Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف قومی اسمبلی میں قرارداد منظور

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف قومی اسمبلی میں قرارداد منظور

    قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کو مسترد کرنے سے متعلق قرارداد منظور کرلی گئی۔

    قومی اسمبلی میں تین رکنی بینچ کے فیصلے کو مسترد کرنے کے لیے قرارداد پیش کردی گئی۔ خالد مگسی نے سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کا فیصلہ مسترد کرنےکی قرارداد ایوان میں پیش کی گئی جو کہ منظور کر لی گئی ،قراردار کے مطابق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ کیا جائے۔ پارلیمنٹ نے قرارداد منظور کرلی۔ قرارداد کے مطابق ایوان سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتا ہے،ایوان تین رکنی بنچ کا فیصلہ مسترد کرتا ہے،وزیر اعظم اور کابینہ اس خلاف آئین و قانون فیصلے پر عملدرآمد نہ کرے، قرارداد کے مطابق ایوان ایک ہی وقت میں عام انتخابات کو مسائل کا حل سمجھتی ہے۔ایوان سیاسی اور معاشی استحکام کیلئے ایک ہی وقت پر عام انتخابات کو مسائل کا حل سمجھتا ہے، ایوان تین رکنی بینچ کا اقلیتی فیصلہ مسترد کرتا ہے، ایوان دستور کے آرٹیکل 63 اے کی غلط تشریح اوراسے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے ذریعے ازسرنو تحریر کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے عدالت عظمیٰ فل کورٹ فیصلے پر نظر ثانی کرے

     

    محسن لغاری نے ایوان میں کہا کہ ہم قانون بنا سکتے ہیں آئین نہیں توڑسکتے، ایوان کوجلسہ گاہ نہ بنائیں، جمہوریت کی ایکٹنگ ہی کرلیں۔ کیا ہم پارلیمنٹ اور عدلیہ کے درمیان جنگ چاہتے ہیں؟ اسپیکر راجا پرویز اشرف نے محسن لغاری کا مائیک بند کردیا، محسن لغاری کا کہنا تھا کہ مجھے قرارداد پر تحریک پیش ہوتے وقت بولنے نہیں دیا گیا میں اس قرارداد کی مخالفت کرتا ہوں آئین عدلیہ کے خلاف ایوان میں گفتگو کرنے سے منع کرتا ہے اس ایوان کو عدلیہ کے خلاف استعمال نہ کیا جائے

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    جس میں وہ کرسی پر بیٹھے ہیں اور سگار پی رہے ہیں، شیخ رشید احمد کو لاک اپ میں بندنہیں کیا

  • خیبرپختونخوا میں انتخابات، پی ٹی آئی سپریم کورٹ پہنچ گئی

    خیبرپختونخوا میں انتخابات، پی ٹی آئی سپریم کورٹ پہنچ گئی

    تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں انتخابات کے معاملے پر سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی

    سابق اسپیکرکے پی مشتاق غنی نے درخواست بیرسٹرگوہرکی وساطت سے دائر کی ہے درخواست میں الیکشن کمیشن اور گورنرکے پی کو فریق بنایا گیا ہے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ گورنر کے پی یکم مارچ کے عدالتی حکم پر عمل نہیں کر رہے گورنر کے پی نے میڈیا پر 28 مئی کی تاریخ کا اعلان کیا اور بعد میں انکار کر دیا، آئین کے مطابق 90 دن میں انتخابات ضروری ہیں سپریم کورٹ گورنرکے پی کو انتخابات کی تاریخ کا حکم دے

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کے حوالہ سے از خود نوٹس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ پنجاب میں الیکشن 14 مئی کو ہوں گے، الیکشن کمیشن نے 8 اکتوبر کی تاریخ مقرر کر تھی سپریم کورٹ نے اسے کالعدم قرار دے دیا ، سپریم کورٹ کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن نے نیا شیڈول جاری کر دیا ہے، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ کے پی میں انتخابات کے لیے گورنر کی طرف سے عدالت میں نمائندگی نہیں کی گئی کے پی میں الیکشن کی تاریخ کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کیا جائے کے پی میں انتخابات کے لیے درخواست گزار عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    جس میں وہ کرسی پر بیٹھے ہیں اور سگار پی رہے ہیں، شیخ رشید احمد کو لاک اپ میں بندنہیں کیا

  • اگر فل کورٹ نہ بنایا گیا تو ملک میں سیاسی اور آئینی بحران پیدا ہو جائےگا،وفاقی وزیر قانون

    اگر فل کورٹ نہ بنایا گیا تو ملک میں سیاسی اور آئینی بحران پیدا ہو جائےگا،وفاقی وزیر قانون

    اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سینئر ججز کو بینچ سے دور رکھا جارہا ہے،وفاقی کابینہ کی رائے تھی اکثریتی فیصلے کو اقلیتی فیصلے میں نہ بدلا جائے اور اگر فل کورٹ نہ بنایا گیا تو ملک میں سیاسی اور آئینی بحران پیدا ہو جائےگا۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد میں بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پنجاب الیکشن سے متعلق فیصلہ دیا، نگران حکومت الیکشن کمیشن کو تعاون فراہم کرے،الیکشن کمیشن خود مختار ادارہ ہے وہ ا پنے معاملات دیکھ سکتاہے پورے ملک میں الیکشن ایک ساتھ ہونے چاہئیں-

    انڈین انٹیلی جنس سروسز نے پاک فوج کے ساتھ وہ نہیں کیا ہوگا جو عمران …

    وزیر قانون نے کہا کہ آئین کے مطابق عام انتخابات کا طریقہ کار طے ہے،آئین کے مطابق مقررہ وقت کے بعد پنجاب اسمبلی خود تحلیل ہوگئی، گورنر پنجاب نے اسمبلی تحلیل کی بھیجی گئی سمری پردستخط نہیں کیے پنجاب اسمبلی کی تحلیل کا معاملہ پنجاب ہائیکورٹ گیا،پنجاب اورخیبرپختونخوا ہائیکورٹس میں پٹیشنز زیرسماعت ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ عدالت نے مشاورت سےالیکشن کمیشن کو تاریخ دینےکا کہایکم مارچ کو فیصلہ آیا تو کیس 4/3 سے خارج ہوا، چیف جسٹس سپریم کورٹ نے انتخابات کے معاملے پرازخود نوٹس لیا،پہلے 9 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت شروع کی، چارججز نے پٹیشنز خارج کیں اور 2 نے کیس سننے سے انکار کیا، ازخود نوٹس کے معاملے پر دو ججز اپنی رائے کا اظہار کرچکے ہیں، رائے دینے والے دونوں ججز نے بینچ سے علیحدگی اختیار کی ،یکم مارچ کو فیصلہ آیا تو ہمارا موقف تھا کہ 3کے مقابلے 4سے کیس خارج ہوا۔

    پی ٹی آئی رہنما کا آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان

    ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کے معاملے پر قانون سازی کی جارہی ہے،الیکشن پر 184تھری پر جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا واضح کورٹ آرڈر آچکاہےعدالت نےمشاورت سےالیکشن کمیشن کوتاریخ دینے کا کہا، الیکشن کمیشن نے نئی تاریخ کا اعلان کیاتو تنازعہ پیدا ہوا،پٹیشن پر ہم نے فل کورٹ کی استدعا کی تھی جو مسترد کی گئی،عدالت نے کسی سیاسی جماعت کو مقدمے کا فریق نہیں بنایا۔

    وزیر قانون کا کہنا تھا کہ سینئر ججز کو بینچ سے دور رکھاجارہاہے،وفاقی کابینہ کی رائے تھی اکثریتی فیصلے کو اقلیتی فیصلے میں نہ بدلا جائے،حکومت سمجھتی ہے معاملے پر فل کورٹ فیصلہ دیتا تو بہتر تھا،سپریم کورٹ کے اقلیتی بینچ کے فیصلے سے آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

    شاہین شاہ نے اپنی 23ویں سالگرہ سسرال میں منائی،تصاویر

  • عدالتی فیصلوں سے پاکستان کا نظام عدل دنیا میں مذاق بن گیا،جے یو آئی

    عدالتی فیصلوں سے پاکستان کا نظام عدل دنیا میں مذاق بن گیا،جے یو آئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترجمان جے یو آئی اسلم غوری نے کہا ہے کہ عدالت عظمی اور عالیہ کے معاملات سے پوری قوم حیرت زدہ ہے ۔

    اسلم غوری کا کہنا تھا کہ عوام عدالتی نظام سے دلبرداشتہ ہوئے تو خانہ جنگی پھیل جائے گی ,آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو کھلے دل سے تسلیم کرنا ہوگا.آمروں کے آگے جھکنا اور منتخب جمہوری حکومتوں کے لئے رکاوٹیں نظام عدل کا منہ چڑا رہے ہیں ۔بھٹو ،گیلانی اور نواز شریف کے فیصلے ہر سطح پر متنازعہ کہلاتے ہیں ۔آئینی اور عدالتی فیصلوں کا احترام کرنے والے ہی ان فیصلوں کا نشانہ کیوں ؟ عدالتی فیصلوں سے پاکستان کا نظام عدل دنیا میں مذاق بن گیا ہے ۔قانون اندھا بہرہ اور پیار و محبت سے عاری ہوتاہے ۔

    ترجمان جے یو آئی اسلم غوری کا مزید کہنا تھا کہ اسد عمر کو توہین عدالت میں طلب کرنے کی بجائے ان سے معاونت لی گئی ۔ ملکی معیشت تباہ کرنے والا کیسے معاشی مشورے دے سکتا ہے ۔ حکومت کا فل کورٹ کا مطالبہ آئینی اور قانونی تھا ۔

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    جس میں وہ کرسی پر بیٹھے ہیں اور سگار پی رہے ہیں، شیخ رشید احمد کو لاک اپ میں بندنہیں کیا

    قبل ازیں قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اسعد محمود نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو جوڈیشل مارشل لاء قرار دیدیا اور کہا کہ کسی صورت اس فیصلے کو پاکستان میں نافذالعمل نہیں ہونے دیں گے، لڑیں گے اور آخری دم تک لڑیں گے۔ہم اس شجرے سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے ملک کے اندر ملٹری مارچکے خلاف جدوجہد کی جیلیں کاٹیں، جوڈیشل مارشل لاء کو کسی صورت تسلیم نہیں کرتے، پارلیمان میں سیاسی جماعتوں پر تنقید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ اتفاق نہیں پیدا کر سکتے تو آپ بھی آئین کی عملداری کے لئے اتفاق پیدا نہیں کر سکے، آپ نے عدلیہ کو تقسیم کیا، آپ سمجھتے ہیں کہ ملک میں تقسیم کی بنیاد ڈالیں گے اور گھروں میں سکون سے سوئیں گے ایسا نہیں ہو گا، آپ کی روح کو بھی اطمینان نہیں ملے گا،

  • الیکشن سے متعلق سپریم کورٹ نے جلد بازی میں فیصلہ کیا،مراد علی شاہ

    الیکشن سے متعلق سپریم کورٹ نے جلد بازی میں فیصلہ کیا،مراد علی شاہ

    کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ جب ججز اس فیصلے سے متفق نہیں تو عوام کیسے ہوسکتے ہیں-

    باغی ٹی وی : کراچی میں میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ الیکشن سے متعلق سپریم کورٹ نے جلد بازی میں فیصلہ کیا، جب ججز اس فیصلے سے متفق نہیں تو عوام کیسے ہوسکتے ہیں، جن ججزنےانکارکیا ان کےعلاوہ فل کورٹ بنائیں،الیکشن کا فیصلہ الیکشن کمیشن پر چھوڑ دینا چاہیے، ادارے اپنی حدود میں کام کریں گے تو حالات میں بہتری آئے گی-

    مجھے معلوم ہے پولیس کیا کارنامے انجام دے رہی ہے،عدالت کے ریمارکس

    مراد علی شاہ نے کہا کہ آئین میں ہر ادارے کی پاور اور حدود کا تعین کیاگیا ہے، الیکشن تب ہوں گے جب الیکشن کمیشن چاہے گا، الیکشن ضرور ہوں لیکن لیول پلیئنگ فیلڈ ہونی چاہیے اور الیکشن ایسے نہ ہوں کہ 2018 والی صورتحال ہو۔

    رات کو تھوڑی تاخیر سے کھانا کھانا صحت کیلئےنقصان دہ نہیں،تحقیق

    ملٹری گریڈاسلحے پرلوگوں کے تحفظات کے حوالے سے مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ کاکام ہے فنڈ دینا تاہم ملٹری گریڈاسلحے پرلوگوں کے تحفظات ہیں، ایسانہ ہو ملٹری گریڈ اسلحےکے استعمال سے دوسرےبھی زدمیں نہ آجائیں، گھوٹکی کےکچے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن چل رہا ہے، کچے کے علاقے میں اسلحہ کی اسمگلنگ کو روکنا ہوگا، کچے میں چوکیاں بنائی ہیں تاکہ ڈاکوؤں کے پاس آنے والا اسلحہ روکا جائے۔

    پاکستان کا برطانوی وزیر داخلہ کے پاکستانی مردوں کے حوالے سے بیان پراظہارتشویش

  • سوال ہی نہیں پیدا ہوتا14 مئی کو پنجاب میں الیکشن ہوجائے  ،وکیل الیکشن کمیشن

    سوال ہی نہیں پیدا ہوتا14 مئی کو پنجاب میں الیکشن ہوجائے ،وکیل الیکشن کمیشن

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن کے وکیل اور سینئر قانون دان عرفان قادر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت پنجاب میں الیکشن کا امکان رد کردیا۔

    باغی ٹی وی: عرفان قادر نے کہا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ تین رکنی بینچ کے فیصلے کے مطابق 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن ہوجائے الیکشن کمیشن اس فیصلے کا پابند نہیں ہے، یہ فیصلہ آئین کے خلاف ہے ۔

    وفاقی کابینہ اجلاس، سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کر دیا

    سینئر قانون دان کا کہنا تھا کہ یہ نہ آئین میں ہے نہ قانون میں کہ سپریم کورٹ الیکشن کی تاریخ دے، اس فیصلے کو کابینہ ہی نہیں ایک عام شہری بھی مسترد کرسکتا ہے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا (کے پی) میں الیکشن کے التوا سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کا 8 اکتوبر کو الیکشن کرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے 14 مئی کو الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا-

    سپریم کورٹ 6 رکنی لارجر بنچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ازخود نوٹس ختم …

    فیصلے میں کہا گیا تھاکہ الیکشن کمیشن کا 22 مارچ کا فیصلہ غیر آئینی قرار دیا جاتا ہے، صدر مملکت کی دی گئی تاریخ کا فیصلہ بحال کیا جاتا ہے، آئین وقانون انتخابات کی تاریخ ملتوی کرنےکا اختیارنہیں دیتا، 22 مارچ کو الیکشن کمیشن نے فیصلہ دیا تب انتخابی عمل پانچویں مرحلے پر تھا، الیکشن کمیشن کے آرڈر کے باعث 13 دن ضائع ہو گئے، الیکشن کمیشن نے غیر آئینی فیصلہ کیا۔

    چیف جسٹس کو چاہیے کہ الیکشن کیس پر فل کورٹ بنا دیں. وزیراعظم

    فیصلے میں کہا گیا تھاکہ وفاقی حکومت انتخابات کے لیے افواج، رینجرز، ایف سی اور دیگر اہلکار فراہم کرے، وفاقی حکومت 17 اپریل تک الیکشن کمیشن کو سکیورٹی پلان فراہم کرے، وفاقی حکومت اور نگران حکومت پنجاب نے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کیا تو کمیشن عدالت کو آگاہ کرے۔

    الیکشن از خود نوٹس کیس، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

  • پہلے بھی حق بات کہنے کی پاداش میں ڈسکوالیفکیشز بھگتی ہیں،مریم نواز

    پہلے بھی حق بات کہنے کی پاداش میں ڈسکوالیفکیشز بھگتی ہیں،مریم نواز

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اور خیبر پختونخوا کے الیکشن کے حوالہ سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ن لیگی رہنما مریم نواز کا ردعمل سامنے آیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ آج کا فیصلہ اس سازش کا آخری وار ہے جس کا آغاز آئین کو re-write کر کے پنجاب حکومت پلیٹ میں رکھ بنچ کے لاڈلے عمران کو پیش کی گئی کہ لو بیٹا، توڑ دو تاکہ ہم جیسے سہولت کاروں کی موجودگی اور نگرانی میں تمھیں دوبارہ سیلیکٹ کیا جائے۔

    ایک اور ٹویٹ میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ 2018 میں جو کام فیض، کھوسہ اور ثاقب نثار نے انجام دیا تھا، وہ ذمہ داری اب اس بنچ نے اٹھا لی ہے۔ اس خوفناک اور ڈھٹائی سے کی گئی سہولت کاری اور ون مین شو کے خلاف سپریم کورٹ کی اکثریت نے بغاوت کر دی۔ وقت آ گیا ہے کہ پارلیمنٹ اس سہولت کاری کو اپنے آئینی اور قانونی ہاتھوں سے روک دے۔

    اجمل جامی نے ٹویٹ کی جس میں کہا کہ فیصلہ مسترد کرنے سے توہین عدالت کی جانب دانستہ جایا جا رہا ہے، نتیجے میں نیا بیانیہ تو شاید مل جائے مگر ڈسکوالیفیکشین بھی ہوسکتی ہے۔۔۔!! کے جواب میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ تو ہو جائے! پہلے بھی حق بات کہنے کی پاداش میں ڈسکوالیفکیشز بھگتی ہیں، اب بھی بھگت لیں گے۔ یاد رہے کہ اقامہ جیسے مزاق پر نواز شریف کی ڈسکوالیفیکیشن آج بھی برقرار ہے۔ آپ کو شاید کالے ڈبوں میں منہ چھپا کر گھومنے والے بزدلوں کو دیکھنے کی عادت ہو گئی ہے!

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

    وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو یکسر مسترد کر دیا

  • وفاقی کابینہ اجلاس، سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کر دیا

    وفاقی کابینہ اجلاس، سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کر دیا

    وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو یکسر مسترد کر دیا۔ اجلاس میں کابینہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ قابل عمل نہیں ۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں وزرا نے شرکت کی، اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر غور کیا گیا، کابینہ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کر دیا،کابینہ کے فیصلہ کے باوجود رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے چارج نہ چھوڑنے کا معاملہ بھی زیرغور آیا،کابینہ اراکین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ قابل عمل نہیں ائین اور قانون سے انحراف کرکے یہ فیصلہ دیا گیا۔ حکمران جماعت کے وکلا کو سنا تک نہیں گیا ،اس معاملے کو پارلیمنٹ سمیت تمام متعلقہ فورمز پر اٹھائیں گے

    کابینہ اجلاس میں آئینی اور قانونی امور میں مختلف آپشنز پر غور کیا گیا،وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ کے اقلیتی بنچ کے فیصلے پر اظہار تشویش کیا، وزیر قانون کی جانب سے فیصلے پر بریفنگ کے بعد حکومت نئی حکمت عملی بنائے گی

    دوسری جانب مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے فیصلہ مسترد کر دینا کافی نہیں ہے۔ آئین اور قانون کی دھجیاں اڑا کر لاڈلے کو مسلط کرنے کی کوشش کرنے والوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے۔

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ آج کا فیصلہ اس سازش کا آخری وار ہے جس کا آغاز آئین کو re-write کر کے پنجاب حکومت پلیٹ میں رکھ بنچ کے لاڈلے عمران کو پیش کی گئی کہ لو بیٹا، توڑ دو تاکہ ہم جیسے سہولت کاروں کی موجودگی اور نگرانی میں تمھیں دوبارہ سیلیکٹ کیا جائے۔ 2018 میں جو کام فیض، کھوسہ اور ثاقب نثار نے انجام دیا تھا، وہ ذمہ داری اب اس بنچ نے اٹھا لی ہے۔ اس خوفناک اور ڈھٹائی سے کی گئی سہولت کاری اور ون مین شو کے خلاف سپریم کورٹ کی اکثریت نے بغاوت کر دی۔ وقت آ گیا ہے کہ پارلیمنٹ اس سہولت کاری کو اپنے آئینی اور قانونی ہاتھوں سے روک دے۔

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

     آئندہ ہفتے مقدمات کی سماعت کے لئے بنچز تشکیل

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

  • سپریم کورٹ 6 رکنی لارجر بنچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ازخود نوٹس ختم کردیا

    سپریم کورٹ 6 رکنی لارجر بنچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ازخود نوٹس ختم کردیا

    حافظ قرآن کو ایم بی بی ایس میں اضافی 20 نمبر دینے پر ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے میڈیکل کے حافظ قرآن کے 20 اضافی نمبر سے متعلق سونو کیس نمٹا دیا۔ ،عدالت نے کہا کہ ازخود نوٹس غیر مؤثر ہونے پر نمٹایا جاتا ہے،ازخود نوٹس اور اس کے دیگر اثرات پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا جائے گاپی ایم ڈی سی کے وکیل افنان کنڈی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ 20 اضافی نمبر 2018 تک رولز کے تحت دیئے جاتے تھے،2021 میں نئے رولز بنے اور اضافی نمبرز ختم ہو گئے،20 اضافی نمبرز کا معاملہ عملی طور پر ختم ہو چکا ہے،

    جسٹس اعجازِ الاحسن کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی ،سپریم کورٹ نے کیس کو غیر موثر قرار دے دیا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں دیئے تمام آرڈر واپس لیے جاتے ہیں، تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی،نئے قواعد آنے کے بعد اضافی نمبروں کا معاملہ ویسے ہی ختم ہو گیا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا 29 مارچ کا آرڈر بھی ختم ہوگیا

    سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے پر لارجر بینچ تشکیل دیا تھا، بینچ میں جسٹس منیب اختر، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر،جسٹس سید حسن اظہر رضوی شامل ہیں،بینچ کی تشکیل کا نوٹس سپریم کورٹ کے رجسٹرار عشرت علی کی جانب سے جاری کیا گیا تھا

    واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایک فیصلے میں از خود نوٹس کیس کے حوالہ سے کہا تھا کہ رولز بنائے جانے تک آرٹیکل 184 تھری (ازخود نوٹس) کے تمام کیسز ملتوی کیے جائیں ،خصوصی بینچ میں جسٹس امین الدین اور جسٹس شاہد وحید شامل تھے اور فیصلہ دو ایک کے تناسب سے جاری کیا گیا تھا۔

    بعد ازاں سپریم کورٹ نے آرٹیکل 184/3 کے مقدمات پر سرکولر جاری کر دیا ،جاری سرکلر میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے فیصلے میں ازخود نوٹس کا اختیار استعمال کیا گیا، اس انداز میں بنچ کا سوموٹو لینا پانچ رکنی عدالتی حکم کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے ،سوموٹو صرف چیف جسٹس آف پاکستان ہی لے سکتے ہیں،فیصلے میں دی گئی آبزرویشن کو مسترد کیا جاتا ہے،

    رجسٹرار کی جانب سے سرکلر جاری ہونے کے بعد گزشتہ روز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایک خط میں کہا کہ  رجسٹرار کے پاس جوڈیشل آرڈر کو کالعدم قرار دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔چیف جسٹس بھی جوڈیشل آرڈر کے خلاف کوئی انتظامی آرڈر جاری نہیں کر سکتے۔

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

     آئندہ ہفتے مقدمات کی سماعت کے لئے بنچز تشکیل

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

    letter sc

  • سپریم کورٹ کے باہر وکلا جمع، نعرے بازی

    سپریم کورٹ کے باہر وکلا جمع، نعرے بازی

    سپریم کورٹ میں آج الیکشن کے حوالہ سے از خود نوٹس کا فیصلہ سنایا جانا ہے، سپریم کورٹ کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں

    سپریم کے سامنے پی ڈی ایم کے حامی وکلاء کی بڑی تعداد جمع ہو گئی ہے،وکلاء نے پی ٹی آئی کے خلاف نعرے بازی کی،وکلاء نے ‘پی ٹی آئی ججز ونگ’ کے عنوان سے پوسٹرز اٹھا رکھے ہیں،وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں، انہوں نے عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت بھی کی ہے، رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ہمارا موقف پوری قوم کی آواز ہے سارے حربے ناکام ہونے پر عمران خان نے اسمبلیاں توڑیں سیاسی عدم استحکام سے ملک معاشی بحران کا شکار ہوا انصاف ہوتا نظر آنا چاہئے فیصلہ ایسا ہونا چاہئے جس سے معاملات آگے کی جانب بڑھتے نظر آئیں دو صوبائی اسمبلیوں کے پہلے انتخابات ملک کو انارکی کی جانب دھکیلیں گےپورے ملک میں ایک ہی روز انتخابات ہونے چاہئیں فل بینچ کا مطالبہ ہر طرف سے آ رہا ہے جمہوریت ہی ملک کے مسائل کا حل ہے فوج کی بجائے طاقت کا منبع سیاسی ادارے ہیں سیاسی اداروں کو طاقت کا منبع بنانے کیلئے نئے سماجی معاہدے کی ضرورت ہے عمران خان کی وجہ سے ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہوا عدالتی بحران کی بنیاد فتنہ خانہ نے ڈالی،ریفرنس دائر کرنا ہمارا قانونی اور آئینی حق ہے، حالات پیدا ہوں گے تو ایمرجنسی کا آپشن موجود ہے، فل کورٹ کا مطالبہ صرف سیاسی نہیں ہر طرف سے یہی مطالبہ ہے،سپریم کورٹ کا فیصلہ ملک میں سیاسی بحران کے خاتمے کا سبب ہونا چاہئیے ،

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ہم جمہوریت اور آئین کو ماننے والے ہیں،ہم نے آمریت کے خلاف جیلیں کاٹی ہیں، جمہوریت ہی ملک کے مسائل کا حل ہے،سب اداروں کو آئین میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، ادارے اجتماعیت سے چلتے ہیں، کسی ایک شخص کے احکامات سے نہیں،اگر یہی بینچ فیصلہ دیتا ہے تو یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہوگا

    رانا ثناء کے ہمراہ سپریم کورٹ آنے والا وکلاء اور کارکنوں کی سیکورٹی اہلکاروں سے تلخ کلامی ہوئی ہے ،وکلاء اور دیگر افراد نے نوازشریف اور مریم نواز کے بینرز کے ہمراہ سپریم کورٹ کے اندر آنے کی کوشش کی،جن کو سیکورٹی اہلکاروں نے روک دیا

    ن لیگی حمایت یافتہ وکلا سپریم کورٹ کے باہر پہنچ چکے ہیں، انہوں نے نعرے بازی کی،

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب تک الیکشن نہیں ہوگا یہ جو غیر نمائندہ اسمبلی، غیر نمائندہ حکومت کے ذریعے کوئی مسئلہ حل نہیں ہونا بلکہ مسائل بڑھیں گے، الیکشن کمیشن سپریم کورٹ پر حملہ آور تھا، بھائی تمہارا کام الیکشن کروانا ہے یا انصاف ہوتے ہوئے دیکھنا؟

    رجسٹرار سپریم کورٹ کی تعیناتی بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج، امان اللہ کنرانی وکیل مقرر

    وفاقی کابینہ اجلاس؛ سپریم کورٹ میں زیرسماعت الیکشن التواکیس پرغور

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،