Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • ٹرمپ نے  ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو سنبھالنےکی روسی پیشکش مسترد کردی

    ٹرمپ نے ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو سنبھالنےکی روسی پیشکش مسترد کردی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو سنبھالنے اور اسے روس منتقل کرنے کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔

    پیوٹن نے ایران کے ساتھ جوہری تنازع کو حل کرنے کے لیے یہ تجویز دی تھی، لیکن ٹرمپ نے اسے ٹھکرا دیا اور پیوٹن پر زور دیا کہ وہ اس کے بجائے یوکرین میں جنگ ختم کرنے پر توجہ دیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیوٹن سے کہا: "میں چاہوں گا کہ آپ یوکرین میں جنگ ختم کرنے میں شامل ہوں، میرے لیے، یہ زیادہ اہم ہو گا”۔

    پیوٹن نے ایران کے 60 فیصد تک افزودہ یورینیم (جسے ٹرمپ اکثر "گرد” یا ‘dust’ کہتے ہیں) کے ذخیرے کو روس منتقل کرنے کی پیشکش کی تھی تاکہ ایران کے ساتھ جوہری بحران کو کم کیا جا سکے۔

    ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کی ترجیح یوکرین کے تنازع کا خاتمہ ہے، نہ کہ ایران کے جوہری مواد کے انتظامات میں روس کی مدد لینا، یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایران نے 2018ء میں امریکا کے جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد 11 ٹن سے زائد افزودہ یورینیم جمع کر لیا ہے اور 2025ء کے آخر میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کے بعد سے کشیدگی جاری ہے۔

    یہ بات چیت میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران سامنے آئی۔

    روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور یوکرین کے تنازع پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ کال تقریباً 90 منٹ سے زائد جاری رہی اور دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو دو ٹوک اور پیشہ ورانہ نوعیت کی تھی۔ اس گفتگو کے دوران صدور نے خاص طور پر ایران کی صورتحال اور خلیج فارس کے معاملات پر توجہ مرکوز کی۔

    یوری اوشاکوف کے مطابق ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی پیوٹن کا ماننا ہے اس فیصلے سے مذاکرات کو ایک موقع ملے گا اور مجموعی طور پر خطے کی صورتحال کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

    تاہم پیوٹن نے اس خطرے سے بھی آگاہ کیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کیا تو اس کے نتائج نہ صرف ایران اور اس کے پڑوسیوں بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے انتہائی تباہ کن ہوں گےانہوں نے واضح کیا کہ روس مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ہر ممکن سفارتی مدد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور یہ رابطہ ماسکو کی پہل پر کیا گیا تھا۔

    دونوں رہنماؤں نے یوکرین کی جنگ پر بھی تبادلہ خیال کیا جو سن 2022 میں روسی حملے کے بعد اب اپنے پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہےاوشاکوف نے بتایا کہ ٹرمپ کی درخواست پر ولادیمیر پیوٹن نے فرنٹ لائن کی تازہ صورتحال بیان کی جہاں ان کے بقول روسی افواج اسٹریٹجک برتری حاصل کیے ہوئے ہیں اور دشمن کو پیچھے دھکیل رہی ہیں۔

    یوری اوشاکوف کا کہنا تھا کہ ولادیمیر پیوٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں نے زیلنسکی کی قیادت میں کیف حکومت کے رویے کے بارے میں تقریباً ایک جیسی رائے کا اظہار کیا، جس کے مطابق یورپی ممالک کی حمایت سے اس تنازع کو طول دینے کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔

    یوکرین میں جاری اس جنگ نے اب تک ہزاروں شہریوں کی جانیں لے لی ہیں اور لاکھوں افراد کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہےگفتگو کے دوران پیوٹن نے ’یومِ فتح‘ کی تقریبات کے موقع پر جنگ بندی کا اعلان کرنے پر آمادگی ظاہر کی، جس کی ٹرمپ نے فعال طور پر حمایت کی۔

    ٹرمپ نے اس بات کو نوٹ کیا کہ یہ دن دونوں ممالک کی مشترکہ فتح کی علامت ہے۔ روس ہر سال 9 مئی کو دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت یونین کی فتح کی یاد میں یومِ فتح مناتا ہے، تاہم یوکرین کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائیوں کے خطرے کے پیشِ نظر اس بار ماسکو میں ہونے والی فوجی پریڈ کو محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

  • حزب اللہ  نے ’فائبر آپٹک ڈرونز‘ کا استعمال شروع کر دیا

    حزب اللہ نے ’فائبر آپٹک ڈرونز‘ کا استعمال شروع کر دیا

    حزب اللہ نے ایک نئی ٹیکنالوجی پر مبنی ہتھیار ’فائبر آپٹک ڈرونز‘ کا استعمال شروع کر دیا ہے، جو روایتی دفاعی نظام سے بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف اپنی جنگی حکمت عملی میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے فائبر آپٹک یا جدید FPV (فرسٹ پرسن ویو) ڈرونز کا استعمال تیز کر دیا ہے۔ یہ ڈرونز روایتی الیکٹرانک وارفیئر اور دفاعی نظاموں (جیسے آئرن ڈوم) سے بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ ریڈیو سگنل کے بجائے فائبر آپٹک کیبل کے ذریعے آپریٹر سے جڑے ہوتے ہیں، جس سے ان کا سگنل جام کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

    یہ ڈرونز طویل فاصلے سے کنٹرول کیے جا سکتے ہیں اور براہ راست ویڈیو فیڈ کی بدولت انتہائی درست نشانہ بناتے ہیں ان ڈرونز کی وجہ سے اسرائیلی ٹینکوں، بالخصوص مرکاوا ٹینک، اور فوجی ٹھکانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں،، جس کے باعث نیتن یاہو نے حزب اللہ کے ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید اقدامات پر زور دیا ہے حزب اللہ نے اپنے ڈرون سسٹم کو جدید اور کم لاگت بنا کر میدان جنگ میں اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہےیہ ٹیکنالوجی اسرائیل کے روایتی دفاعی نظام کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔

    رپورٹس کے مطابق یہ چھوٹے ڈرون انتہائی باریک فائبر آپٹک تاروں کے ذریعے کنٹرول کیے جاتے ہیں، جس کے باعث انہیں الیکٹرانک جیمنگ کے ذریعے ناکارہ بنانا ممکن نہیں رہتا۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی پہلے یوکرین جنگ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو چکی ہے، جہاں اسے جدید جنگی حکمتِ عملی میں اہم پیشرفت قرار دیا گیا تھا۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون کم اونچائی پر اڑتے ہیں، چھوٹے سائز کے باعث ریڈار پر مشکل سے نظر آتے ہیں اور اپنے ہدف تک خاموشی سے پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم، ان کی کمزوری یہ ہے کہ تیز ہوا یا دیگر ڈرونز کے باعث ان کی فائبر کیبل الجھ سکتی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق یہ چھوٹے ڈرون انتہائی باریک فائبر آپٹک تاروں کے ذریعے کنٹرول کیے جاتے ہیں، جس کے باعث انہیں الیکٹرانک جیمنگ کے ذریعے ناکارہ بنانا ممکن نہیں رہتا۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی پہلے یوکرین جنگ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو چکی ہے، جہاں اسے جدید جنگی حکمتِ عملی میں اہم پیشرفت قرار دیا گیا تھا۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون کم اونچائی پر اڑتے ہیں، چھوٹے سائز کے باعث ریڈار پر مشکل سے نظر آتے ہیں اور اپنے ہدف تک خاموشی سے پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم، ان کی کمزوری یہ ہے کہ تیز ہوا یا دیگر ڈرونز کے باعث ان کی فائبر کیبل الجھ سکتی ہے۔

  • رحیم یار خان میں دن دہاڑے  14 سالہ لڑکی اغوا

    رحیم یار خان میں دن دہاڑے 14 سالہ لڑکی اغوا

    جنوبی پنجاب کے شہر رحیم یار خان میں دن دہاڑے 14 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر نشہ آور چیز سونگھا کر اغوا کر لیا گیا اور واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوامی غم و غصے میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

    ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچی کی فوری بازیابی اور واقعے میں ملوث افراد کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے،جس کے بعد رحیم یار خان پولیس سے منسوب ایک اکاؤنٹ میں کہا گیا ڈی پی او عرفان علی سموں کا وقوعہ کا سخت نوٹس تھانہ سٹی سی ڈویژن پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں کا آغاز کر دیا ہے مقدمہ کو میرٹ پر یکسو کیا جائے گا پولیس خواتین کے خلاف جرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

    ڈی پی او عرفان علی سموں کا وقوعہ کا سخت نوٹس تھانہ سٹی سی ڈویژن پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں کا آغاز کر دیا ہے مقدمہ کو میرٹ پر یکسو کیا جائے گا پولیس خواتین کے خلاف جرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں چیلنج

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں چیلنج

    اسلام آباد میں ہائیکورٹ کے تین ججز کے تبادلوں کا معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کر دیا گیا ہے-

    لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے سینئر وکیل حامد خان کے ذریعے آئینی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ تبادلے آئین کے منافی ہیں،درخواست میں کہا گیا ہے کہ ججز کے تبادلے آئین کے آرٹیکل 2-اے کی خلاف ورزی ہیں اور اس عمل میں شفافیت کا شدید فقدان پایا جاتا ہے جبکہ تبادلوں کی وجوہات بھی واضح نہیں کی گئیں، جس سے عدالتی نظام کی خودمختاری پر سوالات اٹھتے ہیں۔

    درخواست گزار نے وفاقی حکومت اور جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو فریق بناتے ہوئے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ججز کے تبادلوں کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد وکلا برادری اور قانونی حلقوں میں تشویش پیدا ہوئی۔

  • ایران سے منسلک ہیکرز نےہزاروں امریکی فوجیوں کاذاتی ڈیٹا لیک کر دیا

    ایران سے منسلک ہیکرز نےہزاروں امریکی فوجیوں کاذاتی ڈیٹا لیک کر دیا

    ایران سے مبینہ طور پر منسلک ایک ہیکر گروپ نے خلیج فارس میں تعینات ہزاروں امریکی میرینز کی ذاتی معلومات کو لیک کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے امریکی دفاعی حلقوں میں شدید تحفظات پیدا ہوئے ہیں۔

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ”ہنڈالا“ نامی ایک سائبر گروپ، جس کے ایران سے روابط بتائے جاتے ہیں، نے منگل کو دعویٰ کیا کہ اس نے خلیج فارس میں تعینات 2 ہزار 379 امریکی میرینز کی ذاتی معلومات جاری کردی ہیں گروپ نے اپنے ٹیلیگرام چینل پر ایک پیغام میں کہا کہ اس نے اہلکاروں کے نام اور دیگر شناختی تفصیلات شائع کی ہیں، جبکہ اسے اپنی ”نگرانی کی صلاحیت“ کا ثبوت قرار دیا۔

    عراقی میڈیا ادارے شفق نیوز کے مطابق خطے میں تعینات امریکی اہلکاروں کو واٹس ایپ پر دھمکی آمیز پیغامات بھی موصول ہوئے، جن میں کہا گیا کہ وہ نگرانی میں ہیں اور انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے ہیکر گروپ نے مزید دعویٰ کیا کہ اس کے پاس مزید حساس معلومات بھی موجود ہیں، جن میں اہلکاروں کے اہل خانہ کی تفصیلات، گھریلو پتے، روزمرہ معمولات اور فوجی نقل و حرکت سے متعلق معلومات شامل ہیں اور عندیہ دیا کہ مزید انکشافات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

