Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • امریکی صدر کی چینی صدر سے بیجنگ میں ملاقات

    امریکی صدر کی چینی صدر سے بیجنگ میں ملاقات

    چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ 2 روزہ اہم مذاکرات کے آغاز پر امریکا اور چین پر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک حریف نہیں بلکہ شراکت دار بنیں۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے چینی اور امریکی صدور کی وفود کے ہمراہ ملاقات کے موقع پر کہا کہ امریکی وفد کو چین میں خوش آمدید کہتے ہیں، تمام عالمی بحرانوں کا حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات میں ہے، چین اورامریکا دو بڑی طاقتیں ہیں، عالمی استحکام ہمارا مشترکہ ہدف ہے۔

    جمعرات کو بیجنگ میں واقع عظیم الشان گریٹ ہال آف دی پیپل میں شی جن پنگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کا مصافحے کرتے ہوئے استقبال کیا،اس موقع پر ٹرمپ کے ہمراہ امریکی وفد میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو شامل تھے، جو ماضی میں چین کے سخت ناقد سمجھے جاتے رہے ہیں۔

    استقبالی تقریب میں چینی فوجی بینڈ نے امریکی اور چینی قومی ترانے بجائے جبکہ توپوں کی سلامی بھی دی گئی، رنگ برنگے لباس میں ملبوس اسکول کے بچوں نے امریکی اور چینی پرچم لہراتے ہوئے ’ویلکم، ویلکم‘ کے نعرے لگائے۔

    ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے شی جن پنگ کو عظیم رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ ان کے اس بیان کو پسند نہیں کرتے، مگر وہ پھر بھی یہی کہیں گے،یہ شاید دنیا کی سب سے بڑی سربراہ ملاقات ہوسکتی ہے اور انہیں امید ہے کہ امریکا اور چین کے تعلقات پہلے سے زیادہ بہتر ہوں گے۔

    اس کے جواب میں شی جن پنگ نے کہا کہ مستحکم چین امریکا تعلقات پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہیں ان کے بقول تعاون دونوں ممالک کے حق میں ہے جبکہ تصادم نقصان دہ ثابت ہوگا، اس لیے دونوں طاقتوں کو شراکت داری کا راستہ اپنانا چاہیے۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ عالمی امن اور معاشی ترقی کو برقرار رکھنا دونوں ممالک کی تاریخی ذمہ داری ہے، پوری دنیا کی نظریں اس وقت بیجنگ میں ہونے والے مذاکرات پر ہیں، اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کو باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر چلنا ہوگا۔

    چینی صدرنے ٹرمپ سے کہا کہ دنیا اس وقت ایران تنازع اور عالمی سپلائی چین کے سنگین چیلنجز سے گزر رہی ہے اس وقت دنیا میں ایسی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں جو ایک صدی میں نہیں دیکھی گئیں، بین الاقوامی صورتحال مسلسل تغیر پذیر اور ہنگامہ خیز ہے، کیا ہم مل کر عالمی چیلنجوں کا مقابلہ اور دنیا کو استحکام فراہم کر سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی دنیا اور اپنے عوام لیے ایک روشن مستقبل تعمیر کر سکتے ہیں؟ یہ سوالات ہیں جن کا جواب بڑے ممالک کے رہنماؤں کی حیثیت سے ہمیں دینا ہے ۔

    شی جن پنگ نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات سے زیادہ مشترکہ مفادات موجود ہیں، دونوں ممالک کے مستحکم دوطرفہ تعلقا ت پوری دنیا کے لیے فائدے مند ہیں، چین اور امریکا دونوں تعاون سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور تصادم سے نقصان ،ہمیں ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار بننا چاہیے، ہمیں ایک دوسرے کو کامیاب اور خوشحال ہونے میں مدد کرنی چاہیے، دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنے کا صحیح راستہ تلاش کرنا چاہیے۔

    اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ آج صدر شی جن پنگ سے ملاقات کرنا باعث اعزاز ہے، اور آپ کا دوست ہونا اعزاز کی بات ہے وہ اس دور ے پر "دنیا کے بہترین کاروباری رہنماؤں” کو ساتھ لائے ہیں بعض لوگوں نے اس ملاقات کو "اب تک کی سب سے بڑی سمٹ” قرار دیا ہے، اور وہ اس اجلاس کے منتظر ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ تعلقات ہمیشہ سے انتہائی شاندار رہے ہیں، تاریخی سربراہی ملاقات کا سب سے بڑا اور بنیادی فوکس باہمی تجارت پر ہوگا، دونوں ممالک کے درمیان آنے والی کئی دہائیوں تک بہترین اور مضبوط تعلقات قائم رہیں گے ہمارے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں، اور جب بھی مشکلات آئیں ہم نے مل کر انہیں حل کیا، میں آپ کو کال کرتا تھا اور آپ مجھے کال کرتے تھے، لوگ نہیں جانتے کہ جب بھی ہمیں کوئی مسئلہ درپیش ہوا، ہم نے جلدی حل کر لیا، میں ہر ایک سے یہی کہتا ہوں کہ چینی صدر عظیم رہنما ہیں۔

    دونوں رہنما شام میں سرکاری عشائیے میں بھی شریک ہوں گے جبکہ ٹرمپ تاریخی ٹیمپل آف ہیون کا دورہ کریں گے، جہاں قدیم چینی شہنشاہ اچھی فصل کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے۔

    صدر ٹرمپ بدھ کی شب خصوصی طیارے ایئر فورس ون کے ذریعےچین کے 2 روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچے تھے، ایلون مسک اور جینسن ہوانگ سمیت معروف کاروباری شخصیات بھی ان کے ہمراہ ہیں،یہ شخصیات ان بڑے تجارتی معاہدوں کی علامت سمجھی جارہی ہیں جن کی امید ٹرمپ اس دورے سے وابستہ کیے ہوئے ہیں۔

    بیجنگ کا یہ دورہ تقریباً ایک دہائی بعد کسی امریکی صدر کا پہلا دورۂ چین ہے۔ اس سے قبل ٹرمپ 2017 میں اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے ہمراہ چین آئے تھے مذاکرات میں زرعی تجارت، طیاروں کی خریداری، ٹیرف جنگ، ایران، تائیوان، مصنوعی ذہانت، نایاب معدنیات کی برآمدات اور دوطرفہ تجارتی تعلقات اہم موضوعات ہوں گے۔

    صدر ٹرمپ نے بیجنگ روانگی سے قبل کہا تھا کہ وہ شی جن پنگ پر زور دیں گے کہ امریکی کمپنیوں کے لیے چینی منڈیاں مزید کھولی جائیں تاکہ امریکی کارو باری شخصیات اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرسکیں تاہم اس بار ٹرمپ کو ایک زیادہ مضبوط اور پراعتماد چین کا سامنا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے در میا ن تجارتی اور جغرافیائی سیاسی اختلافات اب بھی برقرار ہیں ایران کا معاملہ بھی مذاکرات کا اہم حصہ ہوگا کیونکہ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایرانی صورتحال پر شی جن پنگ سے طویل گفتگو کریں گے،امریکا اور چین کے درمیان جاری تجارتی جنگ بھی مذاکرات کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے، گزشتہ برس ٹرمپ کے بھاری ٹیرف اقدامات کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر 100 فیصد سے زائد محصولات عائد کیے تھے۔

    دونوں رہنما جنوبی کوریا میں گزشتہ ملاقات کے دوران طے پانے والے ایک سالہ ٹیرف معاہدے میں توسیع پر گفتگو کریں گے، اگرچہ کسی حتمی معاہدے کی ضمانت موجود نہیں تائیوان کا معاملہ بھی بات چیت میں شامل ہوگا، ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ تائیوان کو امریکی اسلحہ فروخت کے معاملے پر بھی شی جن پنگ سے بات کریں گے، جس پر خطے کے اتحادی ممالک اور تائی پے کی گہری نظر ہوگی۔

  • یو اے ای کی نیتن یاہو کے خفیہ دورے کی تردید

    یو اے ای کی نیتن یاہو کے خفیہ دورے کی تردید

    ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ جنگ کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے متحدہ عرب امارات کے مبینہ خفیہ دورے نے خطے کی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا جہاں ان کی ملاقات اماراتی صدر شیخ محمد بن زید سے ہوئی ، تاہم متحدہ عرب امارات نے اس دورے کی تردید کی ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو اور محمد بن زید کی یہ ملاقات عمان کی سرحد کے قریب العین شہر میں ہوئی جو کئی گھنٹوں تک جاری رہی اور اس نے دونوں ممالک کے تعلقات میں تاریخی پیش رفت کی بنیاد رکھی –

    اس انکشاف پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کر نے والوں سے حساب لیا جائے گا انہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعاون کو ایک احمقانہ جوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام سے دشمنی کے لیے اسرا ئیل کے ساتھ گٹھ جوڑ ناقابلِ معافی ہے عباس عراقچی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ نیتن یاہو نے جو انکشاف کیا ہے، ایرانی سیکیورٹی ادارے بہت پہلے اس حوا لے سے قیادت کو آگاہ کر چکے تھے۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ غیرا علا نیہ یا خفیہ دوروں سے متعلق تمام دعوے بے بنیاد ہیں۔

    اماراتی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے بلکہ یہ ابراہم معاہدے کے تحت کھلے عام استوار کیے گئے ہیں یہ تعلقات کسی رازداری پر مبنی نہیں ہیں، اس لیے خفیہ ملاقاتوں کی باتیں حقیقت کے خلاف ہیں اس مبینہ دورے کے دوران دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون پر بات چیت کی گئی تھی۔

    امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کو اپنا دفاعی نظام آئرن ڈوم فراہم کیا جس نے ایران کی جانب سے کیے گئے مبینہ حملوں کو روکنے میں مدد دی اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے سربراہ نے بھی سیکیورٹی تعاون کے سلسلے میں یو اے ای کے دورے کیے تھے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے 2020 میں ابراہم معاہدے کے تحت باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔

  • سونا سستا چاندی کی قیمت میں اضافہ

    سونا سستا چاندی کی قیمت میں اضافہ

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں کمی جبکہ چاندی کی قیمت میں اضافہ ہوگیا۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 11ڈالر کی کمی سے 4ہزار 690ڈالر کی سطح پر آگئی جس کے بعد مقامی مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت بھی 1ہزار 100روپے کی کمی سے 4لاکھ 91ہزار 362روپے اور فی دس گرام سونے کی قیمت 943روپے کم ہو کر 4لاکھ 21ہزار 263روپے کی سطح پر آگئی۔

    دوسری جانب فی تولہ چاندی کی قیمت 231 روپے کے اضافے سے 9ہزار 139 روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 198روپے کے اضافے سے 7ہزار 835روپے کی سطح پر آگئی۔

  • اداکارہ مندانا کریمی نے 16 برس بعد بھارت چھوڑنے کا اعلان کردیا

    اداکارہ مندانا کریمی نے 16 برس بعد بھارت چھوڑنے کا اعلان کردیا

    ایرانی نژاد اداکارہ مندانا کریمی نے 16 برس بعد بھارت چھوڑنے کا اعلان کردیا۔

    ایرانی نژاد اداکارہ اور ماڈل مندانا کریمی نے موجودہ ایران امریکا کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت چھوڑنے کا اعلان کیا مندانا کریمی نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ تقریباً 16 برس بھارت میں گزارنے کے بعد اب اپنے دوسرے گھر کو الوداع کہنے کا فیصلہ کر رہی ہیں، مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع اور ایران کی صورتحال نے انہیں جذباتی طور پر بہت متاثر کیا ہے۔

    ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بالی وڈ اداکارہ نے 18 برس کی عمر میں ایران چھوڑا تھا اور وہ اداکاری کی غرض سے ہندوستان آگئی تھیں لیکن اب امریکا ایران حالیہ تنازع اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد اداکارہ نے بھارت چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    انسٹاگرام اسٹوری پر حالیہ سوال و جواب کے سیشن کے دوران ایک مداح نے اداکارہ سے ممبئی چھوڑ کر جانے کا سوال کیا جس پر مندانا نے جواب دیا ‘میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میں بھارت کو یوں الوداع کہوں گی یہ یقیناً مشکل ہوگا لیکن ہندوستان میں تقریباً 16 سال گزارنے کے بعد، آخر کار میں اپنا دوسرا گھر (بھارت) چھوڑ کر جا رہی ہوں، اب سب کچھ نیا ہوگا، یہ ایک نئی شروعات ہے’۔

    البتہ مندانا کریمی نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ بھارت چھوڑ کر کہاں جارہی ہیں۔

    انہوں نے اپنے پیغام میں مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے انہیں شہرت، محبت اور نئی شناخت دی تاہم موجودہ حالات کے باعث انہوں نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہےمیرا بیگ تیار ہے اور میں بھارت سے جانے کی تیاری کررہی ہوں، اداکارہ نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے ممبئی میں احتجاج میں حصہ لینے کے بعد اپنے بہت سے دوستوں کو کھو دیا ہے اور میں محسوس کرتی ہوں کہ بھارت نے مجھے دھوکہ دیا ہےمیں 16 سال تک یہاں رہی ہوں، میں نے ممبئی میں خود کو کبھی اتنا اکیلا محسوس نہیں کیا جتنا ان دو مہینوں کے دوران کیا ہے۔

    ہندوستان ٹائمز کے مطابق مارچ میں مندانا کریمی نے ایک بیان دیا تھا جس میں انہوں نے بتایا کہ 10 سال قبل ان پر ایران میں پابندی عائد کردی گئی تھی، لہٰذا وہ وہاں واپس نہیں جا سکتیں، وہ بھارت سے مایوس ہیں’مجھے ہندوستان میں کسی قسم کی سپورٹ نہیں ملی اور اچانک جب آیت اللہ خامنہ ای کا انتقال ہوگیا، ہندوستان میں سب کی رائے ہے، ہر کوئی سڑکوں پر ہے اور وہ حقیقت میں خامنہ ای کے لیے ماتم کر سکتے ہیں، جو میں نہیں کر سکی’۔

    اداکارہ نے کہا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر میں ایک جگہ پھنس کر رہ گئی ہوں اور میرے قریب ترین دوستوں میں سے کسی کے پاس میرا پتہ نہیں ہے، اور پھر بھی میں میڈیا سے بات کرنے کی کوشش کر رہی ہوں تاکہ ایرانیوں کی آواز کو بلند کرسکوں میں پچھلے 6 سالوں سے فلموں میں اداکاری نہیں کر رہی، یہ میرا فیصلہ تھا کہ میں فلموں میں کام کرنا چھوڑ دوں، میں جانتی ہوں کہ میرے ملک (ایران) میں کیا ہو رہا ہے، میری پیدائش اور پرورش وہیں ہوئی، میں 18 سال تک ایران میں قیام پذیر تھی’۔

  • پاکستان کا سعودی دفاعی معاہدے میں ترکیہ اور قطر کی شمولیت کا اشارہ، بلومبرگ

    پاکستان کا سعودی دفاعی معاہدے میں ترکیہ اور قطر کی شمولیت کا اشارہ، بلومبرگ

    امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق پاکستان نے اشارہ دیا ہے کہ ترکیہ اور قطر بھی سعودی عرب کے ساتھ اس کے باہمی دفاعی تعاون کے معاہدے کا حصہ بن سکتے ہیں۔

    امریکی نیوز ویب سائٹ ’بلومبرگ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیر کی رات انٹرویو کے دوران کہا کہ اگر قطر اور ترکیہ بھی اس موجود ہ معاہدے میں شامل ہو جاتے ہیں تو یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہو گی اس اقدام کا مقصد ہم خیال ممالک کے درمیان تعاون کا ایک وسیع پلیٹ فارم بنانا ہے تاکہ علاقائی استحکام اور اجتماعی سلامتی کو مزید تقویت دی جا سکے اس انتظام کو فی الحال حتمی شکل دی جا رہی ہے اور مستقبل میں اسے ایک وسیع تر علاقائی سیکیورٹی فریم ورک کی شکل دی جا سکتی ہے۔

    یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان تنازع نے خلیجی ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور توانائی کی ترسیل سمیت سمندری راستوں کی حفاظت کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں پاکستان اس بحران کے دوران ایک اہم سفارتی ثالث کے طور پر ابھرا ہے جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں میں آسانی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ مسلسل مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی اپیل کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب اور پاکستان نے ستمبر 2025 میں ایک اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت کسی بھی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا ایران کی جانب سے علاقائی اہداف پر جوابی حملوں کے بعد سے دونوں ممالک نے سیکیورٹی کوآرڈینیشن میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور گزشتہ ماہ پاکستانی فوج کا ایک دستہ بھی سعودی عرب پہنچا ہے اگر ترکیہ اور قطر بھی اس انتظام کا حصہ بنتے ہیں تو اس سے کئی بااثر مسلم ممالک ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو جائیں گے، جو خطے کی سیکیورٹی اور استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

  • نریندر مودی کی جانب سے عوام سے ایک سال تک سونا نہ خریدنے کی اپیل

    نریندر مودی کی جانب سے عوام سے ایک سال تک سونا نہ خریدنے کی اپیل

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے عوام سے ایک سال تک سونا نہ خریدنے کی اپیل کیے جانے کے بعد بھارت کی مرکزی حکومت نے ملک میں سونے اور چاندی کی درآمد پر عائد ڈیوٹی کو 6 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا ہے۔

    بھارتی وزارتِ خزانہ کی جانب سے بدھ، 13 مئی 2026 کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق سونے اور چاندی پر بنیادی کسٹمز ڈیوٹی 5فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد، جبکہ زرعی انفراسٹرکچر اینڈ ڈیولپمنٹ سیس کو ایک فیصد سے بڑھا کر پانچ فیصد کر دیا گیا ہے اس فیصلے کا مقصد بڑھتے ہوئے درآمدی بل کو کم کرنا، غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کا تحفظ اور ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہوتے ہوئے روپے کو سہارا دینا ہے۔

    یہ سخت پالیسی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیرِ اعظم نریندر مودی نے حال ہی میں شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ ملکی مفاد میں ایک سال تک سونا خریدنے سے گریز کریں اور غیر ضروری درآمدات میں کمی لائیں، وزیرِ اعظم مودی کا کہنا تھا کہ ”شہری ایندھن کا استعمال کم کریں، غیر ملکی دور ے موخر کریں اور قومی مفاد میں سونے کی خریداری میں تاخیر کریں-

    بھارت میں خام تیل کی قیمتیں مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کی وجہ سے پہلے ہی بلند سطح پر ہیں، جس سے معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے مقامی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں فوری اضافہ ہو جائے گا، جس سے درآمدات میں کمی اور تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی صنعت سے وابستہ عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے زیورات کی طلب میں کمی آسکتی ہے اور سونا اسمگل کرنے والے نیٹ ورک دوبارہ سرگرم ہو سکتے ہیں۔

    بھارت دنیا میں سونے کا دوسرا بڑا صارف ہے، اور سال 2025-26 کے دوران سونے کی درآمدات پر ریکارڈ 71.98 ارب ڈالر خرچ کیے گئے، جو ملک کے مجموعی درآمدی بل کا تقریباً 9 سے 10 فیصد بنتا ہے۔ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کے ماہرِ معاشیات وشرت رانا کا کہنا ہے کہ سونے کی درآمدات میں کمی سے بھارت کے کرنٹ اکاؤنٹ سے ہونے والے اخراج کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کیونکہ یہ اخراج کافی زیادہ ہے-

  • منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے کی ہدایت

    منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے کی ہدایت

    کراچی میں منشیات کے بڑے نیٹ ورک کی مبینہ سرغنہ انمول عرف پنکی کا معاملہ اب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ تک پہنچ گیا ہے، جہاں چیئر مین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پنکی کو ضمانت دینے والے جج کے ٹیسٹ کرانے تک کی ہدایت دے دی۔

    اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم کی زیر صدارت ہوا، جس میں کراچی سے گرفتار بدنام زمانہ ڈرگ ڈیلر انمول عر ف پنکی کا معاملہ زیر بحث آیا اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سرعام منشیات فروشی میں ملوث ملزمہ پروٹوکول کے ساتھ عدالتوں میں گھومتی رہی، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

    انہوں نے ڈی جی اے این ایف کو ہدایت کی کہ پنکی کے سپلائرز اور نیٹ ورک کی مکمل تفصیلات حاصل کی جائیں اور اس حوالے سے فوری انکوائری کی جائے سینیٹر فیصل سلیم نے کہا کہ اگر کسی پارلیمنٹیرین یا بااثر شخصیت کا نام سامنے آتا ہے تو اس کی تفصیلات بھی کمیٹی کو فراہم کی جائیں جن افراد کے نام کال لسٹ میں موجود ہیں، انہیں بحالی مراکز بھیجا جائے، جبکہ جس جج نے ملزمہ کی ضمانت منظور کی، ان کا بھی ٹیسٹ کرایا جائے۔ کمیٹی نے سیکرٹری داخلہ سے پنکی کے معاملے پر تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی۔

    کراچی پولیس اور وفاقی اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے چند روز قبل کراچی کے علاقے گارڈن سے انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا، جسے شہر بھر میں منشیات کے بڑے نیٹ ورک کی مبینہ سرغنہ قرار دیا جا رہا ہے ملزمہ طویل عرصے سے مفرور تھی اور اس کے خلاف 10 سے زائد سنگین مقدمات درج تھے ملزمہ کی سٹی کورٹ میں پیشی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں وہ بغیر ہتھکڑی اور مبینہ پروٹوکول کے ساتھ عدالت کے احاطے میں گھومتی دکھائی دی، ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا –

    واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور ایڈیشنل آئی جی کراچی نے فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا کہا کہ قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور اس معاملے میں ملوث تمام افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

  • ویرات کوہلی پر الزامات لگانے کیلئےرقم کی پیشکش ہوئی، جرمن خاتون انفلوئنسر کا دعویٰ

    ویرات کوہلی پر الزامات لگانے کیلئےرقم کی پیشکش ہوئی، جرمن خاتون انفلوئنسر کا دعویٰ

    ےجرمنی اور جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی مشہور سوشل میڈیا انفلوئنسر لز لز نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی کرکٹر ویرات کوہلی کے خلاف بیان دینے کے لیے کچھ صحافیوں نے انہیں رقم کی پیشکش کی تھی، تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ کوہلی نے غیر مناسب رویہ اختیار کیا۔

    انفلوئنسر نے کہا کہ انہوں نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا کیونکہ وہ کسی بھی صورت میں شہرت یا پیسے کے لیے کسی کھلاڑی کی ساکھ کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتیں،لز لز اس وقت سرخیوں میں آئی تھیں جب ویرات کوہلی نے انسٹاگرام پر ان کی ایک پوسٹ کو لائک کیا تھا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک طوفان کھڑا ہو گیا تھا۔

    اب لز لز نے بتایا ہے کہ کچھ میڈیا اداروں نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور انہیں پیسوں کا لالچ دیا تاکہ وہ ویرات کوہلی پر غلط الزامات لگائیں اور انہیں بدنام کریں انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ویرات کوہلی میرے پسندیدہ کرکٹر ہیں اور میں ان کے ساتھ ایسا کیوں کروں گی؟ ویرات نے کچھ بھی غلط نہیں کیا اور نہ ہی ان کی نیت خراب تھی۔

    ان کے مطابق وہ خود انڈیا کے کلچر پر ویڈیوز بناتی ہیں اور آئی پی ایل میں ویرات کی ٹیم آر سی بی کی سپورٹر بھی ہیں، شاید اسی وجہ سے ان کا مواد کوہلی کے فیڈ پر آیا انفلوئنسر نے انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی ویرات اور انکی جعلی اے آئی تصاویر پر تبصرہ کرتےہوئے کہا کہ میرے لیے تو یہ سب مذاق ہے، لیکن ویرات کے لیے یہ اچھا نہیں ہے کیونکہ ان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

    لز لز نے کہا کہ ویرات انڈیا کے بہت بڑے آئیکون ہیں، وہ انڈیا کے میسی یا رونالڈو ہیں، اس لیے لوگوں کو ان کا نام اس طرح خراب نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کا احترام کرنا چاہیےویرات نے ان سے کوئی غیر مناسب رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی ان کا مقصد کسی کو پریشان کرنا تھا، جب میں ایک صبح سوئی اٹھی تو مجھے ایسا لگا جیسے میں کسی نیٹ فلکس سیریز کے سنسنی خیز قصے کا حصہ بن گئی ہوں، ہر طرف میری ہی تصاویر تھیں اور جرمنی و جنوبی افریقہ کے میڈیا میں بھی اس کا تذکرہ ہو رہا تھا۔

    انہوں نے مذاقاً یہ بھی کہا کہ اس واقعے کے بعد اب ویرات کوہلی جرمنی میں بھی بہت مشہور ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اس بات کو سراہا کہ اس واقعے کے بعد ایک کرکٹ میچ بھی جرمنی میں منعقد ہوا، جہاں وہ اینکر کے طور پر شامل ہوئیں اگرچہ اس تنازع کے بعد انہیں کئی ریئلٹی شوز اور اشتہارات کی پیشکشیں ہوئیں لیکن انہوں نے صاف کر دیا کہ وہ صرف وہی کام کریں گی جو ان کے اخلاقی اصولوں کے مطابق ہو۔

    یہ پہلا موقع نہیں جب ویرات کوہلی کا انسٹاگرام ’لائیک‘ وائرل ہوا ہو۔ٕ پہلے بھی اداکارہ اونیت کائور کے ساتھ ایسا ہوا تھا اور بعد میں ویرات کوہلی نے خود وضاحت جاری کی تھی کہ انسٹاگرام الگورتھم کی غلطی سے ایسا ہو سکتا ہے اور ان کا کوئی خاص مقصد نہیں تھا ویرات کوہلی انسٹاگرام پر سب سے زیادہ فالو کیے جانے والے بھارتی اسٹار ہیں اور ان کی چھوٹی سی حرکت بھی دنیا بھر میں بحث کا موضوع بن جاتی ہے-

  • ریاستی اداروں کے درمیان مکمل یکسوئی پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے، عطا اللہ تارڑ

    ریاستی اداروں کے درمیان مکمل یکسوئی پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے، عطا اللہ تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن ریاست کے طور پر بے مثال قربانیاں دے چکا ہے، جبکہ بھارت اپنے داخلی مسائل اور ناکامیوں کا الزام پاکستان پر عائد کر کے عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ’معرکہ حق‘ کے حوالے سے انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف عالمی سطح پر فرنٹ لائن ریاست کا کردار ادا کر رہا ہے اور اس جنگ میں دی جانے والی قربانیاں ناقابلِ فرا موش ہیں، بھارت میں دہشتگردی اس کا اپنا داخلی مسئلہ ہے، تاہم نئی دہلی حکومت ہمیشہ اپنی ناکامیوں اور داخلی بحرانوں کو بیرونی رنگ دے کر پاکستان پر الزامات عائد کرتی رہی ہے بھارت نے پاکستان پر بلااشتعال جارحیت مسلط کی، لیکن پاکستان نے ذمہ داری، تدبر اور قومی یکجہتی کے ساتھ صورتحال کا مقا بلہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کی تحقیقات کیے بغیر فوری طور پر پاکستان پر الزام عائد کر دیا گیا، جبکہ وزیراعظم پاکستان نے خود شفاف تحقیقات میں تعاون کی پیش کش کی تھی، بھارت کسی غیر جانبدار تحقیقات سے بھاگ گیا کیونکہ پہلگام واقعہ دراصل ایک ’فالس فلیگ آپریشن‘ تھا پہلگام کا علاقہ سرحد سے بہت دور اور بھارتی فوج کے مضبوط کنٹرول والے علاقے میں واقع ہے، اس کے باوجود پاکستان پر الزامات عائد کیے گئے اس واقعے نے عا لمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔

    انہوں نےکہا کہ جموں و کشمیر ایک عالمی اور بین الاقوامی تنازع ہے،جس پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو دبایا نہیں جا سکتا اور عالمی برادری کو اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگاریاستی اداروں کے درمیان مکمل یکسوئی پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے، پاکستان کی سول اور عسکری قیادت ایک صفحے پر ہے اور چیلنجز سے نمٹنے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت قابلِ تحسین ہے۔

  • پاکستان میں چیمپئنز ٹرافی نے ریکارڈ توڑ دیئے،17,700 کروڑ پاکستانی روپے کی ریکارڈ آمدنی

    پاکستان میں چیمپئنز ٹرافی نے ریکارڈ توڑ دیئے،17,700 کروڑ پاکستانی روپے کی ریکارڈ آمدنی

    آئی سی سی (ICC) نے پاکستان میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی 2025 سے تقریباً 17,700 کروڑ پاکستانی روپے کی ریکارڈ آمدنی حاصل کی ہے، یہ ایونٹ پاکستا ن کرکٹ کی تاریخ میں تجارتی لحاظ سے ایک بہت بڑی کامیابی ثابت ہوا ہے۔

    آئی سی سی (ICC) نے پاکستان میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی 2025 سے تقریباً 17,700 کروڑ پاکستانی روپے کی ریکارڈ آمدنی حاصل کی جبکہ خالص منافع 16,300 کروڑ پاکستانی روپے سے تجاوز کر گیا جبکہ 2025 کی چیمپئنز ٹرافی کے لیے مجموعی انعامی رقم میں 53 فیصد اضافہ کیا گیا، جس میں فاتح ٹیم کو 2.24 ملین ڈالر (تقریباً 62 کروڑ سے زائد پاکستانی روپے) ملیں گے۔

    یہ ٹورنامنٹ فروری 2025 میں پاکستان میں منعقد ہوا، جو دو دہائیوں بعد ملک میں ہونے والا بڑا آئی سی سی ایونٹ تھا یہ اعداد و شمار ایونٹ کی تجارتی مقبولیت اور پاکستان میں کرکٹ کی واپسی کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ہے۔