Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد  پرویز الہیٰ کی رہائش گاہ پر جشن

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پرویز الہیٰ کی رہائش گاہ پر جشن

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد لاہور میں پرویز الہیٰ کی رہائش گاہ پر جشن شروع ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس میں پرویز الٰہی کی درخواست منظور کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری کی رولنگ کالعدم قراردے دی اور پرویز الہیٰ کو وزیراعلیٰ پنجاب قرار دے دیا۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد لاہور میں پرویز الہیٰ کی رہائش گاہ پر جشن شروع ہوگیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف اور ق لیگ کے حامی پرویز الہیٰ کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔

    خیال رہے کہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ درست نہیں، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دی جاتی ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہےکہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا کوئی قانونی جواز نہیں، پنجاب کابینہ بھی کالعدم قرار دی جاتی ہے، حمزہ شہباز اور ان کی کابینہ فوری طور پر عہدہ چھوڑیں۔

    عدالت نے حکم دیا ہےکہ آج رات 11:30 تک پرویز الٰہی بطور وزیراعلیٰ پنجاب حلف لیں، گورنر پنجاب آج رات ساڑھے گیارہ بجے تک پرویز الٰہی سے وزیراعلیٰ کا حلف لیں، فیصلے پر فوری عمل یقینی بنایا جائے،گورنر اگر پرویز الٰہی سے حلف نہ لیں تو صدر مملکت وزیراعلیٰ پنجاب سے حلف لیں گے، فیصلے کی کاپی فوری طور پر گورنر پنجاب، ڈپٹی اسپیکر اور چیف سیکرٹری کو بھیجی جائے سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کی جانب سے بطور وزیر اعلیٰ تقرریاں بھی کالعدم قرار دے دی ہیں۔

    کیس کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی تھی، بینچ میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے ،

    سپریم کورٹ میں مونس الہیٰ اور حسین الہیٰ سپریم کورٹ میں موجود ہیں. ق لیگ کے 9 ارکان بھی چوہدری مونس کے ہمراہ سپریم کورٹ میں موجود تھے، ڈاکٹر بابر اعوان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے شبلی فراز بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے سپریم کورٹ کی سیکورٹی سخت کی گئی تھی ، پولیس کی بھاری نفری عدالت کے باہر موجود تھی ،خواتین پولیس اہلکاروں کو بھی سپریم کورٹ کے باہر تعینات کیا گیا تھا، عدالت کے باہر قیدیوں کی گاڑی بھی موجود تھی ،سپریم کورٹ کے باہر مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی موجود تھے-

  • سپریم کورٹ کا فیصلہ،حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے سربراہان کا اجلاس طلب

    سپریم کورٹ کا فیصلہ،حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے سربراہان کا اجلاس طلب

    سپریم کورٹ کے ممکنہ فیصلے کے پیش نظر حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے سربراہان کا اجلاس طلب کرلیا گیا ۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اتحادی جماعتوں کے سربراہان کااجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوگا ،اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے اور سیاسی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔اجلاس میں پنجاب کی سیاسی صورتحال پر بھی غور کیا جائیگا۔

    واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ پنجا ب کے حوالے سے سپریم کورٹ بھی اپنا فیصلہ کچھ دیر میں سنائے گی ۔ پی ڈی ایم جماعتوں کے سربراہان پہلے ہی عدالتی پراسیس کا حصہ بننے سے انکار کرچکے ہیں

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے ڈپٹی سپیکر رولنگ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ سنائے جانے سے کچھ وقت قبل سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے حکومت کو ڈٹ جانے کا مشورہ دیا ہے۔


    انہوں نے لکھا کہ حکومت مشکل صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرے یا سٹیٹس کو کا شکار بنے۔ حکومت کو چاہیے سخت موقف اختیار کرے اور ڈٹ جائے۔لیڈر تب بنتا ہے جب وہ مشکل حالات کا سامنا کرتا ہے۔

    دوسری جانب ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ فیصلے سے قبل سابق وزیراعظم نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا،پنجاب کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف کو پنجاب میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو متحرک رکھنے اور پی ڈی ایم کے رہنماؤں سے بھی مشاورت جاری رکھنے کی ہدایت کی ٹیلیفونک رابطہ میں نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف کو پی ڈی ایم کا اتحاد پنجاب میں مزید منظم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

  • پرویز الہٰی وزیراعلیٰ پنجاب، گورنر حلف لیں، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    پرویز الہٰی وزیراعلیٰ پنجاب، گورنر حلف لیں، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    سپریم کورٹ ،ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ سے متعلق کیس ،فیصلہ سنا دیا گیا

    فیصلہ لیٹ ہونے پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ معذرت چاہتا ہوں، چودھری پرویز الہیٰ کی ڈپٹی سپیکر کے خلاف درخواست منظور کر لی گئی ہے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ درست نہیں اسکا کوئی قانونی جواز نہیں، پرویز الہیٰ پنجاب کے وزیراعلیٰ ہیں،

    فیصلے کی تفصیل بعد میں جاری کی جائے گی، حمزہ شہباز کے ووٹ 179 تھے، جبکہ پرویز الہیٰ کو 186 ووٹ ملے جسکی بنیاد پر پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ قرار پائے، حمزہ شہباز کی کابینہ کا نوٹفکیشن کالعدم قرار دے دیا گیا ہے،حمزہ شہباز نے جو حلف اٹھایا وہ بھی غیر آئینی ہے چیف سیکریٹری پرویز الہٰی کابطور وزیراعلیٰ نوٹیفکیشن جاری کریں،گورنر پنجاب پرویز الہیٰ سے حلف لیں ، آج رات ساڑھے گیارہ بجے تک حلف لیا جائے،اگر گورنر دستیاب نہ ہوں تو صدر مملکت حلف لیں، حکم پر عمل یقینی بنایا جائے، حمزہ شہباز نے جو بھی قانونی کام کئے وہ برقرار رہیں گے اس آرڈر کی کاپی گورنر، ڈپٹی اسپیکر اور چیف سیکریٹری کو ارسال کریں،

    کیس کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی تھی، بینچ میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے ،

    سپریم کورٹ میں مونس الہیٰ اور حسین الہیٰ سپریم کورٹ میں موجود ہیں. ق لیگ کے 9 ارکان بھی چوہدری مونس کے ہمراہ سپریم کورٹ میں موجود تھے، ڈاکٹر بابر اعوان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے شبلی فراز بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے سپریم کورٹ کی سیکورٹی سخت کی گئی تھی ، پولیس کی بھاری نفری عدالت کے باہر موجود تھی ،خواتین پولیس اہلکاروں کو بھی سپریم کورٹ کے باہر تعینات کیا گیا تھا، عدالت کے باہر قیدیوں کی گاڑی بھی موجود تھی ،سپریم کورٹ کے باہر مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی موجود تھے


    قبل ازیں کیس کی سماعت شروع ہوئی تو پی ٹی آئی کے وکیل احمد اویس عدالت میں پیش ہوئے ،احمد اویس نے کہا کہ وزیر اعلی کے انتخاب کا معاملہ ہے دو اپریل سے چل رہا تھا،یہ معاملہ پہلے کیوں سب کو یاد نہ آیا،سوال یہ ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے کس پیرا کی بنیاد پرہمارے ووٹ شمار نہیں کئے،اس میں کوئی شک نہیں 63 اے کے مطابق پارٹی ہیڈ کا اہم کردار ہوتا ہے تین ماہ سے وزیر اعلی پنجاب کا معاملہ زیر بحث تھا

    علی ظفر نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں 63 اے کے مطابق پارٹی ہیڈ کا اہم کردار ہوتا ہے ،وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ ق لیگ کے تمام ارکان کو علم تھا کہ کس کو ووٹ دینا ہے،علی ظفر نے کہا کہ پارٹی ہیڈ پارٹی کی کئی کمیٹیوں کا سربراہ بھی ہوتا ہے،عائشہ گلالئی کیس میں عدالت پارٹی سربراہ کے کردار کا جائزہ لیا گیا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جو بیس منحرف ارکان تھے ان میں سے کتنے ارکان نے ضمنی انتخابات میں حصہ لیا؟ علی ظفر ابھی جو آپ دلائل دے رہے ہیں وہ کولیٹرل دلائل ہیں، وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ جو ممبران منحرف ہوئے انہوں نے دوبارہ دوسری پارٹی کی ٹیکٹ پر انتخابات میں حصہ لیا ،علی ظفر نے کہا ہک عائشہ گلالئی کیس کا فیصلہ میرے موکل کے خلاف ہے لیکن آئین کے مطابق ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ یکم جولائی کے سپریم کورٹ کا حکم نامہ کیا اتفاق رائے پر مبنی تھا ؟ جس پر علی ظفر نے کہا کہ جی وہ اتفاق رائے پر مبنی فیصلہ تھا ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ کے فیصلے پر کوئی اعتراض کیا جاسکتا ہے ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ دونوں فریقین اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ انتخابات کے بعد جو نتیجہ آیا تھا اس پر رن آف الیکشن ہوگا، علی ظفر نے کہا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں وزیر اعلی کے انتخاب تک حمزہ شہباز کو وزیر اعلی رہنے کی ہدایت کی تھی، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پل کے نیچے بہت زیادہ پانی گزر چکا ہے اب اس معاملے کو کیسے سن سکتے ہیں؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایڈووکیٹ جنرلز کے جواب کا انتظار کررہے ہیں،علی ظفر نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق نہیں دی، ڈپٹی اسپیکر الیکشن کمیشن کے فیصلے کا پابند بھی نہیں ہے،

    ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو رضا مندی دی گئی ضمنی الیکشن ہونے دیا جائے یہ یقین دہانی بھی دی گئی کہ ضمنی الیکشن کے نتائج پر رن آف الیکشن کرایا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یکم جولائی کو وزیراعلی کا الیکشن ضمنی انتخابات کے بعد ہونے کا حکم فریقین کے اتفاق رائے سے تھا،کیا ضمنی انتخابات کے بعد منحرف ارکان کی اپیل تک سماعت روکنے کا اعتراض ہو سکتا ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ اصولی طور پر منحرف ارکان کی اپیلوں کو پہلے سننے کا اعتراض نہیں بنتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور میں عدالت نے نوٹسز جاری کرکے کہا تھا قانونی نکات پر دلائل دیئے جائیں، اس عدالت کے 8 ججز نے اپنے گزشتہ فیصلے میں کیا کہا تھا وہ دیکھ لیا ہے،آرٹیکل 63 اے پر تشریح ہوچکی ہے اس پر اب مزید ضرورت نہیں، یہاں پر کوئی اور ہے جو دلائل دے؟ اس صورتحال میں ہم ایک وقفہ کرتے ہیں ،

    وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ یہ لوگ نظر ثانی کی بنیاد پر تمام کارروائی روکنا چاہتے ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اظہر صدیق اپ کس کی نمائندگی کررہے ہیں؟ وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ 20میں سے 16 منحرف ارکان نے ن لیگ،2 نے آزاد الیکشن لڑا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹارنی جنرل نہیں ہیں تو مجھے دلائل دینے کی اجازت دی جائے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ اٹارنی جنرل بیمار ہیں اور بیرون ملک علاج کرا رہے ہیں ،اٹارنی جنرل یکم کو آئیں گے اس وقت تک انتظار نہیں کرسکتے، آپ دلائل دیں،ہم نے سماعت کے پہلے حصے میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے معاملے پر دلائل سنے،دوسرے حصے میں ہم نے پارٹی ہیڈ کے متعلق دلائل سنے، عامر رحمان نے کہا کہ آرٹیکل 63 والے کیس میں پارٹی ہیڈ اور پارلیمانی پارٹی کے کردار پر کوئی بات نہیں ہوئی تھی، ایک فل کورٹ نے 2015میں پارٹی ہیڈ کے بارے میں فیصلہ دیا تھا،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ہم آپ کا نکتہ سمجھ گئے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ جس فیصلے کا آپ حوالہ دے رہے ہیں وہ ایک رائے تھی یا فیصلہ تھا ؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کے مطابق پارلیمانی پارٹی کو اختیار دینا ضروری ہے،پارلیمانی پارٹی کو مضبوط کرنا پارلیمانی جمہوریت کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 2015 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق پارٹی سربراہ ہدایت دے سکتا ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل آپ ایسے دلائل دیں جو ہمیں مطمئن کریں،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب اسمبلی کی کاروائی کا جو مسودہ ہمیں دیا گیا ہے اس میں ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ دی اور کہا کہ اس کو چیلنج کرسکتے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ ڈپٹی اسپیکر پڑھے لکھے ہیں ، آرٹیکل 63 کی جو زبان ہے وہ ایک عام ادمی بھی سمجھ سکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین پر عمل کرنا ہماری ذمہ داری ہے تمام وکلا نے عدالت کی معاونت کی ہے۔ گزشتہ دن دوسرے فریقین نے اپنے جواب جمع کرائے ،سماعت میں وقفہ کرتے ہیں ، پونے 6 بجے فیصلہ سنائیں گے،

    منگل وقفے سے قبل کی سماعت پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

    سپریم کورٹ میں بڑی سماعت ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ سے متعلق متوقع فیصلے کے پیش نظر سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے،سپریم کورٹ کے اطراف آنیوالے راستوں کو بند کر دیا گیا ہے، ڈی چوک، نادرا چوک سمیت دیگر شاہراہوں کو بند کر دیا گیا خار دار تاریں، بلاکس لگا کر بند کیا گیا ہے

    قبل ازیں سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کے الیکشن سے متعلق گزشتہ روز کی سماعت کا حکمنامہ جاری کردیا۔حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ فل کورٹ کی استدعا مسترد کی جاتی ہے، فل کورٹ تشکیل نہ دینے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی،حمزہ شہباز ،ڈپٹی اسپیکر اور دیگر وکلاء کی طرف سے مزید وقت مانگا گیا ہے فریق دفاع کے وکلاء کی مزید وقت کی استدعا منظور کی جاتی ہے تمام وکلاء 26 جولائی کو مقدمے کی تیاری کرکے آئیں،

     حکومتی اتحاد کی فوری فل کورٹ بینچ بنانے کی درخواست مسترد

     فل کورٹ مستر کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کےاس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں.حکمران اتحاد 

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    مریم نواز کی حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس

    پرویز الہٰی کے وکیل نے نظرثانی درخواست کی سماعت کے لیے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کردی

  • اگر کوئی ٹھوس وجہ ہو تو مجھ سمیت کوئی بھی جج اپنا فیصلہ تبدیل کرسکتا ہے، چیف جسٹس

    اگر کوئی ٹھوس وجہ ہو تو مجھ سمیت کوئی بھی جج اپنا فیصلہ تبدیل کرسکتا ہے، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ ،حمزہ شہبازکے انتخاب سے متعلق کیس کی سماعت شروع ہو گئی ہے

    عرفان قادر نے کہا کہ میرے موکل نے ہدایات کی ہیں کہ اس کیس میں مزید پیش نہیں ہونگے۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میرے موکل کی جانب سے بھی یہی ہدایات ہیں کہ پیش نہ ہوں۔ہم نظر ثانی درخواست دائر کرینگے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو ابھی تک ہم نے فریق نہیں بنایا، عدالت نے بیرسٹرعلی ظفر کو روسٹرم پر بلا لیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ اس کیس کو جلدی سے مکمل کریں ، ہم فل کورٹ ستمبرکے دوسرے ہفتے تک نہیں بنا سکتے، عدالت اس کیس کے میرٹس پر دلائل سنے گی،پیپلزپارٹی تو کیس کی فریق ہی نہیں، ہمارے سامنے فل کورٹ بنانے کا کوئی قانونی جواز پیش نہیں کیا گیا،عدالت میں صرف پارٹی سربراہ کی ہدایات پر عمل کرنے کے حوالے سے دلائل دیئے گئے، ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ موجودہ کیس میں فل کورٹ بنانے کی ضرورت نہیں ہے،اصل سوال تھا کہ ارکان کو ہدایات کون دے سکتا ہے، آئین پڑھنے سے واضح ہے کہ ہدایات پارلیمانی پارٹی نے دینی ہیں،اس سوال کے جواب کیلئے کسی مزید قانونی دلیل کی ضرورت نہیں،

    عرفان قادر نے کہا کہ فل کورٹ کے مسترد کیے جانیکے فیصلے پر نظر ثانی فائل کرینگے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کی تشکیل کا مطالبہ تاخیری حربے جیسا ہے 1988میں صدر نے کابینہ کو ہٹایا،63 والے کیس میں آج جو سوال ہے وہ اس وقت نہیں تھا، 21 ویں ترمیم کے فصلے کے مطابق پارلیمانی پارٹی کا سربراہ ہدایات دے سکتا ہے، آئین کہتا ہے کہ ووٹ دینے کی ہدایت پارلیمانی پارٹی دے سکتی ہے ،کیا 17 میں س8ججز کی رائے کی سپریم کورٹ پابند ہو سکتی ہے؟ فل کورٹ بینچ کی اکثریت نے پارٹی سربراہ کے ہدایت دینے سے اتفاق نہیں کیا تھا،دلائل کے دوران21ویں ترمیم کیس کا حوالہ دیا گیا ، 21ویں ترمیم والے فیصلے میں آبزرویشن ہے کہ پارٹی سربراہ ووٹ دینے کی ہدایت کر سکتا ہے، آرٹیکل 63 اے کی تشریح میں کون ہدایت دے گا یہ سوال نہیں تھا، تشریح کے وقت سوال صرف منحرف ہونے کے نتائج کا تھا، 18 ویں اور 21 ویں ترمیم والے کیس میں یہ معاملہ ہمارے سامنے نہیں آیا،63 اے والے کیس میں بھی ایسا کوئی ایشو سامنے نہیں آیا، علی ظفر آپ درخواست کے میرٹس پر دلائل دے کر عدالت کی معاونت کریں،جو دلائل میں باتیں کی گئیں اس کے مطابق فل کورٹ تشکیل نہیں دی جاسکتی تھی، اس عدالت کا موقف تھا کہ وزیر اعظم جو چیف ایگزیکٹو ہوتا ہے اس کے بغیر حکومت نہیں چل سکتی ،علی ظفر نے کہا کہ اس وقت 63 اے سے متعلق سوال تھا کہ کیا یہ شق درست ہے یا نہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس عظمت نے اپنے فیصلے میں پارٹی سربراہ کی بات کی،عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے والے اعلیٰ وقار کا مظاہرہ کریں، بائیکاٹ کردیا ہے عدالتی کارروائی کو سنیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل علی ظفر کو ہدایت کی کہ قانونی سوالات پر عدالت کی معاونت کریں یا پھر ہم اس بینچ سے الگ ہو جائیں، جو دوست مجھے جانتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ اپنے کام کو عبادت کا درجہ دیتا ہوں، علی ظفر نے فیصلے سے حوالہ دیا اور کہا کہ آرٹیکل63 اے آئین کی ایس شق ہے جو پارٹیوں میں نظم پیدا کرتی ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پارٹی لائن پارلیمانی پارٹی دے سکتی ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ اکیسویں ترمیم سے متعلق درخواستیں 13/4 کی نسبت سے خارج ہوئی تھیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آئینی نکات پر معاونت کریں یا پھر ہم بینچ سے الگ ہوجائیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شکر ہے کہ کچھ وکلا عدالتی کارروائی دیکھنے کے لیے موجود ہیں،علی ظفر نے کہا کہ اکیسویں ترمیم والے کیس میں کچھ ججز نے اپنے الگ سے وجوہات لکھیں تھیں،

    سپریم کورٹ میں علی ظفر نے مختلف عدالتی فیصلوں کے نظائر پیش کیے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے علی ظفر کے دلائل پر استفسارکیا کہ اٹھارویں ترمیم نے 63 شق کو موڈیفائی کیا ، آپ یہ کہنا چاہتے ہیں،پارلیمانی پارٹی اور پارٹی ہیڈ کیا الگ لگ ہوتے ہیں ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پارٹی ہیڈ پارلیمانی پارٹی کی ہدایات پر عمل کرتا ہے ؟پارٹی ہیڈ منحرف ارکان کے خلاف ریفرنس بھیجتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی پارٹی اکیلے میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی ، کوئی اصول ہوگا،میں یہ سمجھ رہا ہوں کہ پارلیمانی پارٹی میں کوئی پروسیس ہوگا ، علی ظفر نے کہا کہ دنیا بھی میں آخری فیصلہ پارلیمانی پارٹی کرتی ہے پارٹی ہیڈ کا آئینی اختیار فیصلے پر عمل کرانا ہے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کہتا ہے کہ پارلیمنٹ پارٹی فیصلہ کرتی ہے اور اس پر کوئی رکن خلاف جاتا ہے تو سربراہ ایکشن لیتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ پارٹی ہیڈ کچھ بھی شروع نہیں کر سکتا ،علی ظفر نے کہا کہ آئین میں کہیں بھی پارلیمانی پارٹی کے ساتھ پارٹی ہیڈ نہیں لکھا جسٹس جواد خواجہ نے اکیسویں ترمیم والے کیس مل یں 63کو آئین سے متصادم قرار دیا تھا،جسٹس جواد خواجہ نے اپنے فیصلے میں وجوہات بیان نہیں کی تھیں،میں جسٹس جواد ایس خواجہ کی رائے سے اتفاق نہیں کرتا،آئین کے مطابق ووٹ کی ہدایت پارلیمانی پارٹی کرتی ہے ،آرٹیکل 63 میں پہلے 1998 میں پارلیمانی پارٹی لکھا تھا جو 2002 میں تبدیل ہو کر پارلیمانی ہیڈ لکھا گیا،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی سے انحراف کرنے والے کے خلاف ایکشن لینا یا اس کی شروعات کرنے کا اختیار آئین کے مطابق پارٹی ہیڈ کے پاس ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سابق جج میاں ثاقب نثار نے وہ درخواستیں خارج کرکے ایک الگ سے نوٹ لکھا تھا، ثاقب نثار نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ آئین کا آرٹیکل 63 ایک دہائی سے فلور کراسنگ کا سبب رہا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جج کا بار بار اپنی رائے تبدیل کرنا اچھی مثال نہیں ہوتی،جج کی رائے میں یکسانیت ہونی چاہیے، علی ظفر نے کہا کہ میری نظر میں جسٹس عظمت سعید کی آبزرویشن آئین کے خلاف ہے، اکیسویں ترمیم میں آرٹیکل 63 اے ایشو نہیں تھا،جسٹس عظمت سعید کی آبزرویشن کی سپریم کورٹ پابند نہیں ،جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ پارلیمانی لیڈر والا لفظ کہاں استعمال ہوا ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے علی ظفر سے سوال کیا کہ آئین کیا کہتا ہے کہ کس کی ہدایات پر ووٹ دیا جائے، علی ظفر کا کہنا تھا کہ
    آئین کے مطابق ووٹ کی ہدایات پارلیمنٹری پارٹی دیتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا پارلیمنٹری پارٹی، پارٹی سربراہ سے الگ ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ پارلیمانی جماعت اور پارٹی لیڈر دو الگ الگ چیزیں ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین کے تحت پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کے فیصلے پر عملدرآمد کراتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی جماعت اپنے طور پر تو کوئی فیصلہ نہیں کرتی،سیاسی جماعت کا فیصلہ پارلیمانی جماعت کو آگاہ کیا جاتا ہے جس کی روشنی میں وہ فیصلہ کرتی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان عدالت میں پیش کہا میں بھی عدالت کی معاونت کرنا چاہتا ہوں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آرٹیکل 63 میں پارٹی ہیڈ کا معاملہ پہلے الگ سے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی سالڈ ریزن ہو تو مجھ سمیت کوئی بھی جج اپنا فیصلہ تبدیل کرسکتا ہے فیصلے میں کوئی غلطی نہ ہوجائے اس لئے سب کو معاونت کی کھلی دعوت ہے، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی حکومت حکمران اتحاد کے فیصلے سے الگ ہوگئی ہے؟ عامر رحمان نے کہا کہ میں صرف آرٹیکل 27کے تحت عدالت کی معاونت کرنا چاہتا ہوں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ دیکھنا ہے کی ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط تواستعمال نہیں کیا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نکتہ یہ ہے کہ دوسرا فریق یہاں موجود ہے لیکن کارروائی میں حصہ نہیں لے رہا،اقوام متحدہ میں جو ملک ممبر نہیں ہوتا وہ آبزرور ہوتا ہے ،

    کیس کی سماعت میں ایک گھنٹے کا وقفہ کر دیا گیا

    قبل ازیں چوہدری مونس الٰہی 9 ایم پی ایز کے ہمراہ سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں،بائیکاٹ کے باوجود ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے وکیل عرفان قادر سپریم کورٹ پہنچ گئے۔چوہدری شجاعت کے وکیل بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں گزشتہ روز پی ڈی ایم نے سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا مگر آج ان کے وکلاء سماعت سے قبل سپریم کورٹ پہنچ گئے.پی ٹی آئی رہنما پرویز خٹک اور پیپلزپارٹی کے فاروق ایچ نائیک بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں

    سپریم کورٹ میں بڑی سماعت ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ سے متعلق متوقع فیصلے کے پیش نظر سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے،سپریم کورٹ کے اطراف آنیوالے راستوں کو بند کر دیا گیا ہے، ڈی چوک، نادرا چوک سمیت دیگر شاہراہوں کو بند کر دیا گیا خار دار تاریں، بلاکس لگا کر بند کیا گیا ہے

    سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کے الیکشن سے متعلق گزشتہ روز کی سماعت کا حکمنامہ جاری کردیا۔حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ فل کورٹ کی استدعا مسترد کی جاتی ہے، فل کورٹ تشکیل نہ دینے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی،حمزہ شہباز ،ڈپٹی اسپیکر اور دیگر وکلاء کی طرف سے مزید وقت مانگا گیا ہے فریق دفاع کے وکلاء کی مزید وقت کی استدعا منظور کی جاتی ہے تمام وکلاء 26 جولائی کو مقدمے کی تیاری کرکے آئیں،

     حکومتی اتحاد کی فوری فل کورٹ بینچ بنانے کی درخواست مسترد

     فل کورٹ مستر کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کےاس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں.حکمران اتحاد 

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    مریم نواز کی حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس

    پرویز الہٰی کے وکیل نے نظرثانی درخواست کی سماعت کے لیے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کردی

  • ججز تقرری کا معاملہ ،جسٹس قاضی فائز عیسی نے اجلاس پر اعتراض اٹھا دیا

    ججز تقرری کا معاملہ ،جسٹس قاضی فائز عیسی نے اجلاس پر اعتراض اٹھا دیا

    جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ججز تقرری سے متعلق جوڈیشل کمیشن کے اجلاس پر چیف جسٹس کوخط لکھا ہے

    جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے 28 جولائی کو ہونے والے جوڈیشل کمیشن اجلاس پر اعتراض اٹھا دیا ،جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو لکھے گئے خط میں کہا کہ بیرون ملک چھٹیوں پر ہوں، جوڈیشل کمیشن کا کوئی اجلاس شیڈول نہیں تھا میرے بیرون ملک جانے کے بعد جوڈیشل کمیشن کے 2 اجلاس بلائے گئے،میری غیر موجودگی میں جوڈیشل کمیشن کا تیسرا اجلاس 28 جولائی کو بلا لیا گیا جوڈیشل کمیشن کا اجلاس موخر کیا جائے،سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی سے پہلے مل بیٹھ کر طے کرنا ہوگا آگے کیسے بڑھنا ہے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، ججز کو بائی پاس کرنے سے پہلے نامزدگی کے طریقہ کار کو زیر غور لایا جائے سپریم کورٹ کا سینئر ترین جج ججز کی نامزدگی کا طریقہ کار طے کرنے میں ناکام رہا، چیف جسٹس کی طرف سے ججز کی تعیناتی کے معاملے پر جلد بازی سوالیہ نشان ہے،

    جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو لکھے گئے خط میں کہا کہ چیف جسٹس چاہتے ہیں2347 دستاویز کا ایک ہفتے میں جائزہ لیا جائے،دستاویزات ابھی تک مجھے فراہم ہی نہیں کی گئیں، واٹس ایپ کے ذریعے یہ ہزاروں دستاویزات مجھے بھیجنے کی کوشش کی گئی،واٹس ایپ پر مجھے صرف 14 صفحات تک رسائی ملی جو پڑھے نہیں جا سکتے، یہ دستاویزات مجھے کورئیر کیے گئے سفارتخانے کے ذریعے نہ بھجوائے گئے،

    قبل ازیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ججز تقرری کے حوالہ سے ایک خط پہلے بھی لکھا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ہ بار کونسلز سمیت جوڈیشل کمیشن ممبران نے کئی بار رولز میں ترمیم کا مطالبہ کیا،ججز تقرری میں سنیارٹی،میرٹ اور قابلیت کو دیکھنا ہوتا ہے،سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کی جگہ جونیئر جج کو تعینات کیا گیا، ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اور سینئر ججز نے سابق چیف جسٹس سابق نثار کی باتوں کی تردید کی سینئر ججز کے خود نہ آنے کی بات کر کے ثاقب نثار نے مکاری کی سابق چیف جسٹس گلزار احمد نے بھی چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ اور سینئر ججز کو نظر انداز کیا خط کی کاپی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور گلزار احمد کو بھی بھیج رہا ہوں بطور ممبر جوڈیشل کمیشن سابق جج جسٹس مقبول باقر کی رائے کو بھی نظرانداز کیا گیا، جوڈیشل کمیشن رولز میں ترمیم کیلئے قائم کمیٹی کی آج تک کوئی رائے نہیں آئی، جوڈیشل کمیشن اجلاس ان کیمرہ نہیں ہونا چاہیے،ججز تقرری کیلئے اجلاس سے متعلق عوام کو علم ہونا چاہیے،

    ملک اسلامی جمہوریہ مگریہاں اسلام کے مطابق کچھ نہیں ہورہا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس غلطی تھی، عمران خان نے تسلیم کر لیا

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسلام آباد میں گورنر بلوچستان کے سکواڈ کی گاڑی کا چالان کروا دیا ۔

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    پولیس ملزمان کی ویڈیو کیوں نہیں بناتی؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اظہار برہمی

  • سپریم کورٹ ،سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ ،سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    سپریم کورٹ نے 4 اگست تک سندھ حکومت کو جواب جمع کرانے کا حکم دیدیا ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت چاہے تو جواب جمع کرا دے،ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ سندھ حکومت کو تحریری جواب جمع کرانے کیلئے دو ہفتے کا وقت دیا جائے ،سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کو دو ہفتے کی مہلت دینے کی استدعا مسترد کردی.

    فروغ نسیم نے کہا کہ 27 اگست کو الیکشن ہے، دو ہفتے کا وقت دیا گیا سندھ حکومت کہے گی پولنگ قریب ہے

    گزشتہ سماعت پر وکیل ایم کیو ایم فروغ نسیم نے کہا تھا کہ پورے سندھ کی حلقہ بندیوں کو چیلنج کیا ہے،سندھ حکومت کی ترامیم آئین اور سپریم کورٹ فیصلوں کے خلاف ہیں،ہائیکورٹ نے ترامیم کو غیر قانونی بھی قرار نہیں دیا،

    دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر تو کیس واپس ہائیکورٹ بھجوانا پڑے گا،وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ سپریم کورٹ حکم امتناعی دے کر کیس ہائیکورٹ بھجوا دے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال انتخابات تو روک دئیے گئے ہیں ،وکیل نے کہا کہ بارش اور محرم کی وجہ سے انتخابات روکے گئے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ بھی ساتھ نہیں لگایا، وکیل نے کہا کہ تفصیلی فیصلہ کراچی رجسٹری میں جمع کروا دیا گیا تھا،

     تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ جاری

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

  • سوشل میڈیا پر حقائق دیکھے بغیر تنقید کی جاتی ہے لیکن ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہے،چیف جسٹس

    سوشل میڈیا پر حقائق دیکھے بغیر تنقید کی جاتی ہے لیکن ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہے،چیف جسٹس

    سوشل میڈیا پر حقائق دیکھے بغیر تنقید کی جاتی ہے لیکن ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہے،چیف جسٹس
    ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا معاملہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع کردی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے معاملے کا جائزہ لیا ، صلاح الدین اور فاروق نائیک کو بھی سنیں گے ،وکلا میرٹس پر دلائل دینا شروع کردیں ،عرفان قادر نے کہا کہ اس طرح تو نہیں ہوگا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ابھی ہم سب کو سنیں گے، اس کے بعد دیکھیں گے، ہمارے سامنے کچھ سوالات ہیں اس پر ہم آپ کو سننا چاہتے ہیں ،عرفان قادر نے کہا کہ میری ہدایات فل کورٹ کی تھیں کیا میں مزید بات کرسکتا ہوں یا نہیں اس پر ہدایات لینے کا وقت دیا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم 24گھنٹے یہاں بیٹھے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے عرفان قادر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی ہدایات لے لیں، عثمان اعوان نے کہا کہ میرٹس پر بات کرنی ہے تو ہمیں ہدایات لینا ہیں، اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ن لیگ اور وزیراعلی پنجاب نے فل کورٹ کی استدعا کی ہے،

    جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ہم نے سب کے دلائل سنے ہیں جو فل کورٹ کے حوالے سے ہیں،اس پر ہم مزید سنیں گے،آپ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے کہنے پر فل کورٹ بنا دیں یا پھرمیرٹس پر سننے کے بعد فیصلہ کرینگے کہ فل کورٹ بنے یا نہیں؟ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حمزہ شہباز کی جانب سے واضح ہدایات ہیں کہ فل کورٹ بنے، ہم یہ نہیں کررہے کہ فلاں چیز چاہیے کہ یا نہیں ہم بولیں گے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر نظرثانی کی درخواست سماعت کے لئے رکھتے ہیں تو آپ کامیاب ہوجاتے ہیں،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کیا یہ فورم شاپنگ ہے؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیس آئینی ترمیم کا ہوسکتا ہےہم اس لئے اٹھ کر گئے کہ سوچیں ، ہم نے پیچیدہ آئینی معاملات کو دیکھنا ہے، یہ سنجیدہ معاملہ ہے، یہ معاملہ عدلیہ کی آزادی کا بھی ہے،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اعظم نذیر تارڑ صاحب آپ جو بات کررہے ہیں وہ آپ کی استدعا ہی نہیں ہے، اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بڑے صوبے کے وزیر اعلی چاہے کوئی بھی ہو اس کو گھر بھیجنا نہیں چاہیئے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایک وزیراعظم کو گھر بھیجا ہے ، وہ پانچ رکنی بینچ تھا، آپ نے تو اس معاملے پر مٹھائیاں پانٹی تھیں،آج تک جن معاملات پر فل کورٹ بنا ہے وہ انتہائی سنجیدہ معاملہ تھا ،اعظم نذیر تارڑ صاحب آپ نے غلط بات کی، اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میں معذرت چاہتا ہو ں سر، عرفان قادر نے کہا کہ پہلے آپ نے کہا کہ میرٹس پر بات کرینگے، چلیں اب میں دلائل دیتا ہوں، عدالت نے کہا کہ آپ کا شکریہ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وزیر قانون سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا هر لفظ ریکارڈ کیا جارہا ہے آپ کو احتیاط سے کام لینا چاہے۔ عدالت کو متنازعہ نہ بنائیں، ہم ضمیر اور آئین کے مطابق فیصلہ کریں گے، ہمیں ڈکٹیشن مت دیں، روسٹرم چھوڑ دیں اور بیٹھ جائیے، اگر اپ دلائل نہیں دینا چاہتے تو ہم لکھ دیتے ہیں،بطور حکومتی وزیر آپ کی بات مناسب نہیں ،عرفان قادر نے کہا کہ اگر آپ لارجر بینچ پر دلائل سننا چاہتے ہیں تو میں حاضر ہوں،ہم فل کورٹ اس لئے کہہ رہے ہیں کہ جو قانونی سوالات ہیں ان کا جواب آنا چاہیئے،عفل کورٹ کے لئے درخواست گزار کی جانب سے کوئی بات نہیں کی گئی، جسٹس قاضی فائز عیسی والا کیس 14 رکنی بینچ نے سنا تھا،ہر بار وہ ہی جج صاحبان اسی بینچ میں آتے ہیں تو پھر میں کیا کہوں ؟میرے بولنے پر آپ کو کچھ ناراضگی ہوئی ہےجو نہیں ہونی چاہیئے تھی ،عدالت نے ساڑھے گیارہ بجے لاہور میں مختصر حکم نامہ دیا اور میرے موکل نے ساڑھے بارہ بجے رابطہ کیا،لیکن بنچ نے لکھا کہ میں تیار نہیں تھا میں تیار ہو ہی نہیں سکتا تھا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج ہم نے یہ سماعت اس لئے رکھی ہے کہ آپ تیاری کرسکیں، فل کورٹ کی استدعا کی گئی،ہم نے سوچا ہے کہ فل کورٹ اس وقت بنایا جاتا ہے جب معاملات پیچیدہ ہوں ،منصور اعوان نے ہمارے سامنے کچھ عدالتی نظیریں رکھی جس پر ہمیں لگا کہ فل کورٹ انتہائی سنجیدہ معاملات پر تشکیل دیا جاتا ہے،عرفان قادر نے کہا کہ کیا یہ پیچیدہ معاملہ نہیں ؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نہیں یہی پیچیدہ معاملہ نہیں ہے ، ہمارا س معاملے پر فیصلہ آچکا ہے، اگر اپ تیار ہیں تو آپ کو سنتے ہیں نہیں تو منصور اعوان صاحب کو سن لیتے ہیں ،یہ اتنا بڑا معاملہ نہیں جس کو بڑھایا جائے اسکو چھوٹا کیا جاسکتا ہے، ہم نے وفاقی حکومت کے کیس میں ازخود نوٹس لیا،اس میں ہماری نظر میں ڈپٹی اسپیکر نے آئین کی خلاف ورزی کی، عرفان قادر نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ عدالت کا وقت بچائوں،مخالف فریق کے وکیل نے جو فیصلوں کے نظائر دیئے ہیں اس ک جائزہ لینا چاہتے ہیںاگر نظرثانی کی درخواست میں منحرف ارکان کے ووٹ گنے جاسکتے ہیں تو پھر scnarioتبدیل ہوسکتا ہے ،عدالت نے کہا کہ ہم آپ کی یہ بات لکھ لیتے ہیں،عرفان قادر نے کہا کہ ہر معاملے پر ایک ہی بینچ بننے کے بارے میں سوشل میڈیا پر بات ہورہی ہے اگر یہ بینچ کیس سنتا ہے تو تمام فریقین کو۔عزت ملنی چاہیئے،بنچ کی غیرجانبدار ہونے پر بھی کوئی ابہام نہیں لیکن اگر ابہام ہو تو اس کو فل کورٹ بناکر ختم کیا جاسکتا ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں دن اور شام کو سماعت کرکے چار دن میں فیضلہ سنایا، عدالت نے اس کیس میں کوئی از خود نوٹس نہیں لیا،ایک ایسی پارٹی جو اپنے امیدوار کو ڈاکو کہتی تھی وہ اب اس کے ساتھ ہے فل کورٹ معاملے پر عدالت فیصلہ دے نظرثانی دائر کروں گا،جلد بازی میں مقدمہ کا فیصلہ نہیں ہونا چاہے، نظرثانی دائر کرنا آئینی حق ہے جو استعمال کرینگے،عدالت کے گزشتہ حکم نامہ میں تضاد ہے، چوہدری شجاعت ملک کے بہترین سیاستدان ہیں وہ اپنا موقف عدالت کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں اس میں خدارا جلدی نہ کریں، آپ یہ سمجھتے ہیں کہ سیاستدان ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے نہیں ہوسکتے ،آپ بھی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوں تو بہتر ہوگا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیڈرل گورنمنٹ کے معاملے پر ہم نے سوموٹو لیا اس کیس میں ہم نے سوموٹو نہیں لیا،عرفان قادر نے کہا کہ یہ بات کہ ایک سیاسی پارٹی کو جلدی ریلیف ملے گا ، ان کے سربراہ نے جھوٹ بولا، ان کے صدر نے آئین کی خلاف ورزی کی،عرفان قادر نے دلائل مکمل کرلئے ،،واپس سیٹ پر بیٹھ گئے

    پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق نائیک کے دلائل شروع ہو گئے ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ معاملہ چند دنوں میں حل ہوسکتا ہے۔ہمیں کیس کی تیاری کے لیے کچھ وقت درکار ہے میں چاہتا ہون کچھ وقت دیا جائے تاکہ معاملہ کچھ ٹھنڈا ہو ،میں رات ہی کراچی سے ایا ہوں تیاری کے لئے وقت دیں ،اس کیس کو روٹین کے مطابق رکھ لیں،اپ جمعرات کو صبح سے شام تک اس معاملے کو سن لیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عرفان قادر اور منصور عثمان نے دلائل میں کہا کہ پارٹی ہیڈ کا کردار سپرنٹنڈنٹ کا ہوتاہے،آپ 63 والے کیس میں پیش ہوئے، میرا خیال ہے کہ اس کا فیصلہ پڑھ لیا تھا۔ہمیں آپ کی گائیڈنس کی ضرورت ہے فاروق نائیک اپ پارلیمینٹری کمیٹی کے سربراہ، وزیر قانون رہے ہیں، ہمارے پاس 54 ہزار کیس التوا کا شکار تھے، اب وہ کم ہوکر 47 ہزار پر پہنچے ہیں،ہمارے ججز محنت کررہے ہیں، چھٹیوں میں بھی کام کررہے ہیں سوشل میڈیا پر حقائق دیکھے بغیر تنقید کی جاتی ہے لیکن ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہے، ہم آپ لوگوں کو سنیں گے، حکومتوں کو آئین کے مطابق بننا چاہیئے لیکن سوال ہے کہ ووٹ کیسے گنے جائیں ،وکیل عرفان قادر نے کہا کہ ایسے لگتا ہے کہ عدالت دباو میں ہے، یہ نا سمجھیے گا کہ میں سپریم کورٹ کی بے توقیری کر رہا ہوں،میرے لیے بھی یہ عدالت اتنی ہی محترم ہے جتنی آپ کیلئے،ہم نے آنا ہے اور چلے جانا ہے لیکن ادارے برقرار رہیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اس عدالت میں فاروق نائیک صاحب آپ کے کولیگز نے پارٹی میں آمرانہ سوچ کی بات کی تھی،آپ اٹھارویں ترمیم کرنے والوں میں شامل تھے آپ نے اختیارات پارلیمانی پارٹی کو دیئے،ہم نے پارلیمان اورجمہوریت کو مضبوط کرنا ہے،

    پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق نائیک نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمان کے مسائل پارلیمان میں حل ہونے چاہئیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ لیکن اگر آئین کی خلاف ورزی ہوگی تو معاملہ عدالت میں آئیگا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آپ کے پاس سینیٹ الیکشن کی درخواست زیر التوا ہے،ہاوس کی اندرونی کارروائی کا معاملہ ہے، اس پر آپ کو فیصلوں کی مثال دونگا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین کی تشریح کا گولڈن اصول یہ ہے کہ جو معاملہ عدالت میں ہے اس کی تشریح کی جائے، سوال یہ ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے ہمارے فیصلے کو صحیح استعمال کیا یا غلط؟ اگر غلط استعمال کیا تو ہم اس کو درست کرینگے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں پارلیمانی پارٹی کی کوئی ہدایات نہیں، ہم نے دیکھنا ہے کی پارلیمانی پارٹی کے اختیار پر پارٹی سربراہ نے تجاوز کیا،اس کیس میں پارلیمانی پارٹی کو کوئی ہدایات نہیں،فاروق نائیک نے کہا کہ میری فریق بننے کی درخواست کونمبر نہیں لگا، عدالت نے کہا کہ آپ کو کہہ دیا ہے کہ آپ کوسنیں گے، ،بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ میں نے فریق بننے کی درخواست دی ہے میں اس کیس میں نئی دستاویز فائل کرونگا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ جو ہمارے فیصلے پر انحصار کرتی یے اس کو دیکھنا ہے،وکیل چودھری شجاعت نے کہا کہ عدالت عظمی کے کئی فیصلے موجود ہیں جن میں پارٹی سربراہ کو ہدایت کا اختیار ہے،ایم پی ایز اور ڈپٹی اسپیکر کو بھیجے خطوط کا ریکارڈ جمع کرائوں گا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک پارلیمانی پارٹی میں تمام ارکان کی اہمیت ہوتی ہے ،صلاح الدین نے کہا کہ اگر ایک پارٹی کے سترہ ممبر ایک سینیٹر کو منتخب کرتے ہیں اور وہ اکیلا سینیٹر ہوتا ہے تو کیا وہ اپنی مرضی چلائے گا؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم اس کیس کو مکمل کرنا چاہتے ہیں ،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی میں پارٹی سربراہ کی آمریت نہیں ہونی چاہئے،پارلیمانی پارٹی کی مشاورت سے فیصلے ہوتے ہیں، بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ کئی جماعتیں کہتی ہیں کاغذوں میں نام کسی کا بھی ہو ہمارا قائد فلاں ہے،اصل فیصلہ پارٹی سربراہ کا ہی ہوتا ہے قائد کوئی بھی ہو،ووٹ کا فیصلہ پارٹی سربراہ کا ہوتا ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ججز کے درمیان بھی فیصلوں میں الگ رائے ہوتی ہے،چیف جسٹس ماسٹر آف روسٹر ہوتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ایک پہلو جو اہم ہے وہ پولرائز سیاسی ماحول بن جانا ہے،ایسے ایشوز کو حل ہونا چاہیئے تا کہ حکومتیں اپنا کام کرتی رہیں، اگر اپوزیشن بائیکاٹ کرتی ہے تو ہم امید کرتے ہیں کہ نظام چلنا چاہیئے، جمہوریت میں اپوزیشن کا اہم کردار ہوتا ہے ملک کی معاشی صورتحال پر ہر شہری پریشان ہے۔ملکی کرنسی ہر روز گررہی ہےکیا وہ ہماری مداخلت کی وجہ سے ہے؟ کیا یہ سب کچھ سیاسی استحکام نہ ہونے کی وجہ سے نہیں ہے ؟

    بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ فل کورٹ کی بصیرت سے فائدہ اٹھانا چاہئے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ 8 ججز کے فیصلے کا حوالہ دے رہے تو 9 ججز بھی سماعت کرسکتے ہیں، آپ اکیسویں ترمیم کیس کا حوالہ دے رہے ہیں، یہ دیکھیں اکیسویں ترمیم میں فیصلہ کس تناسب سے آیا تھا؟بینچ کے رکن جتنے بھی ہوں فیصلے کا تناسب بدلتا رہتا ہے،بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ مجھے سو فیصد آپ سمیت سب ججوں پر اعتماد ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ خود سے پوچھیں کہ آئین کے مطابق کون ہدایات دے سکتا ہے، دو ججز کے علاوہ تمام ججز یہاں موجود ہیں، ہم ایسا ماحول بنانا چاہتے ہیں جو سائل کے فائدے کا ہو،ہم نہیں چاہتے کہ ملک میں اختلافات کی فضا برقرار رہے، فل کورٹ ستمبر میں ہی بن سکے گا کیا اس وقت تک سب کام روک کے رکھیں؟ ہر شہری کی طرح معیشت کی صورتحال سے ہم بھی پریشان ہیں، کیا معیشت کا یہ حال عدالت کی وجہ سے ہے یا عدم استحکام کی وجہ سے؟آج زیادہ ووٹ لینے والا باہر اور 179 لینے والا وزیراعلی ہے،حمزہ شہباز کو وزیراعلی برقرار رکھنے کیلئے ٹھوس بنیاد درکار ہےریاست کے کام چلتے رہنے چاہیں،عدالت کے فیصلے پر انتخابات ہوئے اور پر امن طریقے سے ہوئے، ہمیں یہ ڈھونڈ کر دے دیں کہ کہاں لکھا ہے کہ پارٹی ہیڈ غیر منتخب بھی ہو تو اس کی بات ماننا ہوتی ہے،

    وکیل چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ عدالت مختلف مقدمات میں پارٹی ہیڈ کے بارے میں فیصلے دے چکی ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جن مقدمات کی آپ بات کررہے ہیں ان میں مدعا کچھ اور تھا، آپ کے دلائل بظاہر غیر جمہوری ہیں آپ اپنے اراکین کو ڈمی سمجھتے ہیں؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے یکم جولائی کو فیصلہ دیتے ہوے بھی موجود وزیراعلی کو کام سے نہیں روکا تھا،الیکشن کے نتائج کا احترام ہونا چاہیے، آپ کہہ رہے ہیں پارٹی ہیڈ کا کنٹرول ہوتا ہے ،وکیل چودھری شجاعت نے کہا کہ ہم کیس کو بالکل طویل نہیں کرنا چاہتے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے علاوہ صرف دو ججز ہی یہاں دستیاب ہیں کوشش کر رہے ہیں جہاں عدالت انے والوں کو سہولیات دیں ، بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ امریکہ میں ججز سیاسی جماعتیں اور حکومت تعینات کرتی ہیں، شکر ہے پاکستان میں ایسا نظام نہیں ہے، فاضل بنچ رات کے 7 بجے بھی موجود ہے تو باقی ججز بھی خوشی سے اپنی ذمہ داری نبھائیں گے،چیف جسٹس نے کہا کہ ججز دستیاب نہیں ہیں، وکیل چوہدری شجاعت نے کہا کہ جو ججز دستیاب ہیں وہ بھی بیٹھ کر فیصلہ کر سکتے ہیں،عدالت نے کہا کہ ہم تین ججز کے علاوہ صرف دو مزید ججز شہر میں ہیں، وکیل صلاح الدین نے کہا کہ وڈیو لنک کے ذریعے بھی ججز شریک ہو سکتے ہیں، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ وڈیو لنک شکایت کنندگان کی سہولت کے لیے ہے، وزیراعلٰی کے انتخاب کا جو نتیجہ آیا اس کا احترام کرنا چاہیے،

    سماعت میں پندرہ منٹ کا وقفہ کر دیا گیا

  • حکومتی اتحاد کی پریس کانفرنس، فل بنیچ بنانے کا مطالبہ،مولانا، بلاول بھی مریم کے ہم آواز

    حکومتی اتحاد کی پریس کانفرنس، فل بنیچ بنانے کا مطالبہ،مولانا، بلاول بھی مریم کے ہم آواز

    مریم نواز کی حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومتی اتحاد نے موجودہ سیاسی صورتحال پر پریس کانفرنس کی ہے

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں آج جب پریس کانفرنس کیلئے آرہی تھی تو مجھے بہت لوگوں نے روکا کہ میں یہ پریس کانفرنس نہ کروں، لیکن مجھے بہت سے حقائق آج قوم کے سامنے رکھنے ہیں،خالد مقبول صدیقی کی فلائٹ منسوخ ہوچکی ہے ،نہیں پہنچ پائے جماعت کی طرف سے پریس کانفرنس کی ذمہ داری تھی، اتحادی جماعتوں کی آمد پر شکریہ ادا کرتی ہوں،چرچل نے سوال کیاتھا کہ کیا عدالتیں انصاف دیں گی عوامی نمائندوں کو خود سے بڑھ کر سوچنا پڑتاہے، گزشتہ چند سال سے آج تک کےحقائق سامنے رکھنا چاہتی ہوں،فیصلوں کے اثرات آنے والے وقتوں پر بھی ہوتے ہیں ،اداروں کی توہین اداروں کے اندر سے ہوتی ہے عدلیہ کی توہین متنازعہ فیصلے کرتے ہیں، عوام نہیں،

    ن لیگی رہنما مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ ایک غلط فیصلہ سارے مقدمے کواڑا کررکھ دیتا ہے،ناانصافیوں کی فہرست بہت طویل ہے فیصلہ ٹھیک کیا جائے توتنقید کوئی معنی نہیں رکھتی، جب سے حمزہ شہباز وزیرِ اعلیٰ بنا ہے اسے کام نہیں کرنے دیا گیا۔ حمزہ کا الیکشن ہوا، جیت گئے، پی ٹی آئی سپریم کورٹ درخواست لے گئی،قوم نے دیکھا چھٹی کے دن رات کو سپریم کورٹ رجسٹری کھلی رجسٹرار خود گھر سے آیا اور کہا کہاں ہے پٹیشن،پی ٹی آئی نے رجسٹرار سے کہا ابھی پٹیشن تیار نہیں ہوئی ،جب پٹیشن آتی ہے، پہلے سے علم ہوتا ہے کہ بینچ کونسا ہوتا ہے،جب بنچ بنتا ہے تو لوگوں کو پتہ ہوتا ہے فیصلہ کیا ہو گا، یوسف رضا گیلانی کی سینیٹ الیکشن میں6 ووٹ مسترد قرار دیئے گئے،چودھری شجاعت کے کہنے پر بھی انہیں کورٹ بلا لیا گیا، یہ بھی ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ تھی،سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کو کیوں نہیں بلایا گیا؟ ٹرسٹی وزیراعلیٰ ،یہ کیاہے ،بلیک لاڈکشنری اور منفرد آئیڈیاز کہاں سے لے آتے ہیں ؟کبھی سنا ہے آپ نے کہ کوئی ٹرسٹی وزیراعلیٰ ہو ؟25 ارکان کو پارٹی ہیڈ کے خلاف ہونے پر ڈی سیٹ کیا گیا،ہمارے خلاف ہر مقدمے میں ایک ہی جج کو مونیٹرنگ جج لگایا گیا ہے واٹس آپ کال پر نوازشریف کے مقدمات کو لڑا گیا، کل کا مانیٹرنگ جج آج بھی تاحیات مانیٹرنگ جج ہے پارٹی ہیڈ اگر نوازشریف ہیں، پانامہ فیصلہ توردی کی ٹوکری میں جائے گا،پانامہ پر نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹا دیا گیا پارٹی ہیڈ سے سب کچھ چلتا ہے، ان سے صدارت لے لی گئی ، چودھری شجاعت کوبلایا جاتا ہے اور عمران خان پر آئین کی تشریح ہی بدل جاتی ہے

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ موازنہ نواز شریف حکومت اور عمران خان کی معیشت کا ہوگا کابینہ میں بند لفافہ لہرایا جاتا ہے ، ملک ریاض کے پیسے پر کسی نے نوٹس لیا؟ 2017 کے بعد ایسا ملک ہلا اب سنبھلنے کو نہیں آرہا کونسا جرم ہے جو عمران خان نے نہیں کیا،سول نافرمانی، بل جلاؤ، سپریم کورٹ پر کپڑے ٹانگو، شاہراہ دستور پر قبریں، کیا کیا نہیں کیا گیا ؟سپریم کورٹ نے عمران خان کو ریڈ زون میں آنے کی اجازت دی لیکن عمران خان نے ریڈ زون میں ہنگامہ کر کے توہین عدالت کر دی لیکن سپریم کورٹ خاموش رہی اور کہا شاید خان صاحب کے پاس ہمارے احکامات نہیں پہنچے ،جس نے تاریخ کے سب سے بڑے جھوٹ بولے اسے صادق و امین کا لقب دے دیا گیا،آپ نے ایک جھوٹے شخص کو صادق اور امین ڈکلیئرڈ کیا ،وہ صادق و امین کا لقب دینے والا آج کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ہے،تاریخ کے جھوٹے شخص نے تین سو کنال کے محل کو ریگولائز کرایا،جعلی دستاویزات جمع کرائے،عمران خان ابھی بھی سپورٹ کے بغیر نہیں، ان کے حمایتی بیٹھے ہوئے ہیں جو سب کر رہے ہیں۔ شیری مزاری کے لیے راتوں رات عدالت کھل جاتی ہیں اور مریم نواز کے لیے جج چھٹی پر چلا جاتا تھا ،کیا سارے سوموٹوصرف ن لیگ اوراتحادیوں کیلئے ہیں؟ میں x y z نہیں کہتی میں نام لیتی ہوں ترازو ٹھیک ہوگا تو پاکستان اپنے آپ ٹھیک ہوجائیگا

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ طیبہ کیس میں ویڈیو پر نیب کو بلیک میل کرتا رہا، کسی نے سو موٹو نہ لیا سرینہ عیسٰی، آصف زرداری کی بہن کو تو انصاف ہی نہیں ملا، مریم نواز ڈیتھ سیل میں رہ سکتی ہے علیمہ خان کو جرمانہ کرکے گھر بھیج دیا جاتا ہے یہ ڈبل اسٹینڈرڈ نہیں چلے گا،یہ ایمپائرز سے مل کر کھیلتا ہے جب سے وہ ہٹے یہ دھڑام سے گرا،ابھی بھی یہ سپورٹ کے بغیر نہیں ہے، تفصیل میں گئی تونئے محاذ کھل جائیں گے، عمران خان کو کورٹ جان کو خطرے پر نہیں بلایا جاتا مجھے پاسپورٹ مانگنے پر دن میں بینچ بنتے اور ٹوٹتے ہیں،سیاہ سفید کرنے والا شہزاد اکبر بھاگ گیا، فرح گوگی بھاگ گئی،شہزاد اکبراور فرح گوگی کے نام ای سی ایل میں نہیں ڈالے گئے،قاضی فائزعیسٰی کیس پر کہا گیا، ایگزیکٹو ڈومین ہے، کورٹ مداخلت نہیں کر سکتی،عمران خان کے خلاف ایف آئی اے اور نیب کی انکوائری روک دی گئی، کیوں؟ میں سلام کا جواب دوں عدالت لائن حاضر کر لیتی ہے عمران نیازی اپنی ضمانت کا کیس کرتا پھر کہتا ہے جان کو خطرہ ہے اور عدالت مان لیتی اور میرے پاسپورٹ کی درخواست پر روز بینچ ٹوٹ جاتے یہ ڈبل سٹینڈرڈ ہیں۔

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    پی ڈی ایم کے سربراہ اور جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کی گفتگو کو سپورٹ کرتے ہیں، احتساب سب کے لیے ضروری ہے ہمیں اجنبی ہونے کا احساس کیوں دلایا جا رہا ہے ؟وزیراعلیٰ پنجاب کیس میں ہم فل کورٹ بینچ کا مطالبہ کرتے ہیں جو حوالے دیئے گئے،اچھا مواد ہے، اسی کی بنیاد پر ہم نے آگے بڑھنا ہے،اگر آپ مجھ سے توقع رکھتے ہیں کہ میں کوئی مشکل پیدا نہ کروں تو میں بھی آپ سے یہی توقع رکھتا ہوں،ایسے حالات نہ پیدا کئے جائیں کہ عوام بغاوت پر اتر آئیں،حکومت کو چلنے تو دیا جائے پھرہی استحکام اور اکانومی بہتر ہو گی لیکن اس کے لیے حکومت کو کام کرنے دیں مشکلات پیدا نہ کریں ہم نے اپنے ملک کے مستقبل کو روشن بنانا ہے،

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کیس میں ہم فل کورٹ بینچ کا مطالبہ کرتے ہیں،یہ نہیں ہوسکتا کہ 3 افراد ملک کی تقدیر کا فیصلہ کریں، ہمیں آئین کو بحال کرنے کے لیے 30سال جدوجہد کرنا پڑتی ہے اتحادی جماعتیں جمہوری نظام چا ہتی ہیں ،نظرآرہا ہے کہ کچھ افراد کو جمہوری نظام ہضم نہیں ہورہا ہے، ون یونٹ نظام آپ سے برداشت نہیں ہورہا، آپ سے برداشت نہیں ہورہا کہ آپ کے سلیکٹڈ نے تاریخی قرض لیا،ہمارا 70 سال کا قرض ایک طرف اور عمران کا 4 سال کا قرض ایک طرف ،ہم نے چار سال ظلم کہ باوجود، جہاں مریم نواز اور فریال تالپور کو جیل میں ڈالا گیا، زرداری کو دوائیاں نہیں مل رہی تھیں، تو ہماری بات نہیں سنی جاتی تھی۔ آج جب اسٹبلشمنٹ نیوٹرل ہوئی تو کچھ سازشی لوگوں سے یہ برداشت نہیں ہو رہا۔ ہم نے نہ تو تشدد کا راستہ اپنایا نہ ہی غیر مناسب زبان استعمال کی ہم چاہتے ہیں ہمارے ادارے غیر متنازعہ رہیں،تمام سیاسی جماعتیں فل بینچ کا مطالبہ کرتی ہیں، فل بینچ کا جو بھی فیصلہ ہوگا ہمیں قبول ہوگا،عمران خان کے دباؤ میں آکے آئین کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا،

    خالد مگسی کا کہنا تھا کہ فل بینچ کا مطالبہ سب جماعتوں کا ہے،یہ کوئی انا کا مسئلہ نہیں،اے این پی کے ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ آئین کو بہت کمزور کرنے کی کوشش کی گئی،آئین کی ایسی تشریح میں نے پہلے نہیں دیکھی، ق لیگی رہنما طارق بشیرچیمہ کا کہنا تھا کہ امید ہے سپریم کورٹ فل بینچ کے ہمارے مطالبے کومانے گی

  • سپریم کورٹ کے باہر سیکورٹی سخت،پیپلز پارٹی،جے یو آئی کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کے باہر سیکورٹی سخت،پیپلز پارٹی،جے یو آئی کی درخواست دائر

    ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف پرویزالہٰی کی درخواست پر سماعت آج ہوگی

    سپریم کورٹ میں سماعت ڈیڑھ بجے ہو گی، سپریم کورٹ ،ریڈ زون کی سیکورٹی سخت کی گئی ہے، پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے، سماعت کے باعث سپریم کورٹ آنے والے راستوں کو بند کردیا گیا سیرینا چوک اور مارگلہ روڈ سے گاڑیوں کا ریڈزون میں داخلہ ہوگا ریڈزون میں میڈیا اور سرکاری ملازمین کو ہی داخلے کی اجازت ہوگی

    پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر سپریم کورٹ پہنچے لسٹ میں نام نہ ہونے کے باعث پولیس نے داخلے کی اجازت نہ دی
    فرحت اللہ بابر واپس روانہ ہوگئے،پولیس کا کہنا ہے کہ ہمیں صرف کیس سے متعلقہ افراد کو داخلے کا حکم دیا گیا صرف کیس سے متعلقہ وکلاء اور فریقین کو سپریم کورٹ میں داخلے کی اجازت ہوگی ،وکلا کی جانب سے سپریم کورٹ میں زبردستی داخلے کی کوشش کی گئی جس پر پولیس نے گیٹ لاک کردیا، آغا حسن کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں داخلے پر پابندی کی مذمت کرتے ہیں،قانون پارلیمان کا کام ہے، عدلیہ کا کام غیرجانبداری سے انصاف ہے،

    سپریم کورٹ کے داخلی راستوں کو بند کر دیا گیا، موبائیل جیمزز فعال کر دیا گیا سیاسی قائدین کے سپریم کورٹ میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی، مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے پریس کانفرنس میں سوال اٹھایا کہ سپریم کورٹ نے عدالت میں ہمارے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے پرسوں لاہور میں تو عدالت کے شیشے ٹوٹ گئے تھے وہاں پابندی کیوں نہیں لگائی؟

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں داخلے پر پابندی لگا نے کی مذمت کرتے ہیں، سپریم کورٹ میں میڈیا پر بھی پابندی لگادی گئی

    سینیٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں جگہ محدود ہے صورتحال کنٹرول کرنامشکل تھا،سپریم کورٹ کے باہر بھی کارروائی سننے کا شاید انتظام کیا گیا ہے، جائز تنقید پر قدغن نہیں ، عدلیہ پر تنقید قابل مذمت ہے جو کہنا ہے عدالت کے سامنے کہیں،سپریم کورٹ میں دونوں طرف سے چند لوگوں کے داخلے کا فیصلہ کیا گیا، جب کوئی فل کورٹ کا مطالبہ کرتا ہے تو مجھے شک ہوتا ہے کہ ان کے پاس دفاع کے کوئی دلائل نہیں،

    آج شاہ محمود قریشی،اسد عمر،فواد چودھری،شیریں مزاری اور عمر ایوب سپریم کورٹ جائیں گے پی ٹی آئی کے بابر اعوان ،پرویز خٹک اور عامر کیانی بھی سپریم کورٹ جائیں گے بلاول بھٹو،مولانا فضل الرحمان ،اسعد محمود،خالد مقبول صدیقی اور امیر حیدر ہوتی بھی سپریم کورٹ آئیں گے اختر مینگل،اسلم بھوتانی ،شاہد خاقان عباسی ،خرم دستگیر اور رانا ثنا اللہ کی بھی سپریم کورٹ آمد متوقع ہے اعظم نذیر تارڑ،احسن اقبال،سعد رفیق ، امیر مقام ، ایاز صادق،عطا تارڑ،ملک احمد بھی عدالت جا ئیں گے سربراہ ق لیگ چودھری شجاعت،سالک حسین اور طارق بشیر چیمہ کی بھی عدالت آمد متوقع ہے

    حمزہ شہباز نے فل کورٹ بنانے کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی اور آرٹیکل 63 اے کی نظرثانی کی درخواستیں بھی ساتھ سماعت کیلئے مقرر کرنے کی استدعا کر دی،الیکشن کمیشن کے خلاف منحرف ارکان کی اپیلیں بھی رولنگ کیس کیساتھ سننے کی استدعا کر دی،درخواست میں کہا گیاکہ منحرف ارکان کے الیکشن کمیشن فیصلے کے خلاف اپیلیں زیر التوا ہیں ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی 22 جولائی کو دی گئی رولنگ درست ہے الیکشن کمیشن نے منحرف ارکان کیخلاف عمران خان کی ہدایات کو تسلیم کیا،سپریم کورٹ میں منحرف ارکان کی اپیلیں منظور ہوگئیں تو صورتحال یکسر تبدیل ہوجائے گی،اپیلیں منظور کی گئیں تو 25 منحرف ارکان کے نکالے گئے ووٹ بھی گنتی میں شمار ہونگے

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف پرویزالہٰی کی درخواست پر سماعت کے حوالہ سے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا،وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں عدالت سے استدعا کی کہ درخواست خارج کی جائے،

    پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا معاملہ پاکستان پیپلز پارٹی نے پرویز الہی کی درخواست میں فریق بننے کی درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروا دی پیپلز پارٹی کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ارکان موجود ہیں۔ اس ساری صورتحال میں پیپلز پارٹی کا موقف سنا جائے۔

    سپریم کورٹ میں جے یو آئی نے بھی فریق بننے کی درخواست دائر کردی اور عدالت سے استدعا کی کہ اہم نوعیت کا معاملہ ہے، موقف سنا جائے ،ایڈووکیٹ سینیٹرکامران مرتضٰی کے ذریعے درخواست دائر کی گئی

    مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت نے بھی وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق کیس میں فریق بننے کے لیے درخواست دائر کردی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ ڈپٹی سپیکر کو خط 22 جولائی کو لکھا گیا اور ڈپٹی سپیکر نے خط کی بنیاد پر پرویز الٰہی کو ڈالے گئے ووٹ گنتی سے نکال دیئے ایم پی ایز کی جانب سے پرویز الٰہی کو ڈالے گئے ووٹ آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی تھےمیں اس کیس کا متعلقہ فریق ہوں لہٰذا مجھے کیس میں پارٹی بنایا جائے

    حکومتی اتحاد فل بینچ بنانے کا مطالبہ کر رہا ہے، اس ضمن میں ن لیگی رہنماؤں سمیت مولانا فضل الرھمان نے بھی پریس کانفرنس کی اور مطالبہ کیا کہ فل بینچ بنایا جائے،

    دوسری جانب پی ٹی آئی اور ق لیگ نے پنجاب کابینہ کی تشکیل پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،وکیل پرویز الہیٰ کا کہنا ہے کہ آج سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کررہے ہیںعدالت نے مختصر کابینہ بنانے کا حکم دیا تھا،عدالت نے حکم دیا کہ کوئی سیاسی فائدہ نہیں دیا جائے گا، عدالت نے حمزہ شہبازکو ٹرسٹی وزیراعلیٰ بنایا لیکن انہوں نے تجاوز کیا،

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے الیکشن ہوئے، پی ٹی آئی کے امیدوار نے 186 ووٹ حاصل کئے تا ہم ڈپٹی سپیکر نے چودھری شجاعت کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے دس ووٹ مسترد کر دیئے ، جسکے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے، پی ٹی آئی نے ایوان میں احتجاج کے بعد کئی شہروں میں احتجاج کیا اور رات کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، پی ٹی آئی کی درخواست عدالت نے قابل سماعت قرار دے دی ہے

  • وزیر اعلی پنجاب کا انتخاب: فل کورٹ تشکیل دی جائے:پاکستان بارکونسل کا مطالبہ

    وزیر اعلی پنجاب کا انتخاب: فل کورٹ تشکیل دی جائے:پاکستان بارکونسل کا مطالبہ

    وزیر اعلی پنجاب کے انتخاب کیخلاف کیس میں پاکستان بار کونسل نے بھی فل کورٹ تشکیل دینے کا مطالبہ کر دیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان بار کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب کے انتخاب اور سپریم کورٹ بار کی نظرثانی درخواست پر فل کورٹ تشکیل دی جائے،یہی وقت ہے کہ سپریم کورٹ آرٹیکل 63 اے کی درست تشریح کر کے معاملہ ہمیشہ کیلئے ختم کرے،

     

    پاکستان بار کونسل کی طرف سے کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کو عوامی اور سیاسی اعتماد کو بحال کرنا چاہیے۔ سپریم کورٹ کو عوامی اور سیاسی اعتماد کو بحال کرنا چاہیے۔پاکستان بار کونسل نے مزید کہا کہ آرٹیکل 63 اے سے متعلق 17 مئی کا مختصر فیصلہ متفقہ نہیں تھا،آرٹیکل 63 اے سے متعلق کیس کا 3 اور 2 کی نسبت سے فیصلہ مزید وضاحت طلب ہے،سیاسی جماعتوں کو عدلیہ پر تنقید سے گزیز کرنا چاہیے۔

    ادھر دوسری طرف سپریم کورٹ بار اور 5 سابق صدور نے چیف جسٹس پاکستان سے اہم آئینی معاملات پر نظرثانی کی درخواست کرتے ہوئے فل کورٹ بنچ کو بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    چوہدری پرویز الہیٰ کی دوست محمد مزاری سے ملاقات، کہا ن لیگ اللہ کی پکڑ میں ہے

    سپریم کورٹ بار کے 5 سابق صدور کی جانب سے چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ بار کی نظرثانی درخواست فل کورٹ میں بھجوائی جائے۔

    سابق صدور سپریم کورٹ بار نے مزید کہا ہے کہ اہم ترین آئینی مقدمات کا تمام فریقین کو سن کر ایک ساتھ فیصلہ کیا جائے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز حکمران اتحاد نے بھی ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا تھا جس میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن کے معاملے کے حوالے سے دائر درخواست کو فل کورٹ بنچ میں بھیجا جائے۔

    ڈپٹی اسپیکردوست مزاری کی نااہلی کا ریفرنس سپیکر پنجاب اسمبلی کو ارسال

    سپریم کورٹ بار کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے بعد آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا معاملہ دوبارہ زیر بحث ہے، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی نظر ثانی درخواست سماعت کیلئے مقرر کی جائے، وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق کیس اور نظر ثانی درخواست پر فل کورٹ تشکیل دی جائے۔

    ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست مزاری کیخلاف تحریک عدم اعتماد پرجلد کارروائی کا امکان