Baaghi TV

Tag: حماس

  • حافظ نعیم کی حماس کے سربراہ  سے ملاقات

    حافظ نعیم کی حماس کے سربراہ سے ملاقات

    دوحہ: جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے حماس کے سربراہ احمد درویش اور خالد مشعل سے ملاقات کی –

    باغی ٹی وی : جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کی قیادت سے ملاقات کی حافظ نعیم الرحمان نے دوحہ میں حماس کے سربراہ حسن درویش اورسابق سربراہ خالد مشعل سے ملاقات کی اور کہا کہ 15 ماہ ثابت قدمی سے مزاحمت پر اہل غزہ اور حماس کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جنگ بندی معاہدہ حماس کی فتح ہے، اسرائیل جنگی اہداف کے حصول میں ناکام رہا اور پاکستان کے عوام غزہ کی تعمیرنو میں اپنا فرض ادا کریں گے،ہم اس اہم موڑ پر اہل پاکستان کی جانب سے اظہار یک جہتی کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔

    پی ایف یوجےکی پیکا ایکٹ 2016 میں ترامیم کی مذمت

    اس موقع پر حماس کے سربراہ حسن درویش نے کہا کہ اہل فلسطین کی جانب سے پاکستانیوں اور جماعت اسلامی کا شکریہ ادا کرتے ہیں، پاکستان نے امت کے مسائل کے حل کے لیے قائدانہ کردارادا کیا ہے بحالی اور تعمیر نو میں پاکستان کی حکومت اور عوام سے تعاون کی امید ر کھتے ہیں۔

    دوسری جانب غزہ میں جنگ بندی کے بعد تباہ شدہ علاقوں میں عمارتوں کے ملبے سے فلسطینیوں کی لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے جہاں سے 3 دنوں میں اب تک 120 لاشیں اسپتال منتقل کی جاچکی ہیں۔

    2025 کے پہلے پولیو وائرس کیس کی تصدیق

    بین الاقوامی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز غزہ پٹی کے اسپتالوں میں 97 فلسطینیوں کی لاشیں لائی گئیں جن میں سے 68 لاشیں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبوں اور میدانوں سے اٹھائی گئی تھیں، تباہ شدہ عمارتوں کے ملبوں اور میدانوں سے اٹھائی گئی لاشوں کی تعداد اب 120 تک پہنچ گئی ہے جبکہ اسپتالوں میں 56 فلسطینیوں کو زخمی حالت میں بھی لایا گیا تھا۔

    فلسطین سول ڈیفنس کے مطابق اکتوبر 2023 سے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ پٹی میں 47 ہزار107فلسطینی شہید اور زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ11ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔

    خواجہ آصف نے جوڈیشل کمیشن سے متعلق بڑی پیشکش کردی

  • حماس کی قید سے رہا اسرائیلی قیدیوں کے ابتدائی بیانات سامنے آگئے

    حماس کی قید سے رہا اسرائیلی قیدیوں کے ابتدائی بیانات سامنے آگئے

    تل ابیب: غزہ میں جنگ بندی کے پہلے روز معاہدے کے تحت حماس کی قید سے رہا ہونے والی اسرائیلی خواتین کے ابتدائی بیانات سامنے آگئے۔

    باغی ٹی وی: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی جانب سے اتوار کے روز جنگ بندی معاہدے کے تحت 3 اسرائیلی خواتین کو رہا گیا تھا جن کے بدلے اسرائیل نے 90 فلسطینی خواتین اور بچوں کو رہا کیا تھاحماس کی جانب سے رہا کی جانے والی خواتین میں 24 سالہ رومی گونین، 28 سالہ ایملی دماری اور 31 سالہ ڈورون اسٹائن بریچر شامل تھیں۔

    اسرائیلی میڈیا کی جانب سے اب ان خواتین قیدیوں کے ابتدائی بیانات کے کچھ حصے جاری کیے گئے ہیں اسرائیلی میڈیا کے مطابق رہا ہونے والی قیدیوں کے بیانات کے وہ حصے نشر کیے گئے ہیں جن کو نشر کرنے کی حکومت کی جانب سے اجازت دی گئی ہے۔

    ترکیہ کے ایک ہوٹل میں خوفناک آتشزدگی،10 افراد ہلاک

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق رہا ہونے والی خواتین نے بتایا کہ انہیں رہا کیے جانے سے چند گھنٹے قبل ہی رہائی کے بارے میں بتایا گیا تھا انہیں قید میں اکیلے نہیں رکھا گیا اور انہیں غزہ میں مختلف مقامات پر منتقل کیا جاتا رہا تھاانہیں 15 ماہ کی قید کے دوران زیادہ عرصہ زیر زمین ہی رکھا گیا، ان کا کہنا تھا قید کے دوران انہیں ضرورت پڑنے پر ادویات بھی فراہم کی گئیں انہیں وقتاً فوقتاً ٹی وی اور ریڈیو کی خبروں تک بھی رسائی دی گئی اور انہوں نے اپنی رہائی کے لیے ہونے والے مظاہروں کی خبریں بھی دیکھیں۔

    مراکش کشتی حادثہ : انٹر پول نے 15 انسانی سمگلرز کیخلاف ریڈ نوٹسز جاری کردیئے

    واضح رہے کہ غزہ میں 19 جنوری سے جنگ بندی کے پہلے مرحلے کا آغاز ہوگیا ہے جس میں حماس کی جانب سے مجموعی طور پر 30 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا جبکہ اسرائیل تقریباً 2 ہزار فلسطینیوں کو رہا کرے گا۔

  • جنگ بندی،اسرائیل نے90 فلسطینی قیدی رہا کر دیئے

    جنگ بندی،اسرائیل نے90 فلسطینی قیدی رہا کر دیئے

    غزہ میں 15 ماہ سے جاری اسرائیلی جارحیت کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پایا ہے، جس کے بعد دونوں طرف کی میڈیا رپورٹس نے مختلف پہلوؤں پر تبصرہ کیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے حماس کی 20 بٹالینز کو مکمل طور پر ختم کرنے کا دعویٰ کیا، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ بٹالینز کس حد تک تباہ ہوئیں۔ دوسری جانب فلسطینی اور حماس کے میڈیا نے جنگ بندی کو حماس کی فتح کے طور پر پیش کیا ہے اور غزہ میں حماس کے کنٹرول کے قیام کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔حماس کے عسکری ونگ "القسام بریگیڈ” کے ترجمان ابو عبیدہ نے جنگ بندی معاہدے پر اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس اس معاہدے کا احترام کرنے کے لیے پُرعزم ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کی کامیابی کا انحصار اسرائیل کے عمل پر ہے۔ ابو عبیدہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی معاہدے کا احترام کرے، کیونکہ اسرائیل کی طرف سے کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پورے معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ غزہ پر اسرائیلی قبضہ تمام برائیوں کی جڑ ہے اور حماس اس قبضے کو ختم کرنے کے لیے اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ مزاحمت جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق، غزہ پر اسرائیل کا قبضہ ہی فلسطینی عوام کی مشکلات کی وجہ ہے، اور حماس اس قبضے کے خاتمے کے لیے مسلسل جدوجہد کرے گی۔

    قیدیوں کا تبادلہ: حماس اور اسرائیل کے اقدامات
    جنگ بندی کے تحت دونوں فریقوں نے قیدیوں کا تبادلہ کیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، حماس نے 3 اسرائیلی خواتین قیدیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کیا، جنہیں اسرائیلی فوج کے خصوصی یونٹ تک پہنچایا گیا اور پھر اسرائیلی فوجی اسپتال میں منتقل کیا گیا۔ اس کے بعد اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنے جیلوں سے 90 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا، جن میں 69 خواتین اور 21 بچے شامل تھے۔یہ قیدی اسرائیلی جیلوں میں طویل عرصے سے قید تھے، اور ان کی رہائی کے بعد مغربی کنارے میں ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں کا قافلہ دو بسوں میں مغربی کنارے کے شہر بیتونیہ پہنچا، جہاں ان کا فلسطینی عوام کی جانب سے استقبال کیا گیا۔ ایک فلسطینی طالبہ نے جو ان قیدیوں میں شامل تھی، بتایا کہ اسرائیلی حراست کے دوران انہیں خوراک اور پانی کی کمی کا سامنا تھا، اور حالات انتہائی خوفناک تھے۔حماس نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ قیدیوں کا اگلا تبادلہ 25 جنوری کو ہوگا، جس میں غزہ سے 4 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی جائے گی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اس تبادلے میں حماس سے رہائی پانے والے 4 اسرائیلی یرغمالی ہوں گے۔

    جنگ بندی کے بعد اسرائیلی میڈیا نے غزہ کی صورتحال پر اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ حماس کے کارکن سڑکوں پر دوبارہ سرگرم نظر آ رہے ہیں، اور یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ حماس نے غزہ میں اپنا کنٹرول دوبارہ قائم کر لیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ حماس کی پولیس دوبارہ منظم ہو رہی ہے اور غزہ کا انتظام سنبھال رہی ہے۔ غزہ میں امن و امان کی بحالی میں حماس کی پولیس آگے نظر آ رہی ہے۔اسرائیلی میڈیا نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ حماس نے غزہ میں سرنگوں سے نکل کر اپنی موجودگی کو دوبارہ ظاہر کیا ہے، اور اس کی مزاحمتی فورسز ٹرکوں میں گشت کرتی نظر آ رہی ہیں۔ اسرائیلی اخبار نے کہا کہ فلسطینی میڈیا جنگ بندی کو حماس کی فتح کے طور پر پیش کر رہا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حماس نے غزہ پر اپنے کنٹرول کو برقرار رکھنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔اسرائیل نے اپنی جنگی حکمت عملی میں دعویٰ کیا کہ اس نے حماس کی 20 بٹالینز کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ تاہم اسرائیلی میڈیا نے واضح کیا کہ یہ بٹالینز تباہ نہیں ہوئیں بلکہ ان کے آپریشنل اثرات کو کم کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود، حماس نے غزہ میں اپنی حکمت عملی کو برقرار رکھا ہے اور جنگ بندی کے دوران بھی غزہ کے انتظام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔حماس کی مزاحمتی فورسز اب بھی غزہ کے مختلف علاقوں میں گشت کرتی نظر آ رہی ہیں اور اس کا عزم ظاہر کر رہی ہیں کہ وہ اسرائیل کی جارحیت کے خلاف مزاحمت جاری رکھیں گے۔

    غزہ پر اسرائیل کی جارحیت گزشتہ 15 ماہ سے جاری تھی جس میں ہزاروں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے۔ فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق، اسرائیل کی کارروائیوں میں 47,899 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بچے اور خواتین شامل ہیں۔ ایک لاکھ 10 ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں اور ہزاروں افراد لاپتا ہیں۔ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی اور شہری انفراسٹرکچر بھی شدید متاثر ہوا۔ جنگ بندی معاہدہ اس طویل اور تباہ کن جنگ کا خاتمہ کرنے کی کوشش ہے، لیکن اس کی کامیابی کا دارومدار دونوں طرف کی سیاسی اور عسکری حکمت عملیوں پر ہے۔

    غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ایک اہم موڑ ہے، لیکن اس کے بعد کی صورتحال پیچیدہ اور غیر یقینی نظر آ رہی ہے۔ حماس نے اپنی مزاحمت اور غزہ پر کنٹرول کو دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے حماس کی عسکری طاقت کو کمزور کیا ہے۔ دونوں فریقوں کی جانب سے اپنے موقف اور اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ جنگ بندی معاہدہ پائیدار امن کا باعث بنے گا یا نہیں۔

  • جنگ بندی معاہدہ، 3 اسرائیلی خواتین قیدی ریڈ کراس کے حوالے

    جنگ بندی معاہدہ، 3 اسرائیلی خواتین قیدی ریڈ کراس کے حوالے

    فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کے تحت 3 اسرائیلی خواتین قیدیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کردیا گیا۔

    قبل ازیں حماس کی جانب سےآج رہا کیے جانے والی 3 اسرائیلی خواتین قیدیوں کے نام جاری کیے گئے تھے۔ریڈ کراس کی ٹیم اسرائیلی خواتین کو غزہ میں اسرائیل کے خصوصی فوجی یونٹ پہنچائےگی جہاں سے انہیں اسرائیلی فوجی اسپتال لے جایا جائےگا۔فوجی اسپتال میں ان کا ابتدائی طبی معائنہ ہوگاجس کے بعد ہونے والی اسرائیلی خواتین کو اسپتال پہنچا دیا جائے گا، یہ خواتین اسپتال میں ہی اپنے اہلخانہ سے ملاقات کریں گی۔عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے سے معاہدے کے تحت آج رہا کیے جانے والے 90 فلسطینی قیدیوں کے نام جاری کردیے گئے ہیں۔ آج رہا کیے جانے والے فلسطینی قیدیوں میں 69 خواتین اور 21 بچے شامل ہیں۔

    قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق معاہدے کے تحت رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں کے استقبال کے لیے ریڈ کراس کا ایک وفد سخت سیکیورٹی کے درمیان اوفر جیل میں موجود ہے۔غزہ میں قید 3 اسرائیلی قیدیوں کے بدلے 90 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، آج رہا کیے جانے والے فلسطینی قیدیوں میں 69 خواتین اور 21 بچے شامل ہیں، اسرائیل کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کیا جائے گا۔اس سے قبل، فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کی جانب سے ٹیلی گرام پر ایک ’پوسٹ‘ میں کہا کہ حماس نے غزہ میں جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے پہلے دن رہا کیے جانے والے 3 اسرائیلی قیدیوں کے نام جاری کر دیے ہیں۔

    حماس کے مسلح ونگ قاسم بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ کے مطابق قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت ہم نے 24 سالہ رومی گونن، 28 سالہ ایملی داماری اور 31 سالہ ڈورون شتنبر خیر کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔واضح رہے کہ اسرائیل اورحماس کے درمیان 6 ہفتوں پر محیط جنگ بندی کے ابتدائی مرحلے میں وسطی غزہ سے اسرائیلی افواج کا بتدریج انخلا اور بے گھر فلسطینیوں کی شمالی غزہ میں واپسی شامل ہے۔اس معاہدے کے تحت غزہ میں جنگ بندی کے بعد روزانہ 600 ٹرک انسانی امداد کی اجازت دی جائے گی، 50 ٹرک ایندھن لے کر جائیں گے جبکہ 300 ٹرک شمال کی جانب مختص کیے جائیں گے، جہاں شہریوں کے لیے حالات خاص طور پر سخت ہیں۔

    نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    یورو اسٹار کی اجارہ داری ختم ، 500 ملین پاؤنڈ کا تیز رفتار ٹرین منصوبہ منظرعام پر آ گیا

    کام نہیں کررہے کہنے والے تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں، مئیر کراچی

    وزیراعظم یوتھ پروگرام بیروزگاری کے خاتمے کا بڑا ذریعہ ہے،رانا مشہود خان

  • حماس یرغمالیوں کےنام جاری نہیں کر دیتی،غزہ میں جنگ بندی نہ کریں،اسرائیلی وزیراعظم کا فوج کو حکم

    حماس یرغمالیوں کےنام جاری نہیں کر دیتی،غزہ میں جنگ بندی نہ کریں،اسرائیلی وزیراعظم کا فوج کو حکم

    تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو حکم دیا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی نہ کرے جب تک کہ حماس یرغمالیوں کے نام جاری نہیں کر دیتی۔

    باغی ٹی وی: الجزیرہ عربی نے اپنی اپنی تازہ ترین اپ ڈیٹس میں رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہروں اور قصبوں میں چھاپہ مار کارروائیاں تیز کردیں،نابلس میں اسرائیلی فورسز نے متعدد علاقوں کے ساتھ ساتھ شرفی مارکیٹ میں واقع جامع مسجد پر بھی دھاوا بول دیا۔

    اسرائیلی فورسز نے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیاں کیں اور اس دوران فائرنگ بھی کی گئی لیکن کسی شخص کی گرفتاری یا زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی،تمون کے علاقے میں اسرائیلی افواج نے نئی فوجی چوکیاں بھی قائم کرلیں۔

    دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں لاہور ایک بار پھر پہلے نمبر پر

    الجزیرہ عربی نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے وسطی اور جنوبی غزہ پر حملے شروع کر دیئے، غزہ کی پٹی کے جنوب میں رفح کے شمالی اور مغربی علاقوں پر 4 چھاپے مارے گئےفلسطینی میڈیا نے وسطی شہر دیر البلاح کے ساتھ ساتھ خان یونس شہر کے قریب اباسان کے جنوبی قصبے میں ایک گودام پر اسرائیلی فضائی حملے کی بھی اطلاع دی، جانی نقصان کے بارے میں فوری طور پر کو ئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

    دوسری جانب سے کچھ دیر قبل روئٹرز نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فورسز نے رفح کے علاقوں سے انخلا شروع کردیااسرائیلی افواج نے رفح کے علاقوں سے مصر اور غزہ کی سرحد کے ساتھ واقع فلاڈیلفی کوریڈور کی طرف انخلا شروع کر دیا ہےاسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی نہ کرے جب تک کہ حماس یرغمالیوں کے نام جاری نہیں کر دیتی۔

    امریکا میں ٹک ٹاک بند،ایپل اور گوگل ایپ اسٹورز سے ہٹا دیا گیا

    وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے آئی ڈی ایف کو ہدایت کی ہے کہ جنگ بندی جو کہ مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بج کر 30 منٹ پر نافذ ہونی ہے، اس وقت تک نہیں ہو گی جب تک کہ اسرائیل کو رہائی پانے والوں کی فہرست نہیں مل جاتی جو حماس نے فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

    دوسری جانب حماس نے معاملے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ یرغمالیوں کی فہرست میں تاخیر کی وجہ تکنیکی مسائل ہیں، اسرائیلی میڈیا کے مطابق حماس نے اب تک 3 اسرائیلی یرغمالی خواتین کی فہرست جاری نہیں کی، غزہ میں جنگ بندی کا طے شدہ وقت گزرگیا۔

    القادر ٹرسٹ کیس:عمران خان اوراہلیہ بشریٰ بی بی کی اپیل تیار کرلی گئی

    واضح رہے کہ 15 ماہ سے جاری اسرائیلی جارحیت کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ آج سے نافذ ہو گا، جس سے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی رکنے کی امید پیدا ہو گئی ہے اسرائیل کابینہ نے جنگ بندی معاہدے کی توثیق کے بعد غزہ میں اس بات کی تصدیق کر دی کہ معاہدہ مکمل طور پر عمل میں آئے گا۔

    اسرائیلی وزیراعظم آفس نے بتایا کہ حکومت نے یرغمالیوں کی واپسی کے منصوبے کی منظوری بھی دے دی ہے، اور اس بات کی تصدیق کی کہ اسرائیل اپنے ثابت قدم مؤقف کی بدولت امن کے متلاشی فلسطینیوں کی نسل کشی کو روکنے کے قریب پہنچ چکا ہے۔

    غزہ معاہدہ : 6ہفتوں کی جنگ بندی پر عمل درآمد 3 مراحل میں کیا جائے گا،قطری وزیر اعظم

    جنگ بندی معاہدے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ ہم نے مشرقِ وسطیٰ کا چہرہ بدل دیا ہے۔ ہمارے بہن، بھائی اپنے گھروں کو واپس آ رہے ہیں، اور ان میں سے اکثریت زندہ ہے، یہ سب اسرائیل کے ثابت قدم مؤقف کے سبب ممکن ہوا ہے۔

    نیتن یاہو نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جنگ بندی معاہدے پر عمل اس وقت تک نہیں کیا جائے گا جب تک یرغمالیوں کی فہرست کی مکمل معلومات اسرائیل کے حوالے نہیں کی جاتیں اسرائیل کو 33 یرغمالیوں کی فہرست موصول ہونے تک معاہدہ آگے نہیں بڑھے گا۔

    فلسطینی طلبا کی فیسیں معاف ،وظیفے دینے کا اعلان

    انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو اسرائیل لڑائی دوبارہ شروع کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہےیہ جنگ بندی معاہدہ فلسطین میں کئی ماہ سے جاری خونریزی کے خاتمے کی ایک اہم کوشش ہے، جس سے نہ صرف اسرائیل بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے حوا لے سے بھی نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں-

  • غزہ معاہدہ : 6ہفتوں کی جنگ بندی پر عمل درآمد 3 مراحل میں کیا جائے گا،قطری وزیر اعظم

    غزہ معاہدہ : 6ہفتوں کی جنگ بندی پر عمل درآمد 3 مراحل میں کیا جائے گا،قطری وزیر اعظم

    دوحہ: قطری وزیر اعظم نے غزہ جنگ بندی معاہدہ طے پانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کااطلاق آج 19 جنوری سے ہوگا-

    باغی ٹی وی : 6ہفتوں کی جنگ بندی پر عمل درآمد 3 مراحل میں کیا جائے گا،مرحلہ وار سویلین قیدیوں کا تبادلہ اور جنگ کے خاتمے پر مذاکرات ہوں گے دوسرے مرحلے میں اسرائیلی فورس کے قیدی حماس رہا کرے گی اور غزہ کے عوامی مقامات سے اسرائیلی فوج کا انخلا ہوگاتیسرے مرحلے میں اسرائیلی فورسز کا غزہ سے مکمل انخلا اور غزہ کی تعمیر نو پر کام کیا جائے گا۔

    قطری وزیر اعظم محمد بن عبد الرحمان بن جاسم الثانی نے کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدہ کروانے کے لیے قطر، مصر اور امریکا کی کوششیں کامیاب ہوگئی ہیں، جنگ بندی کااطلاق19 جنوری سے ہوگا، حماس اور اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے مراحل پر عمل درآمد کے حوالے سے کام جاری ہے۔

    شدید دھند ، موٹرویز کئی مقامات سے ٹریفک کیلئے بند

    قطری وزیر اعظم محمد بن عبد الرحمان بن جاسم الثانی نے جنگ بندی جنگ کے آغاز تک غزہ میں قیام امن پر زور دیا ہے کہا کہ معاہدہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا باعث بنے گا، یہ معاہدہ غزہ کے لیے انسانی امداد میں اضافے کا بھی باعث بنے گاہم غزہ میں اپنے بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔توقع ہے کہ معاہدہ اتوار سے نافذ العمل ہو جائے گا،وقت کا اعلان بعد میں ہوگا۔

    انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے پہلے مرحلے میں اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی ہوگی۔ معاہدے کے پہلے مرحلے میں بے گھر افراد کی گھروں کو واپسی شامل ہےپہلے مرحلے میں غزہ کی پٹی سے زخمیوں کو علاج کے لیے نکالنا بھی شامل ہے۔ ہم تمام فریقین پر اپنے وعدوں کو پورا کرنے پر زور دیتے ہیں۔

    پاک بحریہ سے کمبائنڈ ٹاسک فورس کی کمان رائل نیوزی لینڈ نیوی کو منتقل

    دوسری جانب حماس رہنما سامی ابو زہری نے غیر ملکی خبررساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے جنگ بندی معاہدے کو اہم کامیابی قرار دیا ہےانہوں نے کہا کہ یہ اس بات کا اظہار بھی ہے کہ اسرائیلی فوج اپنے کسی ہدف کو حاصل نہیں کرسکی۔

    حماس کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کا معاہدہ فلسطینی عوام کی عظمت اور غزہ میں مزاحمت کے بے مثال جذبے کا غماز ہے جو پچھلے 15 ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہے۔

    یو اے ای نے آن لائن ویزا سروس متعارف کروادی

    حماس نے قرار دیا کہ یہ معاہدہ فلسطینی عوام، ان کی مزاحمت، امت مسلمہ اور عالمی سطح پر آزادی پسندوں کی ایک مشترکہ کامیابی ہے اور یہ ہماری جدوجہد کے سفر میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے غزہ کے صابر اور شجاعت سے بھرپور عوام کی حمایت اور دفاع ہمارا فرض ہے، اسرائیلی جارحیت اور نسل کشی کو ختم کرنا اولین ترجیح ہے۔

    حماس نے غزہ کے مظلوموں کی حمایت اور یکجہتی کا اظہار کرنے پر دنیا بھر کے لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم اب سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے غزہ کے لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، ہمارے حق میں آواز بلند کی اور عالمی سطح پر اسرائیلی جارحیت کو بے نقاب کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

    مہنگےپیکج لینے والے عازمین کا حج سیکیورٹی کلیئرنس سے مشروط

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی کابینہ امن معاہدے کی منظوری آج دے گی۔

    غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی ممکنہ تفصیلات بھی سامنے آگئی ہیں۔

    عرب میڈیا کے مطابق غزہ جنگ بندی معاہدہ 3 مراحلے پر مشتمل ہوگا، معاہدے کا پہلا مرحلہ 6 ہفتوں پر مشتمل ہوگاپہلے مرحلے کے دوران اسرائیلی فوج غزہ کی سرحد کے اندر 700 میٹر تک خود کو محدود کرلے گی جنگ بندی کے اس مرحلے میں اسرائیل تقریباً 2000 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا جن میں عمر قید کے 250 قیدی بھی شامل ہوں گےاس مرحلے میں غزہ میں موجود 33 اسرائیلی مغویوں کو بھی رہا کیا جائے گا۔

    سیالکوٹ: تھانہ اگوکی پولیس کی کارروائی، منشیات فروش گرفتار

    پہلے مرحلے میں اسرائیل زخمیوں کو علاج کے لیے غزہ سے باہر سفر کی اجازت دے گااس مرحلے کے آغاز کے 7 روز بعد اسرائیل مصر کے ساتھ رفح کراسنگ کھول دے گااس دوران اسرائیلی فوج مصر کے ساتھ سرحد جسے فلاڈیلفی راہداری کہا جاتا ہے، سے پیچھے ہٹ جائے گی اور آئندہ مراحل میں اس علاقے سے واپس چلی جائے گی۔

    واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطین کے علاقے غزہ میں 15 ماہ سے جارحیت جاری ہے اور حملوں میں 46 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے جن میں بچوں اور عورتوں کی بڑی تعداد شامل ہے،اس دوران غزہ کی مکمل آبادی نقل مکانی پر مجبور ہوئی اور ہزاروں افراد زخمی بھی ہوئے۔

    پی ٹی آئی کا کور کمیٹی کا اجلاس آج رات 10 بجے طلب

  • قابض افواج کبھی بھی ہمارے عوام اور مزاحمت کو شکست نہیں دے سکتی،ڈاکٹر خلیل الحیہ

    قابض افواج کبھی بھی ہمارے عوام اور مزاحمت کو شکست نہیں دے سکتی،ڈاکٹر خلیل الحیہ

    قطر: غزہ میں حماس اور مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر خلیل الحیہ نے جنگ بندی معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم تمام مزاحمتی گروپس کے مجاہدین کو سلام پیش کرتے ہیں، خاص طور پر القدس بریگیڈ کے مجاہدین کو جو اسلامی جہاد کی صف اول کے ساتھی ہیں۔

    باغی ٹی وی : قطر کے دارالحکومت دوحہ میں وزیر اعظم محمد بن عبد الرحمان بن جاسم الثانی نے غزہ جنگ بندی معاہدہ طے پانے کا اعلا ن کیا اور کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدہ کروانے کے لیے قطر، مصر اور امریکا کی کوششیں کامیاب ہوگئی ہیں،جنگ بندی کا اطلاق19 جنور ی سے ہوگا، حماس اور اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے مراحل پر عمل درآمد کے حوالے سے کام جاری ہے۔

    جنگ بندی معاہدے کے اعلان کے بعد غزہ میں حماس اور مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر خلیل الحیہ نے اپنے تفصیلی بیان میں کہا کہ اس تاریخی لمحے میں، جو ہمارے عوام کی جدو جہد اور مسلسل صبر کا نتیجہ ہے جو دہائیوں سے جاری ہے اور جس کے بعد ایک نیا دور شروع ہوگا ، ہم غزہ کے عظیم عوام کو فخر اور عظمت کے تمام الفاظ پیش کرتے ہیں۔

    کراچی: فائرنگ کے مختلف واقعات میں دو افراد زخمی

    انہوں نے کہا کہ اے اہل غزہ، اے عظمت کے حامل لوگو، اے شہداء، زخمیوں، اسیران اور مفقودین کے اہل خانہ، جنہوں نے وعدہ سچ ثابت کیا، صبر کیا، اور وہ تکالیف برداشت کیں جن کا کسی نے بھی پہلے سامنا نہ کیا اور آپ نے وہ سب کچھ جھیلا جو کسی اور نے نہ جھیلا۔ آپ صبر کے ہر موقع پر ثابت قدم رہے، جہاد کے میدان میں لڑے اور اللہ کے حکم سے عظیم ترین عزت حاصل کی۔

    ڈاکٹر خلیل الحیہ کا کہنا تھا کہ خوشی ہے کہ آپ کے عزم، جدو جہد، صبر، قربانیوں اور آپ کی بے شمار خدمات کا صلہ ملے گا، ہم اس لمحے میں عظیم شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، جن میں بچے، خواتین، بزرگ، علماء، مجاہدین، ڈاکٹرز، صحافی، دفاعی اہلکار، حکومت اور پولیس کے ارکان، اور قبائلی افراد شامل ہیں ہم ان تمام افراد کو سلام پیش کرتے ہیں جو اس عظیم اور مقدس لڑائی میں شریک ہوئے اور ان کو خاص طور پر سلام پیش کرتے ہیں جو ان کے بعد عہد پر ثابت قدم رہے اور اس راہ کو جاری رکھا اور اس پرچم کو ان کے بعد اٹھایا۔

    غزہ میں حماس اور مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ ہم ان عظیم شہداء کے ساتھ کھڑے ہیں جن کے جسموں کے ٹکڑے اس معرکہ میں بکھر گئے، جیسے شہید اسماعیل ہنیہ ابو العبد، شہید یحییٰ السنوار ابو ابراہیم، شہید صالح العاروری ابو محمد، اور غزہ میں تحریک کی سیاسی و فوجی قیادت کے دیگر ارکان،ہم تمام مزاحمتی اور مجاہدانہ فصائل کے شہداء کے سامنے بھی احترام سے سر جھکاتے ہیں اور ان سے اور ہمارے عوام سے کہتے ہیں کہ ہمارے قائدین اور شہداء کی تجارت اللہ کے ساتھ ہے، یہ تجارت کبھی ضائع نہیں ہوگی ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یا تو فتح پائیں گے یا شہادت کی دولت سے نوازے جائیں گے، ان شاء اللہ۔

    خیبر پختونخوا میں امن وامان اور حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، مولانا فضل الرحمٰن

    ڈاکٹر خلیل الحیہ کا کہنا تھا کہ طوفان الاقصیٰ کی جنگ ہمارے مسئلے اور ہمارے عوام کی مزاحمت کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی ہے اور اس جنگ کے اثرات کا تسلسل جاری رہے گا، یہ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی نہیں رکے گی7 اکتوبر کو جو معجزہ اور عسکری و سکیورٹی کامیابی عمل میں آئی تھی، جو کہ حماس کی القسام بریگیڈ کے منتخب دستوں نے انجام دی، وہ ہمارے عوام اور ہماری مزاحمت کے لیے ہمیشہ فخر کا باعث رہے گی، جو نسل در نسل منتقل ہوگی، یہ حملہ دشمن کے لیے کاری ضرب ثابت ہوا اور یہ قابض دشمن عنقریب ہمارے وطن، قدس اور ہمارے مقدس مقامات سے رخصت ہو جائے گا، ان شاء اللہ۔

    انہوں نے کہا کہ قابض افواج اور ان کے حامیوں کی طرف سے کی گئی وحشیانہ نسل کشی، نازی جنگی جرائم اور انسانیت دشمن اقدامات، جو 467 دنوں تک جاری رہے، ہمیشہ ہمارے عوام اور دنیا کی یادوں میں محفوظ رہیں گے یہ جدید دور کی سب سے بھیانک نسل کشی ہوگی، جس میں تکالیف، اذیتیں اور مصائب کے تمام رنگ شامل تھےنسل کشی کی جنگ کے وہ فصول ہمیشہ انسانیت کے ماتھے پر ایک دھبہ بن کر رہیں گے اور دنیا کے خاموش اور کمزور کردار کی علامت ہوں گے ہمارے عوام کبھی نہیں بھولیں گے کہ کس نے اس نسل کشی میں حصہ لیا، چاہے وہ سیاسی اور میڈیا سطح پر اس کے لیے پردہ ڈالنے والے ہوں، یا وہ جنہوں نے ہزاروں ٹن بموں اور بارودی مواد کو غزہ کے معصوم عوام پر گرا دیا ہم یہ بات یقین سے کہتے ہیں کہ یہ تمام مجرم اپنے کیے کی سزا پائیں گے، چاہے اس میں وقت لگے۔

    شدید دھند ، موٹرویز کئی مقامات سے ٹریفک کیلئے بند

    ڈاکٹر خلیل الحیہ کا کہنا تھا کہ یتیموں، بچوں، بیواؤں، تباہ حال گھروں کے مالکان، شہداء، زخمیوں اور غمزدہ افراد کے نام پر اور ہر اس فرد کی طرف سے جس کا خون بہا، یا جس کی آنکھوں سے آنسو بہے،ہم ان کی طرف سے یہ کہتے ہیں کہ ہم نہ بھولیں گے، نہ معاف کریں گے ، ہاں، ہم نہ بھولیں گے، نہ معاف کریں گے،قابض افواج نے حملے کے آغاز سے ہی کئی اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی، کچھ کو کھلے عام بیان کیا اور کچھ کو چھپایا۔ انہوں نے صاف طور پر کہا کہ ان کا مقصد مزاحمت کا خاتمہ، حماس کا صفایا، اور اسیران کو فوجی طاقت سے بازیاب کرنا تھا، اور علاقے کی شکل بدلنا تھا-

    غزہ میں حماس اور مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ ان کا چھپا ہوا مقصد فلسطینی مسئلہ ختم کرنا، غزہ کو تباہ کرنا، غزہ کے عوام سے انتقام لینا، اور ہمارے عوام کی آزادی کی خواہش کو مٹا دینا تھا، ساتھ ہی 7 اکتوبر کی جرات مندانہ کامیابی کے اثرات کو ختم کرنا تھا تاہم، قابض افواج کو ہمارے عوام کی پختہ عزم اور اپنی سرزمین سے محبت کا سامنا کرنا پڑا اور وہ اپنے کسی بھی اعلان شدہ یا پوشیدہ مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہے ہمارے عوام نے اپنی سرزمین پر ڈٹے رہ کر ثابت کر دیا کہ وہ نہ ہجرت کریں گے، نہ پیچھے ہٹیں گے اور انہوں نے مزاحمت کا مضبوط ترین حصار بن کر دشمن کا مقابلہ کیا۔

    اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہئے، حافظ نعیم الرحمان

    ڈاکٹر خلیل الحیہ نے کہا کہ ہمارے مجاہدین، خاص طور پر القسام بریگیڈ کے بہادر سپاہیوں نے، جنہوں نے اپنی جرات مندانہ کارروائیوں اور بے مثال بہادری سے دنیا کو حیران کن حد تک متاثر کیا، اس جنگ کے آخری لمحے تک محاذ پر ڈٹے رہے انہوں نے اپنے عزم و حوصلے سے دفاع و حملے کے دوران بے مثال کارنامے انجام دیے، جیسے بارودی سرنگیں نصب کرنا، گولہ بارود فائر کرنا، گھات لگانا، اور صفر نقطے سے لڑنا، اور دشمن پر اتنا اثر ڈالا کہ قابض افواج کے جنگی آلات جل کر تباہ ہوگئے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم تمام مزاحمتی گروپس کے مجاہدین کو سلام پیش کرتے ہیں، خاص طور پر القدس بریگیڈ کے مجاہدین کو جو اسلامی جہاد کی صف اول کے ساتھی ہیں۔ انہوں نے آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں اور اپنے وطن و عوام کے دفاع میں عظیم مثال قائم کی ہم آج یہ ثابت کرتے ہیں کہ قابض افواج کبھی بھی ہمارے عوام اور مزاحمت کو شکست نہیں دے سکتی، اللہ کی مدد سے، جو اس نے ہمیں عطا کی ہے۔ قابض افواج نے ہمارے عوام کے خلاف جو تباہی، خونریزی اور قتل عام کیا، وہ صرف ایک بات کی تصدیق کرتا ہے کہ انہوں نے ہمارے اسیران کو بھی مزاحمت کے ساتھ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے ذریعے واپس لیا۔

    منڈی بہاءالدین: شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد

    غزہ میں حماس کے سربراہ و مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر خلیل الحیہ کا کہنا تھا کہ ہم خاص طور پر لبنان کے عزیز بھائیوں کا ذکر کرتے ہیں، خاص طور پر حزب اللہ کے مجاہدین، جنہوں نے القدس کی آزادی کے لیے سیکڑوں شہداء دیئے، اور ان کی قیادت، جن کی سرپرستی میں یہ کارنامے انجام پائے، جن میں سید حسن نصر اللہ اور ان کے ساتھی شامل ہیں۔ہم اسلامی جماعتوں کے بھائیوں کی مدد کو بھی یاد کرتے ہیں اور لبنان کے عوام کی عظیم مزاحمت اور قربانیوں کا ذکر کرتے ہیں، جنہوں نے ہمارے فلسطینی عوام کے دفاع میں بڑی ثابت قدمی دکھائی اور انہیں بے شمار مشکلات میں معاونت فراہم کی انہوں نے قابض افواج کی زندگی کو عذاب اور بربادی میں بدل دیا، اور اس میں اسلامی اور عربی بھائی چارے کی حقیقی مثال پیش کی۔

    انہوں نے کہا کہ ہم یمن کے بھائیوں، انصار اللہ، کو بھی یاد کرتے ہیں، جو جغرافیائی فاصلے کو عبور کر کے جنگ کے میدان میں نئی حقیقتیں لائے اور قابض دشمن کے قلب پر میزائل اور ڈرون حملے کر کے اسے بحیرہ احمر میں محصور کر دیا۔ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے بھائیوں کا بھی شکر ادا کرتے ہیں، جنہوں نے ہماری مزاحمت اور عوام کی مدد کی، جنگ میں حصہ لیا اور "وعدہ صادق” (1) اور (2) آپریشنز میں دشمن کے قلب کو نشانہ بنایا، نیز عراقی مزاحمت نے تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے فلسطین اور اس کی مزاحمت کی مدد کی اور اس کی میزائلیں اور ڈرونز ہمارے مقبوضہ علاقوں تک پہنچ گئے۔

    کراچی: فائرنگ کے مختلف واقعات میں دو افراد زخمی

    ڈاکٹر خلیل الحیہ نے کہا کہ ہم ان تمام ممالک کو بھی یاد کرتے ہیں جو مختلف میدانوں میں ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے: جیسے ترکیہ، جنوبی افریقا، الجزائر، روس، چین، ملیشیا، انڈونیشیا، بیلجیئم، اسپین، آئرلینڈ اور دنیا کے تمام باضمیر انسان، ہم اُن تمام افراد کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہماری حمایت قلم، تصویر، مظاہروں، بائیکاٹ کے ہتھیار اور سیاسی، سفارتی اور قانونی جدوجہد کے ذریعے کی ان تمام باضمیر انسانوں کا شکریہ جو خاموشی کی سازش کو توڑتے ہوئے قابض دشمن کی انسانیت سوز جرائم کو بے نقاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے۔

    انہوں نے کہا کہ آج ہم ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، یہ تعمیر، دلجوئی اور غزہ کی تعمیر نو کا مرحلہ ہے۔ یہ یکجہتی اور ہم دردی کا مرحلہ ہے، جس کے ذریعے ہم دنیا کو بتائیں گے کہ ہم ایک آزاد قوم ہیں، جو تعمیر کرتی ہے، تخریب نہیں۔ ہم وہ سب کچھ دوبارہ تعمیر کریں گے جو قابض افواج نے برباد کیا ہے۔

    جنگ بندی معاہدہ:اسرائیل نے95 فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کردی

    ڈاکٹر خلیل الحیہ کا کہنا تھا کہ اے اہلِ غزہ، جس طرح آپ جنگ میں مردانگی اور جرات کا مظاہرہ کر چکے ہیں، اسی طرح جنگ کے بعد بھی اپنے عظیم کردار کو جاری رکھیں گے۔ ہم ایک دوسرے پر رحم کریں گے اور متحد رہیں گے۔ بے شک، جو دکھ اور تکلیف ہم نے جھیلی ہے، وہ بہت بڑی ہے، لیکن اس قوم کی عظمت اور اس کے اخلاق اس سے بھی زیادہ عظیم ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم اللہ کے فضل سے اور اپنے بھائیوں، دوستوں، اور ہمدردوں کی مدد سے غزہ کو دوبارہ تعمیر کرنے کے قابل ہیں ہم اپنے زخموں پر مرہم رکھیں گے، یتیموں کے سروں پر دستِ شفقت رکھیں گے، غم زدہ دلوں کے آنسو پونچھیں گے، اور ان لبوں پر مسکراہٹیں واپس لائیں گے جنہیں جنگ نے چھین لیا تھا۔ ہمارے بہادر قیدی بھی آزادی کے ایک روشن صبح کے منتظر ہیں، ان شاء اللہ۔

    چیمپئنز ٹرافی:بھارت نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا

  • غزہ جنگ بندی معاہدے کے اہم نکات سامنے آ گئے

    غزہ جنگ بندی معاہدے کے اہم نکات سامنے آ گئے

    غزہ میں فریق قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں اور فریقین نے مستقل جنگ بندی کی امید پر معاہدے کیا ہے۔

    رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور حماس کے معاہدے میں 6 ہفتوں کی ابتدائی جنگ بندی کا خاکہ پیش کیا تھا، اس کے تحت وسطی غزہ سے اسرائیلی افواج کا بتدریج انخلا اور شمالی غزہ میں بے گھر فلسطینیوں کی واپسی شامل ہے۔معاہدے کے تحت حماس تمام خواتین (فوجی اور عام شہری) بچوں، اور 50 سال سے زیادہ عمر کے 33 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے گی۔معاہدے کے تحت غزہ میں ہر روز انسانی امداد کے 600 ٹرکس کی اجازت دی جائے گی، ان میں سے 50 ایندھن لے کر جائیں گے اور 300 ٹرک شمال کے لیے مختص کیے جائیں گے۔

    معاہدے کے مطابق اسرائیل ہر یرغمال شہری کے بدلے 30 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا اور ہر اسرائیلی خاتون فوجی کی رہائی کے بدلے 50 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔حماس 6 ہفتوں کے دوران یرغمالیوں کو رہا کرے گی، اس دوران ہر ہفتے 3 یرغمالی رہا کیا جائیں گے اور بچ جانے والی یرغمالی اس مدت کے اختتام سے پہلے چھوڑ دیے جائیں گے۔تمام زندہ یرغمالیوں کو پہلے رہا کیا جائے گا اور اس کے بعد مردہ یرغمالیوں کی باقیات حوالے کردی جائیں گی۔معاہدے پر عمل درآمد کی ضمانت قطر، مصر اور امریکا دیں گے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا تھا کہ غزہ معاہدے کے حوالے سے گیند حماس کے کورٹ میں ہے۔واشنگٹن میں اٹلانٹک کونسل کے تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے انٹونی بلنکن نے کہا تھا کہ ایران کی حمایت یافتہ عسکری تنظیم حزب اللہ سب کچھ گنوانے کے بعد ماضی کا قصہ بن چکی ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ حزب اللہ کے خاتمے کے بعد ایران کی اہم سپلائی لائن تباہ ہوگئی، خطے میں امن، استحکام کے لیے ایران کو سبق سکھانے کی ضرورت ہے۔امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی پر مہر لگانا حماس پر منحصر ہے جب کہ حتمی تجویز قطر میں مذاکرات کی میز پر ہے، گیند اب حماس کے کورٹ میں ہے۔

    کراچی کیلیے بجلی کی قیمت میں کمی کا امکان

    جنوبی افریقہ کو جھٹکا، فاسٹ بولر اینرچ نورکیا چیمپئنز ٹرافی سے باہر

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ

    حماس نے جنگ بندی معاہدے کی منظوری دیدی

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو پہلا جھٹکا، کوچ نےمعذرت کر لی

  • حماس  نے جنگ بندی معاہدے کی منظوری دیدی

    حماس نے جنگ بندی معاہدے کی منظوری دیدی

    حماس نے عرب میڈیا کو بتایا ہے کہ اس نے جنگ بندی کی تجویز کو منظور کر لیا ہے۔

    فلسطینی گروپ حماس نے عرب میڈیا کو بتایا کہ خلیل الحیا کی قیادت میں ایک وفد نے حماس کی مجوزہ جنگ بندی اور قیدیوں کے معاہدے کی منظوری قطر اور مصر کے ثالثوں کے حوالے کردی ہے۔دوسری جانب اسرائیلی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت جمعرات کوغزہ جنگ بندی معاہدے پر ووٹنگ کر سکتی ہے۔اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈون سار نے کہا کہ وہ اپنا دورہ یورپ مختصر کر رہے ہیں تاکہ وہ غزہ کے قیدیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے معاہدے پر سکیورٹی کابینہ اور حکومتی ووٹنگ میں حصہ لے سکیں۔ادھر فلسطینی سول ڈیفنس نے رہائشیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کے ان علاقوں سے دور رہیں جہاں اسرائیلی فوج موجود ہے جب تک کہ ممکنہ جنگ بندی کی تفصیلات معلوم نہیں ہو جاتیں اور اس پر عمل درآمد نہیں ہو جاتا۔

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو پہلا جھٹکا، کوچ نےمعذرت کر لی

    پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں اینٹی ریپ ایکٹ آگاہی اور ٹریننگ سیمینار

    بیورو کریٹس وائس چانسلر ،سندھ کی سرکاری جامعات میں ہڑتال کا اعلان

    2024 میں بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں میں نمایاں کمی

  • اسرائیل نے یحیٰی سنوار کی لاش حماس کے حوالے کرنے سے انکار کردیا

    اسرائیل نے یحیٰی سنوار کی لاش حماس کے حوالے کرنے سے انکار کردیا

    حماس نے جنگ بندی مسودہ قبول کرتے ہوئے جنگ بندی کے معاہدے کی باضابطہ منظوری دے دی-

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل پہلے مرحلے میں 33 یرغمالیوں کے بدلے ایک ہزار فلسطینیوں کو رہا کرے گا، تاہم اسرائیل نے یحیٰی سنوار کی لاش حوالے کرنے سے انکار کردیا ہے قطری وزارت خارجہ کے مطابق غزہ میں 24 گھنٹوں میں جنگ بندی کی امید ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق حماس نے جنگ بندی معاہدے کی باضابطہ منظوری دیدی ہے، حماس کی منظوری کے بعد اب دستخط کا عمل شروع ہو جائے گا، جنگ بندی جمعرات کو ہونے کا امکان ہے۔

    اپوزیشن سیاست کررہی ہے، عوامی مسائل پرتوجہ نہیں دے رہی، ایازصادق

    قبل ازیں اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان جاری مذاکرات میں شامل 2 عہدیداروں نے منگل کو امریکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ حماس نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی اور درجنوں مغویوں کی رہائی کے معاہدے کے مسودے کو قبول کر لیا ہے۔

    مذاکرات کے ثالثوں میں شامل قطر نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند گروپ معاہدے کو منظور کرنے کے اب تک کے قریب ترین مقام پر ہیں،معاہدہ فریقین کو 15 ماہ سے جاری تباہ کن جنگ کے خاتمے کے ایک قدم قریب لے آئے گا۔

    ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اور سینٹرزکےگوشوارے جمع کرانےکی ڈیڈلائن ختم

    دوسری طرف ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ پیش رفت ہوچکی ہے، تاہم تفصیلات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے تین مرحلوں پر مشتمل اس جنگ بندی اور یرغمالوں کی رہائی کے منصوبے کو حتمی منظوری کیلئے اسرائیلی کابینہ میں پیش کرنا ہوگا۔

    رپورٹ کے مطابق غزہ کے اندر تقریباً 100 یرغمالی اب بھی قید ہیں اور اسرائیلی فوج کا خیال ہے کہ کم از کم ایک تہائی ہلاک ہو چکے ہیں،حماس نے سات اکتوبر کو 250 کے قریب لوگوں کو یرغمال بنایا تھا جبکہ اسرائیلی حکام کے مطابق جنگجوؤں کے حملوں میں 1200 کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    لاس اینجلس میں آتشزدگی کے دوران "بیٹ مین” کے گھر پر ایف بی آئی کا چھاپہ

    صدر جو بائیڈن نے پیر کو کہا تھا کہ ان کا تجویز کردہ معاہدہ حقیت بننے والا ہےجبکہ خطے کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ 20 جنوری کو نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حلف برداری سے پہلے ایک معاہدہ کر سکتے ہیں،ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی بھی ان مذاکرات میں شرکت کر رہے ہیں۔