

    اسلام آباد بینکنگ کورٹ نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں عمران خان کو 28 کو طلب کرلیا۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں عمران خان اور دیگر کے خلاف فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت ہوئی۔ عمران خان کی قانونی ٹیم کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے آرڈر کی کاپی عدالت میں پیش کی گئی،ایف آئی اے نے عمران خان کے طبی معائنہ کیلئے پمز یا پولی کلینک ہسپتال کا بورڈ بنانے کیلئے درخواست دائر کر دی درخواست میں ایف آئی اے نے عمران خان کا پولی کلینک یا پمز ہسپتال اسلام آباد سے طبی معائنہ کروانے کی استدعا کی ،عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی روشنی میں عمران خان کو 28 فروری کو پیش ہونے کا حکم دے دیا، عدالت نے کیس کی سماعت 28 فروری تک ملتوی کر دی

    دوسری جانب عمران خان کی ممکنہ اسلام آباد روانگی کے پیش نظر مشاورت کیلئے عمران خان نے زمان پارک میں اجلاس طلب کر لیا ،عمران خان کی بینکنگ کورٹ میں طلبی کے سبب اسلام آباد روانگی متوقع ہے عمران خان نے راولپنڈی سے اہم رہنماوں کو طلب کر لیا جس کے بعد غلام سرور اور واثق قیوم عباسی زمان پارک پہنچ گئے ہیں، گلگت بلتستان کے مشیر داخلہ شمش لون بھی عمران خان کی رہائش گاہ پہنچ گئے ہیں

  • پاکستان کے وڈیروں اور جاگیرداروں بارے تاریخی حقائق ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاکستان کے وڈیروں اور جاگیرداروں بارے تاریخی حقائق ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاکستان کے وڈیروں اور جاگیرداروں بارے تاریخی حقائق ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    برطانوی حکومت نے بھٹو خاندان کو اڑھائی لاکھ ایکڑ رقبہ کیوں عطاء کیا۔
    تجزیہ : شہزاد قریشی
    وطن عزیز کو درپیش موجودہ سیاسی ، اقتصادی اور مالیاتی حالات بلکہ مشکلات کا معروضی تجزیہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ان کا حقیقی سبب جاگیرداری کا وہ نظام ہے جس نے پاک سرزمین اور اس کے عوام کو کسی عفریت کی طرح اپنے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ حال ہی میں مجھے اس موضوع اور عنوان بارے جائزہ اور محاکمہ کا موقع میسر آیا تو حقیقی معنوں میں چشم کشا حقائق کا علم ہوا۔ مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ بھٹو خاندان جو بلاشبہ وطن عزیز کا سب سے با اثر، مقبول اور قابل ذکر سیاسی خاندان ہے ، اس کے بزرگوں نے برطانوی راج کے دوران غیر ملکی اور غاصب آقاؤں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا تھا۔ اس کا اندازہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ جب 1843ء میں چارلس نیپئر کی قیادت میں انگریزوں نے سندھ پر قبضہ کیا تو انہوں نے یہاں پر اپنا یہ قبضہ برقرار اور مضبوط رکھنے کے لیے علاقہ میں ٹیکس کی وصولی اور غریب عوام کے استحصال کے لیے ایک خاص طبقہ تشکیل دیا جس کے ذمہ ان غریب عوام سے لگان اور ٹیکس کی وصولی تھا۔اس طبقہ میں بھٹو خاندان بھی شامل ہوا۔ شاہنواز بھٹو لاڑکانہ (سندھ) سے تعلق رکھنے والے واحد سیاستدان تھے جو حکومت بمبئی کے مشیر اور مسلم ریاست جونا گڑھ کے دیوان بھی رہے۔ اس کے علاوہ وہ انگریزوں کی بمبئی پریذیڈنسی کے وزیر بھی تھے۔ شاہنواز بھٹو کی تعاون کی مذکورہ پالیسی کے نتیجہ میں ان کو برطانوی حکومت نے سر(Sir) اورسی آئی ای (CIE) کے خطابات دیئے۔ برطانوی حکومت نے ان کو اڑھائی لاکھ ایکڑ رقبہ بھی الاٹ کیا جس کے نتیجہ میں وہ سندھ بلکہ برصغیر کے سب سے بڑے جاگیر دار بن گئے۔ آج بھی یہ خاندان سکھر اور جیکب آباد کے علاقہ میں وسیع اراضی کا بلاشرکت غیرے مالک ہے۔

