Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • ایم کیو ایم نے الیکشن کمیشن کے خلاف چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

    ایم کیو ایم نے الیکشن کمیشن کے خلاف چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

    کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کے کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے آئین کی ترمیم اور آرٹیکل کی خلاف ورزی کرنے پر چیف جسٹس آف پاکستان سے از خود نوٹس لینے کی اپیل کردی۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے مطابق ایم کیو ایم کے وکیل طارق منصور ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھا ہے،مجوزہ خط اور دستاویزات الیکشن کمیشن آف پاکستان اسلام آباد کو 9 جنوری کو ارسال کیا تھا جبکہ 11 جنوری کو یاد داشت کے طور پر صوبائی الیکشن کمشنر کو جمع کروایا تھا۔ جمع کروانے والے ایم کیو ایم کے رہنماؤں میں ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال و دیگر شامل تھے۔

    بلدیاتی انتخابات: پی ٹی آئی رہنما کی پولنگ کا عمل متاثر کرنے کی کوشش، بیلٹ باکس کی…

    الیکشن کمیشن کو آئینی خط اس لیے بھیجا گیا تھا تاکہ وہ متنازعہ ڈی لیمیٹیشن اور الیکشن شیڈول کو آئین سےمتصادم ہونے کی بنیاد پر کالعدم قرار دے۔ الیکشن کمیشن نے 28 دسمبر 2021 کو ڈی لیمیٹیشن جبکہ 29 اپریل 2022 کے الیکشن شیڈیول کے نوٹیفیکیشن جاری کیے تھے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئین کی 22 ویں ترمیم 2016 اور آرٹیکل 218(2)، 219 کی بادالنظر خلاف ورزی کی ہےچیف جسٹس آف پاکستان سے اس ضمن میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کیجانب سےکیے جانے والے غیر آئینی اقدامات پر آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت مفاد عامہ اور بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی پر ازخود نوٹس لینے کی اپیل گئی ہے۔

    کراچی:بلدیاتی انتخابات میں چند گھنٹےباقی:کئی پریذائیڈنگ افسرلاپتہ

    طارق منصور ایڈوکیٹ کے مطابق خط کا مقصد یہ تھا کہ ای سی پی 15 جنوری سےپہلےنئےڈی لیمیٹیشن اور الیکشن شیڈول جاری کرے تاہم الیکشن کمیشن نے 6 دن گزر جانے کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا۔ سپریم کورٹ کو خط جمعے کے روز ارسال کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان نے حلقہ بندیوں پر شدید اعتراض کرتے ہوئے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کراچی، حیدرآباد سمیت دیگر حصوں میں پولنگ رکوانے کا مطالبہ کیا تھا۔ سندھ حکومت نے ایم کیو ایم پاکستان کے تحفظات کو بنیاد بناکر الیکشن کمیشن آف پاکستان کو خط لکھ کر الیکشن ملتوی کرنے کا کہا تھا تاہم ای سی پی نے کراچی اور حیدرآباد میں مقرری وقت 15 جنوری کو ہی الیکشن کرانے کا اعلان کیا تھا۔

    تمام تر تحفظات کے باوجود بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیں گے:ایم کیو ایم

  • آپکا صوبہ گھوسٹ سکولز کے نام سے مشہور ہے،چیف جسٹس کا وکیل سے مکالمہ

    آپکا صوبہ گھوسٹ سکولز کے نام سے مشہور ہے،چیف جسٹس کا وکیل سے مکالمہ

    سپریم کورٹ میں سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے فرنزاک آڈٹ سے متعلق سندھ ہاٸی کورٹ کے فیصلے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی ،وکیل سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ نے عدالت میں کہا کہ سندھ ہاٸی کورٹ نے غیر قانونی حکم جاری کیا،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2 ارب 30کروڑ کا بجٹ سندھ ٹیکسٹ بورڈ کو ملا ہے، سندھ ہاٸی کورٹ کا حکم ہے کہ اسکا آڈٹ کروایا جائے،عدالتی حکم کے باوجود آپ نے تاحال آڈٹ نہیں کروایا، وکیل سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ نے عدالت میں کہا کہ ہمیں آڈٹ کروانے میں کوٸی اعتراض نہیں ،اعتراض ایڈیشنل رجسٹرار کو سپرواٸزر لگانا اور فوری آڈٹ کا ہے،

    اگر یہ مندر ہوتا ۔۔۔ لیکن یہ تو مسجد ہے ، تحریر: محمد عاصم حفیظ

    مندر گرا دیا اگر مسجد گرا دی جاتی تو کیا ردعمل سامنے آتا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

    مندر حملہ کیس، متعلقہ ایس ایچ او کو ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ چیف جسٹس

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک کی سب سے بڑی کمزوری ہے کہ تعلیم پر کوٸی توجہ نہیں دیتا،آپکا صوبہ گھوسٹ سکولز کے نام سے مشہور ہے،آپکے ادارہ کا آڈٹ کون کرتا ہے ؟ وکیل سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ نے عدالت میں کہا کہ ہمارا آڈٹ اے جی پی آر کرتا ہے، حکم دیں تو پچھلے 20سالوں کا آڈٹ پیش کرینگے ،سپریم کورٹ نے آڈیٹر جنرل کو سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کا آڈٹ کرنے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آڈٹ مکمل ہونے پر رپورٹ متعقلہ عدالت میں جمع کرواٸی جائے، عدالت نے معاملہ نمٹا

  • سپریم کورٹ کی آڈیٹر جنرل کو ڈیم فنڈ کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کی ہدایت

    سپریم کورٹ کی آڈیٹر جنرل کو ڈیم فنڈ کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کی ہدایت

    سپریم کورٹ میں دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے آڈیٹر جنرل کو ڈیم فنڈ کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کی ہدایت کر دی ،عدالت نے حکم دیا کہ سٹیٹ بنک کیساتھ مل کر ڈونرز اور سرمایہ جاری کے تمام ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے، دستاویزات میں بے ضابطگی ہونے یا نہ ہونے کی نشاندہی کی جائے، حکام سٹیٹ بینک نے کہا کہ ڈیمز فنڈ سے کوئی اخراجات ہوئے نہ کبھی کسی نے رقم نکالی،ڈیمز فنڈ میں اس وقت 16 ارب سے زائد رقم موجود ہے،جو رقم بھی آتی ہے سرکاری سکیورٹیز میں سرمایہ کاری کر دی جاتی ہے،نیشنل بنک کے ذریعے ٹی بلز میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈیمز فنڈ کے ڈونرز کا تمام ریکارڈ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود ہے،

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاری کی تو فنڈ میں دس ارب تھے جو 26 جنوری کو 17 ارب ہو جائیں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو بتائیں گے کہ انکے فنڈ سے کونسی مشینری خریدی گئی،ڈیمز فنڈ کا پیسہ سیلاب کی تباہ کاریوں کی مرمت پر نہیں خرچ ہوگا،ٹرانسمیشن لائنز منصوبے کیلئے بہت اہم ہیں، سیکرٹری واٹر نے عدالت میں کہا کہ 2.4 ارب جاری کرنے کیلئے ہدایات دے دی ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یقینی بنائیں کہ ڈیمز منصوبے کو اس سارے عمل میں نقصان نہ ہو، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مالی مشکلات پر تشویش ہے، ایسے اقدامات کرنے ہیں جس سےاخراجات کم ہوں، اچھی قومیں چیلنجز کا سامنا کرتی ہیں،

    سعد رسول وکیل واپڈا نے عدالت میں کہا کہ پاور ڈویژن پر واپڈا کے 240 ارب روپے واجب الادا ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاور ڈویژن کیوں واپڈا کو ادائیگی نہیں کررہا ؟ سیکرٹری پاور نے کہا کہ ہمیں بجلی کی مد میں وصولیوں پر 400 ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے،گردشی قرضہ 2 کھرب 600 ارب روپے سے تجاوز کرگیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسی وجہ سے آئی ایم ایف نے بھی خدشات کا اظہار کیا ہے، سیکرٹری پاور نے کہا کہ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ بجلی کے نرخ کم اور اخراجات زیادہ ہیں،بہت سی جگہوں پر ہم 100 یونٹس فروخت کریں تو رقم 10 یونٹس کی ملتی ہے،بہت سے علاقوں میں میٹر کا تصور ہی نہیں ہے، کیسکو کمپنی نے گزشتہ سال 94 ارب روپے کی بجلی دی لیکن رقم صرف 25 ارب روپے ملی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ سے یہ کمپنیاں نہیں چلتی تو نجکاری کیوں نہیں کردیتے ؟ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں ان کو دے دیں جو چلا سکیں، آڈیٹر جنرل ڈیم فنڈ کی تمام رقم کو چیک کریں کہ کوئی بے ضابطگی تو نہیں ہوئی ؟ ہم سب ٹرسٹی ہیں اور یہ رقم لوگوں کی امانت ہے، یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ آج بھی ڈیم فنڈ میں پیسے آرہے ہیں،

    سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ ملک میں اس وقت سرکلر ڈیٹ 2.6 ٹریلین روپے ہے، سرکولر ڈیٹ میں مزید اضافہ بھی متوقع ہے، بعض گرڈ سٹیشنز پر 90 فیصد سے زائد بجلی چوری ہوتی ہے،کیسکو نے گزشتہ سال 95 ارب کی بجلی دی بل صرف 25 ارب جمع ہوا، کنڈے ڈال کر بجلی چوری کی جاتی ہے، بجلی چوری میں ہمارے اپنے لوگ بھی ملوث ہوتے ہیں،
    بجلی چوروں کیخلاف کارروائی بھی پورے دل کیساتھ نہیں کی جاتی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈسکوز کا یہ حال ہے تو نجکاری کیوں نہیں کر دیتے؟ آئی ایم ایف اور حکومت دونوں کو ہی سرکولر ڈیٹ پر تشویش ہے، سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے سرکولر ڈیٹ میں بہتری آئی ہے،بجلی قیمت خرید اور فروخت میں سالانہ 400 ارب روپے کا شارٹ فال ہے، وکیل واپڈا نے کہا کہ پاور ڈویژن نے سی پی پی اے کی مد 240 ارب ادا کرنے ہیں،ٹھیکیداروں کو ادائیگی نہ ہونے سے ڈیمز کا کام متاثر ہو رہا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ممکن ہے پیسوں کی کمی کے باعث حکومت ادائیگی نہ کر پا رہی ہو، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرانسمیشن لائنز منصوبے کیلئے بہت اہم ہیں وکیل واپڈا نے کہا کہ سیلاب اور سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے ڈیمز کا کام متاثر ہوا،سیلاب سے مہمند ڈیم کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا،فنڈز کی کمی بھی ڈیمز منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے،پی ایس ڈی پی میں مختص رقم بھی نہیں مل رہی،کرونا کی وجہ سے بین الاقوامی ماہرین بھی واپس چلے گئے تھے،
    ڈیمز کی تعمیر کا کام مقررہ وقت سے کم و بیش ایک سال پیچھے رہ گیا ہے، عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا

    عدالت کیا کرے جو ڈیم بنا رہے ہیں وہی ان معاملات کو دیکھیں گے،سپریم کورٹ

    ‏دیامیر بھاشا ڈیم کو میں نے ایٹمی پروگرام جتنا اہم منصوبہ قرار دیا اور محنت کر کے سی پیک میں شامل کروایا ، احسن اقبال

    ڈیموں کے مخالفین پاکستان کے دشمن ہیں: سابق چیئرمین واپڈا انجینئر شمس الملک

    ڈیم مخالف مہم بے نقاب ، ہم نے مقامی لوگوں کو ڈیم کے خلاف بھڑکایا، بھارتی جنرل کا اعتراف

    سینیٹ اجلاس میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر بارے رپورٹ پیش ہونے پر اپوزیشن کا احتجاج

    سپریم کورٹ میں کالا باغ ڈیم کا تذکرہ،عدالت نے کیا دیئے ریمارکس؟

    کالا باغ ڈیم ضروری،نئے ڈیمز نہ بنے تو صوبے آپس میں لڑتے رہیں گے ،چیئرمین ارسا

  • قانون سازی کے وقت اپوزیشن کا ہونا ضروری ہے، چیف جسٹس

    قانون سازی کے وقت اپوزیشن کا ہونا ضروری ہے، چیف جسٹس

    قانون سازی کے وقت اپوزیشن کا ہونا ضروری ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان
    چیف جسٹس آف پاکستان نے نیب ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ ہمارا معاشرہ کرپشن کی بیماری کا شکار ہے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بنچ نے کی، جس میں وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترمیم کے وقت ارکان اسمبلی کی اکثریت نے منظوری دی۔ اس وقت 159 ارکان اسمبلی موجود تھے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سوال یہ ہے کہ قانون سازی کے وقت اپوزیشن کا ہونا ضروری ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ایسی کوئی پہلے مثال موجود ہے کہ رکن پارلیمنٹ نے قانون سازی کو چیلنج کیا ہو؟۔ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ میرے سامنے ایسا کوئی کیس نہیں جس میں رکن پارلیمنٹ نے قانون چیلنج کیا ہو۔ درخواست گزار نہ صرف رکن پارلیمنٹ ہے بلکہ ملک کا وزیر اعظم بھی رہا ہے۔میں اپنے دلائل میں درخواست گزار کی بدنیتی اور ذاتی مفاد کی بھی وضاحت کروں گا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ موجودہ کیس میں نیب قانون کی بہتری دیکھ رہے ہیں۔ ضروری نہیں کہ قانون کو کالعدم ہی قرار دیا جائے۔ قانون کو کالعدم قرار دینے کے علاوہ بھی عدالت کے پاس آپشن موجود ہیں۔ قانون کو آئین کے مطابق ہونے پر ہی آگے بڑھنا چاہیئے۔

    جٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر نیب ترامیم بنیادی حقوق سے متصادم ہوئیں تو ہی عدالت آپشنز پر غور کرے گی۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ کوئی بھی ایسا قانون قائم نہیں رہ سکتا تو بنیادی حقوق سے متصادم ہو۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالتیں سیاسی فیصلے کرنے کی جگہ نہیں ہیں۔ کیا عدالت متنازع معاملات پر فیصلے کرنے لگے تو کیا مزید تنازعات پیدا ہوتے ہیں؟۔اس کیس میں سیاسی تنازع بھی ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تحریک انصاف کے وکیل نے دلائل میں کہا پاکستان بننے کے وقت سے کرپشن بیماری کی صورت میں موجود ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارا معاشرہ کرپشن کی بیماری کا شکار ہے۔ عوامی مفاد اور انفرادی فائدہ اٹھانے والوں کے درمیان توازن ہونا چاہیے۔سوال یہ ہے کہ عدالت نے آئین کا دفاع اور تحفظ کیسے کرنا ہے۔

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

     مبشر لقمان سے بانی مہمند لویہ جرگہ جاوید مہمند کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی ہے،

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئین کا مطلب پاکستان کے عوام ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ فیصلہ کرنے میں عدالت کہاں اور کس حد تک جا سکتی ہے۔ پبلک آفس ہولڈرز قابل احتساب ہیں۔ اگر حالیہ نیب ترامیم سے احتساب کا معیار گرا ہوا ہے تو عدالت ان کو برقرار کیسے رکھ سکتی ہے؟۔ جب سے پاکستان بنا انسداد کرپشن قوانین بنے ہوئے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ انسداد کرپشن قوانین کی وجہ ہی سے عوامی عہدیدار قابل احتساب ہیں۔ ہم نے سماجی یا سیاسی مسائل کو نہیں دیکھنا۔ اعتماد ہی تمام معاملات کا مرکز ہے۔ پبلک آفس کے لیے ڈاکٹرائن آف ٹرسٹ ضروری ہے۔ ججز بھی عوامی اعتماد کے ضامن ہیں۔ ججز بھی قابل احتساب ہیں۔ ججز پیسے کے قریب بھی نہیں جا سکتے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سپریم کورٹ کو ایک معاملے میں فنڈز ملے وہ اسٹیٹ بینک میں جمع کرا دیے۔ آج بھی انتظار کر رہے ہیں کہ فنڈز استعمال ہوں۔ اگر سپریم کورٹ فنڈز کی تفصیلات اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر نہ ڈالتی تو آج بھی تنقید ہو رہی ہوتی۔ وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ اعتماد بہت اہم ہوتا ہے۔ عدلیہ بھی پارلیمنٹ اور سیاستدانوں پر اعتماد کرے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کو پارلیمنٹ پر اعتماد ہے مگر عوام کا اعتماد عدلیہ پر ہے۔ کچھ بنیادی لوازمات ہیں جس پر عدالت نے بھی عمل کرنا ہے۔ عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 12 جنوری سہ پہر ڈیڑھ بجے تک ملتوی کر دی۔

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

     خواجہ سرا رمل علی اس وقت خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں،

  • آپکی درخواست کو اٹھا کرکھڑکی سے باہر پھینک دینا چاہیے،جسٹس منیب اختر

    آپکی درخواست کو اٹھا کرکھڑکی سے باہر پھینک دینا چاہیے،جسٹس منیب اختر

    سپریم کورٹ میں قومی اداروں کی توہین روکنے کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی، وکیل حیدر وحید نے کہا کہ میرا کیس فریڈم آف سپیچ کو ریگولیٹ کرنے کیلئے ہے،سپریم کورٹ نے براڈ کاسٹ میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کا حکم بھی دیا تھا،استدعا ہے سوشل میڈیا کو براڈ کاسٹ میڈیا کی طرز پر ریگولیٹ کرنے کا حکم دیا جائے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا میڈیا کو ریگولیٹ کرنا عدالت کا کام ہے،کیا عدالت اب بنیادی حقوق کا کٹ ڈاون کرے گی اداروں کی توہین ہوتی کیا ہے؟برطانوی عدالت کا فیصلہ ہے کہ حکومت کی توہین نہیں ہوتی،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ پارلیمنٹ سے کہیں ہم قانون سازی کا نہیں کہیں گے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا بنیادی حقوق کو کٹ کرنے کا عدالت کہے گی، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ریاست پابندی لگانا نہیں چاہتی تو سپریم کورٹ کیوں آرڈر دے؟ آپ سپریم کورٹ کو نہیں کہہ سکتے کہ حکومت کو قانون بنانے کا کہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میری رائے میں آپکی درخواست کو اٹھا کرکھڑکی سے باہر پھینک دینا چاہیے،عدالت نے وکیل کو مزید تیاری کیلئے وقت دیدیا عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

     عمران خان نے الیکشن کے لئے حکومت کے سامنے مزاکرات کی جھولی پھیلائی ہے

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

  • نیا اٹارنی جنرل کون ہے؟ سپریم کورٹ کے سوال پر ایڈیشنل، ڈپٹی اٹارنی جنرل لاعلم

    نیا اٹارنی جنرل کون ہے؟ سپریم کورٹ کے سوال پر ایڈیشنل، ڈپٹی اٹارنی جنرل لاعلم

    نیا اٹارنی جنرل کون ہے؟ سپریم کورٹ کے سوال پر ایڈیشنل، ڈپٹی اٹارنی جنرل لاعلم

     سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کے استعفیٰ اور تقرری کے معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری قانون کو ریکارڈ سمیت 17 جنوری کو طلب کر لیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے حکم نامہ جاری کیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکم پراپرٹی سے مقدمہ میں ڈپٹی اٹارنی کی کیطرف سے معاونت نہ کرنے پر جاری کیا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل شفقت عباسی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اٹارنی جنرل آفس سے مقدمات میں درست معاونت نہیں مل رہی، بتائیں اٹارنی جنرل کون ہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل شفقت عباسی نے بتایا کہ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف ہے، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اشتر اوصاف تو مستعفی ہوچکے ہیں اور انکا استعفیٰ منظور بھی ہو چکا ہے، نیا اٹارنی جنرل کون ہے۔ ڈپٹی اٹارنی نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اوگرا نے گیس چوہتر فیصد تک مہنگی کرنے کی منظوری دے دی
    عمران خان پاکستان کی نہیں بلکہ کسی اور کی ترجمانی کر رہے. شیری رحمان
    ڈاکوؤں نے جہیز کا سامان لوٹ کر گھر کے واحد کفیل کوبھی قتل کردیا
    پی ڈی ایم، پی پی پی، پی ٹی آئی ٹرائیکا نے ہماری تہذیب، سماج، سیاست اور معیشت سمیت سب کچھ تباہ کردیانسراج الحق

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کو روسٹرم پر بلا لیا اور پوچھا کہ نیا اٹارنی جنرل کون ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی اٹارنی جنرل سے متعلق لا علمی کا اظہار کیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ملک بغیر اٹارنی جنرل کے بغیر کیسے چل رہا ہے، آپ کو نئے اٹارنی جنرل کا نام نہیں معلوم۔ عدالت نے آئندہ سماعت 17 جنوری کو سیکریٹری قانون کو اٹارنی جنرل کے استعفیٰ اور نئے اٹارنی جنرل کی تقرری کے ریکارڈ کے ساتھ طلب کرلیا۔

  • نیب قانون میں ترامیم منظور کرتے وقت کتنے ممبران حاضر تھے؟ چیف جسٹس

    نیب قانون میں ترامیم منظور کرتے وقت کتنے ممبران حاضر تھے؟ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ 1947 سے آج تک کے قانون کے مطابق مقدمہ ثابت کرنے کا بوجھ درخواست گزار پر ہی ہوتا ہے،سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں قرار دے چکی ہے کہ عدالت پارلیمان کی نیت پر سوال نہیں اٹھا سکتی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون کو منظور کرنے کیلئے پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے وقت موجود ممبران کی عددی تعداد ہونی چاہئے، نیب قانون میں ترامیم منظور کرتے وقت کتنے ممبران حاضر تھے؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ممبران کی درست تعداد بتا دوں گا، آج تک کوئی قانون اس بنیاد پر کالعدم نہیں ہوا کہ اسے اکثریتی ممبران نے منظور نہیں کیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وفاقی حکومت کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک سوال ہے، جذباتی نا ہوں، وکیل مخدوم علی خان نے عدالت میں کہا کہ ممبران پارلیمنٹ آئین کے مطابق فیصلے کرنے کا حلف لیتے ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ممبران پارلیمنٹ کے حلف میں یہ بھی ہے کہ وہ تمام فیصلے ملکی سلامتی، ترقی و بہتری کے لیے کریں گے، کیا ملکی سلامتی، ترقی اور بہتری کے برخلاف قانون سازی ممبران پارلیمنٹ کے حلف کی خلاف ورزی تصور ہوگی؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ کوئی عدالت ممبران پارلیمنٹ کی نیت کا تعین نہیں کر سکتی،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ججز اور ممبران کے حلف میں بس یہی فرق ہے کہ ججز قانون کے مطابق فیصلوں کا حلف لیتے ہیں، ججز ملکی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے مطابق فیصلوں کا حلف نہیں لیتے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ججز آئین و قانون کے مطابق فیصلوں کے پابند ہیں،ممبران پارلیمنٹ کی منظور شدہ قانون سازی ملکی سلامتی، ترقی اور بہتری کے حق میں ہی تصور ہوتی ہے، امریکی سپریم کورٹ کے جج نے کہا تھا کہ مقننہ کے پاس احمقانہ قانون سازی کا ہر حق موجود ہے،امریکی کورٹ نے قرار دیا کہ اگر عوام اپنے منتخب نمائندوں کے ساتھ جہنم بھی جائیں تو ان کی مدد کریں گے، کسی برے یا احمقانہ قانون سازی پر بھی عدالت کا کوئی دائرہ اختیار نہیں بنتا،کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • چیف جسٹس عمرعطابندیال کا ریلوے کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار

     چیف جسٹس عمرعطابندیال کا ریلوے کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار

    چیف جسٹس آف پاکستان نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ اربوں ڈالر کا قرض لینے کو ہی آج عوام بھگت رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ریلوے گالف کلب کی لیز سے متعلق کیس کی سماعت کی، جس میں سیکرٹری ریلوے نے عدالت کو بتایا کہ ایم ایل ون 9.8 ارب ڈالر کا منصوبہ ہے اور ایکنک اس کی منظوری دے چکا ہے۔ عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اربوں ڈالر قرض لے کر منصوبے لگانے کی بات ہر کوئی کرتا ہے۔ ملک میں اربوں ڈالر کا انفرا اسٹرکچر پہلے سے موجود ہے، اس پر کیا ڈلیوری ہے؟۔ اربوں ڈالر کا قرض لینے کو ہی آج عوام بھگت رہے ہیں۔

    چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ چھٹیوں کے دوران سندھ میں ریل کا سفر کیا ہے۔ سندھ میں ریلوے لائنوں کے اطراف آج بھی سیلابی پانی کھڑا ہے۔ بارشیں گرمیوں میں ہوئی تھیں، پانی اب تک نہیں نکالا جا سکا۔ ریلوے افسران نے بتایا کہ بلوچستان میں صورتحال سندھ سے بھی ابتر ہے۔ بین الاقوامی جریدے دی اکانومسٹ نے پاکستان کی سڑکوں پر ضمیمہ چھاپا تھا۔عالمی ضمیمے کا عنوان تھا ’’وہ سڑکیں جو کہیں نہیں جاتیں‘‘۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ملک کو یہ پرتعیش آسائشیں نہیں، پرفارمنس اور استعداد کار چاہیے۔ اربوں ڈالروں کے منصوبے لگانے سے عدالت امپریس نہیں ہوگی۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دوران سماعت عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے 2021 میں ایک تفصیلی فیصلہ دیا ہے، جس میں ریلوے اراضی لیز اور فروخت کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ عدالتی فیصلے کی وجہ سے گالف کلب کی لیز کا عمل رُک گیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ریلوے کو زمینوں کی فروخت اور لیز کا لائسنس نہیں دے سکتے۔ ریلوے پورا بزنس پلان بنا کر دے تب ہی جائزہ لیں گے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے دوران سماعت کہا کہ کوئٹہ میں ریلوے کے رہائشی کوارٹر فروخت ہوچکے ہیں۔ سیکرٹری ریلوے نے کہا کہ جو زمین استعمال نہیں ہو رہی اسے کمرشل کرنا چاہتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ریلوے وفاقی حکومت سے بطور کمرشل ادارہ کام کرنے کی اجازت کیوں نہیں لیتا؟۔ ریلوے اس وقت مالی بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ریلوے میں ملازمین ضرورت سے زیادہ ہیں۔ پنشنز کا بھی بوجھ ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ریلوے نے کئی قیمتی اراضیاں 500 روپے سالانہ پر 100 سال کے لیے لیز کر رکھی ہیں۔ اولڈ اسلام آباد ائرپورٹ کے قریب ریلوے زمین پر ہاؤسنگ سوسائٹی بن گئی تھی۔ ریلوے کو زمین کمرشل نہیں، آپریشنل مقاصد کے لیے دی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سیکرٹری ریلوے بتائیں کس زمین پر کیا کرنا چاہتے ہیں، پھر لیز سے متعلق سوچیں گے۔ریلوے لائنز کے گرد تجاوزات بڑھ رہی ہیں۔ ریلوے ٹریک پر رکشہ چڑھنے سے بھی حادثہ پیش آیا تھا۔ اگر ادارے اپنی زمینوں کا تحفظ نہیں کریں گے تو تجاوزات ہی ہوں گے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ ریلوے سالانہ کتنا منافع کما رہا ہے؟۔ جس پر سیکرٹری ریلوے مظفر رانجھا نے بتایا کہ پچھلے سال ریلوے کا سالانہ منافع کا ٹارگٹ 58 ارب روپے تھا۔ ریلویز نے 2022ء میں 62 ارب روپے کمائے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ریل گاڑی کے انجن سے ایک موٹر خراب ہو جائے تو دوسری ریل گاڑی کا نکال کر لگا لیتے ہیں۔ کیا ریلوے کا نظام ایسے چلا رہے ہیں؟۔ سیکرٹری ریلوے نے کہا پاکستان ریلوے پل صراط پر چل رہی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نائیجیریا میں ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کے منتظر 32 افراد اغوا
    ٹائٹن اروم نامی پھول جو 7 سے 10 سال میں ایک بار کھلتا ہے
    کاسمیٹک مصنوعات کے نقصانات سے خبردار کرنے والی سعودی ایپلی کیشن متعارف
    آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم کا یوم وفات ہے
    قلعہ سیف اللہ کے قریب خوفناک ٹریفک حاثہ میں 7 افراد جاںبحق
    وزیر اعظم شہباز شریف وفد کے ساتھ جنیوا پہنچ گئے
    ایک کمرے میں دو دو کلاسز؛ کراچی میں سرکاری اسکول کی عمارت ٹھیکیدار نے کرائے پر دیدی

    سیکرٹری ریلوے نے عدالت کو بتایا کہ سیلاب کے دوران پاکستان ریلوے کو628 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ریلویز نے سیلاب کے بعد خود ریلوے بحال کیں، حکومت سے ایک پیسہ بھی نہیں لیا۔ ملک میں سڑکوں کی تعمیر کو زیادہ اہمیت ملی، ریلوے کو پیچھے دھکیلا گیا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ حکومت پنشنز کی مد میں ریلوے کو 40 ارب روپے دیتی ہے۔ حکومت پی آئی اے اور اسٹیل ملز کو بھی اربوں روپے دے رہی ہے۔ کیا سب کچھ بیچ کر ملک چلانا ہے؟۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ اس عدالت میں اربوں روپوں کے منصوبے کی بات نہیں کرنے دی جائے گی۔ کوئٹہ سے ریل کا راستہ منقطع ہے۔ چینی بھائیوں ہی سے پوچھ لیں کہ سیلاب کا کھڑا پانی کیسے نکالنا ہے۔ ریلوے کے نظام میں بہتری عام آدمی کی بڑی خدمت ہو گی۔ یہی ریلوے نظام پڑوسی ملک میں چل رہا ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں؟۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں ریل گاڑی جس بھی رفتار سے چلے منزل پر پہنچا ہی دیتی ہے۔ ریلوے پاکستان کی لائف لائن ہے۔ ریلوے نظام کی بحالی کا پلان جمع کرائیں۔ سپریم کورٹ نے 2 ہفتے میں ریلوے کو منافع بخش بنانے سے متعلق جامع پلان عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی آئندہ سماعت 23 جنوری سے شروع ہونے والے ہفتے تک ملتوی کردی۔

  • پی آئی اے نے پانچ سالہ فنانشل پلان سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    پی آئی اے نے پانچ سالہ فنانشل پلان سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    پی آئی اے پائلٹس اور دیگر عملے کی کمی سے متعلق 5 سالہ فنانشل پلان پر مشتمل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی گئی

    پی آئی اے نے آئی اے ٹی اے کی سفارشات پر مبنی پانچ سالہ فنانشل پلان بھی سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا .رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2018 سے 22 تک پی آئی اے میں مختلف وجوہات کی بنا پر 5793 ملازمین نکال دیئے گئے،پی آئی اے کوآپریشن و سروسز، آئی ٹی اور فنانس شعبے میں ماہر افرادی قوت کی قلت کا سامنا ہے پی آئی اے نے حال ہی میں ترکش ایئرلائن کے ساتھ کوڈ شیئر کا معاہدہ کیا ہے، کوڈ شیئر معاہدے سے روا ں سال پی آئی اے کو 205 ارب کا ریونیو ملنے کا امکان ہے، 2018میں سپریم کورٹ کی نئی بھرتیوں پر پابندی سے ملازمین کی اوسط عمر 45.2 سال ہو گئی ملازمین کی اوسط عمر بڑھنے سے آپریشنل کارکردگی میں کمی ہوئی ہے، پی آئی اے کو ٹیکنالوجیکل اور کارپوریٹ علم رکھنے والے ملازمین کی ضرورت ہے،2026تک پی آئی اے کی سالانہ آمدن 1.6862 ارب ڈالر کی جائے گی،آئندہ پانچ سال میں پی آئی اے کے جہازوں کی تعداد بڑھا کر 49 کی جائے گی،حکومتی مدد کے بغیر پی آئی اے نے 2022 میں چار اے320 جہاز خریدے، برطانیہ اور یورپ کی ہفتہ وار پروازوں کا فیصلہ 7 مارچ کو ہونے والے آڈٹ کے بعد ہوگا2026تک ملکی سطح پر پی آئی اے کے مسافروں کی تعداد 46 لاکھ تک بڑھائی جائے گی، 2026تک سعودی عرب، یو اے ای، گلف، امریکا، برطانیہ، وسطی ایشیا ممالک تک توسیع دی جائے گی،2026تک انٹرنیشنل مسافروں کی تعداد ایک کروڑ 92 لاکھ تک بڑھائی جائے گی،

