Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • اسحاق ڈار نے مفرو ر قرار دیئے جانے کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

    اسحاق ڈار نے مفرو ر قرار دیئے جانے کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

    مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مفرو ر قرار دیئے جانے کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا.

    سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ مفرور قرار دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے،اسحاق ڈار نے استدعا میں مذید کہا کہ وکیل کے ذریعے نیب کورٹ میں اپنا کیس چلانے کی اجازت دی جائے، اسحاق ڈار کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا کہ مئی2022میں مجھے پاسپورٹ دیا گیا.

    سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے درخواست میں عدالت سے استدعا کی کہ 25اگست سے شروع ہونے والے عدالتی ہفتے میں کیس سماعت کیلئے مقرر کیا جائے.

    یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار علاج کی غرض سے بیرون ملک (لندن) گئے تھے اور وطن واپس نہیں آئے جس کے بعد عدالت نے انہیں مقدمہ میں مفرور قرار دے دیا تھا.

    اس سے قبل سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے بارے میں اطلاعات تھیں کہ وہ کزشتہ ماہ جولائی کے اختتام تک پاکستان واپس آجائیں گے لیکن ملک کی سیاسی صورتحال کے تناظر میں اسحاق ڈار نے اپنی وطن واپسی موخئر کر دی تھی، تاہم جن دنوں میں اسحاق ڈار نے وطنن واپسی کا اعلان کیا تھا ان ہی دنوں میں پنجاب کی سیاسی صورتحال تبدیل ہوگئی تھی اور مسلم لیگ ن کی پنجاب میں حکومت کا خاتمہ ہو گیا .ذرائع کے مطابق بدلتے ہوئے سیاسی حالات کی پیش نظر اسحاق ڈار نے پاکستان واپسی کا فیصلہ تبدیل کر لیا .

  • سپریم کورٹ نے مخدوم خسرو بختیار کی نااہلی کیلے دائر چیمبر اپیل کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا

    سپریم کورٹ نے مخدوم خسرو بختیار کی نااہلی کیلے دائر چیمبر اپیل کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا

    اسلام ا ٓباد: سپریم کورٹ نے مخدوم خسرو بختیار کی نااہلی کیلے دائر چیمبر اپیل کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا ہے ،اطلاعات کے مطابق اس سلسلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس منصور علی شاہ نے ان چیمبر اپیل کا حکم نامہ تحریر کیا

    اس حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلہ تحریر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ رجسڑار کے پاس درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے فیصلہ کرنے کاکوئی اختیار نہیں ، سپریم کورٹ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ صرف عدالتی اختیارات کے تحت ہی ہوسکتا ہے

    مخدوم خسروبختیار کی نااہلی کے حوالے سے سپریم کورٹ کی طرف سے تفصیلی فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ موجودہ کیس میں رجسڑار نے63 اے(5 ) کے تحت دائیر درخواست کو نا قابل سماعت قرار دیا

    سپریم کورٹ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ قواعد کے مطابق رجسڑار صرف غیر سنجیدہ درخواست کو ہی ناقابل سماعت قرار دے سکتا ہے،یہ بھی کہا گیا ہے کہ بادی النظر میں غیر آئینی ،غیر قانونی درخواست کے ناقابل سماعت ہونے کا فیصلہ بھی عدالت ہی کر ے گی

    سپریم کورٹ کے سینئر جج منصورعلی شاہ نے فیصلہ لکھتےہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے رجسڑار آفس اعتراضات کے خلاف اپیل منظور کرلی، سپریم کورٹ نے درخواست کو گرمیوں کی چھٹیوں کے فوری بعد سماعت کیلئے مقرر کرنے کا بھی حکم دے دیا

  • ایم کیو ایم کی درخواست پر بلدیاتی انتخابات منسوخ نہیں کیے جا سکتے،سپریم کورٹ

    ایم کیو ایم کی درخواست پر بلدیاتی انتخابات منسوخ نہیں کیے جا سکتے،سپریم کورٹ

    یہ امید نہ رکھیں کہ آئینی معاملے پر یونہی فیصلہ دے دیں گے، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں سندھ کے بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ واضح ہو گیا ہے کہ الیکشن کمیشن اور لوکل انتظامیہ کے اشتراک سے حلقہ بندیاں کی جاتی ہیں،یہ واضح نہیں کہ جن عوامل کو سامنے رکھ کر حد بندی ہوتی ہے وہ کیا ہیں،ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت میں کہا کہ حکومت سندھ نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں ہی حد بندی کی گائیڈ لائنز بنائی ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسے نکات پر فیصلہ نہیں دے سکتے جو سندھ ہائیکورٹ کے سامنے اٹھائے گئے ہوں بہتر ہو گا کہ ایم کیو ایم یہ جنگ متعلقہ فورم پر لڑے، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے وکلاء کو سننا چاہتے ہیں،

    ایم کیو ایم کے وکیل فروغ نسیم اور پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین روسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فروغ نسیم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے متعدد بار آپ کو کہا کہ سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ پڑھیں سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے میں واضح طور پر درج ہے کہ جون تک آپ نے کچھ نہیں کیا،سندھ ہائیکورٹ نے واضح کہا کہ ایم کیو ایم نے بلدیاتی انتخابات کے چند روز پہلے ترمیمی درخواست دائر کر دی،سندھ میں بلدیاتی انتخابات 26 جون کو شروع ہو چکے ہیں، فروغ نسیم نے کہا کہ عدالت سے درخواست کرتا ہوں کہ ایک بار مجھے سن لیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ میں دائر ترمیمی درخواست میں ووٹ شمار ہونے یا نا ہونے کا نکتا اٹھایا ہی نہیں گیا، یہ امید نہ رکھیں کہ آئینی معاملے پر یونہی فیصلہ دے دیں گے،آپ الیکشن کمیشن اور حلقہ بندی کمیٹی کے ساتھ بیٹھ کر معاملہ حل کریں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایم کیو ایم وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا کیس واپس ہائیکورٹ بھیجوا دیں؟

    تحریک انصاف نے سندھ میں موجودہ حلقہ بندیوں پر انتخابات کرانے کی حمایت کر دی، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ آدھا الیکشن ہوچکا جس پر قوم کا پیسہ اور وسائل لگے،اس عمل کو منسوخ کر کے نئے سرے سے الیکشن کروانا درست نہیں ہوگا،

    ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت میں کہا کہ ایم کیو ایم نے حلقہ بندی اتھارٹی سے رجوع ہی نہیں کیا،الیکشن کمیشن اور صوبائی حکومت مل کر کام کرتی ہیں الیکشن کمیشن کی ہدایت پر کئی حدبندیاں تبدیل کی گئیں ووٹرز کو حدبندی سے کوئی فرق نہیں پڑتا،سیاسی جماعتوں کا مسئلہ صرف میئر کے الیکشن کا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں کوئی حلقہ سات کوئی 10 لاکھ آبادی پر مشتمل ہے ،حلقے کے عوام کی نمائندگی تو ہو جاتی ہے حق ادا نہیں ہوتا،اس قسم کے مسائل کے حل پر الیکشن کمیشن کو توجہ دینی ہو گی ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایسے اعتراضات کچھ حلقوں میں ہیں سب میں نہیں،جہاں سے اعتراضات آتے ہیں ہم ان پر غور کرتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ مستقل طور پر حل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن کو سمجھائیں گے،

    سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق ایم کیو ایم کی درخواست نمٹا دی ،سپریم کورٹ نے کہا کہ ایم کیو ایم کی درخواست پر بلدیاتی انتخابات منسوخ نہیں کیے جا سکتے،ایم کیو ایم حلقہ بندیوں کے معاملے پر متعلقہ فورم سے رجوع کرے،پی ٹی آئی سندھ بلدیاتی الیکشن ایکٹ سے متعلق فیصلے پر عملدرآمد کی درخواست دائر کرے تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے بلدیاتی انتخابات کروانے کی حمایت کی الیکشن کمیشن اور متعلقہ حکام فہمیدہ مرزا کے حلقہ سے متعلق تحفظات دیکھیں،سندھ میں دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات 28 اگست کو ہوں گے

