Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات کیلئے بینچ تشکیل

    سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات کیلئے بینچ تشکیل

    چیف جسٹس اف پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال نے عدالتی ہفتہ 15 اگست سے 19 اگست تک مختلف اہم اور عام نوعیت کے مقدمات کی سماعت کیلئے 3 ریگولر اور 1 سپیشل بینچ تشکیل دیا ہے ۔

    15 اگست کوسپریم کورٹ میں سماعت ہونے والے اہم مقدمات میں گندم پالیسی کی خلاف ورزی ،اختیارات کا ناجائز استعمال اور مجرمانہ غفلت کے مرتکب نیب کیس میں گرفتار محمد اقبال میمن کی درخواست ضمانت پر سماعت ہو گی،کورٹ نمبر ایک میں چیف جسٹس عمر عطاء بندیال دو رکنی بینچ سیریل نمبر 1 سماعت کریگا.

    پنجاب پولیس افسران کی سروس سینیارٹی سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت
    کورٹ نمبر ایک چیف جسٹس عمر عطاء بندیال دو رکنی بینچ سیریل نمبر 2 کرے گا، مبینہ طور پر غیر قانونی کاروبار کے زریعے سادہ لوح عوام کو خطیر رقم سے محروم کرنے کے ملزم دولت خان کی ضمانت منسوخی کیلئے نیب کی دائر کردہ درخواست پر سماعت بھی کورٹ نمبر ایک چیف جسٹس عمر عطاء بندیال دو رکنی بینچ سیریل نمبر 3 کے گا.ایم کیو ایم اور پاکستان تحریک انصاف کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق دائر کردہ درخواستوں پرسماعت دن ایک بجے کورٹ نمبر ایک میں چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ کرے گا.

    5- احسان الرحمان مزاری بنام فیڈریشن کیس کی سماعت جو قومی اسمبلی کی انتخابی عذرداری سے متعلق ہے یہ سماعت دن ایک بجے کورٹ نمبر ایک میں چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ کرے گا. آفتاب احمد بنام الیکشن کمیشن آف پاکستان کیس کی سماعت جو قومی اسمبلی کے حلقہ جات 99 اور 100 اور پنجاب اسمبلی کے حلقہ جات 93 تا 96 کی حد بندی سے متعلق ہے یہ سماعت دن ایک بجے کورٹ نمبر ایک میں چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ کرے گا.

    16 اگست کو سپریم کورٹ میں سماعت ہونے والے اہم مقدمات میں روز مرہ دیوانی ، فوجداری ، سروس ، ٹیکس ، فیملی اور بینکنگ سے متعلقہ کیسز زیر سماعت آئیں گے جبکہ 17 اگست سپریم کورٹ میں سماعت ہونے والے اہم مقدمات میں روز مرہ دیوانی ، فوجداری ، سروس ، ٹیکس ، فیملی اور بینکنگ سے متعلقہ کیسز زیر سماعت آئیں گے.

    18 اگست کو سپریم کورٹ میں سماعت ہونے والے اہم مقدمات میں نثار احمد بنام الیکشن اپیلٹ ٹریبونل سکھر کیس کی سماعت جو کاغذات نامزدگی سے متعلق ہے،کورٹ نمبر ایک میں چیف جسٹس عمر عطاء بندیال تین رکنی بینچ سیریل نمبر 1 سماعے کرے گا، روبینہ فاروق بنام سٹیٹ بزریعہ نیب کیس کی سماعت جو مجرمانہ بد عنوانی پر تفتیشی افسر کیخلاف انکوائری سے متعلق ہے کی سماعت کورٹ نمبر ایک چیف جسٹس عمر عطاء بندیال تین رکنی بینچ سیریل نمبر 10 ہو گی.

    19 اگست کو سپریم کورٹ میں سماعت ہونے والے اہم مقدمات میں روز مرہ دیوانی ، فوجداری ، سروس ، ٹیکس ، فیملی اور بینکنگ سے متعلقہ کیسز زیر سماعت آئیں گے،تاہم سپیریم کورت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس عدالتی ہفتہ کے دوران مزید اہم کیس کے مقرر ہونے پر فی الفور آگاہ کیا جائے گا ۔

  • نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی .چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا گزشتہ روز کوئی مزید ترمیم کی گئی ہے؟اس معاملے پر فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے، ہم اس سماعت میں مزید وقت دیں گے، دوسری طرف سے بھی عدالت کو بہتر معاونت ملے گی ،ایک چارٹ پیش کیا گیا تھا اس پر دلائل دینا چاہیں گے؟

    نیب حکام نے عدالت میں کہا کہ نیب اٹارنی جنرل کے دلائل کو اپنائے گا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت میں ایک تحریری معروضات جمع کرائیں، خواجہ حارث نے کہا کہ دو گراونڈ زپر یہ ترامیم چیلنج کی ہیں ایک یہ آئین کے سائلنٹ فیچر کی خلاف ورزی ہے ،پارلیمانی طرز حکومت میں احتساب کی بات موجود ہے،جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ جو قانون کی پروویژن ہیں وہ اوورلیپ نہیں کررہی ہیں ؟ مخدوم علی خان نے کہا کہ اس وقت جو تضاد ہے وہ اکیڈمک بحث چاہتی ہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ جو ابھی دوسری ترامیم کی گئی ہیں ان کو ابھی چیلنج نہیں کیا،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ان ترامیم سے متعلق مزید تفصیل جمع کرائیں،شاہد پہلے پانچ ملین والی بات نہیں تھی لیکن اب شامل کی جا چکی ہے؟

    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا آپ وہ ترامیم جو ہوئی ہیں وہ چیلنج کررہے ہیں؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا یہ ترامیم جو کی گئی ہیں وہ صدر مملکت کے پاس منظوری کے لئے بھیجی گئی ہیں؟ خواجہ حارث نے کہا کہ میں نے ایک ترمیم شدہ درخواست بھی جمع کرائی ہے جس میں تفصیلات ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ آپ کیسے کارروائی آگے چلانا چاہتے ہیں، مخدوم علی خان نے معروضات جمع کرانی ہونگی اور نیب کی جانب سے بھی

    خواجہ حارث نے عدالت میں کہا کہ نئی ترامیم کا مسودہ گزشتہ روز عدالت میں جمع کروا دیا ہے،نیب قانون میں ہونے والی ترامیم بھی چیلنج کرینگے،یہ ترامیم آئین کے سائلنٹ فیچر کی انکروچمنٹ ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس میں اسلامک پوائنٹ آف ویو بھی دیکھنا ہوگا ،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ قانون کو ختم نہیں کیا جارہا ہے،حقیقت یہ ہے کہ قانون میں تبدیلی لائی جارہی ہے اس شق کے بڑے گہرے اثرات مرتب ہونگے، وکیل وفاقی حکومت نے عدالت میں کہا کہ ابھی نیب قانون میں نئی ترمیم محض مفروضہ ہے، وکیل مخدوم علی نے کہا کہ جب تک نیب قانون میں نئی ترمیم ایکٹ آف پارلیمنٹ نہ بن جائے اسے چیلنج نہیں کیا جاسکتا،صدر مملکت نے اگر نئی ترمیم پر دستخط نہ کیے تو معاملہ مشترکہ اجلاس میں جائے گا،مشترکہ اجلاس میں نیب قانون میں حالیہ ترمیم منظور ہوتی ہے یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے، وکیل عمران خان نے کہا کہ ہم نیب قانون میں حالیہ نئی ترمیم کو ابھی چیلنج نہیں کر رہے،موجودہ ترامیم آئینی مینڈیٹ کی خلاف ورزی ہیں،

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات خود احتساب کا ایک ذریعہ ہیں،انتخابات ایک سیاسی احتساب ہے جہاں ووٹر اپنے نمائندوں کا احتساب کرتا ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ وہ ترامیم جو آئین کے بنیادی ڈھانچے کے منافی ہیں ان کو چیلنج کیا جا سکتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ ہمارا کام ہے کہ خالی جگہ کو پر کریں؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ کے کئی فیصلے موجود ہیں جن میں قوانین بنانے کا کہا گیا ہے،موجودہ ترامیم نے نیب قانون کو غیر موثر کر دیا ہے،خواجہ حارث نے کہا کہ نیب ترامیم سے اختیارات کے ناجائز استعمال اور اثاثہ جات کیسز ختم ہوچکے ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس احتساب کیلئے ضروری ہے؟ چھوٹی چھوٹی ہاوسنگ سوسائٹیز میں لوگ ایک 2 پلاٹس کے کیس میں گرفتار ہوئے،پہلے ہر مقدمہ انسداد دہشتگردی کی عدالت میں جاتا تھا،

    نیب ترامیم کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت 19اگست تک ملتوی کر دی گئی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ دے کر انسداد دہشتگردی عدالت سے بوجھ کم کیا،خواجہ حارث نے کہا کہ گڈ گورننس اور احتساب بھی عوام کے بنیادی حق ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کوئی منصوبہ ناکام ہونے پر مجاز افسران گرفتار ہوجاتے تھے، گرفتاریاں ہوتی رہیں تو کونسا افسر ملک کیلئے کوئی فیصلہ کرے گا، نیب ترامیم کے بعد فیصلہ سازی پر گرفتاری نہیں ہو سکتی، نیب ترامیم سے کوئی جرم بھی ختم نہیں ہوا، خواجہ حارث نے کہا کہ ترامیم کے بعد تمام مقدمات عدالتوں سے خارج ہو جائیں گے، سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ فریقین سے عدالت میں تحریری معروضات جمع کرائیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی حالت دیکھیں کیا ہوگئی ہے ، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رواں سال ہونے والی ترامیم کا اطلاق 1985 سے کیا گیا،ماضی سے اطلاق ہوا تو سزائیں بھی ختم ہونگی اور جرمانے بھی واپس ہونگے،اس طرح تو پلی بارگین کی رقم بھی واپس کرنا پڑیں گی کیا پارلیمان اپنے یا مخصوص افراد کے فائدے کیلئے قانون سازی کر سکتی ہے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جو مقدمات ختم ہوچکے ان پر ترامیم کا اطلاق نہیں ہوگا،وکیل عمران خان نے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثوں کا سب سے پہلا سوال حضرت عمر سے ہوا تھا، ترمیم کے بعد کرپشن ثابت ہونے تک آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس نہیں بن سکتا، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون پارلیمنٹ سے منظور کیا ہے اس کا احترام بھی ضروری ہے،ترامیم کسی آئینی شق سے متاثر نظر نہیں آ رہیں،آپکے مطابق نیب ترامیم آئین کے بنیادی ڈھانچے کے ایک حصے یعنی احتساب کیخلاف ہیں،آئین کا بنیادی ڈھانچے ہونے سے متفق نہیں ہوں،خواجہ حارث نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کا تصور موجود ہے آپ چاہیں تو ماضی کا عدالتی فیصلہ واپس لے لیں،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم میں بیرون ملک سے قانونی معاونت حقوق معاہدے کے تحت شواہد ناقابل قبول ہیں،اگر کیس میں بنیادی حقوق متاثر ہونے کا معاملہ ہے تو سنیں گے ورنہ عدالت کا دائرہ کار نہیں بنتا، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون بنتے وقت پارلیمنٹ میں اپوزیشن اس کی مخالفت کرتی ہے،اگر آپ سمجھتے ہیں کہ نیب قانون غلط ہے تو اسمبلی میں بل کیوں نہیں لاتے؟ قانون کا ڈھانچہ عدالت کے بجائے اسمبلی میں زیر بحث آنا چاہیے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج جو حکومت آئی اس نے اپنے گناہ معاف کرا لیے اگلی آئے گی وہ اپنے کرا لے گی اگر عوام کے پیسے پر کرپشن کی گئی ہے تو یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی میں آتا ہے،آئین میں طے شدہ ضابطوں کے تحت قوانین کا جائزہ لے سکتے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب ایک حلقے کا منتخب نمائندہ مستعفی ہوتا ہے تو کیا وہ اپنی عوام سے اجازت لیتا ہے؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ منتخب نمائندے سیاسی حکمت عملی اور فیصلوں کے تحت استعفے دیتے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ اگر مستعفی ہونے سے پہلے عوام سے اجازت نہیں لیتے تو منتخب نمائندے کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟

    خواتین کو تعلیم سے روکنا جہالت،گزشتہ 7ماہ سے انتشار کا کوئی واقعہ نہیں ہوا،طاہر اشرفی

    کسی بھی مکتبہ فکر کو کافر نہیں قرار دیا جا سکتا ،علامہ طاہر اشرفی

    امریکا اپنی ہزیمت کا ملبہ ڈالنا چاہتا ہے تو پاکستان اس کا مقابلہ کرے،علامہ طاہر اشرفی

    وزیراعظم  نے مکہ میں دوران طواف 3 مرتبہ مجھے کیا کہا؟ طاہر اشرفی کا اہم انکشاف

    تحریک انصاف نے نئی نیب ترامیم کوچیلنج کردیا

  • سندھ حکومت نے حلقہ بندی کیخلاف ایم کیو ایم کی درخواست کی مخالفت کر دی

    سندھ حکومت نے حلقہ بندی کیخلاف ایم کیو ایم کی درخواست کی مخالفت کر دی

    بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کیلئے حلقہ بندی کیخلاف ایم کیو ایم کی درخواست پر سماعت ہوئی

    الیکشن کمیشن اور سندھ حکومت نے حلقہ بندی کیخلاف ایم کیو ایم کی درخواست کی مخالفت کر دی ، وکیل ایم کیو ایم نے سپریم کورٹ میں موقف اپنایا کہ حلقہ بندی میں آبادی کا تناسب یکساں نہیں رکھا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن حلقہ بندی سے مطمئن ہے؟ ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ حلقہ بندیاں قانون کے مطابق ہوئی ہیں حد بندی صوبائی حکومت اور انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے،وکیل نے کہا کہ جہاں ایم کیو ایم کامیاب ہوئی وہاں ایک یونین کمیٹی 90 ہزار آبادی پر مشتمل ہے پیپلزپارٹی جن علاقوں سے کامیاب ہوتی وہاں یوسی 40 ہزار آبادی پرمشتمل ہے،

    وکیل خالد جاوید خان نے کہا کہ اس دلیل کو مان لیا جائے تو قومی و صوبائی اسمبلیوں کی حلقہ بندیاں ختم ہو جائیں گی،قومی اسمبلی کا کوئی حلقہ 3 اور کوئی 9 لاکھ آبادی پر مشتمل ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام فریقین کو 15 اگست کو تفصیل سے سن کر فیصلہ کرینگے،اگست کی 28 تاریخ کو الیکشن ہے اس لیے آئندہ سماعت پر کوئی التوا نہیں دینگے، اکیو ایم کی درخواست خارج بھی کی جا سکتی ہے، ایم کیو ایم کی درخواست صرف شہری علاقوں تک محدود ہے،

    پہلے مرحلے میں کامیاب ہونے والے نمائندوں کی فریق بننے کی درخواستیں منظور کر لی گئی سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 15 اگست تک ملتوی کردی

     تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ جاری

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

  • لارجر بینچ بنانا اب تاریخ بن گئی، چیف جسٹس کے ریمارکس

    لارجر بینچ بنانا اب تاریخ بن گئی، چیف جسٹس کے ریمارکس

    سپریم کورٹ میں وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نااہلی کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے مراد علی شاہ کیس میں لارجر بنچ بنانے کی استدعا مسترد کر دی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لارجر بینچ بنانا اب تاریخ بن گئی ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ جسٹس یحیی آفریدی مرکزی کیا سننے والے ججز میں شامل تھے، جسٹس یحیی آفریدی کو نظر ثانی بنچ کیس میں شامل نہیں کیا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس یحیی آفریدی دستیاب ہیں انہیں بنچ میں شامل کر لیتے ہیں،آپ میرے ساتھ ملاقات کریں لارجر بنچ پر گفتگو کر لیتے ہیں،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیر مدت کیلئے ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ لارجر بنچ کی درخواست مدعی روشن علی کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی درخواست گزار نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ دوہری شہریت چھپانے پررکن اسمبلی کیلئے نااہل ہیں اہم آئینی اور قانونی نقطہ پر سماعت کیلئے لارجر بنچ تشکیل دیا جائے

    قبل ازیں سندھ میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے کہ مراد علی شاہ پی ایس 73 سے منتخب ہوئے، جھوٹے حلف نامے جمع کروائے گئے، مراد علی شاہ صادق اور امین نہیں ،دہری شہریت کے باوجود 2007 میں الیکشن لڑا،مراد علی شاہ کو 2013 میں سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا تھا، مراد علی شاہ کو نااہل قرار دیا جائے،

    جیل حکام خواتین قیدیوں کی عزتیں تارتارکرتے ہیں، پیدا ہونے والے بچوں کوقتل کردیا جاتا ہے،لاہورجیل سے خاتون قیدی کی ویڈیووائرل

    جیلوں میں قید خواتین کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے سفارشات پر مبنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش

    لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

    کوئی بھوکا نہ سوئے، مودی کے احمد آباد گجرات کے مندروں میں مسلمانوں نے کیا راشن تقسیم

    محبت کا ڈرامہ رچا کر لڑکی کی غیر اخلاقی تصاویر بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتا

  • مراد علی شاہ کی نااہلی کیلئے نظرثانی درخواست سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر

    مراد علی شاہ کی نااہلی کیلئے نظرثانی درخواست سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر

    کراچی :وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کی نااہلی کیلئے نظرثانی درخواست سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقررکردی گئی ہے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ دو اگست کو سماعت کرے گا۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت امن و امان پر اجلاس

    درخواست گزار روشن علی نے دہری شہریت کو بنیاد بنا کر سپریم کورٹ سے مراد علی شاہ کی نااہلی کی استدعا کر رکھی ہے۔عدالت نے منگل کے روز سماعت مقرر کرتے ہوئے مقدمےکے فریقین کو نوٹسز بھی جاری کر دیئے ہیں۔

    چیف جسٹس آف پاکستان عمرعطا بندیال ، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل بینچ وزیراعلیٰ سندھ کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کرے گا۔

    مراد علی شاہ سےبہترکوئی عورت اس وزارت کو بہترچلالے گی،خرم شیرزمان

    یاد رہے کہ اس سے پہلے سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے خلاف نااہلی کیس میں فریقین سے معاونت طلب کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ دہری شہریت کے باعث ہونے والی نااہلی تاحیات یا عارضی مدت کے لیے ہے۔

    جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین ججز پر مشتمل بینچ، جس میں جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس امین الدین شامل ہیں، نے آئین کے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت دہری شہریت اور اقامہ رکھنے پر مراد علی شاہ کی نااہلی کے لیے دائر نظر ثانی درخواست کی سماعت کی۔

    الیکشن کمیشن نے بلاول بھٹو زرداری اور مراد علی شاہ پرجرمانہ عائد کردیا

    عدالت نے تنازع میں شامل فریقین سے اس سوال سے متعلق بھی تیاری کرنے کا کہا ہے کہ غیر ملکی شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ جمع کرانے پر نااہل شخص کو دوبارہ الیکشن لڑنے کی اجازت ہوگی یا نہیں۔

    روشن علی نامی شہری کی جانب سے اقامے اور دہری شہریت پر مراد علی شاہ کی نااہلی کی استدعا کی گئی ہے۔

  • شیخ رشید کی سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹوں کے حق کی درخواست اعتراضات کے ساتھ واپس

    شیخ رشید کی سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹوں کے حق کی درخواست اعتراضات کے ساتھ واپس

    اسلام آباد:شیخ رشید نے سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹوں کے حق کے حوالے سے سپریم کورٹ میں درخواست دی جس پر رجسٹرار آفس سے اعتراضات عائد کردیئے گئے۔

    رجسڑار سپریم کورٹ نے سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ کے حق کے لئے لکھی گئی شیخ رشید کی درخواست اعتراض لگاکر واپس کردی ہے۔

    رجسٹرار آفس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ درخواست عوامی مفاد میں دائر کرنے کی وضاحت نہیں کی گئی، درخواست گزار نے براہ راست سپریم کورٹ انے کی وجہ بھی نہیں بتائی۔

    اعتراض کیا گیا ہے کہ سمندرپار پاکستانیوں کے ووٹنگ حق کے مقدمات ماتحت عدالتوں میں زیرالتواء ہیں، درخواست کے ساتھ منسلک کئے گئے سرٹیفکیٹس بھی قانون کے مطابق نہیں، دائر کردہ درخواست پر درخواست گزار کے وکیل کے دستخط بھی موجود نہیں۔

    یاد رہے کہ چند دن پہلے سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے الیکشن ایکٹ میں تارکین وطن کے ووٹ دینے کے حق سے متعلق نئی حکومت کی جانب سے کی گئی ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج تھا،

    درخواست گزار نے بدھ کے ر وز آئین کے آرٹیکل 184/3کے تحت دائر کی گئی درخواست میں وفاقی حکومت،وزارت قانون اور الیکشن کمیشن کو فریق بناتے ہوئے موقف اپنایا کہ تارکین وطن پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں اور انہیں ووٹ کے بنیادی حق سے محروم کرنا خلاف آئین ہے، حکومت تارکین وطن کو ووٹ کے حق سے محروم کررہی ہے، حکومت کی الیکشن ایکٹ میں کی گئی ترامیم آرٹیکل 218، 219 اور 222 سے متصادم ہے۔

  • احتساب گورننس اور حکومت چلانے کیلئے بہت ضروری ہے، چیف جسٹس

    احتساب گورننس اور حکومت چلانے کیلئے بہت ضروری ہے، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب قانون میں ترمیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات سے نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی پٹیشن پڑھ رہا ہوں اپنی معروضات تفصیل سے پیش کریں کہ ترامیم آئین سے کیسے متصادم ہیں؟ عوام کے کونسے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں انکی نشاندہی کریں؟ یہ بھی بتائیں کونسی ترامیم ایسی ہیں جن سے نیب قانون اور کیسز متاثر ہو رہے ہیں؟

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی نیب ترامیم کیخلاف درخواست زیر سماعت ہے، کیا مناسب نہیں ہوگا پہلے ہائیکورٹ کو فیصلہ کرنے دیا جائے؟ وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ نیب ترامیم کا اطلاق ایک ہائیکورٹ نہیں پورے ملک پر ہوگا، نیب ترامیم کے بعد عوامی عہدیدار احتساب سے بالاتر ہوگئے ہیں،درخواستیں شاید مختلف ہائیکورٹس میں بھی آ جائیں، ابھی تک کسی اور ہائیکورٹ میں درخواست نہیں آئی، احتساب کے بغیر گورننس اور جمہوریت نہیں چل سکتے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بے نامی دار ایشو پر بھی وضاحت کریں،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب ترامیم کے بعد عوامی عہدیدار احتساب سے بالاتر ہوگئے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے خواجہ حارث کو تجویز دی اور کہا کہ اگر آپ اپنی گزارشات کا مختصر چارٹ بنالیں تو بہتر رہے گا،

    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ اگر حکومت نیب قانون ختم کر دیتی تو آپکی درخواست کی بنیاد کیا ہوتی؟ وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ اسلام اور آئین دونوں میں احتساب پر زور دیا گیا ہے، عدلیہ کی آزادی اور عوامی عہدیداروں کا احتساب آئین کی بنیادی جزو ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا عدالت ختم کیا گیا نیب قانون بحال کر سکتی ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ آئین کی اسلامی دفعات کا حوالہ دے رہے ہیں، چیک اینڈ بیلنس ہونا جمہوریت کیلئے بہت ضروری ہے، کرپشن یہ ہے کہ آپ غیر قانونی کام کریں اور اس کا کسی کو فائدہ پہنچائیں، کرپشن بنیادی طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال اور خزانے کو نقصان پہنچانا ہے، اگر کہیں ڈیم بن رہا ہو اور کوئی لابی اسکی مخالفت کرے وہ قومی اثاثے کی مخالفت ہوگی، سابق جج مظہر عالم کہتے رہے ڈی آئی خان کو ڈیم کی ضرورت ہے،احتساب گورننس اور حکومت چلانے کیلئے بہت ضروری ہے،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی ترمیم اگر مخصوص ملزمان کو فائدہ پہنچانے کیلئے ہے تو وہ بتائیں،کیا آپ چاہتے ہیں عدالت پارلیمنٹ کو قانون میں بہتری کا کہے، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ جو ترامیم آئین سے متصادم ہیں انہیں کالعدم قرار دیا جائے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے لکھا ہے ترامیم پارلیمانی جمہوریت کے منافی ہے،کئی ترامیم آئین کے بنیادی ڈھانچہ کے برعکس کے ہیں، پارلیمان کا اختیار ہے کہ مکمل آئین بھی تبدیل کر سکتی ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ آئینی ترامیم کیس میں بنیادی ڈھانچے کو تسلیم کر چکی،نئی نیب ترامیم کا بھی 1985 سے نفاز کردیا گیا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں ترمیم سے تمام زیر التوا مقدمات انکوائریز پر فرق پڑتا ہے،جن کو سزا ہو چکی ہے ان پر ترمیم کا کیا فرق پڑے گا ؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ترمیم کی ذریعے ملزم کو اثاثے ٹرانسفر کرنے کا اختیار دیدیا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے تو نیب ملزم کے اثاثے عدالت سے منجمد کرا دیتا تھا،خواجہ حارث نے کہا کہ اب قانونی اجازت کو ترامیم سے نیب قانون سے حذف کردیا گیا ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل میں ایک ثبوت آ گیا تو یہ نہیں کہا جا سکتا باہر سے دوبارہ ثبوت لائے،خواجہ حارث نے کہا کہ اگر ایسا ہوجائے تو مجھے کیا اعتراض ہے،

    خواجہ حارث نے کہاکہ نیب قانون میں ترامیم کا سلسلہ اب بھی جاری ہے،یہ ترمیم بھی شامل ہے جو پلی بارگین کریں وہ وعدہ معاف گواہ نہیں بن سکتا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ پلی بارگین کرنے والے کا وعدہ معاف گواہ بنایا جائے،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کئی نیب ترامیم سے جرم کو ثابت کرنا مشکل بنادیا گیا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کے معاملہ پر عدالتی اختیار تب شروع ہوگا جب وہ غیر آئینی ہو،وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ ترامیم کے تحت ریلیف کو درخواست پر فیصلے سے مشروط کیا جائے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ریلیف کے حوالے سے کوئی بہت ایمرجنسی ہے اس حوالے سے بتائیں، یہ بھی بتائیں کیا بہت زیادہ زیر التوا مقدمات ترامیم سے متاثر ہونگے؟ خواجہ حارث نے کہا کہ حکم امتناعہ نہیں مانگ رہا لیکن ترامیم کے تحت ملنے والا ریلیف مشروط کیا جائے،عدالت نے ترامیم کے تحت ریلیف کو مشروط کرنے کی درخواست پر حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت عدالت نے اپنا کام کرنا ہے،اپنے حلف کے تحت شفاف انداز میں کام جاری رکھیں گے،جمعہ پرامن ہوتا ہے اس لیے آئندہ جمعہ کو دوبارہ سماعت کرینگے،عام دنوں میں تو شام کو بھی کچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم رات 9 بجے تک بیٹھتے ہیں کبھی آپکو بھی زحمت دینگے، عدالت اسٹے کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہیں،

    سپریم کورٹ میں نیب قانون میں ترمیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت آئندہ جمعہ تک ملتوی کر دی گئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے کہا کہ آئندہ ہفتے مزید تفصیلات سے عدالت کو آگاہ کریں ،ہمیں خوشی ہے کہ آپ تیاری کرکے آئے ہیں، عدالت اسٹے کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ایک دن پہلے عدالت کی معاونت کی تھی جب کچھ لوگ چلے گئے تھے،

     فل کورٹ مستر کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کےاس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں.حکمران اتحاد 

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    مریم نواز کی حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس

    پرویز الہٰی کے وکیل نے نظرثانی درخواست کی سماعت کے لیے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کردی

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کو خط

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کو خط

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کو خط ،اطلاعات کے مطابق اس خط میں انہوں نے کہا ہے کہ جوڈیشل کمیشن میں ججز کی تقرری کے حوالے سے ہونے والے فیصلے کو فوری طور پر میڈیا میں جاری کیا جائے۔قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ججز تقرری کیلئے چیف جسٹس کی طرف سے پیش کردہ ناموں پر تفصیلی غور ہوا

    مجھ سمیت 5 ممبران نے سندھ کے 3 اور لاہور ہائیکورٹ کے ایک جونیئر جج کے نام مسترد کیےجسٹس طارق مسعود، اعظم نذیر تارڑ، اشتر اوصاف اور پاکستان بار کونسل کے نمائندے اختر حسین نے بھی نام مسترد کیے

    قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس پانچوں ہائیکورٹ کے چیف جسٹسز میں جونیئر ہیں، پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا نام ان چیف جسٹسز کے بعد پیش کیا جائے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرڈ ججز کو مراعات دینے کی مخالفت

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط میں مزید لکھا کہ اجلاس میں طے ہوا کہ آئین کسی اسامی پر پیشگی تقرری کی اجازت نہیں دیتا،

    ججز تقرری کے معاملے پرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    چیف جسٹس آف پاکستان بطور چیئرمین، کمیشن پر اپنے فیصلے مسلط نہیں کر سکتے، چیف جسٹس آف پاکستان اچانک جوڈیشل کمیشن کا اجلاس چھوڑ کر چلے گئے،جسٹس اعجاز الاحسن بھی اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے

    خواتین کو نظراندازکریںگےتو معاشرے میں بہتری لانا ناممکن ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط میں مزید لکھا کہ جوڈیشل کمیشن کے سیکرٹری چھٹیوں پر ہیں، قائم مقام سیکرٹری اجلاس کے فیصلوں کے بارے میں میٹنگ منٹس بنائیں، قوم کی نظریں جوڈیشل کمیشن کے اجلاس پر مرکوز ہیں، اجلاس میں کیا فیصلہ ہوا یہ جاننا عوام کا آئینی حق ہے، جوڈیشل کمیشن اجلاس کے بارے میں میڈیا میں غیر ضروری قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط میں لکھا کہ جوڈیشل کمیشن نے سندھ اور لاہور ہائیکورٹ کے 4 ججوں کے نام مسترد اور ایک نام پر کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

  • آئین اورپارلیمنٹ کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے: وزیراعظم

    آئین اورپارلیمنٹ کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے: وزیراعظم

    اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل میں کہا ہے کہ آئین اورپارلیمنٹ کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

    اپنی ٹوئٹ میں شہباز شریف کا کہنا تھاکہ آئین نے ریاستی اختیار پارلیمنٹ، انتظامیہ اور عدلیہ کو تفویض کیے ہیں اور آئین نے سب اداروں کو متعین حدود میں کام کرنے کا پابند کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کوئی ادارہ کسی دوسرے کے اختیار میں مداخلت نہیں کرسکتا، آئین اورپارلیمنٹ کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھاکہ عدلیہ کی ساکھ کا تقاضا اور قرین انصاف یہی تھا کہ فل کورٹ تشکیل دیا جاتا، انصاف نہ صرف ہوتا بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آتا۔

     

    ان کا کہنا تھاکہ عدالتی فیصلے سے قانون دانوں، سائلین، میڈیا اور عوام کی حصول انصاف کیلئے توقعات کو دھچکا لگا ہے۔

     

     

    دوسری طرف وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سپریم کورت کے فیصلے کو ناپسند کرتے ہوئے کچھ اہم پیغامات بھی شیئرکیئے ہیں ، جن میں کہا گیا ہے کہ دو دن سے میڈیا پر پاکستان تحریک انصاف کی نوٹنکی جاری ہے،

    ’شکریہ اللہ، شکریہ عوام:عمران خان کا سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم

    ہماری فل کورٹ کی اپیل کو مسترد کرنے کے فیصلے نے آج کے فیصلے کو پہلے ہی متنازعہ بنا دیا تھا، سول سوسائٹی، وکلاء برادری، باری ایسوسی ایشن کے نمائندوں، وکلائ، قانونی ماہرین نے کل کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا، فل کورٹ آئینی مسئلہ کی تشریح کے لئے بنا دیا جاتا تو آج کا فیصلہ متنازعہ نہ ہوتا، مریم اورنگزیب

    حمزہ شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ نہیں ہوں گے تو اس سے مسلم لیگ (ن) کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، وفاقی وزیر اطلاعات وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے سپریم کورٹ کی جانب سے پنجاب کے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ مسترد کرنے کے فیصلے پر کہا ہے کہ عدلیہ کو ان جکڑی ہوئی چیزوں سے نکالنے کی جدوجہد کا آغاز ہوا ہے، پاکستان کے عوام کو آئین اور پارلیمان کی بالادستی واپس لے کر دیں گے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کی عدلیہ بحالی کی جدوجہد تھی، آج سے اس کا دوسرا باب شروع ہوا ہے۔

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ فل کورٹ کی تشکیل کے لیے دائر درخواست نے پہلے ہی اس تین رکنی بینچ پر عدم اعتماد کر دیا تھا، جب کل فل کورٹ کی درخواست مسترد ہوئی تو ہمارے وکلا نے آج سپریم کورٹ میں تین رکنی بینچ کی کارروائی کا بائیکاٹ کرکے بھی عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا کہ آج جو فیصلہ آئے گا، وہ فیصلہ نہ عوام کو قابل قبول ہوگا، نہ فریقین کو قابل قبول ہوگا کیونکہ یہ نہیں ہوسکتا کہ پنجاب کے اوپر چوری کرکے آر ٹی ایس سٹم بیٹھا کر 2018 میں مسلط کیا تھا اس کو دوبارہ پنجاب پر مسلط کریں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ آئینی، پارلیمانی اور دو خطوط کا ہے، ایک خط عمران خان نے لکھا تھا جس کی وجہ سے حمزہ شہباز کو ڈالے جانے ووٹوں میں سے 25 ووٹوں کو نکال دیا جاتا ہے، اور ووٹ ڈالنے والے اراکین کو ڈی سیٹ کر دیا جاتا ہے، عمران خان کا خط پارٹی سربراہ کی حیثیت سے لکھا جاتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت حسین بطور پارٹی سربراہ اپنے اراکین اسمبلی کو ہدایات جاری کی تھی کہ وہ عمران خان کے امیدوار کو ووٹ نہ ڈالیں اور حمزہ شہباز کو ووٹ کاسٹ کریں، سپریم کورٹ کے اسی فیصلے کے مطابق ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ دی کہ مسلم لیگ (ق) کے 10 اراکین کے ووٹوں کو مسترد کیا جاتا ہے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم نواز کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت حسین کی جانب بطور پارٹی سربراہ لکھا جانے والا خط حرام ہے جبکہ عمران خان کا بطور پارٹی سربراہ لکھا جانے والے خط کی وجہ سے 25 ووٹوں کو شمار نہیں کیا جاتا جبکہ چوہدری شجاعت حسین کی جانب سے لکھے جانے والے خط کے باوجود پرویز الہیٰ کو ڈالے گئے ووٹوں کو شمار کیا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے ہم نے فل کورٹ تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ تین رکنی بینچ بننے سے لے کر اب تک انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا تھا، اسی لیے حکومتی اتحاد کے تمام سیاسی قائدین سمیت تمام اطراف سے یہی آوازیں آئیں کہ ہمیں فل کورٹ چاہیے، اگر فل کورٹ بن جاتا تو آج کا فیصلہ مختلف ہوتا، ایک شخص کی خاطر آئین کی تشریح میں فرق ڈالا جا رہا ہے، اپنی مرضی سے آئین کی تشریح کی جا رہی ہے۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ آوازیں آ رہی تھیں کہ پانچ رکنی بینچ نے تین بار کے منتخب وزیراعظم نوازشریف کو نکالا تھا، اس دن کے فیصلے کے بعد سے آج تک ملک میں معاشی تباہی، بے روزگاری، افلاس، بھوک، افراتفری، فساد اور نفرت کے بیج بوئے گئے، آج کا فیصلہ اسی کا تسلسل ہے، اور اثرات بھی ویسے ہی ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج کا فیصلہ ملک میں مزید تقسیم پیدا کرے گا، ملک میں مزید انتشار پیدا ہوگا اورانصاف پر زیادہ انگلیاں اٹھائی جائیں گی، اس لیے فل کورٹ بنانا چاہیے تھا۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ آپ کو یاد ہوگا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی عدلیہ بحالی کی جدوجہد تھی، آج سے اس کا دوسرا باب شروع ہوا ہے، آئین کی بالادستی، پارلیمان کی بالادستی اور عدلیہ کو ان جکڑی ہوئی چیزوں سے نکالنے کی جدوجہد کا آغاز ہوا ہے، پاکستان کے عوام کو آئین اور پارلیمان کی بالادستی واپس لے کر دیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام کا اصل مینڈیٹ جو 2018 میں چوری ہوا، جو اس وقت کے عدالتی فیصلے نے چوری کیا جب نواز شریف کو اپنی کرسی سے ہٹایا گیا، آج کے فیصلے کو بھی آئین اور پارلیمان کی بالادستی میں تبدیل کریں گے۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن کے رہنما قانون ملک احمد نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک بحث کل سے چل رہی ہے کہ ڈائریکشن پارٹی سربراہ کی ہوگی یا پارلیمانی پارٹی کی، اس حوالے سے وکلا کا مؤقف تھا کہ فل کورٹ تشکیل دیں.

    ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے ایک انتہائی غیر مناسب صورتحال پیدا ہوئی ہے، اس سے پنجاب اسمبلی کی خودمختاری متاثر ہوئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ تقاضہ کرتے ہوئے کہ انصاف کی توقع نہیں ہے، عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا، یہ معمولی واقعہ نہیں ہے اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

  • ’شکریہ اللہ، شکریہ عوام:عمران خان کا سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم

    ’شکریہ اللہ، شکریہ عوام:عمران خان کا سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ڈپٹی اسپکر پنجاب اسمبلی رولنگ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

    ٹویٹر پیغام میں سابق وزیراعظم نے سپریم کورٹ کے ججز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

    دوسری طرف سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں سابق وزیراعظم نے لکھا کہ میں سپریم کورٹ کے ججوں کی ہر طرح کی دھمکیوں کے خلاف ثابت قدم رہنے اور آئین اور قانون کی حکمرانی بحال کرنے پر میں ججز کو سراہتا ہوں

     

     

    سابق وزیراعظم نے پنجاب ضمنی الیکشن میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے بڑی تعداد میں گھروں سے نکلنے پر پنجاب کے عوام کا بھی شکریہ ادا کیا ہے جبکہ مزید لکھا ہے کہ میں بیرسٹر علی ظفر اور ان کی ٹیم کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دیتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب مقرر کردیا۔

     

     

    سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے دوران اسپیکر پنجاب اسمبلی کی ق لیگ کے 10 ووٹ مسترد کرنے کی رولنگ کو کالعدم قرار دے دیا۔چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے 11 صفحات پر مشتمل فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز شریف کا وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے حلف غیر آئینی تھا۔