Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • وزیراعظم شہباز شریف  نے کل کابینہ اجلاس طلب کر لیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے کل کابینہ اجلاس طلب کر لیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے کل کابینہ اجلاس طلب کر لیااجلاس دن دو بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد کیا جائے گا ، پہلی مرتبہ کابینہ اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کیا گیا ہے ، قومی اسمبلی کا اجلاس بھی کل شام چار بجے ہو گا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کےمطابق سپریم کورٹ کے فیصلے میں حمزہ شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب نہیں رہے اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے کل کابینہ اجلاس طلب کر لیا،اجلاس دن دو بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد کیا جائے گا، قومی اسمبلی کا اجلاس بھی کل شام چار بجے ہو گا،پہلی مرتبہ کابینہ اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کیا گیا ہے۔

    ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ کابینہ اجلاس میں اہم سیاسی فیصلے متوقع ہیں،کابینہ اجلاس کا تاحال ایجنڈا جاری نہیں کیا گیا،کل قومی اسمبلی کا اجلاس بھی شام چار بجے ہو گا،حکومتی ارکان کو قومی اسمبلی اجلاس میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    عدالت نے حکم دیا ہےکہ آج رات 11:30 تک پرویز الٰہی بطور وزیراعلیٰ پنجاب حلف لیں، گورنر پنجاب آج رات ساڑھے گیارہ بجے تک پرویز الٰہی سے وزیراعلیٰ کا حلف لیں، فیصلے پر فوری عمل یقینی بنایا جائے،گورنر اگر پرویز الٰہی سے حلف نہ لیں تو صدر مملکت وزیراعلیٰ پنجاب سے حلف لیں گے، فیصلے کی کاپی فوری طور پر گورنر پنجاب، ڈپٹی اسپیکر اور چیف سیکرٹری کو بھیجی جائے سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کی جانب سے بطور وزیر اعلیٰ تقرریاں بھی کالعدم قرار دے دی ہیں۔

    کیس کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی تھی، بینچ میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے ،

    سپریم کورٹ میں مونس الہیٰ اور حسین الہیٰ سپریم کورٹ میں موجود ہیں. ق لیگ کے 9 ارکان بھی چوہدری مونس کے ہمراہ سپریم کورٹ میں موجود تھے، ڈاکٹر بابر اعوان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے شبلی فراز بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے سپریم کورٹ کی سیکورٹی سخت کی گئی تھی ، پولیس کی بھاری نفری عدالت کے باہر موجود تھی ،خواتین پولیس اہلکاروں کو بھی سپریم کورٹ کے باہر تعینات کیا گیا تھا، عدالت کے باہر قیدیوں کی گاڑی بھی موجود تھی ،سپریم کورٹ کے باہر مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی موجود تھے-

  • متنازعہ عدالتی فیصلہ ؛ حمزہ شہباز شریف کا بیان سامنے آ گیا

    متنازعہ عدالتی فیصلہ ؛ حمزہ شہباز شریف کا بیان سامنے آ گیا

    حمزہ شہباز شریف نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بیان میں کہا کہ ایک متنازعہ فیصلے کے ذریعے عوام کے ووٹوں سے منتخب حکومت کو گھر بھیجا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : حمزہ شہباز شریف نے کہا کہ کیا اسمبلی کی حیثیت ایک ربر اسٹیمپ کی رہ گئی ہے؟ پچھلے چار ماہ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں تماشہ لگا ہوا ہےعوام دیکھ رہی ہے کہ تحریک انصاف کو آئین سے کھلواڑ کرنے کی کھلی چھٹی دی جاتی ہے۔

    حمزہ شہباز نے کہا کہ دوسری طرف ایک آئینی اور قانونی طریقہ کار کو ردی کی ٹوکریوں میں پھینک دیا جاتا ہے ہماری تاریخ ایسے سیاہ فیصلوں سے بھری پڑی ہے ہماری فل کورٹ کی استدعا کو بھی نامنظور کر کے انصاف کا قتل کیا گیا میری سیاست عہدوں کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے ہے۔

    انہوں نے کہا کہ غیر آئینی اقدامات کے ذریعے پہلے دن سے ہمیں جائز حق حکمرانی سے محروم رکھنے کی کوشش کی گئی تمام مشکلات کے باوجود آٹے پر سبسڈی ، مفت ادویات اور روشن گھرانا مفت بجلی جیسے پروگرامز سے عوام کو ریلیف دینے کے مشن سے پیچھے نہیں ہٹا۔

    حمزہ شہباز نے کہا کہ سدا بادشاہی اللہ تعالی کی ہے، نہ کسی کی ہار ہمیشہ کی ہے نہ کسی جیت کو دوام حاصل ہے مشن پاکستان کو بچانا ہے اور میں اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔

    حمزہ شہبازشریف نےکہا کہ جسٹس منیر اور مولوی مشتاق کی بدروحیں آج بھی عوام کی امنگوں پر ڈاکے ڈال رہی ہیں،بھٹو کو پھانسی دینے والے ججوں نے بعد میں پچھتاوے کا اظہار کیا لیکن ملک کو ہونے والےنقصان کی تلافی نہ ہوسکی۔

  • سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے یا نہیں؟وزیر اعظم ہاؤس میں حکومتی اتحاد کا اعلیٰ سطحی اجلاس

    سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے یا نہیں؟وزیر اعظم ہاؤس میں حکومتی اتحاد کا اعلیٰ سطحی اجلاس

    عدالت عظمیٰ کی جانب سے دیے جانے والے فیصلے پر مشاورت کے لیے حکمران اتحاد میں شامل اہم جماعتوں کے قائدین نے مشاورت شروع کردی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اس حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس وزیراعظم میاں شہباز شریف کی زیر صدارت وزیر اعظم ہاؤس میں ہو رہا ہے زیراعظم کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر مرکزی رہنما اور وفاقی وزرا و مشیران بھی شریک ہیں۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے پرنواز شریف اور مریم نواز کا سخت ردعمل

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بینچ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے موقع پر دی جانے والی رولنگ کالعدم قرار دے دی ہے اور حکم دیا ہے کہ گورنر آج ساڑھے گیارہ بجے پرویز الٰہی سے وزارت اعلیٰ کا حلف لیں ،گورنر اگر پرویز الٰہی سے حلف نہ لیں تو صدر مملکت وزیراعلیٰ پنجاب سے حلف لیں گے، فیصلے کی کاپی فوری طور پر گورنر پنجاب، ڈپٹی اسپیکر اور چیف سیکرٹری کو بھیجی جائے۔

    سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کی جانب سے بطور وزیر اعلیٰ تقرریاں بھی کالعدم قرار دے دی ہیں۔

  • سپریم کورٹ کے فیصلے پرنواز شریف اور مریم نواز کا سخت ردعمل

    سپریم کورٹ کے فیصلے پرنواز شریف اور مریم نواز کا سخت ردعمل

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قئاد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی اور جماعت کی مرکزی نائب صدر مریم نواز کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل سامنے آگیا-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس میں پرویز الٰہی کی درخواست منظور کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری کی رولنگ کالعدم قراردے دی سپریم کورٹ نے پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب قرار دیا اور گورنر پنجاب کو آج رات ہی ان سے حلف لینے کا حکم دیا ہے۔


    سپریم کورٹ کے فیصلے پر مریم نواز نے سماجی رابطےھ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر رد عمل دیتے ہوئے اپنی ٹوئٹ میں ’جوڈیشل کُوپ‘ لکھا۔


    انہوں نے ایک اور ٹوئٹ کی جس میں ’انصاف کا قتل نا منظور‘ لکھا-


    جبکہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے ٹوئٹر پر کہا کہ پاکستان کو ایک تماشہ بنا دیا گیا ہے، تینوں جج صاحبان کو سلام-

    خیال رہے کہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ درست نہیں، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دی جاتی ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہےکہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا کوئی قانونی جواز نہیں، پنجاب کابینہ بھی کالعدم قرار دی جاتی ہے، حمزہ شہباز اور ان کی کابینہ فوری طور پر عہدہ چھوڑیں۔

    عدالت نے حکم دیا ہےکہ آج رات 11:30 تک پرویز الٰہی بطور وزیراعلیٰ پنجاب حلف لیں، گورنر پنجاب آج رات ساڑھے گیارہ بجے تک پرویز الٰہی سے وزیراعلیٰ کا حلف لیں، فیصلے پر فوری عمل یقینی بنایا جائے،گورنر اگر پرویز الٰہی سے حلف نہ لیں تو صدر مملکت وزیراعلیٰ پنجاب سے حلف لیں گے، فیصلے کی کاپی فوری طور پر گورنر پنجاب، ڈپٹی اسپیکر اور چیف سیکرٹری کو بھیجی جائے۔

    سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کی جانب سے بطور وزیر اعلیٰ تقرریاں بھی کالعدم قرار دے دی ہیں۔

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد  پرویز الہیٰ کی رہائش گاہ پر جشن

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پرویز الہیٰ کی رہائش گاہ پر جشن

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد لاہور میں پرویز الہیٰ کی رہائش گاہ پر جشن شروع ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس میں پرویز الٰہی کی درخواست منظور کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری کی رولنگ کالعدم قراردے دی اور پرویز الہیٰ کو وزیراعلیٰ پنجاب قرار دے دیا۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد لاہور میں پرویز الہیٰ کی رہائش گاہ پر جشن شروع ہوگیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف اور ق لیگ کے حامی پرویز الہیٰ کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔

    خیال رہے کہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ درست نہیں، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دی جاتی ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہےکہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا کوئی قانونی جواز نہیں، پنجاب کابینہ بھی کالعدم قرار دی جاتی ہے، حمزہ شہباز اور ان کی کابینہ فوری طور پر عہدہ چھوڑیں۔

    عدالت نے حکم دیا ہےکہ آج رات 11:30 تک پرویز الٰہی بطور وزیراعلیٰ پنجاب حلف لیں، گورنر پنجاب آج رات ساڑھے گیارہ بجے تک پرویز الٰہی سے وزیراعلیٰ کا حلف لیں، فیصلے پر فوری عمل یقینی بنایا جائے،گورنر اگر پرویز الٰہی سے حلف نہ لیں تو صدر مملکت وزیراعلیٰ پنجاب سے حلف لیں گے، فیصلے کی کاپی فوری طور پر گورنر پنجاب، ڈپٹی اسپیکر اور چیف سیکرٹری کو بھیجی جائے سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کی جانب سے بطور وزیر اعلیٰ تقرریاں بھی کالعدم قرار دے دی ہیں۔