    اس واقعے کے بعد امریکی دفاعی اداروں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے، کیونکہ فوجی اہلکاروں کی شناخت اور مقام ظاہر ہونے سے سیکیورٹی خطرات بڑھ سکتے ہیں حکام اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ڈیٹا لیک کس حد تک ہوا اور اس کے آپریشنل سیکیورٹی پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ ہیکرز نے یہ معلومات کیسے حاصل کیں اور آیا مزید سسٹمز بھی متاثر ہوئے ہیں یا نہیں۔

    یہی گروپ گزشتہ ماہ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کے ذاتی ای میل اکاؤنٹ ہیک کرنے کا دعویٰ بھی کرچکا ہے، جس میں اس نے مبینہ طور پر ان کی تصاویر اور ریزیومے بھی آن لائن شائع کیے تھے۔

  • امید ہے ہمارے نئے ہتھیار کو دیکھ کر امریکا کو دل کا دورہ نہیں پڑے گا،ایران

    امید ہے ہمارے نئے ہتھیار کو دیکھ کر امریکا کو دل کا دورہ نہیں پڑے گا،ایران

    ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ جلد ہی ایک ایسا نیا ہتھیار دنیا کے سامنے لانے والی ہے جس سے اس کے مخالفین شدید خوفزدہ ہیں۔

    ایرانی بحریہ کے سربراہ شہرام ایرانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ بہت جلد اپنے دشمنوں کا سامنا ایک ایسے ہتھیار سے کرے گا جو بالکل ان کے برابر میں موجود ہو گا،مجھے امید ہے اس ہتھیار کو دیکھ کر امریکا کو دل کا دورہ نہیں پڑے گا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق بحریہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ دشمن نے ایران کے خلاف بلا اشتعال جارحیت کے ذریعے اپنے مقاصد کو کم سے کم وقت میں حاصل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اب ان کا یہ مفروضہ فوجی اکیڈمیوں میں ایک لطیفہ بن چکا ہے ایرانی افواج نے جوابی کارروائیوں کے دوران امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کو سات بار میزائل حملوں سے نشانہ بنایا جس کی وجہ سے وہاں سے طیاروں کی پروازیں عارضی طور پر رک گئیں۔

    شہرام ایرانی نے مزید دعویٰ کیا کہ 28 فروری کو جنگ کے آغاز سے اب تک ایرانی مسلح افواج نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اہداف پر کم از کم 100 لہروں کی صورت میں جوابی حملے کیے ہیں ان کارروائیوں میں مغربی ایشیا کے وسیع جغرافیائی علاقے میں موجود حساس مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    بحریہ کے سربراہ نے کہا کہ امریکا نے ابتدائی ناکامی کے بعد خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا ہے اور مزید تباہ کن بحری جہاز اور میزائل پلیٹ فارم تعینات کیے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ آگے بڑھنے میں ناکام رہے ہیں امریکا کی تمام تر کوششیں ابھی تک رکی ہوئی ہیں اور وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا ہے۔

  • امریکاکا ایران کے خلاف  ہائپرسونک میزائل تعینات کرنے پر غور، امریکی میڈیا

    امریکاکا ایران کے خلاف ہائپرسونک میزائل تعینات کرنے پر غور، امریکی میڈیا

    امریکی میڈیا کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ڈارک ایگل میزائل مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کی درخواست کی ہے،اقدام کا مقصد ایران کے اندر گہرائی میں موجود میزائل لانچرز کو نشانہ بنانا ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق پہلی بار امریکا ہائپرسونک میزائل عملی طور پر تعینات کرے گا، ڈارک ایگل پروگرام تاخیر کا شکار رہا ہے اب تک مکمل طور پر آپریشنل قرار نہیں دیا گیا، اقدام کا مقصد ایران کے اندر گہرائی میں موجود میزائل لانچرز کو نشانہ بنانا ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق روس اور چین پہلے ہی اس نوعیت کی ٹیکنالوجی میدان میں لا چکے ہیں، اقدام کی وجہ یہ پیش کی گئی ہے کہ ایران نے میزائل لانچرز کو ‘پریسیژن اسٹرائیک میزائل’ کی حدود سے باہر منتقل کر دیا ہے، ایرانی میزائل 300 میل سے زائد فاصلے تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، درخواست ابھی پبلک نہیں کی گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سینٹکام نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا، ڈارک ایگل میزائل کی ممکنہ رینج 1،725 میل سے زائد ہے، یہ میزائل آواز کی رفتار سے 5 گنا زیادہ رفتار سے ہدف کی جانب بڑھتا ہے، ڈارک ایگل راستہ بدل کر دفاعی نظاموں سے بچنے کی صلاحیت رکھتا ہے،ڈارک ایگل میزائل کی قیمت تقریباً 4 ارب 18 کروڑ روپے( ڈیڑھ کروڑ ڈالر) بتائی جاتی ہے، اس نظام کی بیٹری کی لاگت تقریباً 7کھرب 53 ارب روپے ( 2.7 ارب ڈالر ) ہو سکتی ہے۔

  • اسرائیلی بحریہ نے غزہ کیلئے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روک لیا

    اسرائیلی بحریہ نے غزہ کیلئے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روک لیا

    اسرائیلی بحریہ نے غزہ کیلئے امداد لے جانے والے صمود فلوٹیلا کو روک لیا۔

    انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق غزہ تک امداد پہنچانے کے لیے روانہ ہونے والے ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے جہازوں کو اسرائیلی افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں روک کر کارروائی شروع کر دی، جبکہ متعدد کشتیوں سے رابطہ بھی منقطع ہو گیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے ڈرونز، کمیونیکیشن جیمنگ ٹیکنالوجی اور مسلح اہلکاروں کے ذریعے بحیرہ روم میں فلوٹیلا کو گھیر لیا۔ اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ 58 میں سے 7 کشتیوں کو یونان کے جزیرے کریٹ کے قریب تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

    فلوٹیلا منتظمین کے مطابق اسرائیلی بحریہ نے کشتیوں کو گھیر کر شرکا کو ہتھیاروں کے زور پر قابو میں لیا اور متعدد جہازوں سے رابطہ منقطع کر دیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے کیونکہ واقعہ بین الاقوامی پانیوں میں پیش آیا۔

    اسرائیل کے اقوام متحدہ میں سفیر ڈینی ڈینن نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ فلوٹیلا کو اسرائیلی حدود تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا گیا، جبکہ فوج پُرعزم انداز میں کارروائی کر رہی ہے۔

    فلوٹیلا کے ترجمان نے اس اقدام کو غیر مسلح شہری کشتیوں پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق 400 سے زائد افراد ان جہازوں پر سوار ہیں جن کی سلامتی خطرے میں ہے۔

    رپورٹس کے مطابق فلوٹیلا اٹلی سے روانہ ہو کر غزہ کی جانب جا رہا تھا اور اسرائیلی کارروائی کے وقت یہ غزہ سے قریباً 600 ناٹیکل میل دور تھا، جو ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ فاصلے پر کی جانے والی کارروائی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی اسرائیل غزہ کے لیے جانے والے امدادی فلوٹیلا کو روک چکا ہے اور متعدد کارکنان کو حراست میں لے کر بعد ازاں ملک بدر کر دیا گیا تھا۔

  • عالمی توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار،خام تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    عالمی توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار،خام تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    30 اپریل 2026 تک، مشرق وسطیٰ میں 61 دن سے جاری تنازعہ کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہے۔

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جمعرات کے روز مزید اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں سپلائی متاثر ہونے کے خدشات برقرار ہیں اور امریکا و اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔

    امریکی زیر قیادت ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے نتیجے میں برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمتیں جنگ کے دوران نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جو 30 اپریل کو مختصر وقت کے لیے $119.71 فی بیرل تک جا پہنچیں-

    برینٹ خام تیل کی جون ڈیلیوری کے لیے فیوچرز کی قیمت 1.91 ڈالر یا 1.62 فیصد اضافے کے ساتھ 119.94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ گزشتہ سیشن میں اس میں 6.1 فیصد اضافہ ہوا تھا جبکہ جولائی کے زیادہ فعال معاہدے کی قیمت 111.38 ڈالر رہی، جو 94 سینٹس یا 0.85 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔

    ادھر امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی جون ڈیلیوری کے لیے قیمت 63 سینٹس یا 0.59 فیصد اضافے کے ساتھ 107.51 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ اس سے قبل سیشن میں اس میں 7 فیصد اضافہ ہوا تھا۔

    برینٹ کروڈ 120 ڈالر کے قریب پہنچ گیا ہے، جو فروری کے آخر میں جنگ کے آغاز سے اب تک 55 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی سخت کر دی ہے، جس کے تحت ایران کی تیل برآمدات کو روکنے کے لیے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    ایران کی جانب سے خلیجی آبی گزرگاہوں (آبنائے ہرمز) پر جزوی کنٹرول اور کشیدگی نے عالمی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے 13 ملین بیرل روزانہ کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے اسرائیل اور ایران کے درمیان توانائی کی تنصیبات پر حملوں نے بھی قیمتوں کو بڑھایا ہے، جس کے بعد دنیا بھر میں تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے خلاف یہ ناکہ بندی طویل عرصے تک جاری رہتی ہے، تو تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس سے 2026 میں عالمی افراط زر میں ریکارڈ اضافے کا خطرہ ہے-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو تیل کمپنیوں کے ساتھ ملاقات کی، جس میں ایران کی بندرگاہوں پر ممکنہ امریکی ناکہ بندی کے اثرات کم کرنے پر غور کیا گیا۔ اس پیش رفت نے مارکیٹ میں خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے کہ تیل کی سپلائی طویل عرصے تک متاثر رہ سکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق ایران کے ساتھ تنازع کے جلد حل ہونے یا آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔ ایران نے خلیج سے گزرنے والی زیادہ تر بحری ترسیل کو محدود کر رکھا ہے، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔

    دوسری جانب اوپیک پلس ممالک کے گروپ کی جانب سے اتوار کو تیل کی پیداوار میں معمولی اضافہ متوقع ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ اور سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث اس کے اثرات محدود رہیں گے۔

    ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک، بشمول متحدہ عرب امارات، کو جنگ سے قبل کی پیداوار بحال کرنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، جس کے باعث عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔

  • روس کی 9 مئی کے دن یوکرین کو جنگ بندی کی پیشکش

    روس کی 9 مئی کے دن یوکرین کو جنگ بندی کی پیشکش

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے 9 مئی کے دن یوکرین کے ساتھ جنگ بند کرنے کی پیشکش کی ہے۔

    روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے 9 مئی کے موقع پر یوکرین کے ساتھ عارضی جنگ بندی کی پیشکش کی ہے جسے سفارتی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے 9 مئی کو روس نازی جرمنی پر سوویت یونین کی فتح کا دن مناتا ہے-

    فرانسیسی خبر ایجنسی نے روسی صدر کے سفارتی مشیر کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیوٹن نے یومِ فتح کی تقریبات کے دوران لڑائی روکنے پر آمادگی ظاہر کی تاکہ اس دن کو پرسکون ماحول میں منایا جا سکے،صدر ٹرمپ سے بات چیت کے دوران پیوٹن نے کہا کہ وہ اس بات پر تیار ہیں کہ روسی یوم فتح کی تقریبات کے دوران جنگ بندی رکھی جائے،امریکی صدر نے پیوٹن کی اس تجویز کی حمایت کی اور کہا کہ نازی جرمنی پر فتح کا دن ہماری مشترکہ فتح کا دن ہے۔

    تاہم اس ممکنہ جنگ بندی کے حوالے سے یوکرین کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ 9 مئی کو روس میں یوم فتح بھرپور انداز میں منایا جاتا ہے جو دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت یونین کی کامیابی کی یاد دلاتا ہے۔