Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ کے حکم پر انتخابات کیلئے 21 ارب مختص کر دیے ہیں ،قائمقام گورنر اسٹیٹ بینک

    سپریم کورٹ کے حکم پر انتخابات کیلئے 21 ارب مختص کر دیے ہیں ،قائمقام گورنر اسٹیٹ بینک

    اسلام آباد: قائمقام گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ انتخابات کیلئے سپریم کورٹ کے حکم پر 21 ارب مختص کر دیے ہیں-

    باغی ٹی وی :سپریم کورٹ کی جانب سے گورنر اسٹیٹ بینک کو فنڈز کے اجرا کے حکم کے تناظر میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں وزیر مملکت برائے خزانہ، معاون خصوصی برائے خزانہ، وزارت خزانہ کے حکام شریک ہوئے۔

    نزول قرآن،شب قدر آج انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جائے گی

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی صدارت میں ہونے والی مشاورتی بیٹھک میں قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک، اسپیشل سیکرٹری خزانہ، چیئرمین خزانہ کمیٹی قیصر شیخ ، وزیر تجارت نوید قمر، وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا،اٹارنی جنرل، آڈیٹرجنرل آف پاکستان اکاؤنٹنٹ جنرل حکام شریک تھے۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے خصوصی اجلاس سے قبل ہونے والی مشاورت میں الیکشن کے لیے فنڈز کا اجرا روکنے کے حوالے سے قانونی نکات کا جائزہ لیا گیا اور مشاورت کی گئی کہ اسٹیٹ بینک کو فنڈز اجرا سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ معاملہ دوبارہ قومی اسمبلی کے پاس بھیجا جائےآئین پاکستان کہتا ہے کہ سپلیمنٹری گرانٹ کی ضرورت پڑے تو وفاقی حکومت اس کو پارلیمنٹ میں لے کر جائے آئین ہی سپریم ہے ،سپریم کورٹ ،وزیر اعظم ،کابینہ اور ہم سب نے آئین پر عمل کرنے کا حلف اٹھا رکھا ہے موجودہ بجٹ میں الیکشن کے پیسے نہیں رکھے گئے تھے-

    آزاد کشمیرمیں عمران خان کے خلاف بغاوت،فارورڈ بلاک قائم ،بیرسٹر سلطان محمود کے ن لیگ …

    اجلاس میں قائمقام گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ہم نے سپریم کورٹ کے حکم پر 21 ارب مختص کر دیے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم نے صرف مختص کیے ہیں ،ابھی جاری نہیں کیے-

    چیئرمین کمیٹی قیصر شیخ نے کہا کہ خزانہ کمیٹی نے سپریم کورٹ کے حکم کی خبروں پر سوموٹو لیا ہےآج فیصلہ کرنا ہو گا کہ آئین پاکستان کو پس پشت ڈال کر 21 ارب دیا جا سکتا ہے ؟اگر یہ بیوروکریٹس پیسے دے دیتے ہیں تو کیا کل کو یہ پیسہ ان بیوروکریٹس کی تنخواہوں سے ریکور کیا جائے گا ؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ پیسہ خرچ کرنے میں ریسک ہے ، اگر خرچ کرنے کے بعد قومی اسمبلی نے منظوری نہ دی تو یہ خلا کیسے پر ہوگا ؟ جب ایک قرار داد پہلے پاس ہو چکی ہے تو اس لیے بہتر ہے کہ بعد ازاں خرچ کرنے کے بجائے پہلے منظوری لی جائے-

    جوڈیشل کمپلیکس توڑ پھوڑ کیس: پی ٹی آئی رہنماؤں کی عبوری ضمانت میں توسیع

    رکن پارلیمنٹ برجیس طاہر نے کہا کہ 13 اپریل کو ہم نے دو گھنٹے بحث کے بعد متفقہ فیصلہ کیا تھا کہ پنجاب میں الگ الیکشن کرانا ملک کے لیےتباہ کن ہوگا ،ہم نے 13 اپریل کو جو فیصلہ کیا تھا ،اس کی نفی نہیں کر سکتے ،جب فیصلہ کر چکے ہیں تو اب آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں ؟سپریم کورٹ نے پہلے ہی 63 اے کا فیصلہ دے کر تباہی کی-

    برجیس طاہر نے کہا کہ سپریم کورٹ براہ راست اسٹیٹ بینک سے پیسے نہیں لے سکتی ،یہ کوئی مذاق ہے ؟یہ میٹنگ بلانے سے پہلے ہم سے مشاورت کی جانی چاہیے تھی ،جب ہم فیصلہ دے چکے تھے کہ پیسے نہیں دینے تو پھر پیسے دینے کا معاملہ ایجنڈے پر کیوں رکھا گیا ؟میں احتجاج کرتا ہوں-

    اپریل کی وہ رات جسے ماہرین فلکیات بہت زیادہ پسند کرتےہیں

    وزیر تجارت نوید قمر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وزارت خزانہ اورسٹیٹ بینک حکام کو توہین عدالت سے نہ ڈرائیں، پارلیمنٹ کو بھی اپنی توہین پر ایکشن کا اختیار ہے،پارلیمنٹ کو توہین کے ارتکاب پر کارروائی کا پورا اختیار ہے،ان کاکہناتھاکہ پارلیمنٹ سب سے سپریم ہے۔وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشانے کہاکہ قومی اسمبلی نے منظوری دی تو فنڈز جاری ہو جائیں گے،خزانہ ڈویژن بھی منظوری کے بغیر فنڈز استعمال نہیں کر سکتی۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ کی جانب سے گزشتہ ہفتے جاری کیے جانے والے حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ اسٹیٹ بینک پنجاب میں انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن کو براہ راست رقم جاری کرے، وزارت خزانہ نے بتایا ہے کہ 17 اپریل تک 21 ارب روپے الیکشن کمیشن کو دیےجائیں گے۔

    عدالت نے اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کو 18 اپریل تک فنڈز جاری کرنے سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے مزید کہا تھا کہ الیکشن کمیشن بھی 18 اپریل کو 21 ارب روپے فنڈز وصولی کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائے۔

  • سپریم کورٹ ہماری ریڈ لائن ہے اور14 اپریل کوالیکشن ہوکررہیں گے، شیخ رشید

    سپریم کورٹ ہماری ریڈ لائن ہے اور14 اپریل کوالیکشن ہوکررہیں گے، شیخ رشید

    راولپنڈی: عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ شہبازشریف توہین عدالت اور آرٹیکل 6 کی بارودی سرنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔

    باغی ٹی وی: سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ حکومت نے عید کی خوشیوں پر بھی 10 روپے کا پیٹرول بم گرا دیا ہے، اب مزید 39 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں۔

    جماعت اسلامی سےمذاکرات،عمران خان کی ہدایات پر پی ٹی آئی کی تین رکنی کمیٹی قائم


    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ شہبازشریف توہین عدالت اورآرٹیکل 6 کی بارودی سرنگ کی طرف بڑھ رہا ہے اگرایک دن میں انتخابات کرانے ہیں تو قومی اسمبلی توڑیں جیسے ہم نےصوبائی اسمبلیاں توڑیں ورنہ بحران انتہائی شدید گھمبیر ہوجائے گا لاہورکے سینئر وکلا نے کہہ دیاہےسپریم کورٹ ہماری ریڈ لائن ہے اور14 اپریل کوالیکشن ہوکررہیں گے-

    عمران خان کابینہ نے جعلی فراڈ مردم شماری کی منظوری دی،حافظ نعیم الرحمان

    شیخ رشید نے کہا کہ عید کی خوشیوں پ ربھی10روپے کا پیٹرول بم گرادیا ہے مزید 39 لاکھ افراد غربت کی لکیرسے نیچے چلے گئے ہیں اورزرمبادلہ کےذخائرایک ماہ کی درامدات کے لیے بھی پورے نہیں نہ بجلی گیس کابل نہ سکول میں داخلہ بلکہ عدلیہ کے ساتھ لڑائی ان کی دماغی توازن کی نشاندہی کرتی ہےالیکشن کروانےہوںگےورنہ فیصلہ سڑکوں پرہوگا-

    میں کسی کیلئےلابنگ نہیں کرتا،نہ ہی کسی کا ایجنٹ ہوں،زلمے خلیل زاد

    انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ہی کہہ چکےتھے کہ نواز شریف پاکستان نہیں آئے گا آئی ایم ایف سےاپریل میں بھی معادہ ہوتادیکھائی نہیں دیتاایک طرف گرفتاریاں دوسری طرف مذکرات کا بھونڈا مذاق ہے عدلیہ کودھوکہ دینے کی کوشیش کی گئی توعدلیہ اپنا آئینی اختیار استعمال کرے گی جوعوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں وہ عدلیہ کو للکار رہے ہیں-

  • جو عدالتی فیصلے پر عمل نہیں کرے گا وہ نااہل ہو جائے گا،اعتزاز احسن

    جو عدالتی فیصلے پر عمل نہیں کرے گا وہ نااہل ہو جائے گا،اعتزاز احسن

    سینئر قانون دان اعتزاز احسن نےلاہور میں وکلاء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہونا چاہیئے،

    اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے تو14 مئی کو الیکشن ہوں گے، جو عدالتی فیصلے پر عمل نہیں کرے گا وہ نااہل ہو جائے گا،سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے،یہ معاملہ انتہائی سنگین صورت حال اختیار کر چکا ہے اب اس ادرے کا مل کر کام کرنا ناممکن ہوگیا ہے ،اس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے ،عدلیہ اور پارلیمان میں ایک جنگ چھڑی ہوئی ہے، عدلیہ کے فیصلہ پر پارلیمانی تشریح کی جارہی ہیں،ہم جس چیز کو احساس نہیں کر رہے کہ ہم کونسی قوم ہیں، ہم اب اتنے برے قرضے میں پھنس چکے ہیں آنے والی چار نسلوں کی کمائی ہم نے کھا لی اور ڈکار بھی نہیں مارا،یہ قرضے ہماری نسلوں نے دینے ہیں جو ہم کھا چکے ہیں،بڑے بڑے ادارے ایک دوسرے کے دست و گریبان ہیں،اب ایسی باتیں ہورہی ہیں 5 رکنی بنچ تھا سات رکنی بنچ تھا یہ باتیں ہورہی تھی،انہوں نے کسی پر نہیں ماننا تھا،الیکشن کرو سارا معاملہ حل ہو جائیگا ،اصل مسلہ یہی ہیں اس سے دھیان تبدیل کرنے کے لیے یہاں وہاں کی باتیں کر رہے ہیں، ہمیں مل کریہ سوچنا ہےکہ کیا آئین اور قانون کی بالدستی ہونی ہے یا نہیں کور ایشو یہ ہے کہ کیاپنجاب اور کے پی میں انتخابات نوے دن میں ہونے ہیں یا نہیں ،

    سردار لطیف کھوسہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مملکت خداد میں ادارے ایک دوسرے سے متصادم ہیں قوم عجیب تذبذب میں مبتلا ہیں ہم نے سوچا مختلف طبقہ فکر کے لوگوں کو اکٹھا کر کے کچھ لائحہ عمل ترتیب دیں ہر ایک پاکستانی اس ملک کی ترقی چاہتا ہے آئین کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی میں پاکستان کی مضبوطی ہے

    خواجہ طارق رحیم نے گول میز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں لمبی بات نہیں کرنا چاہتا جو ٹاپک سے ہٹ کر ہو،اج آئین کی پاسداری نہیں کی جارہی ،پارلیمنٹ کو یہ حق نہیں کہ وہ ایسا قانون بنائے کہ وہ سپریم کورٹ میں دخل دے ،اج ہم وکلا آئین کی بلادستی کے لیے کھڑے ہیں ،ہم اس پارلیمنٹ کو ماننے کو تیار نہیں

    صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری نے گول میز کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وقت آ گیا ہے ہم اپنا کردار ادا کریں، انہیں بات چیت ہر لائیں ہم یہ نہیں کہہ سکتے اسکو نہیں مانتے اگر آپ کہیں کہ آپ آئین کو نہیں مانتے تو آپ حلف کیخلاف ورزی کر رہے ہیں اگر آپ الیکشن کی مدت بڑھانا چاہتے ہیں تو آئین میں ترمیم کر لیں الیکشن کی تاریخ پر ساری سیاسی جماعتیں مل کر بیٹھیں کوئی قانون سازی ایسی نہیں ہو سکتی جو سپریم کورٹ کے اختیار کو کم کرے اس جنگ کا نقصان اس ملک کو ہو رہا ہے، اس ملک کے عوام کو ہو رہا ہے سپریم کورٹ بار ایسوسی عدلیہ کی خود مختاری کیلئے کھڑے ہیں ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ان لوگوں کو بٹھائیں

    سابق جسٹس شبر رضا رضوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کا پارلیمنٹ کو خطاب خوش آئند ہے۔ ریاست اپنے اختیارات منتخب لوگوں کے ذریعے سے استعمال کرے گی۔ یہ ہمارے آئین میں درج ہے۔ ہماری عدالتوں نے پارلیمانی طرز حکومت کے حق میں متعدد فیصلے دئیے۔پارلیمانی نظام حکومت میں وزیراعظم وفاق اور صوبے میں وزیراعلی کے افسسز اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ آئین میں اسمبلیوں کی مدت اور اسکے جلد تحلیل کے بارے میں واضح طور پر لکھا ہے۔ آئین میں لکھا ہے کہ اگر اسمبلی اپنی مدت مکمل کرنے سے پہلے تحلیل ہو جائے تو 90 روز مین انتخاب ضروری ہیں۔

    جیورسٹس کانفرنس سے سابق صدر سپریم کورٹ بار حامد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ عدالتی فیصلے پرعمل درآمد کرے کسی کے ہاس گنجائش نہیں ہے کہ وہ عدالتی فیصلے سے باہر نکل سکے آئین کے تحت انتظامی ادارے سپریم کورٹ کے فیصلوں پرعمل درآمدکرنے اور کرانے کے پابند ہیں جویہ بات کررہے ہیں کہ عمل نہیں کرنا عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کررہے ہیں ہم سب سے پہلے وکیل ہیں پھر ہماری ہمدردیاں کسی بھی سیاسی جماعت کےساتھ ہیں آئین نہ ہوتو وکالت کےپیشے کا جواز نہیں رہ جاتا

    پاکستان میں آئین کےتقدس اور عدلیہ کی آزادی کے موضوع پر راونڈ ٹیبل کانفرنس ،سینئر قانون دان بیرسٹر اعتزاز احسن، سردار لطیف کھوسہ سمیت دیگر سینئر وکلاء پہنچ گئے خواجہ طارق رحیم، آفتاب باجوہ، ربیعہ باجوہ شرکت کیلئے پہنچ گئے ،سردار لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ، کرامت نذیر بھنڈاری، چودھری اکرام گوندل ایڈووکیٹ بھی کانفرنس میں شریک ہیں سابق صدر لاہور بار ایسوسی ایشن جہانگیر جھوجھہ بھی گول میز کانفرنس میں شریک ہیں ،سابق اٹارنی جنرل پاکستان انور منصور، سیکرٹری سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن مقتدر اختر شبیر بھی کانفرنس میں شریک ہیں،جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ جاوید اقبال بھی گول میز کانفرنس میں شریک ہیں،سپریم کورٹ بار کے صدر عابد زبیری، سابق صدر لاہور ہائیکورٹ بار مقصود بٹر بھی کانفرنس میں پہنچ گئے

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

  • مرضی کے عدالتی فیصلے بوٹ و بندوق کے احکامات کے ہم پلہ ہیں،امان اللہ کنرانی

    مرضی کے عدالتی فیصلے بوٹ و بندوق کے احکامات کے ہم پلہ ہیں،امان اللہ کنرانی

    مرضی کے فیصلے بوٹ و بندوق کے احکامات کے ہم پلہ ہیں،امان اللہ کنرانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے موجودہ آئینی بحران کے حوالہ سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی ہے اور اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے

    امان اللہ کنرانی ٹویٹ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عدالتوں کا کام انصاف کے مطابق فریقین کے درمیان فیصلے کرنا ہے کسی بھی فریق کی استدعا کے بغیر کسی ایک کے حق میں فیصلہ متاثرہ فریق کو اپیل کا ایک Natural Justice کے تحت حق دیا جاتا ہے اپنی مرضی و خواہش پر فسطائیت کے فیصلوں کو عدالتی لبادے میں بوٹ و بندوق کے احکامات کے ہم پلہ سمجھا جائے گا

    واضح رہے کہ پچھلے کچھ دنوں سے پاکستان میں معاشی، سیاسی بحران کے ساتھ آئینی بحران بھی چل رہا ہے، پنجاب میں الیکشن کے حوالہ سے چیف جسٹس نے از خود نوٹس لیا تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے از خود نوٹس فیصلے کے خلاف فیصلہ دے دیا کہ چیف جسٹس کو اختیار نہیں، بعد ازاں پارلیمنٹ میں بھی ایک بل لایا گیا جس میں چیف جسٹس کے اختیارات کو کم کیا گیا، بل صدر مملکت نے منظور نہیں کیا جس کے بعد بل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے پاس کروا کر دوبارہ صدر مملکت کو بھیجا گیا، سپریم کورٹ میں اس بل کے خلاف درخواست دائر ہوئی تو آٹھ رکنی بینچ نے اس پر عملدرآمد روک دیا،

    چیف جسٹس کا خودساختہ بنچ؛ آمریت کی بدترین مثال ہے. امان اللہ کنرانی

    قانون سازی پر عجلت سے نوٹس لینا قابل مذمت ہے. امان اللہ کنرانی

    فائز عیسیٰ کا گولڈن جوبلی کے موقع پر پارلیمنٹ آنا لائق تحسین ہے. امان اللہ کنرانی

    چھ رکنی بینچ کا فیصلہ عدالتی بغاوت، بغض و عناد سے بھرپور ہے، امان اللہ کنرانی

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

  • قومی اسمبلی کا ہنگامی اجلاس طلب

    قومی اسمبلی کا ہنگامی اجلاس طلب

    سپریم کورٹ میں پنجاب الیکشن کے حوالہ سے ان چیمبر سماعت کے بعد قومی اسمبلی کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا،

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے آج شام 5 بجے اسمبلی کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ، اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کی بھی شرکت متوقع ہے، سابق صدر آصف زرداری اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ چکے ہیں وہ بھی اسمبلی اجلاس میں شریک ہوں گے،

    پاکستان تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی فہیم خان اور عطاء اللہ نے قومی اسمبلی کے ان کیمرہ سیشن میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا ہے،دونوں اراکین اب سے کچھ ہی دیر میں اجلاس میں شرکت کے لئے قومی اسمبلی میں پہنچیں گے۔

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب میں الیکشن کے لیے گورنر سٹیٹ بینک کو الیکشن کمیشن کو براہ راست فنڈز جاری کرنے کا حکم دیا ہے، قومی اسمبلی کا اجلاس 26 اپریل کو ہونا تھا تا ہم اجلاس ری شیڈول کیا گیا ہے اور آج ہنگامی طور پر طلب کیا گیا ہے، قومی اسمبلی کے آج ہونے والے ہنگامی اجلاس میں سپریم کورٹ کے حکم نامے کے خلاف ایک اور قرارداد منظور کیے جانے کا امکان ہے،

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کا اہم اجلاس ہوا .اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری، مولانا اسعد محمود، وزیر دفاع خواجہ آصف، سعد رفیق نے شرکت کی،اجلاس میں حکومتی قانونی ٹیم نے بھی شرکت کی،زاہد حامد، مصطفی رمدے، اٹارنی جنرل نے بھی اجلاس میں شرکت کی، اجلاس میں انتخابات فنڈز سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم نامے پر غور کیا گیا،اجلاس کو قانونی ٹیم کی اہم آئینی و قانونی امورپر بریفنگ دی گئی،زاہد حامد، مصطفی رمدے، شاہد حامد، اٹارنی جنرل نے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی، قانونی ٹیم نے سپریم کورٹ کی جانب سے الیکشن اخراجات سے متعلق فیصلہ پر بریفنگ دی،

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے۔ اعلی عسکری حکام بھی آرمی چیف کے ہمراہ ہے، آرمی چیف قومی سلامتی کے امور پر خصوصی اجلاس کو بریفنگ دیں گے

  • چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے 8 ججز کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

    چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے 8 ججز کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال سمیت سپریم کورٹ کے 8 ججز کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس/شکایت دائر کر دی گئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال سمیت سپریم کورٹ کے 8ججز کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائرکر دیا گیا ہے، معروف قانون دان میاں دائود ایڈووکیٹ کی طرف سے دائر ریفرنس میں آئین کے آرٹیکل 209 اور ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی دفعات تین تا چھ اور نو کی خلاف ورزی کو بنیاد بنایا گیا ہے

    سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ریفرنس میں چیف جسٹس بندیال کے علاوہ 8ججز جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر ، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک ، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید کو بطور فریق شامل کیا گیا ہے۔ ریفرنس کے متن میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس بندیال نے پارلیمنٹ کے منظورکردہ بل کو سماعت کیلئے مقرر کرکے اختیارات سے تجاوز کیاہے، چیف جسٹس نے پارلیمنٹ کے بل کی سماعت کیلئے اپنی سربراہی میں غیرآئینی طور پر8 رکنی بنچ تشکیل دیا ، چیف جسٹس درخواستوں کی سماعت کیلئے بنچ کی خود سربراہی کر کےمس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے جبکہ باقی سات ججز بھی پارلیمنٹ کے بل پر سماعت اور اسے معطل کر کے آئین ، قانون اور کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے۔ریفرنس کے متن میں مزید نشاندہی کی گئی ہے کہ ڈاکٹر مبشر حسن کیس میں 17رکنی فل کورٹ اور اعتزاز احسن کیس میں 12 رکنی بنچ بل کیخلاف حکم امتناعی جاری نہ کرنے کا اصول طے کرچکا ہےلیکن اس کے باوجود کم تعداد کے حامل 8 ججز نے پارلیمنٹ کے بل کیخلاف حکم امتناعی جاری کرکے ڈاکٹر مبشر حسن اور اعتزاز احسن کیس کی بطور اکثریتی ججز کے فیصلے کی پابندی نہ کر کے قانون کی خلاف ورزی کی۔ ریفرنس میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس بندیال نےاپنے ذاتی، سیاسی اور مفادات کا تحفظ کر کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی ہے جبکہ مستقبل کے ممکنہ چیف جسٹس صاحبان جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب، جسٹس عائشہ اور جسٹس شاہد وحید نے آٹھ رکنی بنچ میں شامل ہو کر کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے، کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق جہاں ججز کا مفاد سامنے آجائے، وہاں لازمی پابندی عائد کی گئی ہے کہ ججز اس کیس سے خود کو الگ کر لیں گے لیکن چیف جسٹس بندیال سمیت مستقبل کے مذکورہ بالا تینوں جج صاحبان نے اس لازمی آئینی پابندی کو نظرانداز کر کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی ہے۔ ریفرنس میں مزید کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان بندیال نے کرپشن الزامات کا سامنا کرنیوالے جسٹس مظاہر نقوی کو تحفظ فراہم کے آئین اور مس کنڈکٹ کیا اور اوپن کورٹ میں بیان دیا کہ جسٹس مظاہر نقوی کو ساتھ بٹھا کر کسی کو پیغام دیا گیا کہ وہ اپنے جج کے ساتھ کھڑے ہیں، ٹیکس تنازع پر جج کیخلاف ٹرائل نہیں کر سکتے، چیف جسٹس بندیال کا یہ بیان عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے کیونکہ جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف صرف ٹیکس تنازع کا نہیں بلکہ باقی سنگین بدعنوانیوں کے الزامات بھی ثبوتوں کے ساتھ ریفرنس میں شامل تھے۔میاں دائود ایڈووکیٹ نے اپنے ریفرنس میں مزید الزام عائد کیا ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب، جسٹس مظاہر نقوی نے غیرقانونی طور پر خود کو غلام محمود ڈوگر کیس میں اسمبلیوں کے الیکشن تنازع میں بھی ملوث کیا اورچیف جسٹس بندیال کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے الیکشن ازخود نوٹس کیس کا اکثریتی فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کیا جو مس کنڈکٹ کےزمرے میں آتا ہے۔ چیف جسٹس عمر عطابندیال انتظامی اختیارات کے بدترین ناجائز استعمال کےمرتکب ہوئے ہیں جبکہ تمام متنازع بنچوں کی تشکیل کے مرکزی ذمہ دار چیف جسٹس عمر عطا بندیال ہی ہیں۔ چیف جسٹس بندیال جونیئر ججز کی سپریم کورٹ تعیناتی کرکے الجہاد ٹرسٹ اور ملک اسد کیس کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے، چیف جسٹس بندیال سمیت8 ججز اعلی معیار پر مبنی ایماندار کردار برقرار رکھنے میں ناکام رہے، چیف جسٹس بندیال سمیت8 ججزمفادات کے ٹکرائو کے اصول پر عملدرآمد میں بھی ناکام رہے، چیف جسٹس بندیال سمیت8 ججزذاتی سیاسی دلچسپی کے مقدمات کی سماعت کے مرتکب ہوئے ، سپریم کورٹ کے 8ججز خود کو مقدمات پر اثرورسوخ استعمال کرنے کیلئے اختیارات کے ناجائز استعمال کے مرتکب ہوئے، چیف جسٹس بندیال سمیت8 ججزباقی ججز کے ساتھ باہمی تعلقات بہتررکھنے میں ناکام ہوئے اور اس طرح چیف جسٹس بندیال سمیت 8ججز سپریم کورٹ کی عوام میں بدنامی کا باعث بنے ہیں۔

    ریفرنس میں سپریم جوڈیشل کونسل سے استدعا کی گئی ہے کہ چیف جسٹس عمر عطابندیال سمیت 8ججز کو انکوائری کے بعد برطرف کرنے کا حکم دے اور ریفرنس کے حتمی فیصلے تک انہیں فوری کام سے روکا جائے۔آٹھ ججز کیخلاف ریفرنس کی کاپی جسٹس قاضی فائز عیسی، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ کو بھجوائی گئی ہے۔ چیف جسٹس بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن کیخلاف ریفرنس آنے کے بعدان کی جگہ ممکنہ اگلے ممبر سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس منصور علی شاہ ہونگے۔ ریفرنس کی کاپی چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھی بھجوائی گئی ہے۔

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

  • سپریم کورٹ کااسٹیٹ بینک کو 21 ارب روپے جاری کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ کااسٹیٹ بینک کو 21 ارب روپے جاری کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے فنڈز سے متعلق پیر تک رپورٹ مانگ لی سپریم کورٹ نے اسٹیٹ بینک کو 21 ارب روپے جاری کرنے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اسٹیٹ بینک وزارت خزانہ کو 21 ارب روپے دے وزارت خزانہ الیکشن کمیشن کو فنڈز فراہم کرے اسٹیٹ بینک حکام نے سپریم کورٹ سے حکم جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

    سپریم کورٹ نے سٹیٹ بنک کو الیکشن کمیشن کو فنڈز جاری کرنے کا حکم دے دیا وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز دینے معذوری ظاہر کرنے پر احکامات دیے گئے،اسٹیٹ بنک کو فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈز سے 21 ارب روپے کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے،وزارت خزانہ حکام نے خراب معاشی حلات سے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا ، وزارت خزانہ حکام نے کہا کہ قرضے زیادہ ہیں فنڈز فراہمی میں مشکلات آسکتی ہیں

    وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں انتخابات کیس کی ان چیمبر سماعت میں جمع کروایا گیا تحریر ی مؤقف سامنے آیا ہے،وفاقی حکومت نے عدالتی احکامات پر عمل کر دیا، وفاقی حکومت کا جواب فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے پیسے جاری کرنے کیلئے ایکٹ آف پارلیمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے ایکٹ آف پارلیمنٹ کے لیے بل پارلیمان نے مسترد کر دیا بل مسترد ہونے کے بعد وفاقی حکومت کے پاس فنڈ جاری کرنے کا اختیار نہیں ،وفاقی حکومت سٹیٹ بینک کو فنڈ جاری کرنے کا حکم نہیں دے سکتی ،وفاقی حکومت نے عدالتی حکم کے تحت اپنی قانونی ذمہ داری پوری کر دی

    قبل ازیں پنجاب انتخابات کیس، فنڈز کی عدم فراہمی پران چیمبر سماعت ہوئی ، اٹارنی جنرل، وزارت خزانہ کے حکام چیف جسٹس کے چیمبر میں پیش ہوئے ،چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ان چیمبر سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بھی سماعت میں موجود تھے ، اویس منظور سمرا (خصوصی سیکرٹری خزانہ) ، جناب عامر محمود (ایڈیشنل سیکرٹری فنانس) ،جناب تنویر بٹ (ایڈیشنل سیکرٹری فنانس) ، سیما کامل (قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان) ، عنایت حسین چوہدری (ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک )، سیکرٹری الیکشن کمیشن ، ایڈیشنل سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان، ڈی جی/قانون الیکشن کمیشن آف پاکستان، قدیر بخش (ڈائریکٹر اسٹیٹ بینک ) ،جہانگیر شاہ (پروٹوکول آفیسر اسٹیٹ بینک ) ،محسن افضل (پروٹوکول آفیسر اسٹیٹ بینک آف پاکستان) سپریم کورٹ مین پیش ہوئے ،سیکرٹری خزانہ یعقوب حامد امریکہ دورے پر ہیں۔رجسٹرار کے مراسلے میں تمام افسران کو انتخابات اور فنڈز سے متعلق ریکارڈ سمیت پیش ہونے کے احکامات دئیے گئے تھے ،تمام فریقین نے اپنی اپنی رپورٹس چیف جسٹس چیمبر میں پیش کردیں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے چیمبر میں سماعت ختم ہوئی، اٹارنی جنرل واپس روانہ ہوئے تو صحافیوں نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ سر کیا فیصلہ ہوا،؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جو بھی فیصلہ ہوا تحریری آرڈر آ جائے گا،

    نجی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ نے پنجاب میں انتخابات کے لیے گورنر اسٹیٹ بینک کو الیکشن کمیشن کو براہ راست فنڈز جاری کرنے کا حکم دے دیا، دوران سماعت ججز نے الیکشن کے لیے فنڈز جاری نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ عدالتی حکم پرعمل کرنا پڑے گا سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کو حکومتی مؤقف پیش کرنے پرسخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا

    صحافیوں نے اٹارنی جنرل سے کیس کی سماعت کے بعد سوال کیا کہ کیا حکومت توہین عدالت کا سامنا کرے گی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ کس چیز کی توہین عدالت،وفاقی حکومت نے کابینہ سے قانون پاس کروایا ہے،فنڈز کے معاملے پر حکومتی موقف سے عدالت کو آگاہ کیا،پارلیمنٹ نے فنڈز دینےکی اجازت نہیں دی ،دیگر اداروں نے تمام صورتحال سے آگاہ کیا، فیڈرل کونسولیڈیٹڈ فنڈز قومی اسمبلی کی منظوری سے ہی پیسہ جاری ہوتا ہے ،حکومت کو بھی ہدایات جاری کرنے کیلٸے قومی اسمبلی کی منظوری درکار ہوتی ہے

    قبل ازیں سپریم کورٹ، پنجاب انتخابات کا معاملہ، چیف جسٹس نے مقدمے کی سماعت اوپن کورٹ میں کردی تھی تا ہم اوپن کورٹ میں سماعت نہیں ہوئی،دوسری جانب وزیراعظم نے اٹارنی جنرل کو مشاورت کے لیے طلب کیا تھا،اٹارنی جنرل سپریم کورٹ سے وزیراعظم آفس کے لیے روانہ ہوئے تھے،اٹارنی جنرل نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم سے آج ان چیمبر سماعت کے حوالے سے ملاقات کرنے جا رہا ہوں، پارلیمنٹ نے حکومت کو فنڈز جاری کرنے سے روک دیا ہے،وفاقی حکومت کے پاس الیکشن کے لیے فنڈز جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں حکومتی مؤقف ان چیمبر سماعت کے دوران پیش کریں گے،

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

  • وزیراعظم شہباز شریف،اسحاق ڈار،مریم نواز کیخلاف توہین عدالت  درخواست دائر

    وزیراعظم شہباز شریف،اسحاق ڈار،مریم نواز کیخلاف توہین عدالت درخواست دائر

    سپریم کورٹ میں وزیراعظم شہباز شریف،اور ن لیگی رہنما مریم نواز کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی گئی

    توہین عدالت کی درخواست مولودی اقبال حیدر کی جانب سے دائر کی گئی ، توہین عدالت کی درخواست وزیر خزانہ اسحاق ڈار، سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کے خلاف بھی دائر کی گئی، درخواست میں سیکرٹری خزانہ کو بھی فریق بنایا گیا ہے، مولوی اقبال حیدر کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف اور دیگر فریقین نے عدالت کے چار اپریل کے حکم پر عمل نہیں کیا۔ شہباز شریف اور باقی فریقین کینلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے۔ عدالتی فیصلہ پر عمل نہ کرنے تمام فریقین کو قابل سزا ڈکلئرڈ کیا جائے

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    جس میں وہ کرسی پر بیٹھے ہیں اور سگار پی رہے ہیں، شیخ رشید احمد کو لاک اپ میں بندنہیں کیا

    دوسری جانب ن لیگی رہنما ، وزیراعظم کے مشیر عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ پارلیمان سپریم اور آئین کا خالق ادارہ ہے، قانون سازی پارلیمان کی صوابدید ہے، تقسیم شدہ سپریم کورٹ میں گروپ بندیاں ہیں، اگر عدالت ایک پارٹی کا مؤقف لیکر چلے تو یہ توہین پارلیمان ہے۔ اگر توہین عدالت ہوسکتی ہے تو توہین پارلیمان کیوں نہیں ہوسکتی ؟

    پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ یہ بنچ بنا کر پارلیمان کے اختیارات کو روکنے کی جو سعی کی جارہی ہے وہ بلکل قابل قبول نہیں ہے ہمارے اوپر جو بھی عذاب گرے اس کو ہم قبول نہیں کرسکتے ہمیں توہین عدالت کے قانون سے ڈرایا جارہا ہے لیکن اس سے ڈریں گے نہیں،

    تحریک انصاف کے رہنما عمر سرفراز چیمہ کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت فنڈ اور سیکورٹی نہ دیکر انتخابات ملتوی کروانا چاہتی ہے توہین عدالت اور آئین شکن حکمرانوں کا اقتدار میں رہنا ملک وقوم کے لئے شدید نقصان کا باعث ہے پنجاب اور خیبر پختون خواہ کے عوام کو نمائندگی سے محروم رکھنا غیر جمہوری اور آئین کی خلاف ورزی ہے

    قبل ازیں پی ٹی آئی نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی ،چیف الیکشن کمشنر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے دائر کی پی ٹی آئی کی جانب سے یہ درخواست چیف الیکشن کمشنر کےخلاف 22 بیورو کریٹس کوعہدوں سے نہ ہٹانے پر دائر کی گئی۔درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ عدالت نے الیکشن کمیشن کو 22 بیوروکریٹس کے خلاف 7 یوم میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا، عدالتی حکم کے باوجود پرنسپل سیکرٹری، کمشنر،سی سی پی اولاہورعہدوں پر برقرار ہیں، الیکشن کمیشن نے آج تک تحریک انصاف کی اس درخواست کا فیصلہ نہیں کیا-درخواست میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کا یہ اقدام واضع طور پر توہین عدالت ہے، وزیراعلی پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری و دیگرسیاسی وابستگی رکھتے ہیں درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت سیاسی وابستگی رکھنے والے بیورو کریٹس کو ہٹانے کا حکم دے، عدالتی حکم نظرانداز کرنے پر چیف الیکشن کمشنرکے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

  • تنویر الیاس کی وزارت عظمی کے عہدے پر فوری بحالی کی درخواست مسترد

    تنویر الیاس کی وزارت عظمی کے عہدے پر فوری بحالی کی درخواست مسترد

    سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کی وزارت عظمی کے عہدے پر فوری بحالی کی درخواست مسترد کر دی

    سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس کی اپیل کی سماعت آزاد کشمیر سپریم کورٹ میں چیف جسٹس راجہ سعید اکرم کی سربراہی میں فل بنچ نے کی، بنچ میں جسٹس رضا علی خان اور جسٹس خواجہ نسیم شامل تھے ،سردار تنویر الیاس کی جانب سے لیگل ٹیم کی قیادت ایڈووکیٹ رازق خان نے کی ،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیرِ اعظم نے معذرت نہیں کی سابق وزیرِ اعظم نے کہا اگر توہین ہوئی ہے تو معافی مانگتا ہوں ،سابق وزیرِ اعظم ایوان اوروزارت عظمیٰ کا عہدہ بھی جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں وہ کہتے ہیں ججز کو نکال دوں گا سابق وزیرِ اعظم ایک چپڑاسی کو بغیر پراسس کے نہیں نکال سکتے اسمبلی قانون بناتی ہے ہم صرف اس کی تشریح کرتے ہیں

    سابق وزیرِ اعظم تنویر الیاس کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میرے موکل کو وضاحت کا موقع نہیں دیا گیا آئین ہر شہری کو خود پر لگے الزامات کا جواب دینے کا موقع دیتا ہے ،آزاد کشمیر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملٹی میڈیا پر ان کے تمام الفاظ چلائے تو نہوں نے تسلیم کیا انہوں نے عدالت کے سامنے ہی توہین آمیز الفاظ کو تسلیم کیا ان کے تسلیم کر لینے کے بعد کیا عدالت ان سے معافی مانگتی؟ سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ اگر یہ توہین ہے تو معذرت کرتے ہیں وہ ویسے بڑے اسٹیٹ فارورڈ ہیں، مان لیا کہ انہوں نے ہی یہ کہا جج بھی کوئی ایسا کام کرتا ہے تو اس کے خلاف بھی توہین کی کارروائی ہو سکتی ہے

    قبل ازیں مظفر آباد ہائی کورٹ نے سردار تنویر الیاس کو عہدے سے ہٹا دیا۔ ہائی کورٹ کے فل کورٹ نے وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر سردار تنویر الیاس کو ڈس کوالیفائی کردیا ،سردار تنویر الیاس کو توہین عدالت پر نااہل قرار دیا گیا،۔ ہائی کورٹ نے توہین عدالت کیس میں ان کی معافی کی درخواست قبول نہیں کی ، سردار تنویر الیاس کو عدالت برخاست ہونے تک سزا سنائی گئی،عدالت نے تنویر الیاس کو کسی بھی پبلک عہدے کے لیے نا اہل قرار دیا عدالت نے نئے وزیراعظم آزاد کشمیر کے انتخاب کے لیے چیف الیکشن کمشنر کو بھی حکم جاری کردیا

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عمران خان کا مظفر آباد جلسہ،وزیراعظم آزاد کشمیر کی کرسی خطرے میں

    ،وزیر اعظم آزاد کشمیر کو اگر بلایا نہیں گیا تو انہیں جانا نہیں چاہیے تھا،

    تنویر الیاس کے بیٹے کا آزاد کشمیر پولیس و مسلح ملزمان کے ہمراہ سینٹورس پر دھاوا، مقدمہ درج

    تنویر الیاس نے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں خود کو” وزیراعظم” لکھ دیا،اپیل خارج

  • توقع کرتے ہیں کہ آج بینچ تحلیل کردیا جائے گا، حکمران اتحاد

    توقع کرتے ہیں کہ آج بینچ تحلیل کردیا جائے گا، حکمران اتحاد

    سپریم کورٹ میں سپریم کورٹ کے حوالہ سے درخواست پر سماعت سے قبل حکمران اتحاد نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پارلیمان کو قانون سازی سے روکنے کا اختیار کسی کو بھی نہیں دیا جاسکتا ہے

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی سماعت کے حوالے سے آج اعلامیہ جاری کیا گیا صدر کے دستخط کے بغیر بل ایکٹ آف پارلیمنٹ نہیں بنا،،قومی اسمبلی اور سینیٹ سے پاس شدہ بل کو صدر مملکت نے واپس بھجوایا، بل ابھی بنا نہیں ہے اور 8 رکنی بینچ بنا دیا گیا ہے تمام جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فل کورٹ بنایا جائے عجلت میں درخواست دائر ہوئی اور بینچ بھی بنا دیا گیا ہمیں ایک سپریم کورٹ چاہیے ہم دو سپریم کورٹس کی بات نہیں کرتے ہیں ادارے میں تقسیم کا تاثر روز بروز عیاں ہوتا جارہا ہے ہم توقع کرتے ہیں کہ آج بینچ تحلیل کردیا جائے گا موجودہ بل پر سینئر ججز کو سماعت میں شامل نہیں کیا گیا،ساری صورتحال بہت افسوس ناک ہے، ہم اپنے حقوق کا تحفظ کرنا جانتے ہیں،قانون سازی کے اختیار میں اداروں کی بے جا مداخلت نہیں ہونی چاہیے،عدالتی روایات کا تقاضا ہے کہ چیف جسٹس خود اس بنچ کی سربراہی نہ کریں،تمام بار کونسلز نے بنچ کی تشکیل کو مسترد کیا ہے،

    پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ بل ابھی پارلیمنٹ کے پاس ہے اور سپریم کورٹ نے ٹیک اپ کرلیا ہے ، کیا آپ پارلیمنٹ کو اپنے اختیار سے روکنا چاہتے ہیں ؟ ہم ساری جماعتوں نے پارلیمنٹ کے اختیار کیلئے جدوجہد کی ہے، آج یہ بینچ بناکر پارلیمان کے اختیار کو روکنے کی جو کوشش کی جارہی ہے وہ قبول نہیں ہے ہم نے چیف جسٹس کے اختیار کو آج بھی چیلنج نہیں کیا،صدر نے اس بل پر ابھی فائنل رائے نہیں دی،دوسری طر ف توہین عدالت سے ڈرا کر رکھا جاتا ہے،جو کچھ ہورہا ہے یہ بالکل قابل قبول نہیں،ماحول تلخ ہوگیا اسے ٹھنڈا کرنا ضروری ہے غصے کے فیصلے نہیں ہونگے، سپریم کورٹ میں تقسیم کا واضح ثبوت ہے

    پریس کانفرنس میں جے یو آئی کے رہنما کامران مرتضیٰ نے بھی کہا کہ مجھے کیس کے فکس کرنے پر بھی حیرانی ہوئی اور بینچ کے ممبران پر بھی،جو کیسز ہم نے جنوری میں فائل کیے تھے ان پرابھی تک نمبر بھی نہیں لگے،دوسری جانب ابھی قانون بنا بھی نہیں اور کیس فکس ہوگیا ،سپریم کورٹ میں اس وقت 15ججز ہیں،8ممبرز ایک بینچ میں بٹھا دیئے جائیں تو اپیل کا حق کہاں جائے گا، قانون بنا ہی نہیں کہ اسے وقت سے پہلے چیلنج کردیاگیا ،جونیئر ججز کو لانے کا نقصان آج پتہ چل رہاہے،جونیئر ججز پرتوہمارا اختلاف پہلے بھی رہاہے ،جوکیسزجنوری میں فائل کیے تھے ان پرابھی تک نمبرز نہیں لگے ،

    رہنما اے این پی میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک بحرانوں کا سامنا کررہاہے ،پارلیمان سپریم ہے ،اپنی آئینی ذمہ داری مکمل کریں گے، تمام اداروں کے اپنے اپنے اختیارات ہیں،8رکنی بینچ پر نظر ثانی کرنی چاہیے ،صدرکے پاس بل گیا اعتراض لگا واپس آیا پھر صدر کے پاس گیا، صدر تو پاکستان کا نہیں پی ٹی آئی کا بنا ہوا ہے ،ایم کیو ایم کے امین الحق نے کہا کہ ایم کیوایم سیاسی جماعتوں سے اظہار یکجہتی کے لیے آئی ہے ،ہمارا موقف ہے کہ ہم فل کورٹ بینچ کی تشکیل چاہتے ہیں،
    پارلیمنٹ کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا،انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے ،طاہر بزنجو نے کہا کہ آئین میں قانون سب کے لیے ہے ، سلیکٹو بینچ تشکیل دینا آگ میں تیل ڈالنے کے متراد ف ہے متنازع بینچ کسی صورت قابل قبول نہیں ،ایسا بینچ بناجائے جو سب کو قابل قبول ہو

    سپریم کورٹ رولز میں ترمیم کیخلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    ،سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل،گورنر اسٹیٹ بینک کو نوٹس جاری کر دیا