Baaghi TV

Tag: تحقیق

  • جنوب مغربی امریکہ کی آب و ہوا مسلسل گرم اور خشک،بوٹانیکل گارڈن تتلیوں کے لیےبہترین جائے پناہ

    جنوب مغربی امریکہ کی آب و ہوا مسلسل گرم اور خشک،بوٹانیکل گارڈن تتلیوں کے لیےبہترین جائے پناہ

    مختلف پھولوں، پودوں اور نباتات سے بھرے بوٹانیکل گارڈن (نباتاتی باغ) بڑے پارک کے مقابلے میں تتلیوں کے لیے ایک بہترین جائے پناہ اور گھر ثابت ہوتے ہیں کیونکہ جنوب مغربی امریکہ کی آب و ہوا مسلسل گرم اور خشک ہوتی جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : اس ضمن میں مسلسل 20 برس تک 10 ہزار سے زائد نباتاتی باغوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ تتلیوں کے لیے نباتاتی باغ زیادہ اہم ہوتے ہیں یا پھر شہروں کے عام باغات زیادہ موزوں ہوتے ہیں۔

    برطانیہ میں شدید برفباری سے مواصلات کا نظام بری طرح متاثر ،ڈیڑھ سو پروازیں منسوخ

    انسیکٹس نامی جرنل میں شائع رپورٹ کے مطابق امریکا کے کئی پرہجوم شہروں مثلاً ٹکسن، فینکس، پام ڈیزرٹ، کیلیفورنیا، نیو میکسکو، ایل پاسو اور ٹیکساس وغیرہ میں مصرف عمارتوں کے درمیان میں موجود بوٹانیکل گارڈن میں تتلیوں کی اقسام اور تعداد کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان میں سے پام ڈیزرٹ کو چھوڑ کر باقی تمام شہروں میں سالانہ 11 انچ بارش ہی ہوتی ہے۔

    اگرچہ عام باغ اور پارک کے مقابلے میں بوٹانیکل گارڈن بہت چھوٹے ہوتے ہیں لیکن ان میں دیگر کے مقابلے میں تتلیوں اور ان کی اقسام قدرے زیادہ دیکھی گئی ہیں۔ یعنی نباتاتی باغات میں اگر تتلیوں کا تنوع دیکھا جائے تو وہ 86 فیصد تک ہوسکتا ہے۔

    بچوں کی جھیل میں ڈوب کر ہلاکت کی خبرنے براہ راست نشریات کے دوران میزبان کو جذباتی کردیا

    پوری دنیا میں تتلیوں اور شہد کی مکھیوں کی آبادی تیزی سے کم ہورہی ہے جس پر ماہرین پریشان ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں ہر سال ڈیڑھ فیصد تتلیاں ختم ہورہی ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ کمی مونارک تتلیوں میں ہوئی ہیں جس کی عالمی تعداد 90 فیصد تک کم ہوئی ہے۔ اس کیفیت میں شہروں کے نباتاتی باغ ان کے لیے بہترین جائے پناہ بن سکتے ہیں جہاں وہ پھلتی پھولتی ہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ ماہرین نے انہیں تتلیوں کی سبز جائے پناہ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب نباتاتی باغ معدومیت کے شکار پودوں اور درختوں کو بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ آب و ہوا میں تبدیلی، فضائی آلودگی اور قدرتی پناہ گاہوں کے خاتمے سے تتلیوں کی بقا کو شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔

    آئی ایل ٹی ٹونٹی کا آفیشل ترانہ ” ہلہ ہلہ “ ریلیز

  • ملازمت کی جگہ دائمی جوڑوں کی بیماری کے امکانات میں اضافہ کر سکتی ہے،تحقیق

    ملازمت کی جگہ دائمی جوڑوں کی بیماری کے امکانات میں اضافہ کر سکتی ہے،تحقیق

    لندن: ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ جس جگہ آپ نوکری کرتے ہیں وہاں کی ہوا آپ کو رہیومیٹائڈ آرتھرائیٹس میں مبتلا ہونے کے امکانات میں اضافہ کر سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی : اینلز آف دی رہیومیٹکس ڈیزیز نامی ایک جرنل میں حال ہی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ملازمت کی جگہ زہریلے بخارات، گیسز اور محلول کے دھوئیں یا غبار میں سانس لینا لوگوں میں دائمی آٹو امیون جوڑوں کی بیماری کے امکانات بڑھا سکتا ہے۔

    تحقیق کے لیے محققین نے 4000 افراد سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا جو ایک سوئڈش مطالعے کے لیے اکٹھا کیا گیا تھا۔ ان تمام افراد میں 1996 سے 2017 کے درمیان تازہ تازہ اس بیماری کی تشخیص ہوئی تھی۔

    ٹیم نے ان تمام افراد کی نوکریوں کے متعلق چھان بین کی تاکہ یہ اندازہ لگا سکیں ان کی نوکریوں کی جگہ پر 32 ایجنٹس کے بخارات میں سے کونسا موجود تھا۔

    تحقیق سے معلوم ہوا کہ دھوئیں اور گرد و غبار میں سانس لینے کا تعلق اس بیماری کے خطرات میں اضافے سے تھا۔ مزید یہ کہ سیگریٹ نوشی یا جینیاتی عوامل کے سبب لاحق خطرات میں بھی یہ چیز اضافہ کرتی ہے۔

    پوری نیند خواتین کو عملی زندگی میں کامیاب بنا سکتی ہے. تحقیق

    محققین کا کہنا تھا کہ 32 میں سے 17 ایجنٹس، جن میں ایسبیسٹوس، کوارٹز، ڈیزل کا دھواں، پیٹرول کا دھواں، کاربن مونو آکسائیڈ اور فنگیسائڈز شامل ہیں، کا تعلق اے سی پی اے مثبت رہیومیٹائڈ آرتھررائٹس سے تعلق تھا۔

    تحقیق میں محققین نے دیکھا کہ ملازمت کی جگہ پر موجود اس قسم کے کسی آلودگی میں سانس لینے کا تعلق رہیومیٹائڈ آرٹھرائٹس کی ایک قسم میں مبتلا ہونے کے امکانات میں 25 فی صد اضافے سے ہے جو اینٹی سیٹریولینیٹڈ پروٹین اینٹی باڈیز(اے سی پی اے) کی موجودگی میں مزید بد تر ہوجاتی ہے مردوں میں اس بیماری کے خطرات میں 40 فی صد تک اضافہ دیکھا گیا۔

    محققین کا کہنا تھا کہ اے سی پی اے مثبت رہیومیٹائڈ آرتھررائٹس میں مبتلا افراد کو بدتر طبی صورتحال کا سامنا ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ ان کے جوڑ بہت خرابی سے گزرتے ہیں۔

    حاملہ خواتین کو سموگ سیزن میں خصوصی احتیاط کی ضرورت

    رہیومیٹائڈ آرتھرائیٹس ایک دائمی آٹو امیون بیماری ہوتی ہے جس کی وجہ سے جوڑوں میں سوزش اور تکلیف ہو جاتی ہے۔ آٹو امیون بیماریاں وہ بیماریاں ہوتی ہیں جس میں جسم کا قدرتی نظام صحت مند اور متاثر خلیوں کو بلا امتیاز ختم کرنا شروع ہو جاتا ہے۔

  • زیادہ چکنائی والی غذا شدید جسمانی دائمی درد کو جنم دیتی ہے،تحقیق

    زیادہ چکنائی والی غذا شدید جسمانی دائمی درد کو جنم دیتی ہے،تحقیق

    خوراک صحت کا ایک اہم جزو ہے محققین مسلسل نئے اعداد و شمار سے پردہ اٹھا رہے ہیں کہ غذا کس طرح جسم کو متاثر کرتی ہے اور کس طرح زیادہ چکنائی والی غذا درد اور اشتعال انگیز ردعمل میں حصہ ڈالتی ہے۔

    باغی ٹی وی : جرنل سائنٹیفک رپورٹس میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں اس بات کی کھوج کی گئی ہے کہ کس طرح زیادہ چکنائی والی غذا درد کےردعمل کوغیر تکلیف دہ محرکات کی طرف راغب کرتی ہےمطالعہ کے نتائج سے پتہ چلتا ہےکہ زیادہ چکنائی والی خوراک دردناک محرکات کے لیے درد کے ردعمل کو جنم دے سکتی ہے، ایسا ہی اثر جو موٹاپا یا ٹائپ 2 ذیابیطس والے افراد میں دیکھا جا سکتا ہے۔

    موت کے قریب پہنچنے پر انسان کن تجربات کا سامنا کرتا ہے؟

    تحقیق میں ماہرین نےکہا کہ بھلے ہی آپ موٹاپے کا شکار نہ ہوں اور نہ ہی ذیابیطس کے شکار ہیں اور نہ کسی زخم نے آپ نے جینا حرام کیا ہوا ہے۔ اس کے باوجود آپ ایک ایسے نامعلوم دائمی درد سے ہلکان ہوسکتے ہیں جس کی وجہ ’’چکنائی سے بھرپور غذا کی زیادتی‘‘ ہے۔

    یونیورسٹی آف ٹیکساس میں محققین کی جانب سے چوہوں پر کی جانے والی ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ تھوڑے عرصے کے لیے زیادہ چکنائی والی غذا کے استعمال کا ممکنہ طور پر موٹاپے یا ذیابیطس یا کسی زخم کے بغیر تکلیف کے احساس سے تعلق ہوسکتا ہے۔

    چوہوں کے دو گروہوں کو آٹھ ہفتوں تک دی جانے والی مختلف غذا کے اثرات موازنہ کیا گیا۔ ایک گروپ کو معمول کے مطابق غذا دی گئی جبکہ دوسرے گروپ کو زیادہ چکنائی والی غذا اس طریقے سے دی گئی کہ اس کے نتیجے میں چوہوں میں موٹاپے یا بلڈ شوگر (جو ڈائیبیٹک نیوروپیتھی اور دیگر اقسام کی تکالیف کا سبب ہوسکتے ہیں) کی سطح میں اضافہ نہیں ہوا۔

    محققین کو تحقیق میں معلوم ہوا کہ چکنائی سے بھرپور غذا کے سبب ایک اعصابی تبدیلی جو تکلیف کے شدید ہونے سے دائمی ہونے تک کی منتقلی کو واضح کرتی ہے، رُونما ہوئی اور ایلوڈائنا سامنے آئی۔ ایلوڈائنا کی کیفیت میں مبتلا افراد کو ہلکا سا چھونے سے بھی شدید تکلیف محسوس ہوتی ہے۔

    ڈپریشن کا علاج اب مشروم کے ذریعے کیا جا سکے گا

    تحقیق کے ایک مصنف ڈاکٹر مائیکل برٹن کا کہنا تھا کہ یہ تحقیق بتاتی ہے کہ تکلیف کے لیے لازمی نہیں کہ موٹاپا، ذیا بیطس، پیتھالوجی یا کوئی زخم ہو۔ تھوڑے وقت کے لیے چکنائی سے بھرپور غذا کا کھایا جانا کافی ہے۔ ایسی غذا جو امریکا میں تقریباً سب ہی کھاتے ہیں۔

    تحقیق میں موٹاپے اور ذیا بیطس میں مبتلا چوہوں کا موازنہ ان چوہوں کے ساتھ کیا گیا جن کی غذاؤں میں تبدیلی لائی گئی تھی۔

    مغربی ممالک کی غذائیں چکنائی سے بھرپور ہوتی ہیں جو نتیجتاً موٹاپے، ذیا بیطس اور ان سے متعلقہ کیفیات کا سبب بنتی ہیں۔ وہ افراد جو زیادہ مقدار میں مکھن، پنیر اور گوشت(بیف، مٹن وغیرہ) کھاتے ہیں ان کے خون میں فری فیٹی ایسڈز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو سوزش کا سبب بنتی ہے۔

    وزن کم کرنے میں شام کی ورش زیادہ مؤثر. تحقیق

  • بچپن میں پریشان کن اور برے حالات جوانی میں امراض قلب کا باعث بن سکتے ہیں ،تحقیق

    بچپن میں پریشان کن اور برے حالات جوانی میں امراض قلب کا باعث بن سکتے ہیں ،تحقیق

    ڈنمارک: ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ ب جو بچے پریشان کن یا تکلیف دہ ماحول میں پروان چڑھتے ہیں ان میں جوانی میں دل کا دورہ پڑنے یا خون کی شریانوں کی بیماریاں پیدا ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے-

    باغی ٹی وی : یورپی جرنل آف ہارٹ میں شائع رپورٹ کے مطابق جو بچے ابتدائی عمر میں کسی نامناسب حالات سے گزرتے ہیں جوانی میں وہ رگوں کی تنگی اور امراضِ قلب کے شکار ہوسکتے ہیں یا ان امراض کی شرح بڑھ جاتی ہے۔

    نان اسٹک برتن ٹیفلون پلاسٹک کے خوردبینی ذرات خارج کرتے ہیں،تحقیق

    ان مسائل میں خاندان میں بیماری یا موت، غربت وتنگدستی، ناچاقی اور گھریلو لڑائی، نظراندازکرنے اور خاندان میں تناؤ وغیرہ شامل ہیں۔ اس ماحول میں رہنے والے بچے فوری طور پر تو متاثر ہوتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ عین جوانی میں بھی امراضِ قلب کے شکار ہوسکتے ہیں۔

    سروے میں جنوری 1980 سے دسمبر 2001 کےدرمیان 13 لاکھ بچوں کو جائزہ لیا گیا تھا۔ اس دوران 4118 بچے قلبی رگوں کی بیماری (سی وی ڈی) کےشکار ہوچکے تھے جو ان کی سولہویں سالگرہ سے 2018 کے اختتام کے دوران ہوا جبکہ بعض افراد کی عمر 38 برس تک تھی۔

    مطالعہ کے سینئر مصنف، کوپن ہیگن یونیورسٹی کے شعبہ صحت عامہ میں وبائی امراض کی سربراہ پروفیسر ناجا ہولویج روڈ نے کہا کہہم نے پایا کہ بچپن میں بہت کم مشکلات کا سامنا کرنے والے نوجوانوں کے مقابلے میں، بچپن میں نامساعد حالات سے جوانی میں امراضِ قلب کا خطرہ 60 فیصد تک بڑھ سکتا ہے-

    ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اگرنوعمری میں بھی یہ مسائل جان نہ چھوڑیں تب بھی اس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے تاہم جو اس طویل مطالعے سےعیاں ہے۔ اگر اوسطاً 30برس کے ایک لاکھ افراد موجود ہوں تو 50 افراد میں امراضِ قلب کا اندیشہ ہوسکتا ہے لیکن گھریلو مسائل سے مزید 10 سے 18 کیس بڑھ سکتے ہیں جو ایک بہت تشویشناک امر ہے۔

    کینسرکی بروقت تشخیص اور بہتر علاج کا زیادہ مؤثر طریقہ دریافت

    بالخصوص بچپن میں گھرمیں اموات، شدید دیرینہ امراض کےمنفی اثرات بہت سخت ہوتے ہیں۔ اس تحقیق میں ڈنمارک کے کل 1,263,013 بچوں کا مطالعہ کیا گیا جو اپنی سولہویں سالگرہ تک زندہ تھے اور کسی امراضِ قلب کے شکار نہ تھے۔

    مطالعے میں صفر سے 15 برس کےبچے شامل تھے جنہیں 5 مختلف درجوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ان میں بہت کم گھریلو مسائل والے بچے، مادی ضرویات سےمحروم (بیروزگاری اور غربت)، مستقل محرومی، بہن بھائی یا والدین کو کھودینے والے یا کھونے کے خطرے کے شکار بچے، اور پانچویں قسم ان بچوں کی تھی جو تمام اقسام کے شدید مسائل میں گھرے تھے۔

    ان میں سے جن بچوں نے بھوک اور بیماری دیکھی ان میں امراضِ قلب کی شرح بھی بلند دیکھی گئی ہے-

    محققین نے ان عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے تجزیوں کو ایڈجسٹ کیا جو سی وی ڈی کے خطرے کو بھی بڑھا سکتے ہیں، جیسے کہ عمر، پیدائش کے وقت زچگی کی عمر، والدین کی اصل، اور دل، خون کی شریانوں یا میٹابولزم کی کوئی بھی والدین کی بیماریاں۔ ضمنی تجزیوں میں، انھوں نے حمل کی عمر اور والدین کی تعلیم کے لیے بھی ایڈجسٹ کیا۔ انہوں نے ان لوگوں کو خارج کر دیا جن کے والدین کو دل یا میٹابولزم سے متعلق کوئی بیماری تھی، جیسے کہ ذیابیطس یا دل کی بیماری، جو ان کے بچوں کو ان حالات میں مبتلا کر سکتی ہے۔

    گوشت کا کم استعمال موسمیاتی بحران سے بچا سکتا ہے ،تحقیق

    محققین نے پایا کہ مطالعہ میں 2,195 مردوں اور 1,923 خواتین کے درمیان سی وی ڈی کی نشوونما کے خطرے میں بہت کم فرق تھا۔ خطرہ ان لوگوں میں سب سے زیادہ تھا جنہوں نے خاندان میں شدید بیماری یا موت کا سامنا کیا اور ان لوگوں میں جنہوں نے بچپن اور جوانی کے دوران مشکلات کی بلند اور بڑھتی ہوئی شرح کا تجربہ کیا۔

    ہیڈ آف ایپیڈیمولوجی، ڈیپارٹمنٹ آف پبلک ہیلتھ، کوپن ہیگن یونیورسٹی کے پروفیسر ناجا ہولویج روڈ نے کہا کہ ابتدائی جوانی میں بچپن کی مشکلات اور سی وی‌ڈی کے درمیان جو تعلق ہم نے دیکھا اس کی جزوی طور پر ان رویوں سے وضاحت کی جا سکتی ہے جو صحت کو متاثر کر سکتے ہیں، جیسے شراب پینا، سگریٹ نوشی اور جسمانی بے عملی۔ بچپن ایک حساس دور ہے جس کی خصوصیت تیز رفتار علمی اور جسمانی نشوونما سے ہوتی ہے۔ بچپن میں مشکلات کا بار بار اور دائمی نمائش جسمانی تناؤ کے ردعمل کی نشوونما پر اثرانداز ہو سکتا ہے، اور یہ ان نتائج پر مبنی میکانزم کے لیے ایک اہم وضاحت فراہم کر سکتا ہے۔

    بلڈ پریشر کا کم ہونا ڈیمینشیا کے خطرات کو کم کرسکتا ہے،تحقیق

  • کینسرکی مختلف اقسام  کو 12 مرتبہ شکست دینے والی خاتون

    کینسرکی مختلف اقسام کو 12 مرتبہ شکست دینے والی خاتون

    اسپین سے تعلق رکھنے والے خاتون کو60 سال کی عمر سے قبل سرطان کی 12 مختلف اقسام کی رسولیوں سے لڑنا پڑا، ہر بار کینسر کو شکست دی اور اب بھی زندہ اور تندرست ہیں، اب ماہرین کی ایک ٹیم خاتون پر تحقیق کر رہی ہے کیونکہ اس سے ہی سرطان کے خلاف علاج کی راہیں کھل سکتی ہیں۔

    باغی ٹی وی :جرنل سائنس ایڈوانسز میں شائع رپورٹ کے مطابق 36 سالہ ہسپانوی خاتون کا معاملہ بہت ہی پراسرار ہے کیونکہ اب تک وہ 12 مختلف اقسام کے سرطان کی شکار ہوچکی ہیں سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ ہر بار کینسر کی قسم مختلف تھی اور جسم کے مختلف حصوں کو سرطان کا سامنا ہوا 12 میں سے کم از کم 5 رسولیاں جان لیوا تھیں۔

    ڈپریشن کا علاج اب مشروم کے ذریعے کیا جا سکے گا

    1986 میں پیدا ہونے والی خاتون کو پہلی بار 2 سال کی عمر میں کینسر کو باعث کیموتھراپی کے عمل سے گزرنا پڑا تھا اس عمر میں بھی وہ علاج کے بعد زندہ رہیں۔

    پھر 15 برس کی عمر میں انہیں بچہ دانی کا سرطان ہوا اور یہاں بھی وہ صحت یاب ہوئیں پھر 20 برس کی عمر میں منہ میں لعاب بنانے والے غدود میں سرطان پھیلا جنہیں جراحی سے نکالا گیا۔ اس کے بعد انہیں ٹھوس اور لجلجی ہڈیاں ملانے والے ٹشوز کا کینسر (سارکوما) ہوالیکن کینسر ان کے پیچھے دوڑتا رہا اور وہ 20 سے 30 برس کے درمیان کئی مرتبہ سرطان کی شکار رہیں۔

    اب خاتون کے اہلِ خانہ کی اجازت سے بین الاقوامی ماہرین کی ایک ٹیم ان پر تحقیق کر رہی ہیں خاتون میں کینسر کی مختلف اقسام کو دیکھتے ہوئے سائنسدانوں نے 2017 میں تحقیق کا آغاز کیا اور ان جینز کی جانچ پڑتال کی جو موروثی کینسر سے منسلک ہوتے ہیں مگر خطرہ بڑھانے والے کسی عنصر کو دریافت نہیں کیا جاسکا-

    ابتدائی تحقیق ماہرین نے مکمل جینوم کا جائزہ لینے پر ایک جین MAD1L1 کی 2 کاپیوں میں ایک غیرمعمولی کم یاب میوٹیشن یا جینیاتی تبدیلی کو دریافت کیا جو کینسر کی وجہ بنتی ہے۔ یہ جین ایم اے ڈی ون ایل ون جس کی دونوں کاپیوں میں گڑبڑ ہے اور سائنس اس سے ناواقف ہی تھی۔

    مصنوعی سیاروں کو خلا میں لے جانے والے ایرانی راکٹ کی کامیاب آزمائشی پرواز

    یہ جین خلیات کی تقسیم اور نشوونما کے عمل کو ریگولیٹ کرتا ہے اور ہم سب میں اس جین کی 2 نقول ماں اور باپ سے منتقل ہوتی ہیں، مگر یہ پہلے کبھی دریافت نہیں ہوا کہ کسی فرد کے جسم میں جین کی دونوں نقول میں میوٹیشن ہوئی ہو محققین نے بتایا کہ ہم اب تک یہ سمجھ نہیں سکے کہ کسی فرد میں اس طرح کی میوٹیشن کیسے ہوسکتی ہے-

    ایک اے ڈی ون ایل ون جین خلوی تقسیم سے قبل کروموسوم کی ترتیب بندی میں اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن پہلے خیال تھا کہ یہ سرطانی رسولیوں کو روکنے کا کام کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی دونوں نقول میں بدلاؤ پہلے نہیں دیکھا گیا تھا۔ چوہوں میں کبھی کبھار یہ تبدیلی ہوتی ہے جو جان لیوا ہوتی ہے لیکن انسانوں میں اس کے کردار پر ماہرین حیران ہیں۔

    خاتون کے بدن میں خون کے خلیات کی 30 سے 40 فیصد تعداد میں کروموسوم کی گنتی نارمل نہیں کہ کہیں کم اور کہیں زیادہ ہیں۔ نارمل انسانوں کے ہرخلیے میں کروموسوم کے 23 جوڑے ہوتے ہیں۔ لیکن اس کی وجہ بھی معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

    آرٹیمس1مشن کو14 نومبر کو چاند پر بھیجے جانے کا امکان

    اس طرح کے اثرات کے باعث لوگوں کے لیے کچھ سیکھنا مشکل ہوجاتا ہے مگر اس خاتون کے کیس میں ایسی کوئی علامت دریافت نہیں ہوئی البتہ محققین نے متعدد جسمانی علامات ضرور دریافت کیں محققین نے بتایا کہ تمام تر جینیاتی خامیوں کے باوجود یہ خاتون عام زندگی گزار سکتی ہے مگر بار بار بیماری کا سامنا ضرور ہوسکتا ہے 2014 کے بعد سے اس خاتون کو کینسر کا سامنا نہیں ہوا۔

    محققین نے بتایا کہ یہ پہلی بار ہے جب MAD1L1 جین کی دونوں نقول میں میوٹیشن کو دریافت کیا گیا اور اس بارے میں ابھی مزید وضاحت کرنا ممکن نہیں مگر انہوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ کینسر کا آسان ہدف بنانے کے ساتھ ساتھ اس میوٹیشن نے بیماری سے نجات میں بھی خاتون کی مدد کی ہے۔

    کینسر کے مریضوں کا علاج ممکن ہے مگر وہ کافی تکلیف دہ عمل ہوتا ہے مگر یہ خاتون متعدد بار بہت آسانی سے بیماری کو شکست دینے میں کامیاب ہوئی محققین کا خیال ہے کہ خاتون کا مدافعتی نظام کچھ اس طرح بنا ہے کہ اس کی کینسر سے متاثر خلیات کو ہدف بنانے کی صلاحیت بڑھ گئی ہے لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ خاتون تمام اقسام کے سرطان کو شکست دیتی رہی ہیں اور شاید اس کی سائنسی وجہ مزید تحقیق کے بعد ہی سامنے آسکے گی-

    نان اسٹک برتن ٹیفلون پلاسٹک کے خوردبینی ذرات خارج کرتے ہیں،تحقیق

  • نان اسٹک برتن ٹیفلون پلاسٹک کے خوردبینی ذرات خارج کرتے ہیں،تحقیق

    نان اسٹک برتن ٹیفلون پلاسٹک کے خوردبینی ذرات خارج کرتے ہیں،تحقیق

    نیو کیسل یونیورسٹی اور فلِنڈرز یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے یہ تخمینہ لگایا ہے کہ نان اسٹک برتنوں میں کھانا بنانے اور ان کو دھونے کے دوران ان پر سے اترنے والی تہہ سے ہزاروں سے لاکھوں کے درمیان ٹیفلون پلاسٹک کے خوردبینی ذرات کا اخراج ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : نان اسٹک برتن عموماً سلور سے تیار کئے جاتے ہیں اوران پر ایک کوڈنگ یا بھوری یا سیاہ تہہ لگائی جاتی ہے جس سے کھانا کم تیل میں تیار ہوتا ہے اور لگنے کا ڈر بھی نہیں رہتا لیکن یہ صحت کے لئے خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں-

    کینسرکی بروقت تشخیص اور بہتر علاج کا زیادہ مؤثر طریقہ دریافت

    سائنس آف دی ٹوٹل اینوائرنمنٹ میں شائع کردہ تحقیق کے مطابق عالمی ادارہ برائے ماحولیاتی تدارک اور فلِنڈرز انسٹیٹیوٹ آف نینو اسکیل سائنس اینڈ انجینئرنگ کے محققین نے انکشاف کیا ہے کہ ٹیفلون کی تہہ چڑھے برتنوں کی سطح پر پڑی ایک دراڑ تقریباً 9100 پلاسٹک کے ذرات خارج کرتی ہے۔

    مزید چھوٹے پیمانے پر دیکھا جائے تو ان کی ریمن ایمیجنگ(ریمن ایمیجنگ ایک ایسی تکنیک ہوتی ہے جس سے تفصیلی کیمیکل تصاویر بنائی جاتی ہیں تاکہ کیمیکلز کے متعلق جانچا جا سکے) اور ایک الگوردم ماڈل کے ذریعے اس بات کی نشان دہی کی گئی کہ اکھڑی ہوئی سطح سے 23 لاکھ مائیکرو پلاسٹک اور نینو پلاسٹک ذرات کے خارج ہوتے ہیں۔

    یونیورسٹی آف نیو کیسل کے محقق ڈاکٹر چینگ فینگ کا کہنا تھا کہ نان اسٹک کوٹنگ مٹیریل ٹیفلون پی ایف ایز(’پر‘ اور ’پولی‘ فلورو الکائلز) خاندان کا ہی ایک رکن ہے۔یہ بات جانتے ہوئے کہ پی ایف ایز ایک بڑا مسئلہ ہیں، ہمارے کھانوں میں موجود یہ ٹیفلون ذرات شاید صحت کے لیے مسائل کا سبب ہو سکتے ہیں۔

    وہیل روزانہ کی بنیاد پر 20ملین مائیکرو پلاسٹک کے ذرات نگل رہی ہیں،تحقیق

    انہوں نے کہا کہ اس معاملے کے لیے تحقیقات کی ضرورت ہے کیوں کہ ہم اس ابھرتے آلودہ ذرات کے متعلق زیادہ کچھ نہیں جانتے۔

    مطالعے میں ایک مالیکیولر اسپیکٹرم کا طریقہ کار تشکیل دیا گیا تاکہ ٹیفلون مائیکروپلاسٹک اور نینو پلاسٹک کو براہ راست دیکھا جاسکے اور ان کی شناخت کی جاسکے۔ ان کو دیکھنا دیگر اقسام کی پلاسٹک کی نسبت زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

    قبل ازیں امریکی شہر لاس اینجلس کی یونیورسٹی اصف سدرن کیلیفورنیا میں ایک نئی تحقیق میں محققین نے انکشاف کیا تھا کہ نان اسٹک فرائی پین کا استعمال جگر کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔

    سعودی سائنسدانوں نے سورج کی شعاعوں سے نیا وائی فائی سسٹم متعارف کرا دیا

    محققین کا کہنا تھا کہ مصنوعی کیمیکلز گھریلو سامان اور کچن کے کچھ برتنوں میں عام ہوتے ہیں، جس کے استعمال سے کسی شخص میں جگر کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے کچن کے سامان اور کھانے کی پیکیجنگ پر عام طور پر پائے جانے والے کیمیکلز کینسر کے خطرے کو چار گنا بڑھا سکتے ہیں، یہ کیمیکل نان اسٹک کچن کے برتنوں، نل کے پانی، واٹر پروف لباس، صفائی ستھرائی کی مصنوعات اور شیمپو میں موجود ہوتے ہیں۔

    تحقیق میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایسے کیمیکلز کا زیادہ استعمال کرنے والے لوگوں میں (non-viral hepatocellular carcinoma) ہونے کا امکان 4.5 گنا زیادہ ہو جاتا ہے جو ایک عام جگر کا کینسر ہے۔

    محققین نے بتایا تھا کہ جب یہ کیمیکلز جگر میں داخل ہوتے ہیں تو میٹابولزم کو تبدیل کرتے ہیں اور فیٹی جگر کی بیماری کا باعث بنتے ہیں جو لوگ اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں ان میں جگر کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    مکہ کے صحرا میں سمندری پانی سے چاول کی کاشت کا دنیا کا منفرد اور کامیاب تجربہ

  • بلڈ پریشر کا کم ہونا ڈیمینشیا کے خطرات کو کم کرسکتا ہے،تحقیق

    بلڈ پریشر کا کم ہونا ڈیمینشیا کے خطرات کو کم کرسکتا ہے،تحقیق

    سِڈنی: آسٹریلیا کے شہر سِڈنی میں قائم جارج انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ اور یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز (UNSW) کی طرف سے کی گئی ایک تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑی عمر کے افراد میں بلڈ پریشر کا کم ہونا ان میں ڈیمینشیا کے خطرات کو کم کرسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ڈیمنشیا ایک ایسا سنڈروم ہے جس میں علمی افعال میں اس سے کہیں زیادہ بگاڑ ہوتا ہے جس کی حیاتیاتی عمر بڑھنے کے معمول کے نتائج سے توقع کی جا سکتی ہے۔

    اینٹی ڈپریسنٹ کا دیر پا استعمال قلبی امراض کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے،تحقیق

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق، فی الحال، دنیا بھر میں 55 ملین سے زیادہ لوگ ڈیمنشیا کے ساتھ رہتے ہیں، اور ہر سال تقریباً 10 ملین نئے کیسز سامنے آتے ہیں۔

    بدھ کو سامنے آنے والی یہ تحقیق پانچ ڈبل بلائنڈ پلیسبو کنٹرول شدہ بے ترتیب آزمائشوں کے تجزیہ پر مبنی ہے جس میں بلڈ پریشر کو کم کرنے والے مختلف علاج استعمال کیے گئے اور ڈیمنشیا کی نشوونما تک مریضوں کو چیک کیا گیا-

    ٹرائلز میں 20 ممالک اور خطوں کے کل 28,008 افراد کو شامل کیا گیا جن کی اوسط عمر 69 سال اور ہائی بلڈ پریشر کی تاریخ تھی۔ فالو اپ کی درمیانی حد صرف چار سال سے زیادہ تھی۔

    سڈنی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور جارج انسٹی ٹیوٹ کے گلوبل برین ہیلتھ میں ڈیمنشیا کے پروگرام کی رہنما روتھ پیٹرزکا کہنا تھا کہ ڈیمینشیا کے علاج میں کوئی اہم کامیابی حاصل نہ ہونے کے باوجود اس بیماری کے لاحق ہونے کے خطرات میں کمی ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔

    ڈاکٹر روتھ کا کہنا تھا کہ یہ تحقیق اس بات کے شواہد پیش کرتی ہے کہ سالوں پر محیط بلڈ پریشر کم کرنے کا علاج ڈیمینشیا لاحق ہونے کے خطرات کو کم کرتا ہے۔ لیکن جس بات کا ابھی بھی علم نہیں وہ یہ کہ جن کا بلڈ پریشر قابو میں رہتا ہے ان میں بلڈ پریشر کے کم کیے جانے سے یا جو ابتدائی زندگی سے علاج شروع کر دیتے ہیں ان میں ڈیمینشیا کے دیر پا خطرات کم ہوں گے کہ نہیں۔

    انار ایک سُپر فوڈ،ذیابیطس کو روکتا ہے اور دل کی حفاظت کرتا ہے،نظام ہاضمہ کو مضبوط…

    روتھ پیٹرز کے مطابق بلڈ پریشر کم کرنے کے فوائد کے حوالے سے متعدد کلینکل ٹرائلز ہوئے ہیں۔ لیکن ان ٹرائلز کے اکثریت میں ڈیمینشیا سے متعلق نتائج کو شامل نہیں کیا گیا اور چند میں فرضی دوا کا استعمال کیا گیا۔

    انہوں نے بتایا کہ اکثر ٹرائلز کو بلڈ پریشر کم ہونے کی وجہ سے دل پر پڑنے والے اثرات کی وجہ سے شروع میں ہی روک دیا گیا، جو عموماً ڈیمینشیا کی نشانیوں سے پہلے نمودار ہوتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ ابھی تک نامعلوم ہے کہ آیا ان لوگوں میں اضافی بلڈ پریشر کو کم کرنا جو پہلے سے ہی اسے اچھی طرح سے کنٹرول کر چکے ہیں یا زندگی میں ابتدائی علاج شروع کرنے سے ڈیمنشیا کے طویل مدتی خطرے کو کم کیا جائے گا۔

    دنیا بھر میں ڈیمنشیا میں مبتلا لوگوں کی بڑی تعداد اور علاج میں اہم پیش رفت کی کمی کو دیکھتے ہوئے، محققین کے خیال میں اس بیماری کے بڑھنے کے خطرے کو کم کرنا ایک خوش آئند قدم ہوگا۔

    محققین نے ذیابیطس، کینسر اور اموات کی وجہ بننے والی پروٹین دریافت کر لی

    انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ مطالعہ کے نتائج صحت عامہ کے متعلقہ اقدامات کو ڈیزائن کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

    نئی تحقیق میں بلڈ پریشر اور ڈیمینشیا کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔ اس تجزیے کے لیے پانچ ڈبل بلائنڈ، پلیس بو کا استعمال کرتے ہوئے، ٹرائلز کیے گئے جس میں مختلف طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے بلڈ پریشر کم کیا گیا۔ مریضوں کی نگرانی اس وقت تک کی گئی جب تک وہ ڈیمینشیا میں مبتلا نہیں ہوگئے۔

    ڈبل بلائنڈ ٹرائل وہ تجربے ہوتے ہیں جس میں محقق اور تجربے میں شامل شخص کو کسی قسم کی معلومات نہیں دی جاتی تاکہ ان کا رویہ متاثر نہ ہو۔

  • مگرمچھوں کے خون میں زہریلے کیمیائی اجزا کی موجودگی کا انکشاف

    مگرمچھوں کے خون میں زہریلے کیمیائی اجزا کی موجودگی کا انکشاف

    امریکی ریاست شمالی کیرولائنا کے کیپ فیئر دریا کے اطراف میں موجود مگرمچھوں کے خون میں 14 زہریلے کیمیائی اجزا کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ شمالی کیرولائنا کے فائیٹ وِل میں واقع کیمورس پلانٹ سے دریائے کیپ فیئر میں خارج ہونے والے پی ایف اے ایس کی اعلیٰ سطح ممکنہ طور پر مقامی مگرمچھوں کو خود سے قوت مدافعت کے امراض سے بیمار کر رہی ہے جو کہ انسانی بیماریوں جیسے لیوپس کی طرح دکھائی دیتی ہے۔

    ریپٹائلز کے خون میں ’پرفلوروالکائلس اور پولی فلورو الکائلس (پی ایف ایز)‘ کی سطح پر کی جانے والی اس تحقیق نے سائنس دانوں کی تشویش میں اضافہ کیا ہے کہ یہ کیمیا ان جانوروں کے جینیاتی اور مدافعتی نظام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

    جمعرات کو فرنٹیئرز ان ٹاکسیکولوجی جرنل میں شائع ہوا،کے مطابق کیپ فیئر واٹرشیڈ میں مچھلیوں کے خون کا تجربہ کیا گیا جو کئی دہائیوں سے کیمورز کی آلودگی کا شکار ہیں۔ جبکہ مگرمچھوں کے خون میں زہریلے مادے PFAS مرکبات اور مدافعتی بیماری انتہائی میں اعلی سطح دکھائی۔

    نارتھ کیرولائنا اسٹیٹ یونیورسٹی کے محقق اور مطالعہ کے شریک مصنف سکاٹ بلیچر نے کہا کہ یہ واقعی اس نقصان کو نمایاں کرتا ہے جو ہم پی ایف اے ایس سے ماحولیاتی نظام میں دیکھ رہے ہیں، اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم ابھی ان کے اثرات کی سطح کوکھو جنا شروع کر رہے ہیں یہ خیال کہ وہ آس پاس جا رہے ہیں اور مستقبل قریب کے لیے پانی کے نظام کو آلودہ کر رہے ہیں، واقعی حیران کن ہے۔

    پروفیسر اسکاٹ بلیچر کا یونیورسٹی کی جانب سے ایک نیوز ریلیز میں کہنا تھا کہ مگرمچھ کبھی کبھار کسی انفیکشن میں مبتلا ہوتے ہیں۔ انہیں زخم لگتے ہیں لیکن وہ جلد صحت یاب ہوجاتے ہیں۔

    دنیا میں اگلی وبا گلیشیرز کے پگھلنے کی وجہ سے آسکتی ہے،تحقیق

    انہوں نے کہا کہ انفیکشن زدہ زخموں کا مناسب طریقے ٹھیک نہ ہونا ایک تشویش ناک بات تھی۔ اس ہی وجہ سے پی ایف ایز کے افشا ہونے اور مگرمچھوں کے مدافعتی نظام کے درمیان تعلق کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔

    امریکا کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف انوائرنمنٹل ہیلتھ سائنسز کے مطابق پی ایف ایز ہماری روز مرہ کی متعدد اشیاء میں موجود ہوتے ہیں جن میں برتن، شیمپو، کاسمیٹکس وغیرہ شامل ہیں۔

    اسکاٹ بلیچر کی رہنمائی میں کام کرنے والی ٹیم نے 2018 سے 2019 کے درمیان کیپ فیئر دریا کے اطراف میں موجود 49 مگرمچھوں کے خون کے نمونے لے کر ان کی صحت کا معائنہ کیا ان کےخون کے نمونوں کا موازنہ دریا سے 48.28 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود واکاما جھیل کے 26 مگرمچھوں کے خون کے نمونوں سے کیا گیا۔

    ٹیکساس مین گوگل کے خلاف بغیر اجازت بائیو میٹرک ڈیٹا استعمال کرنے پر مقدمہ درج

    محققین نے 23 پی ایف ایز کو دیکھا اور دونوں گروہوں کے خون کے نمونوں میں کیمیا کی اقسام اور سطح کی موجودگی میں واضح فرق پایا۔

    اسکاٹ بلیچر کا کہنا تھا کہ سائنس دانوں نے کیپ فیئر دریا کے نمونوں میں اوسطاً 10 مختلف پی ایف ایز کی نشان دہی کی۔ جبکہ واکاما جھیل کے مگرمچھوں میں اوسطاً پانچ مختلف پی ایف ایز موجود تھے۔

    ’پرفلوروالکائلس اور پولی فلورو الکائلس مادہ، تقریباً 12,000 کیمیکلز پر مشتمل ہے جو اکثر مصنوعات کو پانی، داغ اور گرمی کے خلاف مزاحمت کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔انہیں "ہمیشہ کے لیے کیمیکلز” کہا جاتا ہے کیونکہ یہ قدرتی طور پر نہیں ٹوٹتے، اور کینسر، جگر کے مسائل، تھائرائیڈ کے مسائل، پیدائشی نقائص، گردے کی بیماری، قوت مدافعت میں کمی اور صحت کے دیگر سنگین مسائل کا باعث بنتے ہیں-

    قطرچینی پانڈوں کا تحفہ حاصل کرنے والا مشرق وسطیٰ کا پہلا ملک بن گیا

  • سچ بولنے والے بچے بدتمیز اور خطرناک سمجھے جاتے ہیں،تحقیق

    سچ بولنے والے بچے بدتمیز اور خطرناک سمجھے جاتے ہیں،تحقیق

    ایک حالیہ تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ جو بچے ’کھرا سچ‘ بولتے ہیں، انہیں والدین یا دوسرے افراد ’بدتمیز‘ سمجھتے ہیں –

    باغی ٹی وی : جرنل آف مورل ایجوکیشن میں شائع تحقیق کے مطابق ماہرین نے بچوں کے سچ اور جھوٹ بولنے کے سماجی زندگی پر پڑنے والے اثرات کے لیے 267 بچوں اور بالغ افراد پر تحقیق کی تحقیق میں شامل 171 افراد بالغ تھے، جن کی عمریں 18 سال سے 67 سال تک تھیں جب کہ دو درجن کے قریب افراد کی عمر 6 سال سے 15 تک تھی اور باقی افراد بھی درمیانی عمر کے نابالغ افراد تھے۔

    دنیا کے پرندوں کی تقریباً نصف اقسام کی آبادی کم ہو رہی ہے،رپورٹ

    جن میں سے نصف خواتین تھیں اور تمام افراد کو ویڈیوز دکھا کر ان سے سوال و جوابات کیے گئے جب کہ ویڈیوز کے بعد ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اگر وہ کسی کے والدین ہوتے تو اپنے ہی دیئے گئے جواب پر کیا رد عمل دیتے؟-

    تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن بچوں نے ’دو ٹوک الفاظ‘ میں سچ بولا، انہیں زیادہ ’بدتمیز‘ اور خطرناک سمجھا گیا اور ایسے ہی بچوں کے لیے والدین نے بتایا کہ ان کے ایسے کھرے سچ بولنے کی وجہ سے انہیں بعض اوقات شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق جیسا کہ کوئی بچہ اپنے والدین یا دوسرے رشتے داروں یا دوستوں کی جانب سے ملنے والے کسی تحفے کو ناپسند کرتے ہوئے کوئی لحاظ کیے بغیر دو ٹوک الفاظ میں بولتا ہےکہ اسے مذکورہ تحفہ پسند نہیں، وہ بیکاراور خراب ہے’ تو ایسے کھرے سچ پر والدین کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ ایسے جواب پر ان بچوں کو ’بدتمیز‘ بھی سمجھا جا سکتا ہے۔

    سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ پھر بھی، جبکہ والدین اور دوسرے بچوں کو دو ٹوک ایماندارانہ سچ بولنے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، وہ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ جھوٹ بولنا غلط ہےمگر ان میں وقت کے حساب سے سچ اور جھوٹ بولنے کی صلاحیت کی کمی ہے۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ بچے یہ سمجھ نہیں سکتے کہ سماجی طور پر کون سی باتیں، سچائی یا جھوٹ قابل قبول ہے اور کون سی بات کس طرح کی جائے، جس وجہ سے وہ عام طور پر دو ٹوک الفاظ میں بات کرتے ہیں، جس سے انہیں ’بدتمیز‘ سمجھا جاتا ہے تاہم بچوں کو وقت اور موقع کو دیکھتے ہوئے جھوٹ بولنے کی مہارت سیکھنی ہوگی اور اسی عمل سے ہی ان میں ترقی کے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔

    ماہرین کے مطابق بچوں کو موضوع، وقت اور حالات کو دیکھتے ہوئے دوسروں کا دل یا بھرم رکھنے کے لیے بعض باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا فن سیکھنا ہوگا، انہیں مبہم انداز میں سچ بولنا یا پھر جھوٹ بول کر دوسروں کو مطمئن کرنا سیکھنا ہوگا۔

    رواں سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن 25 اکتوبر کو ہوگا

  • خواتین ڈاکٹروں کے پاس مشکل اور ایمرجنسی کیسز زیادہ ہوتے ہیں،تحقیق

    خواتین ڈاکٹروں کے پاس مشکل اور ایمرجنسی کیسز زیادہ ہوتے ہیں،تحقیق

    جاپان میں ہونے والی حالیہ تحقیق کے مطابق خواتین ڈاکٹروں کے پاس مشکل اور ایمرجنسی کیسز زیادہ ہوتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : برطانوی جریدے ’دی بی ایم جے‘ کے محققین کے مطابق مرد اور خواتین سرجن کی جراحی کی پیچیدگیاں اور شرحِ اموات یکساں ہوتی ہیں جبکہ خواتین ڈاکٹروں کے پاس مشکل اور ایمرجنسی کیسز زیادہ ہوتے ہیں خواتین کی تعداد اس شعبے میں کم ہیں لیکن ان کی صلاحیتیں مختلف نہیں ہیں۔

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    محققین کے مطابق گزشتہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کینیڈا اور امریکا میں خواتین ڈاکٹرز اور سرجن صلاحیت کے اعتبار سے اپنے ہم پیشہ مردوں کے برابر یا پھر ان سے بہتر ہوتی ہیں۔

    مذکورہ تحقیق کے لیے جاپان نیشنل کلینیکل ڈیٹا بیس ( NCD) کے ڈیٹا کے مطابق محققین نے 2013ء سے 2017ء تک مرد و خواتین ڈاکٹرز اور سرجنوں کے آپریشن کے نتائج کا موازنہ کیا اس موازنے میں 149193 ڈسٹل گیسٹریکٹومی سرجری، 63417 گیسٹریکٹومی سرجری اور 81593 کم آپریشنز شامل تھے۔

    اینٹی ڈپریسنٹ کا دیر پا استعمال قلبی امراض کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے،تحقیق

    ان آپریشنز میں سے صرف 5 فیصد آپریشنز خواتین سرجنز نے انجام دیئے اور آپریشن کے نتائج میں شرح مردوں کے مقابلے میں بہتر پائی گئی تحقیق کے مطابق اسپتال انتظامیہ مشکل اور پیچیدہ کیسز کے لیے خواتین ڈاکٹرز یا سرجنز کا ہی انتخاب کرتی ہے۔

    محققین کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران خواتین ڈاکٹرز کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے2019ء کے ایک سروے کے مطابق صرف کینیڈا میں 28 فیصد اور امریکہ میں 22 فیصد خواتین سرجن ہیں 2017ء کے ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں 33 فیصد خواتین ڈاکٹرز سرجن ہیں، تاہم جاپان میں صورتحال مزید ابتر ہے۔

    سروے کے مطابق صرف 22 فیصد خواتین جنرل فزیشن اور 5.9 فیصد خواتین سرجنز ہیں دونوں کی صلاحیتوں اور کارکردگی میں کوئی فرق نہ ہونے کے باوجود خواتین کو کم مواقع ملتے ہیں۔

    سبزی کھانے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ دو گنا زیادہ ہوتا ہے،تحقیق