وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ’ڈھائی ڈھائی سال کا کوئی بھی منصوبہ میرے علم میں نہیں ہے، یہ افواہیں بے بنیاد ہیں اور موجودہ حکومت ہی اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔
اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے آزاد کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری غلطی ہے کہ ہم کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی ہر ڈیمانڈ مانتے جاتے ہیں وہ جتنے نکات لائے اور ہم نے ان میں سے 2 کو چھوڑ کر سارے مان لیے، لیکن اس کے باوجود وہ راضی نہیں ہیں کالعدم ایکشن کمیٹی والے پہلے گندم پر رعایت لے گئے، پھر بجلی پر احتجاج شروع کر دیا اب بجلی کی قیمت انتہائی کم کر دی گئی ہے، تب بھی احتجاج کیا جا رہا ہے اس طرح تو پھر ہمیں بھی یہاں احتجاج کرنا چاہیے کیونکہ یہاں بجلی زیادہ مہنگی ہے،کالعدم ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات تسلیم کیے جانے کے باوجود احتجاج کا سلسلہ جاری رہنا سمجھ سے باہر ہے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ تیل کی قیمتیں بڑھنے سے پوری دنیا متاثر ہوئی ہے، جس کی بنیادی وجہ عالمی حالات کی خرابی ہے پا کستان میں پیٹرول کی قیمت 500 روپے سے بھی تجاوز کرنے لگی تھی، لیکن ہم نے بہت مشکل سے قیمتوں کو کنٹرول کیا ہم نے اپنے خارجہ تعلقات کو استعمال کر کے وقت پر فیول اکٹھا کر لیا تھا، ورنہ ملک میں یکمشت 200 سے ڈھائی سو روپے فی لیٹر کا جمپ لگنا تھا اللہ کا شکر ہے کہ ہم اس بڑے بحران سے بچ گئے اور اب ملک میں حالات کافی بہتر ہیں، زراعت کے شعبے میں تنزلی ہونا ہمارے لیے انتہائی پریشان کن ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور ایران کا معاہدہ بہت جلد ہو جائے گا، جس میں وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل پاکستان کی نمائندگی کریں گے حکومت کی تبدیلی اور ’ڈھائی ڈھائی سال کے فارمولے‘ سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیر داخلہ نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہا کہ ڈھائی ڈھائی سال کا کوئی بھی منصوبہ میرے علم میں نہیں ہے، یہ افواہیں بے بنیاد ہیں اور موجودہ حکومت ہی اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔
