Baaghi TV

Tag: سوشل میڈیا

  • حکومت سوشل میڈیا اور فیک نیوز سے متعلق اہم قانون سازی کر رہی ہے،وزیر قانون

    حکومت سوشل میڈیا اور فیک نیوز سے متعلق اہم قانون سازی کر رہی ہے،وزیر قانون

    اسلام آباد:وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ میں مزید ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیا –

    باغی ٹی وی : اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025 ایوان میں پیش کیا۔

    اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا مقررہ مدت میں ٹرائل مکمل نہ ہونے پر نتائج ہوں گے، ٹرائل کورٹ کو مقدمات کا فیصلہ 6 ماہ سے ایک سال میں کرنا ہو گا، ماڈرن ڈیوائسز کو قانون شہادت میں شامل کرنے کی ترامیم بھی شامل ہیں، عوام کو نظام انصاف سے متعلق دشواریاں درپیش ہیں، عوام اس ایوان سے ان کے حل کی توقع رکھتی ہے، نظام میں اتنی خرابیاں ہیں کہ کسی پر کچھ ثابت ہی نہیں ہوتا۔

    حکومت کا پیکا ایکٹ میں مزید ترامیم کا فیصلہ،’سوشل میڈیا پلیٹ فارم‘ کی نئی تعریف شامل

    ان کا کہنا تھا مجرموں کو سزا دینے کی شرح بہت کم ہے، دیگر ممالک میں سزا دینے کی شرح 80 فیصد ہے، اس نظام کی بہتری کے لیے ترامیم لا رہے ہیں، اپویشن کو عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں، وہ صرف یہاں آ کر لابی میں کھانے کھاتے ہیں، ایک شخص کی رہائی کے نعرے لگاتے ہیں اور بار بار صرف کورم کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    الیکشن کمیشن نے لیگی رہنما عادل بازئی سے متعلق اعلامیہ جاری کردیا

    ذرائع کے مطابق وفاقی پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025 کے ذریعے حکومت سوشل میڈیا اور فیک نیوز سے متعلق اہم قانون سازی کر رہی ہے، ترمیمی بل میں فیک نیوز سے متعلق ترامیم میں سزاؤں اور جرمانے کا تعین بھی شامل ہو گا، فیک نیوز سے متعلق ترامیم میں سزا 5 سال تک دینے کی تجویز شامل ہو گی۔

    راولپنڈی: سعودی عرب میں پاکستانی سفیر کا دورہ چیمبر آف کامرس، تجارتی مواقع پر بریفنگ

  • علیمہ خان کی غیر ملکی صحافیوں اور لابیز کے ذریعے سازش کے شواہد منظر عام پر

    علیمہ خان کی غیر ملکی صحافیوں اور لابیز کے ذریعے سازش کے شواہد منظر عام پر

    علیمہ خان کے غیر ملکی صحافیوں اور لابیز کے ساتھ واٹس ایپ پیغامات منظر عام پر آگئے،

    پیغامات، ریاست کو کمزور کرنے کیلئے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ سازش کو بے نقاب کرتے ہیں، پیغامات میں بانی پی ٹی آئی کو مظلوم ظاہر کرتے ہوئے ریاست اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے، پیغامات کے پہلے حصے میں برطانوی صحافی چارلس گلاس اور علیمہ خان کی گفتگو سامنے آئی ہے،

    برطانوی صحافی چارلس گلاس علیمہ خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ;”کیا میں جیل میں بانی پی ٹی آئی کو اپنی کچھ کتابیں دستخط کے ساتھ بھیج سکتا ہوں“”برطانیہ کی سخت حفاظتی جیلوں میں دستخط شدہ کتابیں بھیجنے کی اجازت نہیں ہے“، علیمہ خان نے جواب میں چارلس گلاس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ;”میں نے بانی پی ٹی آئی کو آپ کا پیغام پہنچا دیا ہے، وہ آپ کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کر رہے ہیں“”میں نے انہیں مطلع کیا ہے کہ آپ (چارلس گلاس) انہیں اپنی دستخط شدہ کتابیں بھیجیں گے“،”انہیں لازماً کتابیں مل جائیں گی“،

    چارلس گلاس کے حوالے سے علیمہ خان اور اعلی ٰ برطانوی اہلکار کی گفتگو بھی سامنے آئی ہے،برطانوی اہلکار نے علیمہ خان کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ;”میری چارلس سے چند گھنٹے قبل بات ہوئی ہے، میں نے بہت کوشش کی مگر کامیابی نہ مل سکی“علیمہ خان نے برطانوی اہلکار کو جواباً کہا کہ ;”جب چارلس کسی سے ملاقات کر رہا تھا تو پولیس نے چارلس کو واپس ہمارے کمپاؤنڈ میں جانے کا کہا“”وہ (چارلس گلاس) میری بہن کے گھر میں رہائش پذیر ہے“، ”انہوں (پولیس)نے اسے (چارلس گلاس) کو پہلی دستیاب فلائٹ سے جانے کا کہا ہے“،

    علیمہ خان نے برطانوی اہلکار سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ;”کیا آپ کے پاس کو لیگل کونسل نہیں جو اس مسئلے سے نمٹ سکے؟“

    علیمہ خان نے ”ٹائم میگزین“ کے جنوبی ایشیا کے ایڈیٹر چارلی کیمبل کو بھی واٹس ایپ کے ذریعے پیغامات ارسال کئے،چارلی کیمبل کو بھیجے گئے پیغام میں نام نہاد انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو بنیاد بناتے ہوئے کہا کہ ;”پی ٹی آئی کارکنوں کوہراساں کیا جا رہا ہے، کب تک کارکنان ہراسگی کا سامنا کرتے رہیں گے“جواباً چارلی کیمبل نے علیمہ خان کو کہا کہ;”یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے“

    علیمہ خان کا ایک واٹس ایپ رابطہ وال سٹریٹ جنرل جریدے کے صحافی سعید شاہ کے ساتھ بھی سامنے آیا ہے،صحافی سعید شاہ نے علیمہ خان سے بانی پی ٹی آئی کے ساتھ آئندہ ملاقات میں کچھ سوالات کے جوابات مانگے،پوچھے گئے سوالات میں بانی پی ٹی آئی سے دنیا بالخصوص امریکا کیلئے پیغام مانگا گیا،سعید شاہ نے سوال کیا کہ ”آپ (بانی پی ٹی آئی) کی اقتدار میں واپسی کیسے ممکن ہے؟“”کیا آپ (بانی پی ٹی آئی) اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین جنگ چل رہی ہے؟“، علیمہ خان نے اشاراتاً جواب دیتے ہوئے کہا کہ;”کس نے دو بار بانی پی ٹی آئی کو قتل کرنے کی سازش کی“سعید شاہ نے اس کے جواب میں کہا کہ ;”ہاں۔۔ اسی لئے میں ان سے پوچھنا چاہا رہا ہوں مجھے امید ہے کہ اس کی کوئی وجہ سامنے آئے گی“

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق علیمہ خان مسلسل غیر ملکی صحافیوں اور لابیز کے ساتھ رابطوں کے ذریعے ریاست مخالف چھوٹا پروپیگینڈا پھیلا رہی ہے،2024 ء میں پاکستان کیلئے ویزہ درخواست میں چارلس گلاس نے خود کو سیاح ظاہر کرتے ہوئے کسی صحافتی مہم کا حصہ نہ بننے کا بیان حلفی دیا تھا،برطانوی صحافی چارلس گلاس کو اگست2024ء میں ویزہ کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے پر پاکستان سے ڈی پورٹ کیا گیا،

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق چارلس گلاس کا پیغام کے ساتھ کتاب کا بھیجنا بانی پی ٹی آئی کی منفی ذہن سازی اور خفیہ پیغام رسانی ہوسکتا ہے،اس حوالے سے علیمہ خان کا استعمال اور کتابوں کو پیغام کا ذریعہ بنانا قابل غور اور تشویشناک ہے،چارلس گلاس کا برطانوی جیلوں کے سخت قوانین کی حمایت اور پاکستان میں غیر قانونی ذرائع استعمال کرنا بھی تشویشناک ہے، علیمہ خان کا پاکستانی ویزہ قوانین کی خلاف ورزی پر چارلس گلاس کی حمایت ذاتی مفادات کیلئے غیر قانونی عمل ہے، علیمہ خان کی جانب سے چارلی کیمبل کیساتھ نام نہاد انسانی حقوق کا واویلا پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنے کی سازش ہے، صحافی سعید شاہ کا عسکری قیادت کو بغیر شواہد کے سوالات کے ذریعے سیاست سے جوڑنا صحافتی اقدار کے منافی ہے، علیمہ خان کا صحافی سعید شاہ کو اشارتاًبانی پی ٹی آئی پر حملے کو اسٹیبلشمنٹ سے جوڑنا ملک دشمنی اور گمراہ کن ہے،بانی پی ٹی آئی کا غیر ملکی مداخلت کا بیانیہ اور علیمہ خان کا مسلسل غیر ملکی لابیز سے مداخلت کی درخواستیں کرنا دوغلے پن کی نشانی ہے،

    ڈیرہ غازیخان:ہم 9 مئی والے نہیں، 28 مئی والے ہیں،مریم نواز

    الیکشن کمیشن کو سیاسی اثر و رسوخ، مداخلت کا شکار نہیں ہونا چاہیے،سپریم کورٹ

    نیرج چوپڑا کی دلہن کون؟تفصیلات سامنے آ گئیں

  • امریکی معروف ٹک ٹاکر  سر پر گولی لگنے سے  جاں بحق

    امریکی معروف ٹک ٹاکر سر پر گولی لگنے سے جاں بحق

    امریکا کے معروف ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کرس اوڈونیئل سر پر گولی لگنے سے جاں بحق ہو گئے-

    باغی ٹی وی: امریکی سوشل میڈیا اسٹار کی موت کو خودکشی قرار دیا جارہا ہے ماریکوپا میڈیکل ایگزامنر نے تصدیق کی ہے کہ اوڈونیئل کی مو ت سر پر گولی لگنے سے واقع ہوئی ہےفٹنس انفلوئنسر کے حوالے سے شہرت رکھنے والے امریکی ٹک ٹاک اسٹار کرس اوڈونیئل کے سوشل میڈیا پر 8 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں اور وہ فٹنس کے ساتھ ہائیکنگ کی ویڈیوز بھی شیئر کرتے رہتے تھے۔

    حالیہ دنوں میں کرس اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اتنے ایکٹیو نہیں تھے تاہم انہوں نے نومبر 2024 میں اپنی متعدد ہائیکنگ ایڈونچرز کی ریلز شیئر کی تھیں، جس کے کیپشن میں انھوں نے لکھا تھا کہ ان کی موت کے بعد انہیں کیسے یاد کیا جائے گا۔

    امریکا میں ٹک ٹاک بند،ایپل اور گوگل ایپ اسٹورز سے ہٹا دیا گیا
    america
    کرس نے ایک ویڈیو کے کیپشن میں لکھا تھا کہ ’’میں حیران ہوں کہ کب میں اس زمین کو چھوڑوں گا، کب میں چوہوں کی دوڑ سے نکلوں گا، جب میں مٹی میں پڑا ہوں، اگر آپ کو میرا چہرہ یاد ہوگا‘‘۔

    دوسری جانب امریکا میں ویڈیو شئیرنگ ایپلیکیشن ٹک ٹاک پر باضابطہ طور پر پابندی لگا دی گئی، روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک ایپ نے ہفتے کی رات سے ہی امریکا میں کام کرنا بند کر دیا تھا اور اسے ایپل اور گوگل ایپ اسٹورز سے ہٹا دیا گیا پابندی سے گھنٹوں قبل ہی ٹک ٹاک آف لائن ہو گیا 170 ملین سے زائد امریکی ٹک ٹاک استعمال کرتےہیں ٹک ٹاک ایک معروف چینی سوشل میڈیا اپیلیکیشن ہے جو اب ایپل اور گوگل ایپ سٹورز پر ڈاؤن لوڈ کے لیے میسر نہیں۔

    حماس یرغمالیوں کےنام جاری نہیں کر دیتی،غزہ میں جنگ بندی نہ کریں،اسرائیلی وزیراعظم کا فوج کو حکم

    روئٹرز کے مطابق ایپلیکیشن کے کام بند کرنے کے بعد ٹک ٹاک صارفین نے دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا رخ کیا جہاں انہیں معلوم ہوا کہ ٹک ٹاک بند ہوگیا ہے صارفین کے ٹک ٹاک اکاؤنٹس ان کے موبائل فون سے خود ہی لاگ آؤٹ ہوگئے۔

  • کرپٹو کرنسی سے متعلق پوسٹ،ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا شبہ

    کرپٹو کرنسی سے متعلق پوسٹ،ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا شبہ

    واشنگٹن: نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر (Solana-based memecoin) کرپٹو کرنسی سے متعلق پوسٹ نے تہلکہ مچا دیا،یہ پوسٹس 20 جنوری کو ٹرمپ کے امریکی صدر کے طور پر حلف اٹھانے سے قبل سامنے آئی ہیں۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 18 جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ”آفیشل ٹرمپ میم“ کا اعلان کیا، اور کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جیت کا جشن منایا جائے پوسٹ میں انہوں نے لوگوں کو اپنی کمیونٹی میں شامل ہونے کی دعوت بھی دی پوسٹ کے ذریعے انہوں نے ٹرمپ میم کوائن حاصل کرنے کی ترغیب بھی دی۔

    ٹرمپ کی اس سوشل میڈیا پوسٹ پر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں یہاں تک کرپٹو انڈسٹریز بھی ٹرمپ کی پوسٹ دیکھ کر حیرانی میں مبتلا ہیں اس کے بعد کئی سوشل پلیٹ فارمز پر ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    چار اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    آفیشل ٹرمپ میم کوائن اپنے آغاز کے صرف تین گھنٹے بعد $8.41 پر ٹریڈ کر رہا ہے، جس کی مارکیٹ کیپ 8.3 ڈالر بلین ہے یہ ڈیٹا تجارتی پلیٹ فارم ’مون شوٹ‘ سے سامنے آیا ہے جو میم کوائنس کی تجارت کا ایک پلیٹ فارم ہے ٹرمپ نے اپنے ٹرتھ سوشل اکاؤنٹ پر بھی اپنی میم کوائن کا ​​اعلان کیا،کرپٹو انڈسٹریز اس بات پر منقسم ہے کہ آیا ان پوسٹوں کے پیچھے ٹرمپ ہی تھے یا نہیں۔

    رپورٹ کے مطابق بٹ کوائن کے بانی اور سی ای او میکس شوارٹمین نے حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ کے میم کوائن کے فروغ سے متعلقہ پوسٹ پر بیان جاری کیا کہ اگر ٹرمپ کا اکاؤنٹ واقعی ہیک ہو گیا ہے، تو یہ کرپٹو کے لیے ان کے جوش و خروش کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے جیسا کہ وہ عہدہ سنبھالنے والے ہیں، جو کرپٹو مارکیٹ کے لیے اچھا ثابت نہیں ہو گا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس کے فیصلے پر بانی پی ٹی آئی ذرا بھی پریشان نہیں، شیخ رشید

    کرپٹو مبصر JRNY نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کی ٹیم نے صرف ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے علاوہ ایک نئے کریپٹو کرنسی پروجیکٹ میں اپنی شمولیت کی باضابطہ تصدیق کیوں نہیں کی اگر پوسٹس حقیقی ہیں، تو آپ کو لگتا ہے کہ ٹرمپ کے مشیر اس منصوبے کی قانونی حیثیت کی تصدیق کے لیے کچھ کہیں گے؟-

    واضح رہے کہ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کو مستقبل کی کرنسی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ بٹ کوائن امریکہ کے 35ارب ڈالر کے قرضے کو ختم کرنے میں مدد دے سکتا ہے ٹرمپ کرپٹو کرنسی کے بڑے حامی بھی ہیں۔

    اس ملک کے ساتھ صرف علمائے کرام نے وفاداری کی ہے،مولانا فضل الرحمان

  • فتنہ الخوارج کی پنجاب میں آن لائن بھرتی مہم کا نیٹ ورک پکڑا گیا

    فتنہ الخوارج کی پنجاب میں آن لائن بھرتی مہم کا نیٹ ورک پکڑا گیا

    پنجاب میں فتنہ الخوارج کی جانب سے نوجوانوں کی آن لائن بھرتی کی مہم کا انکشاف ہوا ہے جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری طور پر کارروائی کرکے دہشت گرد تنظیم کے نیٹ ورک کو توڑ دیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کو بھجوائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ دہشت گرد تنظیم نے صوبے کے مختلف شہروں سے نوجوانوں کو اپنی صفوں میں بھرتی کرنے کی کوشش کی۔رپورٹ کے مطابق، کالعدم تنظیم نے گوجرانوالہ، لاہور، ساہیوال، بہاولپور، جہلم اور سرگودھا سے نوجوانوں کو اپنی صفوں میں شامل کرنے کی کوشش کی۔ تنظیم نے مقامی سہولت کاری کے لیے ان افراد کی بھرتی کی تھی تاکہ اپنے دہشت گردانہ مقاصد کو آگے بڑھایا جا سکے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کی جانے والی سائبر پٹرولنگ اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر اس آن لائن بھرتی مہم کے نیٹ ورک کو کامیابی کے ساتھ توڑا گیا۔ اس کارروائی کے دوران 6 افراد کو گرفتار کیا گیا جو فتنہ الخوارج کی سہولت کاری کے لیے بھرتی ہوئے تھے۔ گرفتار شدگان کی عمریں 16 سے 23 سال کے درمیان ہیں۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سائبر پٹرولنگ کے دوران ریاست مخالف عناصر کی نگرانی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ریاست مخالف سرگرمیوں کے بارے میں معلومات جمع کرنے اور ان تک رسائی حاصل کرنے کے لیے الگورتھمز کی نشاندہی کی جارہی ہے تاکہ کسی بھی مزید دہشت گردانہ کارروائی کو روکا جا سکے۔یہ کارروائی اس بات کا غماز ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اب زیادہ مستعد اور مربوط طریقے سے سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر دہشت گردوں کی سرگرمیوں کو مانیٹر کر رہے ہیں اور نوجوانوں کو ان کے اثرات سے بچانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر چکے ہیں۔

    پنجاب کی ترقی میں مریم نواز کی قیادت کلیدی کردار ادا کر رہی ہے،سفیر آذربائیجان

    نکاح کے بعد رخصتی سے قبل گھر میں اکیلی موجود لڑکی قتل

  • یوٹیوب ، فیس بک اور ٹک ٹاک پر فوری پابندی  کیلئے درخواست دائر

    یوٹیوب ، فیس بک اور ٹک ٹاک پر فوری پابندی کیلئے درخواست دائر

    لاہور ہائیکورٹ میں یوٹیوب ، فیس بک اور ٹک ٹاک پر فوری پابندی عائد کرنے کے لئے درخواست دائر کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی: شہری اسلم نے ایڈووکیٹ ندیم سرور کے توسط سےدرخواست دائر کی ،درخواست میں وفاقی حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ہر دوسرے شخص کا یوٹیوب چینل ہے جسے وہ بلیک میلنگ کے لیے استعمال کر رہا ہے،غیر اخلاقی ویڈیوز اپ لوڈ کرکے ویوز لیے جا رہے ہیں اور پیسہ کمایا جا رہا ہے-

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ یوٹیوب اور فیس بک پر بغیر کسی لائسنس کے کسی بھی قسم کی ویڈیو اپ لوڈ کی جا سکتی ہےیوٹیوب ، فیس بک ، انسٹا گرام، ٹک ٹاک پر فیک ویڈیوز اپ لوڈ ہو رہی ہیں، اس کے علاوہ یوٹیوبر اپنے ولاگز میں اپنی خواتین کو دکھا رہے ہیں جو خاندانی نظام تباہ کر رہے ہیں۔

    18واں ایشین فنانشل فورم : وفاقی وزیر خزانہ شرکت کیلئے ہانگ کانگ روانہ

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ لاہور ہائیکورٹ سٹیزن پروٹیکشن رولز پر عملدرآمد کرنے کا حکم دیتے ہوئے سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز بند کرنے کے احکامات جاری کرے۔

    امریکی شہر مینہیٹن جتنی خلائی چٹان زمین کے قریب سے گزرے گی

  • مذاکرات کے باوجود پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا جاری

    مذاکرات کے باوجود پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا جاری

    حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکراتی عمل کا آغاز ہونے کے باوجود، تحریک انصاف کی جانب سے سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پراپیگنڈا بدستور جاری ہے۔

    حکومت نے قومی مسائل کے حل، استحکام کی بحالی اور جمہوری اصولوں کے تحفظ کے لئے پی ٹی آئی سے مذاکرات کی پیشکش کی، جبکہ آرمی چیف کی جانب سے 9 مئی کے فسادات میں ملوث 19 سزا یافتہ پی ٹی آئی کارکنوں کو معافی دے کر خیرسگالی کا پیغام دیا گیا۔ یہ اقدام مفاہمت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے اور مذاکرات کے لئے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔اس فیصلے کو ریاست کی کمزوری کے طور پر نہیں، بلکہ کشیدگی کم کرنے کے لئے ایک خیرسگالی کے اقدام کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ یہ اقدام ریاست کے متوازن رویے کی عکاسی کرتا ہے، جو احتساب کو متاثر کئے بغیر مفاہمت کو ترجیح دیتا ہے۔ اس سے ریاست کے اعتماد اور برداشت کا اظہار ہوتا ہے اور یہ ایسے اقدامات کی مثال بناتا ہے جو قومی اتحاد کو فروغ دیتے ہیں، قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھتے ہیں اور مستقبل میں غیر قانونی سرگرمیوں کو روکتے ہیں۔

    دوسری جانب، پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے اور بیرونی حمایت حاصل کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر ایک اینٹی ریاست مہم چلائی۔ پی ٹی آئی نے بانی پی ٹی آئی کی وزیراعظم کے عہدے سے ہٹانے کے لئے امریکہ کو ذمہ دار ٹھہرانے سے لے کر امریکی انتظامیہ سے روابط استوار کرنے تک، اپنے بیانیہ میں تبدیلی کی۔ اس کے علاوہ، پی ٹی آئی کی جانب سے ریاستی اداروں کے خلاف چلائی جانے والی مہم ان کے ارادوں اور مستقل مزاجی پر سوالات اٹھاتی ہے۔

    مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی نے سیاسی نقصان اور این آر او کے الزامات کے خوف سے تحریری چارٹر آف ڈیمانڈز جمع کرانے سے گریز کیا۔ تاہم، پی ٹی آئی کے اہم مطالبات میں عمران خان اور زیر حراست دیگر ارکان کی رہائی کے ساتھ ساتھ 9 مئی اور 26 نومبر کے فسادات کے حوالے سے عدالتی کمیشن کی تشکیل شامل ہے۔ حکومت نے شفافیت اور آئینی مطابقت کو یقینی بنانے کے لئے پی ٹی آئی کے مطالبات پر قانونی جائزہ لینے اور اتحادی شراکت داروں سے مشاورت کا وعدہ کیا ہے۔

    حکومت کا مقصد احتساب کو برقرار رکھتے ہوئے جمہوری شمولیت کو فروغ دینا اور مستقبل میں پرتشدد سیاسی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔ پی ٹی آئی کے مذاکرات کار موجودہ حکومت کو عوامی مینڈیٹ سے محروم قرار دیتے ہوئے بات چیت کو آئینی اور گورننس کے مسائل حل کرنے کی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ حکومتی نمائندے یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ 9 مئی کے فسادات کے لئے احتساب قومی سلامتی اور ریاستی اداروں کے تحفظ کے لئے ضروری ہے۔

    حکومت کا متوازن رویہ پی ٹی آئی کی پراپیگنڈا مہم کو بے اثر کرنے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ اتحاد کا احساس پیدا ہو اور سیاسی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے ریاستی اداروں کے خلاف مسلسل مہم چلانا قومی اتحاد کو نقصان پہنچا رہی ہے اور سیاسی فائدے کو پاکستان کے استحکام اور ترقی پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا اور غلط معلومات کی تشہیر پاکستان کے استحکام اور ادارہ جاتی سالمیت کے لئے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔”ڈراپ سائٹ نیوز”، جو متنازع اور سنسنی خیز کہانیاں شائع کرنے کے لئے جانا جاتا ہے، پی ٹی آئی کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ یہ خبریں من گھڑت سیاسی انتقام اور حکومتی زیادتیوں کے بیانیے پر مرکوز ہیں، جس سے پی ٹی آئی کی طرف سے ریاست کے خلاف چلائی جانے والی مہم کی شدت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ سزا یافتہ پی ٹی آئی کارکنوں کو معاف کرنے کا ایک سنجیدہ اقدام ہے، جو مذاکرات کے عمل کو فروغ دینے اور قومی استحکام کو یقینی بنانے کی کوشش ہے۔

    مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی کا دوہرا رویہ، جس میں ایک طرف اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اور دوسری طرف بیرونی مداخلت کی کوششیں شامل ہیں، مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بناتا ہے۔ دونوں فریقوں کی کامیابی کا انحصار پاکستان کے جمہوری مستقبل اور قومی مفادات کو ذاتی یا سیاسی ایجنڈوں پر ترجیح دینے کے حقیقی عزم پر ہے۔ اگر پی ٹی آئی اور حکومت دونوں مل کر ملک کے قومی مفادات کو اہمیت دیں، تو مذاکراتی عمل میں کامیابی کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکراتی عمل ایک نازک موڑ پر ہے، جہاں دونوں طرف سے سنجیدہ عزم کی ضرورت ہے۔ حکومت کے متوازن رویے اور پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پراپیگنڈا مہم کے درمیان ایک توازن قائم کرنا ضروری ہے تاکہ پاکستان کی سیاسی استحکام اور قومی مفادات کو یقینی بنایا جا سکے۔

    کرکٹ آسٹریلیا نے سنیل گواسکر کو اختتامی تقریب میں نہ بلانے کی غلطی تسلیم کر لی

    ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے ملکی مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھا.احسن اقبال

  • سوشل میڈیا پر پیار، 10 سالہ لڑکی اور 16 سالہ لڑکے کی بھاگنے کی کوشش

    سوشل میڈیا پر پیار، 10 سالہ لڑکی اور 16 سالہ لڑکے کی بھاگنے کی کوشش

    بھارتی ریاست گجرات کے دھنسورا گاؤں میں ایک 10 سالہ لڑکی اور 16 سالہ لڑکے نے سوشل میڈیا ایپ انسٹاگرام پر دوستی کرنے کے بعد اپنے گھروں سے فرار ہونے کی کوشش کی۔ پولیس نے دونوں کو ایک قریبی گاؤں سے گرفتار کر لیا، جب لڑکی کے والدین نے اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔

    31 دسمبر 2024 کو 10 سالہ لڑکی جو کہ پانچویں جماعت کی طالبہ تھی، اپنے گھر سے لاپتہ ہو گئی۔ اس کے والدین نے کئی گھنٹوں تک اپنی بیٹی کو تلاش کیا لیکن اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا، جس کے بعد انہوں نے پولیس میں شکایت درج کرائی اور اغوا کا الزام لگایا۔پولیس تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ دونوں بچے انسٹاگرام پر ایک دوسرے سے رابطے میں تھے اور دونوں ایک دوسرے کے ساتھ محبت میں مبتلا ہو گئے تھے۔ اس دوران، 31 دسمبر کو انہوں نے اپنے تین دوستوں کی مدد سے گھر چھوڑنے کا منصوبہ بنایا اور فرار ہو گئے۔پولیس نے لڑکی کی تلاش کے دوران معلوم کیا کہ وہ اپنی والدہ کے موبائل فون سے انسٹاگرام استعمال کرتی تھی اور اسی ایپ پر اس کی ملاقات لڑکے سے ہوئی تھی، جو دوسرے گاؤں میں رہتا تھا۔ دونوں اکثر فون پر بات چیت کرتے اور ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کرتے تھے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ لڑکی کے والد کو سوشل میڈیا کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں اور انہیں اس بات کا اندازہ بھی نہیں تھا کہ ان کی بیٹی انسٹاگرام پر کسی لڑکے سے بات کر رہی تھی۔ پولیس نے لڑکی کو قریبی گاؤں سے بازیاب کر لیا اور اسے اس کے خاندان کے حوالے کر دیا۔

    پولیس کے مطابق لڑکی کے والدین کی جانب سے شکایت کے بعد مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس نے اس بات پر زور دیا کہ والدین کو اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔

    یہ واقعہ ایک اور بار سوشل میڈیا کی اثرات اور بچوں کی حفاظت کے حوالے سے سوالات اٹھاتا ہے۔ بھارت میں گزشتہ سال مدھیہ پردیش میں بھی ایک 15 سالہ لڑکی نے 27 سالہ شخص کے ساتھ فرار ہو کر اپنے والدین کو دھمکی دی تھی کہ اگر شادی کی اجازت نہ دی گئی تو وہ مزید اقدام اٹھائیں گے۔ اس واقعہ نے بھی سوشل میڈیا پر بچوں کی غیر محفوظ سرگرمیوں کے بارے میں تشویش پیدا کی تھی۔ایک حالیہ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مدھیہ پردیش میں تقریباً 10 میں سے 4 نابالغ لڑکیاں جو اپنے والدین کو اطلاع دیے بغیر گھر چھوڑ دیتی ہیں، ان کا تعلق گھریلو مسائل سے ہوتا ہے۔ یہ مسائل ان بچوں کو اس طرح کے اقدام پر مجبور کرتے ہیں۔

    یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال بچوں کے لیے ایک خطرہ بن سکتا ہے، خاص طور پر جب وہ اپنی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے اپنے والدین کے ساتھ رابطے میں نہیں رہتے۔ والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو سوشل میڈیا کے صحیح استعمال اور اس کے ممکنہ خطرات کے بارے میں آگاہ کریں تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔

    ڈیٹنگ ایپس پر 700 خواتین سے پیسہ بٹورنے والا 23 سالہ نوجوان گرفتار

    ڈیٹنگ سائٹس،سوشل میڈیا،اپنے پیسے”دل” کو کیسے دھوکہ بازوں سے بچائیں؟

    66 سالہ خاتون "پیار” کے چکر میں ڈیٹنگ ایپس پر "لٹ” گئی

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

  • سوشل میڈیا کا لالچی گدھ ،معید پیر زادہ

    سوشل میڈیا کا لالچی گدھ ،معید پیر زادہ

    سوشل میڈیا نے دنیا بھر میں مقبولیت اور شہرت کے نئے مواقع فراہم کیے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس پر ایسے افراد بھی ہیں جو صرف منفعت اور شہرت کے پیچھے بھاگتے ہیں۔

    معید پیر زادہ، جو خود کو ایک مقبول سوشل میڈیا شخصیت کے طور پر پیش کرتے ہیں، کا شمار انہی افراد میں کیا جا سکتا ہے جو سوشل میڈیا کی دنیا میں صرف اپنی شہرت اور مالی فوائد کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔معید پیر زادہ نہ صرف پاکستان سے بھاگ چکے ہیں بلکہ بیرون ملک بیٹھ کر سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان اور ملکی سلامتی کے اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے نظر آتے ہیں جس کا مقصد انتشار پھیلانا اور مال بنانا ہے

    سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں پر لوگ اپنی زندگی کی مختلف پہلووں کو شیئر کرتے ہیں، اور بعض افراد اسے اپنے کاروبار اور شہرت کو بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ معید پیر زادہ بھی اس جال کا حصہ بن چکے ہیں، معید پیر زادہ کی سوشل میڈیا پر سرگرمیاں ملک دشمنی پر مبنی ہوتی ہیں وہ ملکی سلامتی کے اداروں کے خلاف بات کرتا نظر آئے گا اور انتشاری جماعت کی ترجمانی کرتے ہوئے انکی داد وصول کرے گا.معید پیر زادہ کی سوشل میڈیا پر موجودگی کا مقصد اکثر اپنی ذاتی شہرت بڑھانا اور اس کے ذریعے مالی فائدہ حاصل کرنا نظر آتا ہے۔ انہوں نے مختلف ویڈیوز اور پوسٹس کے ذریعے ملک دشمنی ہر مبنی اپنی سرگرمیوں کو پیش کیا، اور پی ٹی آئی کے ساتھ ہمدردی دکھائی تا کہ وہ زیادہ مال بنا سکے ان کا مقصد صرف اور صرف شہرت اور مالی فوائد حاصل کرنا ہے۔

    سوشل میڈیا پر ایسی شخصیتوں کا وجود جو صرف شہرت اور مالی فوائد کی لالچ میں مبتلا ہوں،اور اسکے لئے ملک دشمنی سے بھی باز نہ آئیں ایسے افراد کو قانونی دائرے کے شکنجے میں لاکر سخت کاروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے۔ جہاں ایک طرف یہ لوگوں کو نئے مواقع فراہم کرتا ہے، وہیں دوسری طرف اس کا غلط استعمال بھی ہو سکتا ہے۔ معید پیر زادہ جیسے افراد اس بات کا زندہ ثبوت ہیں کہ کس طرح سوشل میڈیا کو ذاتی منفعت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن ہمیں اس بات کا بھی دھیان رکھنا چاہیے کہ اس کے اثرات کا سامنا کبھی نہ ہو۔

    سوشل میڈیا کا لالچی گدھ ،معید پیر زادہ

    عمران خان جیل میں پاؤں پکڑنے کو تیار

    پارا چنار میں امن معاہدے کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کرنے والا حاجی کریم پی ٹی آئی کا حامی

  • ڈیٹنگ ایپس پر 700 خواتین سے پیسہ بٹورنے والا 23 سالہ نوجوان گرفتار

    ڈیٹنگ ایپس پر 700 خواتین سے پیسہ بٹورنے والا 23 سالہ نوجوان گرفتار

    ایک نوجوان نے اپنے آپ کو امریکی ماڈل کے طور پر پیش کیا اور مختلف ڈیٹنگ ایپس پر 700 سے زیادہ خواتین کو چکر دے کر ان سے پیسہ بٹورا۔

    اس نوجوان کا نام تُشّار سنگھ بشٹ ہے، جو 23 سال کا ہے اور دلی کے شاکر پور علاقے سے تعلق رکھتا ہے۔ تُشّار نے اپنی روزانہ کی نوکری میں نجی کمپنی میں ٹیکنیکل ریکروٹر کے طور پر کام کیا، جبکہ رات کو وہ ایک امریکی ماڈل کی جعلی شخصیت اختیار کرتا تھا اور بھارت میں روحانی سفر پر آنے کا بہانہ کرتا تھا۔ تُشّار سنگھ بشٹ نے بزنس ایڈمنسٹریشن میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی تھی اور گزشتہ تین سالوں سے نوئیڈا کی ایک نجی کمپنی میں ٹیکنیکل ریکروٹر کے طور پر کام کر رہا تھا۔ اس کا والد ایک ڈرائیور ہے، والدہ گھریلو خاتون ہیں اور اس کی بہن گڑگاؤں میں کام کرتی ہے۔ اس کے باوجود کہ تُشّار کے پاس ایک اچھی نوکری تھی، اس نے لالچ اور خواتین کے ساتھ اپنی بے ہودہ خواہشات کو پورا کرنے کے لیے سائبر کرائم کی دنیا میں قدم رکھا۔

    دھوکہ دہی کا طریقہ کار
    تُشّار نے ایک ایپ کے ذریعے ایک ورچوئل بین الاقوامی موبائل نمبر حاصل کیا اور پھر اس نمبر کا استعمال کرتے ہوئے مشہور ڈیٹنگ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے بمل اور اسنیپ چیٹ پر جعلی پروفائلز بنائیں۔ اس نے اپنے آپ کو ایک امریکی فری لانس ماڈل کے طور پر پیش کیا، جو بھارت کے روحانی دورے پر تھا۔ تُشّار نے ایک برازیلی ماڈل کی تصاویر اور کہانیاں چوری کر کے ان کا استعمال کیا اور ان تصاویر کے ذریعے اپنی جعلی شخصیت کو حقیقت کا روپ دیا۔

    تُشّار کا ہدف خواتین تھیں جن کی عمریں 18 سے 30 سال کے درمیان تھیں۔ وہ ان خواتین سے ڈیٹنگ ایپس پر دوستی کرتا اور پھر ان سے ذاتی معلومات، فون نمبر اور عریاں تصاویر یا ویڈیوز مانگتا۔ ان خواتین کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ تُشّار ان تصاویر کو اپنے فون میں محفوظ کر لیتا ہے۔ شروع میں یہ سب سرگرمیاں ذاتی تفریح کے طور پر کی جا رہی تھیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ ایک منظم دھوکہ دہی اور بلیک میلنگ کی اسکیم میں بدل گئیں۔

    بلیک میلنگ اور پیسوں کا مطالبہ
    تُشّار ان عریاں تصاویر یا ویڈیوز کو بلیک میل کے طور پر استعمال کرتا تھا۔ اگر کوئی خاتون اس سے پیسہ دینے سے انکار کرتی تو وہ ان تصاویر کو آن لائن شیئر کرنے یا ڈیپ ویب پر فروخت کرنے کی دھمکیاں دیتا۔ اس نے بلیمل ایپس جیسے بمل، اسنیپ چیٹ اور واٹس ایپ پر 700 سے زائد خواتین کو اپنے جال میں پھنسایا۔

    ایک متاثرہ خاتون کا کیس
    ایک متاثرہ خاتون، جو دہلی یونیورسٹی کی دوسری سال کی طالبہ تھی، نے 13 دسمبر 2024 کو سائبر پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کی ملاقات تُشّار سے جنوری 2024 میں بمل پر ہوئی تھی، جہاں اس نے اپنے آپ کو امریکی ماڈل کے طور پر پیش کیا تھا۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان واٹس ایپ اور اسنیپ چیٹ پر ذاتی بات چیت ہونے لگی، اور متاثرہ خاتون نے تُشّار کو اپنی ذاتی تصاویر اور ویڈیوز بھیج دیں۔ جب اس نے تُشّار سے ملنے کا کہا تو وہ مختلف بہانوں سے گریز کرتا رہا، اور پھر ایک دن اس نے اس کی ذاتی ویڈیوز بھیج کر پیسے مانگنا شروع کر دیے۔

    پولیس نے مغربی دہلی کے سائبر پولیس اسٹیشن میں ایک ٹیم تشکیل دی، جس کی نگرانی ای سی پی اروند یادو کر رہے تھے۔ ٹیکنیکل تجزیہ اور انٹیلیجنس کی مدد سے پولیس نے تُشّار کی سرگرمیوں کا سراغ لگایا اور اس کی شناخت کی۔ پولیس نے شاکر پور میں چھاپہ مارا اور تُشّار کو گرفتار کر لیا۔چھاپے کے دوران پولیس نے اس کے موبائل فون سے متعلقہ ڈیٹا، ایک ورچوئل بین الاقوامی موبائل نمبر، اور 13 مختلف بینکوں کی کریڈٹ کارڈز برآمد کیں۔ پولیس نے دہلی اور اس کے آس پاس کی خواتین کے ساتھ تُشّار کی 60 سے زائد واٹس ایپ چیٹس بھی ضبط کیں۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ شکایت کنندہ کے علاوہ کم از کم چار دیگر خواتین نے بھی تُشّار سے اسی طرح کی بلیک میلنگ کا سامنا کیا تھا۔ تفتیش میں دو بینک اکاؤنٹس کی نشاندہی ہوئی جو تُشّار کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ ایک اکاؤنٹ میں اس کی متاثرہ خواتین سے وصول کیے گئے پیسوں کے ریکارڈ ملے، جبکہ دوسرے اکاؤنٹ کی تفصیلات ابھی زیر تحقیقات ہیں۔تُشّار کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس کے دیگر ممکنہ شکاروں کا پتہ چلایا جا سکے۔

    ڈیٹنگ سائٹس،سوشل میڈیا،اپنے پیسے”دل” کو کیسے دھوکہ بازوں سے بچائیں؟

    66 سالہ خاتون "پیار” کے چکر میں ڈیٹنگ ایپس پر "لٹ” گئی

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں