Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • مقامی اخبارات کے 4 صحافیوں کو پرنسپل کی ہتک کرنے پر5 لاکھ جرمانہ

    مقامی اخبارات کے 4 صحافیوں کو پرنسپل کی ہتک کرنے پر5 لاکھ جرمانہ

    سپریم کورٹ میں صحافیوں کیخلاف ہتک عزت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ،

    ایبٹ آباد کے مقامی اخبارات کے 4 صحافیوں کو پرنسپل کی ہتک کرنے پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا گیا،سپریم کورٹ نے جرمانے کی رقم جمع نہ کرنے پر صحافیوں کیخلاف مناسب احکامات جاری کرنے کا عندیہ دیا ،دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرنٹ میڈیا رجسٹرڈ ادارہ ہے سوشل میڈیا نہیں کہ پرنسپل پر الزام لگا کر غلطی کرے،معاشرے میں چند افراد ہیں جن کا بلند مقام ہے ان میں اساتذہ سرفہرست ہیں صحافی عدالت کیلئے قابل احترام ہیں آزادی رائے ان کا حق ہے،صحافی کا یہ کام نہیں کہ کسی کی شہرت کو نقصان پہنچائے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری کالج کے پرنسپل کے خلاف خبر کو صحافی عدالت میں ثابت نہ کرسکے، اب آپ کیلئے بہترین حل یہ ہے کہ پرنسپل سے معافی مانگیں اور صلح کر لیں،عدالت نے صحافیوں کو ایک ماہ میں 5 لاکھ جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی

  • کسی کی کردار کشی کی اجازت نہیں دے سکتے،سپریم کورٹ

    کسی کی کردار کشی کی اجازت نہیں دے سکتے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں گن اینڈ کنٹری کلب از خود نوٹس پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی

    عدالت نے وزارت بین الصوبائی رابطہ کو کلب سے متعلق قانون سازی کیلئے اقدامات اٹھانے کا حکم دے دیا ،سپریم کورٹ نے وزارت آئی پی سی کو کلب کے آڈٹ کیلئے آڈٹ فرم کا نام دینے کا بھی حکم دے دیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے نعیم بخاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے سرکار کے سیکریٹری سے متعلق سخت الفاظ استعمال کیے ،آپ سے ایسے الفاظ کی توقع نہیں تھی،کسی کی کردار کشی کی اجازت نہیں دے سکتے،متفرق درخواست میں ایسے الفاظ کو حذف کیا جائے ،وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ میں نے مینجمنٹ کمیٹی سے کئی بار استعفیٰ دیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کلب کی زمین سی ڈی اے کی ملکیت ہے ،سی ڈی اے کو آپ کچھ تو ادائیگی کریں، لیز منظوری کی بات کریں،وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ کلب سے متعلق قانون سازی کا بل منظور نہیں کیا جارہا،

    حکومت نے یہ کام کیا تو وکلاء 2007 سے بھی بڑی تحریک چلائیں گے،وکلا کی دھمکی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی میدان میں‌ آگئے، ریفرنس کی خبروں‌ پر صدرمملکت کوخط لکھ کر اہم مطالبہ کر دیا

    سپریم کورٹ میں گن اینڈ کنٹری کلب کیس کی سماعت، عدالت نے دیا حکومت کو بڑا جھٹکا

    گن اینڈ کنٹری کلب سے متعلق کیس کی سماعت،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    واضح رہے کہ عدالت نے دی گن اینڈ کنٹری کلب کے قیام کے حوالے سے پرویزمشرف دور کی قرارداد غیرقانونی قرار دیتے ہوئے سروے آف پاکستان کو تین ہفتوں میں 145 ایکڑ زمین کی حد بندی کا حکم دیا تھا،عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ 1975 میں لیز کے تحت 175 ایکڑ زمین دی گئی جس میں 2008 میں مزید 33 سال کی توسیع کر دی گئی، دی گن اینڈ کنٹری کلب کو دی گئی زمین کی سی ڈی اے سے منظوری نہیں لی گئی۔

  • حافظ قرآن ہونے پر اضافی نمبرز دینے پر ازخود نوٹس سماعت کیلئے مقرر

    حافظ قرآن ہونے پر اضافی نمبرز دینے پر ازخود نوٹس سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں میڈیکل طلبہ کو حافظ قرآن ہونے پر اضافی 20 نمبرز دینے پر ازخود نوٹس سماعت کیلئے مقرر کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ 15مارچ کو سماعت کرے گا، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد وحید بینچ کا حصہ ہوں گے۔

    اسلام آباد اورکوئٹہ میں مقدمات درج: عمران خان کا حفاظتی ضمانت کیلئےہائیکورٹ سے رجوع

    عدالت نے پاکستان میڈیکل کمیشن اور اٹارنی جنرل سمیت دیگرفریقین کو نوٹس جاری کردیا۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ نےگزشتہ سال سماعت کے دوران معاملہ سامنے آنے پر ازخود نوٹس لیا تھا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ برس سپریم کورٹ نے بولان یونیورسٹی میں طالبہ کو میڈیکل میں داخلہ نہ دینے کیخلاف مسماۃ شہلا کی درخواست مسترد کردی تھی عدالت عظمی نے وفاق، پاکستان میڈیکل کمیشن اور دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ حافظ قرآن کو داخلے کیلئے اضافی نمبروں سے متعلق سماعت الگ ہوگی۔

    جسٹس قاضی فائرعیسیٰ کی سربراہی میں بینچ کے روبروبولان یونیورسٹی کوئٹہ میں طالبہ کو میڈیکل میں داخلہ نہ دینےسےمتعلق درخواست پر سماعت کی تھی درخواست گزار کے وکیل نے کہا تھا کہ حافظہ قرآن کوٹہ کے 20 نمبرز اضافی مل جاتے تو میرٹ پر داخلہ ہوجاتا۔

    تنخواہوں میں کٹوتی اور کپتانوں کےاستعفی کا معاملہ،پالپا کا موقف سامنے آ گیا

    عدالت نے ریمارکس دیئے تھے کہ قرآن حفظ کی بنیاد پر میڈیکل اور دیگر جامعات داخلہ میں اضافی نمبرز کیوں دیئے جائیں؟ سپریم کورٹ نے حفظ قرآن کی بنیاد ہر داخلوں پر اہم سوال اٹھا یا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے تھے کہ اہم معاملہ ہے ہم اس پر فریقین کو سن کر فیصلہ دیں گے۔ حافظ قرآن کو 20 نمبرز زیادہ کیوں دیں؟امام مسجد لگانا ہو یا لیکچرر بھی رکھنا ہو تو یہ قابلیت دیکھی جاسکتی ہے۔

    درخواست گزار مسمات شہلا نے کہا تھ کہ میرٹ کیلئے حافظ قرآن کوٹہ کے 20 اضافی نمبرز نہیں دیئے گئے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے تھے یہ بتائیں کیا حافظ قرآن طالب علم بہتر ڈاکٹر بن جائے گا؟ حافظ قرآن ہونا مقدس عمل ہے مگر اس بنیاد پر میڈیکل میں داخلہ کیوں دیا جائے؟ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ یہ بہت حساس معاملہ ہوجائیگا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس میں کہا کہ آپ مذہب سے گھبراتے کیوں ہیں؟ مذہب تو بہت آسانی پیدا کرتا ہے۔

    تاہم سپریم کورٹ نے مسمات شہلا کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ حافظ قرآن کو داخلے کیلئے اضافی نمبروں سے متعلق سماعت الگ ہوگی۔

    6 ملکی خارجہ اجلاس:مغربی ممالک پرافغانستان کے منجمد فنڈزبحال کرنے کا مطالبہ

  • سپریم کورٹ کو کسی کاروبار میں نہیں پڑنا چاہیے،جسٹس اطہر من اللہ

    سپریم کورٹ کو کسی کاروبار میں نہیں پڑنا چاہیے،جسٹس اطہر من اللہ

    سپریم کورٹ میں منسٹری آف انٹیرئیر کوآپرییٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کی زمین کیس کی سماعت ہوئی

    جسٹس اطہر من اللہ نے ہاؤسنگ سوسائٹیز اداروں کے نام پر بنانے پر اظہار برہمی کیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوآپریٹو ہاوسنگ سوسائٹی کا نام منسٹری کے نام پہ کیسے رکھا جا سکتا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ ایسے تو سپریم کورٹ ہاوسنگ سوسائٹی بھی ہے،جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ "امپلائز” کو آپریٹیو ہاوسنگ سوسائٹی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں سپریم کورٹ کا نام بھی ہاوسنگ سوسائٹی کیلئے استعمال نہیں ہونا چاہیے،سپریم کورٹ کو کسی کاروبار میں نہیں پڑنا چاہیے،نجی کاروبار میں منسٹری کا نام کیسے استعمال کیا گیا ہے؟

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اگر عدالت فیصلہ کر دے تو ہم ہاوسنگ سوسائٹی کا نام بھی بدل دیں گے، جسٹس سردار طارق نے کہا کہ ہاوسنگ سوسائٹی کے نام تبدیلی کا ذکر ہائیکورٹ میں ہوا ہی نہیں تو عدالت کیسے حکم دے؟ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ "ایمپلائز” کو آپریٹیو ہاوسنگ سوسائٹی ہے،سپریم کورٹ نے وزارت داخلہ کوآپریٹیو ہاوسنگ سوسائٹی کی درخواستیں خارج کر دیں

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    مدرسے کی طالبات نے خاتون معلمہ کو گلی میں مبینہ طور پر ذبح کر دیا

    خواب دیکھا،استانی نے توہین مذہب کی، اسلئے ذبح کر دیا، ملزمہ طالبات کا بیان

    جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں3رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ،عدالت نے منسٹری آف انٹیرئیر ہاوسنگ سوسائٹی کی جانب سے سرکاری کالج کی زمین کے قبضے کیخلاف فیصلہ دیا ،منسٹری آف انٹیرئیر ہاوسنگ سوسائٹی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا

  • سپریم کورٹ نے نیب رضا کارانہ واپسی از خود نوٹس کیس نمٹا دیا

    سپریم کورٹ نے نیب رضا کارانہ واپسی از خود نوٹس کیس نمٹا دیا

    سپریم کورٹ نے نیب رضا کارانہ واپسی از خود نوٹس کیس نمٹا دیا

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ نے رقم کی واپسی کے بعد عہدیداران کی بحالی پر از خود نوٹس لیا تھا 2022 نیب کے سیکشن 25اے کو بھی اب جرم تصور کیا جائے گا جو سزا پلی بارگین میں تھی وہی اب رضاکارانہ واپسی میں بھی ہے، رقم کی رضاکارانہ واپسی کے بعد سرکاری عہدہ پر 10سال کیلئے پابندی ہوگی ،پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ موجودہ کیس کو نیب ترامیم کے بعد سنا جائے ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ از خود نوٹس کا مقصد پورا ہو چکا ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کی ساری ترامیم کو چیلنج نہیں کیا گیا ،پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ 25 بی کا ذکر نیب ترامیم کیس میں کیا گیا تھا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازم پیسے دے کر کلین چٹ لیتا تھا پھر وہی کرتا تھا قانون میں جو سقم تھا وہ دور کردیا گیا،یہ اچھی ترمیم ہے،کیس کے ساتھ منسلک کیے گئے کیس کو علیحدہ سنا جائے گا

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • سپریم کورٹ کا بچیوں کے اغوا میں ملوث کرداروں کو سامنے لانے کا حکم

    سپریم کورٹ کا بچیوں کے اغوا میں ملوث کرداروں کو سامنے لانے کا حکم

    سپریم کورٹ میں بچیوں کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت رمضان کے بعد تک ملتوی کر دی گئی

    سپریم کورٹ نے بازیاب بچیوں کو والدہ ڈاکٹر مہرین بلوچ کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا سپریم کورٹ نے بچیوں کی ماہر نفسیات سے کونسلنگ بھی جاری رکھنے کا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نے بچیوں کے اغوا میں ملوث کرداروں کو سامنے لانے کا حکم بھی دیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ کیس میں بچوں کے حقوق کا قانون واضح کرنا ہے،بچیوں کو 6 سال تک اغوا رکھ کر غلط کیا گیا، بچیوں کو 6 سال تک غائب رکھنا وڈیرا سسٹم میں ہوتا ہے، قانونی بالادستی رکھنے والے ملک میں وڈیرا سسٹم نہیں،

    جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ اب تک کیس میں کیا پیش رفت ہوئی؟ ڈی آئی جی سندھ نے عدالت میں کہا کہ دو بچیوں کے اغوا میں والد سمیت 13 افراد نے اعانت کی،بچیوں کے والد نے جے آئی ٹی ختم کرنے اور میرے خلاف درخواستیں دائر کر رکھی ہیں، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈی آئی جی کے خلاف درخواستیں فوری طور پر واپس لیں،ڈی آئی جی نے بچوں کی بازیابی میں تمام کارروائی عدالتی حکم پر کی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بچیوں کو والد سے فون پر بات اور ملنے کی اجازت دی جائے،وکیل علی احمد کرد نے کہا کہ والد بچیوں کا حقیقی سرپرست ہوتا ہے اس کے خلاف کارروائی نہ کی جائے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بہت جوشیلے ہیں تھوڑا جوش بچیوں کے بنیادی حقوق کیلئے بھی دکھائیں،

    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے  اپنے، اہلیہ اور بچوں کے اثاثے ظاہر کر دیئے

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے، اہلیہ اور بچوں کے اثاثے ظاہر کر دیئے

    اسلام آباد: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رضاکارانہ طور پر اپنے، اہلیہ اور بچوں کے اثاثے سپریم کورٹ آف پاکستان کی ویب سائٹ پر ظاہر کردیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری دستاویزات کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ کوئی پلاٹ نہیں لیا ۔

    امیر ممالک غریب ملکوں کو شیطانی حربوں سے تنگ کررہے ہیں ،سیکرٹری اقوام متحدہ

    دستاویزات کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بطور جج سپریم کورٹ کوئی سرکاری پلاٹ نہیں لیا۔ان کو سرکاری پلاٹس کی آفرز ہوئیں جو انہوں نے ٹھکرا دیں انہوں نے آمدن کے مطابق ہر سال ٹیکس جمع کرایا۔

    دستاویزات کے مطابق کینال روڈ لاہور میں پرانا گھر کرائے پر دے رکھا ہے، ان کے بینک اکاؤنٹ میں 4 کروڑ 13 لاکھ 30 ہزار 856 روپے ہیں، ایک فارن کرنسی بینک اکاؤنٹ میں 41 لاکھ روپے سے زائد رقم موجود ہے۔

    دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی ملکیت میں دوکاریں، ایک گاڑی ہے ان کی ملکیت میں ڈی ایچ اے فیز ٹو کراچی کا 800 مربع فٹ رہائشی پلاٹ ہے جو بطور وکیل پریکٹس کے پیسوں سے لیا،اس پر گھر بھی بنایا-

    سب سے بات کرنے سمجھوتہ کرنے کو تیار ہوں، عمران خان

    دستاویزات میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ مجھے سرکاری طورپر 2 کاریں، 600 لیٹرپیٹرول ملتا ہے، وزارت داخلہ کے اجازت نامے کے باوجود ممنوعہ اسلحہ رکھنے سے انکار کیا، بطور جج سپریم کورٹ 300 ملکی مفت کال منٹس ملتے ہیں، 300 لیٹر پیٹرول مفت ملےگا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دستاویزات میں کہا ہے کہ میری اہلیہ سرینہ عیسیٰ میرے زیرکفالت نہیں، وہ برطانیہ اور پاکستان میں اپنے الگ ٹیکس گوشوارے جمع کراتی ہیں۔

    دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سال 2018 میں آمدن ایک کروڑ 51 لاکھ13 ہزار 972روپے تھی، انہوں نے سال 2018میں 22 لاکھ 916 روپے ٹیکس ادا کیا۔

    لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد کوچیئرمین نیب تعینات کر دیا

    دستاویزات کے مطابق سال 2019 میں سالانہ آمدن 1 کروڑ 71 لاکھ 45 ہزار 972روپے تھی، 17 لاکھ 92 ہزار سات روپے ٹیکس دیا جبکہ سال 2020 میں آمدن 2 کروڑ 12 لاکھ 33 ہزار 921 روپے تھی، 26 لاکھ 78ہزار 799روپے ٹیکس دیا۔

    زیارت میں قائداعظم کی رہائش گاہ کے ساتھ ایک پلاٹ مجھے میرے مرحوم والد قاضی محمد عیسیٰ نے ورثے میں دیا، اس پلاٹ کے ایک حصے پر غیر قانونی طور پر بلوچستان حکومت نے قبضہ کر لیا۔

  • ن لیگ جسٹس مظاہرعلی نقوی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل پہنچ گئی

    ن لیگ جسٹس مظاہرعلی نقوی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل پہنچ گئی

    مسلم لیگ ن لائرز فورم نے جسٹس مظاہرعلی نقوی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت درج کرا دی

    جسٹس مظاہرعلی نقوی کیخلاف شکایت مبینہ آڈیو لیک کی بنیاد پر دائر کی گئی درخواست میں چودھری پرویزالہٰی کیساتھ مبینہ گفتگو کا ٹرانسکرپٹ بھی شامل کیا گیا ہے،درخواست میں کہا گیا ہے کہ کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی ہوئی، ارروائی کی جائے جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی جائے

    قبل ازیں سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس میاں داؤد ایڈووکیٹ کی جانب سے بھجوایا گیا ہے ریفرنس میں سپریم کورٹ کے جج، ان کے اہلخانہ کی جائیدادوں کی اور آڈیو لیک جسیے معاملات کی تحقیقات کرنے کی استدعا کی گئی ہے

    طالبان کا امریکی فوجی اڈوں کو اکنامک زونز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ
    چیٹ جی پی ٹی نے نریندر مودی کودنیا کی متنازع ترین شخصیات میں سے ایک قرار دیا
    کھمبے سے باندھ کر لوہے کی راڈ گرم کرکے جسم کے مختلف حصوں میں لگانے کی ویڈیو وائرل

    ریفرنس میں اپیل کی گئی ہےکہ سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے اثاثوں کی تحقیقات کرے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے اثاثے 3 ارب روپے سے زائد مالیت کے ہیں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا فیڈرل ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کنال کا پلاٹ ہے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا سپریم کورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کنال کا پلاٹ ہے۔ گلبرگ تھری لاہور میں 2 کنال 4 مرلےکا پلاٹ ہے۔سینٹ جون پارک لاہور کینٹ میں 4 کنال کا پلاٹ ہے۔اثاثوں میں گوجرانوالا الائیڈ پارک میں غیر ظاہر شدہ پلازہ بھی شامل ہے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے مبینہ طور پر 2021 میں 3 بار سالانہ گوشواروں میں ترمیم کی، گوشواروں میں ترمیم گوجرانوالا ڈی ایچ اے میں گھر کی مالیت ایڈجسٹ کرنےکے لیےکی گئی ،پہلے گھرکی مالیت47 لاکھ پھر 6 کروڑ اور پھر 72 کروڑ ظاہرکی گئی

  • سپریم کورٹ،آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری

    سپریم کورٹ،آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری

    سپریم کورٹ پرنسپل سیٹ اسلام آباد کیلئے آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری کر دیا گیا

    آئندہ ہفتے پرنسپل سیٹ پر پانچ بینچ مقدمات کی سماعت کریں گے بینچ ایک میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک شامل ہیں ،بینچ دو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ،جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس حسن اظہر رضوی پر مشتمل ہوگا بینچ تین میں جسٹس سردار طارق ،جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہونگے ،بینچ چار جسٹس اعجاز الاحسن،جسٹس منیب اختر اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل ہوگا بینچ پانچ میں جسٹس منصور علی شاہ،جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہونگے

    نگران پنجاب حکومت کی جانب سے لا افسران کی برطرفی کیخلاف کیس کی سماعت پیر کو ہوگی سپریم کور ٹ میں پٹواریوں اور تحصیلداروں کے کردار سے متعلق از خود نوٹس سماعت پیر کو ہوگی سپریم کور ٹ میں پلی بارگین کے ذریعے نیب ملزمان کی رہائی کیخلاف کیس کی سماعت بدھ کو ہوگی گن اینڈ کنٹری کلب اسلام آباد کو سرکاری زمین الاٹمنٹ کیخلاف از خود نوٹس پر سماعت جمعرات کو ہوگی سپریم کورٹ میں شوگر انکوائری کمیشن کیخلاف کیس کی سماعت جمعہ کو ہوگی

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    علی امین گنڈاپور اور امتیاز نامی شخص کے مابین آڈیو لیک

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

  • بینچز کی بلا جواز صوابدیدی تبدیلی نے شکوک و شبہات پیدا کیے

    بینچز کی بلا جواز صوابدیدی تبدیلی نے شکوک و شبہات پیدا کیے

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ بینچز کی بلا جواز صوابدیدی تبدیلی نے شکوک و شبہات پیدا کیے-

    باغی ٹی وی: قاضی فائز نےعیسی بدھ کے روز جاری کردہ 9 صفحات پر مشتمل فیصلے میں جو عدالت عظمیٰ کے بینچوں میں اچانک تبدیلی اور مقدمات کی تعین کے معاملے پر جاری کیا گیا تھا کہا کہ ہمیں اس حقیقت سے بے خبر نہیں ہونا چاہئے کہ عدلیہ ایک اور صرف ایک مقصد یعنی مقدمات کا فیصلہ کرنے کے لیے کے لیے قائم کی گئی تھی جو اسے مؤثر، منصفانہ اور شفاف طریقے سے کرنا چاہیے لوگوں کو یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ انصاف کا انتظام کس طرح کیا جاتا ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے افسوس کا اظہار کیا کہ بینچز کی بلا جواز صوابدیدی تبدیلی نے شکوک و شبہات پیدا کیے اور عام لوگوں کو ایسے نظام کی انصاف پسندی پر سوالات اٹھانے کی ترغیب دی جو من مانے طور پر کچھ شہریوں پر دوسروں کو ترجیح دیتی ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کہتا ہے کہ عدلیہ کی آزادی پوری طرح سے محفوظ بنائی جائے لیکن اگر سپریم کورٹ کے رجسٹرار، جج یا یہاں تک کہ چیف جسٹس آف پاکستان (سی جے پی) پہلے سے طے شدہ، معقول اور منصفانہ معیار کے بغیر جلد سماعت کے لیے خاص مقدمات کا انتخاب کرتے ہیں تو اس سے عدلیہ کی آزادی کا اصول مجروح ہوسکتا ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ دو ججوں کے بینچ کی سربراہی کر رہے تھے جس میں جسٹس یحییٰ آفریدی شامل تھے، انہوں نے اپنے نوٹ میں کہا کہ وہ جسٹس عیسیٰ کے خیالات کا احترام کرتے ہیں آئین کے آرٹیکل 19 اے نے عوام کو عوامی اہمیت کے تمام معاملات میں معلومات تک رسائی کا حق فراہم کیا ہے، یہ ایک بنیادی حق ہے، شفافیت احتساب کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ چونکہ بینچز کی اچانک تبدیلی کی کوئی وجہ نہیں تھی جسٹس یحیٰی آفریدی سے جونیئر جج کو ان پر ترجیح دی گئی کہ وہ بینچ کی سربراہی کریں لہذا ہمارے لیے اس معاملے کو حل کرنا لازمی ہوگیا جو انتہائی اہم ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مشاہدہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ان لوگوں کے لیے جن کے معاملات 28 فروری کو سماعت کے لیے مقرر تھے لیکن سنے نہیں جاسکے، ہم معذرت خواہ ہیں اس عدالت کی آزادی، سالمیت اور وقار کو برقرار رکھنے کے لیے قانون کی حکمرانی، بینچوں کی تشکیل میں شفافیت اور انصاف اور مقدمات کی یکسوئی کو قائم کیا جانا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ قواعد کسی بینچ پر جج یا ججوں کو تبدیل کرنے یا ان کی تعداد کو کم کرنے کے لیے رجسٹرار یا سی جے پی کو کوئی اختیار نہیں دیتے۔

    جسٹس عیسیٰ نے یاد دلایا کہ سپریم کورٹ نے پہلے کہا تھا کہ من مانے طور پر بنچوں کی تشکیل نو ’نظام کی سالمیت کو نقصان پہنچاتی ہے اور اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔

    اسی کیس میں بینچ کے ایک اور رکن نے کہا کہ ایک بینچ جو ایک بار تشکیل دیا جاتا ہے اور اس معاملے کی سماعت شروع کردیتا ہے اسےچیف جسٹس اپنے انتظامی اختیارات کے استعمال میں دوبارہ تشکیل نہیں دے سکتا، جب تک کہ بینچ کا کوئی رکن دستبردار نہ ہوجائے۔