    یہ درست ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو ماضی کی طرح آج بھی وطن عزیز کے ایک مقبول اور عوامی سیاستدان تسلیم کیے جاتے ہیں اور ملک و قوم کے لیے نہ صرف ان کی بلکہ ان کی اہلیہ بیگم نصرت بھٹو ، صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو اور صاحبزادے میر مرتضیٰ بھٹو کی سیاسی خدمات تاریخی اعتبار سے نہایت معتبر ہیں لیکن اس افسوسناک حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ بھٹو خاندان نے ’’طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں ‘‘ کا نعرہ بلند کرنے کے باوجود موروثی سیاست کو ہی فروغ اور استحکام دیا۔ اس حوالہ سے یہ مثال ہی کافی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی موت کے بعد ان کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالی اور ایوان اقتدار تک رسائی حاصل کی۔ ان کے بعد ان کے شوہر آصف علی زرداری صدر مملکت کے عہدہ پر براجمان ہوئے اور اب ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری نے وزارت خارجہ کا وہ قلمدان سنبھال رکھا ہے جو کم و بیش 6عشرہ قبل موصوف کے نانا ، ذوالفقار علی بھٹو کے پاس رہا۔ برطانوی راج میں جاگیریں اور انعامات و اعزازات حاصل کرنے والے خاندان آج بھی ایک آزاد اور خود مختار قوم کی گردن پر سوار مشاہدہ کیے جاتے ہیں۔ اس حوالہ سے جنوبی پنجاب کے قریشی خاندان کے احوال آئندہ قسط میں بیان کیے جائیں گے۔

  • ریاست کیلیےآئی ایم ایف کی کڑی شرائط ماننے کیلیے تیار ہیں،وزیراعظم

    ریاست کیلیےآئی ایم ایف کی کڑی شرائط ماننے کیلیے تیار ہیں،وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ 3فروری کے بعد ایپکس کمیٹی کا یہ دوسرا اجلاس ہے،

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں کچھ اہم فیصلے کیے گئے ہیں،کراچی میں پولیس اور رینجرز نے دہشتگردوں کا بہادری سے مقابلہ کیا،آرمی پبلک اسکول سانحہ کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنا،پشاور کے بعد کراچی میں دہشتگردی کاافسوسناک پیش آیا،نوازشریف نے اس وقت نیشنل ایکشن پلان پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا،نیشنل ایکشن پلان پر تمام جماعتوں کو دعوت دی،کچھ لوگوں کی ابھی بھی کوشش ہےکہ ملکی معاملات سڑکوں پر حل ہوں،پاکستان اس وقت معاشی چیلنجز کاشکار ہے،کچھ دنوں میں آئی ایم ایف سے معاہدہ ہو جائے گا،حکومتی اتحادیوں نے اپنی سیاست کو چھوڑ کر ریاست کو بچایا،ریاست کے لیے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ماننے کے لیے تیار ہیں،اپنے گھر کے حالات خود درست کرنا ہوں گے،اگر ہم اپنے حالات خود ٹھیک نہیں کریں گے تو کوئی ہماری مدد کو نہیں آئے گا،پاکستان کو مشکل حالات سے ہم نے بچایا،سب سیاسی جماعتوں نے اپنی سیاست داؤ پر لگائی ہے،

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی استحکام ہر لحاظ سے مقدم ہے، ہم نے پاکستان کیلئے قربانیاں دی ہیں اپنی انا اور پسند اور ناپسند کو الگ رکھ کر مل کر کام کرنا ہے، ہم نے پاکستان کو مشکلات سے بچایا اور اس طرف لے گئے جو پاکستان کا خواب تھا، ایک دوست ملک انتظار میں ہے کہ ہمارا آئی ایم ایف سے معاہدہ ہو جائے تو وہ فوری مدد کرے اگر ہم اپنے گھر کے حالات خود درست نہیں کریں گے تو کوئی دوسرا مدد کو نہیں آئے گا،

    فردوس عاشق نے اپنے حلقہ انتخاب میں کیا کارنامہ سرانجام دیا، تہلکہ خیز انکشاف

    مشیر نہیں بلکہ جہنم میں تھی، فردوس عاشق اعوان کی ایک بار پھر گندی گالیاں

    شوکت خانم کے فنڈز سے نجی ہاؤسنگ پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کی گئی، عمران خان کا اعتراف

    فردوس عاشق کالہجہ تلخ تھا،مگرسرکاری ملازم صاحبہ کا ڈیوٹی سےچلےجانا،تکبر،انااورافسرشاہی نہیں تواورکیاہے

  • بچوں کو سکول چھوڑنے والی سرکاری گاڑی بارکھان سیکنڈل کے مرکزی ملزم کے بیٹے کی ملکیت

    بچوں کو سکول چھوڑنے والی سرکاری گاڑی بارکھان سیکنڈل کے مرکزی ملزم کے بیٹے کی ملکیت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں بچوں کو چھوڑنے والی سرکاری گاڑی بارکھان سیکنڈل کے مرکزی ملزم عبدالرحمان کھیتران کے بیٹے عبدالروف کھیتران کی نکلی

    باغی ٹی وی نے گاڑی کی تفصیلات حاصل کر لیں،باغی ٹی وی نے گزشتہ روز سرکاری گاڑی کے حوالہ سے بتایا تھا کہ عسکری الیون میں سرکاری گاڑی پر بچوں کو سکول میں پک اینڈ ڈراپ کی سروس دی جا رہی ہے، کالے رنگ کی گاڑی پر نیلی بتی اور سبز نمبر پلیٹ تھی،گاڑی کا نمبر lea 6173 تھا ،باغی ٹی وی کو ملنے والی تفصیلات کے مطابق گاڑی کا مالک بارکھان سیکنڈل کا مرکزی ملزم عبدالرحمان کھیتران کا بیٹا عبدالرؤف شاہ کھیتران ہے،گاڑی کی آخری ادائیگی 14 جون 2022 کو 28 ہزار 780 روپے کی گئی، گاڑی کی رجسٹریشن 30 جنوری 2019 میں ہوئی

    عوامی حلقوں نے سرکاری گاڑی میں سکول کے بچوں کو چھوڑے جانے پر سوالات اٹھائے تھے ،گاڑی کے مالک کا نام سامنے آنے پر عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ گاڑی کے مالک کے خلاف فوری کاروائی ہونی چاہئے، قانون سے بالا تر کوئی نہیں، باپ کے بعد بیٹے نے بھی قانون کو روندنا شروع کر دیا ہے، وزیراعظم کفایت شعاری کی پالیسی کا اعلان کرتے ہیں تو دوسری جانب سرکاری گاڑیوں کا بے جا استعمال کرنیوالوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہو رہی

  • پی ایس ایل کے لاہور میچز، پی سی بی ،فرنچائزز کا پنجاب حکومت کو الٹی میٹم

    پی ایس ایل کے لاہور میچز، پی سی بی ،فرنچائزز کا پنجاب حکومت کو الٹی میٹم

    نجم سیٹھی کی زیر صدارت پی ایس ایل سے متعلق اجلاس ختم ہو گیا

    لاہور:اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی تمام فرنچائزز نے پی سی بی کے فیصلے کی تائید کی ،پی ایس ایل قومی ایونٹ ہے،پی سی بی اور فرنچائزز ایک پیج پر آ گئے،اجلاس میں کہا گیا کہ اس میں سکیورٹی اور لائٹوں کی مد میں اتنی خطیر رقم نہیں دی جاسکتی ،45 کروڑ کی خطیر رقم پنجاب گورنمنٹ کو ادا نہیں کی جائے گی، پی سی بی اور فرنچائزز نے نگران پنجاب حکومت کو فیصلے کیلئے کل تک کی ڈیڈلائن دے دی، نگران پنجاب حکومت کل تک 45 کروڑ کی ڈیمانڈ سےباز نہ آئی تو پی ایس ایل کے بقیہ میچز کراچی منتقل کر دیے جائیں گے اگر نگران حکومت نے پی سی بی کا موقف نہ اپنایا تو نیوزی لینڈ کے میچز بھی کراچی منتقل کیے جائیں گے

  • بھتیجے نے تیز دھار آلے سے اپنی تین پھوپھیوں کو قتل کر ڈالا

    بھتیجے نے تیز دھار آلے سے اپنی تین پھوپھیوں کو قتل کر ڈالا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے شہر بہاولپور میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، بھتیجے نے تیز دھار آلے سے اپنی تین پھوپھیوں کو قتل کر ڈالا

    واقعہ کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا، پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، ملزم وسیم شاہ سیکورٹی گارڈ کی ملازمت کرتا ہے، ترجمان پولیس کے مطابق مقتول خواتین کی شناخت شمیم مائی، پروین مائی اور شاہین بی بی کے طور پر ہوئی، تینوں خواتین سگی بہنییں ہیں اور انکو قتل کرنے والا انکا بھتیجا ہے،پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا ہے

    بہاولپور علاقہ تھانہ سول لائن میں تہرے قتل کی واردات ۔ ڈی پی او بہاولپور کا نوٹس آدھے گھنٹے میں ملزم گرفتارکر کے آلہ قتل برآمد کر لیا گیا، ڈی پی او کا کہنا ہے کہ سنگین جرم میں ملوث ملزم کو ہر صورت کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ ترجمان پولیس کے مطابق پولیس کو ریسکیو 15 پر اطلاع ملی کہ ایک شخص نے تین قتل کردیئے ہیںپولیس نے اطلاع ملتے ہی فوری موقع پر پہنچ کر کاروائی کا آغاز کر دیا۔ ملزم وسیم مراد نے اپنی سگی تین پھوپھیوں کو تیز دھار آلے سے قتل کر دیا

    ڈی پی او بہاولپور نے معاملے کا سختی سے نوٹس لیا۔کرائم سین کو پراسیس کیا جا رہا ہے تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس نے آدھے گھنٹے میں ملزم وسیم مراد کو گرفتار کرتے ہوئے آلہ قتل برآمد کر لیا۔ڈیڈ باڈیز کو ہسپتال منتقل کر کے پوسٹ مارٹم کروایا جا رہا ہے۔ وجہ عناد ابھی تک واضح نہ ہے مزید تفتیش جاری ہے۔ ملزم کو معیاری تفتیش کرتے ہوئے ہر صورت کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔لواحقین کے دکھ کا مداوا ملزم کو سزا دلوا کر کیا جائے گا۔

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    گھر میں گھس کر خاتون سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سابق پولیس ملازم گرفتار

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش