Baaghi TV

Tag: روس

  • روس کے معافی  مانگنے پرقازقستان کے صدر کا سخت رد عمل

    روس کے معافی مانگنے پرقازقستان کے صدر کا سخت رد عمل

    قازقستان میں آذربائیجان کے طیارہ حادثے کے حوالے روس کے صدر ویلادیمیر پیوٹن کی معذرت کے بعد آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے بھی بیان جاری کردیا اور روس پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔

    غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے کہا کہ حادثے کے شکار طیارے کو روس کی سرزمین سے ہونے والی فائرنگ سے نقصان پہنچا۔آذربائیجان کے نشریاتی ادارے کے مطابق صدر الہام علیوف نے کہا کہ 38 افراد کی زندگیاں چھیننے والے الم ناک حادثے کا شکار طیارہ روس کی طرف سے ہونے والی فائرنگ کا نشانہ بنا۔انہوں نے کہا کہ اس بات پر افسوس ہے کہ روس میں چند حلقوں نے آذربائیجان کے مسافر طیارے کے حادثے سے متعلق حقائق چھپانے کی کوشش کی اور حادثے کی وجوہات پر جھوٹا بیانیہ پیش کیا۔قبل ازیں ہفتے کو روس کے صدر ویلادیمیر پیوٹن نے الہام علیوف کو فون کرکے طیارہ حادثے پر معذرت کی تھی اور روس کی سرزمین پر طیارہ حادثے پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔آذربائیجان کے طیارہ حادثے پر یوکرین اور امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ روسی ایئرڈیفنس کی فائرنگ سے طیارہ گرکر تباہ ہوگیا ہے اور اسی طرح کا بیان آذربائیجان کے حکام کی طرف سے بھی آیا تھا۔دوسری جانب روس نے اس تاثر کو رد کیے بغیر اس سے قبل از وقت قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس حوالے سے انکوائری کے بعد حقائق سامنے آئیں گے۔

    دیہی علاقوں کی خواتین کیلئے سی ایم پنجاب لائیو اسٹاک کارڈ کا اجراء

    جنوبی کوریا طیارہ حادثے پر ائیرلائن سربراہ نےمعافی مانگ لی

    مدارس بل کی منظوری پر جے یو آئی حکومت سے خوش

  • طیارہ حادثہ، روس نے آذربائیجان سے معافی مانگ لی

    طیارہ حادثہ، روس نے آذربائیجان سے معافی مانگ لی

    ماسکو:روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے "المناک حادثے” پر معافی مانگ لی-

    باغی ٹی وی: رواں ہفتے قازقستان میں آذربائیجان ایئرلائنز کے طیارے کے حادثے کے نتیجے میں 38 افراد ہلاک ہوئے تھے یہ طیارہ بدھ کے روز آذربائیجان کے دارالحکومت باکو سے روس کے جمہوریہ چیچنیا کے دارالحکومت گروزنی کی جانب جا رہا تھا راستے میں، یہ قازقستان کی حدود میں لینڈنگ کی کوشش کے دوران گر کر تباہ ہوگیا۔

    غیر ملکی خبرایجنسی کے مطابق روسی صدارتی دفتر کریملن سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ صدر پیوٹن نے آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے روسی فضائی حدود میں طیارہ حادثے پر معذرت کی ہے تاہم انہوں نے روسی غلطی کا باقاعدہ اعتراف نہیں کیا، روسی صدر نے ٹیلیفون پر آذر بائیجان کے صدر سے طیارہ حادثے پر تبادلہ خیال کیا اور انہیں بتایا کہ آذربائیجان کے طیارے کی لینڈنگ کے وقت گروزنی میں فضائی دفاعی نظام فعال تھا، اس وقت یوکرینی ڈرون حملے ہو رہے تھے۔

    غزہ ملین مارچ بین الاقوامی دنیا پر ایک مثبت اثر ڈالے گا،حافظ نعیم

    روس کے صدارتی محل کریملن کے مطابق ولادیمیر پیوٹن نے حادثے کو "المناک” قرار دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی تاہم انہوں نے حادثے میں روس کے ممکنہ کردارکے بارے میں کچھ نہیں کہا کریملن کے بیان میں کہا گیا ہے "اس وقت گروزنی، موزدوک اور ولادیکاوکاز پر یوکرینی ڈرونز کے حملے ہو رہے تھے، اور روسی فضائی دفاعی نظام ان حملوں کو روکنے میں مصروف تھا۔”

    ڈاکٹرعاصم کے خاندان کی صحت کے شعبے میں شاندار خدمات ہیں، آصف زرداری

    آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے کہا کہ طیارہ "روسی فضائی حدود میں بیرونی جسمانی اور تکنیکی مداخلت کا شکار ہوا، جس کے نتیجے میں مکمل کنٹرول ختم ہوگیا” آذربائیجان کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ طیارے کی باڈی میں متعدد سوراخ، مسافروں اور عملے کو پہنچنے والے زخم، اور بچ جانے والے افراد کے بیانات حادثے میں بیرونی مداخلت کو ظاہر کرتے ہیں۔

    پنجاب وائلڈلائف کو لاہور چڑیا گھر کی نیلامی میں بڑی کامیابی

    وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ ابتدائی شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ طیارہ ممکنہ طور پر روسی فضائی دفاعی نظام کی وجہ سے تباہ ہوا، جبکہ یورپی یونین نے حادثے کی "آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات” کا مطالبہ کیا ہے روس، آذربائیجان اور قازقستان کے حکام حادثے کی وجوہات کی تحقیقات میں مصروف ہیں، اور ابتدائی تحقیقات میں حادثے کی وجہ بیرونی اثرات کو قرار دیا گیا ہے۔ تاہم، روسی حکام نے اس معاملے پر کوئی واضح تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے-

    نیو ایئر نائٹ: پنجاب پولیس کا سکیورٹی پلان مکمل

  • جوہری تجربہ کیا تو امریکا جوابی کارروائی کیلئے تیار رہے،روس

    جوہری تجربہ کیا تو امریکا جوابی کارروائی کیلئے تیار رہے،روس

    ماسکو:روس نے امریکا کوخبردار کیا ہے کہ ٹرمپ کی نئی انتظامیہ ممکنہ جوہری تجربہ کرنے سے باز رہے،ورنہ سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا-

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 1992 کے بعد اپنی سابقہ ​​مدت کے دوران پہلا امریکی جوہری تجربہ کرنے پر تبادلہ خیال کیا تھا روس نے 1990 کے بعد سے کوئی جوہری تجربہ نہیں کیا جس پر صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا کہ اگر امریکا نے جوہری ہتھیار کا تجربہ کیا تو روس کی جانب سے سخت رد عمل کے لیے بھی تیار رہے۔

    روس کے ڈپٹی وزیر دفاع سرگئی ریبکووف نے بیان میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ممکنہ جوہری ٹیسٹ کیے گئے تو روس کے پاس بھی جوابی کارروائی کے لیے آپشنز موجود ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور حکومت میں جوہری تجربات پر پابندی سے متعلق معاہدے ( نیوکلئیرٹیسٹ بین ٹریٹی) کے بارے میں انتہا پسندانہ موقف اختیار کیا تھااس پس منظر میں اگر ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے دور حکومت ممکنہ جوہری ٹیسٹ کیے تو روس اس کے جواب میں متعدد جوابی کارروائیوں پر غور کرے گا۔

    شیطانی پھونک سے یادداشت کو مٹا کر لوگوں کو لوٹنے والی خاتون گرفتار

    ڈپٹی روسی وزیردفاع کا مزید کہنا تھا بین الاقوامی صورتحال اس وقت انتہائی نازک مراحل سے گزر رہی ہے مختلف حوالوں سے امریکا کی روس کے لیے انتہائی مخالفانہ اور دشمنی پر مبنی ہے، امریکا کی کسی بھی کارروائی میں اپنی سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہرممکن اقدامات کریں گے سیاسی طور پر بھی مثبت فضا چاہتے ہیں تاہم اس حوالے سے بہت زیادہ امیدیں نہیں رکھنا چاہیں، لہٰذا روس کے پاس قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اپنے دفاع میں موثر اقدامات کرنے اور سیاسی طور پر مناسب پیغام بھیجنے کے آپشنز موجود ہیں۔

    بنوں،پولیس موبائل پر حملہ،جوابی کاروائی میں دو دہشتگردجہنم واصل

  • طیارہ حادثہ: آذربائیجان کے رکن پارلیمنٹ کا روس سے معافی کا مطالبہ

    طیارہ حادثہ: آذربائیجان کے رکن پارلیمنٹ کا روس سے معافی کا مطالبہ

    قازقستان میں آذربائیجان کے مسافر طیارے کو پیش آنے والے حادثے کے بعد آذربائیجان کے رکن پارلیمنٹ راسم موسیٰ بیوف نے روس سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس کو اس حادثے کی مکمل ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور حادثے میں متاثر ہونے والوں کے لیے فوری طور پر قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔

    آذربائیجان کے رکن پارلیمنٹ راسم موسیٰ بیوف نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ "روس کو اس حادثے کی مکمل ذمہ داری قبول کرنی چاہیے، اور اس کے بعد اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔ اس کے علاوہ، جو افراد اس حادثے میں متاثر ہوئے ہیں، انہیں فوری طور پر معاوضہ فراہم کیا جائے۔”دوسری جانب روسی پارلیمنٹ کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے اس واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ "طیارہ حادثے کی تحقیقات جاری ہیں اور جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتی، ہم کسی قسم کا تبصرہ نہیں کر سکتے۔ اس حوالے سے معلومات صرف روسی ایوی ایشن حکام کی طرف سے فراہم کی جا سکتی ہیں۔”

    یہ حادثہ 25 دسمبر کو پیش آیا، جب آذربائیجان کے ایئر لائن کا ایک مسافر طیارہ باکو سے چیچنیا کے شہر گروزنی کے لیے روانہ ہوا تھا۔ طیارہ قازقستان کے شہر اکتاو میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ روسی فیڈرل ایوی ایشن ایجنسی کے سربراہ دیمتری یادروف نے اس حادثے کی تحقیقات کے حوالے سے کہا کہ "حادثے کے دن گروزنی میں پیچیدہ صورتحال تھی۔ اس دن یوکرین کے لڑاکا ڈرون گروزنی اور ویلادیکاوکاز پر حملے کر رہے تھے، جس سے ایوی ایشن کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی تھی۔”

    روسی میڈیا نے بتایا کہ حادثے کے روز صبح کے وقت تین لڑاکا ڈرونز کو روکا گیا تھا۔ اس کے برعکس، آذربائیجانی حکام کا کہنا ہے کہ گروزنی کے ایئرپورٹ کے قریب دو پینٹسر ایئر ڈیفنس سسٹم نصب کیے گئے ہیں، اور ان کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر آذربائیجان کا مسافر طیارہ ان پینٹسر ایئر ڈیفنس سسٹم کا نشانہ بن گیا۔

    آذربائیجان کے حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر ایک حادثہ تھا جس میں طیارہ پینٹسر ایئر ڈیفنس سسٹم کا نشانہ بن گیا، جو کہ روسی دفاعی نظام کا حصہ ہے۔ یہ سسٹم دشمن طیاروں اور دیگر فضائی خطرات کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    یہ حادثہ اب بین الاقوامی سطح پر ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے، اور اس کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع ہونے کی توقع ہے۔ آذربائیجان اور روس کے درمیان اس واقعے کے حوالے سے سیاسی و سفارتی سطح پر مزید بات چیت ہو سکتی ہے، اور اس کا اثر دونوں ممالک کے تعلقات پر بھی پڑ سکتا ہے۔اس وقت تک، طیارہ حادثے کی تحقیقات جاری ہیں، اور متاثرین کے اہل خانہ کی جانب سے انصاف اور معاوضے کے مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں۔

    آذربائیجان طیارہ حادثہ،دوسرا بلیک باکس مل گیا

    آذربائیجان کے مسافر طیارے کا بلیک باکس مل گیا، تحقیقات کا آغاز

    آذربائیجان ،طیارہ مبینہ میزائل حملے کا نشانہ بنا، دعویٰ

    آذربائیجان طیارہ حادثہ،62 میں سے 26 افراد زندہ بچ گئے

  • روس میں امریکی شہری کو جاسوسی کے الزام میں سزا

    روس میں امریکی شہری کو جاسوسی کے الزام میں سزا

    ماسکو: روس کی عدالت نے منگل کے روز ایک امریکی شہری کو جاسوسی کے الزامات پر 15 سال قید کی سزا سنائی ہے، ۔

    جین اسپیکٹر، جو روس میں پیدا ہوئے تھے لیکن بعد میں امریکہ منتقل ہو کر امریکی شہریت حاصل کی، کو روس میں رشوت کے معاملے میں ثالث کے طور پر کام کرنے پر پہلے ہی 4 سال قید کی سزا سنائی جا چکی تھی، روس کے آزاد نیوز ادارے "میڈیا زونا” کے مطابق، جس کے ایک صحافی نے عدالت کے اندر رپورٹنگ کی، اسپیکٹر کو جاسوسی کے الزامات پر 13 سال کی سزا دی گئی ہے۔ اس سزا کے ساتھ ان کے پہلے رشوت کے الزام میں لگائی گئی سزا بھی شامل کی گئی، جس کے نتیجے میں انہیں مجموعی طور پر 15 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اس کے علاوہ اسپیکٹر پر 14,116,805 روبل (تقریباً 140,500 امریکی ڈالر) جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق، 2020 میں اسپیکٹر نے رشوت کی ثالثی کے الزامات میں اپنی گناہ کا اعتراف کیا تھا۔ یہ رشوت سابق روسی نائب وزیر اعظم آرکادی ڈورکوفچ کے سابق معاونہ اناستاسیا ایلکسیویوا کے لیے دی گئی تھی، اس سے قبل اسپیکٹر میڈپولیمرپروم گروپ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین تھے، جو کینسر کے علاج کی ادویات میں مہارت رکھتا تھا،

