Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپرٹیکس کیس:وفاقی حکومت اورایف بی آر کو سپریم کورٹ سے ریلیف مل گیا

    سپرٹیکس کیس:وفاقی حکومت اورایف بی آر کو سپریم کورٹ سے ریلیف مل گیا

    سپر ٹیکس کیسز میں وفاقی حکومت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر ) کو سپریم کورٹ سے ریلیف مل گیا۔

    باغی ٹی وی: سپر ٹیکس سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلےکے خلاف وفاقی حکومت اور ایف بی آر کی اپیلوں پر سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی،سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت اور ایف بی آر کی اپیلوں پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے تمام فریقین کو 4 فیصد سپرٹیکس ادا کرنےکا حکم دے دیا۔

    مختلف انڈسٹریز نے گزشتہ سال بجٹ میں عائد سپر ٹیکس کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ سندھ ہائیکورٹ نے گزشتہ سال سے دس فیصد سپر ٹیکس کی وصولی کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

    وفاقی حکومت اور ایف بی آر نے سپر ٹیکس کی وصولی کے لئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جو منظور کرلی گئی اور چار فیصد سپر ٹیکس ادا کرنے کا حکم دے دیا گی-

    سپر ٹیکس کیا ہے؟

    یہ ایک خاص ٹیکس ہوتا ہے اور عمومی ٹیکس کے اوپر لگایا جاتا ہے،یہ ٹیکس حالات کو دیکھ کر لگایا جاتا ہے اور ایمرجنسی کی صورت میں کوئی بھی حکومت ہنگامی اقدامات کے تحت اسے عائد کر سکتی ہے،پاکستان میں اس سے پہلے 2010 میں بھی سپر ٹیکس عائد کیا گیا تھا جب سیلاب آیا تھا تاہم حالیہ سپر ٹیکس کا زیادہ فائدہ نہیں ہو گا۔‘

    معاشی ماہرین کے مطابق سپر ٹیکس ایک ایسا ٹیکس ہوتا ہے جو حکومتیں اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے آمدن پر ایک اضافی طور پر لگاتی ہیں۔ شہریوں یا ایک خاص طبقے پر لگائے جانے والے اضافی ٹیکسوں کے بعد ان کی ٹیکس کی مد میں آنے والی آمدن کے اوپر کچھ فیصد کا مزید ٹیکس سپر ٹیکس کے زمرے میں آتا ہے۔

    سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے جون 2022 میں قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا تھا کہ تمام سیکٹرز پر 4 فیصد اور 13 مخصوص سیکٹرز پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگایا گیا ہے جس کے بعد ان سیکٹرز پر ٹیکس 29 فیصد سے 39 فیصد ہو جائےگایہ ٹیکس صرف ون ٹائم یعنی ایک مالی سال کے لیے لگایا گیا ہے اور اس کے ذریعے سابقہ چار ریکارڈ بجٹ خساروں کو کم کیا جائے گا

    اس سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف نے معاشی ٹیم کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ عام آدمی کو ٹیکس سےبچانے کے لیے صنعتوں پرٹیکس لگایا ہے، سیمنٹ، اسٹیل، شوگرانڈسٹری، آئل اینڈگیس، ایل این جی ٹرمینل، فرٹیلائزر، بینکنگ، ٹیکسٹائل، آٹوموبائل، کیمیکل، بیوریجز اور سگریٹ انڈسٹری پر بھی 10 فیصد سپر ٹیکس لگے گا۔

    انہوں نے کہا تھا کہ سالانہ 15کروڑ روپے سے زائد آمدن کمانے والے پر ایک فیصد، 20 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن والے پر2 فیصد، 25 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن والے پر3 فیصد اور 30 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن والے پر4 فیصد ٹیکس لگایا جائے گا جو غربت میں کمی کا ٹیکس ہے۔

  • بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنانے والے ججوں پرنوازشات

    بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنانے والے ججوں پرنوازشات

    مودی سرکار کی غاصبانہ گرفت سے اب سپریم کورٹ بھی غیر محفوظ ہو گئی-

    باغی ٹی وی : مودی سرکار پسند کا فیصلہ سنانے والے ججوں کو نواز نے لگی،بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنانے والے ججوں پرنوازشات ،فیصلہ سنانے والے 5میں سے 3 ججوں کو ریٹائرمنٹ پر سرکاری عہدوں اور اعزازات سے نواز دیا گیا-

    پاک امریکا تعلقات میں کشیدگی کو کم کرنے کا مشن،امریکی وفد رواں ہفتے پاکستان کا دورہ کرے گا

    کچھ دن قبل ریٹائر ہونے والے سپریم کورٹ جج عبدالنذیر کو آندھرا پردیش کا گورنر نامزد کر دیا گیا قبل ازیں 2020میں چیف جسٹس سپریم کورٹ رانجن گوگوئی کو ریٹائرمنٹ پرعہدے دیئے گئے-

