Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • پی ٹی آئی نے کے پی انتخابات کی تاریخ کے معاملے پر پشاور ہائیکورٹ میں درخواست جمع کرادی

    پی ٹی آئی نے کے پی انتخابات کی تاریخ کے معاملے پر پشاور ہائیکورٹ میں درخواست جمع کرادی

    پاکستان تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں انتخابات کی تاریخ کے معاملے پر پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی رہنما اور اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی مشتاق غنی نےپشاور ہائی کورٹ میں رٹ دائرکردی ہےاس موقع پر پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی صوبائی قیادت بھی وکلاء بھی ہمراہ تھےممتازقانون دان بیرسٹرگوہر کی ثالثی سےاب یہ درخواست معمولی تبدیلیوں کے بعد پشاور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی-

    آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے اجلاس، پاکستانی وفد امریکا پہنچ گیا

    دائر درخواست میں موقف اختیارکیا گیا ہےکہ گورنر خیبرپختونخوا نے انتخابات کے لیے 8 اکتوبرکی تاریخ دی ہے، گورنر نے پہلے 28 مئی کی تاریخ کا اعلان کیا لیکن الیکشن کمیشن نے اسے نوٹیفائی نہیں کیا،گورنر کی جانب سے 8 اکتوبر کی تاریخ غیرقانونی و غیر آئینی ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے بھی فیصلہ دیا ہے اور الیکشن کمیشن اس پر عمل درآمد کا پابند ہے،گورنر کو فوری الیکشن کے لیے تاریخ دینےکا حکم دیا جائے، درخواست میں الیکشن کمیشن، وفاقی وصوبائی حکومت، گورنر کے پی اور صدر مملکت کو فریق بنایا گیا ہے۔

    عمران خان کی بغاوت پر اکسانے کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    خیال رہےکہ گزشتہ روز رجسٹرار سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کردی تھی پی ٹی آئی نے اپنی درخواست پر رجسٹرار سپریم کورٹ کے اعتراضات کے خلاف اپیل دائر نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا، ہائیکورٹ سے داد رسی نہ ہونے کی صورت میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائےگا-

    اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے ترجمان شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ انتخابات کا انعقاد آئینی تقاضا ہے، تاہم حکومت الیکشن سے بھاگ کرآئین کی سنگین خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے ہم آئین کے تحفظ کے لئے ہر عدالت میں جائیں گے کیونکہ آئین کا تحفظ عدلیہ ہی کر سکتی ہے انتخابات میں تاخیر سے ملک سنگین بحران کا شکار ہے، مہنگائی نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔

    عمران خان توشہ خانہ کیس: جلد سماعت مقرر کرنے کی الیکشن کمیشن کی درخواست خارج

  • آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    1973 کے آئین کی گولڈن جوبلی تقریب، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو سیاسی باتیں کی گئیں ان سے اتفاق نہیں کرتا ،قانون میرا میدان ہے، ہم نے تنقید بھی سنی ہے، ہم بھی آئین کے محافظ ہیں، ہم سب نے آئیں کے تحفظ کا حلف لیا ہوا ہے،یہ آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ہے،اپنی اور سپریم کورٹ کے طرف سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہم سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑے ہیں، آئین آزادی صحافت اور معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے،پارلیمان اور عدلیہ کا کام لوگوں کی خدمت ہے،جب لوگ یہ بات سمجھ جائیں گے تو سمجھیں گے کہ ہمارا آج محفوظ ہے، لوگ اپنی اچھائی سوچتے ہیں برائی اپنی نہیں سوچتے،ہم اپنی غلطیوں، ناکامیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں،آئین میں سے سب سے اہم بات لوگوں کے حقوق کی ہے،پارلیمان ، بیوروکریسی سب کے وجود کا مقصد ایک ہونا چاہیئے، عوام کی خدمت، ہمارا کام ہے کہ آئین اور قانون کے مطابق جلد ازجلد فیصلے کریں، اللہ کے سائے کے بعد اس کتاب کا سایہ ہمارے سر پر ہے،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ 2014 سے آپ کاہمسایہ ہوں، پارلیمان اور عدلیہ کا بنیادی کام لوگوں کی خدمت ہے، ہمیں آئین پاکستان کی اہمیت پہچان کر اس پرعمل کرناچاہیے آئین کی گولڈن جوبلی کاجشن منانے آیا ہوں،ہم دشمنوں سے اتنی نفرت نہیں کرتے جتنی ایک دوسرے سے کرتے ہیں،تقسیم ہند نہ ہوتی تومسلمان بطور اقلیت ہندوستان میں رہتے،کل آپ کہیں کہ آپ کوبلایا بھی اورپھر بھی آپ نے ہمارے خلاف فیصلہ کیا،

    کسی کو مذاکرات کرنے ہیں تو پہلے شرطیں نہ رکھیں.آصف زرداری

    قومی آئینی کنونشن میں وزیراعظم کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

    الیکشن اخراجات بل قومی اسمبلی میں پیش

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس واپسی کی حکومتی درخواست، فیصلہ محفوظ۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس واپسی کی حکومتی درخواست، فیصلہ محفوظ۔

    سپریم کورٹ، جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف کیورواٹیو ریویو،اٹارنی جنرل چیف جسٹس کے چمبر میں پیش ہو گئے.

    بعد ازاں اٹارنی جنرل نے میڈیا سے مختصر بات چیت کی ہے، صحافیوں نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس واپس ہوجائے گا ؟ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ ابھی آپ کو تھوڑی دیر میں بتا دیتے ہیں، امید تو ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس واپس ہو جائے گا، آج چیف جسٹس کے چیمبر میں کیوریٹو ریویو اپیلوں پر سماعت ہوئی حکومت نے رجسٹرار کے اعتراضات کے خلاف بھی اپیلیں فائل کی تھیں۔ ہم نے اپنے دلائل دیئے بعد میں فیصلہ محفوظ ہوا۔ ہم نے عدالت کو کہا کہ ملکی آئین میں دوسری بار نظرثانی داخل کرنے کی اجازت نہیں ۔ انڈیا میں ایک بار دوسری بار نظرثانی کی اپیل داخل کرنے کے لئے انڈین سپریم کورٹ کے رولز میں ترمیم کی گئی۔ انڈیا میں کیوریٹور ریویو کی ایک پرویزن موجود ہے۔ وہاں ایک فیصلہ جوڈیشل ججمنٹ میں آیا تھا۔ ہمارے پاس انتظامی سطح پر رجسٹرار کے فیصلے پر اعتراض تھا اس پر ایک remedy ہے جو اپیل کی ہے جس کا ہم نے فائدہ اٹھایا۔

    اٹارنی جنرل سے صحافیوں نے پوچھا کہ کیا ان چیمبر سماعت کے دوران کوئی گلے شکوے ہوئے ؟اٹارنی جنرل سوالات پر مسکراتے رہے، صحافیوں نے سوال کیا کہ چیف جسٹس کیخلاف جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر ہو سکتا ہے؟اٹارنی جنرل عثمان منصور اعوان نے جواب دیا کہ نو کمنٹس

    واضح رہےکہ وفاقی حکومت نےجسٹس قاضی فائزعیسیٰ کےخلاف کیوریٹو ریویو واپس لینےکےلیےسپریم کورٹ سےرجوع کیاتھا،حکومت کا مؤقف تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس کمزور اور بے بنیاد وجوہات پر دائر کیا گیا تھا لہٰذا حکومت نے اس کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ پہلے ہی اس فیصلے کی منظوری دے چکی ہے۔

    اس حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ریفرنس کے نام پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں اور بدنام کیاگیا، یہ ریفرنس نہیں تھا، آئین اور قانون کی راہ پر چلنے والے ایک منصف مزاج جج کے خلاف ایک منتقم مزاج شخص عمران خان کی انتقامی کارروائی تھی۔

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

     آئندہ ہفتے مقدمات کی سماعت کے لئے بنچز تشکیل

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

  • جو آئین کے مطابق فیصلے نہ کریں، ان پر غداری کے مقدمے ہونے چاہئیں،رانا مشہود

    جو آئین کے مطابق فیصلے نہ کریں، ان پر غداری کے مقدمے ہونے چاہئیں،رانا مشہود

    لاہور: مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا مشہود نے کہا ہےکہ معیشت کو بہتر کرنے کےلیےفسادی سیاست ختم کرنےکی ضرورت ہے۔

    باغی ٹی وی: لاہور کے علاقے گلشن راوی میں اپنے انتخابی دفتر کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں رانا مشہود نے کہا کہ سپریم کورٹ کو اب یہ جان لینا چاہیےکہ پارلیمان سپریم ادارہ ہے،یہ کیا بات ہوئی، ایک جنرل کو یہ اپنا ابو کہتےہیں، جب وہ چلا جائے تو چیف جسٹس کو ابو کہنا شروع کر دیتے ہیں،ثاقب نثار کو چوراہے پر لٹکایا جانا چاہیے-

    وفاقی حکومت نےتوشہ خانہ کی تفصیلات پبلک کرنےکا فیصلہ چیلنج کر دیا

    انہوں نے کہا کہ نواز شریف انشا اللہ جلد واپس آئیں گےاور پاکستان دوبارہ پاؤں پر کھڑا ہوگا ، جن لوگوں نے نواز شریف کو نااہل کیا تھا، ان کا اوپن ٹرائل ہونا چاہیے اور آرٹیکل 6 کے مطابق سزائیں ملنی چاہئیں۔

    رانا مشہود نے کہا کہ جو آئین کے مطابق فیصلے نہ کریں، ان پر غداری کے مقدمے ہونے چاہئیں جب کہ ججز پارلیمان کے مرہون منت ہیں، اگر یہ پارلیمان کی عزت نہیں کریں گے تو پارلیمنٹ کو اپنی عزت کرانا آتی ہے۔

    آئر لینڈ کے ڈبلن ائیرپورٹ پرغیرمتوازن لینڈنگ کے دوران پرواز کو حادثہ،رن وے بند

  • وفاقی کابینہ کا اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس میں ہوگا

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج دوپہر 2 بجے وزیراعظم ہاؤس میں ہوگا۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کےمطابق وفاقی کابینہ قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کرے گی،اجلاس میں قانونی مشاورت اورسپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق حکمت عملی پربات ہوگی، عدالتی اصلاحات بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظورکرانے پر بھی بات ہوگی۔

    وفاقی حکومت کا ازخود نوٹس اختیارمیں ترمیم کا بل دوبارہ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا …

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی نے چند روز قبل عدالتی اصلاحات کا بل منظور کر کے توثیق کے لیے صدر پاکستان کو بھیجا تھا تاہم صدر عارف علوی نے بل نظر ثانی کے لیے واپس پارلیمنٹ کو بھیج دیا ہے۔

    خیال رہے کہ صدر کی جانب سے اعتراض کے بعد وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس اختیار میں ترمیم کا بل دوبارہ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا فیصلہ کیا ہےقانون کی رو سےاگر صدرکوئی بل نظرثانی کیلئے پارلیمان کوواپس بھیجےتوحکومت پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس بلا کر بل منظور کراکر صدر کو بھیج سکتی ہے اگر بل کی دوبارہ منظوری کے بعد بھی صدر دستخط نہ کریں تو یہ بل 10 دن بعد خود بخود ایکٹ بن جائے گا۔

    پارلیمنٹ کی قرار داد پاکستان کے آئین اور عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،سپریم کورٹ …

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا تفصیلی نوٹ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا تفصیلی نوٹ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا تفصیلی نوٹ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا۔

    باغی ٹی وی:جسٹس قاضی فائز عیسی کا نوٹ اپ لوڈ ہونے کے کچھ دیر بعد ویب سائٹ سے ہٹادیا گیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا نوٹ انگریزی اور اردو ترجمے کے ساتھ ویب سائٹ پر جاری کیا گیا تھا۔

     

    جسٹس قاضی فائز عیسی نےحافظ قرآن اضافی نمبر کیس میں تفصیلی نوٹ جاری کر دیا

    واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حافظ قرآن 20 اضافی نمبر کیس کا تفصیلی نوٹ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا تھا تفصیلی فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا ہے کہ ازخود نوٹس نمبر 4/2022 میں 29 مارچ کا حکم 4 اپریل کا نوٹ منسوخ نہیں کر سکتا، متکبرانہ آمریت کی دھندمیں لپٹے کسی کمرہ عدالت سے نکلنے والے فیصلے آئین کو برطرف نہیں کر سکتے۔

    تفصیلی نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے 29 مارچ کے حکم کو 6 رکنی بینچ کالعدم نہیں کر سکتا تھا، 6 ججز کا فیصلہ آئین کا متبادل نہیں ہو سکتا ،6 ججز جلد بازی میں اکٹھے ہوئے ،6 رکنی بینچ نے چند منٹ میں ازخود نوٹس کارروائی کو ختم کر دیاعدلیہ کا کام آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے، اختیارات سے تجاوز کیا جائے تو ججز کے حلف کی خلاف ورزی ہوگی لارجربینچ کے حکم سے آمرانہ جھلک آتی ہے جو آئین کا متبادل نہیں ہوسکتا، چیف جسٹس کیلئے استعمال کیا گیا لفظ ماسٹر آف روسٹرز آئین میں کہیں نہیں ملتا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو سماعت کے لیے مقرر

  • پارلیمنٹ کی قرار داد پاکستان کے آئین اور عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،سپریم کورٹ بار

    پارلیمنٹ کی قرار داد پاکستان کے آئین اور عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،سپریم کورٹ بار

    اسلام آباد: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف منظور کی گئی صریح غیر قانونی قرار داد کو پاکستان کے آئین اور عدلیہ کی آزادی کے منافی قرار دیتے ہیں-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور سیکرٹری کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کیلئے چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کےساتھ کھڑے ہیں،بدقسمتی کی بات ہےکہ قومی اسمبلی جوکہ آئین کے مطابق کام کرنے کی پابند ہے، نے آئین کے آرٹیکل 68 کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے آرٹیکل 68 کسی جج یا جج کے طرز عمل کے حوالے سے پارلیمنٹ میں بحث کرنے سے منع کرتا ہے-

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ ، ارکان پارلیمنٹ نے عدلیہ کے ارکان کے خلاف توہین آمیز اور انتہائی اہانت آمیز تبصرے کیے ہیں، یہ تبصرےنہ صرف آئین کی خلاف ورزی بلکہ عدلیہ کی سالمیت کے لیے براہ راست چیلنج ہیں، پارلیمنٹ، عدلیہ اورایگزیکٹو کو آزادانہ طور پرکام کرنا چاہیےریاست کی کوئی شاخ کسی دوسرے پر تجاوز نہیں کر سکتی اور نہ ہی اس سے برتر ہے عدالتی فیصلہ حتمی ہے اور قومی اسمبلی میں منظور کی گئی قرارداد کے ذریعے اسے الگ نہیں کیا جا سکتا-

    کہا گیا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ قرارداد ایوان کے 342 میں سے صرف 43 ارکان نے منظور کی تھی، ایسی قراردادیں انتشار کا باعث بنیں گی جب استحکام اور جمہوری طور پرمنتخب حکومتوں کی ضرورت ہوسپریم کورٹ بار پاکستان کے تمام قانونی برادری کے ساتھ مل کر معزز ججوں کے میڈیا ٹرائل کی شدید مذمت کرتی ہے-

    اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن تمام اسٹیک ہولڈرز سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ عدلیہ کی سالمیت کے تحفظ اور ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کی بحالی کے لیے باہمی اتفاق رائے پر پہنچیں، ایسا کرنے میں ناکامی سے ہمارا ملک مکمل انارکی کی طرف بڑھے گا، ملک میں موجودہ سیاسی اور معاشی بحران پر قابو پانے کے لیے تمام ریاستی اداروں کا باہمی اتحاد بہت ضروری ہے۔

  • وفاقی حکومت کا ازخود نوٹس اختیارمیں ترمیم کا بل دوبارہ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت کا ازخود نوٹس اختیارمیں ترمیم کا بل دوبارہ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا فیصلہ

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس اختیار میں ترمیم کا بل دوبارہ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا فیصلہ کر لیا-

    باغی ٹی وی: صدر کی جانب سے اعتراض کے بعد وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس اختیار میں ترمیم کا بل دوبارہ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا فیصلہ کیا ہےقانون کی رو سےاگر صدرکوئی بل نظرثانی کیلئے پارلیمان کوواپس بھیجےتوحکومت پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس بلا کر بل منظور کراکر صدر کو بھیج سکتی ہے اگر بل کی دوبارہ منظوری کے بعد بھی صدر دستخط نہ کریں تو یہ بل 10 دن بعد خود بخود ایکٹ بن جائے گا۔

    پاکستان میں ہماری جنگ حقیقی آزادی کیلئے ہے،عمران خان

    ن لیگ کے رہنما عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) بل 2023 کے حوالے سے صدر کے نکات میں کوئی وزن نہیں، پارلیمان دوبارہ بل کو اکثریت سے منظور کرے گی۔

    لیگی رہنما طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ قانون بھی بنے گا اور عدل کے حصول میں ترمیم بھی ہوگی، ترجمان پی ٹی آئی نے ایوانِ صدر سے قانون واپس بھیج دیا تاکہ لاڈلے کیلئے بینچ فِکسنگ ہو سکے۔

    سکیورٹی فورسز کی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی، 2 اہلکار شہید

    واضح رہے کہ خیال رہے کہ صدر پاکستان نے سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) بل 2023 آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت نظر ثانی کیلئے پارلیمنٹ کو واپس بھجوایا ہے۔

    صدر نے کہا کہ بادی النظر میں یہ بل پارلیمنٹ کے اختیار سے باہر ہے، بل قانونی طورپر مصنوعی اور ناکافی ہونے پر عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے، میرے خیال میں اس بل کی درستگی کے بارے میں جانچ پڑتال پوری کرنےاور دوبارہ غور کرنے کیلئے واپس کرنا مناسب ہے۔

    خیبرپختونخوا بار کونسل کا چیف جسٹس پاکستان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

  • خیبرپختونخوا بار کونسل کا چیف جسٹس پاکستان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

    پشاور: خیبرپختونخوا بار کونسل نے چیف جسٹس پاکستان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا۔

    باغی ٹی وی : خیبرپختونخوا بار کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غلط فیصلے نے جوڈیشل سسٹم کو داغ دار بنایا ہے، جوڈیشل ضابطہ اخلاق اور اپنےحلف کی خلاف ورزی کی گئی وفاقی حکومت چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کرے، سینئر ججز کو نظرانداز کرنا جوڈیشل ضابطہ اخلاق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسی نےحافظ قرآن اضافی نمبر کیس میں تفصیلی نوٹ جاری کر دیا

    خیبرپختونخوا بار کونسل نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے 12 اپریل کو بار کونسل کا اجلاس طلب کر لیا ہے، اجلاس میں صوبے بھر کے بار صدور کو مدعو کیا جائے گا۔


    قبل ازیں سابق وزیراعظم و مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نےچیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمرعطا بندیال سےفی الفور مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا اپنی ٹوئٹ میں نوازشریف کا کہنا تھاکہ عدالتیں قوموں کو بحرانوں سےنکالتی ہیں نہ کہ بحرانوں میں دھکیلتی ہیں چیف جسٹس نے نہ جانے کونسا اختیار استعمال کر کے اکثریتی فیصلے پر اقلیتی رائے مسلط کردی اپنے منصب اور آئین کی توہین کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے والا چیف جسٹس مزید تباہی کرنے کے بجائے فی الفور مستعفی ہو جائے-

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو سماعت کے لیے مقرر

    دریں اثنا سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ کے نوٹ کے بعد وفاقی حکومت نے بھی چیف جسٹس سے فی الفور مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔


    علاوہ ازیں عوامی نیشنل پارٹی نےبھی چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمرعطا بندیال سےاستعفےکا مطالبہ کیاعوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ چیف جسٹس اب بس، استعفیٰ دیں، اگر استعفیٰ نہیں دیا تو عید کے بعد تیار رہیں، ہم اسلام آباد آرہے ہیں، پھر عوام آپ سے استعفیٰ لے کر رہیں گے عدلیہ کی آزادی، جمہوریت، آئین و پارلیمان کی بالادستی کی جنگ پہلے بھی لڑی تھی، اب بھی لڑیں گے، عدلیہ کی حقیقی آزادی کی تحریک اب ہم چلائیں گے۔

    سعودی عرب : پہلی مرتبہ خاتون اور مرد خلابازآئندہ ماہ خلائی مہم پرروانہ ہوں گے

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو سماعت کے لیے مقرر

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو سماعت کے لیے مقرر

    اسلام آباد : چیف جسٹس پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو سماعت کے لیے مقرر کردیں۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال اس کی سماعت کریں گے، حکومت کی جانب سے کیوریٹوریو واپس لینے کی درخواست بھی سماعت کے لیے مقرر کردی گئی ہے چیف جسٹس پاکستان 10 اپریل کو ان چیمبر سماعت کریں گے-

    چیف جسٹس آف پاکستان کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

    واضح رہےکہ وفاقی حکومت نےجسٹس قاضی فائزعیسیٰ کےخلاف کیوریٹو ریویو واپس لینےکےلیےسپریم کورٹ سےرجوع کیاتھا،حکومت کا مؤقف تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس کمزور اور بے بنیاد وجوہات پر دائر کیا گیا تھا لہٰذا حکومت نے اس کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ پہلے ہی اس فیصلے کی منظوری دے چکی ہے۔

    اس حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ریفرنس کے نام پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں اور بدنام کیاگیا، یہ ریفرنس نہیں تھا، آئین اور قانون کی راہ پر چلنے والے ایک منصف مزاج جج کے خلاف ایک منتقم مزاج شخص عمران خان کی انتقامی کارروائی تھی۔

    پنجاب الیکشن کا ازخود نوٹس چار تین سے مسترد ہوا ، جسٹس اطہرمن اللہ کا …

    شہباز شریف نے مزید کہا تھاکہ یہ ریفرنس عدلیہ کی آزادی پر شب خون اور اسے تقسیم کرنے کی مذموم سازش تھی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں نےاپوزیشن کےدورمیں بھی اس جھوٹےریفرنس کی مذمت کی تھی عمران خان نےصدرکےآئینی منصب کا اس مجرمانہ فعل کے لیے ناجائز استعمال کیا، صدر عارف علوی عدلیہ پر حملے کے جرم میں آلہ کاراورایک جھوٹ کےحصہ دار بنےپاکستان بار کونسل سمیت وکلا تنظیموں نے بھی اس کی مخالفت کی تھی، ہم ان کی رائے کی قدر کرتے ہیں-

    خیال رہے کہ صدارتی ریفرنس خارج ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے دور میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو دائر کیا گیا تھااس حوالے سے سابق وزیراعظم عمران خان نے بھی اعتراف کیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر کرنا ہماری حکومت کی غلطی تھی۔

    جسٹس قاضی فائز عیسی نےحافظ قرآن اضافی نمبر کیس میں تفصیلی نوٹ جاری کر دیا