Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سوشل میڈیا پر حقائق دیکھے بغیر تنقید کی جاتی ہے لیکن ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہے،چیف جسٹس

    سوشل میڈیا پر حقائق دیکھے بغیر تنقید کی جاتی ہے لیکن ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہے،چیف جسٹس

    سوشل میڈیا پر حقائق دیکھے بغیر تنقید کی جاتی ہے لیکن ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہے،چیف جسٹس
    ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا معاملہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع کردی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے معاملے کا جائزہ لیا ، صلاح الدین اور فاروق نائیک کو بھی سنیں گے ،وکلا میرٹس پر دلائل دینا شروع کردیں ،عرفان قادر نے کہا کہ اس طرح تو نہیں ہوگا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ابھی ہم سب کو سنیں گے، اس کے بعد دیکھیں گے، ہمارے سامنے کچھ سوالات ہیں اس پر ہم آپ کو سننا چاہتے ہیں ،عرفان قادر نے کہا کہ میری ہدایات فل کورٹ کی تھیں کیا میں مزید بات کرسکتا ہوں یا نہیں اس پر ہدایات لینے کا وقت دیا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم 24گھنٹے یہاں بیٹھے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے عرفان قادر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی ہدایات لے لیں، عثمان اعوان نے کہا کہ میرٹس پر بات کرنی ہے تو ہمیں ہدایات لینا ہیں، اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ن لیگ اور وزیراعلی پنجاب نے فل کورٹ کی استدعا کی ہے،

    جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ہم نے سب کے دلائل سنے ہیں جو فل کورٹ کے حوالے سے ہیں،اس پر ہم مزید سنیں گے،آپ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے کہنے پر فل کورٹ بنا دیں یا پھرمیرٹس پر سننے کے بعد فیصلہ کرینگے کہ فل کورٹ بنے یا نہیں؟ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حمزہ شہباز کی جانب سے واضح ہدایات ہیں کہ فل کورٹ بنے، ہم یہ نہیں کررہے کہ فلاں چیز چاہیے کہ یا نہیں ہم بولیں گے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر نظرثانی کی درخواست سماعت کے لئے رکھتے ہیں تو آپ کامیاب ہوجاتے ہیں،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کیا یہ فورم شاپنگ ہے؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیس آئینی ترمیم کا ہوسکتا ہےہم اس لئے اٹھ کر گئے کہ سوچیں ، ہم نے پیچیدہ آئینی معاملات کو دیکھنا ہے، یہ سنجیدہ معاملہ ہے، یہ معاملہ عدلیہ کی آزادی کا بھی ہے،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اعظم نذیر تارڑ صاحب آپ جو بات کررہے ہیں وہ آپ کی استدعا ہی نہیں ہے، اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بڑے صوبے کے وزیر اعلی چاہے کوئی بھی ہو اس کو گھر بھیجنا نہیں چاہیئے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایک وزیراعظم کو گھر بھیجا ہے ، وہ پانچ رکنی بینچ تھا، آپ نے تو اس معاملے پر مٹھائیاں پانٹی تھیں،آج تک جن معاملات پر فل کورٹ بنا ہے وہ انتہائی سنجیدہ معاملہ تھا ،اعظم نذیر تارڑ صاحب آپ نے غلط بات کی، اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میں معذرت چاہتا ہو ں سر، عرفان قادر نے کہا کہ پہلے آپ نے کہا کہ میرٹس پر بات کرینگے، چلیں اب میں دلائل دیتا ہوں، عدالت نے کہا کہ آپ کا شکریہ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وزیر قانون سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا هر لفظ ریکارڈ کیا جارہا ہے آپ کو احتیاط سے کام لینا چاہے۔ عدالت کو متنازعہ نہ بنائیں، ہم ضمیر اور آئین کے مطابق فیصلہ کریں گے، ہمیں ڈکٹیشن مت دیں، روسٹرم چھوڑ دیں اور بیٹھ جائیے، اگر اپ دلائل نہیں دینا چاہتے تو ہم لکھ دیتے ہیں،بطور حکومتی وزیر آپ کی بات مناسب نہیں ،عرفان قادر نے کہا کہ اگر آپ لارجر بینچ پر دلائل سننا چاہتے ہیں تو میں حاضر ہوں،ہم فل کورٹ اس لئے کہہ رہے ہیں کہ جو قانونی سوالات ہیں ان کا جواب آنا چاہیئے،عفل کورٹ کے لئے درخواست گزار کی جانب سے کوئی بات نہیں کی گئی، جسٹس قاضی فائز عیسی والا کیس 14 رکنی بینچ نے سنا تھا،ہر بار وہ ہی جج صاحبان اسی بینچ میں آتے ہیں تو پھر میں کیا کہوں ؟میرے بولنے پر آپ کو کچھ ناراضگی ہوئی ہےجو نہیں ہونی چاہیئے تھی ،عدالت نے ساڑھے گیارہ بجے لاہور میں مختصر حکم نامہ دیا اور میرے موکل نے ساڑھے بارہ بجے رابطہ کیا،لیکن بنچ نے لکھا کہ میں تیار نہیں تھا میں تیار ہو ہی نہیں سکتا تھا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج ہم نے یہ سماعت اس لئے رکھی ہے کہ آپ تیاری کرسکیں، فل کورٹ کی استدعا کی گئی،ہم نے سوچا ہے کہ فل کورٹ اس وقت بنایا جاتا ہے جب معاملات پیچیدہ ہوں ،منصور اعوان نے ہمارے سامنے کچھ عدالتی نظیریں رکھی جس پر ہمیں لگا کہ فل کورٹ انتہائی سنجیدہ معاملات پر تشکیل دیا جاتا ہے،عرفان قادر نے کہا کہ کیا یہ پیچیدہ معاملہ نہیں ؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نہیں یہی پیچیدہ معاملہ نہیں ہے ، ہمارا س معاملے پر فیصلہ آچکا ہے، اگر اپ تیار ہیں تو آپ کو سنتے ہیں نہیں تو منصور اعوان صاحب کو سن لیتے ہیں ،یہ اتنا بڑا معاملہ نہیں جس کو بڑھایا جائے اسکو چھوٹا کیا جاسکتا ہے، ہم نے وفاقی حکومت کے کیس میں ازخود نوٹس لیا،اس میں ہماری نظر میں ڈپٹی اسپیکر نے آئین کی خلاف ورزی کی، عرفان قادر نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ عدالت کا وقت بچائوں،مخالف فریق کے وکیل نے جو فیصلوں کے نظائر دیئے ہیں اس ک جائزہ لینا چاہتے ہیںاگر نظرثانی کی درخواست میں منحرف ارکان کے ووٹ گنے جاسکتے ہیں تو پھر scnarioتبدیل ہوسکتا ہے ،عدالت نے کہا کہ ہم آپ کی یہ بات لکھ لیتے ہیں،عرفان قادر نے کہا کہ ہر معاملے پر ایک ہی بینچ بننے کے بارے میں سوشل میڈیا پر بات ہورہی ہے اگر یہ بینچ کیس سنتا ہے تو تمام فریقین کو۔عزت ملنی چاہیئے،بنچ کی غیرجانبدار ہونے پر بھی کوئی ابہام نہیں لیکن اگر ابہام ہو تو اس کو فل کورٹ بناکر ختم کیا جاسکتا ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں دن اور شام کو سماعت کرکے چار دن میں فیضلہ سنایا، عدالت نے اس کیس میں کوئی از خود نوٹس نہیں لیا،ایک ایسی پارٹی جو اپنے امیدوار کو ڈاکو کہتی تھی وہ اب اس کے ساتھ ہے فل کورٹ معاملے پر عدالت فیصلہ دے نظرثانی دائر کروں گا،جلد بازی میں مقدمہ کا فیصلہ نہیں ہونا چاہے، نظرثانی دائر کرنا آئینی حق ہے جو استعمال کرینگے،عدالت کے گزشتہ حکم نامہ میں تضاد ہے، چوہدری شجاعت ملک کے بہترین سیاستدان ہیں وہ اپنا موقف عدالت کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں اس میں خدارا جلدی نہ کریں، آپ یہ سمجھتے ہیں کہ سیاستدان ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے نہیں ہوسکتے ،آپ بھی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوں تو بہتر ہوگا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیڈرل گورنمنٹ کے معاملے پر ہم نے سوموٹو لیا اس کیس میں ہم نے سوموٹو نہیں لیا،عرفان قادر نے کہا کہ یہ بات کہ ایک سیاسی پارٹی کو جلدی ریلیف ملے گا ، ان کے سربراہ نے جھوٹ بولا، ان کے صدر نے آئین کی خلاف ورزی کی،عرفان قادر نے دلائل مکمل کرلئے ،،واپس سیٹ پر بیٹھ گئے

    پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق نائیک کے دلائل شروع ہو گئے ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ معاملہ چند دنوں میں حل ہوسکتا ہے۔ہمیں کیس کی تیاری کے لیے کچھ وقت درکار ہے میں چاہتا ہون کچھ وقت دیا جائے تاکہ معاملہ کچھ ٹھنڈا ہو ،میں رات ہی کراچی سے ایا ہوں تیاری کے لئے وقت دیں ،اس کیس کو روٹین کے مطابق رکھ لیں،اپ جمعرات کو صبح سے شام تک اس معاملے کو سن لیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عرفان قادر اور منصور عثمان نے دلائل میں کہا کہ پارٹی ہیڈ کا کردار سپرنٹنڈنٹ کا ہوتاہے،آپ 63 والے کیس میں پیش ہوئے، میرا خیال ہے کہ اس کا فیصلہ پڑھ لیا تھا۔ہمیں آپ کی گائیڈنس کی ضرورت ہے فاروق نائیک اپ پارلیمینٹری کمیٹی کے سربراہ، وزیر قانون رہے ہیں، ہمارے پاس 54 ہزار کیس التوا کا شکار تھے، اب وہ کم ہوکر 47 ہزار پر پہنچے ہیں،ہمارے ججز محنت کررہے ہیں، چھٹیوں میں بھی کام کررہے ہیں سوشل میڈیا پر حقائق دیکھے بغیر تنقید کی جاتی ہے لیکن ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہے، ہم آپ لوگوں کو سنیں گے، حکومتوں کو آئین کے مطابق بننا چاہیئے لیکن سوال ہے کہ ووٹ کیسے گنے جائیں ،وکیل عرفان قادر نے کہا کہ ایسے لگتا ہے کہ عدالت دباو میں ہے، یہ نا سمجھیے گا کہ میں سپریم کورٹ کی بے توقیری کر رہا ہوں،میرے لیے بھی یہ عدالت اتنی ہی محترم ہے جتنی آپ کیلئے،ہم نے آنا ہے اور چلے جانا ہے لیکن ادارے برقرار رہیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اس عدالت میں فاروق نائیک صاحب آپ کے کولیگز نے پارٹی میں آمرانہ سوچ کی بات کی تھی،آپ اٹھارویں ترمیم کرنے والوں میں شامل تھے آپ نے اختیارات پارلیمانی پارٹی کو دیئے،ہم نے پارلیمان اورجمہوریت کو مضبوط کرنا ہے،

    پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق نائیک نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمان کے مسائل پارلیمان میں حل ہونے چاہئیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ لیکن اگر آئین کی خلاف ورزی ہوگی تو معاملہ عدالت میں آئیگا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آپ کے پاس سینیٹ الیکشن کی درخواست زیر التوا ہے،ہاوس کی اندرونی کارروائی کا معاملہ ہے، اس پر آپ کو فیصلوں کی مثال دونگا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین کی تشریح کا گولڈن اصول یہ ہے کہ جو معاملہ عدالت میں ہے اس کی تشریح کی جائے، سوال یہ ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے ہمارے فیصلے کو صحیح استعمال کیا یا غلط؟ اگر غلط استعمال کیا تو ہم اس کو درست کرینگے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں پارلیمانی پارٹی کی کوئی ہدایات نہیں، ہم نے دیکھنا ہے کی پارلیمانی پارٹی کے اختیار پر پارٹی سربراہ نے تجاوز کیا،اس کیس میں پارلیمانی پارٹی کو کوئی ہدایات نہیں،فاروق نائیک نے کہا کہ میری فریق بننے کی درخواست کونمبر نہیں لگا، عدالت نے کہا کہ آپ کو کہہ دیا ہے کہ آپ کوسنیں گے، ،بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ میں نے فریق بننے کی درخواست دی ہے میں اس کیس میں نئی دستاویز فائل کرونگا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ جو ہمارے فیصلے پر انحصار کرتی یے اس کو دیکھنا ہے،وکیل چودھری شجاعت نے کہا کہ عدالت عظمی کے کئی فیصلے موجود ہیں جن میں پارٹی سربراہ کو ہدایت کا اختیار ہے،ایم پی ایز اور ڈپٹی اسپیکر کو بھیجے خطوط کا ریکارڈ جمع کرائوں گا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک پارلیمانی پارٹی میں تمام ارکان کی اہمیت ہوتی ہے ،صلاح الدین نے کہا کہ اگر ایک پارٹی کے سترہ ممبر ایک سینیٹر کو منتخب کرتے ہیں اور وہ اکیلا سینیٹر ہوتا ہے تو کیا وہ اپنی مرضی چلائے گا؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم اس کیس کو مکمل کرنا چاہتے ہیں ،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی میں پارٹی سربراہ کی آمریت نہیں ہونی چاہئے،پارلیمانی پارٹی کی مشاورت سے فیصلے ہوتے ہیں، بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ کئی جماعتیں کہتی ہیں کاغذوں میں نام کسی کا بھی ہو ہمارا قائد فلاں ہے،اصل فیصلہ پارٹی سربراہ کا ہی ہوتا ہے قائد کوئی بھی ہو،ووٹ کا فیصلہ پارٹی سربراہ کا ہوتا ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ججز کے درمیان بھی فیصلوں میں الگ رائے ہوتی ہے،چیف جسٹس ماسٹر آف روسٹر ہوتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ایک پہلو جو اہم ہے وہ پولرائز سیاسی ماحول بن جانا ہے،ایسے ایشوز کو حل ہونا چاہیئے تا کہ حکومتیں اپنا کام کرتی رہیں، اگر اپوزیشن بائیکاٹ کرتی ہے تو ہم امید کرتے ہیں کہ نظام چلنا چاہیئے، جمہوریت میں اپوزیشن کا اہم کردار ہوتا ہے ملک کی معاشی صورتحال پر ہر شہری پریشان ہے۔ملکی کرنسی ہر روز گررہی ہےکیا وہ ہماری مداخلت کی وجہ سے ہے؟ کیا یہ سب کچھ سیاسی استحکام نہ ہونے کی وجہ سے نہیں ہے ؟

    بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ فل کورٹ کی بصیرت سے فائدہ اٹھانا چاہئے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ 8 ججز کے فیصلے کا حوالہ دے رہے تو 9 ججز بھی سماعت کرسکتے ہیں، آپ اکیسویں ترمیم کیس کا حوالہ دے رہے ہیں، یہ دیکھیں اکیسویں ترمیم میں فیصلہ کس تناسب سے آیا تھا؟بینچ کے رکن جتنے بھی ہوں فیصلے کا تناسب بدلتا رہتا ہے،بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ مجھے سو فیصد آپ سمیت سب ججوں پر اعتماد ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ خود سے پوچھیں کہ آئین کے مطابق کون ہدایات دے سکتا ہے، دو ججز کے علاوہ تمام ججز یہاں موجود ہیں، ہم ایسا ماحول بنانا چاہتے ہیں جو سائل کے فائدے کا ہو،ہم نہیں چاہتے کہ ملک میں اختلافات کی فضا برقرار رہے، فل کورٹ ستمبر میں ہی بن سکے گا کیا اس وقت تک سب کام روک کے رکھیں؟ ہر شہری کی طرح معیشت کی صورتحال سے ہم بھی پریشان ہیں، کیا معیشت کا یہ حال عدالت کی وجہ سے ہے یا عدم استحکام کی وجہ سے؟آج زیادہ ووٹ لینے والا باہر اور 179 لینے والا وزیراعلی ہے،حمزہ شہباز کو وزیراعلی برقرار رکھنے کیلئے ٹھوس بنیاد درکار ہےریاست کے کام چلتے رہنے چاہیں،عدالت کے فیصلے پر انتخابات ہوئے اور پر امن طریقے سے ہوئے، ہمیں یہ ڈھونڈ کر دے دیں کہ کہاں لکھا ہے کہ پارٹی ہیڈ غیر منتخب بھی ہو تو اس کی بات ماننا ہوتی ہے،

    وکیل چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ عدالت مختلف مقدمات میں پارٹی ہیڈ کے بارے میں فیصلے دے چکی ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جن مقدمات کی آپ بات کررہے ہیں ان میں مدعا کچھ اور تھا، آپ کے دلائل بظاہر غیر جمہوری ہیں آپ اپنے اراکین کو ڈمی سمجھتے ہیں؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے یکم جولائی کو فیصلہ دیتے ہوے بھی موجود وزیراعلی کو کام سے نہیں روکا تھا،الیکشن کے نتائج کا احترام ہونا چاہیے، آپ کہہ رہے ہیں پارٹی ہیڈ کا کنٹرول ہوتا ہے ،وکیل چودھری شجاعت نے کہا کہ ہم کیس کو بالکل طویل نہیں کرنا چاہتے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے علاوہ صرف دو ججز ہی یہاں دستیاب ہیں کوشش کر رہے ہیں جہاں عدالت انے والوں کو سہولیات دیں ، بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ امریکہ میں ججز سیاسی جماعتیں اور حکومت تعینات کرتی ہیں، شکر ہے پاکستان میں ایسا نظام نہیں ہے، فاضل بنچ رات کے 7 بجے بھی موجود ہے تو باقی ججز بھی خوشی سے اپنی ذمہ داری نبھائیں گے،چیف جسٹس نے کہا کہ ججز دستیاب نہیں ہیں، وکیل چوہدری شجاعت نے کہا کہ جو ججز دستیاب ہیں وہ بھی بیٹھ کر فیصلہ کر سکتے ہیں،عدالت نے کہا کہ ہم تین ججز کے علاوہ صرف دو مزید ججز شہر میں ہیں، وکیل صلاح الدین نے کہا کہ وڈیو لنک کے ذریعے بھی ججز شریک ہو سکتے ہیں، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ وڈیو لنک شکایت کنندگان کی سہولت کے لیے ہے، وزیراعلٰی کے انتخاب کا جو نتیجہ آیا اس کا احترام کرنا چاہیے،

    سماعت میں پندرہ منٹ کا وقفہ کر دیا گیا

  • حکومتی اتحاد کی پریس کانفرنس، فل بنیچ بنانے کا مطالبہ،مولانا، بلاول بھی مریم کے ہم آواز

    حکومتی اتحاد کی پریس کانفرنس، فل بنیچ بنانے کا مطالبہ،مولانا، بلاول بھی مریم کے ہم آواز

    مریم نواز کی حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومتی اتحاد نے موجودہ سیاسی صورتحال پر پریس کانفرنس کی ہے

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں آج جب پریس کانفرنس کیلئے آرہی تھی تو مجھے بہت لوگوں نے روکا کہ میں یہ پریس کانفرنس نہ کروں، لیکن مجھے بہت سے حقائق آج قوم کے سامنے رکھنے ہیں،خالد مقبول صدیقی کی فلائٹ منسوخ ہوچکی ہے ،نہیں پہنچ پائے جماعت کی طرف سے پریس کانفرنس کی ذمہ داری تھی، اتحادی جماعتوں کی آمد پر شکریہ ادا کرتی ہوں،چرچل نے سوال کیاتھا کہ کیا عدالتیں انصاف دیں گی عوامی نمائندوں کو خود سے بڑھ کر سوچنا پڑتاہے، گزشتہ چند سال سے آج تک کےحقائق سامنے رکھنا چاہتی ہوں،فیصلوں کے اثرات آنے والے وقتوں پر بھی ہوتے ہیں ،اداروں کی توہین اداروں کے اندر سے ہوتی ہے عدلیہ کی توہین متنازعہ فیصلے کرتے ہیں، عوام نہیں،

    ن لیگی رہنما مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ ایک غلط فیصلہ سارے مقدمے کواڑا کررکھ دیتا ہے،ناانصافیوں کی فہرست بہت طویل ہے فیصلہ ٹھیک کیا جائے توتنقید کوئی معنی نہیں رکھتی، جب سے حمزہ شہباز وزیرِ اعلیٰ بنا ہے اسے کام نہیں کرنے دیا گیا۔ حمزہ کا الیکشن ہوا، جیت گئے، پی ٹی آئی سپریم کورٹ درخواست لے گئی،قوم نے دیکھا چھٹی کے دن رات کو سپریم کورٹ رجسٹری کھلی رجسٹرار خود گھر سے آیا اور کہا کہاں ہے پٹیشن،پی ٹی آئی نے رجسٹرار سے کہا ابھی پٹیشن تیار نہیں ہوئی ،جب پٹیشن آتی ہے، پہلے سے علم ہوتا ہے کہ بینچ کونسا ہوتا ہے،جب بنچ بنتا ہے تو لوگوں کو پتہ ہوتا ہے فیصلہ کیا ہو گا، یوسف رضا گیلانی کی سینیٹ الیکشن میں6 ووٹ مسترد قرار دیئے گئے،چودھری شجاعت کے کہنے پر بھی انہیں کورٹ بلا لیا گیا، یہ بھی ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ تھی،سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کو کیوں نہیں بلایا گیا؟ ٹرسٹی وزیراعلیٰ ،یہ کیاہے ،بلیک لاڈکشنری اور منفرد آئیڈیاز کہاں سے لے آتے ہیں ؟کبھی سنا ہے آپ نے کہ کوئی ٹرسٹی وزیراعلیٰ ہو ؟25 ارکان کو پارٹی ہیڈ کے خلاف ہونے پر ڈی سیٹ کیا گیا،ہمارے خلاف ہر مقدمے میں ایک ہی جج کو مونیٹرنگ جج لگایا گیا ہے واٹس آپ کال پر نوازشریف کے مقدمات کو لڑا گیا، کل کا مانیٹرنگ جج آج بھی تاحیات مانیٹرنگ جج ہے پارٹی ہیڈ اگر نوازشریف ہیں، پانامہ فیصلہ توردی کی ٹوکری میں جائے گا،پانامہ پر نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹا دیا گیا پارٹی ہیڈ سے سب کچھ چلتا ہے، ان سے صدارت لے لی گئی ، چودھری شجاعت کوبلایا جاتا ہے اور عمران خان پر آئین کی تشریح ہی بدل جاتی ہے