    چیف جسٹس سپریم کورٹ رانجن گوگوئی کو راجیہ سبھامیں خارجہ امور ، اطلاعات اور آئی کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا گیا تھا جبکہ نومبر 2021مین جسٹس اشوک بھوسان کو ریٹائر منٹ کے بعد نیشنل ایپلٹ ٹریبونل کا سربراہ مقرر کیا گیا-

    واضح رہے کہ نومبر 2019میں بابری مسجد کا فیصلہ سنایا گیا تھا،فیصلے میں بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد شہید کرنے کے واقعے کو درست قرار دیا تھا،بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی زمین پر رام مندر بنانے کا حکم دیا تھا-

    شہبازگل نےٹرائل کورٹ سے درخواست بریت مسترد ہونےکا فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

    متنازعہ فیصلہ سنانے والے 5 میں سے 3 ججوں پر نواز شات فیصلے کی غیرجانبداری اور شفافیت پر سوال اٹھاتے ہیں،عالمی میڈیا پہلے ہی بھارت میں بڑھتی شدت پسندی پر اضطراب کا شکار ہے،کیا انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بابری مسجد کے متنازعہ فیصلے کے خلاف آواز اٹھائیں گی؟،کیا عالمی انصاف کے ادارے بھارت میں انصاف کے گرتے پیمانوں پر آواز اٹھائیں گے؟-

  • ارشد شریف کیس:جے آئی ٹی نےتحقیقاتی دوسری پیشرفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی

    ارشد شریف کیس:جے آئی ٹی نےتحقیقاتی دوسری پیشرفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی

    اسلام آباد: سینیئر صحافی ارشد شریف قتل کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ نے سپریم کورٹ میں بیان دے دیا-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں ارشد شریف قتل از خود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نےکی ،دوران سماعت جے آئی ٹی نے کیس کی تحقیقات سے متعلق دوسری پیشرفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروادی، سپریم کورٹ کی جانب سے سربراہ جے آئی ٹی کی سرزنش کی گئی۔

    جسٹس مظاہرنقوی کا کہنا تھا کہ جو کام آپ کے ذمہ لگایا تھا وہ ہوا یا نہیں؟ کینیا سے قتل کے متعلق کوئی مواد ملا ہے یا نہیں؟ سربراہ جے آئی ٹی اویس احمد نے بتایا کہ کینیا میں حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ جسٹس مظاہر نقوی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہ کہانیاں نہ سنائیں، آپ کو شاید بات سمجھ نہیں آ رہی۔

    سربراہ جے آئی ٹی اویس احمد کا کہنا تھا کہ کینیا نے شواہد تک رسائی نہیں دی، ارشد شریف قتل کے حوالے سے کینیا سے کوئی ٹھوس مواد نہیں ملا،جسٹس مظاہر نقوی نےکہا کہ شواہد کی بات تو ٹرائل میں سامنے آئےگی، موادکیا جمع کیا ہے؟-

    جسٹس اعجاز الاحسن نےاستفسار کیا کہ ارشد شریف کا موبائل اور دیگر سامان کہاں ہے؟ اس پر سربراہ جے آئی ٹی نے بتایا کہ ارشد شریف کا موبائل اور آئی پیڈ کینیا کے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے پاس ہے، باقی سامان موصول ہوچکا ہے۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے استفسارکیا کہ جے آئی ٹی کے ارکان کہاں ہیں؟سربراہ جے آئی ٹی اویس احمد نے بتایا کہ تین ارکان عدالت میں موجود ہیں، اس پر جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ باقی ارکان کیوں نہیں آئے؟ کیا تفتیشی ٹیم کا کام نہیں پیش ہونا؟

    فواد چوہدری الیکشن کمیشن کیس: کیس کی اگلی تاریخ تفتیشی افسر کے پیش ہونے پر دیں…

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پوچھا کہ ارشد شریف قتل کیس کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کس نے پبلک کی؟ پتہ کریں کہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ پبلک کرنےکے پیچھے کون ملوث تھا، ارشد شریف قتل کیس کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ بغیر تصدیق کے پبلک کردی گئی، کیا کسی نے فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جان بوجھ کے پبلک کی؟ کیس سے متعلق پاکستان میں تحقیقات میں غلطیاں ہوئی ہیں۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کینیا نے ارشد شریف قتل کی تحقیقات میں تعاون نہیں کیا۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اگر کسی ملک سے تعلقات بہت اچھے نہ ہوں تو تحقیقات کے لیے تعاون کیسے حاصل کیا جاتا ہے؟

    چیف جسٹس نےکہا کہ کینیا آزاد ملک اور ہمارے دائرہ اختیار سے باہر ہے، جو بھی حالات ہوں دوسرے ملک کے بارے میں احترام سے بات کریں، عدالت جاننا چاہتی ہے کہ اسپیشل جے آئی ٹی کو اب تک کیا ملا ہے؟ اسپیشل جے آئی ٹی آئندہ کیا لائحہ عمل اختیار کرے گی؟ بتایا جائے ارشد شریف قتل کا قبل ازقت کسی پر الزام عائد نہیں کرسکتے، فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ آنے سے اب تک کچھ ایسا ہوا ہےکہ کینیا اب تعاون نہیں کر رہا، سپریم کورٹ ارشد شریف قتل کی تحقیقات کی سربراہی نہیں کر رہی۔

    خاتون جج دھمکی کیس: عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا مسترد

    جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ دفتر خارجہ کو کینیا کی وزارت خارجہ نے تعاون کی یقین دہانی کرائی، یقین دہانی کے باوجود کینیا میں اسپیشل جے آئی ٹی کو کیوں جانے نہیں دیا گیا؟

    جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ ارشد شریف قتل کے تین زاویے ہیں، ارشد شریف کو پاکستان سے بھاگنے پرکس نے مجبورکیا؟ ارشد شریف کے خلاف ملک بھر میں مقدمات کس نے درج کرائے؟ ارشد شریف کو ایسا کیا دکھایا گیا کہ وہ ملک سےچلےگئے؟ کڑیاں جڑیں گی توپتہ چل جائےگا کہ ارشد شریف سے جان کون چھڑوانا چاہتا تھا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے پوچھا کہ ارشد شریف کے ساتھ موجود خرم اور وقار کا بیان کیوں نہیں لیا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کینین حکام نے صرف ڈائریکٹر پبلک پراسیکیوٹر سے ملاقات کرائی،کینین حکام نے تعاون کی یقین دہانی کرائی لیکن جگہ کا دورہ نہیں کرنے دیا گیا،کینیا پر سفارتی ذرائع سے دباو ڈال رہے ہیں-

    جسٹس مظاہر نقوی کا کہنا تھا کہ کینیا کی پولیس جس کہانی پر تحقیقات کر رہی ہے وہ قابل قبول نہیں، ارشد شریف قتل پر جے آئی ٹی بنانےکی یہی وجہ تھی۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ارشد شریف پر مقدمات درج کرانےوالوں سے بھی تفتیش کررہے ہیں، بعض سرکاری افسران کے نام آئے، ان سے بھی تفتیش کی، ارشد شریف پر مقدمات کے پیچھے کون تھا ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے، ارشد شریف کی ٹوئٹس اور پروگرامزکا جائزہ لیا جا رہا ہے، کینیا کے حکام نے تعاون کی یقین دہانی کرائی لیکن جائے وقوعہ نہیں جانے دیا، کینیا پرسفارتی ذرائع سے دباؤ ڈال رہے ہیں-

    پی ایس ایل 8: سکیورٹی کے لیے فوج اور رینجرز تعینات کرنےکی منظوری

    جسٹس مظاہر نقوی کا کہنا تھا کہ عدالت کے ساتھ کھیل نہ کھیلیں، پہلا مرحلہ تو یہی تھا جو مکمل نہیں ہوسکا، کیا جے آئی ٹی کینیا اور یو اے ای میں تفریح کرنےگئی تھی؟-

    جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ اس معاملے پر اقوام متحدہ سےکیوں مدد نہیں لی جا رہی؟

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کینیا دوست ملک ہے اور ہرعالمی فورم پرپاکستان کی حمایت کرتا ہے، ایسا اقدام نہیں کرنا چاہتے کہ دوطرفہ اور عالمی تعاون کھودیں، فی الحال اقوام متحدہ کی مدد لینےکا وقت نہیں آیا۔

    ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ وزیر مملکت خارجہ امور کی کینیا کے وزیر خارجہ سے بات ہوئی ہے-

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کو خود دیکھنا ہوگا کہ آگے کیسے چلنا ہے، ارشد شریف کے اخراجات کون اور کیوں برداشت کر رہا تھا؟ کس کےکہنے پر اخراجات اٹھائے جا رہے تھے؟ سامنے کیوں نہیں آیا ؟ کئی ممالک کےشہریوں کا کیس ضلعی عدلیہ میں ہو تو ہمیں خط لکھا جاتا ہے، پاکستانی سفارت خانہ بھی نیروبی میں وکلا اور صحافیوں سے مدد لے، کینیا نےکیا تحقیقات کی ہیں؟ رپورٹ حاصل کرنےکی کوشش کریں،ایک ماہ کا وقت دیتے ہیں قتل کیس میں کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں رپورٹ دیں، کینیا میں وکیل کریں، اپنے قانونی حقوق کی معلومات لیں، جو کرنا ہے کریں لیکن حقائق تک پہنچیں۔

    عمران خان کے گھر سے دفتر تک سفری اخراجات شیلٹر ہومز سے 6 گنا زیادہ

    جسٹس محمد علی مظہر نے پوچھا کہ کیا پاکستان کا کینیا کے ساتھ باہمی قانونی تعاون کا سلسلہ فعال ہے یا نہیں؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سی این این کی صحافی اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہوئی،اسرائیل پر بین القوامی اتنا دباو ڈالا گیا کہ تحقیقات آگے بڑھانا پڑھیں،اگر اسپیشل جے آئی ٹی کو کوئی صحافی معلومات دے تو اس کے تحفظ کو بھی یقینی بنائیں-

    چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ اسپیشل جے آئی ٹی کا کینیا کا دورہ بے سود رہا،اسپیشل جے آئی ٹی جانے سے پہلے مکمل طور پر تیار نہیں تھی،کینیا پر الزام عائد کرنے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکیں-

    ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق نے کہا کہ اسپیشل جے آئی ٹی کی رپورٹ کی مصدقہ کاپی فراہم کی جائے، چیف جسٹس نے ارشد شریف کی اہلیہ سے مکالمے میں کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ آپ کو نہیں دے سکتے،جے آئی ٹی رپورٹ کے پبلک ہونے سے خدشات پیدا ہوتے ہیں،پہلے ہی کینیا میں موجود 2 بھائیوں سمیت تمام لوگ چھپ گئے ہیں-

    سپریم کورٹ نے ارشد شریف قتل کیس کی سماعت مارچ تک ملتوی کردی۔

    چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس

  • حکومت فارن کرنسی کی بیرون ملک اسمگلنگ کو روکنےکیلئےاقدامات کرے،سپریم کورٹ

    حکومت فارن کرنسی کی بیرون ملک اسمگلنگ کو روکنےکیلئےاقدامات کرے،سپریم کورٹ

    اسلام آباد:سپر ٹیکس کے نفاذ سے متعلق کیس کی سماعت میں سپریم کورٹ نے تمام متعلقہ مقدمات کو یکجا کر کے اگلے ہفتے مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، اس دوران ایف بی آر کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ سپر ٹیکس کیس میں لاہور ہائیکورٹ کا حتمی فیصلہ آ گیا ہےلاہور ہائیکورٹ نے حتمی فیصلے پر عملدرآمد 60 دن کے لیے معطل بھی کیا ہے۔ ٹیکس کیسز میں اکثر سپریم کورٹ 50 فیصد کمپنیوں کو جمع کرانے کا کہتی ہے۔

    کیا عوامی مفاد کا تعین عدالت میں بیٹھے 3 ججز نے کرنا ہے؟ سپریم کورٹ

    کمپنیوں کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے دلائل میں کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلےکے بعد ایف بی آر کی درخواستیں غیر موثر ہو چکیں، عدالت 50 فیصد سپر ٹیکس کی ادائیگی کاحکم نہیں دے سکتی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگلے ہفتے اس کیس کو مقرر کر دیتے ہیں۔ ایف بی آر سپر ٹیکس کیس میں اچھی نیت سے آیا ہے۔ معلوم ہے کہ شیل پاکستان پہلے ہی کروڑوں روپے کا ٹیکس ادا کرتا ہے۔

    ایف بی آر کے وکیل نے کہا کہ ابھی میں ایف بی آر کی وکالت کر رہا ہوں، ملک اگر دیوالیہ ہوا تو فیڈریشن کی نمائندگی بھی کروں گا-

    سپریم کورٹ شریف فیملی شوگر ملز کیخلاف کیس واپس لینے پر پنجاب حکومت پر برہم

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ایف بی آر سپر ٹیکس کیس میں اچھی نیت سے آیا ہے پاکستان دیوالیہ نہیں ہو رہا، روزانہ پاکستان سے 4 کروڑ ڈالر غیر قانونی طور پر باہر جارہے ہیں ہر ایک کو ملک کے مفاد کے لیے اپنے آپ کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، حکومت فارن کرنسی کی بیرون ملک اسمگلنگ کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔

    بعد ازاں عدالت نے سپر ٹیکس کے تمام مقدمات یکجا کر کے اگلے ہفتے مقرر کرنے کا حکم دیا اور سماعت 16 فروری تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ سپر ٹیکس کے خلاف شیل پاکستان سمیت کمپنیوں نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا اور لاہور ہائیکورٹ نے نجی کمپنیوں کو سپر ٹیکس ادائیگی میں چھوٹ دی تھی جس پر ایف بی آر نے لاہور ہائیکورٹ کا حکم سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے-

    چوہدری وجاہت حسین کے دو سیکرٹریز گرفتار

  • کیا عوامی مفاد کا تعین عدالت میں بیٹھے 3 ججز نے کرنا ہے؟ سپریم کورٹ

    کیا عوامی مفاد کا تعین عدالت میں بیٹھے 3 ججز نے کرنا ہے؟ سپریم کورٹ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت کی-

    باغی ٹی وی: جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ عوامی مفاد کا تعین کیا عدالت میں بیٹھے 3ججز نے کرنا ہے؟ کیا عوام نیب ترامیم کیخلاف چیخ و پکار کر رہی ہے؟ نیب ترامیم کونسے بنیادی حقوق سے متصادم ہے نشاندہی نہیں کی گئی، عمران خان کے وکیل اسلامی دفعات اور آئین کے بنیادی ڈھانچے کا ذکر کرتے رہے-

    ترکیہ پاکستان کا دوست ملک ہے ،مشکل میں تنہا نہیں چھوڑیں گے،وزیراعظم

    جسٹس منصور علی شاہ نے سماعت کے دوران استفسار کیا کہ عمران خان اور ان کی پارٹی نے نیب ترمیمی بل پر ووٹنگ سے اجتناب کیا، کیا ووٹنگ سے اجتناب کرنے والے کا عدالت میں حق دعویٰ بنتا ہے؟ کیا کوئی رکن اسمبلی پارلیمان کو خالی چھوڑ سکتا ہے؟ کیا پارلیمان میں کرنے والا کام عدالتوں میں لانا پارلیمنٹ کو کمزور کرنا نہیں ہے؟

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شا ہ نے ریمارکس دیے کہ استعفی منظور نہ ہونے کا مطلب ہے کہ اسمبلی رکنیت برقرار ہے، رکن اسمبلی حلقے کے عوام کا نمائندہ اور ان کے اعتماد کا امین ہوتا ہے۔کیا عوامی اعتماد کے امین کا پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرنا درست ہے؟ کیا قانون سازی کے وقت بائیکاٹ کرنا پھر عدالت آ جانا پارلیمانی جمہوریت کو کمزور کرنا نہیں؟۔

    وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عمران خان چاہتے تو نیب ترامیم کو اسمبلی میں شکست دے سکتے تھے، پی ٹی آئی کے تمام ارکان مشترکہ اجلاس میں آتے تو اکثریت میں ہوتے-

    چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ مشترکہ اجلاس میں شرکت کے نقطے پر عمران خان سے جواب لیں گے،کیا صرف بنیاد پر عوامی مفاد کا مقدمہ نہ سنیں کہ درخواست گزار کا کنڈکٹ درست نہیں تھا؟ہر لیڈر اپنےاقدامات کو درست کہنے کیلئے آئین کا سہارا لیتا ہے، پارلیمان کا بائیکاٹ کرنا پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی تھی،ضروری نہیں سیاسی حکمت عملی کا کوئی قانونی جواز بھی ہو،بعض اوقات قانونی حکمت عملی بھی سیاسی لحاظ سے بے وقوفی لگتی ہے پارلیمانی کارروئی کا بائیکاٹ دنیا بھر میں ہوتا ہے۔برصغیر میں تو بائیکاٹ کی تاریخ لمبی ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال اٹھایا کہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں کتنے ارکان نے نیب ترامیم کی منظوری دی؟جس پر وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے بتایا کہ بل منظوری کے وقت مشترکہ اجلاس میں 166 ارکان شریک تھے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ مشترکہ اجلاس میں ارکان کی تعداد 446 ہوتی ہے، یعنی آدھے سے کم لوگوں نے ووٹ دیا۔عدالت صرف بنیادی حقوق اور آئینی حدود پار کرنے کے نکات کا جائزہ لے رہی ہےدرخواست گزار نے نیب ترامیم عوامی مفاد اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر چیلنج کیں۔ عمران خان کے کنڈکٹ پر سوال تب اٹھتا اگر نیب ترامیم سے ان کو کوئی ذاتی فائدہ ہوتا۔ بظاہر درخواست گزار کا نیب ترامیم سے کوئی ذاتی مفاد منسلک نہیں لگتا۔

    شیخ رشید نے ضمانت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

    وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ ضروری نہیں ذاتی مفاد کے لیے ترامیم چیلنج ہوں درخواستگزار کو نیب ترامیم چیلنج کرنے سے سیاسی فائدہ بھی مل سکتا ہے، پی ٹی آئی نے استعفے نا منظور ہونے پر عدالت سے رجوع کیا، استعفے منظور ہونے پر بھی پی ٹی آئی عدالت میں آ گئی۔ عمران خان نے دانستہ طور پر پارلیمنٹ خالی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ شاید عمران خان کو معلوم تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں کامیاب نہیں ہو سکتے تو عدالت آ گئے۔ عمران خان سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی ہیں۔ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ کسی بھی مقدمے کی بنیاد حقائق پر ہوتی ہے، قیاس آرائیوں پر نہیں۔ عدالت قانون سازی کو برقرار یا کالعدم قرار دینے کے بجائے بغیر کسی فیصلے کے واپس بھی کر سکتی ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ اگر عدالت نیب قانون کالعدم قرار دے گی تو کل کیا کوئی بھی سپریم کورٹ میں قانون سازی چیلنج کر دے گا؟۔ ایک شخص نے نیب ترامیم چیلنج کیں، ممکن ہے اسی جماعت کے باقی ارکان ترامیم کے حق میں ہوں۔

    سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 14 فروری تک ملتوی کردی۔

    تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام نہیں،وکیل الیکشن کمیشن

  • سپریم کورٹ  شریف فیملی شوگر ملز کیخلاف کیس واپس لینے پر پنجاب حکومت پر برہم

    سپریم کورٹ شریف فیملی شوگر ملز کیخلاف کیس واپس لینے پر پنجاب حکومت پر برہم

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے شریف فیملی شوگر ملز کیخلاف کیس واپس لینے پر پنجاب حکومت پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے شریف فیملی کی شوگر ملوں کی کپاس کے علاقوں میں منتقلی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی۔

    تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام نہیں،وکیل الیکشن کمیشن

    پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ میں دائر درخواستیں واپس لینے کی استدعا کی جس پر سپریم کورٹ برہم ہوگئی جسٹس مظاہر علی اکبر نے استفسار کہ آپ کیس کیوں واپس لینا چاہتے ہیں ؟نمائندہ پنجاب انڈسٹریز اینڈ کامرس ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ شوگر ملوں کی منتقلی کا مسئلہ حل ہو چکا ہے، ملوں کو اجازت دے دی گئی۔

    جسٹس مظاہر علی اکبر نے استفسار کیا کہ کیس عدالت میں ہے تو مسئلہ کیسے حل ہوگیا؟ زیر التواء مقدمہ پر پنجاب حکومت کیسے خط لکھ کر واپس لے سکتی ہے، فوری اس خط کو واپس لیں۔

    عمران خان کےآئی ایم ایف سےکیےگئےمعاہدے پر شہبازحکومت عمل کررہی ہے ،اسحاق ڈار

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پنجاب حکومت اپنی استدعا کو طریقہ کار کے مطابق دائر کرے جائزہ لیں گے۔

    وکیل اشرف شوگر مل نے بتایا کہ شوگر ملوں نے تو اب کرشنگ شروع کردی ہے۔ وکیل جے ڈی ڈبلیو شوگر مل نے کہا کہ میں نے کیس میں کچھ دستاویزات لگائی ہیں، مجھے نئی درخواست کے جائزے کی اجازت دی جائے۔

    سپریم کورٹ نے وکیل کی استدعا پر کیس کی مزید سماعت 28 فروری تک ملتوی کردی۔

    ترکیہ پاکستان کا دوست ملک ہے ،مشکل میں تنہا نہیں چھوڑیں گے،وزیراعظم

  • عوام کرپشن سے پاک حکومت چاہتے ہیں، تمام مسائل کا حل عوام کے فیصلے ہی سے ممکن ہے،چیف جسٹس

    عوام کرپشن سے پاک حکومت چاہتے ہیں، تمام مسائل کا حل عوام کے فیصلے ہی سے ممکن ہے،چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ملک میں تمام مسائل کا حل عوام کے فیصلے ہی سے ممکن ہے۔

    باغی ٹی وی: نیب قوانین میں ترامیم کے کیس میں دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ملک میں تمام مسائل کا حل عوام کے فیصلے سے ہی ممکن ہے،موجودہ حکومت کے قیام کو 8 ماہ ہو چکے ہیں،موجودہ پارلیمنٹ دانستہ طور پر نامکمل رکھا گیا ہے،موجودہ پارلیمنٹ سے ہونے والی قانون سازی بھی متنازع ہو رہی ہے- الیکشن کمیشن نے اسپیکر رولنگ کیس میں کہا تھا کہ نومبر 2022ء میں عام انتخابات کرانے کے لیے تیار ہوں گے۔

    سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے نیب ترامیم پر عمران خان کے حق دعویٰ نہ ہونے پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت آرٹیکل 184 تھری پر محتاط رہے اس کے تحت کسی بھی درخواست پر قانون سازی کالعدم قرار دے گی تو معیار گر جائے گا۔ آرٹیکل 184 تھری کا اختیار عوامی معاملات میں ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ موجودہ کیس کے حقائق مختلف ہیں۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ نے نیب ترامیم چیلنج کی ہیں۔ ملک میں شدید سیاسی تناؤ اور بحران ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے پہلے پارلیمنٹ چھوڑنے کی حکمت عملی اپنائی۔ پی ٹی آئی نے پتا نہیں کیوں پھر پارلیمنٹ میں واپس آنے کا بھی فیصلہ کر لیا۔

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ درخواست گزار عمران خان کوئی عام شہری نہیں ہیں۔ عمران خان کے حکومت چھوڑنے کے بعد بھی بڑی تعداد میں عوام کی پشت پناہی حاصل رہی ہے۔ عدالت بھی قانون سازی میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی۔ عدالت نے کوئی ازخود نوٹس نہیں لیا بلکہ نیب ترامیم کے خلاف درخواست آئی ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت اس سے پہلے بھی ایک بار اپنے فیصلے پر افسوس کا اظہار کر چکی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایک ہی وزیراعظم آئے تھے، جو بہت دیانت دار سمجھے جاتے تھے۔ ایک دیانت دار وزیراعظم کی حکومت 58 ٹو بی کے تحت ختم کی گئی تھی آرٹیکل 58 ٹو بی ڈریکونین لا تھاعدالت نے 1993ء میں قراردیا کہ حکومت غلط طریقےسے گئی لیکن اب انتخابات ہی کرائے جائیں اب عمران خان اسمبلی میں نہیں ہیں اور نیب ترامیم جیسی قانون سازی متنازع ہو رہی ہے۔ اس کیس میں عمران خان کا حق دعویٰ ہونے یا نہ ہونے کا معاملہ نہیں بنتا۔

    وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ سیاسی بازی ہارنے کے بعد کوئی شخص پارلیمان سے نکل کر عدالت آیا ہو۔اس طرح سیاست کو عدلیہ میں اور عدلیہ کو سیاست میں دھکیلا گیا ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایک شخص جب اقلیت میں ہے اور اس کے حقوق متاثر ہوں گے تو وہ عدالت کے سوا کہاں جائے؟۔ جو بھی ضروری ہے اس کا فیصلہ عوام کو کرنے دیں۔

    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ انتخابات سے قبل قانون میں وضاحت ضروری ہے۔ پارلیمنٹ چھوڑنے کے بعد ملک میں انتخابات کے لیے ہر کسی کو ایک سے زائد نشست پر انتخابات لڑنے کا حق حاصل ہے۔ بھارت میں ایک شخص کو ایک ہی نشست پر انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ہے۔ ایک سے زیادہ نشست سے انتخابات لڑنے سے ہار یا جیت کی صورت میں عوامی پیسے کا ضیاع ہوتا ہے۔

    چیف جسٹس نے دوران سماعت کہا کہ ذوالفقار بھٹو نے ایک سے زائد سیٹ پر انتخابات لڑے تھے۔ بلا مقابلہ نشست جیتی تو باقی انتخابات معمول کے مطابق ہوئے تھے۔

    وکیل نے کہا کہ یہ 1970ء سے پہلے کا معاملہ تھا۔ عوام نے بھٹو کے بلا مقابلہ جیتنے کی بھاری قیمت ضیا کے 11 سالوں کی صورت میں اتاری تھی۔ ایک عدالت جمہوریت نہیں بچا سکتی۔

    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ 40 سال پہلے ایک بین الاقوامی اخبار میں آرٹیکل لکھا گیا۔ آرٹیکل کے مطابق لوگ سیاستدانوں کو اپنی پہچان چاہتے ہیں نہ ہی ججز سے حکومت کرانا۔عدالت حکومت نہ کرے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کوئی حکومت کرنا نہیں چاہتی۔ عدالت ازخود نوٹس کے اختیار میں محتاط رہی ہے۔ سیاسی خلا عوام کے لیے کٹھن ہوتا ہے۔ جب سیاسی بحران پیدا ہوتا ہے تو عدالت کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔ عوام کرپشن سے پاک حکومت چاہتے ہیں۔

  • سپریم کورٹ نے محکمہ جنگلات  سندھ سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی

    سپریم کورٹ نے محکمہ جنگلات سندھ سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے محکمہ جنگلات سندھ سے 4 ہفتوں میں تفصیلی رپورٹ طلب کر لی-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن نے محکمہ جنگلات سندھ کے خلاف درخواست پر سماعت کی، سپریم کورٹ نے جنگلات اراضی کی نشاندہی کرنے والی نجی کمپنی کے نمائندوں کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا-

    سپریم کورٹ نے درخواست گزاروں سے محکمہ جنگلات سندھ کی رپورٹ پر جواب بھی طلب کرلیا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ جنگلات اراضی کی نشاندہی میں ڈیڑھ سال کا عرصہ لگنا سمجھ سے بالاتر ہے-

    ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ محکمہ جنگلات نے عبوری رپورٹ جمع کروائی ہے، تفصیلی رپورٹ کیلئے رواں سال دسمبر تک کا وقت دیا گیا ہے-

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سےسوال کیا کہ کیا سیٹلائٹ اتنا آہستہ چلتا ہے ؟جون 2022 سے سیٹلائٹ ایمجز ہی نہیں بن پارہے-

    ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ رقبہ زیادہ ہونے کی وجہ سے رپورٹس میں تاخیر ہو رہی ہیں-

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ محکمہ جنگلات 4 ہفتے میں تفصیلی رپورٹ پیش کرے،عدالت نے محکمہ جنگلات سے درخواست گزار کے الزامات پر بھی جواب طلب کر لیا اور سماعت 4 ہفتوں تک ملتوی کر دی-

  • سپریم کورٹ نےعدالتی وقت ضائع کرنے پر وزارت خزانہ کے سابق ملازمین پرجرمانہ عائد کر دیا

    سپریم کورٹ نےعدالتی وقت ضائع کرنے پر وزارت خزانہ کے سابق ملازمین پرجرمانہ عائد کر دیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے غیر ضروری مقدمہ دائر اور عدالتی وقت ضائع کرنے پر وزارت خزانہ کے سابق ملازمین پر جرمانہ عائد کر دیا-

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں 2015کےبعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین کی پنشن کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے درخواست پر سماعت کی-

    پنجاب الیکشن کی تاریخ سےمتعلق درخواست، گورنر پنجاب کی طرف سے تحریری جواب عدالت میں جمع

    سماعت کے دوران سابق ملازمین نے کہا کہ 2015 کےبعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین کی پنشن غیر قانونی طور پر بڑھائی گئی،-

    چیف جسٹس عمر عطابندیال نے استفسار کیا کہ کیا کسی کے غلط کام پر عدالت آپ کے لیے بھی غلط حکم جاری کرے؟ کیا جن ملازمین کے خلاف آپ نے کیس دائر کیا انہیں فریق بنایا؟-

    سابق ملازمین وزارت خزانہ نے کہا کہ ہم سارے ریٹائرڈ ملازمین کو فریق نہیں بناسکتے-

    چیف جسٹس نے کہا کہ سارے ریٹائرڈ ملازمین کو فریق اس لیے نہیں بناسکتے کیونکہ آپ غلط استدعا کررہے ہیں, چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سابق ملازمین سے استفسار کیا کہ عدالتی وقت ضائع کرنے پر کتنا جرمانہ کریں؟-

    سابق ملازمین وزارت خزانہ نے کہا کہ معاف کردیں، آئندہ غیر ضروری مقدمہ دائر نہیں کریں گے-

    چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست گزاروں کو ایک ایک لاکھ روپےجرمانہ کرنا تھا لیکن ایک، ایک ہزار کررہے ہیں-

    بعدازاں سپریم کورٹ نے 2015 سے پہلے اور بعد کے ریٹائر ملازمین کی پنشن میں تفریق کے خلاف کیس خارج کردیا-

  • نیب ترامیم کے بعد کرپشن الزام پر ریفرنسز کی واپسی کی تفصیلات عدالت میں جمع

    نیب ترامیم کے بعد کرپشن الزام پر ریفرنسز کی واپسی کی تفصیلات عدالت میں جمع

    پی ٹی آئی دور میں نیب ترامیم کے بعد کرپشن الزام پر ریفرنسز کی واپسی ،نیب نے ریفرنسز سے متعلق تفصیلات سپریم کورٹ میں جمع کرا دیں

    سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2019سے جون 2022 تک 50نیب ریفرنسز واپس ہوئے،راجہ پرویز اشرف کیخلاف 9 نیب ریفرنسز پی ٹی آئی دور میں واپس ہوئے ،یوسف رضا گیلانی کیخلاف پی ٹی آئی دور میں 2 نیب ریفرنسز واپس ہوئے،شوکت ترین کیخلاف پی ٹی آئی دور میں 2 نیب ریفرنسز واپس ہوئے شوکت ترین پر بطور شریک ملزم اختیارات کے غلط استعمال کا الزام تھا،جاوید حسین سابق رکن اسمبلی گلگت بلتستان کیخلاف نیب ریفرنس واپس ہوا، لیاقت علی جتوئی کیخلاف نیب ریفرنس بھی پی ٹی آئی دور میں واپس ہوا،مہتاب احمد خان کیخلاف نیب ریفرنس بھی پی ٹی آئی دور میں واپس ہوا،سابق وزیر صحت گلگت بلتستان گلبہار خان کیخلاف بھی نیب ریفرنس واپس ہوا، فرزانہ راجہ کیخلاف نیب کا بنایا گیا ریفرنس پی ٹی آئی دور میں واپس ہوا آصف زرداری کیخلاف نیب کا بنایا گیا ،ریفرنس پی ٹی آئی دور میں واپس ہوا،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی ،سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر سزائے موت کے قانون کو ختم کر کے عمر قید کر دیا جائے تو کیا مجرمان کی سزا بدل جائے گی؟ وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم سے حدود آرڈیننس کے تحت ہونے والی سزاوں کی نوعیت تبدیل ہوئی تھی،حدود آرڈیننس کے تحت غیر انسانی سزاوں کا سلسلہ رکا،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نیب ترامیم بنیادی حقوق کے سوا باقی آئینی شقوں سے متصادم ہونے پر کالعدم ہو سکتی ہیں؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی کوئی نیا قانون پہلے سے موجود آئینی شقوں سے متصادم ہو تو کالعدم ہو سکتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا سپریم کورٹ کسی قانون سازی کے پیچھے ممبران پارلیمنٹ کی نیت کا تعین کر سکتی ہے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ کئی فیصلوں میں کہا گیا کہ کسی پر بدنیتی کا الزام لگانا سب سے آسان اور ثابت کرنا اتنا ہی مشکل ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ نیب ترامیم سے استفادہ ایک مخصوص طبقے نے حاصل کیا ہے؟ وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ نیب ترامیم سب کیلئے ہیں، ان سے کسی مخصوص طبقے کو فائدہ نہیں پہنچا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے عدالت اس نتیجے پر پہنچے کہ نیب ترامیم سے فائدہ ان ہی کو ہوا جو حکومت میں ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقننہ نے عدلیہ کو کسی بھی قانون کو کالعدم قرار دینے کے وسیع اختیارات دے رکھے ہیں،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی سپریم کورٹ نے نیب ترامیم سے ختم یا متعلقہ فورم پر منتقل ہونے والے کیسز کی ایک بار پھر تفصیلات مانگ لیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم سے کتنے کیسز کا فیصلہ ہوا اور کتنے واپس ہوئے تفصیلات جمع کرائیں،اس تاثر میں کتنی سچائی ہے کہ نیب ترامیم سے کوئی کیسز ختم یا غیر موثر ہوئے؟ اسپیشل نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ نیب ترامیم سے کوئی نیب کیس ختم نہیں ہوا، نیب نے کسی کیس میں پراسیکیوشن ختم نہیں کی، کچھ نیب کیسز ترامیم کے بعد صرف متعلقہ فورمز پر منتقل ہوئے ہیں

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