Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان

    ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان

    محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 12 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق اس دوران کشمیر، بالائی خیبرپختونخوا، شمالی اور مشرقی پنجاب، گلگت بلتستان، جبکہ شمالی اور مشرقی بلوچستان کے چند مقامات پر تیز ہواؤں، گرج چمک اور بارش کی توقع ہے آج صبح ریکارڈ کیے گئے درجہ حرارت کے مطابق اسلام آباد اور مظفرآباد میں کم سے کم درجہ حرارت 22 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں 27، کراچی میں 30، گلگت میں 23 جبکہ مری میں 17 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مطلع جزوی ابرآلود رہنے اور صبح اور رات میں کہیں کہیں بونداباندی کا امکان ہے شہر کا موسم مرطوب، مطلع جزوی ابرآلود رہنے کا امکان ہے شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 29.1 ڈگری سینٹی گریڈ اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہ سکتا ہےہوا میں نمی کا تناسب 78 فیصد ہے اور سمندری ہوائیں 18 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں، شہر میں صبح اور رات میں کہیں کہیں بونداباندی کا بھی امکان ہے جبکہ تیز ہوائیں بھی چلتی رہیں گی۔

  • پنجاب کی تمام تحصیلوں میں الیکٹرک بسیں مہیا کی جائیں گی،وزیر اعلیٰ پنجاب

    پنجاب کی تمام تحصیلوں میں الیکٹرک بسیں مہیا کی جائیں گی،وزیر اعلیٰ پنجاب

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ حکومت کا ہدف پنجاب کی تمام تحصیلوں تک ماحول دوست، جدید اور کم کرائے والی سفری سہولتیں پہنچانا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام اس سے مستفید ہو سکیں۔

    لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا کہ حکومت عوام کو معیاری اور سستی سفری سہولتیں فراہم کرنے کے لیے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں مسلسل سرمایہ کاری کر رہی ہےمزید 1500 الیکٹرک بسوں کی شمولیت کے بعد پنجاب میں مجموعی طور پر تقریباً 3 ہزار بسیں عوام کی خدمت کے لیے دستیاب ہوں گی۔

    مریم نواز نے کہا کہ مختلف اضلاع اور تحصیلوں میں بسوں کی ضرورت اور طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے بعض علاقوں کو 10، 15 یا اس سے زیادہ بسیں فراہم کی گئی ہیں، تاہم جہاں مزید ضرورت ہوگی وہاں بھی مرحلہ وار بسیں فراہم کی جائیں گی،انہوں نے صوبائی اسمبلی کے ارکان سے کہا کہ اگر ان کے حلقوں میں مزید بسوں کی ضرورت ہے تو وہ حکومت کو آگاہ کریں انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جیسے جیسے نئی بسیں موصول ہوتی جائیں گی، انہیں پنجاب کی تمام 147 یا 148 تحصیلوں تک پہنچایا جائے گا اور ہر علاقے کی ضرورت کے مطابق بسوں کی تعداد بھی پوری کی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ پنجاب ملک کا وہ صوبہ بن چکا ہے جس نے اپنے شہریوں کو ماحول دوست، جدید، اقتصادی اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ الیکٹرک ٹرانسپورٹ فراہم کی ہے ان بسوں سے نہ صرف عوام کو کم کرائے میں بہترین سفری سہولتیں مل رہی ہیں بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد مل رہی ہے خوشی ہے کہ عوام اس منصو بے سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ سب کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب نے محکمہ ٹرانسپورٹ، صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ، سیکرٹری ٹرانسپورٹ اور پورے محکمے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہایت محنت، ذمہ داری اور بہترین انداز میں اس منصوبے کو آگے بڑھایا ہے انہوں نے متعلقہ حکام کو شاباش دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ آئندہ بھی اسی جذبے اور محنت سے عوامی خدمت کا یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔

    قبل ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب کی زیرصدارت ایک اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ گوجرانوالہ، گجرات، راولپنڈی، ملتان، ساہیوال، بہاولپور، ڈی جی خان، فیصل آباد اور سرگودھا ڈویژنز کی 91 تحصیلوں میں 1500 بسیں چلائی جائیں گی۔ پہلے فیز میں پنجاب کی 91 تحصیلوں میں 1500 بسیں چلائی جائیں گی اجلاس میں تحصیل لیول پر 1500 الیکٹرک بسوں کی خریداری کے لیے پی سی ون منظور دی گئی، اجلاس میں الیکٹرک بسوں، گوجرانوالہ اور فیصل آباد ماس ٹرانزٹ، ای ٹیکسیز، لاہور SRT، الیکٹرک بائیکس، کمانڈ کنٹرول سینٹر اور مری گلاس ٹرین پر بر یفنگ دی گئی۔

    فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں شاہکار ماس ٹرانزٹ سسٹم پر کام تیزی سے جاری ہے۔ گوجرانوالہ اور فیصل آباد ماس ٹرانزٹ کے بارے میں تفصیلی پراگریس رپورٹ پیش کی گئی پنجاب کے اضلاع میں 400 فعال بسیں جلد الیکٹرک ہوں گی۔ اضلاع میں مزید 212 بسیں، 28 اضلاع میں مزید 100 بسیں، 10 جولائی کو افتتاح کے لیے تیار، جبکہ 61 بسیں فوراً لانچ کرنے کا حکم دیا گیا۔

    جھنگ میں 15، کبیر والا 9، بھکر 9، اٹک 9، مانڈی 9، حافظ آباد 9، چنیوٹ 9، لیہ 9، اوکاڑہ 9 اور سیالکوٹ 9 بسیں بھی فوراً فنکشنل کرنے کا حکم دیا گیا۔ مختلف اضلاع میں نئی 189 الیکٹرک بسیں سافٹ لانچنگ کے لیے تیار، وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے آن لائن افتتاح کا عندیہ دے دیا۔ مزید 112 بسیں گوجرانوالہ، گجرات، شیخوپورہ، ملتان، مری، وہاڑی، قصور، لودھراں، ننکانہ اور نارووال پہنچ گئیں، 25 جولائی سے چلنا شروع ہوں گی۔

    مزید 488 بسیں 20 جولائی کو چینی بندرگاہ سے پنجاب بھیجی جائیں گی۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے کوٹ ادو، تلہ گنگ اور تونسہ شریف میں الیکٹرک بس لانچ کو بھی فوری بھیجنے کا حکم دیا۔ وہاڑی اور لودھراں میں بھی بس چلانے کا حکم، جبکہ وہاڑی، لودھراں اور ننکانہ میں الیکٹرک بسوں کی تعداد بڑھانے کی ہدایت کی گئی جہاں جہاں 15 بسوں سے کم ہیں وہاں مزید بسیں بھیجی جائیں، کم از کم 15، 15 بسیں ہونی چاہئیں، مریم نواز شریف۔ پنجاب میں الیکٹرک بسیں بھی لائے ہیں، مینوفیکچرنگ انڈسٹری بھی لائے ہیں۔

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان، 100 انڈیکس 1,300 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان، 100 انڈیکس 1,300 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو بھی تیزی کا رجحان برقرار رہا، جہاں کاروبار کے آغاز میں ہی بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 1,300 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا۔

    کاروبار کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1354 پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 85 ہزار 404 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا اور یوں ایک لاکھ 85 ہزار کی نفسیاتی حد بھی عبور کر لی،مارکیٹ کے دوران اتار چڑھاؤ بھی دیکھنے میں آیا، ایک موقع پر 100 انڈیکس ایک لاکھ 84 ہزار 840 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک آیا، تاہم بعد ازاں تیزی کا رجحان دوبارہ غالب آ گیا اور انڈیکس ایک لاکھ 85 ہزار 714 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک جا پہنچا۔

    مارکیٹ میں کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے شعبوں میں نمایاں خریداری دیکھی گئی۔ انڈیکس پر زیادہ اثر رکھنے والے شیئرز، جن میں حبکو، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، ایچ بی ایل، ایم ای بی ایل اور یو بی ایل شامل ہیں مثبت زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری روز کے اختتام پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس ایک لاکھ 84 ہزار 50 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، جس کے مقابلے میں آج نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔

    دوسری جانب عالمی مارکیٹوں میں ایشیائی حصص جمعرات کو دباؤ کا شکار رہے سرمایہ کاروں نے چِپ ساز کمپنیوں میں منافع وصولی کو ترجیح دی، جبکہ کرنسی اور بانڈ مارکیٹوں کی نظریں امریکی روزگار کے اعداد و شمار پر مرکوز رہیں، جن سے شرح سود کے مستقبل کے بارے میں اہم اشارے ملنے کی توقع ہے۔

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بھی چار ماہ کی نئی کم ترین سطح پر آ گئیں برینٹ خام تیل تقریباً 0.8 فیصد کمی کے ساتھ 71 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، اس کی ایک وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قطر میں ایران کے ساتھ مذاکرات کو مثبت قرار دینا اور آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت میں اضافہ بھی بتایا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ رواں مالی سال 2026-27 کا آغاز بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے لیے مثبت رہا ہے اور حالیہ دنوں میں مارکیٹ مسلسل نئی بلندیاں حاصل کر رہی ہے۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے، معاشی اشاریوں میں بہتری اور کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے مثبت توقعات کے باعث بازارِ حصص میں تیزی کا رجحان برقرار ہے۔

  • یوکرینی حملوں سے پیٹرول بحران،روس بھارت سے تیل خریدنے لگا

    یوکرینی حملوں سے پیٹرول بحران،روس بھارت سے تیل خریدنے لگا

    روس نے پیٹرول بحران کو دور کرنے کے لیے سمندری راستے کے ذریعے بھارت سے پیٹرول منگوانا شروع کر دیا ہے۔

    ’رائٹرز‘ کے مطابق، تیل کی صنعت سے وابستہ دو ذرائع نے بتایا کہ یہ قدم یوکرین کی جانب سے روس کے بجلی اور توانائی کے نظام پر کیے جانے والے حملوں کے بعد اٹھایا گیا ہے، جس کی وجہ سے روس کے کارخانوں کو نقصان پہنچا ہےاس وقت روس کے تمام علاقوں میں پیٹرول کی شدید کمی محسوس کی جا رہی ہے، جس کے باعث پیٹرول پمپس پر لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں، لوگوں کو ناپ تول کر محدود پیٹرول دیا جا رہا ہے اور ملک میں پیٹرول کی قیمتیں ریکارڈ حد تک بڑھ گئی ہیں۔

    اس صورتحال پر روس کے صدارتی محل کریملن نے بھی تصدیق کی ہے کہ روس دوسرے ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے اور مناسب قیمتوں پر پیٹرول منگوانے کے لیے بات چیت کر رہا ہے،روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی وزراء اور سرکاری حکام کے ساتھ ایک ملاقات میں اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ یوکرین کے ڈرون حملوں کی وجہ سے کچھ علاقوں میں پیٹرول کی کمی ہوئی ہے، لیکن روس اس مسئلے کو حل کر رہا ہے۔

    تیل کی صنعت سے وابستہ ایک ذریعے کے مطابق اب تک بھارت سے کم از کم 60 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول روس کے لیے روانہ کیا جا چکا ہے، جبکہ ایک اور ذریعے نے بتایا کہ 30 سے 40 ہزار ٹن پیٹرول سے لدے دو بڑے بحری جہاز روس بھیجے گئے ہیں ایک اور ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ روس اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے ہر مہینے مختلف ممالک سے کل چار لاکھ ٹن پیٹرول منگوانے کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں اس کا پڑوسی ملک بیلاروس بھی شامل ہے جو پہلے ہی روس کو پیٹرول بھیج رہا ہے گرمیوں کے موسم میں جب پیٹرول کی مانگ بہت زیادہ ہوتی ہے، تو روس میں روزانہ کم از کم ایک لاکھ دس ہزار ٹن پیٹرول استعمال ہوتا ہے۔

    ایک طرف روس بھارت سے بنا بنایا پیٹرول خرید رہا ہے، تو دوسری طرف بھارت بھی روس سے ریکارڈ مقدار میں خام تیل منگوا رہا ہے جون کے مہینے میں بھارت نے روس سے روزانہ 27 لاکھ بیرل خام تیل خریدا، جو بھارت کی کل ضرورت کا آدھے سے زیادہ بنتا ہے بھارت نے یہ قدم آبنائے ہرمز کا سمندری راستہ بند ہونے کی وجہ سے دوسرے ممالک سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے بعد اٹھایا ہے۔

