Baaghi TV

Tag: سعودی عرب

  • سعودی عرب سے مزید 13 ہزار سے زائد غیرقانونی تارکین وطن بے دخل

    سعودی عرب سے مزید 13 ہزار سے زائد غیرقانونی تارکین وطن بے دخل

    ایک ہفتے کے دوران سعودی عرب میں اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی مزید 18 ہزار877 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں جبکہ مزید 13 ہزار 241 غیرقانونی تارکین وطن کو بے دخل کردیا گیا۔

    عرب میڈیا کے مطابق 18 سے 24 دسمبر کے درمیان مجموعی طور پر 11 ہزار 991 افراد کو اقامہ قانون، 3 ہزار808 کو غیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور 3 ہزار 78 کو قانون محنت کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا جبکہ غیرقانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کو شش پر ایک ہزار312 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا، ان میں سے 55 فیصد ایتھوپین، 44 فیصد یمنی اور ایک فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

    لاہور میں سہیل آفریدی کی قیادت میں اسٹریٹ موومنٹ صرف ٹریلر تھا، معاون خصوصی

    علاوہ ازیں 46 ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا ہے جو سرحد پار کرکے مملکت سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے، سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 14 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہےاس دوران 13 ہزار 241 غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔

    واضح رہے سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔

    قلات میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، 4بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد ہلاک

  • سعودی عرب میں  منشیات وصول کرتے ہوئے 6 پاکستانی گرفتار

    سعودی عرب میں منشیات وصول کرتے ہوئے 6 پاکستانی گرفتار

    ریاض: سعودی عرب میں 71 کلوگرام منشیات وصول کرتے ہوئے 6 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

    سعودی وزارتِ داخلہ کے سکیورٹی ترجمان طلال الشلہوب کے مطابق جنرل ڈائریکٹوریٹ آف نارکوٹکس کنٹرول (جی ڈی این سی) نے زکوٰۃ، ٹیکس اینڈ کسٹمز اتھارٹی کے تعاون سے ریاض ریجن میں مقیم 6 پاکستانی باشندوں کو گرفتار کیا، ملزمان کو 71 کلو گرام میتھایمفیٹامین وصول کرتے ہوئے حراست میں لیا گیا۔

    ایک اور کارروائی میں جی ڈی این سی کی جانب سے عمانی حکام کے ساتھ شیئر کی گئی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر اسمگلنگ کی دو کوششیں ناکام بنا دی گئیں جن کے دوران 200 کلوگرام سے زائد منشیات ضبط کی گئیں۔

    بلوچستان:سیکیورٹی بہتر بنانے کیلئے پہلا آرٹیفیشل انٹیلیجنس سیل قائم کرنے کا اعلان

    سکیورٹی ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب منشیات کے ذریعے ملکی سلامتی اور نوجوانوں کو نشانہ بنانے والی مجرمانہ سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے گا، ایسی کوششوں کو ناکام بنائے گا اور ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    سندھ میں جرائم پیشہ عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں، ضیا الحسن لنجار

  • سفارتی تعلقات کی بحالی کیلئے سعودی عرب کا اسرائیل کو دوٹوک اور واضح پیغام

    سفارتی تعلقات کی بحالی کیلئے سعودی عرب کا اسرائیل کو دوٹوک اور واضح پیغام

    سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے واضح اور دوٹوک پیغٍام میں کہا ہے کہ صیہونی ریاست کو تسلیم کرنا تو دور کی بات، سعودی عرب اس وقت اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر بھی غور نہیں کر رہا ہے۔

    سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے اسرائیلی اخبار دی ٹائمز آف اسرائیل کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی صرف اُسی صورت ممکن ہے جب اسرائیل ایک نارمل ریاست کی طرح بین الاقوامی قوانین کے مطابق طرز عمل اختیار کرے اور فلسطینی مسئلے کا منصفانہ حل سامنے آئے۔

    اُنہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات اس وقت تک قائم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی مسئلے کا حل دو ریاستی فارمولے کے تحت طے نہیں ہو جاتا اگر اسرائیل بین الاقوامی قوانین کو تسلیم کرے اور ان پر عمل کرے تو پھر سعودی عرب اس کے ساتھ معمول کے تعلقات پر غور کر سکتا ہےسعودی مؤقف میں نہ کوئی تبدیلی آئی ہے اور نہ کوئی ابہام ہے کہ آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام ہی کسی بھی ممکنہ پیش رفت کی بنیاد ہے۔

    پی آئی اے ملازمین کا نجکاری کیخلاف بلاول ہاؤس چورنگی پر احتجاجی مظاہرہ

    اس موقع پر ترکی الفیصل نے 2002 کے عرب امن منصوبے کا حوالہ بھی دیا، جس کی بنیاد 1967 سے پہلے کی سرحدوں اور فلسطینی مہاجرین کے مسئلے کے منصفانہ حل پر رکھی گئی تھی،سعودی عرب نے ماضی میں بھی امن عمل میں حصہ لیا تھا جیسا کہ 1991 کی میڈر ڈ امن کانفرنس کے بعد ہوا تھا لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا کیونکہ اسرائیل امن کے لیے قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں تھا۔

    شہزادہ ترکی الفیصل نے اسرائیلی وزیر اعظم اسحاق رابن کے قتل اور فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی موت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات امن عمل کے ناکام ہونے کی علامت تھے،( اسرائیل ہمیشہ سے یاسر عرفات کو زہر دیے جانے کے الزام کی تردید کرتا آیا ہے لیکن ٹھوس شواہد کے تمام اشارے صیہونی ریاست تک ہی جاتے ہیں)۔

    مدارس کے معاملہ میں پہلے سے طے شدہ باتوں کو بار بار نہ چھیڑا جائے،مفتی منیب

    ترکی الفیصل نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے میں کارروائیاں، شام اور لبنان میں فوجی موجودگی، جنگ بندی معاہدوں سے انحراف اور گریٹر اسرائیل جیسے بیانات اعتماد پیدا نہیں کرتےامریکی دباؤ سے متعلق سوال پر شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ سعودی عرب اپنی خارجہ پالیسی اپنے قومی مفادات کے تحت بناتا ہے اور کسی بھی بیرونی دباؤ کے تحت فیصلے نہیں کرتا، ولی عہد محمد بن سلمان نے خود وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کے سامنے واضح کیا تھا کہ دو ریاستی حل کے بغیر اسرائیل سے معمول کے تعلقات ممکن نہیں۔

    پنجاب پولیس کے سابق آئی جی نے خود کو گولی مار لی

    شہزادہ ترکی نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ 7 اکتوبر 2023 کے حماس کے حملے سے پہلے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر آنے کے قریب تھے یہ محض قیاس آرائیاں تھیں اور سعودی عرب کا مؤقف ہمیشہ سے واضح رہا ہے کہ فلسطینی مسئلے کے حل کے بغیر اسرائیل کے ساتھ کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی،اگر اسرائیل کے موجودہ وزیر اعظم کے بعد کوئی نیا رہنما آتا ہے تو اسے بھی دو ریاستی حل کو تسلیم کرنا ہوگا۔

    انہوں نے اسرائیلی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ وہ امن کا راستہ اختیار کرتے ہیں یا نہیں لیکن سعودی عرب کا اصولی مؤقف تبدیل نہیں ہوگا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے پیرا اسپیشل الاؤنس کی منظوری دے دی

  • سعودی عرب نے  سب سے زیادہ سزائے موت دینے کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا

    سعودی عرب نے سب سے زیادہ سزائے موت دینے کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا

    سعودی عرب نے ایک ہی سال میں سب سے زیادہ سزائے موت دینے کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کے روز مزید تین افراد کو پھانسی دی گئی، جس کے بعد رواں سال اب تک مجموعی طور پر 340 افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے حالیہ برسوں میں سعودی عرب سزائے موت دینے والے ممالک میں چین اور ایران کے بعد تیسرے نمبر پر رہا ہے یہ مسلسل دوسرا سال ہے کہ مملکت نے ایک سال میں دی جانے والی پھانسیوں کا اپنا سابقہ ریکارڈ خود ہی توڑا ہے اس سے قبل 2024 میں 338 افراد کو سزائے موت دی گئی تھی۔

    سعودی وزارتِ داخلہ کی جانب سے سرکاری خبر رساں ادارے سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے ذریعے جاری بیان میں بتایا گیا کہ مکہ ریجن میں قتل کے مقدمات میں مجرم قرار دیے گئے تین افراد کو پھانسی دی گئی-

    2025 کے آغاز سے اب تک دی جانے والی 340 سزاؤں میں سے 232 سزائیں منشیات سے متعلق مقدمات میں دی گئی ہیں، جو مجموعی پھانسیوں کی اکثریت بنتی ہیں۔ یہ اعداد و شمار وزارتِ داخلہ اور ایس پی اے کے جاری کردہ بیانات کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سزاؤں میں اس غیر معمولی اضافے کی بڑی وجہ سعودی عرب کی جانب سے 2023 میں شروع کی گئی “وار آن ڈرگز” ہے، جس کے تحت ابتدائی طور پر گرفتار کیے گئے کئی ملزمان کو طویل قانونی کارروائی اور عدالتی فیصلوں کے بعد اب سزائے موت دی جا رہی ہے۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب نے تقریباً تین سال تک منشیات کے مقدمات میں سزائے موت پر عملدرآمد معطل رکھنے کے بعد 2022 کے اختتام پر دوبارہ ان سزاؤں کا آغاز کیا تھا،ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سعودی عرب 2022، 2023 اور 2024 میں دنیا بھر میں سزائے موت پر عمل درآمد کرنے والے ممالک میں چین اور ایران کے بعد تیسرے نمبر پر رہا۔

  • محمد اورنگزیب  کی  سعودی  نائب وزیرِ خزانہ سے ملاقات

    محمد اورنگزیب کی سعودی نائب وزیرِ خزانہ سے ملاقات

    ریاض: وفاقی وزیرخزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے جمعرات کوریاض میں سعودی عرب کے نائب وزیرِ خزانہ عبدالمحسن الخلاف سے ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران دونوں وزراء نے پاکستان میں کلی معیشت کے استحکام کے رجحانات اور معیشت کو مزید بہتر بنانے کے مشترکہ عزم پر تبادلہ خیال کیاسینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے سعودی عرب کی دوطرفہ اور کثیرالجہتی معاونت کو سراہا۔

    دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ قیادت اور دونوں برادر ممالک کے عوام کی توقعات پوری کرنے کے لئے تدبیراتی اور حکمتِ عملی کے دونوں محاذوں پر قریبی تعاون جاری رکھا جائے گا۔

    وزیر خزانہ ریاض میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کیلئے سعودی عرب کے دورے پرہیں،دورے کے دوران انہوں نے شاہی دربار کے مشیر محمد التواجیری سے ملاقات کی اور مختلف بین الاقوامی میڈیا اداروں کو انٹرویوز بھی دیئے۔

  • سعودی عرب میں گھریلو ملازمین سے فیس وصولی پر پابندی، 20 ہزار ریال جرمانہ

    سعودی عرب میں گھریلو ملازمین سے فیس وصولی پر پابندی، 20 ہزار ریال جرمانہ

    سعودی عرب نے آجروں کو گھریلو ملازمین سے بھرتی، ورک پرمٹ اور دیگر مدوں میں کسی بھی قسم کی فیس وصول کرنے سے روک دیا ہے۔ خلاف ورزی پر 20 ہزار سعودی ریال تک جرمانہ اور تین سال تک بھرتی پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

    سعودی گزٹ کے مطابق کمپنیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ ملازمین سے بھرتی، پیشے کی تبدیلی، خدمات کی منتقلی، اقامہ یا ورک پرمٹ کی کوئی فیس وصول نہ کریں۔یہ دفعات سعودی وزارتِ افرادی قوت کی جانب سے جاری کیے گئے ملازمین کے حقوق و ذمہ داریوں کے رہنما اصولوں میں شامل کی گئی ہیں، جن کا مقصد گھریلو ملازمین کو باوقار زندگی اور بہتر کام کے ماحول کی ضمانت فراہم کرنا ہے۔

    وزارت کے جاری کردہ گائیڈ کے مطابق گھریلو ملازمت کے شعبے میں ڈرائیور، نرس، باورچی، معلم، کسان، گارڈ، کافی بنانے والے اور ماہر فزیو تھراپی سمیت متعدد پیشے شامل ہیں۔رہنما اصولوں میں واضح کیا گیا ہے کہ گھریلو ملازم سے مراد وہ شخص ہے جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر آجر کے لیے گھریلو کام انجام دیتا ہے یا اس کے ماتحت عملے کا حصہ ہوتا ہے.

    وزیراعظم سمیت 25 فیصد ارکان اسمبلی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے،فافن رپورٹ

    اسرائیل غزہ کے شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کا پابند ہے،عالمی عدالت انصاف

  • تجارت اور سرمایہ کاری،سعودی کاروباری وفد اسلام آباد پہنچ گیا

    تجارت اور سرمایہ کاری،سعودی کاروباری وفد اسلام آباد پہنچ گیا

    سعودی عرب کا ایک اعلیٰ سطحی کاروباری وفد پاک-سعودیہ مشترکہ بزنس کونسل کے چیئرمین شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کی قیادت میں اسلام آباد پہنچ گیا، جہاں وہ تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی تعاون کے امور پر بات چیت کرے گا۔

    دفتر خارجہ کے مطابق شہزادہ منصور بن محمد آل سعود اور ان کا وفد پاکستانی قیادت، اعلیٰ سرکاری حکام، چیمبرز آف کامرس اور بڑے کاروباری گروپوں سے ملاقاتیں کرے گا تاکہ دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ معاشی روابط اور مذاکرات کی نگرانی کے لیے 18 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم دفاعی معاہدہ بھی ہوا تھا جس کے تحت کسی بھی جارحیت کی صورت میں مشترکہ ردعمل کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور سعودی عرب کے گہرے اور برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور دونوں ممالک کے اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ بزنس کونسل کے فریم ورک کے تحت اقتصادی اور سرمایہ کاری شراکت داری کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ دورے کے دوران بات چیت کا محور تجارت، سرمایہ کاری میں سہولت اور ترجیحی شعبوں میں تعاون ہوگا، جو سعودی وژن 2030 اور پاکستان کے معاشی ترقیاتی ایجنڈے سے مطابقت رکھتا ہے۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب طویل عرصے سے پاکستان کے لیے توانائی اور مالی معاونت کا اہم ذریعہ رہا ہے۔ رواں برس فروری میں ریاض نے 1.2 ارب ڈالر مؤخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی کا معاہدہ کیا تھا جبکہ اسلام آباد 5 ارب ڈالر کے سعودی قرضوں کے رول اوور کا خواہاں ہے جن میں سے 2 ارب ڈالر دسمبر 2025 اور 3 ارب ڈالر جون 2026 میں واجب الادا ہیں۔

    پاکستان زندہ باد کا نعرہ غداری نہیں، بھارتی کورٹ کا فیصلہ

    پاکستان زندہ باد کا نعرہ غداری نہیں، بھارتی کورٹ کا فیصلہ

    چینی سرمایہ کاروں کی سندھ حکومت کو سرمایہ کاری کی پیش کش

    پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدے کا فیصلہ

  • مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل ہی امن کا واحد راستہ ہے، سعودی وزیر خارجہ

    مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل ہی امن کا واحد راستہ ہے، سعودی وزیر خارجہ

    سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پائیدار امن صرف دو ریاستی حل سے ہی ممکن ہے۔

    نیو یارک میں اقوام متحدہ کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فرانس کے صدر ایمانویل میکرون کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا خطے میں امن کے قیام کے لیے عالمی برادری کو دو ریاستی حل کی حمایت کرنی چاہیے۔

    واضح رہے کہ برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال کے بعد فرانس بھی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے،نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کے حالیہ عالمی فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانس، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، پرتگال اور دیگر کئی ممالک کے اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔

    اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے بعد اپنے بیان میں اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ کانفرنس سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ صدارت میں فلسطین کے مسئلے کے پرامن حل اور دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے منعقد کی گئی تھی،پاکستان کو فخر ہے کہ وہ 1988 میں فلسطین کے آزادی کے اعلان کے فوراً بعد اسے ریاست تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں شامل تھا۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا مشرقِ وسطیٰ میں منصفانہ، پائیدار اور جامع امن کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے پاکستان عالمی برادری، خصوصاً اُن ممالک سے اپیل کرتا ہے جنہوں نے تاحال فلسطین کو تسلیم نہیں کیا کہ وہ بھی بین الاقوامی اصولوں کے تحت اس انسانی اور سیاسی فریضے کو پورا کریں۔

  • سعودی عرب کا یمن کے لیے 1.38 بلین ریال اضافی امداد کا اعلان

    سعودی عرب کا یمن کے لیے 1.38 بلین ریال اضافی امداد کا اعلان

    سعودی عرب نے یمن کے عوام کے لیے سعودی پروگرام برائے ترقی و تعمیر نو کے تحت 1.38 بلین سعودی ریال (368 ملین امریکی ڈالر سے زائد) کی اضافی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

    سعودی اخبار سعودی کے مطابق یہ امداد خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے حکم اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی سفارشات پر فراہم کی جا رہی ہے، جو یمن میں سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے مملکت کے عزم کا اظہار ہے۔سعودی وزارتِ خارجہ نے بیان میں کہا کہ یہ امدادی پیکیج یمن کی اقتصادی، مالی اور مالیاتی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے، تاکہ ملک شدید اقتصادی بحران سے نکل سکے۔ یہ امداد یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر رشاد العلیمی کی درخواست پر دی جا رہی ہے۔

    اعلان کے مطابق امداد میں حکومت کے بجٹ کی معاونت، ایندھن کی فراہمی اور عدن میں قائم شہزادہ محمد بن سلمان اسپتال کے عملیاتی بجٹ کی فراہمی شامل ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ امداد شفاف حکمرانی کے اصولوں کے تحت دی جا رہی ہے تاکہ یمنی حکومت کی اقتصادی اصلاحات کو تقویت دی جا سکے۔

    ایشیا کپ: بھارتی کپتان نے ہینڈ شیک سوال کو نظرانداز کردیا

    افغانستان میں 679 کتابوں پر پابندی، 18 مضامین بھی نصاب سے خارج

    اردو الفاظ استعمال کرنے پر بھارتی ٹی وی چینلز کو نوٹسز

    ایشیا کپ: پاک بھارت ٹیمیں دوبارہ آمنے سامنے، اینڈی پائی کرافٹ ہی ریفری مقرر

  • پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

    پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

    پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدے کے تناظر میں پاکستان علما کونسل کی اپیل پر ملک بھر میں آج یومِ تشکر منایا گیا۔

    پاکستان علما کونسل کی اپیل پر ملک بھر کی مساجد میں جمعے کے خطبات میں پاک-سعودی معاہدے پر اللہ کا شکر ادا کیا گیا اور مسلم اُمّہ کے اتحاد و امن کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں،پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے اس موقع پر کہا کہ یہ دن صرف پاکستان یا سعودی عرب کے لیے نہیں، بلکہ پوری اُمتِ مسلمہ کے اتحاد اور سلامتی کے لیے باعثِ شکر ہے،انہوں نے معاہدے کو اُمت کے لیے نئی طاقت قرار دیا۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورۂ سعودی عرب کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدہ ہوا، معاہدے کے مطابق، اگر پاکستان یا سعودی عرب میں سے کسی ایک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا،معاہدے کے تحت دونوں ممالک دفاع، انٹیلیجنس، ٹریننگ، اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں قریبی تعاون کریں گے، جبکہ پاکستان کو حرمین شریفین کے دفاع میں اہم کردار دیا گیا ہے۔

    افغان طالبان نے برطانوی جوڑے کو رہا کردیا

    پاک سعودی تزویراتی دفاعی معاہدےکا مقصد صرف استحکام ہے،دفتر خارجہ

    سعودیہ سے معاہدہ،پاکستان نے بیرونی طاقتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا،تجزیہ:شہزاد قریشی