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ موازنہ نواز شریف حکومت اور عمران خان کی معیشت کا ہوگا کابینہ میں بند لفافہ لہرایا جاتا ہے ، ملک ریاض کے پیسے پر کسی نے نوٹس لیا؟ 2017 کے بعد ایسا ملک ہلا اب سنبھلنے کو نہیں آرہا کونسا جرم ہے جو عمران خان نے نہیں کیا،سول نافرمانی، بل جلاؤ، سپریم کورٹ پر کپڑے ٹانگو، شاہراہ دستور پر قبریں، کیا کیا نہیں کیا گیا ؟سپریم کورٹ نے عمران خان کو ریڈ زون میں آنے کی اجازت دی لیکن عمران خان نے ریڈ زون میں ہنگامہ کر کے توہین عدالت کر دی لیکن سپریم کورٹ خاموش رہی اور کہا شاید خان صاحب کے پاس ہمارے احکامات نہیں پہنچے ،جس نے تاریخ کے سب سے بڑے جھوٹ بولے اسے صادق و امین کا لقب دے دیا گیا،آپ نے ایک جھوٹے شخص کو صادق اور امین ڈکلیئرڈ کیا ،وہ صادق و امین کا لقب دینے والا آج کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ہے،تاریخ کے جھوٹے شخص نے تین سو کنال کے محل کو ریگولائز کرایا،جعلی دستاویزات جمع کرائے،عمران خان ابھی بھی سپورٹ کے بغیر نہیں، ان کے حمایتی بیٹھے ہوئے ہیں جو سب کر رہے ہیں۔ شیری مزاری کے لیے راتوں رات عدالت کھل جاتی ہیں اور مریم نواز کے لیے جج چھٹی پر چلا جاتا تھا ،کیا سارے سوموٹوصرف ن لیگ اوراتحادیوں کیلئے ہیں؟ میں x y z نہیں کہتی میں نام لیتی ہوں ترازو ٹھیک ہوگا تو پاکستان اپنے آپ ٹھیک ہوجائیگا

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ طیبہ کیس میں ویڈیو پر نیب کو بلیک میل کرتا رہا، کسی نے سو موٹو نہ لیا سرینہ عیسٰی، آصف زرداری کی بہن کو تو انصاف ہی نہیں ملا، مریم نواز ڈیتھ سیل میں رہ سکتی ہے علیمہ خان کو جرمانہ کرکے گھر بھیج دیا جاتا ہے یہ ڈبل اسٹینڈرڈ نہیں چلے گا،یہ ایمپائرز سے مل کر کھیلتا ہے جب سے وہ ہٹے یہ دھڑام سے گرا،ابھی بھی یہ سپورٹ کے بغیر نہیں ہے، تفصیل میں گئی تونئے محاذ کھل جائیں گے، عمران خان کو کورٹ جان کو خطرے پر نہیں بلایا جاتا مجھے پاسپورٹ مانگنے پر دن میں بینچ بنتے اور ٹوٹتے ہیں،سیاہ سفید کرنے والا شہزاد اکبر بھاگ گیا، فرح گوگی بھاگ گئی،شہزاد اکبراور فرح گوگی کے نام ای سی ایل میں نہیں ڈالے گئے،قاضی فائزعیسٰی کیس پر کہا گیا، ایگزیکٹو ڈومین ہے، کورٹ مداخلت نہیں کر سکتی،عمران خان کے خلاف ایف آئی اے اور نیب کی انکوائری روک دی گئی، کیوں؟ میں سلام کا جواب دوں عدالت لائن حاضر کر لیتی ہے عمران نیازی اپنی ضمانت کا کیس کرتا پھر کہتا ہے جان کو خطرہ ہے اور عدالت مان لیتی اور میرے پاسپورٹ کی درخواست پر روز بینچ ٹوٹ جاتے یہ ڈبل سٹینڈرڈ ہیں۔

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    پی ڈی ایم کے سربراہ اور جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کی گفتگو کو سپورٹ کرتے ہیں، احتساب سب کے لیے ضروری ہے ہمیں اجنبی ہونے کا احساس کیوں دلایا جا رہا ہے ؟وزیراعلیٰ پنجاب کیس میں ہم فل کورٹ بینچ کا مطالبہ کرتے ہیں جو حوالے دیئے گئے،اچھا مواد ہے، اسی کی بنیاد پر ہم نے آگے بڑھنا ہے،اگر آپ مجھ سے توقع رکھتے ہیں کہ میں کوئی مشکل پیدا نہ کروں تو میں بھی آپ سے یہی توقع رکھتا ہوں،ایسے حالات نہ پیدا کئے جائیں کہ عوام بغاوت پر اتر آئیں،حکومت کو چلنے تو دیا جائے پھرہی استحکام اور اکانومی بہتر ہو گی لیکن اس کے لیے حکومت کو کام کرنے دیں مشکلات پیدا نہ کریں ہم نے اپنے ملک کے مستقبل کو روشن بنانا ہے،

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کیس میں ہم فل کورٹ بینچ کا مطالبہ کرتے ہیں،یہ نہیں ہوسکتا کہ 3 افراد ملک کی تقدیر کا فیصلہ کریں، ہمیں آئین کو بحال کرنے کے لیے 30سال جدوجہد کرنا پڑتی ہے اتحادی جماعتیں جمہوری نظام چا ہتی ہیں ،نظرآرہا ہے کہ کچھ افراد کو جمہوری نظام ہضم نہیں ہورہا ہے، ون یونٹ نظام آپ سے برداشت نہیں ہورہا، آپ سے برداشت نہیں ہورہا کہ آپ کے سلیکٹڈ نے تاریخی قرض لیا،ہمارا 70 سال کا قرض ایک طرف اور عمران کا 4 سال کا قرض ایک طرف ،ہم نے چار سال ظلم کہ باوجود، جہاں مریم نواز اور فریال تالپور کو جیل میں ڈالا گیا، زرداری کو دوائیاں نہیں مل رہی تھیں، تو ہماری بات نہیں سنی جاتی تھی۔ آج جب اسٹبلشمنٹ نیوٹرل ہوئی تو کچھ سازشی لوگوں سے یہ برداشت نہیں ہو رہا۔ ہم نے نہ تو تشدد کا راستہ اپنایا نہ ہی غیر مناسب زبان استعمال کی ہم چاہتے ہیں ہمارے ادارے غیر متنازعہ رہیں،تمام سیاسی جماعتیں فل بینچ کا مطالبہ کرتی ہیں، فل بینچ کا جو بھی فیصلہ ہوگا ہمیں قبول ہوگا،عمران خان کے دباؤ میں آکے آئین کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا،

    خالد مگسی کا کہنا تھا کہ فل بینچ کا مطالبہ سب جماعتوں کا ہے،یہ کوئی انا کا مسئلہ نہیں،اے این پی کے ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ آئین کو بہت کمزور کرنے کی کوشش کی گئی،آئین کی ایسی تشریح میں نے پہلے نہیں دیکھی، ق لیگی رہنما طارق بشیرچیمہ کا کہنا تھا کہ امید ہے سپریم کورٹ فل بینچ کے ہمارے مطالبے کومانے گی

  • سپریم کورٹ کے باہر سیکورٹی سخت،پیپلز پارٹی،جے یو آئی کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کے باہر سیکورٹی سخت،پیپلز پارٹی،جے یو آئی کی درخواست دائر

    ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف پرویزالہٰی کی درخواست پر سماعت آج ہوگی

    سپریم کورٹ میں سماعت ڈیڑھ بجے ہو گی، سپریم کورٹ ،ریڈ زون کی سیکورٹی سخت کی گئی ہے، پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے، سماعت کے باعث سپریم کورٹ آنے والے راستوں کو بند کردیا گیا سیرینا چوک اور مارگلہ روڈ سے گاڑیوں کا ریڈزون میں داخلہ ہوگا ریڈزون میں میڈیا اور سرکاری ملازمین کو ہی داخلے کی اجازت ہوگی

    پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر سپریم کورٹ پہنچے لسٹ میں نام نہ ہونے کے باعث پولیس نے داخلے کی اجازت نہ دی
    فرحت اللہ بابر واپس روانہ ہوگئے،پولیس کا کہنا ہے کہ ہمیں صرف کیس سے متعلقہ افراد کو داخلے کا حکم دیا گیا صرف کیس سے متعلقہ وکلاء اور فریقین کو سپریم کورٹ میں داخلے کی اجازت ہوگی ،وکلا کی جانب سے سپریم کورٹ میں زبردستی داخلے کی کوشش کی گئی جس پر پولیس نے گیٹ لاک کردیا، آغا حسن کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں داخلے پر پابندی کی مذمت کرتے ہیں،قانون پارلیمان کا کام ہے، عدلیہ کا کام غیرجانبداری سے انصاف ہے،

    سپریم کورٹ کے داخلی راستوں کو بند کر دیا گیا، موبائیل جیمزز فعال کر دیا گیا سیاسی قائدین کے سپریم کورٹ میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی، مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے پریس کانفرنس میں سوال اٹھایا کہ سپریم کورٹ نے عدالت میں ہمارے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے پرسوں لاہور میں تو عدالت کے شیشے ٹوٹ گئے تھے وہاں پابندی کیوں نہیں لگائی؟

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں داخلے پر پابندی لگا نے کی مذمت کرتے ہیں، سپریم کورٹ میں میڈیا پر بھی پابندی لگادی گئی

    سینیٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں جگہ محدود ہے صورتحال کنٹرول کرنامشکل تھا،سپریم کورٹ کے باہر بھی کارروائی سننے کا شاید انتظام کیا گیا ہے، جائز تنقید پر قدغن نہیں ، عدلیہ پر تنقید قابل مذمت ہے جو کہنا ہے عدالت کے سامنے کہیں،سپریم کورٹ میں دونوں طرف سے چند لوگوں کے داخلے کا فیصلہ کیا گیا، جب کوئی فل کورٹ کا مطالبہ کرتا ہے تو مجھے شک ہوتا ہے کہ ان کے پاس دفاع کے کوئی دلائل نہیں،

    آج شاہ محمود قریشی،اسد عمر،فواد چودھری،شیریں مزاری اور عمر ایوب سپریم کورٹ جائیں گے پی ٹی آئی کے بابر اعوان ،پرویز خٹک اور عامر کیانی بھی سپریم کورٹ جائیں گے بلاول بھٹو،مولانا فضل الرحمان ،اسعد محمود،خالد مقبول صدیقی اور امیر حیدر ہوتی بھی سپریم کورٹ آئیں گے اختر مینگل،اسلم بھوتانی ،شاہد خاقان عباسی ،خرم دستگیر اور رانا ثنا اللہ کی بھی سپریم کورٹ آمد متوقع ہے اعظم نذیر تارڑ،احسن اقبال،سعد رفیق ، امیر مقام ، ایاز صادق،عطا تارڑ،ملک احمد بھی عدالت جا ئیں گے سربراہ ق لیگ چودھری شجاعت،سالک حسین اور طارق بشیر چیمہ کی بھی عدالت آمد متوقع ہے

    حمزہ شہباز نے فل کورٹ بنانے کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی اور آرٹیکل 63 اے کی نظرثانی کی درخواستیں بھی ساتھ سماعت کیلئے مقرر کرنے کی استدعا کر دی،الیکشن کمیشن کے خلاف منحرف ارکان کی اپیلیں بھی رولنگ کیس کیساتھ سننے کی استدعا کر دی،درخواست میں کہا گیاکہ منحرف ارکان کے الیکشن کمیشن فیصلے کے خلاف اپیلیں زیر التوا ہیں ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی 22 جولائی کو دی گئی رولنگ درست ہے الیکشن کمیشن نے منحرف ارکان کیخلاف عمران خان کی ہدایات کو تسلیم کیا،سپریم کورٹ میں منحرف ارکان کی اپیلیں منظور ہوگئیں تو صورتحال یکسر تبدیل ہوجائے گی،اپیلیں منظور کی گئیں تو 25 منحرف ارکان کے نکالے گئے ووٹ بھی گنتی میں شمار ہونگے

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف پرویزالہٰی کی درخواست پر سماعت کے حوالہ سے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا،وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں عدالت سے استدعا کی کہ درخواست خارج کی جائے،

    پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا معاملہ پاکستان پیپلز پارٹی نے پرویز الہی کی درخواست میں فریق بننے کی درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروا دی پیپلز پارٹی کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ارکان موجود ہیں۔ اس ساری صورتحال میں پیپلز پارٹی کا موقف سنا جائے۔

    سپریم کورٹ میں جے یو آئی نے بھی فریق بننے کی درخواست دائر کردی اور عدالت سے استدعا کی کہ اہم نوعیت کا معاملہ ہے، موقف سنا جائے ،ایڈووکیٹ سینیٹرکامران مرتضٰی کے ذریعے درخواست دائر کی گئی

    مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت نے بھی وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق کیس میں فریق بننے کے لیے درخواست دائر کردی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ ڈپٹی سپیکر کو خط 22 جولائی کو لکھا گیا اور ڈپٹی سپیکر نے خط کی بنیاد پر پرویز الٰہی کو ڈالے گئے ووٹ گنتی سے نکال دیئے ایم پی ایز کی جانب سے پرویز الٰہی کو ڈالے گئے ووٹ آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی تھےمیں اس کیس کا متعلقہ فریق ہوں لہٰذا مجھے کیس میں پارٹی بنایا جائے

    حکومتی اتحاد فل بینچ بنانے کا مطالبہ کر رہا ہے، اس ضمن میں ن لیگی رہنماؤں سمیت مولانا فضل الرھمان نے بھی پریس کانفرنس کی اور مطالبہ کیا کہ فل بینچ بنایا جائے،

    دوسری جانب پی ٹی آئی اور ق لیگ نے پنجاب کابینہ کی تشکیل پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،وکیل پرویز الہیٰ کا کہنا ہے کہ آج سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کررہے ہیںعدالت نے مختصر کابینہ بنانے کا حکم دیا تھا،عدالت نے حکم دیا کہ کوئی سیاسی فائدہ نہیں دیا جائے گا، عدالت نے حمزہ شہبازکو ٹرسٹی وزیراعلیٰ بنایا لیکن انہوں نے تجاوز کیا،

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے الیکشن ہوئے، پی ٹی آئی کے امیدوار نے 186 ووٹ حاصل کئے تا ہم ڈپٹی سپیکر نے چودھری شجاعت کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے دس ووٹ مسترد کر دیئے ، جسکے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے، پی ٹی آئی نے ایوان میں احتجاج کے بعد کئی شہروں میں احتجاج کیا اور رات کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، پی ٹی آئی کی درخواست عدالت نے قابل سماعت قرار دے دی ہے

  • وزیر اعلی پنجاب کا انتخاب: فل کورٹ تشکیل دی جائے:پاکستان بارکونسل کا مطالبہ

    وزیر اعلی پنجاب کا انتخاب: فل کورٹ تشکیل دی جائے:پاکستان بارکونسل کا مطالبہ

    وزیر اعلی پنجاب کے انتخاب کیخلاف کیس میں پاکستان بار کونسل نے بھی فل کورٹ تشکیل دینے کا مطالبہ کر دیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان بار کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب کے انتخاب اور سپریم کورٹ بار کی نظرثانی درخواست پر فل کورٹ تشکیل دی جائے،یہی وقت ہے کہ سپریم کورٹ آرٹیکل 63 اے کی درست تشریح کر کے معاملہ ہمیشہ کیلئے ختم کرے،

     

    پاکستان بار کونسل کی طرف سے کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کو عوامی اور سیاسی اعتماد کو بحال کرنا چاہیے۔ سپریم کورٹ کو عوامی اور سیاسی اعتماد کو بحال کرنا چاہیے۔پاکستان بار کونسل نے مزید کہا کہ آرٹیکل 63 اے سے متعلق 17 مئی کا مختصر فیصلہ متفقہ نہیں تھا،آرٹیکل 63 اے سے متعلق کیس کا 3 اور 2 کی نسبت سے فیصلہ مزید وضاحت طلب ہے،سیاسی جماعتوں کو عدلیہ پر تنقید سے گزیز کرنا چاہیے۔

    ادھر دوسری طرف سپریم کورٹ بار اور 5 سابق صدور نے چیف جسٹس پاکستان سے اہم آئینی معاملات پر نظرثانی کی درخواست کرتے ہوئے فل کورٹ بنچ کو بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    چوہدری پرویز الہیٰ کی دوست محمد مزاری سے ملاقات، کہا ن لیگ اللہ کی پکڑ میں ہے

    سپریم کورٹ بار کے 5 سابق صدور کی جانب سے چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ بار کی نظرثانی درخواست فل کورٹ میں بھجوائی جائے۔

    سابق صدور سپریم کورٹ بار نے مزید کہا ہے کہ اہم ترین آئینی مقدمات کا تمام فریقین کو سن کر ایک ساتھ فیصلہ کیا جائے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز حکمران اتحاد نے بھی ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا تھا جس میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن کے معاملے کے حوالے سے دائر درخواست کو فل کورٹ بنچ میں بھیجا جائے۔

    ڈپٹی اسپیکردوست مزاری کی نااہلی کا ریفرنس سپیکر پنجاب اسمبلی کو ارسال

    سپریم کورٹ بار کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے بعد آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا معاملہ دوبارہ زیر بحث ہے، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی نظر ثانی درخواست سماعت کیلئے مقرر کی جائے، وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق کیس اور نظر ثانی درخواست پر فل کورٹ تشکیل دی جائے۔

    ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست مزاری کیخلاف تحریک عدم اعتماد پرجلد کارروائی کا امکان

  • ڈپٹی اسپیکررولنگ کیس؛حکومت,اتحادی اور پی ڈی ایم کی جماعتوں کاتہلکہ خیزمشترکہ فیصلہ

    ڈپٹی اسپیکررولنگ کیس؛حکومت,اتحادی اور پی ڈی ایم کی جماعتوں کاتہلکہ خیزمشترکہ فیصلہ

    لاہور:حکومتی اتحادی جماعتوں نے ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس کی سماعت کے لئے فل کورٹ تشکیل دینے کے لئے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    حکومتی اتحادی اور پی ڈی ایم کی جماعتوں نے مشترکہ فیصلہ کیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس میں فل کورٹ تشکیل دینے کے لئے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی جائے گی۔

    اتحادی جماعتوں کے قائدین کل صبح مشترکہ پریس کانفرنس میں اہم اعلان کریں گے، او پریس کانفرنس کے بعد وکلاء کے ہمراہ مشترکہ طور پر سپریم کورٹ جائیں گے، جہاں سپریم کورٹ بارکی نظرثانی ودیگردرخواستوں کی ایک ساتھ سماعت کی استدعا کی جائے گی۔

     

    پرویز الہیٰ کی درخواست،سپریم کورٹ کا تحریری حکم جاری

    مسلم لیگ (ن) ، پی پی پی ، جے یو آئی (ف) سپریم کورٹ جائیں گے، اور درخواستگزاروں میں ایم کیوایم، اےاین پی، بی این پی، باپ اور دیگر اتحادی جماعتیں بھی شامل ہوں گی۔

    اس حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا سپریم کورٹ میں اہم مقدمات کی سماعت جاری ہے، حمزہ شہباز اکثریتی ووٹ لے کر وزیراعلیٰ منتخب ہوئے، چوہدری پرویزکی درخواست پررات ایک بجےپھرعدالت کوکھولاگیا، سیاسی جماعت کےافرادنےسپریم کورٹ کی دیواریں پھلانگیں۔

    وزیرقانون نے کہا کہ آج سپریم کورٹ کے5سابق صدورنےبھی فل کورٹ کامطالبہ کیا، حمزہ شہبازکےوکلاء بھی مقدمےمیں فل کورٹ کےحق میں ہیں،جب کہ انصاف اورشفافیت کا تقاضہ بھی ہے 63 اے کی تشریح کا کیس تمام جج سنیں۔

     

    ہم نہ سافٹ اور نہ ہارڈ مداخلت تسلیم کرتے ہیں،فضل الرحمان

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ممبران اسمبلی پارٹی قائد کی ہدايت کے مطابق ووٹ دينے کے پابند ہيں، اور ہم آئین اور قانون کے ساتھ اپنے حق کی آواز اٹھانے پر بھی یقین رکھتے ہیں، اداروں کے خلاف الزامات لگانے کی بات کو مسترد کرتے ہیں، اور اداروں کی عزت اور تکریم کو معتبر جانتے ہیں۔

    پنجاب کی صوبائی کابینہ کی حلف برداری آج ہونے کا امکان

  • پرویز الہیٰ کی درخواست،سپریم کورٹ کا تحریری حکم جاری

    پرویز الہیٰ کی درخواست،سپریم کورٹ کا تحریری حکم جاری

    سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کو عبوری وزیراعلیٰ پنجاب بنا دیا۔ عدالتی تحریری حکمنامے میں بتایا گیا ہے کہ ہم نے نوٹ کیا کہ ڈپٹی اسپیکر رولنگ کو جسٹیفائی نہیں کر سکے، اس کے نتیجے میں وزیر اعلی کا اسٹیٹس خطرے میں ہے۔

    سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے معاملے پر سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جمع کرائی جانے والی درخواست پر چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ تشکیل دیا گیا جس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل تھے۔

    ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کیخلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ کا تحریری حکم جاری کر دیا گیا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے چھ صفحات پر مشتمل تحریری حکم جاری کیا۔ تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ شجاعت حسین کی جانب سے ڈپٹی سپیکر کو لکھا گیا خط 25جولائی کو پیش کیا جائے، تمام فریقین کو جواب جمع کرانے کےلیے وقت دیتے ہیں، ڈپٹی سپیکر کے وکیل اس بات کو یقینی بنائیں گے تمام متعلقہ ریکارڈ عدالت میں پیش کریں، تمام پارٹیوں کو سننے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ فریقین کو اپنا جواب جمع کرانے کے لیے وقت درکار ہے۔

    تحریری حکم میں بتایا گیا کہ ہم نے نوٹ کیا ڈپٹی اسپیکر رولنگ کو جسٹیفائی نہیں کر سکے، اس کے نتیجے میں وزیر اعلی کا اسٹیٹس خطرے میں ہے، ایسی صورتحال میں حمزہ شہباز ایک منتخب وزیر اعلی کے طور کام نہیں کر سکتے، دونوں فریقین کے درمیان ایسی ہی صورتحال یکم جولائی کو ہوئی تھی، ہمارا یکم جولائی کا حکم دونوں فریقوں کی رضامندی سے جاری ہوا تھا، ہم نے آج پھر تمام فریقین کو پیشکش کی کہ حمزہ شہباز اسی پوزیشن پر بطور وزیر اعلی کام جاری رکھیں، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور حمزہ شہباز کے وکیل نے اعتراض نہیں کیا، ہمیں یقین دہانی کرائی گئی کہ حمزہ شہباز اور انکی کابینہ ٹرسٹی کے طور پر کام کریں گے۔

    قبل ازیں چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں فل بینچ نے مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے حمز شہباز کا بطور وزیراعلیٰ یکم جولائی کا سٹیٹس بحال کر دیا۔ چیف جسٹس نے مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ یکم جولائی کا اسٹیٹس بحال کرنے کے بعد اس کیس کوتفصیل سے سنیں گے۔ پیر تک حمزہ شہباز صرف روٹین کے امور سرانجام دینگے، حمزہ عبوری وزیراعلیٰ کے فرائض پیر تک سر انجام دینگے، کیس کی سماعت پیرکے روزہوگی، تمام وکلا کوسنیں گے۔ حمزہ شہباز آئین اور قانون کے مطابق چلیں، حمزہ وہ پاور استعمال نہیں کرینگے جس سے انکو سیاسی فائدہ ہو، عبوری وزیراعلیٰ محدود اختیارات میں کام کرینگے، عدالت صوبے میں میرٹ سے ہٹ کر تقریری ہوئی تو اس کو کالعدم قرار دینگے۔ بادی النظر میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ غلط اور سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف ہے۔ اگر پارٹی سربراہ کی ہی بات ماننی ہے تو اس کا مطلب پارٹی میں آمریت قائم کردی جائے۔

  • سپریم کورٹ نےلیگی ایم پی اے  کاشف چودھری کی نااہلی ختم کرنے کی درخواست مسترد کردی

    سپریم کورٹ نےلیگی ایم پی اے کاشف چودھری کی نااہلی ختم کرنے کی درخواست مسترد کردی

    پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی کاشف چودھری کی نااہلی ختم کرنے کی درخواست سپریم کورٹ نے مسترد کر دی۔

    بہت ہو گیا،یکطرفہ فیصلوں کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے،مریم نواز

    سپریم کورٹ میں لیگی ایم پی اے کاشف چودھری کی نااہلی سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ جسے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا۔فیصلے میں بتایا گی کہ ن لیگی رکن کاشف چودھری نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی، انہوں نے مخالف فریق عبدالغفور کے ساتھ سمجھوتے پر انٹرا کورٹ اپیل واپس لے لی۔

     

    جو رولنگ دی گئی وہ آئین سے مطابقت نہیں رکھتی،تحریک انصاف

     

    فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ ہائیکورٹ سے انٹرا کورٹ اپیل واپس لینے کے بعد نااہلی کا فیصلہ عدالت عظمیٰ میں میں چیلنج نہیں ہو سکتا، ہائیکورٹ سے انٹرا کورٹ اپیل واپس لینے پر سپریم کورٹ میں اپیل کا کوئی میرٹ نہیں بنتا۔فیصلے کے مطابق کاشف چودھری کی ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل مسترد کی جاتی ہے۔

     

    سپریم کورٹ آخری امید ہے، پھر مرکز میں عدم اعتماد لانا ہوگا۔ شیخ رشید

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسلم لیگ ن کے ایم پی اے کاشف چودھری کو جعلی ڈگری پر نااہل قرار دیا تھا اور ہدایت کی تھی الیکشن کمیشن آف پاکستان کاشف چودھری کو ڈی نوٹیفائی کرے۔

  • ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کیخلاف درخواست پرسماعت پیرتک ملتوی

    ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کیخلاف درخواست پرسماعت پیرتک ملتوی

    سپریم کورٹ لاہور رجسٹری ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت دوبارہ ہوئی

    سپریم کورٹ نے ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کی رولنگ کے خلاف درخواستوں پر مختصر فیصلہ سناتے ہوئے حمزہ شہباز کے یکم جولائی کا عبوری وزیراعلیٰ کا سٹیٹس بحال کر دیا اور سماعت پیر تک ملتوی کر دی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ حمزہ شہباز پیر کے روز تک بطور عبوری وزیراعلیٰ فرائض انجام دیں گے ،کیس کی سماعت پیر کے روز اسلام آباد میں ہو گی ، تمام فریقین کے وکلاء کو سنیں گے اور پھر فیصلہ سنایا جائے گا

    کمرہ عدالت میں صرف متعلقہ وکلا کو ہی جانے کی اجازت دی گئی ہے باقی وکلا اور سائلین کورٹ روم نمبر تین میں لگی سکرین پر عدالتی کاروائی سن رہے ہیں چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی پر مشتمل تین رکنی بنچ سماعت کررہے ہیں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہزاد شوکت نے دلائل دینا شروع کردیے

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ وہ پیرا پڑھ کر سنائیں کہاں لکھا ہے, یہ بتا دیں کہ ڈپٹی اسپیکر نے کیا تشریح کی, ڈپٹی اسپیکر نے آرٹیکل 63 اے کے مطابق فیصلہ دیا آپ وہ پیرا پڑھ دیں،عرفان قادر نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کا ہیڈ اسپیکر نے سمجھا ہے کہ پارٹی صدر ہے, اگر کوئی لیگل غلطی کی تو تو اتنا بڑا ایرر نہیں جو دورنہ ہو سکتا ہو،عدالت نے ڈپٹی سپیکرکے وکیل کو ہدایت کی کہ آپ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پڑھیں، عرفان قادر نے کہا کہ پہلے آرڈر پڑھوں یا رولنگ پڑھوں جس پر عدالت نے کہا کہ آپ پہلے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پڑھیں

    عرفان قادر نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کا ہیڈ پارٹی صدر ہوتا ہے, جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسکا مطلب انہوں نے غلط سمجھا, جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے ججمنٹ کو غلط لیا ہے, جس پر عرفان قادر نے کہا کہ جی بلکل وہ وکیل نہیں ہیں,

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے کس حکم کی آڑ لے کر رولنگ دی، عدالت میں یہ حکم پڑھ کر سنایا جائے، خاص طور پر متعلقہ پیرا پڑھیں، عرفان قادر نے کہا کہ فیصلے کا پیرا تین متعلقہ ہے، عدالت تفصیلی جواب کا موقع فراہم کرے تاکہ بلیک اینڈ وائٹ میں عدالت کو تحریری طور پر ڈپٹی سپیکر کا موقف پیش کر سکوں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اگر فرض کرلیں سپیکر کی رولنگ غلط تھی تو پھر اگلا قدم کیا ہوگا ،عرفان قادر نے کہا کہ اس پر ہم تحریری جواب بھی دیں گے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وکیل صاحب یہ سوموٹو کیس نہیں ہے ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ہم نے ریکارڈ بھی مانگا تھا کیا ریکارڈ آیا تھا ؟ عرفان قادر نے کہا کہ اس حوالے سے مجھے معلومات نہیں ہے ،عدالت نے کہا کہ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ سپیکر صاحب کے ہاتھ میں چوہدری شجاعت حسین کی خط تھا ہم وہ خط دیکھنا چاہتے ہیں ڈپٹی سپیکر نے اس خط کی بنیاد رولنگ دی ہےبا دی النظر میں آپ کی رائے یہی ہے کہ اسپیکر کی رولنگ درست تھی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے موکل جس آفس کو ہیڈ کو کر رہے ہیں اس پر گہرے بادل ہیں ،

    ڈپٹی اسپیکر کے وکیل نے جواب جمع کرانے کے لیے وقت مانگ لیا ،عرفان قادر نے کہا کہ ہمیں کل تک کا وقت دیا جائے، عدالت نے حمزہ شہباز کو رسمی اختیارات دیتے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کر دی ،عدالت نے حکم دیا کہ پیر تک حمزہ شہباز صرف روٹین کے امور سرانجام دیں گے,

    سماعت کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوموار یا منگل کو فیصلہ سنا دیں گے،

    قبل ازیں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف درخواستوں پر دوبارہ سماعت ہوئی چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پرویز الٰہی سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی عدالتی حکم پر ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری سپریم کورٹ کے روبرو تاحال پیش نہ ہوئے ،کمرہ عدالت کھچا کھچ بھر گیا تحریک انصاف کے رہنماء بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے، عدالت میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہزاد شوکت کی جانب سے دلائل دیئے گئے، عدالت میں ڈپٹی سپیکر کے وکیل کی جانب سے جواب جمع کرا دیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ڈپٹی سپیکر کہا ں ہیں, وہ بھی آ رہے ہیں؟

    کمرہ عدالت میں رش لگ گیا جس کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تمام غیر متعلقہ افراد کمرہ عدالت سے باہر چلیں جائیں،ہم کوشش کرتے ہیں آپکو باہر بھی سماعت سننے کا بندوست کرتے ہیں،ایسے حالات میں سماعت ممکن نہیں ہے،ہم ایسا کرتے ہیں کہ سماعت دوسرے روم میں شفٹ کرتے ہیں،

    عدالت نے عرفان قادر کو دلائل دینے سے روک دیا . چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے پاس دوست مزاری کا وکالت نامہ ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے مکمل دلائل سنیں گے،

    دوسری جانب سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں وکلا اور تحریک انصاف کے اراکین کی بڑی تعداد بغیر بیکنگ کے کورٹ روم ون مین داخل ہو گئی ہے، دھکم پیل سے کورٹ روم نمبر ون کے دروازوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں چیف جسٹس پاکستان نے کیس ویڈیو لنک والے کورٹ روم میں منتقل کردیا سماعت کچھ دیر بعد ہوگی پرائیویٹ افراد کا داخلہ بند کر دیا گیا

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے الیکشن ہوئے، پی ٹی آئی کے امیدوار نے 186 ووٹ حاصل کئے تا ہم ڈپٹی سپیکر نے چودھری شجاعت کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے دس ووٹ مسترد کر دیئے ، جسکے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے، پی ٹی آئی نے ایوان میں احتجاج کے بعد کئی شہروں میں احتجاج کیا اور رات کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، پی ٹی آئی کی درخواست عدالت نے قابل سماعت قرار دے دی ہے

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

  • وزیراعلی پنجاب کے انتخاب سے متعلق مقدمے کی سماعت فل کورٹ کرے۔حکمران اتحاد کا مطالبہ

    وزیراعلی پنجاب کے انتخاب سے متعلق مقدمے کی سماعت فل کورٹ کرے۔حکمران اتحاد کا مطالبہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے وزیراعلیٰ کے الیکشن میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی سپریم کورٹ میں درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد حکمران اتحاد نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے

    حکمرا ن اتحاد کی جانب سے جاری مشترکہ، متفقہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حکمران اتحاد میں شامل تمام جماعتیں چیف جسٹس پاکستان سے پر زور مطالبہ کرتی ہیں کہ وزیراعلی پنجاب کے انتخاب سے متعلق مقدمے کی سماعت فل کورٹ کرے۔ قرین انصاف ہوگا کہ عدالت عظمیٰ کے تمام معزز جج صاحبان پر مشتمل فل کورٹ ،سپریم کورٹ بار کی نظرِ ثانی درخواست موجودہ درخواست اور دیگر متعلقہ درخواستوں کو ایک ساتھ سماعت کے لئے مقرر کرکے اس پر فیصلہ صادر کرے کیونکہ یہ بہت اہم قومی، سیاسی اور آئینی معاملات ہیں۔ آئین نے مقننہ،عدلیہ اورانتظامیہ میں اختیارات کی واضح لکیر کھینچی ہوئی ہے جسے ایک متکبر آئین شکن فسطائیت کا پیکر مٹانے کی کوشش کر رہا ہے یہ دراصل پاکستان کے آئین عوام کےحق حکمرانی اورجمہوری نظام کو بھی معیشت کی طرح دیوالیہ کرانا چاہتا ہے یہ سوچ اوررویہ پاکستان کے ریاستی نظام کے لئے دیمک ہے۔

    ‎حکمرا ن اتحاد کی جانب سے جاری مشترکہ، متفقہ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ حکمران اتحاد میں شامل جماعتیں اس عزم کا واشگاف اعادہ کرتی ہیں کہ آئین، جمہوریت اور عوام کے حق حکمرانی پر ہر گز کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ہر فورم اور ہر میدان میں تمام اتحادی جماعتیں مل کر آگے بڑھیں گی اور فسطائیت کے سیاہ اندھیروں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گی۔

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست قابل سماعت قرار،نوٹسز جاری

     پرویز الہٰی اب ق لیگ سے باہر ہیں وہ بنی گالہ جائیں اور پی ٹی آئی میں شامل ہوجائیں

    وفاقی حکومت نے لاہور اور راولپنڈی میں رینجرز تعینات کرنے کی منظور ی دے دی

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کا کہنا ہے کہ تمام چوٹی کے قانونی ماہرین رات سے بتا چکے ہیں کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ غیر قانونی ہے،فل بینچ کا مطالبہ معاملے کو طول دینے کوشش ہے تاکہ ضمیر خریدنے کی نئی کوشش کی جائے، بینچ کو متنازعہ بنانے کے لیے وٹس ایپ ٹولے کو صبح سے ہدایات جاری کر دی گئی تھیں

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے الیکشن ہوئے، پی ٹی آئی کے امیدوار نے 186 ووٹ حاصل کئے تا ہم ڈپٹی سپیکر نے چودھری شجاعت کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے دس ووٹ مسترد کر دیئے ، جسکے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے، پی ٹی آئی نے ایوان میں احتجاج کے بعد کئی شہروں میں احتجاج کیا اور رات کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، پی ٹی آئی کی درخواست عدالت نے قابل سماعت قرار دے دی ہے

  • جو رولنگ دی گئی وہ آئین سے مطابقت نہیں رکھتی،تحریک انصاف

    جو رولنگ دی گئی وہ آئین سے مطابقت نہیں رکھتی،تحریک انصاف

    جو رولنگ دی گئی وہ آئین سے مطابقت نہیں رکھتی،تحریک انصاف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنماؤں نے سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے بات چیت کی ہے

    تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ سارے پاکستان کو معلوم ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ غیر آئینی تھی پارلیمانی پارٹی فیصلہ کرے گی کہ کس کو ووٹ ڈالنا ہے،کوئی ووٹ پارلیمانی پارٹی کی ہدایت کے مطابق نہیں دے گا تو منحرف قرار دیا جائے گا،پوچھا گیا کہ رولنگ میں کہاں ایسا لکھا گیا،جو رولنگ دی گئی وہ آئین سے مطابقت نہیں رکھتی

    تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آئین کے ساتھ کھیل کھیلا گیا،ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ غیر آئینی ہے لیٹر کی اہمیت نہیں ، ڈپٹی اسپیکر پہلے سے لے کر بیٹھا تھا، بدنیتی ظاہر ہوتی ہے،چودھری شجاعت بیماری کے ایسے عالم میں کچھ نہیں کہہ سکتے،

    تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پوچھاہے ڈپٹی اسپیکر بتادیں کہ حوالہ کس پیرا گراف میں لکھا ہے، سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ اول تو ارکان کو پارٹی ہیڈ سے کوئی ہدایت ملی نہیں نہ ہی وہ اسکا مجازتھا ،ڈپٹی ا سپیکر نے خط پاس رکھا اور ووٹ ڈالنے کے بعد دکھایا،پارلیمانی پارٹی بشمول خود امیدوار نے قانون کے مطابق ووٹ ڈالا قانون واضح ہے ہدایات پارلیمانی پارٹی کیطرف سے دی جاتی ہیں،پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کی خلاف ورزی ہوئی ہی نہیں تو پھر ڈکلیئریشن کیسی؟

    مستعفی رکن اسمبلی جلیل شرقپوری کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں ھونے والا جمہوری ڈرامہ آئین اور قانون کے ساتھ مزاق ھے ۔پارٹی لیڈر جمہوری لیڈر ھوتا ھے ڈکٹیٹر نہیں ۔پارٹی کا فیصلہ صرف وہ ھو گا جو پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کیا جائے۔ پارٹی ہیڈ گھر میں سویا ھوا بیماری سے تنک آ کر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی۔ پارٹی کا فیصلہ بھی صرف وہ مانا جائے گا جو ووٹ پڑنے سے پہلے کیا جائے ۔ یہ کیسا فیصلہ ھے کہ ووٹرز نے ووٹ ڈال دیئے اور بعد میں پارٹی کہے کہ ھمارے ووٹ باہر نکال دیں یہ کیسے ھو سکتا ھے

    علاوہ ازیں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ عوام مافیا کو اپنی لوٹ مار جاری رکھنے نہیں دیں گے ہم سری لنکا کے کے حالات سے زیادہ دور نہیں جب عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست قابل سماعت قرار،نوٹسز جاری

     پرویز الہٰی اب ق لیگ سے باہر ہیں وہ بنی گالہ جائیں اور پی ٹی آئی میں شامل ہوجائیں