Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • ڈپٹی اسپیکررولنگ کیس؛حکومت,اتحادی اور پی ڈی ایم کی جماعتوں کاتہلکہ خیزمشترکہ فیصلہ

    ڈپٹی اسپیکررولنگ کیس؛حکومت,اتحادی اور پی ڈی ایم کی جماعتوں کاتہلکہ خیزمشترکہ فیصلہ

    لاہور:حکومتی اتحادی جماعتوں نے ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس کی سماعت کے لئے فل کورٹ تشکیل دینے کے لئے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    حکومتی اتحادی اور پی ڈی ایم کی جماعتوں نے مشترکہ فیصلہ کیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس میں فل کورٹ تشکیل دینے کے لئے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی جائے گی۔

    اتحادی جماعتوں کے قائدین کل صبح مشترکہ پریس کانفرنس میں اہم اعلان کریں گے، او پریس کانفرنس کے بعد وکلاء کے ہمراہ مشترکہ طور پر سپریم کورٹ جائیں گے، جہاں سپریم کورٹ بارکی نظرثانی ودیگردرخواستوں کی ایک ساتھ سماعت کی استدعا کی جائے گی۔

     

    پرویز الہیٰ کی درخواست،سپریم کورٹ کا تحریری حکم جاری

    مسلم لیگ (ن) ، پی پی پی ، جے یو آئی (ف) سپریم کورٹ جائیں گے، اور درخواستگزاروں میں ایم کیوایم، اےاین پی، بی این پی، باپ اور دیگر اتحادی جماعتیں بھی شامل ہوں گی۔

    اس حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا سپریم کورٹ میں اہم مقدمات کی سماعت جاری ہے، حمزہ شہباز اکثریتی ووٹ لے کر وزیراعلیٰ منتخب ہوئے، چوہدری پرویزکی درخواست پررات ایک بجےپھرعدالت کوکھولاگیا، سیاسی جماعت کےافرادنےسپریم کورٹ کی دیواریں پھلانگیں۔

    وزیرقانون نے کہا کہ آج سپریم کورٹ کے5سابق صدورنےبھی فل کورٹ کامطالبہ کیا، حمزہ شہبازکےوکلاء بھی مقدمےمیں فل کورٹ کےحق میں ہیں،جب کہ انصاف اورشفافیت کا تقاضہ بھی ہے 63 اے کی تشریح کا کیس تمام جج سنیں۔

     

    ہم نہ سافٹ اور نہ ہارڈ مداخلت تسلیم کرتے ہیں،فضل الرحمان

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ممبران اسمبلی پارٹی قائد کی ہدايت کے مطابق ووٹ دينے کے پابند ہيں، اور ہم آئین اور قانون کے ساتھ اپنے حق کی آواز اٹھانے پر بھی یقین رکھتے ہیں، اداروں کے خلاف الزامات لگانے کی بات کو مسترد کرتے ہیں، اور اداروں کی عزت اور تکریم کو معتبر جانتے ہیں۔

    پنجاب کی صوبائی کابینہ کی حلف برداری آج ہونے کا امکان

  • پرویز الہیٰ کی درخواست،سپریم کورٹ کا تحریری حکم جاری

    پرویز الہیٰ کی درخواست،سپریم کورٹ کا تحریری حکم جاری

    سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کو عبوری وزیراعلیٰ پنجاب بنا دیا۔ عدالتی تحریری حکمنامے میں بتایا گیا ہے کہ ہم نے نوٹ کیا کہ ڈپٹی اسپیکر رولنگ کو جسٹیفائی نہیں کر سکے، اس کے نتیجے میں وزیر اعلی کا اسٹیٹس خطرے میں ہے۔

    سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے معاملے پر سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جمع کرائی جانے والی درخواست پر چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ تشکیل دیا گیا جس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل تھے۔

    ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کیخلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ کا تحریری حکم جاری کر دیا گیا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے چھ صفحات پر مشتمل تحریری حکم جاری کیا۔ تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ شجاعت حسین کی جانب سے ڈپٹی سپیکر کو لکھا گیا خط 25جولائی کو پیش کیا جائے، تمام فریقین کو جواب جمع کرانے کےلیے وقت دیتے ہیں، ڈپٹی سپیکر کے وکیل اس بات کو یقینی بنائیں گے تمام متعلقہ ریکارڈ عدالت میں پیش کریں، تمام پارٹیوں کو سننے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ فریقین کو اپنا جواب جمع کرانے کے لیے وقت درکار ہے۔

    تحریری حکم میں بتایا گیا کہ ہم نے نوٹ کیا ڈپٹی اسپیکر رولنگ کو جسٹیفائی نہیں کر سکے، اس کے نتیجے میں وزیر اعلی کا اسٹیٹس خطرے میں ہے، ایسی صورتحال میں حمزہ شہباز ایک منتخب وزیر اعلی کے طور کام نہیں کر سکتے، دونوں فریقین کے درمیان ایسی ہی صورتحال یکم جولائی کو ہوئی تھی، ہمارا یکم جولائی کا حکم دونوں فریقوں کی رضامندی سے جاری ہوا تھا، ہم نے آج پھر تمام فریقین کو پیشکش کی کہ حمزہ شہباز اسی پوزیشن پر بطور وزیر اعلی کام جاری رکھیں، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور حمزہ شہباز کے وکیل نے اعتراض نہیں کیا، ہمیں یقین دہانی کرائی گئی کہ حمزہ شہباز اور انکی کابینہ ٹرسٹی کے طور پر کام کریں گے۔

    قبل ازیں چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں فل بینچ نے مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے حمز شہباز کا بطور وزیراعلیٰ یکم جولائی کا سٹیٹس بحال کر دیا۔ چیف جسٹس نے مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ یکم جولائی کا اسٹیٹس بحال کرنے کے بعد اس کیس کوتفصیل سے سنیں گے۔ پیر تک حمزہ شہباز صرف روٹین کے امور سرانجام دینگے، حمزہ عبوری وزیراعلیٰ کے فرائض پیر تک سر انجام دینگے، کیس کی سماعت پیرکے روزہوگی، تمام وکلا کوسنیں گے۔ حمزہ شہباز آئین اور قانون کے مطابق چلیں، حمزہ وہ پاور استعمال نہیں کرینگے جس سے انکو سیاسی فائدہ ہو، عبوری وزیراعلیٰ محدود اختیارات میں کام کرینگے، عدالت صوبے میں میرٹ سے ہٹ کر تقریری ہوئی تو اس کو کالعدم قرار دینگے۔ بادی النظر میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ غلط اور سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف ہے۔ اگر پارٹی سربراہ کی ہی بات ماننی ہے تو اس کا مطلب پارٹی میں آمریت قائم کردی جائے۔

  • سپریم کورٹ نےلیگی ایم پی اے  کاشف چودھری کی نااہلی ختم کرنے کی درخواست مسترد کردی

    سپریم کورٹ نےلیگی ایم پی اے کاشف چودھری کی نااہلی ختم کرنے کی درخواست مسترد کردی

    پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی کاشف چودھری کی نااہلی ختم کرنے کی درخواست سپریم کورٹ نے مسترد کر دی۔

    بہت ہو گیا،یکطرفہ فیصلوں کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے،مریم نواز

    سپریم کورٹ میں لیگی ایم پی اے کاشف چودھری کی نااہلی سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ جسے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا۔فیصلے میں بتایا گی کہ ن لیگی رکن کاشف چودھری نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی، انہوں نے مخالف فریق عبدالغفور کے ساتھ سمجھوتے پر انٹرا کورٹ اپیل واپس لے لی۔

     

    جو رولنگ دی گئی وہ آئین سے مطابقت نہیں رکھتی،تحریک انصاف

     

    فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ ہائیکورٹ سے انٹرا کورٹ اپیل واپس لینے کے بعد نااہلی کا فیصلہ عدالت عظمیٰ میں میں چیلنج نہیں ہو سکتا، ہائیکورٹ سے انٹرا کورٹ اپیل واپس لینے پر سپریم کورٹ میں اپیل کا کوئی میرٹ نہیں بنتا۔فیصلے کے مطابق کاشف چودھری کی ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل مسترد کی جاتی ہے۔

     

    سپریم کورٹ آخری امید ہے، پھر مرکز میں عدم اعتماد لانا ہوگا۔ شیخ رشید

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسلم لیگ ن کے ایم پی اے کاشف چودھری کو جعلی ڈگری پر نااہل قرار دیا تھا اور ہدایت کی تھی الیکشن کمیشن آف پاکستان کاشف چودھری کو ڈی نوٹیفائی کرے۔

  • ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کیخلاف درخواست پرسماعت پیرتک ملتوی

    ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کیخلاف درخواست پرسماعت پیرتک ملتوی

    سپریم کورٹ لاہور رجسٹری ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت دوبارہ ہوئی

    سپریم کورٹ نے ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کی رولنگ کے خلاف درخواستوں پر مختصر فیصلہ سناتے ہوئے حمزہ شہباز کے یکم جولائی کا عبوری وزیراعلیٰ کا سٹیٹس بحال کر دیا اور سماعت پیر تک ملتوی کر دی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ حمزہ شہباز پیر کے روز تک بطور عبوری وزیراعلیٰ فرائض انجام دیں گے ،کیس کی سماعت پیر کے روز اسلام آباد میں ہو گی ، تمام فریقین کے وکلاء کو سنیں گے اور پھر فیصلہ سنایا جائے گا

    کمرہ عدالت میں صرف متعلقہ وکلا کو ہی جانے کی اجازت دی گئی ہے باقی وکلا اور سائلین کورٹ روم نمبر تین میں لگی سکرین پر عدالتی کاروائی سن رہے ہیں چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی پر مشتمل تین رکنی بنچ سماعت کررہے ہیں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہزاد شوکت نے دلائل دینا شروع کردیے

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ وہ پیرا پڑھ کر سنائیں کہاں لکھا ہے, یہ بتا دیں کہ ڈپٹی اسپیکر نے کیا تشریح کی, ڈپٹی اسپیکر نے آرٹیکل 63 اے کے مطابق فیصلہ دیا آپ وہ پیرا پڑھ دیں،عرفان قادر نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کا ہیڈ اسپیکر نے سمجھا ہے کہ پارٹی صدر ہے, اگر کوئی لیگل غلطی کی تو تو اتنا بڑا ایرر نہیں جو دورنہ ہو سکتا ہو،عدالت نے ڈپٹی سپیکرکے وکیل کو ہدایت کی کہ آپ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پڑھیں، عرفان قادر نے کہا کہ پہلے آرڈر پڑھوں یا رولنگ پڑھوں جس پر عدالت نے کہا کہ آپ پہلے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پڑھیں

    عرفان قادر نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کا ہیڈ پارٹی صدر ہوتا ہے, جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسکا مطلب انہوں نے غلط سمجھا, جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے ججمنٹ کو غلط لیا ہے, جس پر عرفان قادر نے کہا کہ جی بلکل وہ وکیل نہیں ہیں,

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے کس حکم کی آڑ لے کر رولنگ دی، عدالت میں یہ حکم پڑھ کر سنایا جائے، خاص طور پر متعلقہ پیرا پڑھیں، عرفان قادر نے کہا کہ فیصلے کا پیرا تین متعلقہ ہے، عدالت تفصیلی جواب کا موقع فراہم کرے تاکہ بلیک اینڈ وائٹ میں عدالت کو تحریری طور پر ڈپٹی سپیکر کا موقف پیش کر سکوں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اگر فرض کرلیں سپیکر کی رولنگ غلط تھی تو پھر اگلا قدم کیا ہوگا ،عرفان قادر نے کہا کہ اس پر ہم تحریری جواب بھی دیں گے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وکیل صاحب یہ سوموٹو کیس نہیں ہے ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ہم نے ریکارڈ بھی مانگا تھا کیا ریکارڈ آیا تھا ؟ عرفان قادر نے کہا کہ اس حوالے سے مجھے معلومات نہیں ہے ،عدالت نے کہا کہ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ سپیکر صاحب کے ہاتھ میں چوہدری شجاعت حسین کی خط تھا ہم وہ خط دیکھنا چاہتے ہیں ڈپٹی سپیکر نے اس خط کی بنیاد رولنگ دی ہےبا دی النظر میں آپ کی رائے یہی ہے کہ اسپیکر کی رولنگ درست تھی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے موکل جس آفس کو ہیڈ کو کر رہے ہیں اس پر گہرے بادل ہیں ،

    ڈپٹی اسپیکر کے وکیل نے جواب جمع کرانے کے لیے وقت مانگ لیا ،عرفان قادر نے کہا کہ ہمیں کل تک کا وقت دیا جائے، عدالت نے حمزہ شہباز کو رسمی اختیارات دیتے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کر دی ،عدالت نے حکم دیا کہ پیر تک حمزہ شہباز صرف روٹین کے امور سرانجام دیں گے,

    سماعت کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوموار یا منگل کو فیصلہ سنا دیں گے،

    قبل ازیں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف درخواستوں پر دوبارہ سماعت ہوئی چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پرویز الٰہی سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی عدالتی حکم پر ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری سپریم کورٹ کے روبرو تاحال پیش نہ ہوئے ،کمرہ عدالت کھچا کھچ بھر گیا تحریک انصاف کے رہنماء بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے، عدالت میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہزاد شوکت کی جانب سے دلائل دیئے گئے، عدالت میں ڈپٹی سپیکر کے وکیل کی جانب سے جواب جمع کرا دیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ڈپٹی سپیکر کہا ں ہیں, وہ بھی آ رہے ہیں؟

    کمرہ عدالت میں رش لگ گیا جس کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تمام غیر متعلقہ افراد کمرہ عدالت سے باہر چلیں جائیں،ہم کوشش کرتے ہیں آپکو باہر بھی سماعت سننے کا بندوست کرتے ہیں،ایسے حالات میں سماعت ممکن نہیں ہے،ہم ایسا کرتے ہیں کہ سماعت دوسرے روم میں شفٹ کرتے ہیں،

    عدالت نے عرفان قادر کو دلائل دینے سے روک دیا . چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے پاس دوست مزاری کا وکالت نامہ ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے مکمل دلائل سنیں گے،

    دوسری جانب سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں وکلا اور تحریک انصاف کے اراکین کی بڑی تعداد بغیر بیکنگ کے کورٹ روم ون مین داخل ہو گئی ہے، دھکم پیل سے کورٹ روم نمبر ون کے دروازوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں چیف جسٹس پاکستان نے کیس ویڈیو لنک والے کورٹ روم میں منتقل کردیا سماعت کچھ دیر بعد ہوگی پرائیویٹ افراد کا داخلہ بند کر دیا گیا

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے الیکشن ہوئے، پی ٹی آئی کے امیدوار نے 186 ووٹ حاصل کئے تا ہم ڈپٹی سپیکر نے چودھری شجاعت کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے دس ووٹ مسترد کر دیئے ، جسکے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے، پی ٹی آئی نے ایوان میں احتجاج کے بعد کئی شہروں میں احتجاج کیا اور رات کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، پی ٹی آئی کی درخواست عدالت نے قابل سماعت قرار دے دی ہے

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

  • وزیراعلی پنجاب کے انتخاب سے متعلق مقدمے کی سماعت فل کورٹ کرے۔حکمران اتحاد کا مطالبہ

    وزیراعلی پنجاب کے انتخاب سے متعلق مقدمے کی سماعت فل کورٹ کرے۔حکمران اتحاد کا مطالبہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے وزیراعلیٰ کے الیکشن میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی سپریم کورٹ میں درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد حکمران اتحاد نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے

    حکمرا ن اتحاد کی جانب سے جاری مشترکہ، متفقہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حکمران اتحاد میں شامل تمام جماعتیں چیف جسٹس پاکستان سے پر زور مطالبہ کرتی ہیں کہ وزیراعلی پنجاب کے انتخاب سے متعلق مقدمے کی سماعت فل کورٹ کرے۔ قرین انصاف ہوگا کہ عدالت عظمیٰ کے تمام معزز جج صاحبان پر مشتمل فل کورٹ ،سپریم کورٹ بار کی نظرِ ثانی درخواست موجودہ درخواست اور دیگر متعلقہ درخواستوں کو ایک ساتھ سماعت کے لئے مقرر کرکے اس پر فیصلہ صادر کرے کیونکہ یہ بہت اہم قومی، سیاسی اور آئینی معاملات ہیں۔ آئین نے مقننہ،عدلیہ اورانتظامیہ میں اختیارات کی واضح لکیر کھینچی ہوئی ہے جسے ایک متکبر آئین شکن فسطائیت کا پیکر مٹانے کی کوشش کر رہا ہے یہ دراصل پاکستان کے آئین عوام کےحق حکمرانی اورجمہوری نظام کو بھی معیشت کی طرح دیوالیہ کرانا چاہتا ہے یہ سوچ اوررویہ پاکستان کے ریاستی نظام کے لئے دیمک ہے۔

    ‎حکمرا ن اتحاد کی جانب سے جاری مشترکہ، متفقہ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ حکمران اتحاد میں شامل جماعتیں اس عزم کا واشگاف اعادہ کرتی ہیں کہ آئین، جمہوریت اور عوام کے حق حکمرانی پر ہر گز کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ہر فورم اور ہر میدان میں تمام اتحادی جماعتیں مل کر آگے بڑھیں گی اور فسطائیت کے سیاہ اندھیروں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گی۔

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست قابل سماعت قرار،نوٹسز جاری

     پرویز الہٰی اب ق لیگ سے باہر ہیں وہ بنی گالہ جائیں اور پی ٹی آئی میں شامل ہوجائیں

    وفاقی حکومت نے لاہور اور راولپنڈی میں رینجرز تعینات کرنے کی منظور ی دے دی

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کا کہنا ہے کہ تمام چوٹی کے قانونی ماہرین رات سے بتا چکے ہیں کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ غیر قانونی ہے،فل بینچ کا مطالبہ معاملے کو طول دینے کوشش ہے تاکہ ضمیر خریدنے کی نئی کوشش کی جائے، بینچ کو متنازعہ بنانے کے لیے وٹس ایپ ٹولے کو صبح سے ہدایات جاری کر دی گئی تھیں

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے الیکشن ہوئے، پی ٹی آئی کے امیدوار نے 186 ووٹ حاصل کئے تا ہم ڈپٹی سپیکر نے چودھری شجاعت کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے دس ووٹ مسترد کر دیئے ، جسکے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے، پی ٹی آئی نے ایوان میں احتجاج کے بعد کئی شہروں میں احتجاج کیا اور رات کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، پی ٹی آئی کی درخواست عدالت نے قابل سماعت قرار دے دی ہے

  • جو رولنگ دی گئی وہ آئین سے مطابقت نہیں رکھتی،تحریک انصاف

    جو رولنگ دی گئی وہ آئین سے مطابقت نہیں رکھتی،تحریک انصاف

    جو رولنگ دی گئی وہ آئین سے مطابقت نہیں رکھتی،تحریک انصاف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنماؤں نے سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے بات چیت کی ہے

    تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ سارے پاکستان کو معلوم ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ غیر آئینی تھی پارلیمانی پارٹی فیصلہ کرے گی کہ کس کو ووٹ ڈالنا ہے،کوئی ووٹ پارلیمانی پارٹی کی ہدایت کے مطابق نہیں دے گا تو منحرف قرار دیا جائے گا،پوچھا گیا کہ رولنگ میں کہاں ایسا لکھا گیا،جو رولنگ دی گئی وہ آئین سے مطابقت نہیں رکھتی

    تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آئین کے ساتھ کھیل کھیلا گیا،ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ غیر آئینی ہے لیٹر کی اہمیت نہیں ، ڈپٹی اسپیکر پہلے سے لے کر بیٹھا تھا، بدنیتی ظاہر ہوتی ہے،چودھری شجاعت بیماری کے ایسے عالم میں کچھ نہیں کہہ سکتے،

    تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پوچھاہے ڈپٹی اسپیکر بتادیں کہ حوالہ کس پیرا گراف میں لکھا ہے، سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ اول تو ارکان کو پارٹی ہیڈ سے کوئی ہدایت ملی نہیں نہ ہی وہ اسکا مجازتھا ،ڈپٹی ا سپیکر نے خط پاس رکھا اور ووٹ ڈالنے کے بعد دکھایا،پارلیمانی پارٹی بشمول خود امیدوار نے قانون کے مطابق ووٹ ڈالا قانون واضح ہے ہدایات پارلیمانی پارٹی کیطرف سے دی جاتی ہیں،پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کی خلاف ورزی ہوئی ہی نہیں تو پھر ڈکلیئریشن کیسی؟

    مستعفی رکن اسمبلی جلیل شرقپوری کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں ھونے والا جمہوری ڈرامہ آئین اور قانون کے ساتھ مزاق ھے ۔پارٹی لیڈر جمہوری لیڈر ھوتا ھے ڈکٹیٹر نہیں ۔پارٹی کا فیصلہ صرف وہ ھو گا جو پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کیا جائے۔ پارٹی ہیڈ گھر میں سویا ھوا بیماری سے تنک آ کر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی۔ پارٹی کا فیصلہ بھی صرف وہ مانا جائے گا جو ووٹ پڑنے سے پہلے کیا جائے ۔ یہ کیسا فیصلہ ھے کہ ووٹرز نے ووٹ ڈال دیئے اور بعد میں پارٹی کہے کہ ھمارے ووٹ باہر نکال دیں یہ کیسے ھو سکتا ھے

    علاوہ ازیں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ عوام مافیا کو اپنی لوٹ مار جاری رکھنے نہیں دیں گے ہم سری لنکا کے کے حالات سے زیادہ دور نہیں جب عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست قابل سماعت قرار،نوٹسز جاری

     پرویز الہٰی اب ق لیگ سے باہر ہیں وہ بنی گالہ جائیں اور پی ٹی آئی میں شامل ہوجائیں

  • ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست قابل سماعت قرار،نوٹسز جاری

    ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست قابل سماعت قرار،نوٹسز جاری

    ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست قابل سماعت قرار،نوٹسز جاری

    ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ابتدائی سماعت کا تحریری حکم جاری کردیا

    تحریری حکمنامہ میں کہا گیا کہ ڈپٹی اسپیکر نے اپنی رولنگ میں لارجر بینچ کا حوالہ دیا، ڈپٹی اسپیکر نے اس پیراگراف کو پوائنٹ نہیں کیا جس کا حوالہ دیا گیا ،بظاہر معاملہ کافی پیچیدہ لگتا ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ تمام فریقین اپنی قیمتی رائے سے عدالت کوآگاہ کریں گے ڈپٹی اسپیکر ریکارڈ سمیت عدالت میں پیش ہوں

    قبل ازیں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سماعت ہوئی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی تحریک انصاف کے وکلاء بیرسٹر علی ظفر ،عامر سعید راں روسٹرم پر موجود تھے، تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر، فواد چوہدری، حسین الہی سمیت پی ٹی آئی اور ق لیگ کی دیگر قیادت کمرہ عدالت میں موجود تھے

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست رات 12 بجے دائر کی گئی ، بتائیں آپ کا کیا معاملہ ہے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بہت اہم معاملہ ہے، اس لئے عدالت آئے ہیں، ڈپٹی اسپیکر نے چوہدری شجاعت حسین کے مبینہ خط کو بنیاد بنا کر ق لیگ کے ووٹ مسترد کیے

    تحریک انصاف کےوکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل کا آغاز کردیا اور کہا کہ گزشتہ روز وزیر اعلی کا انتخاب ہوا، حمزہ شہباز نے 179 جبکہ پرویز الٰہی نے 186ووٹ حاصل کیے ،ڈپٹی اسپیکر نے ق لیگ کے دس ووٹ مسترد کردیے ،کل پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے دوسرا راونڈ ہوا. جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اسمبلی میں کتنے ارکان موجود تھے. بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایوان میں 370 ارکان تھے .پرویز الہی کو 186 ووٹ جبکہ حمزہ کو 179 ووٹ ملے. آئینی طور پر پرویز الہی وزیر اعلی کا الیکشن جیت گیے. لیکن ڈپٹی اسپیکر نے انکے دس ووٹ مسترد کر دیے.

    ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست قابل سماعت قرار.عدالت نے ڈپٹی اسپیکر سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردیے،عدالت نے ڈپٹی اسپیکرسردار دوست محمد مزاری کو آج دوپہر 2 بجے طلب کر لیا سپریم کورٹ لاہور رجسٹری نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو بھی عدالتی معاونت کے لیے طلب کر لیا،عدالت نے حمزہ شہباز ،چیف سیکریٹری سمیت دیگر فریقین کونوٹسز جاری کر دیئے

    دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کی ڈائریکشن کی خلاف ورزی پر رپورٹ کرسکتا ہے،جمہوری روایت یہی ہے کہ پارلیمانی پارٹی طے کرتی ہے کہ کس کی حما یت کرنی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے جو رولنگ دیں ہمیں بتائیں کہ یہ بات کس پیرا میں لکھی ہے؟ وکیل پرویز الہیٰ نے کہا کہ حمزہ شہباز نے حلف لے لیا ہے, جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس سے فرق نہیں پڑتا ہم نے آئین اور قانون کی بات کرنا ہے ۔عدالت نے درخواست گزاروں کو ہدایت کی کہ آپ لوگ بھی زرا صبرو تحمل کا مظاہرہ کریں ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کو ذاتی طور پر سننا چاہتے ہیں، وہ اپنے ساتھ الیکشن ریکارڈ بھی لے کر آئیں، ڈپٹی اسپیکردوست مزاری آ کر اپنے مؤقف کا دفاع کریں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر نے دالت عظمیٰ کے فیصلے کی غلط تشریح کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پریشان نہ ہوں یہ قانونی سوال ہے، یادرکھیں ایسے معاملات غیر تجربہ کاری سے پیش آتے ہیں،معاملہ تشریح سے زیادہ سمجھنے کا ہے،پورے پاکستان میں لوگ یہ سماعت سننا چاہتے ہیں،یہ معاملہ 63 اے 2 بی کی تشریح کا ہے،ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے 10 ووٹوں کے مسترد کیے جانے سے متعلق معاملہ ہے،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے الیکشن ہوئے، پی ٹی آئی کے امیدوار نے 186 ووٹ حاصل کئے تا ہم ڈپٹی سپیکر نے چودھری شجاعت کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے دس ووٹ مسترد کر دیئے ، جسکے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے، پی ٹی آئی نے ایوان میں احتجاج کے بعد کئی شہروں میں احتجاج کیا اور رات کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، پی ٹی آئی کی درخواست عدالت نے قابل سماعت قرار دے دی ہے

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

  • سندھ  بلدیاتی انتخابات، حلقہ بندیوں کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    سندھ بلدیاتی انتخابات، حلقہ بندیوں کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ، سندھ بلدیاتی انتخابات کیلئے حلقہ بندیوں کیخلاف ایم کیو ایم کی درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور اٹارنی جنرل کو بھی نوٹسز جاری کردیئے ،وکیل ایم کیو ایم فروغ نسیم نے کہا کہ پورے سندھ کی حلقہ بندیوں کو چیلنج کیا ہے،سندھ حکومت کی ترامیم آئین اور سپریم کورٹ فیصلوں کے خلاف ہیں،ہائیکورٹ نے ترامیم کو غیر قانونی بھی قرار نہیں دیا،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر تو کیس واپس ہائیکورٹ بھجوانا پڑے گا،وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ سپریم کورٹ حکم امتناعی دے کر کیس ہائیکورٹ بھجوا دے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال انتخابات تو روک دئیے گئے ہیں ،وکیل نے کہا کہ بارش اور محرم کی وجہ سے انتخابات روکے گئے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ بھی ساتھ نہیں لگایا، وکیل نے کہا کہ تفصیلی فیصلہ کراچی رجسٹری میں جمع کروا دیا گیا تھا، سندھ بلدیاتی انتخابات کیلئے حلقہ بندیوں کیخلاف کیس کی سماعت منگل تک ملتوی کر دی گئی

     تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ جاری

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

  • سپریم کورٹ کی خاتون کو اسقاط حمل کی اجازت

    سپریم کورٹ کی خاتون کو اسقاط حمل کی اجازت

    نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک غیر شادی شدہ خاتون کو لیو ان ریلیشن شپ میں رہتے ہوئے اپنے 24 ہفتے کے حمل کو اسقاط حمل کرنے کی اجازت کا عبوری حکم جاری کیا –

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق عدالت نے حکم دیا کہ ایمس دہلی کے ڈائریکٹر ایم ٹی پی ایکٹ 22 جولائی کے دوران آئی پی سی کی دفعہ 3(2)(d) کی دفعات کے تحت ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیں اگر میڈیکل بورڈ یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ درخواست گزار کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے، تو ایمس کی درخواست کے مطابق اسقاط حمل کیا جا سکتا ہے۔ کارروائی مکمل ہونے کے بعد رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے گی۔

    عدالت نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے قانون سازی کی تشریح پر ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کی مدد طلب کی ہے ڈویژن بنچ نےاسقاط حمل کی اجازت دینےسے انکار کرتے ہوئے 16 جولائی 2022 کو مشاہدہ کیا کہ آج تک میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی رولز، 2003 کا قاعدہ 3B موجود ہے اورہندوستان کی یہ عدالت نہیں جا سکتی۔ آئین، 1950 کے آرٹیکل 226 کے تحت اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے قانون سے بالاتر ہے۔

    اس پر عدالت نے کہا کہ اس طرح کا قاعدہ درست ہے یا نہیں اس کا فیصلہ صرف اس صورت میں کیا جاسکتا ہے جب مذکورہ قاعدہ کو الٹرا وائرس سمجھا جائے جس کے لیے رٹ پٹیشن میں نوٹس جاری کیا جانا ہے۔

    عدالت نے نوٹ کیا کہ میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی ایکٹ کا سیکشن 3(2)(a) فراہم کرتا ہے کہ میڈیکل پریکٹیشنر حمل کو ختم کر سکتا ہے، بشرطیکہ حمل 20 ہفتوں سے زیادہ نہ ہو۔ عدالت نے مزید مشاہدہ کیا تھا، "ایکٹ کا سیکشن 3(2)(b) ایسے حالات میں ختم کرنے کا انتظام کرتا ہے جہاں حمل 20 ہفتوں سے زیادہ نہیں ہوتا ہے لیکن 24 ہفتوں سے زیادہ نہیں ہوتا ہے۔

    عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا تھا کہ ایکٹ کا سیکشن 3(2)(b) یہ فراہم کرتا ہے کہ مذکورہ ذیلی دفعہ کا اطلاق صرف ان خواتین پر ہوتا ہے جو حمل کےمیڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی رولز2003 کےتحت آتی ہیں۔ درخواست گزارایک غیرشادی شدہ خاتون ہے اور وہ رضامندی سے حاملہ ہوئی ہے۔ یہ بات میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی رولز، 2003 کے تحت کسی بھی شق میں واضح طور پر شامل نہیں ہے۔ لہٰذا، سیکشن 3(2)(b) کی دفعہ 3(2)) ایکٹ کا) (b) کیس کے حقائق پر لاگو نہیں ہوتا۔

    بنچ ایک 25 سالہ غیر شادی شدہ خاتون کی درخواست پر غور کر رہی تھی جس میں 23 ہفتے اور 5 دن میں حمل ختم کرنے کی درخواست کی گئی تھی درخواست گزار نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ وہ 5 بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہے اور اس کے والدین کسان ہیں اس نے مزید کہا کہ ذریعہ معاش نہ ہونے کی صورت میں وہ بچے کی پرورش کرنے سے قاصر ہوں گی۔

    درحقیقت، دہلی ہائی کورٹ نے 25 سالہ غیر شادی شدہ خاتون کو 23 ہفتے اور 5 دن میں حمل ختم کرنے کے لیے عبوری راحت دینے سے انکار کر دیا تھا عدالت نے کہا تھا کہ ایک غیر شادی شدہ عورت جو رضامندی سے حاملہ ہو جاتی ہے وہ واضح طور پر اس زمرے میں نہیں آتی ہے جو کہ حمل کے طبی خاتمے کے قواعد 2003 کے تحت آتی ہے۔

  • پی اے سی نے آڈیٹر جنرل کو سپریم کورٹ ڈیم فنڈ کی تحقیقات کا ٹاسک دے دیا

    پی اے سی نے آڈیٹر جنرل کو سپریم کورٹ ڈیم فنڈ کی تحقیقات کا ٹاسک دے دیا

    اسلام آباد: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) ارکان کی طرف سے ایک بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں ڈیم فنڈکی تحقیقات ہونی چاہیں، اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے نہ صرف تحقیقات کی جائیں گی بلکہ پبلک اکاونٹس کمیٹی میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی بلایا جاسکتا ہے۔

    اہل وطن کیلیےخوشخبری آگئی:مہمند کے 13،دیامربھاشا ڈیم کے10مقامات پر بیک وقت…

    تفصیلات کے مطابق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) ارکان نے سپریم کورٹ ڈیم فنڈ کا معاملہ اٹھادیا، ارکان نے ڈیم فنڈ کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

    کمیٹی رکن برجیس طاہر نے کہا کہ ڈیم فنڈ حقیقت میں ڈیم فول ہے، ڈیم کے لیے چندہ اکھٹا کر کے قوم کا مذاق بنایا گیا، دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جس نے چندے سے ڈیم بنائے ہوں، فنڈ کےلیے9 ارب روپےاکھٹے کیےگئے اور 13 ارب اشتہارات پر لگا دیے گئے۔

    پی اے سی نے آڈیٹر جنرل کو سپریم کورٹ ڈیم فنڈ کی تحقیقات کا ٹاسک دے دیا، چیئرمین کمیٹی نور عالم خان نے ہدایت کی کہ آڈیٹرجنرل سپریم کورٹ ڈیم فنڈ کی تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کریں۔

    سپریم کورٹ نے ڈیم فنڈ میں عطیہ کردہ 12کنال زمین مالک کو واپس کردی

    انہوں نے کہا کہ تحقیقات کی جائیں ڈیم فنڈ کے اشتہارات پر کتنے اخراجات آئے، کتنے خاندانوں نے ڈیم فنڈ سے بیرون ملک سفر کیا۔

    چیئرمین پی اے سی نے ڈیم فنڈ شروع کرنے والے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی طلب کرنے کا عندیہ دے دیا، چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ مالی بے ضابطگیاں سامنے آنے پر سابق چیف جسٹس کو بھی بلائیں گے۔

     

    چارپیسوں کی خاطرباپ کوڈپریشن کا مریض ثابت کررہے ہو:ڈیم بن رہا ہے:سپریم کورٹ

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے پچھلے چیف جسٹس گلزار احمد بھی اس حوالے سے ادارے کی طرف سےریمارکس دے چکے ہیں ،اس سلسلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا تھا کہ ڈیم فنڈ کا پیسہ سپریم کورٹ کے پاس موجود ہے۔ جب بھی ضرورت ہو واپڈا عدالت کو رقم کی فراہمی کا کہہ سکتا ہے۔
    اسلام آباد میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے دیامر بھاشا ڈیم کیس کی سماعت کی تھی