Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • عوام کرپشن سے پاک حکومت چاہتے ہیں، تمام مسائل کا حل عوام کے فیصلے ہی سے ممکن ہے،چیف جسٹس

    عوام کرپشن سے پاک حکومت چاہتے ہیں، تمام مسائل کا حل عوام کے فیصلے ہی سے ممکن ہے،چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ملک میں تمام مسائل کا حل عوام کے فیصلے ہی سے ممکن ہے۔

    باغی ٹی وی: نیب قوانین میں ترامیم کے کیس میں دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ملک میں تمام مسائل کا حل عوام کے فیصلے سے ہی ممکن ہے،موجودہ حکومت کے قیام کو 8 ماہ ہو چکے ہیں،موجودہ پارلیمنٹ دانستہ طور پر نامکمل رکھا گیا ہے،موجودہ پارلیمنٹ سے ہونے والی قانون سازی بھی متنازع ہو رہی ہے- الیکشن کمیشن نے اسپیکر رولنگ کیس میں کہا تھا کہ نومبر 2022ء میں عام انتخابات کرانے کے لیے تیار ہوں گے۔

    سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے نیب ترامیم پر عمران خان کے حق دعویٰ نہ ہونے پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت آرٹیکل 184 تھری پر محتاط رہے اس کے تحت کسی بھی درخواست پر قانون سازی کالعدم قرار دے گی تو معیار گر جائے گا۔ آرٹیکل 184 تھری کا اختیار عوامی معاملات میں ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ موجودہ کیس کے حقائق مختلف ہیں۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ نے نیب ترامیم چیلنج کی ہیں۔ ملک میں شدید سیاسی تناؤ اور بحران ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے پہلے پارلیمنٹ چھوڑنے کی حکمت عملی اپنائی۔ پی ٹی آئی نے پتا نہیں کیوں پھر پارلیمنٹ میں واپس آنے کا بھی فیصلہ کر لیا۔

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ درخواست گزار عمران خان کوئی عام شہری نہیں ہیں۔ عمران خان کے حکومت چھوڑنے کے بعد بھی بڑی تعداد میں عوام کی پشت پناہی حاصل رہی ہے۔ عدالت بھی قانون سازی میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی۔ عدالت نے کوئی ازخود نوٹس نہیں لیا بلکہ نیب ترامیم کے خلاف درخواست آئی ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت اس سے پہلے بھی ایک بار اپنے فیصلے پر افسوس کا اظہار کر چکی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایک ہی وزیراعظم آئے تھے، جو بہت دیانت دار سمجھے جاتے تھے۔ ایک دیانت دار وزیراعظم کی حکومت 58 ٹو بی کے تحت ختم کی گئی تھی آرٹیکل 58 ٹو بی ڈریکونین لا تھاعدالت نے 1993ء میں قراردیا کہ حکومت غلط طریقےسے گئی لیکن اب انتخابات ہی کرائے جائیں اب عمران خان اسمبلی میں نہیں ہیں اور نیب ترامیم جیسی قانون سازی متنازع ہو رہی ہے۔ اس کیس میں عمران خان کا حق دعویٰ ہونے یا نہ ہونے کا معاملہ نہیں بنتا۔

    وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ سیاسی بازی ہارنے کے بعد کوئی شخص پارلیمان سے نکل کر عدالت آیا ہو۔اس طرح سیاست کو عدلیہ میں اور عدلیہ کو سیاست میں دھکیلا گیا ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایک شخص جب اقلیت میں ہے اور اس کے حقوق متاثر ہوں گے تو وہ عدالت کے سوا کہاں جائے؟۔ جو بھی ضروری ہے اس کا فیصلہ عوام کو کرنے دیں۔

    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ انتخابات سے قبل قانون میں وضاحت ضروری ہے۔ پارلیمنٹ چھوڑنے کے بعد ملک میں انتخابات کے لیے ہر کسی کو ایک سے زائد نشست پر انتخابات لڑنے کا حق حاصل ہے۔ بھارت میں ایک شخص کو ایک ہی نشست پر انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ہے۔ ایک سے زیادہ نشست سے انتخابات لڑنے سے ہار یا جیت کی صورت میں عوامی پیسے کا ضیاع ہوتا ہے۔

    چیف جسٹس نے دوران سماعت کہا کہ ذوالفقار بھٹو نے ایک سے زائد سیٹ پر انتخابات لڑے تھے۔ بلا مقابلہ نشست جیتی تو باقی انتخابات معمول کے مطابق ہوئے تھے۔

    وکیل نے کہا کہ یہ 1970ء سے پہلے کا معاملہ تھا۔ عوام نے بھٹو کے بلا مقابلہ جیتنے کی بھاری قیمت ضیا کے 11 سالوں کی صورت میں اتاری تھی۔ ایک عدالت جمہوریت نہیں بچا سکتی۔

    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ 40 سال پہلے ایک بین الاقوامی اخبار میں آرٹیکل لکھا گیا۔ آرٹیکل کے مطابق لوگ سیاستدانوں کو اپنی پہچان چاہتے ہیں نہ ہی ججز سے حکومت کرانا۔عدالت حکومت نہ کرے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کوئی حکومت کرنا نہیں چاہتی۔ عدالت ازخود نوٹس کے اختیار میں محتاط رہی ہے۔ سیاسی خلا عوام کے لیے کٹھن ہوتا ہے۔ جب سیاسی بحران پیدا ہوتا ہے تو عدالت کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔ عوام کرپشن سے پاک حکومت چاہتے ہیں۔

  • سپریم کورٹ نے محکمہ جنگلات  سندھ سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی

    سپریم کورٹ نے محکمہ جنگلات سندھ سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے محکمہ جنگلات سندھ سے 4 ہفتوں میں تفصیلی رپورٹ طلب کر لی-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن نے محکمہ جنگلات سندھ کے خلاف درخواست پر سماعت کی، سپریم کورٹ نے جنگلات اراضی کی نشاندہی کرنے والی نجی کمپنی کے نمائندوں کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا-

    سپریم کورٹ نے درخواست گزاروں سے محکمہ جنگلات سندھ کی رپورٹ پر جواب بھی طلب کرلیا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ جنگلات اراضی کی نشاندہی میں ڈیڑھ سال کا عرصہ لگنا سمجھ سے بالاتر ہے-

    ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ محکمہ جنگلات نے عبوری رپورٹ جمع کروائی ہے، تفصیلی رپورٹ کیلئے رواں سال دسمبر تک کا وقت دیا گیا ہے-

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سےسوال کیا کہ کیا سیٹلائٹ اتنا آہستہ چلتا ہے ؟جون 2022 سے سیٹلائٹ ایمجز ہی نہیں بن پارہے-

    ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ رقبہ زیادہ ہونے کی وجہ سے رپورٹس میں تاخیر ہو رہی ہیں-

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ محکمہ جنگلات 4 ہفتے میں تفصیلی رپورٹ پیش کرے،عدالت نے محکمہ جنگلات سے درخواست گزار کے الزامات پر بھی جواب طلب کر لیا اور سماعت 4 ہفتوں تک ملتوی کر دی-

  • سپریم کورٹ نےعدالتی وقت ضائع کرنے پر وزارت خزانہ کے سابق ملازمین پرجرمانہ عائد کر دیا

    سپریم کورٹ نےعدالتی وقت ضائع کرنے پر وزارت خزانہ کے سابق ملازمین پرجرمانہ عائد کر دیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے غیر ضروری مقدمہ دائر اور عدالتی وقت ضائع کرنے پر وزارت خزانہ کے سابق ملازمین پر جرمانہ عائد کر دیا-

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں 2015کےبعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین کی پنشن کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے درخواست پر سماعت کی-

    پنجاب الیکشن کی تاریخ سےمتعلق درخواست، گورنر پنجاب کی طرف سے تحریری جواب عدالت میں جمع

    سماعت کے دوران سابق ملازمین نے کہا کہ 2015 کےبعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین کی پنشن غیر قانونی طور پر بڑھائی گئی،-

    چیف جسٹس عمر عطابندیال نے استفسار کیا کہ کیا کسی کے غلط کام پر عدالت آپ کے لیے بھی غلط حکم جاری کرے؟ کیا جن ملازمین کے خلاف آپ نے کیس دائر کیا انہیں فریق بنایا؟-

    سابق ملازمین وزارت خزانہ نے کہا کہ ہم سارے ریٹائرڈ ملازمین کو فریق نہیں بناسکتے-

    چیف جسٹس نے کہا کہ سارے ریٹائرڈ ملازمین کو فریق اس لیے نہیں بناسکتے کیونکہ آپ غلط استدعا کررہے ہیں, چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سابق ملازمین سے استفسار کیا کہ عدالتی وقت ضائع کرنے پر کتنا جرمانہ کریں؟-

    سابق ملازمین وزارت خزانہ نے کہا کہ معاف کردیں، آئندہ غیر ضروری مقدمہ دائر نہیں کریں گے-

    چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست گزاروں کو ایک ایک لاکھ روپےجرمانہ کرنا تھا لیکن ایک، ایک ہزار کررہے ہیں-

    بعدازاں سپریم کورٹ نے 2015 سے پہلے اور بعد کے ریٹائر ملازمین کی پنشن میں تفریق کے خلاف کیس خارج کردیا-

  • نیب ترامیم کے بعد کرپشن الزام پر ریفرنسز کی واپسی کی تفصیلات عدالت میں جمع

    نیب ترامیم کے بعد کرپشن الزام پر ریفرنسز کی واپسی کی تفصیلات عدالت میں جمع

    پی ٹی آئی دور میں نیب ترامیم کے بعد کرپشن الزام پر ریفرنسز کی واپسی ،نیب نے ریفرنسز سے متعلق تفصیلات سپریم کورٹ میں جمع کرا دیں

    سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2019سے جون 2022 تک 50نیب ریفرنسز واپس ہوئے،راجہ پرویز اشرف کیخلاف 9 نیب ریفرنسز پی ٹی آئی دور میں واپس ہوئے ،یوسف رضا گیلانی کیخلاف پی ٹی آئی دور میں 2 نیب ریفرنسز واپس ہوئے،شوکت ترین کیخلاف پی ٹی آئی دور میں 2 نیب ریفرنسز واپس ہوئے شوکت ترین پر بطور شریک ملزم اختیارات کے غلط استعمال کا الزام تھا،جاوید حسین سابق رکن اسمبلی گلگت بلتستان کیخلاف نیب ریفرنس واپس ہوا، لیاقت علی جتوئی کیخلاف نیب ریفرنس بھی پی ٹی آئی دور میں واپس ہوا،مہتاب احمد خان کیخلاف نیب ریفرنس بھی پی ٹی آئی دور میں واپس ہوا،سابق وزیر صحت گلگت بلتستان گلبہار خان کیخلاف بھی نیب ریفرنس واپس ہوا، فرزانہ راجہ کیخلاف نیب کا بنایا گیا ریفرنس پی ٹی آئی دور میں واپس ہوا آصف زرداری کیخلاف نیب کا بنایا گیا ،ریفرنس پی ٹی آئی دور میں واپس ہوا،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی ،سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر سزائے موت کے قانون کو ختم کر کے عمر قید کر دیا جائے تو کیا مجرمان کی سزا بدل جائے گی؟ وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم سے حدود آرڈیننس کے تحت ہونے والی سزاوں کی نوعیت تبدیل ہوئی تھی،حدود آرڈیننس کے تحت غیر انسانی سزاوں کا سلسلہ رکا،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نیب ترامیم بنیادی حقوق کے سوا باقی آئینی شقوں سے متصادم ہونے پر کالعدم ہو سکتی ہیں؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی کوئی نیا قانون پہلے سے موجود آئینی شقوں سے متصادم ہو تو کالعدم ہو سکتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا سپریم کورٹ کسی قانون سازی کے پیچھے ممبران پارلیمنٹ کی نیت کا تعین کر سکتی ہے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ کئی فیصلوں میں کہا گیا کہ کسی پر بدنیتی کا الزام لگانا سب سے آسان اور ثابت کرنا اتنا ہی مشکل ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ نیب ترامیم سے استفادہ ایک مخصوص طبقے نے حاصل کیا ہے؟ وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ نیب ترامیم سب کیلئے ہیں، ان سے کسی مخصوص طبقے کو فائدہ نہیں پہنچا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے عدالت اس نتیجے پر پہنچے کہ نیب ترامیم سے فائدہ ان ہی کو ہوا جو حکومت میں ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقننہ نے عدلیہ کو کسی بھی قانون کو کالعدم قرار دینے کے وسیع اختیارات دے رکھے ہیں،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی سپریم کورٹ نے نیب ترامیم سے ختم یا متعلقہ فورم پر منتقل ہونے والے کیسز کی ایک بار پھر تفصیلات مانگ لیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم سے کتنے کیسز کا فیصلہ ہوا اور کتنے واپس ہوئے تفصیلات جمع کرائیں،اس تاثر میں کتنی سچائی ہے کہ نیب ترامیم سے کوئی کیسز ختم یا غیر موثر ہوئے؟ اسپیشل نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ نیب ترامیم سے کوئی نیب کیس ختم نہیں ہوا، نیب نے کسی کیس میں پراسیکیوشن ختم نہیں کی، کچھ نیب کیسز ترامیم کے بعد صرف متعلقہ فورمز پر منتقل ہوئے ہیں

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • سپریم کورٹ نے ایرا سے زلزلہ متاثرین کیلئے فنڈز کی تفصیلات طلب کرلیں

    سپریم کورٹ نے ایرا سے زلزلہ متاثرین کیلئے فنڈز کی تفصیلات طلب کرلیں

    نیو بالاکوٹ سٹی زلزلہ متاثرین کیس ،سپریم کورٹ نے چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا آئندہ سماعت پر طلب کر لئے

    سپریم کورٹ نے سیکریٹری ریلیف ورک کو بھی آئندہ سماعت پر طلب کر لیا سپریم کورٹ نے ایرا سے زلزلہ متاثرین کیلئے فنڈز کی تفصیلات طلب کرلیں، سپریم کورٹ نے استفسار کیا کہ زلزلہ زدہ علاقوں متاثرین کی بحالی کی کتنی رقم اکھٹی ہوئی؟قومی و بین الاقوامی سطح سے حاصل فنڈز سے کتنی رقم خرچ ہوئی؟ایرا بتائے کہ زلزلہ متاثرین کے فنڈز میں باقی کتنی رقم موجود ہے؟ زلزلہ متاثرین کی باقی فنڈز کس ادارے کے پاس ہیں؟چیف سیکریٹری بھی زلزلہ متاثرین کے فنڈز سے متعلق الگ تحریری جواب دیں،

    ڈائریکٹر ایرا نے عدالت میں کہا کہ ایرا نے بالاکوٹ مانسہرہ میں متاثرین کی آباد کاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے 205 بلین خرچ کیے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ڈائریکٹر ایرا سے سوال کیا کہ کیا 205 ارب کی خرچ رقم کا آڈٹ ہوا؟ ایرا اپنی رپورٹ کیساتھ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ بھی جمع کرائے،پاکستان میں زلزلہ 2005 میں آیا،متاثرین کی بحالی کیلئے 18 سال سے دائرے میں گھوم رہے ہیں،زلزلہ متاثرین کو نیو بالاکوٹ سٹی کا سبز باغ دکھایا گیا، زلزلہ متاثرین کے فنڈز کدھر گئے اور کہاں خرچ ہوئے؟ جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کردی

    آپ سپریم کورٹ میں کھڑے ہو کر ایسی بات نہیں کر سکتے،چیف جسٹس

    مندر جلائے جانے کے واقعے میں فرائض سے غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کو ملی سزا

    اقلیتوں کے حقوق،سپریم کورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

    وزیراعظم کی اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے فنڈز جاری کرنے کی ہدایت

    اگر یہ مندر ہوتا ۔۔۔ لیکن یہ تو مسجد ہے ، تحریر: محمد عاصم حفیظ

    مندر گرا دیا اگر مسجد گرا دی جاتی تو کیا ردعمل سامنے آتا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

    @MumtaazAwan

    مندر کی تعمیر کے خلاف مزید دو درخواستیں، عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    تاریخی ہندو مندر مسماری کا معاملہ،ن لیگ اور جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں پر مقدمہ درج،گرفتاریاں شروع

  • اسلامی نظریاتی کونسل کیخلاف درخواست پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    اسلامی نظریاتی کونسل کیخلاف درخواست پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    سپریم کورٹ نے اسلامی نظریاتی کونسل کیخلاف آئینی درخواست خارج کردی

    سپریم کورٹ میں اسلامی نظریاتی کونسل کیخلاف آئینی درخواست پر سماعت ہوئی وکیل خواجہ احمد حسین نے اسلامی نظریاتی کونسل کی تحلیل کیلئے درخواست دائر کی تھی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے درخواست پر سماعت کی۔

    دوران سماعت وکیل درخواست گزارنے عدالت میں کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی کوئی آئینی حیثیت ہے نہ اتھارٹی .اسلامی نظریاتی کونسل اپنی فائنل رپورٹ 1996 میں پارلیمنٹ کو دے چکی آرٹیکل 230(4 )کے تحت کونسل نے ملکی قوانین کا اسلامی تعلیمات میں جائزہ لینا تھا پارلیمنٹ میں حتمی رپورٹ کے بعد کونسل کو تحلیل ہونا چاہئے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے ملکی قوانین کا جائزہ لے کررپورٹ دی کونسل نے ماضی کے قوانین کا اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جائزہ لیا، مستقل کے قوانین کا جائزہ لینے کیلئے اسلامی نظریاتی آئینی باڈی ہے ،

    وکیل نے عدالت میں کہا کہ مستقل کے قوانین کی شرعی حیثیت کا جائزہ اب وفاقی شرعی عدالت لے سکتی ہے .دورام سماعت جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے وجود سے کون سے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں عدالت نے درخواست گزار کو سننے کے بعد درخواست خارج کردی

    مبارک ہو، نور مقدم کی روح کو سکون مل گیا، مبشر لقمان جذباتی ہو گئے

    مبشرلقمان آپ نے قوم کی مظلوم مقتولہ بیٹی کےلیےآوازبلند کی:ڈرنا نہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں:ٹاپ ٹویٹرٹرینڈ 

    :نورمقدم کی مظلومیت کیوں بیان کی: ظاہر جعفر کے دوست ماہر عزیز کے وکیل نے مبشرلقمان کونوٹس بھجوا دیا

    نور مقدم قتل کیس،فیصلہ آ گیا،مرکزی ملزم سفاک ظاہر جعفر کو سزائے موت کا حکم

    نور مقدم کیس زندہ رکھنے پر مبشر لقمان کا شکریہ، جویریہ صدیق

    آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

    انسانیت کے ضمیرپرلگے زخم شاید کبھی مندمل نہ ہوں،مریم نواز

  • سپریم کورٹ پرنسپل سیٹ اسلام آباد کیلئے آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ پرنسپل سیٹ اسلام آباد کیلئے آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری

    باغی ٹی وی: روسٹر کے مطابق آئندہ ہفتے پرنسپل سیٹ پر پانچ بینچ مقدمات کی سماعت کریں گے،بینچ ایک چیف جسٹس عمر عطا بندیال،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل ہوگا-

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نےپنجاب میں انتخابات کی تاریخ سے متعلق گورنرپنجاب کے خط کا جواب دے دیا

    روسٹر کے مطابق بینچ دو میں جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہوں گے جبکہ بینچ تین جسٹس سردار طارق،جسٹس امین الدین اور جسٹس سید حسن اظہر رضوی پر مشتمل ہوگا-

    پنجاب پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلے

    اسی طرح بینچ چار میں جسٹس اعجازالاحسن،جسٹس منیب اختر اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی شامل ہوں گے جبکہ بینچ پانچ جسٹس منصور علی شاہ،جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل ہوگا-

  • ریلوے کا بزنس پلان قابل عمل ہے یا نہیں،عدالت فیصلہ نہیں کر سکتی،سپریم کورٹ

    ریلوے کا بزنس پلان قابل عمل ہے یا نہیں،عدالت فیصلہ نہیں کر سکتی،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے ریلوے کو زمین لیز کرنے کیلئے وفاقی حکومت سے رجوع کرنے کا حکم دے دیا

    دوران سماعت سپریم کورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلوے غیراستعمال شدہ زمین کیلئے قانونی ریگولیٹری نظام وضع کرے ریلوے زمین کو استعمال کرنے کیلئے وفاقی حکومت اور پارلیمنٹ سے رجوع کرے ایک لاکھ 69 ہزار ایکڑمیں سے ریلوے آپریشنز کیلئے ایک لاکھ 26 ہزار ایکڑ اراضی استعمال ہو رہی ہے یلوے کی 16 ہزار ایکڑ اراضی توسیع منصوبوں کیلئے رکھی گئی ہے ریلوے نے 10 ہزار ایکڑاراضی ریونیو کیلئے لیز پر دے رکھی ہے سپریم کورٹ نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریلوے کا بزنس پلان قابل عمل ہے یا نہیں، عدالت فیصلہ نہیں کر سکتی

    نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر پرویز مشرف واپس آنا چاہیں تو حکومت کو چاہیے کہ ان کو تمام تر سہولیات فراہم کرے

    ویلکم بیک پرانا پاکستان،ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے،بلاول

    عمران خان کے سابق وزیراعظم ہونے کے بعد استعفوں کی لائنیں لگ گئیں

    بے جا لوگوں کو جیلوں میں نہیں بھجوائیں گے لیکن قانون اپنا راستہ لے گا،شہباز شریف

    قبل ازیں سپریم کورٹ نے ریلوے ملازم کی بنیادی تنخواہ میں 75 روپے اضافے کی اپیل خارج کردی۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ریلوے ملازم کی تنخواہ میں اضافے کے کیس پر سماعت کی جس دوران چیف جسٹس نے اپیل زائد المعیاد قرار دے کر خارج کردی۔ریلوے ملازم غیاث کی درخواست پر سماعت میں عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے مکالمہ کیا آپ کے مؤکل نے تنخواہ میں 75 روپے کا اضانہ نہ ملنے پر اپیل دائرکی جس کے مطابق 1983 میں ان کی بنیادی تنخواہ میں75 روپے اضافہ ہوناچاہیے تھا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کا مؤکل اپیل دائر کرنے میں 20 سے 25 سال سوچتا رہا، مؤکل کی ٹریبونل میں اپیل زائد المعیاد تھی، سپریم کورٹ میں بھی آپ کی اپیل زائد المعیاد ہے۔ بعد ازاں عدالت نے ریلوے ملازم کی بنیادی تنخواہ میں 75 روپے اضافے کی اپیل خارج کردی

  • میں خود تھل کا ہوں لیہ میں اتنے حالات خراب نہیں جتنے آپ بتارہی ہیں،چیف جسٹس

    میں خود تھل کا ہوں لیہ میں اتنے حالات خراب نہیں جتنے آپ بتارہی ہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ نے لیہ کی زمین کا کیس فریقین راولپنڈی میں ہونے کی بنیاد پر منتقل کرنے کی استدعا مسترد کر دی

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی فرد کی سہولت کیلئے قانون تبدیل نہیں ہو سکتا، قانون سب کیلئے برابر ہے،طاہرہ کلیم نے استدعا کی کہ بھائی کے ساتھ لیہ کی زمین کا تنازعہ ہے سب راولپنڈی میں رہتے ہیں مقدمہ یہاں منتقل کردیں،لیہ بہت دور ہے کوئی ایئرپورٹ نہیں بہت ویران راستہ ہے ہر تاریخ پر جانا ممکن نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں خود تھل کا ہوں لیہ میں اتنے حالات خراب نہیں جتنے آپ بتارہی ہیں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فریقین کی سہولت کیلئے ان کے گھر کے پاس مقدمات منتقل کرنا شروع کردیئے تو نیا پینڈورا باکس کھل جائے گا،سول قانون میں واضح لکھا ہے کہ جس جگہ پراپرٹی کا تنازعہ ہوگا مقدمہ وہیں چلے گا، پارلیمنٹ نے قانون بنادیا عدالت قانون تبدیل نہیں کرسکتی، سول مقدمہ ہے ہر تاریخ پر فریقین کا جانا ضروری نہیں ہوتا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر فریقین چاہیں تو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتی کاروائی کا حصہ بن سکتے ہیں،چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی

    دوسری جانب سپریم کورٹ نے شہری کو غیر قانونی حراست میں رکھنے پر پنجاب پولیس کے افسر کی برطرفی درست قراردے دی،سپریم کورٹ نے سی آئی اے لاہور پولیس کے افسر لیاقت علی کی برطرفی کیخلاف اپیل مسترد کردی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس افسر کا شہری کو 3 دن تک غیر قانونی حراست میں رکھنا مس کنڈکٹ ہے، پولیس افسر کے خلاف محکمہ نے انکوائری کی اور مس کنڈکٹ کا ذمہ دار قرار دیا،عدالت پولیس انکوائری میں مداخلت نہیں کرسکتی،

    دھویں دار مخبریاں، عمران خان نے اپنا کباڑہ کر لیا، نواز شریف کیلیے بری خبر

    احتساب سب کا ہو گا،وقت دیتے ہیں، ذمہ داران کا تعین کر کے عدالت کو بتائیں، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اہم پوسٹوں پر سیاسی مداخلت ناقابل برداشت ہے،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے ریمارکس

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    سپریم کورٹ،محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت سے تبادلے،آٹھ سالوں کا ریکارڈ طلب

  • گزشتہ ماہ میں لاپتہ افراد کے حوالے سے 91 مقدمات دائر،عدالت میں رپورٹ پیش

    گزشتہ ماہ میں لاپتہ افراد کے حوالے سے 91 مقدمات دائر،عدالت میں رپورٹ پیش

    لاپتہ افراد انکوائری کمیشن نے پیشرفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی

    رپورٹ میں 31 جنوری تک دائر اور نمٹائے گئے مقدمات کی تفصیلات شامل ہے، رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ میں لاپتہ افراد کے حوالے سے 91 مقدمات دائر ہوئے،31جنوری تک 9 ہزار 294 مقدمات دائر کیے گئے، لاپتہ افراد کمیشن کے پاس 2256 مقدمات زیر التوا ہیں،گزشتہ ماہ 37 مقدمات نمٹائے گئےجنوری کے دوران 27 لاپتہ افراد کو ٹریس کیا گیا، گزشتہ ماہ 24 لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا گیا،تین افراد مختلف مقدمات کی وجہ سے جیلوں میں ہیں،دس مقدمات لاپتہ افراد سے متعلق نہ ہونے پر نمٹائے گئے، جنوری کے دوران مقدمات میں 77 مقدمات بلوچستان سے متعلق ہیں،

    عمران خان لاپتہ، کیوں نہ نواز شریف کیخلاف مقدمے کا حکم دوں، عدالت کے ریمارکس

    لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگا تو تنخواہ بند کر دیں گے، عدالت کا اظہار برہمی

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    واضح رہے کہ لاپتہ افراد کیس میں ایک گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے جبری گمشدگی کیا ہوتی ہے؟ جبری گمشدگی سے مراد ریاست کے کچھ لوگ ہی لوگوں کو زبردستی غائب کرتے ہیں، جس کا پیارا غائب ہو جائے ریاست کہے ہم میں سے کسی نے اٹھایا ہے تو شرمندگی ہوتی ہے، ریاست تسلیم کرچکی کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے،انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی جس کے ساتھ ہوتی ہے وہی جانتا ہے، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے، اگر آپ ان چیزوں کو کھولیں گے تو شرمندگی ہو گی