Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • جسٹس منصور علی شاہ کی بطور انتظامی جج کے عہدے سے معذرت

    جسٹس منصور علی شاہ کی بطور انتظامی جج کے عہدے سے معذرت

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ نے بطور انتظامی جج سپریم کورٹ اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، جسٹس منصور علی شاہ نے انتظامی فائلوں پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے اور واضح طور پر کہا ہے کہ وہ اب اس عہدے پر نہیں ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ وہ ایڈمنسٹریٹو جج کے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں اور اس لیے ان سے متعلق تمام انتظامی امور کی دیکھ بھال کسی اور جج کو سونپی جائے۔اس معذرت کے بعد، سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ آخر کس وجہ سے جسٹس منصور علی شاہ نے یہ قدم اٹھایا۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ ایک اہم تبدیلی کی جانب اشارہ ہو سکتا ہے اور اس کا عدالت کے اندرونی انتظامی معاملات پر اثر پڑ سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ جسٹس منصور علی شاہ کو سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کا ایڈمنسٹریٹو جج مقرر کیا تھا۔ ایڈمنسٹریٹو جج کا عہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے عدالت کی انتظامیہ، فائلوں کی نگرانی، اور دیگر انتظامی امور کا انتظام کیا جاتا ہے۔اس فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے داخلی معاملات پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس سلسلے میں جلد ہی مزید وضاحت سامنے آئے گی۔

    تمام مذہبی برادریوں کے حقوق کے تحفظ کیلیے پرعزم ہیں، وزیراعظم

    آئیے قائداعظم کی میراث سے سبق حاصل کریں،وزیراعظم

  • سپریم کورٹ آئینی بینچ کی مدت میں6 ماہ کی توسیع

    سپریم کورٹ آئینی بینچ کی مدت میں6 ماہ کی توسیع

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن اجلاسوں میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کو 6 ماہ کے لیے توسیع اور ججز تعیناتی سے متعلق قوانین کی منظوری دے دی گئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کمیشن کے دوسرے اجلاس میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کو 6 ماہ کے لیے توسیع دی گئی، عدالت عظمیٰ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ججز کی تعیناتی کے لیے رولز کے مسودے کا جائزہ لینے کے لیے جوڈیشل کمیشن کے دو اجلاسوں کی سربراہی کی، پہلے اجلاس کا آغاز صبح 11 بجے ہوا جو 8 گھنٹے تک جاری رہا جس میں ججوں کی تقرری رولز کے مسودے کا جائزہ لیا گیا۔جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ جوڈیشل کمیشن نے اجلاس کے دوران مانگی گئی عوامی رائے کا بھی جائزہ لیا۔دوران اجلاس آئینی بینچ کی تشکیل برقرار رکھنے کا فیصلہ 7، 6 کے تناسب سے ہوا، ووٹنگ میں 7 ممبران نے بینچ برقرار رکھنے کے حق میں فیصلہ دیا۔اجلاس میں جسٹس جمال مندوخیل نے تمام سپریم کورٹ ججز کو آئینی بینچ میں شامل کرنے کی تجویز دی۔جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں ججوں کی تعیناتی سے متعلق کچھ رولز میں معمولی تبدیلی کے ساتھ قوانین کی منظوری بھی دی گئی۔ججز تعیناتی کے حتمی مسودے میں نئے ایڈیشنل ججز کے لیے میڈیکل ٹیسٹ کی شرط نکال دی گئی ہے جبکہ کسی امیدوار کی انٹیلی جنس رپورٹ لینا یا نہ لینا کمیشن کی صوابدید ہو گا۔رپورٹ کے مطابق مسودے میں ہائی کورٹ چیف جسٹس کے لیے 3 نام زیر غور آئیں گے، سینئر جج کو چیف جسٹس ہائی کورٹ نہ بنانے پر وجوہات بتانا لازمی ہوں گی۔مسودے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں ججوں کی تعیناتی کے لیے ہائی کورٹ سے 5 نام تجویز کیے جائیں گے۔ججز قوانین کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن اجلاس میں نئے رولز کے تحت ایڈیشنل ججز کے لیے نامزدگیاں 3 جنوری تک طلب کی گئی ہیں جبکہ ان ججز کے لیے نامزدگیاں متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ذریعے بھیجی جائیں گی۔

    غیر قانونی ماہی گیری میں ملوث 10ٹرالرز ضبط

  • جوڈیشل کمیشن:ججز تعیناتی کے رولز میں اہم تبدیلیاں،خفیہ ایجنسی کی رپورٹ پر بھی فیصلہ

    جوڈیشل کمیشن:ججز تعیناتی کے رولز میں اہم تبدیلیاں،خفیہ ایجنسی کی رپورٹ پر بھی فیصلہ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں جوڈیشل کمیشن اجلاس میں رولز کی منظوری دے دی گئی ہے، کچھ رولز میں معمولی تبدیلی بھی کر دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا جہاں رولز سے متعلق فیصلہ ہوا اور مجوزہ رولز کی معمولی تبدیلی کے ساتھ منظوری دے دی گئی،ذرائع کے مطابق رولز میں سے نئے ایڈیشنل ججز کیلئے میڈیکل ٹیسٹ کی شرط نکال دی گئی ہےنئے رولز کے مطابق کسی امیدوار کی انٹیلی جنس رپورٹ لینا نہ لینا کمیشن کی صوابدید ہوا کرے گا۔

    حتمی ڈرافٹ کے مطابق ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے لیے تین نام زیر غور آیا کریں گے، سینئر جج کو چیف جسٹس ہائیکورٹ نہ بنانے پر وجوہات بتانا لازمی ہوں گی سپریم کورٹ میں جج کی تعیناتی کیلئے ہائیکورٹ سے پانچ نام آیا کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق آئینی بنچ کی توسیع کے ایجنڈے پر دوسرا اجلاس بھی ہوا، جس میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کو چھ ماہ کیلئے توسیع دے دی گئی۔

    ذرائع کے مطابق آئینی بینچ کی تشکیل برقرار رکھنے کا فیصلہ سات چھ کے تناسب سے ہوا، جسٹس جمال مندوخیل نے تمام سپریم کورٹ ججز کو آئینی بینچ میں شامل کرنے کی تجویز دی، ووٹنگ میں سات ممبران نے بنچ برقرار رکھنے کے حق میں فیصلہ دیاجوڈیشل کمیشن نے نئے رولز کے تحت ایڈیشنل ججز کے لیے نامزدگیاں تین جنوری تک طلب کرلی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ایڈیشنل ججز کے لیے نامزدگیاں متعلقہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے ذریعے بھیجی جائیں گی، ایڈیشنل ججز کے لیے پہلے سے بھیجے گئے نام متفقہ طور پر واپس لے لئے گئے-

  • جج آئین کی حفاظت، اس کا دفاع کرنے کا حلف لیتا ہے،جسٹس منصور کا ایک اور خط

    جج آئین کی حفاظت، اس کا دفاع کرنے کا حلف لیتا ہے،جسٹس منصور کا ایک اور خط

    جوڈیشل کمیشن اجلاس سے پہلے سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ کا ایک اور خط آ گیا

    جسٹس منصور علی شاہ نے سیکرٹری جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ دیا،خط میں کہا گیا کہ رولز میں آئینی بنچ کیلئے ججز کی تعیناتی کا مکینزم ہونا چاہئے،آئینی بنچ میں کتنے ججز ہوں اس کا مکینزم بنانا بھی ضروری ہے،آئینی بنچ میں ججز کی شمولیت کا پیمانہ طے ہونا چاہیے، کس جج نے آئینی تشریح والے کتنے فیصلے لکھے یہ ایک پیمانہ ہو سکتا ہے،کمیشن بغیر پیمانہ طے کئے سپریم کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ میں آئینی بنچ تشکیل دے چکا،

    جسٹس منصور نے ججز تعیناتی سے متعلق رولز پر مجموعی رائے بھی دے دی،جسٹس منصور نے جج تعیناتی میں انٹیلجنس ایجنسی سے رپورٹ لینے کی مخالفت کر دی اور کہا کہ انٹیلجنس ایجنسی کو کردار دیا گیا تو اس کا غلط استعمال ہو سکتا ہے، جوڈیشل کمیشن میں پہلے ہی اکثریت ایگزیکٹو کی ہے، چھبیسویں ترمیم سے متعلق اپنی پوزیشن واضح کرچکا ہوں،پہلے فل کورٹ بنا کر چھبیسیویں ترمیم کا جائزہ لینا چاہیے، رولزپر میری رائے اس ترمیم اور کمیشن کی آئینی حیثیت طے ہونے سے مشروط ہے، جج آئین کی حفاظت اور اس کا دفاع کرنے کا حلف لیتا ہے، ججز تعیناتی کے رولز بھی اسی حلف کے عکاس ہونے چاہییں،

    عدالتوں نے ہمیشہ موسمیاتی ایمرجنسی کے کیسز کو سنجیدہ لیا ،جسٹس منصور علی شاہ

    جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو جوابی خط لکھ دیا

    خطاب کے دوران جسٹس منصور علی شاہ کا آئینی بینچ میں نہ ہونے کا تذکرہ

  • نیب اور ایف آئی اے  نےپانامہ کیسز دوبارہ کھول دئیے گئے

    نیب اور ایف آئی اے نےپانامہ کیسز دوبارہ کھول دئیے گئے

    نیب اور ایف آئی اے نے پانامہ کیسز دوبارہ کھول دئیے ہیں۔

    ذرائع وفاقی حکومت کے مطابق پہلے مرحلے میں دودرجن کے قریب ملزمان کی انکوائری شروع کی گئی ہے،نئے قانون کی روشنی میں پانامہ کیسز کی تحقیقات کوانتہائی خفیہ رکھا گیا ہے۔پہلے مرحلے میں مختلف ٹیمیں بیس سے زائد نامزد ملزمان کیخلاف تمام حقائق اکٹھے کررہی ہیں،جنوری کے وسط میں ایک درجن بڑے ملزمان کوطلب کیا جاسکتا ہے۔دوسرے مرحلے میں پچاس ملزمان کو نوٹس بھیج کرجواب طلب کیا جائے گا،پانامہ کیس میں چارسو سے زائد پاکستانی شہریوں کے نام آئے تھے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے نیب، ایف بی آر اور ایف آئی اے کو پانامہ کیس میں آنے والے ناموں کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا۔

    مبینہ نفرت پھیلانے پرلطیف کھوسہ کیخلاف مقدمہ درج

    بھارتی پارلیمنٹ کا ہنگامہ خیز سیشن ختم

    چیٹ جی پی ٹی بھی واٹس ایپ پر آگیا، نمبر جاری

    اوچ شریف :طاہر والی پرٹریفک حادثہ، ایک شخص جاں بحق، دوسرا زخمی

  • 2017 سے کیس زیر التوا،ریاست حکومت گرانے،لانے میں مصروف،جسٹس اطہرمن اللہ

    2017 سے کیس زیر التوا،ریاست حکومت گرانے،لانے میں مصروف،جسٹس اطہرمن اللہ

    سپریم کورٹ میں قتل کے ملزم اسحاق کی ضمانت قبل از گرفتاری درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے ملزم کو گرفتار کر کے جیل حکام کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے، دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2017 سے یہ کیس سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے جبکہ ریاست حکومت گرانے اور لانے میں مصروف ہے، تمام ادارے سیاسی مخالفین کے پیچھے پڑے ہیں، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ ریاست کی کیا بات کریں؟، 3 وزرائے اعظم مارے گئے، تینوں وزرائے اعظم کے کیسز کا کیا بنا، بلوچستان میں ایک سینئر ترین جج بھی مارے گئے، کچھ معلوم نہیں ہوا، اصل بات کچھ کرنے کی خواہش نہ ہونا ہے، دیگر 2 صوبوں کی نسبت سندھ اور پنجاب میں پولیس کی تفتیش انتہائی ناقص ہے، جب تک ریاستی ادارے سیاسی انجینئرنگ میں مصروف ہوں گے تو ایسا ہی حال رہے گا،

    وزیراعظم کے قتل سے بڑا جرم کیا ہو سکتا ہے؟، کسی کو ذمے دار قرار دے کر سزا دی جانا چاہئے تھی،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ آئین پر عمل ہوتا تو ایسے حالات نہ ہوتے، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ لوگوں کو اداروں پر یقین نہیں، لوگ چاہتے ہیں تمام کام سپریم کورٹ کرے، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ یہ ادارہ بھی اتنا ہی سچ بولتا ہے جتنا ہمارا معاشرہ، 40 سال بعد منتخب وزیر اعظم کے قتل کا اعتراف کیا گیا، وزیراعظم کے قتل سے بڑا جرم کیا ہو سکتا ہے؟، کسی کو ذمے دار قرار دے کر سزا دی جانا چاہئے تھی،

    وزیراعظم ایک دن وزیر اعظم ہائوس تو دوسرے دن جیل میں،جسٹس شہزاد ملک
    جسٹس شہزاد ملک نے کہا کہ جس ملک میں وزیراعظم کا ایسا حال ہو تو عام آدمی کا کیا حال ہوگا، وزیراعظم ایک دن وزیر اعظم ہائوس تو دوسرے دن جیل میں ہوتا ہے، کسی کو معلوم نہیں کس نے کتنے دن وزیراعظم رہنا ہے۔

    اٹک: مویشی پال حضرات کے لیے لائیو اسٹاک کارڈز کی تقسیم

    پشاور: اپیکس کمیٹی اجلاس، ضلع کرم میں بنکرز ختم کرنے کا فیصلہ

  • اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی امور پر چیف جسٹس کو خط

    اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی امور پر چیف جسٹس کو خط

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان، جسٹس یحییٰ آفریدی کو اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی امور پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک خط لکھا گیا ہے۔

    یہ خط شریعت اپیلیٹ بینچ کے جج، قبلہ ایاز کی جانب سے ارسال کیا گیا ہے، جس میں یونیورسٹی کے قائم مقام ریکٹر ڈاکٹر مختار احمد کی کارکردگی اور بورڈ آف گورننگ کے اجلاس کے دوران ان کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر مختار احمد کو اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی معاملات میں بہتری لانے کے لیے قائم مقام ریکٹر کے طور پر تعینات کیا گیا تھا، تاہم ان کا بورڈ آف گورننگ کے اجلاس میں رویہ انتہائی مایوس کن رہا۔ اس کے نتیجے میں یونیورسٹی کے معاملات مزید پیچیدہ اور خراب ہوگئے ہیں۔خط میں مزید کہا گیا کہ بورڈ آف گورننگ کے اجلاس کے میٹنگ مینٹس تیار نہیں کیے گئے، جس سے یونیورسٹی کی انتظامیہ کی غیر سنجیدگی اور غفلت کا اظہار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، بورڈ آف ٹرسٹی کا آئندہ اجلاس جدہ میں رکھا گیا ہے، جہاں یونیورسٹی کے نئے صدر کے انتخاب کا امکان ہے۔ تاہم، اس اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے برعکس نئے صدر کا انتخاب کیا جا سکتا ہے، جو کہ ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔

    قبلہ ایاز نے خط میں یہ بھی کہا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو بطور ممبر بورڈ آف ٹرسٹی یونیورسٹی کے معاملات کی رپورٹ طلب کرنی چاہیے تاکہ اس اہم مسئلے پر فوری کارروائی کی جا سکے اور یونیورسٹی کے انتظامی امور میں بہتری لائی جا سکے۔یہ خط اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی بحران اور اس کے اثرات کے حوالے سے اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے ایک سنگین مداخلت کی علامت ہے، جو ادارے کے مستقبل کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

    پشاور: اپیکس کمیٹی اجلاس، ضلع کرم میں بنکرز ختم کرنے کا فیصلہ
    پشاور: اپیکس کمیٹی اجلاس، ضلع کرم میں بنکرز ختم کرنے کا فیصلہ

  • سپریم کورٹ،قید مکمل کر کےرہاہونے والے کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ،قید مکمل کر کےرہاہونے والے کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے عمر قید کے مقدمے میں ملزم عثمان کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی۔ ملزم عثمان نے جیل میں اپنی عمر قید کی سزا مکمل کی اور بعد ازاں جیل سے رہائی حاصل کی تھی، جس کے بعد اسکی سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں سماعت کے لئے مقرر کی گئی

    سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم عثمان نے عمر قید کی سزا مکمل کر لی ہے اور جیل سے رہائی پا چکا ہے۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے اس معاملے پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست کا 2017 سے اب تک مقرر نہ ہونا تمام چیف جسٹس صاحبان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ بھی انتظامی طور پر درخواست کے مقرر نہ ہونے کی ذمہ دار ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے یہ بھی کہا کہ صدر، گورنر اور پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ سے رپورٹ منگوانے کے اختیارات ہیں، اور وہ اس معاملے کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے فوجداری کیسز میں تفتیشی عمل کی مالی کمی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت فوجداری تفتیش کے لیے صرف 350 روپے مختص کیے جاتے ہیں، جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق، تفتیش اور فوجداری نظام میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے تاکہ عدالتوں میں زیر التوا کیسز کے لیے مناسب انتظامات کیے جا سکیں۔

    جسٹس شہزاد ملک نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھائی گئی، اے ٹی سی، اسپیشل کورٹ سمیت ماتحت عدلیہ میں ججز تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے،عام عدالتوں میں ججز اور اسٹاف کی کمی ہے،ججز کی تعداد بڑھانے کیساتھ انفراسٹرکچر بھی مہیا کیا جانا چاہیے،ایڈوکیٹ جنرل کے پی کے نے کہا کہ اختیارات کسی اور کے پاس ہیں، خیبر پختونخوا ہاوس پر اسلام آباد میں حملہ ہوا،سپریم کورٹ نے کیا کیا،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ کیا آپ نے خیبرپختونخوا ہاوس کے معاملہ پر آئینی درخواست دائر کی،عدالت نے ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کی سرزنش کی اور کہا کہ عدالت میں سیاست نہ کریں،یہ عام لوگوں کے مقدمات ہیں،فوجداری اور سروس کے مقدمات میں صوبہ بھی انصاف کرے،جسٹس شہزاد ملک نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں چار لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں،

    ملزم کو 2007 شیخوپورہ میں یاسین نامی شخص کو قتل کرنے پر عمر قید سزا ہوئی،عدالت نے ملزم کی عمر قید کی سزا کرکے جیل سے رہا ہونے کے سبب مقدمہ نمٹا دیا،جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی

    یہ کیس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عدلیہ کی انتظامی خامیوں اور فوجداری تفتیش کے نظام میں موجود مشکلات کو دور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو انصاف کی فراہمی میں مزید رکاوٹوں کا سامنا نہ ہو۔ملزم عثمان کی عمر قید کے کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے فوجداری نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ 2017 سے اب تک ملزم کی درخواست مقرر نہیں کی گئی تھی۔ جسٹس اطہر من اللہ نے اس کیس کے ذریعے عدلیہ کی انتظامی مشکلات کو اجاگر کرتے ہوئے، فوجداری نظام میں وسائل کی کمی اور تفتیشی عمل میں اصلاحات کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔

    سپریم کورٹ، فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور

    مدارس بل:حکومت جلد فیصلہ کر لے تو بہتر ہے،حافظ حمداللہ

  • سپریم کورٹ،  فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور

    سپریم کورٹ، فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور کر لی ہے۔

    عدالت نے ملزمہ کی ضمانت 2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی۔ یہ فیصلہ جسٹس مسرت ہلالی کی جانب سے تحریر کیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ضمانت منسوخ کرنے کے وقت عدالت کو ملزمہ کی خواتین ہونے کی حیثیت کو مدنظر رکھنا چاہیے تھا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صرف قانون کا حوالہ دے کر سزا سنانا غیر مناسب تھا، اور اس کے ساتھ ہی ملزمہ کے مجرمانہ ریکارڈ، جرم کی نوعیت اور فرار نہ ہونے کے پہلو کو بھی ذہن میں رکھا جانا چاہیے تھا۔ عدالت نے مزید کہا کہ ملزمہ کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں اور نہ ہی اس کا اشتہاری ہونے کا کوئی ریکارڈ ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ ملزمہ کی گرفتاری کے بعد سے اب تک وہ مقدمے میں تعاون کر رہی ہے اور اس کے خلاف کوئی ایسی دلیل یا ثبوت نہیں ہیں جن سے یہ ثابت ہو کہ وہ فرار ہو سکتی ہے۔

