Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • وفاقی کابینہ کا اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس میں ہوگا

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج دوپہر 2 بجے وزیراعظم ہاؤس میں ہوگا۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کےمطابق وفاقی کابینہ قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کرے گی،اجلاس میں قانونی مشاورت اورسپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق حکمت عملی پربات ہوگی، عدالتی اصلاحات بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظورکرانے پر بھی بات ہوگی۔

    وفاقی حکومت کا ازخود نوٹس اختیارمیں ترمیم کا بل دوبارہ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا …

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی نے چند روز قبل عدالتی اصلاحات کا بل منظور کر کے توثیق کے لیے صدر پاکستان کو بھیجا تھا تاہم صدر عارف علوی نے بل نظر ثانی کے لیے واپس پارلیمنٹ کو بھیج دیا ہے۔

    خیال رہے کہ صدر کی جانب سے اعتراض کے بعد وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس اختیار میں ترمیم کا بل دوبارہ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا فیصلہ کیا ہےقانون کی رو سےاگر صدرکوئی بل نظرثانی کیلئے پارلیمان کوواپس بھیجےتوحکومت پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس بلا کر بل منظور کراکر صدر کو بھیج سکتی ہے اگر بل کی دوبارہ منظوری کے بعد بھی صدر دستخط نہ کریں تو یہ بل 10 دن بعد خود بخود ایکٹ بن جائے گا۔

    پارلیمنٹ کی قرار داد پاکستان کے آئین اور عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،سپریم کورٹ …

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا تفصیلی نوٹ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا تفصیلی نوٹ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا تفصیلی نوٹ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا۔

    باغی ٹی وی:جسٹس قاضی فائز عیسی کا نوٹ اپ لوڈ ہونے کے کچھ دیر بعد ویب سائٹ سے ہٹادیا گیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا نوٹ انگریزی اور اردو ترجمے کے ساتھ ویب سائٹ پر جاری کیا گیا تھا۔

     

    جسٹس قاضی فائز عیسی نےحافظ قرآن اضافی نمبر کیس میں تفصیلی نوٹ جاری کر دیا

    واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حافظ قرآن 20 اضافی نمبر کیس کا تفصیلی نوٹ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا تھا تفصیلی فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا ہے کہ ازخود نوٹس نمبر 4/2022 میں 29 مارچ کا حکم 4 اپریل کا نوٹ منسوخ نہیں کر سکتا، متکبرانہ آمریت کی دھندمیں لپٹے کسی کمرہ عدالت سے نکلنے والے فیصلے آئین کو برطرف نہیں کر سکتے۔

    تفصیلی نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے 29 مارچ کے حکم کو 6 رکنی بینچ کالعدم نہیں کر سکتا تھا، 6 ججز کا فیصلہ آئین کا متبادل نہیں ہو سکتا ،6 ججز جلد بازی میں اکٹھے ہوئے ،6 رکنی بینچ نے چند منٹ میں ازخود نوٹس کارروائی کو ختم کر دیاعدلیہ کا کام آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے، اختیارات سے تجاوز کیا جائے تو ججز کے حلف کی خلاف ورزی ہوگی لارجربینچ کے حکم سے آمرانہ جھلک آتی ہے جو آئین کا متبادل نہیں ہوسکتا، چیف جسٹس کیلئے استعمال کیا گیا لفظ ماسٹر آف روسٹرز آئین میں کہیں نہیں ملتا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو سماعت کے لیے مقرر

  • پارلیمنٹ کی قرار داد پاکستان کے آئین اور عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،سپریم کورٹ بار

    پارلیمنٹ کی قرار داد پاکستان کے آئین اور عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،سپریم کورٹ بار

    اسلام آباد: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف منظور کی گئی صریح غیر قانونی قرار داد کو پاکستان کے آئین اور عدلیہ کی آزادی کے منافی قرار دیتے ہیں-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور سیکرٹری کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کیلئے چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کےساتھ کھڑے ہیں،بدقسمتی کی بات ہےکہ قومی اسمبلی جوکہ آئین کے مطابق کام کرنے کی پابند ہے، نے آئین کے آرٹیکل 68 کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے آرٹیکل 68 کسی جج یا جج کے طرز عمل کے حوالے سے پارلیمنٹ میں بحث کرنے سے منع کرتا ہے-

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ ، ارکان پارلیمنٹ نے عدلیہ کے ارکان کے خلاف توہین آمیز اور انتہائی اہانت آمیز تبصرے کیے ہیں، یہ تبصرےنہ صرف آئین کی خلاف ورزی بلکہ عدلیہ کی سالمیت کے لیے براہ راست چیلنج ہیں، پارلیمنٹ، عدلیہ اورایگزیکٹو کو آزادانہ طور پرکام کرنا چاہیےریاست کی کوئی شاخ کسی دوسرے پر تجاوز نہیں کر سکتی اور نہ ہی اس سے برتر ہے عدالتی فیصلہ حتمی ہے اور قومی اسمبلی میں منظور کی گئی قرارداد کے ذریعے اسے الگ نہیں کیا جا سکتا-

    کہا گیا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ قرارداد ایوان کے 342 میں سے صرف 43 ارکان نے منظور کی تھی، ایسی قراردادیں انتشار کا باعث بنیں گی جب استحکام اور جمہوری طور پرمنتخب حکومتوں کی ضرورت ہوسپریم کورٹ بار پاکستان کے تمام قانونی برادری کے ساتھ مل کر معزز ججوں کے میڈیا ٹرائل کی شدید مذمت کرتی ہے-

    اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن تمام اسٹیک ہولڈرز سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ عدلیہ کی سالمیت کے تحفظ اور ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کی بحالی کے لیے باہمی اتفاق رائے پر پہنچیں، ایسا کرنے میں ناکامی سے ہمارا ملک مکمل انارکی کی طرف بڑھے گا، ملک میں موجودہ سیاسی اور معاشی بحران پر قابو پانے کے لیے تمام ریاستی اداروں کا باہمی اتحاد بہت ضروری ہے۔

  • وفاقی حکومت کا ازخود نوٹس اختیارمیں ترمیم کا بل دوبارہ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت کا ازخود نوٹس اختیارمیں ترمیم کا بل دوبارہ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا فیصلہ

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس اختیار میں ترمیم کا بل دوبارہ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا فیصلہ کر لیا-

    باغی ٹی وی: صدر کی جانب سے اعتراض کے بعد وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس اختیار میں ترمیم کا بل دوبارہ پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا فیصلہ کیا ہےقانون کی رو سےاگر صدرکوئی بل نظرثانی کیلئے پارلیمان کوواپس بھیجےتوحکومت پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس بلا کر بل منظور کراکر صدر کو بھیج سکتی ہے اگر بل کی دوبارہ منظوری کے بعد بھی صدر دستخط نہ کریں تو یہ بل 10 دن بعد خود بخود ایکٹ بن جائے گا۔

    پاکستان میں ہماری جنگ حقیقی آزادی کیلئے ہے،عمران خان

    ن لیگ کے رہنما عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) بل 2023 کے حوالے سے صدر کے نکات میں کوئی وزن نہیں، پارلیمان دوبارہ بل کو اکثریت سے منظور کرے گی۔

    لیگی رہنما طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ قانون بھی بنے گا اور عدل کے حصول میں ترمیم بھی ہوگی، ترجمان پی ٹی آئی نے ایوانِ صدر سے قانون واپس بھیج دیا تاکہ لاڈلے کیلئے بینچ فِکسنگ ہو سکے۔

    سکیورٹی فورسز کی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی، 2 اہلکار شہید

    واضح رہے کہ خیال رہے کہ صدر پاکستان نے سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) بل 2023 آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت نظر ثانی کیلئے پارلیمنٹ کو واپس بھجوایا ہے۔

    صدر نے کہا کہ بادی النظر میں یہ بل پارلیمنٹ کے اختیار سے باہر ہے، بل قانونی طورپر مصنوعی اور ناکافی ہونے پر عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے، میرے خیال میں اس بل کی درستگی کے بارے میں جانچ پڑتال پوری کرنےاور دوبارہ غور کرنے کیلئے واپس کرنا مناسب ہے۔

    خیبرپختونخوا بار کونسل کا چیف جسٹس پاکستان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

  • خیبرپختونخوا بار کونسل کا چیف جسٹس پاکستان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

    پشاور: خیبرپختونخوا بار کونسل نے چیف جسٹس پاکستان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا۔

    باغی ٹی وی : خیبرپختونخوا بار کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غلط فیصلے نے جوڈیشل سسٹم کو داغ دار بنایا ہے، جوڈیشل ضابطہ اخلاق اور اپنےحلف کی خلاف ورزی کی گئی وفاقی حکومت چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کرے، سینئر ججز کو نظرانداز کرنا جوڈیشل ضابطہ اخلاق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسی نےحافظ قرآن اضافی نمبر کیس میں تفصیلی نوٹ جاری کر دیا

    خیبرپختونخوا بار کونسل نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے 12 اپریل کو بار کونسل کا اجلاس طلب کر لیا ہے، اجلاس میں صوبے بھر کے بار صدور کو مدعو کیا جائے گا۔


    قبل ازیں سابق وزیراعظم و مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نےچیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمرعطا بندیال سےفی الفور مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا اپنی ٹوئٹ میں نوازشریف کا کہنا تھاکہ عدالتیں قوموں کو بحرانوں سےنکالتی ہیں نہ کہ بحرانوں میں دھکیلتی ہیں چیف جسٹس نے نہ جانے کونسا اختیار استعمال کر کے اکثریتی فیصلے پر اقلیتی رائے مسلط کردی اپنے منصب اور آئین کی توہین کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے والا چیف جسٹس مزید تباہی کرنے کے بجائے فی الفور مستعفی ہو جائے-

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو سماعت کے لیے مقرر

    دریں اثنا سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ کے نوٹ کے بعد وفاقی حکومت نے بھی چیف جسٹس سے فی الفور مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔


    علاوہ ازیں عوامی نیشنل پارٹی نےبھی چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمرعطا بندیال سےاستعفےکا مطالبہ کیاعوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ چیف جسٹس اب بس، استعفیٰ دیں، اگر استعفیٰ نہیں دیا تو عید کے بعد تیار رہیں، ہم اسلام آباد آرہے ہیں، پھر عوام آپ سے استعفیٰ لے کر رہیں گے عدلیہ کی آزادی، جمہوریت، آئین و پارلیمان کی بالادستی کی جنگ پہلے بھی لڑی تھی، اب بھی لڑیں گے، عدلیہ کی حقیقی آزادی کی تحریک اب ہم چلائیں گے۔

    سعودی عرب : پہلی مرتبہ خاتون اور مرد خلابازآئندہ ماہ خلائی مہم پرروانہ ہوں گے

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو سماعت کے لیے مقرر

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو سماعت کے لیے مقرر

    اسلام آباد : چیف جسٹس پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو سماعت کے لیے مقرر کردیں۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال اس کی سماعت کریں گے، حکومت کی جانب سے کیوریٹوریو واپس لینے کی درخواست بھی سماعت کے لیے مقرر کردی گئی ہے چیف جسٹس پاکستان 10 اپریل کو ان چیمبر سماعت کریں گے-

    چیف جسٹس آف پاکستان کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

    واضح رہےکہ وفاقی حکومت نےجسٹس قاضی فائزعیسیٰ کےخلاف کیوریٹو ریویو واپس لینےکےلیےسپریم کورٹ سےرجوع کیاتھا،حکومت کا مؤقف تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس کمزور اور بے بنیاد وجوہات پر دائر کیا گیا تھا لہٰذا حکومت نے اس کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ پہلے ہی اس فیصلے کی منظوری دے چکی ہے۔

    اس حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ریفرنس کے نام پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں اور بدنام کیاگیا، یہ ریفرنس نہیں تھا، آئین اور قانون کی راہ پر چلنے والے ایک منصف مزاج جج کے خلاف ایک منتقم مزاج شخص عمران خان کی انتقامی کارروائی تھی۔

    پنجاب الیکشن کا ازخود نوٹس چار تین سے مسترد ہوا ، جسٹس اطہرمن اللہ کا …

    شہباز شریف نے مزید کہا تھاکہ یہ ریفرنس عدلیہ کی آزادی پر شب خون اور اسے تقسیم کرنے کی مذموم سازش تھی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں نےاپوزیشن کےدورمیں بھی اس جھوٹےریفرنس کی مذمت کی تھی عمران خان نےصدرکےآئینی منصب کا اس مجرمانہ فعل کے لیے ناجائز استعمال کیا، صدر عارف علوی عدلیہ پر حملے کے جرم میں آلہ کاراورایک جھوٹ کےحصہ دار بنےپاکستان بار کونسل سمیت وکلا تنظیموں نے بھی اس کی مخالفت کی تھی، ہم ان کی رائے کی قدر کرتے ہیں-

    خیال رہے کہ صدارتی ریفرنس خارج ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے دور میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو دائر کیا گیا تھااس حوالے سے سابق وزیراعظم عمران خان نے بھی اعتراف کیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر کرنا ہماری حکومت کی غلطی تھی۔

    جسٹس قاضی فائز عیسی نےحافظ قرآن اضافی نمبر کیس میں تفصیلی نوٹ جاری کر دیا

  • جسٹس قاضی فائز عیسی نےحافظ قرآن اضافی نمبر کیس میں تفصیلی نوٹ جاری کر دیا

    جسٹس قاضی فائز عیسی نےحافظ قرآن اضافی نمبر کیس میں تفصیلی نوٹ جاری کر دیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے سینئیر جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے حافظ قرآن اضافی نمبر کیس میں تفصیلی نوٹ جاری کر دیا،جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے اپنے فیصلے کے خلاف لارجر بینچ کی کارروائی پر اعتراض اٹھادیا-

    باغی ٹی وی : جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ازخودنوٹس 4/2022 بارے نوٹ جاری کردیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے جاری نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عشرت علی نے 4 اپریل کو خود کو غلط طور پر رجسٹرار ظاہر کیا عشرت علی کو 3 اپریل 2023 کونوٹی فیکیشن کے ذریعے وفاقی حکومت نے واپس بلایا،عشرت علی نے وفاقی حکومت کے حکم کی تعمیل سے انکار کیا-

    پاکستان آئی ایم ایف، ورلڈ بینک کا ممبر ہے کوئی بھکاری نہیں،وزیر خزانہ

    تفصیلی نوٹ میں لکھا کہ غیرقانونی سرکلر کا چیف جسٹس کو بھی خط لکھا لیکن کوئی جواب نہ ملا، سرکلر غیرآئینی ہونے کا ادراک ہونے پر ہی 6 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا، سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف کوئی دوسرا بینچ اپیل نہیں سن سکتا۔

    نوٹ میں کہا گیا کہ عشرت علی نے 4 اپریل کو لارجر بینچ تشکیل کے روسٹر پر دستخط کیے ، میرے فیصلے پر 6رکنی بینچ کے تشکیل کی آئین و قانون میں اجازت نہیں تھی 6رکنی بینچ کے 4 اپریل کے فیصلے کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ،3رکنی بینچ کے فیصلے پر 6 رکنی بینچ کی تشکیل غلط تھی ، لارجر بینچ کو 4 اپریل کا آرڈر جاری کرنے کا اختیار نہیں تھا جلد بازی میں لارجر بینچ نےسماعت کی اور 8 صفحات کا فیصلہ بھی جاری کیا، معمول کے مطابق سماعت ہوتی تو 4 ججز سوچتے کہ ان کے سینئر کیا کر رہے ہیں۔

    وزیراعظم ہاؤس سے مشکوک شخص گرفتار

    تفصیلی نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے 29 مارچ کے حکم کو 6 رکنی بینچ کالعدم نہیں کر سکتا تھا، 6 ججز کا فیصلہ آئین کا متبادل نہیں ہو سکتا ،6 ججز جلد بازی میں اکٹھے ہوئے ،6 رکنی بینچ نے چند منٹ میں ازخود نوٹس کارروائی کو ختم کر دیاعدلیہ کا کام آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے، اختیارات سے تجاوز کیا جائے تو ججز کے حلف کی خلاف ورزی ہوگی لارجربینچ کے حکم سے آمرانہ جھلک آتی ہے جو آئین کا متبادل نہیں ہوسکتا، چیف جسٹس کیلئے استعمال کیا گیا لفظ ماسٹر آف روسٹرز آئین میں کہیں نہیں ملتا۔

    نواز شریف نے بھی چیف جسٹس آف پاکستان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

  • صدر کا بل پر دستخط سے انکار،حکومت کا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ

    صدر کا بل پر دستخط سے انکار،حکومت کا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ

    صدر کے سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل پر دستخط سے انکار کا معاملہ ،بل صدر کے اعتراضات کے ساتھ پارلیمنٹ کو موصول ہو گیا

    وفاقی حکومت بھی اس معاملے پر ڈٹ گئی ،وفاقی حکومت نے بل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے پیر کو منظور کروانے کا فیصلہ کر لیا، اس ضمن میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس دن دو بجے طلب کرلیا گیا ،پارلیمنٹ سے منظور کروا کر بل دوبارہ صدر کو دستخط کےلیے بھیجا جائے گا صدر نے دس دن دستخط نہ کیے تو بل از خود قانون بن کر لاگو ہوجائےگا

    واضح رہے کہ صدر ِپاکستان نے سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) بل 2023 آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت نظر ثانی کیلئے پارلیمنٹ کو واپس بھجوا دیا ،صدر مملکت عارف علوی کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں یہ بل پارلیمنٹ کے اختیار سے باہر ہے ،بل قانونی طور پر مصنوعی اور ناکافی (colourable legislation) ہونے پر عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے ،میرے خیال میں اس بل کی درستگی کے بارے میں جانچ پڑتال پورا کرنے کیلئے دوبارہ غور کرنے کیلئے واپس کرنا مناسب ہے

    واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے حوالہ سے بل کابینہ کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی و سینیٹ میں پیش کیا تھا جو دونوں ایوانوں سے منظور ہو گیا تھا جس کے بعد صدر مملکت کو دستخط کے لئے بھیجا گیا تھا مگر آج صدر مملکت نے بل واپس کر دیا،

     انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے چیف جسٹس کا فیصلہ اقلیتی تھا

    فیصلے کو مسترد کرنے سے متعلق قرارداد منظور 

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    رجسٹرار سپریم کورٹ کی تعیناتی بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج، امان اللہ کنرانی وکیل مقرر

    شریف کو بھی از خود نوٹس کے خلاف اپیل کا حق مل گیا

     سادہ سا سوال ہے کہ الیکشن کمیشن تاریخ آگے کرسکتا ہے یا نہیں

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا

    مناسب وقت ہے کہ پارلیمنٹ اپنا کردار ادا کرے

  • صدر مملکت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل واپس بھیج دیا

    صدر مملکت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل واپس بھیج دیا

    صدر مملکت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل نظر ثانی کیلئے واپس بھیج دیا

    صدر ِپاکستان نے سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) بل 2023 آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت نظر ثانی کیلئے پارلیمنٹ کو واپس بھجوا دیا ،صدر مملکت عارف علوی کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں یہ بل پارلیمنٹ کے اختیار سے باہر ہے ،بل قانونی طور پر مصنوعی اور ناکافی (colourable legislation) ہونے پر عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے ،میرے خیال میں اس بل کی درستگی کے بارے میں جانچ پڑتال پورا کرنے کیلئے دوبارہ غور کرنے کیلئے واپس کرنا مناسب ہے ،آئین سپریم کورٹ کو اپیلی ، ایڈوائزری ، ریویو اور ابتدائی اختیار سماعت سے نوازتا ہے،مجوزہ بل آرٹیکل 184 تین ، عدالت کے ابتدائی اختیار سماعت ، سے متعلق ہے ،مجوزہ بل کا مقصد ابتدائی اختیار سماعت استعمال کرنے اور اپیل کرنے کا طریقہ فراہم کرنا ہے ،

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    بشری بی بی کی آڈیونےدنیا بدل دی۔قہرٹوٹ پڑا ،عمران خان مایوس،دل ٹوٹ گیا

    صدر مملکت نے سوال اٹھایا کہ یہ خیال قابل تعریف ہو سکتا ہے مگر کیا اس مقصد کو آئین کی دفعات میں ترمیم کے بغیر حاصل کیا جا سکتا ہے ؟ تسلیم شدہ قانون تو یہ ہے کہ آئینی دفعات میں ایک عام قانون سازی کے ذریعے ترمیم نہیں کی جاسکتی ، آئین ایک اعلیٰ قانون ہے ، قوانین کا باپ ہے ،آئین کوئی عام قانون نہیں ، بلکہ بنیادی اصولوں، اعلیٰ قانون اور دیگر قوانین سے بالاتر قانون کا مجسمہ ہے،آرٹیکل 191 سپریم کورٹ کو عدالتی کاروائی اور طریقہ کار ریگولیٹ کرنے کیلئے قوانین بنانے کا اختیار دیتا ہے ،آئین کی ان دفعات کے تحت سپریم کورٹ رولز 1980 بنائے گئے جن کی توثیق خود آئین نے کی، عدلیہ کی آزادی کو مکمل تحفظ دینے کیلئے آرٹیکل 191 کو دستور میں شامل کیا گیا ،آرٹیکل 191 کے تحت سپریم کورٹ کو پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار سے باہر رکھا گیا، پارلیمنٹ کا قانون سازی کا اختیار بھی آئین سے ہی اخذ شدہ ہے،آرٹیکل 70 وفاقی قانون سازی کی فہرست میں شامل کسی بھی معاملے پر بل پیش کرنے اور منظوری سے متعلق ہے،آرٹیکل 142اے کے تحت پارلیمنٹ وفاقی قانون سازی کی فہرست میں کسی بھی معاملے پر قانون بنا سکتی ہے،فورتھ شیڈول کے تحت پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے علاوہ تمام عدالتوں کے دائرہ اختیار اور اختیارات کے حوالے سے قانون سازی کا اختیار ہے ،فورتھ شیڈول کے تحت سپریم کورٹ کو خاص طور پر پارلیمان کے قانون سازی کے اختیار سے خارج کیا گیا ہے ، بل بنیادی طور پر پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے ، بل کے ان پہلوؤں پر مناسب غور کرنے کی ضرورت ہے،

  • پنجاب الیکشن کا ازخود نوٹس چار تین سے مسترد ہوا ، جسٹس اطہرمن اللہ کا اضافی نوٹ

    پنجاب الیکشن کا ازخود نوٹس چار تین سے مسترد ہوا ، جسٹس اطہرمن اللہ کا اضافی نوٹ

    سپریم کورٹ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابا ت کا معاملہ ،جسٹس اطہر من اللہ نے تحریک انصاف کی درخواست مسترد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا

    جسٹس اطہر من نے اللہ نے 22 فروری کے ازخود نوٹس کیس کا 25 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ، تحریری فیصلے میں کہا کہ ازخود نوٹس سمیت تینوں پیٹیشن خارج کی جاتی ہیں،پنجاب الیکشن کا ازخود نوٹس چار تین سے مسترد ہوا ہے تحریری فیصلے میں جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ تحریک انصاف کی درخواست پر جس انداز سے کارروائی شروع کی گئی اس سے عدالت سیاسی تنازعات کا شکار ہوئی ،اس درخواست پر کارروائی شروع کرنے سے پولیٹیکل اسٹیک ہولڈرز کو عدالت پر اعتراض اٹھانے کی دعوت دی گئی ،اس قسم کے اعتراضات سے عوام کے عدالت پر اعتماد پر اثر پڑتا ہے تحریک انصاف کی درخواست پر کارروائی شروع کرنا قبل ازوقت تھی ،چیف جسٹس کا سوموٹو لینا نہیں بنتا تھا کیونکہ یہ معاملہ پہلے ہی لاہور ہائیکورٹ میں پہلے ہی زیرالتوا تھا

    جسٹس اطہر من اللہ کے نوٹ میں قاسم سوری رولنگ کیس کا بھی حوالہ دیا گیا،کہا کہ عمران خان نے تحریک عدم اعتماد کے بعد اپوزیشن میں جانے کی بجائے استعفے دیے، آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے دور رس نتائج مرتب ہوئے، استعفوں کی وجہ سے سیاسی بحران میں اضافہ ہوا،پی ٹی آئی نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا۔سیاسی بحران عدم اعتماد میں شکست کے بعد عمران خان کے لیڈر آف اپوزیشن کا کردار نہ لینے سے شروع ہوا ،مجاز اتھارٹیز کی جانب سے الیکشن کی تاریخ دینا باقی تھا کہ پی ٹی آئی لاہور ہائیکورٹ چلی گئی سیاسیتدانوں کی پیدا کردہ دلدل سے نکالنے کیلئے ایک بار پھر عدالت کو دعوت دی گئی،سیاسی معاملات پر سوموٹو میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے ، سیاسی حکمت عملی کیلئے صوبائی اسمبلی توڑنے کا کنڈکٹ کیا آئینی جمہوریت سے مطابقت رکھتا ہے؟ پہلے عدالتوں میں آئے کہ استعفے منظور کرائیں جب ہو گئے تو کہا اب اسپیکر کا فیصلہ ریورس کرائیں ،سیاستدان عدالت میں کیس خود شاید جیت جائیں مگر ہارعدالت کی ہوتی ہے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات نہ کرانے پر متعلقہ ہائیکورٹس سے رجوع کیا گیا، جہاں کیس زیرالتوا تھا، اس کے باوجود سوموٹو نوٹس لیا گیا، ہائیکورٹس کی صلاحیت پر شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی ، سپریم کورٹ سمیت تمام اداروں کو آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے، سپریم کورٹ نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا ،جسٹس منصور، جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس یحیی آفریدی کی رائے سے متفق ہوں، 27 فروری کو ججز کے غیر رسمی اجلاس میں طے ہوا تھا کہ فیصلہ چار تین کا ہے،

    تفصیلی نوٹ میں کہا گیا پنجاب،کے پی انتخابات کی تاریخ کا ازخود نوٹس خارج کیا جاتا ہے درخواستوں اور از خود نوٹس کو خارج کرنےکی تین بنیادی وجوہات ہیں فل کورٹ کی جانب سے آرٹیکل 184 تھری کے استعمال کے بنیادی اصولوں کی پابندی بینچ پرلازم تھی عدالت کو اپنی غیر جانبداری کے لیے سیاسی جماعتوں کے مفادات کے معاملات پر احتیاط برتنی چاہیے، عدالت کو سیاسی درخواست گزارکا طرز عمل اور نیک نیتی بھی دیکھنی چاہیےدرخواست گزاروں کا رویہ اس بات کا متقاضی نہیں کہ 184/3کا اختیارسماعت استعمال کیا جائے ازخود نوٹس لینےکا مطلب غیر جمہوری اقدار اورحکمت عملی کو فروغ دینا ہوگا، ماضی کے فیصلوں کو مٹایا نہیں جاسکتا لیکن کم ازکم عوامی اعتماد بحال کرنےکی کوشش کی جاسکتی ہے انتخابات کی تاریخ کامعاملہ ایک تنازع سے پیدا ہوا ہے جو بنیادی طور پر سیاسی نوعیت کا تھا، جسٹس یحییٰ آفریدی نے درست کہا کہ عدالت کو ازخودنوٹس کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے، سپریم کورٹ کو یکے بعد دیگرے تیسری بار سیاسی نوعیت کے تنازعات میں گھسیٹا گیا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    جس میں وہ کرسی پر بیٹھے ہیں اور سگار پی رہے ہیں، شیخ رشید احمد کو لاک اپ میں بندنہیں کیا

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کے حوالہ سے از خود نوٹس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ پنجاب میں الیکشن 14 مئی کو ہوں گے، الیکشن کمیشن نے 8 اکتوبر کی تاریخ مقرر کر تھی سپریم کورٹ نے اسے کالعدم قرار دے دیا ، سپریم کورٹ کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن نے نیا شیڈول جاری کر دیا ہے، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ کے پی میں انتخابات کے لیے گورنر کی طرف سے عدالت میں نمائندگی نہیں کی گئی کے پی میں الیکشن کی تاریخ کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کیا جائے کے پی میں انتخابات کے لیے درخواست گزار عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں