Baaghi TV

Tag: روس

  • یوکرین میں روس:اب کیا کرے گا مغرب کی دھمکیوں کا پتہ چل گیا

    یوکرین میں روس:اب کیا کرے گا مغرب کی دھمکیوں کا پتہ چل گیا

    واشنگٹن :یوکرین میں روس:اب کیا کرے گا مغرب کی دھمکیوں کا پتہ چل گیا ،اطلاعات کے مطابق جس کا خدشہ یا یقین تھا وہی ہوا ۔روس رکا نہیں اور یوکرین پر دھاوا بول دیا۔جنگ چھڑ چکی ہے۔دنیا فکر مند ہے کہ کہیں یہ جنگ طول نہ پکڑ لے۔ اب انتظار اس بات کا ہے کہ روس کے تیوروں کے سامنے مغرب کا موقف کیا ہوتا ہے۔

    بات پابندیوں تک محدود رہے گی یا پھر جنگ کے میدان میں امریکہ اور نیٹو بھی کود پڑیں گے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یقینا جنگ کے طول پکڑنے کا خدشہ ہوگا۔

    جب یوکرین میں گذشتہ سال کے اواخر میں بحران کا آغاز ہوا تو روسی صدر ولادی میر پوتن کی حکومت نے امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کو اپنے مطالبات کی ایک طویل فہرست جاری کی۔روس کا سب سے بڑا مطالبہ تھا کہ نیٹو روس کی سرحد سے متصل سابق سوویت بلاک ریاستوں سے اپنے تمام فوجی، سازوسامان اور ہتھیار واپس بلا لیں۔

    پوتن کی جانب سے منگل کو مشرقی یوکرین کے علیحدگی پسندوں والے علاقوں پر حملے کے حکم کے 24 گھنٹے سے بھی کم عرصے بعد امریکی فوج روس کی دہلیز پر مزید فائر پاور بھیج رہی ہے۔

    صدر جو بائیڈن نے منگل کو ہی امریکی فوجیوں، طیاروں اور لڑاکا طیاروں کو مشرقی یورپ میں تعینات کرنے کا حکم دیا تاکہ شمالی بحر اوقیانوس معاہدے کی تنظیم (نیٹو) کے اتحادیوں کو یقین دلایا جا سکے اور ماسکو کی مزید جارحیت کو روکا جا سکے۔

    صدر بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں کہا: ’میں نے اپنے بالٹک اتحادیوں ایستونیا، لٹویا اور لتھوانیا کو مضبوط بنانے کے لیے یورپ میں پہلے سے تعینات امریکی افواج اور سازوسامان کی اضافی نقل و حرکت کا اختیار دے دیا ہے۔

    روس کی جانب سے یوکرین کی سرحدوں پر ایک لاکھ 90 ہزار سے زائد فوجیوں کی تعداد بڑھنے کے بعد سے وائٹ ہاؤس اور یورپی اتحادیوں نے عسکری طریقے سے جواب دینے کی کوشش کی ہے۔

    کئی ماہ سے بائیڈن نے اصرار کیا ہے کہ امریکی فوجی یوکرین میں جو نیٹو کا اتحادی نہیں ہے، میں نہیں لڑیں گے لیکن انہوں نے یورپ کے دیگر حصوں سے امریکی افواج کو عارضی طور پر دوبارہ تعینات کرکے آس پاس کے ممالک میں دفاع کو دوگنا کیا ہے۔

    تقریبا چھ ہزار امریکی فوجی پہلے ہی جرمنی، پولینڈ اور رومانیہ بھیجے جا چکے ہیں۔ پولینڈ میں 82 ویں ایئربورن ڈویژن کے ساتھ امریکی پیراٹروپرز یوکرین پر حملے کے بعد اس کی مشرقی سرحد سے فرار ہونے والے ہزاروں پناہ گزینوں کے لیے فوجی سہولیات قائم کر رہے ہیں۔

    رومانیہ میں، جو جنوب میں یوکرین کی سرحد سے متصل ہے، ایک ہزار فوجیوں پر مشتمل آرمی سٹرائیکر سکواڈرن جرمنی سے کسی بھی سرحدی مسئلے سے نمٹنے کی تیاری کے لیے منتقل ہو چکے ہیں۔

    اس کے علاوہ مشرقی یورپ میں فضائی دفاع کو تقویت دینے کے لئے 20 حملہ آور ہیلی کاپٹروں اور دو درجن لڑاکا طیاروں کی ایک بٹالین کی تعیناتی کا حکم دیا گیا ہے۔

    اب امریکہ کے پاس یورپ میں 90 ہزار سے زائد فوجی موجود ہیں جن میں سے زیادہ تر مشرقی یورپ سے باہر تعینات ہیں۔ گذشتہ ایک ماہ کے دوران بائیڈن نے پولینڈ میں امریکی زمینی فوجیوں کی تعداد دگنی سے زیادہ کر کے نو ہزار اور رومانیہ میں تقریبا دو ہزار کر دی ہے۔

    بائیڈن نے منگل کو جن فورسز کا اعلان کیا ہے ان میں تقریبا 800 سروس ممبران کی انفنٹری بٹالین ٹاسک فورس شامل ہے جو اٹلی سے بالٹک خطے میں منتقل ہوئی، جرمنی سے آٹھ ایف 35 لڑاکا طیاروں سے ’نیٹو کے مشرقی حصے کے ساتھ‘ بے نام اڈوں تک، جرمنی سے بالٹک تک 20 اے ایچ-64 اپاچی ہیلی کاپٹر، اور یونان سے پولینڈ تک 12 دیگر اپاچی ہیلی کاپٹر بھیجے گئے ہیں۔

    نیٹو کے مشرقی حصے میں اضافی زمینی اور فضائی افواج کی تعیناتی سے خطرات لاحق ہیں۔ 2014 میں پوتن کے جزیرہ نما کرائمیا کے ساتھ الحاق کے بعد سے

  • یوکرین روس جنگ: کون کس سے بھاری اورکس کے پاس کتنے فوجی اور ساز و سامان ہے؟رپورٹ

    یوکرین روس جنگ: کون کس سے بھاری اورکس کے پاس کتنے فوجی اور ساز و سامان ہے؟رپورٹ

    ماسکو: یوکرین روس جنگ: کون کس سے بھاری اورکس کے پاس کتنے فوجی اور ساز و سامان ہے؟اطلاعات کے مطابق اس وقت روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری ہے ، روس نے بھرپورفضائی حملہ کیا ہے اور بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے

    دفاعی صلاحیتوں کے اعتبار سے روس بلاشبہ یوکرین سے کہیں زیادہ طاقتور ہے اور یہ بات یوکرین بھی بخوبی جانتا ہے البتہ ممکن ہے کہ اسے مغربی ممالک اور امریکا کا تعاون حاصل ہو۔

    اگر روس اور یوکرین کے فوجیوں کی تعداد اور دفاعی ساز و سامان کا تقابلی جائزہ کریں تو روس کا یوکرین سے کوئی مقابلہ نہیں بنتا۔

    عسکری قوت

    دنیا بھر میں عسکری قوت اور دفاعی ساز و سامان کے اعتبار کے ملکوں کی درجہ بندی جاری کرنے والے عالمی ادارے گلوبل فائر پاور اور آئی آئی ایس ایس ملٹری پاور کے اعداد و شمار کے مطابق روس دنیا کی دوسری بڑی فوجی طاقت ہے جبکہ یوکرین کا نمبر 22 واں ہے۔

    فوجیوں کی تعداد

    فوجیوں کی مجموعی تعداد کی بات کی جائے تو یہاں بھی روس کو یوکرین پر بھاری سبقت حاصل ہے۔ روس کے فوجیوں کی مجموعی تعداد تقریباً 29 لاکھ ہے جبکہ یوکرین کے پاس 11 لاکھ کے قریب فوجی موجود ہیں۔ ان میں سے روس کے فعال فوجیوں کی تعداد 9 لاکھ جبکہ ریزرو دستوں کی تعداد 20 لاکھ ہے۔

    اسی طرح یوکرین کے فعال فوجیوں کی تعداد صرف 2 لاکھ جبکہ ریروز دستوں کی تعداد 9 لاکھ ہے۔

    جنگی طیاروں کی تعداد کسی بھی جنگ میں بری فوج کو اگر فضائی معاونت حاصل نہ ہو تو ان کیلئے پیش قدمی مشکل ہوجاتی ہے یہی وجہ ہے کہ فضائی قوت جنگ جیتنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر دونوں ملکوں کے پاس موجود جنگی طیاروں کا ذکر کیا جائے تو یہاں زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔

    روس کے پاس تقریباً 1511 جنگی طیارے موجود ہیں جبکہ یوکرین کے پاس موجود طیاروں کی تعداد محض 98 ہے۔

    جنگی ہیلی کاپٹرز
    اس میدان میں بھی روس یوکرین سے آگے ہے۔ یوکرین کے پاس صرف 34 ہیلی کاپٹرز ہیں جبکہ روس کی عسکری قوت میں 544 ہیلی کاپٹرز موجود ہیں۔

    ٹینکس

    موجودہ دور میں جنگ کے دوران ٹینکس کا کردار کسی حد تک محدود ضرور ہوا ہے تاہم ان کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ روس اور یوکرین کے معاملے میں ٹینکس کی اہمیت زیادہ ہے کیوں کہ روس یوکرین کے علاقوں میں پیش قدمی چاہتا ہے اور پیش قدمی کا محفوظ طریقہ ٹینکس کو لے کر آگے بڑھنا ہے۔

    روس کے پاس موجود ٹینکس کی تعداد 12 ہزار 240 ہے جبکہ یوکرین 2596 ٹینکس رکھتا ہے۔

    بکتر بند گاڑیاں

    روس کے پاس موجود بکتر بند گاڑیوں کی تعداد 30 ہزار 122ہے جبکہ یوکرین کے پاس 12 ہزار 303 بکتر بند گاڑیاں ہیں۔

    قابل انتقال توپیں

    روس کے پاس ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے والی تقریباً 7571 توپیں موجود ہیں جبکہ یوکرین کے پاس اس طرح کی 2040 توپیں موجود ہیں۔

    ایٹمی ہتھیار

    یہ بات ہم سب کے علم میں ہے کہ روس ایٹمی ملک ہے جبکہ یوکرین کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود نہیں۔ سوویت یونین کا حصہ ہونے کی وجہ سے ماضی میں جو جوہری ہتھیار یوکرین کے پاس موجود بھی تھے وہ ان سے دستبردار ہوچکا ہے۔

    روس کے پاس موجود ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد حتمی طور پر تو نہیں بتائی جاسکتی البتہ ایک محتاط اندازے کے مطابق روس کے پاس مختلف نوعیت کے جوہری ہتھیاروں کی تعداد 6 ہزار سے زائد ہے جبکہ امریکا کے پاس بھی تقریباً اتنے ہی ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔

    دونوں ملکوں کی عسکری قوت کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات تو آسانی سے کہی جاسکتی ہے کہ یوکرین جنگ کی صورت میں روس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور اگر امریکا یا یورپی ممالک نے اس میں مداخلت کی تو جنگ کا دائرہ مزید بھی بڑھ سکتا ہے۔

    روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کیا ہے؟

    خیال رہے کہ 1922 میں جب سوویت یونین کی بنیاد ڈالی گئی تو یوکرینین سوویت سوشلسٹ ریپبلک (یوکرینین ایس ایس آر) بھی اس میں شامل تھا تاہم1991 میں جب سوویت یونین کا شیرازہ بکھرا تو یوکرین نے بھی آزادی حاصل کی۔

    البتہ روس اپنا شیرازہ بکھرنے کے باوجود سوویت یونین میں شامل ممالک کو کہیں نہ کہیں اپنا حصہ سمجھتا ہے اور یوکرین کا معاملہ بھی یہی ہے۔ یوکرین میں قدیم روسی نسل کے باشندے بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں جن میں کریمیا، دونیستک اور لوہانسک میں ان کی اکثریت ہے۔

    روس اور یوکرین کے درمیان اس سے قبل 2014 میں بھی جنگ ہوچکی ہے۔ دراصل یوکرین کی خواہش ہے کہ وہ یورپی یونین میں شمولیت حاصل کرے اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا حصہ بنے تاکہ اسے تجارتی و دفاعی تحفظ حاصل ہوسکے تاہم روس مختلف وجوہات کی بنا پر اس کے خلاف ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کی بنیادی وجہ یہ دو عوامل ہی ہیں۔

  • روس کا یوکرین پر حملہ ، چین کا سخت ردعمل :امریکہ کوذمہ دارقراردیا

    روس کا یوکرین پر حملہ ، چین کا سخت ردعمل :امریکہ کوذمہ دارقراردیا

    بیجنگ : روس کا یوکرین پر حملہ ، چین کا سخت ردعمل :امریکہ کوذمہ دارقراردیا ،اطلاعات کے مطابق چین نے یوکرین میں افراتفری کا ذمہ دار امریکا کو ٹھہرادیا اور کہا واشنگٹن نے کشیدگی کو ہوا دی اور جنگ کے خطرات کو بھڑکایا۔

    تفصیلات کے مطابق چینی وزارت خارجہ نے یوکرین پر روسی حملے کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ یوکرین روس تنازع کو بات چیت سے حل کرنا ہوگا ، تنازع پر صورتحال کاجائزہ لے رہے ہیں۔

    چینی وزارت خارجہ نے امریکا کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا واشنگٹن نے کشیدگی کو ہوا دی اور جنگ کے خطرات کو بھڑکایا،جنگ کوبڑھاوادینے والےتمام اقدامات پرشدیداعتراض ہے، امریکا یوکرین کو ہتھیار دے کر معاملے کو بڑھا رہاہے۔

    چین نے امریکا کی جانب سے روس پر پابندیوں اور یوکرین کو اسلحے کی فراہمی کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو خطے میں جنگ کے مترادف قرار دیا اور کہا جوبائیڈن انتظامیہ یوکرین کے معاملے کو ہوا دے رہی ہے۔

    ترجمان ہوا چوئیننگ نے امریکا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی جلتی پر تیل ڈالے اور اس کا الزام بھی دوسروں پر دھرے تو یہ غیر زمہ دارانہ اور غیر اخلاقی عمل کہلائے گا۔

    ترجمان وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ یوکرین تنازع پر تمام فریقین کو ایک دوسرے کو اہمیت دیں اور ایک دوسرے کے سیکیورٹی خدشات کو دور کریں تاکہ مشاورت اور مذاکرات سے اس مسئلے کا پُرامن حل نکل سکے۔

  • دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:روس،چین اتحاد:امریکہ کا فوجیوں اور اڈوں کی تعداد بڑھانے کااعلان

    دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:روس،چین اتحاد:امریکہ کا فوجیوں اور اڈوں کی تعداد بڑھانے کااعلان

    واشنگٹن :دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:روس،چین اتحاد:امریکہ کا فوجیوں اور اڈوں کی تعداد بڑھانے کااعلان ،اطلاعات کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکی فوج چین اور روس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فوجیوں کی تعداد اور اڈوں میں اضافہ کرے گی جبکہ ایران اور جہادی گروپوں کو روکنے کے لیے مشرق وسطیٰ میں اپنی افواج کو برقرار رکھے گی۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پینٹاگون کے افسران کا پیر کو کہنا تھا کہ امریکی محکمہ دفاع گوام اور آسٹریلیا میں فوجی تنصیبات کو اپ گریڈ کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ محکمہ دفاع چین کو امریکہ کا سب سے بڑا دفاعی حریف سمجھتے ہوئے اس پر اپنی توجہ مرکوز کرے گا۔یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک نیا دفاعی اتحاد قیام میں آیا ہے جسے آکوس کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس اتحاد میں امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا شامل ہیں اور ان کا مقصد چین کی ترقی کا مقابلہ کرنا ہے۔

    چین اپنی بحریہ تشکیل دے رہا ہے اور ایشیا میں دہائیوں سے امریکی فوجی تسلط کو امتحان میں ڈال رہا ہے۔یہ اتحاد اس وقت بنا جب بیجنگ نے متنازع جنوبی چائنہ سمندر میں اپنا کنٹرول مضبوط کیا اور تائیوان کے خلاف اپنے فوجی خطرات میں اضافہ کیا۔

    رواں سال کے آغاز میں صدر جو بائیڈن کی جانب سے کمیشن کیے گئے جائزے ’گلوبل پوسچر رویو‘ کے بارے میں پینٹاگون کے افسران کا کہنا تھا کہ اس کی تفصیلات کو ابھی خفیہ رکھا جائے گا تاکہ امریکہ کے منصوبے حریف ممالک کو پتا نہ چلیں۔یاد رہے کہ ’گلوبل پوسچر رویو‘ وہ جائزہ ہے جو امریکہ کی قومی سلامتی کو مدِنظر رکھتے ہوئے عالمی سطح پر ملک کے لائحہ عمل سے متعلق ہے۔

    پنٹاگون کی اعلٰی افسر مارا کارلن کا کہنا ہےکہ اس جائزے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی فوج کا ترجیحی علاقہ انڈو پیسیفک ہے۔مارا کارلن نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ جائزہ ’خطے میں اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ اضافی تعاون کی ہدایت کرتا ہے تاکہ ایسے اقدامات کو آگے بڑھایا جائے جو علاقائی استحکام میں معاون ہوں اور چین کی جانب سے ممکنہ فوجی جارحیت اور شمالی کوریا کی طرف سے خطرات کو روکیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ جائزہ یورپ میں روس کی جارحیت کے خلاف مدد دیتا ہے اور نیٹو فورسز کو زیادہ موثر انداز میں کام کرنے میں مدد دیتا ہے۔
    تاہم عراق اور افغانستان میں طویل جنگوں کے بعد مشرق وسطیٰ اب بھی پینٹاگون کے لیے مشکل علاقہ ہے۔

  • روس کا یو کرین پر حملہ:اسٹاک مارکیٹیں کریش کر گئیں

    روس کا یو کرین پر حملہ:اسٹاک مارکیٹیں کریش کر گئیں

    روس کی جانب سے یو کرین پر حملے کے بعد تیل اور سونے کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ اسٹاک مارکیٹیں کریش کر گئیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق روس کے یوکرین پر حملے کے بعد عالمی منڈی میں تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا۔جبکہ سونے کی فی اونس قیمت 16 ڈالر بڑھ گئی ہے عالمی اسٹاک ایکسچینجز میں بھی شدید مندی دیکھنے میں آرہی ہے۔ جاپان، آسٹریلیا، چین، سنگاپور اور دیگر اسٹاک ایکسچینجز میں 3 فیصد تک مندی دیکھی گئی۔

    یوکرین پر روسی حملے کے بعد کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ بھی شدید مندی کی زد میں آگئی بٹ کوائن کی قدر 6 فیصد سے زائد گر کر 35200 ڈالر کی سطح پرپہنچ گئی ہے-

    روسی صدر پیوٹن نے یوکرین میں فوجی آپریشن کا حکم دے دیا

    ادھر یوکرین کی فوج نے مشرقی یوکرین میں روسی طیارہ مار گرانے کا دعوی کیا ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق روس نے 2 مارچ کے تک متعدد ہوائی اڈوں پر پروازیں عارضی طور پر معطل کر دیں ہیں۔ ماسکو ایکسچینج نے تمام مارکیٹوں میں تجارت معطل کردی ہے۔

    یوکرینی وزیرخارجہ کے مطابق روس کی جانب سے یوکرین میں فوجی تنصیبات پر حملے جاری ہیں۔

    امریکی صدر کا یوکرینی صدر سے رابطہ ہوا ہے، امریکی صدر کا کہنا ہے کہ جی 7 کے رہنما، امریکی اتحادی روس پر سخت پابندیاں عائد کریں گے، رابطے میں امریکہ کی یوکرین پر روسی فوجی دستوں کے بلا اشتعال اور بلاجواز حملے کی مذمت کی گئی ہے بائیڈن نے یوکرینی صدر کو روس کے خلاف اٹھا ئے جانے والے اقدامات کے بارے میں بتایا، یوکرین اور اس کے شہریوں کی مدد جاری رکھیں گے۔

    روس یو کرین تنازع: پوٹن کے خطاب کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ

    کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے روس سے یوکرین کے خلاف کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ روس تمام فوجی اور پراکسی فورسز کو واپس بلائے، روس کے اقدامات کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، کینیڈا روس کی بلاجواز جارحیت کو روکنے کے لیے اضافی کارروائی کرے گا۔

    نیٹو سربراہ جینز اسٹولٹن برگ نے روس کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کے اتحادی روس کے تازہ ترین اقدام سے نمٹنے کے لیے ملاقات کریں گے، سربراہ نیٹو کے مطابق اس مشکل وقت میں یوکرین کی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں جبکہ نیٹو اتحادیوں کے تحفظ اور دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

    اقوام متحدہ کے سیکیورٹی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں چینی سفیر نے یوکرین حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت یوکرین کی نازک صورتحال ہے، یوکرین کے مسئلے کے پرامن حل کا دروازہ مکمل بند نہیں ہوا اور نہ ہی اس دروازے بند ہونے چاہیے اس وقت تنازعات میں شدت پیدا کرنے سے گریز کرنا ضروری ہے، جبکہ چین بات چیت کو اپنے طریقے سے فروغ دینا جاری رکھے گا۔

  • پانچ روسی طیارے، ایک ہیلی کاپٹر گرا دیا، یوکرینی وزارت دفاع کا دعویٰ

    پانچ روسی طیارے، ایک ہیلی کاپٹر گرا دیا، یوکرینی وزارت دفاع کا دعویٰ

    یوکرین پر روس کا حملہ،اتحادی جواب دیںگے،امریکہ،افسوسناک لمحہ ہے،اقوام متحدہ

    یوکرین نے روس کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کر دیا ہے

    یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر دیئے ہیں،یوکرینی صدر نے روسی شہریوں سے جنگ کےخلاف احتجاج کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ ان تمام شہریوں پر سے پابندیاں ہٹا دیں گے جو ریاست کا دفاع کرنے کیلئے تیار ہیں یوکرین اپنی سالمیت کا ہرقیمت پردفاع کرے گا ہ روس کے صدر سے متعدد باررابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن جواب میں خاموشی رہی۔

    قبل ازیں یوکرین میں روسی فوجی آپریشن ،فوجی تنصیبات پر راکٹ حملے کئے گئے ،روس نے یوکرین کا ایئر ڈیفنس نظام تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے

    یوکرین نے دعویٰ ہے کہ جوابی کاروائی کرتے ہوئے اس نے 5 روسی جیٹ طیارے اور 1 ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے، یوکرینی وزارت دفاع کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پیغام میں کہا گیا ہے کہ روس کے پانچ طیارے اور ایک ہیلی مار گرایا ہے

    روسی افواج یوکرین کے ماریوپول اور اوڈیسا شہروں میں اتر گئیں،یوکرین بحیرہ اسود کی بندرگاہ اوڈیسا میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، روسی افواج نے جمعرات کو یوکرین کے کئی شہروں پر میزائل داغے اور فوجیوں کو اس کے جنوبی ساحل پر اتارا،یوکرین کا کہنا ہے کہ روسی فوج کی شیلنگ سے 7 افراد ہلاک، 9 زخمی ہوئے ،روس نے یوکرین کا ایئر ڈیفنس نظام تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے

    یوکرینی ایمرجنسی سروس کا کہنا ہے کہ ریاستی سرحد پر روسی اور بیلاروسی فوج نے حملہ کیا، حملہ کریمیا سے بھی ہو رہا ہے، حملے سے کیف میں اسلحہ ڈپو میں آگ لگ گئی،سائبر خطرے کی وجہ سے ویب سائٹ کو عارضی طور پر غیر فعال کردیا ہے یوکرینی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقی یوکرین میں روسی طیارہ مار گرایا ہے

    یوکرین کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ہمارے پرامن شہروں پر حملے جاری ہیں، روس نے یوکرین پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا ہے،روس یوکرین کے شہروں کو ہتھیاروں سے نشانہ بنا رہا ہے،یہ جارحیت کی جنگ ہے، یوکرین اپنا دفاع کرے گا اور جیتے گا، دنیا پیوٹن کو روک سکتی ہے اور اسے روکنا چاہیے،یوکرینی سفارتخانے نے پیغام میں کہا ہے کہ یوکرینی فوج پوری طاقت کے ساتھ ملک کی حفاظت کرے گی دوست ممالک یوکرین کو ہتھیاراور فوجی ساز و سامان فراہم کریں روسی جارحانہ فوجی آپریشن کا مقصد یوکرین کی ریاست کو تباہ کرنا ہے یوکرین نے عالمی برادری سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ اور فیصلہ کن اقدامات سے ہی روس کی یوکرین کے خلاف جارحیت کو روکا جا سکتا ہے ،

    روسی صدر پیوٹن کا کہنا ہے کہ روسی فوجی کارروائی کا مقصد یوکرین کو غیر مسلح کرنا ہے، روس یوکرین پر قبضے کا منصوبہ نہیں رکھتا،یوکرینی فوجی ہتھیار چھوڑ کر گھر چلے جائیں ، روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یوکرین کے فضائی دفاع کو کمزور کردیا ، روسی سفیر کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت روسی فوجی آپریشن درست ہے، روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ روسی مسلح افواج یوکرین کے شہروں پر حملہ نہیں کررہیں، یوکرینی شہریوں کو خطرہ نہیں،

    امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ یوکرین پر روس کے غیر منصفانہ حملے کا امریکہ اور اتحادی جواب دیں گے ،اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ روسی صدر پیوٹن انسانی ہمدردی کے تحت فوجیوں کو واپس بلائیں، میرے دور کا یہ سب سے افسوسناک لمحہ ہے،امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن اور وزیر دفاع آسٹن نے نیٹو سیکریٹری جنرل سے رابطہ کیا ہے امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ روس کو جواب دینے اور نیٹو کے مشرقی حصے کو مضبوط بنانے کے لیے متحد ہیں

    فرانسیسی صدرنے روس کے یوکرین پرحملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ روس فوری طورپرفوجی آپریشن روکے یوکرین کی سفارتی اورمالی مدد جاری رکھیں گے،فرانس اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑا رہے گا،

    برطانیہ نے یوکرین پر روسی حملوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ روس یوکرین کےسرپربندوق تھامے کھڑا ہے روس جنگ روکنےکی بات نہیں سن رہا جنگ سے بے پناہ مصائب،جانی نقصان ہوگا،برطانوی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ یوکرین میں روسی افواج کی جانب سے حملے پریشان کن ہیں،آئندہ اقدامات پر یوکرین کے صدر زیلنسکی سے بات کی ہے، صدر پیوٹن نے یوکرین پر حملہ کر کے خونریزی اور تباہی کا راستہ چنا ہے، نیٹو سربراہ جینز اسٹولٹن برگ نے یوکرین پر روسی حملوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ نیٹو اتحادی روسی اقدام سے نمٹنے کے لیے ملاقات کریں گے،مشکل وقت میں یوکرین کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، نیٹو اتحادیوں کے تحفظ اور دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا،

    یوکرین کے قانون سازوں نے روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان 24 فروری سے ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی تجویز کو منظوری دے دی ہے ہنگامی حالات جمعرات سے 30 دنوں کے لیے نافذ العمل رہیں گے، حالانکہ یہ لوہانسک اور ڈونیٹسک کے تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں نافذ نہیں ہوگی۔ یوکرین کے علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کے قانون کی 450 نشستوں والی پارلیمنٹ میں 335 قانون سازوں نے حمایت کی ،جس کے بعد یوکرین کے صدر زیلینسکی نے مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کردیا ،یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ روس نے ہمارے انفراسٹرکچر اورسرحدی محافظوں پر میزائل حملے کیے یوکرین کے کئی شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں،

    دوسری جانب یورپی یونین ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ فضائی کمپنیاں یوکرین کے اوپر یا اس کے قریب پرواز نہ کریں،روس نے 2 مارچ کے تک متعدد ہوائی اڈوں پر پروازیں عارضی طور پر معطل کر دیں،بھارت نے ایئر انڈیا کی خصوصی پرواز کو یوکرین داخلے سے روک دیا ،یوکرین نے بھی اندرون ملک شہری پروازوں کو محدود کر دیا ہے قطر ایئرویز، ویز ایئر، ترکش ایئر لائنز اور دیگر سمیت ایئر لائنز نے جمعرات کو کیف کی پروازیں منسوخ کر دی تھیں ،یوکرین کی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کی ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ پروازوں کو سول ایوی ایشن کے لیے ممکنہ خطرے کی وجہ سے روک دیا گیا تھا ،پولش ایئر لائنز ایل او ٹی کی پرواز روانہ ہونے کے باوجود واپس وارسا بلا لی گئی ۔ اس سے قبل روس نے یوکرین کے ساتھ ملک کی مشرقی سرحد کے ساتھ پروازیں محدود کر دی تھیں

    کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ روس یوکرین کے خلاف کارروائیاں بند کرے،روس تمام فوجی اور پراکسی فورسز کو واپس بلائے،روس کے اقدامات کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے،کینیڈا روس کی بلاجواز جارحیت کو روکنے کے لیے اضافی کارروائی کرے گا،

    روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے روسی صدر کے فوجی آپریشن کےاعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا، 7 سال بعد خام تیل کی قیمت 100 ڈالرفی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے ،امریکی خام تیل کی قیمت میں 4.6 فیصد اضافہ ہواہے ، امریکی خام تیل 96 ڈالر 30 سینٹ پر ٹریڈ کر رہا ہے ، برطانوی خام تیل میں 4.6 فیص اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے بعد برطانوی خام تیل 101 ڈالر 32 سینٹ پر ٹریڈ کر رہا ہے ۔دوسری جانب روس یوکرین تنازعہ ،ماسکو ایکسچینج نے تمام مارکیٹوں میں تجارت معطل کردی،

    امریکی صدر جوبائیڈن کا یوکرینی ہم منصب سے رابطہ ہوا ہے ،امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جی 7 ممالک کے رہنما، امریکی اتحادی روس پر پابندیاں عائد کریں گے،یوکرین پر روسی فوجی حملوں کی مذمت کرتے ہیں یوکرین اور اس کے شہریوں کی مدد جاری رکھیں گے،

    یوکرین میں چینی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ یوکرین میں صورتحال تشویش ناک ہے ،چینی سفارتخانے نے یوکرین میں چینی شہریوں کو گھر پر رہنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ موجودہ صورتحال میں چینی شہریوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ،چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جنگ کو بڑھاوا دینے والے کسی بھی اقدام پر اعتراض ہے ،موجودہ صورتحال میں کچھ امریکہ حامی ممالک جلتی پر تیل کا کام کرہے ہیں ڈنمارک نے یوکرین کے دارلحکومت کیف میں اپنا سفارتخانہ بند کردیا ،ایران نے یوکرین میں موجود اپنے شہریوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا،

    بھارت کا کہنا ہے کہ اگر روس اور یوکرین کی دشمنی پر قدغن نہیں لگائی گئی تو ظیم بحران کھڑا ہو جائے گا جس کے سبب خطہ میں سنگین عدم استحکام کی صورت حال پیدا ہونے کا خدشہ ہے اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل مندوب ٹی ایس ترومورتی کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال ایک بڑے بحران کی طرف گامزن ہے ہم پیش رفت پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں اگر اسے احتیاط سے نہ سنبھالا گیا تو خطے کا امن و سلامتی خراب ہو سکتی ہے

    دوسری جانب یوکرائن میں پاکستانی سفیر نے یوکرائن میں تعلیم کے لئے پاکستانی طلبا سے اپیل کی ہے کہ جنگ کے پیش نظر پاکستانی طلبا حکومت کی ہدایت کے مطابق واپس پاکستان چلے جائیں، یوکرین میں موجود پاکستانی سفیر میجر جنرل (ر) نول اسرائیل کھوکھراوریوکرین میں موجود پاکستانی طلبہ کے درمیان ایک زوم میٹنگ ہوئی جس میں تقریباً 40 پاکستانی طلبہ نے شرکت کی جو یوکرین کے مختلف شہروں اور تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ کی نمائندگی کر رہے تھے۔میٹنگ میں میجر جنرل (ر) نول اسرائیل کھوکھر نے طلبہ سے کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے طلبہ کو ہدایت ہے کہ وہ کشیدگی کے پیش نظر جلد از جلد واپس پاکستان لوٹ جائیں جو طالب علم اپنی کسی ذمہ داری کی وجہ سے وطن واپس نہیں جائیں گے سفارت خانہ انھیں ہر قسم کی مدد فراہم کرتا رہے گا۔ یوکرائن میں زیرتعلیم پاکستانی طلبا کی تعداد تین ہزار کے قریب ہے، سفارتخانے نے یوکرین میں موجود پاکستانی طلبہ سے خود کو سفارتخانے میں رجسڑ کروانے کی بھی ہدایت کی ہے

    روسی صدر پیوٹن نے یوکرین میں فوجی آپریشن کا حکم دے دیا-

    :یوکرائن میں ایمرجنسی نافذ:سائرن بج گئے:شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم

    برطانیہ آسٹریلیا اور جاپان نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا آغاز کردیا ہ

    پوتن کوملک سے باہر روسی فوج کی تعیناتی:نیٹو کے جنگی طیارے سائرن بجانےلگے:پابندیاں بھی لگ گئیں‌ 

    :روس جنگ کےلیے تیار:ولادی میرپوتن نے ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کیلیے قانونی رائے مانگ لی

    یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم،

  • روس کا حملہ یورپ میں بڑی جنگ کا آغاز بن سکتا ہے،یوکرینی صدر

    روس کا حملہ یورپ میں بڑی جنگ کا آغاز بن سکتا ہے،یوکرینی صدر

    کیف: یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کی یوکرین میں فوجی کارروائی یورپ میں بڑی جنگ کا آغاز بن سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی میڈیا کے مطابق یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے قوم سے خطاب میں کہا کہ یوکرین اپنی سالمیت کا ہرقیمت پردفاع کرے گا ہم ملکی دفاع کے لئے تیارہیں۔

    روسی صدر پیوٹن نے یوکرین میں فوجی آپریشن کا حکم دے دیا

    یوکرینی صدرنے روس کے شہریوں پرزور دیا کہ وہ اپنے صدرکی جانب سے فوجی کارروائی کی مخالفت کریں اورایسے کسی بھی اقدام کومسترد کردیں صدرپیوٹن یوکرین سے متعلق اپنے عوام سے جھوٹ بول رہے ہیں روس کے صدر سے متعدد باررابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن جواب میں خاموشی رہی۔

    یوکرین کے سرکاری محکموں ،بینکوں پرسائبرحملے

    غیرملکی میڈیا کے مطابق یوکرین کے مختلف سرکاری محکموں اوربینکوں کی ویب سائٹس پرسائبرحملے کئے گئے یوکرین کے محکمہ خارجہ سمیت دیگرسرکاری اداروں کی ویب سائٹس پرسائبرحملوں کے نتیجے میں یہ ویب سائٹس بند ہوگئیں ہیں یوکرین کے ڈیجٹل ٹرانسفارمیشن کے وزیرکے مطابق بینکوں کے سسٹمز پرسائبرحملوں سے لین دین کا نظام متاثرہوا ہے۔

    یوکرائن میں ایمرجنسی نافذ:سائرن بج گئے:شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم

    یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ سائبرحملوں سے متاثر ویب سائٹس کوبحال کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

    دوسری جانب یوکرین نے روس کے حملے کے پیش نظر ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کردیا ہے جس کے تحت کئی علاقوں میں کرفیو نافذ رہے گا اور کسی کو گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی روس کی جانب سے یوکرین کے دو صوبوں کو خودمختار ریاستیں تسلیم کرکے وہاں فوجیں بھیجنے کے اعلان کے بعد یوکرین نے ملک میں 30 روز کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی۔

    یوکرین کے قومی سلامتی اور ڈیفنس کونسل کے وزیر نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ اگر ضرورت پڑی تو ایمرجنسی میں مزید 30 دن کی توسیع کی جا سکتی ہے۔ اس دوران جن علاقوں میں کرفیو نافذ ہوگا وہاں شہریوں کو گھر میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    روس 48 گھنٹوں میں بڑا حملہ کرے گا، امریکا کادعویٰ

  • امریکا کا وزیراعظم عمران خان کے دورہ روس پر تبصرہ کرنے سے گریز

    امریکا کا وزیراعظم عمران خان کے دورہ روس پر تبصرہ کرنے سے گریز

    امریکی ترجمان محکمہ خارجہ نیڈ پرائس کا کہنا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو روس سے متعلق اپنی پوزیشن کے بارے میں آگاہ کردیا ہے-

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق امریکی ترجمان محکمہ خارجہ نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ اپاکستان کے ساتھ ہماری دیرینہ شراکت داری اور تعاون ہے،جمہوری پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو امریکی مفادات کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان ولادی میرپوتن کی دعوت پر روس پہنچ گئے:روس میں جشن کا سماں:شانداراستقبال

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے وزیراعظم عمران خان کے دورہ روس پر تبصرے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کےموجودہ وقت میں دورہ روس پر تبصرہ نہیں کر سکتا۔

    ان کا کہنا ہے کہ ہر ذمہ دار جمہوری ملک روس کو عدم استحکام پھیلانے والی جنگ سے روکے یوکرین کی صورت حال پر ہر ذمہ دار ملک کو تشویش کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان ایسے وقت میں دورہ روس پر موجود ہیں جب یوکرین تنازع پر امریکہ اور روس کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر، مشیر تجارت عبد الرزاق داؤد، قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف اور عامر محمود کیانی بھی ہمراہ ہیں-

    روس 48 گھنٹوں میں بڑا حملہ کرے گا، امریکا کادعویٰ

    عمران خان روسی صدر کے ساتھ ون آن ون اور وفود کی سطح پر ملاقات کریں گے روسی وزیراعظم اور ڈپٹی وزیراعظم کی ملاقات بھی شیڈول ہے۔ وزیراعظم اسلامک سینٹر ماسکو کا دورہ اور گرینڈ مفتی سے ملاقات کریں گے۔ وزیراعظم روسی کاروباری شخصیات سے ملاقات کریں گے، وزیراعظم 24 فروری کو وطن واپس روانہ ہوں گے۔

    یوکرائن میں ایمرجنسی نافذ:سائرن بج گئے:شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم

  • وزیراعظم عمران خان ولادی میرپوتن کی دعوت پر روس پہنچ گئے:روس میں جشن کا سماں:شانداراستقبال

    وزیراعظم عمران خان ولادی میرپوتن کی دعوت پر روس پہنچ گئے:روس میں جشن کا سماں:شانداراستقبال

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان ولادی میرپوتن کی دعوت پر روس پہنچ گئے:روس میں جشن کا سماں:شانداراستقبال۔ اطلاعات کے مطابق ائیر پورٹ پر وزیر اعظم کا استقبال روس کے ڈپٹی وزیر خارجہ نے استقبال کیا۔

    وزیراعظم ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر، مشیر تجارت عبد الرزاق داؤد، قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف اور عامر محمود کیانی بھی ہمراہ تھے۔

    وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کا جہاز ماسکو ائیرپورٹ پر لینڈ کر گیا ہے۔

    وزیراعظم کو وونکووائیرپورٹ پر گارڈ آف آنر دیا جائے گا۔ عمران خان روسی صدر کے ساتھ ون آن ون اور وفود کی سطح پر ملاقات کریں گے۔

    روسی وزیراعظم اور ڈپٹی وزیراعظم کی ملاقات بھی شیڈول ہے۔ وزیراعظم اسلامک سینٹر ماسکو کا دورہ اور گرینڈ مفتی سے ملاقات کریں گے۔ وزیراعظم روسی کاروباری شخصیات سے ملاقات کریں گے، وزیراعظم 24 فروری کو وطن واپس روانہ ہوں گے۔

    ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کی جانب سے دو روز قبل جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ روسی صدر ولادیمیرپیوٹن کی دعوت پر وزیراعظم عمران خان 23 اور 24 فروری 2022 کو سرکاری دورہ کریں گے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان اور روس کے دوستانہ تعلقات ہیں، جو باہمی احترام، اعتماد، بین الاقوامی اور علاقائی مسائل پر خیالات کی ہم آہنگی سے عبارت ہیں۔ سربراہی ملاقات کے دوران دونوں رہنما توانائی میں تعاون سمیت دوطرفہ تعلقات کا مکمل جائزہ لیں گے۔

    ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا دونوں رہنما اہم علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے، جس میں اسلاموفوبیا اور افغانستان کی صورت حال بھی شامل ہوگی۔ وزیراعظم کے دورے سے پاکستان اور روس کے درمیان دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون میں بہتری آئے گی۔

  • یوکرائن میں ایمرجنسی نافذ:سائرن بج گئے:شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم

    یوکرائن میں ایمرجنسی نافذ:سائرن بج گئے:شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم

    لندن :یوکرائن میں ایمرجنسی نافذ:سائرن بج گئے:شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم،اطلاعات ہیں کہ یوکرائن نے روسی سرحد پر حالات کشیدہ ہونے کے بعد ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور اپنے شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔

    یوکرائن کے اعلیٰ سیکیوریٹی آفیشلز نے ملک بھر میں 30 دن کے لئے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے ، اور اپنے شہریوں کو روس سے فوری طور پر نکل جانے کا حکم دیا ہے۔

    واضح رہے کہ یوکرائن کے تقریباً 3 ملین شہری روس میں مقیم ہیں جبکہ متعدد شہریوں کے خاندان روس اور یوکرائن کے اندر منقسم ہیں۔یوکرائن نے روس کی جانب سے ممکنہ حملے کے پیش نظر اپنے ریزرو فوجیوں کو بھی باقاعدہ فوج میں شامل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

    روس کے ممکنہ حملے کے پیش نظر امریکہ نے بھی یوکرائن کو ہر ممکن امداد کا اعلان کیا ہے، اور کہا ہے کہ وہ یوکرائن کو عظیم فوجی امداد بھی دے گا۔

    مغربی ممالک اور ان کے اتحادیوں نے روس کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، گزشتہ روز برطانیہ نے 4 اور امریکہ نے 2 روسی بینکوں پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

    برطانیہ کی لیبر پارٹی نے بینکوں پر پابندی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ روس کے خلاف سخت پابندیاں عائد کی جائیں۔

    دوسری طرف ولادیمیر پیوٹن کی دعوت پر وزیراعظم عمران خان تاریخی دو روزہ دورے پر روس کے لیے روانہ ہو گئے۔

    وزیراعظم ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر، مشیر تجارت عبد الرزاق داؤد، قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف اور عامر محمود کیانی بھی ہمراہ ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان روسی دارلحکومت ماسکو پہنچیں گے، جہاں وونکووائیرپورٹ پر گارڈ آف آنر دیا جائے گا۔ عمران خان روسی صدر کے ساتھ ون آن ون اور وفود کی سطح پر ملاقات کریں گے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم یوکرین کے حوالے سے بھی اہم اعلان کریں گے

    روسی وزیراعظم اور ڈپٹی وزیراعظم کی ملاقات بھی شیڈول ہے۔ وزیراعظم اسلامک سینٹر ماسکو کا دورہ اور گرینڈ مفتی سے ملاقات کریں گے۔ وزیراعظم روسی کاروباری شخصیات سے ملاقات کریں گے، وزیراعظم 24 فروری کو وطن واپس روانہ ہوں گے۔