امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ نئے معاہدے کے تحت ایران کو صرف کم سطح پر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت ہوگی، جسے کسی بھی صورت فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے متعلق اہم تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو صرف غیر فوجی مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور یہ پابندی مستقل نوعیت کی ہوگی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ حد سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور کے جوہری معاہدے میں مقرر کردہ 3.67 فیصد افزودگی کے برابر ہوگی تو انہوں نے واضح شرح بتانے کے بجائے کہا کہ ایران صرف پرامن مقاصد کے لیے افزودگی کر سکے گا اگر ایرانی حکومت مستقبل میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلا ف سخت کارروائی کرتی ہے یا انہیں قتل کرتی ہے تو ایسی صورت میں ایران کو مکمل پابندیوں میں نرمی حاصل نہیں ہو سکے گی تاہم ذرائع کے مطا بق یہ شرط مجوزہ مفاہمتی یادداشت کا باضابطہ حصہ نہیں ہے۔
صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر بھی سخت تنقید کی، انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو ایک بہت مشکل آدمی ہیں اور انہیں امریکا کا شکر گزار ہونا چاہیے اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہوتے تو اسرائیل کا وجود شدید خطرے میں پڑ سکتا تھا۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ لبنان میں اسرائیلی حملوں نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل کو نقصان پہنچایا اور معاہدے کے حتمی مراحل میں رکاوٹیں پیدا کیں ایران کے خلاف امریکی میزائل اور فضائی حملوں نے تہران پر دباؤ بڑھایا اور اسی وجہ سے ایران مذاکرات پر آمادہ ہوا۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کے حوالے سے حتمی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کر سکتا ہے ایرا ن مزید حملوں سے بچنا چاہتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت ممکن ہوئی۔