    کیس کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی تھی، بینچ میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے ،

    سپریم کورٹ میں مونس الہیٰ اور حسین الہیٰ سپریم کورٹ میں موجود ہیں. ق لیگ کے 9 ارکان بھی چوہدری مونس کے ہمراہ سپریم کورٹ میں موجود تھے، ڈاکٹر بابر اعوان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے شبلی فراز بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے سپریم کورٹ کی سیکورٹی سخت کی گئی تھی ، پولیس کی بھاری نفری عدالت کے باہر موجود تھی ،خواتین پولیس اہلکاروں کو بھی سپریم کورٹ کے باہر تعینات کیا گیا تھا، عدالت کے باہر قیدیوں کی گاڑی بھی موجود تھی ،سپریم کورٹ کے باہر مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی موجود تھے-

  • سپریم کورٹ کا فیصلہ،حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے سربراہان کا اجلاس طلب

    سپریم کورٹ کا فیصلہ،حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے سربراہان کا اجلاس طلب

    سپریم کورٹ کے ممکنہ فیصلے کے پیش نظر حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے سربراہان کا اجلاس طلب کرلیا گیا ۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اتحادی جماعتوں کے سربراہان کااجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوگا ،اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے اور سیاسی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔اجلاس میں پنجاب کی سیاسی صورتحال پر بھی غور کیا جائیگا۔

    واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ پنجا ب کے حوالے سے سپریم کورٹ بھی اپنا فیصلہ کچھ دیر میں سنائے گی ۔ پی ڈی ایم جماعتوں کے سربراہان پہلے ہی عدالتی پراسیس کا حصہ بننے سے انکار کرچکے ہیں

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے ڈپٹی سپیکر رولنگ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ سنائے جانے سے کچھ وقت قبل سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے حکومت کو ڈٹ جانے کا مشورہ دیا ہے۔


    انہوں نے لکھا کہ حکومت مشکل صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرے یا سٹیٹس کو کا شکار بنے۔ حکومت کو چاہیے سخت موقف اختیار کرے اور ڈٹ جائے۔لیڈر تب بنتا ہے جب وہ مشکل حالات کا سامنا کرتا ہے۔

    دوسری جانب ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ فیصلے سے قبل سابق وزیراعظم نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا،پنجاب کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف کو پنجاب میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو متحرک رکھنے اور پی ڈی ایم کے رہنماؤں سے بھی مشاورت جاری رکھنے کی ہدایت کی ٹیلیفونک رابطہ میں نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف کو پی ڈی ایم کا اتحاد پنجاب میں مزید منظم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

  • پرویز الہٰی وزیراعلیٰ پنجاب، گورنر حلف لیں، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    پرویز الہٰی وزیراعلیٰ پنجاب، گورنر حلف لیں، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    سپریم کورٹ ،ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ سے متعلق کیس ،فیصلہ سنا دیا گیا

    فیصلہ لیٹ ہونے پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ معذرت چاہتا ہوں، چودھری پرویز الہیٰ کی ڈپٹی سپیکر کے خلاف درخواست منظور کر لی گئی ہے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ درست نہیں اسکا کوئی قانونی جواز نہیں، پرویز الہیٰ پنجاب کے وزیراعلیٰ ہیں،

    فیصلے کی تفصیل بعد میں جاری کی جائے گی، حمزہ شہباز کے ووٹ 179 تھے، جبکہ پرویز الہیٰ کو 186 ووٹ ملے جسکی بنیاد پر پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ قرار پائے، حمزہ شہباز کی کابینہ کا نوٹفکیشن کالعدم قرار دے دیا گیا ہے،حمزہ شہباز نے جو حلف اٹھایا وہ بھی غیر آئینی ہے چیف سیکریٹری پرویز الہٰی کابطور وزیراعلیٰ نوٹیفکیشن جاری کریں،گورنر پنجاب پرویز الہیٰ سے حلف لیں ، آج رات ساڑھے گیارہ بجے تک حلف لیا جائے،اگر گورنر دستیاب نہ ہوں تو صدر مملکت حلف لیں، حکم پر عمل یقینی بنایا جائے، حمزہ شہباز نے جو بھی قانونی کام کئے وہ برقرار رہیں گے اس آرڈر کی کاپی گورنر، ڈپٹی اسپیکر اور چیف سیکریٹری کو ارسال کریں،

    کیس کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی تھی، بینچ میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے ،

    سپریم کورٹ میں مونس الہیٰ اور حسین الہیٰ سپریم کورٹ میں موجود ہیں. ق لیگ کے 9 ارکان بھی چوہدری مونس کے ہمراہ سپریم کورٹ میں موجود تھے، ڈاکٹر بابر اعوان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے شبلی فراز بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے سپریم کورٹ کی سیکورٹی سخت کی گئی تھی ، پولیس کی بھاری نفری عدالت کے باہر موجود تھی ،خواتین پولیس اہلکاروں کو بھی سپریم کورٹ کے باہر تعینات کیا گیا تھا، عدالت کے باہر قیدیوں کی گاڑی بھی موجود تھی ،سپریم کورٹ کے باہر مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی موجود تھے


    قبل ازیں کیس کی سماعت شروع ہوئی تو پی ٹی آئی کے وکیل احمد اویس عدالت میں پیش ہوئے ،احمد اویس نے کہا کہ وزیر اعلی کے انتخاب کا معاملہ ہے دو اپریل سے چل رہا تھا،یہ معاملہ پہلے کیوں سب کو یاد نہ آیا،سوال یہ ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے کس پیرا کی بنیاد پرہمارے ووٹ شمار نہیں کئے،اس میں کوئی شک نہیں 63 اے کے مطابق پارٹی ہیڈ کا اہم کردار ہوتا ہے تین ماہ سے وزیر اعلی پنجاب کا معاملہ زیر بحث تھا

    علی ظفر نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں 63 اے کے مطابق پارٹی ہیڈ کا اہم کردار ہوتا ہے ،وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ ق لیگ کے تمام ارکان کو علم تھا کہ کس کو ووٹ دینا ہے،علی ظفر نے کہا کہ پارٹی ہیڈ پارٹی کی کئی کمیٹیوں کا سربراہ بھی ہوتا ہے،عائشہ گلالئی کیس میں عدالت پارٹی سربراہ کے کردار کا جائزہ لیا گیا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جو بیس منحرف ارکان تھے ان میں سے کتنے ارکان نے ضمنی انتخابات میں حصہ لیا؟ علی ظفر ابھی جو آپ دلائل دے رہے ہیں وہ کولیٹرل دلائل ہیں، وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ جو ممبران منحرف ہوئے انہوں نے دوبارہ دوسری پارٹی کی ٹیکٹ پر انتخابات میں حصہ لیا ،علی ظفر نے کہا ہک عائشہ گلالئی کیس کا فیصلہ میرے موکل کے خلاف ہے لیکن آئین کے مطابق ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ یکم جولائی کے سپریم کورٹ کا حکم نامہ کیا اتفاق رائے پر مبنی تھا ؟ جس پر علی ظفر نے کہا کہ جی وہ اتفاق رائے پر مبنی فیصلہ تھا ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ کے فیصلے پر کوئی اعتراض کیا جاسکتا ہے ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ دونوں فریقین اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ انتخابات کے بعد جو نتیجہ آیا تھا اس پر رن آف الیکشن ہوگا، علی ظفر نے کہا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں وزیر اعلی کے انتخاب تک حمزہ شہباز کو وزیر اعلی رہنے کی ہدایت کی تھی، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پل کے نیچے بہت زیادہ پانی گزر چکا ہے اب اس معاملے کو کیسے سن سکتے ہیں؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایڈووکیٹ جنرلز کے جواب کا انتظار کررہے ہیں،علی ظفر نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق نہیں دی، ڈپٹی اسپیکر الیکشن کمیشن کے فیصلے کا پابند بھی نہیں ہے،

    ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو رضا مندی دی گئی ضمنی الیکشن ہونے دیا جائے یہ یقین دہانی بھی دی گئی کہ ضمنی الیکشن کے نتائج پر رن آف الیکشن کرایا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یکم جولائی کو وزیراعلی کا الیکشن ضمنی انتخابات کے بعد ہونے کا حکم فریقین کے اتفاق رائے سے تھا،کیا ضمنی انتخابات کے بعد منحرف ارکان کی اپیل تک سماعت روکنے کا اعتراض ہو سکتا ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ اصولی طور پر منحرف ارکان کی اپیلوں کو پہلے سننے کا اعتراض نہیں بنتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور میں عدالت نے نوٹسز جاری کرکے کہا تھا قانونی نکات پر دلائل دیئے جائیں، اس عدالت کے 8 ججز نے اپنے گزشتہ فیصلے میں کیا کہا تھا وہ دیکھ لیا ہے،آرٹیکل 63 اے پر تشریح ہوچکی ہے اس پر اب مزید ضرورت نہیں، یہاں پر کوئی اور ہے جو دلائل دے؟ اس صورتحال میں ہم ایک وقفہ کرتے ہیں ،

    وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ یہ لوگ نظر ثانی کی بنیاد پر تمام کارروائی روکنا چاہتے ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اظہر صدیق اپ کس کی نمائندگی کررہے ہیں؟ وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ 20میں سے 16 منحرف ارکان نے ن لیگ،2 نے آزاد الیکشن لڑا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹارنی جنرل نہیں ہیں تو مجھے دلائل دینے کی اجازت دی جائے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ اٹارنی جنرل بیمار ہیں اور بیرون ملک علاج کرا رہے ہیں ،اٹارنی جنرل یکم کو آئیں گے اس وقت تک انتظار نہیں کرسکتے، آپ دلائل دیں،ہم نے سماعت کے پہلے حصے میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے معاملے پر دلائل سنے،دوسرے حصے میں ہم نے پارٹی ہیڈ کے متعلق دلائل سنے، عامر رحمان نے کہا کہ آرٹیکل 63 والے کیس میں پارٹی ہیڈ اور پارلیمانی پارٹی کے کردار پر کوئی بات نہیں ہوئی تھی، ایک فل کورٹ نے 2015میں پارٹی ہیڈ کے بارے میں فیصلہ دیا تھا،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ہم آپ کا نکتہ سمجھ گئے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ جس فیصلے کا آپ حوالہ دے رہے ہیں وہ ایک رائے تھی یا فیصلہ تھا ؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کے مطابق پارلیمانی پارٹی کو اختیار دینا ضروری ہے،پارلیمانی پارٹی کو مضبوط کرنا پارلیمانی جمہوریت کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 2015 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق پارٹی سربراہ ہدایت دے سکتا ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل آپ ایسے دلائل دیں جو ہمیں مطمئن کریں،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب اسمبلی کی کاروائی کا جو مسودہ ہمیں دیا گیا ہے اس میں ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ دی اور کہا کہ اس کو چیلنج کرسکتے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ ڈپٹی اسپیکر پڑھے لکھے ہیں ، آرٹیکل 63 کی جو زبان ہے وہ ایک عام ادمی بھی سمجھ سکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین پر عمل کرنا ہماری ذمہ داری ہے تمام وکلا نے عدالت کی معاونت کی ہے۔ گزشتہ دن دوسرے فریقین نے اپنے جواب جمع کرائے ،سماعت میں وقفہ کرتے ہیں ، پونے 6 بجے فیصلہ سنائیں گے،

    منگل وقفے سے قبل کی سماعت پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

    سپریم کورٹ میں بڑی سماعت ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ سے متعلق متوقع فیصلے کے پیش نظر سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے،سپریم کورٹ کے اطراف آنیوالے راستوں کو بند کر دیا گیا ہے، ڈی چوک، نادرا چوک سمیت دیگر شاہراہوں کو بند کر دیا گیا خار دار تاریں، بلاکس لگا کر بند کیا گیا ہے

    قبل ازیں سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کے الیکشن سے متعلق گزشتہ روز کی سماعت کا حکمنامہ جاری کردیا۔حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ فل کورٹ کی استدعا مسترد کی جاتی ہے، فل کورٹ تشکیل نہ دینے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی،حمزہ شہباز ،ڈپٹی اسپیکر اور دیگر وکلاء کی طرف سے مزید وقت مانگا گیا ہے فریق دفاع کے وکلاء کی مزید وقت کی استدعا منظور کی جاتی ہے تمام وکلاء 26 جولائی کو مقدمے کی تیاری کرکے آئیں،

     حکومتی اتحاد کی فوری فل کورٹ بینچ بنانے کی درخواست مسترد

     فل کورٹ مستر کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کےاس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں.حکمران اتحاد 

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    مریم نواز کی حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس

    پرویز الہٰی کے وکیل نے نظرثانی درخواست کی سماعت کے لیے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کردی

  • اگر کوئی ٹھوس وجہ ہو تو مجھ سمیت کوئی بھی جج اپنا فیصلہ تبدیل کرسکتا ہے، چیف جسٹس

    اگر کوئی ٹھوس وجہ ہو تو مجھ سمیت کوئی بھی جج اپنا فیصلہ تبدیل کرسکتا ہے، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ ،حمزہ شہبازکے انتخاب سے متعلق کیس کی سماعت شروع ہو گئی ہے

    عرفان قادر نے کہا کہ میرے موکل نے ہدایات کی ہیں کہ اس کیس میں مزید پیش نہیں ہونگے۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میرے موکل کی جانب سے بھی یہی ہدایات ہیں کہ پیش نہ ہوں۔ہم نظر ثانی درخواست دائر کرینگے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو ابھی تک ہم نے فریق نہیں بنایا، عدالت نے بیرسٹرعلی ظفر کو روسٹرم پر بلا لیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ اس کیس کو جلدی سے مکمل کریں ، ہم فل کورٹ ستمبرکے دوسرے ہفتے تک نہیں بنا سکتے، عدالت اس کیس کے میرٹس پر دلائل سنے گی،پیپلزپارٹی تو کیس کی فریق ہی نہیں، ہمارے سامنے فل کورٹ بنانے کا کوئی قانونی جواز پیش نہیں کیا گیا،عدالت میں صرف پارٹی سربراہ کی ہدایات پر عمل کرنے کے حوالے سے دلائل دیئے گئے، ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ موجودہ کیس میں فل کورٹ بنانے کی ضرورت نہیں ہے،اصل سوال تھا کہ ارکان کو ہدایات کون دے سکتا ہے، آئین پڑھنے سے واضح ہے کہ ہدایات پارلیمانی پارٹی نے دینی ہیں،اس سوال کے جواب کیلئے کسی مزید قانونی دلیل کی ضرورت نہیں،

    عرفان قادر نے کہا کہ فل کورٹ کے مسترد کیے جانیکے فیصلے پر نظر ثانی فائل کرینگے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کی تشکیل کا مطالبہ تاخیری حربے جیسا ہے 1988میں صدر نے کابینہ کو ہٹایا،63 والے کیس میں آج جو سوال ہے وہ اس وقت نہیں تھا، 21 ویں ترمیم کے فصلے کے مطابق پارلیمانی پارٹی کا سربراہ ہدایات دے سکتا ہے، آئین کہتا ہے کہ ووٹ دینے کی ہدایت پارلیمانی پارٹی دے سکتی ہے ،کیا 17 میں س8ججز کی رائے کی سپریم کورٹ پابند ہو سکتی ہے؟ فل کورٹ بینچ کی اکثریت نے پارٹی سربراہ کے ہدایت دینے سے اتفاق نہیں کیا تھا،دلائل کے دوران21ویں ترمیم کیس کا حوالہ دیا گیا ، 21ویں ترمیم والے فیصلے میں آبزرویشن ہے کہ پارٹی سربراہ ووٹ دینے کی ہدایت کر سکتا ہے، آرٹیکل 63 اے کی تشریح میں کون ہدایت دے گا یہ سوال نہیں تھا، تشریح کے وقت سوال صرف منحرف ہونے کے نتائج کا تھا، 18 ویں اور 21 ویں ترمیم والے کیس میں یہ معاملہ ہمارے سامنے نہیں آیا،63 اے والے کیس میں بھی ایسا کوئی ایشو سامنے نہیں آیا، علی ظفر آپ درخواست کے میرٹس پر دلائل دے کر عدالت کی معاونت کریں،جو دلائل میں باتیں کی گئیں اس کے مطابق فل کورٹ تشکیل نہیں دی جاسکتی تھی، اس عدالت کا موقف تھا کہ وزیر اعظم جو چیف ایگزیکٹو ہوتا ہے اس کے بغیر حکومت نہیں چل سکتی ،علی ظفر نے کہا کہ اس وقت 63 اے سے متعلق سوال تھا کہ کیا یہ شق درست ہے یا نہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس عظمت نے اپنے فیصلے میں پارٹی سربراہ کی بات کی،عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے والے اعلیٰ وقار کا مظاہرہ کریں، بائیکاٹ کردیا ہے عدالتی کارروائی کو سنیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل علی ظفر کو ہدایت کی کہ قانونی سوالات پر عدالت کی معاونت کریں یا پھر ہم اس بینچ سے الگ ہو جائیں، جو دوست مجھے جانتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ اپنے کام کو عبادت کا درجہ دیتا ہوں، علی ظفر نے فیصلے سے حوالہ دیا اور کہا کہ آرٹیکل63 اے آئین کی ایس شق ہے جو پارٹیوں میں نظم پیدا کرتی ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پارٹی لائن پارلیمانی پارٹی دے سکتی ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ اکیسویں ترمیم سے متعلق درخواستیں 13/4 کی نسبت سے خارج ہوئی تھیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آئینی نکات پر معاونت کریں یا پھر ہم بینچ سے الگ ہوجائیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شکر ہے کہ کچھ وکلا عدالتی کارروائی دیکھنے کے لیے موجود ہیں،علی ظفر نے کہا کہ اکیسویں ترمیم والے کیس میں کچھ ججز نے اپنے الگ سے وجوہات لکھیں تھیں،