  • برطانیہ میں شدید گرمی، جون 142 سالہ تاریخ کا دوسرا گرم ترین مہینہ قرار

    برطانیہ میں شدید گرمی، جون 142 سالہ تاریخ کا دوسرا گرم ترین مہینہ قرار

    برطانیہ میں جون 2026 شدید گرمی کے باعث غیرمعمولی طور پر گرم ثابت ہوا، جہاں ملک بھر میں اوسط درجۂ حرارت گزشتہ 142 برس کی تاریخ میں جون کا دوسرا گرم ترین ریکارڈ کیا گیا، انگلینڈ میں یہ اب تک کا گرم ترین جون رہا۔

    برطانیہ کے محکمہ موسمیات کے مطابق جون 2026 ملک کی تاریخ کے گرم ترین مہینوں میں شامل رہا، برطانیہ اور ویلز میں گزشتہ ماہ 1884 کے بعد سے دوسرا گرم ترین مہینہ رہا، سرے چارلووڈ میں درجہ حرارت 35.7 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ، 1976 میں جون کے مہینے میں درجہ حرارت 35.6 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    موسمیاتی ادارے کے مطابق جون کے آخری ہفتے میں شدید ہیٹ ویو کے دوران کئی علاقوں میں درجۂ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا، جبکہ رات کے وقت بھی درجۂ حرارت غیرمعمولی طور پر بلند رہا اور کئی مقامات پر “ٹراپیکل نائٹس” ریکارڈ کی گئیں، جہاں درجہ حرارت 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے نہیں آیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں ایسے شدید گرمی کے واقعات کو زیادہ بار بار اور زیادہ شدت کے ساتھ رونما کر رہی ہیں، جس کے باعث صحت، ٹرانسپورٹ، توانائی اور پانی کی فراہمی کے نظام پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

  • یوکرینی دارالحکومت پر روس کےحملے،8 افراد ہلاک متعدد زخمی

    یوکرینی دارالحکومت پر روس کےحملے،8 افراد ہلاک متعدد زخمی

    روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر رات بھر ڈرونز اور میزائلوں سے شدید حملے کیے، جن کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور 34 زخمی ہوگئے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق روسی افواج نے جمعرات کی شب یوکرین کے دارالحکومت کیف پر بڑے پیمانے پر فضائی حملہ کیا، جس میں ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا کیف کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور تکاچینکو نے بتایا کہ حملوں میں کم از کم 8 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ شہر بھر میں تقریباً 3 درجن مقامات کو نقصان پہنچا، انہوں نے متاثرہ علاقوں کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

    دوسری جانب کیف کے میئر ویتالی کلچکو نے بتایا کہ حملوں میں 34 افراد زخمی ہوئے، جن میں ایمبولینس اسٹیشن کے طبی عملے اور ڈرائیور بھی شامل ہیں ایک رہائشی عمارت کی پہلی سے چھٹی منزل تک کا حصہ براہِ راست میزائل حملے کے باعث منہدم ہوگیا، جبکہ کئی افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق شہر میں متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، وسطی شیوچینکو بلیوارڈ پر واقع ایک ہوٹل کی بالائی منزل پر آگ بھڑک اٹھی، جبکہ کئی علاقوں میں عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور متعدد گاڑیاں تباہ ہوگئیں حملوں کے دوران فضائی خطرے کے سائرن بجنے پر شہری بچوں، ضروری سامان اور اپنے پالتو جانوروں کے ساتھ زیرِ زمین میٹرو اسٹیشنوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ یہ حملہ جون کے وسط کے بعد یوکرین پر روس کا سب سے بڑا فضائی حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے حملوں کے خدشے کے پیش نظر آئرلینڈ کا اپنا دورہ مختصر کر دیا۔ وہ یورپی یونین کی گردشی صدارت کے سلسلے میں ڈبلن گئے ہوئے تھے، یوکرین کی امریکا میں سفیر اولہا اسٹیفانیشینا نے حملے کو ”کیف کے شہریوں کے لیے ایک اور ہولناک رات“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو پوری رات پناہ گاہوں میں گزارنا پڑی۔

    دریں اثنا روس کے شمال مغربی لینن گراڈ ریجن کے گورنر الیگزینڈر دروزدینکو نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی فضائی دفاعی نظام نے سات یوکرینی ڈرونز مار گرائے دوسری جانب روس کے سرحدی علاقے بیلگورود میں یوکرینی ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ اس کی اہلیہ زخمی ہوگئیں۔

  • افریقی ملک  میں ہم جنس پرستی پر  درجن سے زائد حکومتی عہدیددار گرفتار

    افریقی ملک میں ہم جنس پرستی پر درجن سے زائد حکومتی عہدیددار گرفتار

    مغربی افریقہ کے ملک نائجر میں ہم جنس پرستی کے خلاف ایک نیا اور سخت قانون نافذ کیے جانے کے بعد کم از کم 16 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ’رائٹرز‘ کے مطابق، ایک عدالتی عہدیدار نے بتایا کہ گرفتار ہونے والوں میں کسٹمز اور پولیس فورس کے بڑے افسران کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی شامل ہیں نائجر میں پہلے ہم جنس شادیوں پر تو پابندی تھی لیکن اس طرح کے تعلقات پر سزائیں مقرر نہیں تھیں، مگر اب نئے قانون کے تحت حکومت نے جیل لمبی قید کی سزائیں اور بھاری جرمانے نافذ کر دیے ہیں ہم جنس پرستوں کے خلاف یہ آپریشن ابھی جاری ہے اور اب ان جگہوں کو نشانہ بنایا جائے گا جہاں ایک ہی جنس کے لوگ ساتھ رہتے ہیں، جیسے کہ فوج کی بیرکس اور کالجوں کے ہاسٹل۔

    نئے قانون کے سرکاری دستاویزات کے مطابق اگر کوئی شخص ہم جنس پرستی یا اپنی ہی جنس کے کسی فرد کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا قصوروار پایا گیا تو اسے 5 سے 10 سال تک جیل کی سزا کاٹنی پڑے گی اور ساتھ ہی 1 کروڑ سے 10کروڑ فرانک یعنی پاکستانی روپے کے حساب سے لاکھوں روپے کا بھاری جرمانہ بھی دینا ہوگا اگر کوئی لوگ آپس میں ہم جنس شادی کرتے ہوئے پکڑے گئے تو ان کو 10 سے 20 سال تک قید کی سخت سزا دی جا سکتی ہے اس کے علاوہ ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں چلانے والوں پر 5کروڑ سے50 کروڑ فرانک تک کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

    رائٹرز نے اس پورے معاملے پر جب نائجر کی حکومت کے ترجمان سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا،واضح رہے کہ نائجر سے پہلے اس کے پڑوسی افریقی ممالک سینیگال اور برکینا فاسو بھی پچھلے کچھ مہینوں میں ہم جنس پرستی کے خلاف اسی طرح کے سخت قوانین پاس کر چکے ہیں۔

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 73 سینٹ یا 1.02 فیصد کمی کے بعد 70.84 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 83 سینٹ یا 1.21 فیصد کمی کے بعد 67.75 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔

    رپورٹ کے مطابق گزشتہ تجارتی سیشن میں بھی دونوں عالمی معیار کے خام تیل کی قیمتیں ایک فیصد سے زائد گر گئی تھیں، جو گزشتہ چار ماہ کی کم ترین سطح سمجھی جا رہی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں نے دوحہ میں دو روز تک جاری رہنے والی بات چیت کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت، عالمی جہاز رانی کی سلامتی اور ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی بحالی جیسے اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا-

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت کا سلسلہ جاری رہا اور آبنائے ہرمز میں صورتحال معمول پر آئی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ خطے میں کسی بھی نئی کشیدگی کی صورت میں قیمتیں دوبارہ تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق سرمایہ کار اس وقت دونوں ممالک کے درمیان آئندہ مذاکرات، آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی بحالی اور ایران کے منجمد اثاثوں سے متعلق ممکنہ فیصلوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ یہی عوامل آنے والے دنوں میں عالمی توانائی کی مارکیٹ کا رخ متعین کریں گے۔

  • نواز شریف کا ٹیوشن سینٹر سانحہ میں 14 بچوں کی موت پردلی رنج کا اظہار

    نواز شریف کا ٹیوشن سینٹر سانحہ میں 14 بچوں کی موت پردلی رنج کا اظہار

    سابق وزیراعظم و صدر پاکستان مسلم لیگ ن نواز شریف نے لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 معصوم بچوں کے جاں بحق ہونے پر دلی رنج کا اظہار کیا ہے۔

    ایکس پر جاری بیان میں نواز شریف نے کہا کہ یہ ننھے پھول قوم کا مستقبل تھے، دکھ کی اس گھڑی میں میری ہمدردیاں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں،مریم نواز شریف نے مجھے بتایا ہےکہ وہ مصمم ارادے کےساتھ اس افسوسناک واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کروا کر مجرمان کو قرار واقعی سزا دلوائیں گی،اور اس بات کو یقینی بنایا جائےگا کہ اس سانحے کے ذمہ داروں کو مثالی سزا ملے، اللہ تعالیٰ بچوں کو جوارِ رحمت میں جگہ، زخمیوں کو کامل شفا اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین

    واضح رہے گزشتہ روز لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے تھے،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر ابتدائی رپورٹ طلب کر لی تھی۔

  • روس کا اسٹارلنک کے مقابلے میں ’راسویٹ‘ سیٹلائٹ نیٹ ورک کی توسیع کا منصوبہ

    روس کا اسٹارلنک کے مقابلے میں ’راسویٹ‘ سیٹلائٹ نیٹ ورک کی توسیع کا منصوبہ

    ایلون مسک کے سیٹلائٹ اسپیس ایکس (SpaceX) کے اسٹارلنک کا مقابلہ کرنے کے لیے روس نے ’راسویت‘ (Rassvet) کے نام سے اپنا سیٹلائٹ انٹرنیٹ نیٹ ورک تیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس منصوبے کو نجی کمپنی ‘بیورو 1440’ (Bureau 1440) اور روسی خلائی ایجنسی کی مدد سے تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے، منصوبے کا مقصد ملک کی ڈیجیٹل خودمختاری کو مضبوط بنانا اور دور دراز علاقوں تک تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا کہنا ہے کہ راسویٹ بعض شعبوں میں اسٹارلنک سے بھی بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے یہ منصوبہ نجی روسی خلائی کمپنی بیورو 1440 تیار کر رہی ہے، جس نے 2023 میں آزمائشی سیٹلائٹس بھیجے تھے جبکہ رواں سال تجارتی بنیادوں پر سیٹلائٹس کی تنصیب کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

    روسی حکومت کے مطابق 2026 کے اختتام تک 156 راسویٹ سیٹلائٹس مدار میں موجود ہوں گے، جبکہ 2035 تک ان کی تعداد بڑھا کر قریباً 900 کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، اس منصوبے پر مجموعی طور پر قریباً 7 ارب ڈالر لاگت آنے کا تخمینہ ہے،راسویٹ سیٹلائٹس قریباً 800 کلومیٹر کی بلندی پر مدار میں کام کریں گے اور 5جی ٹیکنالوجی، لیزر کمیونیکیشن اور ایک گیگا بٹ فی سیکنڈ تک ڈیٹا کی رفتار فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    روسی حکام کے مطابق یہ نظام آرکٹک، سائبیریا اور دیگر دور افتادہ علاقوں میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی خدما ت بہتر بنانے میں مدد دے گا، راسویٹ نیٹ ورک شہری استعمال کے ساتھ ساتھ ڈرونز کے سیٹلائٹ کنٹرول، فوجی مواصلات اور اہم سرکاری انفراسٹرکچر کے لیے بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ روس کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ مغربی سیٹلائٹ نیٹ ورکس پر انحصار کم کرنے اور ملک کی ڈیجیٹل خودمختاری کو مزید مستحکم بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے-