Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ انتخابات ازخود نوٹس کی سماعت کرنے والا بنچ ٹوٹ گیا

    سپریم کورٹ انتخابات ازخود نوٹس کی سماعت کرنے والا بنچ ٹوٹ گیا

    پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات سے متعلق ازخود نوٹس،سپریم کورٹ کا نیا بینچ تشکیل دے دیا گیا،
    چیف جسٹس عمر عطا بندیال،جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نئے بینچ میں شامل ہیں،جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر بھی سپریم کورٹ کے نئے بینچ کا حصہ ہیں ،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی نقوی سپریم کورٹ کےنئے بینچ میں شامل نہیں اختلافی نوٹ لکھنے والے 4 میں سے 2 ججز بھی سپریم کورٹ کے نئے بینچ میں شامل نہیں جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی بھی سپریم کورٹ کےنئے بینچ میں شامل نہیں

    اسلام آباد: پنجاب اور کے پی میں انتخابات کیلئے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا-

    باغی ٹی وی: پنجاب اور خیبر پختونخوا (کے پی) میں انتخابات کے لیے سپریم کورٹ نے 23 فروری کو ازخود نوٹس کیس کی سماعت کا تحریری حکم جاری کردیا۔سپریم کورٹ میں ازخود نوٹس کی سماعت کے لیے پہلے ساڑھے11، پھر 12 بجےکا وقت دیا گیا تھا۔تاہم اب انتخابات کیلئے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا .جسٹس اعجا الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے انتخابات ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرنے سے معذرت کر لی۔

    چیف جسٹس عمر عطابندیال کا کہنا تھا کہ چاروں ججز نے اختلافی نوٹ لکھا ہے،انتخابات سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت کل ساڑھے 9 بجے کریں گے ،جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ گورنر کون مقرر کرتا ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ گورنر کا تقرر صدر مملکت کی منظوری سے ہوتا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ گورنر کے اسمبلی تحلیل کرنے اور آئینی مدت کے بعد ازخود تحلیل ہو جانے میں فرق ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سماعت کل ساڑھے 9 بجےکر کے مکمل کریں گے ،وکیل علی ظفر نے کہا کہ گورنر پنجاب نے نگران وزیراعلیٰ کیلئے دونوں فریقین سے نام مانگے،ناموں پر اتفاق رائے نہ ہوا تو الیکشن کمیشن نے وزیراعلی ٰکا انتخاب کیا،الیکشن کمیشن نے گورنر کو خط لکھ کر پولنگ کی تاریخ دینے کا کہا،گورنر نے جواب دیا انہوں نے اسمبلی تحلیل نہیں کی تو تاریخ کیسے دیں؟ آئین کے مطابق اسمبلی تحلیل کے بعد 90 دن میں انتخابات لازمی ہیں،کوئی آئینی عہدیدار بھی انتخابات میں90 دن سے زیادہ تاخیر نہیں کرسکتا، 90دن کی آئینی مدت کا وقت 14 جنوری سے شروع ہوچکا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ لاہورہائیکورٹ میں جو سماعت ہوئی کب تک ملتوی ہوئی؟ وکیل نے کہا کہ لاہورہائیکورٹ میں آ ج سماعت مقرر تھی وہ ملتوی کردی گئی ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک غیر یقینی کی صورتحال ہے،علی ظفر ایڈوکیٹ نے عدالت میں کہا کہ الیکشن کمیشن آئین پر عمل نہیں کررہا ،گورنر کو بھی سمجھ نہیں آرہی ہے، وکیل شیخ رشید نے کہا کہ معاملے میں توہین عدالت کی درخواستیں بھی دائر کی گئی ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کیس میں کیا احکامات ہائیکورٹس نے جاری کیے ہیں؟وکیل شیخ رشید نے کہا کہ ان درخواستوں پر مارچ میں سماعت ہوگی،وکیل علی ظفر نے کہا کہ عدالت گورنر یا الیکشن کمیشن کو تاریخ مقرر کرنے کا حکم دے سکتی ہے،انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،ہائیکورٹ نے قرار دیا انتخابی عمل الیکشن سے پہلے شروع اور بعد میں ختم ہوتا ہےعدالتی حکم پر الیکشن کمیشن اور گورنر کی ملاقات بے نتیجہ ختم ہوئی، صدر مملکت نے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے خود تاریخ مقرر کر دی،

    قبل ازیں سپریم کورٹ ،پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات سے متعلق ازخود نوٹس سپریم کورٹ نے 23 فروری کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا نئے بینچ تشکیل دینے کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھیج دیا گیا، چار ججز نے نئے بینچ کی تشکیل کیلئے معاملہ چیف جسٹس عمر عطابندیال کو بھجوایا سپریم کورٹ کے چار وں ججز کے نوٹس آرڈر شیٹ میں شامل ہیں،جسٹس منصور علی شاہ،جسٹس جمال خان مندوخیل نے نوٹ لکھا،جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ کو نوٹ بھی شامل ہیں،

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے نوٹ لکھا کہ الیکشن کا معاملہ پشاوراور لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے، ازخود کیس میں سپریم کورٹ کی رائے لاہور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پراثرانداز ہوسکتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ
    بینچ کے 4 ممبرز نے خود کو بینچ سے الگ کر لیا ہے،عدالت کا باقی بینچ مقدمہ سنتا رہے گا، آئین کی تشریح کیلئے عدالت سماعت جاری رکھے گی،آئین کیا کہتا ہے اس کا دارومدار تشریح پر ہے، کل ساڑھے 9 بجے سماعت شروع کرکے ختم کرنے کی کوشش کریں گے،جب تک حکمنامہ ویب سائٹ پر نہ آجائے جاری نہیں کرسکتے،جسٹس جمال مندوخیل کا نوٹ حکمنامہ سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر آگیا،مستقبل میں احتیاط کریں گے کہ ایسا واقعہ نہ ہو،علی ظفر آگاہ کریں عدالت یہ کیس سنے یا نہیں؟ کل ہر صورت مقدمہ کو مکمل کرنا ہے،

    زرائع کے مطابق گیارہ بجے سے غیر رسمی فل کورٹ میٹنگ جاری ہے جو اس وقت تک جاری ہے جبکہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ججز صاحبان کے درمیان تلخ اور شدید جملوں کا بھی تبادلہ ہوا-

    باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات تو دور کی بات ہے اطلاعات کے مطابق ضمنی انتخابات بھی نہیں ہوں گے ۔

    واضح رہے کہ کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ کر رہا ہے جس میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ بینچ میں شامل ہیں۔

    حکمران اتحاد 9 رکنی بینچ میں سے جسٹس مظاہر علی نقوی اور جسٹس اعجاز الاحسن کو الگ کر کے فل کورٹ بنانے کی اپیل دائر کرچکا ہے۔

    پچھلی سماعت میں چیف جسٹس نے کہا تھا پیر کو ججز کے معاملے پر معترضین کو سنیں گے،چیف جسٹس نے پہلی سماعت میں ریمارکس دیئے تھے کہ الیکشن 90 دن میں ہونے ہیں ، آئین کی خلاف ورزی برداشت نہیں کریں گے۔

    عدالت نے آج اٹارنی جنرل ، چاروں صوبائی ایڈووکیٹ جنرل اور پی ڈی ایم سمیت سیاسی جماعتوں، پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کو نوٹس جاری کر رکھے ہیں۔

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے غلام محمود ڈوگر کیس میں 16فروری کو ازخودنوٹس کے لیے معاملہ چیف جسٹس کوبھیجا تھا سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد انتخابات کے لیے تاریخ کا اعلان نہ ہونے پر از خود نوٹس لیا تھا۔

  • سپریم کورٹ آئین ،قانون کی بالادستی قائم کرےگی توملک میں معاشی اوراقتصادی استحکام آئےگا،شیخ رشید

    سپریم کورٹ آئین ،قانون کی بالادستی قائم کرےگی توملک میں معاشی اوراقتصادی استحکام آئےگا،شیخ رشید

    راولپنڈی: سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ آئین ،قانون کی بالادستی قائم کرےگی توملک میں معاشی اوراقتصادی استحکام آئےگا-

    باغی ٹی وی: شیخ رشید نے کہا کہ 90 روزمیں انتخاب آئین اورقانون کی ریڈلائن ہے،پی ڈی ایم فیصلہ کرلے انتخاب میں جانا ہے عذاب یا احتساب میں،دیکھنا ہوگا کہ ملک کوسول نافرمانی کی طرف کون اور کیوں لےکرجارہا ہے-

    سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ اب عدالتوں پرحملہ آورہوئے تو تولگ پتہ جائے گا،غریب ڈیفالٹ ہوگیا ہے ملک ڈیفالٹ ہونے کے دہانے پر ہے ، ساری قوم کی نظریں سپریم کورٹ پرلگی ہوئی ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی ملک بچاسکتا ہے-

