Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • ایک ساتھ انتخابات کرانے کی درخواست،سیاسی رہنما پہنچے سپریم کورٹ

    ایک ساتھ انتخابات کرانے کی درخواست،سیاسی رہنما پہنچے سپریم کورٹ

    ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کرانے کی درخواست پرسپریم کورٹ میں سماعت آج ہوگی،سیاسی جماعتوں کے قائدین سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں،

    وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڈ, ایاز صادق اور طارق بشیر چیمہ بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی عطاء تاررڈ اور پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک سپریم کورٹ پہنچ گئے ،بڑی تعداد میں وکلاء بھی موجود ہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سماعت کرے گا۔تمام سیاسی جماعتوں کو آج کی سماعت کے لیئے نوٹس جاری کیئے گئے تھے

    وفاقی وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اظہار یکجہتی کے طور پر آیا ہوں،سیاسی لوگ ہیں جن کے اپنے کچھ تحفظات ہیں مذاکرات سے کبھی پیچھے ہٹے ہیں نہ ہٹنا ہے،

    وفاقی وزیر پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ کوئی سیاسی جماعت بھی مذاکرات سے مسائل کے حل کیخلاف نہیں،صبروتحمل سے ایک دوسرے کی بات سن کر آگے بڑھناہوگا،ہم نے مذاکرات کی بات کی ،عمران خان نے جارحانہ انداز اپنایا،سیاسی جماعتوں نے مل بیٹھ کر بڑے بڑے مسائل حل کیے ہیں، ہم پیپلز پارٹی والے عدالتوں کا احترام کرتے ہیں، پیپلز پارٹی نے موجودہ حدت کو کم کرنے کے لئے کوشاں ہے، سیاست میں کبھی سونامی اور جنون کے الفاظ استعمال کیا جارہا ہے،

    امیرجماعت اسلامی سراج الحق بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے، سراج الحق نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی افراتفری اور آئینی بحران کی وجہ سے ہماری معیشت خراب ہو رہی ہے،سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے اداروں سمیت غریب آدمی پر برا اثر پڑ رہا ہے،لوگوں کے پاس کھانے کے ذرائع ختم ہوگئے ہیں ،سیاست دانوں کی آپس کی لڑائی سے عوام متاثر ہورہی ہے الیکشن کسی ایک سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں ہے،ہم سب اس کے اسٹیک ہولڈرز ہیں،ہم ایک ایسی تاریخ چاہتے ہیں جو سب کے لیے قابل قبول ہو،مخلصانہ تجویز دیتے ہیں کہ مرکز اور صوبوں میں نگران حکومتیں قائم ہوں، سیاسی جماعتیں مل کر تاریخ طے کریں

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

     

  • سپریم کورٹ نےآڈٹ نہ ہونے کی خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دے دیا

    سپریم کورٹ نےآڈٹ نہ ہونے کی خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دے دیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے 10 سال سے آڈٹ نہ ہونے کی خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی: ترجمان سپریم کورٹ نے وضاحت دی کہ سپریم کورٹ کا جون 2021 تک آڈٹ مکمل ہوچکا ہے اور اب سپریم کورٹ کا 2021 سے 2022 کے آڈٹ کا عمل جاری ہے،سپریم کورٹ کے آڈٹ سے متعلق آڈیٹر جنرل پاکستان سے تصدیق کی جاسکتی ہے، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو دی گئی معلومات درست نہیں ہیں۔

    بلاول بھٹو،مولانا فضل الرحمان کو پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے منانے انکے گاؤں پہنچ گئے

    واضح رہے کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی نے سپریم کورٹ کے آڈٹ سے متعلق رجسٹرار کو طلب کیا تھا چیئرمین پی اے سی کا کہنا ہے کہ دس سال سے سپریم کورٹ اپنے حسابات کا آڈٹ نہیں کروا رہی پی اے سی نے ایڈمنسٹریٹر گن اینڈ کنٹری کلب نعیم بخاری کو فوری عہدے سے ہٹانے اور تمام مراعات واپس لینے کی ہدایت کی تھی-

    چیئرمین پی اے سی نور عالم خان نے کہاتھا کہ سپریم کورٹ کو کیا اختیار حاصل ہے کہ ایڈمنسٹریٹر مقرر کرے۔ پی اے سی نے سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر ایڈمنسٹریٹر گن اینڈ کنٹری کلب کو فوری ہٹانے ، نعیم بخاری سے تمام مراعات واپس لینے کی سفارش کر دی۔

    ملک میں آئندہ ماہ مئی میں معمول سے زیادہ بارشوں کا امکان

    پی اے سی نے ایف آئی اے اور نیب حکام کو انکوائری کیلئے گن اینڈ کنٹری کلب جانے کی ہدایت کی تھی کہا تھا کہ نیب اور ایف آئی اے آڈٹ حکام کے ساتھ گن اینڈ کنٹری کلب جائیں اور دیکھیں کیسے ریکارڈ فراہم نہیں کیا جاتا۔ پی اے سی نے کلب کا مالیاتی ریکارڈ حاصل کرنے کی ہدایت کر دی۔

    نور عالم خان نے کہا تھا کہ میں کسی سے نہیں ڈرتا، پی اے سی نے سی ڈی اے سے ججز، ارکان پارلیمنٹ، وفاقی کابینہ ارکان، قومی اسمبلی، سینیٹ اسٹاف کو ملنے والے پلاٹوں کی تفصیلات طلب کی تھیں پی اے سی نے پلاٹوں کی تفصیلات نہ بھجوانے پر چیئرمین سی ڈی اے کی سرزنش کی۔

    مفتی عبدالشکور کے معاملے پرپی ٹی آئی غلیظ اور گندی مہم چلارہی ہے،وزیر اطلاعات

    نور عالم خان نے کہا تھا کہ پی اے سی نے ون کانسٹی ٹیوشن ایوینیو کے اپارٹمنٹ مالکان کی فہرست اور منی ٹریل مانگی تھی۔ بتائیں کہ کونسے بیوروکریٹس، ججز، اور سیاست دانوں نے ون کانسٹیٹیوشن ایوینیو میں اپارٹمنٹ خریدےیہ بھی پتا کریں ان کےپاس اپارٹمنٹ خریدنے کے پیسے کہاں سے آئے۔

  • دسمبر 1971 میں پاکستان اچانک نہیں ٹوٹا بیج بوئے گئے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    دسمبر 1971 میں پاکستان اچانک نہیں ٹوٹا بیج بوئے گئے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    آئین پاکستان، قومی وحدت کی علامت، جسسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آئین پاکستان کی 50ویں سالگرہ منارہے ہیں،آزادی حاصل کرنے کے بعد سب سے زیادہ ضرورت آئین کی تھی،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ یہ میرے لیے کتاب نہیں ،اس میں لوگوں کے حقوق ہیں،آئین پاکستان کے لوگوں کے لیے ہے،1947میں دنیا میں پہلی اسلامی ریاست وجود میں آئیہم اس آئین کی تشریح کرسکتے ہیں،قائداعظم ہرکونے کونے میں گئے اوربھرپور جدوجہد کے بعدپاکستان قائم ہوتاہے،آئین کو اس طرح پیش نہیں کیا گیا جس کا وہ مستحق تھا دسمبر 1971 میں پاکستان ٹوٹ گیا، اچانک نہیں ٹوٹا بیج بوئے گئے، جسٹس منیر نے پاکستان توڑنے کا بیج بویا تھا.فیڈرل کورٹ میں جسٹس منیر نے پاکستان ٹوٹنے کا بیج بویا اور جو بیج بویا گیا اس نے ملک کے 2 ٹکڑے کردیئے ،تمام قوتوں کے باوجود ناانصافیاں زیادہ دیر تک نہیں ٹھہرتی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا میں نوجوانوں سے مخاطب ہوں، 1977 میں الیکشن ہوتے ہیں اور پھر کہا جاتا ہے کہ یہ صاف شفاف نہیں تھے، اسکے بعد ایک الائنس بنا تھا،ایک طرف الزامات لگائے جا رہے تھے کہ الیکشن منصفانہ نہیں تھے، اسکے باوجود دونوں مخالفین ٹیبل پر بیٹھے، تاریخ اس بات کی گواہ ہے، کہ ان کا معاہدہ ہو چکا تھا دستخط کی دیر تھی کہ ایک اور شخص نے پھر وار کیا جمہوریت پر، آئین پر، یہ چار جولائی 1977 کا دن تھا، ایک شخص پوری قوم پر مسلط ہو گیا،اور 11 سال حکومت کی اگست 1988 تک اور پھر وہ ایک جہاز کے حادثے میں وفات پا گیا، اس سے پہلے عدالتوں میں کیسز آئے، چیلنج ہوئے ، بھٹو کو سزائے موت دی گئی، ریفرنڈم میں جب بھی کسی ڈکٹیٹر نے کروایا تو اسکا ریزلٹ 98 فیصد ہوتا ہے، پولنگ بوتھ خالی ہوتے ہیں لیکن پھر بھی نتائج 98 فیصد، لیکن جب الیکشن ہوتے ہیں جلسے، لمبی لائنیں، انتخابی مہم لیکن نتائج 60 فیصد سے اوپر نہیں جاتے، غور کریں یہ نتیجہ کیسے نکل آتا ہے،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ غلط اقدامات کو سراہتی چلی گئی جس پر مجھے شرمندگی ہوتی ہے، 99 میں ایک اورسرکاری ملازم نے ٹیک اوور کر لیا، پھر کیا ہوا وہ سب کے سامنے ہے، زیادہ پرانی باتیں نہیں، انہوں نے دو بار وار کیا، ایک 99 میں اور دوسرا 2007 میں، جب ایمرجنسی نافذ کی ، جس کو تکلیف ہوتی ہے وہ عدالت پر دستک دیتا ہے لیکن ایک کیس رونما ہوا، عجیب سا کیس تھا، اگر کوئی فیصلہ غلط ہے تو وہ غلط ہی رہے گا چاہے سب جج فیصلہ کرلیں، بھاری دل اور تکلیف کے ساتھ مجھے یہ بات ماننی پڑ رہی ہے اور کسی انکار کی گنجائش بھی نہیں کہ میرے ادارے کا ماضی پہلے دن سے آج تک داغدار ہے میری پاس اپنے ادارے کی ایک بھی درخشاں روایت نہیں جسے فخر سے بیان کر سکوں ہم نے ہر آمر کا ساتھ دیا اور جمہوریت کے خلاف استعمال ہوئے۔ ازخود نوٹس کا اختیار صرف سپریم کورٹ کو ہے، 184 تین کے تحت سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ بن جاتی ہے۔ جب سے سپریم کورٹ کا جج بنا کبھی اپنی پسند اور ناپسند کا اظہار نہیں کیا۔ ازخود نوٹس کے استعمال سے متعلق قدم پھونک پھونک کر رکھنا چاہئے، شق 184 تین صرف مظلوموں کیلئے ہے، کسی کو فائدہ دینے کیلئے نہیں۔ اس شق کے تحت چیف جسٹس سمیت تمام ججز کو مشترکہ فیصلہ کرنا چاہئے۔ نمبر گیم سے سچ جھوٹ اور جھوٹ سچ میں تبدیل نہیں ہو سکتا۔ ہر عدالت سے مختلف آراء سامنے آتی ہیں، سب کی رائے کا احترام کرنا چاہئے

