Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ،  9 مئی کے سزا یافتہ مجرمان کے ساتھ رویہ بارے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ، 9 مئی کے سزا یافتہ مجرمان کے ساتھ رویہ بارے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ آئینی بینچ،سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیس،درخواستوں کی سماعت ہوئی

    آئینی بینچ نے جیلوں میں 9 مئی ملزمان کے ساتھ رویہ کے حوالے سے ر پورٹ طلب کرلی، آئینی بینچ نے وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کو کل دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی، عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کر دی،دلائل دیتے ہوئے خواجہ حارث نے کہا کہسپریم کورٹ نے ماضی میں قرار دیا کہ فوج کے ماتحت سویلنز کا کورٹ مارشل ہوسکتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ موجودہ کیس میں متاثرہ فریق اور اپیل دائر کرنے والا کون ہے؟خواجہ حارث نے کہا کہ اپیل وزارت دفاع کی جانب سے دائر کی گئی ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ وزارت دفاع ایگزیکٹو کا ادارہ ہے،ایگزیکٹو کیخلاف اگر کوئی جرم ہو تو کیا وہ خود جج بن کر فیصلہ کر سکتا ہے؟ آئین میں اختیارات کی تقسیم بالکل واضح ہے، آئین واضح ہے کہ ایگزیکٹو عدلیہ کا کردار ادا نہیں کر سکتا، فوجی عدالتوں کے کیس میں یہ بنیادی آئینی سوال ہے،خواجہ حارث نے کہا کہ کوئی اور فورم دستیاب نہ ہو تو ایگزیکٹو فیصلہ کر سکتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قانون میں انسداد دہشتگردی عدالتوں کا فورم موجود ہے، قانونی فورم کے ہوتے ہوئے ایگزیکٹو خود کیسے جج بن سکتا ہے؟وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ آپ کی بات درست ہے،

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آرمی ایکٹ کو صرف مسلح افواج کے ممبران تک محدود کیا گیا ہے، اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ ایسانہیں ہے، آرمی ایکٹ صرف آرمڈ فورسز تک محدود نہیں،مختلف کیٹیگریزشامل ہیں، اس موقع پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 8(3) فوج کے ڈسپلن اور کارکردگی کے حوالے سے ہے، کیا فوجداری معاملے کو آرٹیکل8(3) میں شامل کیا جا سکتا ہے؟ آئین میں شہریوں کا نہیں پاکستان کے شہریوں کا ذکر ہے۔

    وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ افواج پاکستان کےلوگ بھی اتنے ہی شہری ہیں جتنے دوسرےشہری، اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سوال ہی یہی ہےکہ فوج کےلوگوں کوبنیادی حقوق سےمحروم کیسےکیا جاسکتا ہے کوئی شہری فوج کاحصہ بن جائے تو کیا بنیادی حقوق سے ہاتھ دھوبیٹھتا ہے، ملٹری کورٹس کا معاملہ آئین کے آرٹیکل 175 سے الگ ہے، کوئی شہری روکنےکے باوجود فوجی چوکی کے پاس جانا چاہے تو کیا ہوگا؟ کیا کام سے روکنے کے الزام پر شہری کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل کیا جائے گا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ یہ ایک صورتحال ہے، اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا، اس پر جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہی تو سب سے اہم سوال ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوال کا جواب بہت سادہ ہے، اگرشہری آرمی ایکٹ میں درج جرم کا مرتکب ہوا تو ٹرائل ہوگا، صرف چوکی کے باہرکھڑےہونے پر تو شہری کے ساتھ کچھ نہیں ہوگا، آرمی ایکٹ کا نفاذ کن جرائم پر ہوگا اس کا جواب آرمی ایکٹ میں موجود ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اختیارات کو وسیع کرکے سویلین کا ٹرائل ہو رہا ہے، سوال یہ ہے کہ سویلین کا ٹرائل ہو سکتا ہے یا نہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے مزید کہا کہ آرمی ایکٹ آرمڈ فورسز کو فوج کےڈسپلن میں لانے کیلئے لایا گیا، ہمارے ملک میں 14 سال تک مارشل بھی نافذ رہا، فرض کریں ایک چیک پوسٹ پر عام شہری جانےکی کوشش کرتا ہے تو کیا یہ بھی آرمڈفورسز کےفرائض میں خلل ڈالنے کے مترادف ہوگا؟

    سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران حفیظ اللہ نیازی روسٹرم پر آئے۔ جسٹس امین الدین خان نے پوچھا کہ کیا وہ سیاسی بات کریں گے،حفیظ اللہ نیازی نے کہا وہ سیاسی بات نہیں کریں گے۔پھر بولے نومئی کے ملزمان کو جیلوں میں منتقل کردیا گیالیکن ان سے جیل میں رویہ ایسا ہے جیسے وہ فوج کی حراست میں ہیں،ملزمان کو عام جیلوں میں دیگر قیدیوں کو ملنے والے تمام حقوق نہیں دئیے جا رہے، ملزمان کو جیلوں میں ہائی سیکورٹی زونز میں رکھا گیا ہے، فوجی عدالتیں فیصلے کی کاپی بھی مہیا نہیں کرہیں، فیصلوں میں صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ مجرم ہے یا معصوم،

    سپریم کورٹ نے پنجاب کی حد تک جیلوں میں ملزمان کو ملنے والی سہولیات سے متعلق رپورٹ مانگ لی،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کل کی سماعت میں سہولیات کے حوالے سے آگاہ کریں،

    معافی مانگ کر رہائی پانے والے 9 مئی کے مجرموں کی پٹیشنز منظر عام پر

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

    9 مئی میں سزا یافتہ لوگوں کے لیے اپیلیں فائل کریں گے،بیرسٹر گوہر

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

  • چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں عدالتی اصلاحات پر اجلاس، اعلامیہ جاری

    چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں عدالتی اصلاحات پر اجلاس، اعلامیہ جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس یحیی آفریدی کی زیر صدارت عدالتی اصلاحات پر اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں عدالتی نظام کی بہتری کے لیے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے غور کیا گیا۔ اجلاس کے آغاز پر سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور اجلاس کی نوعیت اور مقاصد پر روشنی ڈالی۔ اس دوران مختلف اقدامات اور اصلاحات پر بات چیت کی گئی، جو مستقبل میں عدالتی عمل کو مزید موثر، شفاف اور تیز تر بنانے کے لیے اہم ہوں گے۔

    اجلاس میں عدالتی اصلاحات کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان اصلاحات کا مقصد عدالتی عمل کو مزید مؤثر اور عوام کے لیے قابل رسائی بنانا تھا۔عدالتی عمل کو ڈیجیٹل بنانے پر زور دیا گیا تاکہ عدلیہ کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس حوالے سے آئی ٹی ڈائریکٹوریٹ نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر کی جانے والی پیش رفت کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔ اجلاس میں عوامی انصاف کی رسائی کو وسیع کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ عدالتی نظام تک عوام کی رسائی کو آسان بنایا جائے، تاکہ عوام کو فوری انصاف مل سکے۔عدالتی شفافیت اور تیز انصاف کے حوالے سے اصلاحات کے بنیادی اہداف مقرر کیے گئے۔ ان اصلاحات کے ذریعے عدلیہ کے عمل کو نہ صرف شفاف بنایا جائے گا بلکہ عوام کو تیز ترین انصاف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ کیسز کے التواء کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ اقدامات کیسز کی جلد سماعت اور ان کے فیصلوں کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اہم ہوں گے۔ عوام سے تجاویز لینے کے لیے "آن لائن فیڈبیک فارم” کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ عوام اپنی آراء اور شکایات کو براہ راست عدلیہ تک پہنچا سکیں اور عدالتی اصلاحات میں فعال کردار ادا کر سکیں۔اجلاس میں عدلیہ کے وقار کو عالمی سطح پر بحال کرنے کی کوششوں پر بھی زور دیا گیا، خصوصاً ورلڈ جسٹس انڈیکس میں پاکستان کی پوزیشن کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے۔سپریم کورٹ نے اپنے عدالتی عمل کو مزید شفاف بنانے کا عزم کیا ہے، تاکہ عوام کو انصاف کی فراہمی کے عمل میں مکمل اعتماد ہو۔اجلاس میں عدلیہ کے افسران کی تجاویز اور آراء پر سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں مختلف موضوعات پر تفصیل سے بحث کی گئی۔

    اجلاس کے اختتام پر چیف جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ عدلیہ میں اصلاحات کے یہ اقدامات نہ صرف عدالتی نظام کی بہتری کی طرف اہم قدم ہیں، بلکہ عوام کے لیے انصاف کی رسائی کو آسان اور مؤثر بنائیں گے۔ چیف جسٹس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ اصلاحات جلد نافذ کی جائیں گی اور عدلیہ میں اصلاحات کی یہ راہ عوام کے اعتماد میں اضافے کا سبب بنے گی۔

    قائمہ کمیٹی اجلاس،بچوں سے زیادتی ، چائلڈ کورٹس کے قیام کا بل منظور

    بچوں کا جنسی استحصال،برطانوی وزیراعظم ایلون مسک کی پوسٹوں پر پھٹ پڑے

  • سپریم کورٹ،سابق ڈپٹی اسپیکر  رولنگ  کیس ،پرویز الہیٰ کو نوٹس جاری

    سپریم کورٹ،سابق ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس ،پرویز الہیٰ کو نوٹس جاری

    سابق ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے کیس میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کو نوٹس جاری کر دیا ہے

    عدالت نے پرویز الہٰی کو نوٹس حمزہ شہباز نظرثانی کیس میں جاری کیا،دوران سماعت جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ کیس غیر مؤثر تو نہیں ہو گیا،حمزہ شہباز کے وکیل حارث عظمت نے کہا کہ کیس غیر مؤثر نہیں ہوا، آئینی بینچ نے گزشتہ سماعت پر فریقین کو نوٹسز بھی کیے تھے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پرویز الہٰی کی طرف سے کون پیش ہو گا وہ بھی کیس میں فریق ہیں۔

    سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیا تھا،سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے فیصلہ نظرثانی میں چیلنج کیا تھا

    حکومت بتائے کہ اس نے کچی آبادی کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے ،سپریم کورٹ
    دوسری جانب سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے کچی آبادی کیس میں وفاق سے کچی آبادیوں سے متعلق پالیسی رپورٹ دو ہفتوں میں طلب کر لی ہے،آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین نے کہا ہے کہ کچی آبادی کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار صوبوں اور مقامی حکومتوں کا ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا ہے کہ صوبائی اختیارپر وفاقی حکومت کیا قانون سازی کر سکتی ہے؟ پہلے تو یہ بتایا جائے کہ کچی آبادی کیا ہوتی ہے؟ بلوچستان میں تو سارے گھر ہی کچے ہیں۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ قبضہ گروپ ندی نالوں کے کنارے کچی آبادی بنا لیتے ہیں۔ عوامی سہولتوں کے پلاٹ پر کچی آبادی او مکانات بن جاتے ہیں۔ حکومت بتائے کہ اس نے کچی آبادی کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں،وکیل سی ڈی اے نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھاڑی نے 10 کچی آبادیوں کو نوٹیفائی کر رکھا ہے۔ سب سے پہلے تو کچی آبادی کی تعریف طے کی جائے۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اگر ان کچی آبادی کے علاوہ کوئی قبضہ ہے تو کارروائی کریں۔ غیر قانونی قبضہ چھڑانے کے قوانین موجود ہیں۔ اس پر وکیل سی ڈی اے عدالت کو آگاہ کیا کہ عدالت نے ہی قبضہ چھڑانے کے خلاف حکم امتناع دے رکھا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر حکم امتناع ہے، تو عدالت سے اس کو ختم کرائیں۔ تجاوزات کیسے بن جاتی ہیں۔ سب سے پہلے چھپرا ہوٹل بنتے ہیں اور پھر وہاں آہستہ آہستہ آبادی بن جاتی ہے۔ تجاوزات کی تعمیر میں ادارے کے لوگ بھی ملوث ہوتے ہیں۔

    شادی کی آڑ میں مجرا پارٹی سے رقاصاؤں سمیت 50 افراد گرفتار

    بھارت میں انسانی میٹا نیومو وائرس کا پہلا کیس رپورٹ

  • سپریم کورٹ ، تین ماہ میں کیسز نمٹانے کی تفصیلات جاری

    سپریم کورٹ ، تین ماہ میں کیسز نمٹانے کی تفصیلات جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے 28 اکتوبر 2024 سے 3 جنوری 2025 تک کے دوران نمٹائے جانے والے مقدمات کی تفصیلات جاری کر دیں۔ عدالت عظمیٰ کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق، اس مدت میں مجموعی طور پر 7482 مقدمات نمٹائے گئے ہیں۔

    اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی قیادت میں عدالت نے مقدمات کے فوری فیصلے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عدالتی کارکردگی میں قابل ذکر بہتری آئی ہے۔ ان اقدامات میں مقدمات کی منصوبہ بندی، وسائل کا مؤثر استعمال اور انتظامی سطح پر بہتری شامل ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے عدالتی نظام میں اصلاحات کا آغاز کیا ہے جن میں ای حلف نامہ (ای-افیڈیوٹ) اور فوری تصدیق شدہ کاپیوں کی فراہمی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، قانونی ماہرین، فریقین اور سول سوسائٹی سے فیڈ بیک لینے کا عمل بھی متعارف کرایا گیا ہے تاکہ عدالتی عمل کو مزید شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ملک کے دور دراز اضلاع کا دورہ کیا اور ضلعی عدلیہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر زور دیا۔ ان دوروں کا مقصد ضلعی عدلیہ کے وسائل میں اضافہ کرنا اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔ اس دوران ضلعی عدالتوں کی کارکردگی کے جائزے کے ساتھ ساتھ انہیں مزید وسائل فراہم کرنے کے اقدامات کیے گئے۔سپریم کورٹ میں اس مدت کے دوران نئے مقدمات کی تعداد 2,950 رہی۔ اس کے ساتھ ہی عدالتی نظام میں شفافیت اور مؤثریت کو بڑھانے کے لیے جدید آئی ٹی سسٹم کا انضمام بھی کیا گیا ہے۔ یہ اقدامات عدلیہ کے عمل کو مزید تیز اور شفاف بنانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔

    سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالتی نظام کو عوامی ضروریات کے مطابق جوابدہ اور آسان بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد عوام کو فوری اور انصاف پر مبنی فیصلے فراہم کرنا ہے۔سپریم کورٹ نے ان اقدامات کے ذریعے نہ صرف مقدمات کے فیصلوں میں تیزی لائی ہے بلکہ عدالتی عمل میں شفافیت، عوامی اعتماد اور کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری کی کوشش کی ہے۔ اس سے نہ صرف قانونی ماہرین اور فریقین کا اعتماد بڑھا ہے بلکہ عوام کے لیے بھی عدلیہ تک رسائی کو مزید آسان اور مؤثر بنایا گیا ہے

    66 سالہ خاتون "پیار” کے چکر میں ڈیٹنگ ایپس پر "لٹ” گئی

    خواتین کو بیہوش کر کے جنسی زیادتی ،ویڈیو بنانے والا ڈاکٹر گرفتار

    سیاحتی مقام پر جانے والی ایئر ہوسٹس کی عزت لٹ گئی

  • جسٹس منصور علی شاہ کی بطور انتظامی جج کے عہدے سے معذرت

    جسٹس منصور علی شاہ کی بطور انتظامی جج کے عہدے سے معذرت

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ نے بطور انتظامی جج سپریم کورٹ اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، جسٹس منصور علی شاہ نے انتظامی فائلوں پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے اور واضح طور پر کہا ہے کہ وہ اب اس عہدے پر نہیں ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ وہ ایڈمنسٹریٹو جج کے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں اور اس لیے ان سے متعلق تمام انتظامی امور کی دیکھ بھال کسی اور جج کو سونپی جائے۔اس معذرت کے بعد، سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ آخر کس وجہ سے جسٹس منصور علی شاہ نے یہ قدم اٹھایا۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ ایک اہم تبدیلی کی جانب اشارہ ہو سکتا ہے اور اس کا عدالت کے اندرونی انتظامی معاملات پر اثر پڑ سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ جسٹس منصور علی شاہ کو سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کا ایڈمنسٹریٹو جج مقرر کیا تھا۔ ایڈمنسٹریٹو جج کا عہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے عدالت کی انتظامیہ، فائلوں کی نگرانی، اور دیگر انتظامی امور کا انتظام کیا جاتا ہے۔اس فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے داخلی معاملات پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس سلسلے میں جلد ہی مزید وضاحت سامنے آئے گی۔

    تمام مذہبی برادریوں کے حقوق کے تحفظ کیلیے پرعزم ہیں، وزیراعظم

    آئیے قائداعظم کی میراث سے سبق حاصل کریں،وزیراعظم

  • سپریم کورٹ آئینی بینچ کی مدت میں6 ماہ کی توسیع

    سپریم کورٹ آئینی بینچ کی مدت میں6 ماہ کی توسیع

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن اجلاسوں میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کو 6 ماہ کے لیے توسیع اور ججز تعیناتی سے متعلق قوانین کی منظوری دے دی گئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کمیشن کے دوسرے اجلاس میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کو 6 ماہ کے لیے توسیع دی گئی، عدالت عظمیٰ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ججز کی تعیناتی کے لیے رولز کے مسودے کا جائزہ لینے کے لیے جوڈیشل کمیشن کے دو اجلاسوں کی سربراہی کی، پہلے اجلاس کا آغاز صبح 11 بجے ہوا جو 8 گھنٹے تک جاری رہا جس میں ججوں کی تقرری رولز کے مسودے کا جائزہ لیا گیا۔جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ جوڈیشل کمیشن نے اجلاس کے دوران مانگی گئی عوامی رائے کا بھی جائزہ لیا۔دوران اجلاس آئینی بینچ کی تشکیل برقرار رکھنے کا فیصلہ 7، 6 کے تناسب سے ہوا، ووٹنگ میں 7 ممبران نے بینچ برقرار رکھنے کے حق میں فیصلہ دیا۔اجلاس میں جسٹس جمال مندوخیل نے تمام سپریم کورٹ ججز کو آئینی بینچ میں شامل کرنے کی تجویز دی۔جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں ججوں کی تعیناتی سے متعلق کچھ رولز میں معمولی تبدیلی کے ساتھ قوانین کی منظوری بھی دی گئی۔ججز تعیناتی کے حتمی مسودے میں نئے ایڈیشنل ججز کے لیے میڈیکل ٹیسٹ کی شرط نکال دی گئی ہے جبکہ کسی امیدوار کی انٹیلی جنس رپورٹ لینا یا نہ لینا کمیشن کی صوابدید ہو گا۔رپورٹ کے مطابق مسودے میں ہائی کورٹ چیف جسٹس کے لیے 3 نام زیر غور آئیں گے، سینئر جج کو چیف جسٹس ہائی کورٹ نہ بنانے پر وجوہات بتانا لازمی ہوں گی۔مسودے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں ججوں کی تعیناتی کے لیے ہائی کورٹ سے 5 نام تجویز کیے جائیں گے۔ججز قوانین کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن اجلاس میں نئے رولز کے تحت ایڈیشنل ججز کے لیے نامزدگیاں 3 جنوری تک طلب کی گئی ہیں جبکہ ان ججز کے لیے نامزدگیاں متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ذریعے بھیجی جائیں گی۔

    غیر قانونی ماہی گیری میں ملوث 10ٹرالرز ضبط

  • جوڈیشل کمیشن:ججز تعیناتی کے رولز میں اہم تبدیلیاں،خفیہ ایجنسی کی رپورٹ پر بھی فیصلہ

    جوڈیشل کمیشن:ججز تعیناتی کے رولز میں اہم تبدیلیاں،خفیہ ایجنسی کی رپورٹ پر بھی فیصلہ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں جوڈیشل کمیشن اجلاس میں رولز کی منظوری دے دی گئی ہے، کچھ رولز میں معمولی تبدیلی بھی کر دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا جہاں رولز سے متعلق فیصلہ ہوا اور مجوزہ رولز کی معمولی تبدیلی کے ساتھ منظوری دے دی گئی،ذرائع کے مطابق رولز میں سے نئے ایڈیشنل ججز کیلئے میڈیکل ٹیسٹ کی شرط نکال دی گئی ہےنئے رولز کے مطابق کسی امیدوار کی انٹیلی جنس رپورٹ لینا نہ لینا کمیشن کی صوابدید ہوا کرے گا۔

    حتمی ڈرافٹ کے مطابق ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے لیے تین نام زیر غور آیا کریں گے، سینئر جج کو چیف جسٹس ہائیکورٹ نہ بنانے پر وجوہات بتانا لازمی ہوں گی سپریم کورٹ میں جج کی تعیناتی کیلئے ہائیکورٹ سے پانچ نام آیا کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق آئینی بنچ کی توسیع کے ایجنڈے پر دوسرا اجلاس بھی ہوا، جس میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کو چھ ماہ کیلئے توسیع دے دی گئی۔

    ذرائع کے مطابق آئینی بینچ کی تشکیل برقرار رکھنے کا فیصلہ سات چھ کے تناسب سے ہوا، جسٹس جمال مندوخیل نے تمام سپریم کورٹ ججز کو آئینی بینچ میں شامل کرنے کی تجویز دی، ووٹنگ میں سات ممبران نے بنچ برقرار رکھنے کے حق میں فیصلہ دیاجوڈیشل کمیشن نے نئے رولز کے تحت ایڈیشنل ججز کے لیے نامزدگیاں تین جنوری تک طلب کرلی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ایڈیشنل ججز کے لیے نامزدگیاں متعلقہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے ذریعے بھیجی جائیں گی، ایڈیشنل ججز کے لیے پہلے سے بھیجے گئے نام متفقہ طور پر واپس لے لئے گئے-

  • جج آئین کی حفاظت، اس کا دفاع کرنے کا حلف لیتا ہے،جسٹس منصور کا ایک اور خط

    جج آئین کی حفاظت، اس کا دفاع کرنے کا حلف لیتا ہے،جسٹس منصور کا ایک اور خط

    جوڈیشل کمیشن اجلاس سے پہلے سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ کا ایک اور خط آ گیا

    جسٹس منصور علی شاہ نے سیکرٹری جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ دیا،خط میں کہا گیا کہ رولز میں آئینی بنچ کیلئے ججز کی تعیناتی کا مکینزم ہونا چاہئے،آئینی بنچ میں کتنے ججز ہوں اس کا مکینزم بنانا بھی ضروری ہے،آئینی بنچ میں ججز کی شمولیت کا پیمانہ طے ہونا چاہیے، کس جج نے آئینی تشریح والے کتنے فیصلے لکھے یہ ایک پیمانہ ہو سکتا ہے،کمیشن بغیر پیمانہ طے کئے سپریم کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ میں آئینی بنچ تشکیل دے چکا،

    جسٹس منصور نے ججز تعیناتی سے متعلق رولز پر مجموعی رائے بھی دے دی،جسٹس منصور نے جج تعیناتی میں انٹیلجنس ایجنسی سے رپورٹ لینے کی مخالفت کر دی اور کہا کہ انٹیلجنس ایجنسی کو کردار دیا گیا تو اس کا غلط استعمال ہو سکتا ہے، جوڈیشل کمیشن میں پہلے ہی اکثریت ایگزیکٹو کی ہے، چھبیسویں ترمیم سے متعلق اپنی پوزیشن واضح کرچکا ہوں،پہلے فل کورٹ بنا کر چھبیسیویں ترمیم کا جائزہ لینا چاہیے، رولزپر میری رائے اس ترمیم اور کمیشن کی آئینی حیثیت طے ہونے سے مشروط ہے، جج آئین کی حفاظت اور اس کا دفاع کرنے کا حلف لیتا ہے، ججز تعیناتی کے رولز بھی اسی حلف کے عکاس ہونے چاہییں،

    عدالتوں نے ہمیشہ موسمیاتی ایمرجنسی کے کیسز کو سنجیدہ لیا ،جسٹس منصور علی شاہ

    جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو جوابی خط لکھ دیا

    خطاب کے دوران جسٹس منصور علی شاہ کا آئینی بینچ میں نہ ہونے کا تذکرہ

  • نیب اور ایف آئی اے  نےپانامہ کیسز دوبارہ کھول دئیے گئے

    نیب اور ایف آئی اے نےپانامہ کیسز دوبارہ کھول دئیے گئے

    نیب اور ایف آئی اے نے پانامہ کیسز دوبارہ کھول دئیے ہیں۔

    ذرائع وفاقی حکومت کے مطابق پہلے مرحلے میں دودرجن کے قریب ملزمان کی انکوائری شروع کی گئی ہے،نئے قانون کی روشنی میں پانامہ کیسز کی تحقیقات کوانتہائی خفیہ رکھا گیا ہے۔پہلے مرحلے میں مختلف ٹیمیں بیس سے زائد نامزد ملزمان کیخلاف تمام حقائق اکٹھے کررہی ہیں،جنوری کے وسط میں ایک درجن بڑے ملزمان کوطلب کیا جاسکتا ہے۔دوسرے مرحلے میں پچاس ملزمان کو نوٹس بھیج کرجواب طلب کیا جائے گا،پانامہ کیس میں چارسو سے زائد پاکستانی شہریوں کے نام آئے تھے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے نیب، ایف بی آر اور ایف آئی اے کو پانامہ کیس میں آنے والے ناموں کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا۔

    مبینہ نفرت پھیلانے پرلطیف کھوسہ کیخلاف مقدمہ درج

    بھارتی پارلیمنٹ کا ہنگامہ خیز سیشن ختم

    چیٹ جی پی ٹی بھی واٹس ایپ پر آگیا، نمبر جاری

    اوچ شریف :طاہر والی پرٹریفک حادثہ، ایک شخص جاں بحق، دوسرا زخمی

  • 2017 سے کیس زیر التوا،ریاست حکومت گرانے،لانے میں مصروف،جسٹس اطہرمن اللہ

    2017 سے کیس زیر التوا،ریاست حکومت گرانے،لانے میں مصروف،جسٹس اطہرمن اللہ

    سپریم کورٹ میں قتل کے ملزم اسحاق کی ضمانت قبل از گرفتاری درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے ملزم کو گرفتار کر کے جیل حکام کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے، دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2017 سے یہ کیس سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے جبکہ ریاست حکومت گرانے اور لانے میں مصروف ہے، تمام ادارے سیاسی مخالفین کے پیچھے پڑے ہیں، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ ریاست کی کیا بات کریں؟، 3 وزرائے اعظم مارے گئے، تینوں وزرائے اعظم کے کیسز کا کیا بنا، بلوچستان میں ایک سینئر ترین جج بھی مارے گئے، کچھ معلوم نہیں ہوا، اصل بات کچھ کرنے کی خواہش نہ ہونا ہے، دیگر 2 صوبوں کی نسبت سندھ اور پنجاب میں پولیس کی تفتیش انتہائی ناقص ہے، جب تک ریاستی ادارے سیاسی انجینئرنگ میں مصروف ہوں گے تو ایسا ہی حال رہے گا،

    وزیراعظم کے قتل سے بڑا جرم کیا ہو سکتا ہے؟، کسی کو ذمے دار قرار دے کر سزا دی جانا چاہئے تھی،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ آئین پر عمل ہوتا تو ایسے حالات نہ ہوتے، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ لوگوں کو اداروں پر یقین نہیں، لوگ چاہتے ہیں تمام کام سپریم کورٹ کرے، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ یہ ادارہ بھی اتنا ہی سچ بولتا ہے جتنا ہمارا معاشرہ، 40 سال بعد منتخب وزیر اعظم کے قتل کا اعتراف کیا گیا، وزیراعظم کے قتل سے بڑا جرم کیا ہو سکتا ہے؟، کسی کو ذمے دار قرار دے کر سزا دی جانا چاہئے تھی،

    وزیراعظم ایک دن وزیر اعظم ہائوس تو دوسرے دن جیل میں،جسٹس شہزاد ملک
    جسٹس شہزاد ملک نے کہا کہ جس ملک میں وزیراعظم کا ایسا حال ہو تو عام آدمی کا کیا حال ہوگا، وزیراعظم ایک دن وزیر اعظم ہائوس تو دوسرے دن جیل میں ہوتا ہے، کسی کو معلوم نہیں کس نے کتنے دن وزیراعظم رہنا ہے۔

    اٹک: مویشی پال حضرات کے لیے لائیو اسٹاک کارڈز کی تقسیم

    پشاور: اپیکس کمیٹی اجلاس، ضلع کرم میں بنکرز ختم کرنے کا فیصلہ