Baaghi TV

Tag: روس

  • روسی پیش قدمی روکنے کے لیے یوکرین نے ٹینکوں، آبدوزوں اور ہیلی کاپٹروں سمیت مزید ہتھیار طلب کر لیے

    روسی پیش قدمی روکنے کے لیے یوکرین نے ٹینکوں، آبدوزوں اور ہیلی کاپٹروں سمیت مزید ہتھیار طلب کر لیے

    برلن :روسی پیش قدمی روکنے کے لیے یوکرین نے ٹینکوں، آبدوزوں اور ہیلی کاپٹروں سمیت مزید ہتھیار طلب کر لیے ،اطلاعات کے مطابق یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کا آج دسواں روز ہے۔ دونوں ملکوں کی افواج میں شدید لڑائی جاری ہے۔ جرمنی کی وزارت دفاع کے ذرائع نے بتایا ہے کہ یوکرین نے بھاری ہتھیار طلب کیے ہیں جن میں فوجی ٹینک ، آبدوزیں اور ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔

    ذرائع کے مطابق مذکورہ ہتھیاروں کا ایک حصہ یوکرین روانہ کر دیا گیا ہے۔ تاہم ان کی تفصیلات نہیں بتائی گئی۔ذرائع نے مزید بتایا کہ یورپی یونین کو اُن خامیوں کو دور کرنا ہو گا جن کے ذریعے ماسکو خود پر عائد پابندیوں سے بچ نکل سکتا ہے۔

    دوسری جانب روسی افواج نے مختلف محاذوں پر پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔ یوکرین کے حکام نے خارکیف میں شہریوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قریبی پناہ گاہوں کا رخ کریں۔شہر کے مختلف حصوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ہیں۔اور یہ بھی خیال کیا جارہا ہے کہ روسی افواج بہت جلد یوکرین کے بڑے حصے پرقبضہ کرلیں گی

    یوکرینی میڈیا کی ویب سائٹوں پر نشر ہونے والے وڈیو کلپوں میں کیف کے زیر انتظام علاقے پوروڈینکا میں عمارتوں کی وسیع پیمانے پر تباہی ظاہر ہو رہی ہے۔ علاوہ ازیں کیف اور بیلا روس کے بیچ ہائی وے پر تباہ شدہ روسی ٹینکوں اور عسکری ساز و سامان کو بھی دیکھا گیا۔

    امریکی ذمے داران نے باور کرایا ہے کہ یوکرین کی فوج کے حملوں اور ناکام منصوبہ بندی نے کیف کی جانب دھیرے دھیرے بڑھنے والے ایک بڑے فوجی قافلے کا راستہ روک دیا۔ادھر روسی فوج میکولایف شہر پر قبضے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس جگہ سے مستقبل میں اوڈیسا میں چھاتہ برداروں کو اتارے جانے کی کارروائیوں کو سپورٹ کیا جا سکے گا۔

  • یوکرین جنگ:روس نے”جھوٹی” خبریں پھیلانے پر 15 سال قید کی سزا کا قانون تیار کر لیا

    یوکرین جنگ:روس نے”جھوٹی” خبریں پھیلانے پر 15 سال قید کی سزا کا قانون تیار کر لیا

    ماسکو: روسی پارلیمنٹ نے یوکرین سے جنگ کے حوالے سے "جھوٹی” خبریں پھیلانے پر 15 سال قید کی سزا کا قانونی مسودہ منظور کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یوکرین سے جنگ کے تناظر میں ایسی خبروں اور معلومات کی تشہیر جو روسی مؤقف کی مخالف ہو روس میں جرم سمجھا جائے گا، پارلیمنٹ نے15 سال قید کی سزا کا قانونی مسودہ منظور کرلیا اس نئےبل کی منظوری کامقصد غیرملکی میڈیا کی ملک میں روس کی مخالفت روکنا ہے تاکہ سزا کے ڈر سے ایسی خبر نہ چلائی جائے جو روسی مؤقف کے مخالف ہو۔

    روس کا جوابی وار: ملک بھر میں فیس بک بند کردیا: تیسری ایٹمی جنگ بھڑکنے کےخدشات بڑھ گئے

    روسی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین میں عام شہریوں کی ہلاکت اور روس کی فوج کو بھاری نقصان جیسی حقیقت کے منافی خبریں پھیلائی جارہی ہیں۔ دوسری جانب روسی سرکاری میڈیا یوکرین پر حملے اور جنگ کو فوجی آپریشن قرار دے رہا ہے۔

    امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ روسی صدر ولادی میرپیوٹن مذکورہ قانونی مسودے پر دست خط کرکے اسے قانون کی شکل دے دیں گے جس کا اطلاق ہفتے سے ممکن ہے۔

    روس میں مذکورہ قانون کے تحت قید کی سزا کے علاوہ بھاری جرمانہ بھی ہوسکتا ہے اس اقدام کے بعد برطانوی خبر رساں ادارے(بی بی سی) نے روس میں اپنی سروس عارضی طور پر معطل کردی ہے۔

    جوہری پلانٹ پر روسی حملہ:سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری،جنگ یا امن:بڑے فیصلے کی توقع

    قبل ازیں روسی ٹی وی چینل ’’دی رین‘‘ کے تمام ملازمین نے لائیو پروگرام میں استعفیٰ دے دیا اور آخری ٹیلی کاسٹ میں نو وار کا مطالبہ چلا دیا یوکرین میں روسی حملے کی کوریج کرنے پر پوٹن حکومت نے دی رین چینل کی نشریات کو معطل کردیا تھا۔

    جس کے بعد چینل کی بانی نتالیہ سندیوا نے آخری ٹیلی کاسٹ میں کہا تھا کہ ’’ نو ٹو وار‘‘ جس کے تمام ملازمین اسٹوڈیو سے باہر آگئے اور نشریات غیر معینہ مدد کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا۔

    چینل کے ملازمین بھی حکومت سے جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجاً مستعفی ہوگئے۔تھے ملازمین نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی استعفے شیئر کیے۔

    روس فی الفور یوکرین پرحملے روک دے:نیٹو کی دھمکی پر روس سخت غصےمیں آگیا

  • یوکرین: صدر زیلینسکی مُلک سے فرار ہوکر پولینڈ پہنچ گئے

    یوکرین: صدر زیلینسکی مُلک سے فرار ہوکر پولینڈ پہنچ گئے

    کیف : یوکرین: صدر زیلینسکی مُلک سے فرار ہوکر پولینڈ پہنچ گئے ،اطلاعات کے مطابق روس اور یوکرین کے درمیان جنگ نویں روز بھی جاری ہے۔حالات بد سے بد تر ہوگئے ہیں اور روسی فوج کی پیشقدمی نہیں رک سکی ہے جس کے سبب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی یوکرائن کے دارالحکومت کیف میں ایک بنکر سے فرار ہو کر پولینڈ چلے گئے ہیں۔

    یہ دعویٰ روسی میڈیا نے کیا ہے۔ یہ اس لیے اہم ہے کہ صرف دو روز قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے عوامی طور پر کہا تھا کہ زیلنسکی کو جب چاہیں یوکرین سے ہوائی جہاز سے اتارا جائے گا۔ تاہم یوکرین کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ زیلنسکی دارالحکومت کیف میں ہیں۔

    جمعہ کو روسی فوج نے نیوکلیئر پاور پلانٹ پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس سے قبل یہاں فائرنگ ہوئی تھی جس کی وجہ سے پلانٹ میں آگ لگ گئی تھی۔ روسی فوجیوں نے پلانٹ کی انتظامیہ اور کنٹرول عمارتوں پر قبضہ کر لیا۔ روس چرنی ہیو میں فضائی حملے کر رہا ہے۔ ان حملوں میں 47 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ادھر یوکرین پر روسی حملہ اب نویں دن میں داخل ہو چکا ہے۔ اس دوران گولہ باری کے سبب یوکرین کے زپوریشیا پلانٹ میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا، جس پر اب قابو پا لیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے تابکاری میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ زپوریشیا پلانٹ یورپ میں جوہری بجلی کا سب سے بڑا پلانٹ ہے۔

    یوکرین کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام جوہری پلانٹ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے جہاں روسی گولہ باری کے بعد پلانٹ کے بیرونی حصے میں واقع ایک تربیتی حصے میں آگ لگ گئی تھی۔

    جوہری امور کے عالمی نگراں ادارے آئی اے ای اے اور وائٹ ہاؤس دونوں کا ہی کہنا ہے کہ وہ یورپ کے سب سے بڑے جوہری پلانٹ پر حملے کی فعال طریقے سے نگرانی کر رہے ہیں اور تابکاری کی سطح میں ابھی تک کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔

    یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیترو کولیبا نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا، ”روسی فوج یورپ کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ پر چاروں طرف سے فائرنگ کر رہی ہے۔ آگ تو پہلے ہی بھڑک چکی ہے۔”

    ان کا مزید کہنا تھا، ”اگر اس میں کوئی دھماکہ ہوا تو یہ چرنوبل سے بھی دس گنا زیادہ بڑا ہو گا! روسیوں کو فوری طور پر فائرنگ بند کرنی چاہیے، فائر فائٹرز کو اجازت دینی چاہیے اور ایک سکیورٹی زون قائم کرنا چاہیے”!

    وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے اپنی متعدد ٹویٹ میں بتایا ہے کہ جوہری پلانٹ میں آگ لگنے کے معاملے پر امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے یوکراینی ہم منصب وولودیمیر زیلنسکی سے فون پر بات چیت بھی کی ہے۔

    وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن نے امریکی محکمہ توانائی کے انڈر سیکریٹری برائے نیوکلیئر سکیورٹی اور نیشنل نیوکلیئر سکیورٹی ایڈمنسٹریشن کے ایڈمنسٹریٹر سے بھی بات کی تاکہ پلانٹ کی صورتحال کے بارے میں تازہ ترین معلومات حاصل کی جا سکے اور صدر کو اس بارے میں بریف کیا جا رہا ہے۔

  • نیٹ فلیکس اور ایپل کے بعد مائیکروسافٹ کا روس میں اپنی سروس بند کرنے کا اعلان

    نیٹ فلیکس اور ایپل کے بعد مائیکروسافٹ کا روس میں اپنی سروس بند کرنے کا اعلان

    ماسکو : نیٹ فلیکس اور ایپل کے بعد مائیکروسافٹ کا روس میں اپنی سروس بند کرنے کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق مائیکروسافٹ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ وہ روس میں اپنی تمام پراڈکٹس کی سیل اور سروس بند کررہے ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مائیکروسافٹ کی جانب سے آج جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ روس کے یوکرین پر غیرقانونی، بلااشتعال اورغیرمنصفانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور احتجاجاً روس میں اپنی تمام پراڈکٹس کی نئی سیل اور سروس بند کررہے ہیں۔

    خیال رہے مائیکروسافٹ سے قبل ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی کمپنی ’ایپل‘ ، ’نائیکی‘ ، ’ڈیل‘، کی جانب سے بھی روس پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

    دوسری جانب مائیکروسافٹ نے روسی میڈیا ’آر ٹی‘ کی موبائل ایپلیکیشن کو ونڈوز ایپ اسٹور سے نکال دیا ہے اور روسی میڈیا کو اشتہارات دینے پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔اس سے قبل یوکرین پر حملوں کے بعد سوشل میڈیا کی تقریباً تمام کیمپنیز فیس بک ، ٹوئٹر کے علاوہ دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل کی جانب سے روس پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’فیس بک‘ نے نہ صرف روسی میڈیا کی مونیٹائزیشن ختم کردی بلکہ ان کے اشتہارات بھی بند کردیئے ہیں جب کہ فیس بک نے روس کی متعدد سرکاری نشریاتی اداروں کے مواد پر بھی جزوی پابندی عائد کردی ہے۔

    گوگل، یوٹیوب اور ٹوئٹر کی جانب سے بھی روس کے سرکاری میڈیا چینل ‘آر ٹی’ سمیت دیگر تمام ٹی وی چینلز پر ویڈیوز کے ذریعے اشتہارات کے ذریعے پیسے کمانے پر پابندی عائد کردی ہے۔

    یوکرین کے ساتھ جنگ کے اثرات اب روس کی معیشت پر بھی اثرانداز ہورہے ہیں۔ مغرب کی اقتصادی پابندیوں کے بعد دنیا کی بہت سی کمپنیوں نے روس میں اپنی خدمات اور آپریشن روک دیے ہیں۔

    سبسکرپشن بیسڈ اسٹریمنگ سروسز فراہم کرنے والی امریکی کمپنی نیٹ فلکس نے بھی روس میں اپنے تمام جاری اور مستقبل کے منصوبوں پر کام روک دیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کمپنی نے روس میں مستقبل کے تمام منصوبوں کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔

    اس بابت نیٹ فلکس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس وقت روسی زبان میں چار سیریز پروڈکشن اور پوسٹ پروڈکشن میں تھی تاہم روس یوکرین جنگ کے تناظر میں ان منصوبوں کو وقتی طور پر معطل کردیا گیا ہے۔

  • جوہری پلانٹ پر روسی حملہ:سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری،جنگ یا امن:بڑے فیصلے کی توقع

    جوہری پلانٹ پر روسی حملہ:سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری،جنگ یا امن:بڑے فیصلے کی توقع

    نیویارک: جوہری پلانٹ پر روسی حملہ:سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری ،اطلاعات ہیں‌کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس جاری ہے جس میں روس کی طرف سے یوکرین میں ایک جوہری پلانٹ پرروسی افواج کے حملے کوعالمی خطرہ قراردیا ہے ، اجلاس ابھی جاری ہے

    یوکرین میں جوہری پاور پلانٹ پر روسی حملے کے بعد برطانیہ سمیت دیگر ممالک نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس مین کہا گیا ہے کہ یورپ میں سب سے بڑے جوہری پلانٹ زیپروزیا کی عمارت کو نقصان پہنچا ہے اور یوکرین کا کہنا ہے کہ وہاں آگ لگنے کے بعد کئی افراد ہلاک اور زخمی بھی ہوئے ہیں۔ تاہم اب صورتحال قابو میں ہے۔

    امریکی نمائندے نے اس اجلاس میں کہا ہے کہ روسی اقدام ’خطرناک‘ اور ’بغیر سوچے سمجھے‘ کیا گیا۔

    سفارت کاروں نے بتایا کہ یوکرین میں روس کے Zaporizhzhya نیوکلیئر پاور پلانٹ پر حملے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا یہ فیصلہ امن یا جنگ کی طرف بڑا قدم ہوگا

    یاد رہے کہ یوکرین کے شہر زپورئیژا کا جوہری پلانٹ کب سے روسی افواج کے کنٹرول میں ہے؟ روس نے بتا دیا، جس سے یوکرینی حکام کے بیان کی تردید ہوتی ہے۔روسی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ زپورئیژا کا جوہری پلانٹ 5 دن سے روسی افواج کے کنٹرول میں ہے، اور جوہری پلانٹ پر حالات قابو میں ہیں۔

    گزشتہ روز یوکرینی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ روسی فورسز نے زپورئیژا (Zaporizhzhia) نیوکلیئر پاور پلانٹ پر قبضہ کر لیا ہے، اور شدید لڑائی کے دوران گولہ باری سے پلانٹ پر موجود تربیتی مرکز کو آگ لگ گئی ہے۔

    رشین فیڈریشن کی مسلح افواج نے آگ بجھانے کے فوراً بعد زپورئیژا جوہری پاور پلانٹ کے علاقے پر قبضہ کر لیا۔

    برطانوی اخبار دی گارڈین نے رپورٹ کیا کہ یوکرین کے حکام نے بتایا ہے کہ روسی فورسز کی گولہ باری کے بعد جمعہ کی صبح کو جوہری پلانٹ کے باہر ایک تربیتی عمارت میں آگ بھڑکی۔ یوکرین کے وزیر خارجہ دیمتری کُلیبا نے ایک ٹوئٹ میں تصدیق کی کہ جمعے کو روسی حملے میں زپورئیژا نیوکلیئر پاور پلانٹ میں آگ لگی۔

    یوکرین کے صدر زیلنسکی نے ایک ویڈیو پیغام میں اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ’روس کے علاوہ کسی اور ملک نے آج تک جوہری توانائی کے یونٹوں پر فائرنگ نہیں کی، دہشت گرد ریاست نے اب ایٹمی دہشت گردی کا سہارا لے لیا ہے، انہوں نے عالمی مدد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا اگر کوئی دھماکا ہوتا تو یہ ہر چیز کا خاتمہ ہوتا، اب صرف فوری یورپی کارروائی ہی روسی فوجیوں کو روک سکتی ہے۔‘

    دوسری طرف روس کی وزارت دفاع نے اس حملے کا الزام یوکرین کے تخریب کاروں پر عائد کرتے ہوئے اسے ایک ’بدمعاشی اشتعال انگیزی‘ قرار دے دیا ہے، اور کہا ہے کہ زپورئیژا جوہری پلانٹ پانچ دنوں سے روسی فوج کے قبضے میں ہے۔

    روسی حملہ آور فورسز نے جمعہ کے روز جنوب مشرقی یوکرین میں شدید لڑائی میں یورپ کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ پر قبضہ کر لیا، جس سے عالمی خطرے کی گھنٹی بج گئی، تاہم ایک تربیتی عمارت میں لگی بڑی آگ کو بجھا دیا گیا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ یہ سہولت اب محفوظ ہے۔

    روس کی وزارت دفاع نے پلانٹ میں لگنے والی آگ کا ذمہ دار یوکرین کے تخریب کاروں کے "شدت پسندانہ حملے” کو قرار دیا اور کہا کہ اس کی افواج کنٹرول میں ہیں۔

  • گیرہارڈ شروڈر روسی کمپنیوں سےعلیحدگی اختیار کریں:جرمن چانسلرکا اپنی قوم کے بڑوں کوپیغام

    گیرہارڈ شروڈر روسی کمپنیوں سےعلیحدگی اختیار کریں:جرمن چانسلرکا اپنی قوم کے بڑوں کوپیغام

    برلن :گیرہارڈ شروڈر روسی کمپنیوں سےعلیحدگی اختیار کریں:جرمن چانسلرکا اپنی قوم کے بڑوں کوپیغام ،اطلاعات کے مطابق جرمن چانسلر اولاف شولس نے سابق چانسلر گیرہارڈ شروڈر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روسی کمپنیوں سے فوری طور پر علیحدگی اختیار کریں۔

    جرمن ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ سابق جرمن گیرہارڈ شروڈر کے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے برسوں کے گہرے تعلقات ہیں۔سابق جرمن چانسلر گیرہارڈ شروڈر روسی حکومت کی انرجی کمپنیوں کے انتظامی بورڈز میں اعلیٰ حیثیت کے حامل ہیں۔

    ستتر سالہ شروڈر روسی صدر پیوٹن اور کریملن کے کاروباری حلقے کے ساتھ دیرینہ بزنس رفاقت رکھتے ہیں۔

    وہ روس کے توانائی کے بڑے ادارے ‘روس نیٹ‘ کے سپروائزری بورڈ کے سربراہ بھی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کسی حد تک متنازعہ خیال کیے جانے والے قدرتی گیس کی فراہمی کے منصوبوں نارتھ سٹریم ون اور نارتھ سٹریم ٹو کے نگران بورڈز میں بھی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

    جرمنی میں گیرہارڈ شروڈر کے روسی صدر پیوٹن اور روسی انرجی کمپنیوں سے تعلقات پر گہری تشویش پائی جاتی ہے اور اب تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے کسی حد تک جرمن سیاسی اور سماجی حلقے اس تعلق پر ندامت بھی محسوس کرتے ہیں۔

    جرمنی کے این ٹی وی چینل پر ایک بیان دیتے ہوئے وفاقی چانسلر اولاف شولس نے کہا کہ ان کے خیال میں اب یہ مناسب نہیں رہا کہ گیرہارڈ شروڈر ان مناصب پر فائز رہیں اور یہ صحیح ہو گا کہ وہ یہ عہدے چھوڑ دیں۔شولس نے اس امر پر زور دیا کہ ایک عام شہری کے طور پر بھی انہیں ان عہدوں سے علیحدگی اختیار کر لینا چاہیے۔

    موجودہ جرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ گیرہارڈ شروڈر جرمنی کے سابق سربراہِ حکومت ہیں اور موجودہ حالات میں ان کے کاروباری تعلقات کی اہمیت ان کی شخصیت سے زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔

  • روس یوکرین تنازع:پاکستان نے یورپی سفیروں کیطرف سےپریس ریلیزجاری کرنےپرجواب طلب کرلیا

    روس یوکرین تنازع:پاکستان نے یورپی سفیروں کیطرف سےپریس ریلیزجاری کرنےپرجواب طلب کرلیا

    اسلام آباد :روس یوکرین تنازع، پاکستان نے یورپی سفیروں کیطرف سے پریس ریلیز جاری کرنے پرجواب طلب کرلیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان نے روس اور یوکرین تنازع پر ملک میں تعینات یورپی سفیروں کی جانب سے پریس ریلیزجاری کرنے پرتحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق غیرملکی سفیروں کی طرف سے بیان بازی سفارتی روایت نہیں ہے اور ہم نے حالیہ یورپی سفیروں کی طرف سے پریس ریلیزجاری کرنے پرتحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ غیرملکی سفیروں کی طرف سے پریس ریلیز جاری کرنا قابل قبول نہیں، دفترخارجہ اور خارجہ سیکرٹری نے معاملہ یورپی سفارتخانوں کے ساتھ اٹھایا ہے اور یورپی سفارتخانوں نے تسلیم کیا کہ ایسی پریس ریلیزانہیں جاری نہیں کرنی چاہیے تھی۔

    خیال رہے کہ برطانیہ، جاپان، ناروے، آسٹریلیا، ترکی اور کینیڈا سمیت مختلف ممالک کے سفرا اورہائی کمشنرز کی جانب سے پاکستان کو یوکرین پر روسی حملے کی مذمت کرنے اور عالمی قوانین کی حمایت کرنے پر اصرارکیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ روس نے 24 فروری کو یوکرین پر حملہ کیا تھا جس کے بعد سے دارالحکومت کیف سمیت کئی شہر روسی افواج کے محاصرے میں ہیں۔پاکستان نے اس معاملے پر آزاد خارجہ پالیسی پر عمل پیرا رہنے کا فیصلہ کیا اور روس یوکرین کشیدگی کو بات چیت سے حل کرنے پر زور دیا۔

    اس سلسلے میں پرسوں یعنی 2 مارچ کو وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اہم اجلاس میں حکومت نے آزادانہ خارجہ پالیسی پر عمل پیرا رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم کی زیر صدارت سکیورٹی امور سے متعلق اجلاس ہوا جس میں سول اور عسکری حکام نے شرکت کی۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں قومی سلامتی امور سے متعلق امورپرمشاورت کی گئی اور ملکی سکیورٹی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خطےکی صورتحال کے پیش نظر حکمت عملی پر بھی مشاورت کی گئی اور اہم فیصلے کیے گئے۔

    حکومت نے آزاد خارجہ پالیسی پر عمل پیرا رہنے کا فیصلہ کیا اور روس یوکرین کشیدگی کو بات چیت سے حل کرنے پر زور دیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کسی بھی صورت میں کشیدگی کا حامی نہیں۔

  • روس فی الفور یوکرین پرحملے روک دے:نیٹو کی دھمکی پر روس سخت غصےمیں آگیا

    روس فی الفور یوکرین پرحملے روک دے:نیٹو کی دھمکی پر روس سخت غصےمیں آگیا

    برسلز:روس فی الفور یوکرین پر حملے روک دے:نیٹو کی گیدڑ بھپکیاں،اطلاعات کے مطابق برسلز میں نیٹو کے ہیڈ کوارٹر میں جنرل سیکریٹری نے یوکرین میں روس کو فوری حملے روکنے کا انتباہ جاری کیا ہے۔دوسری طرف روس نے نیٹو کی طرف سے دی جانے والی دھمکیوں پرسخت جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے

    برسلز میں نیٹو کے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والے اجلاس میں تمام نیٹو اتحادی ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ یوکرین کی زمینی اور فضائی حدود میں نیٹو افواج داخل نہیں ہوں گی۔

    سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ کا کہنا ہےکہ یوکرین میں روسی حملے میں اس سے بھی بدتر گے اور ہم اسے اس کی قیمت ادا کرائیں گے۔اسٹولٹن برگ نے یہ بات بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں نیٹو کے ہیڈ کوارٹر میں کہی۔

    روس کے صدر ولادیمیرپیوٹن سے یوکرین میں فی الفور جنگ فوری طور پر بند کرنے اور غیر مشروط طور پر یوکرین سے اپنی تمام افواج واپس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسٹولٹن برگ نے خبردار کیا کہ آنے والے دنوں میں یوکرین میں وسیع پیمانے کی ہلاکتوں اور تباہی کا خدشہ ہے۔

    اسٹولٹن برگ نے کہا کہ اتحادیوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یوکرین کی سرزمین یا یوکرین کی فضائی حدود پر نیٹو کی کوئی فوج نہیں ہونی چاہیے۔یہ بتاتے ہوئے کہ نیٹو سفارتی راستے کھلے رکھنے کے لیے اپنا مؤقف برقرار رکھتا ہے، اسٹولٹن برگ نے یوکرین کے تنازع میں نیٹو کی مداخلت پر یورپ میں وسیع پیمانے پر جنگ کے امکان کی طرف توجہ مبذول کرائی۔

    یہ بتاتے ہوئے کہ آنے والے دنوں میں یوکرین کی صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے، اسٹولٹن برگ نے پیوٹن سے سفارتی ذرائع کا سہارا لینے کا مطالبہ کیا۔
    اسٹولٹن برگ نے کہا کہ نیٹو اتحادیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس جنگ کو یوکرین سے آگے بڑھنے سے روکیں۔

    اسٹولٹنبرگ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یوکرین میں کوئی نو فلائی زون نہیں ہوگا اور نہ ہی کوئی فوجی بھیجے جائیں گے۔جب صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ یوکرین کو جنگی طیارے فراہم کریں گے؟ کے جواب میں کہا کہ”نیٹو یوکرین کو مختلف قسم کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے۔

    یہ علم ہے کہ اتحادی ممالک ٹینک شکن ہتھیار اور فضائی دفاعی میزائل فراہم کرتے ہیں، البتہ میں مزید تفصیل میں نہیں جا سکتا۔”

  • روسی ایٹمی حملے کی دھمکی :بیلجیم نے حملے کی صورت میں حفاظتی اقدامات شروع کردیئے

    روسی ایٹمی حملے کی دھمکی :بیلجیم نے حملے کی صورت میں حفاظتی اقدامات شروع کردیئے

    ماسکو:روسی ایٹمی حملے کی دھمکی :بیلجیم نے حملے کی صورت میں حفاظتی اقدامات شروع کردیئے،اطلاعات کے مطابق روس کےایٹمی حملے کی دھمکی کے بعد یورپ کے دیگر ممالک کی طرح بیلجیم میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    بین الاقوامی خبررساں ادارے کے مطابق ایٹمی حملے کے پیش نظر بیلجیم میں آیوڈین کی گولیاں فارمیسیز میں مفت دستیاب ہیں۔ گزشتہ روز 30 ہزار سے زائد افراد نے گولیاں حاصل کیں۔ ایٹمی حملے کی صورت میں یہ گولیاں تھائیرائڈ کی حفاظت کریں گی۔

    عالمی رہنماؤں نے روس پر پورے براعظم کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا الزام لگایا ہے جبکہ یوکرین کے صدر نے روس پر “جوہری دہشت گردی” کا الزام لگایا ہے۔

    اس دوران یوکرین کے صدر نے کہا کہ روس چرنوبل کو دہرانا چاہتا ہے، جو 1986 میں دنیا کی بدترین جوہری تباہی کا مقام تھا۔یوکرین کے صدر نے کہا کہ اگر پلانٹ میں کوئی دھماکا ہوتا ہے تو یہ پورے یورپ کا خاتمہ ہے۔

    اقوام متحدہ کے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی ے کہا کہ آگ نے پلانٹ کے “ضروری” آلات کو متاثر نہیں کیا اور تابکاری کی سطح میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔

    عالمی رہنماؤں نے روس پر الزام لگایا ہے کہ اس کی افواج نے جوہری پاور اسٹیشن پر گولہ باری کر کے پورے براعظم کی حفاظت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

    عالمی رہنماؤں نے روس پر پورے براعظم کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا الزام لگایا ہے جبکہ یوکرین کے صدر نے روس پر ’جوہری دہشت گردی‘ کا الزام لگایا ہے۔

    برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ یہ حملہ پورے یورپ کی سلامتی کو براہ راست متاثر کرسکتا ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے روس پر زور دیا کہ وہ جوہری پلانٹ کے ارد گرد اپنی فوجی سرگرمیاں روک دے۔

    کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے مطالبہ کیا کہ روس کی جانب سے خوفناک حملوں کو فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔

  • روسی صدرکے لہجے سے لگتا ہےکہ "’ یوکرین پر مکمل قبضے تک جنگ مسلط رہے گی ‘:فرانسیسی صدر

    روسی صدرکے لہجے سے لگتا ہےکہ "’ یوکرین پر مکمل قبضے تک جنگ مسلط رہے گی ‘:فرانسیسی صدر

    پیرس:روسی صدرکے لہجے سے لگتا ہےکہ "’ یوکرین پر مکمل قبضے تک جنگ مسلط رہے گی ‘اطلاعات کے مطابق فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ روسی صدر کی باتوں سے لگتا ہے کہ یوکرین پر مکمل قبضے تک جنگ جاری رہے گی۔

    فرانس کے صدر کے ترجمان کے مطابق فرانسیسی صدر اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن کے درمیان فون کال کے ذریعے رابطہ ہوا ہے جس کے بعد لگتا ہے کہ یوکرین میں ’ابھی برا ہونا باقی ہے۔‘

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے درمیان فون پر 90 منٹ طویل بات چیت ہوئی ہے۔اس بات چیت کے حوالے سے فرانسیسی صدر کے معاون نے کہا ہے کہ ’پیوٹن کے ارادے پورے ملک پر قبضے کرنے کے نظر آ رہے ہیں۔‘

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسیسی صدر کے ایک سینیئر معاون نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا کہ ’صدر کے خیال میں صدر پیوٹن نے جو کچھ بتایا اس سے لگتا ہے کہ برا وقت ابھی آنا ہے۔‘

    معاون نے مزید بتایا کہ ’صدر پیوٹن نے جو کچھ ہمیں بتایا اس میں یقین دلانے والی کوئی بات نہیں تھی۔ انہوں نے آپریشن جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ولادیمیر پیوٹن ’پورے یوکرین پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے الفاظ میں یوکرین کو آخر تک ’ڈی نازیفائی‘ کرنے کے لیے اپنا آپریشن انجام دیں گے۔‘

    معاون نے کہا: ’آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ الفاظ کس حد تک چونکا دینے والے اور ناقابل قبول ہیں اور صدر نے انہیں بتایا کہ یہ جھوٹ ہے۔‘ایمانوئل میکرون نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن پر زور دیا کہ وہ عام شہری ہلاکتوں سے گریز کریں اور انسانی رسائی کی اجازت دیں۔معاون نے کہا کہ اس پر ’صدر پیوٹن نے جواب دیا کہ وہ کوئی وعدہ کیے بغیر اس کے حق میں ہیں۔‘