    .رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملکی اور غیر ملکی سطح پر ٹریفک بڑھنے سے فلائٹ آپریشن کیلئے نئے پائلٹس اور کیبن کریو کی ضرورت ہو گی، عدالت عظمیٰ سے 250 نئے ملازمین بھرتی کرنے کی اجازت دینے کی استدعا کی گئی انٹرنیشنل ایوی ایشن رولز کے مطابق پی آئی اے کو 486 پائلٹس اور فرسٹ آفیسرز کی ضرورت ہے، پی آئی اے کے پاس 364 پائلٹس اور فرسٹ آفیسرز موجود ہیں، عالمی معیار کے مطابق پی آئی اے کو سو سے زائد پائلٹس اور فرسٹ آفیسرز کی قلت کا سامنا ہے،پائلٹس کی کمی کی وجہ سے ریگولیٹرز کو ڈیوٹی کے اوقات کار میں اضافے کی درخواست کی گئی،جہازوں اور پائلٹس میں عدم تناسب کی وجہ سے فلائٹ آپریشن شدید متاثر ہو رہے ہیں،پائلٹس کی کمی کی وجہ سے صرف دسمبر میں 29 فلائٹس منسوخ کرنا پڑیں،فلائٹس منسوخ کرنے سے شدید مالی نقصان ہو رہا ہے،عالمی سطح پر بھاری تنخواہوں کی وجہ سے پی آئی اے کو مسابقت کا سامنا ہے،پی آئی اے میں 12 پائلٹس کی جلد ریٹائرمنٹ اور این او سی کی درخواستیں زیر التوا ہیں،رواں سال 13 پائلٹس کی ریٹائرمنٹ سے قلت مزید بڑھ جائے گی،بھرتیوں پر پابندی ہٹنے کے باوجود پائلٹس کی ٹریننگ پر سال تک کا عرصہ لگے گا، رواں سال پی آئی اے کو کم از کم 80 نئے پائلٹس کی اشد ضرورت ہے،سپریم کورٹ کی جانب سے پابندی کے بعد 109 پائلٹس پی آئی اے چھوڑ چکے ہیں،پی آئی اے میں رواں سال کم از کم 110 کیبن کریو کی ضرورت ہے، پی آئی اے میں رواں سال فنانس اور آئی ٹی شعبے میں 45 ملازمین کی ارجنٹ ضرورت ہے پی آئی اے کو رواں سال منیجمنٹ لیول پر 15 پروفیشنل کی بھرتیوں کی ضرورت ہے،250ملا زمین بھرتی کرنے سے پی آئی اے پر 9 کروڑ 25 لاکھ 50 ہزار روپے کا مالی بوجھ پڑے گا،

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

     عمران خان نے الیکشن کے لئے حکومت کے سامنے مزاکرات کی جھولی پھیلائی ہے

  • ارشد شریف قتل ازخود نوٹس،سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

    ارشد شریف قتل ازخود نوٹس،سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

    ارشد شریف قتل ازخود نوٹس ،سپریم کورٹ نے گزشتہ روز کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا

    2 صفحات پر مشتمل حکمنامہ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے تحریر کیا ہے ، تحریری حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ سے آگاہ کیا،رپورٹ کے مطابق اب تک 41 گواہان کے بیانات ریکارڈ کئے گئے، قتل کی تحقیقات پاکستان،یو اے ای اور کینیا میں کی جارہی ہیں، کینیا اور یو اے ای سے باہمی قانونی تعاون کیلئے حکومت نے خط لکھ دیا ہے امید ہے اسپیشل جے آئی ٹی تیاری کیساتھ یو اے ای اور کینیا جائے گی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اگلی رپورٹ جمع کرانے کیلئے ایک ماہ کی مہلت طلب کی، کیس کی مزید سماعت فروری کے پہلے ہفتے میں ہوگی،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    خیال رہے کہ 23 اکتوبر کو نیروبی مگاڈی ہائی وے پر شناخت میں غلطی پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا تھا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا ہے

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    صحافی ارشد شریف قتل کیس،پی ایف یوجے نے سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لیے خط لکھا تھا،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس  سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،