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف کیورواٹیو ریویو،اٹارنی جنرل چیف جسٹس کے چمبر میں پیش 

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

  • سائل عمران خان کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا،عدالتی فیصلہ

    سائل عمران خان کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا،عدالتی فیصلہ

    لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا

    عدالت نے فیصلے میں کہا کہ پنجاب حکومت کے وکیل کے بیان کی روشنی میں کیس کی سماعت تک سائل کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا ۔لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کو ہراساں کرنے سے بھی روک دیا ۔لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی درخواست پر جلد سماعت کی استدعا مسترد کر دی ، فیصلے میں عدالت نے کہا کہ مرکزی درخواست دو مئی کو سماعت کے لیے مقرر ہے ۔ اس لیے جلد سماعت کی ضرورت نہیں

    لاہور ہائیکورٹ، زمان پارک ممکنہ آپریشن روکنے،140 مقدمات اور انکوائریوں میں طلبی کے نوٹسزکا معاملہ ،جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں ہانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی،جسٹس طارق سلیم شیح جسٹس عالیہ نیلم جسٹس امجد رفیق جسٹس انورالحق پنوں بنچ کا حصہ ہیں

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان عدالت میں پیش ہوئے، شبلی فراز بھی انکے ہمراہ تھے، عمران خان سخت سیکورٹی میں عدالت پیش ہوئے،وکیل سلمان صفدرنے عدالت میں دلائل دیئے،دوران سماعت عمران خان روسٹرم پر آگئے ،عمران خان کے وکیل سلمان صفدر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جو بنیادی حقوق ہیں انکی خلاف ورزی کی جا رہی ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ جو ایف آئی آر درج کی گئی ہیں انکے تعداد کیا صرف پنجاب کی حد تک ہیں،وکیل عمران خان نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ سے ہمیں صرف ضمانت کراتے ہو گئے ہیں مختلف مقدمات میں یہ انسانی طور پر ممکن ہی نہیں ہے کہ اتنے مقدمات میں پیش ہوا جائے ،میں یہ کہا رہا ہوں کہ صرف پانچ دنوں کے اندر انھیں روکا جائے کہ یہ گرفتاری کے لیے نہ آئیں، ہم چاہتے ہیں کہ عید کی ان چھٹیوں میں ہمیں صرف ریلیف دے دیں ،

    اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی جانب سے عمران خان کی درخواست کی مخالفت کی گئی اور کہا گیا کہ یہ کیا کسی قانون میں ہے کہ پولیس نے ابھی گرفتاری ڈالی ہی نہ ہو اور کہہ دیا جائے کہ ہمیں گرفتار کر لیا جائے گا،جو لاء انفورس منٹ ادارے ہیں وہ ہر ایک لیے ایک جیسے ہیں،وہ نتھو اور پتھو کے لیے ایک جیسے ہیں،کیا کوئی قانون سے بالا تر ہو سکتا ہے،
    یہ تو ابہام پر باتیں کر رہے ہیں کہ انھیں ممکنہ طور پر گرفتار کر لیا جائے گا،

    ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ درخواست گزار کی خواہش ہے کہ ان کےخلاف کاروائی کو روکا جائے۔سرکاری وکیل نے کہا کہ قانون کےتحت ایسی کسی کاروائی کو نہیں روکا جاسکتا۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے سامنے تو صرف حکم امتناعی کامعاملہ زیرغور ہے۔عید کا موقع ہے کیا عید گھر پر کرنے دیں گے یا نہیں۔ عدالت کے سوال پرکمرہ عدالت قہقہوں سے گونج اٹھا عدالت نے کہا کہ اگر درخواست گزار ضمانت پر ہے تو اسے تو ہاتھ بھی نہیں لگایا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی جے آئی ٹی ہے یا کوئی مقدمہ ہے تو بتائیں تاکہ وہ ضمانت کے لئے عدالت سے رجوع کرسکیں۔

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا تفتیش صرف عید پر ہی کرنی ہے یا اس سے پہلے یا بعد میں بھی ہوسکتی ہے۔عدالت کو واضح بتایا جائے کہ آپ کا ارادہ کیا ہے۔ سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ ہم قانون کےمطابق کام کریں گے۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت بھی یہی کہہ رہی ہے کہ قانون کے مطابق کاروائی ہونی چاہئیے۔ جسٹس انوار الحق پنو نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بتائیں کہ جی آئی ٹی ان کیسسز پر بنی ہوئی ہے،اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت میں کہا کہ جے آئی ٹی بڑے اہم کیسسز پر بنی ہوئی ہے،سرکاری وکیل نے کہا کہ یہ عید ہے انھوں نے وہاں ایریا کو کواڈن آف کر لیا ہوا ہے،انھوں نے الطاف حسین کی طرح سڑک کو نو گو ایریا بنا دیا ہوا ہے، انھوں نے وہاں قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیا ہوا ہے،ہم قانون کے مطابق کام کریں گے،ہم انھیں ان کیسسز میں کیوں گرفتار کرینگے جس میں انھوں نے ضمانت کرا رکھی ہے، وکیل عمران خان نے کہا کہ حلانکہ اسلامی رواداری بھی یہی ہے کہ انھیں عید کے اس مبارک موقع پر کوئی بدامنی نہ پھیلائے،جسٹس امجد رفیق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملزم کے بھاگنے کے بھی چانسز نہ ہو تو اس موقع پر قانون کے مطابق انویسٹی گیشن بھی روکی جا سکتی ہے

    سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ انہوں نے زمان پارک میں تجاوزات قائم کررکھی ہیں مقامی رہائشیوں کی زندگی متاثر ہورہی ہے ، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی طرف سے کچھ کیا گیا ہے تو عدالت کے علم میں یہ کہ ادھر سے بھی بہت کچھ کیا گیا۔ عدالت اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتی .

    عمران خان نے عدالت میں کہا کہ یہ قوم مجھے پچاس سال سے جانتی ہے، میں نے کبھی قانون سے ہٹ کر نہیں قدم اٹھایا، جو الیکشن کروانا چاہتے ہیں وہ انتشار کیوں چاہیں گے،انتشار تو وہ چاہے گے جو ان کی بنیاد پر بھاگ رہے ہیں، جسٹس طارق سلیم شیخ جو اس بنچ کا حصہ ہیں انھوں نے میرے گھر ہر حملے کا روکا تھا،لیکن پھر بھی انھوں نے حملہ کیا،جب میں اسلام آباد گیا تو انھوں نے 26 گھنٹے میرے گھر پر اٹیک کیا، مجھے تو اب کنفرم ہو گیا ہے کہ انھوں نے لازمی عید کے دنوں میں میرے گھر پر حملہ کرنا ہے، جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم ان سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ ان دنوں پانچ چھ دنوں میں کوئی ایسا اقدام کرینگے،عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نےکہا کہ ہم انتشار پھیلا رہے ہیں۔ہمارا تو فوکس ہے کہ انتخابات ہوں اسی لئے انتشار ہم نہیں چاہتے۔انتشار تو یہ پھیلا رہے ہیں پیسے نہ دے کر اور سکیورٹی فراہم نہ کرکے۔اسلام آباد جاتے ہی میرے گھر پر چھبیس گھنٹے حملہ کیاگیا۔ اگر ہم آپ کے پاس نہ آئیں تو کدھر جائیں گے۔ میں تو گھر میں ہی رہنا ہے اور کدھر جانا ہے۔اسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ انھوں نے 69 پولیس اہلکار اور چار ڈی ایس پیز کو شدید زخمی کیا ہے،سرکاری وکیل نے کہا کہ جو انھوں نے پیٹرول بم پھینکے اسکو تو ہر روز ٹی وی پر دیکھاتے ہیں،

    عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد عمران خان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا جو اب سنا دیا گیا ہے،

    علاوہ ازیں عمران خان کا ذاتی گارڈ کمرہ عدالت میں گر پڑا ،ساتھی گارڈز نے سہارا دے کر اٹھایا ،عمران خان نے گارڈ کی خیریت دریافت کی

    دوسری جانب عدالت میں عمران خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت عدالت کا فیصلہ نہیں مانتی اور آئین پر چلنے کو تیار نہیں ہوئی پھر قانون تو ختم ہوگیا پاکستان میں، ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ،اس کا مطلب آپ من پسند آئینی شقوں کو تسلیم کرتے ہیں، عمران خان میڈیا سے بات کر رہے تھے کہ انہیں عدالتی عملے نے میڈیا ٹاک سے منع کر دیا،

    دوسری جانب جوڈیشل کمپلیکس میں توڑ پھوڑ اور دیگر 8 آٹھ کیسز میں عمران خان کی ضمانت میں 3 مئی تک توسیع کر دی گئی، آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی گئی، عمران خان کے وکلا کے بقول لاہور ہائیکورٹ میں موجود ہونے کی وجہ سے آج اسلام آباد میں عمران خان پیش نہیں ہو سکے

    زمان پارک میں بجلی چوری؛ لیسکو نے انتظامیہ کو نوٹس جاری کردیا

     زمان پارک پر ایک بار پھر پولیس آپریشن کا خدشہ

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے غلط معلومات رکھی گئیں،سپریم کورٹ

