Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے غلط معلومات رکھی گئیں،سپریم کورٹ

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے غلط معلومات رکھی گئیں،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں پر وضاحت جاری کر دی

    جاری وضاحت میں کہا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر خبریں چھپیں کہ دس سال سے سپریم کورٹ کا آڈٹ نہیں ہوا،اور کہا گیا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو طلب کر لیا ہے تیس جون 2021 تک سپریم کورٹ کا آڈٹ کیا گیا ہے اور مکمل ہے جبکہ 2021-22 کا آڈٹ اے جی پی آر سے ہو رہا ہے سپریم کورٹ سے جاری وضاحت میں کہا گیا ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے غلط معلومات رکھی گئیں وضاحت میں کہا گیا ہے کہ ایسی رپورٹس حقائق سے بالکل مختلف ہیں

    قبل ازیں گزشتہ روز قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں پی اے سے نے سپریم کورٹ کی جانب سے آڈٹ نہ کرانے کا نوٹس لیتے ہوئے رجسٹرار سپریم کورٹ کو طلب کرلیا، دوران اجلاس سپریم کورٹ کے آڈٹ کا معاملہ زیر غور آیا، چیئرمین کمیٹی نور عالم خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا دس برسوں سے کوئی آڈٹ نہیں ہوا سپریم کورٹ کے پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسرکو بلاؤں گا،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے دس برسوں سے آڈٹ نہ کرانے پر رجسٹرار سپریم کورٹ کو طلب کرلیا اور کہا کہ عید کے بعد کمیٹی میں آ کر جواب دیں،

    چیئرمین کمیٹی نور عالم خان کا کہنا تھا کہ پی اے سی نے سی ڈی اے سے ججز،ارکان پارلیمنٹ، وفاقی کابینہ ارکان، قومی اسمبلی اور سینیٹ اسٹاف کو ملے پلاٹوں کی تفصیلات بھی طلب کی تھیں پی اے سی نے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے اپارٹمنٹ مالکان کی فہرست اور منی ٹریل مانگی تھی وزارت ہاؤسنگ نے پی اے سی کی ہدایات کے باوجود ریکارڈ کیوں نہیں دیا، ڈپلومیٹک انکلیو کے سامنے سے شروع کریں ون کانسٹی ٹیوشن بلڈنگ میں کس کے کتنے فلیٹس ہیں؟ ایف آئی اے اور نیب ان کی منی ٹریل کا پتہ لگائے ، پاکستان غریب ہو رہا ہے اور یہ لوگ امیر ہوتے جارہے ہیں

    دوسری جانب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے گن اینڈ کنٹری کلب اسلام آباد کا ریکارڈ قبضے میں لینے کی ہدایت کردی ،اجلاس میں وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس اور وزارت بین الصوبائی رابطہ کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا ،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے گن اینڈ کنٹری کلب اسلام آباد کا آڈٹ نہ ہونے کا نوٹس لے لیا اور کلب کا تمام ریکارڈ قبضے میں لینے کی ہدایت کردی جب کہ ساتھ ہی کلب کے سربراہ نعیم بخاری کوفوری ہٹانے کی ہدایت کردی ،چیئرمین کمیٹی نور عالم خان کا کہنا تھا کہ گن اینڈ کنٹری کلب کا آڈٹ کیوں نہیں کرایا جا رہا اربوں روپے کے آڈٹ پیراز بن چکے قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے ،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کلب کے آڈٹ کے لیے نیب اور ایف آئی اے کی مدد لینے کی ہدایت کردی، چیئرمین کمیٹی نور عالم خان کا کہنا تھا کہ یں یہ آڈٹ پیراز ایف آئی اے اور نیب کو انکوائری کیلئے بھجوا رہا ہوں ،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کلب کے سربراہ نعیم بخاری سے گاڑی اور دفاتر سمیت تمام مراعات اور سہولیات واپس لینے کی ہدایت کردی

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

     ماحولیاتی منظوری کے بغیر مارگلہ ایونیو کی تعمیر کیس پر فیصلہ محفوظ 

    جو نقشے عدالت میں پیش کئے گئے وہ سب جعلی،یہ سب ملے ہوئے ہیں، مارگلہ ہلز کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پر ایک اور مقدمہ درج

    مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد

    ایف نائن پارک میں شہری پر حملے کا مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کر لیا گیا

  • صدر مملکت عارف علوی کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    صدر مملکت عارف علوی کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی

    درخواست گزار کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عارف علوی عمران خان کی ایماء پر قانون سازی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے باوجود صدر مملکت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کی منظوری نہ دی ،درخواست ایک شہری چوہدری محمد امتیاز کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ صدر مملکت کے یہ اقدامات کسی مخصوص پارٹی کی طرف جھکاؤ ظاہر کرتے ہیں ، ایسے طرز عمل کی بناء پر ڈاکٹر عارف علوی صدر کے عہدے کے اہل نہیں،آئین کے آرٹیکل 41 کے ڈاکٹر عارف علوی کو صدر کے عہدے سے ہٹایا جائے۔

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    بشری بی بی کی آڈیونےدنیا بدل دی۔قہرٹوٹ پڑا ،عمران خان مایوس،دل ٹوٹ گیا

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ صدر مملکت نے پارلیمان کی جانب سے بھجے گئے سپریم کورٹ پروسیجر بل کی منظوری نہ دی صدر مملکت نے نیب ترامیم بل اور اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ پر بھی دستخط کرنے سے انکار کیا ،صدر مملکت کا اپنی آئینی ذمہ داریوں سے انکار کرنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ صدر کیلئے عہدے کیلئے اہل نہیں صدر ایک سیاسی جماعت سے منسلک اور جانبدار ہیں، صدر مملکت نے حکومت کی قانون سازی کو سیاسی جماعت کے چئیرمین کے کہنے پر منظور نہیں کیا،

  • الیکشن کیلئے فنڈز نہیں ملے، الیکشن کمیشن حکام نے سپریم کورٹ کو کیا آگاہ

    الیکشن کیلئے فنڈز نہیں ملے، الیکشن کمیشن حکام نے سپریم کورٹ کو کیا آگاہ

    پنجاب خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات کا معاملہ ،الیکشن کمیشن حکام کی سپریم کورٹ آمد ہوئی

    الیکشن کمیشن نے فنڈز کے حوالے سے پیش رفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی، سپریم کورٹ نے آج فنڈز کے حوالے سے رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا تھا ، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو آگاہ کر دیا کہ فنڈز نہیں ملے، اسٹیٹ بینک کی طرف سے رقم ٹرانسفر نہیں کی گئی،

    سپریم کورٹ نے اسٹیٹ بینک کو براہ راست الیکشن کمیشن کو پنجاب کے الیکشن کے لئے فنڈز دینے کا کہا تھا تا ہم حکومت آڑے آ گئی، کابینہ اجلاس ہوا، پھر قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا ، اسمبلی اجلاس میں فنڈز نہ دینے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا،

    قبل ازیں گزشتہ روز قائمقام گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ انتخابات کیلئے سپریم کورٹ کے حکم پر 21 ارب مختص کر دیے ہیں-سپریم کورٹ کی جانب سے گورنر اسٹیٹ بینک کو فنڈز کے اجرا کے حکم کے تناظر میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں وزیر مملکت برائے خزانہ، معاون خصوصی برائے خزانہ، وزارت خزانہ کے حکام شریک ہوئے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے خصوصی اجلاس سے قبل ہونے والی مشاورت میں الیکشن کے لیے فنڈز کا اجرا روکنے کے حوالے سے قانونی نکات کا جائزہ لیا گیا اور مشاورت کی گئی کہ اسٹیٹ بینک کو فنڈز اجرا سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ کی جانب سے گزشتہ ہفتے جاری کیے جانے والے حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ اسٹیٹ بینک پنجاب میں انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن کو براہ راست رقم جاری کرے، وزارت خزانہ نے بتایا ہے کہ 17 اپریل تک 21 ارب روپے الیکشن کمیشن کو دیےجائیں گے۔

    عدالت نے اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کو 18 اپریل تک فنڈز جاری کرنے سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے مزید کہا تھا کہ الیکشن کمیشن بھی 18 اپریل کو 21 ارب روپے فنڈز وصولی کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائے۔

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

  • ہمیں اپنے اندر سے منافقت ختم کرنا ہوگی،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار

    ہمیں اپنے اندر سے منافقت ختم کرنا ہوگی،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار

    سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے علی پارک میں جامعہ غوثیہ میں ختم قرآن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گناہوں سے بچنا اور عبادت کرنا اہم ہے، قرآن کو پڑھنا ہی نہیں سمجھنا اور عمل کرنا اہم ہے،

    سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ زندگی گزارنے کے اسلوب قرآن کے ذریعے اللہ نے ہمیں بتلا دئیے ،ایک زندگی سے ہی گھر اور معاشرہ وجود میں آتا ہے، معاشرے میں سب سے اہم بات تربیت اور دیانت ہے، ہمیں اپنے معاملات میں دیانت اور خدمت کا شعار اپنانا ہوگا، معاملات میں دیانت ہی ہمارے دین کی اساس ہے، بچے ہمارا مستقبل ہیں میرا سیاسی مقصد نہیں ہے،پاکستان کے حالات اچھے نہیں ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاملات درست نہیں ہیں،ہمارے بچوں نے ملک کی تعلیم اور تربیت سنبھالنی ہے،آج ہم ملک کی بقاکی جنگ لڑ رہے ہیں،یہ جنگ اس لئے لڑنی پڑ رہی ہے کہ ہم دین کے اسلوب سے ہٹ گئے ہیں،زندگی کےمعاملات کی پوچھ گچھ ضرور ہوگی، بچوں کی تعلیم وتربیت کی ہے یا نہیں اس کی باز پرس ضرور ہوگی، جب ہم لوگ اپنے اندر جھانک کردیکھیں گے تو ہمیں اپنی خامیاں اور کوتاہیاں دکھائی دیں گی، ہمیں اپنے اندر سے منافقت ختم کرنا ہوگی اپنی اناوں کو ختم کرنا ہو گا، لوگوں نے ڈیم کی رقم جو دی ہے محفوظ ہاتھوں میں ہے، ڈیم کی رقم دس ارب جمع ہوئی تھی،اس رقم کی حفاظت کےلئے پانچ رکنی بنچ تشکیل دیاتھا،اس رقم کو بنچ نے انویسٹ کردیا تھا جو بڑھ کر17 ارب روہے ہوگیا،دنیا سے ماہرین کو بلاکر جو ہم نے سٹڈی کرائی اس کے مطابق پاکستان سے سال 2025 تک پانی ختم ہوجانا تھا

    سینئیر قانون دان رفاقت کاہلوں اور دیگر مقررین نے بھی ختم قرآن کی تقریب سے خطاب کیا،مسجد میں موجود شہری نے ڈیم سے متعلق سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے سوال کیا، انتظامیہ نے سوال کرنے والے شہری کو بات کرنے سے منع کرنا چاہا،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے سوال کرنے والے کو سوال کرنے کی اجازت دیتے ہوئے مسجدکی انتظامیہ کو منع کرنے سے روک دیا اور کہا کہ ڈیم کے بارے سوال کرنا ہر اس شخص کا حق ہے جس نے ڈیم فنڈ میں دس روپے بھی جمع کرائے۔ ،سوال کرنا آپ کا حق ہے جس نے دس روپے بھی دئیے وہ مجھ سے سوال کرنے کا استحقاق رکھتا ہے،جس سپیڈ سے ہم ڈیم کی تعمیر کرانا چاہتے تھے اس میں جو رکاوٹیں آئیں وہ ذکر نہیں کرنا چاہتا، پاکستان کی بقاء کے لئے ڈیم بنانے کا آغاز کیا،اسی لئے کہا کہ اس کا نام بدل کر ہاکستان ڈیم رکھ دیا جائے، پانی ہم سب کی زندگی کےلئے لازم ہے ہوری دنیا کو فیکٹری میں بدل دیاجائے تو دوگیلن پانی نہیں بن سکتا ہانی قدرت کی سب سے بڑی نعمت ہےجو خدا ہی بھیجتا ہے ،

    بھارتی آبی جارحیت،پاکستان کا پانی روکنے کے منصوبہ کی دی مودی سرکار نے منظوری

    دیامر بھاشا ڈیم منصوبے سے دشمن کو تکلیف ہو رہی ہے،فیصل واوڈا

    ڈیم مخالف ٹرینڈ ، بھارتی عزائم کا ٹرینڈ ہے ، بھارتی پراپیگنڈہ چند شرپسند عناصرپھیلا رہے ہیں‌، جویریہ صدیقی

    ڈیموں کے مخالفین پاکستان کے دشمن ہیں: سابق چیئرمین واپڈا انجینئر شمس الملک

    واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف ڈیم فنڈ کے حوالے سے درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دی گئی ہے ،درخواست عدنان اقبال کی جانب سے دائر کی گئی ہے ڈیم فنڈ پر چیف جسٹس کا اختیار ختم کرنے کیلیے درخواست دائرکی گئی ہے،،مقامی وکیل عدنان اقبال کی جانب سے درخواست دائر کر دی گئی نجی ٹی وی کے مطابق درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جتنی رقم ڈیم فنڈ میں جمع ہوئی اس سے زیادہ اس سرگرمی کی تشہیر پر لگی 13 ارب کی تشہیری مہم سے 10 ارب روپے حاصل کیے گئے ڈیم فنڈز کے اکاﺅنٹ ٹائٹل سے چیف جسٹس کا نام ہٹایا جائے اورحتمی فیصلے تک رجسٹرار سپریم کورٹ کے ڈیم فنڈز پر اختیار کو معطل کیا جائے ،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو طلب کیا جائے ،ثاقب نثار سے پوچھا جائے کس حیثیت میں عدلیہ کو غیرمتعلقہ کام میں ملوث کیا

  • ڈیم فنڈ جب اکٹھا ہو رہا تھا تب آپ نے کیوں اعتراض نہیں کیا؟ عدالت کے ریمارکس

    ڈیم فنڈ جب اکٹھا ہو رہا تھا تب آپ نے کیوں اعتراض نہیں کیا؟ عدالت کے ریمارکس

    اسلام آباد ہائیکورٹ، ڈیم فنڈ پر سپریم کورٹ کے اختیارات کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا .اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی،وکیل عدنان اقبال عدالت میں پیش ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوٹیفیکیشن پورا پڑھیں اس میں کیا ہے، وکیل عدنان اقبال نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ ہولڈرز پرانے رجسٹرار صاحب ہیں ، عدالت نے استفسار کیا کہ تو کیا ہوا اس میں ایشو کیا ہے ،وکیل نے کہا کہ ہم یہ چاہ رہے ہیں کہ ڈیم بنانا ایگزیکٹو کا کام ہے سپریم کورٹ کیسے دیکھ رہی ہے ،175 آرٹیکل کی خلاف ورزی ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ کہتے ہیں کہ جوڈیشری کے اکاؤنٹ میں پیسے نہ ہوں، ایسے تو پھر ہم بھی یہی کرتے ہیں ہمارے اکاؤنٹ میں بھی سیلری آتی ہے، وکیل عدنان اقبال نے کہا کہ سپریم کورٹ میں اتنے کیسز التوا میں ہیں انھیں دیکھنا چاہیئے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تو اس میں کیا ہے وہ تو انتظامی طور پر معاملہ ہورہا ہے ، سپریم کورٹ بھی ایگزیکٹو باڈی ہے یا تو آپ کہیں کہ وہ پیسہ اپنے گھروں میں لگا رہے ہیں، آپ نے اس وقت پٹیشن کیوں نہیں کی جب کلیکشن ہو رہی تھی ، ڈیم فنڈ جب اکٹھا ہو رہا تھا تب آپ نے کیوں اعتراض نہیں کیا؟ اب ڈیم فنڈز جمع ہوئے پانچ سال ہو چکے ہیں،ڈیم فنڈز پر اگر اعتراض ہوتا تو اسٹیٹ بینک کو ہوتا ،اسٹیٹ بینک کو کوئی اعتراض ہوتا تو اکاونٹ ہی نہ کھلتا ،وکیل درخواستگزار نے کہا کہ سپریم کورٹ کا اختیار نہیں کہ اس طرح فنڈز اکٹھے کرے،

    بھارتی آبی جارحیت،پاکستان کا پانی روکنے کے منصوبہ کی دی مودی سرکار نے منظوری

    دیامر بھاشا ڈیم منصوبے سے دشمن کو تکلیف ہو رہی ہے،فیصل واوڈا

    ڈیم مخالف ٹرینڈ ، بھارتی عزائم کا ٹرینڈ ہے ، بھارتی پراپیگنڈہ چند شرپسند عناصرپھیلا رہے ہیں‌، جویریہ صدیقی

    ڈیموں کے مخالفین پاکستان کے دشمن ہیں: سابق چیئرمین واپڈا انجینئر شمس الملک

    واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف ڈیم فنڈ کے حوالے سے درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دی گئی ہے ،درخواست عدنان اقبال کی جانب سے دائر کی گئی ہے ڈیم فنڈ پر چیف جسٹس کا اختیار ختم کرنے کیلیے درخواست دائرکی گئی ہے،،مقامی وکیل عدنان اقبال کی جانب سے درخواست دائر کر دی گئی نجی ٹی وی کے مطابق درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جتنی رقم ڈیم فنڈ میں جمع ہوئی اس سے زیادہ اس سرگرمی کی تشہیر پر لگی 13 ارب کی تشہیری مہم سے 10 ارب روپے حاصل کیے گئے ڈیم فنڈز کے اکاﺅنٹ ٹائٹل سے چیف جسٹس کا نام ہٹایا جائے اورحتمی فیصلے تک رجسٹرار سپریم کورٹ کے ڈیم فنڈز پر اختیار کو معطل کیا جائے ،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو طلب کیا جائے ،ثاقب نثار سے پوچھا جائے کس حیثیت میں عدلیہ کو غیرمتعلقہ کام میں ملوث کیا

  • پیپلز پارٹی کے ساتھ عدلیہ کا رویہ ٹھیک نہیں، سعید غنی

    پیپلز پارٹی کے ساتھ عدلیہ کا رویہ ٹھیک نہیں، سعید غنی

    سندھ کے صوبائی وزیر ، پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں تفریق ہے، کچھ ججز کسی کے عشق میں مبتلا ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ عمران خان جو کہیں وہ کیا جائے کچھ ججز حق پر ہیں

    سعید غنی نے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جوڈیشل مارشل لاء ہے، پیپلزپارٹی کے ساتھ عدلیہ کا رویہ ٹھیک نہیں، کئی مقدمات پر مختلف بینچز بنانے بنائے جاتے ہیں، قابل ترین ججز جن پر کوئی انگلی نہیں اٹھاتا وہ اہم بینچز میں نہیں بٹھائے جاتے، الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کے ماتحت نہیں، جوڈیشری کا آئین میں الگ چیپٹر ہے الیکشن کمیشن کا الگ اسٹیٹ بینک خود مختیار ادارہ ہے ،اس کو براہ راست پیسے دینے کے احکامات دیئے جارہے ہیں آئین بنانے کا اختیار پارلیمنٹ کو ہے ،سپریم کورٹ آئین کا ایک نقطہ خود نہیں بنا سکتی وہ آئین میں ترمیم کردیتی ہے،

    سعید غنی کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کا بنایا گیا بل جو ابھی قانون نہیں بنا اس پر عملدرآمد سپریم کورٹ کیسے روک سکتا ہے، کہتے ہیں اختیارات سے تجاوز کیا گیا ہے، چیف جسٹس اپنی مرضی سے ازخودنوٹس لے لیتا ہے،کئی اختیارات پر سب کو اعتراض ہے، ازخود نوٹس تین سینئرترین ججزملکر طے کریں گے، بینچز بھی مشاورت سے بنیں گے، عوامی مفادات کے لئے قانون سازی پارلیمنٹ کا حق ہے

     انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کیلئے دوبارہ بینچ تشکیل

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     ون مین شو چلایا جارہا ہے، عوام تسلیم نہیں کریگی 

    سندھ حکومت نے گوٹھوں کی لیزکے لئے کمیٹی بنائی ہے،

    ،پانی میں کرنٹ کے کوئی شواہد نہیں ملے،

  • سپریم کورٹ کے حکم پر انتخابات کیلئے 21 ارب مختص کر دیے ہیں ،قائمقام گورنر اسٹیٹ بینک

    سپریم کورٹ کے حکم پر انتخابات کیلئے 21 ارب مختص کر دیے ہیں ،قائمقام گورنر اسٹیٹ بینک

    اسلام آباد: قائمقام گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ انتخابات کیلئے سپریم کورٹ کے حکم پر 21 ارب مختص کر دیے ہیں-

    باغی ٹی وی :سپریم کورٹ کی جانب سے گورنر اسٹیٹ بینک کو فنڈز کے اجرا کے حکم کے تناظر میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں وزیر مملکت برائے خزانہ، معاون خصوصی برائے خزانہ، وزارت خزانہ کے حکام شریک ہوئے۔

    نزول قرآن،شب قدر آج انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جائے گی

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی صدارت میں ہونے والی مشاورتی بیٹھک میں قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک، اسپیشل سیکرٹری خزانہ، چیئرمین خزانہ کمیٹی قیصر شیخ ، وزیر تجارت نوید قمر، وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا،اٹارنی جنرل، آڈیٹرجنرل آف پاکستان اکاؤنٹنٹ جنرل حکام شریک تھے۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے خصوصی اجلاس سے قبل ہونے والی مشاورت میں الیکشن کے لیے فنڈز کا اجرا روکنے کے حوالے سے قانونی نکات کا جائزہ لیا گیا اور مشاورت کی گئی کہ اسٹیٹ بینک کو فنڈز اجرا سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ معاملہ دوبارہ قومی اسمبلی کے پاس بھیجا جائےآئین پاکستان کہتا ہے کہ سپلیمنٹری گرانٹ کی ضرورت پڑے تو وفاقی حکومت اس کو پارلیمنٹ میں لے کر جائے آئین ہی سپریم ہے ،سپریم کورٹ ،وزیر اعظم ،کابینہ اور ہم سب نے آئین پر عمل کرنے کا حلف اٹھا رکھا ہے موجودہ بجٹ میں الیکشن کے پیسے نہیں رکھے گئے تھے-

    آزاد کشمیرمیں عمران خان کے خلاف بغاوت،فارورڈ بلاک قائم ،بیرسٹر سلطان محمود کے ن لیگ …

    اجلاس میں قائمقام گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ہم نے سپریم کورٹ کے حکم پر 21 ارب مختص کر دیے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم نے صرف مختص کیے ہیں ،ابھی جاری نہیں کیے-

    چیئرمین کمیٹی قیصر شیخ نے کہا کہ خزانہ کمیٹی نے سپریم کورٹ کے حکم کی خبروں پر سوموٹو لیا ہےآج فیصلہ کرنا ہو گا کہ آئین پاکستان کو پس پشت ڈال کر 21 ارب دیا جا سکتا ہے ؟اگر یہ بیوروکریٹس پیسے دے دیتے ہیں تو کیا کل کو یہ پیسہ ان بیوروکریٹس کی تنخواہوں سے ریکور کیا جائے گا ؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ پیسہ خرچ کرنے میں ریسک ہے ، اگر خرچ کرنے کے بعد قومی اسمبلی نے منظوری نہ دی تو یہ خلا کیسے پر ہوگا ؟ جب ایک قرار داد پہلے پاس ہو چکی ہے تو اس لیے بہتر ہے کہ بعد ازاں خرچ کرنے کے بجائے پہلے منظوری لی جائے-

    جوڈیشل کمپلیکس توڑ پھوڑ کیس: پی ٹی آئی رہنماؤں کی عبوری ضمانت میں توسیع

    رکن پارلیمنٹ برجیس طاہر نے کہا کہ 13 اپریل کو ہم نے دو گھنٹے بحث کے بعد متفقہ فیصلہ کیا تھا کہ پنجاب میں الگ الیکشن کرانا ملک کے لیےتباہ کن ہوگا ،ہم نے 13 اپریل کو جو فیصلہ کیا تھا ،اس کی نفی نہیں کر سکتے ،جب فیصلہ کر چکے ہیں تو اب آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں ؟سپریم کورٹ نے پہلے ہی 63 اے کا فیصلہ دے کر تباہی کی-

    برجیس طاہر نے کہا کہ سپریم کورٹ براہ راست اسٹیٹ بینک سے پیسے نہیں لے سکتی ،یہ کوئی مذاق ہے ؟یہ میٹنگ بلانے سے پہلے ہم سے مشاورت کی جانی چاہیے تھی ،جب ہم فیصلہ دے چکے تھے کہ پیسے نہیں دینے تو پھر پیسے دینے کا معاملہ ایجنڈے پر کیوں رکھا گیا ؟میں احتجاج کرتا ہوں-

    اپریل کی وہ رات جسے ماہرین فلکیات بہت زیادہ پسند کرتےہیں

    وزیر تجارت نوید قمر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وزارت خزانہ اورسٹیٹ بینک حکام کو توہین عدالت سے نہ ڈرائیں، پارلیمنٹ کو بھی اپنی توہین پر ایکشن کا اختیار ہے،پارلیمنٹ کو توہین کے ارتکاب پر کارروائی کا پورا اختیار ہے،ان کاکہناتھاکہ پارلیمنٹ سب سے سپریم ہے۔وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشانے کہاکہ قومی اسمبلی نے منظوری دی تو فنڈز جاری ہو جائیں گے،خزانہ ڈویژن بھی منظوری کے بغیر فنڈز استعمال نہیں کر سکتی۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ کی جانب سے گزشتہ ہفتے جاری کیے جانے والے حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ اسٹیٹ بینک پنجاب میں انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن کو براہ راست رقم جاری کرے، وزارت خزانہ نے بتایا ہے کہ 17 اپریل تک 21 ارب روپے الیکشن کمیشن کو دیےجائیں گے۔

    عدالت نے اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کو 18 اپریل تک فنڈز جاری کرنے سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے مزید کہا تھا کہ الیکشن کمیشن بھی 18 اپریل کو 21 ارب روپے فنڈز وصولی کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائے۔

  • سپریم کورٹ ہماری ریڈ لائن ہے اور14 اپریل کوالیکشن ہوکررہیں گے، شیخ رشید

    سپریم کورٹ ہماری ریڈ لائن ہے اور14 اپریل کوالیکشن ہوکررہیں گے، شیخ رشید

    راولپنڈی: عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ شہبازشریف توہین عدالت اور آرٹیکل 6 کی بارودی سرنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔

    باغی ٹی وی: سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ حکومت نے عید کی خوشیوں پر بھی 10 روپے کا پیٹرول بم گرا دیا ہے، اب مزید 39 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں۔

    جماعت اسلامی سےمذاکرات،عمران خان کی ہدایات پر پی ٹی آئی کی تین رکنی کمیٹی قائم


    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ شہبازشریف توہین عدالت اورآرٹیکل 6 کی بارودی سرنگ کی طرف بڑھ رہا ہے اگرایک دن میں انتخابات کرانے ہیں تو قومی اسمبلی توڑیں جیسے ہم نےصوبائی اسمبلیاں توڑیں ورنہ بحران انتہائی شدید گھمبیر ہوجائے گا لاہورکے سینئر وکلا نے کہہ دیاہےسپریم کورٹ ہماری ریڈ لائن ہے اور14 اپریل کوالیکشن ہوکررہیں گے-

    عمران خان کابینہ نے جعلی فراڈ مردم شماری کی منظوری دی،حافظ نعیم الرحمان

    شیخ رشید نے کہا کہ عید کی خوشیوں پ ربھی10روپے کا پیٹرول بم گرادیا ہے مزید 39 لاکھ افراد غربت کی لکیرسے نیچے چلے گئے ہیں اورزرمبادلہ کےذخائرایک ماہ کی درامدات کے لیے بھی پورے نہیں نہ بجلی گیس کابل نہ سکول میں داخلہ بلکہ عدلیہ کے ساتھ لڑائی ان کی دماغی توازن کی نشاندہی کرتی ہےالیکشن کروانےہوںگےورنہ فیصلہ سڑکوں پرہوگا-

    میں کسی کیلئےلابنگ نہیں کرتا،نہ ہی کسی کا ایجنٹ ہوں،زلمے خلیل زاد

    انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ہی کہہ چکےتھے کہ نواز شریف پاکستان نہیں آئے گا آئی ایم ایف سےاپریل میں بھی معادہ ہوتادیکھائی نہیں دیتاایک طرف گرفتاریاں دوسری طرف مذکرات کا بھونڈا مذاق ہے عدلیہ کودھوکہ دینے کی کوشیش کی گئی توعدلیہ اپنا آئینی اختیار استعمال کرے گی جوعوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں وہ عدلیہ کو للکار رہے ہیں-

  • جو عدالتی فیصلے پر عمل نہیں کرے گا وہ نااہل ہو جائے گا،اعتزاز احسن

    جو عدالتی فیصلے پر عمل نہیں کرے گا وہ نااہل ہو جائے گا،اعتزاز احسن

    سینئر قانون دان اعتزاز احسن نےلاہور میں وکلاء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہونا چاہیئے،

    اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے تو14 مئی کو الیکشن ہوں گے، جو عدالتی فیصلے پر عمل نہیں کرے گا وہ نااہل ہو جائے گا،سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے،یہ معاملہ انتہائی سنگین صورت حال اختیار کر چکا ہے اب اس ادرے کا مل کر کام کرنا ناممکن ہوگیا ہے ،اس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے ،عدلیہ اور پارلیمان میں ایک جنگ چھڑی ہوئی ہے، عدلیہ کے فیصلہ پر پارلیمانی تشریح کی جارہی ہیں،ہم جس چیز کو احساس نہیں کر رہے کہ ہم کونسی قوم ہیں، ہم اب اتنے برے قرضے میں پھنس چکے ہیں آنے والی چار نسلوں کی کمائی ہم نے کھا لی اور ڈکار بھی نہیں مارا،یہ قرضے ہماری نسلوں نے دینے ہیں جو ہم کھا چکے ہیں،بڑے بڑے ادارے ایک دوسرے کے دست و گریبان ہیں،اب ایسی باتیں ہورہی ہیں 5 رکنی بنچ تھا سات رکنی بنچ تھا یہ باتیں ہورہی تھی،انہوں نے کسی پر نہیں ماننا تھا،الیکشن کرو سارا معاملہ حل ہو جائیگا ،اصل مسلہ یہی ہیں اس سے دھیان تبدیل کرنے کے لیے یہاں وہاں کی باتیں کر رہے ہیں، ہمیں مل کریہ سوچنا ہےکہ کیا آئین اور قانون کی بالدستی ہونی ہے یا نہیں کور ایشو یہ ہے کہ کیاپنجاب اور کے پی میں انتخابات نوے دن میں ہونے ہیں یا نہیں ،

    سردار لطیف کھوسہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مملکت خداد میں ادارے ایک دوسرے سے متصادم ہیں قوم عجیب تذبذب میں مبتلا ہیں ہم نے سوچا مختلف طبقہ فکر کے لوگوں کو اکٹھا کر کے کچھ لائحہ عمل ترتیب دیں ہر ایک پاکستانی اس ملک کی ترقی چاہتا ہے آئین کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی میں پاکستان کی مضبوطی ہے

    خواجہ طارق رحیم نے گول میز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں لمبی بات نہیں کرنا چاہتا جو ٹاپک سے ہٹ کر ہو،اج آئین کی پاسداری نہیں کی جارہی ،پارلیمنٹ کو یہ حق نہیں کہ وہ ایسا قانون بنائے کہ وہ سپریم کورٹ میں دخل دے ،اج ہم وکلا آئین کی بلادستی کے لیے کھڑے ہیں ،ہم اس پارلیمنٹ کو ماننے کو تیار نہیں

    صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری نے گول میز کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وقت آ گیا ہے ہم اپنا کردار ادا کریں، انہیں بات چیت ہر لائیں ہم یہ نہیں کہہ سکتے اسکو نہیں مانتے اگر آپ کہیں کہ آپ آئین کو نہیں مانتے تو آپ حلف کیخلاف ورزی کر رہے ہیں اگر آپ الیکشن کی مدت بڑھانا چاہتے ہیں تو آئین میں ترمیم کر لیں الیکشن کی تاریخ پر ساری سیاسی جماعتیں مل کر بیٹھیں کوئی قانون سازی ایسی نہیں ہو سکتی جو سپریم کورٹ کے اختیار کو کم کرے اس جنگ کا نقصان اس ملک کو ہو رہا ہے، اس ملک کے عوام کو ہو رہا ہے سپریم کورٹ بار ایسوسی عدلیہ کی خود مختاری کیلئے کھڑے ہیں ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ان لوگوں کو بٹھائیں

    سابق جسٹس شبر رضا رضوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کا پارلیمنٹ کو خطاب خوش آئند ہے۔ ریاست اپنے اختیارات منتخب لوگوں کے ذریعے سے استعمال کرے گی۔ یہ ہمارے آئین میں درج ہے۔ ہماری عدالتوں نے پارلیمانی طرز حکومت کے حق میں متعدد فیصلے دئیے۔پارلیمانی نظام حکومت میں وزیراعظم وفاق اور صوبے میں وزیراعلی کے افسسز اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ آئین میں اسمبلیوں کی مدت اور اسکے جلد تحلیل کے بارے میں واضح طور پر لکھا ہے۔ آئین میں لکھا ہے کہ اگر اسمبلی اپنی مدت مکمل کرنے سے پہلے تحلیل ہو جائے تو 90 روز مین انتخاب ضروری ہیں۔

    جیورسٹس کانفرنس سے سابق صدر سپریم کورٹ بار حامد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ عدالتی فیصلے پرعمل درآمد کرے کسی کے ہاس گنجائش نہیں ہے کہ وہ عدالتی فیصلے سے باہر نکل سکے آئین کے تحت انتظامی ادارے سپریم کورٹ کے فیصلوں پرعمل درآمدکرنے اور کرانے کے پابند ہیں جویہ بات کررہے ہیں کہ عمل نہیں کرنا عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کررہے ہیں ہم سب سے پہلے وکیل ہیں پھر ہماری ہمدردیاں کسی بھی سیاسی جماعت کےساتھ ہیں آئین نہ ہوتو وکالت کےپیشے کا جواز نہیں رہ جاتا

    پاکستان میں آئین کےتقدس اور عدلیہ کی آزادی کے موضوع پر راونڈ ٹیبل کانفرنس ،سینئر قانون دان بیرسٹر اعتزاز احسن، سردار لطیف کھوسہ سمیت دیگر سینئر وکلاء پہنچ گئے خواجہ طارق رحیم، آفتاب باجوہ، ربیعہ باجوہ شرکت کیلئے پہنچ گئے ،سردار لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ، کرامت نذیر بھنڈاری، چودھری اکرام گوندل ایڈووکیٹ بھی کانفرنس میں شریک ہیں سابق صدر لاہور بار ایسوسی ایشن جہانگیر جھوجھہ بھی گول میز کانفرنس میں شریک ہیں ،سابق اٹارنی جنرل پاکستان انور منصور، سیکرٹری سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن مقتدر اختر شبیر بھی کانفرنس میں شریک ہیں،جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ جاوید اقبال بھی گول میز کانفرنس میں شریک ہیں،سپریم کورٹ بار کے صدر عابد زبیری، سابق صدر لاہور ہائیکورٹ بار مقصود بٹر بھی کانفرنس میں پہنچ گئے

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

  • مرضی کے عدالتی فیصلے بوٹ و بندوق کے احکامات کے ہم پلہ ہیں،امان اللہ کنرانی

    مرضی کے عدالتی فیصلے بوٹ و بندوق کے احکامات کے ہم پلہ ہیں،امان اللہ کنرانی

    مرضی کے فیصلے بوٹ و بندوق کے احکامات کے ہم پلہ ہیں،امان اللہ کنرانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے موجودہ آئینی بحران کے حوالہ سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی ہے اور اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے

    امان اللہ کنرانی ٹویٹ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عدالتوں کا کام انصاف کے مطابق فریقین کے درمیان فیصلے کرنا ہے کسی بھی فریق کی استدعا کے بغیر کسی ایک کے حق میں فیصلہ متاثرہ فریق کو اپیل کا ایک Natural Justice کے تحت حق دیا جاتا ہے اپنی مرضی و خواہش پر فسطائیت کے فیصلوں کو عدالتی لبادے میں بوٹ و بندوق کے احکامات کے ہم پلہ سمجھا جائے گا

    واضح رہے کہ پچھلے کچھ دنوں سے پاکستان میں معاشی، سیاسی بحران کے ساتھ آئینی بحران بھی چل رہا ہے، پنجاب میں الیکشن کے حوالہ سے چیف جسٹس نے از خود نوٹس لیا تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے از خود نوٹس فیصلے کے خلاف فیصلہ دے دیا کہ چیف جسٹس کو اختیار نہیں، بعد ازاں پارلیمنٹ میں بھی ایک بل لایا گیا جس میں چیف جسٹس کے اختیارات کو کم کیا گیا، بل صدر مملکت نے منظور نہیں کیا جس کے بعد بل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے پاس کروا کر دوبارہ صدر مملکت کو بھیجا گیا، سپریم کورٹ میں اس بل کے خلاف درخواست دائر ہوئی تو آٹھ رکنی بینچ نے اس پر عملدرآمد روک دیا،

    چیف جسٹس کا خودساختہ بنچ؛ آمریت کی بدترین مثال ہے. امان اللہ کنرانی

    قانون سازی پر عجلت سے نوٹس لینا قابل مذمت ہے. امان اللہ کنرانی

    فائز عیسیٰ کا گولڈن جوبلی کے موقع پر پارلیمنٹ آنا لائق تحسین ہے. امان اللہ کنرانی

    چھ رکنی بینچ کا فیصلہ عدالتی بغاوت، بغض و عناد سے بھرپور ہے، امان اللہ کنرانی

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے