Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • مراد علی شاہ کی نااہلی کیلئے نظرثانی درخواست سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر

    مراد علی شاہ کی نااہلی کیلئے نظرثانی درخواست سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر

    کراچی :وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کی نااہلی کیلئے نظرثانی درخواست سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقررکردی گئی ہے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ دو اگست کو سماعت کرے گا۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت امن و امان پر اجلاس

    درخواست گزار روشن علی نے دہری شہریت کو بنیاد بنا کر سپریم کورٹ سے مراد علی شاہ کی نااہلی کی استدعا کر رکھی ہے۔عدالت نے منگل کے روز سماعت مقرر کرتے ہوئے مقدمےکے فریقین کو نوٹسز بھی جاری کر دیئے ہیں۔

    چیف جسٹس آف پاکستان عمرعطا بندیال ، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل بینچ وزیراعلیٰ سندھ کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کرے گا۔

    مراد علی شاہ سےبہترکوئی عورت اس وزارت کو بہترچلالے گی،خرم شیرزمان

    یاد رہے کہ اس سے پہلے سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے خلاف نااہلی کیس میں فریقین سے معاونت طلب کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ دہری شہریت کے باعث ہونے والی نااہلی تاحیات یا عارضی مدت کے لیے ہے۔

    جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین ججز پر مشتمل بینچ، جس میں جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس امین الدین شامل ہیں، نے آئین کے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت دہری شہریت اور اقامہ رکھنے پر مراد علی شاہ کی نااہلی کے لیے دائر نظر ثانی درخواست کی سماعت کی۔

    الیکشن کمیشن نے بلاول بھٹو زرداری اور مراد علی شاہ پرجرمانہ عائد کردیا

    عدالت نے تنازع میں شامل فریقین سے اس سوال سے متعلق بھی تیاری کرنے کا کہا ہے کہ غیر ملکی شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ جمع کرانے پر نااہل شخص کو دوبارہ الیکشن لڑنے کی اجازت ہوگی یا نہیں۔

    روشن علی نامی شہری کی جانب سے اقامے اور دہری شہریت پر مراد علی شاہ کی نااہلی کی استدعا کی گئی ہے۔

  • شیخ رشید کی سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹوں کے حق کی درخواست اعتراضات کے ساتھ واپس

    شیخ رشید کی سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹوں کے حق کی درخواست اعتراضات کے ساتھ واپس

    اسلام آباد:شیخ رشید نے سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹوں کے حق کے حوالے سے سپریم کورٹ میں درخواست دی جس پر رجسٹرار آفس سے اعتراضات عائد کردیئے گئے۔

    رجسڑار سپریم کورٹ نے سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ کے حق کے لئے لکھی گئی شیخ رشید کی درخواست اعتراض لگاکر واپس کردی ہے۔

    رجسٹرار آفس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ درخواست عوامی مفاد میں دائر کرنے کی وضاحت نہیں کی گئی، درخواست گزار نے براہ راست سپریم کورٹ انے کی وجہ بھی نہیں بتائی۔

    اعتراض کیا گیا ہے کہ سمندرپار پاکستانیوں کے ووٹنگ حق کے مقدمات ماتحت عدالتوں میں زیرالتواء ہیں، درخواست کے ساتھ منسلک کئے گئے سرٹیفکیٹس بھی قانون کے مطابق نہیں، دائر کردہ درخواست پر درخواست گزار کے وکیل کے دستخط بھی موجود نہیں۔

    یاد رہے کہ چند دن پہلے سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے الیکشن ایکٹ میں تارکین وطن کے ووٹ دینے کے حق سے متعلق نئی حکومت کی جانب سے کی گئی ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج تھا،

    درخواست گزار نے بدھ کے ر وز آئین کے آرٹیکل 184/3کے تحت دائر کی گئی درخواست میں وفاقی حکومت،وزارت قانون اور الیکشن کمیشن کو فریق بناتے ہوئے موقف اپنایا کہ تارکین وطن پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں اور انہیں ووٹ کے بنیادی حق سے محروم کرنا خلاف آئین ہے، حکومت تارکین وطن کو ووٹ کے حق سے محروم کررہی ہے، حکومت کی الیکشن ایکٹ میں کی گئی ترامیم آرٹیکل 218، 219 اور 222 سے متصادم ہے۔

  • احتساب گورننس اور حکومت چلانے کیلئے بہت ضروری ہے، چیف جسٹس

    احتساب گورننس اور حکومت چلانے کیلئے بہت ضروری ہے، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب قانون میں ترمیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات سے نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی پٹیشن پڑھ رہا ہوں اپنی معروضات تفصیل سے پیش کریں کہ ترامیم آئین سے کیسے متصادم ہیں؟ عوام کے کونسے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں انکی نشاندہی کریں؟ یہ بھی بتائیں کونسی ترامیم ایسی ہیں جن سے نیب قانون اور کیسز متاثر ہو رہے ہیں؟

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی نیب ترامیم کیخلاف درخواست زیر سماعت ہے، کیا مناسب نہیں ہوگا پہلے ہائیکورٹ کو فیصلہ کرنے دیا جائے؟ وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ نیب ترامیم کا اطلاق ایک ہائیکورٹ نہیں پورے ملک پر ہوگا، نیب ترامیم کے بعد عوامی عہدیدار احتساب سے بالاتر ہوگئے ہیں،درخواستیں شاید مختلف ہائیکورٹس میں بھی آ جائیں، ابھی تک کسی اور ہائیکورٹ میں درخواست نہیں آئی، احتساب کے بغیر گورننس اور جمہوریت نہیں چل سکتے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بے نامی دار ایشو پر بھی وضاحت کریں،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب ترامیم کے بعد عوامی عہدیدار احتساب سے بالاتر ہوگئے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے خواجہ حارث کو تجویز دی اور کہا کہ اگر آپ اپنی گزارشات کا مختصر چارٹ بنالیں تو بہتر رہے گا،

    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ اگر حکومت نیب قانون ختم کر دیتی تو آپکی درخواست کی بنیاد کیا ہوتی؟ وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ اسلام اور آئین دونوں میں احتساب پر زور دیا گیا ہے، عدلیہ کی آزادی اور عوامی عہدیداروں کا احتساب آئین کی بنیادی جزو ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا عدالت ختم کیا گیا نیب قانون بحال کر سکتی ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ آئین کی اسلامی دفعات کا حوالہ دے رہے ہیں، چیک اینڈ بیلنس ہونا جمہوریت کیلئے بہت ضروری ہے، کرپشن یہ ہے کہ آپ غیر قانونی کام کریں اور اس کا کسی کو فائدہ پہنچائیں، کرپشن بنیادی طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال اور خزانے کو نقصان پہنچانا ہے، اگر کہیں ڈیم بن رہا ہو اور کوئی لابی اسکی مخالفت کرے وہ قومی اثاثے کی مخالفت ہوگی، سابق جج مظہر عالم کہتے رہے ڈی آئی خان کو ڈیم کی ضرورت ہے،احتساب گورننس اور حکومت چلانے کیلئے بہت ضروری ہے،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی ترمیم اگر مخصوص ملزمان کو فائدہ پہنچانے کیلئے ہے تو وہ بتائیں،کیا آپ چاہتے ہیں عدالت پارلیمنٹ کو قانون میں بہتری کا کہے، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ جو ترامیم آئین سے متصادم ہیں انہیں کالعدم قرار دیا جائے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے لکھا ہے ترامیم پارلیمانی جمہوریت کے منافی ہے،کئی ترامیم آئین کے بنیادی ڈھانچہ کے برعکس کے ہیں، پارلیمان کا اختیار ہے کہ مکمل آئین بھی تبدیل کر سکتی ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ آئینی ترامیم کیس میں بنیادی ڈھانچے کو تسلیم کر چکی،نئی نیب ترامیم کا بھی 1985 سے نفاز کردیا گیا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں ترمیم سے تمام زیر التوا مقدمات انکوائریز پر فرق پڑتا ہے،جن کو سزا ہو چکی ہے ان پر ترمیم کا کیا فرق پڑے گا ؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ترمیم کی ذریعے ملزم کو اثاثے ٹرانسفر کرنے کا اختیار دیدیا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے تو نیب ملزم کے اثاثے عدالت سے منجمد کرا دیتا تھا،خواجہ حارث نے کہا کہ اب قانونی اجازت کو ترامیم سے نیب قانون سے حذف کردیا گیا ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل میں ایک ثبوت آ گیا تو یہ نہیں کہا جا سکتا باہر سے دوبارہ ثبوت لائے،خواجہ حارث نے کہا کہ اگر ایسا ہوجائے تو مجھے کیا اعتراض ہے،

    خواجہ حارث نے کہاکہ نیب قانون میں ترامیم کا سلسلہ اب بھی جاری ہے،یہ ترمیم بھی شامل ہے جو پلی بارگین کریں وہ وعدہ معاف گواہ نہیں بن سکتا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ پلی بارگین کرنے والے کا وعدہ معاف گواہ بنایا جائے،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کئی نیب ترامیم سے جرم کو ثابت کرنا مشکل بنادیا گیا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کے معاملہ پر عدالتی اختیار تب شروع ہوگا جب وہ غیر آئینی ہو،وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ ترامیم کے تحت ریلیف کو درخواست پر فیصلے سے مشروط کیا جائے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ریلیف کے حوالے سے کوئی بہت ایمرجنسی ہے اس حوالے سے بتائیں، یہ بھی بتائیں کیا بہت زیادہ زیر التوا مقدمات ترامیم سے متاثر ہونگے؟ خواجہ حارث نے کہا کہ حکم امتناعہ نہیں مانگ رہا لیکن ترامیم کے تحت ملنے والا ریلیف مشروط کیا جائے،عدالت نے ترامیم کے تحت ریلیف کو مشروط کرنے کی درخواست پر حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت عدالت نے اپنا کام کرنا ہے،اپنے حلف کے تحت شفاف انداز میں کام جاری رکھیں گے،جمعہ پرامن ہوتا ہے اس لیے آئندہ جمعہ کو دوبارہ سماعت کرینگے،عام دنوں میں تو شام کو بھی کچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم رات 9 بجے تک بیٹھتے ہیں کبھی آپکو بھی زحمت دینگے، عدالت اسٹے کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہیں،

    سپریم کورٹ میں نیب قانون میں ترمیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت آئندہ جمعہ تک ملتوی کر دی گئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے کہا کہ آئندہ ہفتے مزید تفصیلات سے عدالت کو آگاہ کریں ،ہمیں خوشی ہے کہ آپ تیاری کرکے آئے ہیں، عدالت اسٹے کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ایک دن پہلے عدالت کی معاونت کی تھی جب کچھ لوگ چلے گئے تھے،

     فل کورٹ مستر کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کےاس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں.حکمران اتحاد 

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    مریم نواز کی حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس

    پرویز الہٰی کے وکیل نے نظرثانی درخواست کی سماعت کے لیے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کردی

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کو خط

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کو خط

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کو خط ،اطلاعات کے مطابق اس خط میں انہوں نے کہا ہے کہ جوڈیشل کمیشن میں ججز کی تقرری کے حوالے سے ہونے والے فیصلے کو فوری طور پر میڈیا میں جاری کیا جائے۔قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ججز تقرری کیلئے چیف جسٹس کی طرف سے پیش کردہ ناموں پر تفصیلی غور ہوا

    مجھ سمیت 5 ممبران نے سندھ کے 3 اور لاہور ہائیکورٹ کے ایک جونیئر جج کے نام مسترد کیےجسٹس طارق مسعود، اعظم نذیر تارڑ، اشتر اوصاف اور پاکستان بار کونسل کے نمائندے اختر حسین نے بھی نام مسترد کیے

    قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس پانچوں ہائیکورٹ کے چیف جسٹسز میں جونیئر ہیں، پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا نام ان چیف جسٹسز کے بعد پیش کیا جائے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرڈ ججز کو مراعات دینے کی مخالفت

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط میں مزید لکھا کہ اجلاس میں طے ہوا کہ آئین کسی اسامی پر پیشگی تقرری کی اجازت نہیں دیتا،

    ججز تقرری کے معاملے پرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    چیف جسٹس آف پاکستان بطور چیئرمین، کمیشن پر اپنے فیصلے مسلط نہیں کر سکتے، چیف جسٹس آف پاکستان اچانک جوڈیشل کمیشن کا اجلاس چھوڑ کر چلے گئے،جسٹس اعجاز الاحسن بھی اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے

    خواتین کو نظراندازکریںگےتو معاشرے میں بہتری لانا ناممکن ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط میں مزید لکھا کہ جوڈیشل کمیشن کے سیکرٹری چھٹیوں پر ہیں، قائم مقام سیکرٹری اجلاس کے فیصلوں کے بارے میں میٹنگ منٹس بنائیں، قوم کی نظریں جوڈیشل کمیشن کے اجلاس پر مرکوز ہیں، اجلاس میں کیا فیصلہ ہوا یہ جاننا عوام کا آئینی حق ہے، جوڈیشل کمیشن اجلاس کے بارے میں میڈیا میں غیر ضروری قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط میں لکھا کہ جوڈیشل کمیشن نے سندھ اور لاہور ہائیکورٹ کے 4 ججوں کے نام مسترد اور ایک نام پر کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

  • آئین اورپارلیمنٹ کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے: وزیراعظم

    آئین اورپارلیمنٹ کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے: وزیراعظم

    اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل میں کہا ہے کہ آئین اورپارلیمنٹ کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

    اپنی ٹوئٹ میں شہباز شریف کا کہنا تھاکہ آئین نے ریاستی اختیار پارلیمنٹ، انتظامیہ اور عدلیہ کو تفویض کیے ہیں اور آئین نے سب اداروں کو متعین حدود میں کام کرنے کا پابند کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کوئی ادارہ کسی دوسرے کے اختیار میں مداخلت نہیں کرسکتا، آئین اورپارلیمنٹ کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھاکہ عدلیہ کی ساکھ کا تقاضا اور قرین انصاف یہی تھا کہ فل کورٹ تشکیل دیا جاتا، انصاف نہ صرف ہوتا بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آتا۔

     

    ان کا کہنا تھاکہ عدالتی فیصلے سے قانون دانوں، سائلین، میڈیا اور عوام کی حصول انصاف کیلئے توقعات کو دھچکا لگا ہے۔

     

     

    دوسری طرف وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سپریم کورت کے فیصلے کو ناپسند کرتے ہوئے کچھ اہم پیغامات بھی شیئرکیئے ہیں ، جن میں کہا گیا ہے کہ دو دن سے میڈیا پر پاکستان تحریک انصاف کی نوٹنکی جاری ہے،

    ’شکریہ اللہ، شکریہ عوام:عمران خان کا سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم

    ہماری فل کورٹ کی اپیل کو مسترد کرنے کے فیصلے نے آج کے فیصلے کو پہلے ہی متنازعہ بنا دیا تھا، سول سوسائٹی، وکلاء برادری، باری ایسوسی ایشن کے نمائندوں، وکلائ، قانونی ماہرین نے کل کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا، فل کورٹ آئینی مسئلہ کی تشریح کے لئے بنا دیا جاتا تو آج کا فیصلہ متنازعہ نہ ہوتا، مریم اورنگزیب

    حمزہ شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ نہیں ہوں گے تو اس سے مسلم لیگ (ن) کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، وفاقی وزیر اطلاعات وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے سپریم کورٹ کی جانب سے پنجاب کے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ مسترد کرنے کے فیصلے پر کہا ہے کہ عدلیہ کو ان جکڑی ہوئی چیزوں سے نکالنے کی جدوجہد کا آغاز ہوا ہے، پاکستان کے عوام کو آئین اور پارلیمان کی بالادستی واپس لے کر دیں گے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کی عدلیہ بحالی کی جدوجہد تھی، آج سے اس کا دوسرا باب شروع ہوا ہے۔

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ فل کورٹ کی تشکیل کے لیے دائر درخواست نے پہلے ہی اس تین رکنی بینچ پر عدم اعتماد کر دیا تھا، جب کل فل کورٹ کی درخواست مسترد ہوئی تو ہمارے وکلا نے آج سپریم کورٹ میں تین رکنی بینچ کی کارروائی کا بائیکاٹ کرکے بھی عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا کہ آج جو فیصلہ آئے گا، وہ فیصلہ نہ عوام کو قابل قبول ہوگا، نہ فریقین کو قابل قبول ہوگا کیونکہ یہ نہیں ہوسکتا کہ پنجاب کے اوپر چوری کرکے آر ٹی ایس سٹم بیٹھا کر 2018 میں مسلط کیا تھا اس کو دوبارہ پنجاب پر مسلط کریں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ آئینی، پارلیمانی اور دو خطوط کا ہے، ایک خط عمران خان نے لکھا تھا جس کی وجہ سے حمزہ شہباز کو ڈالے جانے ووٹوں میں سے 25 ووٹوں کو نکال دیا جاتا ہے، اور ووٹ ڈالنے والے اراکین کو ڈی سیٹ کر دیا جاتا ہے، عمران خان کا خط پارٹی سربراہ کی حیثیت سے لکھا جاتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت حسین بطور پارٹی سربراہ اپنے اراکین اسمبلی کو ہدایات جاری کی تھی کہ وہ عمران خان کے امیدوار کو ووٹ نہ ڈالیں اور حمزہ شہباز کو ووٹ کاسٹ کریں، سپریم کورٹ کے اسی فیصلے کے مطابق ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ دی کہ مسلم لیگ (ق) کے 10 اراکین کے ووٹوں کو مسترد کیا جاتا ہے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم نواز کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت حسین کی جانب بطور پارٹی سربراہ لکھا جانے والا خط حرام ہے جبکہ عمران خان کا بطور پارٹی سربراہ لکھا جانے والے خط کی وجہ سے 25 ووٹوں کو شمار نہیں کیا جاتا جبکہ چوہدری شجاعت حسین کی جانب سے لکھے جانے والے خط کے باوجود پرویز الہیٰ کو ڈالے گئے ووٹوں کو شمار کیا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے ہم نے فل کورٹ تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ تین رکنی بینچ بننے سے لے کر اب تک انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا تھا، اسی لیے حکومتی اتحاد کے تمام سیاسی قائدین سمیت تمام اطراف سے یہی آوازیں آئیں کہ ہمیں فل کورٹ چاہیے، اگر فل کورٹ بن جاتا تو آج کا فیصلہ مختلف ہوتا، ایک شخص کی خاطر آئین کی تشریح میں فرق ڈالا جا رہا ہے، اپنی مرضی سے آئین کی تشریح کی جا رہی ہے۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ آوازیں آ رہی تھیں کہ پانچ رکنی بینچ نے تین بار کے منتخب وزیراعظم نوازشریف کو نکالا تھا، اس دن کے فیصلے کے بعد سے آج تک ملک میں معاشی تباہی، بے روزگاری، افلاس، بھوک، افراتفری، فساد اور نفرت کے بیج بوئے گئے، آج کا فیصلہ اسی کا تسلسل ہے، اور اثرات بھی ویسے ہی ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج کا فیصلہ ملک میں مزید تقسیم پیدا کرے گا، ملک میں مزید انتشار پیدا ہوگا اورانصاف پر زیادہ انگلیاں اٹھائی جائیں گی، اس لیے فل کورٹ بنانا چاہیے تھا۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ آپ کو یاد ہوگا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی عدلیہ بحالی کی جدوجہد تھی، آج سے اس کا دوسرا باب شروع ہوا ہے، آئین کی بالادستی، پارلیمان کی بالادستی اور عدلیہ کو ان جکڑی ہوئی چیزوں سے نکالنے کی جدوجہد کا آغاز ہوا ہے، پاکستان کے عوام کو آئین اور پارلیمان کی بالادستی واپس لے کر دیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام کا اصل مینڈیٹ جو 2018 میں چوری ہوا، جو اس وقت کے عدالتی فیصلے نے چوری کیا جب نواز شریف کو اپنی کرسی سے ہٹایا گیا، آج کے فیصلے کو بھی آئین اور پارلیمان کی بالادستی میں تبدیل کریں گے۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن کے رہنما قانون ملک احمد نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک بحث کل سے چل رہی ہے کہ ڈائریکشن پارٹی سربراہ کی ہوگی یا پارلیمانی پارٹی کی، اس حوالے سے وکلا کا مؤقف تھا کہ فل کورٹ تشکیل دیں.

    ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے ایک انتہائی غیر مناسب صورتحال پیدا ہوئی ہے، اس سے پنجاب اسمبلی کی خودمختاری متاثر ہوئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ تقاضہ کرتے ہوئے کہ انصاف کی توقع نہیں ہے، عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا، یہ معمولی واقعہ نہیں ہے اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

  • ’شکریہ اللہ، شکریہ عوام:عمران خان کا سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم

    ’شکریہ اللہ، شکریہ عوام:عمران خان کا سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ڈپٹی اسپکر پنجاب اسمبلی رولنگ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

    ٹویٹر پیغام میں سابق وزیراعظم نے سپریم کورٹ کے ججز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

    دوسری طرف سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں سابق وزیراعظم نے لکھا کہ میں سپریم کورٹ کے ججوں کی ہر طرح کی دھمکیوں کے خلاف ثابت قدم رہنے اور آئین اور قانون کی حکمرانی بحال کرنے پر میں ججز کو سراہتا ہوں

     

     

    سابق وزیراعظم نے پنجاب ضمنی الیکشن میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے بڑی تعداد میں گھروں سے نکلنے پر پنجاب کے عوام کا بھی شکریہ ادا کیا ہے جبکہ مزید لکھا ہے کہ میں بیرسٹر علی ظفر اور ان کی ٹیم کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دیتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب مقرر کردیا۔

     

     

    سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے دوران اسپیکر پنجاب اسمبلی کی ق لیگ کے 10 ووٹ مسترد کرنے کی رولنگ کو کالعدم قرار دے دیا۔چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے 11 صفحات پر مشتمل فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز شریف کا وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے حلف غیر آئینی تھا۔

  • وزیراعظم شہباز شریف  نے کل کابینہ اجلاس طلب کر لیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے کل کابینہ اجلاس طلب کر لیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے کل کابینہ اجلاس طلب کر لیااجلاس دن دو بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد کیا جائے گا ، پہلی مرتبہ کابینہ اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کیا گیا ہے ، قومی اسمبلی کا اجلاس بھی کل شام چار بجے ہو گا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کےمطابق سپریم کورٹ کے فیصلے میں حمزہ شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب نہیں رہے اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے کل کابینہ اجلاس طلب کر لیا،اجلاس دن دو بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد کیا جائے گا، قومی اسمبلی کا اجلاس بھی کل شام چار بجے ہو گا،پہلی مرتبہ کابینہ اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کیا گیا ہے۔

    ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ کابینہ اجلاس میں اہم سیاسی فیصلے متوقع ہیں،کابینہ اجلاس کا تاحال ایجنڈا جاری نہیں کیا گیا،کل قومی اسمبلی کا اجلاس بھی شام چار بجے ہو گا،حکومتی ارکان کو قومی اسمبلی اجلاس میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    عدالت نے حکم دیا ہےکہ آج رات 11:30 تک پرویز الٰہی بطور وزیراعلیٰ پنجاب حلف لیں، گورنر پنجاب آج رات ساڑھے گیارہ بجے تک پرویز الٰہی سے وزیراعلیٰ کا حلف لیں، فیصلے پر فوری عمل یقینی بنایا جائے،گورنر اگر پرویز الٰہی سے حلف نہ لیں تو صدر مملکت وزیراعلیٰ پنجاب سے حلف لیں گے، فیصلے کی کاپی فوری طور پر گورنر پنجاب، ڈپٹی اسپیکر اور چیف سیکرٹری کو بھیجی جائے سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کی جانب سے بطور وزیر اعلیٰ تقرریاں بھی کالعدم قرار دے دی ہیں۔

    کیس کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی تھی، بینچ میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے ،

    سپریم کورٹ میں مونس الہیٰ اور حسین الہیٰ سپریم کورٹ میں موجود ہیں. ق لیگ کے 9 ارکان بھی چوہدری مونس کے ہمراہ سپریم کورٹ میں موجود تھے، ڈاکٹر بابر اعوان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے شبلی فراز بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے سپریم کورٹ کی سیکورٹی سخت کی گئی تھی ، پولیس کی بھاری نفری عدالت کے باہر موجود تھی ،خواتین پولیس اہلکاروں کو بھی سپریم کورٹ کے باہر تعینات کیا گیا تھا، عدالت کے باہر قیدیوں کی گاڑی بھی موجود تھی ،سپریم کورٹ کے باہر مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی موجود تھے-

  • متنازعہ عدالتی فیصلہ ؛ حمزہ شہباز شریف کا بیان سامنے آ گیا

    متنازعہ عدالتی فیصلہ ؛ حمزہ شہباز شریف کا بیان سامنے آ گیا

    حمزہ شہباز شریف نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بیان میں کہا کہ ایک متنازعہ فیصلے کے ذریعے عوام کے ووٹوں سے منتخب حکومت کو گھر بھیجا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : حمزہ شہباز شریف نے کہا کہ کیا اسمبلی کی حیثیت ایک ربر اسٹیمپ کی رہ گئی ہے؟ پچھلے چار ماہ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں تماشہ لگا ہوا ہےعوام دیکھ رہی ہے کہ تحریک انصاف کو آئین سے کھلواڑ کرنے کی کھلی چھٹی دی جاتی ہے۔

    حمزہ شہباز نے کہا کہ دوسری طرف ایک آئینی اور قانونی طریقہ کار کو ردی کی ٹوکریوں میں پھینک دیا جاتا ہے ہماری تاریخ ایسے سیاہ فیصلوں سے بھری پڑی ہے ہماری فل کورٹ کی استدعا کو بھی نامنظور کر کے انصاف کا قتل کیا گیا میری سیاست عہدوں کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے ہے۔

    انہوں نے کہا کہ غیر آئینی اقدامات کے ذریعے پہلے دن سے ہمیں جائز حق حکمرانی سے محروم رکھنے کی کوشش کی گئی تمام مشکلات کے باوجود آٹے پر سبسڈی ، مفت ادویات اور روشن گھرانا مفت بجلی جیسے پروگرامز سے عوام کو ریلیف دینے کے مشن سے پیچھے نہیں ہٹا۔

    حمزہ شہباز نے کہا کہ سدا بادشاہی اللہ تعالی کی ہے، نہ کسی کی ہار ہمیشہ کی ہے نہ کسی جیت کو دوام حاصل ہے مشن پاکستان کو بچانا ہے اور میں اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔

    حمزہ شہبازشریف نےکہا کہ جسٹس منیر اور مولوی مشتاق کی بدروحیں آج بھی عوام کی امنگوں پر ڈاکے ڈال رہی ہیں،بھٹو کو پھانسی دینے والے ججوں نے بعد میں پچھتاوے کا اظہار کیا لیکن ملک کو ہونے والےنقصان کی تلافی نہ ہوسکی۔

  • سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے یا نہیں؟وزیر اعظم ہاؤس میں حکومتی اتحاد کا اعلیٰ سطحی اجلاس

    سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے یا نہیں؟وزیر اعظم ہاؤس میں حکومتی اتحاد کا اعلیٰ سطحی اجلاس

    عدالت عظمیٰ کی جانب سے دیے جانے والے فیصلے پر مشاورت کے لیے حکمران اتحاد میں شامل اہم جماعتوں کے قائدین نے مشاورت شروع کردی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اس حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس وزیراعظم میاں شہباز شریف کی زیر صدارت وزیر اعظم ہاؤس میں ہو رہا ہے زیراعظم کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر مرکزی رہنما اور وفاقی وزرا و مشیران بھی شریک ہیں۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے پرنواز شریف اور مریم نواز کا سخت ردعمل

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بینچ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے موقع پر دی جانے والی رولنگ کالعدم قرار دے دی ہے اور حکم دیا ہے کہ گورنر آج ساڑھے گیارہ بجے پرویز الٰہی سے وزارت اعلیٰ کا حلف لیں ،گورنر اگر پرویز الٰہی سے حلف نہ لیں تو صدر مملکت وزیراعلیٰ پنجاب سے حلف لیں گے، فیصلے کی کاپی فوری طور پر گورنر پنجاب، ڈپٹی اسپیکر اور چیف سیکرٹری کو بھیجی جائے۔

    سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کی جانب سے بطور وزیر اعلیٰ تقرریاں بھی کالعدم قرار دے دی ہیں۔

  • سپریم کورٹ کے فیصلے پرنواز شریف اور مریم نواز کا سخت ردعمل

    سپریم کورٹ کے فیصلے پرنواز شریف اور مریم نواز کا سخت ردعمل

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قئاد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی اور جماعت کی مرکزی نائب صدر مریم نواز کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل سامنے آگیا-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس میں پرویز الٰہی کی درخواست منظور کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری کی رولنگ کالعدم قراردے دی سپریم کورٹ نے پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب قرار دیا اور گورنر پنجاب کو آج رات ہی ان سے حلف لینے کا حکم دیا ہے۔


    سپریم کورٹ کے فیصلے پر مریم نواز نے سماجی رابطےھ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر رد عمل دیتے ہوئے اپنی ٹوئٹ میں ’جوڈیشل کُوپ‘ لکھا۔


    انہوں نے ایک اور ٹوئٹ کی جس میں ’انصاف کا قتل نا منظور‘ لکھا-


    جبکہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے ٹوئٹر پر کہا کہ پاکستان کو ایک تماشہ بنا دیا گیا ہے، تینوں جج صاحبان کو سلام-

    خیال رہے کہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ درست نہیں، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دی جاتی ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہےکہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا کوئی قانونی جواز نہیں، پنجاب کابینہ بھی کالعدم قرار دی جاتی ہے، حمزہ شہباز اور ان کی کابینہ فوری طور پر عہدہ چھوڑیں۔

    عدالت نے حکم دیا ہےکہ آج رات 11:30 تک پرویز الٰہی بطور وزیراعلیٰ پنجاب حلف لیں، گورنر پنجاب آج رات ساڑھے گیارہ بجے تک پرویز الٰہی سے وزیراعلیٰ کا حلف لیں، فیصلے پر فوری عمل یقینی بنایا جائے،گورنر اگر پرویز الٰہی سے حلف نہ لیں تو صدر مملکت وزیراعلیٰ پنجاب سے حلف لیں گے، فیصلے کی کاپی فوری طور پر گورنر پنجاب، ڈپٹی اسپیکر اور چیف سیکرٹری کو بھیجی جائے۔

    سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کی جانب سے بطور وزیر اعلیٰ تقرریاں بھی کالعدم قرار دے دی ہیں۔