Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ نے نیب رضا کارانہ واپسی از خود نوٹس کیس نمٹا دیا

    سپریم کورٹ نے نیب رضا کارانہ واپسی از خود نوٹس کیس نمٹا دیا

    سپریم کورٹ نے نیب رضا کارانہ واپسی از خود نوٹس کیس نمٹا دیا

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ نے رقم کی واپسی کے بعد عہدیداران کی بحالی پر از خود نوٹس لیا تھا 2022 نیب کے سیکشن 25اے کو بھی اب جرم تصور کیا جائے گا جو سزا پلی بارگین میں تھی وہی اب رضاکارانہ واپسی میں بھی ہے، رقم کی رضاکارانہ واپسی کے بعد سرکاری عہدہ پر 10سال کیلئے پابندی ہوگی ،پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ موجودہ کیس کو نیب ترامیم کے بعد سنا جائے ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ از خود نوٹس کا مقصد پورا ہو چکا ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کی ساری ترامیم کو چیلنج نہیں کیا گیا ،پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ 25 بی کا ذکر نیب ترامیم کیس میں کیا گیا تھا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازم پیسے دے کر کلین چٹ لیتا تھا پھر وہی کرتا تھا قانون میں جو سقم تھا وہ دور کردیا گیا،یہ اچھی ترمیم ہے،کیس کے ساتھ منسلک کیے گئے کیس کو علیحدہ سنا جائے گا

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • سپریم کورٹ کا بچیوں کے اغوا میں ملوث کرداروں کو سامنے لانے کا حکم

    سپریم کورٹ کا بچیوں کے اغوا میں ملوث کرداروں کو سامنے لانے کا حکم

    سپریم کورٹ میں بچیوں کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت رمضان کے بعد تک ملتوی کر دی گئی

    سپریم کورٹ نے بازیاب بچیوں کو والدہ ڈاکٹر مہرین بلوچ کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا سپریم کورٹ نے بچیوں کی ماہر نفسیات سے کونسلنگ بھی جاری رکھنے کا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نے بچیوں کے اغوا میں ملوث کرداروں کو سامنے لانے کا حکم بھی دیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ کیس میں بچوں کے حقوق کا قانون واضح کرنا ہے،بچیوں کو 6 سال تک اغوا رکھ کر غلط کیا گیا، بچیوں کو 6 سال تک غائب رکھنا وڈیرا سسٹم میں ہوتا ہے، قانونی بالادستی رکھنے والے ملک میں وڈیرا سسٹم نہیں،

    جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ اب تک کیس میں کیا پیش رفت ہوئی؟ ڈی آئی جی سندھ نے عدالت میں کہا کہ دو بچیوں کے اغوا میں والد سمیت 13 افراد نے اعانت کی،بچیوں کے والد نے جے آئی ٹی ختم کرنے اور میرے خلاف درخواستیں دائر کر رکھی ہیں، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈی آئی جی کے خلاف درخواستیں فوری طور پر واپس لیں،ڈی آئی جی نے بچوں کی بازیابی میں تمام کارروائی عدالتی حکم پر کی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بچیوں کو والد سے فون پر بات اور ملنے کی اجازت دی جائے،وکیل علی احمد کرد نے کہا کہ والد بچیوں کا حقیقی سرپرست ہوتا ہے اس کے خلاف کارروائی نہ کی جائے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بہت جوشیلے ہیں تھوڑا جوش بچیوں کے بنیادی حقوق کیلئے بھی دکھائیں،

    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے  اپنے، اہلیہ اور بچوں کے اثاثے ظاہر کر دیئے

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے، اہلیہ اور بچوں کے اثاثے ظاہر کر دیئے

    اسلام آباد: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رضاکارانہ طور پر اپنے، اہلیہ اور بچوں کے اثاثے سپریم کورٹ آف پاکستان کی ویب سائٹ پر ظاہر کردیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری دستاویزات کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ کوئی پلاٹ نہیں لیا ۔

    امیر ممالک غریب ملکوں کو شیطانی حربوں سے تنگ کررہے ہیں ،سیکرٹری اقوام متحدہ

    دستاویزات کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بطور جج سپریم کورٹ کوئی سرکاری پلاٹ نہیں لیا۔ان کو سرکاری پلاٹس کی آفرز ہوئیں جو انہوں نے ٹھکرا دیں انہوں نے آمدن کے مطابق ہر سال ٹیکس جمع کرایا۔

    دستاویزات کے مطابق کینال روڈ لاہور میں پرانا گھر کرائے پر دے رکھا ہے، ان کے بینک اکاؤنٹ میں 4 کروڑ 13 لاکھ 30 ہزار 856 روپے ہیں، ایک فارن کرنسی بینک اکاؤنٹ میں 41 لاکھ روپے سے زائد رقم موجود ہے۔

    دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی ملکیت میں دوکاریں، ایک گاڑی ہے ان کی ملکیت میں ڈی ایچ اے فیز ٹو کراچی کا 800 مربع فٹ رہائشی پلاٹ ہے جو بطور وکیل پریکٹس کے پیسوں سے لیا،اس پر گھر بھی بنایا-

    سب سے بات کرنے سمجھوتہ کرنے کو تیار ہوں، عمران خان

    دستاویزات میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ مجھے سرکاری طورپر 2 کاریں، 600 لیٹرپیٹرول ملتا ہے، وزارت داخلہ کے اجازت نامے کے باوجود ممنوعہ اسلحہ رکھنے سے انکار کیا، بطور جج سپریم کورٹ 300 ملکی مفت کال منٹس ملتے ہیں، 300 لیٹر پیٹرول مفت ملےگا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دستاویزات میں کہا ہے کہ میری اہلیہ سرینہ عیسیٰ میرے زیرکفالت نہیں، وہ برطانیہ اور پاکستان میں اپنے الگ ٹیکس گوشوارے جمع کراتی ہیں۔

    دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سال 2018 میں آمدن ایک کروڑ 51 لاکھ13 ہزار 972روپے تھی، انہوں نے سال 2018میں 22 لاکھ 916 روپے ٹیکس ادا کیا۔

    لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد کوچیئرمین نیب تعینات کر دیا

    دستاویزات کے مطابق سال 2019 میں سالانہ آمدن 1 کروڑ 71 لاکھ 45 ہزار 972روپے تھی، 17 لاکھ 92 ہزار سات روپے ٹیکس دیا جبکہ سال 2020 میں آمدن 2 کروڑ 12 لاکھ 33 ہزار 921 روپے تھی، 26 لاکھ 78ہزار 799روپے ٹیکس دیا۔

    زیارت میں قائداعظم کی رہائش گاہ کے ساتھ ایک پلاٹ مجھے میرے مرحوم والد قاضی محمد عیسیٰ نے ورثے میں دیا، اس پلاٹ کے ایک حصے پر غیر قانونی طور پر بلوچستان حکومت نے قبضہ کر لیا۔

  • ن لیگ جسٹس مظاہرعلی نقوی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل پہنچ گئی

    ن لیگ جسٹس مظاہرعلی نقوی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل پہنچ گئی

    مسلم لیگ ن لائرز فورم نے جسٹس مظاہرعلی نقوی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت درج کرا دی

    جسٹس مظاہرعلی نقوی کیخلاف شکایت مبینہ آڈیو لیک کی بنیاد پر دائر کی گئی درخواست میں چودھری پرویزالہٰی کیساتھ مبینہ گفتگو کا ٹرانسکرپٹ بھی شامل کیا گیا ہے،درخواست میں کہا گیا ہے کہ کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی ہوئی، ارروائی کی جائے جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی جائے

    قبل ازیں سیکرٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس میاں داؤد ایڈووکیٹ کی جانب سے بھجوایا گیا ہے ریفرنس میں سپریم کورٹ کے جج، ان کے اہلخانہ کی جائیدادوں کی اور آڈیو لیک جسیے معاملات کی تحقیقات کرنے کی استدعا کی گئی ہے

    طالبان کا امریکی فوجی اڈوں کو اکنامک زونز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ
    چیٹ جی پی ٹی نے نریندر مودی کودنیا کی متنازع ترین شخصیات میں سے ایک قرار دیا
    کھمبے سے باندھ کر لوہے کی راڈ گرم کرکے جسم کے مختلف حصوں میں لگانے کی ویڈیو وائرل

    ریفرنس میں اپیل کی گئی ہےکہ سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے اثاثوں کی تحقیقات کرے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے اثاثے 3 ارب روپے سے زائد مالیت کے ہیں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا فیڈرل ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کنال کا پلاٹ ہے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا سپریم کورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کنال کا پلاٹ ہے۔ گلبرگ تھری لاہور میں 2 کنال 4 مرلےکا پلاٹ ہے۔سینٹ جون پارک لاہور کینٹ میں 4 کنال کا پلاٹ ہے۔اثاثوں میں گوجرانوالا الائیڈ پارک میں غیر ظاہر شدہ پلازہ بھی شامل ہے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے مبینہ طور پر 2021 میں 3 بار سالانہ گوشواروں میں ترمیم کی، گوشواروں میں ترمیم گوجرانوالا ڈی ایچ اے میں گھر کی مالیت ایڈجسٹ کرنےکے لیےکی گئی ،پہلے گھرکی مالیت47 لاکھ پھر 6 کروڑ اور پھر 72 کروڑ ظاہرکی گئی

  • سپریم کورٹ،آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری

    سپریم کورٹ،آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری

    سپریم کورٹ پرنسپل سیٹ اسلام آباد کیلئے آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری کر دیا گیا

    آئندہ ہفتے پرنسپل سیٹ پر پانچ بینچ مقدمات کی سماعت کریں گے بینچ ایک میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک شامل ہیں ،بینچ دو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ،جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس حسن اظہر رضوی پر مشتمل ہوگا بینچ تین میں جسٹس سردار طارق ،جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہونگے ،بینچ چار جسٹس اعجاز الاحسن،جسٹس منیب اختر اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل ہوگا بینچ پانچ میں جسٹس منصور علی شاہ،جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہونگے

    نگران پنجاب حکومت کی جانب سے لا افسران کی برطرفی کیخلاف کیس کی سماعت پیر کو ہوگی سپریم کور ٹ میں پٹواریوں اور تحصیلداروں کے کردار سے متعلق از خود نوٹس سماعت پیر کو ہوگی سپریم کور ٹ میں پلی بارگین کے ذریعے نیب ملزمان کی رہائی کیخلاف کیس کی سماعت بدھ کو ہوگی گن اینڈ کنٹری کلب اسلام آباد کو سرکاری زمین الاٹمنٹ کیخلاف از خود نوٹس پر سماعت جمعرات کو ہوگی سپریم کورٹ میں شوگر انکوائری کمیشن کیخلاف کیس کی سماعت جمعہ کو ہوگی

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    علی امین گنڈاپور اور امتیاز نامی شخص کے مابین آڈیو لیک

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

  • بینچز کی بلا جواز صوابدیدی تبدیلی نے شکوک و شبہات پیدا کیے

    بینچز کی بلا جواز صوابدیدی تبدیلی نے شکوک و شبہات پیدا کیے

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ بینچز کی بلا جواز صوابدیدی تبدیلی نے شکوک و شبہات پیدا کیے-

    باغی ٹی وی: قاضی فائز نےعیسی بدھ کے روز جاری کردہ 9 صفحات پر مشتمل فیصلے میں جو عدالت عظمیٰ کے بینچوں میں اچانک تبدیلی اور مقدمات کی تعین کے معاملے پر جاری کیا گیا تھا کہا کہ ہمیں اس حقیقت سے بے خبر نہیں ہونا چاہئے کہ عدلیہ ایک اور صرف ایک مقصد یعنی مقدمات کا فیصلہ کرنے کے لیے کے لیے قائم کی گئی تھی جو اسے مؤثر، منصفانہ اور شفاف طریقے سے کرنا چاہیے لوگوں کو یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ انصاف کا انتظام کس طرح کیا جاتا ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے افسوس کا اظہار کیا کہ بینچز کی بلا جواز صوابدیدی تبدیلی نے شکوک و شبہات پیدا کیے اور عام لوگوں کو ایسے نظام کی انصاف پسندی پر سوالات اٹھانے کی ترغیب دی جو من مانے طور پر کچھ شہریوں پر دوسروں کو ترجیح دیتی ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کہتا ہے کہ عدلیہ کی آزادی پوری طرح سے محفوظ بنائی جائے لیکن اگر سپریم کورٹ کے رجسٹرار، جج یا یہاں تک کہ چیف جسٹس آف پاکستان (سی جے پی) پہلے سے طے شدہ، معقول اور منصفانہ معیار کے بغیر جلد سماعت کے لیے خاص مقدمات کا انتخاب کرتے ہیں تو اس سے عدلیہ کی آزادی کا اصول مجروح ہوسکتا ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ دو ججوں کے بینچ کی سربراہی کر رہے تھے جس میں جسٹس یحییٰ آفریدی شامل تھے، انہوں نے اپنے نوٹ میں کہا کہ وہ جسٹس عیسیٰ کے خیالات کا احترام کرتے ہیں آئین کے آرٹیکل 19 اے نے عوام کو عوامی اہمیت کے تمام معاملات میں معلومات تک رسائی کا حق فراہم کیا ہے، یہ ایک بنیادی حق ہے، شفافیت احتساب کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ چونکہ بینچز کی اچانک تبدیلی کی کوئی وجہ نہیں تھی جسٹس یحیٰی آفریدی سے جونیئر جج کو ان پر ترجیح دی گئی کہ وہ بینچ کی سربراہی کریں لہذا ہمارے لیے اس معاملے کو حل کرنا لازمی ہوگیا جو انتہائی اہم ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مشاہدہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ان لوگوں کے لیے جن کے معاملات 28 فروری کو سماعت کے لیے مقرر تھے لیکن سنے نہیں جاسکے، ہم معذرت خواہ ہیں اس عدالت کی آزادی، سالمیت اور وقار کو برقرار رکھنے کے لیے قانون کی حکمرانی، بینچوں کی تشکیل میں شفافیت اور انصاف اور مقدمات کی یکسوئی کو قائم کیا جانا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ قواعد کسی بینچ پر جج یا ججوں کو تبدیل کرنے یا ان کی تعداد کو کم کرنے کے لیے رجسٹرار یا سی جے پی کو کوئی اختیار نہیں دیتے۔

    جسٹس عیسیٰ نے یاد دلایا کہ سپریم کورٹ نے پہلے کہا تھا کہ من مانے طور پر بنچوں کی تشکیل نو ’نظام کی سالمیت کو نقصان پہنچاتی ہے اور اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔

    اسی کیس میں بینچ کے ایک اور رکن نے کہا کہ ایک بینچ جو ایک بار تشکیل دیا جاتا ہے اور اس معاملے کی سماعت شروع کردیتا ہے اسےچیف جسٹس اپنے انتظامی اختیارات کے استعمال میں دوبارہ تشکیل نہیں دے سکتا، جب تک کہ بینچ کا کوئی رکن دستبردار نہ ہوجائے۔

  • پنجاب، خیبر پختونخوا الیکشن، سپریم کورٹ میں فیصلہ محفوظ، کل سنایا جائیگا

    پنجاب، خیبر پختونخوا الیکشن، سپریم کورٹ میں فیصلہ محفوظ، کل سنایا جائیگا

    سپریم کورٹ کی جانب سے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کے حوالے سے از خود نوٹس کیس کا فیصلہ کل سنایا جائے گا

    سیکریٹری ٹو چیف جسٹس آف پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ پنجاب ، خیبر پختونخوا میں انتخابات کے از خود نوٹس کیس کا فیصلہ کل سنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ کل دن 11 بجے سنایا جائے گا۔ اس سے قبل جب عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا تو اس وقت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا تھا کہ فیصلہ آج ہی سنایا جائے گا لیکن یہ نہیں بتاسکتے کہ کس وقت سنایا جائے گا۔

    قبل ازیں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین ہفتے سے ہائیکورٹ میں صرف نوٹس ہی چل رہے ہیں ، اعلیٰ عدلیہ کو سیاسی تنازعے میں نہیں پڑنا چاہیے مخصوص حالات میں عدالت از خود نوٹس لیتی ہے سب متفق ہیں کہ آرٹیکل 224 کے تحت یہ واضح ہے کہ انتخابات 90 روز میں ہی ہونے ہیں عدالت تلاش میں ہے کہ انتخابات کی تاریخ کہاں سے آنی ہے اور مستقبل میں تاریخ کا فیصلہ کون کرے گا

  • حکومت کی نیک نیتی پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہے،پہلی بار ایسی صورتحال ہے کہ کنٹینرکھڑے ہیں لیکن زرمبادلہ نہیں،چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کیس کی سماعت میں ریمارکس دیئے کہ حکومت کی نیک نیتی پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہے لیکن پہلی بار ایسی صورتحال ہے کہ کنٹینرکھڑے ہیں لیکن زرمبادلہ نہیں۔

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی میں انتخابات کے معاملے پر سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ کوئی بھی آئینی ادارہ انتخابات کی مدت نہیں بڑھا سکتا، عدالت کے علاوہ کسی کو انتخابی مدت بڑھانےکا اختیار نہیں ہےٹھوس وجوہات کا جائزہ لےکر ہی عدالت حکم دے سکتی ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ معاشی مشکلات کا ذکر1988 کے صدارتی ریفرنس میں بھی تھا آرٹیکل 254 وقت میں تاخیر پر پردہ ڈالتا ہے، مگر لائسنس نہیں دیتا کہ الیکشن میں 90 دن سے تاخیر ہو، قدرتی آفات یا جنگ ہو تو آرٹیکل 254 کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ الیکشن بروقت نہ ہوئےتواستحکام نہیں آئےگا،حکومت کی نیک نیتی پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہےآج صرف تاریخ طے کرنے کا معاملہ دیکھنا ہے، اگر نوے روز سے تاخیر والی تاریخ آئی تو کوئی چیلنج کردےگا لیکن پہلی بارایسی صورتحال ہے کہ کنٹینرکھڑے ہیں لیکن زرمبادلہ نہیں ۔

    عدالت نے حکومت اور پی ٹی آئی کو مشاورت سے ایک تاریخ دینے کا مشورہ دے دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم فیصلہ کربھی دیں تو مقدمہ بازی چلتی رہے گی جو عوام اور سیاسی جماعتوں کیلئے مہنگی ہوگی۔

    سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں کو اپنی قیادت سے ہدایت لینے کا وقت دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی قائدین سے مشورہ کرکے الیکشن کی متوقع تاریخ سے آگاہ کریں۔

    فاروق ایچ ناٸیک نے کل تک سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم ،آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن سے مشاورت کرنی ہے۔ تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ آج مقدمہ نمٹانا چاہتے ہیں ،عدالت کا سارا کام اس مقدمہ کی وجہ سے رکا ہوا ہے۔

    عدالت نے سماعت میں چار بجے تک وقفہ کر دیا۔

  • الیکشن کمیشن کا کردار ہر صورت میں اہم ہے،چیف جسٹس

    الیکشن کمیشن کا کردار ہر صورت میں اہم ہے،چیف جسٹس

    پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات ازخود نوٹس کی سماعت جاری ہے،آج عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت شروع ہو گئی۔ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے لیے 5 رکنی نیا بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال،جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل ہیں۔جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر بھی نئے بینچ کا حصہ ہیں۔

    چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ اگر انتخابات کے لیے حالات سازگار نہیں تو اس کی وجوہات بتائی جائیں۔جسٹس محمد علی مظہر نےکہا کہ الیکشن کی تاریخ آئےتو ہی فیصلہ ہوگا کہ اس وقت انتخابات ہوسکتےہیں یا نہیں، پورا مہینہ ضائع کردیا کہ گورنر نے مشاورت کا کہا ہے۔جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ امن وامان کا معاملہ گورنرکا نہیں الیکشن کمیشن کا ہے، کیا امن وامان کا معاملہ انتخابات کی آئینی راہ میں آسکتا ہے؟-جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا یہ درست نہیں کہ گورنر کا اقدام صدر کا اقدام ہوتا ہے؟ وکیل عابد زبیری نے کہا کہ اگر گورنر اسمبلیاں ختم نہیں کرتا تو پھر کیا صورتحال ہوگی، اس پر دلائل دوں گا،آرٹیکل 224 اے کے مطابق اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد صدر یا گورنر قائم مقام حکومت بنائیں گے-

    صدراسلام آباد ہائیکورٹ بار نےکہا کہ آرٹیکل105/3میں تاریخ دینے کی بات کی گئی ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا حکومت تا ریخ دینے پر ایڈوائس نہیں کرسکتی؟ ،وکیل عابد زبیری نےکہا کہ ایسی کوئی قد غن نہیں لیکن حکومت نےایسی ایڈوائس نہیں کی، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ پھر آج اس پر ایڈوائس کروالیں-

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ 90 دن کا وقت اسمبلی تحلیل ہونے کیساتھ شروع ہو جاتا ہے،جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے؟-صدراسلام آباد ہائیکورٹ بار نے کہا کہ الیکشن کی تاریخ اور نگران حکومت کا قیام ایک ساتھ ہوتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ کیا گورنر نگران حکومت کی ایڈوائس مسترد کر سکتا ہے؟وکیل عابد زبیری نےکہا کہ الیکشن کی تاریخ دینےکا اختیار گورنر کا ہے وزیر اعلیٰ کا نہیں،گورنر وزیر اعلیٰ کی ایڈوائس پر عملدرآمد کرنے کا پابند ہے-جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نگران وزیر اعلیٰ اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس کرے تو کیا گورنر اس کا بھی پابند ہے؟،وکیل عابد زبیری نے کہا کہ نگران حکومت صرف محدود اختیارات کے تحت کام کر سکتی ہے-چیف جسٹس نے عابد زبیری سے مکالمہ کیا کہ آپ 105 آرٹیکل میں ترمیم کے بعد کی صورتحال بتا رہے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے مکالمے میں کہا کہ یہ معاملہ شاید صدر کا ہے وکیل عابد زبیری نے کہا کہ ایسی صورتحال میں جب گورنر کردار ادا نہ کریں تو صدر کو اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے-

    صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بارعابد زبیری نے کہا کہ اسمبلیاں تحلیل ہوتی ہیں خاص طور پر جب عام انتخابات کی بات ہو تو پھر 90دن میں تاریخ دینا ضروری ہے، سیف اللہ کیس میں 12 ججز نے انتخاب کے عمل کو لازمی قرار دیا-جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آرٹیکل 48 کہتا ہے کہ صدر کا ہر عمل اور اقدام حکومت کی سفارش پر ہوگا،انہوں نے استفسار کیا کہ کیا موجودہ یا سابقہ حکومت انتخاب کے اعلان کا کہے گی؟-چیف جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کی تاریخ دینا ایڈوائس پر ہوگا،صدر اسلام آباد ہائیکورٹ نے دلائل میں کہا کہ آئین میں اسمبلی کی تحلیل کے 4 طریقے بتائے گئے ہیں-جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ نگران حکومت تو 7 روز بعد بنتی ہے،آئین کی مختلف شقوں کی ہم آہنگی ضروری ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے ریما رکس دیئے کہ پنجاب کے کیس میں وزارت قانون نے نوٹیفکیشن جاری کیا گورنر نے نہیں،عابد زبیری نے کہا کہ آئین آرٹیکل 112 کے مطابق عدم اعتماد ایڈوائس پر یا پھر 48 گھنٹے میں حکومت ختم ہوسکتی ہے-

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین کے مطابق آج بھی حکومت گورنر سے انتخاب کا کہہ سکتی ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ اگر حکومت کی تاریخ کے حوالے سے ایڈوائس آجائے تو گورنر کیسے انکار کرسکتا ہے؟ جس پر وکیل عابد زبیری نے بتایا کہ پنجاب میں 22 جنوری کو نگران حکومت آئی تھی،میں عدالت کو بتانا چاہتا ہوں صدر انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرسکتا ہے-چیف جسٹس عمر عطابندیال نے استفسار کیا کہ اگرصدر تاریخ دے سکتے ہیں تو پھر تاریخ دینے میں تاخیر کیوں ہوئی؟ ،عابد زبیری نے جواب میں کہا کہ صدر کے وکیل موجود ہیں وہ جواب دے سکتے ہیں-چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر صدر الیکشن کی تاریخ مشاورت سے دے سکتے ہیں توکیا گورنر بھی ایسا کرسکتے ہیں؟ ،مشاورت شاید الیکشن کمیشن کے ساتھ ہوگی-جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ اگر گورنر الیکشن کرانے پر مشاورت کرتے ہیں توپھروہ وسائل سے متعلق بھی پوچھ سکتے ہیں ؟ وکیل عابد زبیری نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن یا پھرگورنر انتخابات کی تاریخ ہر صورت میں دے سکتا ہے-جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ آئین واضح ہے کہ اسمبلی تحلیل ہونے پر گورنر تاریخ دے گا، گورنر کا تاریخ دینے کا اختیار دیگر معمول کے عوامل سے مختلف ہے -جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ کیا نگران حکومت پر پابندی ہے کہ گورنر کو تاریخ تجویز کرنے کا نہیں کہہ سکتی؟کیا گورنر کو اب بھی سمری نہیں بھجوائی جا سکتی ؟ -صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے کہا کہ آئین کی منشاء کے مطابق 90 دن میں انتخابات ہونا ہے ، نگران کابینہ نے آج تک ایڈوائس نہیں دی تو اب کیا دے گی-

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نگران کابینہ کی ایڈوائس کے اختیار پر اٹارنی جنرل کو بھی سنیں گے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ گورنر جب بھی تاریخ دے گا تو 52 دن کا وقت اپنے ذہن میں ضرور رکھے گا، وکیل عابد زبیری نےدلائل میں کہا کہ الیکشن ایکٹ کے تحت صدر الیکشن کمیشن سے مشاورت کر کے تاریخ دی سکتا ہے، الیکشن ایکٹ آئین کے آرٹیکل 222 کی تحت بنایا گیا ہے-چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے استفسار کیا کہ صدر نے الیکشن کی تاریخ دینے میں تاخیر کیوں کی ؟شاید صورتحال واضح نہ ہونے پر تاخیر ہوئی ،گورنر الیکشن کی تاریخ کے لیے کس سے مشاورت کریں گے؟-جس پر وکیل نے بتایا کہ مشاورت الیکشن کمیشن سے ہی ہوسکتی ہے-جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ صدر نے الیکشن کمیشن کو پہلی چٹھی لکھی کس آرٹیکل کے تحت بھیجی ؟ ہمیں علم ہے کہ صدر جو بھی عمل کریں گے وہ وزیر اعظم کی ایڈوائس کے ساتھ کریں گے،صدر اپنے اختیارات کن قوانین کے تحت استعمال کرتے ہیں ، معاونت کریں-صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بارعابد زبیری نے کہا کہ آئین کے مطابق صدر نے کمیشن کو پہلی چٹھی لکھی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آرٹیکل 57 کے مطابق انتخابات کی تاریخ دینا آئینی ذمہ داری ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ صدر نے الیکشن کمیشن کو پہلی چٹھی کس آرٹیکل کے تحت بھیجی ؟ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ گورنر کہہ رہا ہے کہ اسمبلی میں نے تحلیل نہیں کی-عابد زبیری نے بتایاکہ تاریخ دینے کی بات کا ذکر صرف آئین کے آرٹیکل 105 تین میں ہے،نوے روز میں الیکشن کرانا آئین کی روح ہے-جسٹس جمال مندوخیل نے بتایا کہ حکومت کے انتخاب کی تاریخ دینے پر کوئی پابندی نہیں،چیف جسٹس نے وکیل سے مکالمے میں کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں حکومت آئینی ذمہ داری پوری نہیں کررہی؟اٹارنی جنرل سے کہیں گے آئینی نکات پر معاونت کریں-عابد زبیری نے بتایا کہ دباؤ میں اگر اسمبلی ٹوٹ جائے تو صدر مملکت تاریخ دیں گے ،میرا موقف ہے کہ انتخاب کی تاریخ دینا صدر مملکت کا اختیار ہے-جسٹس منصور علی شاہ ریمارکس دیئے کہ مشاورت میں وسائل اور حالات کا جائزہ لیا جائے گا،عدالت نے پوچھا کہ الیکشن کمیشن انتخابات سے معذوری ظاہر کرے کیا پھر بھی گورنر تاریخ دینے کا پابند ہے؟،صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار عابد زبیری نے کہا کہ گورنر ہر صورت تاریخ دینے کا پابند ہے-جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ گورنر کے پاس تاریح نہ دینےکا کوئی اختیار نہیں،گورنر الیکشن کمیشن کے انتظامات مدنظر رکھ کر تاریخ دے گا،صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن عابد زبیری نے کہا کہ گورنر ہر صورت تاریخ دینے کا پابند ہے- جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ گورنر جب بھی تاریخ دے گا 52 دنوں کا مارجن رکھا جائےگا،جسٹس جمال مندوخیل بولے کہ صدر کے اختیارات براہ راست آئین نے نہیں بتائے،آئین میں اختیارات نہیں توپھر قانون کے تحت اقدام ہوگا،قانون بھی تو آئین کے تحت ہی ہوگا-جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ اب تو آپ ہم سے پوچھنے لگ گئے ہیں کہ کرنا کیا ہے،صدر مملکت کس قانون کے تحت چھٹیاں لکھ رہے ہیں؟وکیل اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری نے کہا کہ صدر مملکت نے مشاورت کیلئے خط لکھے ہیں-جسٹس منصور علی شاہ نے عابد زبیری سے مکالمے میں کہا کہ آئین میں تو کہیں مشاورت کا ذکر نہیں،اس موقع پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر مان لیا قانون صدر مملکت کو اجازت دیتا ہے پھر صدر ایڈوائس کا پابند ہے،جسٹس منصور علی شاہ بولے کہ نگران حکومت بھی تاریخ دینے کا کہہ سکتی ہے، اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ دوسرے فریق کو سن کر فیصلہ کریں گے صدر کو مشاورت کی ضرورت ہے یا نہیں-

    وکیل اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ نگران حکومت صرف محدود اختیارات کے تحت کام کر سکتی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ اگرصدر تاریخ دے سکتے ہیں تو پھر تاریخ دینے میں تاخیر کیوں ہوئی؟ وکیل اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ آئین کی منشاء کے مطابق 90 دن میں انتخابات ہونا ہے ،الیکشن ایکٹ آئین کے آرٹیکل 222 کی تحت بنایا گیا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن کمیشن آزاد ادارہ ہے جس کی ذ مہ داری انتخابات کرانا ہے،گورنر پنجاب کا موقف ہے الیکشن کمیشن خود تاریخ دے،گورنر نے انٹرا کورٹ اپیل میں کہا کہ ان سے مشاورت کی ضرورت نہیں الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ وہ ازخود تاریخ کیسے دے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سمجھ نہیں آتا ہائیکورٹ میں 14 دن کا وقت کیوں مانگا گیا؟بطور اٹارنی جنرل آپ کیس شروع ہوتے ہی مکمل تیار تھے ایسے کونسے نکات تھے جس کی تیاری کے لیے وکلاء کو 14 دن درکار تھے؟ہائیکورٹ میں تو مقدمہ روزانہ کی بنیاد پر چلنا چاہیے تھا،

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر نے الیکشن ایکٹ کی سیکشن 57 ون کا استعمال کیا ہے،اگر صدر کا اختیار نہیں تو سیکشن 57 ون غیر موثر ہے،اگر سیکشن 57 ون غیر موثر ہے تو قانون سے نکال دیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرے حساب سے الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ دے سکتا ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اعلان کرنا ہے تو کسی سے مشاورت کی ضرورت نہیں،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آئین اور قانون کی منشا کو سمجھیں ، الیکشن کمیشن نے اعلان کرنا ہو تو صدر اور گورنر کا کردار کہاں جائیگا ؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کردار ہر صورت میں اہم ہے،آپ کے مطابق الیکشن کمیشن کا کردار حتمی ہے،

    واضح رہے کہ رہے کہ سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے غلام محمود ڈوگر کیس میں 16فروری کو ازخودنوٹس کے لیے معاملہ چیف جسٹس کوبھیجا تھا جس پر سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد انتخابات کے لیے تاریخ کا اعلان نہ ہونے پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے 9 رکنی بینچ تشکیل دیا تھا۔سپریم کورٹ نے از خود نوٹس میں تین سوالات اٹھائے ہیں، پہلا سوال اسمبلی تحلیل ہونے پر الیکشن کی تاریخ دینا کس کی ذمہ داری ہے؟ دوسرا سوال انتخابات کی تاریخ دینے کا آئینی اختیار کب اور کیسے استعمال کرنا ہے؟ تیسرا سوال یہ ہے کہ عام انتخابات کے حوالے سے وفاق اور صوبوں کی ذمہ داری کیا ہے؟

    عدالت نے ازخود نوٹس سی سی پی او غلام ڈوگر ٹرانسفرکیس میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہرنقوی کے نوٹ پرلیا ہے۔پہلے روزکی سماعت کے اہم ریمارکس میں عدالت نے اسمبلی کی تحلیل پر سوال اٹھا یا ،سپریم کورٹ میں سماعت کے آغاز پر عدالت نے کہا کہ اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار وضاحت طلب ہے، پنجاب اورکے پی اسمبلیاں 14 اور17 جنوری کو تحلیل ہوئیں، آرٹیکل 224/2 کے تحت انتخابات اسمبلی کی تحلیل سے90 دنوں میں ہونے ہوتے ہیں، آرٹیکل 224 ایک ٹائم فریم دیتا ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ آئین کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گی، چاہتے ہیں انتخابات آئین کے مطابق ہوں عدالت نے 3 معاملات کو سننا ہے، صدرپاکستان نے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیا، آرٹیکل 224 کہتا ہے 90 دنوں میں انتخابات ہوں گے، سیکشن 57 کے تحت صدر نے انتخابات کا اعلان کیا ہے، دیکھنا ہے صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد تاریخ دینا کس کا اختیار ہے۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ انتحابات کا مسئلہ وضاحت طلب ہے، ہم ارادہ رکھتے ہیں کہ آپ سب کو سنیں گے لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے سماعت طویل نہیں کریں گے، تیاری کریں کیس کی سماعت سوموار سے ہوگی۔

    دورانِ سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ میرے ازخود نوٹس سے متعلق کچھ تحفظات ہیں، یہ ازخود نوٹس نہیں بنتا، ہمارے سامنے دو اسمبلیوں کے اسپیکر کی درخواستیں ہیں، یہ ازخود نوٹس جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی کے نوٹ پرلیا گیا، اس کیس میں چیف الیکشن کمشنرکو بھی بلایا گیا جوکہ فریق نہیں ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ سوال دونوں اسمبلیوں کے اسپیکرز نے اپنی درخواستوں میں شامل کیے ہیں لیکن سپریم کورٹ نے صرف آئینی نکتہ دیکھنا ہے اور اس پر عملدرآمد کرانا ہے، ہم صرف آئین کی تشریح اور آئین کی عملداری کے لیے بیٹھے ہیں۔

    عدالت نے کہا کہ ‏ہم آج نوٹس جاری کریں گے، ‏ہم اس معاملے کو طوالت نہیں دینا چاہتے اور نہ کوئی ابہام چھوڑنا چاہتے ہیں، ‏ہم 2 بجے بیٹھے ہیں اور یہ ہمارے لیے غیرمعمولی ہے۔

    سماعت میں اٹارنی جنرل نے وقت دینے کے لیے استدعا کی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کل ہم صرف چند ضروری باتوں تک محدود رہیں گے، کیس کی تفصیلی سماعت اگلے ہفتے کریں گے۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کا بھی ازخود نوٹس لیا جائے جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اس ازخود نوٹس کیس پر اپنی آبزرویشن دینا چاہتا ہوں، یہ ازخودنوٹس کیس نہیں بنتا اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس جمال مندوخیل کے سوموٹو پر کچھ تحفظات ہیں، ان کے تحفظات کو نوٹ کرلیا گیا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‏آرٹیکل 224 کہتا ہے 90 روز میں انتخابات ہوں گے اور ‏وقت جلدی سے گزر رہا ہے،ہائیکورٹ میں معاملہ زیر التوا تھا مگر کوئی فیصلہ نہیں ہو پارہا تھا، پنجاب اورکے پی کی اسمبلیوں کو تحلیل کیے جانے کے بعد 6 ہفتے گزرگئے، آرٹیکل 224 کے تحت الیکشن کا انعقاد اسمبلی تحلیل ہونے کے 90 دن میں ہونا چاہیے، بینچ کی 16 فروری کی سفارش پر سوموٹو نوٹس لیے جانے کی سفارش ہوئی۔عدالت نے کہا کہ الیکشن کے انعقاد کے معاملے پر صدر مملکت،گورنرپنجاب اورکے پی کو بھی سنا جائے گا۔جسٹس منصور نے سوال اٹھایا کہ کیا اسمبلیاں کسی کی ڈکٹیشن پر ختم ہوسکتی ہیں؟نمائندے 5 سال کیلئے منتخب ہوتے ہیں تو کسی شخص کی ہدایت پر اسمبلی تحلیل کیسے ہوسکتی ہے۔بعد ازاں عدالت نے صدر مملکت اور گورنرکے پرنسپل سیکرٹری کو ان کے نظریے کی نمائندگی کے لیے نوٹس جاری کردیے جب کہ عدالت نے وائس چیئرمین پاکستان بار، چیئرمین سپریم کورٹ بار اور پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں کونوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

    دوسرے روز کی سماعت:

    سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل روسٹرم پرآ کر کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی کاپی نہیں ملی، تمام فریقین کو نوٹس نہیں مل سکےاس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آج کی سماعت کا مقصد تمام متعلقہ حکام کو ازخودنوٹس کے متعلق اطلاع دینا تھا، فاروق ایچ نائیک اور تمام ایڈووکیٹ جنرلز یہاں ہیں۔

    دورانِ سماعت پیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی پر اعتراض اٹھادیا۔فاروق نائیک نے کہا کہ ججز سے کوئی ذاتی خلفشار نہیں، جو ہدایات ملیں وہ سامنے رکھ رہا ہوں، ہدایات ہیں کہ جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی بینچ سے الگ ہوجائیں۔فاروق ایچ نائیک کے اعتراض پر چیف جسٹس نے کہا کہ ججز کے معاملے پر پیر کو آپ کو سنیں گے،فاروق ایچ نائیک نے پی ڈی ایم جماعتوں کا مشترکہ تحریری بیان عدالت میں پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا کہ جسٹس مظاہرنقوی اور جسٹس اعجازالاحسن پہلے ہی غلام محمود ڈوگرکیس میں اس معاملے کو سن چکے، استدعا ہے دونوں جج صاحبان خود کو ازخود نوٹس سے الگ کرلیں۔پی ڈی ایم کے مشترکہ تحریری نوٹ میں کہا گیا ہےکہ فیئر ٹرائل کے حق کے تحت جسٹس اعجاز اور جسٹس مظاہرکو بینچ سے الگ ہوجانا چاہیے، دونوں ججز کے کہنے پر ازخود نوٹس لیا گیا اس لیے مذکورہ ججز بینچ سے الگ ہوجائیں، دونوں ججز (ن) لیگ اور جے یو آئی کے کسی بھی مقدمے کی سماعت نہ کریں۔فاروق ایچ نائیک نے غلام محمود ڈوگر کیس میں دونوں ججز کا فیصلہ بھی پڑھ کر سنایا جب کہ جسٹس جمال کا گزشتہ روز کا نوٹ بھی پڑھا۔پی پی کے وکیل نے کہا کہ دونوں ججز نے ازخود نوٹس کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوایا، جسٹس مندوخیل کے نوٹ کے بعد جسٹس اعجاز اور جسٹس مظاہر خودکو بینچ سے الگ کردیں، ڈوگر کے سروس میٹر میں ایسا فیصلہ آنا تشویشناک ہے۔دورانِ سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے سوال کیا کہ مسٹر نائیک آپ کو نہیں لگتا کہ یہ مفاد عامہ کا معاملہ فل کورٹ کو سننا چاہیے؟اس پر فاروق ایچ نائیک نے انتخابات میں تاخیر کے ازخود نوٹس پر فل کورٹ بنانے کی استدعا کی اور کہا کہ انتخابات کا معاملہ عوامی ہے،اس پر فل کورٹ ہی ہونا چاہیے۔فاروق نائیک کے موقف پر چیف جسٹس نے کہا کہ 16 فروری کو فیصلہ آیا اور22 فروری کو ازخود نوٹس لیا گیا، ازخود نوٹس لینا چیف جسٹس کا دائرہ اختیارہے، آرٹیکل 184/3 کے ساتھ اسپیکرزکی درخواستیں بھی آج سماعت کے لیے مقرر ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت اسپیکرزکی درخواست میں اٹھائےگئے قانونی سوالات بھی دیکھ رہی ہے، آج ہمارے دروازے پر آئین پاکستان نے دستک دی ہے اس لیے ازخود نوٹس لیا ہےجسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دییےکہ سیاسی معاملات کو پارلیمنٹ میں حل ہونا چاہیے، اپنی جماعتوں سے کہیں کہ یہ معاملہ عدالت کیوں سنے؟فاروق نائیک نے کہا کہ عدالت کی آبزرویشنز نوٹ کرلی ہیں، اپنی جماعت سے اس معاملے پر ہدایت لوں گا۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت پیرتک ملتوی کردی۔

    تیسرے روز کی سماعت:

    پیر27 فروری کو پنجاب اور خیبر پختونخوا (کے پی) میں انتخابات کی تاریخ کے تعین کے لیے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والے 9 رکنی لارجر بینچ ٹوٹنے کے بعدعدالت عظمیٰ کا 5 رکنی بینچ کیس کی-

    سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی ،جسٹس اطہرمن اللہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی کیس سننے سے معذرت کرنے کے بعد پانچ رکنی بینچ چیف جسٹس عمر عطا بندیال ، جسٹس منیب اختر، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل نے کیس کی سماعت کی- چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پارلیمان نے الیکشن ایکٹ میں واضح لکھا ہے کہ صدربھی الیکشن کی تاریخ دے سکتے ہیں، اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد 13 اپریل کو انتخابات لازمی کرانے کے 90 دن ختم ہوں گے۔

    اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا کہ صدرکی جانب سے دی گئی تاریخ پر الیکشن ممکن نہیں، کسی صورت بھی 25 اپریل سے پہلے انتخابات نہیں ہو سکتے، 2008 میں بھی انتخابات کی تاریخ آگے گئی تھی، اگر آج بھی الیکشن کا اعلان کریں گے تو 90 دن کی حد پر عمل نہیں ہوسکتا۔ اس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ وہ تو قومی سانحہ تھا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آئین کی کوئی ایسی شق نہیں جو انتخابات میں90 دن سے زائد تاخیر کا جواز دے، الیکشن کی تاریخ آئے گی توہی فیصلہ ہوگا کہ اس وقت انتخابات ہوسکتے ہیں یا نہیں، پورا مہینہ اس بات پر ضائع کردیا کہ گورنر نے مشاورت کا کہا ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ اگرملک کے پاس انتخابات کرانے کے پیسے نہ ہوں توکیا ہوگا؟جسٹس منیب اختر نے کہا کہ تعجب ہے ملک بھرمیں کرکٹ میچز کرانے کے پیسے ہیں لیکن انتخابات کیلئے نہیں،کیسے ہوسکتا ہے کہ اس بنیاد پر انتخابات نہ ہوں کہ پیسے نہیں ہیں؟

    صوبائی اسپیکرز کے وکیل علی ظفر نے دلائل میں کہا کہ کوئی آئینی عہدے دار بھی انتخابات میں 90 دن سے زیادہ تاخیر نہیں کرسکتا، پنجاب میں 90 دن کا وقت 14 جنوری سے شروع ہوچکا ہے، عدالت گورنر یا الیکشن کمیشن کو انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کا حکم دے سکتی ہے، انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، صدر مملکت نے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے آئینی اختیارکے تحت خود تاریخ مقرر کی،الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ انتخابات کی تاریخ وہ نہیں دے سکتے، اصل معاملہ انتخابات کی تاریخ کا ہے جو دینے کیلئے کوئی تیار نہیں، الیکشن کمیشن سپریم کورٹ میں انتخابات کی تیاری کا بتا چکا ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ تیاری تو تب ہوگی جب انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوگا، تاریخ کی بات ہو رہی ہے، ابھی تو رشتہ ہونا ہے، کیا گورنر کا کردار پارلیمانی جمہوریت میں پوسٹ آفس کا ہی ہے؟کیا گورنر اپنی صوابدید پر اسمبلی تحلیل کرسکتا ہے؟ میری رائے میں گورنرکی صوابدید یہ ہےکہ فیصلہ کرے اسمبلی تحلیل ہوگی یا نہیں۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ گورنر کی یہ صوابدید نہیں ہے، گورنر اگر سمری منظور نہ کرے تو اسمبلی از خود تحلیل ہوجاتی ہے، گورنر سمری واپس بھیجے تو بھی 48 گھنٹے کا وقت جاری رہتا ہے، الیکشن کمیشن کو اسمبلی کی تحلیل سے 90 دن میں انتخابات کرانے ہی ہیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو آئین کی کون سی شق انتخابات نہ کرانے کا اختیار دیتی ہے؟کیا الیکشن کمیشن کا انتخاباتی پروگرام 90 دن سے اوپر ہوسکتا ہے؟ اگر گورنر تاریخ نہ دے تو کیا الیکشن کمیشن ازخود انتخابات کراسکتا ہے؟

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ گورنر کے پی نے اسمبلی تحلیل کی، ان کو انتخابات کی تاریخ بھی دینا تھی، جب گورنرنے تاریخ نہیں دی تو صدرکے پاس ڈیفالٹ پاور موجود ہے، آئین خود کہتا ہے کہ انتخابات کی تاریخ دینا گورنرکی ذمہ داری ہے، سال 1976 میں آئین خاموش تھا کہ الیکشن کی تاریخ دینا کس کی ذمہ داری ہے، اسمبلی نے ترمیم کرکے صدر اور گورنر کو تاریخ دینے کا اختیار دیا، بعض حالات میں الیکشن کی تاریخ دینا گورنر اور بعض میں صدر کی ذمہ داری ہے انتخابات کی تاریخ دینا آئینی ذمہ داری ہے، پنجاب کی حد تک صدر نے شاید تاریخ درست دی ہو۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ نے الیکشن ایکٹ میں صدر مملکت کو انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار دیا ہے، قانون کے مطابق صدر کو الیکشن کمیشن سے مشاورت کرنا ہوتی ہے، یہ اہم معاملہ ہے کہ دیکھا جائے کہ صدرالیکشن کمیشن سے کیا مشاورت کرتے ہیں،گورنر بھی کس بنیاد اور مشاورت پر تاریخ مقرر کرسکتا ہے؟

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو ہر وقت انتخابات کیلئے تیار رہنا چاہیے، کوئی بھی اسمبلی کسی بھی وقت تحلیل ہوسکتی ہے،گورنر پنجاب نے معاملہ الیکشن کمیشن کی کورٹ میں پھینک دیا، ایک مہینہ گزرگیا ہے تاحال کوئی اعلان نہیں کیا جاسکا۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کوکاغذات نامزدگی سمیت تمام مراحل کیلئے 52 دن درکار ہیں، الیکشن کمیشن نے اسی بنیاد پر ہی گورنر کو تاریخیں تجویزکی تھیں چیف جسٹس نے کہا کہ ہم کسی نہ کسی نکتے پر پہنچ رہے ہیں، جہاں آئین خاموش ہے وہاں قوانین موجود ہیں، منگل کو کیس کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

    تیسرے روز کی سماعت کے دوران اسپیکر پنجاب و کے پی اسمبلی کے وکیل علی ظفر نے دلائل مکمل کرلیے فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ وہ مختصر دلائل دیں گے جس کے بعد عدالت نے مزید سماعت منگل 9 بجے تک ملتوی کردی۔

    چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ چار ممبرز نے خود کو بینچ سے الگ کرلیا ہے، عدالت کا باقی بینچ مقدمہ سنتا رہےگا، آئین کی تشریح کے لیے عدالت سماعت جاری رکھے گی، آئین کیا کہتا ہے اس کا دارو مدار تشریح پر ہےکل ساڑھے 9 بجے سماعت شروع کرکے ختم کرنےکی کوشش کریں گے، جب تک حکمنامہ ویب سائٹ پر نہ آجائے جاری نہیں کرسکتے،سٹس جمال مندوخیل کا نوٹ حکمنامے سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر آگیا تھا، مستقبل میں احتیاط کریں گے کہ ایسا واقعہ نہ ہو۔

    چیف جسٹس نے حکم دیا کہ وکیل علی ظفر دلائل کا آغاز کریں، آگاہ کریں عدالت یہ کیس سنے یا نہیں؟ آگاہ کیا جائے عدالت یہ مقدمہ سن سکتی ہے یا نہیں؟کل ہر صورت مقدمےکو مکمل کرنا ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر کے سوال پر علی ظفر نےکہا کہ گورنر کا تقرر صدر مملکت کی منظوری سے ہوتا ہے جسٹس محمد علی مظہر نےکہا کہ گورنرکے اسمبلی تحلیل کرنے اور آئینی مدت پر ازخود اسمبلی تحلیل ہوجانےمیں فرق ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ انتخابات کی تاریخ کا فیصلہ کرنا کس کا کام ہے؟علی ظفر نےکہا کہ انتخابات کی تاریخ کا کون ذمہ دار ہے اسی معاملے پر ازخود نوٹس لیا گیا ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہرکا کہنا تھا کہ آئین کی کوئی ایسی شق نہیں جو انتخابات میں90 دن کی تاخیرکو جسٹیفائی کرے، کیا کوئی انتخابات میں تاخیرکرسکتا ہے؟

    وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ انتخابات میں کوئی تاخیر نہیں کرسکتا، اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیےکہ گورنرپنجاب نے معاملہ الیکشن کمیشن کی کورٹ میں پھینک دیا، اس پر وکیل علی ظفر نےکہا کہ انتخابات کی تاریخ پر پنگ پانگ کھیلا جا رہا ہے،گورنریا الیکشن کمیشن کو عدالت انتخابات کی تاریخ مقررکرنےکا حکم دے سکتی ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ کیا لاہور ہائی کورٹ میں فریقین کے کہنے پر مقدمہ مؤخر ہوا ہے؟ وکیل اظہر صدیق کا کہنا تھا کہ انتخابات کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے اس لیے ہائی کورٹ سے مؤخرہوا۔کیل علی ظفر نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں جاری انٹراکورٹ اپیل میں کوئی حکم امتناع نہیں دیا گیا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نےکہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے انتخابات کی تاریخ کا حکم دیا تھا، کیا کوئی توہین عدالت کی درخواست دائر ہوئی؟ وکیل علی ظفر نےکہا کہ الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر ہوچکی ہے۔ وکیل اظہر صدیق نےکہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے توہین عدالت کیس میں مبہم جواب دیا گیا، لاہور میں انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت 16 فروری کو ہوئی، اب 21 فروری کو ہوگی۔

    چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ کیا لاہور ہائی کورٹ نے اتنے لمبے التوا کی وجوہات دیں؟ ٹھوس وجوہات کے بغیر اہم معاملے میں اتنا لمبا التوا نہیں دیا جاسکتا۔

    وکیل اظہر صدیق نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے لاہور ہائی کورٹ میں جواب جمع کرانے کا وقت مانگا جس پر التوا دیا گیا۔

    وکیل علی ظفر نےکہا کہ الیکشن کمیشن نے ہائی کورٹ کے حکم کا احترام نہیں کیا، 14 فروری کو لاہور ہائی کورٹ میں توہین عدالت دائر کی گئی، صدر مملکت نے معاملے پر 2 خطوط لکھے، 8 فروری کو پہلے خط میں الیکشن کمیشن کو تاریخ کے اعلان کرنےکا کہا گیا تھا۔

    چیف جسٹس پاکستان نے استفسارکیا کہ کیا صدر مملکت کے پہلے خط کا الیکشن کمیشن نے جواب دیا؟ اس پر وکیل علی ظفر نےکہا کہ میری معلومات کے مطابق پہلے خط کا الیکشن کمیشن نے جواب نہیں دیا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئےکہ صدر مملکت کا خط ہائی کورٹ کے حکم کے متضاد ہے، ہائی کورٹ نےگورنر سے مشاورت کے بعد تاریخ دینےکا کہا تھا، صدر مملکت نے الیکشن کمیشن کو تاریخ دینےکا کہا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نےکہا کہ الیکشن کمیشن نے تو اپنے جواب میں خود لکھا کہ گورنر سے مشاورت آئین میں نہیں، اگر مشاورت نہیں ہوئی تو کمیشن پھر خود الیکشن کی تاریخ دے دیتا۔

    وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا موقف ہےکہ انتخابات کی تاریخ وہ نہیں دے سکتا، اصل معاملہ انتخابات کی تاریخ کا ہے جو دینے پر کوئی تیار نہیں، پہلے آپ، نہیں پہلے آپ کرکے تاخیر کی جارہی ہے، صدر نے تاریخ مقرر کرنےکے خط میں تمام حقائق کو واضح کیا۔

    جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ کیا صدر سےکسی نے رجوع کیا تھا کہ تاریخ دیں یا انہوں نے ازخود ایسا کیا؟ وکیل علی ظفر نے جواب دیا کہ بنیادی حقوق کا معاملہ تھا اس لیے صدر کو مداخلت کرنا پڑی، کسی نہ کسی نے تو تاریخ کا اعلان کرنا ہی ہے، اگرعدالت سمجھتی ہےکہ الیکشن کمیشن تاریخ دےگا تو اسے حکم جاری کرے گی، ایسا نہیں ہوسکتا کہ جمہوریت میں خلا چھوڑ دیا جائے، باقی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ انتخابات کسی اور ادارے نے کرانے ہیں تو وہ بھی عدالت کو بتادیں۔

    جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ کے پی میں بھی اسمبلی تحلیل ہوئی ہے وہاں کیا پوزیشن ہے؟ اس پر وکیل علی ظفر نے جواب دیا کہ کے پی میں گورنر نے اسمبلی تحلیل کی ہے، گورنر کے پی نے الیکشن کمیشن کو اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا کہا ہے،گورنر کے پی نے اپنے خط میں سکیورٹی کو بنیاد بنایا ہے، انتخابات کی تاریخ تو گورنر کے پی نے بھی نہیں دی۔

    وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ پشاور ہائی کورٹ میں 3 آئینی درخواستیں زیر التوا ہیں چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ پشاور ہائی کورٹ نے 21 دن کا نوٹس کیوں دیا فریقین کو؟ قانونی نکتہ طےکرنا ہے، یہ کوئی دیوانی مقدمہ تو نہیں جو اتنا وقت دیا گیا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا گورنر کہہ سکتا ہے کہ دہشت گردی ہو رہی ہے مشاورت کی جائے؟ میری نظر میں گورنر کے پی کو ایسا خط لکھنےکا اختیار نہیں۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ کیس اب صرف اسی سوال پر چل رہا ہے کہ انتخابات کی تاریخ دینا کس کا اختیار ہےجسٹس منصور نے کہا کہ الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ تاریخ کے لیے مشاورت آئین میں شامل نہیں۔

    جسٹس محمد علی مظہر نےکہا کہ الیکشن کمیشن اگر خود تاریخ دے دے تو کیا یہ توہین عدالت ہوگی؟ وکیل علی ظفر نےکہا کہ یہ سب تاخیری حربے ہیں، الیکشن کمیشن کا تاریخ دینا آئینی عمل ہے، کسی نے تو انتخاب کی تاریخ کا اعلان کرنا ہے، ایسا نہیں ہوسکتا کہ اس میں الیکشن 10 سال تاخیرکا شکار ہوجائے، دوسرا فریق بتادے الیکشن کی تاریخ کس نے دینی ہے، جسے یہ کہتے ہیں اسے تاریخ کا اعلان کرنے دیں۔

    چیف جسٹس پاکستان نےکہا کہ اگر انتخابات کے لیے حالات سازگار نہیں تو اس کی وجوہات بتائی جائیں جسٹس محمد علی مظہر نےکہا کہ الیکشن کی تاریخ آئےتو ہی فیصلہ ہوگا کہ اس وقت انتخابات ہوسکتےہیں یا نہیں، پورا مہینہ ضائع کردیا کہ گورنر نے مشاورت کا کہا ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ امن وامان کا معاملہ گورنرکا نہیں الیکشن کمیشن کا ہے، کیا امن وامان کا معاملہ انتخابات کی آئینی راہ میں آسکتا ہے؟چیف جسٹس پاکستان نےکہا کہ سال 2013 اور 2018 میں اسمبلیوں نے مدت مکمل کی تھی۔

    ڈی جی لاء الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ اسمبلی مدت مکمل کرے تو صدر مملکت انتخابات کی تاریخ مقرر کرتے ہیںجسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئےکہ کے پی میں وزیراعلیٰ کی ایڈوائس پرعملدرآمد ہوا لیکن پنجاب میں نہیں۔

    وکیل علی ظفرکا کہنا تھا کہ اسمبلیاں نہ ہوں تو آئین میں گورننس کا کوئی اور طریقہ نہیں، یہی وجہ ہے کہ انتخابات کے لیے 90 دن کی حد مقررکی گئی ہے، 90 دن میں الیکشن کا ہونا ضروری ہے، صرف اعلان نہیں۔

    چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا کام انتخابات کرانا ہے۔

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ذمہ انتخابات کے لیے انتظامات کرنا اور الیکشن کرانا ہے، آئین کے مطابق الیکشن کمیشن نے قومی،صوبائی اوربلدیاتی انتخابات کرانے ہیں، آرٹیکل 218، 219 اور 222 الیکشن کمیشن کو انتخابات کی ذمہ داری دیتے ہیں، تمام ایگزیکٹو ادارے انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی معاونت کے پابند ہیں، الیکشن کمیشن بے بسی ظاہر کرے تو عدالت کو ایکشن لینا چاہیے۔

    گزشتہ روز پنجاب اور خیبر پختونخوا (کے پی) میں انتخابات کے لیے سپریم کورٹ نے 23 فروری کو ازخود نوٹس کیس کی سماعت کا تحریری حکم جاری کردیا تحریری حکم نامے میں کہا گیا انتخابات کی تاریخ کا اعلان کس کی آئینی ذمہ داری ہے؟ اس نکتے پر ازخود نوٹس لیا۔

    23 فروری کے حکم نامے میں 4 جسٹس صاحبان کے الگ الگ نوٹ ہیں، جسٹس مندوخیل، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس منصور اور جسٹس اطہر من اللہ کے نوٹ ہیں۔

    تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہےکہ بینچ کی ازسرنو تشکیل پر معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا ہے، چاروں جج صاحبان کے نوٹ لکھنے پرطےکیا گیا کہ بینچ کی تشکیل کا معاملہ ازسرنو چیف جسٹس کو بھجوایا جائے۔

  • انتخابات ازخود نوٹس کیس: جسٹس منصورعلی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل کے اختلافی نوٹ

    انتخابات ازخود نوٹس کیس: جسٹس منصورعلی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل کے اختلافی نوٹ

    اسلام آباد: جسٹس منصور علی شاہ نے انتخابات از خود نوٹس کیس بنچ میں سینئر ججز کی عدم شمولیت پر اعتراض اٹھادیا۔

    باغی ٹی وی: واضح رہے کہ انتخابات از خود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے 9 رکنی بینچ سے 4 جج الگ ہوگئے ہیں فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ،جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس اطہر من اللہ اور جمال خان مندوخیل کا اختلافی نوٹ شامل ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ میرے پاس بینچ سے الگ ہونے کا کوئی قانونی جواز نہیں، اپنے خدشات کو منظرعام پر لانا چاہتا ہوں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے بنچ میں شامل ایک جج کی آڈیو لیکس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جج سے متعلق الزامات کا کسی فورم پر جواب نہیں دیا گیا، بار کونسلز نے جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھی دائر کردیا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے بنچ میں شامل جج پر اعتراض کے ساتھ ساتھ دیگر سینئر ججز کی بنچ پر عدم شمولیت پر بھی اعتراض کیا۔

    انہوں نے کہا کہ 2 سینئر جج صاحبان کو بینچ میں شامل نہیں کیا گیا، عدلیہ پر عوام کے اعتماد کے لیے ضروری ہے کہ اس کی شفافیت برقرار رہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا کہ غلام ڈوگر کیس سے متعلق آڈیو سنجیدہ معاملہ ہے، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی نقوی الیکشن سے متعلق پہلے ہی اپنا ذہن واضح کرچکے ہیں۔

    انہوں نے نوٹ میں کہا کہ دونوں ججز کا موقف ہے کہ انتخابات 90 روز میں ہونے چاہیے، دونوں ججز نے رائے دیتے وقت آڑٹیکل 10 اے پر غور نہیں کیا ان حالات میں چیف جسٹس کا از خود نوٹس لینے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

    جسٹس یحیی آفریدی نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ عام انتخابات کا معاملہ پشاور اور لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

    خیال رہے کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ،جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس منیب اختر اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل باقی 5 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت شروع کی، تو چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے بتایا کہ 4 معزز ممبرز جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظاہر علی نقوی، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس یحیی آفریدی نے خود کو بینچ سے الگ کر لیا ہے، اور اب عدالت کا باقی بینچ مقدمہ سنتا رہے گا، اطہر من اللہ اور یحیی آفریدی نے کیس کے حوالے سے اپنا ذہن واضح کر دیا تھا، انہوں نے خود کو بنچ سے الگ کیا۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آئین کی تشریح کیلئے عدالت سماعت جاری رکھے گی، آئین کیا کہتا ہے اس کا دارومدار تشریح پر ہے، کل ساڑھے 9 بجے سماعت شروع کرکے کل ہی ختم کرنے کی کوشش کریں گے، جب تک حکمنامہ ویب سائٹ پر نہ آجائے جاری نہیں کرسکتے-

    چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس جمال مندوخیل کا نوٹ حکمنامہ سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر آگیا، مستقبل میں احتیاط کریں گے کہ ایسا واقعہ نہ ہو، جسٹس جمال خان مندوخیل کے نوٹ کو حکم میں شامل ہونے سے پہلے پبلک ہونا غیر مناسب ہے، عدالتی احکامات پہلے ویب سائٹ پر آتے ہیں پھر پبلک ہوتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی آئی وکیل علی ظفر دلائل کا آغاز کرتے ہوئے آگاہ کریں عدالت یہ کیس سنے یا نہیں، آگاہ کیا جائے عدالت یہ مقدمہ سن سکتی ہے یا نہیں، کل ہر صورت مقدمہ کو مکمل کرنا ہے۔

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ فل کورٹ کے معاملے پر درخواست دائر کی ہے، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ آپ کی درخواست بھی سن کرنمٹائی جائے گی، علی ظفر نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب نےاسمبلی تحلیل کرنے کی سمری گورنرکوارسال کی۔

    سابق اسپیکر پنجاب اسمبلی کے وکیل علی ظفر نے بتایا کہ گورنر پنجاب نے کہا میں نے اسمبلی توڑنے کی سمری دستخط نہیں کی، دستخط نہ کرنے کی وجہ سے الیکشن کی تاریخ نہیں دے سکتا، گورنر نے اپنے جواب میں الیکشن کمشنر کوتاریخ دینے کا کہہ دیا، تاریخ کی نہ الیکشن کمیشن ذمہ داری لے رہا ہے نہ گورنر۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے پوچھا کہ کیا الیکشن میں 90 دن سے تاخیر ہو سکتی ہے؟وکیل علی ظفر نے جواب دیا کہ الیکشن میں ایک گھنٹے کی بھی تاخیر نہیں ہو سکتی، تاریخ کی نہ الیکشن کمیشن زمہ داری لے رہا ہے نہ گورنر ، صدر مملکت نے معاملے پر دو خطوط لکھے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ صدر مملکت کا خط ہائیکورٹ حکم کے متضاد ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن نے تو اپنے جواب میں خود لکھا کہ گورنر سے مشاورت آئین میں نہیں، اگر مشاورت نہیں تو کمیشن پھر خود الیکشن کی تاریخ دے دیتا، الیکشن کمیشن اگر خود تاریخ دیدے تو کیا یہ توہین عدالت ہو گی؟

    علی ظفر نے دلائل دیئے کہ خیبرپختونخوا میں صورتحال مختلف ہے، خیبرپختونخوا میں گورنر نے اسمبلی تحلیل کرنے کے فیصلے پر دستخط کیے ، خیبرپختونخوا میں گورنر الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کر رہا۔

    وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں کیس کی اگلی سماعت کل ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ گورنر خیبرپختونخوا کو پشاور ہائیکورٹ میں 21 دن جواب جمع کرانے کے لیے دیے ، پشاور ہائیکورٹ نے 21 دن کا نوٹس کیوں دیا فریقین کو؟ قانونی نقطہ طے کرنا ہے یہ کوئی دیوانی مقدمہ تو نہیں جو اتنا وقت دیا گیا۔

    چیف جسٹس نے آج ہی گورنر خیبرپختونخوا کے سیکرٹری کو جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سیدھا سادھا کیس ہے 18 جنوری سے گورنر تاریخ دینے میں ناکام ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عدالت نے جائزہ لینا ہے کہ کیا لا اینڈ آڈر یا کسی اور وجہ سے الیکشن میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ 218(3)فری فیئر شفاف انتخابات کا کہتا ہے، الیکشن کمیشن کو شفاف الیکشن کروانے ہیں، کیا گورنر کی مشاورت کی ضرورت ہے یا نہیں، الیکشن کمیشن کا کام انتخابات کرانا ہے، سیکشن 57 کے تحت تاریخ دینے کیلئے الیکشن کمیشن کا کردار مشاورت کا ہے۔

    علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن بے بسی ظاہر کرے تو عدالت کو ایکشن لینا چاہیے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ الیکشن کی تاریخ دینا ذمہ داری کس کی ہے؟۔ علی ظفر نے جواب دیا کہ الیکشن کی تاریخ کے تعین کا سوال ہی عدالت کے سامنے ہے، پوری قوم کی نظریں عدلیہ پر ہیں قوم آپکی شکرگزار ہوگی۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ 2018 کے انتخابات کی تاریخ صدر مملکت نے دی تھی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سماعت کے دوران پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کا مشترکہ بیان پڑھتے ہوئے کہا تھا کہ 2 ججز کے بینچ میں شامل ہونے پر اعتراض ہے اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی اپنے آپ کو بینچ سےالگ کردیں۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے یہ ازخود نوٹس ایسے وقت میں لیا گیا جب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پیر کے روز یکطرفہ طور پر پنجاب اور خیبر پختون خوا میں 9 اپریل کو انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا تھا جس کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے اس معاملے پر مشاورت کے لیے ان کی دعوت کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

    22 فروری کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کی درخواست پر پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات میں تاخیر کے معاملے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی سماعت کے لیے 9 رکنی لارجربینچ تشکیل دے دیا تھا۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی درخواست پر لیے گئے از خود نوٹس میں کہا کہ ’عدالت کے دو رکنی بینچ کی جانب سے 16 فروری 2023 کو ایک کیس میں آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت از خود نوٹس لینے کی درخواست کی گئی تھی‘۔

    نوٹس میں کہا گیا کہ انتخابات میں تاخیر کے حوالے سے سپریم کورٹ میں مزید درخواستیں بھی دائر کردی گئی ہیں۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے معاملے پر از خود نوٹس کی سماعت کے لیے 9 رکنی لارجز بینچ تشکیل دیا ہے، جس میں سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود شامل نہیں ہیں۔

    یاد رہے کہ 12 جنوری کو وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے سمری پر دستخط کر دیے تھے۔

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے وزیراعلیٰ کی جانب سے ارسال کی گئی سمری پر دستخط نہیں کیے تھے، جس کے بعد صوبائی اسمبلی 48 گھنٹوں میں از خود تحلیل ہوگئی تھی۔

    بعدازاں 18 جنوری کو گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے وزیر اعلیٰ محمود خان کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے سے متعلق ارسال کی گئی سمری پر دستخط کیے تھےدونوں اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے نئے انتخابات کے لیے تاریخ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

    پی ٹی آئی نے 27 جنوری کو پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دینے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو تاریخ کا فوری اعلان کرنے کا حکم دیا تھا۔

    بعد ازاں الیکشن کمیشن نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن سے صوبائی اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے مشاورت کی تھی تاہم اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا تھا، گورنر پنجاب نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر اپیل دائر کی تھی اور اس کے بعد الیکشن کمیشن نے بھی انٹراکورٹ اپیل دائر کر دی تھی۔

    دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور گورنر خیبر پختونخوا کو صوبائی اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ طے کرنے کا حکم دینے سے متعلق درخواستوں پر ای سی پی سے الیکشن شیڈول طلب کرلیا تھا۔