Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ،آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری

    سپریم کورٹ،آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ پرنسپل سیٹ اسلام آباد کیلئے آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری ہوگیا-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق آئندہ ہفتے پرنسپل سیٹ پر چھ بینچ مقدمات کی سماعت کریں گے، ایک بینچ چیف جسٹس عمر عطا بندیال ،جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل ہوگا جبکہ بینچ دو میں جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہوں گے-

    لیک آڈیو میں آواز میرےبیٹے کی ہے،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی تصدیق

    اسی طرح بینچ تین جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل ہوگا اور بینچ چار میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہوں گے،بینچ پانچ جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی پر مشتمل ہوگا اور بینچ چھ میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس حسن اظہر رضوی شامل ہوں گے۔

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف کیس کی سماعت منگل کو ہوگی ہزارہ کمیونٹی کی ٹارگٹ کلنگ کیخلاف از خود نوٹس اور سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان میں ججز تقرری کیخلاف کیس کی سماعت بدھ کو ہوگی۔

    پرویز الہیٰ کے گھر پر چھاپے کے باوجود پی ٹی آئی کا حکومت سے مذاکرات …

    ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب سہیل ظفر چٹھہ کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر اور ڈاکٹر مہرین بلوچ کی بچیوں کے اغوا اور حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت اور 2005 کے زلزلہ متاثرین کو ملنے والی غیر ملکی امداد سے متعلق کیس اور وکلا کی جعلی ڈگریوں اور لا کالجز اور سردار کوڑے خان وقف اراضی مظفرگڑھ میں خرد برد سے متعلق از خود نوٹس پر سماعت جمعرات کو ہوگی جبکہ وزیراعظم کے معاونین خصوصی کی تعیناتی کیخلاف درخواست پر سماعت جمعہ کو ہوگی۔

    آج پاکستان میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے،عمران خان

  • جسٹس مظاہر اکبر نقوی کیخلاف ریفرنس دائر

    جسٹس مظاہر اکبر نقوی کیخلاف ریفرنس دائر

    سندھ بار کونسل نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف ریفرنس دائر کر دیا۔

    باغی ٹی وی: ریفرنس وائس چیئرمین کے توسط سے سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کیا گیا ہے سندھ ہائیکورٹ بار کے وائس چئیرمین کے توسط سے دائر ہونیوالے ریفرنس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی کا رویہ عہدے کے حلف کے خلاف ہے لہٰذا ان کے خلاف انکوائری شروع کرائی جائے۔

    حکومتی اجلاس: پی ٹی آئی سےمذاکرات کےفائنل راؤنڈ کی حکمت عملی طے

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی جسٹس مظاہرنقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنسز دائر ہوچکے ہیں اسلام آباد بار کونسل کی جانب سےجسٹس مظاہرنقوی کےخلاف شکایت سپریم جوڈیشل کونسل میں دائرکی تھی شکایت کےساتھ آڈیو ویڈیو کےٹرانسکرپٹ بھی لگائے گئے تھے شکایت میں کہا گیا تھا کہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے حوالے سے مختلف آڈیوز اور ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔

    کراچی کی آبادی میں مزید اضافہ

    شکایت میں جسٹس مظاہر علی اکبر کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کا الزام لگایا گیاتھا اس کے علاوہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف ٹیکس چھپانے کا الزام بھی عائد کیا گیا،اسلام آباد بار کونسل کی شکایت میں کہا گیا تھا کہ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف مالی بے ضا بطگی کے ثبوت ہیں، جسٹس مظاہر نقوی نے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی لہٰذا جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف کارروائی کی جائے-

    ڈرپ کی بجائے اینٹی بایوٹکس کھانا زیادہ مفید،تحقیق

    دریں اثنا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سمیت سپریم جوڈیشل کونسل کے دیگر اراکین کو خط لکھا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ جسٹس مظاہرنقوی کے معاملے پر اجلاس بلایا جائے خط میں کہا گیا تھا کہ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلا کر جج پر لگے الزامات اگر غلط ہیں تو جائزہ لیا جائے، جسٹس مظاہرعلی اکبرنقوی کے خلاف پاکستان بار نے شکایت بھجوائی، سپریم جوڈیشل کونسل آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت قائم کی گئی ہے۔

    ثاقب نثار کے بیٹے کی مبینہ آڈیو لیک،مریم کا ردعمل سامنے آ گیا

  • سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت جاری رہنے چاہیے،ملک احمد خان

    سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت جاری رہنے چاہیے،ملک احمد خان

    وزیراعظم کے معاون خصوصی ملک احمد خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کے اجلاس میں سیاسی صورتحال پر گفتگو ہوگی ،

    ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ میرے نزدیک سب سے اہم فیصلہ 63-A کا پچیس سیٹوں والا ہے میں اس فیصلے پر معترض ہوں،سپریم کورٹ آئین کی تشریح کرے لیکن آئین کو لکھے نا، سیاسی جماعتیں سیاسی نظام سے لوگوں کا اعتماد اٹھانا چاہتی ہیں جیسے تحریک انصاف، جیسے تین مہینے قبل دو حکومتوں کو ختم کردیا گیا، آرٹیکل 224 ایسے نہیں پڑھا جانا چاہیے جیسے پڑھا جارہا ہے، اتنے بڑے منصب پر بیٹھ کر اتنا برا کرکے گئے ،چوری کا مال ڈکیتی کے ساتھ بیچ رہے ہیں آپریشنز کا سلسلہ پچھلے چھ سال سے جاری ہے نہ تب ٹھیک تھا نہ اب ٹھیک ہے سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت جاری رہنے چاہیے لیکن ایسا نہیں ہونا چاہیئے کہ ایک ادارہ سپریم کورٹ زیادتی کرے بات کرنی چاہیئے ایسا نہیں ہونا چاہیئے کہ ایک لاڈلے کی خواہش کے تابع پورے انتخابی عمل سے لوگوں کا یقین آٹھ جائے اتنا بڑا نقصان نہیں ہونا چاہیئے

    اس بار تو پولیس نے آپ پر ڈکیتی کی دفعہ بھی لگا دی ہے

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    دوسری جانب حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈارکا کہنا ہے کہ حکومت اور تحریک انصاف کے مابین مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے مذاکرات ناکام ہوئے اور نہ ہی ان میں کوئی ڈیڈ لاک آیا ہے دونوں اطراف سے تجاویز آئی ہیں، معاملات آگے بڑھ رہے ہیں آئندہ منگل کو دوبارہ مذاکرات ہونگے اور بات آگے بڑھے گی

  • ہزارہ کمیونٹی کی ٹارگٹ کلنگ کیخلاف از خود نوٹس سماعت کیلئے مقرر

    ہزارہ کمیونٹی کی ٹارگٹ کلنگ کیخلاف از خود نوٹس سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ میں ہزارہ کمیونٹی کی ٹارگٹ کلنگ کیخلاف از خود نوٹس سماعت کیلئے مقرر کر دیا گیا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ 3 مئی کو سماعت کرے گا ،جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عائشہ ملک تین رکنی بنچ میں شامل ہونگے آئی جی بلوچستان،سیکرٹری داخلہ اور نیکٹا حکام سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے گئے

    سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے کیسوں کی سماعت کے لیے بینچوں کی تشکیل کر دی گئی، اسلام آباد پرنسپل سیٹ پر آیندہ ہفتے چھ بینچ کیسوں کی سماعت کریں گے۔بینچ نمبر ایک چیف جسٹس عمر عطا بندیال ، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل ہے۔ بینچ نمبر دو میں جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہیں ،جسٹس اعجاز الااحسن اور جسٹس شاہدہ وحید ینچ تین میں کیسوں کی سماعت کریں گے ۔ چوتھا بینچ جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل ہے۔بینچ نمبر پانچ میں جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی شامل ہیں۔چھٹا بینچ جسٹس امین الدین خان اور جسٹس سید حسن اظہر رضوی پر مشتمل ہے۔

    بھارت اور امریکا کا خوفناک منصوبہ بے نقاب ،پاکستان کو میدان جنگ بنانے کی تیاری

    عمران خان سے شادی کا خواہشمند نوجوان سامنے آ گیا

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

  • پی ٹی آئی یقین دہانی چاہتی ہے کہ الیکشن رواں سال ہی ہوں،عطا تارڑ

    پی ٹی آئی یقین دہانی چاہتی ہے کہ الیکشن رواں سال ہی ہوں،عطا تارڑ

    سپریم کورٹ، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے داخلہ عطا تاررڈ کی سپریم کورٹ آمد ہوئی

    اس موقع پر عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل سے ملنے آیا تھا، صحافی نے سوال کیا کہ مزاکرات کے حوالے سے کوئی بات چیت ہوئی ہے؟ جس پر عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل سے ایک کیس کے حوالے سے ملاقات کی ہے، اٹارنی جنرل کو کوئی ہدایت نہیں دی انتخابات پر سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت چل رہی ہے، دونوں فریقین کے درمیان بات چیت مثبت طریقے سے ہوئی ہے، حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان آج بھی تین بجے بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا، پی ٹی آئی آج اپنا تحریر کوئی ڈیمانڈ لائیں گے تو پتہ چلے گا،

    صحافی نے سوال کیا کہ حکومت اکتوبر سے پہلے اور نومبر سے آگے جانے کیلئے تیار ہے؟ عطا تارڑ نے کہا کہ ایسی تو ابھی کوئی بات نہیں ہوئی دیکھتے ہیں آج کیا ہوتا ہے ، صحافی نے سوال کیا کہ مذاکرات کا مقصد چودہ مئی کی تاریخ گزارنا تو نہیں، جس پر عطا تارڑ نے جواب دیا کہ قطعاً نہیں سنجیدہ طور پر بیھٹے ہیں،پی ٹی آئی یہ یقین دہانی چاہتی کہ الیکشن رواں سال ہی ہوں،

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

  • مولانا فضل الرحمان کا پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات کرنے سے انکار

    مولانا فضل الرحمان کا پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات کرنے سے انکار

    اسلام آباد:چئیرمین جمیعت علما اسلام اور حکمراں اتحاد (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سے مذاکرات کیوں اور کس بنیاد پر کریں، اپنے اصول کے تحت سینیٹ کمیٹی کا حصہ نہیں بن رہے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ 14مئی کو پنجاب میں الیکشن کیلئے تھا، عدالت کا فیصلہ ناقابل عمل ہے، اس کا ادراک انہیں خود کرلینا چاہیے،یہ ہماری پارٹی کی سوچ ہےسپریم کورٹ سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کیلئے مجبور کررہی تھی، پی ٹی آئی سے مذاکرات کیوں،کس بنیاد پر کریں، ہم اپنے اصول کے تحت سینیٹ کمیٹی کا حصہ نہیں بن رہے۔

    نواز کو نکالا گیا،مجھے بھی نکالنا چاہتے ہیں تو میں بھی تیار ہوں،وزیراعظم

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ الیکشن کیلئے مشاورتی عمل سیاسی جماعتوں کا نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کا کام ہے، سپریم کورٹ سیاسی جماعتوں کو مجبور کر رہی تھی کہ بات چیت کریں ساری سیاسی جماعتوں کی جانب سےایک شخص کوراضی کرنے پر اعتراض ہے سپریم کورٹ 90 دن میں کیوں پھنس گئی ہےپاکستان میں انتخابات ہمیشہ ایک دن ہوتے رہے ہیں وزیراعظم سے کہا ہے کہ سینیٹ کمیٹی کا مذاکرات کا نتیجہ آنے تک اپنی رائے محفوظ رکھیں گے-

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم نے فیڈریش اور آئین کو بچانا ہے، آج سپریم کورٹ کے رویہ کو مثبت انداز میں دیکھ رہے ہیں، سپریم کورٹ نے سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی ہے، ہم پنجاب الیکشن اور فنڈنگ سے متعلق عدالتی فیصلہ ناقابل قبول نہیں قرار دے رہے بلکہ اسے ناقابل عمل کہہ رہے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب

    انہون نے کہا کہ اگر بنیادی ڈھانچے کا ایک بھی ستون گرتا ہے تو عمارت گر جاتی ہے، ہماری نظر وفاق پاکستان پر ہے، عدالت نے ایک طرف مذاکرات کا کہا اور ساتھ ہی کہہ رہی ہے ہمارا فیصلہ اپنی جگہ موجود ہے، سپریم کورٹ پہلے اپنا ہتھوڑا ہٹائے۔

    ملک میں جاری ڈیجیٹیل مردم شماری سے متعلق کہا کہ مردم شماری کےعمل پراعتماد کیا جارہا ہے، اندرون سندھ، کوئٹہ، فاٹا میں مردم شماری پراعتماد کیا گیا، مجموعی طور پر 5 سال میں ہماری آبادی کم ہوگئی مردم شماری کے مسئلے کا ہماری جماعت نے نوٹس لیا ہے، مردم شماری کے طریقہ کار ، مردم شماری کی کمپین پر عدم اعتماد کیا جارہا ہے۔

    ہم تو فقیر لوگ ہیں ،ہم کو جس طرف چلاتے ہیں چل پڑتے ہیں،آصف زرداری

    سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمان کی کمیٹی نے سفارشات مکمل کرلی ہیں، پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات پرکیوں قانون سازی نہیں ہوئی؟ قانون سازی ہونی چاہیے، 2018 میں بہت بڑی دھاندلی ہوئی، ذمےداران کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

  • آئین شکنوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے، امان اللہ کنرانی

    آئین شکنوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے، امان اللہ کنرانی

    سپریم کورٹ بار ایسوسی یشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ  قومی اسمبلی کو آئین سے ماورا توڑنے کو جسٹس یحی آفریدی صاحب نے آرٹیکل 6 کی کاروائی کا بھی حکم دیا تھا GOP Sedition کا مقدمہ درج کرکے فوجداری مقدمات کا تجربہ رکھنے والے SCP Retd جسٹس دوست محمد پرمشتمل خصوصی ٹریبونل تشکیل دے کر آئین شکنوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کیلئے عمران خان کو قانون کی گرفت میں لایا جائے

    امان اللہ کنرانی نے نے ڈاکٹر دانش کی ٹویٹ پر تبصرہ کیا، جس میں ڈاکٹر دانش نے کہا تھا کہ آج عمران خان، اسد قیصر،عارف علوی جس آئین کا بار بار حوالہ دے رہے ہیں اسی آئین پاکستان کی آئین شکنی کے یہ لوگ مرتکب ہوئے ہیں اور سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے متفقہ طور پر آئین شکن کہا،

    عام انتخابات 2018؛ ثاقب نثار کے دباؤ پر عُجلت میں کرائے گئے تھے. امان اللہ کنرانی

    سینارٹی کے اصولوں سے ماورا 6 ججز کیخلاف موثر تحریک چلائی جائے. امان اللہ کنرانی

    اسٹیٹ بینک کو فنڈز کی فراہمی کا حکم پارلیمنٹ کی خود مُختاری کو روندنا ہے. امان اللہ کنرانی

    مرضی کے فیصلے بوٹ و بندوق کے احکامات کے ہم پلہ ہیں،امان اللہ کنرانی

    قانون سازی پر عجلت سے نوٹس لینا قابل مذمت ہے. امان اللہ کنرانی

    فائز عیسیٰ کا گولڈن جوبلی کے موقع پر پارلیمنٹ آنا لائق تحسین ہے. امان اللہ کنرانی

    چھ رکنی بینچ کا فیصلہ عدالتی بغاوت، بغض و عناد سے بھرپور ہے، امان اللہ کنرانی

  • انتخابات کے حوالے سے کیس کی سماعت ملتوی، مناسب حکم جاری کریں گے، چیف جسٹس

    انتخابات کے حوالے سے کیس کی سماعت ملتوی، مناسب حکم جاری کریں گے، چیف جسٹس

    انتخابات کے حوالہ سے سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے، سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی عدالت میں موجود تھے، بیرسٹر علی ظفر بھی عدالت میں پیش ہوئے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ‏اٹارنی جنرل! ہمیں آپ کا اعتماد چاہئے، ‏شاہ محمود قریشی نے روسٹرم پر آنے کی کوشش کی جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ قریشی صاحب! آپ بیٹھ جائیں،آپ کو سنتے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ‏اٹارنی جنرل آپ یہ ذہن میں رکھیں کہ ایک تاریخ جو ہم نے دی ہے اس پر ایک پارٹی کے علاوہ سب متفق ہیں مذاکرات کرانا آپ کا کام ہے،ہم اس پر کوئی وضاحت نہیں چاہتے، ہم یہاں پر اس لئے ہیں کہ آپ ہمیں اس کا حل نکال کر بتائیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمیں مذاکرات کے لئے وقت دیں، 19 اپریل کو حکومت اوڑ اپوزیشن میں پہلا رابطہ ہوا،26 اپریل کو ملاقات پر اتفاق ہوا تھا، 25 اپریل کو ایاز صادق اور خواجہ سعد رفیق کی اسد قیصر سے ملاقات ہوئی،اسد قیصر نے بتایا کہ وہ مذاکرات کیلئے با اختیار نہیں ہیں،گزشتہ روزحکومتی اتحاد کی ملاقاتیں ہوئیں، دو جماعتوں کو مذاکرات پر اعتراض تھا لیکن راستہ نکالا گیا، چیئرمین سینیٹ نے ایوان بالا میں حکومت اور اپوزیشن کو خطوط لکھے ہیں،چیئرمین سینیٹ نے حکومت اور اپوزیشن سے چار چار نام مانگے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسد قیصرکے بعد کیا کوشش کی گئی کہ کون مذاکرات کیلئے با اختیار ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ منگل کو میڈیا سے معلوم ہوا کہ شاہ محمود قریشی مذاکرات کیلئے با اختیار ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کو کس حیثیت سے رابطہ کیا گیا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سینیٹ وفاقی کی علامت ہے اس لیے چیئرمین سینیٹ کو کہا گیا، چیئرمین سینیٹ نے مذاکرات کا عمل شروع کیا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فاروق نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ 19 اپریل کو چیمبر میں آپ سے ملاقات ہوئی ، ہمارے ایک ساتھی کی عدم دستیابی کے باعث چار بجے سماعت نہیں ہوئی تھی ، فاروق نائیک نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ سہولت کاری کریں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینیٹ نہ حکومت کے نمائندے ہیں نہ اپوزیشن کے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینٹ اجلاس بلائیں گے اس میں بھی وقت لگے گا ، فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں کہا کہ تمام حکومتی اتحادی جماعتیں پی ٹی آئی سے مذاکرات پر آمادہ ہیں،سینٹ واحد ادارہ ہے جہاں تمام جماعتوں کی نمائندگی موجود ہے، ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت صرف آئین پر عمل چاہتی ہے تا کہ تنازعات کا حل نکلے، عدالت کو کوئی وضاحت نہیں چاہیئے صرف حل بتائیں،

    شاہ محمود قریشی روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ ‏پی ڈی ایم میں مذاکرات کے معاملے پر اختلافات ہیں،انگریزی نہیں اردو میں بات کروں گا، اس وقت تک جب میں عدالت میں کھڑا ہوں، پی ڈی ایم نے مذاکرات کے لئے ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا، حکومت کے اسرار پر عدالت نے سیاسی اتفاق رائے کے لیے موقع دیا تھا۔ تمام جماعتوں کی سیاسی قیادت عدالت میں پیش ہوئی تھی،پی ڈی ایم میں آج بھی مزاکرات پر اتفاق رائے نہیں ہے۔عدالتی حکم کو پی ٹی آئی نے سنجیدگی سے لیا ،سپریم کورٹ کا 14 مئی کا فیصلہ حتمی ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے صرف سینیٹرز کے نام مانگے ہیں،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیئرمین سینٹ کا کردار صرف سہولت فراہم کرنا ہے۔مذاکرات سیاسی جماعتوں کمیٹیوں نے ہی کرنے ہیںسیاسی ایشو ہے اس لیے سیاسی قائدین کو ہی مسئلہ حل کرنے دیا جائے۔ سیاست کا مستقبل سیاستدانوں کو ہی طے کرنے دیا جائے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مذاکرات میں نیک نیتی دکھانے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں؟ لگتا ہے حکومت صرف پاس پاس کھیل رہی ہے، ہم آئین سے ہٹ کر کچھ نہیں کر سکتے، شاہ محمود قریشی نے عدالت میں کہا کہ پارلیمان میں کہا گیا کہ ججز کو استحقاق کمیٹی میں بلایا جائیگا ،جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ سیاسی باتیں نہ کریں،ان کو چھوڑ دیں،ان سے پوچھتے ہیں کہ یہ اب کیا چاہتے ہیں،عوام کی فلاح وبہبود اور ان کے ووٹ کے حق کے لئے کسی حل پر پہنچتے ہیں تو بہتر ہے، اگر کسی حل پر نہیں پہنچتے تو جیسا چل رہا ہے ویسے چلے گا،شاہ محمود قریشی نے عدالت میں کہا کہ عدالت نے موقع دیا، ہم نے اتفاق رائے کیلئے ایک صفحے پر جواب تیار کیا، وہ میڈیا کو نہیں دوں گا، عدالت چاہے تو اُسے دے دوں گا، سینٹ کمیٹی صرف تاخیری حربہ ہے ، قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر رولز کی خلاف ورزی کی گئی ، دھرنے کے دوران کہا تھا پارلیمان میرا سیاسی کعبہ ہے، زیر سماعت معاملے کو پارلیمان میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا، پارلیمان میں دھمکی آمیز لہجے اور زبان سن کر شرمندگی ہوئی،

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مذاکرات کے لئے ایک ماحول بنانا پڑتا ہے،ایسی باتیں نہ کی جائیں جس سے ماحول خراب ہوں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کام میں صبر اور تحمل چاہئے،اِن کو بھی یہی تلقین کرینگے کہ صبر و تحمل ہو،گزشتہ سماعت پر یہ اتفاق رائے ہوا تھا کہ ایک دن الیکشن ہوں،مذاکرات کے معاملے میں صبر اور تحمل سے کام لینا ہوگا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو سینیٹ نے مذاکرات پر آمادہ کیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کا کوئی حکم نہیں صرف تجویز ہے،تحریک انصاف والے چاہتے ہیں آج ہی مذاکرات ہوں ، ہم نے حکومت کو دیکھنا ہے کہ وہ مذاکرات کیلئے کیا کر رہی ہے، مذاکرات کیلئے نام دینے میں کیا سائنس ہے؟ کیا حکومت نے اپنے 5 نام دئیے ہیں؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پی ٹی آئی چاہے تو 3 نام دے دے،پانچ لازمی دیں ،حکومت کے نام تین چار گھنٹے میں فائنل ہو جائیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج توقع تھی کہ دونوں فریقین کی ملاقات ہوگی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوشش ہوگی کہ دونوں کمیٹیوں کی آج پہلی ملاقات ہوجائے،وکیل شاہ خاور نے کہا کہ دونوں فریقین متفق تو حل نکل آئے گا، فواد چودھری ے کہا کہ سپریم کورٹ بھی آئین تبدیل نہیں کرسکتی،سیاسی جماعتوں کو الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار نہیں ملنا چاہیے،ایسے ہوا تو کوئی بھی حکومت الیکشن کیلئے فنڈز جاری نہیں کرے گی، پارلیمان اور عدالت نہیں سپریم صرف آئین ہے، سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے بھی آئین تبدیل نہیں کرسکتا،

    کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مناسب حکم جاری کرینگے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب کو علم ہے آئین کی خلاف ورزی ہورہی ہے، خدا کے واسطے آئین کے لئے اکٹھے بیٹھ جائیں،ہم اس کے بعد ایک آرڈر جاری کرینگے، عدالت کوئی ٹائم لائن نہیں دے گی، مناسب حکم جاری کریں گے،

    پاکستان تحریک انصاف کے مذاکراتی کمیٹی کے ارکان شاہ محمود قریشی ، فواد چوہدری اور بیرسٹر علی ظفر سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں، اس موقع پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم مزاکرات کے لیے ہر طرح سے تیار ہیں، یہ لوگ مزاکرات میں سنجیدہ نظر نہیں آرہے یہ عوام سے بھاگے ہوئے لوگ ہیں ،سینٹ کمیٹی کو تحریک انصاف نے مسترد کردیا ہے یہ معاملہ سینیٹ کا نہیں ہے اسلیئے ہمارا واضح موقف ہے کہ آج سپریم کورٹ جو فیصلہ کرے گی وہ دیکھنا ہے۔

    اس موقع پر سپریم کورٹ کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں،ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کیس: سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ آج ساڑھے 11 بجے سماعت کرے گا۔ سماعت سے قبل وزیراعظم شہباز شریف سے اٹارنی جنرل کی ملاقات ہوئی ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے اٹارنی جنرل کو اہم ہدایات جاری کیں، اٹارنی جنرل عدالت میں حکومتی موقف پیش کریں گے،

    دوسری جانب وفاقی حکومت نے 14 مئی کو انتخابات کے فیصلے پر نظرثانی کی تجویز مسترد کر دی ہے ، میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کے مطابق انتخابات کے فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کرنے کی تجویز گزشتہ روز کابینہ اجلاس میں اٹارنی جنرل نے دی تھی کابینہ کی رائے میں نظرثانی دائر کرنے کا مطلب فیصلہ تسلیم کرنا ہوگا نظرثانی دائر کردی تو یہ فیصلہ 3-4 کا ہونے کے موقف کی نفی ہوگی ذرائع نے بتایا کہ کابینہ ارکان کی رائے کے مطابق اکثریتی فیصلے میں انتخابات کا حکم ہی نہیں تو نظرثانی کس بات کی؟

    علاوہ اذیں سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون 2023 کے خلاف درخواست دائر کردی گئی ،درخواست میں وفاقی حکومت، اسپیکر قومی اسمبلی، وزیر قانون، وزیراعظم اور صدر کے پرنسپل سیکرٹری کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست تحریک انصاف کے وکیل ایڈووکیٹ اظہرصدیق کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے ، دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون غیرآئینی و غیر قانونی ہے درخواست میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کوعدالتی فیصلہ تک معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے ،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی کو گزٹ نوٹیفکیشن کے لئے قانون پر دستخط سے روکا جائے، قانون کو کالعدم قراردیا جائے ،

    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

    تحریک انصاف کے رہنما فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ پوری قوم کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہیں ،یہ لوگ زاتی مفادات کے لیئے عدالتوں پر حملہ آور ہیں آج توہین عدالت کی کاروائی شروع نہیں ہوئی تو بہت حیران کن بات ہوگیعمران خان کے خوف سے یہ لوگ انتخابات سے بھاگ رہے ہیں کل اسمبلی میں غیر آئینی اجلاس ہوا

    واضح رہے کہ چار اپریل کو تین رکنی بینچ نے حکومت کو 27 اپریل تک انتخابات کے لیے 21 ارب روپےکے فنڈز فراہم کرنےکی رپورٹ جمع کرانےکا حکم دیا تھا الیکشن کے لیے 21 ارب روپے جاری کرنے کی تیسری مہلت بھی گزر گئی، سپریم کورٹ نے حکومت سے فنڈز جاری کرنےکی رپورٹ آج طلب کر رکھی ہے

  • نظر ثانی شدہ کاز لسٹ جاری،چیف جسٹس عمرعطا بندیال کل کریں گے سماعت

    نظر ثانی شدہ کاز لسٹ جاری،چیف جسٹس عمرعطا بندیال کل کریں گے سماعت

    سپریم کورٹ: چیف جسٹس عمر عطا بندیال کل کیسوں کی سماعت کریں گے

    سپریم کورٹ کی جانب سے نظر ثانی شدہ کاز لسٹ جاری کر دی گئی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کل گیارہ بجے تک روٹین کیسوں کی سماعت کرے گا ،چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بنچ کل اہم کیس کی سماعت کرے گا ملک بھر میں ایک ہی دن انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کل دن ساڑھے گیارہ بجے ہوگی، آج چیف جسٹس کی عمرعطا بندیال کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے وہ سماعت نہیں کر سکے تھے،

     زمان پارک پر ایک بار پھر پولیس آپریشن کا خدشہ

    زمان پارک میں بجلی چوری؛ لیسکو نے انتظامیہ کو نوٹس جاری کردیا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

    سپریم کورٹ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان کا بینچ چیف جسٹس کے عدم دستیابی کے باعث ملتوی کیا گیا، چیف جسٹس خرابی صحت کے باعث آج سپر یم کورٹ نہیں آئے۔۔ باخبرزرائع کے مطابق ڈاکٹر نے چیف جسٹس کی رہائش گاہ پر انکا طبی معائنہ کیا اور انہیں آرام کرنے کی ہدایت کی، جس کی وجہ سے آج کی کاز لسٹ منسوخ کی گئی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو بخار ہے اور اپنی رہائشگاہ پر ہیں

  • پنجاب اور کے پی کے اسمبلی کی بحالی کیلئے درخواست دائر

    پنجاب اور کے پی کے اسمبلی کی بحالی کیلئے درخواست دائر

    سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی کے اسمبلی کی بحالی کیلئے درخواست دائر کردی گئی

    تحلیل شدہ اسمبلیوں کو بحال کرنے کی درخواست راولپنڈی کے رہائشی ناصر محمود نے دائر کی ،دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اور کے پی کے اسمبلی کی تحلیل غیر آئینی و غیر قانونی ہے ،دونوں اسمبلیاں وزراء اعلی کے صوابدیدی اختیار پر تحلیل نہیں ہوئیں،عمران خان نے اعتراف کیا کہ دونوں اسمبلیاں جنرل باجوہ کے کہنے پر توڑی ہیں،جبرل باجوہ اور عمران خان کا اسمبلی تحلیل کے وزیر اعلی کے اختیار سے کوئی تعلق نہیں۔ سپریم کورٹ پنجاب اور کے پی کے اسمبلی بحال کرنے کا حکم دے سپریم کورٹ سمجھتی ہے کہ الیکشن ضروری ہے تو انتخابات کے 21 ارب کے فنڈز تحریک انصاف سے وصول کیے جائے۔ .سپریم کورٹ میں چوہدری ناصر محمود نے درخواست ایڈووکیٹ سردار حسین کی وساطت سے دائر کی ، درخواست گزار چوہدری ناصر محمود سیاسی جماعت "پاکستان عوامی لیگ” کے چیئرمین ہیں

    واضح رہے کہ عمران خان نے دو صوبوں کی اسمبلیاں تحلیل کر دی تھیں جہاں انکی حکومت تھی، اسکے بعد سے نگران حکومت ہے اور اسکی مدت ختم ہو چکی مگر الیکشن نہیں ہو رہے، سپریم کورٹ نے الیکشن کا پنجاب میں 14 مئی کو حکم دے رکھا ہے تا ہم پی ڈی ایم اتحاد نے پٔارلیمنٹ میں قانون بنا لیا اسکے بعد اب آنے والے دنوں میں الیکشن کا سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، کچھ نہیں کہا جا سکتا

    علی امین گنڈا پور کی مشکلات میں اضافہ

    علی امین گنڈا پور کی جانب سے داجل چیک پوسٹ بھکر پر فائرنگ

    گنڈا پور کو اسلام آباد پولیس کے حوالے کر دیا گیا