Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • سوشانت سنگھ کا پوسٹ مارٹم کرنیوالی ٹیم کے رکن کے تہلکہ خیز دعوے

    سوشانت سنگھ کا پوسٹ مارٹم کرنیوالی ٹیم کے رکن کے تہلکہ خیز دعوے

    بالی ووڈ اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کے کیس میں ایک بار پھر نئے دعوے سامنے آ گئے-

    سوشانت سنگھ راجپوت کے پوسٹ مارٹم میں شامل رہنے والے روپ کمار شاہ نے ایک گفتگو کے دوران ایسے انکشافات کا دعویٰ کیا ہے جنہوں نے اداکار کی موت سے متعلق پرانے سوالات کو دوبارہ نمایاں کردیا ہےروپ کمار شاہ کے مطابق سوشانت سنگھ راجپوت کو پھانسی دینے سے قبل مبینہ طور پر 2 سے 3 مرتبہ گلا دبایا گیا تھا، سوشانت کے جسم پر گلا گھونٹے جانے کے واضح نشانات موجود نہیں تھے، تاہم آنکھوں پر پائے جانے والے زخم بھی اس با ت کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ معاملہ محض خودکشی تک محدود نہیں تھا۔

    پوسٹ مارٹم ٹیم کے رکن نے مزید دعویٰ کیا کہ سوشانت کی گردن کے بائیں جانب کسی آلے کے ذریعے 3 سے 4 مرتبہ زخم پہنچائے گئے تھے ان زخموں کی گہرائی تقریباً 2 سے 3 ملی میٹر تھی،روپ کمار شاہ نے اپنے دعوے کی بنیاد پر سوال اٹھایا کہ اگر یہ محض خودکشی کا واقعہ تھا تو گردن پر ایسے زخم کیسے آئے۔

    روپ کمار شاہ نے پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار سے متعلق بھی سنگین دعویٰ کیا،ان کے مطابق سوشانت کا پوسٹ مارٹم رات کے وقت کرنے کے لیے ٹیم پر دباؤ ڈالا گیا، جبکہ سابق ممبئی پولیس افسرسچن وازے نے انہیں اگلی صبح پوسٹ مارٹم کرنے کے بجائے اسی رات کارروائی مکمل کرنے پر مجبور کیا۔

    ان کا دعویٰ ہے کہ واقعے کے بعد انہیں تقریباً 15 روز تک حراست میں رکھا گیا اور مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا،انہیں ٹائر کے اندر ڈال کر بھی مارا جاتا تھا، جبکہ ماسک پہنے متعدد افراد ان کے پاس آتے اور انہیں دھمکیاں دیتے تھے-

    روپ کمار شاہ نے اداکارکی سابق منیجر دیشا سالیان کی موت سے متعلق بھی بعض دعوے کیے ان کے مطابق دیشا سالیان کے پوسٹ مارٹم میں شامل ایک ساتھی نے انہیں بتایا تھا کہ دیشا کے جسم پر متعدد زخم اور نشانات موجود تھے جبکہ ہونٹوں، کانوں اور سینے پر بھی کٹ کے نشانات پائے گئے تھے، دیشا سالیان کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اوراس مبینہ واقعے میں 5 سے 6 افراد ملوث تھے تاہم یہ تمام دعوے روپ کمار شاہ کی جانب سے کیے گئے ہیں اور ان کی آزادانہ طور پر تصدیق اس متن میں موجود نہیں۔

    سوشانت سنگھ راجپوت 14 جون 2020 کو ممبئی میں اپنے اپارٹمنٹ میں مردہ پائے گئے تھے، ان کی موت کے بعد خودکشی، قتل اور دیگر پہلوؤں کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں سامنے آتی رہی ہیں، اداکار کی موت نے بھارت بھر میں بڑے پیمانے پر بحث کو جنم دیا تھا اور معاملے کی تحقیقات مختلف اداروں نے بھی کی تھیں۔

    واضح رہے کہ سوشانت سنگھ راجپوت 14 جون 2020ء کو ممبئی کے علاقے باندرہ میں واقع اپنے فلیٹ میں مردہ پائے گئے تھے، 34 سالہ اداکارکی موت نے بھارت میں مختلف سوالات کو جنم دیا،اس سے قبل 8 جون 2020ء کو سوشانت کی سابق منیجردیشا سالیان بھی ممبئی کے علاقے مالاد میں ایک عمار ت کی 14ویں منزل سے گرنے کے بعد ہلاک ہوئی تھیں۔

  • حمیرا بانو اور عثمان پیرزادہ نے شادی کی افواہوں کی تردید کردی

    حمیرا بانو اور عثمان پیرزادہ نے شادی کی افواہوں کی تردید کردی

    سینئر پاکستانی اداکارہ حمیرا بانو نے سوشل میڈیا پر اپنی شادی کی خبر دی تھی لیکن اپنے شوہر کا چہرہ نہیں دکھایا تھا اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ سوشل میڈیا پیجز اور یوٹیوب چینلز نے یہ افواہ پھیلا دی کہ حمیرا بانو نے کسی اور سے نہیں بلکہ اپنے ہی ساتھی اور سینئر اداکار عثمان پیرزادہ سے شادی کر لی ہے-

    اس جھوٹی خبر کے تیزی سے پھیلنے کے بعد عظمیٰ طاہر کے ساتھ ایک ویڈیو کال کے دوران سینئر اداکار عثمان پیرزادہ نےتمام افواہوں کی سخت تردید کی انہوں نے بتایا کہ آپ لوگ سوشل میڈیا کو بہتر جانتے ہیں، میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ پچھلے50 سالوں سے میری ایک ہی بیوی ہے اور میں دعا کرتا ہوں کہ وہ اگل50 سال تک میری ی بیوی رہے۔

    عثمان پیرزادہ نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ لوگ صرف پیسے اور زیادہ کلکس حاصل کرنے کے لیے کیوں جھوٹ پھیلاتے ہیں، میرا اور حمیرابانو کا نام آپس میں جوڑنے کے پیچھے کیا مقصد تھا مجھے کچھ معلوم نہیں،اس بات سے ہمارا تو کوئی نقصان نہیں ہوا لیکن ہمارے مداح ضرور پریشان ہو گئے تھے اور مجھے ان کے بہت سارے فون آ رہے تھے۔

    سنئیر اداکار نے بتایا کہ اس طرح کی افواہیں ان کے بارے میں پہلے بھی ہزاروں بار پھیلائی جا چکی ہیں لیکن ان سب چیزوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا، انہوں نے اس معاملے پر حمیرابانو اور ان کے اصل شوہر سے بھی بات کی ہے اور ہم سب اس بات پر صرف ہنسے تھے۔

    اس کے علاوہ اداکارہ حمیرا بانو نے بھی عظمیٰ طاہر کے ساتھ ایک ویڈیو کال کے دوران ان تمام بے بنیاد باتوں کو غلط قرار دیا اور واضح کیا کہ ان کی شادی کسی اور سے ہوئی ہے، ان کا میڈیا سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی وہ کوئی فنکار یا ڈائریکٹر ہیں ساتھ ہی حمیرا بانو کے شوہر کی تصویر بھی شیئر کی گئی، جس سے واضح کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر عثمان پیرزادہ سے ان کی شادی سے متعلق پھیلائی جانے والی باتیں درست نہیں۔

    حیرا بانو نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آتی یوٹیوبرز سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ویوز لائکس کیلئے کسی کے بارے میں بھی غلط افواہیں پھیلا دیتے ہیں غلط ویڈیوز اور تصاویر وائرل کر دیتے ہیں،

  • خیبرپختونخوا: ماہانہ وظیفے میں 15 فیصد اضافہ نامنظور ،میڈیکل عملے کاہسپتالوں میں او پی ڈی اور الیکٹو سروسز کا بائیکاٹ

    خیبرپختونخوا: ماہانہ وظیفے میں 15 فیصد اضافہ نامنظور ،میڈیکل عملے کاہسپتالوں میں او پی ڈی اور الیکٹو سروسز کا بائیکاٹ

    پشاور: خیبر پختونخوا میں ٹی ایم اوز اور ہاؤس آفیسرز کے ماہانہ وظیفے میں اضافہ کر دیا گیا ہے جس کا محکمہ خزانہ نے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے-

    نوٹیفکیشن کے مطابق ٹرینی ڈاکٹرز اور ہاؤس آفیسرز کے ماہانہ وظیفے میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا،اضافے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، ہاؤس آفیسرز کے وظیفے میں ہر سال مزید 5 فیصد اضافہ ہوگا،جو اس وقت قابل ادائیگی وظیفے کی رقم کی بنیاد پر ہوگا ،صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد ہاؤس آفیسرز کے وظیفے میں اضافہ کیا گیا۔

    جبکہ خودمختار، نیم خودمختار ادارے، میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز اور دیگر ادارے اپنے متعلقہ مجاز فورم کی منظوری اور دستیاب وسائل کی بنیاد پر اس فیصلے کو اپنی تنظیموں میں نافذ کریں گے۔

    دوسری جانب ٹی ایم اوز اور ہاؤس آفیسرز نے 15 فیصد اضافہ مسترد کر دیا ہے،صوبہ بھر میں ٹی ایم اوز اور ہاؤس آفیسرز نے اپنے مطالبات کے لیے بائیکاٹ کردیا ہے ،ہسپتالوں میں او پی ڈی اور الیکٹو سروسز کا بائیکاٹ جاری ہے،ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ تنخواہوں میں پندرہ فیصد اضافہ نامنظور ہے،تیس فیصد اضافہ ہمارا مطالبہ ہے، جبکہ حکومت نے جو پندرہ فیصد اضافہ کیا وہ بھی نہیں دیا جارہا-

  • پاکستان کو ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی طرف تیزی سے منتقل ہونا ہوگا،احسن اقبال

    پاکستان کو ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی طرف تیزی سے منتقل ہونا ہوگا،احسن اقبال

    اسلام آباد : وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت اڑان پاکستان کے قومی اقتصادی مشن، ٹیکس اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق اجلاس ہوا۔

    وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات اور وسائل میں اضافہ مشن 2 پورے اڑان پاکستان پروگرام کے لیے مالیاتی انجن کی حیثیت رکھتا ہے، قابلِ اعتماد ذرائع سے آمدن میں اضافہ کیے بغیر دیگر قومی اقتصادی مشنز کے لیے مطلوبہ وسائل فراہم نہیں کیے جاسکتے، گیارہ قومی اقتصادی مشنز کا مقصد پاکستان کو 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانا ہے، تاہم یہ ہدف حاصل کرنے کے لیے ہر شعبے میں تبدیلی اور روایتی طریقہ کار سے نجات ضروری ہے۔

    احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی طرف تیزی سے منتقل ہونا ہوگامعاشی استحکام حاصل ہوا ہے لیکن موجودہ سطح کا استحکام پائیدار ترقی کے لیے کافی نہیں، اس لیے مجموعی قومی پیداوار اور برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا،ٹیکس کی شرح کم کرتے ہوئے ٹیکس نیٹ اور وصولی بڑھانا، وسائل کو متحرک کرنا اور ٹیکس نظام میں بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کرنا ناگزیر ہے، جبکہ ٹیکس اصلاحات اور معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے ملکی وسائل میں اضافہ اور معیشت کو دستاویزی بنانا ہوگا۔

  • پاکستان میں جی ایم مکئی کی کاشت کی اصولی منظوری،زرعی جدت اور پیداوار بڑھانے میں اہم پیش رفت

    پاکستان میں جی ایم مکئی کی کاشت کی اصولی منظوری،زرعی جدت اور پیداوار بڑھانے میں اہم پیش رفت

    پاکستان میں جی ایم مکئی بیج کی اصولی منظوری دے دی گئی ہے، جو زرعی جدت اور پیداوار بڑھانے کی جانب اہم پیش رفت ہے-

    ایس آئی ایف سی اور گرین پاکستان انیشیٹو کے تعاون سے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور بہتر بیجوں کے فروغ کیلئے اقدامات جاری ہیں،پاکستان میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (GM) مکئی کی کاشت سے متعلق پالیسی سطح پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے،’جی ایم’ مکئی جدید ٹیکنالوجی سے تیار کردہ بیج ہے جو کیڑوں، بیماریوں اور موسمی اثرات کے خلاف مدافعت بڑھانے میں مدد دیتا ہے

    دو دہائیوں سے زائد عرصے کی کوششوں کے بعد ملٹی نیشنل بیج کمپنیوں کو ‘جی ایم’ مکئی کی کاشت کے لیے اصولی منظوری حاصل ہو گی،کمیٹی اجلاس میں وزیر خزانہ کے ساتھ ایس آئی ایف سی کے گرین پاکستان انیشیٹو کے چیف ایگزیکٹو بھی شریک ہوئےلکابینہ کمیٹی نے پاکستان میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ ‘جی ایم ‘ مکئی کی کاشت اپنانے کی اصولی منظوری دے دی-

    عالمی ملٹی نیشنل کمپنیاں مونسانٹو، بائر، کارگل، سِنجینٹا اور کورٹِیوا 1980 کی دہائی سے پاکستان کی بیج صنعت میں سرگرم ہیں،اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق ملٹی نیشنل کمپنیاں ہائبرڈ بیجوں کے ذریعے زرعی جدت اور نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں جی ایم مکئی کی منظوری سے زرعی شعبے میں جدید بیج، زیادہ پیداوار اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

  • پاکستان کی بلیو اکانومی میں اہم پیش رفت، سی فوڈ کی برآمدات میں تاریخی اضافہ

    پاکستان کی بلیو اکانومی میں اہم پیش رفت، سی فوڈ کی برآمدات میں تاریخی اضافہ

    پاکستان کی بلیو اکانومی میں اہم پیش رفت، سمندری خوراک کی برآمدات میں تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے-

    پاکستان کی سی فوڈ برآمدات مالی سال 26-2025میں پہلی بار 500 ملین ڈالر کی حد عبور کرتے ہوئے 568 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں،وزارتِ بحری امور کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں پاکستانی سی فوڈ برآمدات میں 38 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، سی فوڈ برآمدات 24-2023 میں 406 ملین ڈالر سے بڑھ کر 26-2025 میں568 ملین ڈالرکی تاریخی سطح پر پہنچ گئیں

    وزارتِ بحری امور کے مطابق فروزن فش پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی سمندری خوراک رہی، جس سے 105 ملین ڈالر سے زائد آمدن حاصل ہوئی، فروزن اسکویڈ، کٹل فش، فش میل، جھینگے اور کیکڑے بھی پاکستان کی اہم برآمدی مصنوعات میں شامل رہے-

    وزارتِ بحری امور کے مطابق پاکستانی سی فوڈ چین، جاپان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکہ اور دیگر عالمی منڈیوں تک پہنچ رہی ہےبرآمدی معیار، فوڈ سیفٹی اور نئی عالمی منڈیوں تک رسائی نے اس کامیابی میں اہم کردار ادا کیا یورپی یونین کی 2007 کی پابندی کے بعد پاکستانی سی فوڈ مصنوعات دوبارہ یورپی مارکیٹ میں اعتماد بحال کر رہی ہیں-

    ماہرین کے مطابق ویلیو ایڈڈ سی فوڈ مصنوعات پر توجہ دے کر پاکستان اس شعبے کو 3 ارب ڈالر تک بڑھا سکتا ہے، پاکستان کی بڑھتی سی فوڈ برآمدات بلیو اکانومی، روزگار اور معاشی ترقی کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہیں-

  • بھارت میں ہندومذہبی اکثریت کی بالادستی،اقلیتوں کے وجود پرسنگین سوالات

    بھارت میں ہندومذہبی اکثریت کی بالادستی،اقلیتوں کے وجود پرسنگین سوالات

    بھارت میں ہندومذہبی اکثریت کی بالادستی،اقلیتوں کے وجود پرسنگین سوالات،انتہا پسند جماعتوں بی جے پی اورآرایس ایس کے ایجنڈے کے تحت بھارت میں غیرہندو ہونا جرم بن گیا.

    ہندوتوا کے نظریہ پرقائم مودی حکومت اپنا اقتدار قائم رکھنے کیلئےاقلیتوں کےوجود کےدرپےہوگئی انتہا پسند جماعتوں بی جے پی اورآرایس ایس کے ایجنڈ ے کے تحت بھارت میں غیرہندو ہونا جرم بن گیا-

    ہندوتوا سے متعلق حالیہ تحقیقاتی رپورٹ کےمطابق آرایس ایس کا متعصب ہندوتوا نظریہ ایک ایسی مذہبی شناخت کو بڑھاوا دیتا ہے، جو اس سے پہلے موجود نہیں تھی،اکھنڈ بھارت ہندوتوا نظریہ کا خواب ہے جس کے مطابق ہندو ہی دنیا پرحکمرانی کریں گے،آر ایس ایس کے سربراہ نے کہا کہ ہندو ختم ہوگئے تودنیا بھی ختم ہو جائے گی-

    مسیحی سیاسی ورکرڈاکٹرجان دیال کے مطابق ہٹلرکی طرح ہندوتوا کے بانیوں نے بھی ایسے وطن کا تصورپیش کیا جس میں صرف ایک گروہ کوتمام اختیارات حاصل ہوں ،ہندوتوا کے تحت بھارت میں ہندو مذہب، نسل اور قومیت کے علاوہ اسلام یا عیسائیت کیلئے کوئی جگہ نہیں-

    ماہرین کے مطابق بھارت میں ہندوتوا کی بڑھتی سیاست مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دیکراقلیتوں کے حقوق کو سنگین خطرات سے دوچارکررہی ہےہندو قوم پرستی کے سنگین ہوتے اثرات نے بھارت کے نام نہاد سیکولرازم اورجمہوریت کے کھوکھلے دعووں کا پول کھول دیا ہے

  • انگلینڈ :پاکستان انڈر 19 ٹیم کو پناہ گزین سمجھ کر ہوٹل کے باہر احتجاج

    انگلینڈ :پاکستان انڈر 19 ٹیم کو پناہ گزین سمجھ کر ہوٹل کے باہر احتجاج

    پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کو برطانوی شہر پورٹسماؤتھ میں غلطی سے پناہ کے متلاشی افراد کا گروپ سمجھ لیا گیا،یہ واقعہ منگل کی شام میریئٹ ہوٹل کے باہر پیش آیا جہاں پاکستانی ٹیم قیام پذیر تھی-

    رپورٹس کے مطابق تقریباً 40 غیر ملکی افراد کی ایک ٹیم میریئٹ ہوٹل پہنچی تو وہاں موجود بعض افراد نے اسے پناہ گزینوں کی آمد سمجھتے ہوئے احتجاج شروع کر دیا،صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب مظاہرین ہوٹل کے باہر جمع ہوگئے،سوشل میڈیا پر یہ افواہ پھیل گئی تھی کہ غیر ملکی افراد ایک کوچ کے ذریعے و ہاں پہنچے ہیں، جس کے بعد پولیس کو شام ساڑھے 6 بجے سے کچھ دیر پہلے طلب کیا گیا،پولیس نے موقع پر پہنچ کر معلوم کیا کہ جن افراد کے بارے میں احتجا ج کیا جا رہا ہے وہ دراصل پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی ہیں۔

    ریفارم پارٹی کے کونسلر جارج میڈوک نے معاملہ سلجھانے کے لیے ہوٹل سے رابطہ کیا اور پاکستان انڈر 19 ٹیم کے کوچ سے بات کی بعد ازاں انہوں نے مظاہرین کو بتایا کہ یہ افراد پناہ گزین نہیں بلکہ کرکٹ ٹیم کے ارکان ہیں جس پر مظاہرین چند ہی منٹ میں منتشر ہوگئے ،انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے واقعے کے بعد پاکستان کرکٹ حکام سے رابطہ کیا ہے اور ٹیم کی سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    جارج میڈگوک نے گارڈین سے گفتگو میں کہا کہ میں نے ٹیم کے کوچ سے بات کی، وہ اس معاملے کو سمجھ رہے تھے۔ میں مظاہرین کے پاس گیا اور کہا کہ آپ لوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہے، یہ کرکٹ ٹیم ہے۔ وہ چند منٹ میں وہاں سے چلے گئے، یہ انتہائی بدقسمت واقعہ تھا۔

    واقعے کی ابتدا اس وقت ہوئی جب بس سے اترنے والے افراد کی ایک تصویر آن لائن شیئر کی گئی تصویر دیکھ کر لوگوں نے بغیر تصدیق کے یہ خیال قائم کرلیا کہ وہاں پناہ کے متلاشی افراد پہنچے ہیں،میڈگوک نے بتایاکہ کسی شخص نے سوشل میڈیا پر دیکھا کہ غیر ملکی نظر آنے والے کچھ لوگ کوچ سے اتر رہے ہیں اور ان کی تصویر آن لائن ڈال دی، جس کے بعد یہ معاملہ شروع ہوا، یہ محض قیاس آرائی تھی، اس کی حقیقت یا کسی ثبوت پر بنیاد نہیں تھی۔

    ہیمپشائر پولیس کے مطابق اہلکاروں نے مظاہرین سے بات کرکے انہیں بتایا کہ ان کا خدشہ غلط فہمی پر مبنی ہے، پولیس نے کسی جرم کی نشاندہی نہیں کی اور مظاہرین رات 9 بجے سے کچھ دیر پہلے وہاں سے چلے گئےپورٹس ماؤتھ نارتھ کی رکن پارلیمنٹ امانڈا مارٹن نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غلط معلومات کی وجہ سے نوجوان کرکٹرز کو نشانہ بنایا جانا قابل قبول نہیں۔

    پاکستان انڈر 19 ٹیم نے 2 سے 5 ستمبر تک انگلینڈ انڈر 19 کے خلاف چار روزہ میچ کھیلا جس میں اسے 10 رنز سے شکست ہوئی جبکہ 9 ستمبر کے یوتھ ون ڈے میں پاکستان نے 177 رنز سے کامیابی حاصل کی۔

  • امریکا نے اردن سے ہیلی کاپٹر منتقل کرنا شروع کردیے، ایرانی میڈیا کا دعویٰ

    امریکا نے اردن سے ہیلی کاپٹر منتقل کرنا شروع کردیے، ایرانی میڈیا کا دعویٰ

    امریکی فوج نے اردن میں موافق سلطی ایئربیس سے ہیلی کاپٹر منتقل کرنا شروع کردیے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق منتقل کیے جانیوالے ہیلی کاپٹروں میں وہ ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں جو امریکا کے خلاف منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایران کی جوا بی کارروائی میں تباہ ہوئے تھے، گزشتہ روز ایران نے اردن میں امریکی ایئربیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

    واضح رہےکہ امریکی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اردن کے علاقے الازرق میں امریکی فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں متعدد امریکی جنگی طیاروں کو نقصان پہنچا ہے-

    امریکی نشریاتی ادارےسی بی ایس نیوز نے باخبر ذرائع کے حوالے سےبتایا کہ بدھ کی صبح اردن کے موافق السلطی ایئربیس پر ایرانی حملے میں تقریباً 8 ایف 15 جنگی طیاروں کو معمولی نقصان پہنچا، تاہم انہیں دوبارہ آپریشنل کردیا گیا حملے میں ایک اے 10 تھنڈر بولٹ جنگی طیارہ بھی زد میں آیا، جسے ’وارٹ ہاگ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے،میزائل حملے کے نتیجے میں طیارے کا ایک پر تباہ ہوگیا۔

    یہ حملہ ایران کی جانب سے امریکی حملوں کے جواب میں کیے گئے جوابی حملوں کی لہر کا حصہ تھا امریکا نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ ایران کی جانب سے امر یکی بحری جنگی جہاز کو نشانہ بنانے کی کوشش کے جواب میں اس نے 5 ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جواب میں 8 تیل بردار جہازوں، 2 جنگی بحری جہازوں اور اردن میں قائم امریکی اڈے کو نشانہ بنایا گیا،اردن میں موجود امریکی فورسز نے ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے 30 سے زائد پیٹریاٹ میزائل فائر کیے،اردن میں واقع موافق السلطی ایئربیس امریکی فوج کے لیے خطے میں اہم فضائی مرکز ہے، جہاں امریکی فوجی طیارے اور اہلکار تعینات ہیں۔

  • بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے ایران کیخلاف قرارداد منظور کرلی

    بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے ایران کیخلاف قرارداد منظور کرلی

    ایران، روس اور چین کی مخالفت کے باوجود بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے ایران کیخلاف قرارداد منظور کرلی۔

    امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کے سامنے ایران کیخلاف پیش قرارداد کے حق میں 23 اور مخالفت میں 3 ووٹ آئے جبکہ 8 اراکین غیر حاضر رہے،قرارداد میں آئی اے ای اے کے سربراہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایران کیخلاف نئی اور پرانی قراردادیں اور اپنی تازہ رپورٹ سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھیجے۔

    تاہم ایران، روس اور چین نے تہران پر پابندیوں کی بحالی سے متعلق اس مسودے کو کالعدم اور باطل قرار دیا مشترکہ بیان میں ایران، روس اور چین نے کہا کہ مغربی ممالک کی جانب سے پیش قرارداد کے مسودے میں ایران کی نیوکلیئر تنصیبات پر حملوں کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے اور اس کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان تعاون کمزور کرنا ہے۔

    ایران کیخلاف پابندیوں کی بحالی کےمطالبے سےمتعلق مغربی قرارداد کا یہ مسودہ قانونی بنیاد نہیں رکھتا تینوں ممالک نے آئی اے ای اے کے اراکین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس قرارداد کی حمایت نہ کریں۔

    ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران کا معاملہ سیاسی بنیادوں پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھیجنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگاایران کی نیوکلیئر تنصیبات پر امریکا نے حملہ ہی اس لیے کیا تھا تاکہ توثیق کا عمل متاثر ہو اور اسے بنیاد بنا کر بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرزکے سامنے ایران کیخلاف قرارداد پیش کی جائے، ایران نے ایسا کوئی عمل نہیں کیا جسے عدم تعمیل سمجھا جائے۔