Baaghi TV

Tag: روس

  • یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست منظور:روس سخت غصے میں آگیا

    یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست منظور:روس سخت غصے میں آگیا

    کیف :یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست منظور:روس سخت غصے میں آگیا ،اطلاعات کےمطابق یوکرینی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ یورپی یونین میں شمولیت کی یوکرینی درخواست منظور کرلی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق گزشتہ روز یوکرین نے یورپی یونین میں شمولیت کی باضابطہ درخواست پر دستخط کیے تھے۔

    یوکرینی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ نے شمولیت کی یوکرینی درخواست منظور کرلی ہے اورشمولیت کیلئے خصوصی طریقہ کار کی اجازت دے دی ہے۔

    یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی نے یورپی پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں ورچوئل خطاب کیا۔اس دوران یورپی پارلیمنٹ کے تمام ارکان نے روس کے خلاف ڈٹ جانے پر کھڑے ہو کر زیلینسکی کیلئے تالیاں بجائیں۔

    ادھر یہ بھی یاد رہے کہ

    یہ جنگ نیٹو کے رکن ممالک کی مشرقی سرحدوں پر لڑی جا رہی ہے۔۔۔ نیٹو کے کئی اتحادی ممالک کو خدشہ ہے کہ اس کے بعد روس کا اگلا ہدف وہی بنیں گے۔

    نیٹو اتحاد جس میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی شامل ہیں، مشرقی یورپ میں مزید فوجیں بھیج رہا ہے۔

    تاہم امریکہ اور برطانیہ کا کہنا ہے کہ ان کا یوکرین میں فوجیں بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    نیٹو کیا ہے؟

    نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کی تشکیل سنہ 1949 میں سرد جنگ کے ابتدائی مراحل میں اپنے رکن ممالک کے مشترکہ دفاع کے لیے بطور سیاسی اور فوجی اتحاد کے طور پر کی گئی تھی۔

    امریکہ اور کینیڈا کے علاوہ 10 یورپی ممالک کی جانب سے دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں بنائے گئے اس اتحاد کا بنیادی مقصد اس وقت کے سوویت یونین سے نمٹنا تھا۔

    جنگ کے ایک فاتح کے طور پر ابھرنے کے بعد، سوویت فوج کی ایک بڑی تعداد مشرقی یورپ میں موجود رہی تھی اور ماسکو نے مشرقی جرمنی سمیت کئی ممالک پر کافی اثر و رسوخ قائم کر لیا تھا۔

    جرمنی کے دارالحکومت برلن پر دوسری جنگ عظیم کی فاتح افواج نے قبضہ کر لیا تھا اور سنہ 1948 کے وسط میں سوویت رہنما جوزف سٹالن نے مغربی برلن کی ناکہ بندی شروع کر دی تھی، جو اس وقت مشترکہ طور پر امریکی، برطانوی اور فرانسیسی کنٹرول میں تھا۔

    شہر میں محاذ آرائی سے کامیابی سے گریز کیا گیا لیکن اس بحران نے سوویت طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد کی تشکیل میں تیزی پیدا کر دی تھی۔

    President Harry S. Truman signing the North Atlantic Treaty, marking the beginning of NATO, in 1949

     نیٹو اتحاد کی بنیاد سنہ 1949 میں سرد جنگ کے اوائل میں رکھی گئی تھی

    سنہ 1949 میں امریکہ اور 11 دیگر ممالک (برطانیہ، فرانس، اٹلی، کینیڈا، ناروے، بیلجیئم، ڈنمارک، نیدرلینڈز، پرتگال، آئس لینڈ اور لکسمبرگ) نے ایک سیاسی اور فوجی اتحاد تشکیل دیا۔

    سنہ 1952 میں اس تنظیم میں یونان اور ترکی کو شامل کیا گیا جبکہ سنہ 1955 میں مغربی جرمنی بھی اس اتحاد میں شامل ہوا۔

    دوسری جانب 1955 میں سوویت روس نے نیٹو کا مقابلہ کرنے کے لیے مشرقی یورپ کے کمیونسٹ ممالک کا الگ سے فوجی اتحاد بنا لیا، جسے وارسا پیکٹ (وارسا معاہدہ) کہا جاتا ہے۔

    سنہ 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد وارسا معاہدے میں شامل متعدد ​​ممالک نے وفاداریاں بدل لیں اور نیٹو کے رکن بن گئے۔

    اس وقت نیٹو اتحاد میں 30 ممالک شامل ہیں۔

    نیٹو اور یوکرین کے ساتھ روس کا مسئلہ کیا ہے؟

    یوکرین سابقہ سوویت یونین کا ایک حصہ ہے جس کی سرحد روس اور یورپی یونین دونوں سے ملتی ہے۔

    یہاں روسی باشندوں کی ایک بڑی آبادی ہے اور روس سے قریبی سماجی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ کریملن یوکرین کو اپنے قریبی علاقے کے طور پر دیکھتا ہے اور حال ہی میں روسی صدر پوتن نے یوکرین کو روس کا حصہ کہا تھا۔

    تاہم حالیہ برسوں میں یوکرین مغرب سے امیدیں لگائے بیٹھا ہے۔ یورپی یونین اور نیٹو میں شمولیت اس کے آئین کا حصہ ہے۔

    یوکرین نیٹو کا رکن نہیں لیکن اس کا ‘شراکت دار ملک’ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ یوکرین کو مستقبل میں کسی بھی وقت اس اتحاد میں شامل ہونے کی اجازت ہے۔

    روس مغربی طاقتوں سے اس بات کی یقین دہانی چاہتا ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہو گا تاہم امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ ایک خودمختار ملک کے طور پر یوکرین کو اپنے سیکیورٹی اتحاد کے بارے میں فیصلہ کرنے کی آزادی ہونی چاہیے اور یہ کہ وہ یوکرین کو نیٹو میں شامل ہونے سے روک نہیں سکتے۔

    روس کو  خدشات

    پوتن

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن کا دعویٰ ہے کہ مغربی طاقتیں اس اتحاد کو روس کو گھیرنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ نیٹو مشرقی یورپ میں اپنی فوجی سرگرمیاں بند کر دے۔

    وہ ایک طویل عرصے سے اس بات پر زور ڈالتے آئے ہیں کہ امریکہ نے 1990 میں دی گئی اپنی اس ضمانت کو ختم کر دیا، جس کے مطابق نیٹو اتحاد مشرق میں نہیں پھیلے گا۔

    امریکہ کا کہنا ہے اس نے ایسی کوئی ضمانت نہیں دی تھی۔

    نیٹو روس کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کے رکن ممالک کی ایک بہت چھوٹی تعداد کی روس کے ساتھ مشترکہ سرحدیں ہیں اور یہ ایک دفاعی اتحاد ہے۔

  • روس کے پاس کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہی نہیں: روسی وزیر خارجہ کے اس بیان پرمغرب پریشان

    روس کے پاس کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہی نہیں: روسی وزیر خارجہ کے اس بیان پرمغرب پریشان

    ماسکو: روس کے پاس کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہی نہیں: روسی وزیر خارجہ کے اس بیان پرمغرب پریشان،اطلاعات کے مطابق روسی وزیر خارجہ نے ایک تازہ بیان میں واضح کیا ہے کہ روس کے پاس درمیانے یا کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل نہیں ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر یوکرین کے شہر خارکیف میں ایک تاریخی عمارت کو میزائل سے نشانہ بنانے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد روسی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ روس کے پاس کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہی نہیں ہیں۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بیان میں کہا کہ یوکرین اشتعال انگیزیاں کر رہا ہے، تاہم روس یوکرین میں جوہری کارروائی سے ہر ممکن گریز کرے گا انھوں نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ واشنگٹن اور مغرب روس کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی پاسداری کرے۔

     

     

    واضح رہے کہ یوکرین پر روسی حملے کا آج پانچواں روز ہے، اس دوران سیکڑوں شہری اور فوجی میزائل حملوں اور گولیوں کا نشانہ بن کر ہلاک ہو چکے ہیں، کیف، اڈیسہ اور خارکیف پر روسی افواج کی شیلنگ جاری ہے, پیر کو اوختیرکا میں ایک فوجی اڈے پر روسی توپ خانے کے حملے میں کم از کم 70 یوکرینی فوجی ہلاک ہونے کے اطلاعات ہیں۔

     

     

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کیف کی جانب ایک بہت بڑے روسی فوجی قافلےکی پیش قدمی دیکھی گئی ہے، روسی فوجی قافلہ سڑک پر 40 میل تک پھیلا ہوا تھا، روسی فوجی کانوائے میں ٹینک اور دیگر جنگی گاڑیاں موجود تھیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کی تصاویر سیٹلائٹ سے حاصل کی گئی ہیں۔

  • یوکرینی دارالحکومت کیف پرروس کے لیے قبضہ مشکل ہوگیا: دفاع کی ذمہ داریاں اہم فوجی کمانڈر کے سپرد

    یوکرینی دارالحکومت کیف پرروس کے لیے قبضہ مشکل ہوگیا: دفاع کی ذمہ داریاں اہم فوجی کمانڈر کے سپرد

    کیف :یوکرینی دارالحکومت کیف پرروس کے لیے قبضہ مشکل ہوگیا: دفاع کی ذمہ داریاں اہم فوجی کمانڈر کے سپرد ،اطلاعات کے مطابق یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی نے دارالحکومت کیف کا دفاع مضبوط کرنے کیلئے فوجی کمانڈ تبدیل کردی۔اطلاعات یہ بھی ہیں‌ کہ ایک بار پھر روسی حملوں میں تیزی آگئی ہے اور جنگ چھٹے روز بھی جاری ہے۔

    روسی فوج کی جانب سے دارالحکومت کیف کی جانب تیزی سے پیشقدمی کی جارہی ہے اور ایسے میں یوکرین نے بھی دارالحکومت کا دفاع مضبوط بنانے کی تیاریاں کرلی ہیں۔

    یوکرینی صدر نے قوم سے خطاب میں کہا کہ دارالحکومت کا دفاع سب سے پہلی ترجیح ہے اور اس کیلئے ملٹری ایڈمنسٹریشن میں تبدیلی کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ دارالحکومت کے دفاع کیلئے جنرل میکولا زیرنوف کو ملٹری انتظامیہ کا سربراہ بنایا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ جنرل میکولا زیرنوف ملک کی قومی سلامتی اور دفاعی کونسل کے رکن ہیں۔

    روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کا آج چھٹا روز ہے اور ایسے میں دارالحکومت کیف اور دیگر علاقوں میں جنگ جاری ہے۔

    گزشتہ روز روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد ایک بار پھر روسی حملوں میں تیزی آگئی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق روسی فوج نے یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف کے سینٹرل اسکوائر پر میزائل حملہ کیا جس میں کم سے کم 10 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔

     

    اُدھر روسی افواج نے یوکرین کے شہر اوختیرکا میں بھی حملے کیے اور ایک فوجی اڈہ تباہ کیا، اس حملے میں 70 یوکرینی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

    اس کے علاوہ آج روسی فوج نے ایک اور یوکرینی شہر خیرسون کو بھی گھیرے میں لیکر حملہ کیا ہے اور اب تک وہاں جنگ جاری ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق خیرسون میں روسی فوجیوں نے باہر جانے والے راستوں پر چوکیاں بنا لی ہیں۔

    رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ روسی افواج کا بڑا کانوائے یوکرینی دارالحکومت کیف کی جانب بڑھ رہا ہے۔ کانوائے کی کیف کی جانب پیشقدمی کی تصدیق سیٹلائٹ تصاویر کی ذریعے بھی کی گئی ہے۔

    دوسری جانب روس نے حملے کے بعد سے لوہانسک اور دونیستک کے علاوہ دارالحکومت کیف کے اردگرد کے علاقے اور خارکیف کے بھی کچھ مقامات پر قبضہ کرلیا ہے۔روس فوج کریمیا کی جانب سے بھی پیشقدمی کرتے ہوئے متعدد مقامات کا کنٹرول سنبھال چکی ہے۔

  • امریکہ،یورپ اوردیگرنیٹواتحادیوں نےروس پرایٹمی حملے سے زیادہ خطرناک حملہ کردیا

    امریکہ،یورپ اوردیگرنیٹواتحادیوں نےروس پرایٹمی حملے سے زیادہ خطرناک حملہ کردیا

    واشنگٹن: امریکہ،یورپ اوردیگرنیٹواتحادیوں نےروس پرایٹمی حملے سے زیادہ خطرناک حملہ کردیا ،اطلاعات کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین پر حملوں میں کمی کا کوئی عندیہ نہیں دیا جبکہ دوسری جانب روس کے یوکرین پرحملے کے جواب میں امریکہ ،یورپ اوردیگرنیٹواتحادیوں نے روس کے ایٹمی حملوں کے جواب میں ایٹمی حملے سے زیادہ سخت جوابی حملہ کرکے عالمی سطح پر اس کی سیاسی و اقتصادی تنہائی میں اضافہ کردیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکہ اور اتحادی ممالک نے روس کو معاشی طور پر سزا دینے کے لیے صدر پوتن سمیت اہم شخصیات اور کاروباری کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ خیال رہے کہ دوسری عالمی جنگ عظیم کے بعد سے یوکرین پر حملہ کسی بھی یورپی ریاست پر ہونے والا سب سے بڑا حملہ ہے۔

    امریکہ نے دو جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے پیش نظر اپنی فوج یوکرین بھجوانے سے انکار کیا ہے تاہم امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک نے یوکرین کو عسکری امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

    کینیڈا نے کہا ہے کہ وہ روسی خام تیل کی درآمد پر پابندی عائد کرے گا جبکہ امریکی ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ کو روسی توانائی کے شعبے پر پابندی عائد کرنی چاہیے۔

    روس کی سب سے زیادہ کمائی تیل کی برآمد سے ہوتی ہے۔ لنڈسے گراہم نے کہا کہ ’ہم توانائی کے شعبے کو ہتھیار کے طور پر نہیں استعمال کر رہے۔ ہم پوتن کو نشانہ نہیں بنا رہے جہاں سے انہیں سب سے زیادہ تکلیف پہنچ سکتی ہے۔‘

    منگل کو متعدد کمپنیوں کے روس میں اپنے دفاتر بند کرنے کا ارادہ ہے جس سے ملک کی معیت کو مزید نقصان پہنچے گا۔ بڑے بینکوں، ایئر لائنز اور گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے شپمنٹ معطل کرنے کے علاوہ روس کے ساتھ شراکت داری ختم کرتے ہوئے اس کے اقدامات کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

    امریکہ نے روس کے مرکزی بینک اور آمدنی کے دیگر ذرائع پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں جس سے روسی روبل کی قدر میں مزید کمی آئی ہے جبکہ چند روسی بینکوں کو عالمی ترسیلات زر کا نیٹ ورک ’سویفٹ‘ کے اسستعمال سے روکا گیا ہے۔

    علاوہ ازیں برطانوی تیل کی کمپنیوں بی پی اور شیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ روسی تیل کی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں میں سے اپنے شیئرز نکال رہے ہیں۔

    روس ثقافتی اور سپورٹس کی سطح پر بھی عالمی تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ ہالی وڈ کے دو بڑے سٹوڈیوز ڈزنی اور وارنر بروس نے بھی کہا ہے کہ وہ آئندہ آنے والی فلموں کی ریلیز روس میں معطل کر رہا ہے۔

    ڈزنی نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ یوکرین پر حملے اور اس سے پیدا ہونے والے انسانی بحران کے باعث روس کے تھیٹر میں ’ٹرننگ ریڈ‘ سمیت دیگر آئندہ آنے والی فلموں کی ریلیز معطل کر رہے ہیں۔

    روسی حکومت سے منسلک میڈیا اداروں کی جانب سے معلومات کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر کے علاوہ مائیکروسافٹ نے بھی اقدامات اٹھائے ہیں۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پیر کی رات گئے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ روس کی فوج کو دارالحکومت کئیف کی دفاعی لائن کو توڑنے نہیں دیا۔

    انہوں نے کہا کہ روس یوکرین کے تھرمل پاور پلانٹ کو نشانہ بنا رہا ہے جو کیئف کی30 لاکھ کی آبادی کو بجلی فراہم کرتا ہے

  • جاپان نے روس کے خلاف نئی جنگ چھیڑدی

    جاپان نے روس کے خلاف نئی جنگ چھیڑدی

    ٹوکیو: جاپان نے روس کے خلاف نئی جنگ چھیڑدی ، ایک طرف یوکرین اور روس کے درمیان میزائلوں ، گولہ باورود کی جنگ ہے تو دوسری طرف جاپان نے روس کے خلاف معاشی پابندیوں کی جنگ چھیڑ کی نیا محاذ کھول دیا ہے ، اسی سلسلے میں‌ جاپان نے روس کے مرکزی بینک کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق یوکرین پر حملے کے تناظر میں جاپان، ماسکو پر پابندیوں کو زیادہ مؤثر بنانے کی کوشش کر رہا ہے، اس سلسلے میں جاپانی حکومت نے روس کے مرکزی بینک کے ساتھ لین دین محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    جاپانی حکام کے مطابق بینک آف جاپان میں روسی مرکزی بینک کے کھربوں ین غیر ملکی کرنسی ذخائر کی شکل میں پڑے ہوئے ہیں، انھیں منجمد کر دیا جائے گا۔

    مغربی ملکوں کی جانب سے سخت نئی اقتصادی پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد پیر کے روز روسی روبل کی قدر گر کر اب تک کی ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔

    بینک آف رشیا کرنسی منڈیوں میں روبل کے دفاع کے لیے اپنے بین الاقوامی محفوظ ذخائر کو استعمال کے لیے منظم کرتا رہا ہے، لیکن اگر اُس کے ذخائر منجمد کر دیے گئے تو بینک کو ایسا کرنے میں مشکل پیش آئے گی۔

    ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر روبل کی قدر تیزی سے گرتی رہی تو افراطِ زر میں اضافہ ہوگا جس سے روسی معیشت کو دھچکا لگے گا۔

    بتایا جاتا ہے کہ روس کا مرکزی بینک اپنے غیر ملکی کرنسی ذخائر کی بڑی مقدار ڈالر، یُورو اور یُوآن میں رکھتا ہے، تاہم جاپانی حکام کو یقین ہے کہ حکومتی اقدام سے روس کے خلاف پابندیوں کو زیادہ مؤثر بنانے میں مدد ملے گی

    دوسری طرف لڑائی میں شدت آگئی ہے اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک اور ویڈیو پیغام میں کہا کہ روس کی فوج کو دارالحکومت کئیف کی دفاعی لائن کو توڑنے نہیں دیا۔

    انہوں نے کہا کہ روس یوکرین کے تھرمل پاور پلانٹ کو نشانہ بنا رہا ہے جو کیئف کی30 لاکھ کی آبادی کو بجلی فراہم کرتا ہے

