Baaghi TV

Tag: جنگ

  • ریلوے اسٹیشن پرمیزائل حملہ،بڑی تعداد میں یوکرینی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے

    ریلوے اسٹیشن پرمیزائل حملہ،بڑی تعداد میں یوکرینی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے

    کیف:ریلوے اسٹیشن پرمیزائل حملہ،بڑی تعداد میں یوکرینی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے،اطلاعات کے مطابق یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ روس کی جانب سے ریلوے اسٹیشن پر میزائل حملے میں 25 شہری ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔

    بین الاقوامی میڈیا کے مطابق یوکرین کے یوم آزادی کے موقع پر مشرقی یوکرین میں روسی میزائل حملے میں 25 شہری ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے جبکہ ایک مسافر ٹرین کو آگ لگ گئی۔

    امریکا کی یوکرین کیلئے مزید 3 ارب ڈالر کی فوجی امداد

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ روسی راکٹ مشرقی یوکرین میں ٹرین سے ٹکرائے، مرنے والوں میں دو بچے شامل ہیں جن کی عمریں 6 اور 11 برس ہیں، بدقسمتی سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

    دوسری طرف یوکرین کے یومِ آزادی پر دارالحکومت کیف سمیت دیگر شہروں میں کرفیو نافذ رہا اور ہر قسم کے عوامی اجتماع پر پابندی عائد رہی۔امریکا، یونان، برطانیہ، جرمنی، بیلجیم اور کینیڈا میں یوکرین کے یومِ آزدی پر شہریوں نے ریلیاں نکالیں اور روس کی یوکرین میں کارروائی کی شدید مخالفت کی۔

    امریکہ کی یوکرین کومزید 800 ملین ڈالرز کی اضافی امداد

    دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کیلئے 3 ارب ڈالر کی فوجی امداد کا اعلان کیا ہے، صدر بائیڈن نے کہا کہ امریکا کیف کو ہتھیاروں اور دیگر ساز و سامان کیلئے تقریباً 3 ارب ڈالر فراہم کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس امداد کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ یوکرین طویل مدت تک اپنا دفاع جاری رکھ سکے۔

  • امریکہ دنیا میں جان بوجھ کرجنگوں کوہوادے رہا ہے،یوکرین جنگ کو بھی طول دے رہا ہے:ولادی میرپوتن

    امریکہ دنیا میں جان بوجھ کرجنگوں کوہوادے رہا ہے،یوکرین جنگ کو بھی طول دے رہا ہے:ولادی میرپوتن

    ماسکو:امریکہ دنیا میں جان بوجھ کرجنگوں کوہوادے رہا ہے،ان خدشات کا اظہار کرتے ہوئے روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ تائیوان میں امریکی مداخلت ایک خطرناک سازش ہے ، پوتن کا کہنا تھا کہ امریکہ یوکرین کے تنازع کو طول دینے کی کوشش کر رہا ہے اور ایشیا پیسیفک خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

     

    روس کے ساتھ امن مذاکرات کا مطلب ماسکو کی کامیابی کو تسلیم کرنا ہے:یوکرین

    پوتن نے ماسکو انٹرنیشنل سیکورٹی کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں کہا کہ "یوکرین کی صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ اس تنازعے کو طول دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اور وہ بالکل اسی طرح کام کر رہے ہیں، جو ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں تنازعات کے امکانات کو ہوا دے رہے ہیں۔”

    یہ بھی یاد رہے کہ روس نے فروری کے آخر میں یوکرین میں فوجی آپریشن شروع کیا، کیف کی جانب سے منسک معاہدوں کی شرائط پر عمل درآمد میں ناکامی اور ماسکو کی جانب سے مشرقی یوکرین کے ڈونیٹسک اور لوہانسک کے الگ ہونے والے علاقوں کو تسلیم کرنے کے بعد یہ ردعمل دیا ہے ۔اس وقت، پوتن نے کہا تھا کہ جس کو وہ "خصوصی فوجی آپریشن” کہتے ہیں اس کا ایک مقصد یوکرین کو "ڈی نازیفی” کرنا تھا۔