    امریکہ کے سفارتخانے کے ایک اہلکار نے اگست 2023 میں سی این این کو بتایا کہ انہیں یہ یقین تھا کہ اسپیکٹر پہلے ہی جیل میں ہے، اور اس نئے الزامات کے بارے میں ان کے پاس کوئی معلومات نہیں تھیں۔

    پشپا 2 کی نمائش:انتہائی مطلوب گینگسٹر اور منشیات اسمگلر گرفتار

    جاپان میں کرسمس ویلنٹائن ڈے کی طرح،نوجوان جوڑے رومانس کیلئے تیار

  • بشارالاسد مشکل میں،اقتدار جانے کے بعد بیوی بھی جانے کو تیار

    بشارالاسد مشکل میں،اقتدار جانے کے بعد بیوی بھی جانے کو تیار

    شام کے معزول صدر بشار الاسد کی اہلیہ، برطانوی نژاد اسماء الاسد نے روس کی عدالت میں طلاق کے لیے درخواست دائر کر دی ہے۔

    ترک اور عرب میڈیا کے مطابق اسماء الاسد اس وقت ماسکو میں خوش نہیں ہیں اور وہ لندن واپس جانا چاہتی ہیں۔ واضح رہے کہ 2011 میں شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد بشار الاسد اپنے خاندان کے ہمراہ روس فرار ہو گئے تھے، جہاں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے انہیں سیاسی پناہ دی تھی۔اسماء الاسد نے روس کی عدالت میں طلاق کی درخواست کے ساتھ ساتھ ماسکو چھوڑنے کی خصوصی اجازت کی درخواست بھی دائر کی ہے۔ ان کی درخواست پر روسی حکام غور کر رہے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، اسماء کے پاس برطانیہ اور شام کی دوہری شہریت ہے، اور وہ لندن میں شامی والدین کے یہاں پیدا ہوئیں۔ وہ 2000 میں شام گئی اور اسی سال 25 سال کی عمر میں بشار الاسد سے شادی کی تھی۔

    اگرچہ روس نے بشار الاسد کی سیاسی پناہ کی درخواست قبول کر لی ہے، لیکن وہ اب بھی سخت پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ بشار الاسد کو ماسکو چھوڑنے یا کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔ روسی حکام نے بشار الاسد کی جائیداد اور رقم بھی ضبط کر لی ہے، جس میں 270 کلو سونا، 2 بلین ڈالر اور ماسکو میں 18 اپارٹمنٹس شامل ہیں۔سعودی اور ترک میڈیا رپورٹس کے مطابق، بشار الاسد کے بھائی مہر الاسد کو روس میں سیاسی پناہ نہیں دی گئی ہے اور ان کی درخواست کا ابھی تک جائزہ لیا جا رہا ہے۔ مہر الاسد اور اس کا خاندان اس وقت روس میں نظر بند ہیں۔

    یہ پیش رفت اس بات کا غماز ہے کہ بشار الاسد اور ان کے خاندان کے لیے صورتحال پیچیدہ ہو چکی ہے۔ روس میں سیاسی پناہ کی درخواستیں اور ان کے ساتھ جڑے مسائل عالمی سطح پر اس بات کا اشارہ ہیں کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت اور ان کے خاندان کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسماء الاسد کی طرف سے طلاق کی درخواست نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ وہ اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کرنے کی نیت رکھتی ہیں، جس سے مزید سیاسی اور معاشی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔

    اسعد الشیبانی شام کے عبوری وزیر خارجہ منتخب

    امریکا نے شامی باغی رہنما کی گرفتاری پر 10 ملین ڈالر کا انعام ختم کر دیا

    13 سال بعد گھر آیا تو والدہ سجدے میں تھیں،شامی نوجوان کی کہانی

    بشار الاسد شام سے کیسے فرار ہوئے، تفصیلات آ گئیں

  • امریکا کے ساتھ میزائل مقابلے کےلیے تیار ہیں،روسی صدر

    امریکا کے ساتھ میزائل مقابلے کےلیے تیار ہیں،روسی صدر

    ماسکو: روسی صدر ولاد یمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس اور چین بین الاقوامی سطح پر اپنے تعلقات بڑھا رہے ہیں اور بڑھاتے رہیں گے، امر یکا کے ساتھ میزائل مقابلے کےلیے تیار ہیں۔

    باغی ٹی وی : صدر پیوٹن نے کہا کہ روسی افواج یوکرین میں بنیادی مقاصد حاصل کرنے کے قریب ہیں روس یوکرینی فوج کو روسی علاقے سے باہر نکال دے گا، امریکا کے ساتھ میزائل مقابلے کےلیے تیار ہیں، نیا روسی ہائپر سونک بیلسٹک میزائل کسی بھی امریکی میزائل دفاعی نظام کو شکست دے سکتا ہے، نیا میزائل اور شنیک جدید ہتھیار ہے۔

    پیوٹن نے کہا کہ شام کے بشارالاسد کے ساتھ گفتگو کا منصوبہ ہے ان سے شام میں لاپتا امریکی صحافی کے بارے میں دریافت کروں گا نو منتخب امریکی صدر ٹرمپ سے 4 سال سے بات نہیں کی،نو منتخب امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ بات کرنے کیلئے تیار ہوں، عملی طور پر تمام نیٹو ممالک روس کے خلاف لڑ رہے ہیں، چین سے تعلقات زیادہ بلند سطح پر پہنچ چکے ہیں روس اور چین بین الاقوامی سطح پر اپنے تعلقات بڑھا رہے ہیں اور بڑھاتے رہیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ روس کو شام میں شکست نہیں ہوئی، اپنے مقاصد حاصل کیے ہیں روس نے شام سے 4 ہزار ایرانی جنگجوؤں کا انخلا کرایا شام میں تمام گروپوں سے تعلقات ہیں شراکت داروں کو شام میں روسی ایئر، نیول بیس کو انسانی مقاصد کےلیے استعمال کرنے کی تجویز دی۔

    انہوں نے ماسکو میں روسی جنرل ایگو کے قتل کے معاملے پر بھی گفتگو کی اور کہا یوکرینی حکومت روسی شہریوں کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کا ارتکاب کررہی ہے یوکرین کے معاملےپر بات چیت کیلئےتیار ہیں، دوسری جانب کے تیار ہونےکی ضرورت ہے۔

  • بشار الاسد شام سے کیسے فرار ہوئے، تفصیلات آ گئیں

    بشار الاسد شام سے کیسے فرار ہوئے، تفصیلات آ گئیں

    شام کے سابق صدر بشارالاسد کا اقتدار ختم ہونے کے بعد ایران کی مشرق وسطیٰ میں پوزیشن مزید کمزور ہو گئی ہے، اور اسرائیل اس کا بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اس حوالے سے کئی اہم اور حیران کن تفصیلات سامنے آئی ہیں جن میں بشارالاسد کے شام سے فرار کی کہانی اور اس کے بعد اسرائیل کی سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بشارالاسد نے اپنے ملک چھوڑنے سے قبل اپنے معاونین، قریبی رشتہ داروں اور فوجی حکام کو بھی اپنی اصل صورتحال سے لاعلم رکھا۔ حتیٰ کہ اپنے چھوٹے بھائی ماہر الاسد اور فوجی کمانڈروں کو بھی ان کی روانگی کے بارے میں کچھ نہ بتایا۔ایک اہم رپورٹ کے مطابق، بشارالاسد نے ملک چھوڑنے سے کچھ گھنٹے پہلے اپنے فوجی افسران سے ملاقات کی اور روس سے فوجی مدد آنے کی یقین دہانی کرائی۔ اسی دوران، بشارالاسد نے اپنے دفتر کے منیجر کو بتایا کہ وہ اپنے گھر جا رہے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ ہوائی اڈے کی طرف روانہ ہو گئے، جہاں سے وہ روسی ایئر بیس پہنچے اور وہاں سے ماسکو روانہ ہو گئے۔

    شام کے حکمران بشار الاسد کی اپنے ملک سے فرار کی تفصیلات اب منظر عام پر آچکی ہیں، جس کے مطابق ان کا یہ فرار روسی حمایت سے عمل میں آیا اور اس کی منصوبہ بندی مکمل طور پر خفیہ رکھی گئی تھی، یہاں تک کہ ان کے قریبی معاونین اور اہل خانہ بھی اس سے لاعلم تھے۔جب باغی فوجیں دمشق کے قریب پہنچنا شروع ہوئیں اور اس بات کا امکان بڑھا کہ بشار الاسد کا اقتدار ختم ہونے والا ہے، تو ماسکو نے مداخلت کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ انہیں شام سے باہر نکالا جا سکے۔اس منصوبے کے بارے میں کسی کو بھی اطلاع نہیں دی گئی، اور 8 دسمبر کی صبح جلدی بشار الاسد نے دمشق کے ایئرپورٹ سے اپنے نجی طیارے میں سوار ہو کر سفر شروع کیا۔ طیارہ سمندر کی سمت میں روانہ ہوا اور پھر اچانک غائب ہوگیا، امکان ہے کہ طیارے کے پائلٹس نے فلائٹ ٹریکنگ سسٹم کو بند کر دیا تھا تاکہ ان کی پوزیشن کا پتہ نہ چل سکے۔یہ طیارہ شام کے شہر حمص کے اوپر ایک یو ٹرن لینے کے بعد غائب ہوگیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ طیارہ روسی فضائی اڈے "حمیمیم” کی طرف جا رہا تھا، جو شمال مشرقی شام کے شہر لاذقیہ کے قریب واقع ہے۔یہ نجی طیارہ بعد ازاں حمیمیم ایئر بیس پر پہنچا، جہاں بشار الاسد کو روسی فوجی طیارے میں منتقل کیا گیا اور ماسکو کے لیے پرواز کی گئی۔

    اسد کا فوری خاندان، بشمول ان کی برطانوی نژاد بیوی اسماء اور تین بالغ بچے، پہلے ہی ماسکو پہنچ چکے تھے، جہاں انہیں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی طرف سے پناہ دی گئی تھی۔اس کے فوراً بعد، اسلامی گروہ "حیات تحریر الشام” کی قیادت میں باغیوں نے دمشق پر قبضہ کر لیا اور اسد کی حکومت کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی بشار الاسد اور ان کے خاندان کا 50 سالہ حکومتی دور اور 24 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوا، جس نے شام میں جاری خونریز 13 سالہ خانہ جنگی کو بھی ایک نیا موڑ دیا۔باغیوں نے اسد کے محلوں اور ذاتی گھروں پر دھاوا بول دیا، اور لوٹ مار کے دوران ان کے ذاتی سامان اور عیاشی کی زندگی کی تصاویر سامنے آئیں۔ ایک ویڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا کہ اسد کے گھر میں پکایا ہوا کھانا چولہے پر رکھا تھا، جبکہ خاندانی فوٹو البمز اور دستاویزات بھی بکھری ہوئی تھیں۔

    سات دن بعد اسد نے اپنی خاموشی توڑی اور اپنے پریسیڈنشل ٹیلی گرام چینل پر ایک حیران کن بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے شام چھوڑنے کے اپنے آخری لمحات کی تفصیلات دی۔انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ 8 دسمبر کی صبح دمشق سے حمیمیم کی طرف روانہ ہوئے، لیکن ان کا یہ کہنا تھا کہ وہ شام چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے کیونکہ روسی فضائی اڈہ ڈرون حملے کا شکار ہوا، جس کے نتیجے میں روس نے ان کی ایمرجنسی ایواکیوشن کا حکم دیا۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے شام چھوڑنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا اور نہ ہی کسی نے انہیں اقتدار چھوڑنے یا پناہ گزینی کی تجویز دی۔ "میں دمشق میں اپنے فرادی ذمہ داریوں کو پورا کر رہا تھا اور دہشت گردوں کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا”، اسد نے اپنے آپ کو ایک محب وطن رہنما اور خاندان کے فرد کے طور پر پیش کیا جو اپنے عوام کے ساتھ جنگ کے دوران موجود رہا، حالانکہ ان کی افواج، جو روس، حزب اللہ اور ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے ساتھ تھی، ہزاروں شہریوں کے قتل کی ذمہ دار تھیں۔

    ہفتہ کے روز، جب بشار الاسد ماسکو کے لیے روانہ ہو رہے تھے، انہوں نے دفاعی وزارت میں تقریباً 30 فوجی اور سیکیورٹی افسران سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ روسی فوجی مدد جلد پہنچنے والی ہے اور فورسز کو دباؤ کا سامنا کر کے لڑنے کی ہدایت دی۔ ایک افسر کے مطابق اس ملاقات کے دوران اسد نے اپنی فوجیوں کو ہمت دی تھی۔اسد کے دفتر کے اسٹاف کو بھی ان کے فرار کے منصوبے کی خبر نہیں تھی۔ اس کے ایک معاون نے بتایا کہ اسی رات اسد نے اپنے میڈیا مشیر بثینہ شعبان کو گھر آنے اور ان کے لیے خطاب لکھنے کو کہا، لیکن جب وہ پہنچیں تو وہاں کوئی نہیں تھا۔اسد کے آخری وزیر اعظم، محمد جلالی نے اس ہفتے سعودی ٹی وی "العربیہ” کو بتایا کہ انہوں نے 8 دسمبر کی رات اسد سے بات کی تھی، اور اسد نے ان سے کہا تھا: "کل ہم دیکھیں گے، کل، کل۔”جلالی کے مطابق، اسد کا آخری جملہ یہی تھا، اور جب انہوں نے اگلے دن صبح اسد کو دوبارہ کال کرنے کی کوشش کی، تو ان کا فون بند تھا۔

    بشارالاسد کے فرار کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ ان کا اقتدار اب ختم ہو چکا تھا۔ شامی حکومت کے اہم عہدے داروں اور ایرانی حکام سے مل کر بشارالاسد نے اپنا بچاؤ کرنے کی کوشش کی، لیکن جب روس نے ان کی فوجی مداخلت کی درخواست کو نظرانداز کیا، تو وہ مجبور ہو گئے کہ ملک چھوڑ کر روس چلے جائیں۔اسرائیل کی فوج نے شام میں اپنے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کیا اور اس نے شام کی اہم دفاعی تنصیبات کو تباہ کرنا شروع کر دیا۔ اسرائیل کی فضائیہ نے شام کے فضائی دفاع کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا اور اس کے بعد اسرائیلی فورسز نے شامی سرحد کے بفر زون کو پار کر لیا، جس کے نتیجے میں اسرائیل نے اہم اسٹریجک پہاڑی "ماؤنٹ حرمن” کو بھی اپنے قبضے میں لے لیا۔اسرائیل کی دفاعی افواج کا خیال ہے کہ شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے اور ایران کے پراکسیز کی کمزوری کے بعد ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کا موقع میسر آ چکا ہے۔ اسرائیل کی فضائیہ اس وقت ایران پر حملوں کے لیے اپنی تیاریوں کو مزید مستحکم کر رہی ہے، اور اس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو نقصان پہنچانا ہے۔

    بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ایران کو سب سے بڑا نقصان پہنچا ہے کیونکہ شام ایران کا اہم اتحادی تھا اور اس کی حکومت کے تحت ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں کا اہم نیٹ ورک قائم تھا۔ ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں میں حزب اللہ، حماس اور یمن کے حوثی باغی شامل ہیں جو اسرائیل اور دیگر عرب ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج تھے۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کو امریکہ اور اسرائیل کی سازش قرار دیا ہے اور اس میں شام کے ہمسایہ ممالک خاص طور پر ترکی کے کردار کا ذکر کیا ہے۔ تاہم، ایران کی اس سازش میں کامیابی کے باوجود اسرائیل نے شام میں اپنی پوزیشن مضبوط کی اور ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں تیز کر دیں۔

    شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد باغیوں نے عبوری حکومت قائم کر لی ہے، جس کی قیادت ابو محمد الجولانی کر رہے ہیں، جو ماضی میں القاعدہ کا حصہ رہ چکے ہیں۔ اس تبدیلی کے بعد، شام میں ایران کا اثر و رسوخ تقریباً ختم ہو چکا ہے، اور اسرائیل نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔شام کے نئے حکومتی ڈھانچے کی قیادت ابو محمد الجولانی کر رہے ہیں، اور انہوں نے دمشق کی مسجد امیہ میں اپنے خطاب میں کہا کہ یہ فتح خطے میں نئی تاریخ رقم کرے گی۔ شام میں اس وقت ایک نئی عبوری حکومت قائم ہو چکی ہے، اور اس کے ساتھ ہی شامی شہری بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کا جشن مناتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

    ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ شام میں خانہ جنگی کے دوران بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد اب اپنے وطن واپس آنا شروع ہو گئے ہیں۔ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، باغیوں کی کامیاب پیش قدمی کے بعد بے گھر شامی افراد اپنے گھروں کی طرف واپس آ رہے ہیں، اور اب تک لاکھوں افراد نے اپنے ملک واپس جانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔بشارالاسد کا اقتدار ختم ہونے کے بعد شام میں ایران کا اثر و رسوخ کم ہو چکا ہے، اور اس کا فائدہ اسرائیل نے بھرپور انداز میں اٹھایا ہے۔ اسرائیل نے شام میں اپنی فضائی برتری قائم کرتے ہوئے ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے لیے اپنی تیاریوں کو مزید تیز کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ، شام میں باغیوں کی حکومت کا قیام اور شامی مہاجرین کی واپسی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام میں ایک نیا سیاسی منظرنامہ ابھر رہا ہے۔

  • روس کے چیف لیفٹیننٹ جنرل کے قتل کی ذمہ داری یوکرین نے قبول کر لی

    روس کے چیف لیفٹیننٹ جنرل کے قتل کی ذمہ داری یوکرین نے قبول کر لی

    کیف: روسی دارالحکومت ماسکو میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے روسی فوج کےنیوکلیئر، بایولوجیکل اور کیمیکل پروٹیکشن فورسز کے چیف لیفٹیننٹ جنرل ایگور کری لوف کے قتل کی ذمہ داری یوکرین نے قبول کر لی-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ماسکو کی ایک عمارت کے باہر اسکوٹی میں نصب ریموٹ کنٹرول بم کا دھماکا کیا گیا جس کے نتیجے میں روسی فوج کے سینئر افسر لیفٹیننٹ جنرل ایگور کری لوف اپنے ایک ساتھی سمیت ہلاک ہوگئے ایگور کری لوف 2017 سے روسی فوج میں روسی نیوکلیئر، بایولوجیکل اور کیمیکل پروٹیکشن فورسز کے چیف تھے۔

    روسی تحقیقاتی کمیٹی کے بم مطابق رہائشی عمارت کےباہرکھڑی الیکٹرک اسکوٹر میں نصب کیاگیا تھا، واقعے کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں،یوکرین نے روسی جنرل کری لوف کےقتل کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

    یوکرینی سکیورٹی ذرائع کا کہناہے روسی جنرل کری لوف کو یوکرینی سکیورٹی سروس نے ماسکومیں خصوصی آپریشن میں ہلاک کیا۔

  • ماسکو،دھماکے میں جنرل اور انکا معاون ہلاک

    ماسکو،دھماکے میں جنرل اور انکا معاون ہلاک

    ماسکو کے ریازان اسکو پروسپیکٹ پر ایک دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں دو افراد کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے۔ روسی ٹیلی گرام چینلز کے مطابق یہ واقعہ صبح 6:11 بجے پیش آیا۔

    گواہوں کے مطابق، دھماکے سے کچھ گھنٹے پہلے ایک نامعلوم شخص نے ایک الیکٹرک سکوٹر عمارت کے داخلی دروازے کے قریب پارک کیا تھا جس کے ہینڈل پر ایک نامعلوم مواد سے بنا ہینڈ میڈ بم (آئی ای ڈی) موجود تھا۔ دھماکے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہو گئے، جن میں روسی فوج کے ریڈی ایشن، کیمیکل اور بایولوجیکل ڈیفنس فورسز کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایگور کرئیلوف بھی شامل ہیں۔ دوسری ہلاکت ان کے معاون کی ہو سکتی ہے۔مقامی ٹیلی گرام چینلز کے مطابق، دھماکے نے عمارت کے داخلی دروازوں کو اڑایا اور کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔ جنرل کی سرکاری گاڑی بھی اس دھماکے میں تباہ ہو گئی۔

    ابتدائی تحقیقات کے مطابق، یہ دھماکہ دور سے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا تھا۔ یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بمبار یا ان کے معاونین دھماکے کے مقام سے دور تھے اور شاید انہوں نے عمارت کے داخلی کیمرے تک رسائی حاصل کی، جو بہت سے رہائشیوں کے لیے دستیاب ہیں۔روس کے ٹیلی گرام چینل "ماش” کی رپورٹ کے مطابق، دھماکے میں مارے جانے والے دوسرے شخص کی شناخت لیفٹیننٹ جنرل کے ڈرائیور کے طور پر کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، وہ صبح 6 بجے جنرل کو لینے آیا تھا تاکہ انہیں کام پر لے جا سکے۔

    رشوت لینے کے الزم میں پولیس کانسٹیبل گرفتار

    فی الحال، بم ڈسپوزل ماہرین ریازان اسکو پروسپیکٹ پر واقع عمارت کے ارد گرد کی علاقے کا معائنہ کر رہے ہیں۔ سکوٹر، جس پر آئی ای ڈی منسلک تھا، کو فرانزک معائنہ کے لیے بھیجا جائے گا۔اس واقعے نے ماسکو میں سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے اور اس دھماکے کی نوعیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں کہ آیا یہ حملہ کسی مخصوص مقصد کے تحت کیا گیا تھا یا یہ ایک وسیع تر دہشت گردانہ کارروائی کا حصہ تھا۔

    شانگلہ: چکیسر میں پولیس چوکی پر دہشتگردوں کا حملہ، 2 اہلکار شہید