Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کیسز کا ریکارڈ مانگ لیا

    سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کیسز کا ریکارڈ مانگ لیا

    اسلام آباد: سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کیس میں آئینی بینچ نے وکیل وزارت دفاع سے کہا کہ ملٹری ٹرائل کیسز کا ریکارڈ مانگا تھا، عدالت دیکھناچاہتی ہے کہ ٹرائل میں شہادتوں پر کیسے فیصلہ ہوا۔

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کی ،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیے،جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ عدالت نے آپ سے ملٹری ٹرائل والے کیسز کا ریکارڈ مانگا تھا، عدالت دیکھناچاہتی ہے کہ ٹرائل میں شہادتوں پر کیسے فیصلہ ہوا، وکیل وزارت دفاع نے جواب دیا عدالت کو ایک کیس کا ریکارڈ جائزہ کے لیے دکھادیں گے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ عدالت نے پروسیجر دیکھناہے کیا فیئرٹرائل کے ملٹری کورٹ میں تقاضے پورے ہوئے، اس پر وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ ملٹری ٹرائل میں پورا پروسیجر فالو کیا جاتا ہے لیکن ہائیکورٹس نہ ہی سپریم کورٹ میرٹس کا جائزہ لے سکتی ہے۔

    جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ عدالت نے ٹرائل میں پیش شواہد کو ڈسکس نہیں کرنا، عدالت محض شواہد کا جائزہ لینا چاہتی ہے، نیچرل جسٹس کے تحت کسی کو سنے بغیر سزا نہیں ہو سکتی، اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت بنیادی حقوق کے نکتے پر سزا کا جائزہ نہیں لے سکتی،دوران سماعت سیکشن 2(1) ڈی ون درست قرار پائے جانے سے متعلق وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ اگر قانون کےسیکشنز درست قرار پائےتو درخواستیں نا قابل سماعت ہوں گی،عدالت نے وکیل وزارت دفاع کو اپنے دلائل کل تک مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائلز کے خلاف اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی کردی۔

    آرٹیکل 191 اے کے اختیار سے متعلق کیس ملتوی

    سابق امریکی صدر اوباما اور انکی اہلیہ میں ممکنہ طلاق کی افواہیں

    ای وی گاڑیاں خریدنے سے حکومت کو فائدہ ہوگا،شرجیل انعام میمن

  • واہ کینٹ خودکش حملہ کیس کے مجرم کی سزائے موت کیخلاف اپیل منظور

    واہ کینٹ خودکش حملہ کیس کے مجرم کی سزائے موت کیخلاف اپیل منظور

    اسلام آباد: واہ کینٹ خودکش حملہ کیس کے مجرم حمید اللہ کی سزائے موت کیخلاف اپیل منظور کر لی گئی-

    باغی ٹی وی :سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ ناقص تفتیش پر مجرم حمید اللہ کی رہائی کا فیصلہ دیا گیا کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا-

    جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ تفتیش درست نہیں ہوتی پھر الزام عدالت پر لگا دیا جاتا ہے،مجرم کے وکیل نے کہا کہ واہ کینٹ واقعہ میں حمید اللہ پر غلط الزام لگایا گیا،حمید اللہ کو فاٹا سے گرفتار کرنے کا بتایا گیا جبکہ واقعہ کی ایف آئی آر 20 منٹ بعد دائر ہوئی، کیسے ممکن ہے کہ واہ کینٹ واقعہ ہو اور ملزم کو 20 منٹ میں فاٹا سے گرفتار کر لیا جائے-

    پنجاب میں اربوں ڈالرز کے سونے کے ذخائر ملنے کی تصدیق

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ نے واہ کینٹ خودکش حملہ کیس کے مجرم حمید اللہ کی سزائے موت کا فیصلہ دیا تھا، 2008 میں واہ کینٹ خودکش حملے میں ملوث مجرم حمید اللہ کو گرفتار کیا گیا-

    میہڑ: باراتیوں کی بس حادثے کا شکار، ایک بچہ جاں بحق، 3 زخمی

  • چیف جسٹس کی  سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران  سے ملاقات

    چیف جسٹس کی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران سے ملاقات

    اسلام آباد: چیف جسٹس یحیی آفریدی نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدے داران سے ملاقات کی-

    باغی ٹی وی: اعلامیے کے مطابق جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس عائشہ ملک بھی ملاقات میں شریک تھیں،فوری اور حکم امتناع کے معاملات کی جلد سماعت پر غور کیا گیا، چیف جسٹس نے سپریم کورٹ بار کے مطالبات کو قبول کیا-

    اعلامیے کے مطابق فوری نوعیت کے معاملات فوری بنیادوں پر سماعت کیلئے مقرر کرنے پر اتفاق ہوا، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے تمام ججز کا شکریہ ادا کیا، فوری نوعیت کے معاملات فوری بنیادوں پر سماعت کے لیے مقرر کرنے پر اتفاق ہوا، فوری نوعیت کی درخواستوں میں وضاحت کے ساتھ ثبوت فراہم کرنا ہو گا، سرکاری ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے دھمکی آمیز یا غیر موافق کارروائی کو فوری مقرر کیا جائے گا،کسی بھی دھمکی آمیز کارروائی کے ثبوت کے ساتھ درخواست جمع کروانا ضروری ہو گا-

    بسکونی کی پریمیئم بسکٹ رینج کو ‘ہوم برانڈ آف دی ایئر’ ایف ایم سی جی ایشیا ایوارڈز 2024 میں اعزاز

    پنجاب:جنگلی جانوروں پر تشدد، قبضہ اور دیگر جرائم پر کارروائی کیلئے عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ

    پی ایس ایل ڈرافٹ میں شامل کیے جانے پر احمد شہزاد بورڈ پر برس پڑے

  • حلف برداری کا نیا سوٹ بھی نہیں خرید سکاتھا،چیف جسٹس

    حلف برداری کا نیا سوٹ بھی نہیں خرید سکاتھا،چیف جسٹس

    چیف جسٹس پاکستان، یحییٰ آفریدی سے سپریم کورٹ پریس ایسوسی ایشن کے ممبران نے ملاقات کی، جس میں انہوں نے عدلیہ کے حوالے سے اہم خیالات کا اظہار کیا۔

    ملاقات کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کا ہر جج آزاد ہے اور وہ ہر کیس کو اپنے انداز سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے ججز کی آزادی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ججز کو بریکٹ نہیں کیا جانا چاہیے، اور ان پر تنقید ضرور ہونی چاہیے مگر وہ تنقید تعمیراتی ہونی چاہیے۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے مزید کہا کہ ان کے چیف جسٹس پاکستان بننے کا فیصلہ بہت جلدی میں ہوا تھا اور اس وقت وہ اپنی حلف برداری کے لیے نیا سوٹ تک نہیں خرید سکے تھے۔ انہوں نے عدلیہ کے اندر اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ سپریم کورٹ میں کئی ریفارمز کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جا چکے ہیں۔

    چیف جسٹس آف پاکستان نے ہائیکورٹ کی اتھارٹی کے احترام کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری ہائیکورٹ کے ماتحت ہے، اس لیے براہ راست ہائیکورٹ کی اتھارٹی یا ماتحت عدلیہ میں مداخلت نہیں ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کی سمت کو تبدیل کر کے انصاف کی فراہمی میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

    ملاقات کے دوران انہوں نے اپنے دورے کا ذکر بھی کیا اور بتایا کہ جب وہ کوئٹہ گئے تھے، تو بار ایسوسی ایشنز نے مسنگ پرسنز کے حوالے سے شکایات کیں۔ اس مسئلے پر بات کرتے ہوئے چیف جسٹس آفریدی نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا ایشو ان کے دل میں گہرا اثر چھوڑ گیا ہے اور اس مسئلے کو حل کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی۔

  • بھارتی سپریم کورٹ کا ہم جنس پرستوں کی شادی فیصلے  پرنظر ثانی سے انکار

    بھارتی سپریم کورٹ کا ہم جنس پرستوں کی شادی فیصلے پرنظر ثانی سے انکار

    بھارتی سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی حیثیت دینے کے اپنے 17 اکتوبر 2023 کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے اس سلسلے میں دائر نظر ثانی کی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے میں کوئی قانونی خامی نہیں ہے۔

    سپریم کورٹ کے پانچ ججوں پر مشتمل بینچ نے اس معاملے کی بند چیمبر میں سماعت کی۔ بینچ کی سربراہی جسٹس بی آر گوائی کر رہے تھے، اور دیگر ججز میں جسٹس سوریہ کانت، بی وی ناگرتھنا، پی ایس نرسمہا اور دیپانکر دتہ شامل تھے۔ جن میں سے جسٹس نرسمہا وہ واحد جج ہیں جو 2023 میں سنائے گئے فیصلے کا حصہ تھے، جبکہ باقی چار ججز اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔نظر ثانی کی درخواستوں میں 13 درخواستیں دائر کی گئی تھیں، جن میں یہ موقف اپنایا گیا کہ شادی کوئی بنیادی حق نہیں ہے اور ہم جنس پرستوں کو اپنے ساتھی کا انتخاب کرنے اور ان کے ساتھ رہنے کا حق تو حاصل ہے، مگر حکومت ان کے رشتہ کو شادی کا درجہ دینے یا کسی اور طریقے سے قانونی حیثیت دینے کا حکم نہیں دے سکتی۔ درخواست گزاروں نے مزید کہا کہ حکومت ایسے جوڑوں کے تحفظات پر غور کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے سکتی ہے۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ ہم جنس پرست جوڑے بچوں کو گود نہیں لے سکتے۔ عدالت نے یہ موقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ حکومت اور پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور اس پر قانون سازی کے فیصلے کا اختیار انہیں دیا گیا ہے۔

    اس فیصلے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی عدالت نے ہم جنس پرستوں کے حقوق کے بارے میں اس معاملے میں حکومت اور قانون سازوں کو فیصلہ سازی کا اختیار دیا ہے، اور عدالت نے اس اہم معاملے پر مزید قانونی بحث کی ضرورت نہیں سمجھی۔

    واضح رہے کہ 2023 میں بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی قرار دینے سے انکار کر دیا تھا تا ہم عدالت نے مودی سرکارکو حکم دیا کہ ہم جنس پرست کمیونٹی کے حقوق کو یقینی بنایا جائے،عدالت نے اس حوالہ سے قانون سازی کی بھی ہدایت کی ہے

    بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس چندر چوڑ نے بھارت کی مرکزی حکومت اور تمام ریاستی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ یقینی بنائیں کہ ہم جنس پرستوں کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ کیا جائے،انکے حقوق بارے عوام کو آگاہی دی جائے،جن ہم جن پرستوں کو تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے انکو حکومت تحفظ فراہم کرے ،حکومت یہ بات بھی یقینی بنائے کہ مختلف جنس والے بچوں کو آپریشن پر مجبور نہ کیا جائے،

    بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے فیصلے میں کہا کہ جنسی رجحان کی بنیاد پر یونین میں داخل ہونے کے حق پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی، متضاد تعلقات میں خواجہ سرا افراد کو موجودہ قوانین بشمول پرسنل لاز کے تحت شادی کرنے کا حق ہے،غیر شادی شدہ جوڑے، بشمول ہم جنس پرست جوڑے، مشترکہ طور پر بچے کو گود لے سکتے ہیں،مرکزی ھکومت ہم جنس پرستوں کی یونین کے حقوق اور اختیارات کے لئے کمیٹی تشکیل دے، ہم جنس جوڑوں کو راشن کارڈ میں بھی شامل کرنے پر غور کیا جائے،بینک اکاؤنٹس کھلوانے میں ان کے لئے مسائل نہ بنائے جائیں،عدالت قانون نہیں بنا سکتی بلکہ صرف اس کی تشریح کر سکتی ہے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنا سکتی ہے،

    بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ اگر اسپیشل میرج ایکٹ کو ختم کر دیا جائے تو یہ ملک کو آزادی سے پہلے کے دور میں واپس لے جائے گا، اسپیشل میرج ایکٹ کے نظام میں تبدیلی کرنی چاہئے یا نہیں، اس کا فیصلہ پارلیمنٹ کو کرنا ہے، اس عدالت کو محتاط رہنا چاہیے کہ وہ قانون سازی کے میدان میں داخل نہ ہوں،ہم جنس پرستوں کا معاملہ دیہی یا شہری کا نہیں لوگ ہم جنس ہوسکتے ہیں چاہے ان کا تعلق کسی گاؤں یا شہر سے ہو، صرف انگریزی بولنے والا یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ ہم جنس پرست ہے یہ ایک کھیتوں میں کام کرنے والی عورت بھی ہوسکتی ہے،ہ ہم جنس پرستوں کی شادیوں کو قاعدے کے طور پر قبول نہیں کیا جاسکتا

    سپریم کورٹ نے اس کیس میں بھارتی حکومت کا مؤقف بھی ریکارڈ کیا جس میں کہا گیا کہ حکومت ہم جنس پرستوں کو حقوق اور سہولیات کی فراہمی کیلئے ایک کمیٹی قائم کرے گی جو ان چیزوں کا جائزہ لے گی،بھارتی سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی تاہم حکومت نے اس درخواست کی مخالفت کی تھی۔

    یورپ ہم جنس پرستی میں پاگل،پاکستان،روس اس پاگل پن کے مخالف ہیں،روسی سفیر

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    برطانیہ؛ہم جنس پرست جوڑے کو ہراساں کرنے والے باس پر کروڑوں روپے جرمانہ

    ہندوستان ایک ہم جنس پرست ملک ہے آیوشمان کھرانہ

    ہم جنس پرستی کو پاکستان میں قانونی تحفظ،مخالفت کریں گے،زاہد محمود قاسمی

    ہم جنس پرست خواتین ڈاکٹرز نے آپس میں منگنی کر لی

  • ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے طریقہ کار پر مطمئن کریں، جسٹس جمال مندوخیل

    ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے طریقہ کار پر مطمئن کریں، جسٹس جمال مندوخیل

    اسلام آبادسویلینز کےفوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں سماعت ہوئی،

    سماعت جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے کی، وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیے،دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق صرف فوج پر ہوتا ہے، فوجی افسران کوبنیادی حقوق اورانصاف ملتاہے یا نہیں ہم سب کو مدنظر رکھیں گے۔ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اس نکتے پربھی وضاحت کریں کہ فوجی عدالت میں فیصلہ کون لکھتا ہے؟ میری معلومات کےمطابق کیس کوئی اور سنتا ہے اور سزا و جزا کا فیصلہ کمانڈنگ افسر کرتاہے، جس نے مقدمہ سنا ہی نہیں وہ سزاو جزا کا فیصلہ کیسے کر سکتا ہے؟ وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ فیصلہ لکھنے کے لیے جیک برانچ کی معاونت حاصل ہوتی ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے طریقہ کار پر مطمئن کریں، خواجہ حارث نے کہا کہ آرمی ایکٹ سپیشل قانون ہے اور سپیشل قوانین کے شواہد اور ٹرائل کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے،

    فوجی ٹرائل میں وکلاء کے دلائل، گواہان پر جرح بھی ہوتی ہے،میں بطور وکیل صفائی پیش ہوتا رہا، جسٹس حسن اظہر رضوی
    جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ عام تاثر ہے کہ فوجی عدالت میں ٹرائل صرف سزا دینے کی حد تک ہوتا ہے، مناسب ہوتا کہ آپ آگاہ کر دیتے کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل کن مراحل سے گزرتا ہے، بلوچستان ہائی کورٹ میں کورٹ مارشل کی خلاف مقدمات سنتا رہا ہوں، کورٹ مارشل میں مرضی کا وکیل کرنے کی سہولت بھی ہوتی ہے،فوجی عدالتوں کا ٹرائل بھی عام عدالت جیسا ہی ہوتا ہے، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ فوجی عدالت میں بطور وکیل صفائی پیش ہوتا رہا ہوں، ملزم کیلئے وکیل کیساتھ ایک افسر بطور دوست بھی مقرر کیا جاتا ہے، ٹرائل میں وکلاء کے دلائل بھی شامل ہوتے اور گواہان پر جرح بھی ہوتی ہے،فرق صرف اتنا ہے کہ فوجی عدالت میں جج افسر بیٹھے ہوتے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ معاملہ بنیادی حقوق اور آرٹیکل 10 اے کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، وکالت اور بطور جج میرا مجموعی تجربہ 38 سال کا ہے، میں آج بھی خود کو پرفیکٹ نہیں سمجھتا، فوجی عدالت میں بیٹھا افسر اتنا پرفیکٹ ہوتا ہے کہ وہ اتنی سخت سزا کا تعین کر سکے؟

  • سپریم کورٹ،  9 مئی کے سزا یافتہ مجرمان کے ساتھ رویہ بارے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ، 9 مئی کے سزا یافتہ مجرمان کے ساتھ رویہ بارے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ آئینی بینچ،سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیس،درخواستوں کی سماعت ہوئی

    آئینی بینچ نے جیلوں میں 9 مئی ملزمان کے ساتھ رویہ کے حوالے سے ر پورٹ طلب کرلی، آئینی بینچ نے وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کو کل دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی، عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کر دی،دلائل دیتے ہوئے خواجہ حارث نے کہا کہسپریم کورٹ نے ماضی میں قرار دیا کہ فوج کے ماتحت سویلنز کا کورٹ مارشل ہوسکتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ موجودہ کیس میں متاثرہ فریق اور اپیل دائر کرنے والا کون ہے؟خواجہ حارث نے کہا کہ اپیل وزارت دفاع کی جانب سے دائر کی گئی ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ وزارت دفاع ایگزیکٹو کا ادارہ ہے،ایگزیکٹو کیخلاف اگر کوئی جرم ہو تو کیا وہ خود جج بن کر فیصلہ کر سکتا ہے؟ آئین میں اختیارات کی تقسیم بالکل واضح ہے، آئین واضح ہے کہ ایگزیکٹو عدلیہ کا کردار ادا نہیں کر سکتا، فوجی عدالتوں کے کیس میں یہ بنیادی آئینی سوال ہے،خواجہ حارث نے کہا کہ کوئی اور فورم دستیاب نہ ہو تو ایگزیکٹو فیصلہ کر سکتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قانون میں انسداد دہشتگردی عدالتوں کا فورم موجود ہے، قانونی فورم کے ہوتے ہوئے ایگزیکٹو خود کیسے جج بن سکتا ہے؟وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ آپ کی بات درست ہے،

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آرمی ایکٹ کو صرف مسلح افواج کے ممبران تک محدود کیا گیا ہے، اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ ایسانہیں ہے، آرمی ایکٹ صرف آرمڈ فورسز تک محدود نہیں،مختلف کیٹیگریزشامل ہیں، اس موقع پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 8(3) فوج کے ڈسپلن اور کارکردگی کے حوالے سے ہے، کیا فوجداری معاملے کو آرٹیکل8(3) میں شامل کیا جا سکتا ہے؟ آئین میں شہریوں کا نہیں پاکستان کے شہریوں کا ذکر ہے۔

    وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ افواج پاکستان کےلوگ بھی اتنے ہی شہری ہیں جتنے دوسرےشہری، اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سوال ہی یہی ہےکہ فوج کےلوگوں کوبنیادی حقوق سےمحروم کیسےکیا جاسکتا ہے کوئی شہری فوج کاحصہ بن جائے تو کیا بنیادی حقوق سے ہاتھ دھوبیٹھتا ہے، ملٹری کورٹس کا معاملہ آئین کے آرٹیکل 175 سے الگ ہے، کوئی شہری روکنےکے باوجود فوجی چوکی کے پاس جانا چاہے تو کیا ہوگا؟ کیا کام سے روکنے کے الزام پر شہری کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل کیا جائے گا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ یہ ایک صورتحال ہے، اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا، اس پر جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہی تو سب سے اہم سوال ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوال کا جواب بہت سادہ ہے، اگرشہری آرمی ایکٹ میں درج جرم کا مرتکب ہوا تو ٹرائل ہوگا، صرف چوکی کے باہرکھڑےہونے پر تو شہری کے ساتھ کچھ نہیں ہوگا، آرمی ایکٹ کا نفاذ کن جرائم پر ہوگا اس کا جواب آرمی ایکٹ میں موجود ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اختیارات کو وسیع کرکے سویلین کا ٹرائل ہو رہا ہے، سوال یہ ہے کہ سویلین کا ٹرائل ہو سکتا ہے یا نہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے مزید کہا کہ آرمی ایکٹ آرمڈ فورسز کو فوج کےڈسپلن میں لانے کیلئے لایا گیا، ہمارے ملک میں 14 سال تک مارشل بھی نافذ رہا، فرض کریں ایک چیک پوسٹ پر عام شہری جانےکی کوشش کرتا ہے تو کیا یہ بھی آرمڈفورسز کےفرائض میں خلل ڈالنے کے مترادف ہوگا؟

    سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران حفیظ اللہ نیازی روسٹرم پر آئے۔ جسٹس امین الدین خان نے پوچھا کہ کیا وہ سیاسی بات کریں گے،حفیظ اللہ نیازی نے کہا وہ سیاسی بات نہیں کریں گے۔پھر بولے نومئی کے ملزمان کو جیلوں میں منتقل کردیا گیالیکن ان سے جیل میں رویہ ایسا ہے جیسے وہ فوج کی حراست میں ہیں،ملزمان کو عام جیلوں میں دیگر قیدیوں کو ملنے والے تمام حقوق نہیں دئیے جا رہے، ملزمان کو جیلوں میں ہائی سیکورٹی زونز میں رکھا گیا ہے، فوجی عدالتیں فیصلے کی کاپی بھی مہیا نہیں کرہیں، فیصلوں میں صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ مجرم ہے یا معصوم،

    سپریم کورٹ نے پنجاب کی حد تک جیلوں میں ملزمان کو ملنے والی سہولیات سے متعلق رپورٹ مانگ لی،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کل کی سماعت میں سہولیات کے حوالے سے آگاہ کریں،

    معافی مانگ کر رہائی پانے والے 9 مئی کے مجرموں کی پٹیشنز منظر عام پر

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

    9 مئی میں سزا یافتہ لوگوں کے لیے اپیلیں فائل کریں گے،بیرسٹر گوہر

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

  • چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں عدالتی اصلاحات پر اجلاس، اعلامیہ جاری

    چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں عدالتی اصلاحات پر اجلاس، اعلامیہ جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس یحیی آفریدی کی زیر صدارت عدالتی اصلاحات پر اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں عدالتی نظام کی بہتری کے لیے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے غور کیا گیا۔ اجلاس کے آغاز پر سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور اجلاس کی نوعیت اور مقاصد پر روشنی ڈالی۔ اس دوران مختلف اقدامات اور اصلاحات پر بات چیت کی گئی، جو مستقبل میں عدالتی عمل کو مزید موثر، شفاف اور تیز تر بنانے کے لیے اہم ہوں گے۔

    اجلاس میں عدالتی اصلاحات کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان اصلاحات کا مقصد عدالتی عمل کو مزید مؤثر اور عوام کے لیے قابل رسائی بنانا تھا۔عدالتی عمل کو ڈیجیٹل بنانے پر زور دیا گیا تاکہ عدلیہ کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس حوالے سے آئی ٹی ڈائریکٹوریٹ نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر کی جانے والی پیش رفت کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔ اجلاس میں عوامی انصاف کی رسائی کو وسیع کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ عدالتی نظام تک عوام کی رسائی کو آسان بنایا جائے، تاکہ عوام کو فوری انصاف مل سکے۔عدالتی شفافیت اور تیز انصاف کے حوالے سے اصلاحات کے بنیادی اہداف مقرر کیے گئے۔ ان اصلاحات کے ذریعے عدلیہ کے عمل کو نہ صرف شفاف بنایا جائے گا بلکہ عوام کو تیز ترین انصاف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ کیسز کے التواء کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ اقدامات کیسز کی جلد سماعت اور ان کے فیصلوں کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اہم ہوں گے۔ عوام سے تجاویز لینے کے لیے "آن لائن فیڈبیک فارم” کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ عوام اپنی آراء اور شکایات کو براہ راست عدلیہ تک پہنچا سکیں اور عدالتی اصلاحات میں فعال کردار ادا کر سکیں۔اجلاس میں عدلیہ کے وقار کو عالمی سطح پر بحال کرنے کی کوششوں پر بھی زور دیا گیا، خصوصاً ورلڈ جسٹس انڈیکس میں پاکستان کی پوزیشن کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے۔سپریم کورٹ نے اپنے عدالتی عمل کو مزید شفاف بنانے کا عزم کیا ہے، تاکہ عوام کو انصاف کی فراہمی کے عمل میں مکمل اعتماد ہو۔اجلاس میں عدلیہ کے افسران کی تجاویز اور آراء پر سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں مختلف موضوعات پر تفصیل سے بحث کی گئی۔

    اجلاس کے اختتام پر چیف جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ عدلیہ میں اصلاحات کے یہ اقدامات نہ صرف عدالتی نظام کی بہتری کی طرف اہم قدم ہیں، بلکہ عوام کے لیے انصاف کی رسائی کو آسان اور مؤثر بنائیں گے۔ چیف جسٹس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ اصلاحات جلد نافذ کی جائیں گی اور عدلیہ میں اصلاحات کی یہ راہ عوام کے اعتماد میں اضافے کا سبب بنے گی۔

    قائمہ کمیٹی اجلاس،بچوں سے زیادتی ، چائلڈ کورٹس کے قیام کا بل منظور

    بچوں کا جنسی استحصال،برطانوی وزیراعظم ایلون مسک کی پوسٹوں پر پھٹ پڑے

  • سپریم کورٹ،سابق ڈپٹی اسپیکر  رولنگ  کیس ،پرویز الہیٰ کو نوٹس جاری

    سپریم کورٹ،سابق ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس ،پرویز الہیٰ کو نوٹس جاری

    سابق ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے کیس میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کو نوٹس جاری کر دیا ہے

    عدالت نے پرویز الہٰی کو نوٹس حمزہ شہباز نظرثانی کیس میں جاری کیا،دوران سماعت جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ کیس غیر مؤثر تو نہیں ہو گیا،حمزہ شہباز کے وکیل حارث عظمت نے کہا کہ کیس غیر مؤثر نہیں ہوا، آئینی بینچ نے گزشتہ سماعت پر فریقین کو نوٹسز بھی کیے تھے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پرویز الہٰی کی طرف سے کون پیش ہو گا وہ بھی کیس میں فریق ہیں۔

    سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیا تھا،سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے فیصلہ نظرثانی میں چیلنج کیا تھا

    حکومت بتائے کہ اس نے کچی آبادی کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے ،سپریم کورٹ
    دوسری جانب سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے کچی آبادی کیس میں وفاق سے کچی آبادیوں سے متعلق پالیسی رپورٹ دو ہفتوں میں طلب کر لی ہے،آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین نے کہا ہے کہ کچی آبادی کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار صوبوں اور مقامی حکومتوں کا ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا ہے کہ صوبائی اختیارپر وفاقی حکومت کیا قانون سازی کر سکتی ہے؟ پہلے تو یہ بتایا جائے کہ کچی آبادی کیا ہوتی ہے؟ بلوچستان میں تو سارے گھر ہی کچے ہیں۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ قبضہ گروپ ندی نالوں کے کنارے کچی آبادی بنا لیتے ہیں۔ عوامی سہولتوں کے پلاٹ پر کچی آبادی او مکانات بن جاتے ہیں۔ حکومت بتائے کہ اس نے کچی آبادی کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں،وکیل سی ڈی اے نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھاڑی نے 10 کچی آبادیوں کو نوٹیفائی کر رکھا ہے۔ سب سے پہلے تو کچی آبادی کی تعریف طے کی جائے۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اگر ان کچی آبادی کے علاوہ کوئی قبضہ ہے تو کارروائی کریں۔ غیر قانونی قبضہ چھڑانے کے قوانین موجود ہیں۔ اس پر وکیل سی ڈی اے عدالت کو آگاہ کیا کہ عدالت نے ہی قبضہ چھڑانے کے خلاف حکم امتناع دے رکھا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر حکم امتناع ہے، تو عدالت سے اس کو ختم کرائیں۔ تجاوزات کیسے بن جاتی ہیں۔ سب سے پہلے چھپرا ہوٹل بنتے ہیں اور پھر وہاں آہستہ آہستہ آبادی بن جاتی ہے۔ تجاوزات کی تعمیر میں ادارے کے لوگ بھی ملوث ہوتے ہیں۔

    شادی کی آڑ میں مجرا پارٹی سے رقاصاؤں سمیت 50 افراد گرفتار

    بھارت میں انسانی میٹا نیومو وائرس کا پہلا کیس رپورٹ

  • سپریم کورٹ ، تین ماہ میں کیسز نمٹانے کی تفصیلات جاری

    سپریم کورٹ ، تین ماہ میں کیسز نمٹانے کی تفصیلات جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے 28 اکتوبر 2024 سے 3 جنوری 2025 تک کے دوران نمٹائے جانے والے مقدمات کی تفصیلات جاری کر دیں۔ عدالت عظمیٰ کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق، اس مدت میں مجموعی طور پر 7482 مقدمات نمٹائے گئے ہیں۔

    اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی قیادت میں عدالت نے مقدمات کے فوری فیصلے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عدالتی کارکردگی میں قابل ذکر بہتری آئی ہے۔ ان اقدامات میں مقدمات کی منصوبہ بندی، وسائل کا مؤثر استعمال اور انتظامی سطح پر بہتری شامل ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے عدالتی نظام میں اصلاحات کا آغاز کیا ہے جن میں ای حلف نامہ (ای-افیڈیوٹ) اور فوری تصدیق شدہ کاپیوں کی فراہمی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، قانونی ماہرین، فریقین اور سول سوسائٹی سے فیڈ بیک لینے کا عمل بھی متعارف کرایا گیا ہے تاکہ عدالتی عمل کو مزید شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ملک کے دور دراز اضلاع کا دورہ کیا اور ضلعی عدلیہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر زور دیا۔ ان دوروں کا مقصد ضلعی عدلیہ کے وسائل میں اضافہ کرنا اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔ اس دوران ضلعی عدالتوں کی کارکردگی کے جائزے کے ساتھ ساتھ انہیں مزید وسائل فراہم کرنے کے اقدامات کیے گئے۔سپریم کورٹ میں اس مدت کے دوران نئے مقدمات کی تعداد 2,950 رہی۔ اس کے ساتھ ہی عدالتی نظام میں شفافیت اور مؤثریت کو بڑھانے کے لیے جدید آئی ٹی سسٹم کا انضمام بھی کیا گیا ہے۔ یہ اقدامات عدلیہ کے عمل کو مزید تیز اور شفاف بنانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔

    سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالتی نظام کو عوامی ضروریات کے مطابق جوابدہ اور آسان بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد عوام کو فوری اور انصاف پر مبنی فیصلے فراہم کرنا ہے۔سپریم کورٹ نے ان اقدامات کے ذریعے نہ صرف مقدمات کے فیصلوں میں تیزی لائی ہے بلکہ عدالتی عمل میں شفافیت، عوامی اعتماد اور کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری کی کوشش کی ہے۔ اس سے نہ صرف قانونی ماہرین اور فریقین کا اعتماد بڑھا ہے بلکہ عوام کے لیے بھی عدلیہ تک رسائی کو مزید آسان اور مؤثر بنایا گیا ہے

    66 سالہ خاتون "پیار” کے چکر میں ڈیٹنگ ایپس پر "لٹ” گئی

    خواتین کو بیہوش کر کے جنسی زیادتی ،ویڈیو بنانے والا ڈاکٹر گرفتار

    سیاحتی مقام پر جانے والی ایئر ہوسٹس کی عزت لٹ گئی