Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • جسٹس قاضی فائز عیسی نےحافظ قرآن اضافی نمبر کیس میں تفصیلی نوٹ جاری کر دیا

    جسٹس قاضی فائز عیسی نےحافظ قرآن اضافی نمبر کیس میں تفصیلی نوٹ جاری کر دیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے سینئیر جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے حافظ قرآن اضافی نمبر کیس میں تفصیلی نوٹ جاری کر دیا،جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے اپنے فیصلے کے خلاف لارجر بینچ کی کارروائی پر اعتراض اٹھادیا-

    باغی ٹی وی : جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ازخودنوٹس 4/2022 بارے نوٹ جاری کردیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے جاری نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عشرت علی نے 4 اپریل کو خود کو غلط طور پر رجسٹرار ظاہر کیا عشرت علی کو 3 اپریل 2023 کونوٹی فیکیشن کے ذریعے وفاقی حکومت نے واپس بلایا،عشرت علی نے وفاقی حکومت کے حکم کی تعمیل سے انکار کیا-

    پاکستان آئی ایم ایف، ورلڈ بینک کا ممبر ہے کوئی بھکاری نہیں،وزیر خزانہ

    تفصیلی نوٹ میں لکھا کہ غیرقانونی سرکلر کا چیف جسٹس کو بھی خط لکھا لیکن کوئی جواب نہ ملا، سرکلر غیرآئینی ہونے کا ادراک ہونے پر ہی 6 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا، سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف کوئی دوسرا بینچ اپیل نہیں سن سکتا۔

    نوٹ میں کہا گیا کہ عشرت علی نے 4 اپریل کو لارجر بینچ تشکیل کے روسٹر پر دستخط کیے ، میرے فیصلے پر 6رکنی بینچ کے تشکیل کی آئین و قانون میں اجازت نہیں تھی 6رکنی بینچ کے 4 اپریل کے فیصلے کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ،3رکنی بینچ کے فیصلے پر 6 رکنی بینچ کی تشکیل غلط تھی ، لارجر بینچ کو 4 اپریل کا آرڈر جاری کرنے کا اختیار نہیں تھا جلد بازی میں لارجر بینچ نےسماعت کی اور 8 صفحات کا فیصلہ بھی جاری کیا، معمول کے مطابق سماعت ہوتی تو 4 ججز سوچتے کہ ان کے سینئر کیا کر رہے ہیں۔

    وزیراعظم ہاؤس سے مشکوک شخص گرفتار

    تفصیلی نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے 29 مارچ کے حکم کو 6 رکنی بینچ کالعدم نہیں کر سکتا تھا، 6 ججز کا فیصلہ آئین کا متبادل نہیں ہو سکتا ،6 ججز جلد بازی میں اکٹھے ہوئے ،6 رکنی بینچ نے چند منٹ میں ازخود نوٹس کارروائی کو ختم کر دیاعدلیہ کا کام آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے، اختیارات سے تجاوز کیا جائے تو ججز کے حلف کی خلاف ورزی ہوگی لارجربینچ کے حکم سے آمرانہ جھلک آتی ہے جو آئین کا متبادل نہیں ہوسکتا، چیف جسٹس کیلئے استعمال کیا گیا لفظ ماسٹر آف روسٹرز آئین میں کہیں نہیں ملتا۔

    نواز شریف نے بھی چیف جسٹس آف پاکستان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

  • صدر کا بل پر دستخط سے انکار،حکومت کا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ

    صدر کا بل پر دستخط سے انکار،حکومت کا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ

    صدر کے سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل پر دستخط سے انکار کا معاملہ ،بل صدر کے اعتراضات کے ساتھ پارلیمنٹ کو موصول ہو گیا

    وفاقی حکومت بھی اس معاملے پر ڈٹ گئی ،وفاقی حکومت نے بل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے پیر کو منظور کروانے کا فیصلہ کر لیا، اس ضمن میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس دن دو بجے طلب کرلیا گیا ،پارلیمنٹ سے منظور کروا کر بل دوبارہ صدر کو دستخط کےلیے بھیجا جائے گا صدر نے دس دن دستخط نہ کیے تو بل از خود قانون بن کر لاگو ہوجائےگا

    واضح رہے کہ صدر ِپاکستان نے سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) بل 2023 آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت نظر ثانی کیلئے پارلیمنٹ کو واپس بھجوا دیا ،صدر مملکت عارف علوی کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں یہ بل پارلیمنٹ کے اختیار سے باہر ہے ،بل قانونی طور پر مصنوعی اور ناکافی (colourable legislation) ہونے پر عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے ،میرے خیال میں اس بل کی درستگی کے بارے میں جانچ پڑتال پورا کرنے کیلئے دوبارہ غور کرنے کیلئے واپس کرنا مناسب ہے

    واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے حوالہ سے بل کابینہ کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی و سینیٹ میں پیش کیا تھا جو دونوں ایوانوں سے منظور ہو گیا تھا جس کے بعد صدر مملکت کو دستخط کے لئے بھیجا گیا تھا مگر آج صدر مملکت نے بل واپس کر دیا،

     انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے چیف جسٹس کا فیصلہ اقلیتی تھا

    فیصلے کو مسترد کرنے سے متعلق قرارداد منظور 

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    رجسٹرار سپریم کورٹ کی تعیناتی بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج، امان اللہ کنرانی وکیل مقرر

    شریف کو بھی از خود نوٹس کے خلاف اپیل کا حق مل گیا

     سادہ سا سوال ہے کہ الیکشن کمیشن تاریخ آگے کرسکتا ہے یا نہیں

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا

    مناسب وقت ہے کہ پارلیمنٹ اپنا کردار ادا کرے

  • صدر مملکت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل واپس بھیج دیا

    صدر مملکت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل واپس بھیج دیا

    صدر مملکت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل نظر ثانی کیلئے واپس بھیج دیا

    صدر ِپاکستان نے سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) بل 2023 آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت نظر ثانی کیلئے پارلیمنٹ کو واپس بھجوا دیا ،صدر مملکت عارف علوی کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں یہ بل پارلیمنٹ کے اختیار سے باہر ہے ،بل قانونی طور پر مصنوعی اور ناکافی (colourable legislation) ہونے پر عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے ،میرے خیال میں اس بل کی درستگی کے بارے میں جانچ پڑتال پورا کرنے کیلئے دوبارہ غور کرنے کیلئے واپس کرنا مناسب ہے ،آئین سپریم کورٹ کو اپیلی ، ایڈوائزری ، ریویو اور ابتدائی اختیار سماعت سے نوازتا ہے،مجوزہ بل آرٹیکل 184 تین ، عدالت کے ابتدائی اختیار سماعت ، سے متعلق ہے ،مجوزہ بل کا مقصد ابتدائی اختیار سماعت استعمال کرنے اور اپیل کرنے کا طریقہ فراہم کرنا ہے ،

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    بشری بی بی کی آڈیونےدنیا بدل دی۔قہرٹوٹ پڑا ،عمران خان مایوس،دل ٹوٹ گیا

    صدر مملکت نے سوال اٹھایا کہ یہ خیال قابل تعریف ہو سکتا ہے مگر کیا اس مقصد کو آئین کی دفعات میں ترمیم کے بغیر حاصل کیا جا سکتا ہے ؟ تسلیم شدہ قانون تو یہ ہے کہ آئینی دفعات میں ایک عام قانون سازی کے ذریعے ترمیم نہیں کی جاسکتی ، آئین ایک اعلیٰ قانون ہے ، قوانین کا باپ ہے ،آئین کوئی عام قانون نہیں ، بلکہ بنیادی اصولوں، اعلیٰ قانون اور دیگر قوانین سے بالاتر قانون کا مجسمہ ہے،آرٹیکل 191 سپریم کورٹ کو عدالتی کاروائی اور طریقہ کار ریگولیٹ کرنے کیلئے قوانین بنانے کا اختیار دیتا ہے ،آئین کی ان دفعات کے تحت سپریم کورٹ رولز 1980 بنائے گئے جن کی توثیق خود آئین نے کی، عدلیہ کی آزادی کو مکمل تحفظ دینے کیلئے آرٹیکل 191 کو دستور میں شامل کیا گیا ،آرٹیکل 191 کے تحت سپریم کورٹ کو پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار سے باہر رکھا گیا، پارلیمنٹ کا قانون سازی کا اختیار بھی آئین سے ہی اخذ شدہ ہے،آرٹیکل 70 وفاقی قانون سازی کی فہرست میں شامل کسی بھی معاملے پر بل پیش کرنے اور منظوری سے متعلق ہے،آرٹیکل 142اے کے تحت پارلیمنٹ وفاقی قانون سازی کی فہرست میں کسی بھی معاملے پر قانون بنا سکتی ہے،فورتھ شیڈول کے تحت پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے علاوہ تمام عدالتوں کے دائرہ اختیار اور اختیارات کے حوالے سے قانون سازی کا اختیار ہے ،فورتھ شیڈول کے تحت سپریم کورٹ کو خاص طور پر پارلیمان کے قانون سازی کے اختیار سے خارج کیا گیا ہے ، بل بنیادی طور پر پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے ، بل کے ان پہلوؤں پر مناسب غور کرنے کی ضرورت ہے،

  • پنجاب الیکشن کا ازخود نوٹس چار تین سے مسترد ہوا ، جسٹس اطہرمن اللہ کا اضافی نوٹ

    پنجاب الیکشن کا ازخود نوٹس چار تین سے مسترد ہوا ، جسٹس اطہرمن اللہ کا اضافی نوٹ

    سپریم کورٹ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابا ت کا معاملہ ،جسٹس اطہر من اللہ نے تحریک انصاف کی درخواست مسترد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا

    جسٹس اطہر من نے اللہ نے 22 فروری کے ازخود نوٹس کیس کا 25 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ، تحریری فیصلے میں کہا کہ ازخود نوٹس سمیت تینوں پیٹیشن خارج کی جاتی ہیں،پنجاب الیکشن کا ازخود نوٹس چار تین سے مسترد ہوا ہے تحریری فیصلے میں جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ تحریک انصاف کی درخواست پر جس انداز سے کارروائی شروع کی گئی اس سے عدالت سیاسی تنازعات کا شکار ہوئی ،اس درخواست پر کارروائی شروع کرنے سے پولیٹیکل اسٹیک ہولڈرز کو عدالت پر اعتراض اٹھانے کی دعوت دی گئی ،اس قسم کے اعتراضات سے عوام کے عدالت پر اعتماد پر اثر پڑتا ہے تحریک انصاف کی درخواست پر کارروائی شروع کرنا قبل ازوقت تھی ،چیف جسٹس کا سوموٹو لینا نہیں بنتا تھا کیونکہ یہ معاملہ پہلے ہی لاہور ہائیکورٹ میں پہلے ہی زیرالتوا تھا

    جسٹس اطہر من اللہ کے نوٹ میں قاسم سوری رولنگ کیس کا بھی حوالہ دیا گیا،کہا کہ عمران خان نے تحریک عدم اعتماد کے بعد اپوزیشن میں جانے کی بجائے استعفے دیے، آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے دور رس نتائج مرتب ہوئے، استعفوں کی وجہ سے سیاسی بحران میں اضافہ ہوا،پی ٹی آئی نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا۔سیاسی بحران عدم اعتماد میں شکست کے بعد عمران خان کے لیڈر آف اپوزیشن کا کردار نہ لینے سے شروع ہوا ،مجاز اتھارٹیز کی جانب سے الیکشن کی تاریخ دینا باقی تھا کہ پی ٹی آئی لاہور ہائیکورٹ چلی گئی سیاسیتدانوں کی پیدا کردہ دلدل سے نکالنے کیلئے ایک بار پھر عدالت کو دعوت دی گئی،سیاسی معاملات پر سوموٹو میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے ، سیاسی حکمت عملی کیلئے صوبائی اسمبلی توڑنے کا کنڈکٹ کیا آئینی جمہوریت سے مطابقت رکھتا ہے؟ پہلے عدالتوں میں آئے کہ استعفے منظور کرائیں جب ہو گئے تو کہا اب اسپیکر کا فیصلہ ریورس کرائیں ،سیاستدان عدالت میں کیس خود شاید جیت جائیں مگر ہارعدالت کی ہوتی ہے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات نہ کرانے پر متعلقہ ہائیکورٹس سے رجوع کیا گیا، جہاں کیس زیرالتوا تھا، اس کے باوجود سوموٹو نوٹس لیا گیا، ہائیکورٹس کی صلاحیت پر شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی ، سپریم کورٹ سمیت تمام اداروں کو آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے، سپریم کورٹ نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا ،جسٹس منصور، جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس یحیی آفریدی کی رائے سے متفق ہوں، 27 فروری کو ججز کے غیر رسمی اجلاس میں طے ہوا تھا کہ فیصلہ چار تین کا ہے،

    تفصیلی نوٹ میں کہا گیا پنجاب،کے پی انتخابات کی تاریخ کا ازخود نوٹس خارج کیا جاتا ہے درخواستوں اور از خود نوٹس کو خارج کرنےکی تین بنیادی وجوہات ہیں فل کورٹ کی جانب سے آرٹیکل 184 تھری کے استعمال کے بنیادی اصولوں کی پابندی بینچ پرلازم تھی عدالت کو اپنی غیر جانبداری کے لیے سیاسی جماعتوں کے مفادات کے معاملات پر احتیاط برتنی چاہیے، عدالت کو سیاسی درخواست گزارکا طرز عمل اور نیک نیتی بھی دیکھنی چاہیےدرخواست گزاروں کا رویہ اس بات کا متقاضی نہیں کہ 184/3کا اختیارسماعت استعمال کیا جائے ازخود نوٹس لینےکا مطلب غیر جمہوری اقدار اورحکمت عملی کو فروغ دینا ہوگا، ماضی کے فیصلوں کو مٹایا نہیں جاسکتا لیکن کم ازکم عوامی اعتماد بحال کرنےکی کوشش کی جاسکتی ہے انتخابات کی تاریخ کامعاملہ ایک تنازع سے پیدا ہوا ہے جو بنیادی طور پر سیاسی نوعیت کا تھا، جسٹس یحییٰ آفریدی نے درست کہا کہ عدالت کو ازخودنوٹس کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے، سپریم کورٹ کو یکے بعد دیگرے تیسری بار سیاسی نوعیت کے تنازعات میں گھسیٹا گیا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    جس میں وہ کرسی پر بیٹھے ہیں اور سگار پی رہے ہیں، شیخ رشید احمد کو لاک اپ میں بندنہیں کیا

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کے حوالہ سے از خود نوٹس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ پنجاب میں الیکشن 14 مئی کو ہوں گے، الیکشن کمیشن نے 8 اکتوبر کی تاریخ مقرر کر تھی سپریم کورٹ نے اسے کالعدم قرار دے دیا ، سپریم کورٹ کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن نے نیا شیڈول جاری کر دیا ہے، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ کے پی میں انتخابات کے لیے گورنر کی طرف سے عدالت میں نمائندگی نہیں کی گئی کے پی میں الیکشن کی تاریخ کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کیا جائے کے پی میں انتخابات کے لیے درخواست گزار عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف قومی اسمبلی میں قرارداد منظور

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف قومی اسمبلی میں قرارداد منظور

    قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کو مسترد کرنے سے متعلق قرارداد منظور کرلی گئی۔

    قومی اسمبلی میں تین رکنی بینچ کے فیصلے کو مسترد کرنے کے لیے قرارداد پیش کردی گئی۔ خالد مگسی نے سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کا فیصلہ مسترد کرنےکی قرارداد ایوان میں پیش کی گئی جو کہ منظور کر لی گئی ،قراردار کے مطابق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ کیا جائے۔ پارلیمنٹ نے قرارداد منظور کرلی۔ قرارداد کے مطابق ایوان سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتا ہے،ایوان تین رکنی بنچ کا فیصلہ مسترد کرتا ہے،وزیر اعظم اور کابینہ اس خلاف آئین و قانون فیصلے پر عملدرآمد نہ کرے، قرارداد کے مطابق ایوان ایک ہی وقت میں عام انتخابات کو مسائل کا حل سمجھتی ہے۔ایوان سیاسی اور معاشی استحکام کیلئے ایک ہی وقت پر عام انتخابات کو مسائل کا حل سمجھتا ہے، ایوان تین رکنی بینچ کا اقلیتی فیصلہ مسترد کرتا ہے، ایوان دستور کے آرٹیکل 63 اے کی غلط تشریح اوراسے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے ذریعے ازسرنو تحریر کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے عدالت عظمیٰ فل کورٹ فیصلے پر نظر ثانی کرے

     

    محسن لغاری نے ایوان میں کہا کہ ہم قانون بنا سکتے ہیں آئین نہیں توڑسکتے، ایوان کوجلسہ گاہ نہ بنائیں، جمہوریت کی ایکٹنگ ہی کرلیں۔ کیا ہم پارلیمنٹ اور عدلیہ کے درمیان جنگ چاہتے ہیں؟ اسپیکر راجا پرویز اشرف نے محسن لغاری کا مائیک بند کردیا، محسن لغاری کا کہنا تھا کہ مجھے قرارداد پر تحریک پیش ہوتے وقت بولنے نہیں دیا گیا میں اس قرارداد کی مخالفت کرتا ہوں آئین عدلیہ کے خلاف ایوان میں گفتگو کرنے سے منع کرتا ہے اس ایوان کو عدلیہ کے خلاف استعمال نہ کیا جائے

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    جس میں وہ کرسی پر بیٹھے ہیں اور سگار پی رہے ہیں، شیخ رشید احمد کو لاک اپ میں بندنہیں کیا

  • خیبرپختونخوا میں انتخابات، پی ٹی آئی سپریم کورٹ پہنچ گئی

    خیبرپختونخوا میں انتخابات، پی ٹی آئی سپریم کورٹ پہنچ گئی

    تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں انتخابات کے معاملے پر سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی

    سابق اسپیکرکے پی مشتاق غنی نے درخواست بیرسٹرگوہرکی وساطت سے دائر کی ہے درخواست میں الیکشن کمیشن اور گورنرکے پی کو فریق بنایا گیا ہے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ گورنر کے پی یکم مارچ کے عدالتی حکم پر عمل نہیں کر رہے گورنر کے پی نے میڈیا پر 28 مئی کی تاریخ کا اعلان کیا اور بعد میں انکار کر دیا، آئین کے مطابق 90 دن میں انتخابات ضروری ہیں سپریم کورٹ گورنرکے پی کو انتخابات کی تاریخ کا حکم دے

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کے حوالہ سے از خود نوٹس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ پنجاب میں الیکشن 14 مئی کو ہوں گے، الیکشن کمیشن نے 8 اکتوبر کی تاریخ مقرر کر تھی سپریم کورٹ نے اسے کالعدم قرار دے دیا ، سپریم کورٹ کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن نے نیا شیڈول جاری کر دیا ہے، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ کے پی میں انتخابات کے لیے گورنر کی طرف سے عدالت میں نمائندگی نہیں کی گئی کے پی میں الیکشن کی تاریخ کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کیا جائے کے پی میں انتخابات کے لیے درخواست گزار عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    جس میں وہ کرسی پر بیٹھے ہیں اور سگار پی رہے ہیں، شیخ رشید احمد کو لاک اپ میں بندنہیں کیا

  • اگر فل کورٹ نہ بنایا گیا تو ملک میں سیاسی اور آئینی بحران پیدا ہو جائےگا،وفاقی وزیر قانون

    اگر فل کورٹ نہ بنایا گیا تو ملک میں سیاسی اور آئینی بحران پیدا ہو جائےگا،وفاقی وزیر قانون

    اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سینئر ججز کو بینچ سے دور رکھا جارہا ہے،وفاقی کابینہ کی رائے تھی اکثریتی فیصلے کو اقلیتی فیصلے میں نہ بدلا جائے اور اگر فل کورٹ نہ بنایا گیا تو ملک میں سیاسی اور آئینی بحران پیدا ہو جائےگا۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد میں بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پنجاب الیکشن سے متعلق فیصلہ دیا، نگران حکومت الیکشن کمیشن کو تعاون فراہم کرے،الیکشن کمیشن خود مختار ادارہ ہے وہ ا پنے معاملات دیکھ سکتاہے پورے ملک میں الیکشن ایک ساتھ ہونے چاہئیں-

    انڈین انٹیلی جنس سروسز نے پاک فوج کے ساتھ وہ نہیں کیا ہوگا جو عمران …

    وزیر قانون نے کہا کہ آئین کے مطابق عام انتخابات کا طریقہ کار طے ہے،آئین کے مطابق مقررہ وقت کے بعد پنجاب اسمبلی خود تحلیل ہوگئی، گورنر پنجاب نے اسمبلی تحلیل کی بھیجی گئی سمری پردستخط نہیں کیے پنجاب اسمبلی کی تحلیل کا معاملہ پنجاب ہائیکورٹ گیا،پنجاب اورخیبرپختونخوا ہائیکورٹس میں پٹیشنز زیرسماعت ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ عدالت نے مشاورت سےالیکشن کمیشن کو تاریخ دینےکا کہایکم مارچ کو فیصلہ آیا تو کیس 4/3 سے خارج ہوا، چیف جسٹس سپریم کورٹ نے انتخابات کے معاملے پرازخود نوٹس لیا،پہلے 9 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت شروع کی، چارججز نے پٹیشنز خارج کیں اور 2 نے کیس سننے سے انکار کیا، ازخود نوٹس کے معاملے پر دو ججز اپنی رائے کا اظہار کرچکے ہیں، رائے دینے والے دونوں ججز نے بینچ سے علیحدگی اختیار کی ،یکم مارچ کو فیصلہ آیا تو ہمارا موقف تھا کہ 3کے مقابلے 4سے کیس خارج ہوا۔

    پی ٹی آئی رہنما کا آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان

    ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کے معاملے پر قانون سازی کی جارہی ہے،الیکشن پر 184تھری پر جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا واضح کورٹ آرڈر آچکاہےعدالت نےمشاورت سےالیکشن کمیشن کوتاریخ دینے کا کہا، الیکشن کمیشن نے نئی تاریخ کا اعلان کیاتو تنازعہ پیدا ہوا،پٹیشن پر ہم نے فل کورٹ کی استدعا کی تھی جو مسترد کی گئی،عدالت نے کسی سیاسی جماعت کو مقدمے کا فریق نہیں بنایا۔

    وزیر قانون کا کہنا تھا کہ سینئر ججز کو بینچ سے دور رکھاجارہاہے،وفاقی کابینہ کی رائے تھی اکثریتی فیصلے کو اقلیتی فیصلے میں نہ بدلا جائے،حکومت سمجھتی ہے معاملے پر فل کورٹ فیصلہ دیتا تو بہتر تھا،سپریم کورٹ کے اقلیتی بینچ کے فیصلے سے آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

    شاہین شاہ نے اپنی 23ویں سالگرہ سسرال میں منائی،تصاویر

  • عدالتی فیصلوں سے پاکستان کا نظام عدل دنیا میں مذاق بن گیا،جے یو آئی

    عدالتی فیصلوں سے پاکستان کا نظام عدل دنیا میں مذاق بن گیا،جے یو آئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترجمان جے یو آئی اسلم غوری نے کہا ہے کہ عدالت عظمی اور عالیہ کے معاملات سے پوری قوم حیرت زدہ ہے ۔

    اسلم غوری کا کہنا تھا کہ عوام عدالتی نظام سے دلبرداشتہ ہوئے تو خانہ جنگی پھیل جائے گی ,آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو کھلے دل سے تسلیم کرنا ہوگا.آمروں کے آگے جھکنا اور منتخب جمہوری حکومتوں کے لئے رکاوٹیں نظام عدل کا منہ چڑا رہے ہیں ۔بھٹو ،گیلانی اور نواز شریف کے فیصلے ہر سطح پر متنازعہ کہلاتے ہیں ۔آئینی اور عدالتی فیصلوں کا احترام کرنے والے ہی ان فیصلوں کا نشانہ کیوں ؟ عدالتی فیصلوں سے پاکستان کا نظام عدل دنیا میں مذاق بن گیا ہے ۔قانون اندھا بہرہ اور پیار و محبت سے عاری ہوتاہے ۔

    ترجمان جے یو آئی اسلم غوری کا مزید کہنا تھا کہ اسد عمر کو توہین عدالت میں طلب کرنے کی بجائے ان سے معاونت لی گئی ۔ ملکی معیشت تباہ کرنے والا کیسے معاشی مشورے دے سکتا ہے ۔ حکومت کا فل کورٹ کا مطالبہ آئینی اور قانونی تھا ۔

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    جس میں وہ کرسی پر بیٹھے ہیں اور سگار پی رہے ہیں، شیخ رشید احمد کو لاک اپ میں بندنہیں کیا

    قبل ازیں قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اسعد محمود نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو جوڈیشل مارشل لاء قرار دیدیا اور کہا کہ کسی صورت اس فیصلے کو پاکستان میں نافذالعمل نہیں ہونے دیں گے، لڑیں گے اور آخری دم تک لڑیں گے۔ہم اس شجرے سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے ملک کے اندر ملٹری مارچکے خلاف جدوجہد کی جیلیں کاٹیں، جوڈیشل مارشل لاء کو کسی صورت تسلیم نہیں کرتے، پارلیمان میں سیاسی جماعتوں پر تنقید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ اتفاق نہیں پیدا کر سکتے تو آپ بھی آئین کی عملداری کے لئے اتفاق پیدا نہیں کر سکے، آپ نے عدلیہ کو تقسیم کیا، آپ سمجھتے ہیں کہ ملک میں تقسیم کی بنیاد ڈالیں گے اور گھروں میں سکون سے سوئیں گے ایسا نہیں ہو گا، آپ کی روح کو بھی اطمینان نہیں ملے گا،

  • الیکشن سے متعلق سپریم کورٹ نے جلد بازی میں فیصلہ کیا،مراد علی شاہ

    الیکشن سے متعلق سپریم کورٹ نے جلد بازی میں فیصلہ کیا،مراد علی شاہ

    کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ جب ججز اس فیصلے سے متفق نہیں تو عوام کیسے ہوسکتے ہیں-

    باغی ٹی وی : کراچی میں میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ الیکشن سے متعلق سپریم کورٹ نے جلد بازی میں فیصلہ کیا، جب ججز اس فیصلے سے متفق نہیں تو عوام کیسے ہوسکتے ہیں، جن ججزنےانکارکیا ان کےعلاوہ فل کورٹ بنائیں،الیکشن کا فیصلہ الیکشن کمیشن پر چھوڑ دینا چاہیے، ادارے اپنی حدود میں کام کریں گے تو حالات میں بہتری آئے گی-

    مجھے معلوم ہے پولیس کیا کارنامے انجام دے رہی ہے،عدالت کے ریمارکس

    مراد علی شاہ نے کہا کہ آئین میں ہر ادارے کی پاور اور حدود کا تعین کیاگیا ہے، الیکشن تب ہوں گے جب الیکشن کمیشن چاہے گا، الیکشن ضرور ہوں لیکن لیول پلیئنگ فیلڈ ہونی چاہیے اور الیکشن ایسے نہ ہوں کہ 2018 والی صورتحال ہو۔

    رات کو تھوڑی تاخیر سے کھانا کھانا صحت کیلئےنقصان دہ نہیں،تحقیق

    ملٹری گریڈاسلحے پرلوگوں کے تحفظات کے حوالے سے مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ کاکام ہے فنڈ دینا تاہم ملٹری گریڈاسلحے پرلوگوں کے تحفظات ہیں، ایسانہ ہو ملٹری گریڈ اسلحےکے استعمال سے دوسرےبھی زدمیں نہ آجائیں، گھوٹکی کےکچے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن چل رہا ہے، کچے کے علاقے میں اسلحہ کی اسمگلنگ کو روکنا ہوگا، کچے میں چوکیاں بنائی ہیں تاکہ ڈاکوؤں کے پاس آنے والا اسلحہ روکا جائے۔

    پاکستان کا برطانوی وزیر داخلہ کے پاکستانی مردوں کے حوالے سے بیان پراظہارتشویش

  • سوال ہی نہیں پیدا ہوتا14 مئی کو پنجاب میں الیکشن ہوجائے  ،وکیل الیکشن کمیشن

    سوال ہی نہیں پیدا ہوتا14 مئی کو پنجاب میں الیکشن ہوجائے ،وکیل الیکشن کمیشن

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن کے وکیل اور سینئر قانون دان عرفان قادر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت پنجاب میں الیکشن کا امکان رد کردیا۔

    باغی ٹی وی: عرفان قادر نے کہا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ تین رکنی بینچ کے فیصلے کے مطابق 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن ہوجائے الیکشن کمیشن اس فیصلے کا پابند نہیں ہے، یہ فیصلہ آئین کے خلاف ہے ۔

    وفاقی کابینہ اجلاس، سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کر دیا

    سینئر قانون دان کا کہنا تھا کہ یہ نہ آئین میں ہے نہ قانون میں کہ سپریم کورٹ الیکشن کی تاریخ دے، اس فیصلے کو کابینہ ہی نہیں ایک عام شہری بھی مسترد کرسکتا ہے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا (کے پی) میں الیکشن کے التوا سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کا 8 اکتوبر کو الیکشن کرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے 14 مئی کو الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا-

    سپریم کورٹ 6 رکنی لارجر بنچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ازخود نوٹس ختم …

    فیصلے میں کہا گیا تھاکہ الیکشن کمیشن کا 22 مارچ کا فیصلہ غیر آئینی قرار دیا جاتا ہے، صدر مملکت کی دی گئی تاریخ کا فیصلہ بحال کیا جاتا ہے، آئین وقانون انتخابات کی تاریخ ملتوی کرنےکا اختیارنہیں دیتا، 22 مارچ کو الیکشن کمیشن نے فیصلہ دیا تب انتخابی عمل پانچویں مرحلے پر تھا، الیکشن کمیشن کے آرڈر کے باعث 13 دن ضائع ہو گئے، الیکشن کمیشن نے غیر آئینی فیصلہ کیا۔

    چیف جسٹس کو چاہیے کہ الیکشن کیس پر فل کورٹ بنا دیں. وزیراعظم

    فیصلے میں کہا گیا تھاکہ وفاقی حکومت انتخابات کے لیے افواج، رینجرز، ایف سی اور دیگر اہلکار فراہم کرے، وفاقی حکومت 17 اپریل تک الیکشن کمیشن کو سکیورٹی پلان فراہم کرے، وفاقی حکومت اور نگران حکومت پنجاب نے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کیا تو کمیشن عدالت کو آگاہ کرے۔

    الیکشن از خود نوٹس کیس، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا