Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ ، ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نے توہین عدالت کا شوکاز نوٹس چیلنج کر دیا

    سپریم کورٹ ، ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نے توہین عدالت کا شوکاز نوٹس چیلنج کر دیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس نے توہین عدالت کے شوکاز نوٹس کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے اس پر حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا کی ہے۔ نذر عباس کی انٹرا کورٹ اپیل پر سپریم کورٹ نے چھ رکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے جس کی سربراہی جسٹس جمال خان مندو خیل کر رہے ہیں۔ اس بینچ میں جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی بھی شامل ہیں۔

    سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس کی انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت 27 جنوری کو مقرر کر دی ہے۔ اس سماعت کے دوران چھ رکنی لارجر بینچ 27 جنوری کو دن ایک بجے اس اپیل پر غور کرے گا۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس کو ایک سنگین غلطی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ان کا عہدہ ختم کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے اعلامیے میں رجسٹرار سپریم کورٹ کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس کے معاملے کو دیکھیں۔اعلامیے کے مطابق ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس نے آئینی بینچ کا مقدمہ غلطی سے ریگولر بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا، جس کی وجہ سے سپریم کورٹ اور فریقین کے وقت اور وسائل کا ضیاع ہوا۔

    نذر عباس کی جانب سے چیلنج کیے جانے والے توہین عدالت کے شوکاز نوٹس اور اس پر جاری قانونی کارروائی کی اہمیت اس بات سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس نوعیت کے معاملات میں سپریم کورٹ کا موقف معمول سے زیادہ سخت ہو سکتا ہے۔ اس سے قبل بھی سپریم کورٹ نے انتظامی معاملات میں کسی قسم کی غلطی یا بے ضابطگی کو برداشت نہیں کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کی 13 ویں سالگرہ، لاہور میں کیک کاٹنے کی تقریب

  • ججز کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کریں تو معاملہ فل کورٹ میں جا سکتا ،جسٹس منصور علی شاہ

    ججز کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کریں تو معاملہ فل کورٹ میں جا سکتا ،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ میں بینچز کے اختیارات کے کیس سماعت کے لیے مقرر نہ کرنے پر توہینِ عدالت کے کیس میں ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ نذر عباس نے شوکاز نوٹس کا جواب عدالت میں جمع کروا دیا۔

    بینچز کے اختیارات کا کیس سماعت کے لیے مقرر نہ کرنے پر توہینِ عدالت کیس کی سماعت جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل بینچ نے کی، ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس نے عدالت سے شوکاز نوٹس واپس لینے کی استدعا کر دی،ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس نے کہا ہے کہ عدالتی حکم کی نافرمانی نہیں کی، عدالتی حکم پر بینچ بنانے کے معاملے پر نوٹ بنا کر پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو بھجوا دیا تھا،عدالت نے کہا کہ ہمارے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ جوڈیشل آرڈر کی موجودگی میں ججز کمیٹی کیس واپس لے سکتی تھی؟عدالتی معاون وکیل حامد خان نے کہا کہ کچھ ججز کو کم اختیارات ملنا اور کچھ کو زیادہ، ایسا نہیں ہو سکتا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ سوال الگ ہے، اگر ہم آرٹیکل 191 اے کی تشریح کا کیس سنتے تو یہ سوال اٹھایا جا سکتا تھا، ہمارے سامنے کیس ججز کمیٹی کے واپس لینے سے متعلق ہے، چیف جسٹس پاکستان اور جسٹس امین الدین خان ججز کمیٹی کا حصہ ہیں، بادی النظر میں دو رکنی ججز کمیٹی نے جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کیا، اگر ججز کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کریں تو معاملہ فل کورٹ میں جا سکتا ہے، اس سوال پر معاونت دیں،جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے اس معاملے پر کنفیوژن تو ہے، جسٹس عقیل عباسی نے حامد خان سے سوال کیا کہ آپ آرٹیکل 191 اے کو کیسے دیکھتے ہیں؟ ماضی میں بینچز ایسے بنے جیسے معاملات پر رولز بنانا سپریم کورٹ کا اختیار تھا، اب سپریم کورٹ کے کچھ اختیارات ختم کر دیے گئے ہیں، 26ویں آئینی ترمیم کا سوال آجائے گا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا کسی ملک میں بینچز عدلیہ کے بجائے ایگزیکٹو بناتا ہے؟ کوئی ایک مثال ہو؟وکیل حامد خان نے کہا کہ بینچز عدلیہ کے بجائے ایگزیکٹو بنائے ایسا کہیں نہیں ہوتا۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ 191 اے کے تحت آئینی بینچ جوڈیشل کمیشن بنائے گا۔جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ 191 اے کو سامنے رکھیں تو کیا یہ اوور لیپنگ نہیں ہے؟

    وکیل حامد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے اختیارات کو کمزور نہیں کر سکتی۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر کمیٹی جوڈیشل آرڈر فالو نہیں کرتی تو پھر کیا ہو گا؟ عدالتی معاون وکیل حامد خان نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے پاس آئینی بینچ کے کیسز مقرر کرنے کا اختیار ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ راجہ عامر کیس میں بھی فل کورٹ بنا تھا۔حامد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ قانون سازی سے سپریم کورٹ کے علاوہ ہر عدالت کے دائرہ اختیار کا فیصلہ کر سکتی ہے، پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو کم نہیں کر سکتی۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آرٹیکل 2 اے کے تحت پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کیس واپس لے سکتی ہے یا نہیں؟ کیا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کر سکتی ہے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کرنے والی صورتِ حال نہیں ہونی چاہیے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ رولز 1980ء کے تحت فل کورٹ چیف جسٹس بنائیں گے یا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی؟ کیا جوڈیشل آرڈر سے فل کورٹ کی تشکیل کے لیے معاملہ ججز کمیٹی کو بھجوایا جاسکتا ہے؟،وکیل حامد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ عدلیہ کے اختیارات بڑھا سکتی ہے، کم نہیں کر سکتی، آرٹیکل 191 اے میں آئینی بینچز کا ذکر ہے، سپریم کورٹ میں ایک آئینی بینچ کا ذکر نہیں، کم از کم 5 ججز پر مشتمل ایک آئینی بینچ ہو سکتا ہے، اس صورتِ حال میں 3 آئینی بینچز بن سکتے ہیں، جو سینئر ہو گا وہی بینچ کا سربراہ ہو گا، آرٹیکل 191 اے ججز کمیٹی کے سیکشن 2 اے سے ہم آہنگ نہیں اس لیے خلاف آئین ہے۔

    فیصلہ تو آئینی بینچ کرتا ہے ہم تو یہاں گپ شپ کے لئے بیٹھے ہیں ہم کونسا آئینی بنچ ہیں۔جسٹس منصور علی شاہ
    سپریم کورٹ میں جسٹس منصور علی شاہ اور احسن بھون کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا،جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا میں شکر گزار ہوں آپ ایک دن کے نوٹس پر تشریف لائے،احسن بھون بولے جناب کا حکم تھا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ کا شکریہ آپ تو ہمارا حکم مانتے ہیں ،جس پر عدالت میں قہقے لگ گئے،احسن بھون نے کہا کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھے امید ہے آپ کوئی آئین کے منافی فیصلہ نہیں کریں گے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ فیصلہ تو آئینی بینچ کرتا ہے ہم تو یہاں گپ شپ کے لئے بیٹھے ہیں ہم کونسا آئینی بنچ ہیں۔ عدالت میں دوبارہ قہقے لگ گئے،

    عدالتی معاونین شاہد جمیل،ایڈووکیٹ حامد خان اور منیر اے ملک نے فل کورٹ بنانے کی حمایت کر دی،حامد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ عدلیہ کے اختیارات بڑھا سکتی ہے، کم نہیں کر سکتی،

    جسٹس منصور علی شاہ اور احسن بھون کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا، احسن بھون نے کہا کہ آپ ججز کمیٹی کا حصہ ہیں، آپ بیٹھیں یا نہ بیٹھیں یہ الگ بات ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں تو جوڈیشل کمیشن کا بھی ممبر ہوں، احسن بھون نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن اجلاس میں ججز بھی لگائے جا رہے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہم جو ججز نامزد کرتے ہیں انھیں تو ایک ہی ووٹ ملتا ہے وہ بھی ہمارا ہی ہوتا ہے،باقیوں کو گیارہ گیارہ ووٹ پڑ جاتے ہیں،

    کیس واپس ہونے لگے تو یہ عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،جسٹس منصور علی شاہ
    بیرسٹر صلاح الدین نے فل کورٹ بنانے کے حوالے سے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا تو جسٹس منصور علی شاہ نے کہا مجھے یہ بھی بتادیں کہ ان فیصلوں پر عمل ہوا تھا؟کیا فل کورٹ بنائی گئی تھی تو صلاح الدین بولے بلکل ہوا تھا۔ جسٹس منصور علی شاہ بولے ہم فل کورٹ کا فیصلہ دے کر بیٹھ جائیں فیصلہ کہیں ادھر ادھر پڑا رہے عمل درآمد ہو نہ اس پر تو فائدہ،کمیٹی کے پاس کیس واپس لینے کا اختیار کدھر سے آگیا۔کیس ہمارے سامنے کمیٹی نے لگایا۔اس طرح سے کیس واپس ہونے لگے تو یہ عدلیہ کے آزادی کے منافی ہے،اگر ہم کوئی فیصلہ دیتے تو نظر ثانی میں بڑا بینچ بنا دیتے۔

    سپریم کورٹ، بینچز اختیارات کیس، توہین عدالت کیس کا فیصلہ محفوظ
    بینچز اختیارات کیس میں ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ کے خلاف توہین عدالت کیس میں فیصلہ محفوظ کرلیا گیا،عدالتی معاون وکیل احسن بھون نے کہا کہ چیف جسٹس کمیٹی کے سامنے معاملہ رکھیں، پارلیمنٹ کا اختیار دو تہائی اکثریت کے ساتھ وفاق میں قانون سازی کرناہے، کمیٹی بینچ کے سامنے ٹھیک کیسز مقرر کرتی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس پھر کیاکریں؟ یعنی آپ کہہ رہےہیں کمیٹی نےٹھیک کیا؟ مسئلہ کمیٹی کے سامنے رکھیں؟ احسن بھون نے جواب دیا فل کورٹ جوڈیشل آرڈر کےتحت نہیں ہوسکتا ورنہ فساد ہوجائےگا، یہاں ادارے کوتباہ کرنے میں لوگ لگے ہوئے ہیں، ہرکوئی اپنی پارلیمنٹ،اپنے ججز، اپنی سپریم کورٹ چاہتا ہے، اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہم ادارے کو بچانے کے لیے ہی لگے ہوئے ہیں۔

    سماعت میں اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا کہ توہین عدالت کے لیے موجودہ بینچ درست طور پر تشکیل نہیں دیا گیا، سپریم کورٹ رولز کے تحت توہین عدالت کا بینچ تشکیل دینے کے لیے چیف جسٹس فیصلہ کریں گے، اس بینچ کے پاس توہین عدالت کی سماعت کا اختیار نہیں، یہ معاملہ دیوانی یا فوجداری توہین کے دائرے میں آتا ہے، توہین عدالت کا پورا پروسیجر دیا گیا ہے جو چیف جسٹس کے اختیار میں ہے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میں فیصلہ محفوظ کرلیا جو بعد میں سنایا جائیگا۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    جب سے موجودہ حکومت خیبر پختونخوا میں آئی ہے صوبہ تباہ ہو گیا ،عوام پھٹ پڑی

  • 2005کے زلزلہ متاثرین کی بحالی اور فنڈز کے آڈٹ کی رپورٹ طلب

    2005کے زلزلہ متاثرین کی بحالی اور فنڈز کے آڈٹ کی رپورٹ طلب

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وفاقی و صوبائی حکومتوں اور آڈیٹر جنرل سے 2005 کے زلزلہ متاثرین کی بحالی اور فنڈز کے آڈٹ کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے درخواست گزار سے سوال کیا کہ زلزلہ متاثرین کےلیے کتنے مکان بنے؟ کتنے متاثرین کوکاروبارمیں مدد ملی؟-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے زلزلہ متاثرین کی بحالی سے متعلق درخواست پر سماعت کی جس دوران متعلقہ فریقین عدالت میں پیش ہوئے،سماعت کے دوران عدالت نے سوال کیا کہ اکتوبر 2025 میں زلزلےکو 20 سال ہوجائیں گے،کیا زلزلہ متاثرین کی بحالی کا 50 سال کا منصوبہ ہے؟ –

    جسٹس محمد علی مظہر نے درخواست گزار سے سوال کیا کہ زلزلہ متاثرین کےلیے کتنے مکان بنے؟ کتنے متاثرین کوکاروبارمیں مدد ملی؟ درخواست گزار نے بتایا کہ حکومت نے نیو بالاکوٹ شہر بنانے کا اعلان کیا تھا، ابھی نیوبالاکوٹ سٹی سے متعلق کچھ نہیں ہوا۔

    عازمین حج کی تربیت کے پہلے مرحلے کا آغاز ہوگیا

    نمائندہ ایرا نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے 14 ہزار سے زائد زلزلہ متاثرین کے لیے منصوبے مکمل کیے، اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا وہ منصوبےکہاں ہیں جو مکمل ہوئے؟کیا انسانوں کے لیے منصوبے بنائے گئے یاجنوں کےلیے؟-

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے وفاقی و صوبائی حکومت، ایرا سے زلزلہ متاثرین کی بحالی اور آڈیٹرجنرل پاکستان سے زلزلہ متاثرین کی بحالی کے لیے فنڈز کی آڈٹ رپورٹ طلب کرلی، بعد ازاں آئینی بینچ نے کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی۔

    طلبہ کی چین میں جدید زرعی تربیت کا تمام خرچ حکومت اٹھائے گی،وزیراعظم

    واضح رہے کہ 8 اکتوبر 2005 کو 7.6 شدت کے زلزلے سے آزاد کشمیر اور صوبہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی تھی۔

  • جوڈیشل آرڈر نہ مان کر    قانون سے انحراف کیا گیا،تین ججز کا خط

    جوڈیشل آرڈر نہ مان کر قانون سے انحراف کیا گیا،تین ججز کا خط

    بینچز اختیارات کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے تین ججز نےچیف جسٹس کو خط لکھا ہے

    آئینی بینچ کے سربرا ہ جسٹس امین الدین خان کو بھی تینوں ججزنے خط لکھا ہے، خط جسٹس منصور علی شاہ ، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی نےلکھا،تینوں ججز کی جانب سے خط میں بینچ اختیارات سے متعلق کیس کا ذکر کیا گیا،خط میں کہا گیا کہ جسٹس عقیل عباسی کو 16 جنوری کو بینچ میں شامل کیا گیا،جسٹس عقیل عباسی سندھ ہائی کورٹ میں کیس سن چکے ہیں،خط میں 20جنوری کو کیس سماعت کیلئے مقرر نہ ہونے کی شکایت کی گئی،خط میں پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی 17 جنوری اجلاس کا ذکر کیا گیا،جسٹس منصورعلی شاہ نےکمیٹی کو آگاہ کیاا ان کا نقطہ نظر ریکارڈ پر ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کمیٹی اجلاس میں شرکت سے انکار کیاجسٹس منصورعلی شاہ نے کہا انہیں کمیٹی میں پیش ہونے کی ضرورت نہیں کمیٹی کو پہلے والا بینچ تشکیل دیکر 20 جنوری کو سماعت فکس کر سکتی تھی،جوڈیشل آرڈر نہ مان کر قانون سے انحراف کیا گیا،جسٹس منصور علی شاہ نے معاملے کو توہین عدالت قرار دیا،

    کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ،جسٹس منصور علی شاہ

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

  • کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ،جسٹس منصور علی شاہ

    کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ،بینچزکے اختیارات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

    طلبی پررجسٹرار سپریم کورٹ پیش ہوئے، سپریم کورٹ نے رجسٹرار سے سوال کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود کیس مقرر کیوں نہ ہوا؟ رجسٹرار نے جواب دیا کہ کیس آئینی بینچ کا تھا، غلطی سے ریگولر میں لگ گیا تھا، جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ اگر یہ غلطی تھی تو عرصے سے جاری تھی اب ادراک کیسے ہوا؟معذرت کیساتھ غلطی صرف اس بینچ میں مجھے شامل کرنا تھی، جسٹس عقیل عباسی نے رجسٹرار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں کیس کو ہائی کورٹ میں سن چکا تھا، پتہ نہیں مجھے بینچ میں شامل کرنا غلطی تھی کیا تھا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا اس معاملے پر اجلاس کیسے ہوا؟ کیا کمیٹی نے خود اجلاس بلایا یا آپ نے درخواست کی؟ رجسٹرار سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم نے کمیٹی کو نوٹ لکھا تھا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جب جوڈیشل آرڈر موجود تھا تو نوٹ کیوں لکھاگیا؟ہمارا آرڈر بہت واضح تھا کہ کیس کس بینچ میں لگنا ہے، عدالت نے رجسٹرار کو ہدایت کی کہ وہ نوٹ دکھائیں جو آپ نے کمیٹی کو بھیجا،رجسٹرار سپریم کور ٹ نے کمیٹی کو بھیجا گیا نوٹ عدالت میں پیش کردیا

    جہاں محسوس ہو فیصلہ حکومت کیخلاف ہو سکتا ہےتو کیس ہی بینچ سے واپس لے لیا جائے؟جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس منصور علی شاہ نے رجسٹرار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ نوٹ میں غلطی کا ادراک تو نہیں کیا گیا، نوٹ میں آپ لکھ رہے ہیں کہ 16 جنوری کو آرڈر جاری ہوا ،نوٹ میں آپ آرڈر کی بنیاد پر نیا بینچ بنانے کا کہہ رہے ہیں، آرڈر میں تو ہم نے بتایا تھا کہ کیس کس بینچ میں لگنا ہے؟ رجسٹرار نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی نے کیس آئینی بنچ کی کمیٹی کو بھجوایا،آئینی بینچز کی کمیٹی نےترمیم سے متعلقہ مقدمات 27 جنوری کو مقرر کیے،ترمیم کے بعد جائزہ لیا تھا کہ کونسے مقدمات بینچ میں مقرر ہو سکتے ہیں کونسے نہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیس شاید آپ سے غلطی سے رہ گیا لیکن بینچ میں آ گیا تو کمیٹی کا کام ختم، کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ہو گئی،جہاں محسوس ہو فیصلہ حکومت کیخلاف ہو سکتا ہےتو کیس ہی بینچ سے واپس لے لیا جائے؟جسٹس منصور علی شاہ نے رجسٹرار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیس آپ سے رہ گیا اور ہمارے سامنے آ گیا، آخر اللہ تعالیٰ نے بھی کوئی منصوبہ ڈیزائن کیا ہی ہوتا ہے، جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ ہمارے کیس سننے سے کم از کم آئینی ترمیم کا مقدمہ تو مقرر ہوا،پہلے تو شور ڈلا ہوا تھا لیکن ترمیم کا مقدمہ مقرر نہیں ہو رہا تھا، ٹیکس کیس میں کونسا آئینی ترمیم کا جائزہ لیا جانا تھا جو یہ مقدمہ واپس لے لیا گیا، عدالت نے معاونت کیلئے اٹارنی جنرل کو فوری طور پر طلب کر لیا ،عدالت نے کہا کہ جو دستاویزات آپ پیش کر رہے ہیں یہ ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل کا دفاع ہے، دفاع میں پیش کیے جانے والے موقف پر عدالت فیصلہ کرے گی کہ درست ہے یا نہیں،

    یہ تو ہم اس کیس میں بتا ئیں گے کہ کمیٹی کیسز واپس لے سکتی ہے یانہیں ،جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو مقدمہ واپس لینے کا اختیار کہاں سے آیا؟رجسٹرار نے کہا کہ کمیٹی کیسز مقرر کر سکتی ہے تو واپس بھی لے سکتی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ تو ہم اس کیس میں بتا ئیں گے کہ کمیٹی کیسز واپس لے سکتی ہے یانہیں ، جسٹس منصور علی شاہ نے رجسٹرار سپریم کورٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ میں بھی رہے، آپکو چیزوں کا علم تو ہوگا،ججز کمیٹی کا عدالتی بنچ سے کیس واپس لینے سے تو عدلیہ کی آزادی کا خاتمہ ہو جائے گا،رجسٹرار سپریم کورٹ نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون ایکٹ آف پارلیمنٹ ہے،پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت ججز کمیٹی عدالتی بنچ سے کیس واپس لے سکتی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا رہا تو کل کوئی کیس اس وجہ سے واپس لے لیا جائے گا کہ حکومت کیخلاف فیصلہ ہونے لگا ہے، میں ایک وضاحت کرنا چاہتا ہوں، 17 جنوری کو ججز کمیٹی کے دو اجلاس ہوئے، مجھے ریگولر ججز کمیٹی اجلاس میں مدعو کیا گیا،میں نے جواب دیا جوڈیشل آرڈر دے چکا ہوں، کمیٹی میں بیٹھنا مناسب نہیں،پھر 17 جنوری کو ہی آرٹیکل 191 اے فور کے تحت آئینی بنچز ججز کمیٹی کا اجلاس ہوا،جس وقت عدالتی بنچ میں کیس تھا اس وقت دو اجلاس ایک ہی دن ہوئے،جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ ججزآئینی کمیٹی نے منٹس میں کہا 26ویں آئینی ترمیم کیس آٹھ ججز کے سامنے سماعت کیلئے مقرر کیا جاتا ہے، اس لیے یہ کیس آئینی بنچ میں بھیجا جاتا ہے، 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف تو ہم کیس سن ہی نہیں رہے تھے، چلیں اچھا ہے، اس کیس کے بہانے کیسز تو لگنا شروع ہو گئے،

    ججز کمیٹی بنچ سے کیس واپس لے سکتی ہے یا نہیں،اٹارنی جنرل طلب،منیر اے ملک اور حامد خان عدالتی معاون مقرر
    جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی کے بنچ نے اٹارنی جنرل کو عدالت میں طلب کر لیا،سینئر وکیل منیر اے ملک اور حامد خان کو عدالتی معاون مقرر کر دیا گیا ،عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل سمیت دیگر وکلا کو کل سنیں گے،یہ اہم معاملہ ہے کہ ججز کمیٹی بنچ سے کیس واپس لے سکتی ہے یا نہیں،

    ایڈووکیٹ صلاح الدین نے بینچ کے سامنے استدعا کی کہ کچھ ججز کے اختیارات باقی ججز سے کیوں زیادہ ہیں اس معاملے پر فل کورٹ بنایا جائے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہم نے تو کمیٹی میں پہلے اس بات کی ریکوئسٹ کردی تھی۔ جسٹس عقیل عباسی نے سوال اٹھایاکہ کیا ہم توہین عدالت کی سماعت میں ایسا حکم جاری کر سکتے ہیں؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا اس سے متعلق وکلاء ہمیں آگاہ کریں۔ لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس شاہد جمیل کھڑے ہوئے اور کہا کہ آرٹیکل 187 کے تحت سپریم کورٹ مکمل انصاف کی فراہمی کے لئے فل کورٹ بنا سکتی ہے۔

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

    پاکستان ،بھارت اور دنیا کےرہنماؤں کی ٹرمپ کو مبارکباد

  • الیکشن کمیشن کو سیاسی اثر و رسوخ، مداخلت کا شکار نہیں ہونا چاہیے،سپریم کورٹ

    الیکشن کمیشن کو سیاسی اثر و رسوخ، مداخلت کا شکار نہیں ہونا چاہیے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے عادل بازئی کو ڈی سیٹ کیے جانے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کے حوالے سے تحریری فیصلہ جاری کردیا

    جسٹس منصور علی شاہ نے 18 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالتی ہدایات کے باوجود الیکشن کمیشن ایسا رویہ اپناتا ہے جو اس کے آئینی فرائض سے مطابقت نہیں رکھتا، الیکشن کمیشن سمجھتا ہے کہ اسے دوسرے آئینی اداروں اور ووٹ کے بنیادی حق کو نظرانداز کرنے کا اختیار حاصل ہے، انتخابات جمہوریت کی زندگی ہیں اور الیکشن کمیشن انتخابی عمل کی دیانتداری کا ضامن ہے، الیکشن کمیشن کے آزاد انتخابی عمل کے بغیر جمہوریت کی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے، الیکشن کمیشن کو سیاسی اثر و رسوخ یا سیاسی مداخلت کا شکار نہیں ہونا چاہیے، الیکشن کمیشن کو جمہوریت کا غیرجانبدار محافظ رہنا چاہیے۔

    سپریم کورٹ نے تحریری فیصلے میں کہاہے کہ الیکشن کمیشن کا حکومت کے حق میں جھکاؤ ظاہر ہو تو یہ سیاسی نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچائے گا، انتخابی عمل کی حفاظت کا مرکز عوام کے ووٹ کا حق ہے، حق ووٹ کے استعمال سے جمہوری نظام میں طاقت اور قانونی حیثیت عوام کی مرضی سے حاصل ہوتی ہے۔

    جاپان،بزرگ افراد تنہائی کا شکار،خواتین جیل جانے کو ترجیح دینے لگیں

    ٹرمپ چین اور بھارت کے دورے کے خواہشمند

    سات دن میں جوڈیشل کمیشن نہ بنا تو چوتھی میٹنگ کا فائدہ نہیں، بیرسٹر گوہر

  • سپریم کورٹ،انتخابات میں مبینہ دھاندلی کیس، پی ٹی آئی وکیل کو تیاری کیلئے وقت مل گیا

    سپریم کورٹ،انتخابات میں مبینہ دھاندلی کیس، پی ٹی آئی وکیل کو تیاری کیلئے وقت مل گیا

    مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف درخواست پر سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل کو رجسٹرار آفس کے اعتراضات پر تیاری کے لیے وقت دے دیا

    مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6 رکنی بینچ نے سماعت کی،دورانِ سماعت وکیل حامد خان نے کہا کہ آرٹیکل 184(3) میں دائرہ اختیار دیا گیا ہے یا نہیں،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں الیکشن کمیشن جانبدار ہے تو متعلقہ فورم پر جانا چاہیے تھا، ہر امیدوار کے نوٹیفکیشن کے لیے عدالت کو آپ کو بتانا ہو گا، فارم 45 یا 47 دونوں میں اگر فرق ہے تو کوئی ایک صحیح ہو گا، فارم کو جانچنے کے لیے پوری انکوائری کرنا ہو گی،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ حامد صاحب آپ آئندہ سماعت پر تیاری کے ساتھ آئیں،وکیل حامد خان نے کہا کہ میں صرف اعتراضات دور کرنے آیا تھا آپ میرٹ پر بات کر رہے ہیں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا خیبر پختونخوا سے بلوچستان تک سارا الیکشن ہی غلط تھا؟ ہر حلقہ کی علیحدگی انکوائری ہو گی، ہر امیدوار اپنے حلقہ کے الزامات کا بتائے گا، پہلے بھی انتخابات میں دھاندلی کا ایشو اٹھا تھا، انکوائری کے لیے آرڈیننس لانا پڑا تھا، کارروائی کا اختیار ہمارے پاس نہیں تھا اس لیے آرڈیننس بنانا پڑا، 184 کے تحت دائرہ اختیار عدالت کا نہیں ہے،وکیل حامد خان نے کہا کہ یہ اس عدالت کی کمزوری ہے کہ ابھی تک سوموٹو نہیں لے سکی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ حامد صاحب آپ سینئر وکیل ہیں الفاظ کا چناؤ دیکھ کر کریں،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اعتراضات آپ کی استدعا کو دیکھ کر ہی دور کریں گے،وکیل حامد خان نے کہا کہ جو 8 فروری کو ہوا تھا ہم آج تک بھگت رہے ہیں،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملے پر ڈپٹی اسپیکر نے بھی ایک کمیٹی بنائی ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ہمارا اس کمیٹی سے کوئی سروکار نہیں،عدالت نے مزید تیاری کے لیے مہلت دیتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

    سیف علی خان حملہ،ملزم کی نمائندگی کیلئے عدالت میں وکلا لڑ پڑے

    سیف علی خان حملہ کیس،پولیس ملزم سے خون آلود کپڑے برآمد نہ کروا سکی

  • سپریم کورٹ،کیس مقرر نہ کرنے پر جسٹس منصور علی شاہ برہم،ایڈیشنل رجسٹرار کو بلا لیا

    سپریم کورٹ،کیس مقرر نہ کرنے پر جسٹس منصور علی شاہ برہم،ایڈیشنل رجسٹرار کو بلا لیا

    سپریم کورٹ بنچز کے اختیارات کا کیس مقرر نہ ہونے پر جسٹس منصور علی شاہ نے ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس کو فوری طور پر طلب کر لیا۔

    مقدمہ میں فریق کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین جسٹس منصور علی شاہ کی عدالت میں پیش ہوگئے۔بیرسٹر صلاح الدین نے عدالت میں کہا کہ کراچی سے صرف اسی کیس کیلئے آیا ہوں لیکن کاز لسٹ جاری نہیں ہوئی،عدالت نے آج کیلئے مقدمہ مقرر کرنے کا حکم دیا تھا۔جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا۔ایڈیشنل رجسٹرار کو فوری بلائیں تاکہ پتا چلے کیس کیوں نہیں مقرر ہوا۔

    ڈپٹی رجسٹرار نے بتایا کہ ایڈیشنل رجسٹرار کی طبیعت ٹھیک نہیں وہ چھٹی پر ہیں۔جسٹس منصورعلی شاہ نے استفسار کیا کہ جو مقدمہ مقرر کرنے کا حکم دیا وہ کیوں نہیں لگا؟ ڈپٹی رجسٹرار نے بتایا کہ ججز کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ترمیم سے متعلقہ کیس 27 جنوری کو آئینی بنچ میں لگے گا۔جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں خود بھی کمیٹی کا رکن ہوں مجھے تو کچھ علم نہیں۔جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل آرڈر کو انتظامی کمیٹی کیسے اگنور کر کرسکتی ہے؟ جسٹس عقیل عباسی نے استفسار کیا کہ کیا عدالتی حکم کمیٹی کے سامنے رکھا گیا تھا؟ ڈپٹی رجسٹرار نے بتایا کہ عدالتی حکم کمیٹی میں پیش کیا تھا۔جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ہماری پورے ہفتے کی کاز لسٹ کیوں تبدیل کر دی گئی؟ ہم نے ٹیکس کے مقدمات مقرر کر رکھے تھے جو تبدیل کر دیے گئے۔

    عدالت نے ججز کمیٹی کا پاس کردہ آرڈر اور میٹنگ منٹس کی تفصیلات طلب کر لیں۔ جسٹس عائشہ ملک نے ہدایت کی کہ کاز لسٹ کیوں تبدیل کی گئی اس حوالے سے کوئی تحریری ہدایت ہے تو وہ بھی پیش کریں۔

    26 نومبر توڑ پھوڑ مقدمہ،اسد قیصر کی ضمانت میں توسیع

    جنگ بندی،اسرائیل نے90 فلسطینی قیدی رہا کر دیئے

  • ایرانی سپریم کورٹ کے باہر فائرنگ،2 جج ہلاک،ایک زخمی

    ایرانی سپریم کورٹ کے باہر فائرنگ،2 جج ہلاک،ایک زخمی

    ایران: سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر ججز پر فائرنگ کی گئی ہے
    فائرنگ سے سپریم کورٹ کے 2 ججز جاں بحق، ایک زخمی ہو گیا ہے، حملہ آور نے ایرانی سپریم کورٹ کے 3 ججوں کو نشانہ بنایا، ایک جج محافظ سمیت زخمی ہوا ہے، واقعہ تہران میں سپریم کورٹ کے باہر پیش آیا، حملہ آور نے فائرنگ کے بعد خود کو بھی گولی مار لی ہے،

    ایران کی سپریم کورٹ کے دو سینئر ججوں حجت الاسلام والمسلمین رزنی اور حجت الاسلام والمسلمین مغیثی کو تہران کے محل انصاف کے باہر قتل کر دیا گیا۔ فارس خبر رساں ایجنسی کے مطابق حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 45 منٹ پر اس وقت ہوا جب ایک حملہ آور نے ججوں پر فائرنگ کردی۔حملے میں ہلاک ہونے والے دو ججوں کی شناخت علی رزنی اور محمد مغیشی کے نام سے ہوئی ہے۔واقعہ کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، سپریم کورٹ کے دیگر ججز کی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے

    دونوں ججز ایران میں دہشت گردی اور جاسوسی کے مقدمات کے ذمہ دار تھے، اور ان کی ہلاکت نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔مقتول ججز علی رازینی اور محمد مغیشی تھے، جو ایران کے سخت گیر ججوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ ان دونوں کو "پھانسی دینے والے” کے طور پر جانا جاتا تھا، کیونکہ یہ ججز مختلف دہشت گردوں اور مخالفین کو سخت سزائیں دینے کے لیے مشہور تھے۔ ان کی ہلاکت نے ملک میں سنسنی پھیلائی اور اس پر مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

    ایران، حملے میں جاں بحق دونوں ججز”پھانسیاں دینے” کے حوالہ سے مشہور
    مقتول ججز علی رازینی اور محمد مغیشی نے ایران میں کئی سالوں تک عدلیہ میں اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں اور ان کی شہرت اس بات کے لیے رہی کہ انھوں نے حکومت مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت سزائیں سنائیں۔ ان کی عدالتوں نے متعدد افراد کو پھانسی کی سزا دی، جن میں بیشتر وہ لوگ شامل تھے جو ایران کی حکومت کے مخالف یا مختلف نظریات رکھتے تھے۔1980 کی دہائی میں ہونے والی بڑے پیمانے پر پھانسیوں کے دوران دونوں ججز کا کردار خاص طور پر مشہور ہوا، جب حکومت نے سیاسی قیدیوں کو پھانسی دی۔ ان پھانسیوں کو عالمی سطح پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے طور پر دیکھا گیا تھا۔

    ججز کی ہلاکت کی وجوہات ابھی تک واضح نہیں ہو سکیں، لیکن یہ واقعہ ایران کی عدلیہ میں ایک بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ اس قتل کی تحقیقات جاری ہیں، اور ایرانی حکومت نے اس بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔

    حکومت پنجاب کا گاڑیوں کی رجسٹریشن پر بڑا فیصلہ

    بلوچستان اور شمالی علاقہ جات میں آندھی، شدید بارش و برفباری، سفر میں رکاوٹ کا خدشہ

  • پارلیمنٹ سب سے سپریم ہے، کیا پارلیمنٹ خود پر حملہ توہین نہیں سمجھتی،سپریم کورٹ

    پارلیمنٹ سب سے سپریم ہے، کیا پارلیمنٹ خود پر حملہ توہین نہیں سمجھتی،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے سماعت کی، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسثس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن بھی بینچ کا حصہ ہیں،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے آج اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ اور رولز میں فیئر ٹرائل کا مکمل پروسیجر فراہم کیا گیا ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے استفسارکیا کہ جسٹس منیب، جسٹس عائشہ اور جسٹس آفریدی کے الگ الگ فیصلے ہیں، آپ ملٹری ٹرائل کے کس فیصلے سے اتفاق کرتے ہیں، جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ میں کسی فیصلے کے ساتھ اتفاق نہیں کرتامجسٹس عائشہ ملک نے سیکشن 2 ون ڈی ون کو فئیر ٹرائل کے منافی قرار دیا، جسٹس یحیٰی آفریدی نے قانونی سیکشنز پر رائے نہیں دی، جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ قانونی سیکشنز پر لارجر بینچز کے فیصلوں کا پابند ہو۔جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ 21 ویں ترمیم میں فیصلہ کی اکثرت کیا تھی، جس پر وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ اکثریت 9 ججز سے بنی تھی،21 ویں ترمیم کا اکثریتی فیصلہ 8 ججز کا ہے، 21 ویں ترمیم کو اکثریت ججز نے اپنے اپنے انداز سے ترمیم کو برقرار رکھا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 21 ویں ترمیم کو 8 سے زیادہ ججز نے درست قرار دیا، خواجہ حارث نے کہا کہ خصوصی ٹرائل سے متعلق سپریم کورٹ کا لیاقت حسین کیس کا فیصلہ 9 ججز کا ہے، لیاقت حسین کیس میں ایف بی علی کیس کی توثیق ہوئی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 21 ویں ترمیم کیس میں اکثریت ججز نے ایف بی علی کیس کو تسلیم کیا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے سوال اٹھایا کہ 21 ویں ترمیم کیس میں کسی جج نے ایف بی علی کیس پرجوڈیشل نظرثانی کی رائے دی،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کسی جج نے نہیں کہا کہ ایف بی علی فیصلہ کا جوڈیشل ریویو ہونا چاہیئے، احتجاج اور حملہ میں فرق ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فیصلے میں اٹارنی جنرل کے حوالے سے لکھا ہے کہ کیس کو 9 مئی کے تناظر میں دیکھا جائے۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ 21 جولائی 2023 کے آرڈر میں صرف 9 مئی کی بات کی گئی ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ 9 مئی واقعات کے ملزمان کو ملٹری ٹرائل میں سزا پر اپیل کا حق دینے سے حکومت نے انکار کیا۔

    9 مئی کا جرم تو ہوا ہے، عدالتی فیصلے میں 9 مئی جرم پر کلین چٹ نہیں دی گئی،جسٹس جمال مندوخیل
    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ 9 مئی کا جرم تو ہوا ہے، عدالتی فیصلے میں 9 مئی جرم پر کلین چٹ نہیں دی گئی، سوال ٹرائل کا ہے کہ ٹرائل کہاں پر ہوگا،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جرائم قانون کی کتاب میں لکھے ہیں، اگر جرم آرمی ایکٹ میں فٹ ہوگا تو ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہوگا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 21ویں آئینی ترمیم میں کہا گیا کہ سیاسی جماعتوں کے مقدمات فوجی عدالت میں نہیں چلیں گے،خواجہ حارث نے کہا کہ سیاسی سرگرمی کی ایک حد ہوتی ہے، ریاستی املاک پر حملہ کرکے ریاست کی سیکیورٹی توڑنا سیاسی سرگرمی نہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 21 ویں آئینی ترمیم کے بغیر دہشت گردوں کے خلاف ملٹری ٹرائل نہیں ہوسکتا تھا، جس پر وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ 21 ویں آئینی ترمیم میں قانون سازی دیگر مختلف جرائم اور افراد پر مبنی تھی۔

    جسٹس اظہر حسن رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ پولیس اہلکار کی وردی پھاڑنا جرم ہے، یہاں کور کمانڈر لاہور کا گھر جلایا گیا، ایک دن ایک ہی وقت مختلف جگہوں پر حملے ہوئے، عسکری کیمپ آفسز پر حملے ہوئے، پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت کو جلایا گیا، ماضی میں لوگ شراب خانوں یا گورنر ہاؤس پر احتجاج کرتے تھے، پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ مختلف شہروں میں ایک ہی وقت حملے ہوئے، جرم سے انکار نہیں ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تو ملٹری ٹرائل کیوں نہ ہوا، پارلیمنٹ سب سے سپریم ہے، کیا پارلیمنٹ خود پر حملہ توہین نہیں سمجھتی،جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ سپریم کورٹ پر بھی حملہ ہوا وہ بھی سنگین تھا، سپریم کورٹ کو بھی شامل کرے، جس پر خواجہ حارث نے کہا ’یہاں بات 2 ون ڈی ون کی ہے‘۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے 9 مئی خصوصی ٹرائل پر رائے دی آرمی ایکٹ کی شقوں پر فیڈریشن کو مکمل سنا ہی نہیں گیا۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا آرمی ایکٹ کی شقوں پر اٹارنی جنرل 27 اے کا نوٹس دیا گیا تھا، جسٹس یحییٰ آفریدی صاحب کے نوٹ سے تو لگتا ہے اٹارنی جنرل کو سنا ہی نہیں گیا۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ بینچ نے اٹارنی جنرل کو کہا تھا دلائل آرمی ایکٹ کی شقوں کے بجائے 9 اور 10 مئی واقعات پر مرکوز رکھیں، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ تو عجیب بات ہے، پہلے کہا گیا آرمی ایکٹ کی شقوں پر بات نہ کریں، پھر شقوں کو کالعدم بھی قرار دے دیا گیا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے تو عدالت میں کھڑے ہو کر کہا تھا ہم نے آرمی ایکٹ کی شقوں کو چیلنج ہی نہیں کیا،جسٹس محمد علی مظہر نے ویڈیو لنک پر موجود ایڈووکیٹ فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے یہ بات سن لی ہے، جس پر ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ جی میں نے کہا تھا کیس کو آرمی ایکٹ کے بجائے آئین کے تحت دیکھا جائے، 9 مئی واقعات کے خلاف دیگر درخواستیں دائر کی گئیں جن میں آرمی ایکٹ کی شقوں کو چیلنج کیا گیا تھا،خواجہ حارث نے کہا کہ آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی ون اور ٹو ون ڈی ٹو کو کالعدم قرار دینے سے قبل فیڈریشن کو مکمل شنوائی کا حق ملنا چاہیئے تھا، عدالت کا فوکس 9 اور 10 مئی واقعات پر تھا نہ کہ آرمی ایکٹ کی شقوں پر۔عدالت نے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی

    ورک ویزا کے نام پر فراڈ میں ملوث ایجنٹ گرفتار

    بچوں کا غیر محفوظ طریقے سے ختنہ کرنے والے ڈاکٹر کو 5 سال کی سزا