Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی امور پر چیف جسٹس کو خط

    اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی امور پر چیف جسٹس کو خط

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان، جسٹس یحییٰ آفریدی کو اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی امور پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک خط لکھا گیا ہے۔

    یہ خط شریعت اپیلیٹ بینچ کے جج، قبلہ ایاز کی جانب سے ارسال کیا گیا ہے، جس میں یونیورسٹی کے قائم مقام ریکٹر ڈاکٹر مختار احمد کی کارکردگی اور بورڈ آف گورننگ کے اجلاس کے دوران ان کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر مختار احمد کو اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی معاملات میں بہتری لانے کے لیے قائم مقام ریکٹر کے طور پر تعینات کیا گیا تھا، تاہم ان کا بورڈ آف گورننگ کے اجلاس میں رویہ انتہائی مایوس کن رہا۔ اس کے نتیجے میں یونیورسٹی کے معاملات مزید پیچیدہ اور خراب ہوگئے ہیں۔خط میں مزید کہا گیا کہ بورڈ آف گورننگ کے اجلاس کے میٹنگ مینٹس تیار نہیں کیے گئے، جس سے یونیورسٹی کی انتظامیہ کی غیر سنجیدگی اور غفلت کا اظہار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، بورڈ آف ٹرسٹی کا آئندہ اجلاس جدہ میں رکھا گیا ہے، جہاں یونیورسٹی کے نئے صدر کے انتخاب کا امکان ہے۔ تاہم، اس اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے برعکس نئے صدر کا انتخاب کیا جا سکتا ہے، جو کہ ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔

    قبلہ ایاز نے خط میں یہ بھی کہا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو بطور ممبر بورڈ آف ٹرسٹی یونیورسٹی کے معاملات کی رپورٹ طلب کرنی چاہیے تاکہ اس اہم مسئلے پر فوری کارروائی کی جا سکے اور یونیورسٹی کے انتظامی امور میں بہتری لائی جا سکے۔یہ خط اسلامک یونیورسٹی کے انتظامی بحران اور اس کے اثرات کے حوالے سے اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے ایک سنگین مداخلت کی علامت ہے، جو ادارے کے مستقبل کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

    پشاور: اپیکس کمیٹی اجلاس، ضلع کرم میں بنکرز ختم کرنے کا فیصلہ
    پشاور: اپیکس کمیٹی اجلاس، ضلع کرم میں بنکرز ختم کرنے کا فیصلہ

  • سپریم کورٹ،قید مکمل کر کےرہاہونے والے کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ،قید مکمل کر کےرہاہونے والے کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے عمر قید کے مقدمے میں ملزم عثمان کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی۔ ملزم عثمان نے جیل میں اپنی عمر قید کی سزا مکمل کی اور بعد ازاں جیل سے رہائی حاصل کی تھی، جس کے بعد اسکی سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں سماعت کے لئے مقرر کی گئی

    سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم عثمان نے عمر قید کی سزا مکمل کر لی ہے اور جیل سے رہائی پا چکا ہے۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے اس معاملے پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست کا 2017 سے اب تک مقرر نہ ہونا تمام چیف جسٹس صاحبان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ بھی انتظامی طور پر درخواست کے مقرر نہ ہونے کی ذمہ دار ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے یہ بھی کہا کہ صدر، گورنر اور پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ سے رپورٹ منگوانے کے اختیارات ہیں، اور وہ اس معاملے کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے فوجداری کیسز میں تفتیشی عمل کی مالی کمی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت فوجداری تفتیش کے لیے صرف 350 روپے مختص کیے جاتے ہیں، جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق، تفتیش اور فوجداری نظام میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے تاکہ عدالتوں میں زیر التوا کیسز کے لیے مناسب انتظامات کیے جا سکیں۔

    جسٹس شہزاد ملک نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھائی گئی، اے ٹی سی، اسپیشل کورٹ سمیت ماتحت عدلیہ میں ججز تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے،عام عدالتوں میں ججز اور اسٹاف کی کمی ہے،ججز کی تعداد بڑھانے کیساتھ انفراسٹرکچر بھی مہیا کیا جانا چاہیے،ایڈوکیٹ جنرل کے پی کے نے کہا کہ اختیارات کسی اور کے پاس ہیں، خیبر پختونخوا ہاوس پر اسلام آباد میں حملہ ہوا،سپریم کورٹ نے کیا کیا،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ کیا آپ نے خیبرپختونخوا ہاوس کے معاملہ پر آئینی درخواست دائر کی،عدالت نے ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کی سرزنش کی اور کہا کہ عدالت میں سیاست نہ کریں،یہ عام لوگوں کے مقدمات ہیں،فوجداری اور سروس کے مقدمات میں صوبہ بھی انصاف کرے،جسٹس شہزاد ملک نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں چار لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں،

    ملزم کو 2007 شیخوپورہ میں یاسین نامی شخص کو قتل کرنے پر عمر قید سزا ہوئی،عدالت نے ملزم کی عمر قید کی سزا کرکے جیل سے رہا ہونے کے سبب مقدمہ نمٹا دیا،جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی

    یہ کیس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عدلیہ کی انتظامی خامیوں اور فوجداری تفتیش کے نظام میں موجود مشکلات کو دور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو انصاف کی فراہمی میں مزید رکاوٹوں کا سامنا نہ ہو۔ملزم عثمان کی عمر قید کے کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے فوجداری نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ 2017 سے اب تک ملزم کی درخواست مقرر نہیں کی گئی تھی۔ جسٹس اطہر من اللہ نے اس کیس کے ذریعے عدلیہ کی انتظامی مشکلات کو اجاگر کرتے ہوئے، فوجداری نظام میں وسائل کی کمی اور تفتیشی عمل میں اصلاحات کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔

    سپریم کورٹ، فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور

    مدارس بل:حکومت جلد فیصلہ کر لے تو بہتر ہے،حافظ حمداللہ

  • سپریم کورٹ،  فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور

    سپریم کورٹ، فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور کر لی ہے۔

    عدالت نے ملزمہ کی ضمانت 2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی۔ یہ فیصلہ جسٹس مسرت ہلالی کی جانب سے تحریر کیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ضمانت منسوخ کرنے کے وقت عدالت کو ملزمہ کی خواتین ہونے کی حیثیت کو مدنظر رکھنا چاہیے تھا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صرف قانون کا حوالہ دے کر سزا سنانا غیر مناسب تھا، اور اس کے ساتھ ہی ملزمہ کے مجرمانہ ریکارڈ، جرم کی نوعیت اور فرار نہ ہونے کے پہلو کو بھی ذہن میں رکھا جانا چاہیے تھا۔ عدالت نے مزید کہا کہ ملزمہ کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں اور نہ ہی اس کا اشتہاری ہونے کا کوئی ریکارڈ ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ ملزمہ کی گرفتاری کے بعد سے اب تک وہ مقدمے میں تعاون کر رہی ہے اور اس کے خلاف کوئی ایسی دلیل یا ثبوت نہیں ہیں جن سے یہ ثابت ہو کہ وہ فرار ہو سکتی ہے۔

    یاد رہے کہ لاہور ایئرپورٹ پر دورانِ چیکنگ ملزمہ سے 26 آئی فون برآمد ہوئے تھے، جن کی مالیت 78 لاکھ 46 ہزار 798 روپے بتائی گئی ہے۔ ملزمہ پر الزام تھا کہ وہ ان فونز کو غیر قانونی طور پر اسمگل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ تاہم، عدالت نے اس بات کو مدنظر رکھا کہ ملزمہ کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں اور اس کے جرم کی نوعیت بھی سنگین نہیں ہے۔

    فیصلہ کیا گیا کہ ملزمہ کے خلاف کوئی اشتہاری ہونے کا ریکارڈ نہیں ہے۔ملزمہ نے گرفتاری کے بعد کوئی فرار ہونے کی کوشش نہیں کی۔اس کی جنس کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کی جانی چاہیے تھیں۔ملزمہ کا مجرمانہ ریکارڈ صاف ہے اور وہ مقدمے میں مکمل تعاون کر رہی ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ جب تک ملزمہ پر مقدمہ چلتا ہے، وہ ضمانت پر رہ سکتی ہے اور اگر کسی بھی وقت وہ عدالتی کارروائی میں مداخلت کرنے کی کوشش کرے گی تو اس کی ضمانت واپس لے لی جائے گی۔اس فیصلے کے بعد، ملزمہ کو 2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہائی مل گئی ہے، اور وہ اپنی رہائش گاہ پر موجود رہیں گی جب تک کہ ان کے خلاف کیس کی سماعت جاری ہے۔

  • بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس، چیف جسٹس یحیٰی آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس، چیف جسٹس یحیٰی آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر چیف جسٹس پاکستان یحیٰی آفریدی کا اضافی نوٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کیس سے متعلق عدالتی ریفرنس پر اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور دیگر ججز کے نوٹس پڑھنے کا اتفاق ہوا، جسٹس منصور علی شاہ کے نوٹ سے ایک حد تک اتفاق کرتا ہوں، ریفرنس میں دی گئی رائے میں کیس کے میرٹس پرکسی حد تک بات کی گئی ہے، سپریم کورٹ صرف ایڈوائزری دائرہ اختیار رکھتی ہے، تاہم فیئر ٹرائل کے سوال پر فیصلے کے پیراگراف 186 سے اتفاق کرتا ہوں، یہ ریفرنس شاید سامنے نہ آتا مگر کچھ واقعات اس کا موجب بنے،جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹر ویو کےکچھ نکات کو ایڈریس کرنا ضروری ہے، اس وقت کی غیر معمولی سیاسی فضا میں دباؤ نے انصاف کے عمل کو متاثر کیا، یہ سب عدالتی آزادی کے نظریات سے متصادم تھا۔

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے لکھا کہ آئینی طرز حکمرانی سے انحراف سیاسی مقدمات میں عدالتی کارروائیوں پر غیرضروری اثر ڈالتا ہے، ایسے حالات میں جسٹس دراب پٹیل، جسٹس محمد حلیم اور جسٹس صفدر شاہ نے جرات مندانہ اختلاف کیا،ان ججزکا اختلاف بھلے نتائج تبدیل کرنے میں ناکام رہا مگر غیرجانبداری کے پائیدار اصولوں کا ثبوت ہے، اس نتیجے پرپہنچاکہ ذوالفقاربھٹو کیس میں ٹرائل اوراپیل میں فیئرٹرائل کے تقاضوں کوپورا نہیں کیا گیا۔

    آصفہ بھٹو زرداری اور فریال تالپور کا نواب شاہ میں انسداد پولیو مہم کا افتتاح

    آصفہ بھٹو زرداری کی دبئی میں گلوبل ویمنز فورم میں شرکت

    بھٹو ریفرنس فیصلے پر جسٹس منصور علی شاہ کا اضافی نوٹ جاری

    بلاول بھٹو اور شہباز شریف کا جمہوریت اور پارلیمنٹ کی مضبوطی کیلئے مل کر چلنے کا عزم

  • ججز تعیناتی کیلئے جوڈیشل کمیشن رولز کا ابتدائی مسودہ جاری

    ججز تعیناتی کیلئے جوڈیشل کمیشن رولز کا ابتدائی مسودہ جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ججز تعیناتی کیلئے جوڈیشل کمیشن رولز کا ابتدائی مسودہ جاری کر دیا –

    باغی ٹی وی: ابتدائی مسودہ عوام رائے جاننے کیلئے ویب سائٹ پر جاری کیا گیا ،مسودے کے مطابق ججز کی تقرری کیلئے میرٹ پروفیشنل کوالیفیکیشن، قانونی پر عبور، صلاحیت پر مشتمل ہوگا، ججز کیلئے میرٹ میں امیدوار کی ساکھ اور دباؤ سے آزاد ہونا بھی شامل ہوگا، ججز کیلئے نامزدگیوں میں وکلاء اور سیشن ججز کی مناسب نمائندگی ہونی چاہیے-

    مسودے کے مطابق سپریم کورٹ میں تعیناتی کیلئے تمام ہائی کورٹس کی مناسب نمائندگی یقینی بنائی جائے، سپریم کورٹ میں تعیناتی ہائی کورٹس کے پانچ سینئر ترین ججز میں سے ہونی چاہیے، ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری تین سینئر ترین ججز میں سے ہوگی، جوڈیشل کمیشن میں تمام ناموں پر غور کرنےکے بعد ووٹنگ کا عمل شروع ہوگا، جوڈیشل کمیشن کے 2010 کے رولز ختم کر دیے گئے-

  • سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحات کیلئے آن لائن فیڈ بیک فارم کا اجرا کر دیا

    سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحات کیلئے آن لائن فیڈ بیک فارم کا اجرا کر دیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے عدالتی اصلاحات کے لیے آن لائن فیڈ بیک فارم کا اجرا کر دیا-

    باغی ٹی وی: اس حوالے سے جاری اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت عدالتی اصلاحات سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں نمائندہ سپریم کورٹ بار محمد اورنگزیب خان، رجسٹرار محمد سلیم خان اور دیگر نے شرکت کی، اجلاس کا مقصد عدالتی اصلاحات، آئی ٹی انفراسٹرکچر میں پیش رفت کا جائزہ لینا تھا، اجلاس کا مقصد کیس مینجمنٹ، تربیتی پروگرام، فیڈبیک میکا نزم کے قیام کا جائزہ لینا تھا۔

    اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ اصلاحات عدالتی نظام میں تبدیلی لانے کے لیے ہیں، یہ اصلاحات سپریم کورٹ سے لے کر ماتحت عدالتوں تک نافذ کی جائیں گی اجلاس کے دوران چیف جسٹس نے عدالتی اصلاحات میں ججز، وکلا اور عوام کے تعاون کی اہمیت پر زور دیا، چیف جسٹس کو آن لائن فیڈبیک فارم، اسٹیک ہولڈرز کی شرکت برائے عدالتی اصلاحات پر بریفنگ دی گئی۔

    اعلامیے کے مطابق فیڈ بیک فارم اب سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے، عوام سے خدمات کی بہتری اور شفافیت کے حوالے سے تجاویز طلب کی جا رہی ہیں، چیف جسٹس نے عدالتی اصلاحات کے تمام شعبوں میں ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا، اجلاس کا اختتام ایک شفاف، مؤثر اور جامع عدالتی نظام کے قیام کے عزم کے ساتھ ہوا۔

  • جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو جوابی خط لکھ دیا

    جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو جوابی خط لکھ دیا

    سپریم کورٹ کے جسٹس جمال خان مندوخیل نے عدلیہ میں ججز تعیناتی کے حوالے سے رولز بنانے اور سخت میکنزم کے لیے لکھے گئے جسٹس منصور علی شاہ کے خط کا جواب دے دیا

    جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منصور علی شاہ کو لکھے گئے جوابی خط میں کہا کہ آپ کی تجاویز کو پہلے بھی consider کیا کل کے خط والی بھی دیکھیں گے آئندہ بھی آپ اپنی تجاویز رولز کمیٹی کو دے سکتے ہیں 26 ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں بھی آپ نے بات کی لیکن میں اس کا جواب اس لیے نہیں دوں گا کیوں کہ اس کے خلاف درخواستیں سپریم کورٹ میں زیر التوا ہیں آپ نے لاہور ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے لئے کو نام تجاویز کئے وہ رولز کے مکمل ہونے کے بعد دے سکتے ہیں میری بھی یہی رائے ہے کہ آئین کی منشا یہی ہے کہ عدلیہ آزاد اور غیر جانبدار ہونی چاہیے عدلیہ کے ممبران قابل اور دیانتدار ہونے چاہییں اسی مقصد کے لئے رولز بنا رہے ہیں ”

    پاکستان کی عدلیہ میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، جس کے تحت ججوں کی تقرری کے لیے نئے قواعد تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر جج، جسٹس سید منصور علی شاہ کو جسٹس جمال خان مندوخیل نے جوابی خط لکھا جس میں نئے قواعد کی تیاری کے عمل اور اس میں ہونے والی پیشرفت پر تفصیل سے بات کی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا کہ آئین میں 26 ویں ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا دوبارہ قیام عمل میں آیا ہے، جس میں سپریم کورٹ کے جج سمیت دیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔خط میں بتایا گیا کہ جے سی پی نے 6 دسمبر 2024 کو ہونے والے اپنے اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 175اے کی شق 4 کے تحت ججوں کی تقرری کے معیار اور طریقہ کار کے لیے قواعد تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کا مقصد ججوں کی تقرری کے عمل میں شفافیت اور معیار کو بہتر بنانا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ جو ججز منتخب ہوں، وہ قابل، ایماندار اور غیر جانبدار ہوں۔کمیٹی کے اجلاس میں 2010 کے جے سی پی کے قواعد کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے قواعد کی تیاری پر غور کیا گیا۔ اس میں سپریم کورٹ کے جج، اٹارنی جنرل آف پاکستان، سینیٹر فاروق حمید نائیک اور دیگر اہم شخصیات شامل تھیں۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ عدالت کی آزادی اور عدلیہ کی غیر جانبداری آئین کے بنیادی اصول ہیں، اور ان کے مطابق ہی نئے قواعد کو مرتب کیا جائے گا۔

    خط میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ جسٹس منصور علی شاہ نے لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی ترقی کے لیے اپنے امیدواروں کے نام تجویز کیے تھے، جنہیں نئے قواعد کی منظوری کے بعد پیش کیا جا سکتا ہے۔ کمیٹی کی اگلی میٹنگ 16 دسمبر 2024 کو ہونے والی ہے جس میں مزید تجاویز پر غور کیا جائے گا۔ خط میں یہ بات بھی کی گئی کہ 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے جسٹس منصور علی شاہ کے خط میں اٹھائے گئے سوالات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا کیونکہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ تاہم، عدلیہ کی آزادی اور شفافیت کو مقدم رکھنے کا عہد کیا گیا ہے۔خط کے آخر میں کہا گیا کہ عدلیہ پاکستان کے عوام کا ادارہ ہے اور جے سی پی کے تمام ارکان کو نئے قواعد کی تیاری کے عمل میں مکمل شفافیت کو یقینی بنانا چاہیے۔ کمیٹی کی طرف سے تیار کردہ ڈرافٹ قواعد کو جے سی پی کی اگلی میٹنگ میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد ان پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

    دہلی میں فضائی آلودگی،بچے بیمار،شہری دہلی چھوڑنے لگے

    اسرائیل نے شام کے بلندترین پہاڑوں پر قبضہ کیوں کیا

    سول نافرمانی تحریک مؤخر کریں، محمود اچکزئی کی پی ٹی آئی سے اپیل

  • سپریم جوڈیشل کونسل ،ججز کیخلاف 30 شکایات خارج،5 پر جواب طلب

    سپریم جوڈیشل کونسل ،ججز کیخلاف 30 شکایات خارج،5 پر جواب طلب

    سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کیخلاف 30 شکایات خارج کردی،جبکہ 5 شکایات پر ججز سے جواب طلب کرلیا,سپریم کورٹ ترجمان نے جوڈیشل کونسل اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا

    اعلامیہ میں کہا گیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاسسسپریم کورٹ اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس کی صدارت چیف جسٹس آف پاکستان، جناب جسٹس یحییٰ آفریدی نے کی، جو سپریم جوڈیشل کونسل کے چیئرمین بھی ہیں۔ اس اجلاس میں سپریم کورٹ کے دیگر معزز ججز جناب جسٹس منصور علی شاہ، جناب جسٹس منیب اختر، جناب جسٹس عامر فاروق (چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ) اور جناب جسٹس محمد ہاشم کاکڑ (چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ) نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں دستور کے آرٹیکل 209(8) اور 2005 کے سپریم جوڈیشل کونسل کے طریقہ کار کی بنیاد پر ججوں کے ضابطہ اخلاق میں ترمیم کی بابت ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ اس حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جس کی سربراہی جناب جسٹس منیب اختر کریں گے، تاکہ ضابطہ اخلاق اور انکوائری کے طریقہ کار میں مناسب ترامیم کی تجویز پیش کی جا سکے۔

    کونسل نے دستور کے آرٹیکل 209 کے تحت مختلف افراد کی جانب سے دائر کردہ 35 شکایات کا جائزہ لیا۔ ان شکایات میں سے 30 شکایات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ 5 شکایات پر جواب طلب کر لیا گیا ہے

    سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں کو 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت

    سپریم کورٹ، 9 اور 10 مئی کی ایف آئی آرز کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ،پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں خارج

  • سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں کو 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت

    سپریم کورٹ ، فوجی عدالتوں کو 85 ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل کے کیس کی سماعت ہوئی

    آئینی بنچ نے فوجی عدالتوں کے علاوہ دیگر تمام مقدمات کی سماعت موخر کر دی ،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آج صرف فوجی عدالتوں والا مقدمہ ہی سنا جائے گا،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ پہلے اس نکتے پر دلائل دیں کہ آرمی ایکٹ کی کالعدم دفعات آئین کے مطابق ہیں،کیا آرمی ایکٹ میں ترمیم کرکے ہر شخص کو اس کے زمرے میں لایا جا سکتا ہے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پہلے بتائیں عدالتی فیصلے میں دفعات کالعدم کرنے کی وجوہات کیا ہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اس پہلو کوبھی مدنظر رکھیں کہ آرمی ایکٹ 1973کے آئین سے پہلے بنا تھا، وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں خرابیاں ہیں،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ عدالتی فیصلے کو اتنا بے توقیر تو نہ کریں کہ اسے خراب کہیں،خواجہ حارث نے کہا کہ معذرت خواہ ہوں میرے الفاظ قانونی نوعیت کے نہیں تھے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کل بھی کہا تھا کہ نو مئی کے واقعات کی تفصیلات فراہم کریں،فی الحال تو ہمارے سامنے معاملہ صرف کورکمانڈر ہائوس کا ہی ہے،اگر کیس صرف کور کمانڈر ہائوس تک ہی رکھنا ہے تو یہ بھی بتا دیں،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ تمام تفصیلات آج صبح ہی موصول ہوئی ہیں،تفصیلات باضابطہ طور پر متفرق درخواست کی صورت میں جمع کرائوں گا،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ جن دفعات کو کالعدم قرار دیا گیا ہے ان کے تحت ہونے والے ٹرائل کا کیا ہوگا؟نو مئی سے پہلے بھی تو کسی کو ان دفعات کے تحت سزا ہوئی ہوگی، خواجہ حارث نے کہا کہ عمومی طور پر کالعدم ہونے سے پہلے متعلقہ دفعات پر ہونے والے فیصلوں کو تحفظ ہوتا ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ یہ تو اُن ملزمان کے ساتھ تعصب برتنے والی بات ہوگی،

