Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • چیف جسٹس کی ساس کی آڈیو ہمارے مؤقف کی تائید ہے،طلال چوہدری

    چیف جسٹس کی ساس کی آڈیو ہمارے مؤقف کی تائید ہے،طلال چوہدری

    فیصل آباد: رہنما (ن) لیگ طلال چوہدری نے چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس کی ساس کی آڈیو ہمارے مؤقف کی تائید ہے۔

    باغی ٹی وی : فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ عمران خان ملک کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہا ، اس نے غریب کی روٹی بھی نہیں چھوڑی جبکہ میاں نوازشریف کو ایک سازش کے تحت ہٹایا گیا اورعمران خان کولانے کیلئے مخصوص قسم کے فیصلے سنائے گئےملک کو آئین کےمطابق چلایا جائے۔

    پیپلزپارٹی کا سندھ کے بعد پنجاب میں بھی احتجاج کا اعلان

    طلال چوہدری نے کہا کہ ایک مرتبہ پھرعمران خان کی سہولت کاری کیلئے ماحول بنایا جارہا ہے ایسا ماحول اب نہیں بن سکے گا-پارلیمنٹ کھڑی ہے پارلیمنٹ جان گئی ہے سیاسی قیادت اب اپنا حق جا ن گئی ہے اور اپنا حق لینا جانتی ہے اب ایسا نہیں ہوھا اب 2017 یا 18کا کھیل نہیں کھیلا جا سکے گا پاکستان میں انتخاب ہو گا مگر وہ انتخاب جو پاکستان کی ضرورت ہے وہ انتخاب نہیں جو عمران خآن کی خواہش ہے وہ انتخاب نہیں جس میں صرف عمران خان کو جتایا جائے وہ انتخاب ہو گا جس میں لوگ ووٹ سے جیتیں-

    سعودی عرب نے پاکستان کو 2ارب ڈالر دینے کی تصدیق کر دی،اسحاق ڈار

    طلال چوہدری نے کہا کہ آڈیولیکس کی تحقیقات کیوں نہیں ہوتیں یہ آڈیو بھی ہماری مؤقف کی تائید کررہی ہےنئے قانون کے تحت قائم بینچز کے فیصلے مانے جائیں گے نئے قانون کے تحت بینچ نہ بنا تو فیصلہ قبول نہیں کریں گے فیصلے آئین نہیں، ایک شخص کی مرضی سے ہو رہے ہیں چیف جسٹس کومستعفی ہوجانا چاہئے، نااہلوں کواہل قرار دینے کے فیصلے قبول نہیں کریں گے۔

    کینیا میں مبینہ طور پر فاقہ کشی سے مرنیوالے فرقہ کے 47 افراد کی لاشیں …

  • چیف جسٹس کی ساس اور پی ٹی آئی وکیل خواجہ طارق رحیم کی اہلیہ کی عطا بندیال کو میسجز پہنچانے،جج منیب اختر کو واٹس ایپ پیغام بھیجنے سے متعلق گفتگو لیک

    چیف جسٹس کی ساس اور پی ٹی آئی وکیل خواجہ طارق رحیم کی اہلیہ کی عطا بندیال کو میسجز پہنچانے،جج منیب اختر کو واٹس ایپ پیغام بھیجنے سے متعلق گفتگو لیک

    پاکستان تحریک انصاف کے وکیل خواجہ طارق رحیم کی اہلیہ اورچیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ساس کی مبینہ ٹیلیفونک گفتگو لیک ہوگئی ہے جس میں

    باغی ٹی وی : لیک آڈیو میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ساس ماہ جبین نون کہتی ہیں ہیلو رافعہ کیا ہو گا یار میں تو رات سے نا عمر کیلئے پڑھ پڑھ کے میں تمہیں بتا نہیں سکتی دعائیں مانگ مانگ کے صبح سےبہت پریشانی ہے-

    عمران خان سے ملاقات کیلئے 1 کروڑ روپے دینا ہوں گے. اعجاز چودھری کی مبینہ آڈیو لیک


    جس پر پی ٹی آئی کے وکیل کی اہلیہ رافیعہ طارق کہتی ہیں یار لوگوں کو بھی کہا ہے اور عمر کو ایک پیغام بھیجا میں نے ،جس میں میں نے کہا کہ تم نے لاہور کے جلسے میں وہاں موجود تھی وہاں لاکھوں بندہ تھا اسی طرح ہر شہر میں لاکھوں بندہ ہے اور تم صرف یہ اندازہ لگا لو کہ تمہارے لئے کتنی دنیا دُعا کر رہی ہے اس وقت جس سے تمہاری ہمت اور سیفٹی ، میں نے عمر کو کہہ دیا ہے کہ عوام آپ کے ساتھ ہیں اور دعا کر رہی ہیں آپ ڈٹے رہیں۔

    جس پر چیف جسٹس کی ساس کہتی ہیں اللہ تعالی اسے ہمت دے اور اس کے مطابق جس پر خواجہ طارق کی اہلیہ بات کاٹتے ہوئے کہتی ہیں نہیں نہیں اس کی حفاظت ضروری ہے-

    مبینہ آڈیو لیک : اعجاز چوہدری کا ردعمل سامنے آگیا


    جس پر چیف جسٹس کی ساس کہتی ہیں ان کو کمزور کرے اورا ن (چف جسٹس ) کو ہمت دے ،رافعیہ طارق کہتی ہیں ان کو تو اللہ کرے جو باقیوں کو ندھا کر دے میں تو یہ کہہ رہی ہوں وہ تو وہ تو اس ملک کے غدار ہیں دیکھو جس طرح وہ کر رہے ہیں –

    چیف جسٹس کی ساس کہتی ہیں کہ وہی نا لیکن اب وہ کہہ رہے ہیں کہ اسے(چیف جسٹس عمر عط بندیال) کوایسا کرنے کا اختیار کیوں ملا،چیف جسٹس پی ٹی آئی کو جان کر فائدہ دے رہے ہیں اور اب دوسری چیزیں بھی اس پر ڈال رہے ہیں،اور سوال بھی کہ سومو موٹو کیوں دیا گیا ہے،عمر کو تو نہیں دیا نا یہ تو پہلے کا ہوا ہوا ہے-

    سلمان خان کی فلم ’کسی کا بھائی کسی کی جان‘ آن لائن لیک ہوگئی

    جس پر پی ٹی آئی وکیل کی اہلیہ کہتی ہیں نہیں کوئی اور دوسری چیز نہیں ڈال رہے بلکہ سوموموٹو تو اس کا حق ہے ،یہ تو ہر چیف جسٹس کا حق ہے ،اگر آپ نے قانون بدلنا ہے تو اپنی مرضی سے بدلو ویلا نا لیکن اس ٹائم نہیں،جس پر ماہ جبین نون کہتی ہیں لیکن اب اسے تبدیل نہیں کر سکتے-

    رافیعہ طارق کہتی ہیں ابھی نہیں وہ اسے بعد میں تبدیل کر سکتے ہیں لیکن ابھی نہیں۔ یہ قانون ہے،ماہ جبین نون کہتی ہیں قانون ہے وہی نا-

    رافیعہ طارق کہتی ہیں ہاں وہی تو وہ اتنا اچھا کر رہا ہے،عمرعطا بندیال کی ساس کہتی ہیں تم بالکل نا آؤ تم عمر کے ساتھ رہو اسے اس وقت تمہاری ضرورت ہے –

    کراچی:مختلف پولیس مقابلوں میں ایک ڈاکوہلاک جبکہ چار ڈاکوگرفتار

    رافعیہ طارق کہتی ہیں نہیں نوین بھی نا آئے اور میں نے یمان کو بھی کہا ہے بیٹا ہر وقت اپنے ابا کے ساتھ رہو ،میں تو رت کو میں نے تو رات کو میں نے دونوں کو اس کو اور منیب کو گڈ بھیجا تو دونوں نے پتہ کیا مجھے بھیجا وہ نہیں شکل ہوتی تو کہ دانتوں میں آپ دبا لیتے ہو اپنی زبان ،مجھے کہہ رہے تھے محتاط رہیں،میں کیوں محتاط رہوں کیوں؟

    ماہ جبین ہتی ہیں یا ر جلدی سے جلدی الیکشن ہوں ابھی ،رافیعہ طارق کہتی ہیں الیکشن دیکھونا اگر یہ نہیں ہوتی نا پھر یہ سمجھ لیں کہ پھر مارشل لاء لگے گا یہ نہیں رہ سکتے نا بس بات ختم، ماہ جبین کہتی ہیں مارشل لاء بھہ وہ کمبخت نہیں لگانے کو تیارنا پی ٹی آئی وکیل کی اہلیہ کہتی ہیں بالکل تیار ہیں-

    بیوی کی حراست کے بعد خالصتان کے حامی امرت پال سنگھ نے گرفتاری دے دی

  • سپریم کورٹ کا فیصلہ نا مانا گیا تو عوام کو سڑکوں پر نکالوں گا،عمران خان

    سپریم کورٹ کا فیصلہ نا مانا گیا تو عوام کو سڑکوں پر نکالوں گا،عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نا مانا گیا تو عوام کو سڑکوں پر نکالوں گا۔

    باغی ٹی وی: زمان پارک میں کارکنوں سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ آزادی چاہتے ہیں تو وہ پلیٹ میں رکھ کرنہیں ملتی،اس کیلئےقربانیاں دینی پڑتی ہیں،غلامی میں ہمارے ملک کاکوئی مستقبل نہیں ہے،ہمارا وزیراعظم باہرجا کر کہتا ہے مانگنے نہیں آیا مجبوری ہے، یہ غلام ذہنیت کے لوگ ہیں،یہ اپنے پیسے کے غلام ہیں۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا ایرانی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ

    عمران خان کا کہنا تھا کہ عوام کو تیار کرنا ہے کسی بھی وقت کال دے سکتا ہوں،سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں مانا گیا تو عوام کو سڑکوں پر نکالوں گا، ہم ملک میں انصاف اور قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں، حقیقی آزادی کی جنگ سب کو قانون کے تابع لانے کیلیے ہے،انصاف اور حقوق دینے سے معاشرہ آزاد ہوتا ہے۔

    سراج الحق کا وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ،سیاسی بحران کا حل نکالنے کامطالبہ

    عمران خان نے کہا کہ بڑے چوروں کو نہ پکڑا جائے تو قوم زوال پزیر ہوجاتی ہے، میں چوروں کو نہ پکڑ سکا کیونکہ ساری طاقت باجوہ کے پاس تھی، جنرل (ر) باجوہ کرپشن کو برا نہیں سمجھتا تھا، پاکستان کو مشکل سے نکالنے کیلیے انصاف کا نظام ٹھیک کرنا ہوگا، ہم نے ملک میں انصاف کا نظام لانا ہے، اہلکار آکر ہمارے بے گناہ کارکنوں کو پکڑ کر لے جاتے ہیں، یہ ظلم اور ناانصافی کی بدترین مثال ہے۔

    وزیر اعظم کی مردم شماری کے حوالے سے ایم کیو ایم کےتحفظات دور کرنے کی …

  • انتخابات اور سیاسی جماعتوں میں مذاکرات،چوہدری شجاعت بھی متحرک

    انتخابات اور سیاسی جماعتوں میں مذاکرات،چوہدری شجاعت بھی متحرک

    انتخابات اور سیاسی جماعتوں میں مذاکرات کا معاملہ ، سربراہ مسلم لیگ ق چوہدری شجاعت حسین نے پارٹی اجلاس طلب کرلیا

    چوہدری شجاعت حسین کی زیرصدارت اجلاس آج کچھ دیر میں انکی رہائش گاہ پر ہوگا ،پارٹی کے چیف آرگنائزر سابق گورنرچوہدری محمد سرور اجلاس میں شریک ہوں گے ،وفاقی وزرا سالک حسین اورطارق بشیر چیمہ اورشافع حسین بھی اجلاس میں شریک ہوں گے ،اجلاس میں مذاکرات اورانتخابات کی تاریخ کے معاملے پر مسلم لیگ ق اپنی مشاورت مکمل کرے گی ،مسلم لیگ ق کا حکومتی موقف چھبیس اپریل کو حکومتی اتحاد کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا، مسلم لیگ ق پنجاب کے ممکنہ الیکشن میں امیدواروں بارے بھی غور کرے گی، حلقہ پی پی 24 سے چودھری سالک حسین کے کہنے پر ملک اسد کوٹگلہ نے بطور آزاد امیدوار کاغزات جمع کروائے ہوئے ہیں، تحریک انصاف نے حافظ عمار یاسر کو ٹکٹ دیا جو تحریک انصاف کے دور حکومت میں وزیر رہ چکے ہیں، ق لیگی حمایت سے ملک اسد کوٹگلہ الیکشن لڑیں گے یا ن لیگی امیدوار ملک شہریار اعوان کے حق میں دستبردار ہوں گے اس حوالہ سے بھی آج کے ق لیگی اجلاس میں مشاورت ہو گی،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ روزسیاسی جماعتوں کو مزاکرات کا حکم دیا تھا،جس کے بعد ن لیگی رہنماؤں سردار ایاز صادق ،خواجہ سعدرفیق اوردیگر رہنماوں نے سابق سپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر سے رابطہ کیا، حکومتی نمائندوں نے اسد قیصر سے کہا کہ ہم آپ سے با ضابطہ بات چیت کے لئے آفیشل رابطہ کررہے ہیں

    عمران خان کا مزاج کسی بھی طور پر سیاسی نہیں

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

  • سیاسی جماعتوں میں مذاکرات، پی ٹی آئی مایوسی کا شکار

    سیاسی جماعتوں میں مذاکرات، پی ٹی آئی مایوسی کا شکار

    وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن پر مسلم لیگ ن کی اعلی قیادت اور قانونی ماہرین سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، پارٹی ذرائع کے مطابق ملاقاتوں میں ملکی سیاسی و آئینی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا،شہباز شریف سے ملاقات کرنے والوں میں وفاقی وزرا خواجہ سعد رفیق ،سردار ایاز صادق، اعظم نذیر تارڑ، معاون خصوصی ملک احمد خان اور لیگی رہنما شزا فاطمہ شامل ہیں،سابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے بھی وزیراعظم شہباز شریف سے تفصیلی ملاقات کی ہے، ملاقات میں شہباز شریف نے لیگی قیادت و قانونی ماہرین سے سپریم کورٹ میں زیرسماعت ایک ہی دن انتخابات کروانے کے کیس سے متعلق تفصیلی مشاورت کی،

    سپریم کورٹ کے حکم پر سیاسی جماعتوں میں مذاکرات کا معاملہ ، حکومت کے نامزد نمائندوں نے تحریک انصاف سے رابطہ کیا ہے ،پہلے رابطے کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ، میڈیا رپورٹس کے مطابق ن لیگی رہنماؤں سردار ایاز صادق ،خواجہ سعدرفیق اوردیگر رہنماوں نے سابق سپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر سے رابطہ کیا، حکومتی نمائندوں نے اسد قیصر سے کہا کہ ہم آپ سے باضابطہ بات چیت کے لئے آفیشل رابطہ کررہے ہیں ، یہ رابطہ اس وقت کیا گیا جب سپریم کورٹ میں سماعت چل رہی تھی ،اسد قیصر نے حکومتی نمائندوں کے رابطے بارے پارٹی سیکرٹری جنرل اسد عمر کو آگاہ کردیا، اسد عمر کا کہنا تھا کہ رابطہ اچھی بات ہے حکومتی نمائندے سپریم کورٹ میں دوران سماعت اس سے آگاہ کردیں ،تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا کہنا تھا کہ مذاکرات کرنا اچھی بات ہے خوش آئند اقدام ہے ۔ہم اس بات کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن یہ بات عدالت کو بتا دیں

    دوسری جانب جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمن کی دھواں دار پریس کانفر نس ،اوراسکے بعد ن لیگی رہنما مریم نواز کے ٹویٹ کے بعد مذاکراتی ملاقات پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی ہے، پی ٹی آئی اور حکومتی نمائندوں کی کب ملاقات ہوگی تاحال حتمی طے نہ ہوسکا ،حکومتی اتحاد نے ابھی تک پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات کے لئے دن اور وقت طے نہیں کیا، پی ٹی آئی مایوسی کا شکار ہو چکی ہے ، عمران خان کو جب سے نکالا گیا تب سے انہوں نے فوری الیکشن کروانے کا مطالبہ کیا تھا مگر ایک برس بیت گیا ابھی تک الیکشن نہیں ہوئے اور نہ ہی کوئی امکان نظر آ رہے ہیں،ایسے میں سب کی نطریں سپریم کورٹ پر ہیں مگر حکومت ڈٹ گئی ہے اور حکومت نے آج عدالتی اصلاحات کا بل بھی باقاعدہ قانون بنا دیا ہے، ایسے میں تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا کہنا تھا کہ عدالت کو کیا بتانا تھا مریم نواز اور مولانا کا ردعمل سامنے آ گیا ۔یہ صرف اور صرف تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    امیرجماعت اسلامی سراج الحق بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،

    عمران خان کا مزاج کسی بھی طور پر سیاسی نہیں

    واضح رہے کہ عدالتی حکم کے بعد مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی قانون پاس کر چکی ہے ،عدالت کو پارلیمنٹ کے ایکٹ کا احترام کرنا ہوگا ہم انصاف کو مان سکتے مگر چیف جسٹس کے ہتھوڑے کو تسلیم نہیں کر سکتے ،عدالت اپنی پوزیشن واضح کرے کہ وہ عدالت ہے یا پنچائیت ہے ۔ اگر عمران خان کسی ایک تاریخ پر رضا مند ہے تو وہ تاریخ کورٹ کو قبول ہے یہ کیسی کورٹ ہے ۔ عدالت ہمیں جو دھونس دکھا رہی ہے وہ نہیں دکھا سکتی ۔ اسے پارلیمینٹ کا احترام کرنا ہوگا ۔

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور عمران خان کے اتحادی شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ نوازشریف شہبازشریف کے فون کے بعد فضل الرحمن نے پرتشدد اوردہشت گرد پریس کانفرنس کی۔ مندر کا ہتھوڑا بندوق کی نوک اور گینگ آف تھری کے سیاستدانوں کے الفاظوں کااستعمال مذاکرات نہیں بلکہ عدلیہ سے کھلی جنگ ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلےمیں سب کو پابند کر دیا ہےجو نہیں مانے گا وہ قانون کےشکنجے میں آئے گا ،باپ سپریم کورٹ کوخوش آئند بیٹا بندوق کی نوک کہتا ہےحکومت توہین عدالت میں نااہلی میں عدم اعتمادی میں اورآرٹیکل6 کے ریڈار میں آسکتی ہے۔سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے سپلیمنٹری گرانٹ کا مسترد ہوناحکومت پرعدم اعتماد ہےعدلیہ نے ہرقسم کے دباؤ کومسترد کرکے آئین اورقانون کا جھنڈا اٹھایا ہوا ہےعدلیہ ہی جیتے گی ،پاکستان کےدوست ممالک پاکستان میں سیاسی استحکام چاہتےہیں۔حکومت چیمبر کے اندراور عدالت میں پاؤں پڑتی ہے میڈیا میں ٹارزن بنتی ہے گلے پڑتی ہے۔ حکمران سامان باندھ لیں گاڑی چھوٹنے والی ہے ساری قوم عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہےعید کے بعد بڑی خبرآسکتی ہے نگران حکومتیں ختم ہوچکیں 14مئی کوصوبائی الیکشن ہونگے ،

  • عدالتی اصلاحات کا قانون، دیرینہ مطالبے کی تکمیل پرعید سے قبل عید مبارک، امان اللہ کنرانی

    عدالتی اصلاحات کا قانون، دیرینہ مطالبے کی تکمیل پرعید سے قبل عید مبارک، امان اللہ کنرانی

    سپریم کورٹ بار ایسوسی یشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعتہ الوداع المبارک کے روز پاکستان کی تاریخ کا ایک فیصلہ کُن قانون سازی کے بعد آج اس کا روبہ عمل و نافذ العمل ہونا پاکستان کی تکریم و انصاف کے حصول کی راہ میں ایک اہم سنگ میل ہے

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی کا کہنا تھا کہ ‏اس قانون سازی کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں، عوام و وکلاء کو انکے دیرینہ مطالبے کی تکمیل پر عید سے قبل عید کی مبارک، فسطائی دور کا خاتمہ، مشاورت پر اللہ تعالی کا باتھ کے تصور کی پزیرائی قوم و ملک کے لئے نیک شگون ہے،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے پرنٹنگ کارپوریشن کو گزٹ نوٹیفیکیشن کا حکم دے دیا ،صدر نے اس بل کو دوسری بار دستخط کے بغیر واپس بھجوا دیا تھا ،سپریم کورٹ نے اس پر عمل درآمد روک دیا تھا ،بل منظوری کے تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل اب قانون کی شکل میں نافذ ہوچکا ہے ۔

    عام انتخابات 2018؛ ثاقب نثار کے دباؤ پر عُجلت میں کرائے گئے تھے. امان اللہ کنرانی

    سینارٹی کے اصولوں سے ماورا 6 ججز کیخلاف موثر تحریک چلائی جائے. امان اللہ کنرانی

    اسٹیٹ بینک کو فنڈز کی فراہمی کا حکم پارلیمنٹ کی خود مُختاری کو روندنا ہے. امان اللہ کنرانی

    مرضی کے فیصلے بوٹ و بندوق کے احکامات کے ہم پلہ ہیں،امان اللہ کنرانی

    قانون سازی پر عجلت سے نوٹس لینا قابل مذمت ہے. امان اللہ کنرانی

    فائز عیسیٰ کا گولڈن جوبلی کے موقع پر پارلیمنٹ آنا لائق تحسین ہے. امان اللہ کنرانی

    چھ رکنی بینچ کا فیصلہ عدالتی بغاوت، بغض و عناد سے بھرپور ہے، امان اللہ کنرانی

  • عدالتی فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا

    عدالتی فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا

    حکومت کا پارلیمنٹ کی بالادستی پر سمجھوتے سے انکار ،عدالتی فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے پرنٹنگ کارپوریشن کو گزٹ نوٹیفیکیشن کا حکم دے دیا ،صدر نے اس بل کو دوسری بار دستخط کے بغیر واپس بھجوا دیا تھا ،سپریم کورٹ نے اس پر عمل درآمد روک دیا تھا ،بل منظوری کے تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل اب قانون کی شکل میں نافذ ہوچکا ہے ۔

    سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحاتی بل پر تاحکم ثانی عمل درآمد روک دیا تھا ،عدالت عظمی نے ایکٹ کو بادی النظر میں عدلیہ کی آزادی اور اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا، عدالت نے تحریری حکمنامہ میں کہا تھا کہ صدر مملکت ایکٹ پر دستخط کریں یا نہ کریں، دونوں صورتوں میں یہ تا حکم ثانی نافذ العمل نہیں ہو گا،

    صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل دستخط کیئے بغیر پارلیمنٹ واپس بھجوا دیا تھا، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے بل منظور ہوا تھا، ایوان صدر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صدر علوی نے کہا کہ بل کی درستگی کا معاملہ عدالتی فورم کے سامنے زیر سماعت ہے. لہٰذا معاملہ زیر سماعت ہونے کے احترام میں بل پر مزید کارروائی مناسب نہیں۔ عدالتی اصلاحات سے متعلق یہ بل 10 اپریل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کثرت رائے سے ترامیم کے ساتھ منظور ہوا تھا۔

    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

  • اسمبلی قانون پاس کرچکی،عدالت کو پارلیمنٹ کے ایکٹ کا احترام کرنا ہوگا،مولانا فضل الرحمان

    اسمبلی قانون پاس کرچکی،عدالت کو پارلیمنٹ کے ایکٹ کا احترام کرنا ہوگا،مولانا فضل الرحمان

    سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عدالت کہہ رہی ہے کہ عمران خان سے بات کریں ، جس کو نااہل ہونا چاہیے تھا سپریم کورٹ اسے سیاست کا محور بنا رہی ہے

    مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی قانون پاس کر چکی ہے ،عدالت کو پارلیمنٹ کے ایکٹ کا احترام کرنا ہوگا ہم انصاف کو مان سکتے مگر چیف جسٹس کے ہتھوڑے کو تسلیم نہیں کر سکتے ،عدالت اپنی پوزیشن واضح کرے کہ وہ عدالت ہے یا پنچائیت ہے ۔ اگر عمران خان کسی ایک تاریخ پر رضا مند ہے تو وہ تاریخ کورٹ کو قبول ہے یہ کیسی کورٹ ہے ۔ عدالت ہمیں جو دھونس دکھا رہی ہے وہ نہیں دکھا سکتی ۔ اسے پارلیمینٹ کا احترام کرنا ہوگا ۔ پہلے ہمیں بندوق کے زور پر کہا جاتا تھا – اب ہتھوڑے کے زور پر کہا جا رہا ہے کہ بات کرو ہم ججز کا ہتھوڑا قبول نہیں کریں گے ،ایک شخص کی محبت میں آپ پاکستان کی انتہائی معزز کرسی پر بیٹھ کر ہماری سیاست کی توہین کررہے ہیں ۔ ہم عمران خان کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ ہم اس سے بات کریں ،اتحادیوں سے کہا بنچ پر پارلیمنٹ عدم اعتماد کرچکی ہے ،وزیر قانون اور اٹارنی جنرل ان کو بتا چکے ہیں کہ آپ پر اعتماد نہیں ، کیا اس بنچ کے سامنے پیش ہو کر یقین دہانیاں کراؤں ، آج عدالت کے سامنے پیش ہونے والے پارٹیوں نے پارلیمان کی توہین میں برابر کا حصہ ڈالا ہے سپریم کورٹ اپنے رویے میں لچک پیدا کرے عدالت نے خود جبر کا فیصلہ کیا اب ہم سے راستہ مانگ رہی ہے ہم کیوں راستہ دیں اپنا فیصلہ خود واپس لیں ،عمران خان کے ساتھ بات چیت نہیں ہو سکتی ،عمران خان نے جرائم کیے وہ نااہل ہیں ،انصاف کو تسلیم کریں گے

    قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف نے سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان کو ٹیلیفون کیا، مولانا فضل الرحمان نے وزیر اعظم کو اپنے مؤقف سے آگاہ کردیا ، اور کہا کہ جلد بازی کے بجائے عدالت سے عید کے بعد کا وقت لیا جائے ، پی ٹی آئی کی سب باتیں ماننی ہیں تو ہم کہاں کھڑے ہوں گے ،

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    امیرجماعت اسلامی سراج الحق بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،

    عمران خان کا مزاج کسی بھی طور پر سیاسی نہیں

  • جبر سےالیکشن مسلط کیا گیا تو وہ ون یونٹ ،قابل قبول نہیں ہوگا،سعید غنی

    جبر سےالیکشن مسلط کیا گیا تو وہ ون یونٹ ،قابل قبول نہیں ہوگا،سعید غنی

    سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا ہے کہ پنجاب میں جو جماعت اکثریت حاصل کرے گی، اس کا اثر چھوٹے صوبوں پر ہوگا،

    سعید غنی کا کہنا تھا کہ عدالتیں جب حالات کو دیکھ کر فیصلے کرتی ہیں، انہیں یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے،اگر الیکشن ہونا ہے تو پورے ملک میں ایک ساتھ الیکشن ہونا چاہیئے اگر جبر سے الیکشن مسلط کیا گیا تو وہ ون یونٹ ہوگا۔ یہ سندھ کے لوگوں کو قابل قبول نہیں ہوگا، سندھ اور بلوچستان کے لوگوں کی آواز کو سپریم کورٹ کے ججز کو سننا چاہیئے ،غیر متنازع ججز پر فل کورٹ تشکیل دیا جائے، اگر متنازع ججز اور چیف جسٹس کے ساتھ بیٹھ کر فیصلہ کریں گے، یہ تاثر کیوں ہے ملک میں جوڈیشل مارشل لاء ہے، الیکشن کمیشن عدلیہ کا ماتحت ادارہ نہیں ہے، چیف جسٹس نے اگر اسپیکر کو کہا ہے کہ پارلیمنٹ اچھے قوانین بنائے، کوئی جج اور پارلیمنٹ ایسا نہیں کہہ سکتا ہے،

    سعید غنی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن عدلیہ کا ماتحت ادارہ نہیں ہے، چیف جسٹس نے اگر اسپیکر کو کہا ہے کہ پارلیمنٹ اچھے قوانین بنائے، کوئی جج اور پارلیمنٹ ایسا نہیں کہہ سکتا ہے، سپریم کورٹ کو آئین کے تحت فیصلے کرنے کا اختیار ہے پنچائیت لگانے کا اختیار نہیں، میں سمجھتاہوں سپریم کورٹ کا اسرار کرنا کہ پنجاب میں انتخابات کروائے جائیں، ہمیں یہ منظور نہیں ،پنجاب کی قومی اسمبلی میں نشستیں اہمیت رکھتی ہیں، پنجاب میں کسی بھی جماعت کی حکومت بن جاتی ہے اس کے اثرات پڑیں گے،بلوچستان اور سندھ جب چاہتے ہیں کہ ملک میں انتخابات ایک دن ہی رکھے جائیں تو ضد کیوں، سپریم کورٹ میں بیٹھے ہوئے ججز کو ہمیں سننا پڑے گا ہرمسئلے کا حل فل کورٹ ہے،سیاستدانوں سے زیادہ معاملہ فہم کوئی نہیں ہوسکتا، ملک میں ہیجان اور بحران عدالتی فیصلے کی وجہ سے ہے سیاستدانوں کی وجہ سے نہیں،عمران خان کا مزاج کسی بھی طور پر سیاسی نہیں، اس نے ملک کو سیاسی اور معاشی طور پر ملک کو بحرانوں میں دھکیلا ہے،اگر کسی شخص کی سوچ یہ ہو تو ہم اس کو سیاستدان کیسے کہہ سکتے ہیں،

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    امیرجماعت اسلامی سراج الحق بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،

  • اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سےمزید وقت مانگ لیا

    اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سےمزید وقت مانگ لیا

    اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سےمزید وقت مانگ لیا ، اٹارنی جنرل نے درخواست کی کہ سیاسی قائدین کے درمیان مشاورت جاری ہے ،کچھ وقت مزید دیا جائے،

    سپریم کورٹ میں کیس کی دوبارہ سماعت چار بجے ہونی تھی،تا ہم ابھی تک دوبارہ سماعت شروع نہیں ہو سکی،

    قبل ازیں انتخابات ایک ہی روز کرانے سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی ،چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مولا کریم لمبی حکمت دے تا کہ صحیح فیصلے کر سکیں،ہمیں نیک لوگوں میں شامل کر اور ہمارے جانے کے بعد اچھے الفاظ میں یاد رکھا جائے،سراج الحق کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، آپ نے نیک کام شروع کیا اللہ اس میں برکت ڈالے عدالت اس نیک کام میں اپنا حصہ ڈالے گی،صف اول کی قیادت کا عدالت آنا اعزاز ہے،قوم میں اضطراب ہے،سیاسی قیادت مسئلہ حل کرے تو سکون ہو جائے گا،عدالت حکم دے تو پیچیدگیاں بنتی ہیں، سیاسی قائدین افہام و تفہیم سے مسلہ حل کریں تو برکت ہو گی

    اٹارنی جنرل عدالت کے سامنے پیش ہوئے،شاہ خاور نے عدالت میں کہا کہ بیشتر سیاسی جماعتوں کی قیادت عدالت میں موجود ہے مناسب ہو گا عدالت تمام قائدین کو سن لے، جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے الیکشن ایک ہی دن ہوں، چیف جسٹس عمر رطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی قائدین کا تشریف لانے پر مشکور ہوں،

    پی ٹی آئی کی جانب سے شاہ محمود قریشی عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ عدالت کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں، شاہ محمود قریشی نے عدالت میں کہا کہ عدالت کے ہر لفظ کا احترام کرتے ہیں ، ملک نے آئین کے مطابق ہی آگے بڑھنا ہے،ہمیشہ راستہ نکالنے اور آئین کے مطابق چلنے کی کوشش کی،قوم نے آپ کا فیصلہ قبول کیا ہے، دیکھتے ہیں کی حکومت کا کیا نقطہ نظر ہے، ہماری جماعت آئین کے تحفظ پر آپ کے ساتھ ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزارت دفاع کی بھی یہی استدعا ہے کہ الیکشن ایک دن میں ہوں، درخواست گزار بھی یہی کہہ رہا ہے کہ ایک ساتھ الیکشن ہوں، اٹارنی جنرل نے یہ نکتہ اٹھایا لیکن سیاست کی نظر ہوگیا،فاروق نائیک بھی چاہتے تھے لیکن بائیکاٹ ہوگیا،اخبار کے مطابق پیپلز پارٹی کے قائد بھی مذاکرات کو سراہتے ہیں،ن لیگ نے بھی مذاکرات کی تجویز کو سراہا ہے، آج 29 ویں رمضان ہے، ہمارے سامنے ایک بریفنگ دی گئی ، درخواست گزار بھی ایک ہی دن میں الیکشن چاہتے ہیں ،وزارت دفاع نے بھی بہت اچھی بریفنگ دی ،فاروق ایچ نائیک نے بھی کہا تھا کہ ایک ساتھ انتحابات ہوں،آصف زرداری کے مشکور ہیں انھوں نے ہماری تجویز سے اتفاق کیا،

    پیپلز پارٹی کی جانب سے وکیل فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے،اور کہا کہ خواجہ سعد رفیق، قمر زمان کائرہ، طارق بشیر چیمہ بھی آئے ہیں،ایم کیو ایم سے صابر قائم خانی، ایاز صادق اور بی این ہی بھی موجود ہیں،حکومتی سیاسی اتحاد کا مشترکہ مؤقف ہے کہ 90 دن میں انتخابات کا وقت گزر چکا ہے، عدالت دو مرتبہ 90دن سے تاریخ آگے بڑھا چکی ہے ،سیاسی جماعتیں پہلے ہی ایک ساتھ انتخابات کام شروع کر چکی ہے ،بلاول بھٹو نے اسی سلسلے میں مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی، عید کے فوری بعد سیاسی ڈاٸیلاگ حکومتی اتحاد کے اندر مکمل کرینگے،پی ٹی آٸی سے پھر مذاکرات کرینگے تاکہ ہیجانی کیفیت کا خاتمہ ہو ،ہماری کوشش ہوگی کہ ان ڈاٸیلاگ سے سیاسی اتفاق رائے پیداہو ،الیکشن جتنی جلدی مکمن ہو ایک ہی دن ہونے چاہیے ، ہم چاہتے ہیں کسی ادارے کی مداخلت کے بغیر الیکشن ہونے چاہیں،

    ن لیگی رہنما، خواجہ سعد رفیق نے عدالت میں کہا کہ ہم قیادت کے مشورے کے آپ کے سامنے آئے ہیں، ملک میں انتشار اور اضطراب نہیں ہونا چاھیے، یقین رکھتے ہیں کہ ایک ہی دن الیکشن ہونے چاھیے، ہم مقابلے پر نہیں مکالمے پر یقین رکھتے ہیں، ہم سیاسی لوگوں کو مزاکرات کے ذریعے حل نکالنا چاھیے ہم نے عید کے بعد اتحادیوں کا اجلاسں بلایا ہے، اپوزیشن کے ساتھ بات کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ریاستی اداروں کا وقت ضائع کرنے کی بجائے سیاست دانوں کو خود بات کرنی چاہیئے، عدالت میں بھی اپوزیشن کے ساتھ بغلگیر ہوئے ہیں، میڈیا پر ہونے والے جھگڑے اتنے سنگین نہیں ہوتے جتنے لگتے ہیں،

    ایاز صادق بی این پی منگل کی نمائندگی کے لئے روسٹرم پر آگئے ،اور کہا کہ بی این پی والے چاغی میں تھے اس لیئے مجھے پیش ہونے کا کہا گیا، پی ٹی آئی سے ذاتی حیثیت میں رابطہ رہتا ہے آئندہ بھی رہے گا،

    پیپلز پارٹی کی جانب سے قمر ذمان کائرہ پیش ہوئے اور کہا کہ خواجہ سعد رفیق کی گفتگو سے مکمل اتفاق کرتا ہوں تلخی بہت زیادہ ہے، وجوہات سے پورا ملک آگاہ ہے، بطور سیاسی جماعت حکومتی اتحادی سے پہلے بات کا آغاز کیا، جب ملک میں تلخیاں بڑھیں تو بیٹھ کر سیاسی قوتوں کو حل نکالنا پڑا، پیپلز پارٹی کی جانب سے عدالت کا مشکور ہوں، کوشش ہے کہ جلد از جلد انتخابات پر اتفاقِ رائے ہوجائے، عدالت اور قوم کو یقین دہانی کراتے ہیں ملک کیلئے بہتر فیصلے کریں گے،

    طارق بشیر چیمہ بھی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ چوہدری شجاعت حسین نے عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا، مجھے چوہدری شجاعت نے پیش ہونے کا حکم دیا تھا، پہلے دن سے مزاکرت کا عمل شروع ہو ، ملک میں ایک دن میں الیکشن ہونا چاہیئے۔ یہ بہت سے اختلافات کو ختم کردیگا ،یقین دلاتا ہوں کہ ایک دن الیکشن کرانے کی سپورٹ کرتے ہیں ، آپ فیصلہ کرینگے تو اس پر تنقید ہوسکتی ہے لیکن اگر ہم کرینگے تو پھر سب کے لئے بہتر ہوگا ، عدالت کا فیصلہ کسی کو اچھا لگے گا کسی کو برا، سیاسی قائدین کا مشترکہ فیصلہ قوم کو قبول ہوگا،

    شاہ محمود قریشی روسٹرم پر آگئے۔ اور کہا کہ کسی کی خواہش کا نہیں آئین کا تابع ہوں، سپریم کورٹ نے انتخابات کے حوالے سے فیصلہ دیا، عدالتی فیصلے پر عملدرآمد میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، عدالت نے بردباری اور تحمل کا مظاہرہ اور ائین کا تحفظ کیا تلخی کی بجائے اگے بڑھنے کیلئے آئے ہیں، سیاسی قوتوں نے ملکر ملک کو دلدل سے نکالنا ہے،پارٹی کا نقطہ نظر ہیش کرچکا ہوں، ایک سیاسی پہلو ہے دوسرا قانونی،آئین 90 روز کے اندر انتخابات کرانے کے حوالے سے واضح ہے،مذاکرات سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے ، مذاکرات آئین سے بالا نہیں ہو سکتے ،عدالت نے زمینی حقائق کے مطابق 14 مئی کی تاریخ دی ،مذاکرات تو کئی ماہ اور سال چل سکتے ہیں، حکومت کا یہ تاخیری حربہ تو نہیں ہے۔ اعتماد کا فقدان ہے ،حکومت اپنی تجاویز دے جائزہ لیں گے ، عمران خان کی طرف سے کہتے ہیں کہ راستہ نکالنے کی کوشش کریں گے ، عدالت نے 27 اپریل تک فنڈز فراہمی کا حکم دیا ، عدالتی حکم پر پہلے بھی فنڈز ریلیز نہیں کیئے گئے، پارلیمنٹ کی قرارداد آئین سے بالاتر نہیں ہوسکتی، مناسب تجاویز دی گئیں تو راستہ نکالیں گے، انتشار چاہتے ہیں نہ ہی آئین کا انکار،

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    امیرجماعت اسلامی سراج الحق بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،

    سعد رفیق دوبارہ روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ عدالت کو ڈیبیٹ کلب نہیں بنانا چاہتے، مل بیٹھیں گے تو سوال جواب کریں گے، عدلیہ اور ملک کے لیے جیلیں کاٹی ہیں ماریں بھی کھائی ہیں، آئینی مدت سے ایک دن بھی زیادہ رہنے کے قائل نہیں ہیں ،۔قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ عدالت میں ٹاک شو یا مکالمہ نہیں کرنا چاہتے۔ ملک میں ایک ساتھ بھی الیکشن ہوئے اور مقررہ تاریخ سے اگے بھی گئے آئین بنانے والے اسکے محافظ ہیں ، آئین سے باہر جانے والوں کے سامنے کھڑے ہیں ،قمر الزمان کائرہ نے عدالت میں کہا کہ تلخ باتیں یہاں کرنا بہتر نہیں،شاہ محمود قریشی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ جواب الجواب ہم بھی دے سکتے ہیں

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے عدالت میں کہا کہ قوم عدالتی فیصلوں کو سلام پیش کرتی ہے۔عدالت کا فیصلہ پوری قوم کا فیصلہ ہوگا۔ یہ نہ ہو مذاکرات میں چھوٹی اور بڑی عید اکھٹی ہوجائے۔سیاستدان مذاکرات کا مخالف نہیں ہوتا۔ لیکن مذاکرات با معنی ہونے چاہیں ایک قابل احترام شخصیت نے آج بائیکاٹ کیا ہے ،

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے سپریم کورٹ میں کہا کہ قوم کی جانب سے عدالت کا مشکور ہوں کل پاک افغان بارڈر پر تھا، پوری رات سفر کر کے عدالت پہنچا ہوں، قرآن کریم کی تلاوت سے عدالتی کاروائی کا آغاز کرنے پر مشکور ہوں، اللہ کا حکم ہے اجتماعی معاملات میں مذاکرات کرو، اللہ کا حکم ہے یکسوئی ہوجائے تو اللہ پر اعتماد کرو، مذاکرات کرنا آپشن نہیں اللہ کا حکم ہے ، آئین اتفاق رائے کی بنیاد پر وجود میں ایا ہے، آج بھی آئین ملک کو بچا سکتا ہے، آئین کی حفاظت کرنا ملک کی حفاظت کرنا یے،دنیا کا منظر نامہ تبدیل ہو چکا ہے، 1977 میں نتائج تسلیم نہیں کیے گئے اور احتجاج شروع ہوگیا، 1977 میں سعودی سفیر اور امریکی سفیر نے مذاکرات کی کوشش کی تھی،مذاکرات ناکام ہوئے تو مارشل لاء لگ گیا، 90 کی دہائی میں ن لیگ اور پی پی پی کی لڑائی سے مارشل لاء لگا، آج ہمیں اسی منظر نامے کا سامنا ہے،امریکہ ایران اور سعودی عرب اب پاکستان میں دلچسپی نہیں لے رہے،اپنا گھر خود سیاستدانوں نے ٹھیک کرنا ہے، نیلسن منڈیلا کیساتھ ڈیکلار نے تیس سال لڑائی کے بعد مذاکرات کیے گئے ، نیلسن منڈیلا نے اپنے ایک بیٹے کا نام ڈیکلار رکھا ،پاکستان جہموری جدوجہد کے نتیجے میں بنا کسی جنرل نے نہیں بنایا ،آمریت نہ ہوتی تو ملک نہ ڈوبنا ، خیبر پختونخواہ میں کسی نے پی ٹی آئی سے استعفی دینے کا مطالبہ نہیں کیا تھا ، دونوں صوبوں کی اسمبلیاں تحلیل کرنے پر عوام حیران ہے ، خیبر پختون خواہ والوں نے خلاف روایت دوسری مرتبہ پی ٹی آئی کو ووٹ دیا

    سراج الحق نے سپریم کورٹ میں اپنے موقف میں کہا کہ میں نے وزیراعظم اور عمران خان سے ملاقات کی،مسائل کا حل صرف الیکشن ہیں، اور کوئی راستہ نہیں، عمران خان کو کہا نہیں چاہتا ملک میں 10 سال مارشل لاء لگے،عمران خان نے کہا میری عمر اس سے زیادہ نہیں، میں بھی یہ نہیں چاہتا، کسی کی ذاتی خواہش پر الیکشن نہیں ہوسکتے،90 دن سے الیکشن 105 دن پر آ گئے، اگر 105 دن ہوسکتے ہیں تو 205 دن بھی ہوسکتے ہیں، میڈیا نے پوچھا کیا آپ کو اسٹیبلشمنٹ نے اشارہ کیا ہے، میرا مؤقف ہے عدلیہ، افواج اور الیکشن کمیشن کو سیاست سے دور ہونا چاہیے، ہر کسی کو اپنے مؤقف سے ایک قدم ہیچھے ہٹنا ہوگا، مسائل کی وجہ یہ ہے کہ عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کمیشن غیر سیاسی نہیں ہوئے،سیاسی جماعتیں کبھی الیکشن سے نہیں بھاگتیں، ہمارا موقف کبھی ایک کو اچھا لگتا ہے کبھی دوسری جماعت کو،سیاسی لڑائی کا نقصان عوام کو ہے جو ٹرکوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ،ایک کلو آٹے کے لیے لوگ محتاج ہیں، ایک من آٹے کی قیمت 6500 ہو گئی ہےلوگوں کے چہرے سے مسکراہٹ ختم ہو چکی ہے ہمیں نگران حکومتوں نے ڈسا ہے تو منتخب حکومت کیسے شفاف انتخابات کرا سکتی ہے؟

    سراج الحق نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ پنجاب کے رہنے والے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پشتو میں جواب دیا کہ پشتو سمجھتا ہوں، ہم پر لیبل نہ لگائیں، ہم پاکستانی ہیں، سراج الحق نے عدالت میں کہا کہ گندم کی کٹائی اور حج کا سیزن گزرنے دیا جائے، بڑی عید کے بعد مناسب تاریخ پر الیکشن ہونا مناسب ہوگا، عدالت یہ معاملہ سیاست دانوں پر چھوڑے اور خود کو سرخرو کرے،عدالت پنجاب میں الیکشن کا شیڈول دے چکی ہے،

    عمران خان کے وکیل سلیمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ عید کی چھٹیوں میں ذمان پارک میں آپریشن کا خطرہ ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کاروائی میں آپریشن کا معاملہ نہیں دیکھ سکتے،اپ نے متعلقہ عدالت سے رجوع کر رکھا ہے، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہائیکورٹ نے تاحال حکم جاری نہیں کیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ کا حکم آ جائے گا، ایک تجویز ہے کہ عدالت کاروائی آج ختم کردے، تمام سیاسی قائدین نے آج آئین کی پاسداری کا اعادہ کیا ہے،آئین پر نہیں چلیں گے تو کئی موڑ آجائیں گے،آئین کے آرٹیکل 254 کی تشریح کبھی نہیں کی گئی، آرٹیکل 254 کے تحت تاریخ نہ بڑھائی جائے اس لیے اس کی تشریح نہیں کی گئی،
    الیکشن کمیشن نے غلط فیصلہ کیا جس پر عدالت نے حکم جاری کیا،13 دن کی تاخیر ہوئی تب عدالت نے حکم دیا، الیکشن کمیشن شیڈول میں تبدیلی کے لیے بااختیار ہے، پولنگ کا دن تبدیل کیے بغیر الیکشن کمیشن شیڈول تبدیل کر سکتا ہے، الیکشن کمیشن رجوع کرے عدالت مؤقف سن لے گی

    سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں کو ڈیڑھ گھنٹے کا وقت دے دیا، عدالت نے عید کے بعد کا وقت دینے کی استدعا مسترد کر دی اور سیاسی جماعتوں کو فوری طور پر بیٹھنے کا حکم دے دیا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں الیکشن کی تاریخ 14 مئی ہے، 1970 اور 71 کے نتائج سب کے سامنے ہیں، عدالت آئین اور قانون کی پابند ہے، سراج الحق، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے کوشش کی ہے،بعد میں پی ٹی آئی نے بھی ایک ساتھ انتخابات کی بات کی ہے، ان کیمرہ بریفنگ دی گئی لیکن عدالت فیصلہ دے چکی تھی، حکومت کی شاید سیاسی ترجیح کوئی اور تھی، ہم 14 مئی کا فیصلہ واپس نہیں لے رہے ، 14 مئی کی تاریخ برقرار ہے اور رہے گی ،یاد رکھنا چاہیئے کہ عدالتی فیصلہ موجود ہے، یقین ہے کہ کوئی رکن اسمبلی عدالتی فیصلے کے خلاف نہیں جانا چاہتا، آج کسی سیاسی لیڈر نے فیصلے کو غلط نہیں کہا، مذاکرات میں ہٹ دھرمی نہیں ہو سکتی ،دو طرفہ لین دین سے مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں، گزارش ہو گی کہ پارٹی سربراہان عید کے بعد نہیں آج بیٹھیں، جولائی میں بڑی عید ہو گی اس کے بعد الیکشن ہو سکتے ہیں،عید کے بعد انتخابات کی تجویز سراج الحق کی ہے