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے غلط معلومات رکھی گئیں،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں پر وضاحت جاری کر دی

    جاری وضاحت میں کہا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر خبریں چھپیں کہ دس سال سے سپریم کورٹ کا آڈٹ نہیں ہوا،اور کہا گیا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو طلب کر لیا ہے تیس جون 2021 تک سپریم کورٹ کا آڈٹ کیا گیا ہے اور مکمل ہے جبکہ 2021-22 کا آڈٹ اے جی پی آر سے ہو رہا ہے سپریم کورٹ سے جاری وضاحت میں کہا گیا ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے غلط معلومات رکھی گئیں وضاحت میں کہا گیا ہے کہ ایسی رپورٹس حقائق سے بالکل مختلف ہیں

    قبل ازیں گزشتہ روز قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں پی اے سے نے سپریم کورٹ کی جانب سے آڈٹ نہ کرانے کا نوٹس لیتے ہوئے رجسٹرار سپریم کورٹ کو طلب کرلیا، دوران اجلاس سپریم کورٹ کے آڈٹ کا معاملہ زیر غور آیا، چیئرمین کمیٹی نور عالم خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا دس برسوں سے کوئی آڈٹ نہیں ہوا سپریم کورٹ کے پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسرکو بلاؤں گا،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے دس برسوں سے آڈٹ نہ کرانے پر رجسٹرار سپریم کورٹ کو طلب کرلیا اور کہا کہ عید کے بعد کمیٹی میں آ کر جواب دیں،

    چیئرمین کمیٹی نور عالم خان کا کہنا تھا کہ پی اے سی نے سی ڈی اے سے ججز،ارکان پارلیمنٹ، وفاقی کابینہ ارکان، قومی اسمبلی اور سینیٹ اسٹاف کو ملے پلاٹوں کی تفصیلات بھی طلب کی تھیں پی اے سی نے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے اپارٹمنٹ مالکان کی فہرست اور منی ٹریل مانگی تھی وزارت ہاؤسنگ نے پی اے سی کی ہدایات کے باوجود ریکارڈ کیوں نہیں دیا، ڈپلومیٹک انکلیو کے سامنے سے شروع کریں ون کانسٹی ٹیوشن بلڈنگ میں کس کے کتنے فلیٹس ہیں؟ ایف آئی اے اور نیب ان کی منی ٹریل کا پتہ لگائے ، پاکستان غریب ہو رہا ہے اور یہ لوگ امیر ہوتے جارہے ہیں

    دوسری جانب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے گن اینڈ کنٹری کلب اسلام آباد کا ریکارڈ قبضے میں لینے کی ہدایت کردی ،اجلاس میں وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس اور وزارت بین الصوبائی رابطہ کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا ،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے گن اینڈ کنٹری کلب اسلام آباد کا آڈٹ نہ ہونے کا نوٹس لے لیا اور کلب کا تمام ریکارڈ قبضے میں لینے کی ہدایت کردی جب کہ ساتھ ہی کلب کے سربراہ نعیم بخاری کوفوری ہٹانے کی ہدایت کردی ،چیئرمین کمیٹی نور عالم خان کا کہنا تھا کہ گن اینڈ کنٹری کلب کا آڈٹ کیوں نہیں کرایا جا رہا اربوں روپے کے آڈٹ پیراز بن چکے قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے ،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کلب کے آڈٹ کے لیے نیب اور ایف آئی اے کی مدد لینے کی ہدایت کردی، چیئرمین کمیٹی نور عالم خان کا کہنا تھا کہ یں یہ آڈٹ پیراز ایف آئی اے اور نیب کو انکوائری کیلئے بھجوا رہا ہوں ،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کلب کے سربراہ نعیم بخاری سے گاڑی اور دفاتر سمیت تمام مراعات اور سہولیات واپس لینے کی ہدایت کردی

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

     ماحولیاتی منظوری کے بغیر مارگلہ ایونیو کی تعمیر کیس پر فیصلہ محفوظ 

    جو نقشے عدالت میں پیش کئے گئے وہ سب جعلی،یہ سب ملے ہوئے ہیں، مارگلہ ہلز کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پر ایک اور مقدمہ درج

    مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد

    ایف نائن پارک میں شہری پر حملے کا مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کر لیا گیا

  • صدر مملکت عارف علوی کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    صدر مملکت عارف علوی کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی

    درخواست گزار کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عارف علوی عمران خان کی ایماء پر قانون سازی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے باوجود صدر مملکت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کی منظوری نہ دی ،درخواست ایک شہری چوہدری محمد امتیاز کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ صدر مملکت کے یہ اقدامات کسی مخصوص پارٹی کی طرف جھکاؤ ظاہر کرتے ہیں ، ایسے طرز عمل کی بناء پر ڈاکٹر عارف علوی صدر کے عہدے کے اہل نہیں،آئین کے آرٹیکل 41 کے ڈاکٹر عارف علوی کو صدر کے عہدے سے ہٹایا جائے۔

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    بشری بی بی کی آڈیونےدنیا بدل دی۔قہرٹوٹ پڑا ،عمران خان مایوس،دل ٹوٹ گیا

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ صدر مملکت نے پارلیمان کی جانب سے بھجے گئے سپریم کورٹ پروسیجر بل کی منظوری نہ دی صدر مملکت نے نیب ترامیم بل اور اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ پر بھی دستخط کرنے سے انکار کیا ،صدر مملکت کا اپنی آئینی ذمہ داریوں سے انکار کرنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ صدر کیلئے عہدے کیلئے اہل نہیں صدر ایک سیاسی جماعت سے منسلک اور جانبدار ہیں، صدر مملکت نے حکومت کی قانون سازی کو سیاسی جماعت کے چئیرمین کے کہنے پر منظور نہیں کیا،

  • الیکشن کیلئے فنڈز نہیں ملے، الیکشن کمیشن حکام نے سپریم کورٹ کو کیا آگاہ

    الیکشن کیلئے فنڈز نہیں ملے، الیکشن کمیشن حکام نے سپریم کورٹ کو کیا آگاہ

    پنجاب خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات کا معاملہ ،الیکشن کمیشن حکام کی سپریم کورٹ آمد ہوئی

    الیکشن کمیشن نے فنڈز کے حوالے سے پیش رفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی، سپریم کورٹ نے آج فنڈز کے حوالے سے رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا تھا ، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو آگاہ کر دیا کہ فنڈز نہیں ملے، اسٹیٹ بینک کی طرف سے رقم ٹرانسفر نہیں کی گئی،

    سپریم کورٹ نے اسٹیٹ بینک کو براہ راست الیکشن کمیشن کو پنجاب کے الیکشن کے لئے فنڈز دینے کا کہا تھا تا ہم حکومت آڑے آ گئی، کابینہ اجلاس ہوا، پھر قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا ، اسمبلی اجلاس میں فنڈز نہ دینے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا،

    قبل ازیں گزشتہ روز قائمقام گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ انتخابات کیلئے سپریم کورٹ کے حکم پر 21 ارب مختص کر دیے ہیں-سپریم کورٹ کی جانب سے گورنر اسٹیٹ بینک کو فنڈز کے اجرا کے حکم کے تناظر میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں وزیر مملکت برائے خزانہ، معاون خصوصی برائے خزانہ، وزارت خزانہ کے حکام شریک ہوئے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے خصوصی اجلاس سے قبل ہونے والی مشاورت میں الیکشن کے لیے فنڈز کا اجرا روکنے کے حوالے سے قانونی نکات کا جائزہ لیا گیا اور مشاورت کی گئی کہ اسٹیٹ بینک کو فنڈز اجرا سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ کی جانب سے گزشتہ ہفتے جاری کیے جانے والے حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ اسٹیٹ بینک پنجاب میں انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن کو براہ راست رقم جاری کرے، وزارت خزانہ نے بتایا ہے کہ 17 اپریل تک 21 ارب روپے الیکشن کمیشن کو دیےجائیں گے۔

    عدالت نے اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کو 18 اپریل تک فنڈز جاری کرنے سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے مزید کہا تھا کہ الیکشن کمیشن بھی 18 اپریل کو 21 ارب روپے فنڈز وصولی کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائے۔

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

  • ہمیں اپنے اندر سے منافقت ختم کرنا ہوگی،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار

    ہمیں اپنے اندر سے منافقت ختم کرنا ہوگی،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار

    سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے علی پارک میں جامعہ غوثیہ میں ختم قرآن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گناہوں سے بچنا اور عبادت کرنا اہم ہے، قرآن کو پڑھنا ہی نہیں سمجھنا اور عمل کرنا اہم ہے،

    سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ زندگی گزارنے کے اسلوب قرآن کے ذریعے اللہ نے ہمیں بتلا دئیے ،ایک زندگی سے ہی گھر اور معاشرہ وجود میں آتا ہے، معاشرے میں سب سے اہم بات تربیت اور دیانت ہے، ہمیں اپنے معاملات میں دیانت اور خدمت کا شعار اپنانا ہوگا، معاملات میں دیانت ہی ہمارے دین کی اساس ہے، بچے ہمارا مستقبل ہیں میرا سیاسی مقصد نہیں ہے،پاکستان کے حالات اچھے نہیں ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاملات درست نہیں ہیں،ہمارے بچوں نے ملک کی تعلیم اور تربیت سنبھالنی ہے،آج ہم ملک کی بقاکی جنگ لڑ رہے ہیں،یہ جنگ اس لئے لڑنی پڑ رہی ہے کہ ہم دین کے اسلوب سے ہٹ گئے ہیں،زندگی کےمعاملات کی پوچھ گچھ ضرور ہوگی، بچوں کی تعلیم وتربیت کی ہے یا نہیں اس کی باز پرس ضرور ہوگی، جب ہم لوگ اپنے اندر جھانک کردیکھیں گے تو ہمیں اپنی خامیاں اور کوتاہیاں دکھائی دیں گی، ہمیں اپنے اندر سے منافقت ختم کرنا ہوگی اپنی اناوں کو ختم کرنا ہو گا، لوگوں نے ڈیم کی رقم جو دی ہے محفوظ ہاتھوں میں ہے، ڈیم کی رقم دس ارب جمع ہوئی تھی،اس رقم کی حفاظت کےلئے پانچ رکنی بنچ تشکیل دیاتھا،اس رقم کو بنچ نے انویسٹ کردیا تھا جو بڑھ کر17 ارب روہے ہوگیا،دنیا سے ماہرین کو بلاکر جو ہم نے سٹڈی کرائی اس کے مطابق پاکستان سے سال 2025 تک پانی ختم ہوجانا تھا

    سینئیر قانون دان رفاقت کاہلوں اور دیگر مقررین نے بھی ختم قرآن کی تقریب سے خطاب کیا،مسجد میں موجود شہری نے ڈیم سے متعلق سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے سوال کیا، انتظامیہ نے سوال کرنے والے شہری کو بات کرنے سے منع کرنا چاہا،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے سوال کرنے والے کو سوال کرنے کی اجازت دیتے ہوئے مسجدکی انتظامیہ کو منع کرنے سے روک دیا اور کہا کہ ڈیم کے بارے سوال کرنا ہر اس شخص کا حق ہے جس نے ڈیم فنڈ میں دس روپے بھی جمع کرائے۔ ،سوال کرنا آپ کا حق ہے جس نے دس روپے بھی دئیے وہ مجھ سے سوال کرنے کا استحقاق رکھتا ہے،جس سپیڈ سے ہم ڈیم کی تعمیر کرانا چاہتے تھے اس میں جو رکاوٹیں آئیں وہ ذکر نہیں کرنا چاہتا، پاکستان کی بقاء کے لئے ڈیم بنانے کا آغاز کیا،اسی لئے کہا کہ اس کا نام بدل کر ہاکستان ڈیم رکھ دیا جائے، پانی ہم سب کی زندگی کےلئے لازم ہے ہوری دنیا کو فیکٹری میں بدل دیاجائے تو دوگیلن پانی نہیں بن سکتا ہانی قدرت کی سب سے بڑی نعمت ہےجو خدا ہی بھیجتا ہے ،

    بھارتی آبی جارحیت،پاکستان کا پانی روکنے کے منصوبہ کی دی مودی سرکار نے منظوری

    دیامر بھاشا ڈیم منصوبے سے دشمن کو تکلیف ہو رہی ہے،فیصل واوڈا

    ڈیم مخالف ٹرینڈ ، بھارتی عزائم کا ٹرینڈ ہے ، بھارتی پراپیگنڈہ چند شرپسند عناصرپھیلا رہے ہیں‌، جویریہ صدیقی

    ڈیموں کے مخالفین پاکستان کے دشمن ہیں: سابق چیئرمین واپڈا انجینئر شمس الملک

    واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف ڈیم فنڈ کے حوالے سے درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دی گئی ہے ،درخواست عدنان اقبال کی جانب سے دائر کی گئی ہے ڈیم فنڈ پر چیف جسٹس کا اختیار ختم کرنے کیلیے درخواست دائرکی گئی ہے،،مقامی وکیل عدنان اقبال کی جانب سے درخواست دائر کر دی گئی نجی ٹی وی کے مطابق درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جتنی رقم ڈیم فنڈ میں جمع ہوئی اس سے زیادہ اس سرگرمی کی تشہیر پر لگی 13 ارب کی تشہیری مہم سے 10 ارب روپے حاصل کیے گئے ڈیم فنڈز کے اکاﺅنٹ ٹائٹل سے چیف جسٹس کا نام ہٹایا جائے اورحتمی فیصلے تک رجسٹرار سپریم کورٹ کے ڈیم فنڈز پر اختیار کو معطل کیا جائے ،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو طلب کیا جائے ،ثاقب نثار سے پوچھا جائے کس حیثیت میں عدلیہ کو غیرمتعلقہ کام میں ملوث کیا

  • ڈیم فنڈ جب اکٹھا ہو رہا تھا تب آپ نے کیوں اعتراض نہیں کیا؟ عدالت کے ریمارکس

    ڈیم فنڈ جب اکٹھا ہو رہا تھا تب آپ نے کیوں اعتراض نہیں کیا؟ عدالت کے ریمارکس

    اسلام آباد ہائیکورٹ، ڈیم فنڈ پر سپریم کورٹ کے اختیارات کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا .اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی،وکیل عدنان اقبال عدالت میں پیش ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوٹیفیکیشن پورا پڑھیں اس میں کیا ہے، وکیل عدنان اقبال نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ ہولڈرز پرانے رجسٹرار صاحب ہیں ، عدالت نے استفسار کیا کہ تو کیا ہوا اس میں ایشو کیا ہے ،وکیل نے کہا کہ ہم یہ چاہ رہے ہیں کہ ڈیم بنانا ایگزیکٹو کا کام ہے سپریم کورٹ کیسے دیکھ رہی ہے ،175 آرٹیکل کی خلاف ورزی ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ کہتے ہیں کہ جوڈیشری کے اکاؤنٹ میں پیسے نہ ہوں، ایسے تو پھر ہم بھی یہی کرتے ہیں ہمارے اکاؤنٹ میں بھی سیلری آتی ہے، وکیل عدنان اقبال نے کہا کہ سپریم کورٹ میں اتنے کیسز التوا میں ہیں انھیں دیکھنا چاہیئے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تو اس میں کیا ہے وہ تو انتظامی طور پر معاملہ ہورہا ہے ، سپریم کورٹ بھی ایگزیکٹو باڈی ہے یا تو آپ کہیں کہ وہ پیسہ اپنے گھروں میں لگا رہے ہیں، آپ نے اس وقت پٹیشن کیوں نہیں کی جب کلیکشن ہو رہی تھی ، ڈیم فنڈ جب اکٹھا ہو رہا تھا تب آپ نے کیوں اعتراض نہیں کیا؟ اب ڈیم فنڈز جمع ہوئے پانچ سال ہو چکے ہیں،ڈیم فنڈز پر اگر اعتراض ہوتا تو اسٹیٹ بینک کو ہوتا ،اسٹیٹ بینک کو کوئی اعتراض ہوتا تو اکاونٹ ہی نہ کھلتا ،وکیل درخواستگزار نے کہا کہ سپریم کورٹ کا اختیار نہیں کہ اس طرح فنڈز اکٹھے کرے،

    بھارتی آبی جارحیت،پاکستان کا پانی روکنے کے منصوبہ کی دی مودی سرکار نے منظوری

    دیامر بھاشا ڈیم منصوبے سے دشمن کو تکلیف ہو رہی ہے،فیصل واوڈا

    ڈیم مخالف ٹرینڈ ، بھارتی عزائم کا ٹرینڈ ہے ، بھارتی پراپیگنڈہ چند شرپسند عناصرپھیلا رہے ہیں‌، جویریہ صدیقی

    ڈیموں کے مخالفین پاکستان کے دشمن ہیں: سابق چیئرمین واپڈا انجینئر شمس الملک

    واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف ڈیم فنڈ کے حوالے سے درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دی گئی ہے ،درخواست عدنان اقبال کی جانب سے دائر کی گئی ہے ڈیم فنڈ پر چیف جسٹس کا اختیار ختم کرنے کیلیے درخواست دائرکی گئی ہے،،مقامی وکیل عدنان اقبال کی جانب سے درخواست دائر کر دی گئی نجی ٹی وی کے مطابق درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جتنی رقم ڈیم فنڈ میں جمع ہوئی اس سے زیادہ اس سرگرمی کی تشہیر پر لگی 13 ارب کی تشہیری مہم سے 10 ارب روپے حاصل کیے گئے ڈیم فنڈز کے اکاﺅنٹ ٹائٹل سے چیف جسٹس کا نام ہٹایا جائے اورحتمی فیصلے تک رجسٹرار سپریم کورٹ کے ڈیم فنڈز پر اختیار کو معطل کیا جائے ،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو طلب کیا جائے ،ثاقب نثار سے پوچھا جائے کس حیثیت میں عدلیہ کو غیرمتعلقہ کام میں ملوث کیا

  • پیپلز پارٹی کے ساتھ عدلیہ کا رویہ ٹھیک نہیں، سعید غنی

    پیپلز پارٹی کے ساتھ عدلیہ کا رویہ ٹھیک نہیں، سعید غنی

    سندھ کے صوبائی وزیر ، پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں تفریق ہے، کچھ ججز کسی کے عشق میں مبتلا ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ عمران خان جو کہیں وہ کیا جائے کچھ ججز حق پر ہیں

    سعید غنی نے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جوڈیشل مارشل لاء ہے، پیپلزپارٹی کے ساتھ عدلیہ کا رویہ ٹھیک نہیں، کئی مقدمات پر مختلف بینچز بنانے بنائے جاتے ہیں، قابل ترین ججز جن پر کوئی انگلی نہیں اٹھاتا وہ اہم بینچز میں نہیں بٹھائے جاتے، الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کے ماتحت نہیں، جوڈیشری کا آئین میں الگ چیپٹر ہے الیکشن کمیشن کا الگ اسٹیٹ بینک خود مختیار ادارہ ہے ،اس کو براہ راست پیسے دینے کے احکامات دیئے جارہے ہیں آئین بنانے کا اختیار پارلیمنٹ کو ہے ،سپریم کورٹ آئین کا ایک نقطہ خود نہیں بنا سکتی وہ آئین میں ترمیم کردیتی ہے،

    سعید غنی کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کا بنایا گیا بل جو ابھی قانون نہیں بنا اس پر عملدرآمد سپریم کورٹ کیسے روک سکتا ہے، کہتے ہیں اختیارات سے تجاوز کیا گیا ہے، چیف جسٹس اپنی مرضی سے ازخودنوٹس لے لیتا ہے،کئی اختیارات پر سب کو اعتراض ہے، ازخود نوٹس تین سینئرترین ججزملکر طے کریں گے، بینچز بھی مشاورت سے بنیں گے، عوامی مفادات کے لئے قانون سازی پارلیمنٹ کا حق ہے

     انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کیلئے دوبارہ بینچ تشکیل

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     ون مین شو چلایا جارہا ہے، عوام تسلیم نہیں کریگی 

    سندھ حکومت نے گوٹھوں کی لیزکے لئے کمیٹی بنائی ہے،

    ،پانی میں کرنٹ کے کوئی شواہد نہیں ملے،