    یاد رہے کہ لاہور ایئرپورٹ پر دورانِ چیکنگ ملزمہ سے 26 آئی فون برآمد ہوئے تھے، جن کی مالیت 78 لاکھ 46 ہزار 798 روپے بتائی گئی ہے۔ ملزمہ پر الزام تھا کہ وہ ان فونز کو غیر قانونی طور پر اسمگل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ تاہم، عدالت نے اس بات کو مدنظر رکھا کہ ملزمہ کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں اور اس کے جرم کی نوعیت بھی سنگین نہیں ہے۔

    فیصلہ کیا گیا کہ ملزمہ کے خلاف کوئی اشتہاری ہونے کا ریکارڈ نہیں ہے۔ملزمہ نے گرفتاری کے بعد کوئی فرار ہونے کی کوشش نہیں کی۔اس کی جنس کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کی جانی چاہیے تھیں۔ملزمہ کا مجرمانہ ریکارڈ صاف ہے اور وہ مقدمے میں مکمل تعاون کر رہی ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ جب تک ملزمہ پر مقدمہ چلتا ہے، وہ ضمانت پر رہ سکتی ہے اور اگر کسی بھی وقت وہ عدالتی کارروائی میں مداخلت کرنے کی کوشش کرے گی تو اس کی ضمانت واپس لے لی جائے گی۔اس فیصلے کے بعد، ملزمہ کو 2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہائی مل گئی ہے، اور وہ اپنی رہائش گاہ پر موجود رہیں گی جب تک کہ ان کے خلاف کیس کی سماعت جاری ہے۔

  • بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس، چیف جسٹس یحیٰی آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس، چیف جسٹس یحیٰی آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر چیف جسٹس پاکستان یحیٰی آفریدی کا اضافی نوٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کیس سے متعلق عدالتی ریفرنس پر اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور دیگر ججز کے نوٹس پڑھنے کا اتفاق ہوا، جسٹس منصور علی شاہ کے نوٹ سے ایک حد تک اتفاق کرتا ہوں، ریفرنس میں دی گئی رائے میں کیس کے میرٹس پرکسی حد تک بات کی گئی ہے، سپریم کورٹ صرف ایڈوائزری دائرہ اختیار رکھتی ہے، تاہم فیئر ٹرائل کے سوال پر فیصلے کے پیراگراف 186 سے اتفاق کرتا ہوں، یہ ریفرنس شاید سامنے نہ آتا مگر کچھ واقعات اس کا موجب بنے،جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹر ویو کےکچھ نکات کو ایڈریس کرنا ضروری ہے، اس وقت کی غیر معمولی سیاسی فضا میں دباؤ نے انصاف کے عمل کو متاثر کیا، یہ سب عدالتی آزادی کے نظریات سے متصادم تھا۔

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے لکھا کہ آئینی طرز حکمرانی سے انحراف سیاسی مقدمات میں عدالتی کارروائیوں پر غیرضروری اثر ڈالتا ہے، ایسے حالات میں جسٹس دراب پٹیل، جسٹس محمد حلیم اور جسٹس صفدر شاہ نے جرات مندانہ اختلاف کیا،ان ججزکا اختلاف بھلے نتائج تبدیل کرنے میں ناکام رہا مگر غیرجانبداری کے پائیدار اصولوں کا ثبوت ہے، اس نتیجے پرپہنچاکہ ذوالفقاربھٹو کیس میں ٹرائل اوراپیل میں فیئرٹرائل کے تقاضوں کوپورا نہیں کیا گیا۔

    آصفہ بھٹو زرداری اور فریال تالپور کا نواب شاہ میں انسداد پولیو مہم کا افتتاح

    آصفہ بھٹو زرداری کی دبئی میں گلوبل ویمنز فورم میں شرکت

    بھٹو ریفرنس فیصلے پر جسٹس منصور علی شاہ کا اضافی نوٹ جاری

    بلاول بھٹو اور شہباز شریف کا جمہوریت اور پارلیمنٹ کی مضبوطی کیلئے مل کر چلنے کا عزم