  • یوکرین پرحملہ: روس میں ہالی ووڈ فلموں کو ریلیز نہ کرنے کا اعلان

    یوکرین پرحملہ: روس میں ہالی ووڈ فلموں کو ریلیز نہ کرنے کا اعلان

    یوکرین پر حملے کے بعد روس میں ہا لی وڈ فلموں کی ریلیز کو روک دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : روس اور یوکرین کے درمیان 5 روز سے جنگ جاری ہے اور روسی افواج نے یوکرینی دارالحکومت کیف سمیت کئی شہروں کا محاصرہ کر رکھا ہے امریکا، برطانیہ اور یورپ سمیت کئی ممالک نے روسی صدر، بینکوں اور اداروں پر مالی پابندیاں عائد کی ہیں۔

    جلد ہی عالمی سطح پر ریلیز ہونے والی دیگر بڑی فلمیں بشمول وارنر برادرز کی سپر ہیرو فلم دی بیٹ مین کی ریلیز بھی روک دی گئی ہے۔

    وارنر برادرز کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یوکرین کے انسانی بحران کے پیش نظر وارنر میڈیا نے دی بیٹ مین کی روس میں ریلیز روک دی ہے، ہم صورتحال پر نظر رکھیں گے اور توقع ہے کہ اس سانحے کا فوری اور پرامن حل نکلے گا۔

    ہا لی وڈ اسٹوڈیو ڈزنی نے بھی روس میں اپنی تمام فلموں کی ریلیز روک دی ہے ڈزنی کے مطابق یوکرین پر بلاجواز حملے اور المناک انسانی بحران کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

    ڈزنی کا جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہم مستقبل کے کاروباری فیصلے صورتحال کے مطابق کریں گے، اس وقت تک ابھرتے پناہ گزینوں کے بحران کے پیش نظر ہم نے اپنے این جی او شراکت داروں کے ساتھ مل کر فوری امداد اور دیگر معاونت فراہم کرنے پر کام شروع کردیا ہے ڈزنی کی انیمیٹڈ فلم ٹرننگ ریڈ 10 مارچ کو ریلیز ہونا تھی جسے اب روک دیا گیا ہے-

    یوکرین پر حملہ: فیفا نے روس پر فٹبال کے عالمی ورلڈکپ میں شرکت پر پابندی لگادی

    ڈزنی اور وارنر برادرز کے بعد سونی پکچرز نے بھی اعلان کیا کہ وہ اپنی فلموں میں روس میں ریلیز نہیں کرے گی اس اسٹوڈیو کی سپر ہیرو فلم موربیوس 24 مارچ کو روس میں ریلیز ہونا تھی۔

    سونی پکچرز کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یوکرین میں جاری فوجی کارروائی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے غیریقینی صورتحال اور انسانی بحران کے پیش نطر ہم نے اپنی فلموں کی روس میں ریلیز روک دی ہے۔

    روس،یوکرین جنگ :زیر زمین پناہ گاہوں میں بچوں کی پیدائش

    دوسری جانب نیٹ فلیکس نے تصدیق کی ہے کہ اس نے روس کے ریاستی پروپگینڈا کو نشر کرنے سے انکار کردیا ہے جو روس میں یکم مارچ سے نافذ ہونے والے قانون کے مطابق کرنا تھا اس قانون کے تحت ایک لاکھ سے زیادہ صارفین والی اسٹریمنگ سروسز کو روس کے 20 بڑے ٹی وی چینلز کو بھی دکھانا تھا۔

    نیٹ فلیکس کے ایک ترجمان کے مطابق موجودہ صورتحال کے باعث ہمارا اپنی سروس میں ان چینلز کو شامل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔

    اقوام متحدہ کی ماحولیاتی کانفرنس میں روسی وفد نے یوکرین حملے پر معافی مانگ لی

  • یوکرین پر حملہ: فیفا نے روس پر فٹبال کے عالمی ورلڈکپ میں شرکت پر پابندی لگادی

    یوکرین پر حملہ: فیفا نے روس پر فٹبال کے عالمی ورلڈکپ میں شرکت پر پابندی لگادی

    یوکرین میں جنگی کارروائیوں کے بعد فیفا نے بھی روس پر فٹبال کے عالمی ورلڈکپ میں شرکت پر پابندی لگادی۔

    باغی ٹی وی :روس اور یوکرین کے درمیان 5 روز سے جنگ جاری ہے اور روسی افواج نے یوکرینی دارالحکومت کیف سمیت کئی شہروں کا محاصرہ کر رکھا ہے امریکا، برطانیہ اور یورپ سمیت کئی ممالک نے روسی صدر، بینکوں اور اداروں پر مالی پابندیاں عائد کی ہیں۔

    اب فیفا نے بھی روس پر فٹبال کے عالمی ورلڈکپ میں شرکت پر پابندی لگادی ہے-

    برطانوی خبر رساں ادارے ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے نےہرقسم کے مقابلوں میں روس کے حصہ لینے پر پابندی عائد کردی ہے جبکہ فیفا اور دی یونین آف یورپین فٹبال ایسوسی ایشن (یوئیفا) نے مشترکہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کسی بھی قسم کےفٹبال مقابلوں میں شرکت نہیں کرسکے گا۔


    دوسری جانب روس کی قومی فٹبال ٹیم نے 24 مارچ کو قطر 2022 ورلڈکپ کے پلے آف مرحلے کے لیے پولینڈ کے ساتھ کھیلنا تھا تاہم روسی فٹبال فیڈریشن کی جانب سے اب تک کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔

    اس کے علاہ یوئیفا نے روسی توانائی کمپنی گیزپروم کے ساتھ اسپانسر شپ کا معاہدہ بھی منسوخ کردیا ہے، جو 2012 سے جاری تھا جس کی قیمت تقریباً 40 ملین یورو فی سیزن بتائی جارہی ہے۔

    اس سے قبل یوئیفا چیمپئن شپ 2021-22 کے فائنل کی میزبانی روس سے واپس لے لی گئی تھی جبکہ یوکرین کے ہمسایہ ملک پولینڈ نے روس کی جانب سے یوکرین میں فوجی کارروائی کے خلاف روس سے فٹ بال ورلڈکپ کا کوالیفائر میچ کھیلنے سے انکار کردیا تھا۔

    جبکہ برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اتوار کے روز فیفا کی گورننگ باڈی نے روس کے یوکرین پر حملے کے بعد متعدد پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئےکہا تھا کہ روس میں کوئی بھی بین الاقوامی فٹ بال میچ نہیں کھیلا جائے گا۔

    خبررساں ایجنسی کے مطابق فیفا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ روس کی قومی فٹبال ٹیم روس کے بجائےفٹبال یونین آف روس(Football Union of Russia )کے طور پر میچز کھیلے گی جبکہ یہ میچز شائقین کے بغیر نیوٹرل مقام پر کھیلیں جائیں گے۔

    علاوہ ازیں فیفا نے بین الاقوامی میچز میں روسی پرچم اور ترانے کے استعمال پر پابندی عائد کی تھی اور کہا تھا کہ روس میں کوئی بھی بین الاقوامی فٹ بال میچ نہیں کھیلا جائے گا۔

    جبکہ انٹرنیشنل جوڈو فیڈریشن (آئی جے ایف) نے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن سے اعزازی صدارت کا عہدہ بھی چھین لیا ہے انٹرنیشنل جوڈو فیڈریشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یوکرین پر حملے کے بعد ولادیمیر پیوٹن کو فیڈریشن کی اعزازی صدارت اور سفیر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

    خیال رہے کہ روسی صدر بلیک بیلٹ جوڈو ماسٹر ہیں اور 2019 میں بھی ٹیم کے ساتھ ٹریننگ سیشن میں حصہ لیا تھا۔

  • نابینا نجومی بابا وانگا کی روس کے حوالے سے پیشگوئی

    نابینا نجومی بابا وانگا کی روس کے حوالے سے پیشگوئی

    روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے 24 فروری کو یوکرین کے خلاف جنگ شروع کردی ایسے جنگ کے ماحول میں بلغاریہ کی نامور خاتون نجومی آنجہانی بابا وانگا کی ایک پیش گوئی کی کافی بات کی جارہی ہے۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 9/11 کے دہشت گرد حملوں اور بریگزٹ سمیت عالمی واقعات کی پیش گوئی کرنے والی بابا وانگا نے روس کے لیے بھی پیشی گوئی کی تھی 85 سال کی عمر میں انتقال کر جانے والی بابا وانگا نے برطانوی اخبار ڈیلی میل کے ترجمان کو بتایا تھا کہ یورپ کے بنجر ہونے کے بعد روس دنیا پر حمکرانی کرے گا۔

    انہوں نے کہا تھا کہ سب برف کی طرح پگھل جائے گی لیکن صرف ولادیمیر پیوٹن باقی رہ جائے گا جبکہ انہوں نے پیش گوئی کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ روس کو کوئی نہیں روک سکتا۔

    2022 کی خطرناک پیشنگوئیاں، تین دن کا اندھیرا اور خوفناک جنگ

    بابا وانگا ایک حادثے میں نابینا ہوئی تھیں جن کے مطابق یہ کہا جاتا ہے کہ ان میں مستقبل دیکھنے کا ہنر قدرتی طور پر موجود تھا، یہ پیدائش وانگا سکندراعظم کے دیس مقدونیہ میں1911ء میں پیدا ہوئی وہ نہ صرف جڑی بوٹیوں کی حکیم بلکہ مذہبی پیشوا بھی تھیں جنہوں نے سال 5079 تک کی پیش گوئیاں کی ہیں کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس کے بعد دنیا کا اختتام ہوجائے گا بابا وانگا کی جانب سے کی گئی پیش گوئیوں میں سے 80 فیصد درست ثابت ہوئیں۔

    12سال کی عمر میں ایک طوفان اسے اڑا لے گیا، بعد میں وہ ایک جگہ پڑی ہوئی ملی، وہ زندہ تھی مگر اس کی آنکھوں میں ریت اور کنکر پڑے ہوئے تھے اس روز اس کی باہر دیکھنے والی آنکھیں بند اور اندر دیکھنے والی آنکھیں کھل گئیں۔ وانگا نے پیش گوئیاں کرنا شروع کر دیں جو اکثر پوری ہوتیں۔ اس کے ابا کی بھیڑ چوری ہوئی تو اس نے وہ پتا بتا دیا جہاں چوروں نے بھیڑ کو چھپا رکھا تھا سنا ہے ہٹلر بھی اس سے ملنے آیا اور ملنے کے بعد پریشان نظر آیا۔

    2020:ڈونلڈ ٹرمپ کودماغی کینسر.پوتن کی جان جاسکتی ہے،بابا وانگا نامی خاتون کی پیش گوئی

    وانگا 1996ء میں فوت ہو گئی لیکن اس کی دو بڑی پیش گوئیاں اس کی موت کے بعد پوری ہوئیں ایک نیویارک کے ٹوئن ٹاورز پر حملے کی اور دوسری ایشیاء میں سونامی کی۔ مستقبل قریب کے لیے اس نے دو مزید پیش گوئیاں کر رکھی ہیں۔ ایک یہ کہ 2016 میں مسلمان یورپ پر دھاوا بول دیں گے اور دوسرے یہ کہ 2018ء میں چین امریکا کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے بڑی سپرپاور بن جائے گا۔

    دنیا کے خاتمے کے بارے وانگا کیا کہتی ہیں، یورپ میں جنگ کے باعث 2025 میں یہاں کی آبادی غائب ہو جائے گی 2033ء میں قطب شمالی اور قطب جنوبی پگھل جائیں گے اور دنیا بھر میں پانی کی سطح بڑھ جائے گی 3797ء میں دنیا ختم ہو جائے گی مگر انسان کسی اور نظام شمسی کی طرف ہجرت کر جائے گااور کائنات ختم ہو گی 5079ء میں۔

    بابا وانگا کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے شہزادی ڈیانا کی موت، سویت یونین کے ختم ہونے، جرمنی کے مشرق اور مغرب کے اتحاد اور 2004 میں تھائی لینڈ کے سونامی جیسی بڑی پیش گوئیاں کی تھیں جو پوری ہوئیں۔

    نابینا خاتون نجومی بابا وینگا کی 2022 کیلئے پیش گوئیاں

    بابا وانگا کی رواں سال 2022 کے بارے پیشگوئیاں

    بابا وانگا نے 2022 کی بھی پیشگوئیاں کی تھیں کہ بابا وانگا کی پیش گوئی کے مطابق 2022 میں آسٹریلیا اور ایشیائی ممالک کو آئندہ سال سیلاب اور زلزلے کا سامنا ہوگا جس سے کئی زندگیاں ضائع ہوجائیں گی جہاں دنیا پہلے ہی کورونا وائرس جیسی عالمی وبا کے شکنجے میں ہے وہیں بابا وانگا کے مطابق محققین سائبیریا میں ایک مہلک وائرس دریافت کریں گے، یہ وائرس لوگوں میں بہت تیزی سے پھیلے گا جب کہ اس سے بچنے کے انتظامات کرنے میں بھی بہت وقت لگ جائے گا۔

    نابینا خاتون نجومی کی پیش گوئی کے مطابق بھارت کی کئی ریاستوں کو 2022 میں بھی ٹڈی دل کے حملے کا سامنا کرنا پڑے گا جس سے فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے اس سے قبل 2020 میں بھی ریاست گجرات، راجستھان اور مدھیا پردیش میں ٹڈی دلوں نے حملہ کیا تھا۔

    بابا وانگا کے دعوے کے مطابق اومواموا نامی سیارچہ زمین پر زندگی کی تلاش کے لیے ایلین بھیجے گا جہاں دنیا پہلے سے ہی پانی کی کمی کے مسئلے سے دوچار ہے وہیں بابا وانگا کے مطابق 2022 میں دنیا کے کئی شہر پانی کی قلت کا شکار ہوں گے۔

    غیر ملکی میڈیا کےمطابق بابا وانگا کی پیش گوئیوں میں ایک پیش گوئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے بھی کی گئی ہے، جہاں لوگ پہلے ہی ٹیکنالوجی کے استعمال کے عادی بن چکے ہیں وہاں 2022 میں لوگوں کا استعمال مزید بڑھ جائے گا اور لوگ ذہنی مریض بن جائیں گے-

  • کونسے سے ممالک یوکرین کو اسلحہ فراہم کر رہے ہیں؟

    کونسے سے ممالک یوکرین کو اسلحہ فراہم کر رہے ہیں؟

    بیلا روس: روس اور یوکرین کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں یوکرینی وفد نے فوری سیز فائر اور فوج نکالنے کا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : روس اور یوکرین کے درمیان آج پانچویں روز بھی جنگ جاری ہے اور اس دوران کئی یوکرینی شہر روسی افواج کے محاصرے میں ہیں یوکرین کی جانب سے بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں مذاکرات سے انکار اور پھر آمادگی کے بعد آج دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔

    روس،یوکرین جنگ :زیر زمین پناہ گاہوں میں بچوں کی پیدائش

    بیلاروسی کے سرحدی علاقے گومیل میں ہونے والے مذاکرات میں یوکرینی وفد کی قیادت وزیر دفاع اولیکسی ریزنیکوف کر رہے ہیں جبکہ یوکرینی صدر کے مشیر بھی شامل ہیں یوکرینی وفد فوجی ہیلی کاپٹر میں مذاکراتی مقام پر پہنچا۔

    غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مذاکرات میں یوکرین نے روسی افواج کے فوری طور پر ملک سے نکلنے کا مطالبہ کیا جبکہ یوکرینی وفد نے روس سے فوری طور پر سیز فائر کا بھی مطالبہ کیا تاہم مذاکرات کے حوالے سے اب تک کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی مذاکرات میں ہونے والی کوئی اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

    ادھر روس کی جانب سے یوکرین میں اپنے فوجی بھیجے جانےکے بعد سے دنیا بھر سے مختلف ممالک یوکرین کی فوجی امداد کررہے ہیں الجزیرہ کے مطابق یوکرینی وزارت صحت نے دعویٰ کیا ہےکہ جنگ شروع ہونےکے بعد سے 350 سے زائد شہری ہلاک ہوچکے ہیں اقوام متحدہ کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے ساڑھے 3 لاکھ سے زائد یوکرینی شہری پولینڈ اور دیگر ہمسایہ ممالک میں پناہ لے چکے ہیں۔

    یوکرین کا روس کے 5300 فوجی ہلاک اور29 طیارے مارگرانے کا دعویٰ

    خیال رہے کہ عسکری قوت کے لحاظ سے دونوں ممالک کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ روس دنیا کی دوسری بڑی عسکری قوت ہونے کے باعث یوکرین سے کئی گنا زیادہ طاقت ور ہے، ایسی صورتحال میں بہت سے ممالک ہیں جو روس کے خلاف دفاع کے لیے یوکرین کو اسلحہ اور دیگر عسکری سازو سامان فراہم کررہے ہیں یوکرین کی جانب سے امریکا اور یورپی اتحادیوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ اسے روس کے خلاف مزاحمت کے لیے ٹینک شکن میزائل اور طیارہ شکن اسٹنگر میزائل فراہم کیے جائیں۔

    امریکا:
    یوکرین کو فوجی امداد فراہم کرنے والے ممالک میں امریکا سرفہرست ہے، 25 فروری کو صدر بائیڈن نے یوکرین کے لیے اضافی فوجی امداد کا اعلان کیا جس کے تحت یوکرین کو 35 کروڑ ڈالر کی اضافی فوجی امداد فراہم کی جارہی ہے –

    امریکی وزیرخارجہ انتھونی بلنکن کا کہنا تھا کہ روسی حملےکے خلاف امریکی پیکج میں ہلاکت خیز ہتھیاروں کی دفاعی امداد شامل ہوگی۔

    امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق یوکرین کو فراہم کیے جانے والے اسلحے میں ٹینک شکن سمیت متعدد ایسے ہتھیار ہیں جو فرنٹ لائن پر موجود یوکرینی فوجیوں کے کام آئیں گے، جب کہ امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان کے مطابق اسلحے میں طیارہ شکن میزائل بھی شامل ہیں۔

    یوکرین:ایٹمی تنصیبات پرروس کے میزائل حملے:امریکہ اوراتحادیوں کی طرف سے سخت ردعمل

    امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے حالیہ کچھ عرصے میں یوکرین کو ایک ارب ڈالر سے زائد فوجی امداد فراہم کی گئی ہے۔

    برطانیہ:
    جنوری میں برطانوی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ برطانیہ نے یوکرین کو ٹینک شکن میزائل فراہم کرنےکا فیصلہ کیا ہےگذشتہ بدھ کو برطانوی وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا یوکرین کی عسکری امداد جاری رکھی جائےگی اور یوکرین کو مہلک دفاعی اسلحہ بھی فراہم کیا جائےگا۔

    بورس جانسن کا کہنا تھا کہ روس کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر یوکرین کو دفاعی امداد کا پیکج فوری طور پر فراہم کررہے ہیں، یوکرین کو فراہم کیے جانے والے اسلحے میں مہلک اور دفاعی دونوں طرح کے ہتھیار شامل ہیں۔

    فرانس:
    فرانس کی جانب سے یوکرین کی پہلے سے ہی عسکری امداد کی جارہی ہے اور اب فرانسیسی حکومت نے یوکرین کو مزید فوجی سازو سامان اور فیول فراہم کرنےکا فیصلہ کیا ہے فرانس کا کہنا ہےکہ یوکرین کی درخواست پر اسے دفاع کے لیے طیارہ شکن توپیں اور ڈیجیٹل اسلحہ فراہم کیا گیا ہے۔

    پیوٹن کی نیوکلیئر فورسزکو تیار رہنے کی ہدایت،نیٹو اور امریکا کا شدید ردعمل

    نیدرلینڈ:
    ایک اور یورپی ملک نیدر لینڈ کی جانب سے یوکرین کو 200 طیارہ شکن اسٹنگر میزائل فراہم کیے جارہے ہیں اور اس حوالے سے ولندیزی حکومت نے جلد ازجلد میزائل فراہم کرنےکے لیے پارلیمنٹ کو خط لکھ دیا ہےنیدرلینڈ کی جانب سے یوکرین کو ٹینک شکن میزائل اور راکٹ بھی فراہم کیے جارہے ہیں اس کے علاوہ نیدرلینڈ جرمنی کے ساتھ مل کر یوکرین کے پڑوسی ملک سلواکیہ میں فضائی دفاعی نظام پیٹریاٹ بھیجنے پر بھی غور کر رہا ہے۔

    جرمنی :
    جرمنی کا شمارہ دنیا کے بڑے اسلحہ ساز ممالک میں ہوتا ہے، جرمنی کی جانب سے یوکرین کو ایک ہزار ٹینک شکن اور 500 طیارہ شکن اسٹنگر میزائل فراہم کیے جارہے ہیں جرمنی کے اس اقدام کو اس کی پالیسی میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جارہا ہےکیونکہ جرمنی طویل عرصے سے جنگ زدہ علاقوں میں اسلحےکی فراہمی پر پابندی کی پالیسی پرکاربند رہا ہے۔

    جرمن چانسلر کا کہنا ہےکہ روس کی جانب سے یوکرین میں حملہ اہم موڑ ہے، اس موقع پر ہمارا فرض ہے کہ ہم یوکرین کو اس کے دفاع کے لیے ہرممکن امداد کریں۔

    اقوام متحدہ کی ماحولیاتی کانفرنس میں روسی وفد نے یوکرین حملے پر معافی مانگ لی

    کینیڈا:
    کینیڈا کی جانب سے روسی حملےکے خلاف مزاحمت کے لیے یوکرین کو مہلک اسلحہ فراہم کیا جارہا ہے اور اس کے علاوہ یوکرین کو تقریباً40 کروڑ امریکی ڈالر کا قرضہ بھی دیا جارہا ہے۔

    سویڈن:
    اسکینڈے نیوین یورپی ملک سویڈن بھی اپنی غیرجانبدار رہنے کی تاریخی پالیسی ختم کرتے ہوئے 5 ہزار ٹینک شکن راکٹ یوکرین کو فراہم کررہا ہے، اس کے علاوہ جنگ میں فوجیوں کے زیر استعمال عسکری سازو سامان اور بلٹ پروف جیکٹ بھی دی جارہی ہیں 1939 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب سویڈن نے جنگ زدہ ملک کو اسلحہ فراہم کیا ہے، آخری بار یہ تب ہوا تھا جب سوویت یونین نے 1939 سویڈن کے ہمسایہ ملک فن لینڈ پر حملہ کیا تھا۔

    بیلجیئم اور پرتگال:
    ایک اور یورپی ملک بیلجیئم نے بھی 3 ہزار سے زائد مشین گنیں، 200 ٹینک شکن میزائل اور ہزاروں ٹن فیول فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔جبکہ پرتگال کی جانب سے یوکرین کو رات میں دیکھنے والے چشمے ‘نائٹ ویژن گوگلز’ ، دستی بم، خودکار جی تھری بندوقیں اور دیگر اسلحہ فراہم کیا جارہا ہے۔

    یونان
    یوکرین میں یونانی شہریوں کی ایک بڑی تعداد روزگار کے لیے موجود ہے جن میں سے حالیہ تنازعے میں 10 افراد قتل بھی ہوئے ہیں۔ یونان کی جانب سے یوکرین کو انسانی امداد کے ساتھ دفاعی آلات فراہم کیے جارہے ہیں۔

    رومانیہ
    یوکرین کے ہمسایہ ملک رومانیہ نے اپنے 11 فوجی اسپتال یوکرین سے آنے والے زخمیوں کے لیے مختص کردیے ہیں، اس کے علاوہ رومانیہ یوکرین کو فیول سمیت 33 لاکھ ڈالرکا فوجی سازوسامان فراہم کررہا ہے۔

    یوکرین بغیر کسی پیشگی شرط کے روس کے ساتھ امن مذاکرات پر تیار

    اسپین
    ہسپانوی حکومت نے بلٹ پروف جیکٹوں سمیت دیگر دفاعی آلات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، اس کے علاوہ یوکرین کے لیے طبی سازوسامان اور کھانے پینے کا سامان بھجوایا جارہا ہے۔

    چیک ریپبلک
    چیک ریپلک کی حکومت نے 4 ہزار مارٹر گولے فوری طور پر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، اس کے علاوہ ہزاروں بندوقیں، خودکار مشین گنیں، اسنائپر رائفلز اور لاکھوں گولیاں فراہم کی جارہی ہیں۔

    ادھر نیٹو چیف اسٹولٹن برگ نےکہا ہےکہ یوکرین کےدفاع کےلیے پہلی بار نیٹو ریسپانس فورس فعال کی ہے،جس کے لیے امریکا 6 ارب ڈالر مختص کرےگا،یہ ریسپانس فورس مشرقی یورپ میں تعینات ہوگی۔

    دوسری جانب سوال اٹھ رہا ہےکہ 30 ممالک پر مشتمل سیاسی و عسکری اتحاد نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) یوکرین کے دفاع کے لیے اپنی فوجیں بھیجے گا یا نہیں؟

    واضح رہے کہ یوکرین نیٹو کا رکن نہیں ہے تاہم سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سابقہ سوویت یونین میں شامل اکثر یورپی ممالک نے نیٹو میں شمولیت اختیار کرلی تھی جب کہ یوکرین نیٹو کارکن تو نہیں بنا تاہم اس حوالے سے مذاکرات ہوتے رہے ہیں اور روس اس کا شدید مخالف رہا ہے روس کی جانب سےکریمیا کے تنازع میں کردار اور حالیہ تنازع کے بعد سے نیٹو نے یوکرین کو اس کے دفاع کے لیے متعدد یقین دہانیاں کروائی ہیں

    یورپ کا روس کے خلاف اتحاد:فضائی راستے بند:روسی طیارے گزریں گے توگرا دیں گے:جرمنی…

    ایسی صورتحال میں ایک برطانوی شہری نےبرطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سوال کیا کہ وہ کون سا وقت ہوسکتا ہے جب نیٹو کے رکن ممالک کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے اور وہ یوکرین کی مدد کے لیے فوجیں بھجوانے پر رضامند ہوجائیں؟

    کیف میں موجود بی بی سی کے انٹرنیشنل ڈیسک کے چیف رپورٹر لائز ڈاؤسٹ نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ نیٹو کے رکن ممالک روس کی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے خبردار کیا ہےکہ ان کا عسکری دفاعی اتحاد اپنے رکن ممالک کی زمین کے ہر انچ کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ نیٹو ممالک نے یوکرین میں اسلحہ اور فوجی سازو سامان بھجوایا ہے اور انہوں نے حالیہ برسوں میں یوکرینی فوجیوں کو تربیت بھی فراہم کی ہے، جو کہ روسی حملےکے خلاف یوکرین کے دفاع کے لیے کیا گیا اقدام ہے تاہم ان کی جانب سے مسلسل یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یوکرینی زمین پر نیٹو کا کوئی فوجی نہیں بھیجا جائےگا کیونکہ یوکرین نیٹو کا رکن نہیں ہے، البتہ اگر روس یوکرین سے آگے نیٹو کے رکن ممالک کی طرف بڑھتا ہے تو صورتحال بدل سکتی ہے۔

    لائز ڈاؤسٹ کے مطابق اگر ایسا ہوا تو دنیا ایک غیر یقینی صورتحال میں داخل ہوجائےگی جس میں روس اور نیٹو کے تصادم کا خطرہ خطرناک حد تک بڑھ جائےگا۔

    خیال رہے کہ نیٹو کے آئین کے مطابق اگر کسی ایک رکن ملک پر حملہ ہو تو وہ تمام اتحادیوں پر حملہ تصور کیا جائےگا۔

    یوکرین نے روس کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں درخواست جمع کرا دی

  • یوکرین کا روس کے 5300 فوجی ہلاک اور29 طیارے مارگرانے کا دعویٰ

    یوکرین کا روس کے 5300 فوجی ہلاک اور29 طیارے مارگرانے کا دعویٰ

    کیف: یوکرین نے روس کے 5300 فوجی ہلاک اور29 طیارے مارگرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : یوکرین کی نائب وزیردفاع ہنا ملاریا نے سوشل میڈیا پرجاری بیان میں دعویٰ کیا کہ 4 روز کی لڑائی میں روس کے 5300 فوجیوں ہلاک ہوئے جبکہ 29 روسی طیارے مارگرائے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ 29روسی ہیلی کاپٹرز اور3 ڈرون بھی تباہ کردئیے گئے مجموعی طورپراب تک روس کے 191 ٹینک،816 جنگی گاڑیوں ،60 ڑینکوں اور2 بحری جہازوں کوتباہ کیا جا چکا ہے۔

    روس نے یوکرین پرحملے کے دوران اپنے فوجیوں کے ہلاک اورزخمی ہونے کا اعتراف تو کیا ہے تاہم تعداد نہیں بتائی۔

    دوسری جانب یوکرین نے عالمی عدالت انصاف میں روس کیخلاف نسل کشی کا مقدمہ دائرکردیا ہےغیرملکی میڈیا کے مطابق یوکرین کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں روس کیخلاف مقدمے میں یوکرین پرروسی حملے فوری طورپررکوانے کی استدعا کی گئی ہے۔

    یوکرین نے عدالت سے روس سے یوکرین پرکئے گئے حملے میں ہوئے نقصان کا ہرجانہ دلوانے کی درخواست بھی کی ہے۔

    دوسری جانب یوکرین کے دارالحکومت کیف میں اتوار کی صبح سویرے دھماکے سنائی دئیے کیف میں نافذ کرفیو ختم کردیا گیا ہے۔ کیف میں پرچون کی دکانیں کھل گئی ہیں اوربپلک ٹرانسپورٹ چلنے لگی ہے۔

    یورپ کا روس کے خلاف اتحاد:فضائی راستے بند:روسی طیارے گزریں گے توگرا دیں گے:جرمنی کا پیغام

    یوکرینی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ روسی افواج ہرطرف سے حملے کررہی ہیں۔ اتواریوکرین کی افواج کے لئے مشکل دن رہا۔

    یوکرین کی صورتحال پراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج ہوگا۔اجلاس میں تمام 193 رکن ممالک شرکت کریں گے۔

    دوسری جانب کیف میں یوکرین کے جوہری توانائی کے نگران محکمے نے اتوار 27 فروری کی صبح بتایا تھا کہ روسی دستوں نے گزشتہ رات ملکی دارالحکومت کے مضافات میں جوہری فاضل مادوں کی ایک ذخیرہ گاہ کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

    یوکرائنی جوہری تنصیبات کے منتظم ادارے نے اپنے فیس بک پیج پر بتایا تھا کہ فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ آیا ان میزائل حملوں کے بعد جوہری فاضل مادوں کی اس ذخیرہ گاہ سے تابکار شعاعیں بھی خارج ہونا شروع ہو گئیں روسی میزائل اس جوہری تنصیب گاہ کی حفاظتی باڑ کو لگے مگر عمارت اور اس میں ذخیرہ کردہ ایٹمی کوڑے کے کنٹینر بظاہر محفوظ رہے۔

    یوکرین نے روس کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں درخواست جمع کرا دی

    یوکرائنی حکام کا کہنا تھا کہ روسی دستوں نے گزشتہ رات بھی یوکرائن کے کئی شہروں پر اپنے میزائل حملے جاری رکھے۔ اس دوران کییف کے نواح میں واسِلکیف کے مقام پر گولہ باری میں تیل کے ایک بڑے ڈپو کو آگ لگ گئی اس شہر کی خاتون میئر نتالیا بالاسینووچ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ دشمن ہر چیز کو تباہ کر دینا چاہتا ہے۔

    اس شہر میں تیل کی ذخیرہ گاہ کو گولہ باری کے بعد لگنے والی وسیع تر آگ کے باعث حکام نے مقامی شہریوں سے کہا تھا کہ وہ زہریلے دھوئیں کے گہرے بادلوں کی وجہ سے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

    یوکرائن کی اسپیشل کمیونیکیشنز سروس کا کہنا تھا کہ روسی فوج نے گزشتہ رات ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر خارکیف میں قدرتی گیس کی ایک بڑی پائپ لائن کو بھی میزائل حملہ کر کے تباہ کر دیا۔

    یوکرینی صدرکو زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے جانے والا چیچن کمانڈرساتھیوں سمیت…