Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • پارلیمان بھی آئین اور شریعت کے تابع،احتساب اسلام کا بنیادی اصول ہے،سپریم کورٹ

    پارلیمان بھی آئین اور شریعت کے تابع،احتساب اسلام کا بنیادی اصول ہے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بنچ کا حصہ ہیں عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے سپریم کورٹ میں دلائل دیئے،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ نے کسی ختم کیے گئے قانون کو بحال کرنے کا کبھی حکم دیا ہے؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ 1990 میں واپس لیا گیا قانون بحال کرنے کا حکم دے چکی ہے،عوامی عہدیدار ہونا ایک مقدس ذمہ داری ہوتی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمان بھی آئین اور شریعت کے تابع ہوتی ہے،احتساب اسلام کا بنیادی اصول ہے،

    نیب نے اٹارنی جنرل کے دلائل اپنانے کا تحریری موقف عدالت میں جمع کرا دیا ،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ پلی بارگین سے متعلق قانون میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، پلی بارگین کی قسط نہ دینے والے کو سہولت دی گئی ہے،پہلے پلی بارگین کی رقم نہ دینے والے کیخلاف کارروائی ہوتی تھی،ترمیم کے بعد قسط نہ دینے والی کی پلی بارگین ختم ہو جائے گی، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کا کیس 50 کروڑ روپےسے کم ہو تو ازخود کیس ختم ہوجائے گا،وکیل نے کہا کہ ترمیم کے تحت ملزم بری ہوکر جمع کرائی گئی پلی بارگین رقم واپس مانگ سکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح تو ریاست کو اربوں روپے کی ادائیگی کرنا پڑے گی، گرفتاری کے دوران پلی بارگین کرنے والا دباو ثابت بھی کر سکتا ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا دباو ڈال کر ملزم سے پیسے لینا درست ہے؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ پلی بارگین احتساب عدالت کی منظوری سے ہوتی ہے، اگر ملزم پر دبا و ہو تو عدالت کو آگاہ کر سکتا ہے، منتخب نمائندے حلقے میں کام نہ ہونے پر عدالت ہی آسکتے ہیں اسمبلی نہیں جاتے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عمران خان پر بھی عوام نے اعتماد کرکے اسمبلی بھیجا تھا، عمران خان حلقے کے عوام کی مرضی کے بغیر اسمبلی کیسے اور کیوں چھوڑ آئے؟ نیب ترامیم پر تمام سوالات عمران خان اسمبلی میں بھی اٹھا سکتے تھے، وکیل نے کہا کہ اسمبلی میں حکومت اکثریت سے قانون منظور کروا لیتی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آج آپ نے اہم نکات بتائے ہیں، بنیادی انسانی حقوق اور ملزمان کی جانب سے قانون سازی اہم سوالات ہیں،کیس کی سماعت کل دوپہر ساڑھے بارہ بجے تک ملتوی کر دی گئی

    خواتین کو تعلیم سے روکنا جہالت،گزشتہ 7ماہ سے انتشار کا کوئی واقعہ نہیں ہوا،طاہر اشرفی

    کسی بھی مکتبہ فکر کو کافر نہیں قرار دیا جا سکتا ،علامہ طاہر اشرفی

    امریکا اپنی ہزیمت کا ملبہ ڈالنا چاہتا ہے تو پاکستان اس کا مقابلہ کرے،علامہ طاہر اشرفی

    وزیراعظم  نے مکہ میں دوران طواف 3 مرتبہ مجھے کیا کہا؟ طاہر اشرفی کا اہم انکشاف

    تحریک انصاف نے نئی نیب ترامیم کوچیلنج کردیا

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست،روزانہ سماعت کریںگے، چیف جسٹس

    نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست،روزانہ سماعت کریںگے، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل خواجہ حارث سے سوال کیا کہ دلائل مکمل کرنے کیلئے کتنا وقت درکار ہوگا،وکیل نے عدالت میں جواب دیا کہ مزید دو دن میں اپنے دلائل مکمل کر لونگا،نیب قوانین میں ترامیم سے متعدد کرپشن کے کیسز واپس ہوگئے ہیں،زیر التوا نیب انکوائریوں کو بھی روک دیا گیا ہے،حکومت نے کرپشن چھپانے کیلئے نیب عدالتوں کے اختیارات کم کیے ،گزشتہ سماعت پر وفاق نے جواب جمع کروانے کا کہا تھا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس ابھی تک وفاق کا جواب نہیں آیا اٹارنی جنرل بھی موجود نہیں ،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ابھی تک تو نیب کا موقف بھی آن ریکارڈ نہیں،معلوم ہونا چاہیے کیا نیب علیحدہ موقف اپنائے گا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب نے کہا تھا وہ اٹارنی جنرل کے دلائل کو اپنائیں گے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نیب نے زبانی کہا تھا ابھی تحریری کچھ نہیں آیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صرف بنیادی حقوق اور آئین کی خلاف ورزی کو دیکھنا ہے،وکیل نے کہا کہ نیب قانون میں مختلف شقوں کے ذریعے عوامی عہدیداروں کو ڈیل کیا گیا،

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی،.وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ احتساب کے قانون کی تاریخ 1947 سے شروع ہوتی ہے،جب نیب احتساب آرڈیننس آیا تو وہ ا س کا ہی ایکسٹینشن تھا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یعنی آج تک احتساب کا قانون وقتی ضرورت کے مطابق آگے بڑھا ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دلائل سے ایسے لگتا ہے کہ ختم نہ ہونے والی کرپشن کی وجہ سے احتساب ملکی جڑوں میں ہے

    خواتین کو تعلیم سے روکنا جہالت،گزشتہ 7ماہ سے انتشار کا کوئی واقعہ نہیں ہوا،طاہر اشرفی

    کسی بھی مکتبہ فکر کو کافر نہیں قرار دیا جا سکتا ،علامہ طاہر اشرفی

    امریکا اپنی ہزیمت کا ملبہ ڈالنا چاہتا ہے تو پاکستان اس کا مقابلہ کرے،علامہ طاہر اشرفی

    وزیراعظم  نے مکہ میں دوران طواف 3 مرتبہ مجھے کیا کہا؟ طاہر اشرفی کا اہم انکشاف

    تحریک انصاف نے نئی نیب ترامیم کوچیلنج کردیا

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست،وکیل نے ایک اور درخواست دائر کر دی

    نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست،وکیل نے ایک اور درخواست دائر کر دی

    نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست،وکیل نے ایک اور درخواست دائر کر دی

    سپریم کورٹ .نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست کا معاملہ عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے اضافی دستاویزات جمع کرانے کیلئے درخواست دائر کر دی

    دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ درخواست منظور کرتے ہوئے اضافی دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے،نیب ترامیم کے باعث سینکڑوں ریفرنس واپس کر دیئے گئے ہیں حالیہ نیب ترامیم سے کرپشن کے متعدد مقدمات نیب عدالتوں نے ختم کر دیئے ہیں،حکومت نے نیب ترامیم کرپشن چھپانے کیلئے کی ہیں،نیب عدالتوں سے واپس کیے گئے تمام ریفرنسز کا دوبارہ جائزہ لیا جائے،چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کل کیس کی سماعت کرے گا

    خواتین کو تعلیم سے روکنا جہالت،گزشتہ 7ماہ سے انتشار کا کوئی واقعہ نہیں ہوا،طاہر اشرفی

    کسی بھی مکتبہ فکر کو کافر نہیں قرار دیا جا سکتا ،علامہ طاہر اشرفی

    امریکا اپنی ہزیمت کا ملبہ ڈالنا چاہتا ہے تو پاکستان اس کا مقابلہ کرے،علامہ طاہر اشرفی

    وزیراعظم  نے مکہ میں دوران طواف 3 مرتبہ مجھے کیا کہا؟ طاہر اشرفی کا اہم انکشاف

    تحریک انصاف نے نئی نیب ترامیم کوچیلنج کردیا

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔
    عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • آڈیو لیکس، تحریک انصاف سپریم کورٹ پہنچ گئی

    آڈیو لیکس، تحریک انصاف سپریم کورٹ پہنچ گئی

    آڈیو لیکس، تحریک انصاف سپریم کورٹ پہنچ گئی
    آڈیو لیکس کا معاملہ ،پاکستان تحریک انصاف نے آنکوائری کمیشن بنانے کے درخواست دائر کردی

    درخواست پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل اسد عمر نے دائر کی ہے۔سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں وزیر اعظم اور کچھ وفاقی وزرا کی آڈیو لیکس سوشل میڈیا پر جاری ہوئیں ان آڈیو لیکس میں درخواست گزارکو سیاست سے دور رکھنے کے لئے سازش بنائی ان آڈیو لیکس میں ایک مجرمانہ سازش کے تحت درخواست گزارکو ٹارگٹ کیا گیا درخواست میں آڈیو لیکس کا ٹرانسکرپٹ شامل کیا گیا ہے

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومتی وزرا نے ایسی سازش اسپیکر اور قومی اسیمبلی کے سیکریٹری کے تعاون سے تیارکی۔ اس آڈیو لیک کو وزیر اعظم اور وزیر داخلہ تسلیم کرچکے ہیں۔نئی صورتحال پیدا ہونے پر عدالت سے استدعا ہے کہ انکوائری کمیشن بنایا جائے،وزیر اعظم ، رانا ثنااللہ ، اعظم نذیر سمیت نامزد شخصیات کے خلاف کریمنل پروسیڈنگزکی ہدایت کی جائے،

    دوسری جانب حکومت نے بھی آڈیو لیکس کے بعد اہم فیصلے کر لئے ہیں،گزشتہ روز وفاقی کابینہ اجلاس ہوا، جاری اعلامیہ کے مطابق آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے کابینہ کی خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور نیشنل سکیورٹی کمیٹی کی طرف سے آڈیو لیکس کی مکمل تحقیق کے فیصلے کی تائید کی گئی ہے۔وفاقی کابینہ کا کہنا ہے کہ آڈیوز نے سابق حکومت اور عمران نیازی کی مجرمانہ سازش بے نقاب کردی، ایک سفارتی’سائفر‘ کو من گھڑت معنی دے کر سیاسی مفادات کی خاطر قومی مفادات کا قتل کیا گیا ،کابینہ نے فیصلہ کیا کہ خصوصی کمیٹی سابق وزیراعظم اور ان کے سابق پرنسپل سیکرٹری کے خلاف کارروائی کا تعین کرے گی، خصوصی کمیٹی سینیئر وزرا کے خلاف بھی قانونی کارروائی کا تعین کرے گی جبکہ کابینہ کمیٹی میں حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کے نمائندے شامل ہوں گے جس میں خارجہ، داخلہ، قانون کی وزارتوں کے وزرا شامل ہوں گے۔

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی اور اعظم خان کی ایک اور آڈیو منظر عام پر آ ئی ہے اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان اپنے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور پی ایس اعظم خان کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے کہ کس طرح سائفر کو موڑ دیا جائے اور اسے عوام میں اپنی حکومت کے خلاف سازش کے طور پر بیچا جائے

     عمران خان جھوٹے بیانیے پر سیاست کر رہے ہیں،

     مریم نواز نے عمران خان پر کڑی تنقید 

     اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ جدید دور میں سائبر حملے عام ہوگئے ہیں

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

  • جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نےجوڈیشل کمیشن کا اجلاس فوری بلانےکےلیے خط لکھ دیا

    جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نےجوڈیشل کمیشن کا اجلاس فوری بلانےکےلیے خط لکھ دیا

    اسلام آباد:سپریم کورٹ کے جج جسٹس فائز عیسیٰ نے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس فوری طلب کرنے کیلئے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ دیا۔ کہا کہ عدالت عظمیٰ میں 5 ججز کی اسامیاں خالی ہیں، جس کی وجہ سے مقدمات کا بوجھ دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے چیف جسٹس آف پاکستان کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں 5 ججز کی ریٹائرمنٹ کے باعث آسامیاں خالی ہیں، اس لئے فوری طور پر جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلایا جائے۔انہوں نے خط میں کہا ہے کہ سابق چیف جسٹس گلزار احمد کی ریٹائرمنٹ کو 239، جسٹس قاضی امین احمد کی ریٹائرمنٹ کو 187، جسٹس مقبول باقر کو 177، جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل کو 77 اور جسٹس سجاد علی شاہ کو ریٹائر ہوئے 46 روز گزر چکے ہیں۔

     

     

    خط میں کہا گیا ہے کہ فوری انصاف کی فراہمی سپریم کورٹ کا آئینی فرض ہے، سمجھ سے بالاتر ہے کہ سپریم کورٹ ججز کی 30 فیصد کم تعداد کے ساتھ کیوں کام کررہا ہے، عدالت عظمیٰ پر مقدمات کا بوجھ دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔انہوں نے لکھا کہ سپریم کورٹ میں 50 ہزار سے زائد کیسز زیر التواء ہیں، مجھے یہ بتاتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے کہ اگر اسامیوں کو پر نہ کیا گیا تو سپریم کورٹ میں دائر مقدمات کا کبھی بھی فیصلہ ہونے کا امکان نہیں۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہنا ہے کہ چیف جسٹس صاحب! متعدد بار کہہ چکا ہوں اپنا آئینی کردار ادا کریں، سپریم جوڈیشل کونسل ارکان کو اپنا کام بھی کرنےدیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کیا جائے تاکہ ارکان ججز کی تقرری کرسکیں کیونکہ عدلیہ پر عوام کا اعتماد کسی صورت کم نہیں ہونا چاہئے۔

     مریم نواز نے عمران خان پر کڑی تنقید 

     اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ جدید دور میں سائبر حملے عام ہوگئے ہیں

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

  • عدالت کومس لیڈ کیا گیا،کیوں نہ توہین عدالت کا نوٹس کریں،سپریم کورٹ

    عدالت کومس لیڈ کیا گیا،کیوں نہ توہین عدالت کا نوٹس کریں،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں بھونگ انٹرچینج کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی رپورٹ پراظہار برہمی کرتے ہوئے سیکریٹری کو طلب کر لیا،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو رپورٹ میں مس لیڈ کیا گیا،کیوں نہ توہین عدالت کا نوٹس کریں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشدین قصوری پیش عدالت میں پیش ہوئےاور کہا کہ پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ نے رپورٹ گزشتہ شام کو بھیجی،رپورٹ کے مطابق بھونگ انٹر چینج معاشی طور پر قابل عمل نہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈی ڈی پی ڈبلیو نے بھونگ انٹر چینج کی منظوری دی،ڈی ڈی ڈبلیو پی میٹنگ کے منٹس بھی رپورٹ کیساتھ لگے ہیں،عدالت نے چیف ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونی کیشن افسر سے استفسار کیا کہ کس کے کہنے پر رپورٹ کا ڈرافت تبدیل ہوا،

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

    بھونگ میں موٹروے انٹرچینج بنانے کے کیس کی وقفے کے بعد سماعت ہوئی،وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال سیکرٹری پلاننگ کے ہمراہ خود پیش ہوگئے ، احسن اقبال نے عدالت میں کہا کہ افسران چار سال سے گھبرائے ہوئے ہیں خود ذمہ داری لینے پیش ہوا ہوں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ عدالتی حکم پر عملدرآمد کا ہے، احسن اقبال نے کہا کہ عدالت کی حکم عدولی کرنا کبھی مقصد نہیں رہا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپکی بات میں وزن بھی ہوگا اور منطق بھی لیکن معاملہ عدالتی حکم کا ہے، احسن اقبال نے کہا کہ نظرثانی درخواست دائر کرکے عدالت کو اپنا موقف پیش کرینگے، چاہتے ہیں کہ پیسہ وہاں خرچ ہو جہاں اس کا بہترین استعمال ہو،حال میں میں نیب ریفرنس سے بری ہوا ہوں،میری وزارت کے 25 افسران پر مقدمہ بنایا گیا تھا، جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ریفرنس پر ہوسکتا ہے اپیل ہمارے سامنے آ جائے،

    احسن اقبال نے عدالت میں کہا کہ عدالت جہاں حکم کرے گی وہاں انٹرچینج بنا دینگے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت حکم دے چکی ہے اس پر عملدرآمد ہونا ہے،افسران کو بتا دیں سپریم کورٹ رپورٹ مانگے تو ٹیمپرنگ نہ ہو،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالتی حکم کیخلاف نظرثانی دائر کرنا چاہتے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نظرثانی درخواست عدالتی حکم کے ایک ماہ میں دائر ہوسکتی ہے، نظرثانی بروقت دائر ہوگی یا نہیں اس کا جائزہ بھی خود کیجئے گا، احسن اقبال نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے معاشی مشکلات ہیں،فنڈز کی صورتحال پر عدالت کو رپورٹ جمع کرانا چاہتے ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو رپورٹ آپ دینا چاہتے ہیں جمع کرا دیں جائزہ لینگے، سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت ملتوی کر دی

    عدالت پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ بھونگ انٹرچینج جہاں سپریم کورٹ کہے گی وہاں بنائیں گے،ہم چاہتے ہیں انٹرچینج صادق آباد کے قریب بنے تاکہ زیادہ لوگوں کو معاشی فائدہ ہو،صادق آباد کے قریب انٹرچینج بنے تاکہ ہندو مندر کو بھی فائدہ پہنچے،اسحاق ڈار کے تجربے سے فائدہ اٹھائیں گے،اسحاق ڈار کے آنے سے قیاس آرائیاں ختم ہوئیں جس سے ڈالر نیچے آرہا ہے،پی ٹی آئی حکومت کے آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے سے مہنگائی بڑھی ہے،

  • اہلیہ پر تیزاب پھینکنے والے سزائے موت کے مجرم کی اپیل پر ہوئی سماعت

    اہلیہ پر تیزاب پھینکنے والے سزائے موت کے مجرم کی اپیل پر ہوئی سماعت

    سپریم کورٹ میں اہلیہ پر تیزاب پھینکنے والے سزائے موت کے مجرم کی اپیل پر سماعت ہوئی

    وکیل مجرم نے عدالت میں کہا کہ گواہان کی موقع پر موجودگی ثابت نہیں ہوتی،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تیزاب پھینکنے سے مجرم کی بیوی جاں بحق اور تین خواتین زخمی ہوئیں، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ تفتیش سے کیس کے حقائق خراب نہ ہوں تو مسئلہ نہیں ہوتا،ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے،ڈویژن بنچ کے فیصلے کیخلاف تین رکنی بنچ ہی اپیل سننے کا مجاز ہے، عدالت نے کیس تین رکنی بنچ کے سامنے مقرر کرنے کیلئے فائل چیف جسٹس پاکستان کو بھجوا دی ،جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں دو رکنی ببچ نے سماعت کی

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    پولیس اہلکار نے لڑکی کو منہ بولی بیٹی بنا کر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، نازیبا ویڈیو بھی بنا لیں

    قبل ازیں لاہور میں انسداد دہشت گردی عدالت نے شادی سے انکار پر لڑکی پر تیزاب پھینکنے والے 2 افراد کو عمر قید، 21، 21 سال قید اور جرمانے کی سزا سنا دی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزمان محمد احمد اور شاہ نواز کو عمر قید، 21، 21 سال قید کے علاوہ 42 ، 42 لاکھ دیت اور 10، 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنے کا حکم سنایا ،مقدمے کے مطابق ملزمان نے شادی سے انکار پر لڑکی کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا تھا ،عدالت نے ملزمان محمد احمد اور شاہ نواز کو ٹرائل مکمل ہونے کے بعد سزا سنائی، ملزمان نے شادی سے انکار پر تیزاب سے بھرا جگ مدعیہ پر پھینکا تھا

  • دنیا کی طرف دیکھنے کے بجائے خود عملی اقدامات کرنے ہوں گے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    دنیا کی طرف دیکھنے کے بجائے خود عملی اقدامات کرنے ہوں گے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے 1 ہزار بچیوں کے سکول تباہ کیے ہم ان سے کیا مذاکرات کر رہے ہیں؟ سوات میں بچیوں کے جس اسکول پر حملہ ہوا وہ 5 سال تک بند رہا قرآن میں اللہ نے خواتین کے احترام کا حکم دیا ہے

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی،صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ ججوں،بیورو کریٹس کو کاریں دینا بند کریں،سرکاری خزانے میں غریب تو اپنا حصہ ڈال رہا ہے لیکن وہ پیدل چلتا ہے، سائیکل پر سفر کرتا ہے، وہ پیسہ سائیکل کے راستوں، پیدل چلنے کے راستوں اور پبلک ٹرانسپورٹ پر خرچ کیا جائے سیلاب کی وجہ سے ملک کا ایک بڑا حصہ زیر آب آیا، عالمی موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ہمیں دنیا کی طرف دیکھنے کے بجائے خود عملی اقدامات کرنے ہوں گے

    جسٹس اعجاز الاحسن نے نویں انٹرنیشنل جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت معاشی معاملات میں سہولت دے سکتی ہے رکاوٹ نہیں بن سکتی تنازعات کے حل کے متبادل نظام کیلئے قانون سازی ضروری ہے،قانون میں خلا ہو تو عدالتوں کیلئے کام کرنا ممکن نہیں ہوتا، سی پیک اور توانائی سمیت متعدد شعبوں میں غیرملکی سرمایہ کار کے مواقع موجود ہیں،تنازعات کے حل کا متبادل نظام سرمایہ کاروں کیلئے سہولت کا باعث ہوگا، متبادل نظام سے کاروباری تنازعات عدالت کی نسبت جلد حل ہوسکتے ہیں،بلوچستان کے علاوہ دیگر صوبوں میں ثالثی کے ذریعے تنازعات حل کرنے کے قانون بن چکے ہیں،خیبرپختونخوامیں معمولی نوعیت کے فوجداری مقدمات بھی ثالثی نظام کے ذریعے حل ہو رہے ہیں، عوام کو عدالتوں میں آنے کے بجائے ثالثی کے نظام سے رجوع کرنے کی آگاہی دی جانی چاہیے، وکلا سائلین کو غیر سنجیدہ مقدمات عدالت لانے کے بجائے ثالثی کے متبادل نظام کا مشورہ دیں، عدالتوں میں غیر ضروری مقدمات ہونے کی وجہ سے کیسز کا بوجھ بڑھ رہا ہے،

    تعمیراتی پراجیکٹس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم،وزیراعظم کے معاون خصوصی کو طلب کر لیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    راول ڈیم کے کنارے کمرشل تعمیرات سے متعلق کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم

    سیاسی لیڈر شپ کو سیاسی استحکام کیلئے مذاکرات کرنے ہونگے،

  • جمہوریت کا استحکام آئین وقانون کی بالادستی سے وابستہ ہے، چیف جسٹس

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے 9ویں بین الاقوامی جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب مہمانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ اس کانفرنس میں شریک ہوئے،بین الاقوامی جوڈیشل کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد دیتا ہوں، کانفرنس شرکا کا تقاریر کو صبروتحمل سے سننا قابل ستائش ہے، کانفرنس میں شریک تمام مندوبین کا خیر مقدم کرتا ہوں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ سیلاب سے پاکستان میں بہت تباہی آئی ہے، کانفرنس سے عدالتی نظام کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی،سیلاب زدگان کی مدد کیلئے ہم نے ایک کوشش کی ہے، آئین پاکستان عوام کے امنگوں کاترجمان ہے، آئین پاکستان میں عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا گیا ہے یوسف رضا گیلانی کیس میں آئین کی پاسداری کی گئی، نعمت اللہ کیس میں آئین کی شق9 پر عملدرآمد یقینی بنایا گیا،عدلیہ نے بلا تعصب قانون کی بالادستی کویقینی بنایا،عدلیہ نے معاشرے کے محروم طبقے کے حقوق کے تحفظ کیلئے یادگار فیصلے کیے، آئین کی شق 9کے تحت عوامی حقوق کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری ہے،جمہوریت کا استحکام آئین وقانون کی بالادستی سے وابستہ ہے، حالیہ سیلاب قانون سازوں کیلئے ویک اپ کال ہے،انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے سپریم کورٹ نے سوموٹونوٹسز لیے،گڈگورننس بھی قانون کی بالادستی کا ایک اہم جزو ہے، سستا اور فوری انصاف ہماری ترجیح ہے عدم اعتماد کی تحریک میں قومی اسمبلی کو تحلیل کردیا،سپریم کورٹ نے اسمبلی کی تحلیل اور ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا غیر آئینی قرار دیا،ڈپٹی اسپیکر پنجاب نے آئین سے متصادم رولنگ دی،عدالت نے ڈپٹی اسپیکر پنخاب اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیکر آئین کا نفاذ کیا گڈگورننس بھی قانون کی بالادستی کا ایک اہم جزو ہے، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے،سیاسی مسائل کا حل مذاکرات سے ہی نکل سکتا ہے،سیاسی لیڈر شپ کو سیاسی استحکام کیلئے مذاکرات کرنے ہونگے،

    تعمیراتی پراجیکٹس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم،وزیراعظم کے معاون خصوصی کو طلب کر لیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    راول ڈیم کے کنارے کمرشل تعمیرات سے متعلق کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کے قیام میں عدلیہ کے کردار بہتر کرنے کیلئے ججز سے مشاورت کی،بطورادارہ ہائیکورٹ میں بھی کمی وکوتاہی ہوگی،ایک سول جج صبح 8بجے سے لیکر شام تک کام کرتا ہے،ایگزیکٹواپناکام بہترکرے توعدالت کوسیاسی معاملات میں مداخلت کی ضرورت نہیں پڑیگی،نظام انصاف میں بہتری لانے کیلئےتمام اسٹیک ہولڈرز کیساتھ ملکرکام کرنے کیلئے تیارہیں آئین پر حلف اٹھا کر مارشل لاء کے نفاذ کو جائز قرار دینے کے فیصلے دیئے گئے،عدالتوں کو اس انداز سے فرائض انجام دینے چاہئیں جس پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے،

  • سپریم کورٹ کا ایک بار پھر پی ٹی آئی کو اسمبلی میں واپسی کا مشورہ

    سپریم کورٹ کا ایک بار پھر پی ٹی آئی کو اسمبلی میں واپسی کا مشورہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی اراکین کے قومی اسمبلی سے مرحلہ وار استعفوں کی منظوری کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے پی ٹی آئی کو مرحلہ وار استعفوں کی منظوری کے خلاف کیس تیار کرنے کا ایک اور موقع دے دیا ،عدالت نے کہا کہ ہائیکورٹ کے حکم میں واضح کہا گیا کہ اسپیکر کے مرحلہ وار استعفوں کی منظوری کی قانونی حیثیت ہے بظاہر اسپیکر کے اختیار میں مداخلت سے آرٹیکل 69 متاثر ہو سکتا ہے،عدالت کو مطمئن کریں کہ ہائیکورٹ کے حکم میں کیا کمی ہے،

    سپریم کورٹ نے ایک بار پھر پی ٹی آئی کو اسمبلی میں واپسی کا مشورہ دے دیا، دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عوام نے پانچ سال کیلئے منتخب کیا ہے، پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کرے، پارلیمان میں کردار ادا کرنا ہی اصل فریضہ ہے،لوگ سیلاب سے بے گھر ہوچکے ہیں، ان کے پاس پینے کا پانی ہے نہ کھانے کو روٹی،بیرون ملک سے لوگ متاثرین کی مدد کیلئے آ رہے ہیں، ملک کی معاشی حالت بھی دیکھیں پی ٹی آئی کو اندازہ ہے 123 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے کیا اخراجات ہونگے؟ جسٹس اطہر من اللہ نے گہرائی سے قانون کا جائزہ لیکر فیصلہ دیا ہے،اسپیکر کے کام میں اس قسم کی مداخلت عدالت کیلئے کافی مشکل کام ہے،

    وکیل فیصل چودھری نے عدالت میں کہا کہ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے تحریک انصاف کے استعفے منظور کر لیے تھے،استعفے منظور ہو جائیں تو دوبارہ تصدیق نہیں کی جا سکتی،جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قاسم سوری کا فیصلہ اسی ارادے سے لگتا ہے جیسے تحریک عدم اعتماد پر کیا تھا،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قاسم سوری کے فیصلے میں کسی رکن کا نام نہیں جن کا استعفیٰ منظور کیا گیا ہو،تحریک انصاف بطور جماعت کیسے عدالت آ سکتی ہے؟ استعفیٰ دینا ارکان کا انفرادی عمل ہوتا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کے معاملات میں وضع داری اور برداشت سے چلنا پڑتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جلد بازی نہ کریں، سوچنے کا ایک اور موقع دے رہے ہیں، پارٹی سے ہدایات لیں، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ من پسند حلقوں میں انتخابات نہیں ہوسکتے،؟ شکور شاد کے علاوہ کسی رکن نے استعفے سے انکار نہیں کیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا اسپیکر کو کبھی پوچھا ہے کہ استعفوں کی تصدیق کیوں نہیں کر رہے؟ اسپیکر کا اپنا طریقہ کار ہے ہم کیسے مداخلت کر سکتے ہیں؟ہر ادارے کی اپنی صلاحیت ہوتی ہے، عام انتخابات کیلئے پورا نظام ہوتا ہے،ضمنی انتخابات میں ٹرن آوٹ بھی کم ہوتا ہے،وکیل نے کہا کہ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ا سپیکر کے کام میں مداخلت نہیں کر سکتے،

    اپوزیشن کا بڑا یوٹرن، پی ٹی آئی کی ایک حکومت کو خود ہی بچا لیا

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق