Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • عوام کی زندگی بدلنے کے لیے آخر کیا کیا گیا؟،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عوام کی زندگی بدلنے کے لیے آخر کیا کیا گیا؟،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی سیاسی و مذہبی قیادت کے نام ایک سوال اقتدار کی سیاست بہت ہو گئی، عوام کی زندگی بدلنے کے لیے آخر کیا کیا گیا؟

    عوام کو نعروں، الزامات اور اقتدار کی کشمکش نہیں بلکہ دیانت، انصاف، روزگار، تعلیم، صحت، سستی بجلی و گیس اور عملی خدمت درکار ہے

    سیاست ہو یا مذہب، رسول ﷺ کی تعلیمات کردار، دیانت اور خدمتِ خلق کا درس دیتی ہیں، اقتدار اور مفاد پرستی کا نہیں

    پاکستان اسی دن حقیقی معنوں میں مضبوط ہوگا جب قیادت اپنے حقوق سے پہلے اپنی ذمہ داری، جوابدہی اور عوامی خدمت کو اپنا شعار بنا لے گی۔

    تجزیہ شہزاد قریشی

    یہ سرزمین کسی فرد، جماعت یا خاندان کی جاگیر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ امانت ہے، اور اس پر بسنے والے کروڑوں عوام اس امانت کا اصل سرمایہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ برسوں سے اقتدار، سیاست، مذہب اور جمہوریت کے نام پر عوام سے وعدے کرنے والوں نے عام آدمی کی زندگی بہتر بنانے کے لیے عملی طور پر کیا کردار ادا کیا ہے؟ سیاسی جماعتوں سے پوچھا جانا چاہیے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری، بجلی، گیس، تعلیم، صحت اور انصاف جیسے بنیادی مسائل سے نجات دلانے کے لیے ان کی حقیقی خدمات کیا ہیں؟ ہر روز بیانات، الزامات اور سیاسی کشمکش تو نظر آتی ہے، مگر عام شہری کی زندگی میں آسانی کہاں پیدا ہوئی؟ اسی طرح مذہبی جماعتوں سے بھی ایک اہم سوال ہے۔

    رسول اکرم ﷺ کا واضح فرمان ہے: "جو ملاوٹ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں۔” کیا اس حدیث پر عمل درآمد کے لیے کوئی مؤثر تحریک چلائی گئی؟ کیا بازاروں، کاروباری مراکز اور اپنے زیرِ اثر علاقوں میں دیانت داری، امانت اور خالص تجارت کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات کیے گئے؟ افسوس یہ ہے کہ اکثر مذہب کو خدمتِ خلق کے بجائے اقتدار کے حصول کا ذریعہ بنا دیا جاتا ہے، جبکہ دین کا اصل مقصد انسانیت کی اصلاح اور معاشرے میں انصاف کا قیام ہے۔ آج عالمی سطح پر پاکستان کی سیاست اور جمہوری رویوں پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام، ذاتی مفادات، انا پرستی اور اقتدار کی کشمکش نے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

    دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستانی سیاست کا ذکر اکثر ایک سنجیدہ قومی ماڈل کے طور پر نہیں بلکہ ایک مسلسل بحران کے طور پر کیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال ہر محب وطن پاکستانی کے لیے لمحۂ فکریہ ہونی چاہیے مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات ہیرو بننے کی خواہش میں ایسے قومی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے جو ریاستی استحکام اور قومی سلامتی کے ستون سمجھے جاتے ہیں تنقید ہر جمہوری معاشرے کا حق ہے، مگر تنقید اور تضحیک میں فرق ہوتا ہےقومی مفاد کو ذاتی یا جماعتی مفاد پر قربان کرنا کسی بھی ذمہ دار قیادت کا شیوہ نہیں ہونا چاہیے۔

    استحقاق اور اختیار کا مطالبہ کرنے والوں سے بھی سوال بنتا ہے کہ استحقاق کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟ کیا استحقاق اس بات کا نام ہے کہ عوام کے مسائل نظر انداز کر دیے جائیں، احتساب سے بالاتر سمجھا جائے اور تنقید کو اپنی توہین قرار دے دیا جائے؟ حقیقی استحقاق تو خدمت، دیانت، جوابدہی اور کردار سے حا صل ہوتا ہے، نہ کہ بلند عہدوں اور طاقت کے مظاہروں سے، وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی اور مذہبی قیادت اپنے اپنے گریبان میں جھانکے، قوم کو نعروں، الزام تراشیوں اور محاذ آرائی سے زیادہ کردار، بصیرت اور خدمت کی ضرورت ہے۔

    عوام کو بجلی، گیس، روزگار، تعلیم، صحت اور انصاف چاہیے؛ انہیں تقریروں اور دعوؤں سے زیادہ عملی اقدامات درکار ہیں خدا کا خوف کیجیے، اس ملک پر رحم کیجیے، اس قوم پر رحم کیجیے، اقتدار، شہرت اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچیے کہ تاریخ آپ کے کردار کے بارے میں کیا فیصلہ دے گی۔ قومیں نعروں سے نہیں، کردار، دیانت اور خدمت سے بنتی ہیں پاکستان بھی اسی دن مضبوط ہوگا جب قیادت اپنے حقوق سے پہلے اپنی ذمہ داریوں کو یاد رکھے گی۔

  • ایران نواز عراقی ملیشیا کا ٹرمپ کے قتل پر ایک کروڑ ڈالر انعام کا اعلان

    ایران نواز عراقی ملیشیا کا ٹرمپ کے قتل پر ایک کروڑ ڈالر انعام کا اعلان

    ایران سے قریبی تعلق رکھنے والی عراقی ملیشیاؤں کے اتحاد ’اسلامک ریزسٹنس اِن عراق‘ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل پر ایک کروڑ ڈالر (10 ملین ڈالر) انعام دینے کا اعلان کیا ہے-

    یہ اعلان ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے ایک بار پھر ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا رہنما ابو مہدی المہندس کی ہلاکت میں اپنے کردار کا ذکر کیا تھا ایران نواز عراقی ملیشیاؤں کے اتحاد ’اسلامک ریزسٹنس اِن عراق‘ (آئی آر آئی) نے اعلان کیا ہے کہ جو بھی شخص امریکی صدر ڈو نلڈ ٹرمپ کو قتل کرے یااس کارروائی میں مالی یا عملی معاونت فراہم کرے گااسے ایک کروڑ ڈالر انعام دیا جائے گا، ملیشیا نے دعویٰ کیا کہ یہ رقم اس کے ارکان اور حامیوں کے عطیات سے جمع کی گئی ہے، تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

    یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں عراقی وزیراعظم علی الزیدی سے ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے 2020 میں بغداد کے قریب امریکی ڈرون حملے میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی پاپولر موبلائزیشن فورسز کے نا ئب سربراہ ابو مہدی المہندس کی ہلاکت کا دوبارہ حوالہ دیا تھا۔

    اسلامک ریزسٹنس اِن عراق دراصل ایران کی حمایت یافتہ شیعہ مسلح گروہوں کا ایک اتحاد ہے، جس میں کتائب حزب اللہ، حرکۃ حزب اللہ النجباء، عصائب اہل الحق اور دیگر تنظیمیں شامل ہیں، امریکا ان گروہوں پر عراق، شام اور خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں، سفارتی مراکز اور اتحادیوں پر متعدد راکٹ، ڈرون اور میزائل حملوں کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق ان ملیشیاؤں کو ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس سے مالی، عسکری اور لاجسٹک معاونت حاصل ہے، جبکہ بعض گروہوں پر سرحدی گزرگاہوں، کاروباری سرگرمیوں، اسمگلنگ نیٹ ورکس اور سرکاری وسائل سے مالی فوائد حاصل کرنے کے بھی الزامات ہیں، ادھر امریکی حکام ماضی میں بھی دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ایران سے منسلک عناصر نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے ٹرمپ کو نشانہ بنا نے کی کوشش کی، تاہم تہران ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔

    یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر چکی ہےحالیہ ہفتوں میں امریکا نے ایران پر فوجی دباؤ اور پابندیاں مزید سخت کی ہیں، جبکہ ایران سے وابستہ گروہوں نے عراق، شام، لبنان اور یمن میں امریکی مفادات کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

  • پاکستانی کمپنیوں کی سعودی عرب میں سرمایہ کاری، 12 ایم او یوز پر دستخط

    پاکستانی کمپنیوں کی سعودی عرب میں سرمایہ کاری، 12 ایم او یوز پر دستخط

    اسلام آباد میں منعقدہ ’سعودی کمپنی فارمیشن اور بزنس ایکسٹینشن سمٹ 2026‘ کے دوران پاکستان کی 12 کمپنیوں اور سعودی عرب کے الراعی گروپ کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے گئے، جن کے تحت پاکستانی کمپنیاں سعودی عرب میں سرمایہ کاری اور کاروبار کا آغاز کریں گی۔

    اسلام آباد میں الراعی گروپ کے زیر اہتمام منعقدہ ’سعودی کمپنی فارمیشن اور بزنس ایکسٹینشن سمٹ 2026‘ سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے کہا کہ سعودی وژن 2030 پاک سعودی تجارتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا اہم موقع فراہم کر رہا ہے پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات ایمان، باہمی اعتماد اور مشترکہ ترقی کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں، جبکہ سعود ی وژن 2030 نےعالمی سرمایہ کاری اورنجی شعبے کےفروغ کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں،جن سےپاکستانی کاروباری برادری بھرپور استفادہ کرسکتی ہے۔

    ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے الراعی گروپ اور مملکت سعودی عرب کو کامیاب سمٹ کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ تقریب دونوں ممالک کے درمیان معاشی روابط، تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی ایک اہم پیش رفت ہے انہوں نے یقین دلایا کہ سینیٹ اور حکومت پاکستان معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔

    الراعی گروپ کے چیئرمین بلال ایم زبیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی وژن 2030 کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو 100 فیصد ملکیتی حقوق، آسان بینکاری سہولیات اور کم از کم سرمائے کی شرط کے بغیر کاروبار شروع کرنے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے پاکستان کی کوئی بھی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی یا پارٹنرشپ فرم، جو کم از کم ایک سال سے فعال ہو، مطلوبہ دستاویزات جمع کرا کے سعودی عرب کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت کا حصہ بن سکتی ہے۔

    صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نجی شعبے کے درمیان روابط مضبوط بنانے پر زور دیا اور پاک سعودی تجارتی تعلقات کے فروغ میں الراعی گروپ کے کردار کو سراہاسمٹ میں سفارت کاروں، سرمایہ کاروں اور ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    تقریب کی نمایاں کامیابی پاکستان کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی 12 ممتاز کمپنیوں اور سعودی عرب کے الراعی گروپ کے درمیان مفاہمتی یادد ا شتوں (ایم او یوز) پر دستخط تھے، جن کے تحت پاکستانی کمپنیاں سعودی عرب میں سرمایہ کاری اور اپنے کاروبار کا آغاز کریں گی شرکا نے اس پیشرفت کو دو نوں برادر ممالک کے درمیان طویل المدتی اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔

  • اسحاق ڈار اور انڈونیشی وزیر اقتصادی امور کی ملاقات

    اسحاق ڈار اور انڈونیشی وزیر اقتصادی امور کی ملاقات

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر انڈونیشیا کے رابطہ کار وزیر برائے اقتصادی امور ایرلنگا ہرتارتو سے ملاقات کی-

    ملاقات میں پاک۔انڈونیشیا تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، ترجیحی شعبوں میں تعاون بڑھانے اور دسمبر 2025 میں انڈونیشی صدر کے دورۂ پاکستان کے دوران طے پانے والے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بتایا کہ شنگھائی میں عا لمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر انڈونیشیا کے رابطہ کار وزیر برائے اقتصادی امور ایرلنگا ہرتارتو سے خوشگوار ملاقات ہوئی

    انہوں نے کہا کہ ملاقات میں پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف ترجیحی شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا،دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور کثیرالجہتی امور پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

    اسحاق ڈار کے مطابق ملاقات میں دسمبر 2025 میں انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو کے تاریخی دورۂ پاکستان کے دوران ہونے والی پیش رفت، اقتصادی و ترقیاتی نتائج اور طے شدہ مفاہمتوں پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا گیادونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان طے پانے والے فیصلوں کو عملی شکل دے کر دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔

  • گوادر پورٹ پر پہلی بار تجارتی بنکرنگ سروس کا آغاز

    گوادر پورٹ پر پہلی بار تجارتی بنکرنگ سروس کا آغاز

    گوادر پورٹ نے کئی دہائیوں بعد پہلی مرتبہ کامیاب تجارتی جہازی ایندھن (بنکرنگ) آپریشن مکمل کر لیا، جس کے ساتھ ہی پاکستان نے بین الاقوامی معیار کی میرین فیول سروسز فراہم کرنے والے ممالک کی صف میں شمولیت اختیار کر لی۔

    جولائی 2026 میں گوادر پورٹ نے پاکستان کی تاریخ کا پہلا کامیاب تجارتی جہازی ایندھن (Ship Bunkering) آپریشن مکمل کرتے ہوئے ملکی بحری شعبے میں ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا، اس آپریشن کے دوران گوادر پورٹ سے ایل این جی بردار جہاز ’اینوگو‘ کو بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے معیار کے مطابق تیار کردہ 2,500 میٹرک ٹن ویری لو سلفر فیول آئل فراہم کیا گیا۔

    یہ ایندھن پاکستان کی نجی توانائی کمپنی سینیرجیکو پی کے لمیٹڈ نے تیار کیا، جس سے پاکستان کی عالمی معیار کی میرین فیول سروسز فراہم کرنے کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ ہوا،یہ کامیابی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے فلیگ شپ منصوبے گوادر پورٹ کی ترقی میں ایک اہم پیشرفت قرار دی جا ر ہی ہے، جس کے بعد گوادر محض ایک بندرگاہ نہیں بلکہ مکمل بحری، تجارتی، لاجسٹک اور توانائی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس اقدام سے گوادر پورٹ کی خطے میں اسٹریٹجک اہمیت مزید بڑھے گی اور پاکستان علاقائی تجارت، ٹرانزٹ اور لاجسٹکس کے ایک مؤثر گیٹ وے کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کر سکے گا، تجارتی بنکرنگ سروس کے آغاز سے بین الاقوامی بحری جہازوں کی گوادر آمد میں اضافہ متوقع ہے، جس سے بندرگاہ کی آمدنی بڑھے گی، قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان کی بحری تجارت اور علاقائی توانائی سپلائی چین میں کردار مزید مستحکم ہوگا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ پر بین الاقوامی معیار کی ایندھن فراہمی کی سہولت دستیاب ہونے سے عالمی شپنگ کمپنیاں اس بندرگاہ کو ترجیح دے سکیں گی، جس سے پاکستان کی بحری مسابقت میں نمایاں اضافہ ہوگا اور گوادر پورٹ کو خطے کے اہم میری ٹائم اور لاجسٹک مرکز میں تبدیل کرنے کے حکومتی وژن کو عملی تقویت ملے گی۔

  • قانون کی خلاف ورزی:معروف ٹک ٹاکر اختر لاوا کے خلاف مقدمہ درج

    قانون کی خلاف ورزی:معروف ٹک ٹاکر اختر لاوا کے خلاف مقدمہ درج

    لاہور کے علاقے سبزہ زار میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور سرکاری فرائض میں مداخلت کے الزام میں معروف ٹک ٹاکر اختر لاوا کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔

    ٹریفک پولیس کے مطابق کریم مارکیٹ سے کھاڑک نالہ جانے والے ون وے روڈ پر ڈیوٹی کے دوران ایک کار کو روکا گیا جو مبینہ طور پر ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ون وے میں داخل ہوئی تھی پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی کو چالان کے لیے روکا گیا،گاڑی روکنے پر ڈرائیور نے برہمی کا اظہار کیا اور موقع پر موجود ٹریفک وارڈنز کی ویڈیو بنانا شروع کر دی، صورتحال کے پیش نظر مزید نفری طلب کی گئی تاہم ملزم اپنا موبائل فون موقع پر چھوڑ کر فرار ہوگیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ بعد ازاں ملزم کی شناخت معروف ٹک ٹاکر اختر لاوا کے نام سے ہوئی جس کے خلاف ٹریفک پولیس کی مدعیت میں تھانہ سبزہ زار میں ون وے کی خلاف ورزی اور سرکاری امور میں مداخلت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔

  • ’اپنی چھت، محفوظ چھت‘ پروگرام ،پنجاب حکومت کا شہریوں کو 5 لاکھ روپے تک بلاسود قرض دینے کا اعلان

    ’اپنی چھت، محفوظ چھت‘ پروگرام ،پنجاب حکومت کا شہریوں کو 5 لاکھ روپے تک بلاسود قرض دینے کا اعلان

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا کہ ہر انسان کا خواب ہوتا ہے کہ اس کا اپنا گھر ہو، کیونکہ اپنا گھر مکینوں کو تحفظ اور اطمینان کا احساس دلاتا ہے۔

    پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے لاہور کے علاقے کاہنہ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، کہا کہ وہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے والدین کے درد کو بخوبی سمجھتی ہیں اور اس المناک سانحے پر شدید غمزدہ ہیں امید ہے کہ اس پروگرام کے آغاز کے بعد پنجاب بھر میں کسی خاندان کے گھر کی چھت کمزور نہیں رہے گی کہ اس کی خوشیاں چھین سکے۔

    مریم نواز شریف نے بتایا کہ حکومت پنجاب ’اپنی چھت، محفوظ چھت‘ پروگرام کے تحت شہریوں کو 5 لاکھ روپے تک بلاسود قرض فراہم کر رہی ہے،ان کے مطابق، یہ قرض 9 سال کی مدت کے لیے دیا جائے گا تاکہ کم آمدنی والے خاندان آسان شرائط پر اپنے گھر کا خواب پورا کر سکیں حکومت کا مقصد عام شہریوں کو رہائش کی بہتر سہولتیں فراہم کرنا اور انہیں باعزت زندگی گزارنے کے مواقع دینا ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پنجاب حکومت عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو ترجیح دیتے ہوئے ایسے اقدامات جاری رکھے گی جو عام آدمی کی زندگی میں حقیقی بہتری لا سکیں۔

  • کراچی بندرگاہ پر پاکستان کی پہلی رورو شپمنٹ سے 2 ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیاں پہنچ گئیں

    کراچی بندرگاہ پر پاکستان کی پہلی رورو شپمنٹ سے 2 ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیاں پہنچ گئیں

    وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری کی کاوشیں رنگ لے آئیں،پاکستان کی پہلی رورو شپمنٹ سے 2 ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیاں کراچی پہنچ گئیں-

    وزارتِ بحری امور کے مطابق، الیکٹرک گاڑیوں سے لدا ہوا مخصوص بحری جہاز ‘ایم وی گرینڈے شنگھائی’ کراچی پورٹ کے کے جی ٹی ایم ایل ٹرمینل پر کامیابی سے لنگرانداز ہو گیا ہے۔

    اس تاریخی موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ بحری امور جنید انوار چوہدری نے کہا کہ رورو (Ro-Ro) جہاز کے ذریعے پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پاکستان کی بحری اور تجارتی تاریخ میں ایک انقلابی قدم ہے کراچی پورٹ پر پہلی رورو ای وی شپمنٹ کا پہنچنا ہماری بحری تجارت کی ترقی اور جدید خطوط پر استواری کی واضح دلیل ہےرورو جہاز کے ذریعے پہلی بار الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد تاریخی سنگ میل ہے –

    انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ رورو (Roll-on/Roll-off) ایسے جدید ترین بحری جہاز ہوتے ہیں جن پر گاڑیوں کو روایتی کرینوں کے ذریعے اٹھانے کے بجائے ریمپ کی مدد سے براہِ راست چلا کر لوڈ اور ان لوڈ کیا جاتا ہے اس ٹیکنالوجی سے نہ صرف وقت کی بڑی بچت ہوتی ہے بلکہ قیمتی گاڑیوں کے محفوظ ترین طریقے سے بندرگاہ پر اترنے کی ضمانت بھی ملتی ہے۔

    وفاقی وزیر نے عزم کا اظہار کیا کہ موجودہ حکومت بندرگاہوں کو جدید ترین سہولیات سے آراستہ کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے ان جدید سفارتی و تجارتی کوششوں سے پاکستان کی مجموعی تجارتی صلاحیت مزید مستحکم ہوگی اور کراچی پورٹ دنیا بھر کے جدید ترین شپنگ نیٹ ورک کا اہم مرکز بن کر ابھرے گا۔

  • افغان سرحدی راستوں سے ہمسایہ ممالک میں منشیات کی اسمگلنگ

    افغان سرحدی راستوں سے ہمسایہ ممالک میں منشیات کی اسمگلنگ

    افغانستان میں منشیات اسمگلنگ اوردہشتگرد عناصرکی موجودگی نےخطے کے امن واستحکام کوخطرات سے دوچارکردیا۔

    تاجک سیکیورٹی فورسزنے کریک ڈاون کے دوران گرفتار افغان منشیات اسمگلرزسے متعلق تفصیلات جاری کردیں،تاجکستان سے منسلک افغان سرحدی علاقے منشیات اسمگلنگ کے اہم ترین راستے بن چکے ہیں-

    افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق تاجک سیکیورٹی فورسز نے رواں سال سرحدی علاقوں میں17 افغان اسمگلرز ہلاک جبکہ 18 گرفتار کیے ،گرفتارکیے گئے 18 افغان اسمگلرز سے 601 کلوگرام سے زائد منشیات برآمد کی گئی –

    رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں افغان سرحد پر مجموعی طور پر ایک ٹن اور 513 کلوگرام منشیات ضبط کی گئی، افغانستان میں تاحال منشیات اور مصنوعی منشیا ت بنانے والی لیبارٹریاں فعال ہیں،2025 میں افغان سرحد پر2 ہزار742 کلوگرام منشیات ضبط ہوئیں جو 2024 کے مقابلے میں50 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔

  • بھارتی ریاست منی پورمیں ایک بار پھر عوام اورسیکیورٹی فورسز آمنے سامنے

    بھارتی ریاست منی پورمیں ایک بار پھر عوام اورسیکیورٹی فورسز آمنے سامنے

    مودی سرکارکی ناکام اورناقص پالیسیوں کے باعث منی پورمیں حالات روزبروزمزید سنگین شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

    بھارتی جریدے نےمنی پور میں امن وامان کی خراب صورتحال کوآشکار کردیا، منی پورکے ضلع سیناپتی میں سرچ آپریشن کے بعدہجوم کا آسام رائفلز کیمپ پر حملہ،متعدد گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا،مظاہرین نے آسام رائفلز کی عمارت پرپتھراؤکیا،احاطےمیں توڑپھوڑ کی اور3گاڑیوں کو آگ لگائی، ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے سیکیو رٹی فورسزکی جانب سے آنسوگیس کے شیل بھی فائر کیےگئے۔

    بھارتی جریدہ دی اکنامک ٹائمزکے مطابق گزشتہ دس دنوں میں آسام رائفلز پریہ تیسرا حملہ ہے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کےمطابق بی جے پی حکومت منی پور میں انسانی حقوق کے تحفظ اور تشدد کوروکنے میں مکمل طورپرناکام ہوچکی ہے منی پورمیں سیکیورٹی فورسز پربڑھتے حملے مودی سرکار اورسیکیورٹی اداروں کیخلاف عوامی بیزاری اور کھلے عدم اعتماد کا عکاس ہیں۔