    سپریم کورٹ میں علی ظفر نے مختلف عدالتی فیصلوں کے نظائر پیش کیے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے علی ظفر کے دلائل پر استفسارکیا کہ اٹھارویں ترمیم نے 63 شق کو موڈیفائی کیا ، آپ یہ کہنا چاہتے ہیں،پارلیمانی پارٹی اور پارٹی ہیڈ کیا الگ لگ ہوتے ہیں ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پارٹی ہیڈ پارلیمانی پارٹی کی ہدایات پر عمل کرتا ہے ؟پارٹی ہیڈ منحرف ارکان کے خلاف ریفرنس بھیجتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی پارٹی اکیلے میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی ، کوئی اصول ہوگا،میں یہ سمجھ رہا ہوں کہ پارلیمانی پارٹی میں کوئی پروسیس ہوگا ، علی ظفر نے کہا کہ دنیا بھی میں آخری فیصلہ پارلیمانی پارٹی کرتی ہے پارٹی ہیڈ کا آئینی اختیار فیصلے پر عمل کرانا ہے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کہتا ہے کہ پارلیمنٹ پارٹی فیصلہ کرتی ہے اور اس پر کوئی رکن خلاف جاتا ہے تو سربراہ ایکشن لیتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ پارٹی ہیڈ کچھ بھی شروع نہیں کر سکتا ،علی ظفر نے کہا کہ آئین میں کہیں بھی پارلیمانی پارٹی کے ساتھ پارٹی ہیڈ نہیں لکھا جسٹس جواد خواجہ نے اکیسویں ترمیم والے کیس مل یں 63کو آئین سے متصادم قرار دیا تھا،جسٹس جواد خواجہ نے اپنے فیصلے میں وجوہات بیان نہیں کی تھیں،میں جسٹس جواد ایس خواجہ کی رائے سے اتفاق نہیں کرتا،آئین کے مطابق ووٹ کی ہدایت پارلیمانی پارٹی کرتی ہے ،آرٹیکل 63 میں پہلے 1998 میں پارلیمانی پارٹی لکھا تھا جو 2002 میں تبدیل ہو کر پارلیمانی ہیڈ لکھا گیا،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی سے انحراف کرنے والے کے خلاف ایکشن لینا یا اس کی شروعات کرنے کا اختیار آئین کے مطابق پارٹی ہیڈ کے پاس ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سابق جج میاں ثاقب نثار نے وہ درخواستیں خارج کرکے ایک الگ سے نوٹ لکھا تھا، ثاقب نثار نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ آئین کا آرٹیکل 63 ایک دہائی سے فلور کراسنگ کا سبب رہا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جج کا بار بار اپنی رائے تبدیل کرنا اچھی مثال نہیں ہوتی،جج کی رائے میں یکسانیت ہونی چاہیے، علی ظفر نے کہا کہ میری نظر میں جسٹس عظمت سعید کی آبزرویشن آئین کے خلاف ہے، اکیسویں ترمیم میں آرٹیکل 63 اے ایشو نہیں تھا،جسٹس عظمت سعید کی آبزرویشن کی سپریم کورٹ پابند نہیں ،جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ پارلیمانی لیڈر والا لفظ کہاں استعمال ہوا ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے علی ظفر سے سوال کیا کہ آئین کیا کہتا ہے کہ کس کی ہدایات پر ووٹ دیا جائے، علی ظفر کا کہنا تھا کہ
    آئین کے مطابق ووٹ کی ہدایات پارلیمنٹری پارٹی دیتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا پارلیمنٹری پارٹی، پارٹی سربراہ سے الگ ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ پارلیمانی جماعت اور پارٹی لیڈر دو الگ الگ چیزیں ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین کے تحت پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کے فیصلے پر عملدرآمد کراتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی جماعت اپنے طور پر تو کوئی فیصلہ نہیں کرتی،سیاسی جماعت کا فیصلہ پارلیمانی جماعت کو آگاہ کیا جاتا ہے جس کی روشنی میں وہ فیصلہ کرتی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان عدالت میں پیش کہا میں بھی عدالت کی معاونت کرنا چاہتا ہوں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آرٹیکل 63 میں پارٹی ہیڈ کا معاملہ پہلے الگ سے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی سالڈ ریزن ہو تو مجھ سمیت کوئی بھی جج اپنا فیصلہ تبدیل کرسکتا ہے فیصلے میں کوئی غلطی نہ ہوجائے اس لئے سب کو معاونت کی کھلی دعوت ہے، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی حکومت حکمران اتحاد کے فیصلے سے الگ ہوگئی ہے؟ عامر رحمان نے کہا کہ میں صرف آرٹیکل 27کے تحت عدالت کی معاونت کرنا چاہتا ہوں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ دیکھنا ہے کی ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط تواستعمال نہیں کیا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نکتہ یہ ہے کہ دوسرا فریق یہاں موجود ہے لیکن کارروائی میں حصہ نہیں لے رہا،اقوام متحدہ میں جو ملک ممبر نہیں ہوتا وہ آبزرور ہوتا ہے ،

    کیس کی سماعت میں ایک گھنٹے کا وقفہ کر دیا گیا

    قبل ازیں چوہدری مونس الٰہی 9 ایم پی ایز کے ہمراہ سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں،بائیکاٹ کے باوجود ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے وکیل عرفان قادر سپریم کورٹ پہنچ گئے۔چوہدری شجاعت کے وکیل بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں گزشتہ روز پی ڈی ایم نے سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا مگر آج ان کے وکلاء سماعت سے قبل سپریم کورٹ پہنچ گئے.پی ٹی آئی رہنما پرویز خٹک اور پیپلزپارٹی کے فاروق ایچ نائیک بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں

    سپریم کورٹ میں بڑی سماعت ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ سے متعلق متوقع فیصلے کے پیش نظر سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے،سپریم کورٹ کے اطراف آنیوالے راستوں کو بند کر دیا گیا ہے، ڈی چوک، نادرا چوک سمیت دیگر شاہراہوں کو بند کر دیا گیا خار دار تاریں، بلاکس لگا کر بند کیا گیا ہے

    سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کے الیکشن سے متعلق گزشتہ روز کی سماعت کا حکمنامہ جاری کردیا۔حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ فل کورٹ کی استدعا مسترد کی جاتی ہے، فل کورٹ تشکیل نہ دینے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی،حمزہ شہباز ،ڈپٹی اسپیکر اور دیگر وکلاء کی طرف سے مزید وقت مانگا گیا ہے فریق دفاع کے وکلاء کی مزید وقت کی استدعا منظور کی جاتی ہے تمام وکلاء 26 جولائی کو مقدمے کی تیاری کرکے آئیں،

     حکومتی اتحاد کی فوری فل کورٹ بینچ بنانے کی درخواست مسترد

     فل کورٹ مستر کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کےاس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں.حکمران اتحاد 

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    مریم نواز کی حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس

    پرویز الہٰی کے وکیل نے نظرثانی درخواست کی سماعت کے لیے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کردی

  • ججز تقرری کا معاملہ ،جسٹس قاضی فائز عیسی نے اجلاس پر اعتراض اٹھا دیا

    ججز تقرری کا معاملہ ،جسٹس قاضی فائز عیسی نے اجلاس پر اعتراض اٹھا دیا

    جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ججز تقرری سے متعلق جوڈیشل کمیشن کے اجلاس پر چیف جسٹس کوخط لکھا ہے

    جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے 28 جولائی کو ہونے والے جوڈیشل کمیشن اجلاس پر اعتراض اٹھا دیا ،جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو لکھے گئے خط میں کہا کہ بیرون ملک چھٹیوں پر ہوں، جوڈیشل کمیشن کا کوئی اجلاس شیڈول نہیں تھا میرے بیرون ملک جانے کے بعد جوڈیشل کمیشن کے 2 اجلاس بلائے گئے،میری غیر موجودگی میں جوڈیشل کمیشن کا تیسرا اجلاس 28 جولائی کو بلا لیا گیا جوڈیشل کمیشن کا اجلاس موخر کیا جائے،سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی سے پہلے مل بیٹھ کر طے کرنا ہوگا آگے کیسے بڑھنا ہے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، ججز کو بائی پاس کرنے سے پہلے نامزدگی کے طریقہ کار کو زیر غور لایا جائے سپریم کورٹ کا سینئر ترین جج ججز کی نامزدگی کا طریقہ کار طے کرنے میں ناکام رہا، چیف جسٹس کی طرف سے ججز کی تعیناتی کے معاملے پر جلد بازی سوالیہ نشان ہے،

    جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو لکھے گئے خط میں کہا کہ چیف جسٹس چاہتے ہیں2347 دستاویز کا ایک ہفتے میں جائزہ لیا جائے،دستاویزات ابھی تک مجھے فراہم ہی نہیں کی گئیں، واٹس ایپ کے ذریعے یہ ہزاروں دستاویزات مجھے بھیجنے کی کوشش کی گئی،واٹس ایپ پر مجھے صرف 14 صفحات تک رسائی ملی جو پڑھے نہیں جا سکتے، یہ دستاویزات مجھے کورئیر کیے گئے سفارتخانے کے ذریعے نہ بھجوائے گئے،

    قبل ازیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ججز تقرری کے حوالہ سے ایک خط پہلے بھی لکھا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ہ بار کونسلز سمیت جوڈیشل کمیشن ممبران نے کئی بار رولز میں ترمیم کا مطالبہ کیا،ججز تقرری میں سنیارٹی،میرٹ اور قابلیت کو دیکھنا ہوتا ہے،سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کی جگہ جونیئر جج کو تعینات کیا گیا، ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اور سینئر ججز نے سابق چیف جسٹس سابق نثار کی باتوں کی تردید کی سینئر ججز کے خود نہ آنے کی بات کر کے ثاقب نثار نے مکاری کی سابق چیف جسٹس گلزار احمد نے بھی چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ اور سینئر ججز کو نظر انداز کیا خط کی کاپی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور گلزار احمد کو بھی بھیج رہا ہوں بطور ممبر جوڈیشل کمیشن سابق جج جسٹس مقبول باقر کی رائے کو بھی نظرانداز کیا گیا، جوڈیشل کمیشن رولز میں ترمیم کیلئے قائم کمیٹی کی آج تک کوئی رائے نہیں آئی، جوڈیشل کمیشن اجلاس ان کیمرہ نہیں ہونا چاہیے،ججز تقرری کیلئے اجلاس سے متعلق عوام کو علم ہونا چاہیے،

    ملک اسلامی جمہوریہ مگریہاں اسلام کے مطابق کچھ نہیں ہورہا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس غلطی تھی، عمران خان نے تسلیم کر لیا

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسلام آباد میں گورنر بلوچستان کے سکواڈ کی گاڑی کا چالان کروا دیا ۔

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    پولیس ملزمان کی ویڈیو کیوں نہیں بناتی؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اظہار برہمی

  • سپریم کورٹ ،سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ ،سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    سپریم کورٹ نے 4 اگست تک سندھ حکومت کو جواب جمع کرانے کا حکم دیدیا ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت چاہے تو جواب جمع کرا دے،ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ سندھ حکومت کو تحریری جواب جمع کرانے کیلئے دو ہفتے کا وقت دیا جائے ،سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کو دو ہفتے کی مہلت دینے کی استدعا مسترد کردی.

    فروغ نسیم نے کہا کہ 27 اگست کو الیکشن ہے، دو ہفتے کا وقت دیا گیا سندھ حکومت کہے گی پولنگ قریب ہے

    گزشتہ سماعت پر وکیل ایم کیو ایم فروغ نسیم نے کہا تھا کہ پورے سندھ کی حلقہ بندیوں کو چیلنج کیا ہے،سندھ حکومت کی ترامیم آئین اور سپریم کورٹ فیصلوں کے خلاف ہیں،ہائیکورٹ نے ترامیم کو غیر قانونی بھی قرار نہیں دیا،

    دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر تو کیس واپس ہائیکورٹ بھجوانا پڑے گا،وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ سپریم کورٹ حکم امتناعی دے کر کیس ہائیکورٹ بھجوا دے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال انتخابات تو روک دئیے گئے ہیں ،وکیل نے کہا کہ بارش اور محرم کی وجہ سے انتخابات روکے گئے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ بھی ساتھ نہیں لگایا، وکیل نے کہا کہ تفصیلی فیصلہ کراچی رجسٹری میں جمع کروا دیا گیا تھا،

     تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ جاری

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی