Baaghi TV

Tag: جنگ

  • روس کے خلاف پابندیاں یورپی عوام کی غربت کا باعث بنی ہیں:ہنگری

    روس کے خلاف پابندیاں یورپی عوام کی غربت کا باعث بنی ہیں:ہنگری

    ہنگری کے وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ روس کے خلاف پابندیاں یورپی عوام کی غربت کا باعث بنی ہیں اور یہ غربت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔

    فارس خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ہنگری کے وزیراعظم ویکٹر اوربن نے یورپی یونین سے اپیل کی ہے کہ وہ دیر ہونے سے قبل روس کے خلاف امریکی پابندیوں کے بارے میں واشنگٹن سے بات چیت کرے۔انھوں نے کہا کہ روس کے خلاف عائد کردہ پابندیاں یورپی عوام کی غربت کا باعث بنی ہیں اور یہ غربت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔اوربن نے کہا کہ روس کے خلاف عائد کردہ پابندیوں کا خود یورپی ملکوں پر الٹا اثر پڑ رہا ہے۔

    حال ہی میں ہنگری کے وزیر خارجہ نے بھی روس کے خلاف پابندیوں کے یورپ پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کی بنا پر ان پابندیوں پر کڑی تنقید کی ہے۔

    واضح رہے کہ روس کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیوں کے بعد سے روسی گیس کے متبادل کے فقدان کی بنا پر ہنگری ہمیشہ ان پابندیوں پر تنقید کرتا رہا ہے جبکہ یورپی ممالک میں توانائی کی قلت اور تیل و گیس کی قیمت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے جس سے ان ممالک کے عوام پر بھی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ دنیا گزشتہ دو سال تک کورونا جیسی عالمی وبا سے نبرد آزما ہوکر لاک ڈاؤن کے باعث بد ترین معاشی بحران کا شکار ہونے کے بعد دوبارہ معاشی استحکام کی طرف لوٹ رہی تھی کہ رواں سال کے آغاز میں روس یوکرین جنگ نے اس معاشی بحران کو دوچند کر دیا ہے، دنیا بھر میں بڑھتے مہنگائی کے رجحان نے اس کرہ ارض پر غذائی قلت کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔

    یورپی شہریوں نے فالتو اخراجات سے بھی ہاتھ کھینچنا شروع کر دیا ہے ، جس کے بعد اب وہ صرف ضروری اشیا کی خریداری پر ہی اکتفا کر رہے ہیں۔ افراطِ زر میں بے تحاشہ اضافے کے بعد اب اشیائے خورونوش کی منڈیوں اور تیل کے ساتھ ساتھ کارسازی اور تعمیرات کے شعبوں میں بھی قیمتوں میں حیرت انگیز اضافہ ہو رہا ہے اور اب امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ رواں برس 27 رکنی یورپی یونین کو مجموعی طور پر 7 فیصد سے زائد افراطِ زر کا سامنا ہوگا۔ مختلف یورپی ممالک میں مچھیروں اور کسانوں نے مجموعی مہنگائی کے تناظر میں اپنی پیداوار میں اضافہ کر دیا ہے تو دوسری جانب پٹرول کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے کی وجہ سے مال بردار ریل گاڑیوں اور سامان بردار ٹرکوں کی نقل و حرکت میں بھی کمی آئی ہے۔

    خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے روزمرہ استعمال کے لیے روٹی کی مختلف اقسام بھی مہنگی ہوچکی ہیں اور خاص طور پر پولینڈ سے بیلجیم تک اشیائے خورونوش کی دکانوں پر بریڈ مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب ، پولینڈ میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں 150 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے جس کے بعد بعض یورپی حکومتوں نے ٹیکسوں کی مد میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کی امداد کے اشارے بھی دیے ہیں۔

    اس جنگ نے توانائی اور خوراک کے حوالے سے ساری دنیا کو اندیشہ ہائے دور دراز میں مبتلا کردیا ہے۔ پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک جہاں امریکا نواز حکومتیں قائم ہیں وہاں روسی تیل حزب اختلاف کے لیے ایک سیاسی ہتھیار بھی ہے۔

    اچھا ہوتا وزیراعظم اپنی تقریر میں ڈاکٹر عافیہ کا ذکر کرتے۔ حافظ سعد رضوی

     یہودی عبادت گاہ میں ہلاک یرغمالی ملک فیصل اکرم نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

  • آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تازہ سرحدی جھڑپوں میں 105 آرمینیائی فوجی ہلاک

    آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تازہ سرحدی جھڑپوں میں 105 آرمینیائی فوجی ہلاک

    آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تازہ سرحدی جھڑپوں میں آرمینیا کے 105 فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آرمینیا کے وزیراعظم نکول پشینیان کا کہنا ہے کہ ابھی تک کی معلومات کے مطابق آذربائیجان سے جھڑپوں میں ہمارے 105 فوجی مارے گئے ہیں۔ آرمینیا نے اس سے پہلے ہلاک فوجیوں کی تعداد 49 بتائی تھی جبکہ آذربائیجان نے جھڑپوں میں اپنے ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد 50 بتائی ہے۔

    آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان پیر کی شب سرحدی جھڑپیں ہوئی تھیں، جھڑپوں کو دونوں ممالک کے درمیان 2020 کی جنگ کے بعد سے اب تک کی سب سے زیادہ ہلاکت خیز جھڑپیں کہا جارہا ہے۔

    خیال رہے کہ 2020 میں بھی آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ’نگورنو کاراباخ‘ کے تنازع پر 6 ہفتے جنگ جاری رہی اور اس جنگ میں آذربائیجان نے فتح حاصل کی اور کئی علاقوں پر آرمینیا کا قبضہ چھڑایا۔

    واضح رہے کہ عالمی سطح پر ’نگورنو کارا باخ‘ آذربائیجان کا تسلیم شدہ علاقہ ہے تاہم اس پر آرمینیا کے قبائلی گروہ نے فوج کے ذریعے قبضہ کررکھا تھا جب کہ اسی قبضے کے باعث پاکستان آرمینیا کو تسلیم نہ کرنے والا واحد ملک ہے۔

    یہ تنازع 1988 سے جاری ہے جس پر متعدد جنگیں بھی ہوچکی ہیں اور اب تک ہزاروں افراد مارے جاچکے ہیں۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان دوبارہ جھڑپیں شروع،

    آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان دوبارہ جھڑپیں شروع،

    تہران :آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان دوبارہ جھڑپیں شروع، اطلاعات کے مطابق منگل کی صبح آذربائیجان اور آرمینیا کی افواج کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے جس میں کئی آذربائیجانی فوجیوں کے ہلاک ہونے کی خبر ہے۔

    ایران پریس کی رپورٹ کے مطابق منگل کی صبح آذربائیجان اور آرمینیا کی افواج کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے جس میں کئی آذربائیجانی فوجیوں کے ہلاک ہونے کی خبر ہے۔

    آرمینیا کی وزرات دفاع کے مطابق آذری فوج نے اس کی فوجی پوزیشوں پر صبح پانچ بجے سے آرٹلری، ہیوی توپ خانے اور ڈرون سے بمباری شروع کر دی جس کا آرمینیا کی افواج نے مناسب جواب دیا لیکن آذربائیجان کی وزارت دفاع نے آرمینیا پر الزام عائد کیا کہ اس کی افواج نے دشکسان، کلباجر اور لاچین کے سرحدی علاقوں میں وسیع پیمانے پر تخریبی کاروائیاں کی ہیں اور آذری فوجی پوزیشنوں پر فائرنگ کی ہے جن میں مارٹر کا استعمال بھی کیا گیا۔

    گزشتہ ہفتے آرمینیا نے آذربائیجان پر اپنے ایک فوجی کی ہلاکت کا الزام لگایا تھا۔

    یاد رہے کہ ایک دوسرے کے جانی دشمن آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان پہلی مرتبہ 1980ء میں لڑائی ہوئی تھی جب یہ دونوں علاقے سابق سوویت یونین کے کنڑول میں تھے جس میں آرمینیا کی افواج نے آذربائیجان سے نگارنوکاراباخ کے علاقے چھین لئے تھے۔

    2020ء میں ہونے والی جنگ میں آذربائیجان نے اپنے علاقے واپس چھین لئے تھے اور اب تک دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی جنگوں اور جھڑپوں میں 30,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  • عمران خان نے مسلح افواج پر حملہ کر کے جنگ چھیڑ دی،مریم نواز

    عمران خان نے مسلح افواج پر حملہ کر کے جنگ چھیڑ دی،مریم نواز

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران خان نے مسلح افواج پر حملہ کر کے جنگ چھیڑ دی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے مریم نواز نے لکھا کہ عمران خان کو پاکستان کو تباہ و برباد کرنے کیلئے لانچ کیا گیا، قوم کو بدحالی اور مایوسی کے گڑھوں میں دھکیلنے کے لیے فنڈز فراہم کیے گئے۔


    اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے مزید لکھا کہ عمران سیاسی لیڈر نہیں اس کے ساتھ ایسا سلوک بند کیا جائے، پی ٹی آئی چیئرمین نے ہمارے ملک کے استحکام، معیشت، معاشرے، میڈیا اور اب مسلح افواج پر حملہ کر کے جنگ چھیڑ دی ہے، اگر عدلیہ سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کی طرف سے اسے ڈبل ڈیلر قرار نہیں دیا گیا تو پاکستان اس صدمے سے کبھی نہیں نکلے گا اور نیچے کی طرف جاتا رہے گا۔

  • "اور جب ہم نے بھارتیوں کی پھینٹی لگائی” — اعجازالحق عثمانی

    "اور جب ہم نے بھارتیوں کی پھینٹی لگائی” — اعجازالحق عثمانی

    جنت نظیر وادی میں مسلسل پسپائی کے بعد ، کئی خیالی پلاؤ پکا کر وہ سرحد عبور کر کے چوروں کی طرح پاکستان میں داخل ہورہے تھے ۔ اسلحے سے لیس ، چھ سو کے قریب ٹینک ساتھ لیے یہ چور کوئی اور نہیں بلکہ ہمسایہ ملک بھارت کے فوجی تھے۔ جو حملے کے خیالی پلاؤ کے ساتھ لاہور میں ناشتہ کرنا چاہتے تھے۔اور یہ دن تھا،6 ستمبر 1965 کا۔

    بونگ پائے، جیدے کی لسی نہاری، ، سری پائے، حلوہ پوری، پٹھورے نا جانے کیا کیا سوچ کر آئے ہونگے۔ انھوں نے لاہور کے قریب بین الاقوامی سرحد عبور کرتے ہوئے لاہور شہر بھی داخل ہونے کی بھر پور کوشش کی۔ مگر آتے ہی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

    ان کا خیال تھا کہ ہم 72 گھنٹوں میں پاکستان پر قبضہ کر لیں گے۔ مگر وہ شاید نہیں جانتے تھے کہ ہمیں یہ قوم 72 منٹ بھی اپنے اوپر غالب نہیں آنے دے گی۔
    ڈیڑھ لاکھ بھارتی فوجیوں کو صرف 150 پاکستانی جوانوں نے 12 گھنٹوں تک پیش قدمی سے روک کر علامہ اقبال کے اس شعر کا عملی مناظر پیش کیا

    کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
    مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
    کافر ہے تو ہے تابعِ تقدیر مسلماں
    مومن ہے تو وہ آپ ہے تقدیر الٰہی

    ایک بھارتی جنرل (جنرل ہربخش سنگھ) اپنی کتاب میں جنگ ستمبر کے بارے میں لکھتا ہے کہ” جنگ ستمبر میں پاکستانی فوج کی کارکردگی بہترین تھی اور فوج انتہائی پر عزم تھی۔ جبکہ بھارتی فوج نے جنگ کی پیشگی منصوبہ بندی کے باوجود کوئی خاص تیاری نہیں کر رکھی تھی”۔

    سنا ہے کہ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ جو 600 ٹینک وہ ساتھ لا رہے ہیں ۔ وہ چھ ستمبر کی صبح لاہور کی سڑکوں پر بھارتی وزیراعظم کو سلامی دیں گے۔ مگر تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ ٹینک سلامی تو نہ دے سکے البتہ انکا قبرستان ضرور بنا۔ کیونکہ

    ہم ہیں جو ریشم و کمخواب سے نازک تر ہیں
    ہم ہیں جو آہن و فولاد سے ٹکراتے ہیں

    ہم نے روندا ہے بیابانوں کو صحراؤں کو
    ہم جو بڑھتے ہیں تو بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں

    بھارت رات کے اندھیرے میں پاکستان میں داخل تو ہوگیا ۔ مگر ناشتہ نہ کر پایا ۔کیونکہ پوری پاکستانی قوم یکجا ہو کر لڑ رہی تھی۔ صرف فوجی ہی نہیں ، تمام پاکستانی میدان جنگ میں اپنے اپنے طریقوں سے لڑ رہے تھے ۔شاعر ، ادیب، گلوکار ، کسان، مزدور ، اساتذہ ، طالب علم ، بچوں ، عورتوں اور زرائع ابلاغ سب کی ایک ہی آواز تھی۔

    ‏ثبوت دیں گے وفا کا یوں،اشتباہ غلط
    ملا کے خاک میں رکھ دیں گےہر سپاہ غلط

    برب کعبہ… ہم آنکھیں نکال چھوڑیں گے
    اٹھی جو ملک کی جانب کوئی نگاہ غلط

    22 ستمبر کو سلامتی کونسل نے ایک ہنگامی اجلاس بلایا ۔ جس میں سلامتی کونسل نے جنگ بندی کے لیے قرار داد پیش کی ۔ سلامتی کونسل کی قرارداد کی روشنی میں صدر پاکستان ایوب خان نے 23 ستمبر تک جنگ بندی کا اعلان کیا ۔ 24 ستمبر کو بھارتیوں کی پھینٹی لگانے پر ملک بھر میں یوم تشکر منایا گیا ۔ اللہ پاک کی حفاظت کرے۔ یہ ملک سدا قائم رہے۔ اور اس کو میلی نگاہ سے دیکھنے والے 1965 کی طرح ہر بار ناکام ہوں (آمین)۔

  • امریکہ تائیوان کوجدید اوربھاری اسلحہ دینے سے بازرہے،جوابی کارروائی کےلیےتیارہیں:چین

    امریکہ تائیوان کوجدید اوربھاری اسلحہ دینے سے بازرہے،جوابی کارروائی کےلیےتیارہیں:چین

    واشنگٹن: چین اور تائیوان کے تنازعے میں اب امریکہ کے کردار میں نئی صورتحال پیدا کردی ہے _معاملہ امریکہ اور چین کے درمیان براہ راست ٹکراؤ کا پیدا ہو گیا ہے _ امریکہ کا یوں ان کے ساتھ کھڑا ہونا چین کو سخت ناگوار گزرا ہے اب جبکہ امریکہ نے طالبان کو ہتھیار مہیا کرانے کا اعلان کیا ہے کہ چین نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے بڑے صاف لفظوں میں جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے –

    امریکی وزارت خارجہ نے جمعے کو تائیوان کو ممکنہ طور پر 1.1 ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے جبکہ چین نے اس امریکی اعلان کے بعد جوابی اقدامات کی دھمکی دی ہے۔ ان ہتھیاروں میں 60 بحری جہاز شکن میزائل اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے 100 میزائل شامل ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے تائیوان کے اردگرد کے علاقے میں چین کی جارحانہ فوجی مشقوں کے پیش نظر جمعے کو تائیوان کو اسلحے کی فروخت کے پیکج کا اعلان کیا۔

    اس سے پہلے امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی نے تائیوان کا دورہ کیا تھا۔ ان کا یہ دورہ حالیہ سالوں میں کسی اعلیٰ امریکی عہدے دار کا پہلا دورہ تھا۔ پینٹاگون کی ڈیفنس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی (ڈی ایس سی اے ) کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے تائیوان کو فروخت کیے جانے والے اسلحے میں سائیڈ وائینڈر میزائل بھی شامل ہیں، جو فضا سے فضا اور زمین پر حملے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

    ان میزائلوں کی قیمت تقریباً آٹھ کروڑ 50 لاکھ 60 ہزار ڈالر ہے۔ اینٹی شپ ہاروپون میزائل کی قیمت تقریباً 35 کروڑ 50 لاکھ ہے جبکہ تائیوان کے ریڈار نظام میں معاونت کی مالیت 66 کروڑ 50 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان لیوپنگیو نے کہا ہے کہ تائیوان کو امریکی اسلحے کی ممکنہ فروخت کے نتیجے میں امریکہ اور چین کے تعلقات کو ’سنگین خطرہ لاحق ہو جائے گا۔‘ اطلاعات کے مطابق چینی سفارت خانے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’چین صورت حال میں تبدیلی کی روشنی میں سختی کے ساتھ قانونی اور ضروری جوابی اقدامات کرے گا۔‘

    دوسری جانب بائیڈن انتظامیہ نے کہا ہے کہ تائیوان کو اسلحے کی فروخت کا پیکج کچھ عرصے سے زیر غور تھا اور امریکی قانون سازوں کی مشاورت سے تیار کیا گیا۔ وائٹ ہاؤس کی سینیئر ڈائریکٹر برائے چین اور تائیوان لورا روزن برگر نے ایک بیان میں کہا: ’جیسا کہ چین تائیوان پر دباؤ بڑھاتا جا رہا ہے، جس میں تائیوان کے ارد گرد زیادہ فوجی اور بحری موجودگی بھی شامل ہے اور آبنائے تائیوان میں پہلے سے موجود صورت حال کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ہم تائیوان کو وہ کچھ فراہم کر رہے ہیں جس کی مدد سے وہ اپنی دفاعی صلاحیتیں برقرار رکھ سکے۔‘

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

  • روسی افواج کے تابڑتوڑحملے یوکرینی افواج کو بھاری جانی ومالی نقصان

    روسی افواج کے تابڑتوڑحملے یوکرینی افواج کو بھاری جانی ومالی نقصان

    ماسکو:یوکرین جنگ کو چھے مہینے ہوگئے لیکن اس جنگ کے عنقریب بند ہونے کے امکانات نظر نہیں آرہے ہیں ۔ اس دوران روسی فوج کی جانب سے یوکرینی فوج کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصانات کے بارے میں‎ نئے اعداد و شمار جاری کئے گئے ہیں ۔

    روسی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق روس کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ منگل کو انجام پانے والی روسی فوج کی ایک روزہ خصوصی کارروائی میں بارہ سو سے زائد یوکرینی فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ پانچ یوکرینی فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔

    روس کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے اس ایک روزہ خصوصی فوجی آپریشن میں یوکرینی فوج کے چوراسی ٹینک، چھیالیس عام فوجی اورسینتیس بکتر بند اور آٹھ منی ٹرک تباہ کئے ہیں ۔

    دوسری جانب یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ نے یوکرین کے لئے فوجی تربیت کے مشن کے بارے میں یورپی یونین کے وزرائے دفاع کے درمیان ممکنہ مفاہمت کی خبر دی ہے۔

    یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بورل نے پراگ میں یورپی یونین کے وزرائے دفاع کے دو روزہ اجلاس میں شرکت کے موقع پر کہا ہے کہ صورت حال انتہائی ابتر بنی ہوئی ہے ۔ جوزف بورل کا کہنا ہے کہ یورپ، یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کے لئے وزرائے دفاع کی اس نشست میں فوجی تربیت کے مشن کے منصوبے کے بارے میں گفتگو کر رہا ہے۔

    یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ نے کہا کہ فوجی تربیت کے اس مشن کے بارے میں یورپی ملکوں کے وزرائے دفاع کی جانب سے مجموعی طور پر سیاسی مفاہمت کے حصول کی اشد ضرورت ہے۔ اس سے قبل جوزف بوریل نے کہا تھا کہ یہ بات منطقی نظر آتی ہے کہ جو جنگ اب تک جاری رہی ہے اسے مادی حمایت سے بھی زیادہ دوسری چیزوں کی ضرورت ہے جن میں فوجی تربیت اور فوج کی تعمیر نو کی ضرورت بھی شامل ہے۔

    واضح رہے کہ یورپی ملکوں اور خاص طور سے امریکہ نے جنگ یوکرین میں روس کے خلاف پابندیاں عائد اور کیف کو مختلف قسم کے ہتھیار فراہم کر کے نہ صرف یہ کہ جنگ یوکرین کا خاتمہ کرانے میں کوئی مدد و تعاون نہیں کیا بلکہ اس جنگ کی آگ کے شعلے زیادہ سے زیادہ بھڑکانے میں جو کچھ بھی ان سے کرتے بنا وہ انھوں نے انجام دیا تاکہ جنگ و خونریزی کا بازار مسلسل گرم رہے۔

    یہ ایسی حالت میں ہے کہ روس نے بارہا اعلان کیا ہے کہ یورپی ملکوں کی جانب سے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی صرف جنگ طویل ہونے کا باعث بنے گی جبکہ ماسکو نے خبردار بھی کیا ہے کہ روس، یوکرین کو فراہم کئے جانے والے ہتھیاروں کو بھی تباہ کرنے اور ان ہتھیاروں کو نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کرے گا۔

  • یوکرین کے بعد امریکا تائیوان کی مدد کو پہنچ گیا،دوجنگی بحری جہازآبنائے تائیوان پہنچ گئے

    یوکرین کے بعد امریکا تائیوان کی مدد کو پہنچ گیا،دوجنگی بحری جہازآبنائے تائیوان پہنچ گئے

    بیجنگ:امریکی بحریہ کے دو جنگی جہاز اتوار کے روز آبنائے تائیوان میں بین الاقوامی پانیوں سے گزرے، امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کے تائیوان کے دورے کے بعد اس طرح کی پہلی کارروائی نے چین کو مشتعل کیا جو اس جزیرے کو اپنا علاقہ سمجھتا ہے۔

    سیلاب متاثرین کیلئےمتحدہ عرب امارات سے امدادی سامان آج پاکستان پہنچے گا

    امریکی بحریہ نے رائٹرز کی ایک رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کروزرز Chancellorsville اور Antietam جاری آپریشن کر رہے ہیں۔ اس طرح کی کارروائیوں کو مکمل ہونے میں عام طور پر آٹھ سے 12 گھنٹے لگتے ہیں اور چین کی فوج ان کی کڑی نگرانی کرتی ہے۔

    حالیہ برسوں میں امریکی جنگی بحری جہاز، اور بعض مواقع پر اتحادی ممالک جیسے کہ برطانیہ اور کینیڈا سے، معمول کے مطابق آبنائے سے گزرتے رہے ہیں، جس سے چین کا غصہ آ گیا ہے جو تائیوان پر اپنی جمہوری طور پر منتخب حکومت کے اعتراضات کے خلاف دعویٰ کرتا ہے۔

    اگست کے اوائل میں پیلوسی کے تائیوان کے دورے نے چین کو غصہ دلایا جس نے اسے اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کی امریکی کوشش کے طور پر دیکھا۔ اس کے بعد چین نے جزیرے کے قریب فوجی مشقیں شروع کیں جو اس کے بعد سے جاری ہیں۔

    امریکی بحریہ نے کہا کہ "یہ (امریکی) جہاز آبنائے میں ایک راہداری سے گزرے جو کسی بھی ساحلی ریاست کے علاقائی سمندر سے باہر ہے۔”

    بحریہ نے کہا کہ یہ آپریشن ایک آزاد اور کھلے ہند-بحرالکاہل کے لیے ریاستہائے متحدہ کے عزم کو ظاہر کرتا ہے، اور امریکی فوج جہاں بھی بین الاقوامی قانون اجازت دیتا ہے وہاں پرواز، بحری جہاز اور کام کرتی ہے۔

    چینی فوج کی ایسٹرن تھیٹر کمانڈ نے کہا کہ وہ بحری جہازوں کا پیچھا کر رہی ہے اور انہیں خبردار کر رہی ہے۔اس نے ایک بیان میں مزید کہا کہ تھیٹر میں فوجی دستے ہائی الرٹ پر ہیں اور کسی بھی وقت کسی بھی اشتعال انگیزی کو ناکام بنانے کے لیے تیار ہیں۔

    تائیوان کی وزارت دفاع نے کہا کہ بحری جہاز جنوبی سمت میں سفر کر رہے تھے اور اس کی افواج مشاہدہ کر رہی تھیں لیکن "صورتحال معمول کے مطابق تھی”۔

    تائیوان کی تنگ آبنائے اس وقت سے فوجی کشیدگی کا باعث بنی ہوئی ہے جب سے شکست خوردہ جمہوریہ چین کی حکومت 1949 میں کمیونسٹوں کے ساتھ خانہ جنگی ہارنے کے بعد تائیوان بھاگ گئی تھی، جس نے عوامی جمہوریہ چین کا قیام عمل میں لایا تھا۔

  • ریلوے اسٹیشن پرمیزائل حملہ،بڑی تعداد میں یوکرینی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے

    ریلوے اسٹیشن پرمیزائل حملہ،بڑی تعداد میں یوکرینی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے

    کیف:ریلوے اسٹیشن پرمیزائل حملہ،بڑی تعداد میں یوکرینی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے،اطلاعات کے مطابق یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ روس کی جانب سے ریلوے اسٹیشن پر میزائل حملے میں 25 شہری ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔

    بین الاقوامی میڈیا کے مطابق یوکرین کے یوم آزادی کے موقع پر مشرقی یوکرین میں روسی میزائل حملے میں 25 شہری ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے جبکہ ایک مسافر ٹرین کو آگ لگ گئی۔

    امریکا کی یوکرین کیلئے مزید 3 ارب ڈالر کی فوجی امداد

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ روسی راکٹ مشرقی یوکرین میں ٹرین سے ٹکرائے، مرنے والوں میں دو بچے شامل ہیں جن کی عمریں 6 اور 11 برس ہیں، بدقسمتی سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

    دوسری طرف یوکرین کے یومِ آزادی پر دارالحکومت کیف سمیت دیگر شہروں میں کرفیو نافذ رہا اور ہر قسم کے عوامی اجتماع پر پابندی عائد رہی۔امریکا، یونان، برطانیہ، جرمنی، بیلجیم اور کینیڈا میں یوکرین کے یومِ آزدی پر شہریوں نے ریلیاں نکالیں اور روس کی یوکرین میں کارروائی کی شدید مخالفت کی۔

    امریکہ کی یوکرین کومزید 800 ملین ڈالرز کی اضافی امداد

    دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کیلئے 3 ارب ڈالر کی فوجی امداد کا اعلان کیا ہے، صدر بائیڈن نے کہا کہ امریکا کیف کو ہتھیاروں اور دیگر ساز و سامان کیلئے تقریباً 3 ارب ڈالر فراہم کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس امداد کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ یوکرین طویل مدت تک اپنا دفاع جاری رکھ سکے۔

  • امریکہ دنیا میں جان بوجھ کرجنگوں کوہوادے رہا ہے،یوکرین جنگ کو بھی طول دے رہا ہے:ولادی میرپوتن

    امریکہ دنیا میں جان بوجھ کرجنگوں کوہوادے رہا ہے،یوکرین جنگ کو بھی طول دے رہا ہے:ولادی میرپوتن

    ماسکو:امریکہ دنیا میں جان بوجھ کرجنگوں کوہوادے رہا ہے،ان خدشات کا اظہار کرتے ہوئے روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ تائیوان میں امریکی مداخلت ایک خطرناک سازش ہے ، پوتن کا کہنا تھا کہ امریکہ یوکرین کے تنازع کو طول دینے کی کوشش کر رہا ہے اور ایشیا پیسیفک خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

     

    روس کے ساتھ امن مذاکرات کا مطلب ماسکو کی کامیابی کو تسلیم کرنا ہے:یوکرین

    پوتن نے ماسکو انٹرنیشنل سیکورٹی کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں کہا کہ "یوکرین کی صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ اس تنازعے کو طول دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اور وہ بالکل اسی طرح کام کر رہے ہیں، جو ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں تنازعات کے امکانات کو ہوا دے رہے ہیں۔”

    یہ بھی یاد رہے کہ روس نے فروری کے آخر میں یوکرین میں فوجی آپریشن شروع کیا، کیف کی جانب سے منسک معاہدوں کی شرائط پر عمل درآمد میں ناکامی اور ماسکو کی جانب سے مشرقی یوکرین کے ڈونیٹسک اور لوہانسک کے الگ ہونے والے علاقوں کو تسلیم کرنے کے بعد یہ ردعمل دیا ہے ۔اس وقت، پوتن نے کہا تھا کہ جس کو وہ "خصوصی فوجی آپریشن” کہتے ہیں اس کا ایک مقصد یوکرین کو "ڈی نازیفی” کرنا تھا۔

    روس نے بارہا خبردار کیا ہے کہ یوکرین کو ہتھیاروں کی مغربی سپلائی کے ساتھ ساتھ ماسکو پر سخت پابندیاں جاری جنگ کو طول دے گی، جو پہلے ہی چھٹے مہینے میں پہنچ چکی ہے۔

    روس غذائی اجناس کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے:یورپی یونین

    پوتن نے کہا کہ امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کے تائیوان کے حالیہ متنازع دورے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "ایک احتیاط سے منصوبہ بند اشتعال انگیزی” قرار دیا۔انہوں نے کہا، "تائیوان کے سلسلے میں امریکی مہم جوئی صرف ایک انفرادی غیر ذمہ دار سیاستدان کا سفر نہیں ہے، بلکہ خطے اور دنیا کی صورتحال کو غیر مستحکم کرنے اور افراتفری پھیلانے کے لیے ایک بامقصد، باشعور امریکی حکمت عملی کا حصہ ہے۔”

    چین کا کہنا ہے کہ امریکی قانون سازوں کے تائیوان کے دورے نے آبنائے تائیوان میں امن کو خراب کرنے والے کے طور پر واشنگٹن کا اصل چہرہ پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔

    روس اور ایران کے درمیان اسلحے کی تجارت قبول نہیں کی جائے گی،امریکا

    چین نے طویل عرصے سے خودساختہ جزیرے میں امریکی مداخلت کے ساتھ ساتھ امریکی حکام کے اس علاقے کے باقاعدہ دوروں کی مخالفت کی ہے حالانکہ واشنگٹن کی جانب سے "ایک چائنا” پالیسی کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا ہے جس کے تحت تقریباً تمام ممالک تائیوان پر بیجنگ کی خودمختاری کو تسلیم کرتے ہیں۔

    پیلوسی کے دورے کے جواب میں، چین نے جزیرے کے ارد گرد بے مثال فوجی مشقیں کیں اور واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کی کچھ لائنوں کو معطل کر دیا۔پیلوسی 25 سالوں میں اس جزیرے کا دورہ کرنے والی سب سے سینئر امریکی سیاست دان بن گئیں۔ چینی وزیر خارجہ نے اس طوفانی سفر کو "پاگل، غیر ذمہ دارانہ اور غیر معقول” قرار دیا۔

    پیلوسی کے خودساختہ جزیرے کے دورے کے دو ہفتے سے بھی کم عرصے بعد، امریکی کانگریس کا ایک وفد پیر کو غیر اعلانیہ دورے پر تائیوان پہنچا، جسے مبصرین امریکہ کے ایک اور اشتعال انگیز اقدام کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔دارالحکومت تائی پے میں واشنگٹن کے ڈی فیکٹو سفارت خانے نے کہا کہ کانگریس کے پانچ ارکان پیر تک دورہ کریں گے۔