    سپریم کورٹ نے ملٹری کورٹس کو فیصلے سنانے کی اجازت دے دی،سپریم کورٹ نے کہا کہ سزا یا رہائی کا حتمی فیصلہ اپیلوں کے فیصلوں سے مشروط ہو گا، سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کو 85ملزمان کے فیصلے سنانے کی اجازت دے دی، آئینی بینچ نے واضح کیا ہے کہ فوجی عدالتوں کے فیصلے سپریم کورٹ میں زیرالتواء مقدمہ کے فیصلے سے مشروط ہونگے۔جن ملزمان کو سزائوں میں رعایت مل سکتی ہے وہ دے کر رہا کیا جائے،

    فوجی عدالتوں کے کیس کی سماعت سردیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کر دی گئی آئینی بنچ نے 26 ویں ترمیم کا کیس جنوری کے دوسرے ہفتے میں سننے کا عندیہ دے دیا، جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ جنوری کے پہلے ہفتے فوجی عدالتوں کا کیس ختم ہوا تو 26 ویں ترمیم کا کیس دوسرے ہفتے سنیں گے،

    سپریم کورٹ، 9 اور 10 مئی کی ایف آئی آرز کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ،پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں خارج

    سپریم کورٹ سے عادل بازئی کو بڑا ریلیف مل گیا

    سپریم کورٹ بار کا فیض حمید کیخلاف کاروائی کا خیر مقدم

  • 26 ویں آئینی ترامیم کے خلاف دائر تمام درخواستوں کو ڈائری نمبر الاٹ

    26 ویں آئینی ترامیم کے خلاف دائر تمام درخواستوں کو ڈائری نمبر الاٹ

    سپریم کورٹ،26 ویں آئینی ترامیم کے خلاف دائر تمام درخواستوں کو ڈائری نمبر الاٹ کر دیا گیا

    26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف 12 سے زائد درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی ،بلوچستان بار کونسل اور بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز کی طرف سے دائر درخواستوں کو بھی نمبر لگا دیا گیا ،بلوچستان بار کونسل کی طرف سے دائر درخواست کو 49/24 اور بلوچستان ہائی کورٹ بار کی درخواست کو 50/24 نمبر لگایا گیا،جماعت اسلامی کی 26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواست کو بھی نمبر لگا دیا گیا،رجسٹرار آفس نے 12 درخواستوں کو نمبر الاٹ کردیا ہے

    چار نومبر کو جماعت اسلامی پاکستان نے بھی 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا،امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی، درخوا ست وکیل عمران شفیق کے ذریعے دائر کی گئی، جس میں وفاق سمیت چاروں صوبوں کو فریق بنایا گیا ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے درخواست میں استدعا کی کہ 26 ویں آئینی ترمیم آئین کے بنیادی ڈھانچے اور عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے لہذا اسے کالعدم قرار دیا جائے قرار دیا جائے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی تعیناتی صرف سینیارٹی کے اصول پر ہی ممکن ہے اور پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے چیف جسٹس کا تقرر غیر آئینی ہے26 ویں آئینی ترمیم اختیارات کے تقسیم کے اصول کے منافی ہے، یہ کالعدم قرار دی جائے۔

    آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس کی حیثیت میں کمی نہیں آئی،فاروق ایچ نائیک

    جماعت اسلامی پاکستان نے 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

    ہمارے آئینی اداروں نے ہی آئین اور ملک کا ستیاناس کیا،نواز شریف