Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ،انتخابات میں مبینہ دھاندلی کیس، پی ٹی آئی وکیل کو تیاری کیلئے وقت مل گیا

    سپریم کورٹ،انتخابات میں مبینہ دھاندلی کیس، پی ٹی آئی وکیل کو تیاری کیلئے وقت مل گیا

    مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف درخواست پر سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل کو رجسٹرار آفس کے اعتراضات پر تیاری کے لیے وقت دے دیا

    مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6 رکنی بینچ نے سماعت کی،دورانِ سماعت وکیل حامد خان نے کہا کہ آرٹیکل 184(3) میں دائرہ اختیار دیا گیا ہے یا نہیں،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں الیکشن کمیشن جانبدار ہے تو متعلقہ فورم پر جانا چاہیے تھا، ہر امیدوار کے نوٹیفکیشن کے لیے عدالت کو آپ کو بتانا ہو گا، فارم 45 یا 47 دونوں میں اگر فرق ہے تو کوئی ایک صحیح ہو گا، فارم کو جانچنے کے لیے پوری انکوائری کرنا ہو گی،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ حامد صاحب آپ آئندہ سماعت پر تیاری کے ساتھ آئیں،وکیل حامد خان نے کہا کہ میں صرف اعتراضات دور کرنے آیا تھا آپ میرٹ پر بات کر رہے ہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا خیبر پختونخوا سے بلوچستان تک سارا الیکشن ہی غلط تھا؟ ہر حلقہ کی علیحدگی انکوائری ہو گی، ہر امیدوار اپنے حلقہ کے الزامات کا بتائے گا، پہلے بھی انتخابات میں دھاندلی کا ایشو اٹھا تھا، انکوائری کے لیے آرڈیننس لانا پڑا تھا، کارروائی کا اختیار ہمارے پاس نہیں تھا اس لیے آرڈیننس بنانا پڑا، 184 کے تحت دائرہ اختیار عدالت کا نہیں ہے،وکیل حامد خان نے کہا کہ یہ اس عدالت کی کمزوری ہے کہ ابھی تک سوموٹو نہیں لے سکی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ حامد صاحب آپ سینئر وکیل ہیں الفاظ کا چناؤ دیکھ کر کریں،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اعتراضات آپ کی استدعا کو دیکھ کر ہی دور کریں گے،وکیل حامد خان نے کہا کہ جو 8 فروری کو ہوا تھا ہم آج تک بھگت رہے ہیں،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملے پر ڈپٹی اسپیکر نے بھی ایک کمیٹی بنائی ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ہمارا اس کمیٹی سے کوئی سروکار نہیں،عدالت نے مزید تیاری کے لیے مہلت دیتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

    سیف علی خان حملہ،ملزم کی نمائندگی کیلئے عدالت میں وکلا لڑ پڑے

    سیف علی خان حملہ کیس،پولیس ملزم سے خون آلود کپڑے برآمد نہ کروا سکی

  • سپریم کورٹ،کیس مقرر نہ کرنے پر جسٹس منصور علی شاہ برہم،ایڈیشنل رجسٹرار کو بلا لیا

    سپریم کورٹ،کیس مقرر نہ کرنے پر جسٹس منصور علی شاہ برہم،ایڈیشنل رجسٹرار کو بلا لیا

    سپریم کورٹ بنچز کے اختیارات کا کیس مقرر نہ ہونے پر جسٹس منصور علی شاہ نے ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس کو فوری طور پر طلب کر لیا۔

    مقدمہ میں فریق کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین جسٹس منصور علی شاہ کی عدالت میں پیش ہوگئے۔بیرسٹر صلاح الدین نے عدالت میں کہا کہ کراچی سے صرف اسی کیس کیلئے آیا ہوں لیکن کاز لسٹ جاری نہیں ہوئی،عدالت نے آج کیلئے مقدمہ مقرر کرنے کا حکم دیا تھا۔جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا۔ایڈیشنل رجسٹرار کو فوری بلائیں تاکہ پتا چلے کیس کیوں نہیں مقرر ہوا۔

    ڈپٹی رجسٹرار نے بتایا کہ ایڈیشنل رجسٹرار کی طبیعت ٹھیک نہیں وہ چھٹی پر ہیں۔جسٹس منصورعلی شاہ نے استفسار کیا کہ جو مقدمہ مقرر کرنے کا حکم دیا وہ کیوں نہیں لگا؟ ڈپٹی رجسٹرار نے بتایا کہ ججز کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ترمیم سے متعلقہ کیس 27 جنوری کو آئینی بنچ میں لگے گا۔جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں خود بھی کمیٹی کا رکن ہوں مجھے تو کچھ علم نہیں۔جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل آرڈر کو انتظامی کمیٹی کیسے اگنور کر کرسکتی ہے؟ جسٹس عقیل عباسی نے استفسار کیا کہ کیا عدالتی حکم کمیٹی کے سامنے رکھا گیا تھا؟ ڈپٹی رجسٹرار نے بتایا کہ عدالتی حکم کمیٹی میں پیش کیا تھا۔جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ہماری پورے ہفتے کی کاز لسٹ کیوں تبدیل کر دی گئی؟ ہم نے ٹیکس کے مقدمات مقرر کر رکھے تھے جو تبدیل کر دیے گئے۔

    عدالت نے ججز کمیٹی کا پاس کردہ آرڈر اور میٹنگ منٹس کی تفصیلات طلب کر لیں۔ جسٹس عائشہ ملک نے ہدایت کی کہ کاز لسٹ کیوں تبدیل کی گئی اس حوالے سے کوئی تحریری ہدایت ہے تو وہ بھی پیش کریں۔

    26 نومبر توڑ پھوڑ مقدمہ،اسد قیصر کی ضمانت میں توسیع

    جنگ بندی،اسرائیل نے90 فلسطینی قیدی رہا کر دیئے

  • ایرانی سپریم کورٹ کے باہر فائرنگ،2 جج ہلاک،ایک زخمی

    ایرانی سپریم کورٹ کے باہر فائرنگ،2 جج ہلاک،ایک زخمی

    ایران: سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر ججز پر فائرنگ کی گئی ہے
    فائرنگ سے سپریم کورٹ کے 2 ججز جاں بحق، ایک زخمی ہو گیا ہے، حملہ آور نے ایرانی سپریم کورٹ کے 3 ججوں کو نشانہ بنایا، ایک جج محافظ سمیت زخمی ہوا ہے، واقعہ تہران میں سپریم کورٹ کے باہر پیش آیا، حملہ آور نے فائرنگ کے بعد خود کو بھی گولی مار لی ہے،

    ایران کی سپریم کورٹ کے دو سینئر ججوں حجت الاسلام والمسلمین رزنی اور حجت الاسلام والمسلمین مغیثی کو تہران کے محل انصاف کے باہر قتل کر دیا گیا۔ فارس خبر رساں ایجنسی کے مطابق حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 45 منٹ پر اس وقت ہوا جب ایک حملہ آور نے ججوں پر فائرنگ کردی۔حملے میں ہلاک ہونے والے دو ججوں کی شناخت علی رزنی اور محمد مغیشی کے نام سے ہوئی ہے۔واقعہ کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، سپریم کورٹ کے دیگر ججز کی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے

    دونوں ججز ایران میں دہشت گردی اور جاسوسی کے مقدمات کے ذمہ دار تھے، اور ان کی ہلاکت نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔مقتول ججز علی رازینی اور محمد مغیشی تھے، جو ایران کے سخت گیر ججوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ ان دونوں کو "پھانسی دینے والے” کے طور پر جانا جاتا تھا، کیونکہ یہ ججز مختلف دہشت گردوں اور مخالفین کو سخت سزائیں دینے کے لیے مشہور تھے۔ ان کی ہلاکت نے ملک میں سنسنی پھیلائی اور اس پر مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

    ایران، حملے میں جاں بحق دونوں ججز”پھانسیاں دینے” کے حوالہ سے مشہور
    مقتول ججز علی رازینی اور محمد مغیشی نے ایران میں کئی سالوں تک عدلیہ میں اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں اور ان کی شہرت اس بات کے لیے رہی کہ انھوں نے حکومت مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت سزائیں سنائیں۔ ان کی عدالتوں نے متعدد افراد کو پھانسی کی سزا دی، جن میں بیشتر وہ لوگ شامل تھے جو ایران کی حکومت کے مخالف یا مختلف نظریات رکھتے تھے۔1980 کی دہائی میں ہونے والی بڑے پیمانے پر پھانسیوں کے دوران دونوں ججز کا کردار خاص طور پر مشہور ہوا، جب حکومت نے سیاسی قیدیوں کو پھانسی دی۔ ان پھانسیوں کو عالمی سطح پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے طور پر دیکھا گیا تھا۔

    ججز کی ہلاکت کی وجوہات ابھی تک واضح نہیں ہو سکیں، لیکن یہ واقعہ ایران کی عدلیہ میں ایک بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ اس قتل کی تحقیقات جاری ہیں، اور ایرانی حکومت نے اس بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔

    حکومت پنجاب کا گاڑیوں کی رجسٹریشن پر بڑا فیصلہ

    بلوچستان اور شمالی علاقہ جات میں آندھی، شدید بارش و برفباری، سفر میں رکاوٹ کا خدشہ

  • پارلیمنٹ سب سے سپریم ہے، کیا پارلیمنٹ خود پر حملہ توہین نہیں سمجھتی،سپریم کورٹ

    پارلیمنٹ سب سے سپریم ہے، کیا پارلیمنٹ خود پر حملہ توہین نہیں سمجھتی،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے سماعت کی، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسثس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن بھی بینچ کا حصہ ہیں،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے آج اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ اور رولز میں فیئر ٹرائل کا مکمل پروسیجر فراہم کیا گیا ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے استفسارکیا کہ جسٹس منیب، جسٹس عائشہ اور جسٹس آفریدی کے الگ الگ فیصلے ہیں، آپ ملٹری ٹرائل کے کس فیصلے سے اتفاق کرتے ہیں، جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ میں کسی فیصلے کے ساتھ اتفاق نہیں کرتامجسٹس عائشہ ملک نے سیکشن 2 ون ڈی ون کو فئیر ٹرائل کے منافی قرار دیا، جسٹس یحیٰی آفریدی نے قانونی سیکشنز پر رائے نہیں دی، جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ قانونی سیکشنز پر لارجر بینچز کے فیصلوں کا پابند ہو۔جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ 21 ویں ترمیم میں فیصلہ کی اکثرت کیا تھی، جس پر وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ اکثریت 9 ججز سے بنی تھی،21 ویں ترمیم کا اکثریتی فیصلہ 8 ججز کا ہے، 21 ویں ترمیم کو اکثریت ججز نے اپنے اپنے انداز سے ترمیم کو برقرار رکھا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 21 ویں ترمیم کو 8 سے زیادہ ججز نے درست قرار دیا، خواجہ حارث نے کہا کہ خصوصی ٹرائل سے متعلق سپریم کورٹ کا لیاقت حسین کیس کا فیصلہ 9 ججز کا ہے، لیاقت حسین کیس میں ایف بی علی کیس کی توثیق ہوئی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 21 ویں ترمیم کیس میں اکثریت ججز نے ایف بی علی کیس کو تسلیم کیا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے سوال اٹھایا کہ 21 ویں ترمیم کیس میں کسی جج نے ایف بی علی کیس پرجوڈیشل نظرثانی کی رائے دی،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کسی جج نے نہیں کہا کہ ایف بی علی فیصلہ کا جوڈیشل ریویو ہونا چاہیئے، احتجاج اور حملہ میں فرق ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فیصلے میں اٹارنی جنرل کے حوالے سے لکھا ہے کہ کیس کو 9 مئی کے تناظر میں دیکھا جائے۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ 21 جولائی 2023 کے آرڈر میں صرف 9 مئی کی بات کی گئی ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ 9 مئی واقعات کے ملزمان کو ملٹری ٹرائل میں سزا پر اپیل کا حق دینے سے حکومت نے انکار کیا۔

    9 مئی کا جرم تو ہوا ہے، عدالتی فیصلے میں 9 مئی جرم پر کلین چٹ نہیں دی گئی،جسٹس جمال مندوخیل
    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ 9 مئی کا جرم تو ہوا ہے، عدالتی فیصلے میں 9 مئی جرم پر کلین چٹ نہیں دی گئی، سوال ٹرائل کا ہے کہ ٹرائل کہاں پر ہوگا،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جرائم قانون کی کتاب میں لکھے ہیں، اگر جرم آرمی ایکٹ میں فٹ ہوگا تو ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہوگا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 21ویں آئینی ترمیم میں کہا گیا کہ سیاسی جماعتوں کے مقدمات فوجی عدالت میں نہیں چلیں گے،خواجہ حارث نے کہا کہ سیاسی سرگرمی کی ایک حد ہوتی ہے، ریاستی املاک پر حملہ کرکے ریاست کی سیکیورٹی توڑنا سیاسی سرگرمی نہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 21 ویں آئینی ترمیم کے بغیر دہشت گردوں کے خلاف ملٹری ٹرائل نہیں ہوسکتا تھا، جس پر وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ 21 ویں آئینی ترمیم میں قانون سازی دیگر مختلف جرائم اور افراد پر مبنی تھی۔

    جسٹس اظہر حسن رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ پولیس اہلکار کی وردی پھاڑنا جرم ہے، یہاں کور کمانڈر لاہور کا گھر جلایا گیا، ایک دن ایک ہی وقت مختلف جگہوں پر حملے ہوئے، عسکری کیمپ آفسز پر حملے ہوئے، پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت کو جلایا گیا، ماضی میں لوگ شراب خانوں یا گورنر ہاؤس پر احتجاج کرتے تھے، پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ مختلف شہروں میں ایک ہی وقت حملے ہوئے، جرم سے انکار نہیں ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تو ملٹری ٹرائل کیوں نہ ہوا، پارلیمنٹ سب سے سپریم ہے، کیا پارلیمنٹ خود پر حملہ توہین نہیں سمجھتی،جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ سپریم کورٹ پر بھی حملہ ہوا وہ بھی سنگین تھا، سپریم کورٹ کو بھی شامل کرے، جس پر خواجہ حارث نے کہا ’یہاں بات 2 ون ڈی ون کی ہے‘۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے 9 مئی خصوصی ٹرائل پر رائے دی آرمی ایکٹ کی شقوں پر فیڈریشن کو مکمل سنا ہی نہیں گیا۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا آرمی ایکٹ کی شقوں پر اٹارنی جنرل 27 اے کا نوٹس دیا گیا تھا، جسٹس یحییٰ آفریدی صاحب کے نوٹ سے تو لگتا ہے اٹارنی جنرل کو سنا ہی نہیں گیا۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ بینچ نے اٹارنی جنرل کو کہا تھا دلائل آرمی ایکٹ کی شقوں کے بجائے 9 اور 10 مئی واقعات پر مرکوز رکھیں، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ تو عجیب بات ہے، پہلے کہا گیا آرمی ایکٹ کی شقوں پر بات نہ کریں، پھر شقوں کو کالعدم بھی قرار دے دیا گیا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے تو عدالت میں کھڑے ہو کر کہا تھا ہم نے آرمی ایکٹ کی شقوں کو چیلنج ہی نہیں کیا،جسٹس محمد علی مظہر نے ویڈیو لنک پر موجود ایڈووکیٹ فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے یہ بات سن لی ہے، جس پر ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ جی میں نے کہا تھا کیس کو آرمی ایکٹ کے بجائے آئین کے تحت دیکھا جائے، 9 مئی واقعات کے خلاف دیگر درخواستیں دائر کی گئیں جن میں آرمی ایکٹ کی شقوں کو چیلنج کیا گیا تھا،خواجہ حارث نے کہا کہ آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی ون اور ٹو ون ڈی ٹو کو کالعدم قرار دینے سے قبل فیڈریشن کو مکمل شنوائی کا حق ملنا چاہیئے تھا، عدالت کا فوکس 9 اور 10 مئی واقعات پر تھا نہ کہ آرمی ایکٹ کی شقوں پر۔عدالت نے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی

    ورک ویزا کے نام پر فراڈ میں ملوث ایجنٹ گرفتار

    بچوں کا غیر محفوظ طریقے سے ختنہ کرنے والے ڈاکٹر کو 5 سال کی سزا

  • سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کیسز کا ریکارڈ مانگ لیا

    سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کیسز کا ریکارڈ مانگ لیا

    اسلام آباد: سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کیس میں آئینی بینچ نے وکیل وزارت دفاع سے کہا کہ ملٹری ٹرائل کیسز کا ریکارڈ مانگا تھا، عدالت دیکھناچاہتی ہے کہ ٹرائل میں شہادتوں پر کیسے فیصلہ ہوا۔

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کی ،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیے،جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ عدالت نے آپ سے ملٹری ٹرائل والے کیسز کا ریکارڈ مانگا تھا، عدالت دیکھناچاہتی ہے کہ ٹرائل میں شہادتوں پر کیسے فیصلہ ہوا، وکیل وزارت دفاع نے جواب دیا عدالت کو ایک کیس کا ریکارڈ جائزہ کے لیے دکھادیں گے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ عدالت نے پروسیجر دیکھناہے کیا فیئرٹرائل کے ملٹری کورٹ میں تقاضے پورے ہوئے، اس پر وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ ملٹری ٹرائل میں پورا پروسیجر فالو کیا جاتا ہے لیکن ہائیکورٹس نہ ہی سپریم کورٹ میرٹس کا جائزہ لے سکتی ہے۔

    جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ عدالت نے ٹرائل میں پیش شواہد کو ڈسکس نہیں کرنا، عدالت محض شواہد کا جائزہ لینا چاہتی ہے، نیچرل جسٹس کے تحت کسی کو سنے بغیر سزا نہیں ہو سکتی، اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت بنیادی حقوق کے نکتے پر سزا کا جائزہ نہیں لے سکتی،دوران سماعت سیکشن 2(1) ڈی ون درست قرار پائے جانے سے متعلق وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ اگر قانون کےسیکشنز درست قرار پائےتو درخواستیں نا قابل سماعت ہوں گی،عدالت نے وکیل وزارت دفاع کو اپنے دلائل کل تک مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائلز کے خلاف اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی کردی۔

    آرٹیکل 191 اے کے اختیار سے متعلق کیس ملتوی

    سابق امریکی صدر اوباما اور انکی اہلیہ میں ممکنہ طلاق کی افواہیں

    ای وی گاڑیاں خریدنے سے حکومت کو فائدہ ہوگا،شرجیل انعام میمن

  • واہ کینٹ خودکش حملہ کیس کے مجرم کی سزائے موت کیخلاف اپیل منظور

    واہ کینٹ خودکش حملہ کیس کے مجرم کی سزائے موت کیخلاف اپیل منظور

    اسلام آباد: واہ کینٹ خودکش حملہ کیس کے مجرم حمید اللہ کی سزائے موت کیخلاف اپیل منظور کر لی گئی-

    باغی ٹی وی :سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ ناقص تفتیش پر مجرم حمید اللہ کی رہائی کا فیصلہ دیا گیا کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا-

    جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ تفتیش درست نہیں ہوتی پھر الزام عدالت پر لگا دیا جاتا ہے،مجرم کے وکیل نے کہا کہ واہ کینٹ واقعہ میں حمید اللہ پر غلط الزام لگایا گیا،حمید اللہ کو فاٹا سے گرفتار کرنے کا بتایا گیا جبکہ واقعہ کی ایف آئی آر 20 منٹ بعد دائر ہوئی، کیسے ممکن ہے کہ واہ کینٹ واقعہ ہو اور ملزم کو 20 منٹ میں فاٹا سے گرفتار کر لیا جائے-

    پنجاب میں اربوں ڈالرز کے سونے کے ذخائر ملنے کی تصدیق

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ نے واہ کینٹ خودکش حملہ کیس کے مجرم حمید اللہ کی سزائے موت کا فیصلہ دیا تھا، 2008 میں واہ کینٹ خودکش حملے میں ملوث مجرم حمید اللہ کو گرفتار کیا گیا-

    میہڑ: باراتیوں کی بس حادثے کا شکار، ایک بچہ جاں بحق، 3 زخمی

  • چیف جسٹس کی  سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران  سے ملاقات

    چیف جسٹس کی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران سے ملاقات

    اسلام آباد: چیف جسٹس یحیی آفریدی نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدے داران سے ملاقات کی-

    باغی ٹی وی: اعلامیے کے مطابق جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس عائشہ ملک بھی ملاقات میں شریک تھیں،فوری اور حکم امتناع کے معاملات کی جلد سماعت پر غور کیا گیا، چیف جسٹس نے سپریم کورٹ بار کے مطالبات کو قبول کیا-

    اعلامیے کے مطابق فوری نوعیت کے معاملات فوری بنیادوں پر سماعت کیلئے مقرر کرنے پر اتفاق ہوا، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے تمام ججز کا شکریہ ادا کیا، فوری نوعیت کے معاملات فوری بنیادوں پر سماعت کے لیے مقرر کرنے پر اتفاق ہوا، فوری نوعیت کی درخواستوں میں وضاحت کے ساتھ ثبوت فراہم کرنا ہو گا، سرکاری ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے دھمکی آمیز یا غیر موافق کارروائی کو فوری مقرر کیا جائے گا،کسی بھی دھمکی آمیز کارروائی کے ثبوت کے ساتھ درخواست جمع کروانا ضروری ہو گا-

    بسکونی کی پریمیئم بسکٹ رینج کو ‘ہوم برانڈ آف دی ایئر’ ایف ایم سی جی ایشیا ایوارڈز 2024 میں اعزاز

    پنجاب:جنگلی جانوروں پر تشدد، قبضہ اور دیگر جرائم پر کارروائی کیلئے عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ

    پی ایس ایل ڈرافٹ میں شامل کیے جانے پر احمد شہزاد بورڈ پر برس پڑے

  • حلف برداری کا نیا سوٹ بھی نہیں خرید سکاتھا،چیف جسٹس

    حلف برداری کا نیا سوٹ بھی نہیں خرید سکاتھا،چیف جسٹس

    چیف جسٹس پاکستان، یحییٰ آفریدی سے سپریم کورٹ پریس ایسوسی ایشن کے ممبران نے ملاقات کی، جس میں انہوں نے عدلیہ کے حوالے سے اہم خیالات کا اظہار کیا۔

    ملاقات کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کا ہر جج آزاد ہے اور وہ ہر کیس کو اپنے انداز سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے ججز کی آزادی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ججز کو بریکٹ نہیں کیا جانا چاہیے، اور ان پر تنقید ضرور ہونی چاہیے مگر وہ تنقید تعمیراتی ہونی چاہیے۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے مزید کہا کہ ان کے چیف جسٹس پاکستان بننے کا فیصلہ بہت جلدی میں ہوا تھا اور اس وقت وہ اپنی حلف برداری کے لیے نیا سوٹ تک نہیں خرید سکے تھے۔ انہوں نے عدلیہ کے اندر اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ سپریم کورٹ میں کئی ریفارمز کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جا چکے ہیں۔

    چیف جسٹس آف پاکستان نے ہائیکورٹ کی اتھارٹی کے احترام کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری ہائیکورٹ کے ماتحت ہے، اس لیے براہ راست ہائیکورٹ کی اتھارٹی یا ماتحت عدلیہ میں مداخلت نہیں ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کی سمت کو تبدیل کر کے انصاف کی فراہمی میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

    ملاقات کے دوران انہوں نے اپنے دورے کا ذکر بھی کیا اور بتایا کہ جب وہ کوئٹہ گئے تھے، تو بار ایسوسی ایشنز نے مسنگ پرسنز کے حوالے سے شکایات کیں۔ اس مسئلے پر بات کرتے ہوئے چیف جسٹس آفریدی نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا ایشو ان کے دل میں گہرا اثر چھوڑ گیا ہے اور اس مسئلے کو حل کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی۔

  • بھارتی سپریم کورٹ کا ہم جنس پرستوں کی شادی فیصلے  پرنظر ثانی سے انکار

    بھارتی سپریم کورٹ کا ہم جنس پرستوں کی شادی فیصلے پرنظر ثانی سے انکار

    بھارتی سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی حیثیت دینے کے اپنے 17 اکتوبر 2023 کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے اس سلسلے میں دائر نظر ثانی کی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے میں کوئی قانونی خامی نہیں ہے۔

    سپریم کورٹ کے پانچ ججوں پر مشتمل بینچ نے اس معاملے کی بند چیمبر میں سماعت کی۔ بینچ کی سربراہی جسٹس بی آر گوائی کر رہے تھے، اور دیگر ججز میں جسٹس سوریہ کانت، بی وی ناگرتھنا، پی ایس نرسمہا اور دیپانکر دتہ شامل تھے۔ جن میں سے جسٹس نرسمہا وہ واحد جج ہیں جو 2023 میں سنائے گئے فیصلے کا حصہ تھے، جبکہ باقی چار ججز اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔نظر ثانی کی درخواستوں میں 13 درخواستیں دائر کی گئی تھیں، جن میں یہ موقف اپنایا گیا کہ شادی کوئی بنیادی حق نہیں ہے اور ہم جنس پرستوں کو اپنے ساتھی کا انتخاب کرنے اور ان کے ساتھ رہنے کا حق تو حاصل ہے، مگر حکومت ان کے رشتہ کو شادی کا درجہ دینے یا کسی اور طریقے سے قانونی حیثیت دینے کا حکم نہیں دے سکتی۔ درخواست گزاروں نے مزید کہا کہ حکومت ایسے جوڑوں کے تحفظات پر غور کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے سکتی ہے۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ ہم جنس پرست جوڑے بچوں کو گود نہیں لے سکتے۔ عدالت نے یہ موقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ حکومت اور پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور اس پر قانون سازی کے فیصلے کا اختیار انہیں دیا گیا ہے۔

    اس فیصلے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی عدالت نے ہم جنس پرستوں کے حقوق کے بارے میں اس معاملے میں حکومت اور قانون سازوں کو فیصلہ سازی کا اختیار دیا ہے، اور عدالت نے اس اہم معاملے پر مزید قانونی بحث کی ضرورت نہیں سمجھی۔

    واضح رہے کہ 2023 میں بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی قرار دینے سے انکار کر دیا تھا تا ہم عدالت نے مودی سرکارکو حکم دیا کہ ہم جنس پرست کمیونٹی کے حقوق کو یقینی بنایا جائے،عدالت نے اس حوالہ سے قانون سازی کی بھی ہدایت کی ہے

    بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس چندر چوڑ نے بھارت کی مرکزی حکومت اور تمام ریاستی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ یقینی بنائیں کہ ہم جنس پرستوں کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ کیا جائے،انکے حقوق بارے عوام کو آگاہی دی جائے،جن ہم جن پرستوں کو تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے انکو حکومت تحفظ فراہم کرے ،حکومت یہ بات بھی یقینی بنائے کہ مختلف جنس والے بچوں کو آپریشن پر مجبور نہ کیا جائے،

    بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے فیصلے میں کہا کہ جنسی رجحان کی بنیاد پر یونین میں داخل ہونے کے حق پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی، متضاد تعلقات میں خواجہ سرا افراد کو موجودہ قوانین بشمول پرسنل لاز کے تحت شادی کرنے کا حق ہے،غیر شادی شدہ جوڑے، بشمول ہم جنس پرست جوڑے، مشترکہ طور پر بچے کو گود لے سکتے ہیں،مرکزی ھکومت ہم جنس پرستوں کی یونین کے حقوق اور اختیارات کے لئے کمیٹی تشکیل دے، ہم جنس جوڑوں کو راشن کارڈ میں بھی شامل کرنے پر غور کیا جائے،بینک اکاؤنٹس کھلوانے میں ان کے لئے مسائل نہ بنائے جائیں،عدالت قانون نہیں بنا سکتی بلکہ صرف اس کی تشریح کر سکتی ہے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنا سکتی ہے،

    بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ اگر اسپیشل میرج ایکٹ کو ختم کر دیا جائے تو یہ ملک کو آزادی سے پہلے کے دور میں واپس لے جائے گا، اسپیشل میرج ایکٹ کے نظام میں تبدیلی کرنی چاہئے یا نہیں، اس کا فیصلہ پارلیمنٹ کو کرنا ہے، اس عدالت کو محتاط رہنا چاہیے کہ وہ قانون سازی کے میدان میں داخل نہ ہوں،ہم جنس پرستوں کا معاملہ دیہی یا شہری کا نہیں لوگ ہم جنس ہوسکتے ہیں چاہے ان کا تعلق کسی گاؤں یا شہر سے ہو، صرف انگریزی بولنے والا یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ ہم جنس پرست ہے یہ ایک کھیتوں میں کام کرنے والی عورت بھی ہوسکتی ہے،ہ ہم جنس پرستوں کی شادیوں کو قاعدے کے طور پر قبول نہیں کیا جاسکتا

    سپریم کورٹ نے اس کیس میں بھارتی حکومت کا مؤقف بھی ریکارڈ کیا جس میں کہا گیا کہ حکومت ہم جنس پرستوں کو حقوق اور سہولیات کی فراہمی کیلئے ایک کمیٹی قائم کرے گی جو ان چیزوں کا جائزہ لے گی،بھارتی سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی تاہم حکومت نے اس درخواست کی مخالفت کی تھی۔

    یورپ ہم جنس پرستی میں پاگل،پاکستان،روس اس پاگل پن کے مخالف ہیں،روسی سفیر

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    برطانیہ؛ہم جنس پرست جوڑے کو ہراساں کرنے والے باس پر کروڑوں روپے جرمانہ

    ہندوستان ایک ہم جنس پرست ملک ہے آیوشمان کھرانہ

    ہم جنس پرستی کو پاکستان میں قانونی تحفظ،مخالفت کریں گے،زاہد محمود قاسمی

    ہم جنس پرست خواتین ڈاکٹرز نے آپس میں منگنی کر لی

  • ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے طریقہ کار پر مطمئن کریں، جسٹس جمال مندوخیل

    ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے طریقہ کار پر مطمئن کریں، جسٹس جمال مندوخیل

    اسلام آبادسویلینز کےفوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں سماعت ہوئی،

    سماعت جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے کی، وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیے،دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق صرف فوج پر ہوتا ہے، فوجی افسران کوبنیادی حقوق اورانصاف ملتاہے یا نہیں ہم سب کو مدنظر رکھیں گے۔ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اس نکتے پربھی وضاحت کریں کہ فوجی عدالت میں فیصلہ کون لکھتا ہے؟ میری معلومات کےمطابق کیس کوئی اور سنتا ہے اور سزا و جزا کا فیصلہ کمانڈنگ افسر کرتاہے، جس نے مقدمہ سنا ہی نہیں وہ سزاو جزا کا فیصلہ کیسے کر سکتا ہے؟ وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ فیصلہ لکھنے کے لیے جیک برانچ کی معاونت حاصل ہوتی ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے طریقہ کار پر مطمئن کریں، خواجہ حارث نے کہا کہ آرمی ایکٹ سپیشل قانون ہے اور سپیشل قوانین کے شواہد اور ٹرائل کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے،

    فوجی ٹرائل میں وکلاء کے دلائل، گواہان پر جرح بھی ہوتی ہے،میں بطور وکیل صفائی پیش ہوتا رہا، جسٹس حسن اظہر رضوی
    جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ عام تاثر ہے کہ فوجی عدالت میں ٹرائل صرف سزا دینے کی حد تک ہوتا ہے، مناسب ہوتا کہ آپ آگاہ کر دیتے کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل کن مراحل سے گزرتا ہے، بلوچستان ہائی کورٹ میں کورٹ مارشل کی خلاف مقدمات سنتا رہا ہوں، کورٹ مارشل میں مرضی کا وکیل کرنے کی سہولت بھی ہوتی ہے،فوجی عدالتوں کا ٹرائل بھی عام عدالت جیسا ہی ہوتا ہے، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ فوجی عدالت میں بطور وکیل صفائی پیش ہوتا رہا ہوں، ملزم کیلئے وکیل کیساتھ ایک افسر بطور دوست بھی مقرر کیا جاتا ہے، ٹرائل میں وکلاء کے دلائل بھی شامل ہوتے اور گواہان پر جرح بھی ہوتی ہے،فرق صرف اتنا ہے کہ فوجی عدالت میں جج افسر بیٹھے ہوتے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ معاملہ بنیادی حقوق اور آرٹیکل 10 اے کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، وکالت اور بطور جج میرا مجموعی تجربہ 38 سال کا ہے، میں آج بھی خود کو پرفیکٹ نہیں سمجھتا، فوجی عدالت میں بیٹھا افسر اتنا پرفیکٹ ہوتا ہے کہ وہ اتنی سخت سزا کا تعین کر سکے؟