Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • ایٹمی توانائی کا استعمال انتہائی ذمہ داری اور دانشمندی کے ساتھ ہونا چاہیے ،پوپ لیو

    ایٹمی توانائی کا استعمال انتہائی ذمہ داری اور دانشمندی کے ساتھ ہونا چاہیے ،پوپ لیو

    پوپ لیو نے کہا ہے کہ جنگیں اور وسائل کی لوٹ مار انسانیت کے مستقبل کی چوری ہیں-

    پوپ لیو نے ویٹی کن میں اتوار کو خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگیں چھیڑنے اور زمین کے وسائل پر قبضہ کرنے والے دراصل انسانیت کے پُرامن مستقبل کو چھین رہے ہیں چرنوبل ایٹمی حادثے کی 40ویں برسی کے موقع پر اپنے ہفتہ وار خطاب میں پوپ لیو نے خبردار کیا کہ ایٹمی توانائی کا استعمال انتہائی ذمہ داری اور دانشمندی کے ساتھ ہونا چاہیے ، چرنوبل کا سانحہ آج بھی انسانیت کے اجتماعی شعور پر ایک گہرا اثر رکھتا ہے اور یہ جدید طاقتور ٹیکنالوجی کے خطرات کی یاد دہانی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا میں مختلف شکلوں میں چور موجود ہیں، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو جنگوں کو ہوا دیتے ہیں، وسائل کو لوٹتے ہیں یا برائی کو فروغ دیتے ہیں، اور اس طرح سب سے ایک پُرامن مستقبل چھین لیتے ہیں،پوپ نے امید ظاہر کی کہ عالمی سطح پر فیصلے کرتے وقت عقل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے گا تاکہ ایٹمی طاقت کو صرف امن اور انسانی بھلائی کے لیے استعمال کیا جا سکےچرنوبل کا سانحہ دنیا کا بدترین ایٹمی حادثہ تھا جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔

  • فلسطینی بلدیاتی انتخابات:صدر محمود عباس کے حامی امیدواروں نے اکثریتی نشستیں حاصل کر لیں

    فلسطینی بلدیاتی انتخابات:صدر محمود عباس کے حامی امیدواروں نے اکثریتی نشستیں حاصل کر لیں

    فلسطینی بلدیاتی انتخابات میں صدر محمود عباس کے حامی امیدواروں نے اکثریتی نشستیں حاصل کر لیں، جبکہ تقریباً 2 دہائیوں بعد پہلی بار غزہ کے ایک شہر میں بھی ووٹنگ کرائی گئی۔

    فلسطینی حکام کے مطابق یہ انتخابات نہایت حساس حالات، متعدد چیلنجز اور غیر معمولی صورتحال میں منعقد ہوئے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے آغاز اکتوبر 2023 کے بعد یہ پہلا انتخابی عمل تھا، جبکہ مجموعی طور پر غزہ میں 2006 کے بعد پہلی مرتبہ انتخابات ہوئے۔

    حماس نے اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے میں انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا جبکہ غزہ کے علاقے میں جہاں انتخابات منعقد ہوئے، باضابطہ طور پر اپنے امیدوار کھڑے نہیں کیے مرکزی غزہ کے شہر دیر البلح میں ہونے والی ووٹنگ کو علامتی اہمیت دی گئی، جس کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ غزہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کا لازمی حصہ ہے۔

    ابتدائی نتائج کے مطابق دیر البلح میں عباس کی جماعت فتح اور فلسطینی اتھارٹی کی حمایت یافتہ فہرست نے 15 میں سے 6 نشستیں حاصل کیں ایک دو سری فہرست، جسے مقامی سطح پر حماس سے قریب سمجھا جا رہا تھا، صرف 2 نشستیں جیت سکی، باقی نشستیں دو دیگر مقامی گروپوں نے حاصل کیں، جو کسی بڑی جماعت سے وابستہ نہیں تھے۔

    مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق غزہ میں ووٹر ٹرن آؤٹ 23 فیصد رہا، جبکہ مغربی کنارے میں یہ شرح 56 فیصد ریکارڈ کی گئی غزہ میں کم ووٹر ٹرن آؤٹ کی ایک بڑی وجہ جنگی حالات، بڑے پیمانے پر نقل مکانی، تباہ شدہ انفراسٹرکچر اور آبادی کے پرانے رجسٹریشن ریکارڈ تھے۔

  • آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کی امریکا کو نئی پیشکش

    آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کی امریکا کو نئی پیشکش

    ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے اور جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کو نئی شرائط پیش کر دی ہیں۔

    امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق یہ پیشکش ایک امریکی عہدیدار اور معاملے سے واقف دیگر ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی ہے جس میں ایران نے تجویز دی ہے کہ پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے اور جنگ بندی کی طرف پیش رفت کی جائے، جبکہ جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر رکھا جائے،ایران نے یہ پیغام پاکستان کے ذریعے ثالثی کے طور پر امریکا تک پہنچایا جو اس وقت دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کا معاہدہ طے پا جاتا ہے تو امریکی صدر ٹرمپ کے پاس ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے محدود آپشنز رہ جائیں گے، خاص طور پر یورینیم افزودگی کے پروگرام کے حوالے سے پیش رفت نہیں ہوسکے گی،تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کا معاہدہ طے پا جاتا ہے تو امریکی صدر ٹرمپ کے پاس ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے محدود آپشنز رہ جائیں گے، خاص طور پر یورینیم افزودگی کے پروگرام کے حوالے سے پیش رفت نہیں ہوسکے گی۔

    ماہرین کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ ایران کم از کم ایک دہائی کے لیے یورینیم افزودگی معطل کرے، لیکن ایران کی نئی تجویز میں اس معاملے کو فوری طور پر شامل نہیں کیا گیا، جس سے مذاکرات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق توقع ہے کہ صدر ٹرمپ پیر کے روز اپنے اعلیٰ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مشیروں کے ساتھ ایران کی اس نئی صورتحال پر غور کرنے کے لیے ایک اہم اجلاس کی صدارت کریں گے اس میٹنگ میں مذاکرات میں جاری جمود اور مستقبل کے ممکنہ اقدامات پر بات ہوگی۔

    اتوار کے روز ’فاکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ وہ اس بحری ناکہ بندی کو جاری رکھنا چاہتے ہیں جس نے ایران کی تیل کی برآمدات کو روک رکھا ہے جب آپ کے پاس تیل کی بھاری مقدار سسٹم میں موجود ہو اور اسے جہازوں میں نہ ڈالا جا سکے تو وہ لائن اندر سے پھٹ سکتی ہے، اور کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس ایسا ہونے سے پہلے صرف تین دن کا وقت ہوتا ہے۔

    ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کا بحران اس وقت مزید گہرا ہوا جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہ پاکستان میں کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہ آئی وائٹ ہاؤس نے پہلے اعلان کیا تھا کہ ٹرمپ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اسلام آباد میں عراقچی سے ملیں گے، لیکن ایران کی جانب سے کوئی واضح جواب نہ ملنے پر صدر ٹرمپ نے یہ دورہ منسوخ کر دیا۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں انہیں 18 گھنٹے طویل فلائٹ پر بھیجنے کا کوئی فائدہ نہیں، ہم فون پر بھی بات کر سکتے ہیں اور ایرانی اگر چاہیں تو ہمیں کال کر سکتے ہیں، ہم صرف وہاں بیٹھنے کے لیے سفر نہیں کریں گے عباس عراقچی نے پاکستان، مصر، ترکی اور قطر کے ثالثوں کو واضح کیا ہے کہ ایرانی قیادت میں امریکی مطالبات پر اتفاقِ رائے نہیں ہے۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ذریعے امریکا کو دی گئی نئی تجویز میں کہا گیا ہے کہ پہلے آبنائے ہرمز کے بحران اور امریکی ناکہ بندی کو حل کیا جائے اور جنگ بندی میں طویل المدتی توسیع یا جنگ کے مستقل خاتمے پر اتفاق کیا جائے جوہری مذاکرات اس کے بعد شروع ہوں گے جب ناکہ بندی ختم ہو جائے گی۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے اس حوالے سے کہا ہے کہ امریکا پریس کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا، صدر واضح کر چکے ہیں کہ تمام پتے امریکا کے ہاتھ میں ہیں اور وہ صرف وہی معاہدہ کریں گے جو امریکی عوام کے مفاد میں ہو اور ایران کو کبھی جوہری ہتھیار نہ بنانے دے۔

    رپورٹ کے مطابق اس معاملے پر پاکستانی حکام نے فی الحال کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

  • اسرائیل نے صومالی لینڈ میں پہلا سفیر تعینات کر دیا

    اسرائیل نے صومالی لینڈ میں پہلا سفیر تعینات کر دیا

    اسرائیل نے خود ساختہ ریاست صومالی لینڈ میں اپنے پہلے سفیر کے تقرر کی منظوری دے دی ہے-

    اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے مائیکل لوٹم کو صومالی لینڈ میں اپنا پہلا سفیر مقرر کیا ہے۔ وہ اس وقت افریقہ کے لیے اسرائیل کے اقتصادی نمائندے کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور اس سے قبل آذربائیجان، کینیا اور قازقستان میں بطور سفیر فرائض انجام دے چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ نیتن یاہو نے دسمبر 2025 میں صومالی لینڈ کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا اس اقدام پر متعدد مسلم ممالک نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا تھا اور خطے میں اس کے ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

    واضح رہے کہ صومالی لینڈ نے 1991 میں صومالیہ سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا اور تب سے وہ عملی طور پر خودمختار حیثیت رکھتا ہے، تاہم عالمی سطح پر اسے اب بھی صومالیہ کا حصہ ہی تصور کیا جاتا ہے اور اسے محدود یا کوئی بین الاقوامی تسلیم حاصل نہیں، ماہرین کے مطابق اسرائیل کا یہ اقدام مشرقی افریقہ میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی ایک بڑی سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔

  • ایرانی حملے: امریکی فوجی اڈوں کو   نقصان بتائے گئے نقصان سے زیادہ ہونے کا انکشاف

    ایرانی حملے: امریکی فوجی اڈوں کو نقصان بتائے گئے نقصان سے زیادہ ہونے کا انکشاف

    مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں سے متعلق حالیہ رپورٹس (اپریل 2026) نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے امریکی اڈوں اور فوجی آلات کو سرکاری طور پر ظاہر کیے جانے والے نقصان سے کہیں زیادہ "وسیع” نقصان پہنچایا ہے۔

    امریکا-اسرائیل-ایران جنگ کے دوران ایرانی حملوں سے مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والا نقصان بتائے گئے نقصان سے زیادہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے،پریس ٹی وی کی ویب سائٹ پر شائع این بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے امریکی فوجی اڈوں پر کیے گئے جوابی حملوں نے اس سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے جتنا کہ امریکی حکام کی جانب سے عوامی سطح پر ظاہر کیا گیا۔

    این بی سی نیوز اور دیگر ذرائع کی رپورٹس کے مطابق،خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور آلات کو مناسب فضائی دفاعی نظام ہونے کے باوجود ایرانی فضائی حملوں کے باعث شدید نقصان پہنچا ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی مرمت پر اربوں ڈالر لاگت آ سکتی ہے ایران کے جوابی حملوں نے مشرق وسطیٰ کے 7 ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کے اہم اثاثوں کو نشانہ بنایا،حملوں میں گودام، کمانڈ ہیڈکوارٹر، طیاروں کے ہینگر، سیٹلائٹ مواصلاتی نظام، رن وے، اور ہائی اینڈ ریڈار سسٹم (بشمول THAAD سسٹم) کو شدید نقصان پہنچا، ایران نے امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کیلیے میزائلوں، ڈرونز اور یہاں تک کہ جنگی طیاروں کا استعمال کیا۔

    امریکی حکام نے نجی طور پر اعتراف کیا ہے کہ تباہی اتنی زیادہ ہے کہ اس کی مرمت پر اربوں ڈالر لگ سکتے ہیں ایک واقعے میں، ایرانی ایف-5 لڑاکا طیارے نے امریکی فضائی دفاعی نظام (air defense systems) کو چکمہ دے کر حملہ کیا پینٹاگون نے عوامی سطح پر نقصانات کی مکمل تفصیلات شیئر نہیں کی ہیں، جس پر امریکی قانون سازوں نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے کویت اور دیگر مقامات پر امریکی اڈے اس حد تک متاثر ہوئے کہ کچھ سہولیات ناقابل استعمال ہو گئیں۔

    رپورٹ میں تین سرکاری حکام، کانگریس کے دو معاونین اور معاملے سے باخبر ایک اور شخص سمیت متعدد ذرائع کے حوالے دیے گئے پچھلی رپورٹس میں یہ اشارہ دیا گیا تھا کہ امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کے نتیجے میں امریکا کو جدید ترین فوجی ساز و سامان سے ہاتھ دھونا پڑا جس میں قطر میں واقع العدید فوجی اڈے پر نصب ایک ارب ڈالر مالیت کا ریڈار سسٹم بھی شامل ہے۔

  • ٹرمپ کی موجودگی میں  فائرنگ کا واقعہ، ملزم پر آج فرد جرم عائدکی جائےگی

    ٹرمپ کی موجودگی میں فائرنگ کا واقعہ، ملزم پر آج فرد جرم عائدکی جائےگی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں کارسپونڈنگ ڈنر کے دوران فائرنگ کے واقعے کے بعد قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حملہ آور کا ممکنہ ہدف امریکی صدر تھے۔

    قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل نے کہا ایسا لگتا ہے ملزم نے اکیلے کارروائی کی اور وہ ہوٹل میں ہی مقیم تھا اور حکومتی عہدے داروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا ملزم تفتیش میں تعاون نہیں کررہا، پیر کو اس پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔

    امریکی میٖڈیا کے مطابق مشتبہ حملہ آور کی شناخت کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے 31 سال کے Cole Tomas Allen کے طور پر ہوئی، مبینہ حملہ آور نے حکام کو بتایا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے عہدے داروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا دوسری جانب ایف بی آئی کی جانب سے کیلیفورنیا کےعلاقے ٹورینس میں گرفتارملزم کے گھر اور اطراف میں تحقیقات شروع کردی گئی۔

  • ٹرمپ نے ایران کو 3 دن کا الٹی میٹم  دیدیا

    ٹرمپ نے ایران کو 3 دن کا الٹی میٹم دیدیا

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس صرف 3 دن ہیں، اس کے بعد ان کا تیل انفراسٹرکچر ختم ہوجائے گا۔

    اتوار کو امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کو دیے گئے انٹر ویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے وفد کو اس لیے نہیں بھیجا کہ 18 گھنٹے کی فلائٹ ہے، ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور اس صورت حال میں امریکا کو فتح حاصل ہوگی، اگر ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے تو وہ براہِ راست فون کے ذریعے رابطہ کر سکتا ہے کیوں کہ یہ معاملہ فون پر بھی طے کیا جا سکتا ہے ایران میں جن فریقین سے امریکا کا سامنا ہے ان میں کچھ قابلِ قبول ہیں جب کہ کچھ نہیں تاہم انہیں امید ہے کہ ایران اس معاملے میں دانشمندی کا مظاہرہ کرے گا۔

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے افزودہ یورینیم سے متعلق معاملہ بھی جاری مذاکرات کا حصہ ہے اور امریکا اس تک رسائی حاصل کرے گا۔ چین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ زیادہ مایوس نہیں ہیں لیکن بیجنگ اس معاملے میں مزید تعاون کر سکتا ہے ایران سے متعلق صورت حال میں نیٹو امریکا کے ساتھ نہیں تھا اور جب جنگ کے خاتمے کے بعد برطانیہ نے بحری جہاز بھیجنے کی پیشکش کی تو یہ ایک غیر مناسب اقدام تھا۔

    امریکی صدر نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی 2025 میں ہونے والی جنگ کا ذکر چھیڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے دور میں انہوں نے 8 مختلف جنگی تنازعات کو رکوانے میں کردار ادا کیا، جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بھی شامل ہے پاک بھارت کشیدگی اس حد تک بڑھ رہی تھی کہ صورتحال جوہری تصادم کی طرف جا سکتی تھی، اس دوران 11 جہاز تباہ ہوئے، وزیراعظم پاکستان نے میرے حوالے سے کہا کہ میں نے کردار ادا کر کے لاکھوں جانیں بچائی ہیں، وہ پاکستان کا بہت احترام کرتے ہیں اور وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل بہت اچھے اور ان کے لیے قابل احترام ہیں۔

  • ‘ایک ریپسٹ کو اجازت نہیں دوں گا کہ  اپنے جرائم کے داغ میرے ہاتھوں پر لگائے، کول ٹامس ایلن

    ‘ایک ریپسٹ کو اجازت نہیں دوں گا کہ اپنے جرائم کے داغ میرے ہاتھوں پر لگائے، کول ٹامس ایلن

    امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کے عشائیے پر حملے کے ایک روز بعد امریکی حکام اس معمہ کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ایک معزز استاد اور گیم ڈویلپر نے اچانک تشدد کا راستہ کیوں اختیار کیا۔

    31 سالہ کول ٹامس ایلن نے حملے سے قبل اپنے خاندان کو ایک تحریری پیغام بھیجا تھا جس میں اس نے ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کو نشانہ بنانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا اس خط میں ایلن نے لکھا کہ میں ان تمام لوگوں سے معذرت چاہتا ہوں جن کے اعتماد کو میں نے ٹھیس پہنچائی، میں معافی کی امید نہیں رکھتا۔

    کول ٹامس ایلن نے اپنے پیغام میں خود کو ایک وفاقی حملہ آور قرار دیا اور صدر ٹرمپ کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیاکول ایلن نے اپنے مبینہ ٹرمپ مخالف خط میں کسی اہلکار یا صدر ٹرمپ کا نام لیے بغیر لکھا کہ میں اب اس بات کی مزید اجازت نہیں دوں گا کہ ایک بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث شخص، زانی اور غدار اپنے جرائم کے داغ میرے ہاتھوں پر لگائے۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ’سی بی ایس نیوز‘ کے پروگرام ’60 منٹس‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے خلاف جنسی تشدد کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ملزم کے بیان کو ایک ’انتہا پسندانہ‘ منشور قرار دیا، ملزم کے بیانات پڑھ کر سنانے پر انہوں نے صحافیوں کو ’خوفناک افراد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ہاں، اس نے یہ لکھا ہے میں زانی نہیں ہوں میں نے کسی کا ریپ نہیں کیا۔

    جب انٹرویو لینے والے نے ان سے یہ سوال کیا کہ کیا ان کے خیال میں ملزم کا اشارہ ان کی طرف تھا؟ تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ میں بچوں کا جنسی استحصال کرنے والا نہیں ہوں، معاف کیجیے گا، معاف کیجیے گا، میں پیڈوفائل نہیں ہوں آپ ایک بیمار ذہن کے آدمی کی لکھی ہوئی بکواس پڑھ رہے ہیں؟ میرا نام ان تمام چیزوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا جن سے میرا کوئی لینا دینا نہیں، میں مکمل طور پر بے گناہ ثابت ہوا تھا۔

    پولیس کی تحقیقات کے مطابق ایلن نے حالیہ برسوں میں بائیں بازو کی سیاست میں دلچسپی لینا شروع کی تھی اور وہ لاس اینجلس میں سرگرم تھااس کی بہن نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بتایا کہ وہ اکثر انتہا پسندانہ بیانات دیتا تھا اور اس نے قانونی طور پر اسلحہ خرید کر باقاعدہ مشق بھی شروع کر دی تھی۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق کول ٹامس ایلن لاس اینجلس سے ٹرین کے ذریعے شکاگو اور پھر واشنگٹن پہنچا، جہاں اس نے اسی ہوٹل میں قیام کیا جہاں صدر ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ حکام کی تقریب ہونی تھی۔

    ملزم کے ماضی پر نظر ڈالی جائے تو وہ ایک انتہائی ذہین اور ہمدرد نوجوان کے طور پر سامنے آتا ہے اس نے 2017 میں مشہور تعلیمی ادارے کالٹیک سے مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی تھی اور طالب علمی کے دور میں وہ وہیل چیئر کے لیے ہنگامی بریک کا نمونہ تیار کرنے پر خبروں کی زینت بھی بنا تھا۔

    وہ ایک نجی تعلیمی ادارے میں پڑھاتا تھا جہاں اسے دسمبر 2024 میں بہترین استاد کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ ایک فری لانس گیم ڈویلپر بھی تھا اور اس کا تیار کردہ ایک گیم انٹرنیٹ پر فروخت کے لیے دستیاب ہے ملزم نے اپنے پیغام میں یہ دلیل بھی دی کہ اس کا اقدام مسیحی اقدار کے خلاف نہیں ہے، اس نے لکھا کہ جب کوئی دوسرا مظلوم ہو تو خاموش رہنا مسیحی رویہ نہیں بلکہ ظالم کے جرائم میں شریک ہونا ہے۔

    ایلن کے بھائی نے جب یہ پیغام موصول کیا تو اس نے فوری طور پر پولیس کو تشویش سے آگاہ کیا، لیکن تب تک ملزم اپنی کارروائی شروع کر چکا تھا۔
    تفتیشی اداروں کو معلوم ہوا ہے کہ ملزم نے اکتوبر 2023 اور اگست 2025 میں قانونی طور پر پستول اور شاٹ گن خریدی تھی جس کے لیے اس کا باقاعدہ بیک گراؤنڈ چیک بھی کیا گیا تھا۔

    اس وقت ایف بی آئی اور دیگر ادارے ملزم کے سوشل میڈیا اور خاندانی روابط کی جانچ کر رہے ہیں تاکہ اس کے اصل محرکات کو سمجھا جا سکے جسے صدر ٹرمپ نے مسیحی مخالف قرار دیا ہےملزم کے پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ اس کے والد ایک ملنسار شخص ہیں اور انہوں نے کول کو چند روز قبل ہی علاقے میں دیکھا تھا، لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ خاموش رہنے والا نوجوان اتنے بڑے پرتشدد منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

  • 13 سالہ بچی سے گھر میں گھس کرزیادتی، ،ملزمان ویڈیو بھی بناتے رہے

    13 سالہ بچی سے گھر میں گھس کرزیادتی، ،ملزمان ویڈیو بھی بناتے رہے

    تھانہ چکلالہ کے علاقے میں 13 سالہ بچی سے گھر میں گھس کر لڑکے نے مبینہ زیادتی کر ڈالی جبکہ لڑکے کے دو ساتھی زیادتی کے دوران نازیبا ویڈیو بھی بناتے تھے۔

    تفصیلات کے مطابق ویڈیو بنانے کے بعد تین ملزمان لڑکی کو دھمکیاں دیکر بلیک میل کرکے اغواء کرکے ساتھ بھی لے گئے،نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں گاڑی روک کر اتارا تو ایک شخص نے پریشان دیکھ کر انھیں کہا کہ لڑکی کو کیوں پریشان کر رہے ہو جس پر ملزمان فرار ہوگئے،پولیس نے لڑکی کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا۔

    مدعیہ مقدمہ کے مطابق ڈھوک چوہدریاں اسکیم تھری میں رہائش ہے، بیٹی کو گھر چھوڑ کر خاوند کے ساتھ کام پر چلی گئی تھی، بیٹی گھر میں اکیلی تھی جس کی وجہ سے گھر کو باہر سے تالا لگا کر گئی واپس آئے تو دروازہ کھلا تھا، سامان بکھرا پڑا تھا اور بیٹی گھر میں موجود نہیں تھی، خاوند کے ساتھ تلاش شروع کی تو بیٹی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سفاری ون میں پریشان کھڑی ملی۔

    والدہ نے بیٹی سے پوچھا جس پر بتایا کہ گھر میں موجود تھی کہ رومان، ریحان ظہیر اور ریحان شوکت گھر میں گھس آئے شور کرنے پر رومان نے میرے منہ پر کپڑا باندھ کر زبردستی زیادتی کی جبکہ ریحان ظہیر اور ریحان شوکت نازیبا ویڈیو بناتے رہے متاثرہ بچی نے بتایا کہ زیادتی کے بعد رومان نے دھمکیاں دیں کہ ساتھ نہ گئی تو ویڈیو وائرل کر دیں گے، ڈر کر ان کے ساتھ گئی تو گلی میں سفید گاڑی میں ایک ڈرائیور اور دو افراد موجود تھے، مجھے گاڑی میں بٹھایا اور نجی ہاؤسنگ سو سائٹی لے گئے، وہاں گاڑی سے اتارا تو پریشان دیکھ کر ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ لڑکی کو کیوں تنگ کر رہے ہو تو وہ سب بھاگ گئے۔

    پولیس کے مطابق لڑکی کا میڈیکل کروا کر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا، ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

  • پیپلز پارٹی  کے رہنما کے نوجوان صاحبزادے انتقال کر گئے

    پیپلز پارٹی کے رہنما کے نوجوان صاحبزادے انتقال کر گئے

    پاکستان پیپلز پارٹی کے ایم این اے میر اعجاز جھگرانی کے صاحبزادے زید حسین جکھرانی کراچی کے ایک نجی اسپتال میں انتقال کر گئے۔

    مرحوم گزشتہ چند روز سے زیرِ علاج تھے اور ان کے انتقال کی خبر سے سیاسی و سماجی حلقوں میں گہرے دکھ اور افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے ان کی نمازِ جنازہ اور تدفین آبائی شہر جیکب آباد میں کی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی، سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان بیٹے کا غم والدین کے لیے ناقابلِ برداشت صدمہ ہوتا ہے اور اس دکھ کی گھڑی میں پاکستان پیپلز پارٹی خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔

    مرکزی ترجمان پیپلز پارٹی شازیہ مری نے بھی تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مشکل وقت میں سوگوار خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