    روس نے بارہا خبردار کیا ہے کہ یوکرین کو ہتھیاروں کی مغربی سپلائی کے ساتھ ساتھ ماسکو پر سخت پابندیاں جاری جنگ کو طول دے گی، جو پہلے ہی چھٹے مہینے میں پہنچ چکی ہے۔

    روس غذائی اجناس کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے:یورپی یونین

    پوتن نے کہا کہ امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کے تائیوان کے حالیہ متنازع دورے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "ایک احتیاط سے منصوبہ بند اشتعال انگیزی” قرار دیا۔انہوں نے کہا، "تائیوان کے سلسلے میں امریکی مہم جوئی صرف ایک انفرادی غیر ذمہ دار سیاستدان کا سفر نہیں ہے، بلکہ خطے اور دنیا کی صورتحال کو غیر مستحکم کرنے اور افراتفری پھیلانے کے لیے ایک بامقصد، باشعور امریکی حکمت عملی کا حصہ ہے۔”

    چین کا کہنا ہے کہ امریکی قانون سازوں کے تائیوان کے دورے نے آبنائے تائیوان میں امن کو خراب کرنے والے کے طور پر واشنگٹن کا اصل چہرہ پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔

    روس اور ایران کے درمیان اسلحے کی تجارت قبول نہیں کی جائے گی،امریکا

    چین نے طویل عرصے سے خودساختہ جزیرے میں امریکی مداخلت کے ساتھ ساتھ امریکی حکام کے اس علاقے کے باقاعدہ دوروں کی مخالفت کی ہے حالانکہ واشنگٹن کی جانب سے "ایک چائنا” پالیسی کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا ہے جس کے تحت تقریباً تمام ممالک تائیوان پر بیجنگ کی خودمختاری کو تسلیم کرتے ہیں۔

    پیلوسی کے دورے کے جواب میں، چین نے جزیرے کے ارد گرد بے مثال فوجی مشقیں کیں اور واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کی کچھ لائنوں کو معطل کر دیا۔پیلوسی 25 سالوں میں اس جزیرے کا دورہ کرنے والی سب سے سینئر امریکی سیاست دان بن گئیں۔ چینی وزیر خارجہ نے اس طوفانی سفر کو "پاگل، غیر ذمہ دارانہ اور غیر معقول” قرار دیا۔

    پیلوسی کے خودساختہ جزیرے کے دورے کے دو ہفتے سے بھی کم عرصے بعد، امریکی کانگریس کا ایک وفد پیر کو غیر اعلانیہ دورے پر تائیوان پہنچا، جسے مبصرین امریکہ کے ایک اور اشتعال انگیز اقدام کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔دارالحکومت تائی پے میں واشنگٹن کے ڈی فیکٹو سفارت خانے نے کہا کہ کانگریس کے پانچ ارکان پیر تک دورہ کریں گے۔

  • روس کی اتحادی ممالک کوجدید ترین ہتھیاردینے کی پیشکش

    روس کی اتحادی ممالک کوجدید ترین ہتھیاردینے کی پیشکش

    ماسکو:روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ ہم جدیدترین ہتھیار اپنے اتحادی ممالک کو فروخت کرنے اور فوجی ٹیکنالوجی کی تیاری میں تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ روس کے نئے ہتھیار دیگر ممالک کے مقابلے زیادہ بہتر ہیں۔

     

    روس کے ساتھ امن مذاکرات کا مطلب ماسکو کی کامیابی کو تسلیم کرنا ہے:یوکرین

    ماسکو میں اسلحے کی نمائش کے موقع پر روسی صدر نے کہا کہ ہمارے ہتھیار حریف ممالک کے ہتھیاروں سے بہت زیادہ بہتر ہیں۔انہوں نے کہا کہ روس کے لاطینی امریکا، ایشیا اور افریقا سے تعلقات مضبوط ہیں اور ہم اپنے شراکت داروں اور اتحادیوں کو جدید ترین ہتھیاروں کی پیشکش کرنے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم چھوٹے ہتھیاروں سے لے کر لڑاکا طیارے، ڈرونز اور دیگر ہتھیار اتحادیوں کو فراہم کر سکتے ہیں اور ان ہتھیاروں کو حقیقی جنگی آپریشنز میں ایک سے زیادہ بار استعمال کیا جاسکے گا۔

    امریکا نے روسی اثاثےضبط کیےتو واشنگٹن سے تعلقات منقطع کرلیں گے:روس کا انتباہ

    روسی صدر نے کہا کہ ہم جدید ترین ہتھیاروں اور روبوٹیکس کی بات کررہے ہیں جن میں سے بیشتر دیگر ممالک کی ٹیکنالوجی سے کئی برس آگے ہیں۔یہ خطاب یوکرین جنگ کے بعد مختلف اتحادیوں جیسے چین، ایران اور دیگر سے تعاون بڑھانے کی مہم کا حصہ ہے تاکہ امریکی بالادستی کو ختم کیا جاسکے۔

    روس اور ایران کے درمیان اسلحے کی تجارت قبول نہیں کی جائے گی،امریکا

    ولادی میر پیوٹن نے کہا کہ ہمارے ساتھ متعدد ہم خیال اتحادی اور شراکت دار ممالک ہیں، ان کی قیادت کسی کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔

  • امریکا نے روسی اثاثےضبط کیےتو واشنگٹن سے تعلقات منقطع کرلیں گے:روس کا انتباہ

    امریکا نے روسی اثاثےضبط کیےتو واشنگٹن سے تعلقات منقطع کرلیں گے:روس کا انتباہ

    ماسکو:روسی وزارت خارجہ نے امریکا کوخبردار کیاہے کہ امریکا کی جانب سے روسی اثاثے ضبط کیے جانے کی صورت میں واشنگٹن کے ساتھ ماسکو کے دوطرفہ تعلقات مکمل طور پر تباہ ہو جائیں گے غیر ملکی نشریاتی ادارے کے مطابق روس کے مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات اس وقت سے بہت زیادہ خراب ہو گئے ہیں جب سے ماسکو نے 24 فروری کو ہزاروں فوجی یوکرین میں بھیجے اوراسے خصوصی فوجی آپریشن قراردیا

     

    بھارت چین کے سرحدی تنازع پرایک دوسرے پرالزامات، اپنے فوجیوں کو قابو میں رکھے، چین…

    ماسکو: روس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے اور امریکہ کے درمیان تعلقات’خطرناک ٹکراؤ کے مقام‘ پر پہنچ گیا ہے اورواشنگٹن اس پر مستقل نظامی دباؤ بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ روسی وزارت خارجہ کے کالجیم کی میٹنگ کے بعد بدھ کو اس کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ امریکہ کی حرکتوں کے سبب حالیہ برسوں میں روس اور امریکہ کے مابین تعلقات خراب ہورہے ہیں۔ روس پرامریکہ اوراس کے ساتھی ممالک نظامی دباؤ بنارہے ہیں، جو کافی حد تک نظریاتی عوامل سے متاثرہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ کا رخ بین الاقوامی قانون کی سراسرخلاف ورزی کرتا ہے اوراس کی سخت مخالفت کی جائے گی۔ روس اپنے جائز مفادات برقرار رکھے گا۔ وزارت کے مطابق جینیوا میں روسی صدر ولادیمیر پوتن اوران کے امریکی ہم منصب جو بائڈن کے درمیان جون میں ہوئی چوٹی کانفرنس سے یہ پتہ چلا کہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک استحکام، موسمیاتی تبدیلی، سائبر سیکورٹی اور علاقائی تنازعات کے حل جیسے شعبوں میں تعمیری بات چیت کو دوبارہ زندہ کرنے کے مواقع تھے۔

    روس کے اس اقدام کے جواب میں مغربی ممالک نے ماسکو پر ایسی معاشی، مالی اور سفارتی پابندیاں عائد کیں جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ان پابندیوں میں روس کے تقریباً سونے اور زرمبادلہ کے نصف ذخائر کو منجمد کرنا بھی شامل ہے جن مالیت 24 فروری سے قبل 640 ارب ڈالر کے قریب تھی. یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل سمیت اہم مغربی حکام مستقبل میں یوکرین کی تعمیر نو کے لیے فنڈز فراہم کرنے کے لیے منجمد اثاثوں کو ضبط کرنے کی تجویز دے چکے ہیں

    جو بائیڈن انتظامیہ کے مطابق امریکا اور اس کے یورپی اتحادی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ تعلقات رکھنے والے دولت مند افراد کے 30 ارب ڈالر کے اثاثے بھی منجمد کرچکے ہیں، ان منجمد کیے گئے اثاثوں میں ان روسی افراد کی کشتیاں، ہیلی کاپٹر، گھر، پلازے اور قیمتی تخلیقی اشیا شامل ہیں . جولائی میں سرکاری وکیل نے کہا تھا کہ یوکرین میں جاری ماسکو کے اقدامات کے جواب میں دباﺅ ڈالنے کے لیے امریکی محکمہ انصاف کانگریس سے روسی امرا کے اثاثوں کو ضبط کرنے کے لیے مزید وسیع اختیار طلب کر رہا ہے الیگزینڈر ڈارچیف نے کہا کہ روس نے امریکا کو متنبہ کر دیا ہے کہ اگر روس کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست قرار دیا گیا تو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات بری طرح متاثر ہوں گے اور پھر یہ تعلقات ٹوٹ بھی سکتے ہیں.

    یوکرین کی صورت حال سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے الیگزینڈر ڈارچیف نے کہا کہ کیف پر امریکی اثر و رسوخ اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ امریکا تنازع میں براہ راست فریق بنتا جا رہا ہے رپورٹ میں الیگزینڈر ڈارچیف نے تصدیق کی کہ امریکا کی قید میں موجود روسی شہری وکٹر باﺅٹ اور روس میں زیر حراست امریکی باسکٹ بال اسٹار برٹنی گرائنر اور سابق فوجی پال وہیلان سے متعلق ماسکو اور روس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے مذاکرات میں بات چیت کی جا رہی ہے.

  • یوکرین میں 80 غیرملکی جنگجو اور 470 یوکرینی فوجی ہلاک

    یوکرین میں 80 غیرملکی جنگجو اور 470 یوکرینی فوجی ہلاک

    ماسکو:روس نے یوکرین میں فضائی حملوں کے دوران درجنوں غیرملکی جنگجوؤں اور یوکرینی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
    روسی وزارت دفاع کے مطابق، جنوب مشرقی یوکرین میں فضائی حملوں میں 80 سے زائد غیرملکی جنگجو اور 470 یوکرینی فوجی ہلاک ہوئے۔ روسی وزیر دفاع نے انکشاف کیا کہ بہت سے غیرملکی جنگجو نامناسب تربیت اور جنگی تجربہ نہ رکھنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

    روس کےخلاف لڑائی کےلیےامریکہ کی یوکرین کو550 ملین ڈالرزکی تازہ امداد

    اپریل میں روسی فوج نے اندازہ لگایا تھا کہ یوکرین میں 7000غیرملکی فوجی موجود ہیں تاہم اب ان کی تعداد 3000 سے بھی کم رہ گئی ہے۔

    ادھر روس اور یوکرین کی جنگ کے تناظر میں ترک صدر طیب اردوغان اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں دوسری بار اہم ملاقات ہوئی، یہ ملاقات بحیرۂ اسود کے ساحل پر واقع روس کے سیاحتی شہر سوچی میں ہوئی۔

    روس یوکرین تنازعہ:توانائی بحران:یورپ کی سلامتی کوخطرات لاحق ہوگئے

    موصولہ رپورٹ کے مطابق، روس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے موجودہ علاقائی اورعالمی چیلنجز کے باوجود باہمی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تجارت میں اضافے سمیت اقتصادی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا اور شام میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جنگ کے عزم کا اعادہ کیا۔

    برطانیہ نے روس کے خلاف لڑنے کےلیے یوکرینی فوجیوں کواسکاٹ لینڈ میں ٹریننگ دینا شروع

    خیال رہے کہ ترکی کی ثالثی میں گزشتہ ماہ استنبول میں یوکرین، روس اور اقوام متحدہ نے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت بحیرۂ اسود کی بندرگاہوں کے ذریعے یوکرین سے اناج کی برآمدات بحال ہوئی تھی۔

  • امریکا نے بحیرہ احمر میں فوجی مشقیں شروع کردیں

    امریکا نے بحیرہ احمر میں فوجی مشقیں شروع کردیں

    امریکا اور اسرائیل نے بحیرہ احمر میں مشترکا فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں۔,اطلاعات کے مطابق امریکی بحریہ کی سینٹرل کمانڈ کے اعلان کے مطابق بحیرہ احمر میں امریکا اور اسرائیل کے درمیان مشترکا بحری مشقیں جاری ہیں جو گزشتہ روز شروع ہوئی تھیں۔

    امریکی بحریہ کی سینٹرل کمانڈ نے ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں ممالک کی بحری افواج کی چار روزہ مشقیں شروع ہو گئی ہیں۔ ان مشقوں میں امریکا کا پانچواں بحری بیڑا حصہ لے رہا ہے۔

    امریکی بحریہ کی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ ان فوجی مشقوں میں مشن کی منصوبہ بندی، سمندری رکاوٹوں اور سمندر میں دیگر مشقوں پر توجہ مرکوز رہے گی۔

     

     

    دوسری طرف چین نےجنوبی چین میں فوجی مشقیں شروع کردیں،اطلاعات کے مطابق چائنا میری ٹائم سیفٹی ایڈمنسٹریشن نے رپورٹ کیا کہ امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کے ممکنہ دورہ تائیوان کے درمیان چین کی پیپلز لبریشن آرمی (PLA) نے منگل کو بحیرہ جنوبی چین میں مشقیں شروع کر دیں۔

    آگ سے مت کھیلو!چین کا امریکہ کوایک بارپھرانتباہ

    جینی وزارت دفاع کے مطابق بحیرہ جنوبی چین کے ایک حصے میں فوجی مشقیں کی جائیں گی۔” TASS کی رپورٹ کے مطابق، مخصوص علاقے میں داخل ہونا، جس کے نقاط ویب سائٹ پر درج ہیں،

    یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ پیپلز لبریشن آرمی بھی بوہائی بے کے شمالی حصے میں دالیان (صوبہ لیاؤننگ، شمال مشرقی چین) میں براہ راست فائرنگ کے ساتھ مشقیں کر رہی ہے۔ مخصوص علاقے میں داخلہ ممنوع ہے۔

    یہ واحد مشقیں نہیں ہیں جو چین ان دنوں سمندر میں کر رہا ہے۔گزشتہ ہفتے جمعہ کو چین نے گوانگ ڈونگ اور ہینان صوبوں کے پانیوں میں بحیرہ جنوبی چین کے چار علاقوں میں مشقیں شروع کیں۔ ہفتے کے روز، مشرقی فوجیان صوبے کے پانیوں میں لائیو فائر کی مشقیں کی گئیں، جو تائیوان سے آبنائے کے ذریعے الگ ہے۔

    امریکی کانگریس کے ایوان زیریں کے سپیکر کا تائیوان کا دورہ 25 سالوں میں اس درجہ کے کسی امریکی سیاستدان کا پہلا دورہ ہو سکتا ہے۔گلوبل ٹائمز کے ایک رپورٹر نے منگل کو ٹویٹر پر لکھا کہ چینی حکومت پیلوسی کے سپیکر کے تائیوان کے ممکنہ دورے کے خلاف متعدد اقدامات کی منصوبہ بندی کر رہی ہے،

    نینسی پلوسی نے تائیوان کا دورہ کیا تو فوج کو متحرک کردیں گے،چین

     

     

    چینی اخبار کے سابق چیف ایڈیٹر ہو ژیجن نے لکھا۔”جہاں تک میں جانتا ہوں، بیجنگ نے پیلوسی کے تائیوان کے ممکنہ دورے کے خلاف متعدد جوابی اقدامات کیے ہیں، جس میں فوجی اقدامات بھی شامل ہیں،”

    بیجنگ نے بارہا امریکی فریق کو متنبہ کیا ہے کہ اگر دورہ ہوا تو اس کے نتائج برآمد نہیں ہوں گے اور چین سخت اقدامات اٹھائے گا۔ واشنگٹن کا خیال ہے کہ بیجنگ، ممکنہ دورے کی روشنی میں، ایسے اقدامات کر سکتا ہے جس سے بحران پیدا ہو

    چین:دوسری کنزیومر ایکسپو میں چینی اور غیر ملکی کاروباری اداروں کی زبردست شرکت

    یاد رہے کہ اس سے پہلے چین نے امریکہ کو وارننگ دی تھی کہ اگر امریکی کانگریس کے ایوان زیریں کی سپیکر نینسی نے تائیوان کا دورہ کیا تو فوج کو متحرک کردیں گے ،چین کے اس اعلان کے ایک دن بعد چین نے اپنی افواج کو الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے اور ساتھ ہی خطے میں جدید جنگی مشقیں شروع کردی ہیں جن میں فضائیہ ، بحریہ اور پیدل افواج کے دستے شامل ہیں

    چین کے صدر سے ایرانی صدر کی ٹیلیفونک گفتگو،باہمی اورعالمی معاملات پرگفتگو،مشاورت

  • یوکرائنی فوج کے200سے زیادہ ارکان انسانی حقوق کےخلاف جرائم میں ملوث ہیں

    یوکرائنی فوج کے200سے زیادہ ارکان انسانی حقوق کےخلاف جرائم میں ملوث ہیں

    ماسکو:یوکرائنی فوج کے200سے زیادہ ارکان انسانی حقوق کےخلاف جرائم میں ملوث ہیں،اطلاعات کے مطابق روس کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یوکرائنی فوج کے 200 سے زیادہ ارکان "انسانیت کے امن اور سلامتی کے خلاف جرائم” میں ملوث ہیں۔

    الیگزینڈر باسٹریکن نے اخبار روزیسکایا گزیٹہ کو بتایا کہ 24 فروری کو روس کے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے یوکرین کی جانب سے خلاف ورزیوں پر 400 سے زائد افراد پر مشتمل 1,300 سے زیادہ فوجداری مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

    انہوں نے انکشاف کیا کہ کل 92 کمانڈروں اور ماتحتوں پر پہلے ہی جرائم کا الزام عائد کیا جا چکا ہے۔

    تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ کے مطابق 220 سے زائد مشتبہ افراد، جن میں یوکرین کی مسلح افواج کی اعلیٰ کمان کے نمائندے اور عام شہریوں پر گولیاں چلانے والے فوجی یونٹس کے کمانڈر بھی شامل تھے، امن و سلامتی کے خلاف جرائم میں ملوث تھے۔ بنی نوع انسان کا، جس کی کوئی پابندی نہیں ہے۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ اب تک 92 یوکرائنی کمانڈروں اور ماتحتوں کے خلاف الزامات درج کیے گئے ہیں، جن میں سے 96 مشتبہ افراد کو مطلوبہ فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

    "یوکرائنی قوم پرستوں کی طرف سے طاقت کے استعمال کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا،” باسٹریکن نے اصرار کرتے ہوئے کہا، "وہ عوامی جمہوریہ ڈونیٹسک اور لوگانسک پر شدید گولہ باری کر رہے ہیں۔ وہ بے دردی سے پرامن شہریوں، سویلین انفراسٹرکچر بشمول بچوں کے اداروں کو نشانہ بناتے ہیں۔

    انہوں نے یوکرائنی افواج پر یہ بھی الزام لگایا کہ انہوں نے "اس کے لیے روسی فوج کو مورد الزام ٹھہرانے کے لیے” اپنی ہی سرزمین پر حملہ کیا۔

    تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ ماسکو نے اصرار کیا ہے کہ اس کی فوجیں کبھی بھی عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے، صرف یوکرین کی افواج اور فوجی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہیں۔

    تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ یوکرائن کی جانب سے حملوں میں 7,000 سے زیادہ شہری تنصیبات کو تباہ کیا گیا ہے، جن میں گھر، اسکول اور کنڈرگارٹن شامل ہیں، 91،000 سے زائد افراد کو متاثرین کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

    برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، جارجیا اور ہالینڈ کے شہریوں کے خلاف بھی کرائے کے جنگجوؤں کے طور پر تنازعہ میں ملوث ہونے پر مجرمانہ مقدمات کا آغاز کیا گیا ہے، جبکہ یوکرائنی قوم پرست یونٹوں پر روسی جنگی قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے، بیرونی ممالک میں روسی سفارت خانوں پر حملے کرنے والوں کے خلاف بھی مقدمات قائم کیئے جائیں گے

  • برطانیہ نے روس کے خلاف لڑنے کےلیے یوکرینی فوجیوں کواسکاٹ لینڈ میں ٹریننگ دینا شروع کردی

    برطانیہ نے روس کے خلاف لڑنے کےلیے یوکرینی فوجیوں کواسکاٹ لینڈ میں ٹریننگ دینا شروع کردی

    لندن:روس کے خلاف یوکرینی فوجیوں کولڑنے کے لیے بہترتربیت دینے کے اعلان کے بعد برطانوی فوج نےکہا ہے کہ رائل نیوی یوکرائنی ملاحوں کو سکاٹ لینڈ میں تربیت دے رہی ہے تاکہ روس کے ساتھ لڑائی میں کیف کا ساتھ دیا جا سکے۔

    لندن سے ذرائع کے مطابق مشقوں میں یوکرین کے نائب وزیر دفاع ولادیمیر گیوریلوف اور برطانیہ کی مسلح افواج کے وزیر جیمز ہیپی نے شرکت کی۔خبررساں ادارے کا کہنا ہے کہ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ڈرل کا صحیح مقام نامعلوم ہے۔ ملاحوں کو سمندر میں اہم مہارتوں ، ہتھیاروں کی مشقیں، نقصان پر قابو پانے اور جہازوں پر مشینری چلانے کا طریقہ سیکھایا گیا

    برطانوی بحریہ کے مطابق، 80 یوکرینی فوجی جدید فوجی تربیت حاصل کررہے ہیں‌۔ ایک ہی وقت میں، برطانیہ کیف کو جلد ہی متروک ہونے والے دو سینڈاؤن کلاس مائن ہنٹر فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔”یوکرین کے نائب وزیر دفاع ولادیمیر گیوریلوف نے کہا ہے کہ ہمیں واقعی ان کی ضرورت ہے کہ وہ بحیرہ اسود میں کان کنی کے لیے یوکرائنی کوششوں کی حمایت کریں۔ یہ انسانی ہمدردی کے مشن کا ایک حصہ بھی ہے جو دنیا کے لیے بہت اہم ہے،

    یوکرین کے فوجی اور ملاح جس شدت کے ساتھ تربیت کر رہے ہیں وہ دیکھنے والی چیز ہے۔ وہ ان فوجیوں کی توجہ کے ساتھ کام کرتے ہیں جو جانتے ہیں کہ وہ صرف چند ہفتوں کے عرصے ایک کامیاب جنگ لڑیں گے

    مشق میں رائل نیوی کی شرکت برطانیہ کی زیر قیادت فوجی پروگرام کا حصہ ہے جس میں ملک کے مختلف علاقوں میں 1,000 سے زائد برطانوی سروس اہلکار شامل ہیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ اس مشق میں رضاکار بھرتی کرنے والوں کو، جن کے پاس محدود فوجی تجربہ ہے، فرنٹ لائن لڑائی میں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی مہارت ہے۔

    یہ مشترکہ مشقیں اس وقت ہوئی ہیں جب برطانیہ نے ٹینک شکن ہتھیاروں، ڈرونز، آرٹلری گنوں کے ساتھ ساتھ دسیوں ہزار گولہ بارود کی ایک اور کھیپ یوکرین بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے بھی لندن نے کیف کو £2.3 بلین ($2.76 بلین) کی مالی مدد فراہم کی تاکہ روس کی جارحیت سے لڑنے میں قوم کی مدد کی جا سکے۔

  • یوکرین:رہائشی عمارت پر روسی فضائی حملے میں 15 افراد ہلاک

    یوکرین:رہائشی عمارت پر روسی فضائی حملے میں 15 افراد ہلاک

    کیف :یوکرین میں ایک اور رہائشی عمارت پر روسی فضائی حملے میں 15 افراد ہلاک ہو گئے،اطلاعات کے مطابق مشرقی یوکرینی ریجن دانیسک کے شہر چاسیویار کی ایک 5 منزلہ رہائشی عمارت پر روسی فضائی حملے کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ 20 سے زائد افراد کے ملبے میں دبے ہونےکا خدشہ ہے۔

     

     

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یوکرینی ریجن دانیسک خاص طور پر روس کی نظروں کا مرکز بنی ہوئی ہے جہاں روسی راکیٹ حملے میں 5 منزلہ رہائشی عمارت کا ایک حصہ مکمل طور پر تباہ ہو کرملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا ہے۔

     

     

    یوکرینی امدادی ایجنسی کے حکام کا کہنا ہے کہ رہائشی عمارت پر روسی راکیٹ حملے کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ملبے سے 5 افراد کو زندہ حالت میں ریسکیو کر لیا گیا ہے اور اب بھی 20 سے زائد افراد کا ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

     

     

    روسی وزارت دفاع نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ روسی افواج نے سے یوکرینی شہر چاسیویار کے علاقے میں حملہ کرکے چھپائی گئی امریکی ساختہ ایم-777 توپوں (Howitzer) کے ایک ہینگر کو تباہ کردیا ہے۔

     

    یوکرینی امدادی ایجنسی کے حکام کے مطابق حملے سے متاثرہ علاقے میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور عمارت کے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کا کام کیا جا رہا ہے۔

  • جاپان کوامریکی حمایت پرپیغام یا کچھ اورسہی:روسی بحریہ نے جاپانی سمندری حدود پامال کردیں

    جاپان کوامریکی حمایت پرپیغام یا کچھ اورسہی:روسی بحریہ نے جاپانی سمندری حدود پامال کردیں

    ٹوکیو: جاپان کوامریکی حمایت پرپیغام یا کچھ اورسہی:روسی بحریہ نے جاپانی سمندری حدود پامال کردیں ،اطلاعات کے مطابق یوکرین سے نبردآزما روس نے جاپان کی سمندری حدود کی خلاف ورزی کرڈالی۔

    جاپان کی وزارت دفاع کی جانب سے غیر ملکی میڈیا کو بتایا گیا کہ روسی بحری جہاز جاپانی سمندری حدود کے عین باہر جنوبی جزیرے اوکینوتوری شیما کے قریبی پانیوں میں داخل ہوا۔

    جاپان کی بحری سیلف ڈیفنس فورس نے تصدیق کی کہ بدھ کی صبح پانچ بجے کے قریب خفیہ معلومات جمع کرنے والے روسی بحری جہاز تقریباً پینتالیس کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع جزیرے سے متصل زون میں داخل ہوا اور بعد ازاں مغرب کی جانب روانہ ہوگیا۔جاپانی وزارت دفاع نے یہ نہیں بتایا کہ بحری جہاز کتنی دیر تک اس زون میں رہا؟

    اس سے قبل وزارت نے بحری سیلف ڈیفنس فورس نے انکشاف کیا کہ تین روسی بحری جہاز بحیرۂ مشرقی چین سے بحیرۂ جاپان میں داخل ہونے کے لیے منگل سے بدھ کے روز آبنائے تسُوشیما سے گزرے تھے، یہ آبنائے جاپان کے مرکزی جنوب مغربی جزیرے کیُوشُو اور جزیرہ نما کوریا کے درمیان واقع ہے۔

    وزارت کا کہنا تھا کہ ان بحری جہازوں میں ایک تباہ کن اور ایک فریگیٹ شامل تھا، وہ پیر کی شام کو بحیرۂ مشرقی چین میں سینکاکُو جزائر سے متصل زون میں بھی داخل ہوئے جبکہ ایک پیر کو پہلے ہی زون میں تھا۔

    وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ جنگی بحری جہازوں کا اس زون سے گزرنا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے تاہم حکام روسی بحری جہازوں یہاں آنے کے مقصد کا تجزیہ کر رہی ہے۔

    واضح رہے کہ یہ جزائر جاپان کے زیر انتظام ہیں، چین اور تائیوان ان کی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں، جاپانی حکومت کا مؤقف ہے کہ ان کی خود مختاری کا کوئی حل طلب معاملہ وجود نہیں رکھتا۔