Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • آئینی بینچ: 14 فروری کے تمام مقدمات ڈی لسٹ

    آئینی بینچ: 14 فروری کے تمام مقدمات ڈی لسٹ

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے 14 فروری کو سماعت کے لیے مقرر تمام مقدمات کو ڈی لسٹ کردیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق مقدمات کو ڈی لسٹ کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا، مقدمات ڈی لسٹ کیے جانے کے حوالے سے وکلا اور فریقین کو آگاہ کردیا گیا۔سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے 14 فروری کے تمام مقدمات کو بینچ کی عدم دستیابی کے باعث ڈی لسٹ کیا۔واضح رہے کہ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہےکہ بانی پی ٹی آئی جو ہم سے چاہتے ہیں وہ آرٹیکل184کی شق 3 سے متعلق ہے لہٰذا یہ معاملہ کمیٹی کو بھجوایا ہے اور اسے آئینی بینچ نے دیکھنا ہے۔چیف جسٹس پاکستان اور آئی ایم ایف کے 6 رکنی وفد کے درمیان سپریم کورٹ میں ایک گھنٹہ ملاقات ہوئی جس میں چیف جسٹس نے آئی ایم ایف وفد کو عدالتی نظام اور اصلاحات پر بریف کیا جب کہ اس دوران چیف جسٹس سےججز تقرری اور آئینی ترمیم پر بھی بات چیت کی گئی۔

    آئی ایم ایف وفد سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ آئی ایم ایف وفد کو جواب دیا ہم نے آئین کے تحت عدلیہ کی آزادی کا حلف اٹھا رکھا ہے، وفد کو بتایا یہ ہمارا کام نہیں ہے کہ آپ کو ساری تفصیل بتائیں، میں نے وفد کو نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے ایجنڈے کا بتایا، آئی ایم ایف وفد کو بتایا ماتحت عدلیہ کی نگرانی ہائیکورٹس کرتی ہیں، وفد نےکہا معاہدوں کی پاسداری اور پراپرٹی حقوق کا ہم جاننا چاہتے ہیں، اس پر میں نے جواب دیا کہ اس پر اصلاحات کررہے ہیں۔

    خلیج میکسکیو کہنے پررپورٹر کو وائٹ ہاؤس سے نکال دیا گیا

    ایف آئی اے کی کارکردگی جانچنے کے لیے خصوصی کمیٹی قائم

    کراچی اور لاہور ایئرپورٹس پر جدید ترین ایئر ٹریفک کنٹرول سسٹم لگانے کا فیصلہ

    عظیم بلے باز حنیف محمد پی سی بی ہال آف فیم میں شامل

  • پیکا ایکٹ میں ترامیم سپریم کورٹ میں چیلنج

    پیکا ایکٹ میں ترامیم سپریم کورٹ میں چیلنج

    اسلام آباد: پیکا ایکٹ میں ترامیم سپریم کورٹ میں چیلنج کر دی گئیں۔

    باغی ٹی وی: پیکا ترامیم کے خلاف درخواست شہری قیوم خان کی جانب سے دائر کی گئی ہے درخواست میں پیکا ایکٹ میں کی گئی ترامیم کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے،درخواست میں پیکا ترامیم کے خلاف سماعت کے لیے فل کورٹ بینچ تشکیل دینے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔

    درخواست گزار نے درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ پیکا ایکٹ میں ترامیم بنیادی حقوق کے خلاف ہیں، پارلیمان کو اختیار نہیں کہ بنیادی حقوق کے خلاف قانون سازی کر سکے، فل کورٹ نہ صرف ترامیم بلکہ اصل پیکا ایکٹ کا بھی بنیادی حقوق کے تناظر میں جائزہ لے،جعلی اسمبلی اور جعلی صدر کی جانب سے رولز بنانے کے عمل کو معطل کرنے کا حکم دیا جائے۔

    امریکا کا نیا اور طاقتور لیزر ہتھیار جو ڈرونز اور میزائلوں کو پگھلا کر اُنہیں تباہ کر سکتا ہے

    پیکا ایکٹ (ترمیمی) 2025 کیا ہے؟
    پاکستان میں فیک نیوز اور جعلی معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پیکا ایکٹ کی ترمیم کی گئی ہے، جس کے تحت آن لائن جھوٹی خبریں پھیلانے والے افراد کو سخت سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ ترمیمی بل 2025 کے مطابق، جو شخص جان بوجھ کر فیک نیوز پھیلائے گا یا کسی دوسرے کو ارسال کرے گا، جس سے معاشرتی خوف یا بدامنی پیدا ہو، اُس کے خلاف تین سال تک قید، 20 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

    پیکا ایکٹ کا مقصد:
    پیکا ایکٹ کا مقصد آن لائن فیک نیوز کی روک تھام اور انٹرنیٹ پر پھیلنے والی غلط معلومات کا سدباب کرنا ہے تاکہ معاشرتی امن قائم رہے اور عوام کو جھوٹی خبروں سے بچایا جا سکے، اس ایکٹ کے تحت انٹرنیٹ پر جھوٹے اور توہین آمیز مواد پھیلانے والوں کو سخت سزائیں دی جا رہی ہیں تاکہ یہ مسائل کنٹرول کیے جا سکیں۔

    پیکا قانون کے تحت مقدمات درج، ایک شخص گرفتار

    مذکورہ مقدمات میں پولیس اور ایف آئی اے کی کارروائی نے پیکا ایکٹ کے تحت ان اقدامات کی اہمیت کو واضح کیا ہے، جہاں سوشل میڈیا اور واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز پر جھوٹی اور جعلی خبریں پھیلانے والوں کو سزا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    چیمپئنز ٹرافی 2025: پاک ، بھارت ٹاکرے کے ٹکٹ کی ریکارڈ فروخت

  • سپریم کورٹ،سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ پر جرمانے کا حکم واپس

    سپریم کورٹ،سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ پر جرمانے کا حکم واپس

    سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نےسابق چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس (ر)جواد ایس خواجہ پر عائد 20ہزار روپے جرمانے کا حکمنامہ واپس لے لیا، سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ کی نظرثانی درخواست واپس لینے پر جرمانہ ختم کیا گیا۔

    سپریم کورٹ آئینی بنچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل فیصلے کیخلاف اپیلوں پر ہوئی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7رکنی بنچ سماعت کررہا ہے،وکیل خواجہ احمد حسین نے کہاکہ عدالت کے سامنے ایک مسئلہ بنیادی حقوق اوردوسراقومی سلامتی ہے،عدالت نے دونوں میں توازن پیدا کرنا ہو تو بنیادی حقوق کاتحفظ کیا جاتا ہے،عدالتی فیصلہ برقرا رہا تو کسی ملزم یا دہشتگرد کو فائدہ نہیں پہنچے گا، انسداددہشتگردی کاقانون موجود ہے جس میں گواہان کے تحفظ سمیت تمام شقیں ہیں،عدالت کسی بھی صورت شہریوں کو شفاف ٹرائل سے متصادم نظام کے سپرد نہیں کر سکتی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ سندھ میں گواہان کے تحفظ کا اہلگ سے قانون بھی موجود ہے۔ آئینی بنچ نے جسٹس (ر)جواد ایس خواجہ پر عائد 20ہزار روپے جرمانے کا حکمنامہ واپس لے لیا، سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ کی نظرثانی درخواست واپس لینے پر جرمانہ ختم کیا گیا۔

    دوران سماعت وکیل خواجہ احمد حسین نے کہاکہ فرخ بخت علی پر ملک مخالف جنگ کرنے اور فوج کو بغاوت پر اکسانے کا الزام تھا،فرخ بخت علی کا کورٹ مارشل میجر جنرل ضیا الحق نے 1974میں کیا، فرخ بخت علی نے بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی،کورٹ مارشل کرنے والے ضیا الحق ترقی پا کر آرمی چیف بن گئے،ضیا الحق کے آرمی چیف بننے کے بعد جو ہوا وہ اس ملک کی تاریخ ہے، جسٹس حسن اظہر نے کہاکہ اس دور میں تو کمانڈنٹ ان چیف اور ایئرچیف کو بھی اغوا کرلیاگیا تھا،اغوا کار نے اپنے کتاب میں وجوہات بھی تحریر کی ہیں،جسٹس مسرت ہلالی نے جسٹس حسن اظہر رضوی سے سوال کیا کہ ویسے وجوہات کیا تھیں؟جسٹس حسن اظہر رضوی نے جواب کیا کہ اس کیلئے آپ کو کتاب پڑھنا پڑے گی،جسٹس حسن اظہر رضوی کے جواب پر عدالت میں قہقہے لگ گئے،سپریم کورٹ میں سماعت میں وقفہ کر دیا گیا۔

  • سپریم کورٹ میں چندلوگ  اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دے رہے ہیں،حامد خان

    سپریم کورٹ میں چندلوگ اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دے رہے ہیں،حامد خان

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حامد خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں چند ایسے لوگ ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دے رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : لاہور ہائی کورٹ بار میں وکلا نمائندہ کنونشن 26 ویں ترمیم کے عدلیہ پر اثرات کے عنوان سے منعقد کیا گیاکنونشن میں سینٹر حامد خان ، ہائی کورٹ بار کے صدر اسد منظور بٹ ، لاہور بار کے صدر مبشر رحمان شریک ہوئے، کنونشن میں ہائی کورٹ بار کے سابق صدور احمد اویس ، شفقت چوہان ، اشتیاق اے خان، سابق نائب صدر ربیعہ باجوہ سمیت ملک بھر سے وکلا نمائندگان نے شرکت کی۔

    پی ٹی آئی کے رہنما سینیٹر حامد خان نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکلا کی تحریک شروع ہو چکی ہے یہ 26 ویں ترمیم کو بہا لے جائے گی، ہماری جدوجہد آگے بڑھ رہی ہے، 26 ویں ترمیم کے خلاف ، وکلا تنظیموں نے درخواستیں دائر کیں، ان درخواستوں پر موجودہ 16 ججز پر مشتمل فل کورٹ سماعت کرے ۔

    چیمپئنز ٹرافی کیلئے قومی ٹیم کا اعلان ، امام الحق کی معنی خیز پوسٹ

    ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں چند ایسے لوگ ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دے رہے ہیں، چیف جسٹس نے عہدہ ، قبول کر کے ہمیں بہت مایوس کیا، ہمارے چیف جسٹس منصور علی شاہ ہیں، ہم سپریم کورٹ کو سیاسی بھرتیوں کے ساتھ بھرنے نہیں دیں گے یہ پارلیمنٹ نہیں محض نمبر ہیں، 26 ویں ترمیم کا وزیراعظم اور وزیر قانون کو بھی علم نہیں تھا یہ فارم 47 کی حکومت ہے مگر کچھ تو اپنے عہدے کی عزت کروائیں-

    لندن کے میئر صادق خان کا 10 ملین پاؤنڈ کی تاریخی اضافی سرمایہ کاری کا اعلان

    حامد خان نے کہا کہ قاضی فائز عیسی نے ہارس ٹریڈنگ کا دروازہ کھولا ، 63 اے کا فیصلہ بالکل ٹھیک تھا، ترمیم والے دن ایک سینیٹر کو ڈائلائیسس کرواتے ہوئے لایا گیا ، ایک خاتون سینیٹر کے بیٹے کو اغواء کر کے ووٹ ڈلوانے لایا گیا، یہ ترمیم کسی طرح آئینی نہیں ہے، موجودہ حکمران صرف کٹھ پتلیاں ہیں، یہ سب جانتے ہیں کہ ہم ہارے ہوئے ہیں، چوروں کے ساتھ مذاکرات ممکن ہی نہیں۔

    ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخواہ نے استعفیٰ دے دیا

    صدر انصاف لائرز اشتیاق اے خان نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک ٹولے نے بارکونسلز کو یرغمال بنایا ہوا ہے، یہ ٹولہ اپنی مرضی کے ججز کو بھرتی کر رہے ہیں یہ عدلیہ پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں ، ججز کو بھی اس غیر آئینی ترمیم کےخلاف اٹھنا ہو گا جب تک جعلی حکومت کی یہ ترمیم ختم نہیں ہوتی وکلا واپس نہیں آئیں گے،26 ویں ترمیم سے پہلے والا فل کورٹ اس کیس کو سنے۔

    محکمہ جیل کی جانب سے سوشل میڈیا پالیسی جاری

  • 8 نئے ججز کی تعیناتی  کے معاملہ:جوڈیشل کمیشن  اجلاس کا شیڈول تبدیل

    8 نئے ججز کی تعیناتی کے معاملہ:جوڈیشل کمیشن اجلاس کا شیڈول تبدیل

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں 8 نئے ججز کی تعیناتی کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس کا شیڈول تبدیل کردیا گیا-

    باغی ٹی وی:جوڈیشل کمشن کا اجلاس 11 فروری کے بجائے اب 10 فروری کو ہوگا اجلاس سپریم کورٹ کے کانفرنس روم میں دن 2 بجے ہوگا، جوڈیشل کمیشن کے ممبران کو اجلاس ایک دن پہلے بلانے سے متعلق باقاعدہ طور پر آگاہ کردیا گیا،سپریم کورٹ میں 8 نئے ججز کے لیے پانچوں ہائیکورٹس کے 5 سنیر ججز کے نام طلب کیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے چیف جسٹس پاکستان سے الگ الگ ملاقات کی،ذرائع نے بتایا کہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے چیف جسٹس پاکستان یحیٰ آفریدی سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے چیف جسٹس پاکستان سے الگ ملاقات کی۔

    حماس نے 5 تھائی باشندوں سمیت 8 یرغمالی رہا کردیئے

    شعبان کا چاند نظر آگیا، شب برات 13 فروری کو ہوگی

    ایف بی آر افسران نے مجھے جان سے مارنےکی دھمکیاں دیں، فیصل واوڈا کا انکشاف

  • قانونی تشریح کا مقدمہ جسٹس منصور کے بینچ میں فکس کرنے پر جواب طلب

    قانونی تشریح کا مقدمہ جسٹس منصور کے بینچ میں فکس کرنے پر جواب طلب

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے قانونی تشریح کا مقدمہ جج جسٹس منصور علی شاہ کے ریگولر بینچ میں فکس کرنے پر سپریم کورٹ فکسر برانچ کے افسران کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کرلی۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ کے کیس کے معاملے میں بڑی پیشرفت ہوئی ہےسپریم کور ٹ کے رجسٹرار آفس نے جسٹس منصور علی شاہ کے ریگولر بینچ میں قانونی تشریح کا مقدمہ فکس کرنے پر فکسر برانچ کے افسران کو شوکاز نو ٹس جاری کردیئے اور افسران سے شوکاز نوٹس پر 7 روز میں جواب مانگ لیا۔

    ذرائع کے مطابق شوکاز نوٹس میں لکھا گیا ہے کہ آئینی بینچ کا مقدمہ جسٹس منصور علی شاہ کے ریگولر بینچ میں کیسے لگ گیا، اس پر افسران وضاحتی جواب جمع کرائیں جسٹس منصورعلی شاہ کے بینچ نےکسٹم ڈیوٹی ایکٹ کاآرٹیکل 191A تناظر میں سننے کافیصلہ کیاتھا تاہم پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی نے کسٹم ڈیوٹی کا مقدمہ آئینی بینچ کو بھجوا دیا تھا۔

    فلسطینیوں کی بے دخلی غیر منصفا نہ قدم،مصر اس میں شریک نہیں ہوگا،مصری صدر

    کورونا وائرس، چین نے امریکی سینٹرل انٹیلیجنس کی رپورٹ مسترد کر دی

    این ایچ اے کی خالی جگہوں کے کمرشل استعمال کیلئے کمیٹی قائم

  • ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ نذر عباس  بحال ، نوٹیفکیشن جاری

    ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ نذر عباس بحال ، نوٹیفکیشن جاری

    ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ نذر عباس کو بحال کردیا گیا ، اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق نذرعباس کےایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل کے عہدے پربحالی کا آفس آرڈر جاری کردیا گیا۔ایڈیشنل رجسٹرار کو آئینی مقدمہ ریگولر بنچ میں لگانے پر اوایس ڈی بنادیاگیا تھا۔اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ایڈیشنل رجسٹرار کی غلطی کی وجہ سے کیس آئینی بینچ کی بجائے ریگولر بینچ میں لگا، کیس غلط بینچ میں لگنے کی وجہ سے وسائل اور عدالتی وقت کا ضیاع ہوا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا تھا۔فیصلے میں کہا گیا ہےکہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اور ججز آئینی کمیٹی نے جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کیا۔کارروائی کیلئے معاملہ چیف جسٹس پاکستان کو بھیجا جاتا ہے، چیف جسٹس پاکستان اس معاملے پر فل کورٹ تشکیل دیں۔

  • سپریم کورٹ میں نئے ججز کی تعیناتی کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب

    سپریم کورٹ میں نئے ججز کی تعیناتی کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں 8 ججز تعینات کرنے کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کرلیا گیا، ہائیکورٹس کے پہلے 5 سینئر ججز سے بھی تعیناتیاں کی جائیں گی۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں 8 ججز تعینات کرنے کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلالیا گیا ہے، ججز تعیناتی کے لیے اجلاس 11 فروری کو دوپہر 2 بجے ہوگا،جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں پانچوں ہائی کورٹس سے 5، 5 سینئر ججز کے ناموں پر غور کیا جائے گا تمام ہائی کورٹس سے کل 25 ناموں پر غور ہوگا جوڈیشل کمیشن اجلاس کی صدارت چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کریں گے،سپریم کورٹ میں اس وقت ججوں کی 8 آسامیاں خالی ہیں۔

    علی امین کی جیل میں عمران خان سے ملاقات

    اجلاس میں سپریم کورٹ کے سینئیر ججز جسٹس منصور علی شاہ ،جسٹس منیب اختر،جسٹس امین الدین خان ،جسٹس جمال خان مندو خیل،سینئیر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اختر حسین شامل ہوں گے جبکہ اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ،اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان، سینیٹر فاروق حمید نائیک،سینیٹر سید علی ظفر اور ایم این اے شیخ آفتاب احمد شامل ہوں گے-

    ایرانی وزیر خارجہ کا 8 سال بعد افغانستان کا دورہ

    بچوں کو ورغلا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانیوالا ملزم گرفتار

  • 26 ویں ترمیم کیخلاف درخواست،معاملہ صرف آئینی بینچ ہی سنے گا۔جسٹس محمد علی مظہر

    26 ویں ترمیم کیخلاف درخواست،معاملہ صرف آئینی بینچ ہی سنے گا۔جسٹس محمد علی مظہر

    26 ویں ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    جسٹس امین الدین خان خان کی سربراہی میں 8 رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی،درخواست گزاروں نےآئینی ترمیم کے خلاف فل کورٹ بینچ بنانے کی استدعا کی،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ جوڈیشل کمشن نے جن ججز کو آئینی بنچ کے لیے نامزد کیا وہ سب اس بینچ کا حصہ ہیں۔ججز کی نامزدگی جوڈیشل کمشن کرتا ہے جبکہ کیسز کی فکسشین 3 رکنی کمیٹی کرتی ہے۔ اس کمیٹی کے سربراہ جسٹس آمین الدین خان ہیں، کمیٹی میں جسٹس محمد علی مظہر اور میں شامل ہیں۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے وکلا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کے معاملے پر آپ خود کنفیوز ہیں،آپ اس بنچ کو ہی فل کورٹ سمجھیں۔ وکلا نے کہا کہ سپریم کورٹ میں موجود تمام ججز پر فل کورٹ تشکیل دیا جاۓ۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں آئینی معاملہ صرف آئینی بینچ ہی سنے گا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آئینی بنچ میں موجود تمام ججز پر فل کورٹ ہی بنایا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فُل کورٹ کا معاملہ چیف جسٹس کے پاس ہی جاسکتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ لگتا ہے آپ پہلے دن سے ہی لڑنے کے موڈ میں ہیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ہم کسی سے لڑنا نہیں چاہیے،جسٹس امین الدین نے کہا کہ اگر کوئی فریق دلائل دینے کو تیار نہیں تو عدالت حکم جاری کرے گی۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سمجھ نہیں آرہی کہ آپ ہچکچاہٹ کا شکار کیوں ہیں؟ جو اس بینچ کے سامنے بحث نہیں کرنا چاہتا وہ پیچھے بیٹھ جائے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ فُل کورٹ تشکیل دینے پر پابندی تو کوئی نہیں ہے،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم اختیارات کی تقسیم کے اصول کے خلاف ہے،وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ 26ویں ترمیم کی منظوری کے وقت ایوان نامکمل تھا،جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال کیا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے لیے کل ممبران پر ووٹنگ ہوئی یا دستیاب ممبران پر،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم پر دستیاب ممبران نے ووٹنگ کی۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ دستیاب ممبران ٹوٹل کیا ایوان کے دو تہائی پر پورا اترتا ہے،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ گنتی حکومت نے پوری ہی کر لی تھی، یہ مسئلہ نہیں اٹھا رہے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا ایوان میں تمام صوبوں کی نمائندگی مکمل تھی،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ خیبر پختون خوا کی سینیٹ میں نمائندگی مکمل نہیں، وہاں سینیٹ انتخابات ابھی رہتے تھے،وکیل صلاح الدین نے کہا کہ اختر مینگل کی درخواست میں ترمیم کے حالات کا نقشہ کھینچا گیا ہے، ارکان اسمبلی ووٹ دینے میں کتنے آزاد تھے، اسے بھی مدِ نظر رکھا جائے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا،وکیل صلاح الدین نے کہا کہ درخواست میں ایک نکتہ مخصوص نشستوں کا بھی اٹھایا گیا ہے، ایوان مکمل ہی نہیں تھا تو ترمیم کیسے کر سکتا تھا،وکیل شاہد جمیل نے کہا کہ عوام کے حقیقی نمائندے ہی آئینی ترمیم کا اختیار رکھتے ہیں۔

    آپ چاہتے ہیں انتخابات کیسز کے فیصلوں کا انتظار کریں، پھر آئینی ترمیم کیس سنیں؟جسٹس محمد علی مظہر
    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں انتخابات کیسز کے فیصلوں کا انتظار کریں، پھر آئینی ترمیم کیس سنیں؟ اس طرح تو آئینی ترمیم کا کیس کافی عرصہ لٹکا رہے گا۔سپریم کورٹ نے 26ویں آئینی ترمیم سے متعلق کیس کی سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی

    13جنوری کو عمران کی بیٹوں سے بات کروائی،جیل حکام کا عدالت میں جواب

    ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ کے خلاف شوکاز نوٹس کی کارروائی ختم

  • ایڈیشنل رجسٹرار کے خلاف توہین عدالت کیس کا فیصلہ کل سنایا جائے گا

    ایڈیشنل رجسٹرار کے خلاف توہین عدالت کیس کا فیصلہ کل سنایا جائے گا

    اسلام آباد: ایڈیشنل رجسٹرار کے خلاف توہین عدالت کیس کا محفوظ فیصلہ کل سنایا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مبنی سپریم کورٹ کا دو رکنی بینچ 23 جنوری کو محفوظ کیا گیا فیصلہ کل 27 جنوری بروز پیر کو سنائے گا-

    واضح رہے کہ رہے کہ چند روز قبل عدالتی آرڈر کے باوجود بینچز اختیارات کیس سماعت کے لیے مقرر نہ ہونے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد گریڈ 21 کے افسر سپریم کورٹ میں تعینات ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذرعباس کو سپریم کورٹ نے سنگین غلطی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے عہدے سے ہٹا دیا تھا ایڈیشنل رجسٹرار ایڈمن پرویز اقبال کے دستخط سے نذر عباس او ایس ڈی بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

    پی ٹی آئی نے پورے مذاکراتی عمل کو تماشہ بنا کر رکھ دیا ہے،عرفان صدیقی

    سپریم کورٹ کے اعلامیے میں رجسٹرار سپریم کورٹ کو ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل کے معاملے کو دیکھنے کی ہدایت کی گئی تھی،اعلامیے کے مطابق ایڈیشنل رجسٹرارجوڈیشل نے آئینی بینچ کا مقدمہ غلطی سے ریگولربینچ کےسامنے سماعت کیلئے مقررکیا، نتیجتاً سپریم کورٹ اورفریقین کے وقت اور وسائل کا ضیاع ہوا۔

    بعد ازاں ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس نے توہین عدالت کا شوکاز نوٹس سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا سپریم کورٹ نے نذر عباس کی انٹرا کورٹ اپیل پر 6 رکنی بینچ تشکیل دے دیا جسٹس جمال خان مندو خیل کی سربراہی میں بینچ تشکیل دیا گیا جس میں جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

    لاس اینجلس کے جنگلات میں لگی آگ بجھنے کی امید

    ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس نے توہین عدالت کی کارروائی پر حکم امتناع کی درخواست بھی کی سپریم کورٹ نے نذر عباس کی انٹرا کورٹ اپیل 27 جنوری بروز پیر کو سماعت کے لیے مقرر کر دی، 6 رکنی لارجر بینچ 27 جنوری دن ایک بجے انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کرے گا۔

    دوسری جانب روسٹر سامنے آںے کے بعد ایڈیشنل رجسٹرار کے خلاف توہینِ عدالت کیس میں جسٹس منصور نے گزشتہ روز ججز کمیٹی کو خط لکھا،جسٹس منصور علی شاہ نے انٹرا کورٹ اپیل کے بینچ پر اعتراض کرتے ہوئے ججز کمیٹی کو خط لکھ دیا، جس میں انہوں نے جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر کی شمولیت پر اعتراض کیا-

    پاکستان میں سائبر حملوں کے خدشے، نئی ایڈوائزری جاری

    جسٹس منصور نے اپنے خط میں لکھا کہ 23 نومبر کو جوڈیشل کمیشن اجلاس ہوا، جس کے بعد چیف جسٹس نے اپنے چیمبر میں کمیٹی کا غیر رسمی اجلاس بلایا۔ اجلاس میں تجویز دی کہ سنیارٹی کے اعتبار سے 5 رکنی بینچ انٹراکورٹ اپیل پر بنایاجائے۔

    جسٹس منصور شاہ کے مطابق تجویز دی تھی بینچ میں کہ ان ججز کو شامل نہ کیا جائے جو کمیٹی کے رکن بھی ہیں، چیف جسٹس نے کہا وہ 4 رکنی بینچ بنانا پسند کریں گے، رات 9 بج کر 33 منٹ پر میرے سیکرٹری کا واٹس ایپ میسج آیا، انہوں نے مجھ سے 6رکنی بینچ کی منظوری کا پوچھا،میں نے سیکرٹری کو بتایا کہ مجھے اس پر اعتراض ہے صبح جواب دوں گا۔

    نئی امریکی انتظامیہ کی طالبان رہنماؤں کے سروں کی قیمتیں مقرر کرنے کی دھمکی

    خط میں جسٹس منصور نے لکھا کہ رات 10 بج کر 28 منٹ پر سیکرٹری نے بتایا 6 رکنی بینچ بن گیا ہے اور روسٹر بھی جاری کر دیا گیا ہے، میرا بینچ پر 2 ممبران کی حد تک اعتراض ہے، بینچز اختیارات کا کیس ہم سے واپس لینے کا فیصلہ دونوں کمیٹیوں نے کیا، کمیٹیوں میں شامل ججز کے فیصلے پر ہی سوالات ہیں، کمیٹی میں شامل ارکان اپنے کیے پر خود جج نہیں بن سکتے، میرے اعتراضات کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