    شیخ رشید نے کہا کہ حکمران سپریم کورٹ کوتقسیم کرکے1997کی تاریخ دہرانہ چاہتےہیں لیکن ناکام ہو ں گے-

  • سپریم کورٹ میں زیرالتوا مقدمات میں کمی

    سپریم کورٹ میں زیرالتوا مقدمات میں کمی

    سپریم کورٹ میں زیرالتوا مقدمات میں کمی ہوگئی۔

    باغی ٹی وی: عدالت عظمٰی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق سپریم کورٹ میں زیرالتوا مقدمات کی تعداد کم ہوکر52ہزار450 ہوگئی، اس سے پہلے زیرالتوا مقدمات کی تعداد 54 ہزار 735 تھی۔

    اعلامیے کے مطابق گزشتہ 12 ماہ کے دوران سپریم کورٹ میں22 ہزار 18 نئے مقدمات دائر کیے گئے، جن کے مقابلے میں 24 ہزار 303 سپریم کورٹ دائر ہوئے۔

    اعلامیہ کے مطابق 2 فروری سے 25 فروری کے دوران 2285 مقدمات کم ہوئے فروری 2023 کے اختتام تک سالانہ بنیاد پر 2018 کے بعد اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے،اس سے قبل ایک برس کے دوران سپریم کورٹ میں 16961 مقدمات نمٹائے گئے تھے-

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مقدمات کو جلد نمٹانے میں ججز کی محنت، کیس مینجمنٹ سسٹم اور بنچوں کی تشکیل شامل ہے۔

  • ازخود نوٹس:پی ڈی ایم کی سپریم کورٹ سے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا،اقلیتی برادری نے بھی رجوع کر لیا

    ازخود نوٹس:پی ڈی ایم کی سپریم کورٹ سے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا،اقلیتی برادری نے بھی رجوع کر لیا

    اسلام آباد : سپریم کورٹ کی جانب سے پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات کی تاریخ کےحوالے سے لیے گئے ازخود نوٹس میں اقلیتی برادری نے بھی درخواست دائر کردی جبکہ حکومت میں شامل پی ڈی ایم کی تین بڑی سیاسی جماعتوں نےخیبرپختونخوا اور پنجاب میں عام انتخابات سے متعلق از خود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ سے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کی ہے-

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں درخواست فاروق ایچ نائیک، کامران مرتضیٰ اور منصور عثمان ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کی گئی ہے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ کیس کی سماعت کیلئے تمام ججز پر مشتمل فل کورٹ بنائی جائے اور فل کورٹ میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کو فل کورٹ میں شامل نہ کیا جائے۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دونوں ججز پہلے سے اپنا مائنڈ کیس میں اپلائی کرچکے ہیں، کئی آئینی، قانونی اور عوامی اہمیت کے سوال سامنے آ چکے ہیں جن پر سماعت ضروری ہے۔

    دوسری جانب پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے لیے گئے ازخود نوٹس میں اقلیتی برادری نے کیس میں فریق بننے کیلئےرجوع کرلیا۔

    مذکورہ درخواست سیموئیل پیارا نامی شہری کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پنجاب اور کے پی میں عام انتخابات سے مسیحی برادری کے حقوق جڑے ہیں دونوں صوبوں میں عام انتخابات کی تاریخ کو تبدیل کیا جائے، 9اپریل مسیحی برادری کے مذہبی تہوار ایسٹر کا دن ہے۔

    شہری کا اپنی درخواست میں کہنا ہے کہ دونوں صوبوں کی مسیحی برادری ان دنوں ایسٹر کے تہوار میں مصروف ہوگی۔ اس کے علاوہ 7اپریل کو گُڈفرائیڈے کا دن بھی مقدس ہے۔

    مسیحی درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ مسیحی برادری کے حقوق کو مدنظر رکھتےہوئے اسے ازخود نوٹس کیس میں فریق بنایا جائے۔

  • خیبر پختونخوا اور پنجاب میں انتخابات کیس، فاروق ایچ نائیک نے دو ججز پراعتراض اٹھا دیا

    خیبر پختونخوا اور پنجاب میں انتخابات کیس، فاروق ایچ نائیک نے دو ججز پراعتراض اٹھا دیا

    سپریم کورٹ میں خیبر پختونخوا اور پنجاب میں انتخابات سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران فاروق ایچ نائیک نے بینچ میں شامل جسٹس اعجا ز الاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی پر اعتراض اٹھا دیا عدالت نے سماعت پیر ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کر دی

    سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران (ن) لیگ کے وکیل منصور اعوان نے کہا کہ حکم کی کاپی ابھی تک دستیاب نہیں ہوئی چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج اکٹھے ہونے کا مقصد تھا کہ سب کو علم ہو جائے ،مختلف فریقین کے وکلاعدالت میں دیکھ کر خوشی ہوئی فارو ق ایچ نائیک نے کہا کہ ہمیں کوئی نوٹس نہیں ملا،درخواست ہے سب کو نوٹس جاری کیے جائیں بینچ کی تشکیل پر ہمیں 2 ججز پر اعتراض ہے دونوں ججز کو بینچ میں نہیں بیٹھنا چاہیے ،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی کے بینچ میں شامل ہونے پر اعتراض ہے نہایت احترام سے ججز کے بینچ میں شامل ہونے پر اعتراض کر رہا ہوں اعتراض کرنے کا فیصلہ قائدین نے کیا ہے جے یو آئی ایف ، مسلم لیگ( ن) اور پاکستان بار کونسل کی جانب سے 2 ججز پر اعتراض اٹھایا گیا ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ آج پہلے سب کی حاضری لگائیں گے ، سوموار کو سب کو سنیں گے ،4 صوبائی وکلا کی نمائندگی عدالت میں موجود ہے ،سپریم کورٹ بار کسی اور وکیل کے ذریعے اپنی نمائندگی عدالت میں کرے، صدر کی جانب سے ان کے سیکریٹری عدالت میں پیش ہو رہے ہیں ، مجھے لگتا ہے ہم نے سب سیاسی جماعتوں کو نوٹس جاری کیے ، سب موجود ہیں عدالت میں گورنر پنجاب کے وکیل مصطفیٰ رمدے پیش ہوئے ہیں،فاروق ایچ نائیک نے( ن) لیگ ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ایف کا مشترکہ بیان عدالت میں پڑھ کر سنایا ، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ (ن) لیگ ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کا متفقہ بیان پڑھ رہاہوں، تینوں سیاسی جماعتیں احترام سے کہتی ہیں کہ 2رکنی بینچ کا از خود نوٹس کا حکم سامنے ہے۔ جسٹس جمال مندو خیل کا عدالت میں پڑھا گیا بیان بھی ہے، انصاف کی فراہمی ، فیئر ٹرائل کے تناظر میں دونوں ججز صاحبان کو بینچ میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ مناسب نہیں ہو گا معاملہ فل کورٹ سنے فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیف جسٹس سے درخواست کرتا ہوں معاملے پر فل کورٹ بینچ تشکیل دیا جائے عدالت سے استدعا ہے کہ فل کورٹ تشکیل دیاجائے

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اس وقت میں گہرائی میں نہیں جاﺅں گا، میرا بھی یہی خیال ہے معاملہ فل کورٹ میں سنا جائے۔چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ہم پہلے کیس میں قابل سماعت ہونے پر بات کریں گے سپریم کورٹ نے سماعت پیر ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کر دی

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    علی امین گنڈاپور اور امتیاز نامی شخص کے مابین آڈیو لیک

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

  • پنجاب، خیبرپختونخوا انتخابات، اٹارنی جنرل سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری

    پنجاب، خیبرپختونخوا انتخابات، اٹارنی جنرل سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری

    پنجاب اورخیبرپختونخوا الیکشن کی تاریخ سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے سامنے 3 معاملات ہیں،وکیل علی ظفر نے کہا کہ ہماری درخواست زیر التوا ہے اسے بھی ساتھ سنا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیکشن 57 کے تحت صدر مملکت نے انتخابات کا اعلان کیا،الیکشن ایکٹ کے سیکشن 57 میں چیزیں واضح نہیں،دیکھنا ہے اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد الیکشن تاریخ دینے کا اختیار کس کو ہے، ہمارے سامنے ہائیکورٹ کا 10 فروری کا آرڈر سامنے تھا ،ہمارے سامنے بہت سے فیکٹرز تھے ،جن کی بنیاد پر از خود نوٹس لیا،ہائیکورٹ میں لمبی کارروائی چل رہی ہے،وقت گزرتا جار ہا ہے،

    سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے صرف آئینی نکتہ دیکھنا ہے اور اس پر عملدرآمد کرانا ہے،سپریم کورٹ آئین کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گی،انتہائی سنگین حالات ہوں تو انتخابات کا مزید وقت بڑھ سکتا ہے ہم نے آئین کو دیکھنا ہے اس پر عمل درآمد ہورہا ہے،ہمارے سامنے 2درخواستیں تھیں اور سمپل تھا کہ وہ سنتے،سماعت آئندہ ہفتے کریں گے اس وقت ہم نوٹس جاری کرتے ہیں،کچھ سوال دونو ں اسمبلی کے اسپیکرز نے اپنی درخواستوں میں شامل کیے ہیں،20فروری کو صدر کے انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے بعد صورتحال بدل گئی دورخواستیں ہیں وہ اب آ وٹ ڈیڈڈ ہوگئی ہیں ، اس پر وضاحت کی ضرورت ہے،آرٹیکل 224 کہتا ہے 90 روز میں انتخابات ہونگے،وقت جلدی سے گزر رہا ہے،ہائیکورٹ میں معاملہ زیر التوا تھا مگر کوئی فیصلہ نہیں ہو پارہا تھا،

    جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے ازخود نوٹس سے متعلق کچھ تحفظات ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتحابات کے ایشوپر وضاحت طلب ہے، ہم اردارہ رکھتے ہیں سب کو سنیں،ہم نے آئندہ ہفتے کا شیڈول منسوخ کیا تا کہ یہ کیس چلا سکیں، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے سامنے دو اسمبلیوں کے اسپیکر درخواست ہیں،ازخود نوٹس جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے نوٹ پر لیا گیا،کیس میں چیف الیکشن کمشنر کو بھی بلایا گیا جو کہ فریق نہیں ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وقت کی کمی کی وجہ سے زیادہ لمبی سماعت نہیں کر سکتے، ہمارے سامنے یہ تجویز آئی ہے کہ ہم کل بھی سماعت کریں،اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ کل کیس کی سماعت نہ کریں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کل ہم محدود سماعت کریں گے ، اس میں کہیں گے کہ تیاری کرکے آئیں ،شعیب شاہین نے کہا کہ یہ ٹائم باونڈ کیس ہے اس میں انتخابات کرانے کا ایشو ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر عدالت فیصلہ دیتی ہے تو سب سیاسی جماعتیں فائدہ حاصل کرینگی،شعیب شاہین نے کہا کہ ازخود نوٹس میں اگر فیصلہ انتخابات کرانے کا آتا ہے تو سب کوہو فائدہ ہوگا، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں سیاسی جماعتیں حکومت بناتی ہیں،میرے خیال میں تمام سیاسی جماعتوں کو سننا چاہیے، وکیل نے کہا کہ سیاسی جماعتوں اور حکومت کو قانونی موقف دینا چاہیے اس لیے بلایا جاسکتا ہے،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اہم ایشو ہے ،اس کا مقصد ٹرانسپرنسی اور عدالتوں پر اعتماد کی بات ہے،وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ لاہورہائیکورٹ میں جو کیس چل رہے ہیں ان کا ریکارڈ طلب کیا جائے، عدالت نے کہا کہ ہمارے سامنے 2 درخواستیں آئیں، درخواستوں میں گورنرز کی جانب سےالیکشناعلان نہ کرنے کو چیلنج کیا گیا،جب اسپیکرز نے درخواست دی اس وقت صدر اور الیکشن کمیشن میں خط وکتابت شروع ہوئی، صدر نے 20 فروری کو 9 اپریل کو انتخابات کرانے کی ہدایت کی ، ہائیکورٹس نے الیکشن تاریخ کے لیے گورنرزسے ڈسکس کرنے کی ہدایت کی ،گورنز نے اس آرڈر پر تحفظات کیا اور انٹراکورٹ اپیل دائر کی گئی انٹراکورٹ اپیل پرسماعت کی تاریخ 27 فروری ہے، پشاور ہائیکورٹ میں ایسے ہی کیس کی سماعت 28 فروری کو ہے ،آئین کے مطابق الیکشن اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد 90 دن میں کیے جانے ہیں،از خود نوٹس میں کچھ سوالات الیکشن کمیشن ایکٹ 27 اور 28 سے متعلق اٹھائے گئے

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    علی امین گنڈاپور اور امتیاز نامی شخص کے مابین آڈیو لیک

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

  • نیب کی جانب سے تفصیلی رپورٹ جمع نہ کرانے پر سپریم کورٹ برہم

    نیب کی جانب سے تفصیلی رپورٹ جمع نہ کرانے پر سپریم کورٹ برہم

    سندھ کول اتھارٹی کرپشن کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی،

    نیب کی جانب سے تفصیلی رپورٹ جمع نہ کرانے پر سپریم کورٹ برہم ہو گئی،دوران سماعت چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ انتہائی سنجیدہ ہے 19 ارب کی کرپشن کا کیس ہے لیکن نیب انکوائری نہیں ہو رہی ،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود ڈیڑھ سال سے تحقیقات مکمل نہیں ہوئی ،

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب بھی قابل احتساب ہے اگر کیس نہیں بنتا تو بھی انکوائری مکمل کریں نیب تحقیقات مکمل کرنے میں تاخیر نہیں کر سکتی عدالت نے نیب نے اقدامات کااحتساب کرنا ہے نیب غیرضروری طور پر ملزمان کو ہراساں نہ کرے ،چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب رپورٹ میں تاریخ بتائی گئی نہ ہی کوئی اور تفصیل عدالت نیب رپورٹ سے مطمئن نہیں کیا نیب سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کررہی ہے یا نہیں ؟سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت پر ڈی جی نیب کراچی کو طلب کرلیا ،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 2 ہفتے تک ملتوی کر دی

  • فیصلہ لکھواتے ہوئے سٹینو گرافر سے کہا لکھو ،قانون قانون ہے،چیف جسٹس

    فیصلہ لکھواتے ہوئے سٹینو گرافر سے کہا لکھو ،قانون قانون ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ ، ریلوے اراضی غیر قانونی طور پر لیز پر دینے سے متعلق نیب کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے نئے نیب قانون کے تحت ریفرنس واپس ہونے کی بنا پر اپیل خارج کر دی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 319 ملین 31 کروڑروپے بنتے ہیں پچاس کروڑ روپے سے کم ہونے کی بنا پر ریفرنس واپس کیا گیا،معاملہ ریلوے کی زمین کا تھا لیکن کیا کریں قانون قانون ہے،فیصلہ لکھواتے ہوئے سٹینو گرافر سے کہا لکھو ،قانون قانون ہے، ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت میں کہا کہ ریفرنس 319 ملین کا تھا ، اس لیے واپس کردیا ہے،

    عمران خان کے سابق وزیراعظم ہونے کے بعد استعفوں کی لائنیں لگ گئیں

    بے جا لوگوں کو جیلوں میں نہیں بھجوائیں گے لیکن قانون اپنا راستہ لے گا،شہباز شریف

    ویلکم بیک پرانا پاکستان،ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے،بلاول

    نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر پرویز مشرف واپس آنا چاہیں تو حکومت کو چاہیے کہ ان کو تمام تر سہولیات فراہم کرے

    قبل ازیں سپریم کورٹ نے ریلوے ملازم کی بنیادی تنخواہ میں 75 روپے اضافے کی اپیل خارج کردی۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ریلوے ملازم کی تنخواہ میں اضافے کے کیس پر سماعت کی جس دوران چیف جسٹس نے اپیل زائد المعیاد قرار دے کر خارج کردی۔ریلوے ملازم غیاث کی درخواست پر سماعت میں عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے مکالمہ کیا آپ کے مؤکل نے تنخواہ میں 75 روپے کا اضانہ نہ ملنے پر اپیل دائرکی جس کے مطابق 1983 میں ان کی بنیادی تنخواہ میں75 روپے اضافہ ہوناچاہیے تھا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کا مؤکل اپیل دائر کرنے میں 20 سے 25 سال سوچتا رہا، مؤکل کی ٹریبونل میں اپیل زائد المعیاد تھی، سپریم کورٹ میں بھی آپ کی اپیل زائد المعیاد ہے۔ بعد ازاں عدالت نے ریلوے ملازم کی بنیادی تنخواہ میں 75 روپے اضافے کی اپیل خارج کردی

  • پنجاب اورکے پی انتخابات،ازخود نوٹس پر کیس کی سماعت آج ہوگی، حکومت نے بینچ میں 2 ججز کی شمولیت پر تحفظات اٹھا دیئے

    پنجاب اورکے پی انتخابات،ازخود نوٹس پر کیس کی سماعت آج ہوگی، حکومت نے بینچ میں 2 ججز کی شمولیت پر تحفظات اٹھا دیئے

    اسلام آباد: پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کیس کی سماعت آج ہو گی تاہم حکومت نے بینچ میں 2 ججز کی شمولیت پر تحفظات اٹھا دیئے۔

    باغی ٹی وی :وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات کے حوالے سے بینچ تشکیل دیا جہاں ہم اپنے تحفظات معزز عدلیہ کے سامنے رکھیں گے خوشی ہے سپریم کورٹ نے اس معاملے پر ازخود نوٹس لیا ہے، بینچ کے بارے میں ابھی کچھ پتہ نہیں تاہم کچھ تحفظات کا ہم نے پہلے اظہار کیا ہوا ہے، اگر وہ دو جج صاحبان جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی بھی بینچ کا حصہ ہیں تو ہم اپنے تحفظات رکھیں گے۔

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ تمام بار کونسلز کا متفقہ مطالبہ ہے یہ دونوں ججز عہدہ چھوڑ دیں بلکہ وہ تو ان کے خلاف ریفرنسز لانے کا بھی عندیہ دے چکی ہیں، کیسے ممکن ہے وہ ججز جن کیخلاف ریفرنسز ہوں وہ بنچ کا حصہ ہوں نوججز میں سے دو ججز بنیاد پر یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہمارے خلاف ہیں البتہ ہم نے اُن پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، مجھے امید ہے وہ ججز ہمارے اعتراض کرنے سے پہلے یا اعتراض کرنے کے بعد بنچ سے الگ ہو جائیں گے۔

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ چیئرمین نیب آفتاب سلطان کے ایماندار ہونے میں کوئی شک نہیں، وہ کام نہیں کرنا چاہتے تھے، انہوں نے ہمیشہ ایسے کام کئے جن میں کوئی مشکل نہ ہو، ہر جگہ جہاں لوگوں کے کام ہوتے ہیں وہاں دباؤ تو ہوتا ہی ہے، چیئرمین نیب کو آئینی سیکیورٹی حاصل ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان بار کونسل نے بھی پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے ازخود نوٹس کیس میں 9 رکنی بینچ کی تشکیل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل ایڈوکیٹ ہارون رشید نے کہا بہتر ہوتا کہ فل کورٹ تشکیل دی لیکن اگر فل۔کورٹ نہیں بھی تشکیل دی جاتی تو کم از کم دو ججز کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔

    انہں نے کہا کہ دونوں جج صاحبان پر اعتراضات بھی سامنے آچکے تھے، اس کے ساتھ ساتھ دوسری جانب دونوں جج صاحبان غلام محمود ڈوگر کیس میں اپنا مائنڈ بھی سامنے لا چکے ہیں اور اتنخابات کے انعقاد کو الیکشن کمیشن کی ذمہ داری قرار دے چکے ہیں از خود نوٹس میں فریق بننے کا فیصلہ مشاورت سے کریں گے۔ چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی حسن رض پاشا نے کہا اعتراضات سے بچنے کیلئے بہتر تھا کہ سینئر 9 ججز کو شامل کرلیا جاتا ہماری کوشش ہے کہ سیاسی معمالات میں فریق نہ بنیں، سیاسی مقدمات میں بینچ کی تشکیل میں پسند نہیں ہونا چاہیے۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات میں تاخیر کے معاملے پر از خود نوٹس لے لیا، جس پر نو رکنی بینچ آج 2 بجے سماعت کرے گا۔

    9 رکنی بینچ کی سربراہی چیف جسٹس پاکستان کریں گے جبکہ بینچ کے دیگر ممبران میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ خان آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی ،جسٹس جمال خان مندو خیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں۔

    9 رکنی بینچ کی جانب سے از خود نوٹس میں مندرجہ ذیل سوالات کا جائزہ لیا جائے گاکہ عام انتخابات کے حوالے سے آئینی ذمہ داری کس کی ہے؟،عام انتخابات کی ذمہ داری کب اور کیسے ادا کی جائے گی؟،3۔ عام انتخابات کے حوالے سے وفاق اور صوبے کی ذمہ داری کیا ہے؟،اسمبلی ختم ہونے کے بعد انتخابات کی تاریخ دینا کس کی آئینی ذمہ داری ہے؟

  • نیب ترامیم کیس کو جلد ختم کرنا چاہتےہیں، بہت سے اہم معاملات غور طلب ہیں،چیف جسٹس

    نیب ترامیم کیس کو جلد ختم کرنا چاہتےہیں، بہت سے اہم معاملات غور طلب ہیں،چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت 21 فرفوی تک ملتوی کر دی-

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی،دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نیب قانون کے ساتھ کیا واضح نہیں ہے کہ کیسز منتقل ہو کر کہاں جائیں گے؟۔

    وفاقی حکومت کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ چئیرمین نیب کی سربراہی میں کمیٹی ہے جو کیسز کی متعلقہ فورمز پر منتقلی کا معاملہ دیکھ رہی ہے، برطانیہ میں کہا جاتا ہے کہ اگر کسی معاملے کا فیصلہ نا کرنا ہو تو اس کو کمیٹی میں بھجوا دیں، نیب آرڈیننس 2019 کے تحت 41 افراد بری ہوئے تھے۔

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا کہ اس کیس میں عدالت خود کو 2022 کی نیب ترامیم تک ہی محدود رکھے گی۔

    حکومتی وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عمران خان کی درخواست میں حقائق درست انداز میں نہیں بتائے گئے، درخواست میں پٹشنر کو نیب ترامیم کا آئین کی شقوں سے متصادم کے متعلق بتانا ہوتا ہے، عمران خان کی درخواست میں ٹوٹل 47 قانونی سوالات ہیں، ان 47 قانونی سوالات میں صرف 4 میں نیب ترامیم کے ساتھ آئینی شقوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔

    وکیل نے کہا کہ نیب ترامیم کے درخواست میں پہلے دو سوالات ضیا اور مشرف دور کے ریفرنڈم والے ہیں، نیب ترامیم کی درخواست میں 21 قانونی سوالات دراصل سوالات ہی نہیں ہیں، درخواست کے ان 21 سوالات میں کسی نیب ترامیم یا بنیادی حقوق کا حوالہ نہیں دیا گیا-

    دلائل میں وکیل نے مزید کہا کہ درخواست کے 16 سوالات میں نیب ترامیم کا حوالہ دیا گیا پر بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں بتائی گئی، درخواست میں 6 سوالات میں بنیادی حقوق بتائے گئے مگر نیب ترامیم نہیں درج کی گئیں، عمران خان نے درخواست میں امپورٹڈ سازش کا ذکر بھی کیا ہے، پچھلے کچھ دنوں کے اخبارات کے مطابق اب یہ امپورٹڈ سازش بھی ایکسپورٹڈ سازش بن چکی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے تو عمران خان کی درخواست کا فارنزک آڈٹ کر دیا ہےکیس کو جلد ختم کرنا چاہتےہیں، بہت سے اہم معاملات غور طلب ہیں ،کیس کی سماعت 21 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔

    واضح رہے کہ خیال رہے کہ گزشتہ سال جون میں مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت اتحادی حکومت نے نیب آرڈیننس میں 27 اہم ترامیم متعارف کروائی تھیں، لیکن صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ان کی منظوری نہیں دی تھی، تاہم اس بل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کیا گیا اور بعد میں اسے نوٹیفائی کیا گیا تھا۔

    نیب (دوسری ترمیم) بل 2021 میں کہا گیا ہے کہ نیب کا ڈپٹی چیئرمین، جو وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کیا جائے گا، چیئرمین کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد بیورو کا قائم مقام چیئرمین بن جائے گا، بل میں چیئرمین نیب اور بیورو کے پراسیکیوٹر جنرل کی 4 سال کی مدت بھی کم کر کے 3 سال کردی گئی ہے۔

    قانون کی منظوری کے بعد نیب وفاقی، صوبائی یا مقامی ٹیکس کے معاملات پر کارروائی نہیں کر سکے گا، مزید یہ کہ ملک میں کام کرنے والے ریگولیٹری اداروں کو بھی نیب کے دائرہ کار سے باہر نکال دیا گیا ہے۔

    بل میں کہا گیا ہے کہ اس آرڈیننس کے تحت افراد یا لین دین سے متعلق زیر التوا تمام پوچھ گچھ، تحقیقات، ٹرائلز یا کارروائیاں متعلقہ قوانین کے تحت متعلقہ حکام، محکموں اور عدالتوں کو منتقل کی جائیں گی، بل نے احتساب عدالتوں کے ججوں کے لیے 3 سال کی مدت بھی مقرر کی ہے، یہ عدالتوں کو ایک سال کے اندر کیس کا فیصلہ کرنے کا پابند بھی بنائے گا۔

    مجوزہ قانون کے تحت نیب کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ملزم کی گرفتاری سے قبل اس کے خلاف شواہد کی دستیابی کو یقینی بنائے، بل میں شامل کی گئی ایک اہم ترمیم کے مطابق یہ ایکٹ قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے شروع ہونے اور اس کے بعد سے نافذ سمجھا جائے گا۔