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

    ونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے

  • عدالت صرف سقم کی نشاندہی کر سکتی ہے قانون تبدیل نہیں کر سکتی،چیف جسٹس

    عدالت صرف سقم کی نشاندہی کر سکتی ہے قانون تبدیل نہیں کر سکتی،چیف جسٹس

    عدالت صرف سقم کی نشاندہی کر سکتی ہے قانون تبدیل نہیں کر سکتی،چیف جسٹس

    سندھ کے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کیلئے حلقہ بندی کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی انتخابات سے متعلق قانون سازی صوبائی حکومت کا اختیار ہے،صوبائی قانون پرعملدرآمد کے دوران کچھ سقم نظر آرہے ہیں، کیا الیکشن کمیشن سقم نظرانداز کرکے اپنی مرضی سے حلقہ بندی کرسکتا ہے؟ بعض یونین کمیٹیوں کی آبادی میں فرق 100 فیصد سے بھی زیادہ ہے،عدالت صرف سقم کی نشاندہی کر سکتی ہے قانون تبدیل نہیں کر سکتی، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حلقہ بندی کا اختیار ایک شق میں الیکشن کمیشن دوسری میں حکومت کو ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا حلقہ بندیوں کے دوران یونین کمیٹیوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے؟ وکیل ایم کیو ایم فروغ نسیم نے کہا کہ حلقہ بندی میں تعداد کم اور زیادہ ہو سکتی ہے،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے قانون میں بلدیاتی اداروں کا ڈھانچہ بنایا ہے،کیا الیکشن کمیشن حلقہ بندی کے ذریعے ڈھانچہ تبدیل کر سکتا ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن اتنا ہی کام کر سکتا ہے جتنا اسے اختیار ہو، خیبرپختونخواکے قانون میں یونین کمیٹیوں کی تعداد کیلئے طریقہ کار درج ہے، وکیل ایم کیو ایم فروغ نسیم نے کہا کہ سندھ حکومت نے کمیٹیوں کی تعداد کا کوئی طریقہ کار واضح نہیں کیا، اورنگی ٹاون کی 7 لاکھ آبادی میں مئیر کیلئے 7 ،مومن آباد کی 4 لاکھ آبادی پر 9 ووٹ مختص ہیں، جسٹس منصور علی شاہ کے ایک فیصلے پر انحصار کر رہا ہوں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ مجھے مسلسل میری ماضی کی غلطیاں یاد دلا رہے ہیں،

    سندھ بلدیاتی انتخابات میں بلدیاتی نمائندوں کے وکیل خالد جاوید نے دلائل دیئے اور کہا کہ حلقہ بندیاں ریاضی کے اصول کے تحت نہیں کی جا سکتیں،ایم کیو ایم کی دلیل مان لی جائے تو صوبائی و قومی اسمبلی کی حلقہ بندیاں متاثر ہو جائیں گی اصول کے تحت 2015 میں سندھ حکومت کی حد بندی پر حلقہ بندیاں ہوئیں میئر بنے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قومی و صوبائی اسمبلی کی حلقہ بندیاں سپریم کورٹ میں اس وقت چیلنج ہیں، وکیل نے کہا کہ 110 گز کے گھر میں 8 لوگ اورہزارگز کے گھر میں 3 لوگ بھی رہتے ہیں،الیکشن کمیشن یونین کمیٹی بناتے وقت آبادی نہیں حلقے میں بنیادی سہولیات کو بھی مد نظر رکھتا ہے، پاکستان میں آبادی کے تناسب سے سب نہیں ہوتا،رقبے کے لحاظ سے سب سےبڑے صوبے کی آبادی سب سے کم ہے،کراچی سے آیا ہوں قبرستان کا منظر پیش کر رہا ہے،

    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ صرف یہ واضح کر دیں کہ سندھ حکومت نے حد بندیاں کس بنیاد پر کی ہیں اگر حد بندی شفاف ہو تو حلقہ بندیاں متنازعہ نہیں ہوں گی،وکیل نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ نے 2016 میں حد بندیوں کی گائیڈ لائنز دیں جن پر عمل ہو رہا ہے آج تک ایم کیو ایم نے سیکشن 10 ون کو دوبارہ سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کو بھی اس معاملے پر سننا چاہتے ہیں،

    ممبر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا روسٹرم پر آ گئیں اور کہا کہ پانچویں مرتبہ بدین سے منتخب ہوتی آرہی ہوں،ٹھٹہ بدین کا بہت برا حال ہے، ٹھٹہ بدین سے منتخب ہونے کے باوجود میرا ووٹ وہاں سے کراچی منتقل کر دیا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فہمیدہ مرزا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو کل سنیں گے،

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

    ونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے

  • سب پتہ منشیات کہاں بکتی وہاں اے این ایف کوئی کارروائی نہیں کرتا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    سب پتہ منشیات کہاں بکتی وہاں اے این ایف کوئی کارروائی نہیں کرتا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    سپریم کورٹ نے منشیات اسمگلنگ کیس کے ملزم کی ضمانت منظور کرلی

    دوران سماعت سپریم کورٹ اے این ایف پر برہم ہو گئی، دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا اے این ایف کے پاس بائیک پر منشیات لیجانے کی کوئی معلومات تھیں ؟ پراسیکیوٹر اے این ایف نے کہا کہ بغیر نمبر پلیٹ بائیک دیکھ کر روکا منشیات برآمد ہوگئی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں کو روکنا پولیس کا کام ہے، اے این ایف کا نہیں شہر میں ہزار گاڑیاں بغیر نمبر پلیٹ ہوں گی کیا اے این ایف ساروں کی تلاشی لے گا ؟ اہم مقدمات میں اپنے رویے کی وجہ سے اے این ایف نے خود کو مشکوک کرلیا دوسرے مقاصد کیلئے اے این ایف نے اپنی ساکھ خراب کرلی،اے این ایف کی ساکھ خراب ہونے کی وجہ سوالات اٹھ رہے ہیں، کل پھر کسی جج کی گاڑی سے منشیات نکال لیں تو کیا ؟

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کل آپ کی گاڑی سے بھی منشیات نکال سکتے ہیں ، دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب پتہ ہے منشیات کہاں بکتی ہیں وہاں اے این ایف کوئی کارروائی نہیں کرتا بغیر معلومات اے این ایف کسی سواری کو کیسے روک سکتا ہے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون واضح ہے معلومات ہوگی پھر راے اور پھر کارروائی ہوگی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا تین کلو منشیات بائیک کی سیٹ کے نیچے آ سکتی ہے ،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ پولیس کو اطلاع کے بغیر کیا اے این ایف ایسے گاڑیوں کو روک کر تلاشی لے سکتا ہے ؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اے این ایف والوں کو قانون سپریم کورٹ نے نہیں پڑھانا اے این ایف کم از کم اپنا قانون تو پڑھ لیں ،پڑوسی سے جھگڑا ہو تو اس پر بھی منشیات ڈال دیں ،

    ملک اسلامی جمہوریہ مگریہاں اسلام کے مطابق کچھ نہیں ہورہا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس غلطی تھی، عمران خان نے تسلیم کر لیا

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسلام آباد میں گورنر بلوچستان کے سکواڈ کی گاڑی کا چالان کروا دیا ۔

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    پولیس ملزمان کی ویڈیو کیوں نہیں بناتی؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اظہار برہمی

  • حلقہ بندیوں کے خلاف اعتراض الیکشن کمیشن سنتا ہے،چیف جسٹس

    حلقہ بندیوں کے خلاف اعتراض الیکشن کمیشن سنتا ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں سندھ بلدیاتی انتخابات کیس کی سماعت ہوئی

    دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سندھ کے کچھ ایریاز میں تو بلدیاتی الیکشن ہو گئے ہیں، وکیل ایم کیو ایم نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے بلدیاتی الیکشن 2 مرحلوں میں کرانے کا شیڈول بنایا ہے،پہلے فیز میں لوکل باڈیز الیکشن ہو چکے ہیں، کراچی ،حیدر آباد ،بدین اورٹھٹہ میں الیکشن ہونا باقی ہے،ہمارا حلقہ بندیوں پر اعتراض ہے سندھ حکومت نے جہاں ہماری اکثریت ہے 90 ہزار کی یونین کونسل بنا دی ، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فارم 10 اے کہتا ہے حلقہ بندیاں الیکشن کمیشن کرے گا، حلقہ بندیوں کا چارٹ دکھانےسے پہلے حلقہ بندیوں کے پیرامیٹرز بتا دیں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حلقہ بندیوں کے خلاف اعتراض الیکشن کمیشن سنتا ہے، حلقہ بندیوں کیخلاف اعتراض پہلے فیز کی پولنگ کے بعد کیا گیا،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ آپ حلقہ بندیوں سے کیسے متاثرہیں ؟ فروغ نسیم نے عدالت میں کہاکہ حلقہ بندی اتھارٹی کو ہی چیلنج کر رکھا ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون میں کوئی پابندی نہیں کہ صوبائی افسر کمیٹی میں شامل نہ ہوسکے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک گلی میں ایک جماعت مقبول ہوتی ہے تو دوسری گلی میں دوسری،گلی محلے کی سطح پر حلقہ بندی مقامی افسران کے بغیر نہیں ہوسکتی،الیکشن کمیشن کے پاس اتنا عملہ نہیں ہوتا کہ بغیر معاونت کے کام کر سکے،فروغ نسیم نے عدالت میں کہا کہ اورنگی ٹاون میں ایم کیو ایم کی اکثریت ہے وہاں یونین کمیٹی 94 ہزار پر مشتمل ہے، آبادی کے تناسب میں 10فیصد سے زیادہ فرق نہیں ہو سکتا، سندھ حکومت نے لوکل گورنمٹ ایکٹ سیکشن 10 ایک کے تحت 233 یونین کمیٹیز بنانے کا نوٹیفکیشن کیا،سندھ حکومت نے یونین کمیٹیز بنانے کی بنیاد کو نوٹیفکیشن میں واضح نہیں کیا، سندھ حکومت کی اصل بدنیتی حد بندی پر الیکشن کمیشن کو پابند کرنا ہے سپریم کورٹ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے آرٹیکل 10 ون کو کالعدم قرار دے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو کیس پر سن لیتے ہیں،ڈی جی لا الیکشن کمیشن روسٹرم پر آ گئے ، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن صوبائی حکومت کی حد بندی کا پابند کیسے ہے؟ الیکشن کمیشن کے پاس تو الیکشن ایکٹ کے تحت اختیار ہے کہ حلقہ بندیاں کرے،ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے کہا کہ یونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے،الیکشن کمیشن صوبے کی حد بندی اور یونین کمیٹیوں کی تعین کردہ تعداد کا پابند ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن ایک صوبے میں مختلف طرح حد بندی کرتا ہے دوسرے میں مختلف؟ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنے آئینی اختیارات کو لوکل گورنمنٹ قوانین کیساتھ نہ ملائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ باقی فریقین کو کل سنیں گے،

     تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ جاری

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

  • سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات کیلئے بینچ تشکیل

    سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات کیلئے بینچ تشکیل

    چیف جسٹس اف پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال نے عدالتی ہفتہ 15 اگست سے 19 اگست تک مختلف اہم اور عام نوعیت کے مقدمات کی سماعت کیلئے 3 ریگولر اور 1 سپیشل بینچ تشکیل دیا ہے ۔

    15 اگست کوسپریم کورٹ میں سماعت ہونے والے اہم مقدمات میں گندم پالیسی کی خلاف ورزی ،اختیارات کا ناجائز استعمال اور مجرمانہ غفلت کے مرتکب نیب کیس میں گرفتار محمد اقبال میمن کی درخواست ضمانت پر سماعت ہو گی،کورٹ نمبر ایک میں چیف جسٹس عمر عطاء بندیال دو رکنی بینچ سیریل نمبر 1 سماعت کریگا.

    پنجاب پولیس افسران کی سروس سینیارٹی سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت
    کورٹ نمبر ایک چیف جسٹس عمر عطاء بندیال دو رکنی بینچ سیریل نمبر 2 کرے گا، مبینہ طور پر غیر قانونی کاروبار کے زریعے سادہ لوح عوام کو خطیر رقم سے محروم کرنے کے ملزم دولت خان کی ضمانت منسوخی کیلئے نیب کی دائر کردہ درخواست پر سماعت بھی کورٹ نمبر ایک چیف جسٹس عمر عطاء بندیال دو رکنی بینچ سیریل نمبر 3 کے گا.ایم کیو ایم اور پاکستان تحریک انصاف کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق دائر کردہ درخواستوں پرسماعت دن ایک بجے کورٹ نمبر ایک میں چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ کرے گا.

    5- احسان الرحمان مزاری بنام فیڈریشن کیس کی سماعت جو قومی اسمبلی کی انتخابی عذرداری سے متعلق ہے یہ سماعت دن ایک بجے کورٹ نمبر ایک میں چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ کرے گا. آفتاب احمد بنام الیکشن کمیشن آف پاکستان کیس کی سماعت جو قومی اسمبلی کے حلقہ جات 99 اور 100 اور پنجاب اسمبلی کے حلقہ جات 93 تا 96 کی حد بندی سے متعلق ہے یہ سماعت دن ایک بجے کورٹ نمبر ایک میں چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ کرے گا.

    16 اگست کو سپریم کورٹ میں سماعت ہونے والے اہم مقدمات میں روز مرہ دیوانی ، فوجداری ، سروس ، ٹیکس ، فیملی اور بینکنگ سے متعلقہ کیسز زیر سماعت آئیں گے جبکہ 17 اگست سپریم کورٹ میں سماعت ہونے والے اہم مقدمات میں روز مرہ دیوانی ، فوجداری ، سروس ، ٹیکس ، فیملی اور بینکنگ سے متعلقہ کیسز زیر سماعت آئیں گے.

    18 اگست کو سپریم کورٹ میں سماعت ہونے والے اہم مقدمات میں نثار احمد بنام الیکشن اپیلٹ ٹریبونل سکھر کیس کی سماعت جو کاغذات نامزدگی سے متعلق ہے،کورٹ نمبر ایک میں چیف جسٹس عمر عطاء بندیال تین رکنی بینچ سیریل نمبر 1 سماعے کرے گا، روبینہ فاروق بنام سٹیٹ بزریعہ نیب کیس کی سماعت جو مجرمانہ بد عنوانی پر تفتیشی افسر کیخلاف انکوائری سے متعلق ہے کی سماعت کورٹ نمبر ایک چیف جسٹس عمر عطاء بندیال تین رکنی بینچ سیریل نمبر 10 ہو گی.

    19 اگست کو سپریم کورٹ میں سماعت ہونے والے اہم مقدمات میں روز مرہ دیوانی ، فوجداری ، سروس ، ٹیکس ، فیملی اور بینکنگ سے متعلقہ کیسز زیر سماعت آئیں گے،تاہم سپیریم کورت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس عدالتی ہفتہ کے دوران مزید اہم کیس کے مقرر ہونے پر فی الفور آگاہ کیا جائے گا ۔

  • نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی .چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا گزشتہ روز کوئی مزید ترمیم کی گئی ہے؟اس معاملے پر فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے، ہم اس سماعت میں مزید وقت دیں گے، دوسری طرف سے بھی عدالت کو بہتر معاونت ملے گی ،ایک چارٹ پیش کیا گیا تھا اس پر دلائل دینا چاہیں گے؟

    نیب حکام نے عدالت میں کہا کہ نیب اٹارنی جنرل کے دلائل کو اپنائے گا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت میں ایک تحریری معروضات جمع کرائیں، خواجہ حارث نے کہا کہ دو گراونڈ زپر یہ ترامیم چیلنج کی ہیں ایک یہ آئین کے سائلنٹ فیچر کی خلاف ورزی ہے ،پارلیمانی طرز حکومت میں احتساب کی بات موجود ہے،جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ جو قانون کی پروویژن ہیں وہ اوورلیپ نہیں کررہی ہیں ؟ مخدوم علی خان نے کہا کہ اس وقت جو تضاد ہے وہ اکیڈمک بحث چاہتی ہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ جو ابھی دوسری ترامیم کی گئی ہیں ان کو ابھی چیلنج نہیں کیا،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ان ترامیم سے متعلق مزید تفصیل جمع کرائیں،شاہد پہلے پانچ ملین والی بات نہیں تھی لیکن اب شامل کی جا چکی ہے؟

    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا آپ وہ ترامیم جو ہوئی ہیں وہ چیلنج کررہے ہیں؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا یہ ترامیم جو کی گئی ہیں وہ صدر مملکت کے پاس منظوری کے لئے بھیجی گئی ہیں؟ خواجہ حارث نے کہا کہ میں نے ایک ترمیم شدہ درخواست بھی جمع کرائی ہے جس میں تفصیلات ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ آپ کیسے کارروائی آگے چلانا چاہتے ہیں، مخدوم علی خان نے معروضات جمع کرانی ہونگی اور نیب کی جانب سے بھی

    خواجہ حارث نے عدالت میں کہا کہ نئی ترامیم کا مسودہ گزشتہ روز عدالت میں جمع کروا دیا ہے،نیب قانون میں ہونے والی ترامیم بھی چیلنج کرینگے،یہ ترامیم آئین کے سائلنٹ فیچر کی انکروچمنٹ ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس میں اسلامک پوائنٹ آف ویو بھی دیکھنا ہوگا ،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ قانون کو ختم نہیں کیا جارہا ہے،حقیقت یہ ہے کہ قانون میں تبدیلی لائی جارہی ہے اس شق کے بڑے گہرے اثرات مرتب ہونگے، وکیل وفاقی حکومت نے عدالت میں کہا کہ ابھی نیب قانون میں نئی ترمیم محض مفروضہ ہے، وکیل مخدوم علی نے کہا کہ جب تک نیب قانون میں نئی ترمیم ایکٹ آف پارلیمنٹ نہ بن جائے اسے چیلنج نہیں کیا جاسکتا،صدر مملکت نے اگر نئی ترمیم پر دستخط نہ کیے تو معاملہ مشترکہ اجلاس میں جائے گا،مشترکہ اجلاس میں نیب قانون میں حالیہ ترمیم منظور ہوتی ہے یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے، وکیل عمران خان نے کہا کہ ہم نیب قانون میں حالیہ نئی ترمیم کو ابھی چیلنج نہیں کر رہے،موجودہ ترامیم آئینی مینڈیٹ کی خلاف ورزی ہیں،

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات خود احتساب کا ایک ذریعہ ہیں،انتخابات ایک سیاسی احتساب ہے جہاں ووٹر اپنے نمائندوں کا احتساب کرتا ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ وہ ترامیم جو آئین کے بنیادی ڈھانچے کے منافی ہیں ان کو چیلنج کیا جا سکتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ ہمارا کام ہے کہ خالی جگہ کو پر کریں؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ کے کئی فیصلے موجود ہیں جن میں قوانین بنانے کا کہا گیا ہے،موجودہ ترامیم نے نیب قانون کو غیر موثر کر دیا ہے،خواجہ حارث نے کہا کہ نیب ترامیم سے اختیارات کے ناجائز استعمال اور اثاثہ جات کیسز ختم ہوچکے ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس احتساب کیلئے ضروری ہے؟ چھوٹی چھوٹی ہاوسنگ سوسائٹیز میں لوگ ایک 2 پلاٹس کے کیس میں گرفتار ہوئے،پہلے ہر مقدمہ انسداد دہشتگردی کی عدالت میں جاتا تھا،

    نیب ترامیم کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت 19اگست تک ملتوی کر دی گئی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ دے کر انسداد دہشتگردی عدالت سے بوجھ کم کیا،خواجہ حارث نے کہا کہ گڈ گورننس اور احتساب بھی عوام کے بنیادی حق ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کوئی منصوبہ ناکام ہونے پر مجاز افسران گرفتار ہوجاتے تھے، گرفتاریاں ہوتی رہیں تو کونسا افسر ملک کیلئے کوئی فیصلہ کرے گا، نیب ترامیم کے بعد فیصلہ سازی پر گرفتاری نہیں ہو سکتی، نیب ترامیم سے کوئی جرم بھی ختم نہیں ہوا، خواجہ حارث نے کہا کہ ترامیم کے بعد تمام مقدمات عدالتوں سے خارج ہو جائیں گے، سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ فریقین سے عدالت میں تحریری معروضات جمع کرائیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی حالت دیکھیں کیا ہوگئی ہے ، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رواں سال ہونے والی ترامیم کا اطلاق 1985 سے کیا گیا،ماضی سے اطلاق ہوا تو سزائیں بھی ختم ہونگی اور جرمانے بھی واپس ہونگے،اس طرح تو پلی بارگین کی رقم بھی واپس کرنا پڑیں گی کیا پارلیمان اپنے یا مخصوص افراد کے فائدے کیلئے قانون سازی کر سکتی ہے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جو مقدمات ختم ہوچکے ان پر ترامیم کا اطلاق نہیں ہوگا،وکیل عمران خان نے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثوں کا سب سے پہلا سوال حضرت عمر سے ہوا تھا، ترمیم کے بعد کرپشن ثابت ہونے تک آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس نہیں بن سکتا، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون پارلیمنٹ سے منظور کیا ہے اس کا احترام بھی ضروری ہے،ترامیم کسی آئینی شق سے متاثر نظر نہیں آ رہیں،آپکے مطابق نیب ترامیم آئین کے بنیادی ڈھانچے کے ایک حصے یعنی احتساب کیخلاف ہیں،آئین کا بنیادی ڈھانچے ہونے سے متفق نہیں ہوں،خواجہ حارث نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کا تصور موجود ہے آپ چاہیں تو ماضی کا عدالتی فیصلہ واپس لے لیں،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم میں بیرون ملک سے قانونی معاونت حقوق معاہدے کے تحت شواہد ناقابل قبول ہیں،اگر کیس میں بنیادی حقوق متاثر ہونے کا معاملہ ہے تو سنیں گے ورنہ عدالت کا دائرہ کار نہیں بنتا، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون بنتے وقت پارلیمنٹ میں اپوزیشن اس کی مخالفت کرتی ہے،اگر آپ سمجھتے ہیں کہ نیب قانون غلط ہے تو اسمبلی میں بل کیوں نہیں لاتے؟ قانون کا ڈھانچہ عدالت کے بجائے اسمبلی میں زیر بحث آنا چاہیے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج جو حکومت آئی اس نے اپنے گناہ معاف کرا لیے اگلی آئے گی وہ اپنے کرا لے گی اگر عوام کے پیسے پر کرپشن کی گئی ہے تو یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی میں آتا ہے،آئین میں طے شدہ ضابطوں کے تحت قوانین کا جائزہ لے سکتے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب ایک حلقے کا منتخب نمائندہ مستعفی ہوتا ہے تو کیا وہ اپنی عوام سے اجازت لیتا ہے؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ منتخب نمائندے سیاسی حکمت عملی اور فیصلوں کے تحت استعفے دیتے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ اگر مستعفی ہونے سے پہلے عوام سے اجازت نہیں لیتے تو منتخب نمائندے کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟

    خواتین کو تعلیم سے روکنا جہالت،گزشتہ 7ماہ سے انتشار کا کوئی واقعہ نہیں ہوا،طاہر اشرفی

    کسی بھی مکتبہ فکر کو کافر نہیں قرار دیا جا سکتا ،علامہ طاہر اشرفی

    امریکا اپنی ہزیمت کا ملبہ ڈالنا چاہتا ہے تو پاکستان اس کا مقابلہ کرے،علامہ طاہر اشرفی

    وزیراعظم  نے مکہ میں دوران طواف 3 مرتبہ مجھے کیا کہا؟ طاہر اشرفی کا اہم انکشاف

    تحریک انصاف نے نئی نیب ترامیم کوچیلنج کردیا

  • سندھ حکومت نے حلقہ بندی کیخلاف ایم کیو ایم کی درخواست کی مخالفت کر دی

    سندھ حکومت نے حلقہ بندی کیخلاف ایم کیو ایم کی درخواست کی مخالفت کر دی

    بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کیلئے حلقہ بندی کیخلاف ایم کیو ایم کی درخواست پر سماعت ہوئی

    الیکشن کمیشن اور سندھ حکومت نے حلقہ بندی کیخلاف ایم کیو ایم کی درخواست کی مخالفت کر دی ، وکیل ایم کیو ایم نے سپریم کورٹ میں موقف اپنایا کہ حلقہ بندی میں آبادی کا تناسب یکساں نہیں رکھا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن حلقہ بندی سے مطمئن ہے؟ ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ حلقہ بندیاں قانون کے مطابق ہوئی ہیں حد بندی صوبائی حکومت اور انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے،وکیل نے کہا کہ جہاں ایم کیو ایم کامیاب ہوئی وہاں ایک یونین کمیٹی 90 ہزار آبادی پر مشتمل ہے پیپلزپارٹی جن علاقوں سے کامیاب ہوتی وہاں یوسی 40 ہزار آبادی پرمشتمل ہے،

    وکیل خالد جاوید خان نے کہا کہ اس دلیل کو مان لیا جائے تو قومی و صوبائی اسمبلیوں کی حلقہ بندیاں ختم ہو جائیں گی،قومی اسمبلی کا کوئی حلقہ 3 اور کوئی 9 لاکھ آبادی پر مشتمل ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام فریقین کو 15 اگست کو تفصیل سے سن کر فیصلہ کرینگے،اگست کی 28 تاریخ کو الیکشن ہے اس لیے آئندہ سماعت پر کوئی التوا نہیں دینگے، اکیو ایم کی درخواست خارج بھی کی جا سکتی ہے، ایم کیو ایم کی درخواست صرف شہری علاقوں تک محدود ہے،

    پہلے مرحلے میں کامیاب ہونے والے نمائندوں کی فریق بننے کی درخواستیں منظور کر لی گئی سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 15 اگست تک ملتوی کردی

     تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ جاری

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

  • لارجر بینچ بنانا اب تاریخ بن گئی، چیف جسٹس کے ریمارکس

    لارجر بینچ بنانا اب تاریخ بن گئی، چیف جسٹس کے ریمارکس

    سپریم کورٹ میں وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نااہلی کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے مراد علی شاہ کیس میں لارجر بنچ بنانے کی استدعا مسترد کر دی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لارجر بینچ بنانا اب تاریخ بن گئی ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ جسٹس یحیی آفریدی مرکزی کیا سننے والے ججز میں شامل تھے، جسٹس یحیی آفریدی کو نظر ثانی بنچ کیس میں شامل نہیں کیا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس یحیی آفریدی دستیاب ہیں انہیں بنچ میں شامل کر لیتے ہیں،آپ میرے ساتھ ملاقات کریں لارجر بنچ پر گفتگو کر لیتے ہیں،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیر مدت کیلئے ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ لارجر بنچ کی درخواست مدعی روشن علی کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی درخواست گزار نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ دوہری شہریت چھپانے پررکن اسمبلی کیلئے نااہل ہیں اہم آئینی اور قانونی نقطہ پر سماعت کیلئے لارجر بنچ تشکیل دیا جائے

    قبل ازیں سندھ میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے کہ مراد علی شاہ پی ایس 73 سے منتخب ہوئے، جھوٹے حلف نامے جمع کروائے گئے، مراد علی شاہ صادق اور امین نہیں ،دہری شہریت کے باوجود 2007 میں الیکشن لڑا،مراد علی شاہ کو 2013 میں سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا تھا، مراد علی شاہ کو نااہل قرار دیا جائے،

    جیل حکام خواتین قیدیوں کی عزتیں تارتارکرتے ہیں، پیدا ہونے والے بچوں کوقتل کردیا جاتا ہے،لاہورجیل سے خاتون قیدی کی ویڈیووائرل

    جیلوں میں قید خواتین کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے سفارشات پر مبنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش

    لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

    کوئی بھوکا نہ سوئے، مودی کے احمد آباد گجرات کے مندروں میں مسلمانوں نے کیا راشن تقسیم

    محبت کا ڈرامہ رچا کر لڑکی کی غیر اخلاقی تصاویر بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتا