Baaghi TV

Tag: روس

  • یوکرین پرروسی حملہ:برطانیہ کا سخت ردعمل:     مانچسٹریونائیٹڈ نے روسی ایئرلائن سےمعاہدہ منسوخ کردیا

    یوکرین پرروسی حملہ:برطانیہ کا سخت ردعمل: مانچسٹریونائیٹڈ نے روسی ایئرلائن سےمعاہدہ منسوخ کردیا

    لندن :یوکرین پرروسی حملہ:برطانیہ کا سخت ردعمل:مانچسٹریونائیٹڈ نے روسی ایئرلائن سےمعاہدہ منسوخ کردیا،اطلاعات کے مطابق یوکرین پر روس کے حملےکے خلاف برطانیہ کی طرف سے سخت ردعمل آرہا ہے اور پابندیوں‌کے ساتھ ساتھ اب ماضی میں کئے گئے معاہدے بھی منسوخ کیے جارہے ہیں‌، اس سلسلے میں‌ مانچسٹر یونائیٹڈ نے روسی ایئر لائن ایروفلوٹ کے ساتھ 40 ملین پاؤنڈ کے بڑے اسپانسر شپ معاہدے کو منسوخ کر دیا ہے۔

    مانچسٹر یونائیٹڈ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام یوکرین پر روس کے حملے کے جواب میں ہے اور منگل کو ٹائٹن ایئرویز کے ساتھ یونائیٹڈ کے میڈرڈ کے لیے پرواز کے بعد سامنے آیا ہے۔

    مانچسٹر یونائیٹڈ کے ایک ترجمان نے کہا: ‘یوکرین میں ہونے والے واقعات کی روشنی میں، ہم نے ایروفلوٹ کے اسپانسرشپ کے حقوق واپس لے لیے ہیں۔’ہم دنیا بھر میں اپنےچاہنے والوں‌ کے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں اور متاثرہ افراد سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔’

    مانچسٹر یونائیٹڈ کا کہنا ہے کہ اس ٹیم کا ایک دیرینہ تجارتی معاہدہ تھا جس نے پہلی بار 2013 میں روسی کمپنی سے رابطہ کیا تھا لیکن اب اس نے تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔

    ایروفلوٹ کے ساتھ یونائیٹڈ کے معاہدے کی تجدید 2017 میں £40 ملین میں ہوئی تھی اور اس کی میعاد 2023 میں ختم ہونے والی تھی۔ ایروفلوٹ کی قومی ایئر لائن ہے اور 52 ممالک میں 146 مقامات پر پرواز کرتی ہے۔

    یونائیٹڈ ستاروں کو پوری دنیا میں اڑانے کے علاوہ، ایروفلوٹ نے کلب کو سفری اور لاجسٹک مشورے بھی فراہم کیے لیکن یونائیٹڈ اب ایک نئے فلائٹ پارٹنر کے لیے مارکیٹ میں ہے، جس پر قطر ایئرویز زیر غور ہے۔یونائیٹڈ نے ایروفلوٹ کے ساتھ اپنی نو سالہ رفاقت سے مجموعی طور پر £100m کے علاقے میں سرمایہ کاری کی۔

    مانچسٹر یونائیٹڈ نے پہلے روسی سرکاری ایئرلائن ایروفلوٹ کے ساتھ اپنی پرواز کا تبادلہ کیا تھا اور اب یوکرین پر حملے کی روشنی میں اپنا سپانسرشپ معاہدہ منسوخ کر دیا ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ یوکرین پر روسی حملے کے بعد یونائیٹڈ کے حصص کی قیمت گر گئی اور یہ قیاس کیا گیا کہ یہ ایروفلوٹ کے ساتھ ان کی وابستگی کی وجہ سے گرا ہے۔جمعرات تک، دو ہفتوں میں حصص کی قیمت $14.08 فی حصص سے گر کر $13.10 ہوگئی، جو کہ سات فیصد کی کمی ہے۔

  • روس اور یوکرین کے درمیان نوبت جنگ تک کیوں آئی ؟خصوصی رپورٹ

    روس اور یوکرین کے درمیان نوبت جنگ تک کیوں آئی ؟خصوصی رپورٹ

    کیف:روس اور یوکرین کے درمیان نوبت جنگ تک کیوں آئی ؟خصوصی رپورٹ ،روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری ہے اور روس کا پلڑہ بھاری ہے ، دوسری طرف یوکرین کو روس کے خلاف مزاحمت پر اکسانے والے اب جان چھڑانے کی کوشش کررہے ہیں ، روس اور یوکرین کے درمیان اس قدر کشیدگی کیوں پیدا ہوئی ، جنگ کے اسباب کیا ہیں اور کون سچا ہے اور کون جھوٹا، اس حوالے سے کچھ حقائق پیش کیے جاتے ہیں‌،

    روس اور یوکرین کے اس جغرافیائی تنازع کی جڑیں گذشتہ سو سالہ تاریخ میں ہیں۔

    آج مغرب کے ساتھ مل کر روس کو مشکل میں ڈالتا یوکرین 1920 سے 1991 تک سوویت یونین کا حصہ رہا ہے۔

    نوے کی دہائی میں جب سوویت یونین کا عروج ڈگمگانے لگا تو یوکرین ان پہلے ممالک میں سے تھا، جس نے 16 جولائی 1990 کو یونین سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ تقریباً ایک سال بعد 24 اگست 1991 کو یوکرین نے خودمختاری اور مکمل آزادی کا اعلان بھی کر دیا۔

    یوکرین نے آزادی تو حاصل کرلی لیکن وہاں موجود 17 فیصد روسی النسل آبادی سمیت روس کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے دیگر پریشر گروپس اور مغرب کی حمایت کرنے والے گروہوں میں تنازعات کا آغاز ہو گیا۔

    تاریخ کا مشاہدہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ روس یوکرین پر 2015 کی جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کے لیے مغربی ممالک کو بھی موردِ الزام ٹھہراتا ہے۔

    ادھر عالمی سطح پر اس معاہدے کو روس کی کامیابی قرار دیا جاتا تھا کیوں کہ اس کے ذریعے یوکرین کو باغیوں کے زیر اثر علاقوں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دینے کا پابند کیا گیا تھا۔ اس معاہدے میں یوکرین نے علیحدگی پسندوں کے لیے عام معافی کی پیش کش بھی کی تھی۔

    روس کی طرف یوکرین بھی روس پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔ روس کی تردید کے باجود یوکرین کا اصرار ہے کہ اس کے مشرقی خطے میں روسی فوجی موجود ہیں۔حالیہ کشیدگی کے بعد روس جرمنی اور فرانس کی شمولیت کے ساتھ مذاکرات کی پیش کش کو پہلے ہی مسترد کر چکا ہے۔

    یوکرین کو ہتھیار فراہم کرنے اور اس کے ساتھ جنگی مشقیں کرنے پر روس امریکہ اور نیٹو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔ روس کا الزام ہے کہ امریکہ اور نیٹو یوکرین کو باغیوں سے وہ علاقے واپس کے لینے کے لیے طاقت کے استعمال پر اکسا رہے ہیں جن کا کنٹرول انہوں نے 2014 میں حاصل کیا تھا۔

    یوکرین نیٹو کا رکن نہیں ہے لیکن 2008 سے عندیہ دے رہا ہے کہ وہ جلد اس اتحاد کا حصہ بن جائے گا۔ 2014 میں روس کی حمایت یافتہ حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے یوکرین مغربی ممالک کے قریب ہوا ہے۔ یوکرین نے نیٹو کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کی ہیں، امریکہ سے ٹینک شکن میزائل اور ترکی سے ڈرون بھی حاصل کیے ہیں۔

    کرائمیا کا کنٹرول سنبھالنے اور مشرقی یوکرین میں باغیوں کی مدد کے تناظر میں یوکرین اور امریکہ اپنے بڑھتے ہوئے باہمی تعاون کو درست اقدام قرار دیتے ہیں۔ مبصرین یوکرین کے نیٹو اور امریکہ سے بڑھتے ہوئے تعاون کو بھی روس کے حالیہ اقدامات کا سبب قرار دیتے ہیں۔

  • روس نے یوکرین کو بات چیت کی مشروط پیشکش کردی

    روس نے یوکرین کو بات چیت کی مشروط پیشکش کردی

    روس نے یوکرین کو بات چیت کی مشروط پیشکش کردی

    نیٹو کی مدد سے مایوس ہو کر یوکرینی صدرنے روس کو مذاکرات کی دعوت دے دی
    یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ یورپ نے روس کے خلاف جنگ میں مدد نہیں کی،یورپ روس کے خلاف اپنا دفاع کس طرح کرے گا؟ یوکرینی فوج نے خود اپنے ملک کا دفاع کرنا ہے،غیرجانبدار ملک ہونے کا اعلان کرنے کے معاملے پر روس سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں،

    یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ ہمارے جوانوں نے موت گلے لگا لی، ہتھیارنہیں ڈالے، ہلاک فوجیوں کوہیرو آف یوکرین کے اعزازسے نوازا جائے گا،

    ترجمان روسی صدارتی محل کا کہنا ہے کہ مذاکرات کیلئے بیلاروس کے دارالحکومت منسک وفد بھیجنے کیلئے تیار ہیں، روس نے نیٹو ممالک پر جوابی پابندیاں لگانےکا فیصلہ کیا ہے کریملن کے مطابق نیٹوممالک کی پابندیوں کاجواب پابندیوں سے دیں گے،پابندیوں کاجواب دینے کے لیے مشاورت جاری ہے،

    ترک صدر نے نیٹواوریورپی یونین پرتنقید کی ہے اور کہا کہ یورپی یونین اورنیٹویوکرین پرمتفقہ موقف اپنانےمیں ناکام رہے،نیٹو کوجنگ روکنے کے لئے فیصلہ کن اقدامات کرنے چاہئیں تھے،

    قبل ازیں چینی صدر کا روسی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے چینی صدر نے مسئلہ مذاکرات سے حل کرنے پرزور دیا ہے ،روسی صدر نے چینی صدر کو بتایا کہ وہ یوکرین کے ساتھ مذاکرات کے لئے تیار ہے اور اعلیٰ سطح مذاکرات چاہتے ہیں ،روسی صدر کا کہنا تھا کہ نیٹو نےروس کے جائزسیکیورٹی مطالبات کونظرانداز کیا،نیٹو نے مشرقی یورپ میں فوج تعینات کرکے چیلنج کیا،

    قبل ازیں چین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ روس اور یوکرین کے ساتھ ‘نارمل’ تجارتی تعلقات برقرار رکھے گا ،روس کے ساتھ چین کے تعلقات صدر شی جن پنگ کے دور میں مضبوط ہوئے ہیں جنہوں نے رواں ماہ بیجنگ میںروسی صدر سے ملاقات کی۔ چین واحد بڑی حکومت ہے جس نے روس کے حملے کی مذمت کرنے سے گریز کیا۔ ترجمان چینی وزارت خارجہ نے روس کے یوکرین پر حملے کے ردعمل میں کہا تھا کہ ہم اب بھی امید کرتے ہیں کہ متعلقہ فریق امن کے دروازے بند نہیں کریں گے اور بات چیت ٕ کے ذریعے مسئلے کو حل کریں گے

    دریں اثنا، یوکرین میں چین کے سفارت خانے نے وہاں کے اپنے شہریوں سے کہا کہ وہ گھروں میں رہیں اور اگر سفر کرنے کی ضرورت ہو تو اپنی گاڑی کے اندر یا اس پر چینی جھنڈا لگا دیں۔ بیجنگ نے یوکرین کے تنازعے کا ذمہ دار واشنگٹن اور اس کے یورپی اتحادیوں کو ٹھہرایا ہے۔

    روسی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ یوکرین کی فوج ہتھیار ڈال دے تو مذاکرات کیلئے تیار ہیں،ہم یوکرین پر نازیوں کی حکومت نہیں چاہتے،روس کے سرکاری میڈیا کے مطابق روسی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ یوکرینی افواج کے ہتھیار ڈالتے ہی روس کیف کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ ہم کسی بھی وقت بات چیت کے لیے تیار ہیں، جیسے ہی یوکرین کی مسلح افواج ہمارے صدر کی کال کا جواب دیں، مزاحمت بند کر دیں اور اپنے ہتھیار پھینک دیں۔ کوئی بھی ان پر حملہ یا ظلم نہیں کرے گا،انہوں نے روسی حکومت کے پہلے بیانات کا اعادہ کیا کہ ماسکو یوکرین کو غیر فوجی بنانا چاہتا ہے۔ کوئی بھی یوکرین پر قبضہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

    روسی وزیر خارجہ نے یوکرین کے ان دعوؤں کی تردید کی کہ روسی افواج نے رہائشی علاقوں کو نقصان پہنچانے کے وسیع ثبوت کے باوجود شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے۔ قبل ازیں کریملن کے پریس سیکرٹری دیمتری پیسکوف نے بھی کہا کہ ماسکو یوکرین میں جاری روسی فوجی کارروائی کے حوالے سے کیف کے ساتھ ہتھیار ڈالنے کی شرائط پر بات چیت کے لیے تیار ہے

    روسی وزارت دفاع نے کارروائیوں کی نئی تفصیلات جاری کردیں ،روسی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ یوکرین کی 118 عسکری تنصیبات تباہ کی جا چکی ہیں،ایئر فیلڈ، 13 میزائل سسٹم، 5لڑاکا طیارے تباہ کیے،ایک یوکرینی ہیلی کاپٹراور 5 ڈرونز مارگرائے،یوکرینی فوج کے 150 اہلکارہتھیارڈال چکے ہیں،

    عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے روسی سفارت خانے کا دورہ کیا پوپ فرانسس نے روسی سفیر سے جنگ پر تشویش کا اظہار کیا

    قبل ازیں یوکرین کے دارالحکومت کیف میں پیٹرول کی قلت ہو گئی ہے ،یوکرینی فوج کا کہنا ہے کہ کیف میں پیٹرول کی شدید قلت کا سامنا ہے روس بیلاروس میں گومیل ایئر فیلڈ کو کیف پر حملے کیلئے استعمال کر رہا ہے،

    روس نے برطانوی ایئرلائنز پر پابندی عائد کردی ،روسی ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ برطانیہ روسی فضائی حدود کا استعمال نہیں کر سکے گا،برطانیہ اپنی پروازوں کوروس کے ہوائی اڈوں پر نہیں اتارےگا،اقدام روسی جہازوں کی پروازوں پر پابندی کے بعد کیا گیا ہے

    یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن سے رابطہ ہوا ہے،امریکہ نے کیف پر روس کے حملوں کے بارے میں اطلاع دی،یوکرین کو پہلے سے زیادہ شراکت داروں کے تعاون کی ضرورت ہے، روس پر پابندیوں کو مزید مضبوط کیا جانا چاہیے،

    یوکرین نے ٹوئٹر سے روس پر پابندی کا مطالبہ کردیا ہے ،یوکرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر روس کے لیے کوئی جگہ نہیں، یوکرینیوں کو قتل کرنے والوں کو سوشل میڈیا کے استعمال کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے،

    یوکرینی وزیر خارجہ دمتروکلیبا کا کہنا ہے کہ کیف کے حالات دوسری جنگِ عظیم جیسے ہوگئے ہیں، روس حملے کے بعد کیف کی صورتحال دوسری عالمی جنگ میں دیکھی گئی تھی 1941میں دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی نے دارالحکومت پر حملہ کیا تھا،نازی جرمنی نے جب کیف پر حملہ کیا تب ایسے ہی حالات تھے،ماضی میں ان حملوں کو شکست دی اور اب وہ اسے بھی شکست دیں گے

    روسی صدر پیوٹن نے یوکرین میں فوجی آپریشن کا حکم دے دیا-

    :یوکرائن میں ایمرجنسی نافذ:سائرن بج گئے:شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم

    برطانیہ آسٹریلیا اور جاپان نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا آغاز کردیا ہ

    پوتن کوملک سے باہر روسی فوج کی تعیناتی:نیٹو کے جنگی طیارے سائرن بجانےلگے:پابندیاں بھی لگ گئیں‌ 

    :روس جنگ کےلیے تیار:ولادی میرپوتن نے ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کیلیے قانونی رائے مانگ لی

    یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم،

    پانچ روسی طیارے، ایک ہیلی کاپٹر گرا دیا، یوکرینی وزارت دفاع کا دعویٰ

    کون ہے جو ہمارا ساتھ دے؟ یوکرینی صدر کی دہائی

  • کیف میں 3 ہزار کے قریب طلبہ،حفاظت ہماری ذمہ داری ہے،وزیر خارجہ

    کیف میں 3 ہزار کے قریب طلبہ،حفاظت ہماری ذمہ داری ہے،وزیر خارجہ

    کیف میں 3 ہزار کے قریب طلبہ،حفاظت ہماری ذمہ داری ہے،وزیر خارجہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمو دقریشی نے کہا ہے کہ کیف میں 3 ہزار کے قریب طلبہ ہیں ،ان کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے،

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کیف میں ہمارا سفارتخانہ تھا جس کو منتقل کردیا کیف سے سفارتخانہ منتقلی کرنے کا مقصد اپنے شہریوں کو سہولت فراہم کرنا ہے،کیف میں موجود پاکستانی سفیر سے رابطے میں ہوں وزیراعظم عمرا ن خان واضح کرچکے ہیں کہ ہم کسی بلاک کا حصہ نہیں بنیں گے ،ہمیں اپنے ماضی کی تجربات کو دیکھتے ہوئے آگے جانا ہوگا،وزیراعظم کےدورہ روس پر ان کے ہمراہ تھے وزیراعظم عمران خان کو طویل عرصے بعد دورہ روس کی دعوت دی گئی تھی،بطور وزیرخارجہ روسی ہم منصب سے ملاقات ہوئی ،وزیراعظم عمران خان اورصدر پیوٹن کے درمیان ساڑھے 3 گھنٹے کی ملاقات ہوئی ،وزیراعظم اور پیوٹن نے افغانستان ،جنوبی ایشیا میں استحکام اور مقبوضہ کشمیر پرزیادہ گفتگو کی،وزیراعظم اور پیوٹن کے درمیان ملاقات میں اسلامو فوبیا پر بھی بات چیت ہوئی وزیراعظم عمران خان اورصدر پیوٹن نے مدت بعد طویل گفتگو کی ،وزیر اعظم عمران خان نے روسی صدر اور ہم منصب سے گیس سیکٹر میں تعاون پر با ت کی،وزیراعظم عمران خان سے ہوٹل میں روسی ہم ڈپٹی ہم منصب کی ملاقات ہوئی روسی ڈپٹی وزیراعظم کے ساتھ اعلیٰ وفد بھی تھا ،ہم نے تحفظات اور مشکلات پر گفتگو کی

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ روسی قیادت نے پاکستان میں سرما یہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا گیس کی قلت ،توانائی کا بحران سمیت دیگر معاملات پرمثبت گفتگو ہوئی آئندہ دنوں میں روس کےساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون پر کام ہوگا افغانستان میں صورتحال سے متعلق روس اور پاکستان کے سوچ کا زاویہ ایک ہے روس بھی افغانستان میں امن کا خواہاں ہے وزیراعظم کے دورہ روس مختصر کرنے کی خبر پڑی ، جس پر حیرت نہیں ہوئی،بےبنیاد باتیں ہوتی رہیں کہ موجودہ حالات میں دورہ مناسب نہیں تھا پاکستان کو دورہ روس سے قطعا کوئی نقصان نہیں ہوگا،ہم نے دورہ روس سے قبل معاملات کا جائزہ لیاتھا سفارتی مذاکرات کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں

    دوسری جانب پاکستانی سفیر کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفارتخانہ پاکستانی طلبہ سے پہلے دن سے تعاون کررہا تھا،پہلے دن سے کہہ رہے تھے ملک چھوڑ دیں لیکن مجبوری کی وجہ سے نہیں گئے،ہم اب بھی پاکستانی طلبہ کے ساتھ مکمل تعاون کررہے ہیں،تمام طلبہ ٹرین یا ٹرانسپورٹ کے ذریعے جلد از جلد ترنوپل آجائیں یوکرینی حکومت نے اعلان کیا ہے ٹرین کا ٹکٹ فری ہوگا پاکستانی شہری اورطلبہ رابطہ کرکے بتائیں کہاں آرہے ہیں، لویف اورترنوپل میں سہولت مراکز قائم ہیں سہولت مراکز سے پولینڈ،ہنگری اوررومانیہ بھیجیں گے یوکرین کی فضائی حدود بند ہے،پولینڈ،ہنگری اوررومانیہ کی ٹکٹ لے کر وہاں سے پاکستان جاسکتے ہیں،یوکرین سے اپنے گھر واپسی کےلیے مدد کریں گے،طلبہ کو یوکرین سے بحفاظت نکالنے کےلیے اقدامات کررہے ہیں

    روسی صدر پیوٹن نے یوکرین میں فوجی آپریشن کا حکم دے دیا-

    :یوکرائن میں ایمرجنسی نافذ:سائرن بج گئے:شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم

    برطانیہ آسٹریلیا اور جاپان نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا آغاز کردیا ہ

    پوتن کوملک سے باہر روسی فوج کی تعیناتی:نیٹو کے جنگی طیارے سائرن بجانےلگے:پابندیاں بھی لگ گئیں‌ 

    :روس جنگ کےلیے تیار:ولادی میرپوتن نے ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کیلیے قانونی رائے مانگ لی

    یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم،

    پانچ روسی طیارے، ایک ہیلی کاپٹر گرا دیا، یوکرینی وزارت دفاع کا دعویٰ

    کون ہے جو ہمارا ساتھ دے؟ یوکرینی صدر کی دہائی

    یوکرین میں پاکستانی طلبا کو سفارتخانے نے لاوارث چھوڑدیا، طلبا کی اپیل

  • روس یوکرین تنازعہ :صدر جوبائیڈن نے روس پر نئی سنگین پابندیاں عائد کردیں

    روس یوکرین تنازعہ :صدر جوبائیڈن نے روس پر نئی سنگین پابندیاں عائد کردیں

    واشنگٹن:روس یوکرین تنازعہ :صدر جوبائیڈن نے روس پر نئی سنگین پابندیاں عائد کردیں ،اطلاعات کے مطابق امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے روس پر نئی سنگین پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق صدر جوبائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روس کو یوکرین پر بلا جواز حملے کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ روسی بینک کے 250 ملین ڈالرز کے اثاثے منجمد کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پابندیوں سے چار روسی بینک متاثر ہوں گے۔

    صدر جوبائیڈن نے کہا کہ روس کی برآمدات سمیت دیگر شعبوں پر بھی پابندیاں لگائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ روس پر پابندیوں کے اثرات طویل مدتی ہوں گے جس سے روس کی درآمدات بھی متاثر ہوں گی۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق جوبائیڈن نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ روسی گیس کمپنی کو قیمتیں بڑھانے نہیں دی جائیں گی، ڈالر اور جاپانی ین میں روسی لین دین محدود کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کی عالمی مارکیٹ تک رسائی کو ہدف بنایا جائے گا۔

    امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ نیٹو اتحادی آرٹیکل 5 کے تحت جوائنٹ سیکیورٹی کی ذمہ داری پوری کریں گے۔

    عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر بائیڈن نے کہا کہ روس یوکرین پر حملے کی تیاری پہلے ہی کرچکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جی سیون ممالک سے روسی حملے پر بات کی ہے جو بلا جواز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کو یوکرین پر حملے کے لیے جوابدہ ٹھہرانے کی خاطر پابندیوں پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    صدر جوبائیڈن نے کہا کہ امریکی فوج یوکرین میں براہ راست تنازع میں شامل نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی افواج یوکرین نہیں جارہی ہیں بلکہ اپنے نیٹو اتحادیوں کا دفاع کریں گی۔

  • وزیراعظم نے روس کی سب سے بڑی مسجد میں نوافل ادا کیے:عالم اسلام کے لیے خصوصی دعائیں

    وزیراعظم نے روس کی سب سے بڑی مسجد میں نوافل ادا کیے:عالم اسلام کے لیے خصوصی دعائیں

    ماسکو:وزیراعظم نے روس کی سب سے بڑی مسجد میں نوافل ادا کیے،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے روس کی سب سے بڑی مسجدو اسلامک سینٹر میں نوافل ادا کیے۔

    دورہ روس کے دوران صدر ولادی میر پیوٹن سے طویل ملاقات کے بعد نائب وزیراعظم اور بزنس کمیونٹی سے اہم ملاقاتیں کر کے عمران خان نے کیتھیڈرل مسجد کا دورہ کیا۔

    وزیراعظم عمران خان نےکیتھیڈرل مسجدکے امام سے ملاقات کی اور نوافل ادا کیے۔ وفاقی وزرا اور وفد کے ارکان بھی وزیراعظم عمران خان کے ساتھ تھے۔

    دورہ روس مکمل کر کے وزیراعظم ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہو گئے اور آج ہی وہ وطن لوٹیں گے۔

    وزیراعظم عمران خان اور روسی صدر ولادی میرپیوٹن کےسربراہی اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے روسی صدرپیوٹن سےملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات پربات چیت کی، ملاقات میں باہمی دلچسپی کےعلاقائی اورعالمی امورپر وسیع مشاورت کی گئی۔

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاک روس تعلقات میں وسعت کیلئے دونوں رہنما پرُعزم ہیں تعلقات وقت کیساتھ دونوں ممالک کےدرمیان مضبوط ترہوں گے دوطرفہ تعلقات کامثبت رخ مستقبل میں بھی آگے بڑھتا رہے گا۔

  • روسی فوجی یوکرین کے دارالحکومت میں داخل:امریکی فوجی پولینڈ کی سرحد پرجمع ہونےلگے

    روسی فوجی یوکرین کے دارالحکومت میں داخل:امریکی فوجی پولینڈ کی سرحد پرجمع ہونےلگے

    ماسکو: روسی فوجی یوکرین کے دارالحکومت میں داخل:امریکی فوجی پولینڈ کی سرحد پرجمع ہونےلگے ،اطلاعات کے مطابق یوکرین پر روس کے حملے اورزمینی پیشقدمی کے ساتھ اب حالات بد سے بد تر ہوتے نظر آرہے ہیں ۔یاد رہے کہ طویل کشیدگی کے بعد روس نے جمعرات کی صبح 8.30 بجے یوکرین پر حملہ کیا تھا۔اب تازہ خبروں کے مطابق روسی فوجی یوکرین کے دارالحکومت کیف میں داخل ہو چکے ہیں۔اس کے ساتھ ایک خبر کیف سے آرہی ہے کہ یوکرین کا فوجی طیارہ جس میں 14 افراد سوار تھے کیف کے قریب گر کر تباہ ہوگیا ہے

    فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ امریکی فوجی یوکرین کے ساتھ پولینڈ کی سرحد کے قریب جانے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد فرار ہونے والے لوگوں کی مدد کی جا سکے۔ جیسے ہی روس نے یوکرین پر اپنا حملہ شروع کیا، دارالحکومت، کیف سے ہزاروں کاریں باہر نکل گئیں، بہت سے لوگ مغرب کی طرف بڑھ رہے ہیں اور پولینڈ اور نیٹو کے فوجیوں کے قریب ملک کے کچھ حصوں میں محفوظ پناہ گاہیں تلاش کرنے کی امید میں ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق اب تک 40 یوکرینی فوجی اور 10 عام شہری مارے جا چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یوکرین نے 50 روسی فوجیوں کو ہلاک کرنے اور 6 لڑاکا طیاروں کے ٹینکوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ روس یوکرین پر تین اطراف سے حملہ کر رہا ہے۔ دوسری جانب یوکرین میں ہندوستانی سفیر نے کہا ہے کہ کیف میں ہندوستانی سفارت خانہ بند نہیں کیا جائے گا۔ یہ پہلے کی طرح کام کرتا رہے گا۔

    یوکرین کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کئی روسی فوجی طیاروں کو مار گرایا ہے۔ یوکرین کے صدر کے ایک مشیر نے بتایا کہ جمعرات کی صبح 40 سے زائد یوکرینی فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔

    یوکرین میں روسی ٹینکوں کے داخل ہونے سے عوام میں خوف و ہراس بڑھ گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر مسلسل شیئر ہونے والی ویڈیوز میں خوف کا ماحول صاف نظر آرہا ہے۔ لوگ سرحد سے ملحقہ علاقوں سے یوکرین کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے آج ایک اہم میٹنگ بلائی ہے تاکہ آئندہ کی حکمت عملی پر توجہ مرکوز کی جا سکے۔ روس کے رویے کی وجہ سے لوگوں میں یہ احساس بھی بڑھ رہا ہے کہ یوکرین کو اب نیٹو میں شامل ہونا چاہیے۔

    اامور خارجہ کے وزیر مملکت وی مرلیدھرن نے کہا ہے کہ وزارت خارجہ تقریباً 18,000 ہندوستانیوں کو، جن میں طلباء بھی شامل ہیں، کو یوکرین سے واپس لانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ یوکرین میں فضائی حدود بند ہیں، اس لیے ہندوستانی شہریوں کو نکالنے کے لیے متبادل انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ یہاں یوکرین کے سفیر نئی دہلی میں میڈیا کے سامنے نمودار ہوئے اور وزیر اعظم نریندر مودی سے مدد کی درخواست کی۔ امریکہ اور یورپی یونین نے بھی فوجی اور اقتصادی حملے کی تیاری شروع کر دی ہے۔

  • وزیراعظم عمران خان کی روسی صدر پیوٹن سے ون آن ون ملاقات:اہم معاہدے طئے پاگئے

    وزیراعظم عمران خان کی روسی صدر پیوٹن سے ون آن ون ملاقات:اہم معاہدے طئے پاگئے

    ماسکو:وزیراعظم عمران خان کی روسی صدر پیوٹن سے ون آن ون ملاقات:اہم معاہدے طئے پاگئے،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی روسی صدر پیوٹن سے ون آن ون ملاقات جاری ہے ، جس میں دوطرفہ تعلقات اور اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی روسی صدر پیوٹن سے ملاقات جاری ہے ، جس میں پاکستان اور روس کے دوطرفہ تعلقات اور اہم امورپرتبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔

     

    اس موقع پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور مشیر قومی سلامتی معید یوسف بھی موجود ہیں۔دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کریملن میں ہورہی ہے، ملاقات میں توانائی،اقتصادی،تجارتی شعبوں میں تعاون پر گفتگو کی گئی اور افغانستان کی صورتحال اوراسلاموفوبیا کا موضوع بھی زیرغور آیا۔

     

     

    ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ملاقات میں پاکستان فیٹف میں روس سے مدد کے لیے بات کرے گا جبکہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں پاکستان کی رکنیت ، اوراقوام متحدہ سمیت فیٹف میں دوطرفہ تعاون پر بھی گفتگوکی گئی جس پر روسی صدر نے پاکستان کی بھرپورحمایت کا اعلان کیا

    ذرائع کے مطابق خطے میں امن کیلئے پاکستان کی دفاعی ضروریات پر بھی بات ہوگی جبکہ دفاعی ساز و سامان اور بھارت کو دیے گئے روسی میزائل ایس فور ہنڈریڈ پر بھی گفتگو کا امکان ہے۔

    دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں پاکستان اسٹریم گیس پائپ لائن منصوبے میں شیئر ہولڈرز معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے ماسکو میں جنگ عظیم دوئم کے سپاہیوں کی یادگار پر حاضری دی اور یادگار پر پھول رکھے۔

  • روس نے یوکرین ائیر پورٹ پر قبضہ کر لیا

    روس نے یوکرین ائیر پورٹ پر قبضہ کر لیا

    ماسکو: روس نے یوکرین کے انتونوف انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر قبضہ کر لیا اطلاعات کے مطابق حکام نے قبضے کی تصدیق کر دی-

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق روس نے ایم آئی 8 ہیلی کاپٹرز کے ساتھ یوکرین کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ کیا یوکرینی حکام نے ایئرپورٹ پر قبضے کی تصدیق کر دی۔

    اس سے قبل روس کے یوکرین پر حملے کے دوران 8 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے اور روس نے یوکرین کا ایئر ڈیفنس نظام تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا۔

    یوکرینی فوج کے سپریم کمانڈر ان چیف نے روسی فوجوں کا زیادہ نقصان پہنچانے کا حکم دیا جبکہ یوکرینی فوج نے مشرق میں 50 روسی فوجی مارنے اور 6 روسی فوجی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا۔

    رپورٹ کے مطابق روسی صدر پیوٹن نے کہا کہ روس یوکرین پر قبضے کا منصوبہ نہیں رکھتا، روسی فوجی کارروائی کا مقصد یوکرین کو غیر عسکری کرنا ہے، یوکرینی فوجی ہتھیار چھوڑ کر گھر چلے جائیں۔

    روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کیا ہے؟

    خیال رہے کہ 1922 میں جب سوویت یونین کی بنیاد ڈالی گئی تو یوکرینین سوویت سوشلسٹ ریپبلک (یوکرینین ایس ایس آر) بھی اس میں شامل تھا تاہم1991 میں جب سوویت یونین کا شیرازہ بکھرا تو یوکرین نے بھی آزادی حاصل کی۔

    البتہ روس اپنا شیرازہ بکھرنے کے باوجود سوویت یونین میں شامل ممالک کو کہیں نہ کہیں اپنا حصہ سمجھتا ہے اور یوکرین کا معاملہ بھی یہی ہے۔ یوکرین میں قدیم روسی نسل کے باشندے بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں جن میں کریمیا، دونیستک اور لوہانسک میں ان کی اکثریت ہے۔

    روس اور یوکرین کے درمیان اس سے قبل 2014 میں بھی جنگ ہوچکی ہے۔ دراصل یوکرین کی خواہش ہے کہ وہ یورپی یونین میں شمولیت حاصل کرے اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا حصہ بنے تاکہ اسے تجارتی و دفاعی تحفظ حاصل ہوسکے تاہم روس مختلف وجوہات کی بنا پر اس کے خلاف ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کی بنیادی وجہ یہ دو عوامل ہی ہیں۔

  • یوکرین تنازع: روس پر کس ملک نےکیا پابندیاں عائد کی ہیں؟تفصیلات آگئیں‌

    یوکرین تنازع: روس پر کس ملک نےکیا پابندیاں عائد کی ہیں؟تفصیلات آگئیں‌

    لاہور:یوکرین تنازع: روس پر کس ملک نے کیا پابندیاں عائد کی ہیں؟تفصیلات آگئیں‌ ،اطلاعات کے مطابق یوکرین کے دو علاقوں کی آزادانہ حیثیت تسلیم کرنے پر امریکہ اور یورپی یونین کے علاوہ دیگر ممالک نے بھی روس کےخلاف اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

    روس کی جانب سے مشرقی یوکرین کے علیحدگی پسند علاقوں میں فوج داخل کرنے کے احکامات کے بعد امریکہ اور یورپی یونین سمیت دیگر ممالک نے روس پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ مغربی ممالک نے کسی جارحیت کی صورت میں ماسکو کو مزید سخت اقدامات کرنے کا انتباہ بھی کیا ہے۔

    امریکہ، یورپی یونین، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور جاپان نے اپنی پابندیوں میں بینکوں اور روس کے امیر ترین افراد کو ہدف بنانے کا اعلان کیا ہے۔ جب کہ جرمنی نے روس کے ساتھ ایک بڑی گیس پائپ لائن منصوبے پر کام روک دیا ہے۔

    یوکرین اور روس کے درمیان جاری حالیہ تنازع کو گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران یورپ میں سلامتی کا سنگین ترین بحران قرار دیا جارہا ہے۔ روس یوکرین کو تاریخی اعتبار سے اپنی سرزمین کا حصہ تصور کرتا ہے۔

    یوکرین کے مغربی ممالک کے اتحاد نیٹو سے بڑھتے ہوئے تعلقات کے رد عمل میں صدر ولادیمیر پوٹن نے، گزشتہ برس امریکہ کے تخمینے کے مطابق، یوکرین کی سرحد پر ڈیڑھ لاکھ اہل کار تعینات کردیے تھے۔

    روس نے منگل کو ان اہل کاروں کو یوکرین کے علاقوں ڈونیٹسک اور لوہانسک میں داخل ہونے کے احکامات جاری کیے اور اس کی وجہ ‘قیامِ امن’ بتایا ہے۔امریکہ نے اس جواز کو ‘احمقانہ’ قرار دیتے ہوئے اسے یوکرین پر حملے کا آغاز قرار دیا ہے۔ امریکہ کی روس پر پابندیاں ماسکو کے حالیہ اقدامات پر امریکہ نے روس کے امیر ترین افراد اور دو سرکاری بینکوں کو ہدف بنایا ہے۔

    امریکہ کی پابندیاں روس کے ‘ویب بینک’ اور روسی فوج کے ‘پرومزوائز بینک’ پر عائد ہوں گی جو روس کے دفاعی سودے کرتا ہے۔

    امریکہ نے ان روسی بینکوں کو اپنے بینکنگ سسٹم سے خارج کردیا ہے، ان پر امریکیوں سے تجارت کرنے پر پابندی عائد کردی ہے اور ان کے اثاثے بھی منجمد کردیے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین پر روس کی جارحیت کی صورت میں وہ روس کے سب سے بڑے دو کمرشل بینکوں ‘سبر بینک’ اور ‘وی ٹی بی’ پر پابندی عائد کردیں گے۔