Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سیاسی جماعتوں میں مذاکرات، پی ٹی آئی مایوسی کا شکار

    سیاسی جماعتوں میں مذاکرات، پی ٹی آئی مایوسی کا شکار

    وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن پر مسلم لیگ ن کی اعلی قیادت اور قانونی ماہرین سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، پارٹی ذرائع کے مطابق ملاقاتوں میں ملکی سیاسی و آئینی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا،شہباز شریف سے ملاقات کرنے والوں میں وفاقی وزرا خواجہ سعد رفیق ،سردار ایاز صادق، اعظم نذیر تارڑ، معاون خصوصی ملک احمد خان اور لیگی رہنما شزا فاطمہ شامل ہیں،سابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے بھی وزیراعظم شہباز شریف سے تفصیلی ملاقات کی ہے، ملاقات میں شہباز شریف نے لیگی قیادت و قانونی ماہرین سے سپریم کورٹ میں زیرسماعت ایک ہی دن انتخابات کروانے کے کیس سے متعلق تفصیلی مشاورت کی،

    سپریم کورٹ کے حکم پر سیاسی جماعتوں میں مذاکرات کا معاملہ ، حکومت کے نامزد نمائندوں نے تحریک انصاف سے رابطہ کیا ہے ،پہلے رابطے کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ، میڈیا رپورٹس کے مطابق ن لیگی رہنماؤں سردار ایاز صادق ،خواجہ سعدرفیق اوردیگر رہنماوں نے سابق سپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر سے رابطہ کیا، حکومتی نمائندوں نے اسد قیصر سے کہا کہ ہم آپ سے باضابطہ بات چیت کے لئے آفیشل رابطہ کررہے ہیں ، یہ رابطہ اس وقت کیا گیا جب سپریم کورٹ میں سماعت چل رہی تھی ،اسد قیصر نے حکومتی نمائندوں کے رابطے بارے پارٹی سیکرٹری جنرل اسد عمر کو آگاہ کردیا، اسد عمر کا کہنا تھا کہ رابطہ اچھی بات ہے حکومتی نمائندے سپریم کورٹ میں دوران سماعت اس سے آگاہ کردیں ،تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا کہنا تھا کہ مذاکرات کرنا اچھی بات ہے خوش آئند اقدام ہے ۔ہم اس بات کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن یہ بات عدالت کو بتا دیں

    دوسری جانب جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمن کی دھواں دار پریس کانفر نس ،اوراسکے بعد ن لیگی رہنما مریم نواز کے ٹویٹ کے بعد مذاکراتی ملاقات پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی ہے، پی ٹی آئی اور حکومتی نمائندوں کی کب ملاقات ہوگی تاحال حتمی طے نہ ہوسکا ،حکومتی اتحاد نے ابھی تک پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات کے لئے دن اور وقت طے نہیں کیا، پی ٹی آئی مایوسی کا شکار ہو چکی ہے ، عمران خان کو جب سے نکالا گیا تب سے انہوں نے فوری الیکشن کروانے کا مطالبہ کیا تھا مگر ایک برس بیت گیا ابھی تک الیکشن نہیں ہوئے اور نہ ہی کوئی امکان نظر آ رہے ہیں،ایسے میں سب کی نطریں سپریم کورٹ پر ہیں مگر حکومت ڈٹ گئی ہے اور حکومت نے آج عدالتی اصلاحات کا بل بھی باقاعدہ قانون بنا دیا ہے، ایسے میں تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا کہنا تھا کہ عدالت کو کیا بتانا تھا مریم نواز اور مولانا کا ردعمل سامنے آ گیا ۔یہ صرف اور صرف تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    امیرجماعت اسلامی سراج الحق بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،

    عمران خان کا مزاج کسی بھی طور پر سیاسی نہیں

    واضح رہے کہ عدالتی حکم کے بعد مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی قانون پاس کر چکی ہے ،عدالت کو پارلیمنٹ کے ایکٹ کا احترام کرنا ہوگا ہم انصاف کو مان سکتے مگر چیف جسٹس کے ہتھوڑے کو تسلیم نہیں کر سکتے ،عدالت اپنی پوزیشن واضح کرے کہ وہ عدالت ہے یا پنچائیت ہے ۔ اگر عمران خان کسی ایک تاریخ پر رضا مند ہے تو وہ تاریخ کورٹ کو قبول ہے یہ کیسی کورٹ ہے ۔ عدالت ہمیں جو دھونس دکھا رہی ہے وہ نہیں دکھا سکتی ۔ اسے پارلیمینٹ کا احترام کرنا ہوگا ۔

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور عمران خان کے اتحادی شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ نوازشریف شہبازشریف کے فون کے بعد فضل الرحمن نے پرتشدد اوردہشت گرد پریس کانفرنس کی۔ مندر کا ہتھوڑا بندوق کی نوک اور گینگ آف تھری کے سیاستدانوں کے الفاظوں کااستعمال مذاکرات نہیں بلکہ عدلیہ سے کھلی جنگ ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلےمیں سب کو پابند کر دیا ہےجو نہیں مانے گا وہ قانون کےشکنجے میں آئے گا ،باپ سپریم کورٹ کوخوش آئند بیٹا بندوق کی نوک کہتا ہےحکومت توہین عدالت میں نااہلی میں عدم اعتمادی میں اورآرٹیکل6 کے ریڈار میں آسکتی ہے۔سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے سپلیمنٹری گرانٹ کا مسترد ہوناحکومت پرعدم اعتماد ہےعدلیہ نے ہرقسم کے دباؤ کومسترد کرکے آئین اورقانون کا جھنڈا اٹھایا ہوا ہےعدلیہ ہی جیتے گی ،پاکستان کےدوست ممالک پاکستان میں سیاسی استحکام چاہتےہیں۔حکومت چیمبر کے اندراور عدالت میں پاؤں پڑتی ہے میڈیا میں ٹارزن بنتی ہے گلے پڑتی ہے۔ حکمران سامان باندھ لیں گاڑی چھوٹنے والی ہے ساری قوم عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہےعید کے بعد بڑی خبرآسکتی ہے نگران حکومتیں ختم ہوچکیں 14مئی کوصوبائی الیکشن ہونگے ،

  • عدالتی اصلاحات کا قانون، دیرینہ مطالبے کی تکمیل پرعید سے قبل عید مبارک، امان اللہ کنرانی

    عدالتی اصلاحات کا قانون، دیرینہ مطالبے کی تکمیل پرعید سے قبل عید مبارک، امان اللہ کنرانی

    سپریم کورٹ بار ایسوسی یشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعتہ الوداع المبارک کے روز پاکستان کی تاریخ کا ایک فیصلہ کُن قانون سازی کے بعد آج اس کا روبہ عمل و نافذ العمل ہونا پاکستان کی تکریم و انصاف کے حصول کی راہ میں ایک اہم سنگ میل ہے

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی کا کہنا تھا کہ ‏اس قانون سازی کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں، عوام و وکلاء کو انکے دیرینہ مطالبے کی تکمیل پر عید سے قبل عید کی مبارک، فسطائی دور کا خاتمہ، مشاورت پر اللہ تعالی کا باتھ کے تصور کی پزیرائی قوم و ملک کے لئے نیک شگون ہے،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے پرنٹنگ کارپوریشن کو گزٹ نوٹیفیکیشن کا حکم دے دیا ،صدر نے اس بل کو دوسری بار دستخط کے بغیر واپس بھجوا دیا تھا ،سپریم کورٹ نے اس پر عمل درآمد روک دیا تھا ،بل منظوری کے تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل اب قانون کی شکل میں نافذ ہوچکا ہے ۔

    عام انتخابات 2018؛ ثاقب نثار کے دباؤ پر عُجلت میں کرائے گئے تھے. امان اللہ کنرانی

    سینارٹی کے اصولوں سے ماورا 6 ججز کیخلاف موثر تحریک چلائی جائے. امان اللہ کنرانی

    اسٹیٹ بینک کو فنڈز کی فراہمی کا حکم پارلیمنٹ کی خود مُختاری کو روندنا ہے. امان اللہ کنرانی

    مرضی کے فیصلے بوٹ و بندوق کے احکامات کے ہم پلہ ہیں،امان اللہ کنرانی

    قانون سازی پر عجلت سے نوٹس لینا قابل مذمت ہے. امان اللہ کنرانی

    فائز عیسیٰ کا گولڈن جوبلی کے موقع پر پارلیمنٹ آنا لائق تحسین ہے. امان اللہ کنرانی

    چھ رکنی بینچ کا فیصلہ عدالتی بغاوت، بغض و عناد سے بھرپور ہے، امان اللہ کنرانی

  • عدالتی فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا

    عدالتی فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا

    حکومت کا پارلیمنٹ کی بالادستی پر سمجھوتے سے انکار ،عدالتی فیصلے کے باوجود سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل باقاعدہ قانون بن گیا

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے پرنٹنگ کارپوریشن کو گزٹ نوٹیفیکیشن کا حکم دے دیا ،صدر نے اس بل کو دوسری بار دستخط کے بغیر واپس بھجوا دیا تھا ،سپریم کورٹ نے اس پر عمل درآمد روک دیا تھا ،بل منظوری کے تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل اب قانون کی شکل میں نافذ ہوچکا ہے ۔

    سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحاتی بل پر تاحکم ثانی عمل درآمد روک دیا تھا ،عدالت عظمی نے ایکٹ کو بادی النظر میں عدلیہ کی آزادی اور اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا، عدالت نے تحریری حکمنامہ میں کہا تھا کہ صدر مملکت ایکٹ پر دستخط کریں یا نہ کریں، دونوں صورتوں میں یہ تا حکم ثانی نافذ العمل نہیں ہو گا،

    صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل دستخط کیئے بغیر پارلیمنٹ واپس بھجوا دیا تھا، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے بل منظور ہوا تھا، ایوان صدر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صدر علوی نے کہا کہ بل کی درستگی کا معاملہ عدالتی فورم کے سامنے زیر سماعت ہے. لہٰذا معاملہ زیر سماعت ہونے کے احترام میں بل پر مزید کارروائی مناسب نہیں۔ عدالتی اصلاحات سے متعلق یہ بل 10 اپریل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کثرت رائے سے ترامیم کے ساتھ منظور ہوا تھا۔

    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

  • اسمبلی قانون پاس کرچکی،عدالت کو پارلیمنٹ کے ایکٹ کا احترام کرنا ہوگا،مولانا فضل الرحمان

    اسمبلی قانون پاس کرچکی،عدالت کو پارلیمنٹ کے ایکٹ کا احترام کرنا ہوگا،مولانا فضل الرحمان

    سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عدالت کہہ رہی ہے کہ عمران خان سے بات کریں ، جس کو نااہل ہونا چاہیے تھا سپریم کورٹ اسے سیاست کا محور بنا رہی ہے

    مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی قانون پاس کر چکی ہے ،عدالت کو پارلیمنٹ کے ایکٹ کا احترام کرنا ہوگا ہم انصاف کو مان سکتے مگر چیف جسٹس کے ہتھوڑے کو تسلیم نہیں کر سکتے ،عدالت اپنی پوزیشن واضح کرے کہ وہ عدالت ہے یا پنچائیت ہے ۔ اگر عمران خان کسی ایک تاریخ پر رضا مند ہے تو وہ تاریخ کورٹ کو قبول ہے یہ کیسی کورٹ ہے ۔ عدالت ہمیں جو دھونس دکھا رہی ہے وہ نہیں دکھا سکتی ۔ اسے پارلیمینٹ کا احترام کرنا ہوگا ۔ پہلے ہمیں بندوق کے زور پر کہا جاتا تھا – اب ہتھوڑے کے زور پر کہا جا رہا ہے کہ بات کرو ہم ججز کا ہتھوڑا قبول نہیں کریں گے ،ایک شخص کی محبت میں آپ پاکستان کی انتہائی معزز کرسی پر بیٹھ کر ہماری سیاست کی توہین کررہے ہیں ۔ ہم عمران خان کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ ہم اس سے بات کریں ،اتحادیوں سے کہا بنچ پر پارلیمنٹ عدم اعتماد کرچکی ہے ،وزیر قانون اور اٹارنی جنرل ان کو بتا چکے ہیں کہ آپ پر اعتماد نہیں ، کیا اس بنچ کے سامنے پیش ہو کر یقین دہانیاں کراؤں ، آج عدالت کے سامنے پیش ہونے والے پارٹیوں نے پارلیمان کی توہین میں برابر کا حصہ ڈالا ہے سپریم کورٹ اپنے رویے میں لچک پیدا کرے عدالت نے خود جبر کا فیصلہ کیا اب ہم سے راستہ مانگ رہی ہے ہم کیوں راستہ دیں اپنا فیصلہ خود واپس لیں ،عمران خان کے ساتھ بات چیت نہیں ہو سکتی ،عمران خان نے جرائم کیے وہ نااہل ہیں ،انصاف کو تسلیم کریں گے

    قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف نے سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان کو ٹیلیفون کیا، مولانا فضل الرحمان نے وزیر اعظم کو اپنے مؤقف سے آگاہ کردیا ، اور کہا کہ جلد بازی کے بجائے عدالت سے عید کے بعد کا وقت لیا جائے ، پی ٹی آئی کی سب باتیں ماننی ہیں تو ہم کہاں کھڑے ہوں گے ،

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    امیرجماعت اسلامی سراج الحق بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،

    عمران خان کا مزاج کسی بھی طور پر سیاسی نہیں

  • جبر سےالیکشن مسلط کیا گیا تو وہ ون یونٹ ،قابل قبول نہیں ہوگا،سعید غنی

    جبر سےالیکشن مسلط کیا گیا تو وہ ون یونٹ ،قابل قبول نہیں ہوگا،سعید غنی

    سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا ہے کہ پنجاب میں جو جماعت اکثریت حاصل کرے گی، اس کا اثر چھوٹے صوبوں پر ہوگا،

    سعید غنی کا کہنا تھا کہ عدالتیں جب حالات کو دیکھ کر فیصلے کرتی ہیں، انہیں یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے،اگر الیکشن ہونا ہے تو پورے ملک میں ایک ساتھ الیکشن ہونا چاہیئے اگر جبر سے الیکشن مسلط کیا گیا تو وہ ون یونٹ ہوگا۔ یہ سندھ کے لوگوں کو قابل قبول نہیں ہوگا، سندھ اور بلوچستان کے لوگوں کی آواز کو سپریم کورٹ کے ججز کو سننا چاہیئے ،غیر متنازع ججز پر فل کورٹ تشکیل دیا جائے، اگر متنازع ججز اور چیف جسٹس کے ساتھ بیٹھ کر فیصلہ کریں گے، یہ تاثر کیوں ہے ملک میں جوڈیشل مارشل لاء ہے، الیکشن کمیشن عدلیہ کا ماتحت ادارہ نہیں ہے، چیف جسٹس نے اگر اسپیکر کو کہا ہے کہ پارلیمنٹ اچھے قوانین بنائے، کوئی جج اور پارلیمنٹ ایسا نہیں کہہ سکتا ہے،

    سعید غنی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن عدلیہ کا ماتحت ادارہ نہیں ہے، چیف جسٹس نے اگر اسپیکر کو کہا ہے کہ پارلیمنٹ اچھے قوانین بنائے، کوئی جج اور پارلیمنٹ ایسا نہیں کہہ سکتا ہے، سپریم کورٹ کو آئین کے تحت فیصلے کرنے کا اختیار ہے پنچائیت لگانے کا اختیار نہیں، میں سمجھتاہوں سپریم کورٹ کا اسرار کرنا کہ پنجاب میں انتخابات کروائے جائیں، ہمیں یہ منظور نہیں ،پنجاب کی قومی اسمبلی میں نشستیں اہمیت رکھتی ہیں، پنجاب میں کسی بھی جماعت کی حکومت بن جاتی ہے اس کے اثرات پڑیں گے،بلوچستان اور سندھ جب چاہتے ہیں کہ ملک میں انتخابات ایک دن ہی رکھے جائیں تو ضد کیوں، سپریم کورٹ میں بیٹھے ہوئے ججز کو ہمیں سننا پڑے گا ہرمسئلے کا حل فل کورٹ ہے،سیاستدانوں سے زیادہ معاملہ فہم کوئی نہیں ہوسکتا، ملک میں ہیجان اور بحران عدالتی فیصلے کی وجہ سے ہے سیاستدانوں کی وجہ سے نہیں،عمران خان کا مزاج کسی بھی طور پر سیاسی نہیں، اس نے ملک کو سیاسی اور معاشی طور پر ملک کو بحرانوں میں دھکیلا ہے،اگر کسی شخص کی سوچ یہ ہو تو ہم اس کو سیاستدان کیسے کہہ سکتے ہیں،

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    امیرجماعت اسلامی سراج الحق بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،

  • اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سےمزید وقت مانگ لیا

    اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سےمزید وقت مانگ لیا

    اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سےمزید وقت مانگ لیا ، اٹارنی جنرل نے درخواست کی کہ سیاسی قائدین کے درمیان مشاورت جاری ہے ،کچھ وقت مزید دیا جائے،

    سپریم کورٹ میں کیس کی دوبارہ سماعت چار بجے ہونی تھی،تا ہم ابھی تک دوبارہ سماعت شروع نہیں ہو سکی،

    قبل ازیں انتخابات ایک ہی روز کرانے سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی ،چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مولا کریم لمبی حکمت دے تا کہ صحیح فیصلے کر سکیں،ہمیں نیک لوگوں میں شامل کر اور ہمارے جانے کے بعد اچھے الفاظ میں یاد رکھا جائے،سراج الحق کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، آپ نے نیک کام شروع کیا اللہ اس میں برکت ڈالے عدالت اس نیک کام میں اپنا حصہ ڈالے گی،صف اول کی قیادت کا عدالت آنا اعزاز ہے،قوم میں اضطراب ہے،سیاسی قیادت مسئلہ حل کرے تو سکون ہو جائے گا،عدالت حکم دے تو پیچیدگیاں بنتی ہیں، سیاسی قائدین افہام و تفہیم سے مسلہ حل کریں تو برکت ہو گی

    اٹارنی جنرل عدالت کے سامنے پیش ہوئے،شاہ خاور نے عدالت میں کہا کہ بیشتر سیاسی جماعتوں کی قیادت عدالت میں موجود ہے مناسب ہو گا عدالت تمام قائدین کو سن لے، جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے الیکشن ایک ہی دن ہوں، چیف جسٹس عمر رطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی قائدین کا تشریف لانے پر مشکور ہوں،

    پی ٹی آئی کی جانب سے شاہ محمود قریشی عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ عدالت کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں، شاہ محمود قریشی نے عدالت میں کہا کہ عدالت کے ہر لفظ کا احترام کرتے ہیں ، ملک نے آئین کے مطابق ہی آگے بڑھنا ہے،ہمیشہ راستہ نکالنے اور آئین کے مطابق چلنے کی کوشش کی،قوم نے آپ کا فیصلہ قبول کیا ہے، دیکھتے ہیں کی حکومت کا کیا نقطہ نظر ہے، ہماری جماعت آئین کے تحفظ پر آپ کے ساتھ ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزارت دفاع کی بھی یہی استدعا ہے کہ الیکشن ایک دن میں ہوں، درخواست گزار بھی یہی کہہ رہا ہے کہ ایک ساتھ الیکشن ہوں، اٹارنی جنرل نے یہ نکتہ اٹھایا لیکن سیاست کی نظر ہوگیا،فاروق نائیک بھی چاہتے تھے لیکن بائیکاٹ ہوگیا،اخبار کے مطابق پیپلز پارٹی کے قائد بھی مذاکرات کو سراہتے ہیں،ن لیگ نے بھی مذاکرات کی تجویز کو سراہا ہے، آج 29 ویں رمضان ہے، ہمارے سامنے ایک بریفنگ دی گئی ، درخواست گزار بھی ایک ہی دن میں الیکشن چاہتے ہیں ،وزارت دفاع نے بھی بہت اچھی بریفنگ دی ،فاروق ایچ نائیک نے بھی کہا تھا کہ ایک ساتھ انتحابات ہوں،آصف زرداری کے مشکور ہیں انھوں نے ہماری تجویز سے اتفاق کیا،

    پیپلز پارٹی کی جانب سے وکیل فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے،اور کہا کہ خواجہ سعد رفیق، قمر زمان کائرہ، طارق بشیر چیمہ بھی آئے ہیں،ایم کیو ایم سے صابر قائم خانی، ایاز صادق اور بی این ہی بھی موجود ہیں،حکومتی سیاسی اتحاد کا مشترکہ مؤقف ہے کہ 90 دن میں انتخابات کا وقت گزر چکا ہے، عدالت دو مرتبہ 90دن سے تاریخ آگے بڑھا چکی ہے ،سیاسی جماعتیں پہلے ہی ایک ساتھ انتخابات کام شروع کر چکی ہے ،بلاول بھٹو نے اسی سلسلے میں مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی، عید کے فوری بعد سیاسی ڈاٸیلاگ حکومتی اتحاد کے اندر مکمل کرینگے،پی ٹی آٸی سے پھر مذاکرات کرینگے تاکہ ہیجانی کیفیت کا خاتمہ ہو ،ہماری کوشش ہوگی کہ ان ڈاٸیلاگ سے سیاسی اتفاق رائے پیداہو ،الیکشن جتنی جلدی مکمن ہو ایک ہی دن ہونے چاہیے ، ہم چاہتے ہیں کسی ادارے کی مداخلت کے بغیر الیکشن ہونے چاہیں،

    ن لیگی رہنما، خواجہ سعد رفیق نے عدالت میں کہا کہ ہم قیادت کے مشورے کے آپ کے سامنے آئے ہیں، ملک میں انتشار اور اضطراب نہیں ہونا چاھیے، یقین رکھتے ہیں کہ ایک ہی دن الیکشن ہونے چاھیے، ہم مقابلے پر نہیں مکالمے پر یقین رکھتے ہیں، ہم سیاسی لوگوں کو مزاکرات کے ذریعے حل نکالنا چاھیے ہم نے عید کے بعد اتحادیوں کا اجلاسں بلایا ہے، اپوزیشن کے ساتھ بات کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ریاستی اداروں کا وقت ضائع کرنے کی بجائے سیاست دانوں کو خود بات کرنی چاہیئے، عدالت میں بھی اپوزیشن کے ساتھ بغلگیر ہوئے ہیں، میڈیا پر ہونے والے جھگڑے اتنے سنگین نہیں ہوتے جتنے لگتے ہیں،

    ایاز صادق بی این پی منگل کی نمائندگی کے لئے روسٹرم پر آگئے ،اور کہا کہ بی این پی والے چاغی میں تھے اس لیئے مجھے پیش ہونے کا کہا گیا، پی ٹی آئی سے ذاتی حیثیت میں رابطہ رہتا ہے آئندہ بھی رہے گا،

    پیپلز پارٹی کی جانب سے قمر ذمان کائرہ پیش ہوئے اور کہا کہ خواجہ سعد رفیق کی گفتگو سے مکمل اتفاق کرتا ہوں تلخی بہت زیادہ ہے، وجوہات سے پورا ملک آگاہ ہے، بطور سیاسی جماعت حکومتی اتحادی سے پہلے بات کا آغاز کیا، جب ملک میں تلخیاں بڑھیں تو بیٹھ کر سیاسی قوتوں کو حل نکالنا پڑا، پیپلز پارٹی کی جانب سے عدالت کا مشکور ہوں، کوشش ہے کہ جلد از جلد انتخابات پر اتفاقِ رائے ہوجائے، عدالت اور قوم کو یقین دہانی کراتے ہیں ملک کیلئے بہتر فیصلے کریں گے،

    طارق بشیر چیمہ بھی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ چوہدری شجاعت حسین نے عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا، مجھے چوہدری شجاعت نے پیش ہونے کا حکم دیا تھا، پہلے دن سے مزاکرت کا عمل شروع ہو ، ملک میں ایک دن میں الیکشن ہونا چاہیئے۔ یہ بہت سے اختلافات کو ختم کردیگا ،یقین دلاتا ہوں کہ ایک دن الیکشن کرانے کی سپورٹ کرتے ہیں ، آپ فیصلہ کرینگے تو اس پر تنقید ہوسکتی ہے لیکن اگر ہم کرینگے تو پھر سب کے لئے بہتر ہوگا ، عدالت کا فیصلہ کسی کو اچھا لگے گا کسی کو برا، سیاسی قائدین کا مشترکہ فیصلہ قوم کو قبول ہوگا،

    شاہ محمود قریشی روسٹرم پر آگئے۔ اور کہا کہ کسی کی خواہش کا نہیں آئین کا تابع ہوں، سپریم کورٹ نے انتخابات کے حوالے سے فیصلہ دیا، عدالتی فیصلے پر عملدرآمد میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، عدالت نے بردباری اور تحمل کا مظاہرہ اور ائین کا تحفظ کیا تلخی کی بجائے اگے بڑھنے کیلئے آئے ہیں، سیاسی قوتوں نے ملکر ملک کو دلدل سے نکالنا ہے،پارٹی کا نقطہ نظر ہیش کرچکا ہوں، ایک سیاسی پہلو ہے دوسرا قانونی،آئین 90 روز کے اندر انتخابات کرانے کے حوالے سے واضح ہے،مذاکرات سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے ، مذاکرات آئین سے بالا نہیں ہو سکتے ،عدالت نے زمینی حقائق کے مطابق 14 مئی کی تاریخ دی ،مذاکرات تو کئی ماہ اور سال چل سکتے ہیں، حکومت کا یہ تاخیری حربہ تو نہیں ہے۔ اعتماد کا فقدان ہے ،حکومت اپنی تجاویز دے جائزہ لیں گے ، عمران خان کی طرف سے کہتے ہیں کہ راستہ نکالنے کی کوشش کریں گے ، عدالت نے 27 اپریل تک فنڈز فراہمی کا حکم دیا ، عدالتی حکم پر پہلے بھی فنڈز ریلیز نہیں کیئے گئے، پارلیمنٹ کی قرارداد آئین سے بالاتر نہیں ہوسکتی، مناسب تجاویز دی گئیں تو راستہ نکالیں گے، انتشار چاہتے ہیں نہ ہی آئین کا انکار،

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    امیرجماعت اسلامی سراج الحق بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،

    سعد رفیق دوبارہ روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ عدالت کو ڈیبیٹ کلب نہیں بنانا چاہتے، مل بیٹھیں گے تو سوال جواب کریں گے، عدلیہ اور ملک کے لیے جیلیں کاٹی ہیں ماریں بھی کھائی ہیں، آئینی مدت سے ایک دن بھی زیادہ رہنے کے قائل نہیں ہیں ،۔قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ عدالت میں ٹاک شو یا مکالمہ نہیں کرنا چاہتے۔ ملک میں ایک ساتھ بھی الیکشن ہوئے اور مقررہ تاریخ سے اگے بھی گئے آئین بنانے والے اسکے محافظ ہیں ، آئین سے باہر جانے والوں کے سامنے کھڑے ہیں ،قمر الزمان کائرہ نے عدالت میں کہا کہ تلخ باتیں یہاں کرنا بہتر نہیں،شاہ محمود قریشی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ جواب الجواب ہم بھی دے سکتے ہیں

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے عدالت میں کہا کہ قوم عدالتی فیصلوں کو سلام پیش کرتی ہے۔عدالت کا فیصلہ پوری قوم کا فیصلہ ہوگا۔ یہ نہ ہو مذاکرات میں چھوٹی اور بڑی عید اکھٹی ہوجائے۔سیاستدان مذاکرات کا مخالف نہیں ہوتا۔ لیکن مذاکرات با معنی ہونے چاہیں ایک قابل احترام شخصیت نے آج بائیکاٹ کیا ہے ،

