Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • عامر خان نے تھری اڈیٹس کے سیکوئل کی تصدیق کر دی

    عامر خان نے تھری اڈیٹس کے سیکوئل کی تصدیق کر دی

    بالی ووڈ سُپراسٹار عامر خان نےمشہور فلم ’تھری اڈیٹس‘ کے سیکوئل کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے-

    عامر خان کی بلاک بسٹر فلم ’تھری ایڈیٹس‘ سیکوئل کے حوالے سے خبریں گردش کر رہی تھیں تاہم اداکار نے خود اس منصوبے کی تصدیق کر دی ہےانہوں نےبتایا کہ کہانی میں اصل کرداروں کی زندگی کو ایک دہائی بعد دکھایاجائےگا اور یہ دیکھا جائے گا کہ وقت کےساتھ انکےحالات میں کیا تبدیلی آئی ہے۔

    عامر خان نے کہا کہ انہوں نے فلم کی کہانی سنی ہے اور یہ انہیں بہت پسند آئی ہے اگرچہ اسکرپٹ پر ابھی مزید کام ہونا باقی ہے، لیکن کہانی نہایت منفرد ہے اور پہلی فلم کی طرح اس میں بھی مزاح موجود ہوگا فلم کی کہانی وہیں سے شروع ہوگی جہاں پہلا حصہ ختم ہوا تھا، لیکن اس میں 10 سال کا ٹائم جمپ دکھایا جائے گا رنچھو (پھنسکھ وانگڈو)، فرحان اور راجو کی تکون ایک بار پھر اسکرین پر جلوہ گر ہوگی، وہ دوبارہ اپنے کردار پھنسکھ وانگدو کو نبھانے کے لیے بہت پرجوش ہیں. یہ کہانی راجکمار ہیرانی اور ابھیجیت جوشی نے مشترکہ طور پر تخلیق کی ہے۔

    واضح رہے کہ، 2009 میں ریلیز ہونے والی ’تھری ایڈیٹس‘ آج بھی بھارتی سنیما کی سب سے مقبول اور اثر انگیز فلموں میں شمار کی جاتی ہے راجکمار ہیرانی کی ہدایت کاری میں بننے والی یہ فلم تعلیم کے نظام، دوستی، اور اپنے شوق کے مطابق زندگی گزارنے جیسے موضوعات پر مبنی تھی۔

  • ایران نے چین کو خام تیل بھیجنے کیلئے ایک نیا  راستہ تلاش کر لیاہے،امریکی میڈیا

    ایران نے چین کو خام تیل بھیجنے کیلئے ایک نیا راستہ تلاش کر لیاہے،امریکی میڈیا

    امریکی جریدے نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اب ٹرینوں کے ذریعے خام تیل چین بھیجنے کی کوششیں کر رہا ہے-

    امریکی جریدے ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق، سمندری راستوں پر امریکی پہرے کے باعث ایران اب ٹرینوں کے ذریعے خام تیل چین بھیجنے کی کوششیں کر رہا ہے، یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب ایران میں تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً ختم ہو چکی ہے اور صورتحال اس حد تک سنگین ہو گئی ہے کہ تہران اب کچرے کے ڈھیروں اور پرانے ناکارہ ٹینکوں میں تیل رکھنے پر مجبور ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپریل کے وسط میں آبنائے ہرمز کی سخت بحری ناکہ بندی کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد ایرانی معیشت کو اس ’شٹ ان‘ پوائنٹ تک پہنچانا ہے جہاں اس کے پاس تیل رکھنے کی جگہ باقی نہ رہے اور اسے پیداوار بند کرنی پڑےصدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی تیل کی صنعت کے پاس صرف تین دن باقی ہیں، جس کے بعد یہ نظام بیٹھ جائے گا اور اسے دوبارہ بحال کرنا ناممکن ہوگا-

    تاہم، توانائی کے ماہرین صدر ٹرمپ کے اس مختصر وقت سے اتفاق نہیں کرتے،توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس ابھی تقریباً ایک ماہ کی گنجائش باقی ہے، ایران مزید دو ماہ تک یہ دباؤ برداشت کر سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ ایران کا تقریباً 90 فیصد تیل ’خارگ آئی لینڈ‘ سے برآمد ہوتا ہے جہاں 20 سے 30 ملین بیرل تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے، لیکن موجودہ حالات میں یہ گنجائش چند ہفتوں میں بھر سکتی ہے۔

  • پاکستان کیلیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط منظور ہونے کا امکان

    پاکستان کیلیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط منظور ہونے کا امکان

    پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری کے لیے اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

    آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اہم اجلاس طلب کر لیا گیا جس میں پاکستان کے لیے قرض کی اگلی قسط کی منظوری کا امکان ہے،اجلاس میں پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری متوقع ہے پاکستان آئی ایم ایف کی تمام شرائط پہلے ہی پوری کر چکا ہےاجلاس میں پاکستان کے لیے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت تیسرے اقتصادی جائزے کی منظوری اور موسمیاتی تبدیلی کے آر ایس ایف پروگرام کے دوسرے جائزے کی بھی منظوری متوقع ہے، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ 27 مارچ کو طے پایا تھا۔

    وزارت خزانہ ذرائع کے مطابق پیٹرولیم لیوی 1468 ارب روپے کے ہدف سے زیادہ وصول ہونے کا امکان ہے جبکہ حکومت لیوی مزید بڑھانے پر غور کر رہی ہے،آئی ایم ایف نے حکومت پر سبسڈی ختم کرنے پر زور دیا ہے جبکہ حکومت نے معیشت میں بہتری اور مہنگائی میں کمی کا دعویٰ کیا ہے جبکہ مشرق وسطیٰ کشیدگی کی وجہ سے معاشی خطرات برقرار ہیں، حکومت نے آئی ایم ایف کو مالی نظم و ضبط جاری رکھنے کی یقین دہانی کروائی ہے-

  • معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں،وفاقی وزیر خزانہ

    معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں،وفاقی وزیر خزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ یورو بانڈز کی ادائیگی مکمل کر دی گئی ہے جبکہ ایک اور پارٹنر کو بھی اسی مہینے ادائیگی کی گئی ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں مارچ کے دوران مجموعی ترسیلات 3.8 ارب امریکی ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جبکہ معمول کے مطابق ماہانہ ترسیلات کا حجم 3.2 ارب امریکی ڈالر ہے،رمضان اور عید کے باعث ترسیلات میں اضافہ ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے مارچ میں 260 ملین امریکی ڈالر موصول ہوئے، جبکہ اپریل میں مزید اضافہ متوقع ہےروشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں ماہانہ 180 سے 200 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور بیرون ملک پاکستانیوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ سے رقم نکالنے کے لیے اسٹیٹ بینک کی منظوری لازم نہیں ہےرواں مالی سال میں معاشی شرح نمو 4 فیصد تک رہنے کا امکان ہے جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگی مقررہ ہدف سے کم رہے گی یورو بانڈز کی ادائیگی مکمل کر دی گئی ہے جبکہ ایک اور پارٹنر کو بھی اسی مہینے ادائیگی کی گئی ہے۔

    محمد اورنگزیب کے مطابق حکومت نجکاری پروگرام کو آگے بڑھا رہی ہے اور پی آئی اے کی کامیاب نجکاری کی گئی ہےلاہور اور اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپور ٹس کی نجکاری کو ہنگامی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے گا بڑے کاروباری گروپس کنسورشیم کی شکل میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کی تنظیم نو کی گئی ہے جبکہ پنشن نظام میں اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، آئندہ سال سے مسلح افواج کا کنٹری بیوٹری پنشن نظام شروع ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 4 کروڑ کرپٹو صارفین موجود ہیں اور اس شعبے کے لیے ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرا دیا گیا ہے کرپٹو ایکسچینجز کو لائسنس جاری کیے جا رہے ہیں جبکہ ٹوکنائزیشن کا نظام بھی متعارف کرایا جا رہا ہے،جون تک زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جو معیشت کے استحکام کی جانب اہم پیش رفت ہ

  • معروف بیکری کی مٹھائی میں  زندہ چوہا، کسی حاسد کی سازش یا حقیقت؟

    معروف بیکری کی مٹھائی میں زندہ چوہا، کسی حاسد کی سازش یا حقیقت؟

    پاکستان میں معروف بیکری کی مٹھائی سے زندہ چوہا نکل آیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے-

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سوہن حلوے کے ایک پیک شدہ ڈبے کے اندر زندہ چوہا موجود تھا جسے ایک صارف نے کھولنے کے دوران ریکارڈ کیا،ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد صارفین کی جانب سےملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے بڑی تعداد میں لوگوں نے اسے سنگین غفلت قرار دیتے ہوئے متعلقہ بیکری کے خلاف سخت کارروائی اور فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہےدوسری جانب کچھ صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ زندہ چوہا ہی پیک کر دیا یہ نظر کیسے نہیں آیا؟اور اس ویڈٰیو کو برانڈ کے خلاد حاسدانہ سازش قرار دیا-

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ میں مانتا ہی نہیں ہوں کہ ایک زندہ چوہا پیک کر کے کیک میں ڈال دیا، اگر چوہا واقعی تھا تو اس کو فوراً سیل کریں ورنہ اس خاتون کو قانون کے شکنجے میں لا کھڑا کریں،ایک اور صارف نے اسے حسدانہ سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتنی صفائی کے باوجود چوہا کیسے ڈبے میں بند ہوگیا جب کہ یہ ایک برینڈڈ سویٹس شاپ ہے مجھے لگتا ہے کوئی حاسد ہے جو ان کے نام کو خراب کرنا چاہتا ہے چوہا آیا اور ڈبے میں پیک بھی ہوگیا یہ بہت عجیب ہے۔

  • رائٹرزافغان طالبان اور را کی مشترکہ ڈس انفارمیشن مہم  کا آلہ بن چکا ہے

    رائٹرزافغان طالبان اور را کی مشترکہ ڈس انفارمیشن مہم کا آلہ بن چکا ہے

    رائٹرز کبھی کسی نہ کسی طرح معتبر جریدہ تھا لیکن اب یہ انتشار اور غلط معلومات کا آلہ بن چکا ہے پچھلے کچھ دنوں میں اس نے بغیر کسی ثبوت کے جعلی خبروں کی تعداد پوسٹ کی ہے۔

    یہ ایک معمول بن گیا ہے کہ RAW اور افغان طالبان کے میڈیا سیل کی مشترکہ ڈس انفارمیشن مہم کو رائٹرز حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے بڑھاتا ہے۔ چند مثالیں ہیں پاکستانی سی او اے ایس کے بارے میں جعلی خبریں جس میں صدر ٹرمپ کو آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کیا گیا تھا پاکستان سوڈان کے ساتھ معاہدہ منسوخ کر رہا ہے کابل پر فضائی حملوں میں 400 شہریوں کی ہلاکت پر افغان طالبان کا جھوٹا دعویٰ،وغیرہ-

    تازہ مثال کنڑ پر ایک خیالی فضائی حملہ ہے را اور افغان بیسڈ اکاؤنٹس نے مل کر فضائی حملوں کی مہم شروع کی جو پھر ڈرون حملے کی شکل اختیار کر گئی جس کے بعد توپ خانے سے گولہ باری کی گئی پاکستان کی وزارت اطلاعات کے بیانیہ اور وضاحت میں ابہام کے باوجود، رائٹرز نے ایک غیر نمائندہ افغان حکومت کے بیانیے کو وسعت دینے کا انتخاب کیا جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے اور اقوام متحدہ کے نامزد دہشت گردوں کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    رائٹرز کو سمجھنا چاہیے کہ پاکستان نے جب بھی فضائی حملے کیے یا کوئی فوجی کارروائی کی، اس نے ہمیشہ کھلے دل سے اعتراف کیا ہے۔ پاکستان کو اپنی جغرافیائی سرحدوں اور خودمختاری کے تحفظ کے حق سے دریغ کرنے کی ضرورت نہیں۔

    واضح رہے کہ افغان طالبان کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کنڑ صوبے میں مارٹر اور راکٹ حملوں کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور 70 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق واقعہ 27 اپریل 2026ء کو کنڑ کے علاقے اسد آباد میں پیش آیا، جس میں رہائشی مکانات اور سید جمال الدین افغانی یونیورسٹی کو نشانہ بنایا گیا
    افغان طالبان کے ترجمان حمد اللہ فطرت کے مطابق، حملے میں 4 شہری جان سے گئے جبکہ 70 زخمی ہوئے، جن میں طلبہ، خواتین اور بچے شامل ہیں۔

    جبکہ پاکستان نے افغان طالبان کے ان الزامات کو "بے بنیاد” اور "من گھڑت” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ سویلین علاقوں کو نشانہ نہیں بناتے اور یہ حملے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کے بارے میں "غلط پروپیگنڈا” ہے۔

  • پاکستانی حملوں میں 4 افراد ہلاک اور 70 زخمی ہوئے،افغان طالبان

    پاکستانی حملوں میں 4 افراد ہلاک اور 70 زخمی ہوئے،افغان طالبان

    افغان طالبان کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کنڑ صوبے میں مارٹر اور راکٹ حملوں کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور 70 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق واقعہ 27 اپریل 2026ء کو کنڑ کے علاقے اسد آباد میں پیش آیا، جس میں رہائشی مکانات اور سید جمال الدین افغانی یونیورسٹی کو نشانہ بنایا گیا
    افغان طالبان کے ترجمان حمد اللہ فطرت کے مطابق، حملے میں 4 شہری جان سے گئے جبکہ 70 زخمی ہوئے، جن میں طلبہ، خواتین اور بچے شامل ہیں۔

    جبکہ پاکستان نے افغان طالبان کے ان الزامات کو "بے بنیاد” اور "من گھڑت” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ سویلین علاقوں کو نشانہ نہیں بناتے اور یہ حملے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کے بارے میں "غلط پروپیگنڈا” ہے۔

    واضح رہے کہ یہ سرحدی کشیدگی فروری 2026ء سے جاری تناؤ اور حالیہ سیز فائر کی کوششوں کے بعد ہوئی ہے۔

  • کولمبو ایئرپورٹ پر بدھ بھکشوؤں سے منشیات برآمد، 22 بھکشو گرفتار

    کولمبو ایئرپورٹ پر بدھ بھکشوؤں سے منشیات برآمد، 22 بھکشو گرفتار

    سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو کے ایئرپورٹ پر 22 بدھ مت کے بھکشوؤں کے سامان سے 110 کلوگرام بھنگ برآمد ہوئی۔

    حکام کے مطابق ہر بھکشو کے سامان میں تقریباً 5 کلوگرام ‘کَش’ نامی طاقتور نشہ آور مادہ چھپایا گیا تھا، جو تھیلوں کی جعلی دیواروں کے اندر رکھا گیا تھا یہ تمام بھکشو تھائی لینڈ سے واپس آ رہے تھے، جہاں وہ 4 روزہ مفت سیاحتی دورے پر گئے تھے،ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ممکن ہے کچھ بھکشوؤں کو اس بات کا علم نہ ہو کہ وہ کیا لے جا رہے تھے، کیونکہ منشیات کو اسکول کے سامان اور مٹھائیوں کے درمیان چھپایا گیا تھا۔

    پولیس کے مطابق اس دورے کا انتظام ایک نامعلوم اسپانسر نے کیا تھا مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک 23واں بھکشو، جس پر اس دورے کی تنظیم کا الزام ہے، کولمبو کے نواحی علاقے سے گرفتار کیا گیا ہے، ملزم نے دیگر بھکشوؤں کو بتایا تھا کہ یہ سامان ‘عطیہ’ ہے اور اسے لینے کے لیے ایک وین آئے گی پولیس کو بعض بھکشوؤں کے موبائل فونز سے تصاویر اور ویڈیوز بھی ملے ہیں جن میں وہ غیر رسمی لباس میں چھٹیوں سے لطف اندوز ہوتے نظر آ رہے ہیں، گرفتار کیے گئے 22 بھکشوؤں کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد مزید تفتیش کے لیے 7 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

  • روسی سُپر یاٹ آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی توڑ کر بحفاظت گزر گیا

    روسی سُپر یاٹ آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی توڑ کر بحفاظت گزر گیا

    آبنائے ہرمز میں جاری امریکا ایرانی کشیدگی اور بحری پابندیوں کے باوجود روسی ارب پتی الیکسی مورداشوف سے منسلک ایک لگژری سپر یاٹ بحفاظت گزرنے میں کامیاب ہوگیا-

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے شپنگ پلیٹ فارم میرین ٹریفک کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ 142 میٹر طویل اور 50 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کی یاٹ نورڈ جمعہ کو تقریباً 1400 جی ایم ٹی پر دبئی کی ایک مرینا سے روانہ ہوئی، ہفتے کی صبح آبنائے ہرمز عبور کی اور اتوار کی صبح مسقط پہنچ گئی۔

    رائٹرز کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس کثیر منزلہ تفریحی یاٹ کو اس راستے کے استعمال کی اجازت کیسے ملی، کیونکہ فروری سے ایران نے آبنائے ہرمز میں آمد و رفت پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، یہ آبی گزرگاہ عالمی سطح پر نہایت اہمیت کی حامل ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی ترسیل ہو تی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق الیکسی مورداشوف جو روسی صدر پیوٹن کے قریبی سمجھے جاتے ہیں باضابطہ طور پر نورڈ کے مالک کے طور پر رجسٹرڈ نہیں ہیں، تاہم 2025 کے روسی کارپوریٹ ریکارڈ اور شپنگ ڈیٹا کے مطابق یہ یاٹ 2022 میں ایک روسی کمپنی کے نام رجسٹر کی گئی تھی جو ان کی اہلیہ کی ملکیت ہے۔ یہ کمپنی روس کے شہر چیریپوویتس میں رجسٹرڈ ہے، جہاں مورداشوف کی اسٹیل کمپنی سیورستال بھی رجسٹرڈ ہے۔

    مورداشوف ان روسی شخصیات میں شامل ہیں جن پر یوکرین پر روسی حملے کے بعد امریکا اور یورپی یونین نے پابندیاں عائد کی تھیں، ان پابندیوں کی وجہ ان کے صدر پیوٹن سے قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں پیر کے روز مورداشوف کے نمائندے نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔

  • امریکی صدر ٹرمپ پر حملے کے ملزم پر فردِ جرم عائد، کتنی سخت سزا ہو سکتی ہے؟

    امریکی صدر ٹرمپ پر حملے کے ملزم پر فردِ جرم عائد، کتنی سخت سزا ہو سکتی ہے؟

    واشنگٹن میں ایک سالانہ تقریب کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے الزام میں گرفتار 31 سالہ ملزم کول ٹامس ایلن پر باقاعدہ فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

    پیر کے روز واشنگٹن کی وفاقی عدالت میں پہلی پیشی کے موقع پر ملزم نے نیلے رنگ کا جیل کا لباس پہن رکھا تھا اور اس کے ہاتھ پشت پر ہتھکڑیوں سے بندھے ہوئے تھے اس حملے کو امریکی صدر کو قتل کرنے کی ایک ناکام کوشش قرار دیا گیا ہے اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں ملزم کو عمر قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    استغاثہ کی وکیل جوسلین بیلانٹائن نے عدالت میں دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اس شخص نے ریاستہائے متحدہ کے صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کی ہےکیلیفورنیا کے شہر ٹورنس سے تعلق رکھنے والے ایلن پر ریاستوں کے درمیان غیر قانونی طور پر اسلحہ منتقل کرنے اور پرتشدد جرم کے دوران گولی چلانے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔

    عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم اپنے ساتھ ایک پمپ ایکشن شاٹ گن، تین چاقو اور ایک خودکار پستول لے کر واشنگٹن پہنچا تھاحکام نے شاٹ گن کے اندر سے گولی کا خول بھی برآمد کیا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ وہاں فائرنگ کی گئی تھی۔

    مختصر سماعت کے دوران ایلن نے الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا، البتہ اس نے عدالت کو بتایا کہ اس نے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کر رکھا ہےملزم کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایلن کا اس سے قبل کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔

    ایف بی آئی کے بیانِ حلفی کے مطابق ایلن نے 6 اپریل کو اسی ہوٹل میں کمرہ بک کرایا تھا جہاں یہ تقریب ہونی تھی اور وہ گزشتہ ہفتے ٹرین کے ذریعے کیلیفورنیا سے واشنگٹن پہنچا تھاہفتے کے روز اس نے اپنے خاندان کو ایک ای میل بھیجی جس میں خود کو دوستانہ وفاقی قاتل قرار دیتے ہوئے ٹرمپ انتظا میہ کے اعلیٰ حکام کو نشانہ بنانے کے منصوبے کا ذکر کیا تھا، ای میل میں لکھا تھا کہ میں نے یہ سب کیوں کیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں امریکا کا شہری ہوں اور میرے نمائندے جو کچھ کرتے ہیں اس کا اثر مجھ پر پڑتا ہے –

    بیانِ حلفی کے مطابق ایلن ہوٹل کے سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر لگی مشین سے اسلحہ سمیت تیزی سے گزرا، جس پر ایک سیکیورٹی افسر نے اس پر گولی چلائی، ایلن زمین پر گر گیا لیکن اسے گولی نہیں لگی اس ہنگامہ آرائی کے دوران ایک سیکیورٹی افسر کے سینے میں گولی لگی لیکن وہ بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے محفوظ رہا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ گولی کس کی طرف سے چلائی گئی تھی۔

    جج میتھیو شاربا نے حکم دیا ہے کہ ملزم کو کم از کم جمعرات تک حراست میں رکھا جائے جب اس کی ضمانت یا مستقل قید کے حوالے سے دوبارہ سماعت ہوگی۔

    قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے سماعت کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ ایلن نے ٹرمپ کو اس لیے نشانہ بنایا کیونکہ اس نے واقعے کی رات اپنے رشتہ داروں کو بھیجے گئے ایک ای میل میں صدر کو غدار، ریپسٹ اور بچوں کا جنسی استحصال کرنے والا قرار دیا تھامہذب زندگی میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے، اسے جمہوری اداروں کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی صدر کے خلاف اس طرح کے اقدامات جاری رہنے دیے جائیں گے۔