بھارت کے خلائی ادارے اسرو (آئی اس آر او) 120سائنسدانوں کے استعفوں کے بعد مودی حکومت نے سائنسدانوں کی رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور استعفوں کے قواعد سخت کر دیے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق نجی خلائی شعبے کی تیزی سے ترقی اور بہتر معاوضوں کے باعث ماہر سائنسدان سرکاری ادارے چھوڑ کر نجی کمپنیوں کا رخ کر رہے ہیں،اس اچانک فیصلے اور سائنس دانوں کے جانے کی سب سے بڑی وجہ نجی شعبے یعنی پرائیویٹ کمپنیوں کی طرف سے ملنے والی پرکشش مراعات اور کام کا شدید دباؤ ہے۔
حالیہ برسوں میں خلائی تحقیق کے میدان میں کئی پرائیویٹ کمپنیاں اور نئے اسٹارٹ اپس سامنے آئے ہیں جو ان تجربہ کار سائنس دانوں کو سرکاری ملاز مت کے مقابلے میں کہیں زیادہ تنخواہیں، بہتر عہدے اور جدید سہولیات پیش کر رہے ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ’اسرو‘ سے 120 خلائی سائنسدانوں کے استعفوں کے بعد محکمہ خلا نے رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور استعفوں سے متعلق نئی سخت پالیسی نافذ کر دی ہے،دوسری بڑی وجہ گگن یان اور چندریان جیسے بڑے اور حساس ملکی مشنز کا شدید دباؤ ہے، جہاں دن رات کام کرنے کی وجہ سے بہت سے سائنس دان ذہنی سکون اور ذاتی زندگی کو وقت دینے کے لیے وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ لینے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سائنسدان سرکاری اداروں کے فرسودہ انتظامی نظام، محدود ترقی کے مواقع اور نسبتاً کم تنخواہوں سے نالاں ہو کر زیادہ معاوضہ اور بہتر سہولیات فراہم کرنے والی نجی خلائی کمپنیوں کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔
اس صورتِ حال کے پیش نظر بھارتی محکمہ خلائی امور نے اب استعفوں کے قواعد کو اتنا سخت کر دیا ہے کہ کوئی بھی سائنس دان اب آسانی سے نوکری نہیں چھوڑ سکے گا نئے قانون کے تحت اب اسرو کے مقامی سینٹرز کے ڈائریکٹرز براہ راست کسی سائنس دان کا استعفیٰ قبول نہیں کر پائیں گے، بلکہ ہر درخواست حتمی منظوری کے لیے براہ راست حکومت کے مرکزی محکمے کو بھیجی جائے گی تاکہ اہم ترین منصوبے ادھورے نہ رہ جائیں۔
دوسری جانب اسرو کے چیئرمین وی نارائنن نے اس صورتِ حال کو زیادہ تشویشناک قرار نہیں دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ملازمین کا آنا جانا ہر ادارے کا حصہ ہوتا ہے اور وہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں ان اقدامات کا مقصد صرف لوگوں کو روکنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ اہم منصوبوں کا کام اچانک متاثر نہ ہو، اگر کوئی ملازم جاتا ہے تو اس کی جگہ دوسرے ماہرین کو ذمہ داری سونپ دی جائے گی۔
اگرچہ اسرو میں مجموعی طور پر 14 ہزار 600 سے زائد ملازمین کام کر رہے ہیں اور100 افراد کا استعفیٰ بظاہر ایک چھوٹا عدد لگتا ہے، لیکن اصل تشویش ان سائنسدانوں کے پاس موجود برسوں کا وہ تجربہ ہے جو انہوں نے پیچیدہ خلائی مشنز پر کام کر کے حاصل کیا ہے نئے لوگوں کو بھرتی کرنا تو آسان ہے لیکن ان کی جگہ ایسے ماہرین لانا انتہائی مشکل ہے جو حساس منصوبوں کی باریکیوں سے واقف ہوں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2020 میں بھارت کی جانب سے خلائی شعبہ نجی سرمایہ کاری کے لیے کھولنے کے بعد ملک میں 400 سے زائد اسپیس اسٹارٹ اپس قائم ہو چکے ہیں، جو اب تک تقریباً 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کر چکے ہیں،اسرو کی رپورٹ کے مطابق اس وقت بھی ایک ہزار سے زائد نئی سائنسی اور تکنیکی اسامیوں پر بھرتیوں کا عمل جاری ہے، تاہم بھارت کے مستقبل کے خلائی عزائم کے لیے پرانے اور تجربہ کار سائنس دانو ں کو روکنا اب ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے