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے سپریم کورٹ میں کہا کہ قوم کی جانب سے عدالت کا مشکور ہوں کل پاک افغان بارڈر پر تھا، پوری رات سفر کر کے عدالت پہنچا ہوں، قرآن کریم کی تلاوت سے عدالتی کاروائی کا آغاز کرنے پر مشکور ہوں، اللہ کا حکم ہے اجتماعی معاملات میں مذاکرات کرو، اللہ کا حکم ہے یکسوئی ہوجائے تو اللہ پر اعتماد کرو، مذاکرات کرنا آپشن نہیں اللہ کا حکم ہے ، آئین اتفاق رائے کی بنیاد پر وجود میں ایا ہے، آج بھی آئین ملک کو بچا سکتا ہے، آئین کی حفاظت کرنا ملک کی حفاظت کرنا یے،دنیا کا منظر نامہ تبدیل ہو چکا ہے، 1977 میں نتائج تسلیم نہیں کیے گئے اور احتجاج شروع ہوگیا، 1977 میں سعودی سفیر اور امریکی سفیر نے مذاکرات کی کوشش کی تھی،مذاکرات ناکام ہوئے تو مارشل لاء لگ گیا، 90 کی دہائی میں ن لیگ اور پی پی پی کی لڑائی سے مارشل لاء لگا، آج ہمیں اسی منظر نامے کا سامنا ہے،امریکہ ایران اور سعودی عرب اب پاکستان میں دلچسپی نہیں لے رہے،اپنا گھر خود سیاستدانوں نے ٹھیک کرنا ہے، نیلسن منڈیلا کیساتھ ڈیکلار نے تیس سال لڑائی کے بعد مذاکرات کیے گئے ، نیلسن منڈیلا نے اپنے ایک بیٹے کا نام ڈیکلار رکھا ،پاکستان جہموری جدوجہد کے نتیجے میں بنا کسی جنرل نے نہیں بنایا ،آمریت نہ ہوتی تو ملک نہ ڈوبنا ، خیبر پختونخواہ میں کسی نے پی ٹی آئی سے استعفی دینے کا مطالبہ نہیں کیا تھا ، دونوں صوبوں کی اسمبلیاں تحلیل کرنے پر عوام حیران ہے ، خیبر پختون خواہ والوں نے خلاف روایت دوسری مرتبہ پی ٹی آئی کو ووٹ دیا

    سراج الحق نے سپریم کورٹ میں اپنے موقف میں کہا کہ میں نے وزیراعظم اور عمران خان سے ملاقات کی،مسائل کا حل صرف الیکشن ہیں، اور کوئی راستہ نہیں، عمران خان کو کہا نہیں چاہتا ملک میں 10 سال مارشل لاء لگے،عمران خان نے کہا میری عمر اس سے زیادہ نہیں، میں بھی یہ نہیں چاہتا، کسی کی ذاتی خواہش پر الیکشن نہیں ہوسکتے،90 دن سے الیکشن 105 دن پر آ گئے، اگر 105 دن ہوسکتے ہیں تو 205 دن بھی ہوسکتے ہیں، میڈیا نے پوچھا کیا آپ کو اسٹیبلشمنٹ نے اشارہ کیا ہے، میرا مؤقف ہے عدلیہ، افواج اور الیکشن کمیشن کو سیاست سے دور ہونا چاہیے، ہر کسی کو اپنے مؤقف سے ایک قدم ہیچھے ہٹنا ہوگا، مسائل کی وجہ یہ ہے کہ عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کمیشن غیر سیاسی نہیں ہوئے،سیاسی جماعتیں کبھی الیکشن سے نہیں بھاگتیں، ہمارا موقف کبھی ایک کو اچھا لگتا ہے کبھی دوسری جماعت کو،سیاسی لڑائی کا نقصان عوام کو ہے جو ٹرکوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ،ایک کلو آٹے کے لیے لوگ محتاج ہیں، ایک من آٹے کی قیمت 6500 ہو گئی ہےلوگوں کے چہرے سے مسکراہٹ ختم ہو چکی ہے ہمیں نگران حکومتوں نے ڈسا ہے تو منتخب حکومت کیسے شفاف انتخابات کرا سکتی ہے؟

    سراج الحق نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ پنجاب کے رہنے والے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پشتو میں جواب دیا کہ پشتو سمجھتا ہوں، ہم پر لیبل نہ لگائیں، ہم پاکستانی ہیں، سراج الحق نے عدالت میں کہا کہ گندم کی کٹائی اور حج کا سیزن گزرنے دیا جائے، بڑی عید کے بعد مناسب تاریخ پر الیکشن ہونا مناسب ہوگا، عدالت یہ معاملہ سیاست دانوں پر چھوڑے اور خود کو سرخرو کرے،عدالت پنجاب میں الیکشن کا شیڈول دے چکی ہے،

    عمران خان کے وکیل سلیمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ عید کی چھٹیوں میں ذمان پارک میں آپریشن کا خطرہ ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کاروائی میں آپریشن کا معاملہ نہیں دیکھ سکتے،اپ نے متعلقہ عدالت سے رجوع کر رکھا ہے، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہائیکورٹ نے تاحال حکم جاری نہیں کیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ کا حکم آ جائے گا، ایک تجویز ہے کہ عدالت کاروائی آج ختم کردے، تمام سیاسی قائدین نے آج آئین کی پاسداری کا اعادہ کیا ہے،آئین پر نہیں چلیں گے تو کئی موڑ آجائیں گے،آئین کے آرٹیکل 254 کی تشریح کبھی نہیں کی گئی، آرٹیکل 254 کے تحت تاریخ نہ بڑھائی جائے اس لیے اس کی تشریح نہیں کی گئی،
    الیکشن کمیشن نے غلط فیصلہ کیا جس پر عدالت نے حکم جاری کیا،13 دن کی تاخیر ہوئی تب عدالت نے حکم دیا، الیکشن کمیشن شیڈول میں تبدیلی کے لیے بااختیار ہے، پولنگ کا دن تبدیل کیے بغیر الیکشن کمیشن شیڈول تبدیل کر سکتا ہے، الیکشن کمیشن رجوع کرے عدالت مؤقف سن لے گی

    سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں کو ڈیڑھ گھنٹے کا وقت دے دیا، عدالت نے عید کے بعد کا وقت دینے کی استدعا مسترد کر دی اور سیاسی جماعتوں کو فوری طور پر بیٹھنے کا حکم دے دیا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں الیکشن کی تاریخ 14 مئی ہے، 1970 اور 71 کے نتائج سب کے سامنے ہیں، عدالت آئین اور قانون کی پابند ہے، سراج الحق، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے کوشش کی ہے،بعد میں پی ٹی آئی نے بھی ایک ساتھ انتخابات کی بات کی ہے، ان کیمرہ بریفنگ دی گئی لیکن عدالت فیصلہ دے چکی تھی، حکومت کی شاید سیاسی ترجیح کوئی اور تھی، ہم 14 مئی کا فیصلہ واپس نہیں لے رہے ، 14 مئی کی تاریخ برقرار ہے اور رہے گی ،یاد رکھنا چاہیئے کہ عدالتی فیصلہ موجود ہے، یقین ہے کہ کوئی رکن اسمبلی عدالتی فیصلے کے خلاف نہیں جانا چاہتا، آج کسی سیاسی لیڈر نے فیصلے کو غلط نہیں کہا، مذاکرات میں ہٹ دھرمی نہیں ہو سکتی ،دو طرفہ لین دین سے مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں، گزارش ہو گی کہ پارٹی سربراہان عید کے بعد نہیں آج بیٹھیں، جولائی میں بڑی عید ہو گی اس کے بعد الیکشن ہو سکتے ہیں،عید کے بعد انتخابات کی تجویز سراج الحق کی ہے

  • ایک ساتھ انتخابات کرانے کی درخواست،سیاسی رہنما پہنچے سپریم کورٹ

    ایک ساتھ انتخابات کرانے کی درخواست،سیاسی رہنما پہنچے سپریم کورٹ

    ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کرانے کی درخواست پرسپریم کورٹ میں سماعت آج ہوگی،سیاسی جماعتوں کے قائدین سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں،

    وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڈ, ایاز صادق اور طارق بشیر چیمہ بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی عطاء تاررڈ اور پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک سپریم کورٹ پہنچ گئے ،بڑی تعداد میں وکلاء بھی موجود ہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سماعت کرے گا۔تمام سیاسی جماعتوں کو آج کی سماعت کے لیئے نوٹس جاری کیئے گئے تھے

    وفاقی وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اظہار یکجہتی کے طور پر آیا ہوں،سیاسی لوگ ہیں جن کے اپنے کچھ تحفظات ہیں مذاکرات سے کبھی پیچھے ہٹے ہیں نہ ہٹنا ہے،

    وفاقی وزیر پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ کوئی سیاسی جماعت بھی مذاکرات سے مسائل کے حل کیخلاف نہیں،صبروتحمل سے ایک دوسرے کی بات سن کر آگے بڑھناہوگا،ہم نے مذاکرات کی بات کی ،عمران خان نے جارحانہ انداز اپنایا،سیاسی جماعتوں نے مل بیٹھ کر بڑے بڑے مسائل حل کیے ہیں، ہم پیپلز پارٹی والے عدالتوں کا احترام کرتے ہیں، پیپلز پارٹی نے موجودہ حدت کو کم کرنے کے لئے کوشاں ہے، سیاست میں کبھی سونامی اور جنون کے الفاظ استعمال کیا جارہا ہے،

    امیرجماعت اسلامی سراج الحق بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے، سراج الحق نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی افراتفری اور آئینی بحران کی وجہ سے ہماری معیشت خراب ہو رہی ہے،سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے اداروں سمیت غریب آدمی پر برا اثر پڑ رہا ہے،لوگوں کے پاس کھانے کے ذرائع ختم ہوگئے ہیں ،سیاست دانوں کی آپس کی لڑائی سے عوام متاثر ہورہی ہے الیکشن کسی ایک سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں ہے،ہم سب اس کے اسٹیک ہولڈرز ہیں،ہم ایک ایسی تاریخ چاہتے ہیں جو سب کے لیے قابل قبول ہو،مخلصانہ تجویز دیتے ہیں کہ مرکز اور صوبوں میں نگران حکومتیں قائم ہوں، سیاسی جماعتیں مل کر تاریخ طے کریں

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

     

  • سپریم کورٹ نےآڈٹ نہ ہونے کی خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دے دیا

    سپریم کورٹ نےآڈٹ نہ ہونے کی خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دے دیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے 10 سال سے آڈٹ نہ ہونے کی خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی: ترجمان سپریم کورٹ نے وضاحت دی کہ سپریم کورٹ کا جون 2021 تک آڈٹ مکمل ہوچکا ہے اور اب سپریم کورٹ کا 2021 سے 2022 کے آڈٹ کا عمل جاری ہے،سپریم کورٹ کے آڈٹ سے متعلق آڈیٹر جنرل پاکستان سے تصدیق کی جاسکتی ہے، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو دی گئی معلومات درست نہیں ہیں۔

    بلاول بھٹو،مولانا فضل الرحمان کو پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے منانے انکے گاؤں پہنچ گئے

    واضح رہے کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی نے سپریم کورٹ کے آڈٹ سے متعلق رجسٹرار کو طلب کیا تھا چیئرمین پی اے سی کا کہنا ہے کہ دس سال سے سپریم کورٹ اپنے حسابات کا آڈٹ نہیں کروا رہی پی اے سی نے ایڈمنسٹریٹر گن اینڈ کنٹری کلب نعیم بخاری کو فوری عہدے سے ہٹانے اور تمام مراعات واپس لینے کی ہدایت کی تھی-

    چیئرمین پی اے سی نور عالم خان نے کہاتھا کہ سپریم کورٹ کو کیا اختیار حاصل ہے کہ ایڈمنسٹریٹر مقرر کرے۔ پی اے سی نے سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر ایڈمنسٹریٹر گن اینڈ کنٹری کلب کو فوری ہٹانے ، نعیم بخاری سے تمام مراعات واپس لینے کی سفارش کر دی۔

    ملک میں آئندہ ماہ مئی میں معمول سے زیادہ بارشوں کا امکان

    پی اے سی نے ایف آئی اے اور نیب حکام کو انکوائری کیلئے گن اینڈ کنٹری کلب جانے کی ہدایت کی تھی کہا تھا کہ نیب اور ایف آئی اے آڈٹ حکام کے ساتھ گن اینڈ کنٹری کلب جائیں اور دیکھیں کیسے ریکارڈ فراہم نہیں کیا جاتا۔ پی اے سی نے کلب کا مالیاتی ریکارڈ حاصل کرنے کی ہدایت کر دی۔

    نور عالم خان نے کہا تھا کہ میں کسی سے نہیں ڈرتا، پی اے سی نے سی ڈی اے سے ججز، ارکان پارلیمنٹ، وفاقی کابینہ ارکان، قومی اسمبلی، سینیٹ اسٹاف کو ملنے والے پلاٹوں کی تفصیلات طلب کی تھیں پی اے سی نے پلاٹوں کی تفصیلات نہ بھجوانے پر چیئرمین سی ڈی اے کی سرزنش کی۔

    مفتی عبدالشکور کے معاملے پرپی ٹی آئی غلیظ اور گندی مہم چلارہی ہے،وزیر اطلاعات

    نور عالم خان نے کہا تھا کہ پی اے سی نے ون کانسٹی ٹیوشن ایوینیو کے اپارٹمنٹ مالکان کی فہرست اور منی ٹریل مانگی تھی۔ بتائیں کہ کونسے بیوروکریٹس، ججز، اور سیاست دانوں نے ون کانسٹیٹیوشن ایوینیو میں اپارٹمنٹ خریدےیہ بھی پتا کریں ان کےپاس اپارٹمنٹ خریدنے کے پیسے کہاں سے آئے۔

  • دسمبر 1971 میں پاکستان اچانک نہیں ٹوٹا بیج بوئے گئے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    دسمبر 1971 میں پاکستان اچانک نہیں ٹوٹا بیج بوئے گئے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    آئین پاکستان، قومی وحدت کی علامت، جسسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آئین پاکستان کی 50ویں سالگرہ منارہے ہیں،آزادی حاصل کرنے کے بعد سب سے زیادہ ضرورت آئین کی تھی،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ یہ میرے لیے کتاب نہیں ،اس میں لوگوں کے حقوق ہیں،آئین پاکستان کے لوگوں کے لیے ہے،1947میں دنیا میں پہلی اسلامی ریاست وجود میں آئیہم اس آئین کی تشریح کرسکتے ہیں،قائداعظم ہرکونے کونے میں گئے اوربھرپور جدوجہد کے بعدپاکستان قائم ہوتاہے،آئین کو اس طرح پیش نہیں کیا گیا جس کا وہ مستحق تھا دسمبر 1971 میں پاکستان ٹوٹ گیا، اچانک نہیں ٹوٹا بیج بوئے گئے، جسٹس منیر نے پاکستان توڑنے کا بیج بویا تھا.فیڈرل کورٹ میں جسٹس منیر نے پاکستان ٹوٹنے کا بیج بویا اور جو بیج بویا گیا اس نے ملک کے 2 ٹکڑے کردیئے ،تمام قوتوں کے باوجود ناانصافیاں زیادہ دیر تک نہیں ٹھہرتی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا میں نوجوانوں سے مخاطب ہوں، 1977 میں الیکشن ہوتے ہیں اور پھر کہا جاتا ہے کہ یہ صاف شفاف نہیں تھے، اسکے بعد ایک الائنس بنا تھا،ایک طرف الزامات لگائے جا رہے تھے کہ الیکشن منصفانہ نہیں تھے، اسکے باوجود دونوں مخالفین ٹیبل پر بیٹھے، تاریخ اس بات کی گواہ ہے، کہ ان کا معاہدہ ہو چکا تھا دستخط کی دیر تھی کہ ایک اور شخص نے پھر وار کیا جمہوریت پر، آئین پر، یہ چار جولائی 1977 کا دن تھا، ایک شخص پوری قوم پر مسلط ہو گیا،اور 11 سال حکومت کی اگست 1988 تک اور پھر وہ ایک جہاز کے حادثے میں وفات پا گیا، اس سے پہلے عدالتوں میں کیسز آئے، چیلنج ہوئے ، بھٹو کو سزائے موت دی گئی، ریفرنڈم میں جب بھی کسی ڈکٹیٹر نے کروایا تو اسکا ریزلٹ 98 فیصد ہوتا ہے، پولنگ بوتھ خالی ہوتے ہیں لیکن پھر بھی نتائج 98 فیصد، لیکن جب الیکشن ہوتے ہیں جلسے، لمبی لائنیں، انتخابی مہم لیکن نتائج 60 فیصد سے اوپر نہیں جاتے، غور کریں یہ نتیجہ کیسے نکل آتا ہے،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ غلط اقدامات کو سراہتی چلی گئی جس پر مجھے شرمندگی ہوتی ہے، 99 میں ایک اورسرکاری ملازم نے ٹیک اوور کر لیا، پھر کیا ہوا وہ سب کے سامنے ہے، زیادہ پرانی باتیں نہیں، انہوں نے دو بار وار کیا، ایک 99 میں اور دوسرا 2007 میں، جب ایمرجنسی نافذ کی ، جس کو تکلیف ہوتی ہے وہ عدالت پر دستک دیتا ہے لیکن ایک کیس رونما ہوا، عجیب سا کیس تھا، اگر کوئی فیصلہ غلط ہے تو وہ غلط ہی رہے گا چاہے سب جج فیصلہ کرلیں، بھاری دل اور تکلیف کے ساتھ مجھے یہ بات ماننی پڑ رہی ہے اور کسی انکار کی گنجائش بھی نہیں کہ میرے ادارے کا ماضی پہلے دن سے آج تک داغدار ہے میری پاس اپنے ادارے کی ایک بھی درخشاں روایت نہیں جسے فخر سے بیان کر سکوں ہم نے ہر آمر کا ساتھ دیا اور جمہوریت کے خلاف استعمال ہوئے۔ ازخود نوٹس کا اختیار صرف سپریم کورٹ کو ہے، 184 تین کے تحت سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ بن جاتی ہے۔ جب سے سپریم کورٹ کا جج بنا کبھی اپنی پسند اور ناپسند کا اظہار نہیں کیا۔ ازخود نوٹس کے استعمال سے متعلق قدم پھونک پھونک کر رکھنا چاہئے، شق 184 تین صرف مظلوموں کیلئے ہے، کسی کو فائدہ دینے کیلئے نہیں۔ اس شق کے تحت چیف جسٹس سمیت تمام ججز کو مشترکہ فیصلہ کرنا چاہئے۔ نمبر گیم سے سچ جھوٹ اور جھوٹ سچ میں تبدیل نہیں ہو سکتا۔ ہر عدالت سے مختلف آراء سامنے آتی ہیں، سب کی رائے کا احترام کرنا چاہئے

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف کیورواٹیو ریویو،اٹارنی جنرل چیف جسٹس کے چمبر میں پیش 

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

  • سائل عمران خان کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا،عدالتی فیصلہ

    سائل عمران خان کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا،عدالتی فیصلہ

    لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا

    عدالت نے فیصلے میں کہا کہ پنجاب حکومت کے وکیل کے بیان کی روشنی میں کیس کی سماعت تک سائل کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا ۔لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کو ہراساں کرنے سے بھی روک دیا ۔لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی درخواست پر جلد سماعت کی استدعا مسترد کر دی ، فیصلے میں عدالت نے کہا کہ مرکزی درخواست دو مئی کو سماعت کے لیے مقرر ہے ۔ اس لیے جلد سماعت کی ضرورت نہیں

    لاہور ہائیکورٹ، زمان پارک ممکنہ آپریشن روکنے،140 مقدمات اور انکوائریوں میں طلبی کے نوٹسزکا معاملہ ،جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں ہانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی،جسٹس طارق سلیم شیح جسٹس عالیہ نیلم جسٹس امجد رفیق جسٹس انورالحق پنوں بنچ کا حصہ ہیں

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان عدالت میں پیش ہوئے، شبلی فراز بھی انکے ہمراہ تھے، عمران خان سخت سیکورٹی میں عدالت پیش ہوئے،وکیل سلمان صفدرنے عدالت میں دلائل دیئے،دوران سماعت عمران خان روسٹرم پر آگئے ،عمران خان کے وکیل سلمان صفدر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جو بنیادی حقوق ہیں انکی خلاف ورزی کی جا رہی ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ جو ایف آئی آر درج کی گئی ہیں انکے تعداد کیا صرف پنجاب کی حد تک ہیں،وکیل عمران خان نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ سے ہمیں صرف ضمانت کراتے ہو گئے ہیں مختلف مقدمات میں یہ انسانی طور پر ممکن ہی نہیں ہے کہ اتنے مقدمات میں پیش ہوا جائے ،میں یہ کہا رہا ہوں کہ صرف پانچ دنوں کے اندر انھیں روکا جائے کہ یہ گرفتاری کے لیے نہ آئیں، ہم چاہتے ہیں کہ عید کی ان چھٹیوں میں ہمیں صرف ریلیف دے دیں ،

    اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی جانب سے عمران خان کی درخواست کی مخالفت کی گئی اور کہا گیا کہ یہ کیا کسی قانون میں ہے کہ پولیس نے ابھی گرفتاری ڈالی ہی نہ ہو اور کہہ دیا جائے کہ ہمیں گرفتار کر لیا جائے گا،جو لاء انفورس منٹ ادارے ہیں وہ ہر ایک لیے ایک جیسے ہیں،وہ نتھو اور پتھو کے لیے ایک جیسے ہیں،کیا کوئی قانون سے بالا تر ہو سکتا ہے،
    یہ تو ابہام پر باتیں کر رہے ہیں کہ انھیں ممکنہ طور پر گرفتار کر لیا جائے گا،

    ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ درخواست گزار کی خواہش ہے کہ ان کےخلاف کاروائی کو روکا جائے۔سرکاری وکیل نے کہا کہ قانون کےتحت ایسی کسی کاروائی کو نہیں روکا جاسکتا۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے سامنے تو صرف حکم امتناعی کامعاملہ زیرغور ہے۔عید کا موقع ہے کیا عید گھر پر کرنے دیں گے یا نہیں۔ عدالت کے سوال پرکمرہ عدالت قہقہوں سے گونج اٹھا عدالت نے کہا کہ اگر درخواست گزار ضمانت پر ہے تو اسے تو ہاتھ بھی نہیں لگایا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی جے آئی ٹی ہے یا کوئی مقدمہ ہے تو بتائیں تاکہ وہ ضمانت کے لئے عدالت سے رجوع کرسکیں۔

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا تفتیش صرف عید پر ہی کرنی ہے یا اس سے پہلے یا بعد میں بھی ہوسکتی ہے۔عدالت کو واضح بتایا جائے کہ آپ کا ارادہ کیا ہے۔ سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ ہم قانون کےمطابق کام کریں گے۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت بھی یہی کہہ رہی ہے کہ قانون کے مطابق کاروائی ہونی چاہئیے۔ جسٹس انوار الحق پنو نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بتائیں کہ جی آئی ٹی ان کیسسز پر بنی ہوئی ہے،اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت میں کہا کہ جے آئی ٹی بڑے اہم کیسسز پر بنی ہوئی ہے،سرکاری وکیل نے کہا کہ یہ عید ہے انھوں نے وہاں ایریا کو کواڈن آف کر لیا ہوا ہے،انھوں نے الطاف حسین کی طرح سڑک کو نو گو ایریا بنا دیا ہوا ہے، انھوں نے وہاں قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیا ہوا ہے،ہم قانون کے مطابق کام کریں گے،ہم انھیں ان کیسسز میں کیوں گرفتار کرینگے جس میں انھوں نے ضمانت کرا رکھی ہے، وکیل عمران خان نے کہا کہ حلانکہ اسلامی رواداری بھی یہی ہے کہ انھیں عید کے اس مبارک موقع پر کوئی بدامنی نہ پھیلائے،جسٹس امجد رفیق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملزم کے بھاگنے کے بھی چانسز نہ ہو تو اس موقع پر قانون کے مطابق انویسٹی گیشن بھی روکی جا سکتی ہے

    سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ انہوں نے زمان پارک میں تجاوزات قائم کررکھی ہیں مقامی رہائشیوں کی زندگی متاثر ہورہی ہے ، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی طرف سے کچھ کیا گیا ہے تو عدالت کے علم میں یہ کہ ادھر سے بھی بہت کچھ کیا گیا۔ عدالت اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتی .

    عمران خان نے عدالت میں کہا کہ یہ قوم مجھے پچاس سال سے جانتی ہے، میں نے کبھی قانون سے ہٹ کر نہیں قدم اٹھایا، جو الیکشن کروانا چاہتے ہیں وہ انتشار کیوں چاہیں گے،انتشار تو وہ چاہے گے جو ان کی بنیاد پر بھاگ رہے ہیں، جسٹس طارق سلیم شیخ جو اس بنچ کا حصہ ہیں انھوں نے میرے گھر ہر حملے کا روکا تھا،لیکن پھر بھی انھوں نے حملہ کیا،جب میں اسلام آباد گیا تو انھوں نے 26 گھنٹے میرے گھر پر اٹیک کیا، مجھے تو اب کنفرم ہو گیا ہے کہ انھوں نے لازمی عید کے دنوں میں میرے گھر پر حملہ کرنا ہے، جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم ان سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ ان دنوں پانچ چھ دنوں میں کوئی ایسا اقدام کرینگے،عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نےکہا کہ ہم انتشار پھیلا رہے ہیں۔ہمارا تو فوکس ہے کہ انتخابات ہوں اسی لئے انتشار ہم نہیں چاہتے۔انتشار تو یہ پھیلا رہے ہیں پیسے نہ دے کر اور سکیورٹی فراہم نہ کرکے۔اسلام آباد جاتے ہی میرے گھر پر چھبیس گھنٹے حملہ کیاگیا۔ اگر ہم آپ کے پاس نہ آئیں تو کدھر جائیں گے۔ میں تو گھر میں ہی رہنا ہے اور کدھر جانا ہے۔اسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ انھوں نے 69 پولیس اہلکار اور چار ڈی ایس پیز کو شدید زخمی کیا ہے،سرکاری وکیل نے کہا کہ جو انھوں نے پیٹرول بم پھینکے اسکو تو ہر روز ٹی وی پر دیکھاتے ہیں،

    عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد عمران خان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا جو اب سنا دیا گیا ہے،

    علاوہ ازیں عمران خان کا ذاتی گارڈ کمرہ عدالت میں گر پڑا ،ساتھی گارڈز نے سہارا دے کر اٹھایا ،عمران خان نے گارڈ کی خیریت دریافت کی

    دوسری جانب عدالت میں عمران خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت عدالت کا فیصلہ نہیں مانتی اور آئین پر چلنے کو تیار نہیں ہوئی پھر قانون تو ختم ہوگیا پاکستان میں، ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ،اس کا مطلب آپ من پسند آئینی شقوں کو تسلیم کرتے ہیں، عمران خان میڈیا سے بات کر رہے تھے کہ انہیں عدالتی عملے نے میڈیا ٹاک سے منع کر دیا،

    دوسری جانب جوڈیشل کمپلیکس میں توڑ پھوڑ اور دیگر 8 آٹھ کیسز میں عمران خان کی ضمانت میں 3 مئی تک توسیع کر دی گئی، آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی گئی، عمران خان کے وکلا کے بقول لاہور ہائیکورٹ میں موجود ہونے کی وجہ سے آج اسلام آباد میں عمران خان پیش نہیں ہو سکے

    زمان پارک میں بجلی چوری؛ لیسکو نے انتظامیہ کو نوٹس جاری کردیا

     زمان پارک پر ایک بار پھر پولیس آپریشن کا خدشہ

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے