Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے اختیارات کم کر دیئے

    وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے اختیارات کم کر دیئے

    وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے اختیارات کم کر دیے
    قومی کمیشن برائے صنعتی تعلقات کے چیئرمین لگانے کا اختیارچیف جسٹس سپریم کورٹ سے لے کروفاقی حکومت کو دے دیا گیا،
    ترمیم کے بعد چیئرمین قومی کمیشن برائے صنعتی تعلقات اور ممبران کو کنٹرول رکھنے کیلئے وفاقی حکومت انہیں بغیر بتائے ایک ماہ کا نوٹس دے کر ہٹاسکے گی

    وزارت سمندر پار پاکستانیز نے قومی کمیشن برائے صنعتی تعلقات کے رولزمیں خاموشی کے ساتھ ترمیم کر دی، ذرائع کے مطابق قومی کمیشن برائے صنعتی تعلقات کے چیئرمین لگانے کا اختیار چیف جسٹس سپریم کورٹ سے واپس لینا سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی خلاف ورزی ہے جو کہ سپریم کورٹ نے ریاض الحق بنام فیڈریشن آف پاکستان کیس میں دیا تھا۔باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے قومی کمیشن برائے صنعتی تعلقات کے چیئرمین لگانے کا اختیار چیف جسٹس آف پاکستان سے لیکر وفاقی حکومت کو منتقل کردیا ترمیم کے بعد چیئرمین قومی کمیشن برائے صنعتی تعلقات اور ممبران کو کنٹرول رکھنے کے لئے وفاقی حکومت انہیں بغیر بتائے ایک ماہ کا نوٹس دے کر ہٹاسکے گی ۔ دستاویزات کے مطابق سپریم کورٹ نے ریاض الحق بنام فیڈریشن آف پاکستان کیس میں13جنوری 2013 فیصلہ دیا تھا کہ اس طرح کے ٹربیونلزو کمیشنز کے چیئرمین کی تعیناتی سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان سے مشاورت سے جائے گی، اس کے ساتھ معاشی اور انتظامی طورپر خود مختار ہونے چاہیں تاکہ قومی کمیشن برائے صنعتی تعلقات اور اس طرح کے ٹربیونلزآزادنہ طور پر فیصلے کرسکیں تاہم قومی کمیشن برائے صنعتی تعلقات نئے رولز میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے برعکس چیف جسٹس کی مشاورت ختم کر دی گئی ہے اور،قومی کمیشن برائے صنعتی تعلقات کے چیئرمین و ممبران کو عہدے سے ہٹانے کے لیے بغیر وجہ بناتے 30دن میں ہٹانے کی شق بھی رولز میں شامل کردی گئی۔

    اس سے پہلے پرانے رولز کے مطابق چیئرمین لگانے کے لیے چیف جسٹس سے مشاورت ضروری تھی اور کسی بھی چیئرمین یا ممبر کو بغیروجہ بتائے ہٹایا نہیں جا سکتا تھا۔نئی ترمیم کے مطابق وفاقی حکومت خود چیئرمین قومی کمیشن برائے صنعتی تعلقات کے تعیناتی کرے گی، نئی ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے چیئرمین کمیشن سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کا سابق وموجودہ جج لگایا جاسکے گا، نئے رولز کے تحت چیئرمین و ممبران کو تین سال کے لیے تعینات کیا جائے گاجس میں توسیع نہیں ہوگی،کمیشن ممبران کی تعیناتی تین سال کے لیے ہوگی۔وزارت اوورسیز پاکستانی اور وفاقی وزیر کے ساتھ باربار رابطہ کرنے کے باوجودکسی قسم کا موقف نہیں دیا،واضح رہے کہ پرانے رولز کے مطابق قومی کمیشن برائے صنعتی تعلقات کے چیئرمین کی تعیناتی پہلے صرف سپریم کورٹ کا جج چیف جسٹس کی مشاورت سے ہی کی جا سکتی تھی، سابقہ رولز کے مطابق کمیشن ممبران کی تعیناتی دو سال کے لیے ہوتی تھی۔

    رپورٹ ،محمداویس

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    جنرل ہسپتال میں بریسٹ کلینک، خواتین کیلئے بہت بڑی نعمت ہے: صوبائی وزیر صحت

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

  • اقلیتی رہنما کی اپیل پر مندر جلانے والوں سے ریکوری روکنے کا حکم

    اقلیتی رہنما کی اپیل پر مندر جلانے والوں سے ریکوری روکنے کا حکم

    کرک مندر کیس میں سپریم کورٹ نے اقلیتی رہنما کی اپیل پر مندر جلانے والوں سے ریکوری روکنے کا حکم دے دیا.

    سپریم کورٹ نے کی اقلیتی رہنما کی اپیل پر خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں مندر جلانے والوں سے ریکوری روکنے کا حکم دے دیا۔ کرک تیری مندر کو نقصان پہنچانے سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت سپریم کورٹ کے جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔

    اقلیتی رہنما ایم این اے رمیش کمار سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ کرک تیری مندر کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے، مندر کی بحالی اور تزئین و آرائش بھی کر دی گئی ہے، کرک مندر کے علاقے میں اب ہندوؤں اور مسلمانوں میں اچھی ہم آہنگی ہے۔

    رمیش کمار کا کہنا تھا عدالت نے مندر کو نقصان پہنچانے والوں سے ریکوری کا حکم دیا تھا، صوبائی حکومت نے مندر کو نقصان پہنچانے والوں سے کچھ ریکوریاں کی ہیں، عدالت مناسب سمجھے تو یہ ریکوری کا سلسلسہ روک دیا جائے کیونکہ مندر کو نقصان پہنچانے والوں نے معافی مانگ لی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    جنوری2023 کیلیے 533.453ارب کا ٹیکس ہدف مقرر
    توشہ خانہ میں عمران خان کا گھٹیا کردار سامنے آیا ہے. وزیر داخلہ راناثنااللہ
    جنوبی ایشیا میں پاکستان روس کا اہم اتحادی ہے. صدر پیوٹن
    لیونل میسی کی پی ایس جی رونالڈوکی سعودی آل اسٹارزٹیم کے خلاف فتح
    وزیر خارجہ کی جنوبی افریقہ کے بین الاقوامی تعلقات اور تعاون کے وزیر سے ملاقات
    حدیقہ میمن کیس:اجتماعی زیادتی کا جرم ثابت ہونے پر چار ملزمان کو عمر قید کی سزا
    ایرانی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی، دہشت گردانہ حملے پرتشویش کا اظہار
    عدالت نے اقلیتی رہنما رمیش کمار کی استدعا پر مندر نذر آتش کرنے والوں سے ریکوری روکنے کا حکم دے دیا۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے کرک میں تیری مندر جلانے والوں سے 3 کروڑ 30 لاکھ روپے ریکور کرنے کا حکم دیا تھا۔

  • خائن کیلئے قرآن کریم میں سخت الفاظ استعمال ہوئے ہیں،چیف جسٹس

    خائن کیلئے قرآن کریم میں سخت الفاظ استعمال ہوئے ہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمان کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ اسے قانون سازی کا اختیار ہے، کالعدم کرنے پر عدالت کو بتانا ہوگا نیب ترامیم جیسی قانون سازی کیوں نہیں ہوسکتی،صرف وہی قانون کالعدم ہو سکتا ہے جو بنانے پر آئینی ممانعت ہو،عدلیہ کے اختیارات کم کرنے کیلئے کی گئی قانون سازی کالعدم ہوسکتی ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا پھانسی کی سزا ختم کرنا آئینی عمل ہوگا؟ اگر پارلیمنٹ نیب کو ہی ختم کردے تو کیا اسے چیلنج کیا جا سکتا ہے؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پارلیمان کو قانون سازی کیساتھ قانون واپس لینے کا بھی اختیار ہے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا عدالت یہ کہ کر نیب کو بحال کر سکتی ہے کہ احتساب ختم ہوگیا؟ کیا تعزیرات پاکستان ختم ہونے سے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہونگے؟ نیب پبلک پراپرٹی کے مقدمات بناتا کے جو عوام کی ملکیت ہوتی ہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ برطانیہ میں سزائے موت کسی جرم میں نہیں دی جاتی،سزائے موت کے خاتمے کے قانون کا اطلاق زیر التواء مقدمات پر بھی ہوا تھا، برطانیہ ان ممالک کیساتھ ملزمان حوالگی کا معاہدہ نہیں کرتا جہاں سزائے موت دی جاتی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شرعی قانون میں سزائے موت موجود ہے، کیا شرعی اصولوں کیخلاف قانون سازی کی جا سکتی ہے؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اسلام میں دیت اور قصاص کا تصور بھی موجود ہے، ورثاء دیت کے عوض جرم معاف کر سکتے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کے مطابق احتساب اسلام اور آئین کا بنیادی جزو ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت قوانین کا جائزہ آئین اور بنیادی حقوق کے تناظر میں ہی لے سکتی ہے، کیا عدالت کچھ اور نہ ملنے پر شرعی تناظر میں قوانین کا جائزہ لے سکتی ہے؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ شریعت کے تحت قوانین کا جائزہ صرف شرعی عدالت لے سکتی ہے،نیب ترامیم کا جائزہ اسلامی اصولوں کے تناظر میں نہیں لیا جا سکتا،اجماع اور اجتہاد کے اصول ریاستی ادارہ پارلیمان استعمال کر رہا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قرآن میں امانت اور خیانت کے اصول واضح ہیں، خائن کیلئے قرآن کریم میں سخت الفاظ استعمال ہوئے ہیں، عدالت میں بحث جرم کی حیت تبدیل کرنے کی ہے، سزا کچھ بھی ہو جرم تو جرم ہی رہتا ہے، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ احتساب کے تمام قوانین کا اطلاق ہمیشہ ماضی سے ہوا ہے، نیب ترامیم کا ماضی سے اطلاق ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں، مزید سماعت 7 فروری تک ملتوی کر دی گئی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • عمران خان حکومت میں نیب آرڈیننس سے بری اورمستفید ہونے والوں کی تفصیلات طلب

    عمران خان حکومت میں نیب آرڈیننس سے بری اورمستفید ہونے والوں کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے عمران خان حکومت میں نیب آرڈیننس سے بری اور مستفید ہونے والوں کی تفصیلات طلب کرلیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بھی حقیقیت ہے نیب ترامیم کے بعد 386 کیسز احتساب عدالتوں سے واپس ہوئے،وکیل وفاقی حکومت مخدوم علی خان نے کہا کہ جسٹس اعجازالاحسن نے آبزرویشن دی کہ 386 کیسز میں سے کتنے اراکین پارلیمنٹ کے تھے،عدالت یہ بھی پوچھ سکتی تھی کہ تحریک انصاف کے ساڑھے تین سالہ دور میں 5 نیب آرڈیننس لائے گئے،تحریک انصاف کے دور کے آرڈیننسز کے تحت کتنے نیب ریفرنس واپس اور افراد بری ہوئے عدالت یہ بھی پوچھے کہ تحریک انصاف کے آرڈیننسز سے بری ہونے والے ملزمان میں کون کون شامل ہے، نیب قانون میں حالیہ ترامیم پرانے قانون کا ہی تسلسل ہے،عدالت خود کو 386 نیب کیسز تک محدود نا رکھے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ بتا دیں نیب سے کیا سوالات پوچھیں نوٹ کرا دیتے ہیں، وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ نیب بتائے کہ پی ٹی آئی کے آرڈیننسز کے ذریعے کتنے ریفرنس واپس ہوئے؟نیب بتائے کہ نیب آرڈیننسز سے کتنے افراد بری ہوئے اور ٹرائل کورٹ نے بریت کی کتنی درخواستیں واپس کیں؟جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر نیب کو ختم کر بھی دیا جائے تو جرائم کے سد باب کے لیے دیگر قوانین موجود ہیں، ایسا کہنا درست نہیں کہ نیب کیسز سے بری ہونے والے صاف شفاف ہوکر گھر چلے جاتے ہیں، یہ تاثر غلط ہے کہ نیب ختم ہو جانے سے قانون کی گرفت بھی ختم ہو جائے گی، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کا موقف ہے کہ نیب کیسز میں جرم ثابت کرنے کا معیار ہی بدل دیا گیا ہے،سوال یہ بھی اہم ہے کہ نیب کیسز میں سزائیں ہونے کے بعد حالیہ ترامیم کا اطلاق ماضی سے کیسے ہو سکتا ہے؟ ایسا نہیں ہو سکتا کہ نیب قانون میں ترامیم لا کر اطلاق 1985 سے کر دیا جائے، نیب قانون میں حالیہ ترامیم عظیم ایمنسٹی ہیں اور یہ بڑی عجیب بات ہے،مجھے یہ بھی پتا ہے کہ نیب قوانین کے علاوہ دیگر قوانین بھی موجود ہیں،اگر احتساب عدالت جرم سے بری کر سزا دے تو ملزم گھر ہی جائے گا، کیس کے دوران میرے کیے گئے سوالات عارضی نوعیت کے ہیں، کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بنچ نے سماعت کی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • ججز اور بیوروکریٹس کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    ججز اور بیوروکریٹس کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ میں ججز اور بیوروکریٹس کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    وکیل فیڈرل گورنمنٹ ہاوسنگ اتھارٹی نے عدالت میں کہا کہ گزشتہ سماعت پر سپریم کورٹ نے نوٹسزجاری کیے تھے، اٹارنی جنرل سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کئے تھے،جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوٹسز کی تعمیل نہیں ہو سکی، عدالت میں اٹارنی جنرل آفس سے بھی کوئی موجود نہیں ،فیڈرل ہاوسنگ اتھارٹی کے وکیل کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے پر حکم امتناعی کی استدعا کی گئی جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکم امتناعی سے پہلے فریقین کو نوٹسز کی تعمیل ہونا ضروی ہے،

    وکیل الاٹیز حافظ احسان کھوکھر نے عدالت میں کہا کہ ہائیکورٹ کا فیصلہ قانون کے برعکس ہے،ہائیکورٹ کے فیصلے سے سب سے زیادہ متاثر الاٹیز ہوئے ہیںہائیکورٹ نے از خود نوٹس کا اختیار استعمال کیا،سپریم کورٹ اس حوالے سے پہلے بھی فیصلہ کر چکی ہے ، سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے کیس کی سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کردی گئی جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی

    بھنگ اورافیوم سے ادویات بنانےاورکاشت سےمتعلق کام شروع 

    حکومت خود بھنگ کی کاشت کرے گی: فواد چوہدری کا اعلان 

    بھنگ برائے علاج : بھنگ برائے فروخت:حکومت نے استعمال کے لیے طریقہ کار کی منظوری دے دی

    واضح رہے کہ 2021 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے گریڈ 22 کے افسران ، ججز اور سول سرونٹس کو پلاٹس کی الاٹمنٹ غیرقانونی قرار دے دی تھی ججز، افسران اور سول سرونٹس کو پلاٹس کی الاٹمنٹ کے حوالے سےدائردرخواست پر 20 اگست کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ اور ضلعی عدلیہ کے ججوں کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ معطل کردی تھی ریاض حنیف راہی ایڈوکیٹ کی درخواست پر محفوظ فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سنایا تھا

    فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی ایف 14 ،ایف 15 کے مختلف کیٹگریز کے4700 پلاٹس کی قرعہ اندازی کی گئی تھی، جس میں چیف جسٹس گلزار احمد، سابق چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی اور پانامہ کیس کا فیصلہ تحریر کرنے والے اعجاز افضل خان سمیت معروف ججز اور بیوروکریسی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے بھی پلاٹ نکلے تھے۔

  • الیکشن ترمیمی ایکٹ کیخلاف درخواست پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری

    الیکشن ترمیمی ایکٹ کیخلاف درخواست پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری

    سپریم کورٹ میں الیکشن ترمیمی ایکٹ کیخلاف عمران خان اور شیخ رشید کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    سپریم کورٹ نے عمران خان اور شیخ رشید کی درخواست پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کر دیا ،سپریم کورٹ کی جانب سے نادرا اور اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کر دیا گیا ،وکیل دائوود غزنوی کی الیکشن ترمیمی ایکٹ کیخلاف اپیل پر بھی نوٹس جاری کر دیا گیا

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ووٹ کا حق ختم نہیں کیا گیا مسئلہ صرف طریقہ کار کا ہے، اوورسیز کو ووٹ ڈالنے پاکستان آنا ہوگا یا باہر رہ کر بھی ووٹ ڈال سکتے ہیں، بظاہر ووٹنگ کا طریقہ کار اتنا مشکل بنا دیا گیا ہے کہ اوورسیز ووٹ ڈال ہی نہ سکتے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا تھا،الیکشن ایکٹ میں ترمیم عدالتی فیصلے کی روح کیخلاف ہے، سپریم کورٹ کے حکم پر نادرا نے سسٹم بنایا اور ضمنی انتخابات میں تجربہ ہوا تھا، ضمنی انتخابات میں تجربے پر کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا تھا، ترمیم کرکے دوبارہ پائلٹ پراجیکٹ کرنے کا کہا گیا تاکہ قانون سازی ہوسکے،

    فردوس عاشق کالہجہ تلخ تھا،مگرسرکاری ملازم صاحبہ کا ڈیوٹی سےچلےجانا،تکبر،انااورافسرشاہی نہیں تواورکیاہے

    فردوس عاشق نے اپنے حلقہ انتخاب میں کیا کارنامہ سرانجام دیا، تہلکہ خیز انکشاف

    مشیر نہیں بلکہ جہنم میں تھی، فردوس عاشق اعوان کی ایک بار پھر گندی گالیاں

    عدالت نے حکم دیا کہ نادرا اور الیکشن کمیشن معاونت کریں کہ بنایا گیا سسٹم معیار کے مطابق ہے یا نہیں، کیس کی سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی گئی ،جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی

  • ایم کیو ایم نے الیکشن کمیشن کے خلاف چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

    ایم کیو ایم نے الیکشن کمیشن کے خلاف چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

    کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کے کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے آئین کی ترمیم اور آرٹیکل کی خلاف ورزی کرنے پر چیف جسٹس آف پاکستان سے از خود نوٹس لینے کی اپیل کردی۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے مطابق ایم کیو ایم کے وکیل طارق منصور ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھا ہے،مجوزہ خط اور دستاویزات الیکشن کمیشن آف پاکستان اسلام آباد کو 9 جنوری کو ارسال کیا تھا جبکہ 11 جنوری کو یاد داشت کے طور پر صوبائی الیکشن کمشنر کو جمع کروایا تھا۔ جمع کروانے والے ایم کیو ایم کے رہنماؤں میں ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال و دیگر شامل تھے۔

    بلدیاتی انتخابات: پی ٹی آئی رہنما کی پولنگ کا عمل متاثر کرنے کی کوشش، بیلٹ باکس کی…

    الیکشن کمیشن کو آئینی خط اس لیے بھیجا گیا تھا تاکہ وہ متنازعہ ڈی لیمیٹیشن اور الیکشن شیڈول کو آئین سےمتصادم ہونے کی بنیاد پر کالعدم قرار دے۔ الیکشن کمیشن نے 28 دسمبر 2021 کو ڈی لیمیٹیشن جبکہ 29 اپریل 2022 کے الیکشن شیڈیول کے نوٹیفیکیشن جاری کیے تھے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئین کی 22 ویں ترمیم 2016 اور آرٹیکل 218(2)، 219 کی بادالنظر خلاف ورزی کی ہےچیف جسٹس آف پاکستان سے اس ضمن میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کیجانب سےکیے جانے والے غیر آئینی اقدامات پر آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت مفاد عامہ اور بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی پر ازخود نوٹس لینے کی اپیل گئی ہے۔

    کراچی:بلدیاتی انتخابات میں چند گھنٹےباقی:کئی پریذائیڈنگ افسرلاپتہ

    طارق منصور ایڈوکیٹ کے مطابق خط کا مقصد یہ تھا کہ ای سی پی 15 جنوری سےپہلےنئےڈی لیمیٹیشن اور الیکشن شیڈول جاری کرے تاہم الیکشن کمیشن نے 6 دن گزر جانے کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا۔ سپریم کورٹ کو خط جمعے کے روز ارسال کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان نے حلقہ بندیوں پر شدید اعتراض کرتے ہوئے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کراچی، حیدرآباد سمیت دیگر حصوں میں پولنگ رکوانے کا مطالبہ کیا تھا۔ سندھ حکومت نے ایم کیو ایم پاکستان کے تحفظات کو بنیاد بناکر الیکشن کمیشن آف پاکستان کو خط لکھ کر الیکشن ملتوی کرنے کا کہا تھا تاہم ای سی پی نے کراچی اور حیدرآباد میں مقرری وقت 15 جنوری کو ہی الیکشن کرانے کا اعلان کیا تھا۔

    تمام تر تحفظات کے باوجود بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیں گے:ایم کیو ایم

  • آپکا صوبہ گھوسٹ سکولز کے نام سے مشہور ہے،چیف جسٹس کا وکیل سے مکالمہ

    آپکا صوبہ گھوسٹ سکولز کے نام سے مشہور ہے،چیف جسٹس کا وکیل سے مکالمہ

    سپریم کورٹ میں سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے فرنزاک آڈٹ سے متعلق سندھ ہاٸی کورٹ کے فیصلے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی ،وکیل سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ نے عدالت میں کہا کہ سندھ ہاٸی کورٹ نے غیر قانونی حکم جاری کیا،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2 ارب 30کروڑ کا بجٹ سندھ ٹیکسٹ بورڈ کو ملا ہے، سندھ ہاٸی کورٹ کا حکم ہے کہ اسکا آڈٹ کروایا جائے،عدالتی حکم کے باوجود آپ نے تاحال آڈٹ نہیں کروایا، وکیل سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ نے عدالت میں کہا کہ ہمیں آڈٹ کروانے میں کوٸی اعتراض نہیں ،اعتراض ایڈیشنل رجسٹرار کو سپرواٸزر لگانا اور فوری آڈٹ کا ہے،

    اگر یہ مندر ہوتا ۔۔۔ لیکن یہ تو مسجد ہے ، تحریر: محمد عاصم حفیظ

    مندر گرا دیا اگر مسجد گرا دی جاتی تو کیا ردعمل سامنے آتا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

    مندر حملہ کیس، متعلقہ ایس ایچ او کو ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ چیف جسٹس

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک کی سب سے بڑی کمزوری ہے کہ تعلیم پر کوٸی توجہ نہیں دیتا،آپکا صوبہ گھوسٹ سکولز کے نام سے مشہور ہے،آپکے ادارہ کا آڈٹ کون کرتا ہے ؟ وکیل سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ نے عدالت میں کہا کہ ہمارا آڈٹ اے جی پی آر کرتا ہے، حکم دیں تو پچھلے 20سالوں کا آڈٹ پیش کرینگے ،سپریم کورٹ نے آڈیٹر جنرل کو سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کا آڈٹ کرنے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آڈٹ مکمل ہونے پر رپورٹ متعقلہ عدالت میں جمع کرواٸی جائے، عدالت نے معاملہ نمٹا

  • سپریم کورٹ کی آڈیٹر جنرل کو ڈیم فنڈ کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کی ہدایت

    سپریم کورٹ کی آڈیٹر جنرل کو ڈیم فنڈ کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کی ہدایت

    سپریم کورٹ میں دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے آڈیٹر جنرل کو ڈیم فنڈ کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کی ہدایت کر دی ،عدالت نے حکم دیا کہ سٹیٹ بنک کیساتھ مل کر ڈونرز اور سرمایہ جاری کے تمام ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے، دستاویزات میں بے ضابطگی ہونے یا نہ ہونے کی نشاندہی کی جائے، حکام سٹیٹ بینک نے کہا کہ ڈیمز فنڈ سے کوئی اخراجات ہوئے نہ کبھی کسی نے رقم نکالی،ڈیمز فنڈ میں اس وقت 16 ارب سے زائد رقم موجود ہے،جو رقم بھی آتی ہے سرکاری سکیورٹیز میں سرمایہ کاری کر دی جاتی ہے،نیشنل بنک کے ذریعے ٹی بلز میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈیمز فنڈ کے ڈونرز کا تمام ریکارڈ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود ہے،

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاری کی تو فنڈ میں دس ارب تھے جو 26 جنوری کو 17 ارب ہو جائیں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو بتائیں گے کہ انکے فنڈ سے کونسی مشینری خریدی گئی،ڈیمز فنڈ کا پیسہ سیلاب کی تباہ کاریوں کی مرمت پر نہیں خرچ ہوگا،ٹرانسمیشن لائنز منصوبے کیلئے بہت اہم ہیں، سیکرٹری واٹر نے عدالت میں کہا کہ 2.4 ارب جاری کرنے کیلئے ہدایات دے دی ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یقینی بنائیں کہ ڈیمز منصوبے کو اس سارے عمل میں نقصان نہ ہو، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مالی مشکلات پر تشویش ہے، ایسے اقدامات کرنے ہیں جس سےاخراجات کم ہوں، اچھی قومیں چیلنجز کا سامنا کرتی ہیں،

    سعد رسول وکیل واپڈا نے عدالت میں کہا کہ پاور ڈویژن پر واپڈا کے 240 ارب روپے واجب الادا ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاور ڈویژن کیوں واپڈا کو ادائیگی نہیں کررہا ؟ سیکرٹری پاور نے کہا کہ ہمیں بجلی کی مد میں وصولیوں پر 400 ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے،گردشی قرضہ 2 کھرب 600 ارب روپے سے تجاوز کرگیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسی وجہ سے آئی ایم ایف نے بھی خدشات کا اظہار کیا ہے، سیکرٹری پاور نے کہا کہ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ بجلی کے نرخ کم اور اخراجات زیادہ ہیں،بہت سی جگہوں پر ہم 100 یونٹس فروخت کریں تو رقم 10 یونٹس کی ملتی ہے،بہت سے علاقوں میں میٹر کا تصور ہی نہیں ہے، کیسکو کمپنی نے گزشتہ سال 94 ارب روپے کی بجلی دی لیکن رقم صرف 25 ارب روپے ملی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ سے یہ کمپنیاں نہیں چلتی تو نجکاری کیوں نہیں کردیتے ؟ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں ان کو دے دیں جو چلا سکیں، آڈیٹر جنرل ڈیم فنڈ کی تمام رقم کو چیک کریں کہ کوئی بے ضابطگی تو نہیں ہوئی ؟ ہم سب ٹرسٹی ہیں اور یہ رقم لوگوں کی امانت ہے، یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ آج بھی ڈیم فنڈ میں پیسے آرہے ہیں،

    سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ ملک میں اس وقت سرکلر ڈیٹ 2.6 ٹریلین روپے ہے، سرکولر ڈیٹ میں مزید اضافہ بھی متوقع ہے، بعض گرڈ سٹیشنز پر 90 فیصد سے زائد بجلی چوری ہوتی ہے،کیسکو نے گزشتہ سال 95 ارب کی بجلی دی بل صرف 25 ارب جمع ہوا، کنڈے ڈال کر بجلی چوری کی جاتی ہے، بجلی چوری میں ہمارے اپنے لوگ بھی ملوث ہوتے ہیں،
    بجلی چوروں کیخلاف کارروائی بھی پورے دل کیساتھ نہیں کی جاتی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈسکوز کا یہ حال ہے تو نجکاری کیوں نہیں کر دیتے؟ آئی ایم ایف اور حکومت دونوں کو ہی سرکولر ڈیٹ پر تشویش ہے، سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے سرکولر ڈیٹ میں بہتری آئی ہے،بجلی قیمت خرید اور فروخت میں سالانہ 400 ارب روپے کا شارٹ فال ہے، وکیل واپڈا نے کہا کہ پاور ڈویژن نے سی پی پی اے کی مد 240 ارب ادا کرنے ہیں،ٹھیکیداروں کو ادائیگی نہ ہونے سے ڈیمز کا کام متاثر ہو رہا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ممکن ہے پیسوں کی کمی کے باعث حکومت ادائیگی نہ کر پا رہی ہو، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرانسمیشن لائنز منصوبے کیلئے بہت اہم ہیں وکیل واپڈا نے کہا کہ سیلاب اور سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے ڈیمز کا کام متاثر ہوا،سیلاب سے مہمند ڈیم کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا،فنڈز کی کمی بھی ڈیمز منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے،پی ایس ڈی پی میں مختص رقم بھی نہیں مل رہی،کرونا کی وجہ سے بین الاقوامی ماہرین بھی واپس چلے گئے تھے،
    ڈیمز کی تعمیر کا کام مقررہ وقت سے کم و بیش ایک سال پیچھے رہ گیا ہے، عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا

    عدالت کیا کرے جو ڈیم بنا رہے ہیں وہی ان معاملات کو دیکھیں گے،سپریم کورٹ

    ‏دیامیر بھاشا ڈیم کو میں نے ایٹمی پروگرام جتنا اہم منصوبہ قرار دیا اور محنت کر کے سی پیک میں شامل کروایا ، احسن اقبال

    ڈیموں کے مخالفین پاکستان کے دشمن ہیں: سابق چیئرمین واپڈا انجینئر شمس الملک

    ڈیم مخالف مہم بے نقاب ، ہم نے مقامی لوگوں کو ڈیم کے خلاف بھڑکایا، بھارتی جنرل کا اعتراف

    سینیٹ اجلاس میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر بارے رپورٹ پیش ہونے پر اپوزیشن کا احتجاج

    سپریم کورٹ میں کالا باغ ڈیم کا تذکرہ،عدالت نے کیا دیئے ریمارکس؟

    کالا باغ ڈیم ضروری،نئے ڈیمز نہ بنے تو صوبے آپس میں لڑتے رہیں گے ،چیئرمین ارسا

  • قانون سازی کے وقت اپوزیشن کا ہونا ضروری ہے، چیف جسٹس

    قانون سازی کے وقت اپوزیشن کا ہونا ضروری ہے، چیف جسٹس

    قانون سازی کے وقت اپوزیشن کا ہونا ضروری ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان
    چیف جسٹس آف پاکستان نے نیب ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ ہمارا معاشرہ کرپشن کی بیماری کا شکار ہے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بنچ نے کی، جس میں وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترمیم کے وقت ارکان اسمبلی کی اکثریت نے منظوری دی۔ اس وقت 159 ارکان اسمبلی موجود تھے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سوال یہ ہے کہ قانون سازی کے وقت اپوزیشن کا ہونا ضروری ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ایسی کوئی پہلے مثال موجود ہے کہ رکن پارلیمنٹ نے قانون سازی کو چیلنج کیا ہو؟۔ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ میرے سامنے ایسا کوئی کیس نہیں جس میں رکن پارلیمنٹ نے قانون چیلنج کیا ہو۔ درخواست گزار نہ صرف رکن پارلیمنٹ ہے بلکہ ملک کا وزیر اعظم بھی رہا ہے۔میں اپنے دلائل میں درخواست گزار کی بدنیتی اور ذاتی مفاد کی بھی وضاحت کروں گا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ موجودہ کیس میں نیب قانون کی بہتری دیکھ رہے ہیں۔ ضروری نہیں کہ قانون کو کالعدم ہی قرار دیا جائے۔ قانون کو کالعدم قرار دینے کے علاوہ بھی عدالت کے پاس آپشن موجود ہیں۔ قانون کو آئین کے مطابق ہونے پر ہی آگے بڑھنا چاہیئے۔

    جٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر نیب ترامیم بنیادی حقوق سے متصادم ہوئیں تو ہی عدالت آپشنز پر غور کرے گی۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ کوئی بھی ایسا قانون قائم نہیں رہ سکتا تو بنیادی حقوق سے متصادم ہو۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالتیں سیاسی فیصلے کرنے کی جگہ نہیں ہیں۔ کیا عدالت متنازع معاملات پر فیصلے کرنے لگے تو کیا مزید تنازعات پیدا ہوتے ہیں؟۔اس کیس میں سیاسی تنازع بھی ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تحریک انصاف کے وکیل نے دلائل میں کہا پاکستان بننے کے وقت سے کرپشن بیماری کی صورت میں موجود ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارا معاشرہ کرپشن کی بیماری کا شکار ہے۔ عوامی مفاد اور انفرادی فائدہ اٹھانے والوں کے درمیان توازن ہونا چاہیے۔سوال یہ ہے کہ عدالت نے آئین کا دفاع اور تحفظ کیسے کرنا ہے۔

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

     مبشر لقمان سے بانی مہمند لویہ جرگہ جاوید مہمند کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی ہے،

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئین کا مطلب پاکستان کے عوام ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ فیصلہ کرنے میں عدالت کہاں اور کس حد تک جا سکتی ہے۔ پبلک آفس ہولڈرز قابل احتساب ہیں۔ اگر حالیہ نیب ترامیم سے احتساب کا معیار گرا ہوا ہے تو عدالت ان کو برقرار کیسے رکھ سکتی ہے؟۔ جب سے پاکستان بنا انسداد کرپشن قوانین بنے ہوئے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ انسداد کرپشن قوانین کی وجہ ہی سے عوامی عہدیدار قابل احتساب ہیں۔ ہم نے سماجی یا سیاسی مسائل کو نہیں دیکھنا۔ اعتماد ہی تمام معاملات کا مرکز ہے۔ پبلک آفس کے لیے ڈاکٹرائن آف ٹرسٹ ضروری ہے۔ ججز بھی عوامی اعتماد کے ضامن ہیں۔ ججز بھی قابل احتساب ہیں۔ ججز پیسے کے قریب بھی نہیں جا سکتے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سپریم کورٹ کو ایک معاملے میں فنڈز ملے وہ اسٹیٹ بینک میں جمع کرا دیے۔ آج بھی انتظار کر رہے ہیں کہ فنڈز استعمال ہوں۔ اگر سپریم کورٹ فنڈز کی تفصیلات اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر نہ ڈالتی تو آج بھی تنقید ہو رہی ہوتی۔ وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ اعتماد بہت اہم ہوتا ہے۔ عدلیہ بھی پارلیمنٹ اور سیاستدانوں پر اعتماد کرے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کو پارلیمنٹ پر اعتماد ہے مگر عوام کا اعتماد عدلیہ پر ہے۔ کچھ بنیادی لوازمات ہیں جس پر عدالت نے بھی عمل کرنا ہے۔ عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 12 جنوری سہ پہر ڈیڑھ بجے تک ملتوی کر دی۔

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

     خواجہ سرا رمل علی اس وقت خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں،