Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • گوادر اور لسبیلہ میں آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام 2026 کا اختتام

    گوادر اور لسبیلہ میں آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام 2026 کا اختتام

    گوادر کے پاک چائنا ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ اور لسبیلہ میں آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام 2026 کی اختتامی تقریبات منعقد ہوئیں، جن میں اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    گوادر میں منعقدہ تقریب میں جی او سی گوادر نے پروگرام مکمل کرنے والے طلبا و طالبات کو مبارکباد دی اور سرٹیفکیٹس تقسیم کیے،لسبیلہ میں پاک فوج کے اعلیٰ افسران اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے انٹرن شپ مکمل کرنے والے طلباء و طالبات میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے-

    آئی ایس پی آر انٹرن شپ کے دوران طلبہ کو حقائق کو جانچنے کے ساتھ جدید ابلاغی مہارتیں سیکھنے اور ان کا عملی تجربہ حاصل کرنے کا موقع ملا،تقریبات کے مہمانوں نے نوجوانوں کو جدید تعلیم اور ہنر سے آراستہ ہوکر پاکستان، بالخصوص بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کی تلقین کی-

    اس موقع پر ایک طالبہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایس پی آر انٹرن شپ مکمل کرنا ایک اعزاز ہے جس نے قومی خدمت کا حوصلہ بڑھایا۔ ایک طالبہ نے کہا کہ سمر انٹرن شپ مکمل کرنے سے ہم ملکی مسائل کو بہتر طور پر سمجھنے اور انہیں حل کرنے کے قابل ہوئے۔

    ایک طالبہ نے کہا کہ اس طرح کے پروگرام جاری رکھے جائیں جہاں لوگوں کو اپنے سوالات کے جواب ملیں۔ اسی طرح ایک اور طالبعلم نے کہا کہ آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ سے ہمیں حقائق کو بہتر طور پر جانچنے کی صلاحیت حاصل ہوئی۔

  • ایران کے ساحلی علاقوں اور قشم جزیرے میں دھماکوں کی اطلاعات

    ایران کے ساحلی علاقوں اور قشم جزیرے میں دھماکوں کی اطلاعات

    ایران کے ساحلی علاقوں اور قشم جزیرے میں متعدد شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں –

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کے ساحلی خطے سیرک، میناب کاؤنٹی اور جزیرہ قشم کے متعدد علاقوں میں یکے بعد دیگرے کئی پروجیکٹائلز آ کر گرے ہیں جس سے تباہی کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں تاہم، مقامی حکام اور میڈیا کی جانب سے فوری طور پر یہ واضح نہیں کیا جا سکا کہ ان دھماکوں کی آوازیں کھلے سمندر سے آئی تھیں یا یہ دھماکے جزیرہ قشم کی حدود کے اندر ہی ہوئے ہیں۔

    یہ تازہ ترین حملے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا نے آبنائے ہرمز کے قریب کارروائی کرتے ہوئے ایران کے پانچ تیل بردار جہازوں کو تباہ کر دیا تھا امریکا کی اس فوجی کارروائی کے بعد ایران کی جانب سے ممکنہ اور شدید جوابی ردِ عمل کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں اسی خطرے کے پیشِ نظر امریکی فوج نے اردن میں واقع موافق سلطی ایئربیس سے اپنے ہیلی کاپٹروں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ انہیں مزید نقصا ن سے بچایا جا سکے۔

    ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اردن کے ایئربیس سے جن امریکی ہیلی کاپٹروں کو منتقل کیا جا رہا ہے، ان میں وہ آلات اور ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں جنہیں منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایران کی جوابی کارروائی کے دوران نقصان پہنچا تھا یا وہ تباہ ہوئے تھے۔

    اس سے قبل ایران نے خلیج فارس میں دو امریکی جنگی جہازوں اور 8 آئل ٹینکرز اور ہرمز کے ممنوعہ علاقے سے گزرنے کی کوشش پر 10دیگر جہازوں کو نشانے بنانے کا دعویٰ کیا تھا-

  • پاکستان سمیت 8 ممالک کا اسرائیلی بستیوں کے خلاف برطانیہ کے اقدام کا خیرمقدم

    پاکستان سمیت 8 ممالک کا اسرائیلی بستیوں کے خلاف برطانیہ کے اقدام کا خیرمقدم

    پاکستان، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، مقطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمدا ت پر پابندی کے برطانوی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

    وزارتِ خارجہ پاکستان کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق آٹھوں ممالک نے برطانیہ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے اشیا کی درآمد پر پابندی اور ان بستیوں سے منسلک خدمات پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

    مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کا اقدام عالمی برادری کو متحرک کرنے اور غیر قانونی اسرائیلی آبادکاری میں ملوث بستیوں، اداروں اور افراد کو جوابدہ بنانے کی کوششوں میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے آٹھ ممالک نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھی بین الاقوامی قانون کے مطابق ایسے ہی ٹھوس اقدامات کرے۔

    بیان میں کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین، سویڈن اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کا بھی خیرمقدم کیا گیا ہے، جس میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے تجارتی اشیا کی خرید و فروخت پر قومی یا یورپی سطح پر پابندیوں کے اقدامات کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    آٹھ ممالک نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ان اقدامات کو آگے بڑھاتے ہوئے ایسے تمام ٹھوس اقدامات اختیار کرے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی معاونت یا انہیں برقرار رکھنے والی سرگرمیوں کا خاتمہ یقینی بنا سکیں،اسرائیلی آبادکاری کی پالیسی اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی توسیع بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں سے متصادم ہے۔

    بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 اور 19 جولائی 2024 کی عالمی عدالت انصاف کی مشاورتی رائے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تمام ریاستوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسرائیلی قبضے سے پیدا ہونے والی غیر قانونی صورتحال کو تسلیم نہ کریں اور اس صورتحال کو برقرار رکھنے میں معاونت یا مدد فراہم نہ کریں۔

    آٹھوں ممالک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے جغرافیائی اور آبادیاتی خدوخال تبدیل کرنے والی آبادکاری سمیت تمام اقدامات واپس لیے جائیں پاکستان سمیت آٹھ ممالک نے اسرائیل کے متنازع ’ای ون‘ (E1) آبادکاری منصوبے اور مشرقی یروشلم کے قریب اس سے متعلق سرگرمیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    مشترکہ مؤقف کے مطابق ای ون منصوبہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے درمیان جغرافیائی تسلسل کو متاثر کرسکتا ہے اور مستقبل میں ایک خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ ای ون منصوبہ فوری طور پر روکا جائے اور اس سے متعلق تمام اقدامات منسوخ کیے جائیں۔

    اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ دو ریاستی حل ہی منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے حصول کا قابل عمل راستہ ہے۔ آٹھ ممالک نے ایک آزاد، خودمختار، متصل اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جو 4 جون 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ہو اور جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

    بیان میں غزہ کو بھی مقبوضہ فلسطینی علاقے کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع منصوبے پر مکمل اور فوری عملدرآمد، انسانی صورتحال سے نمٹنے، تعمیر نو اور دیرپا امن کی بنیاد رکھنے پر زور دیا گیا ہے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر بھی زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق، خصوصاً حقِ خودارادیت کے تحفظ اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔

  • مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران جنگ ختم اور تیل کی قیمتیں تیزی سے گرجائیں گی، ٹرمپ

    مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران جنگ ختم اور تیل کی قیمتیں تیزی سے گرجائیں گی، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اس سال نومبر میں ہونے والے امریکی مڈ ٹرم انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی، کیونکہ تہران اب مزید امریکی اقتصادی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اور جنگ کے باعث بلند ہونے والی تیل کی قیمتیں بھی انتخابات کے بعد تیزی سے نیچے آئیں گی۔

    ڈیلس میں ریپبلکن نیشنل کنونشن کے لیے روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ”میرا خیال ہے انتخابات کے فوری بعد جنگ ختم ہو جائے گی کیونکہ وہ (ایرانی حکمران) اب مزید نہیں ٹک سکتے اور وہ ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح ان انتخابات پر اثر انداز ہو سکیں۔

    امریکی صدر نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ ایران کے ساتھ سفارتی بات چیت کا امکان موجود ہے، تاہم یہ ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ”جی ہاں، مذاکرات بالکل ہو سکتے ہیں لیکن یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی ہم اس وقت کوشش کر رہے ہوں۔“

    امریکا اور ایران کے درمیان جاری یہ تنازع اپنے ساتویں مہینے میں داخل ہو چکا ہے اور فی الحال اس کے فوری خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔

    دونوں ممالک کے درمیان تازہ ترین تصادم اس وقت سامنے آیا جب امریکی فوج کی جانب سے پانچ ایرانی تیل بردار جہازوں کو غرق کرنے کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا اس نئی فوجی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں یکدم بڑھ گئی ہیں اور بین الاقوامی بنچ مارک برینٹ کروڈ جولائی کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے اوپر چلا گیا ہے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ہوا ہے تاہم انتخابات کے فوراً بعد تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے جائیں گی۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

    ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ وہ محض ایک روایتی جوہری معاہدہ نہیں چاہتے بلکہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ ڈیل میں جوہری پروگرام سے کہیں زیادہ معاملات طے کرنا چاہتے ہیں۔

    ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کے بارے میں امریکی مؤقف میں حالیہ دنوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے رائٹرز کے مطابق مئی میں ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امن تجویز آنے کے بعد حملہ روکنے اور جوہری پروگرام کو محدود کرنے والے ممکنہ معاہدے کی امید ظاہر کی تھی۔

    دوسری جانب ایران کے جوہری پروگرام پر مغربی دباؤ برقرار ہے، برطانیہ نے رواں ہفتے ایران کے خلاف مزید سخت پابندیوں کے لیے قانون سازی بھی شروع کی ہے، جس میں ایرانی مالیاتی نظام، تجارت، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں پر پابندیاں شامل ہیں۔

    ایران جنگ اور خلیج میں توانائی کی تنصیبات و جہازوں پر حملوں کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ میں ہے۔ رائٹرز کے مطابق خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً دو تہائی تک رہ گئی ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی سپلائی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

    اسی تناظر میں برینٹ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں توانائی کے اہم انفرااسٹرکچر کو مزید نقصان پہنچا تو تیل کی قیمتوں میں مزید نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ ٹرمپ اس کے برعکس جنگ کے خاتمے کے بعد قیمتوں میں تیز کمی کی توقع ظاہر کررہے ہیں۔

    یوں ٹرمپ کے حالیہ بیانات میں ایران جنگ کے خاتمے، تیل کی قیمتوں میں کمی، ایران کے ساتھ ممکنہ وسیع تر مذاکرات، اسرائیلی بستیوں پر پابندیوں اور روس یوکرین جنگ کے لیے نئی ڈیل کو امریکی خارجہ پالیسی کے اہم موضوعات کے طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔

  • فراڈ کے الزامات: شیخ حسینہ کی بیٹی عالمی ادارۂ صحت کے عہدے سے مستعفٰی

    فراڈ کے الزامات: شیخ حسینہ کی بیٹی عالمی ادارۂ صحت کے عہدے سے مستعفٰی

    بنگلہ دیش کی معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کی بیٹی اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جنوب مشرقی ایشیا کی ریجنل ڈائریکٹر صائمہ واجد نے فراڈ کے الزامات کی تحقیقات کے دوران اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہو گئیں-

    رائٹرز کے مطابق صائمہ واجد نے بدھ کو ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس کو استعفیٰ بھیجا، جس میں انہوں نے کہا کہ تقریباً ایک سال سے بغیر تنخواہ انتظامی رخصت پر رہنے کے باعث ان کی مالی صورتحال ناقابل برداشت ہوگئی ہے،صائمہ واجد نے 2024 کے آغاز میں ڈبلیو ایچ او کے جنوب مشرقی ایشیا ریجن کی ریجنل ڈائریکٹر کا منصب سنبھالا تھا اور ان کی مدت 5 سال کے لیے تھی۔

    ڈبلیو ایچ او نے گزشتہ سال کے آخر میں انہیں بغیر تنخواہ انتظامی رخصت پر بھیج دیا تھا انہیں پہلی مرتبہ جولائی 2025 میں اس وقت رخصت پر بھیجا گیا جب بنگلہ دیش کے اینٹی کرپشن کمیشن نے مارچ 2025 میں ان کے خلاف فراڈ اور جعل سازی کے الزامات میں مقدمات قائم کیے تھے۔

    رائٹرز کے مطابق ڈبلیو ایچ او نےصائمہ واجد پر چین کے سفر سے متعلق مالی فراڈ کرنے اور اپنی تعلیمی اسناد کے بارے میں غلط بیانی کا الزام عائد کیاصائمہ واجد نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

    ڈبلیو ایچ او نے ان پر بنگلہ دیش میں غیر قانونی طور پر ایک پلاٹ حاصل کرنے کا الزام بھی عائد کیا تاہم صائمہ واجد نے اپنے استعفے میں کہا کہ انہوں نے یہ زمین ڈبلیو ایچ او میں شمولیت سے قبل حاصل کی تھی اور بنگلہ دیش کے اس قانون کے تحت اس کی حقدار تھیں جو ملک کے بانی رہنما شیخ مجیب الر حمن کے خاندانوں پر لاگو ہوتا ہے۔

    صائمہ واجد نے اپنے استعفے میں کہا کہ انہیں اپنے خطے کے ممالک کی خدمت کے لیے ریجنل ڈائریکٹر منتخب کیا گیا تھا اور انہوں نے یہ ذمہ داری پوری دیانت داری سے انجام دی،انہوں نے ڈبلیو ایچ او کی قیادت پر اعتماد کھونے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مؤثر انداز میں اپنے فرائض انجام دینے سے روکا جا رہا ہے،تقریباً ایک سال تک بغیر معاوضے کے رہنے کے بعد ان کی مالی صورتحال ناقابل برداشت ہوگئی ہے، اس لیے انہوں نے عہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا۔

    جولائی میں اپنے وکلا کے ذریعے ڈبلیو ایچ او کو بھیجے گئے خط میں صائمہ واجد نے چین کے سفر سے متعلق مالی فراڈ کے الزام کی بھی تردید کی تھی ان کا کہنا تھا کہ سفری اخراجات کی معمول کی واپسی کی درخواستوں پر کارروائی کرنے والے ایک معاون کی انتظامی غلطی کے باعث معاملہ پیدا ہوا اور رقم صرف 901 ڈالر تھی۔

    تعلیمی اسناد سے متعلق الزام پر ان کا مؤقف تھا کہ انہیں بنگلہ دیش میں آٹزم کے شعبے میں کام کے اعتراف میں اعزازی ڈاکٹریٹ دی گئی تھی اور انہوں نے ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس کو اپنی اس قابلیت سے متعلق مکمل آگاہ کیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق ڈبلیو ایچ او صائمہ واجد کو باضابطہ طور پر عہدے سے ہٹانے کی تیاری بھی کر رہا تھا، ایک ذریعے نے بتایا کہ نئے ریجنل ڈائریکٹر کے لیے نامزدگیاں 12 اکتوبر کو طلب کیے جانے، دسمبر میں درخواستوں کی جانچ پڑتال اور 24 جنوری کو انتخابات کا امکان تھا۔

    ریجنل ڈائریکٹرز عالمی ادارہ صحت کے اہم ترین صحت پالیسی عہدیداروں میں شمار ہوتے ہیں ان کی ذمہ داریوں میں وباؤں اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنا اور مقامی حالات کے مطابق ڈبلیو ایچ او کی پالیسیوں کو نافذ کرنا شامل ہے، ریجنل ڈائریکٹرز کا انتخاب رکن ممالک ہر 5 سال بعد کرتے ہیں-

  • سعودی عرب کے 3 شہروں پر پر حوثیوں کا  بیلسٹک میزائل اور ڈرون سےپھر بڑا حملہ

    سعودی عرب کے 3 شہروں پر پر حوثیوں کا بیلسٹک میزائل اور ڈرون سےپھر بڑا حملہ

    یمن میں حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہروں پر تازہ میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

    سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق حوثیوں نے خمیس مشیط، ابہا اور جازان کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے،ترجمان نے حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی، تاہم کہا کہ اتحادی افواج سعودی عرب کی خودمختاری، قومی تنصیبات اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ان حملوں کا مناسب جواب دیں گی۔

    یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی میں تیزی آگئی ہے حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں توانائی اور فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ سعودی حمایت یافتہ فورسز یمن میں حوثیوں کے خلاف جوابی کارروائی کر رہی ہیں۔

    تازہ کشیدگی کے باعث بحیرہ احمر اور باب المندب کی اہم بحری گزرگاہوں کی سکیورٹی پر بھی خدشات بڑھ گئے ہیں یمن میں گزشتہ ہفتے سے جاری نئی لڑائی میں 500 سے زائد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم مختلف فریقوں کے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

  • اوپن اے آئی کا دہائیوں پرانا ریاضیاتی مسئلہ حل کرنے کا دعویٰ

    اوپن اے آئی کا دہائیوں پرانا ریاضیاتی مسئلہ حل کرنے کا دعویٰ

    چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی نے تقریباً 90 سال سے حل طلب ایک پیچیدہ ریاضیاتی مسئلے، نیویئر-اسٹوکس مساوات کے وجود اور ہموا ری سے متعلق مسئلے، کا اہم حصہ صرف 88 گھنٹوں میں حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے-

    اوپن اے آئی کے مطابق تقریباً 10 ہزار مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس نے مل کر اس مسئلے پر کام کیا اور 88 گھنٹوں کے دوران تقریباً 30 لاکھ پیغامات کا تبادلہ کیاکمپنی کا کہنا ہے کہ اس عمل میں تقریباً 130 ارب آؤٹ پٹ ٹوکنز استعمال ہوئےنیویئر-اسٹوکس مساوات سیال مادوں، جیسے پانی اور ہوا، کی حرکت اور بہاؤ کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں، ان مساوات کے بارے میں یہ بنیادی سوال کہ بعض حالات میں ان کے حل ہمیشہ موجود رہتے ہیں اور ہموار رہتے ہیں یا نہیں، کئی دہائیوں سے ریاضی دانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

    اوپن اے آئی کے مطابق اگست کے آخر میں ایک نئے اندرونی اے آئی ماڈل کی تربیت شروع کی گئی، جس کے بعد یکم ستمبر کو تقریباً 10 ہزار اے آئی ا یجنٹس کو مشکل ریاضیاتی مسائل پر کام کرنے کے لیے استعمال کیا گیا،کمپنی کا دعویٰ ہے کہ 5 ستمبر تک ایجنٹس نے نیویئر-اسٹوکس مسئلے کے وجود اور ہموا ری سے متعلق ایک حل تیار کرلیا۔

    کمپنی کے اندازے کے مطابق اس بڑے پیمانے پر کمپیوٹنگ کے عمل پر موجودہ ماڈلز کی قیمتوں کو سامنے رکھتے ہوئے تقریباً ایک کروڑ ڈالر خرچ ہوئے، او پن اے آئی نے اس پیشرفت کو مصنوعی ذہانت کی ریاضیاتی صلاحیتوں میں اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔

    تاہم اس دعوے کو ابھی حتمی طور پر تسلیم نہیں کیا گیا کلی میتھمیٹکس انسٹی ٹیوٹ، جس نے نیویئر-اسٹوکس مسئلے کے حل پر 10 لاکھ ڈالر کا ملینیم پرائز مقرر کر رکھا ہے، نے بھی اوپن اے آئی کی پیش رفت کو باضابطہ طور پر حل کے طور پر تسلیم نہیں کیا، اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے تیار کردہ حل کی بنیاد پر اس انعام کا دعویٰ نہیں کرے گی۔

    دوسری جانب نیویارک یونیورسٹی کے ریاضی کے پروفیسر ٹرسٹن بک ماسٹر اور اینتھروپک سے وابستہ ریاضی دان لیونٹ آلپوگے کی جانب سے بھی اوپن اے آئی کے دعوے پر تحفظات سامنے آئے ہیں بک ماسٹر کے مطابق دونوں ریاضی دان نیویئر-اسٹوکس مسئلے پر تحقیق کر رہے تھے اور اپنی تحقیق میں اوپن اے آئی کے کوڈیکس ٹول سے بھی مدد لے رہے تھے۔

    بک ماسٹر کا کہنا ہے کہ 3 ستمبر کو انہیں معلوم ہوا کہ ان کے کام سے متعلق معلومات اوپن اے آئی تک پہنچ چکی ہیں اس کے بعد انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کمپنی نے ان کی تحقیق سے متعلق معلومات ملنے کے بعد اسی مسئلے پر کام شروع کیا۔

    اوپن اے آئی نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے دونوں ریاضی دانوں کا کام عوامی سطح پر سامنے آنے سے پہلے نہیں دیکھا تھا کمپنی کے مطابق اس کے تیار کردہ ثبوت دونوں ریاضی دانوں کے کام سے نمایاں طور پر مختلف ہیں اور دونوں میں ثابت کیے گئے نتائج بھی ایک جیسے نہیں ہیں۔

    اوپن اے آئی نے تاہم یہ امکان مکمل طور پر مسترد نہیں کیا کہ اس کی مصنوعات استعمال کرنے سے حاصل ہونے والے شناخت ظاہر نہ کرنے والے ڈیٹا نے اس کے ماڈلز کی تربیت اور بہتری میں کسی حد تک کردار ادا کیا ہو،یوں اوپن اے آئی کا دعویٰ مصنوعی ذہانت کی جانب سے مشکل ترین ریاضیاتی مسائل حل کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے اہم پیش رفت ضرور قرار دیا جا رہا ہے، تاہم مسئلے کے حتمی حل کے لیے ریاضی کے ماہرین کی آزادانہ جانچ اور باضابطہ تصدیق ابھی باقی ہے۔

  • پنشنرز کی بائیومیٹرک تصدیق میں کمرشل بینکوں کا کردار ختم

    پنشنرز کی بائیومیٹرک تصدیق میں کمرشل بینکوں کا کردار ختم

    وزارت خزانہ کی جانب سے مزید بتایا گیا ہے کہ نادرا کا ڈیجیٹل لائف سگنل براہ راست سی جی اے اور ایم اے جی کو موصول ہوگا،پنشن اکاؤنٹس کو آئندہ غیر فعال یا ڈارمنٹ قرار نہیں دیا جائے گا۔

    پروف آف لائف جمع نہ کرانے پر بینک پنشن اکاؤنٹ پر ڈیبٹ پابندی نہیں لگا سکیں گے،چھ ماہ تک ڈیجیٹل لائف سگنل نہ ملنے پر پنشن سسپنس اسٹیٹس میں چلی جائے گی،لائف سگنل موصول ہوتے ہی پنشن خودکار طور پر بحال اور بقایا جات جاری ہوں گے۔

    وزارت خزانہ کے مطابق کمرشل بینک صرف پنشن کی ادائیگی کے ادارے کے طور پر کام کریں گے،بینک معمول کے حالات میں لائف سرٹیفکیٹ یا بائیومیٹرک ڈیٹا جمع نہیں کر سکیں گے،نئے ایس او پی کے تحت پنشن کی ادائیگی براہ راست بینک اکاؤنٹس میں جاری رہے گی،پنشنرز کے لیے فزیکل ڈسبر سر ہاف کا نظام مستقل طور پر ختم کر دیا گیا ہے،تصدیق ممکن نہ ہونے پر ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس دفاتر سے دستی تصدیق کی سہولت ہوگی۔

    انتہائی عمر رسیدہ پنشنرز فارم دس کے ذریعے لائف سرٹیفکیٹ جمع کرا سکیں گے،خاندانی پنشنرز کو ازدواجی حیثیت سے متعلق فارم بارہ جمع کرانا ہوگا 22 اگست 2026 سے پہلے ڈارمنٹ کیے گئے پنشن اکاؤنٹس دوبارہ فعال کیے جائیں گے،ستمبر 2026 سے پنشن کی رقم موصول ہونے پر پرانے ڈارمنٹ اکاؤنٹس بھی فعال ہوں گے،پنشن ادائیگی کے لیے اکاؤنٹس کھولنے اور برقرار رکھنے پر سروس چارجز نہیں ہوں گے۔

    ڈیجیٹل پروف آف لائف کیا ہے؟

    ڈیجیٹل پروف آف لائف (Digital Proof of Life) یا تصدیقِ حیات کا نظام ایک جدید ٹیکنالوجی پر مبنی طریقہ کار ہے جس کے ذریعے پنشنرز (Pensioners) گھر بیٹھے اپنی زندگی کی ڈیجیٹل تصدیق کر سکتے ہیں تاکہ ان کی پنشن بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے۔

    حکومتِ پاکستان اور نادرا (NADRA) نے بزرگ شہریوں کی سہولت کے لیے یہ نظام متعارف کرایا ہے، جس کے بعد اب پنشنرز کو ہر چھ ماہ بعد بینک یا سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے کی ضرورت نہیں رہی،پنشنرز اپنے اسمارٹ فون کے ذریعے فنگر پرنٹس اور چہرے کی شناخت (Facial Recognition) کا عمل مکمل کرتے ہیں۔

    نادرا کی پاک آئی ڈی (Pak ID) ایپ کے ذریعے پنشنرز یا ان کے اہلخانہ گھر بیٹھے یہ سرٹیفکیٹ بالکل مفت حاصل کر سکتے ہیں، جو پنشنرز موبائل ایپ استعمال کرنا نہیں جانتے، وہ نادرا کے مراکز، ای سہولت فرنچائزز یا مخصوص یونین کونسلز جا کر بھی یہ تصدیق مفت کروا سکتے ہیں۔

  • وزیر قانون کی  ون ونڈو تصدیقی پورٹل متعارف کرانے کی تجویز

    وزیر قانون کی ون ونڈو تصدیقی پورٹل متعارف کرانے کی تجویز

    وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی زیرصدارت وزارتِ قانون و انصاف میں پاسپورٹ رولز کمیٹی کا اجلاس ہوا-

    اجلاس میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ خارجہ، محکمہ پاسپورٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی اجلاس میں اوورسیز پاکستانیوں کے سفری دستاویزا ت اور دیگر ضروری کاغذات کی بروقت تصدیق سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔

    وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں اور حکومت انہیں ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے،انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنے کے لیے پاسپورٹ اور دیگر ضروری دستاویزات کی تصدیق کا عمل تیز، آسان اور مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔

    سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ دستاویزات اور ریکارڈ کی تصدیق کے لیے ایک مربوط نظام وضع کیا جائے تاکہ تصدیقی عمل تیز رفتار اور سہل بنایا جا سکے انہوں نے ریکارڈ کی تصدیق کے لیے واضح ٹائم لائن مقرر کرنے اور وزارتِ داخلہ کی سطح پر الیکٹرونک طریقہ کار متعارف کرانے کی بھی ہدایت کی، تاکہ متعلقہ سوالات اور ضروری کارروائی جلد مکمل ہوسکے۔

    وفاقی وزیر نے تصدیقی عمل میں انسانی مداخلت کم سے کم کرنے پر زور دیتے ہوئے ون ونڈو تصدیقی پورٹل متعارف کرانے کی تجویز بھی دی ان کا کہنا تھا کہ جدید اور مربوط نظام کے ذریعے اوورسیز پاکستانیوں کو دستاویزات کی تصدیق کے لیے غیرضروری مشکلات اور تاخیر سے نجات دلائی جا سکتی ہے۔

    انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تارکین وطن کو مزید سہولیات فراہم کرنے کے لیے موجودہ قواعد و ضوابط میں ضروری بہتری سے متعلق تجاویز بھی پیش کی جائیں وفاقی وزیر نے متعلقہ اداروں کو آئندہ اجلاس میں تصدیقی عمل کے حوالے سے واضح لائحہ عمل اور طریقہ کار پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہو ئے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے سرکاری خدمات کو زیادہ تیز، شفاف اور مؤثر بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

  • دو فائر فائٹر مجھے اٹھا کر بھاگے، نائن الیون سے متعلق ٹرمپ نے دلچسپ واقعہ سنا دیا

    دو فائر فائٹر مجھے اٹھا کر بھاگے، نائن الیون سے متعلق ٹرمپ نے دلچسپ واقعہ سنا دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ نائن الیون حملوں کے بعد ایک موقع پر دو فائر فائٹرز انہیں اٹھا کر وہاں سے بھاگ نکلے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ ایک عمارت ان پر گر سکتی ہے۔

    انہوں نے یہ واقعہ وائٹ ہاؤس میں نائن الیون حملوں کے امدادی کارکنوں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سنایا،ٹرمپ نے بتایا کہ وہ اپنی تعمیراتی کمپنی کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ حملے کے فوراً بعد گراؤنڈ زیرو پہنچے تھے ان کے بقول وہاں موجود ایک عمارت سے چرچرا نے کی آوازیں آرہی تھیں اور خدشہ تھا کہ وہ منہدم ہوجائے گی۔

    ٹرمپ نے کہا کہ دو طاقتور فائر فائٹرز نے انہیں بازوؤں سے پکڑ کر اٹھایا اور وہاں سے بھاگنے لگے، “میں نے کہا، ‘میں خود بھاگ سکتا ہوں یار’، مگر وہ بھا گتے رہے، کیونکہ انہیں لگا تھا کہ یو ایس اسٹیل کی عمارت گرنے والی تھی۔

    تاہم سی این این سمیت دیگر امریکی میڈیا اداروں نے اپنی رپورٹس میں قرار دیا ہے کہ نائن الیون حملوں کے حوالے سے ٹرمپ کے سنائے گئے واقعے کے حق میں شواہد موجود نہیں جبکہ ان کے بیان کے بعض حصے گمراہ کن بھی ہیں۔

    سی این این نے اپنی فیکٹ چیک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ دستیاب ریکارڈ کے مطابق 11 ستمبر کو حملے کے وقت ٹرمپ ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے کئی میل دور مڈ ٹاؤن مین ہٹن میں ٹرمپ ٹاور میں موجود تھے ٹرمپ نے بعد میں 2016 میں اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ فائر فائٹرز کا انہیں اٹھانے کا واقعہ حملوں کے ’ایک دو روز بعد‘ پیش آیا تھا۔

    سی این این کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے اس واقعے کے مزید شواہد یا تفصیلات فراہم نہیں کیں اور مؤقف اختیار کیا کہ اُس وقت ٹرمپ ایک عام شہری تھے، اس لیے ان کی ہر سرگرمی کا ریکارڈ ہونا ضروری نہیں۔

    سی این این کے مطابق ٹرمپ نے جس عمارت کا ذکر کیا اسے 2001 میں ’یو ایس اسٹیل بلڈنگ‘ کہا، جو ون لبرٹی پلازا کے نام سے معروف تھی حملوں کے بعد واقعی اس عمارت کے منہدم ہونے کے خدشات پیدا ہوئے تھے، تاہم شہری حکام نے اسے ساختی طور پر محفوظ قرار دیا تھا 12 اور 14 ستمبر کو عمار ت سے امدادی کارکنوں اور صحافیوں کو ممکنہ خطرے کے باعث باہر نکالے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔

    سی این این نے واضح کیا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ ٹرمپ اس عمارت کے اندر موجود تھے یا انہیں فائر فائٹرز نے وہاں سے نکالا تھا۔

    اسی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کے اس دعوے کے بھی کوئی شواہد سامنے نہیں آئے کہ انہوں نے گراؤنڈ زیرو پر امدادی کارروائیوں کے لیے اپنے کارکنوں کی بڑی ٹیم بھیجی تھی نیویارک فائر ڈپارٹمنٹ کے ایک سابق عہدیدار کے مطابق اگر ٹرمپ واقعی 100 کارکنوں کی ٹیم لے کر وہاں پہنچے ہو تے تو اس کا کوئی نہ کوئی ریکارڈ ضرور موجود ہوتا۔

    ٹرمپ نے اپنی حالیہ گفتگو میں یہ بھی کہا کہ ون لبرٹی پلازا ’اب بھی چرچراتی ہے‘، تاہم سی این این کے مطابق اس دعوے کی بھی کوئی بنیاد سامنے نہیں آئی، عمارت اکتوبر 2001 میں دوبارہ کھول دی گئی تھی اور آج بھی معمول کے مطابق زیر استعمال ہے۔

    ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بھی اپنے دعوے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے بیان کی گئی تمام باتیں درست تھیں انہوں نے اس واقعے کی حقیقت پر سوال اٹھانے والے صحافیوں اور میڈیا آرگنائزیشنز کو فیک نیوز کی فیکٹریاں قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ “وہ میرے 3 بار صدارتی انتخابات جیتنے پر غصے میں ہیں۔