Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • 9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    شیخوپورہ: وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر حسین کا کہنا ہے کہ 9 رکنی بینچ کے 3 رکنی رہ جانے میں حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے-

    باغی ٹی وی : شرقپور میں تقریب سے خطاب میں رانا تنویر حسین نے کہا کہ 9 رکنی بینچ کے3رکنی رہ جانے میں حکومت کا کوئی کردار نہیں، یہ اندرونی اختلاف اور کیس پر عدم اتفاق کا نتیجہ ہےاس پر فل کورٹ بنانے کا مطالبہ بالکل درست اور جائز ہے فل کورٹ کے ذریعے عدلیہ آئینی بحران سے نکلنے کی راہ تلاش کرے ورنہ آئینی اورسیاسی معاملات بند گلی میں چلے جائیں گے۔

    کراچی سے ٹورنٹو جانے والی پی آئی اے پروازکی اوسلو ائیرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ

    رانا تنویر نے کہا کہ حکومت میں شامل تمام اتحادی جماعتوں نے اتفاق رائے سے اس کیس کو نا قابل سماعت قرار دیا سیاسی جماعتوں کو سیاست کی بجائے ریاست کی مضبوطی اور آئین کی بالادستی کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا پی ٹی آئی فاشسٹ جماعت بن چکی جسے جمہوری اقدار کا کوئی خیال نہیں، قوم بھی فیصلہ کرےکہ آئین و قانون کی بالادستی کی خاطر کردار ادا کرنا ہے یا آئین و قانون شکنوں کا ساتھ دینا ہے اب عمران خان جس طرح بات کریں گے، اسی طرح کا جواب ملےگا۔

    وزیراعظم کی زیرصدارت ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج ہوگا

    قبل ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر حسین نےکہا کہ 3 مخصوص جج ہیں جو سیاسی فیصلے کرتےہیں، الیکشن کا فیصلہ فل کورٹ کو کرنا چاہیے جس کو ساری قوم تسلیم کرےاگر 3 جج فیصلہ کریں گےتو انتشاررہے گا، ہم تین ججز کے بینچ کا بائیکاٹ کر رہے ہیں، صدر علوی عمران خان کا آلہ کار بنا ہوا ہے۔

    بلوچستان: جلگئی سیکٹر میں شہید پاک فوج کے 4 جوانوں کی نماز جنازہ اور تدفین

    انہوں نے مزید کہا پارلیمنٹ نے جو بل پاس کیا ہے صدر اگر دستخط نہیں کرے گا تو 20 دن بعد قانون بن جائے گا، تمام سیاسی جماعتوں کی سوچ ہے کہ جنرل الیکشن ایک وقت میں ہونے چاہئیں، وزیر اعظم کے مفت آٹا فراہم کرنے کے فیصلے سے کروڑوں لوگ مستفید ہو رہے ہیں، عمران خان شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر مارتا ہے۔

  • اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ 90 دن میں الیکشن کا ہونا ہے،عمران خان

    اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ 90 دن میں الیکشن کا ہونا ہے،عمران خان

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نہ ماننے کا مطلب ہو گا کہ ملک میں آئین اور قانون ختم ہو گیا-

    باغی ٹی وی : ایک انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت سے مذاکرات صرف الیکشن پر ہی ہو سکتے ہیں اور ان مذاکرات کا بھی وہ خود حصہ نہیں بنیں گے میں نے ان کے ساتھ نہیں بیٹھنا، ہماری ٹیم بیٹھے گی لیکن بات صرف الیکشن کی ہے گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی بڑی بڑی باتیں چھوڑیں، پہلے تو آئیں الیکشن کے اوپر اگر آپ الیکشن ہی نہیں کروا سکتے تو کون سا ڈائیلاگ کرنا ہے کسی سے۔

    جسٹس فائز عیسی حکمنامے کے بعد از خود نوٹس کیس کی سماعت نہیں ہو سکتی. امان اللہ کنرانی

    چئیرمین تحریک انصاف نے کہا کہ اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ 90 دن میں الیکشن کا ہونا ہے اگر انتخابات 90 دن میں نہیں ہوتے تو پھر اکتوبر میں کیوں ہوں؟ پھر کہیں گے اگلے سال بھی کیوں ہوں؟ پھر تو جو طاقت ور فیصلہ کرے گا وہی ہو گا۔

    پی ڈی ایم کی جانب سے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ پر عدم اطمینان کے اظہار پر ردعمل دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نہ ماننے کا مطلب ہو گا کہ ملک میں آئین اور قانون ختم ہو گیا-

    انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو توسیع نہ دے کر نوازشریف نے اچھا کام کیا تاہم ساتھ ہی عمران خان نے ساتھ ہی قمر جاوید باجوہ کو تاحیات ایکسٹینشن کی آفر دینے کی تردید کر دی۔

    عمران خان نے کہا کہ ہمیں پتا چلاتھا کہ شہبازشریف نے قمر جاوید باجوہ کو توسیع کی پیشکش کر دی ہے تو میں نے کہا اگر وہ توسیع دے رہے ہیں تو ہم بھی آپ کو دے دیتے ہیں، جنرل باجوہ کو توسیع نہ دے کر نوازشریف نے اچھا کام کیا، ہر انسان غلطیاں کرتا ہے مجھ سے بھی غلطیاں ہوئیں یہ جھوٹ ہے کہ ہم نے جنرل باجوہ کو تاحیات توسیع کی پیشکش کی –

    جسٹس فائز عیسی حکمنامے کے بعد از خود نوٹس کیس کی سماعت نہیں ہو سکتی. …

    انہوں نے بتایا کہ اقتدار کے بعد میری ان سے دو میٹنگ ہوئیں جس کا مقصد الیکشن کرانا تھا، میں نے ان کو کہا کہ ملک نیچے جا رہا ہے سوائے الیکشن کے کوئی راستہ نہیں، جب انہوں نے ہمارے اتحادیوں کو لوٹے بنا کر دوسری طرف بھیجا تو میں نے الیکشن کا اعلان کر دیا سوموٹو ایکشن لیا گیا، 12 بجے عدالتیں کھلیں، ہمارے الیکشن کے اعلان کو رد کر دیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ شروع میں جنرل باجوہ اور ہم خارجہ پالیسی سمیت دیگر ایشوز پر ایک صفحے پر تھے، آخری 6 ماہ میں چینج آیا، خارجہ پالیسی میں بھی ایک دم تبدیل ہوگئے، ہم چاہتے تھے کہ یوکرین جنگ میں ہم نیوٹرل رہیں، ایک دم ان کو یہ ہوا کہ ہمیں روس کی مذمت کرنی چاہیے یہ ساری گیم اپنی توسیع کیلئے ہوئی تھی، شہباز شریف سے انڈراسٹیڈنگ ہوئی تھی کہ قمر جاوید باجوہ کو توسیع مل جائے گی۔

    ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی …

    عمران خان نے کہا کہ توسیع کے بعد جنرل باجوہ نے این آرو کی بات کی، پہلے کبھی نہیں کی ضمنی انتخابات میں عوام نے پی ڈی ایم اور اسٹیبلشمنٹ کو شکست دی، واضح ہوگیا کہ 2018 کے الیکشن میں ہمیں عوام نے جتوایا تھاہمارے ورکرز پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کہ کسی طرح ان چوروں کو قبول کر لیں۔

  • 90 روز میں الیکشن نہ ہوئے تو ہم سڑکوں پر ہوں گے،عمران خان

    90 روز میں الیکشن نہ ہوئے تو ہم سڑکوں پر ہوں گے،عمران خان

    لاہور: چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 90 روز کے اندر الیکشن نہ کروائے گئے تو ملک میں آئین نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہے گی جب کہ ہم سڑکوں پر ہوں گے۔

    باغی ٹی وی : سابق وزیر اعظم عمران خان نے لاہور زمان پارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ ہندوستان سے دوستی چاہتے تھےاس لیے معاملات خراب ہوئےجنرل باجوہ کےخلاف احتساب فوج کے اندر سے ہونا چاہیے-

    عمران خان نے پیمرا کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی

    انہوں نے کہا کہ صدرعارف علوی ہمارے اوراسٹیبلیشمنٹ کےدرمیان کسی قسم کا کردار ادا نہیں کر رہے،شاہ محمود اور پرویز الٰہی کو دوسری جماعتوں سے رابطہ بحال کرنے کا ٹاسک دے دیا ہے، پارٹی کے کسی بھی رکن کے دیگر جماعتوں اور سیاسی شخصیات سے ملنے پر کوئی پابندی نہیں۔

    وفاق نےقاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائردرخواست واپس لینےکیلئےمتفرق درخواست دائرکردی

    عمران خان نے کہا کہ عمران خان کا کہنا تھا کہ میڈیا پر ہمارا مکمل بلیک آوٹ کیا گیا سوشل میڈیا کو بھی کنٹرول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی اور آئی جی پنجاب جرائم پیشہ افراد ہیں، میری غیر موجودگی میں میرے گھر پر حملہ کیا گیا ان کے خلاف عدالت میں کیس درج کروانے جا رہا ہوں نگران حکومت کو نیوٹرل کا کردار ادا کرنا چاہیے تھا جو وہ نہیں کر رہے۔

    چیف جسٹس سمیت تینوں ججوں کے خلاف ریفرنس زیر غور ہے،وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ

    عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پہلے سوموٹو کے ذریعے اسمبلی بحال کی تو اس وقت سو موٹو ٹھیک تھا، اب سپریم کورٹ نے الیکشن کے لیے سو موٹو لیا تو یہ لوگ سپریم کورٹ کے پیچھے پڑ گئے ہیں، کس قانون کے تحت توڑی گئی پنجاب اور کے پی اسمبلیاں بحال ہو سکتی ہیں۔

    مہنگائی میں مزید اضافے کا عندیہ

  • چیف جسٹس سمیت تینوں ججوں کے خلاف ریفرنس زیر غور ہے،وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ

    چیف جسٹس سمیت تینوں ججوں کے خلاف ریفرنس زیر غور ہے،وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ چیف جسٹس سمیت تینوں ججز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا معاملہ زیر غور ہے-

    باغی ٹی وی : برطانوی خبررساں ادارے انڈیپینڈنٹ اردو کو انٹرویو میں رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سمیت تینوں ججز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا معاملہ زیر غور ہے، ریفرنس دائر کرنے کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا لیکن تینوں ججز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔

    چند ججز عمران خان کوریلیف دینا چاہتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ تینوں ججز کا ایک کافی لمبا ریکارڈ ہے کہ انہوں نے ایسے فیصلے دیئے جو ن لیگ کے خلاف تھے،جو انہوں نے فیصلے دیئے ان میں ایک فیصلہ ایسا بھی ہے جسے صرف مسلم لیگ ن ہی غلط نہیں کہتی، بلکہ اس فیصلے کو ہر وہ شخص جو قانون کو تھوڑا بہت جانتا ہے آئین ری رائٹ کرنے کے مترادف قراردیتا ہے اور وہ فیصلہ 63 اے کے متعلق ہے جس کے تحت پنجاب میں ن لیگ کی حکومت ختم کی گئی۔


    وزیرداخلہ کا کہنا تھ اکہ اب بھی بظاہر ایسے معلوم ہورہا ہے تینوں جج صاحبان ہر قیمت پر اس فیصلے کو خودکرنے پر بضد ہیں 9 رکنی بینچ بنا پھر 7 کا رہ گیا، پھر5 کا ، پھر 4 کا رہ گیا اور اب 3 کا ہے، تینوں ججز نے فل کورٹ کی استدعا مسترد کردی ہے-

    نوجوت سنگھ سدھو جیل سے رہا ہو گئے

    ابہوں نے کہا کہ تینوں ججز نے اپنے ساتھی اکثریتی ججز کی بات بھی تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے، ہمارے پاس اس کے سوا کوئی اور صورت بچتی ہی نہیں ہے کہ ہم اپنا احتجاج نوٹ کرائیں۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا کے انتخابات کی تاریخ کے ازخود نوٹس پر 3 رکنی بینچ سماعت کررہا ہے جس کی سربراہی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کر رہے ہیں اس کے علاوہ بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل ہیں۔

    وفاق نےقاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائردرخواست واپس لینےکیلئےمتفرق درخواست دائرکردی

  • وفاق نےقاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائردرخواست واپس لینےکیلئےمتفرق درخواست دائرکردی

    وفاق نےقاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائردرخواست واپس لینےکیلئےمتفرق درخواست دائرکردی

    اسلام آباد : وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے سینئیر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر درخواست واپس لینے کیلئے سپریم کورٹ میں متفرق در خواست دائر کردی۔

    باغی ٹی وی : وفاقی حکومت کی جانب سے درخواست اے او آر نے دائر کی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر کیوریٹو درخواست کی پیروی نہیں کرنا چاہتی اس لیے حکومت سپریم کورٹ میں دائیر کیوریٹو ریویو واپس لے رہی ہے-

    اغوا برائے تاوان کی واردات طالبعلم قتل،پولیس مقابلےمیں ساتھیوں کی فائرنگ سےبچےکا ٹیچر ہلاک

    وفاقی حکومتی جانب سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت کیس واپس لینے کی اجازت دے۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو ریفرنس واپس لینےکاحکم دیا تھا وزیراعظم نے وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس واپس لینے کی ہدایت کی تھی-

    حکومت کا مؤقف ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو ریفرنس کمزور اور بے بنیاد وجوہات پر دائر کیا گیا تھا لہٰذا حکومت نے اس کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ پہلے ہی اس فیصلے کی منظوری دے چکی ہے۔

    چند ججز عمران خان کوریلیف دینا چاہتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    اس حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ریفرنس کے نام پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں اور بدنام کیاگیا یہ ریفرنس نہیں تھاآئین اور قانون کی راہ پر چلنےوالےایک منصف مزاج جج کےخلاف ایک منتقم مزاج شخص عمران خان کی انتقامی کارروائی تھی یہ ریفرنس عدلیہ کی آزادی پرشب خون اوراسےتقسیم کرنےکی مذموم سازش تھی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اوراتحادی جماعتوں نے اپوزیشن کے دور میں بھی اس جھوٹے ریفرنس کی مذمت کی تھی-

    شہباز شریف نے کہا تھا کہ عمران خان نے صدر کے آئینی منصب کا اس مجرمانہ فعل کے لیے ناجائز استعمال کیا، صدر عارف علوی عدلیہ پر حملے کے جرم میں آلہ کار اور ایک جھوٹ کے حصہ دار بنے، پاکستان بار کونسل سمیت وکلا تنظیموں نے بھی اس کی مخالفت کی تھی، ہم ان کی رائے کی قدر کرتے ہیں-

    منصوررانا نے پاکستانی شاہینز کےساتھ زمبابوےجانےسےمعذرت کرلی

    واضح رہے کہ عمران خان دور حکومت میں پہلے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کو ہٹانے کیلئے ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا گیا تھا سپریم کورٹ کے سینئر ترین ججز میں سے ایک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کا معاملہ مئی 2019 کے اواخر میں سامنے آیامئی 2019 سے جون 2020 تک یہ معاملہ تقریباً 13 ماہ تک چلا، جہاں سپریم کورٹ میں اس کیس کی 40 سے زیادہ سماعتیں ہوئیں۔

    سپریم جوڈیشل کونسل میں صدر مملکت کیجانب سے بھجوائے گئے ریفرنس میں جسٹس فائزعیسیٰ پریہ الزام لگایا گیا تھاکہ انہوں نے برطانیہ میں اپنی ان جائیدادوں کوچھپایا جو مبینہ طور پر ان کی بیوی اور بچوں کےنام ہیں صدارتی ریفرنس میں اثاثوں کےحوالے سے مبینہ الزامات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔

    رواں سال پاؤنڈ کی قدر میں اضافہ، بینک آف انگلینڈ کیجانب سے شرح سود میں …

    تاہم 7 اگست 2019 کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کو ذاتی طور پر عدالت عظمیٰ میں چیلنج کردیا تھا جس پر پہلے سپریم کورٹ نے ایف بی آر کو تحقیقات کر کے رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور بارز نے اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی دائر کی اور نظرثانی درخواستوں میں اکثریتی فیصلے کے ذریعے ساری کارروائی کو ختم کردیا گیا تھا تاہم جس کے بعد دوبارہ اُس وقت کی حکومت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو کے نام سے درخواست دائر کردی تھی جسے اب حکومت نے واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    مارچ میں مہنگائی 3.72 فیصد بڑھی،ادارہ شماریات

  • چند ججز عمران خان کوریلیف دینا چاہتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    چند ججز عمران خان کوریلیف دینا چاہتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    اسلام آباد: حکومت میں شامل جماعتوں کے اہم مشاورتی اجلاس میں اہم فیصلے کر لئے-

    باغی ٹی وی: حکمران جماعتوں نے چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ،حکمران جماعتوں نے اعلامیے میں کہا کہ تین رکنی بینچ پر اعتماد نہیں ہے، سپریم کورٹ کا لارجر بینچ پہلے ہی کا تین کے مقابلے چار ججوں کی اکثریت سے انتخابی درخواستیں خارج کرچکا ہے –

    اغوا برائے تاوان کی واردات طالبعلم قتل،پولیس مقابلےمیں ساتھیوں کی فائرنگ سےبچےکا ٹیچر ہلاک

    اعلامیے میں کہا کہ چیف جسٹس اکثریتی پر اقلیتی فیصلہ مسلط کرنا چاہتے ہیں پاکستان بار کونسل اور دیگر بار ایسوسی ایشنز کی آرٹیکل 209 کے تحت دائر ریفرنسز پر کارروائی کی جائےجسٹس فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بینچ نے 184 (3 ) کے تحت زیر سماعت مقدمات پر کارروائی سے روکنے کا کہا ہے-

    حکمران جماعتوں نے اعلامیے میں کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بینچ کے فیصلےکا احترام کرنا بھی سب پرلازم ہےجسٹس اعجازالا حسن کا دوبارہ تین رکنی بینچ میں شامل ہونا غیر منصفانہ ہے یہ عمل سپریم کورٹ کے طریقہ کار اور نظائر کی بھی صریح خلا ف ورزی ہے-

    رواں سال پاؤنڈ کی قدر میں اضافہ، بینک آف انگلینڈ کیجانب سے شرح سود میں …

    اعلامیے میں کہا گیا کہ سیاستدانوں سے کہاجارہا ہے کہ وہ مل کر بیٹھیں لیکن سپریم کورٹ خود تقسیم ہے ان حالات کا تقاضا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان اور تین رکنی بینچ کے دیگر جج صاحبان مقدمے سے دستبردار ہوجائیں اجلاس کا پارلیمنٹ کی حالیہ قانون سازی کی بھرپور تائید اور حمایت کا اعلان کیا-

    حکمران جماعتوں نے کہا کہ قانون سازی سے عوام الناس کے ساتھ یک طرفہ انصاف کی روش کا خاتمہ ہوگاپارلیمنٹ نے قانون سازی کے ذریعے آرٹیکل 184 (3) سے متعلق اپنی رائے واضح کردی ہےپارلیمنٹ بالا دست ہے جس کی رائے کا سب کو احترام کرنا چاہیے ا مید ہے کہ صدر قانون سازی کی راہ میں جماعتی وابستگی کی بنیاد پر رکاوٹ نہیں بنیں گے-

    اجلاس میں حکمران جماعتوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے معاملے میں خصوصی امتیازی رویے کے تاثر کو چیف جسٹس ختم کریں-

    حکمران اتحاد کا تین رکنی بنچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ

    دوسری جانب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) و جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومتی اتحادیوں کے اہم اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس اقلیت کےفیصلے کو اکثریت کے فیصلے پر مسلط کرنا چاہتے ہیں، 3ججزپرمشتمل بنچ پراعتماد نہیں، اخلاقی طورپرچیف جسٹس اور دیگر دو ججز کو اس کیس سے الگ ہوجانا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان اداروں میں تقسیم چاہتے ہیں، دھاندلی کے دوبڑے مجرم دندناتے پھررہے ہیں ان کے خلاف ازخودنوٹس نہیں لیا جارہا چند ججز عمران خان کوریلیف دینا چاہتے ہیں، پی ڈی ایم کو ان تین ججزپرمشتمل بینچ پراعتماد نہیں، اس بینچ میں ایسا جج بھی ہے جس نے پہلے سماعت سے معذرت کی پھر واپس آ کر بیٹھ گیا، ہماری نظر میں سپریم کورٹ کا یہ تین بینچ دو صوبوں کے کیس میں واضح طور پر فریق کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    رواں سال پاؤنڈ کی قدر میں اضافہ، بینک آف انگلینڈ کیجانب سے شرح سود میں اضافہ متوقع

    فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ ملک کو ایک رکھنے کےلیے ایک الیکشن ہونا ضروری ہے، چیف جسٹس ہمیں نصیحت کررہے ہیں کہ مل بیٹھ کر طے کریں، ہمیں تو مل بیٹھنے کی تلقین کر رہے ہیں اور خود اپنی کورٹ کو تقسیم کردیا۔

  • بند گلی میں پہنچ چکے،کوئی راستہ بن سکتا تو وہ فل کورٹ ہے،خورشید شاہ

    بند گلی میں پہنچ چکے،کوئی راستہ بن سکتا تو وہ فل کورٹ ہے،خورشید شاہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنما، وفاقی وزیر سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ سیاسی بحران پیچھے رہ گیا، آئینی بحران نے ملک کو لپیٹ میں لے لیا

    خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ آئینی و سیاسی بحران کے حل کے لیے نہ کوئی ادارہ بچا، نہ شخصیت، ہم بند گلی میں پہنچ چکے،اگر کوئی راستہ بن سکتا تو وہ فل کورٹ ہے۔ فل کورٹ کے ذریعے عدلیہ آئینی بحران سے نکلنے کی راہ تلاش کرے۔ آئینی و سیاسی معاملات بند گلی میں چلے جائیں تو گھڑی کی ٹک ٹک شروع ہو جاتی۔تجربے سے بتا رہا وقت بہت کم ہے، حل نہ نکالا تو کچھ بھی ہو سکتا۔اگر کچھ غلط ہوا تو اہم ادارے ذمہ دار ہوں گے۔ ضد اور انا نے ملک کو اس دلدل تک پہنچایا ہے۔ افسوسناک صورتحال ہے سیاسی بحران کو حل کرنے کی بجائے سنگین آئینی بحران پیدا کر دیا گیا۔

    سید خورشید شاہ کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی بحران کی ذمہ داری کا حقیقی تعین کرنا تو جنرل پاشا سے شروع کریں۔جنرل پاشا، جنرل ظہیر اسلام، جنرل فیض، سب نے عمران خان کی آبیاری کی۔عمران خان کو مسلط کرنا ہی ملک کو درپیش خرابی کی اصل بنیاد ہے۔ سپریم کورٹ نے فل کورٹ کے ذریعے راستہ نہ نکالا تو پھر کوئی راستہ نہیں نکلتا،بار بار کہہ رہا ہوں۔ اب صرف فل کورٹ، صرف فل کورٹ ورنہ صرف پچھتاوا۔

     فیصلے کی نہ کوئی قانونی حیثیت ہوگی نہ اخلاقی

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

     آئندہ ہفتے مقدمات کی سماعت کے لئے بنچز تشکیل

  • سپریم کورٹ،آئندہ ہفتے مقدمات کی سماعت کے لئے بنچز تشکیل

    سپریم کورٹ،آئندہ ہفتے مقدمات کی سماعت کے لئے بنچز تشکیل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے آئندہ ہفتے مقدمات کی سماعت کے لئے بنچز تشکیل دے دیئے ہیں

    سپریم کورٹ کے تمام 15 ججزآئندہ ہفتے اسلام آباد میں ہی مقدمات کی سماعت کریں گے، بنچ 1 چیف جسٹس آف پاکستان عمرعطا بندیال اورجسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل ہوگا،بنچ دو،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس یحییٰ آفریدی پر مشتمل ہو گا،بنچ 3 جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس امین الدین اور جسٹس اطہر من اللہ پرمشتمل ہوگا، بنچ4 جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس حسن اظہررضوی پر مشتمل ہو گا جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل بنچ 5 کا حصہ ہونگے،بنچ 6 جسٹس منیب اختر اور جسٹس مظاہر اکبر نقوی پر مشتمل ہو گا،بنچ 7 جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل ہو گا

    خصوصی بنچ 1 چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر پرمشتمل ہو گا ،خصوصی بنچ 4 جسٹس منیب اختر، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل ہو گا

     فیصلے کی نہ کوئی قانونی حیثیت ہوگی نہ اخلاقی

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

  • مسلم لیگ اعلانیہ آئین سے بغاوت کی دھمکی دے رہی ہے،اسد عمر

    مسلم لیگ اعلانیہ آئین سے بغاوت کی دھمکی دے رہی ہے،اسد عمر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے سپریم کورٹ میں الیکشن کے کیس کے حوالہ سے حکمران اتحاد پر کڑی تنقید کی ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ مارچ کے مہینے میں پاکستان کی 75 سالہ تاریخ کے ماہانہ مہنگائی کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ 35.4% افراط زر کی شرح۔ قوم کی کمر توڑ دی مہنگائی سے اور ان کو جبر اور فسطائیت سے فرصت نہیں ،سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول نہیں کریں گے جب تک فل کورٹ نہ بیٹھے۔ یعنی مسلم لیگ اعلانیہ آئین سے بغاوت کی دھمکی دے رہی ہے۔ سپریم کورٹ کے رولز کے مطابق اس نوعیت کا مقدمہ 2 رکنی بینچ بھی سن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقدمے کی اہمیت زیادہ ہے۔ وہ مقدمہ جو کورٹ کے از خود نوٹس سے سنا گیا، جس کے نتیجے میں عمران خان کی منتخب حکومت ختم ہو گئی، تو وہ کیا فل کورٹ نے سنا تھا؟ جی نہیں۔ وہ مقدمہ ایک 5 رکنی بینچ نے سنا تھا جس کا فیصلہ نہ صرف اس حکومت نے قبول کیا بلکہ شکریہ بھی ادا کیا ،

    اسد عمر کا مزید کہنا تھا کہ ان کی آخری دلیل کہ جو ججز اس بینچ پر ہیں وہ جانبدار ہیں۔ جناب عمران خان کو گھر بھیجنے والے مقدمے کا از خود نوٹس عمر عطا بندیال نے لیا۔ جس 5 رکنی بینچ نے قاسم سوری کی رولنگ کو کالعدم قرار دیا اس میں موجودہ بینچ کے تینوں ججز۔۔ عمر بندیال، اعجازالاحسن اور منیب اختر اس کا حصہ تھے ،ان حقائق کی روشنی میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جو چیخیں آپ حکومتی نمائندوں سے سن رہے ہیں وہ نہ بینچ کی وجہ سے ہیں نا رولز کی وجہ سے۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کے آئین 90 دن میں الیکشن پر واضح ہے اور الیکشن ان کو اپنی سیاسی موت نظر آ رہی ہے

     انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کیلئے دوبارہ بینچ تشکیل

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     ون مین شو چلایا جارہا ہے، عوام تسلیم نہیں کریگی 

     حکومت عدالتی فیصلہ کیسے نہیں مانے گی؟ یہ کون ہوتے ہیں نہ ماننے والے

  • ہم آئین پر عمل چاہتے ہیں،شاہ محمود قریشی

    ہم آئین پر عمل چاہتے ہیں،شاہ محمود قریشی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما، شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ فل کورٹ بنائیں،

    شاہ محمود قریشی نے عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئین پر عمل نہ کیا گیا تو ملک کو بہت نقصان ہو گا،چیف جسٹس نے آئین و قوانین کے مطابق 3 رکنی بینچ بنایا، تحریک انصاف چیف جسٹس آف پاکستان کیساتھ ہے، حکومت آئین پر حملہ کر رہی ہے، ہم آئین پر عمل چاہتے ہیں، مجھ پر الزام ہے کہ میں نے لوگوں کو اکسایا،میں اکسانے والوں میں سے نہیں سمجھانے والوں میں سے ہوں،کل کور کمیٹی میٹنگ میں سپریم کورٹ کی آُب بیتی بیان کی، سیاسی جماعتوں سے رجوع کر نے کا فیصلہ کیا ہے علی ظفر نے عدالت میں ہمارا نقطہ نظر پیش کر دیا،متفقہ آئین پر حملہ ہو رہا ہے اور بلاول خاموش ہیں اگر کسی قسم کی آئین شکنی کی کوشش کی گئی تو پوری قوم، وكلا برادری اور اوورسیز پاکستانی ان کا محاسبہ کریں گے

     انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کیلئے دوبارہ بینچ تشکیل

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     ون مین شو چلایا جارہا ہے، عوام تسلیم نہیں کریگی 

    شاہ محمود قریشی کا مید کہنا تھا کہ عدلیہ آئین کا تحفظ کررہی ہے تو خود کو تنہا نہ سمجھے، ہم عدالتی فیصلے کے منتظر ہیں، عدالت آئین کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرے تو انتخابات کی توقع کی جا سکتی ہے حکومت عدالتی فیصلہ کیسے نہیں مانے گی؟ یہ کون ہوتے ہیں نہ ماننے والے، پوری قوم ان کا محاصرہ اور محاسبہ کرے گی