Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • اتوار کو ایران کیساتھ معاہدہ  طے پاتے ہی ’آبنائے ہرمز‘ کو فوری طور پر کھول دیا جائے گا،ٹرمپ

    اتوار کو ایران کیساتھ معاہدہ طے پاتے ہی ’آبنائے ہرمز‘ کو فوری طور پر کھول دیا جائے گا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر اتوار کے روز دستخط ہونے جا رہے ہیں،اس معاہدے کے طے پاتے ہی ’آبنائے ہرمز‘ کو فوری طور پر کھول دیا جائے گا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری تفصیلی بیان میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والا معاہدے پر اتوار کے روز دستخط ہوں گے انہوں نے سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ معاہدہ ایران کے لیے جوہری ہتھیار تک پہنچنے کا ایک آسان راستہ تھا ہمارا ایران کے ساتھ معاہدہ اس کے برعکس ہے اور یہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ایک دیوار کی حیثیت رکھتا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران اب جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہش مند نہیں ہے اور وہ اب ان ہتھیاروں کی خریداری، تیاری یا کسی اور ذریعے سے حاصل کرنے کی کوشش بھی نہیں کر سکے گا، اتوار کو ایران کے ساتھ طے شدہ معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد آبنائے ہرمز کو سب کے لیے کھول دیا جائے گا میری انتظامیہ کے ماضی کی امریکی حکومتوں کے مقابلے میں ایران کے ساتھ زیادہ بہتر تعلقات ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے بیان میں اوباما انتظامیہ کے اُس فیصلے پر بھی کڑی تنقید کی جس کے تحت معاہدے کے وقت ایران کو اربوں ڈالر کے فنڈز واپس کیے گئے تھے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ممکنہ معاہدے کے تحت ایران کو کسی قسم کی مالی ادائیگی نہیں کی جائے گی۔

    امریکی صدر نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ مناسب وقت آنے پر اسے محفوظ طریقے سے تلف کیا جائے گا ’حالات معمول پر آنے کے بعد امریکا ایران کے پہاڑوں میں دفن جوہری مواد تک رسائی حاصل کرے گا اور اسے بی ٹو بمبار طیاروں اور ماہر پائلٹس کی مدد سے باہر نکال کر ایران یا امریکا میں مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔

    صدر ٹرمپ نےکہا کہ وہ ایران اور پورے مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ کام کرنے کے خواہاں ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ عمل تیزی کے ساتھ شروع ہوگا تاہم انہوں نے ایران کو دبے لفظوں میں ایٹمی حملے کی دھمکی ہوئے کہا کہ ’اگر ایسا نہ ہوا تو امریکا کے پاس آخری متبادل موجود ہے، جسے وہ دوبارہ استعمال ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی سے لے کر ممکنہ امن معاہدے تک، پاکستان نے مرکزی ثالث کے طور پر بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ اس پورے عمل میں خاص طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر متحرک نظر آئے، جنہوں نے خود بھی ایران کے دورے کیے اور وزیر داخلہ محسن نقوی کو بھی پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا۔

    ٹرمپ کے اس بیان سے قبل ہی وزیراعظم شہباز شریف امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ کے حوالے سے کہہ چکے ہیں کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں اس معاہدے کو حتمی شکل دے دی جائے گی شہباز شریف کے اس بیان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر شیئر کیا تھا جب کہ عرب میڈیا نے عباس عراقچی کی قیادت میں ایرانی وفد کی اتوار کو پاکستان آمد کا بھی دعویٰ کیا ہے جو ممکنہ طور پر اس معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شریک ہوگا۔

  • ایران کی ایم او یو پر دستخط کے حوالے سے جاری خبروں پر وضاحت جاری

    ایران کی ایم او یو پر دستخط کے حوالے سے جاری خبروں پر وضاحت جاری

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے یادداشتِ مفاہمت (ایم او یو) پر دستخط کے حوالے سے جاری خبروں پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دستاویز پر دستخط کا اصل وقت کل نہیں ہوگا۔

    ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ بعض اطلاعات کے برعکس ایم او یو پردستخط فوری طور پرمتوقع نہیں، تاہم آنے والے دنوں میں اسلام آباد میں یادداشتِ مفاہمت پردستخط کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا دونوں ممالک کے درمیان مختلف امور پر رابطے اورمشاورت جاری ہے اوراس حوالے سے مناسب وقت پر پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔

    ایرانی ترجمان کے بیان کے بعد ایم او یو پر دستخط کی متوقع تاریخ کے حوالے سے پائی جانے والی قیاس آرائیوں کو نئی جہت مل گئی ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی روابط پر بھی توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔

  • بحر ہند کی گہرائیوں میں  53 لاکھ سال پرانا  قبرستان دریافت

    بحر ہند کی گہرائیوں میں 53 لاکھ سال پرانا قبرستان دریافت

    سائنسدانوں نے بحر ہند کی تقریباً 23 ہزار فٹ گہرائی میں 5.3 ملین سال پرانا وہیل مچھلیوں کا قبرستان دریافت کر لیا ہے ، جسے وہیل نیکرو پولس(whale necropolis)کا نام دیا گیا ہے،جس کی لمبائی تقریباً 745 میل بتائی جا رہی ہے۔

    سی جی ٹی این کے مطابق یہ دریافت جنوب مشرقی بحر ہند کے ڈائمنٹینا زون میں کی گئی، جہاں وہیلوں کی باقیات کے ساتھ ساتھ کئی ایسی جاندار انواع بھی ملیں جو پہلے کبھی کہیں اور نہیں دیکھی گئیں جہاں گہرائی تقریباً 7 ہزار میٹر تک ہے اس مقام پر نہ صرف قدیم فوسلز موجود ہیں بلکہ فعال وہیل فال بھی پائے گئے ہیں، جو کم از کم 53 لاکھ سال سے تشکیل پا رہے ہیں،محققین کو یہاں جیلی فش، ٹیوب وارمز، برٹل اسٹارز، سمندری کھیرے، اسکواٹ لابسٹرز اور نمکین پانی کی سیپیاں ملیں، جن میں سے بعض ممکنہ طور پر سائنس کے لیے بالکل نئی انواع ہیں۔

    یہ تحقیق چینی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف ڈیپ سی سائنس اینڈ انجینئرنگ (آئی ڈی ایس ایس ای)، اٹلی کی یونیورسٹی آف پیزا اور نیوزی لینڈ کے ارتھ سائنسز ادارے کے اشتراک سے کی گئی ہے، اور اسے معروف سائنسی جریدے نیچر میں شائع کیا گیا ہے۔

    وہیل فال اس عمل کو کہا جاتا ہے جب مردہ وہیل سمندر کی تہہ میں ڈوب جاتی ہے اور وہاں ایک عارضی لیکن انتہائی زرخیز ماحولیاتی نظام تشکیل دیتی ہے، جس میں ہڈیوں کو کھانے والے کیڑے اور مختلف سمندری جاندار شامل ہوتے ہیں اب تک ایسے زیادہ تر مقامات 4 ہزار میٹر سے کم گہرائی میں ملے تھے، جبکہ فعال نظام کی سب سے زیادہ ریکارڈ شدہ گہرائی 4,204 میٹر تھی۔

    2023 میں کیے گئے ایک تحقیقاتی مشن کے دوران سائنسدانوں نے 32 بار گہرے سمندر میں ڈوب کر 1,200 کلومیٹر کے علاقے کا جائزہ لیا،اس دوران انہیں 5 فعال وہیل فال اور 476 فوسل سائٹس ملیں، جو 4,616 سے 7,001 میٹر گہرائی تک پھیلی ہوئی تھیں۔

    محققین کے مطابق اگر ان اعداد و شمار کو پورے علاقے پر لاگو کیا جائے تو اندازہ ہے کہ اس زون میں 10 ملین سے زائد وہیل باقیات موجود ہو سکتی ہیں تحقیق کے مطابق ان میں سے ایک مقام پر 6,789 میٹر کی گہرائی میں تین چونچ والی وہیل کی ریڑھ کی ہڈی ملی، جو اب تک کا سب سے گہرا فعال وہیل فال نظام ہے۔

    سائنسدانوں نے بتایا کہ ان فوسلز کی عمر کم از کم 53 ملین سال ہے اور ان میں موجود بعض انواع آج بھی موجود ہیں جبکہ کچھ ناپید ہو چکی ہیں ماہرین کے مطا بق ان باقیات میں موجود کاربن کی مقدار لاکھوں ٹن کے برابر ہے، جو سمندر کے ماحولیاتی نظام اور کاربن سائیکل پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے،یہ تحقیق سمند ری حیاتیات، ماحولیاتی ارتقا اور گہرے سمندروں کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

  • پاکستان فیفا ورلڈ کپ میں شریک نہ سہی،مگر ہر کھیل میں پاکستان کا حصہ موجود ہوگا،اسحاق ڈار

    پاکستان فیفا ورلڈ کپ میں شریک نہ سہی،مگر ہر کھیل میں پاکستان کا حصہ موجود ہوگا،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان ورلڈ کپ میں شریک نہ سہی، مگر ہر پاس، ہر سیو اور ہر گول میں پاکستان کا حصہ موجود ہوگا۔

    فیفا ورلڈ کپ 2026 کے حوالے سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایکس پر پیغام میں کہا کہ جیسے ہی فیفا ورلڈ کپ 2026میکسیکو، امریکہ اور کینیڈا میں شروع ہو رہا ہے، پاکستان کھیل کے اس عالمی جشن میں اپنا کردار ادا کرنے پر فخر محسوس کرتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کی آفیشل میچ بال سیالکوٹ کے ہنرمند کاریگروں نے تیار کی، پاکستانی محنت کشوں کی مہارت، درستگی اور دستکاری عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کر رہی ہے، سیالکوٹ میں تیار کردہ ایڈیڈاس ٹرائیونڈا ورلڈ کپ کے ہر میچ میں استعمال ہوگی، پاکستانی ہنرمندوں کی عالمی معیار کی صلاحیتیں قابل فخر ہیں۔

  • ملک کی سر بلندی اور حتمی فتح تک اپنے موقف پر قائم رہیں گے،ایرانی اسپیکر

    ملک کی سر بلندی اور حتمی فتح تک اپنے موقف پر قائم رہیں گے،ایرانی اسپیکر

    ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور سربراہ مذاکرات کمیٹی محمد باقر قالیباف نےکہا کہ اپنے شہدا کے مشن کو جاری رکھیں گے اور کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق باقر قالیباف نے گزشتہ برس کی 12 روزہ جنگ کے ایک سال مکمل ہونے پر اپنے بیان میں شہدا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران عام شہریوں کو نشانہ بنانے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا نے گزشتہ برس 12 روزہ جنگ کے دوران بھی معصوم بچوں تک کو قتل کیا اور کسی جرم یا ظلم سے گریز نہیں کیا یہ کیسی بہادری تھی جو نہتے بچوں پر دکھائی گئی ہم اپنے شہدا کی قربانیوں سے حوصلہ حاصل کرتے ہوئے ملک کی سر بلندی اور حتمی فتح تک اپنے موقف پر قائم رہیں گے اور کبھی اپنی منزل یا مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل نے حزب اللہ اور حماس کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہوئے امریکا کی مدد سے ایران پر گزشتہ برس جون میں شدید حملے کیے تھے جس میں ملکی ایٹمی سائنسدانوں، اہم کمانڈرز اور سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنایا تھا۔

  • ٹرمپ کی  جی 7 اجلاس کے دوران اہم عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں طے

    ٹرمپ کی جی 7 اجلاس کے دوران اہم عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں طے

    امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ جی 7 اجلاس کے دوران اہم عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں میں مصروف رہیں گے۔

    شیڈول کے مطابق ٹرمپ یوکرینی صدرولودیمیرزیلنسکی کے ساتھ جی 7 کے ورکنگ سیشن میں شرکت کریں گے، جس میں یوکرین جنگ اور یورپی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال متوقع ہےاس کے علاوہ وہ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ خصوصی عشائیے میں بھی شریک ہوں گے، جو پیرس کے ایک میوزیم میں منعقد کیا جائے گا۔

    امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ کی ملاقاتوں میں متحدہ عرب امارات اورقطرسمیت مشرق وسطیٰ کے دیگراہم رہنماؤں سے بھی بات چیت شامل ہے، جس میں خطے کی سیکیورٹی، توانائی اور سفارتی تعاون زیرغورآئے گا ٹرمپ فرانس اورمصر کے رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن کا مقصد عالمی سطح پر جاری کشیدگی، اقتصادی تعاون اور علاقائی تنازعات پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔

  • ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2026: پاک بھارت ٹاکرا کل ہو گا

    ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2026: پاک بھارت ٹاکرا کل ہو گا

    ویمنز ٹی20 کرکٹ ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان اپنا پہلا میچ روایتی حریف بھارت کے خلاف کھیلے گا۔

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم اپنا پہلا میچ کل 14 جون کو روایتی حریف بھارت کے خلاف کھیلے گی یہ اہم اور سنسنی خیز مقابلہ برمنگھم کے تاریخی ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے زیراہتمام ٹی 20 ویمن ورلڈ کپ 12 جون سے 5 جولائی تک جاری رہےگایہ ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ کی تاریخ کا سب سےبڑا ایونٹ ہےٹورنامنٹ میں پہلی بار 12 ٹیمیں حصہ لےرہی ہیں ۔

    ایونٹ کے دوران مجموعی طور پر 7 مختلف مقامات پر 33 میچز کھیلے جائیں گے، جبکہ فائنل 5 جولائی کو لندن کے تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا روایتی حریف بھارت کے خلاف پہلے میچ کے بعد پاکستان اپنا دوسرا میچ 17 جون کو جنوبی افریقہ، تیسرا میچ 20 جون کو بنگلادیش، چوتھا میچ 23 جون کو آسٹریلیا اور پانچواں میچ 27 جون کو نیدرلینڈز کے خلاف کھیلے گا۔

    پاکستانی ٹیم کو ’گروپ ون‘ میں رکھا گیا ہے، جہاں اسے 6 مرتبہ کی چیمپیئن آسٹریلیا، بھارت، جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش اور نیدرلینڈز کا چیلنج درپیش ہوگا، ’گروپ ٹو‘ میں دفاعی چیمپیئن نیوزی لینڈ، میزبان انگلینڈ، ویسٹ انڈیز، سری لنکا، آئرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ شامل ہیں۔ دونوں گروپس کی ٹاپ 2 ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی، جو 30 جون اور 2 جولائی کو کھیلے جائیں گے۔

    قومی ٹیم کی قیادت نوجوان آل راؤنڈر فاطمہ ثنا کر رہی ہیں، جو مسلسل دوسرے ٹی20 ورلڈ کپ میں کپتانی کے فرائض انجام دیں گی 24 سالہ فاطمہ ثنا حالیہ عرصے میں شاندار فارم میں ہیں،انہوں نے گزشتہ ماہ کراچی میں زمبابوے کے خلاف سیریز کے دوران صرف 15 گیندوں پر نصف سنچری بنا کر ویمنز ٹی20 انٹرنیشنل کرکٹ کی ’تیز ترین ففٹی‘ کا عالمی ریکارڈ بھی اپنے نام کیا تھا۔

    پاکستان ویمنز ٹیم کے مینٹور وہاب ریاض نے ٹیم کی صلاحیتوں پر پختہ اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’کھلاڑیوں نے گزشتہ چند ماہ کے دوران سخت محنت کی ہے اور یہ نوجوان و پُرجوش ٹیم ورلڈ کپ میں بہترین کارکردگی دکھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے ہماری توجہ ’بے خوف‘ اور مثبت کرکٹ کھیلنے پر ہے اگر کھلاڑی اپنی اصل صلاحیتوں کے مطابق کھیلے، تو ٹیم سیمی فائنل تک لازمی رسائی حاصل کر سکتی ہے۔

  • حکومت کا 2 ایڈہاک الاؤنسز بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ

    حکومت کا 2 ایڈہاک الاؤنسز بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے دو پرانے ایڈہاک الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    رپورٹس کے مطابق وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے محفوظ رکھنا اور ان کی مالی مشکلات میں کمی لانا ہےسال 2022 کا 15 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس اور سال 2025 کا 10 فیصد ایڈہاک الاؤنس اب مستقل طور پر بنیادی تنخواہ کا حصہ بنا دیا گیا ہےاس فیصلے سےسرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں نمایاں اضافہ ہو گا جس کے اثرات مستقبل میں ملنے والی مراعات، پنشن اور دیگر الاؤنسز پر بھی مرتب ہوں گے۔

    وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنسمیں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دے دی ہے یہ فیصلہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور روزمرہ سفری اخراجات میں اضافے کے پیشِ نظر کیا گیا ہے تاکہ ملازمین کو مالی سہولت فراہم کی جا سکے ان اقدامات سے ملازمین کے معیار زندگی میں بہتر ی آئے گی جبکہ بنیادی تنخواہ بڑھنے کے باعث ہاؤس رینٹ سمیت دیگر مراعات کا حجم بھی خود بخود بڑھ جائے گا حکومت نے اسے موجودہ معاشی حالا ت میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ایک اہم ریلیف قرار دیا ہے۔

  • وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا سعودی ہم منصب  سے رابطہ

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا سعودی ہم منصب سے رابطہ

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان الیکٹرانک دستخطی تقریب کل ہوگی۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، جس میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے آخری مرحلے کا خیرمقدم کیا،اس موقع پر انہوں نے اس امید کا اظہار کیاکہ کل متوقع الیکٹرانک دستخطی تقریب کے بعد ہونے والی یہ اہم پیشرفت خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام میں مثبت کردار ادا کرے گی۔

    سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے مذاکرات اور ثالثی کے عمل میں پاکستان کی مسلسل اور مثبت کوششوں کو سراہتے ہوئے اس کردار کی زبردست تعریف کی،گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے رواں ماہ کے اختتام پر مصر میں منعقد ہونے والے علاقائی چار ملکی وزرائے خارجہ (آر-4) اجلاس سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا پاکستان اور سعودی عرب نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی یہ مفاہمت خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام میں معاون ثابت ہوگی۔

    واضح رہے کہ قبل وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران پہلے سے کہیں زیادہ امن معاہدے کے قریب ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں معاہدے کو حتمی شکل دے دی جائے گی پاکستان امن معاہدے کو حتمی شکل ملنے کے فوراً بعد اس پر الیکٹرانک دستخط کے لیے تیاریاں کررہا ہے، جبکہ اگلے ہفتے تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی متوقع ہیں۔

    بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کی ٹوئٹ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بھی شیئر کی۔

  • موجودہ حکومت ہی اپنی آئینی مدت پوری کرے گی،محسن نقوی

    موجودہ حکومت ہی اپنی آئینی مدت پوری کرے گی،محسن نقوی

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ’ڈھائی ڈھائی سال کا کوئی بھی منصوبہ میرے علم میں نہیں ہے، یہ افواہیں بے بنیاد ہیں اور موجودہ حکومت ہی اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔

    اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے آزاد کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری غلطی ہے کہ ہم کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی ہر ڈیمانڈ مانتے جاتے ہیں وہ جتنے نکات لائے اور ہم نے ان میں سے 2 کو چھوڑ کر سارے مان لیے، لیکن اس کے باوجود وہ راضی نہیں ہیں کالعدم ایکشن کمیٹی والے پہلے گندم پر رعایت لے گئے، پھر بجلی پر احتجاج شروع کر دیا اب بجلی کی قیمت انتہائی کم کر دی گئی ہے، تب بھی احتجاج کیا جا رہا ہے اس طرح تو پھر ہمیں بھی یہاں احتجاج کرنا چاہیے کیونکہ یہاں بجلی زیادہ مہنگی ہے،کالعدم ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات تسلیم کیے جانے کے باوجود احتجاج کا سلسلہ جاری رہنا سمجھ سے باہر ہے۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ تیل کی قیمتیں بڑھنے سے پوری دنیا متاثر ہوئی ہے، جس کی بنیادی وجہ عالمی حالات کی خرابی ہے پا کستان میں پیٹرول کی قیمت 500 روپے سے بھی تجاوز کرنے لگی تھی، لیکن ہم نے بہت مشکل سے قیمتوں کو کنٹرول کیا ہم نے اپنے خارجہ تعلقات کو استعمال کر کے وقت پر فیول اکٹھا کر لیا تھا، ورنہ ملک میں یکمشت 200 سے ڈھائی سو روپے فی لیٹر کا جمپ لگنا تھا اللہ کا شکر ہے کہ ہم اس بڑے بحران سے بچ گئے اور اب ملک میں حالات کافی بہتر ہیں، زراعت کے شعبے میں تنزلی ہونا ہمارے لیے انتہائی پریشان کن ہے۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور ایران کا معاہدہ بہت جلد ہو جائے گا، جس میں وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل پاکستان کی نمائندگی کریں گے حکومت کی تبدیلی اور ’ڈھائی ڈھائی سال کے فارمولے‘ سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیر داخلہ نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہا کہ ڈھائی ڈھائی سال کا کوئی بھی منصوبہ میرے علم میں نہیں ہے، یہ افواہیں بے بنیاد ہیں اور موجودہ حکومت ہی اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