Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • نیب کی جانب سے تفصیلی رپورٹ جمع نہ کرانے پر سپریم کورٹ برہم

    نیب کی جانب سے تفصیلی رپورٹ جمع نہ کرانے پر سپریم کورٹ برہم

    سندھ کول اتھارٹی کرپشن کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی،

    نیب کی جانب سے تفصیلی رپورٹ جمع نہ کرانے پر سپریم کورٹ برہم ہو گئی،دوران سماعت چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ انتہائی سنجیدہ ہے 19 ارب کی کرپشن کا کیس ہے لیکن نیب انکوائری نہیں ہو رہی ،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود ڈیڑھ سال سے تحقیقات مکمل نہیں ہوئی ،

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب بھی قابل احتساب ہے اگر کیس نہیں بنتا تو بھی انکوائری مکمل کریں نیب تحقیقات مکمل کرنے میں تاخیر نہیں کر سکتی عدالت نے نیب نے اقدامات کااحتساب کرنا ہے نیب غیرضروری طور پر ملزمان کو ہراساں نہ کرے ،چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب رپورٹ میں تاریخ بتائی گئی نہ ہی کوئی اور تفصیل عدالت نیب رپورٹ سے مطمئن نہیں کیا نیب سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کررہی ہے یا نہیں ؟سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت پر ڈی جی نیب کراچی کو طلب کرلیا ،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 2 ہفتے تک ملتوی کر دی

  • فیصلہ لکھواتے ہوئے سٹینو گرافر سے کہا لکھو ،قانون قانون ہے،چیف جسٹس

    فیصلہ لکھواتے ہوئے سٹینو گرافر سے کہا لکھو ،قانون قانون ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ ، ریلوے اراضی غیر قانونی طور پر لیز پر دینے سے متعلق نیب کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے نئے نیب قانون کے تحت ریفرنس واپس ہونے کی بنا پر اپیل خارج کر دی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 319 ملین 31 کروڑروپے بنتے ہیں پچاس کروڑ روپے سے کم ہونے کی بنا پر ریفرنس واپس کیا گیا،معاملہ ریلوے کی زمین کا تھا لیکن کیا کریں قانون قانون ہے،فیصلہ لکھواتے ہوئے سٹینو گرافر سے کہا لکھو ،قانون قانون ہے، ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت میں کہا کہ ریفرنس 319 ملین کا تھا ، اس لیے واپس کردیا ہے،

    عمران خان کے سابق وزیراعظم ہونے کے بعد استعفوں کی لائنیں لگ گئیں

    بے جا لوگوں کو جیلوں میں نہیں بھجوائیں گے لیکن قانون اپنا راستہ لے گا،شہباز شریف

    ویلکم بیک پرانا پاکستان،ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے،بلاول

    نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر پرویز مشرف واپس آنا چاہیں تو حکومت کو چاہیے کہ ان کو تمام تر سہولیات فراہم کرے

    قبل ازیں سپریم کورٹ نے ریلوے ملازم کی بنیادی تنخواہ میں 75 روپے اضافے کی اپیل خارج کردی۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ریلوے ملازم کی تنخواہ میں اضافے کے کیس پر سماعت کی جس دوران چیف جسٹس نے اپیل زائد المعیاد قرار دے کر خارج کردی۔ریلوے ملازم غیاث کی درخواست پر سماعت میں عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے مکالمہ کیا آپ کے مؤکل نے تنخواہ میں 75 روپے کا اضانہ نہ ملنے پر اپیل دائرکی جس کے مطابق 1983 میں ان کی بنیادی تنخواہ میں75 روپے اضافہ ہوناچاہیے تھا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کا مؤکل اپیل دائر کرنے میں 20 سے 25 سال سوچتا رہا، مؤکل کی ٹریبونل میں اپیل زائد المعیاد تھی، سپریم کورٹ میں بھی آپ کی اپیل زائد المعیاد ہے۔ بعد ازاں عدالت نے ریلوے ملازم کی بنیادی تنخواہ میں 75 روپے اضافے کی اپیل خارج کردی

  • پنجاب اورکے پی انتخابات،ازخود نوٹس پر کیس کی سماعت آج ہوگی، حکومت نے بینچ میں 2 ججز کی شمولیت پر تحفظات اٹھا دیئے

    پنجاب اورکے پی انتخابات،ازخود نوٹس پر کیس کی سماعت آج ہوگی، حکومت نے بینچ میں 2 ججز کی شمولیت پر تحفظات اٹھا دیئے

    اسلام آباد: پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کیس کی سماعت آج ہو گی تاہم حکومت نے بینچ میں 2 ججز کی شمولیت پر تحفظات اٹھا دیئے۔

    باغی ٹی وی :وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات کے حوالے سے بینچ تشکیل دیا جہاں ہم اپنے تحفظات معزز عدلیہ کے سامنے رکھیں گے خوشی ہے سپریم کورٹ نے اس معاملے پر ازخود نوٹس لیا ہے، بینچ کے بارے میں ابھی کچھ پتہ نہیں تاہم کچھ تحفظات کا ہم نے پہلے اظہار کیا ہوا ہے، اگر وہ دو جج صاحبان جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی بھی بینچ کا حصہ ہیں تو ہم اپنے تحفظات رکھیں گے۔

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ تمام بار کونسلز کا متفقہ مطالبہ ہے یہ دونوں ججز عہدہ چھوڑ دیں بلکہ وہ تو ان کے خلاف ریفرنسز لانے کا بھی عندیہ دے چکی ہیں، کیسے ممکن ہے وہ ججز جن کیخلاف ریفرنسز ہوں وہ بنچ کا حصہ ہوں نوججز میں سے دو ججز بنیاد پر یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہمارے خلاف ہیں البتہ ہم نے اُن پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، مجھے امید ہے وہ ججز ہمارے اعتراض کرنے سے پہلے یا اعتراض کرنے کے بعد بنچ سے الگ ہو جائیں گے۔

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ چیئرمین نیب آفتاب سلطان کے ایماندار ہونے میں کوئی شک نہیں، وہ کام نہیں کرنا چاہتے تھے، انہوں نے ہمیشہ ایسے کام کئے جن میں کوئی مشکل نہ ہو، ہر جگہ جہاں لوگوں کے کام ہوتے ہیں وہاں دباؤ تو ہوتا ہی ہے، چیئرمین نیب کو آئینی سیکیورٹی حاصل ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان بار کونسل نے بھی پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے ازخود نوٹس کیس میں 9 رکنی بینچ کی تشکیل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل ایڈوکیٹ ہارون رشید نے کہا بہتر ہوتا کہ فل کورٹ تشکیل دی لیکن اگر فل۔کورٹ نہیں بھی تشکیل دی جاتی تو کم از کم دو ججز کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔

    انہں نے کہا کہ دونوں جج صاحبان پر اعتراضات بھی سامنے آچکے تھے، اس کے ساتھ ساتھ دوسری جانب دونوں جج صاحبان غلام محمود ڈوگر کیس میں اپنا مائنڈ بھی سامنے لا چکے ہیں اور اتنخابات کے انعقاد کو الیکشن کمیشن کی ذمہ داری قرار دے چکے ہیں از خود نوٹس میں فریق بننے کا فیصلہ مشاورت سے کریں گے۔ چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی حسن رض پاشا نے کہا اعتراضات سے بچنے کیلئے بہتر تھا کہ سینئر 9 ججز کو شامل کرلیا جاتا ہماری کوشش ہے کہ سیاسی معمالات میں فریق نہ بنیں، سیاسی مقدمات میں بینچ کی تشکیل میں پسند نہیں ہونا چاہیے۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات میں تاخیر کے معاملے پر از خود نوٹس لے لیا، جس پر نو رکنی بینچ آج 2 بجے سماعت کرے گا۔

    9 رکنی بینچ کی سربراہی چیف جسٹس پاکستان کریں گے جبکہ بینچ کے دیگر ممبران میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ خان آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی ،جسٹس جمال خان مندو خیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں۔

    9 رکنی بینچ کی جانب سے از خود نوٹس میں مندرجہ ذیل سوالات کا جائزہ لیا جائے گاکہ عام انتخابات کے حوالے سے آئینی ذمہ داری کس کی ہے؟،عام انتخابات کی ذمہ داری کب اور کیسے ادا کی جائے گی؟،3۔ عام انتخابات کے حوالے سے وفاق اور صوبے کی ذمہ داری کیا ہے؟،اسمبلی ختم ہونے کے بعد انتخابات کی تاریخ دینا کس کی آئینی ذمہ داری ہے؟

  • نیب ترامیم کیس کو جلد ختم کرنا چاہتےہیں، بہت سے اہم معاملات غور طلب ہیں،چیف جسٹس

    نیب ترامیم کیس کو جلد ختم کرنا چاہتےہیں، بہت سے اہم معاملات غور طلب ہیں،چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت 21 فرفوی تک ملتوی کر دی-

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی،دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نیب قانون کے ساتھ کیا واضح نہیں ہے کہ کیسز منتقل ہو کر کہاں جائیں گے؟۔

    وفاقی حکومت کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ چئیرمین نیب کی سربراہی میں کمیٹی ہے جو کیسز کی متعلقہ فورمز پر منتقلی کا معاملہ دیکھ رہی ہے، برطانیہ میں کہا جاتا ہے کہ اگر کسی معاملے کا فیصلہ نا کرنا ہو تو اس کو کمیٹی میں بھجوا دیں، نیب آرڈیننس 2019 کے تحت 41 افراد بری ہوئے تھے۔

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا کہ اس کیس میں عدالت خود کو 2022 کی نیب ترامیم تک ہی محدود رکھے گی۔

    حکومتی وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عمران خان کی درخواست میں حقائق درست انداز میں نہیں بتائے گئے، درخواست میں پٹشنر کو نیب ترامیم کا آئین کی شقوں سے متصادم کے متعلق بتانا ہوتا ہے، عمران خان کی درخواست میں ٹوٹل 47 قانونی سوالات ہیں، ان 47 قانونی سوالات میں صرف 4 میں نیب ترامیم کے ساتھ آئینی شقوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔

    وکیل نے کہا کہ نیب ترامیم کے درخواست میں پہلے دو سوالات ضیا اور مشرف دور کے ریفرنڈم والے ہیں، نیب ترامیم کی درخواست میں 21 قانونی سوالات دراصل سوالات ہی نہیں ہیں، درخواست کے ان 21 سوالات میں کسی نیب ترامیم یا بنیادی حقوق کا حوالہ نہیں دیا گیا-

    دلائل میں وکیل نے مزید کہا کہ درخواست کے 16 سوالات میں نیب ترامیم کا حوالہ دیا گیا پر بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں بتائی گئی، درخواست میں 6 سوالات میں بنیادی حقوق بتائے گئے مگر نیب ترامیم نہیں درج کی گئیں، عمران خان نے درخواست میں امپورٹڈ سازش کا ذکر بھی کیا ہے، پچھلے کچھ دنوں کے اخبارات کے مطابق اب یہ امپورٹڈ سازش بھی ایکسپورٹڈ سازش بن چکی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے تو عمران خان کی درخواست کا فارنزک آڈٹ کر دیا ہےکیس کو جلد ختم کرنا چاہتےہیں، بہت سے اہم معاملات غور طلب ہیں ،کیس کی سماعت 21 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔

    واضح رہے کہ خیال رہے کہ گزشتہ سال جون میں مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت اتحادی حکومت نے نیب آرڈیننس میں 27 اہم ترامیم متعارف کروائی تھیں، لیکن صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ان کی منظوری نہیں دی تھی، تاہم اس بل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کیا گیا اور بعد میں اسے نوٹیفائی کیا گیا تھا۔

    نیب (دوسری ترمیم) بل 2021 میں کہا گیا ہے کہ نیب کا ڈپٹی چیئرمین، جو وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کیا جائے گا، چیئرمین کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد بیورو کا قائم مقام چیئرمین بن جائے گا، بل میں چیئرمین نیب اور بیورو کے پراسیکیوٹر جنرل کی 4 سال کی مدت بھی کم کر کے 3 سال کردی گئی ہے۔

    قانون کی منظوری کے بعد نیب وفاقی، صوبائی یا مقامی ٹیکس کے معاملات پر کارروائی نہیں کر سکے گا، مزید یہ کہ ملک میں کام کرنے والے ریگولیٹری اداروں کو بھی نیب کے دائرہ کار سے باہر نکال دیا گیا ہے۔

    بل میں کہا گیا ہے کہ اس آرڈیننس کے تحت افراد یا لین دین سے متعلق زیر التوا تمام پوچھ گچھ، تحقیقات، ٹرائلز یا کارروائیاں متعلقہ قوانین کے تحت متعلقہ حکام، محکموں اور عدالتوں کو منتقل کی جائیں گی، بل نے احتساب عدالتوں کے ججوں کے لیے 3 سال کی مدت بھی مقرر کی ہے، یہ عدالتوں کو ایک سال کے اندر کیس کا فیصلہ کرنے کا پابند بھی بنائے گا۔

    مجوزہ قانون کے تحت نیب کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ملزم کی گرفتاری سے قبل اس کے خلاف شواہد کی دستیابی کو یقینی بنائے، بل میں شامل کی گئی ایک اہم ترمیم کے مطابق یہ ایکٹ قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے شروع ہونے اور اس کے بعد سے نافذ سمجھا جائے گا۔

  • سپرٹیکس کیس:وفاقی حکومت اورایف بی آر کو سپریم کورٹ سے ریلیف مل گیا

    سپرٹیکس کیس:وفاقی حکومت اورایف بی آر کو سپریم کورٹ سے ریلیف مل گیا

    سپر ٹیکس کیسز میں وفاقی حکومت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر ) کو سپریم کورٹ سے ریلیف مل گیا۔

    باغی ٹی وی: سپر ٹیکس سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلےکے خلاف وفاقی حکومت اور ایف بی آر کی اپیلوں پر سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی،سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت اور ایف بی آر کی اپیلوں پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے تمام فریقین کو 4 فیصد سپرٹیکس ادا کرنےکا حکم دے دیا۔

    مختلف انڈسٹریز نے گزشتہ سال بجٹ میں عائد سپر ٹیکس کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ سندھ ہائیکورٹ نے گزشتہ سال سے دس فیصد سپر ٹیکس کی وصولی کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

    وفاقی حکومت اور ایف بی آر نے سپر ٹیکس کی وصولی کے لئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جو منظور کرلی گئی اور چار فیصد سپر ٹیکس ادا کرنے کا حکم دے دیا گی-

    سپر ٹیکس کیا ہے؟

    یہ ایک خاص ٹیکس ہوتا ہے اور عمومی ٹیکس کے اوپر لگایا جاتا ہے،یہ ٹیکس حالات کو دیکھ کر لگایا جاتا ہے اور ایمرجنسی کی صورت میں کوئی بھی حکومت ہنگامی اقدامات کے تحت اسے عائد کر سکتی ہے،پاکستان میں اس سے پہلے 2010 میں بھی سپر ٹیکس عائد کیا گیا تھا جب سیلاب آیا تھا تاہم حالیہ سپر ٹیکس کا زیادہ فائدہ نہیں ہو گا۔‘

    معاشی ماہرین کے مطابق سپر ٹیکس ایک ایسا ٹیکس ہوتا ہے جو حکومتیں اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے آمدن پر ایک اضافی طور پر لگاتی ہیں۔ شہریوں یا ایک خاص طبقے پر لگائے جانے والے اضافی ٹیکسوں کے بعد ان کی ٹیکس کی مد میں آنے والی آمدن کے اوپر کچھ فیصد کا مزید ٹیکس سپر ٹیکس کے زمرے میں آتا ہے۔

    سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے جون 2022 میں قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا تھا کہ تمام سیکٹرز پر 4 فیصد اور 13 مخصوص سیکٹرز پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگایا گیا ہے جس کے بعد ان سیکٹرز پر ٹیکس 29 فیصد سے 39 فیصد ہو جائےگایہ ٹیکس صرف ون ٹائم یعنی ایک مالی سال کے لیے لگایا گیا ہے اور اس کے ذریعے سابقہ چار ریکارڈ بجٹ خساروں کو کم کیا جائے گا

    اس سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف نے معاشی ٹیم کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ عام آدمی کو ٹیکس سےبچانے کے لیے صنعتوں پرٹیکس لگایا ہے، سیمنٹ، اسٹیل، شوگرانڈسٹری، آئل اینڈگیس، ایل این جی ٹرمینل، فرٹیلائزر، بینکنگ، ٹیکسٹائل، آٹوموبائل، کیمیکل، بیوریجز اور سگریٹ انڈسٹری پر بھی 10 فیصد سپر ٹیکس لگے گا۔

    انہوں نے کہا تھا کہ سالانہ 15کروڑ روپے سے زائد آمدن کمانے والے پر ایک فیصد، 20 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن والے پر2 فیصد، 25 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن والے پر3 فیصد اور 30 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن والے پر4 فیصد ٹیکس لگایا جائے گا جو غربت میں کمی کا ٹیکس ہے۔

  • بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنانے والے ججوں پرنوازشات

    بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنانے والے ججوں پرنوازشات

    مودی سرکار کی غاصبانہ گرفت سے اب سپریم کورٹ بھی غیر محفوظ ہو گئی-

    باغی ٹی وی : مودی سرکار پسند کا فیصلہ سنانے والے ججوں کو نواز نے لگی،بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنانے والے ججوں پرنوازشات ،فیصلہ سنانے والے 5میں سے 3 ججوں کو ریٹائرمنٹ پر سرکاری عہدوں اور اعزازات سے نواز دیا گیا-

    پاک امریکا تعلقات میں کشیدگی کو کم کرنے کا مشن،امریکی وفد رواں ہفتے پاکستان کا دورہ کرے گا

    کچھ دن قبل ریٹائر ہونے والے سپریم کورٹ جج عبدالنذیر کو آندھرا پردیش کا گورنر نامزد کر دیا گیا قبل ازیں 2020میں چیف جسٹس سپریم کورٹ رانجن گوگوئی کو ریٹائرمنٹ پرعہدے دیئے گئے-

    چیف جسٹس سپریم کورٹ رانجن گوگوئی کو راجیہ سبھامیں خارجہ امور ، اطلاعات اور آئی کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا گیا تھا جبکہ نومبر 2021مین جسٹس اشوک بھوسان کو ریٹائر منٹ کے بعد نیشنل ایپلٹ ٹریبونل کا سربراہ مقرر کیا گیا-

    واضح رہے کہ نومبر 2019میں بابری مسجد کا فیصلہ سنایا گیا تھا،فیصلے میں بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد شہید کرنے کے واقعے کو درست قرار دیا تھا،بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی زمین پر رام مندر بنانے کا حکم دیا تھا-

    شہبازگل نےٹرائل کورٹ سے درخواست بریت مسترد ہونےکا فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

    متنازعہ فیصلہ سنانے والے 5 میں سے 3 ججوں پر نواز شات فیصلے کی غیرجانبداری اور شفافیت پر سوال اٹھاتے ہیں،عالمی میڈیا پہلے ہی بھارت میں بڑھتی شدت پسندی پر اضطراب کا شکار ہے،کیا انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بابری مسجد کے متنازعہ فیصلے کے خلاف آواز اٹھائیں گی؟،کیا عالمی انصاف کے ادارے بھارت میں انصاف کے گرتے پیمانوں پر آواز اٹھائیں گے؟-

  • ارشد شریف کیس:جے آئی ٹی نےتحقیقاتی دوسری پیشرفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی

    ارشد شریف کیس:جے آئی ٹی نےتحقیقاتی دوسری پیشرفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی

    اسلام آباد: سینیئر صحافی ارشد شریف قتل کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ نے سپریم کورٹ میں بیان دے دیا-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں ارشد شریف قتل از خود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نےکی ،دوران سماعت جے آئی ٹی نے کیس کی تحقیقات سے متعلق دوسری پیشرفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروادی، سپریم کورٹ کی جانب سے سربراہ جے آئی ٹی کی سرزنش کی گئی۔

    جسٹس مظاہرنقوی کا کہنا تھا کہ جو کام آپ کے ذمہ لگایا تھا وہ ہوا یا نہیں؟ کینیا سے قتل کے متعلق کوئی مواد ملا ہے یا نہیں؟ سربراہ جے آئی ٹی اویس احمد نے بتایا کہ کینیا میں حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ جسٹس مظاہر نقوی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہ کہانیاں نہ سنائیں، آپ کو شاید بات سمجھ نہیں آ رہی۔

    سربراہ جے آئی ٹی اویس احمد کا کہنا تھا کہ کینیا نے شواہد تک رسائی نہیں دی، ارشد شریف قتل کے حوالے سے کینیا سے کوئی ٹھوس مواد نہیں ملا،جسٹس مظاہر نقوی نےکہا کہ شواہد کی بات تو ٹرائل میں سامنے آئےگی، موادکیا جمع کیا ہے؟-

    جسٹس اعجاز الاحسن نےاستفسار کیا کہ ارشد شریف کا موبائل اور دیگر سامان کہاں ہے؟ اس پر سربراہ جے آئی ٹی نے بتایا کہ ارشد شریف کا موبائل اور آئی پیڈ کینیا کے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے پاس ہے، باقی سامان موصول ہوچکا ہے۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے استفسارکیا کہ جے آئی ٹی کے ارکان کہاں ہیں؟سربراہ جے آئی ٹی اویس احمد نے بتایا کہ تین ارکان عدالت میں موجود ہیں، اس پر جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ باقی ارکان کیوں نہیں آئے؟ کیا تفتیشی ٹیم کا کام نہیں پیش ہونا؟

    فواد چوہدری الیکشن کمیشن کیس: کیس کی اگلی تاریخ تفتیشی افسر کے پیش ہونے پر دیں…

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پوچھا کہ ارشد شریف قتل کیس کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کس نے پبلک کی؟ پتہ کریں کہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ پبلک کرنےکے پیچھے کون ملوث تھا، ارشد شریف قتل کیس کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ بغیر تصدیق کے پبلک کردی گئی، کیا کسی نے فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جان بوجھ کے پبلک کی؟ کیس سے متعلق پاکستان میں تحقیقات میں غلطیاں ہوئی ہیں۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کینیا نے ارشد شریف قتل کی تحقیقات میں تعاون نہیں کیا۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اگر کسی ملک سے تعلقات بہت اچھے نہ ہوں تو تحقیقات کے لیے تعاون کیسے حاصل کیا جاتا ہے؟

    چیف جسٹس نےکہا کہ کینیا آزاد ملک اور ہمارے دائرہ اختیار سے باہر ہے، جو بھی حالات ہوں دوسرے ملک کے بارے میں احترام سے بات کریں، عدالت جاننا چاہتی ہے کہ اسپیشل جے آئی ٹی کو اب تک کیا ملا ہے؟ اسپیشل جے آئی ٹی آئندہ کیا لائحہ عمل اختیار کرے گی؟ بتایا جائے ارشد شریف قتل کا قبل ازقت کسی پر الزام عائد نہیں کرسکتے، فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ آنے سے اب تک کچھ ایسا ہوا ہےکہ کینیا اب تعاون نہیں کر رہا، سپریم کورٹ ارشد شریف قتل کی تحقیقات کی سربراہی نہیں کر رہی۔

    خاتون جج دھمکی کیس: عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا مسترد

    جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ دفتر خارجہ کو کینیا کی وزارت خارجہ نے تعاون کی یقین دہانی کرائی، یقین دہانی کے باوجود کینیا میں اسپیشل جے آئی ٹی کو کیوں جانے نہیں دیا گیا؟

    جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ ارشد شریف قتل کے تین زاویے ہیں، ارشد شریف کو پاکستان سے بھاگنے پرکس نے مجبورکیا؟ ارشد شریف کے خلاف ملک بھر میں مقدمات کس نے درج کرائے؟ ارشد شریف کو ایسا کیا دکھایا گیا کہ وہ ملک سےچلےگئے؟ کڑیاں جڑیں گی توپتہ چل جائےگا کہ ارشد شریف سے جان کون چھڑوانا چاہتا تھا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے پوچھا کہ ارشد شریف کے ساتھ موجود خرم اور وقار کا بیان کیوں نہیں لیا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کینین حکام نے صرف ڈائریکٹر پبلک پراسیکیوٹر سے ملاقات کرائی،کینین حکام نے تعاون کی یقین دہانی کرائی لیکن جگہ کا دورہ نہیں کرنے دیا گیا،کینیا پر سفارتی ذرائع سے دباو ڈال رہے ہیں-

    جسٹس مظاہر نقوی کا کہنا تھا کہ کینیا کی پولیس جس کہانی پر تحقیقات کر رہی ہے وہ قابل قبول نہیں، ارشد شریف قتل پر جے آئی ٹی بنانےکی یہی وجہ تھی۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ارشد شریف پر مقدمات درج کرانےوالوں سے بھی تفتیش کررہے ہیں، بعض سرکاری افسران کے نام آئے، ان سے بھی تفتیش کی، ارشد شریف پر مقدمات کے پیچھے کون تھا ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے، ارشد شریف کی ٹوئٹس اور پروگرامزکا جائزہ لیا جا رہا ہے، کینیا کے حکام نے تعاون کی یقین دہانی کرائی لیکن جائے وقوعہ نہیں جانے دیا، کینیا پرسفارتی ذرائع سے دباؤ ڈال رہے ہیں-

    پی ایس ایل 8: سکیورٹی کے لیے فوج اور رینجرز تعینات کرنےکی منظوری

    جسٹس مظاہر نقوی کا کہنا تھا کہ عدالت کے ساتھ کھیل نہ کھیلیں، پہلا مرحلہ تو یہی تھا جو مکمل نہیں ہوسکا، کیا جے آئی ٹی کینیا اور یو اے ای میں تفریح کرنےگئی تھی؟-

    جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ اس معاملے پر اقوام متحدہ سےکیوں مدد نہیں لی جا رہی؟

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کینیا دوست ملک ہے اور ہرعالمی فورم پرپاکستان کی حمایت کرتا ہے، ایسا اقدام نہیں کرنا چاہتے کہ دوطرفہ اور عالمی تعاون کھودیں، فی الحال اقوام متحدہ کی مدد لینےکا وقت نہیں آیا۔

    ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ وزیر مملکت خارجہ امور کی کینیا کے وزیر خارجہ سے بات ہوئی ہے-

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کو خود دیکھنا ہوگا کہ آگے کیسے چلنا ہے، ارشد شریف کے اخراجات کون اور کیوں برداشت کر رہا تھا؟ کس کےکہنے پر اخراجات اٹھائے جا رہے تھے؟ سامنے کیوں نہیں آیا ؟ کئی ممالک کےشہریوں کا کیس ضلعی عدلیہ میں ہو تو ہمیں خط لکھا جاتا ہے، پاکستانی سفارت خانہ بھی نیروبی میں وکلا اور صحافیوں سے مدد لے، کینیا نےکیا تحقیقات کی ہیں؟ رپورٹ حاصل کرنےکی کوشش کریں،ایک ماہ کا وقت دیتے ہیں قتل کیس میں کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں رپورٹ دیں، کینیا میں وکیل کریں، اپنے قانونی حقوق کی معلومات لیں، جو کرنا ہے کریں لیکن حقائق تک پہنچیں۔

    عمران خان کے گھر سے دفتر تک سفری اخراجات شیلٹر ہومز سے 6 گنا زیادہ

    جسٹس محمد علی مظہر نے پوچھا کہ کیا پاکستان کا کینیا کے ساتھ باہمی قانونی تعاون کا سلسلہ فعال ہے یا نہیں؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سی این این کی صحافی اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہوئی،اسرائیل پر بین القوامی اتنا دباو ڈالا گیا کہ تحقیقات آگے بڑھانا پڑھیں،اگر اسپیشل جے آئی ٹی کو کوئی صحافی معلومات دے تو اس کے تحفظ کو بھی یقینی بنائیں-

    چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ اسپیشل جے آئی ٹی کا کینیا کا دورہ بے سود رہا،اسپیشل جے آئی ٹی جانے سے پہلے مکمل طور پر تیار نہیں تھی،کینیا پر الزام عائد کرنے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکیں-

    ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق نے کہا کہ اسپیشل جے آئی ٹی کی رپورٹ کی مصدقہ کاپی فراہم کی جائے، چیف جسٹس نے ارشد شریف کی اہلیہ سے مکالمے میں کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ آپ کو نہیں دے سکتے،جے آئی ٹی رپورٹ کے پبلک ہونے سے خدشات پیدا ہوتے ہیں،پہلے ہی کینیا میں موجود 2 بھائیوں سمیت تمام لوگ چھپ گئے ہیں-

    سپریم کورٹ نے ارشد شریف قتل کیس کی سماعت مارچ تک ملتوی کردی۔

    چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس

  • حکومت فارن کرنسی کی بیرون ملک اسمگلنگ کو روکنےکیلئےاقدامات کرے،سپریم کورٹ

    حکومت فارن کرنسی کی بیرون ملک اسمگلنگ کو روکنےکیلئےاقدامات کرے،سپریم کورٹ

    اسلام آباد:سپر ٹیکس کے نفاذ سے متعلق کیس کی سماعت میں سپریم کورٹ نے تمام متعلقہ مقدمات کو یکجا کر کے اگلے ہفتے مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، اس دوران ایف بی آر کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ سپر ٹیکس کیس میں لاہور ہائیکورٹ کا حتمی فیصلہ آ گیا ہےلاہور ہائیکورٹ نے حتمی فیصلے پر عملدرآمد 60 دن کے لیے معطل بھی کیا ہے۔ ٹیکس کیسز میں اکثر سپریم کورٹ 50 فیصد کمپنیوں کو جمع کرانے کا کہتی ہے۔

    کیا عوامی مفاد کا تعین عدالت میں بیٹھے 3 ججز نے کرنا ہے؟ سپریم کورٹ

    کمپنیوں کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے دلائل میں کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلےکے بعد ایف بی آر کی درخواستیں غیر موثر ہو چکیں، عدالت 50 فیصد سپر ٹیکس کی ادائیگی کاحکم نہیں دے سکتی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگلے ہفتے اس کیس کو مقرر کر دیتے ہیں۔ ایف بی آر سپر ٹیکس کیس میں اچھی نیت سے آیا ہے۔ معلوم ہے کہ شیل پاکستان پہلے ہی کروڑوں روپے کا ٹیکس ادا کرتا ہے۔

    ایف بی آر کے وکیل نے کہا کہ ابھی میں ایف بی آر کی وکالت کر رہا ہوں، ملک اگر دیوالیہ ہوا تو فیڈریشن کی نمائندگی بھی کروں گا-

    سپریم کورٹ شریف فیملی شوگر ملز کیخلاف کیس واپس لینے پر پنجاب حکومت پر برہم

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ایف بی آر سپر ٹیکس کیس میں اچھی نیت سے آیا ہے پاکستان دیوالیہ نہیں ہو رہا، روزانہ پاکستان سے 4 کروڑ ڈالر غیر قانونی طور پر باہر جارہے ہیں ہر ایک کو ملک کے مفاد کے لیے اپنے آپ کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، حکومت فارن کرنسی کی بیرون ملک اسمگلنگ کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔

    بعد ازاں عدالت نے سپر ٹیکس کے تمام مقدمات یکجا کر کے اگلے ہفتے مقرر کرنے کا حکم دیا اور سماعت 16 فروری تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ سپر ٹیکس کے خلاف شیل پاکستان سمیت کمپنیوں نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا اور لاہور ہائیکورٹ نے نجی کمپنیوں کو سپر ٹیکس ادائیگی میں چھوٹ دی تھی جس پر ایف بی آر نے لاہور ہائیکورٹ کا حکم سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے-

    چوہدری وجاہت حسین کے دو سیکرٹریز گرفتار

  • کیا عوامی مفاد کا تعین عدالت میں بیٹھے 3 ججز نے کرنا ہے؟ سپریم کورٹ

    کیا عوامی مفاد کا تعین عدالت میں بیٹھے 3 ججز نے کرنا ہے؟ سپریم کورٹ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت کی-

    باغی ٹی وی: جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ عوامی مفاد کا تعین کیا عدالت میں بیٹھے 3ججز نے کرنا ہے؟ کیا عوام نیب ترامیم کیخلاف چیخ و پکار کر رہی ہے؟ نیب ترامیم کونسے بنیادی حقوق سے متصادم ہے نشاندہی نہیں کی گئی، عمران خان کے وکیل اسلامی دفعات اور آئین کے بنیادی ڈھانچے کا ذکر کرتے رہے-

    ترکیہ پاکستان کا دوست ملک ہے ،مشکل میں تنہا نہیں چھوڑیں گے،وزیراعظم

    جسٹس منصور علی شاہ نے سماعت کے دوران استفسار کیا کہ عمران خان اور ان کی پارٹی نے نیب ترمیمی بل پر ووٹنگ سے اجتناب کیا، کیا ووٹنگ سے اجتناب کرنے والے کا عدالت میں حق دعویٰ بنتا ہے؟ کیا کوئی رکن اسمبلی پارلیمان کو خالی چھوڑ سکتا ہے؟ کیا پارلیمان میں کرنے والا کام عدالتوں میں لانا پارلیمنٹ کو کمزور کرنا نہیں ہے؟

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شا ہ نے ریمارکس دیے کہ استعفی منظور نہ ہونے کا مطلب ہے کہ اسمبلی رکنیت برقرار ہے، رکن اسمبلی حلقے کے عوام کا نمائندہ اور ان کے اعتماد کا امین ہوتا ہے۔کیا عوامی اعتماد کے امین کا پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرنا درست ہے؟ کیا قانون سازی کے وقت بائیکاٹ کرنا پھر عدالت آ جانا پارلیمانی جمہوریت کو کمزور کرنا نہیں؟۔

    وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عمران خان چاہتے تو نیب ترامیم کو اسمبلی میں شکست دے سکتے تھے، پی ٹی آئی کے تمام ارکان مشترکہ اجلاس میں آتے تو اکثریت میں ہوتے-

    چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ مشترکہ اجلاس میں شرکت کے نقطے پر عمران خان سے جواب لیں گے،کیا صرف بنیاد پر عوامی مفاد کا مقدمہ نہ سنیں کہ درخواست گزار کا کنڈکٹ درست نہیں تھا؟ہر لیڈر اپنےاقدامات کو درست کہنے کیلئے آئین کا سہارا لیتا ہے، پارلیمان کا بائیکاٹ کرنا پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی تھی،ضروری نہیں سیاسی حکمت عملی کا کوئی قانونی جواز بھی ہو،بعض اوقات قانونی حکمت عملی بھی سیاسی لحاظ سے بے وقوفی لگتی ہے پارلیمانی کارروئی کا بائیکاٹ دنیا بھر میں ہوتا ہے۔برصغیر میں تو بائیکاٹ کی تاریخ لمبی ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال اٹھایا کہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں کتنے ارکان نے نیب ترامیم کی منظوری دی؟جس پر وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے بتایا کہ بل منظوری کے وقت مشترکہ اجلاس میں 166 ارکان شریک تھے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ مشترکہ اجلاس میں ارکان کی تعداد 446 ہوتی ہے، یعنی آدھے سے کم لوگوں نے ووٹ دیا۔عدالت صرف بنیادی حقوق اور آئینی حدود پار کرنے کے نکات کا جائزہ لے رہی ہےدرخواست گزار نے نیب ترامیم عوامی مفاد اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر چیلنج کیں۔ عمران خان کے کنڈکٹ پر سوال تب اٹھتا اگر نیب ترامیم سے ان کو کوئی ذاتی فائدہ ہوتا۔ بظاہر درخواست گزار کا نیب ترامیم سے کوئی ذاتی مفاد منسلک نہیں لگتا۔

    شیخ رشید نے ضمانت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

    وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ ضروری نہیں ذاتی مفاد کے لیے ترامیم چیلنج ہوں درخواستگزار کو نیب ترامیم چیلنج کرنے سے سیاسی فائدہ بھی مل سکتا ہے، پی ٹی آئی نے استعفے نا منظور ہونے پر عدالت سے رجوع کیا، استعفے منظور ہونے پر بھی پی ٹی آئی عدالت میں آ گئی۔ عمران خان نے دانستہ طور پر پارلیمنٹ خالی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ شاید عمران خان کو معلوم تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں کامیاب نہیں ہو سکتے تو عدالت آ گئے۔ عمران خان سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی ہیں۔ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ کسی بھی مقدمے کی بنیاد حقائق پر ہوتی ہے، قیاس آرائیوں پر نہیں۔ عدالت قانون سازی کو برقرار یا کالعدم قرار دینے کے بجائے بغیر کسی فیصلے کے واپس بھی کر سکتی ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ اگر عدالت نیب قانون کالعدم قرار دے گی تو کل کیا کوئی بھی سپریم کورٹ میں قانون سازی چیلنج کر دے گا؟۔ ایک شخص نے نیب ترامیم چیلنج کیں، ممکن ہے اسی جماعت کے باقی ارکان ترامیم کے حق میں ہوں۔

    سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 14 فروری تک ملتوی کردی۔

    تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام نہیں،وکیل الیکشن کمیشن

  • سپریم کورٹ  شریف فیملی شوگر ملز کیخلاف کیس واپس لینے پر پنجاب حکومت پر برہم

    سپریم کورٹ شریف فیملی شوگر ملز کیخلاف کیس واپس لینے پر پنجاب حکومت پر برہم

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے شریف فیملی شوگر ملز کیخلاف کیس واپس لینے پر پنجاب حکومت پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے شریف فیملی کی شوگر ملوں کی کپاس کے علاقوں میں منتقلی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی۔

    تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام نہیں،وکیل الیکشن کمیشن

    پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ میں دائر درخواستیں واپس لینے کی استدعا کی جس پر سپریم کورٹ برہم ہوگئی جسٹس مظاہر علی اکبر نے استفسار کہ آپ کیس کیوں واپس لینا چاہتے ہیں ؟نمائندہ پنجاب انڈسٹریز اینڈ کامرس ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ شوگر ملوں کی منتقلی کا مسئلہ حل ہو چکا ہے، ملوں کو اجازت دے دی گئی۔

    جسٹس مظاہر علی اکبر نے استفسار کیا کہ کیس عدالت میں ہے تو مسئلہ کیسے حل ہوگیا؟ زیر التواء مقدمہ پر پنجاب حکومت کیسے خط لکھ کر واپس لے سکتی ہے، فوری اس خط کو واپس لیں۔

    عمران خان کےآئی ایم ایف سےکیےگئےمعاہدے پر شہبازحکومت عمل کررہی ہے ،اسحاق ڈار

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پنجاب حکومت اپنی استدعا کو طریقہ کار کے مطابق دائر کرے جائزہ لیں گے۔

    وکیل اشرف شوگر مل نے بتایا کہ شوگر ملوں نے تو اب کرشنگ شروع کردی ہے۔ وکیل جے ڈی ڈبلیو شوگر مل نے کہا کہ میں نے کیس میں کچھ دستاویزات لگائی ہیں، مجھے نئی درخواست کے جائزے کی اجازت دی جائے۔

    سپریم کورٹ نے وکیل کی استدعا پر کیس کی مزید سماعت 28 فروری تک ملتوی کردی۔

    ترکیہ پاکستان کا دوست ملک ہے ،مشکل میں تنہا نہیں چھوڑیں گے،وزیراعظم