Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست قابل سماعت قرار،نوٹسز جاری

    ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست قابل سماعت قرار،نوٹسز جاری

    ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست قابل سماعت قرار،نوٹسز جاری

    ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ابتدائی سماعت کا تحریری حکم جاری کردیا

    تحریری حکمنامہ میں کہا گیا کہ ڈپٹی اسپیکر نے اپنی رولنگ میں لارجر بینچ کا حوالہ دیا، ڈپٹی اسپیکر نے اس پیراگراف کو پوائنٹ نہیں کیا جس کا حوالہ دیا گیا ،بظاہر معاملہ کافی پیچیدہ لگتا ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ تمام فریقین اپنی قیمتی رائے سے عدالت کوآگاہ کریں گے ڈپٹی اسپیکر ریکارڈ سمیت عدالت میں پیش ہوں

    قبل ازیں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سماعت ہوئی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی تحریک انصاف کے وکلاء بیرسٹر علی ظفر ،عامر سعید راں روسٹرم پر موجود تھے، تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر، فواد چوہدری، حسین الہی سمیت پی ٹی آئی اور ق لیگ کی دیگر قیادت کمرہ عدالت میں موجود تھے

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست رات 12 بجے دائر کی گئی ، بتائیں آپ کا کیا معاملہ ہے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بہت اہم معاملہ ہے، اس لئے عدالت آئے ہیں، ڈپٹی اسپیکر نے چوہدری شجاعت حسین کے مبینہ خط کو بنیاد بنا کر ق لیگ کے ووٹ مسترد کیے

    تحریک انصاف کےوکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل کا آغاز کردیا اور کہا کہ گزشتہ روز وزیر اعلی کا انتخاب ہوا، حمزہ شہباز نے 179 جبکہ پرویز الٰہی نے 186ووٹ حاصل کیے ،ڈپٹی اسپیکر نے ق لیگ کے دس ووٹ مسترد کردیے ،کل پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے دوسرا راونڈ ہوا. جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اسمبلی میں کتنے ارکان موجود تھے. بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایوان میں 370 ارکان تھے .پرویز الہی کو 186 ووٹ جبکہ حمزہ کو 179 ووٹ ملے. آئینی طور پر پرویز الہی وزیر اعلی کا الیکشن جیت گیے. لیکن ڈپٹی اسپیکر نے انکے دس ووٹ مسترد کر دیے.

    ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست قابل سماعت قرار.عدالت نے ڈپٹی اسپیکر سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردیے،عدالت نے ڈپٹی اسپیکرسردار دوست محمد مزاری کو آج دوپہر 2 بجے طلب کر لیا سپریم کورٹ لاہور رجسٹری نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو بھی عدالتی معاونت کے لیے طلب کر لیا،عدالت نے حمزہ شہباز ،چیف سیکریٹری سمیت دیگر فریقین کونوٹسز جاری کر دیئے

    دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کی ڈائریکشن کی خلاف ورزی پر رپورٹ کرسکتا ہے،جمہوری روایت یہی ہے کہ پارلیمانی پارٹی طے کرتی ہے کہ کس کی حما یت کرنی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے جو رولنگ دیں ہمیں بتائیں کہ یہ بات کس پیرا میں لکھی ہے؟ وکیل پرویز الہیٰ نے کہا کہ حمزہ شہباز نے حلف لے لیا ہے, جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس سے فرق نہیں پڑتا ہم نے آئین اور قانون کی بات کرنا ہے ۔عدالت نے درخواست گزاروں کو ہدایت کی کہ آپ لوگ بھی زرا صبرو تحمل کا مظاہرہ کریں ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کو ذاتی طور پر سننا چاہتے ہیں، وہ اپنے ساتھ الیکشن ریکارڈ بھی لے کر آئیں، ڈپٹی اسپیکردوست مزاری آ کر اپنے مؤقف کا دفاع کریں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر نے دالت عظمیٰ کے فیصلے کی غلط تشریح کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پریشان نہ ہوں یہ قانونی سوال ہے، یادرکھیں ایسے معاملات غیر تجربہ کاری سے پیش آتے ہیں،معاملہ تشریح سے زیادہ سمجھنے کا ہے،پورے پاکستان میں لوگ یہ سماعت سننا چاہتے ہیں،یہ معاملہ 63 اے 2 بی کی تشریح کا ہے،ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے 10 ووٹوں کے مسترد کیے جانے سے متعلق معاملہ ہے،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے الیکشن ہوئے، پی ٹی آئی کے امیدوار نے 186 ووٹ حاصل کئے تا ہم ڈپٹی سپیکر نے چودھری شجاعت کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے دس ووٹ مسترد کر دیئے ، جسکے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے، پی ٹی آئی نے ایوان میں احتجاج کے بعد کئی شہروں میں احتجاج کیا اور رات کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، پی ٹی آئی کی درخواست عدالت نے قابل سماعت قرار دے دی ہے

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

  • سندھ  بلدیاتی انتخابات، حلقہ بندیوں کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    سندھ بلدیاتی انتخابات، حلقہ بندیوں کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ، سندھ بلدیاتی انتخابات کیلئے حلقہ بندیوں کیخلاف ایم کیو ایم کی درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور اٹارنی جنرل کو بھی نوٹسز جاری کردیئے ،وکیل ایم کیو ایم فروغ نسیم نے کہا کہ پورے سندھ کی حلقہ بندیوں کو چیلنج کیا ہے،سندھ حکومت کی ترامیم آئین اور سپریم کورٹ فیصلوں کے خلاف ہیں،ہائیکورٹ نے ترامیم کو غیر قانونی بھی قرار نہیں دیا،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر تو کیس واپس ہائیکورٹ بھجوانا پڑے گا،وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ سپریم کورٹ حکم امتناعی دے کر کیس ہائیکورٹ بھجوا دے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال انتخابات تو روک دئیے گئے ہیں ،وکیل نے کہا کہ بارش اور محرم کی وجہ سے انتخابات روکے گئے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ بھی ساتھ نہیں لگایا، وکیل نے کہا کہ تفصیلی فیصلہ کراچی رجسٹری میں جمع کروا دیا گیا تھا، سندھ بلدیاتی انتخابات کیلئے حلقہ بندیوں کیخلاف کیس کی سماعت منگل تک ملتوی کر دی گئی

     تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ جاری

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

  • سپریم کورٹ کی خاتون کو اسقاط حمل کی اجازت

    سپریم کورٹ کی خاتون کو اسقاط حمل کی اجازت

    نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک غیر شادی شدہ خاتون کو لیو ان ریلیشن شپ میں رہتے ہوئے اپنے 24 ہفتے کے حمل کو اسقاط حمل کرنے کی اجازت کا عبوری حکم جاری کیا –

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق عدالت نے حکم دیا کہ ایمس دہلی کے ڈائریکٹر ایم ٹی پی ایکٹ 22 جولائی کے دوران آئی پی سی کی دفعہ 3(2)(d) کی دفعات کے تحت ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیں اگر میڈیکل بورڈ یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ درخواست گزار کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے، تو ایمس کی درخواست کے مطابق اسقاط حمل کیا جا سکتا ہے۔ کارروائی مکمل ہونے کے بعد رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے گی۔

    عدالت نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے قانون سازی کی تشریح پر ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کی مدد طلب کی ہے ڈویژن بنچ نےاسقاط حمل کی اجازت دینےسے انکار کرتے ہوئے 16 جولائی 2022 کو مشاہدہ کیا کہ آج تک میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی رولز، 2003 کا قاعدہ 3B موجود ہے اورہندوستان کی یہ عدالت نہیں جا سکتی۔ آئین، 1950 کے آرٹیکل 226 کے تحت اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے قانون سے بالاتر ہے۔

    اس پر عدالت نے کہا کہ اس طرح کا قاعدہ درست ہے یا نہیں اس کا فیصلہ صرف اس صورت میں کیا جاسکتا ہے جب مذکورہ قاعدہ کو الٹرا وائرس سمجھا جائے جس کے لیے رٹ پٹیشن میں نوٹس جاری کیا جانا ہے۔

    عدالت نے نوٹ کیا کہ میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی ایکٹ کا سیکشن 3(2)(a) فراہم کرتا ہے کہ میڈیکل پریکٹیشنر حمل کو ختم کر سکتا ہے، بشرطیکہ حمل 20 ہفتوں سے زیادہ نہ ہو۔ عدالت نے مزید مشاہدہ کیا تھا، "ایکٹ کا سیکشن 3(2)(b) ایسے حالات میں ختم کرنے کا انتظام کرتا ہے جہاں حمل 20 ہفتوں سے زیادہ نہیں ہوتا ہے لیکن 24 ہفتوں سے زیادہ نہیں ہوتا ہے۔

    عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا تھا کہ ایکٹ کا سیکشن 3(2)(b) یہ فراہم کرتا ہے کہ مذکورہ ذیلی دفعہ کا اطلاق صرف ان خواتین پر ہوتا ہے جو حمل کےمیڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی رولز2003 کےتحت آتی ہیں۔ درخواست گزارایک غیرشادی شدہ خاتون ہے اور وہ رضامندی سے حاملہ ہوئی ہے۔ یہ بات میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی رولز، 2003 کے تحت کسی بھی شق میں واضح طور پر شامل نہیں ہے۔ لہٰذا، سیکشن 3(2)(b) کی دفعہ 3(2)) ایکٹ کا) (b) کیس کے حقائق پر لاگو نہیں ہوتا۔

    بنچ ایک 25 سالہ غیر شادی شدہ خاتون کی درخواست پر غور کر رہی تھی جس میں 23 ہفتے اور 5 دن میں حمل ختم کرنے کی درخواست کی گئی تھی درخواست گزار نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ وہ 5 بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہے اور اس کے والدین کسان ہیں اس نے مزید کہا کہ ذریعہ معاش نہ ہونے کی صورت میں وہ بچے کی پرورش کرنے سے قاصر ہوں گی۔

    درحقیقت، دہلی ہائی کورٹ نے 25 سالہ غیر شادی شدہ خاتون کو 23 ہفتے اور 5 دن میں حمل ختم کرنے کے لیے عبوری راحت دینے سے انکار کر دیا تھا عدالت نے کہا تھا کہ ایک غیر شادی شدہ عورت جو رضامندی سے حاملہ ہو جاتی ہے وہ واضح طور پر اس زمرے میں نہیں آتی ہے جو کہ حمل کے طبی خاتمے کے قواعد 2003 کے تحت آتی ہے۔

  • پی اے سی نے آڈیٹر جنرل کو سپریم کورٹ ڈیم فنڈ کی تحقیقات کا ٹاسک دے دیا

    پی اے سی نے آڈیٹر جنرل کو سپریم کورٹ ڈیم فنڈ کی تحقیقات کا ٹاسک دے دیا

    اسلام آباد: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) ارکان کی طرف سے ایک بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں ڈیم فنڈکی تحقیقات ہونی چاہیں، اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے نہ صرف تحقیقات کی جائیں گی بلکہ پبلک اکاونٹس کمیٹی میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی بلایا جاسکتا ہے۔

    اہل وطن کیلیےخوشخبری آگئی:مہمند کے 13،دیامربھاشا ڈیم کے10مقامات پر بیک وقت…

    تفصیلات کے مطابق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) ارکان نے سپریم کورٹ ڈیم فنڈ کا معاملہ اٹھادیا، ارکان نے ڈیم فنڈ کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

    کمیٹی رکن برجیس طاہر نے کہا کہ ڈیم فنڈ حقیقت میں ڈیم فول ہے، ڈیم کے لیے چندہ اکھٹا کر کے قوم کا مذاق بنایا گیا، دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جس نے چندے سے ڈیم بنائے ہوں، فنڈ کےلیے9 ارب روپےاکھٹے کیےگئے اور 13 ارب اشتہارات پر لگا دیے گئے۔

    پی اے سی نے آڈیٹر جنرل کو سپریم کورٹ ڈیم فنڈ کی تحقیقات کا ٹاسک دے دیا، چیئرمین کمیٹی نور عالم خان نے ہدایت کی کہ آڈیٹرجنرل سپریم کورٹ ڈیم فنڈ کی تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کریں۔

    سپریم کورٹ نے ڈیم فنڈ میں عطیہ کردہ 12کنال زمین مالک کو واپس کردی

    انہوں نے کہا کہ تحقیقات کی جائیں ڈیم فنڈ کے اشتہارات پر کتنے اخراجات آئے، کتنے خاندانوں نے ڈیم فنڈ سے بیرون ملک سفر کیا۔

    چیئرمین پی اے سی نے ڈیم فنڈ شروع کرنے والے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی طلب کرنے کا عندیہ دے دیا، چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ مالی بے ضابطگیاں سامنے آنے پر سابق چیف جسٹس کو بھی بلائیں گے۔

     

    چارپیسوں کی خاطرباپ کوڈپریشن کا مریض ثابت کررہے ہو:ڈیم بن رہا ہے:سپریم کورٹ

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے پچھلے چیف جسٹس گلزار احمد بھی اس حوالے سے ادارے کی طرف سےریمارکس دے چکے ہیں ،اس سلسلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا تھا کہ ڈیم فنڈ کا پیسہ سپریم کورٹ کے پاس موجود ہے۔ جب بھی ضرورت ہو واپڈا عدالت کو رقم کی فراہمی کا کہہ سکتا ہے۔
    اسلام آباد میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے دیامر بھاشا ڈیم کیس کی سماعت کی تھی

  • گستاخ نوپور شرما کو ریلیف دےدیا گیا

    گستاخ نوپور شرما کو ریلیف دےدیا گیا

    نئی دہلی :بھارتی سپریم کورٹ نے گستاخ نوپور شرما کوتحفظ دینے کی ٹھان لی،اطلاعات کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ سے بی جے پی کی انتہا پسند لیڈر نوپور شرما کو بڑا ریلیف مل گیا، عدالت نے پولیس کو 10 اگست تک نوپور شرما کی گرفتاری سے روک دیا۔

    بھارتی سپریم کورٹ میں آج (منگل کو) نوپور شرما کی درخواست پر سماعت ہوئی، سپریم کورٹ نے بی جے پی کی رہنما کے خلاف گستاخانہ بیان پر درج مقدمات کے معاملے پر ریاستی حکومتوں سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 10 اگست تک ملتوی کردی۔

    نوپور شرما نے نئی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ یکم جولائی کو سپریم کورٹ نے ان سے متعلق سخت تبصرہ کیا تھا جس کی وجہ سے ان کی جان کو خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔

    نوپور شرما نے اپنے خلاف 8 ریاستوں میں درج 9 مقدمات میں گرفتاری نہ کرنے کا مطالبہ کیا اور تمام مقدمات کو یکجا کرکے دہلی منتقل کرنے کی درخواست کی، درخواست میں مرکز کے علاوہ 8 ریاستوں دہلی، مہاراشٹر، تلنگانہ، مغربی بنگال، کرناٹک، جموں و کشمیر اور آسام کو فریق بنایا گیا ہے۔

    دوسری جانب بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورس نے ایک پاکستانی کو گرفتار کیا ہے جو نوپور شرما کو قتل کرنے کیلئے ہندوستان میں داخل ہوا تھا، پکڑے گئے شخص کی شناخت 24 سالہ رضوان اشرف کے نام سے ہوئی ہے جو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر منڈی بہاؤ الدین کا رہائشی ہے۔

    نوپور شرما کون ہیں؟
    نوپور شرما بھارتی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی قومی ترجمان ہیں جنہیں اب متنازعہ ریمارکس کے بعد عہدے سے برطرف کردیا گیا ہے۔ نوپور شرما نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز اپنی یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران کیا تھا۔
    نوپور شرما دہلی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے بیرونِ ملک چلی گئیں اور بھارت کی یوتھ ایمبیسیڈر بھی تھیں۔ بعدازاں ملک واپس آنے کے بعد انہوں نے بھارتیہ جنتا یوا مورچہ کے لیے کام کیا۔

     

     

    بی جے پی رہنما نے 2008 میں اے بی وی پی سے دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کا انتخاب جیتا تھا۔ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے یوتھ ونگ میں نیشنل ایگزیکٹو کی رکن کے طور پر بھی کام کر چکی ہیں۔ وہ بی جے پی میں مختلف اہم عہدوں پر بھی فائز رہی ہیں۔

    نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی
    بی جے پی رہنما کا متنازعہ بیان فرقہ وارانہ واقعات کے ایک سلسلے کے پسِ منظر میں شروع ہوا، بی جے پی کی ترجمان نے قطر میں ایک انٹرویو کے دوران نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کی۔

  • سپریم کورٹ کا فیصلہ،نااہلی کا ریفرنس بھیجیں گے،رانا ثناء اللہ

    سپریم کورٹ کا فیصلہ،نااہلی کا ریفرنس بھیجیں گے،رانا ثناء اللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عارف علوی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر، سابق وزیراعظم اور ڈپٹی سپیکر نے آئین کے ساتھ فراڈ کیا، اس سے بڑا کوئی جرم نہیں، سزا بھی آرٹیکل 5 اور 6 میں درج ہے، الیکشن کمیشن ڈی سیٹ کرے، نااہل بھی قرار دے۔

    سینیٹ میں صدرعارف علوی، عمران خان و دیگرکیخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کیلئےقرارداد

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے آئین کی سر بلندی ہوئی، آئین پاکستان عوام کی مقدس امانت ہے، تفصیلی فیصلے میں سابق حکومت کی آئینی خلاف ورزیوں کو برملا واضح کیا گیا۔

    آئین توڑنے والوں کے خلاف غداری کا مقدمہ چلنا چاہیے،مریم نواز

     

    وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کی سیاست کا جنازہ نکل گیا ہے، عمران نیازی نے اقتدار کو بچانے کے لیے آئین کی خلاف ورزی کی، ایسے ٹولے کی سیاست میں رہنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، وفاقی حکومت آئین کی خلاف ورزی پر ریفرنس بھیج سکتی ہے، ریفرنس بھیجنے کے حوالے سے کام شروع ہوچکا ہے، آئین کیساتھ فراڈ، خلاف ورزی کے آپشن کو ہم کھلا نہیں رکھیں گے، سپریم کورٹ کے حکم کو بجا لایا جائے گا، فیصلے کے بعد ریفرنس بنتا ہے، سپیکر فیصلے کے بعد نااہلی کا ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجیں، الیکشن کمیشن انہیں ڈی سیٹ کرے اور نااہل قرار دے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ آج کا دن بڑا مبارک ہے، صدر مملکت اور سابق وزیراعظم، سپیکر، ڈپٹی سپیکر نے ملک کے آئین کے ساتھ فراڈ کیا، سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے، یہ ایک قابل تعریف فیصلہ ہے، آئین توڑنے کی سزا پر عمران خان کو گرفتار کرنے کو تیار ہوں، کابینہ سے مقدمہ درج کرنے کی اجازت ملے گی تو گرفتار کریں گے، اب تو فیصلے کے بعد بڑا جرم ہوگیا ہے، ریفرنس ہوگا یا گرفتاری ہوتی ہے قانون اپنا راستہ لے گا، عمران خان نے مسلح افراد کے ساتھ دارالحکومت پر چڑھائی کی، لانگ مارچ کے دوران شیخ رشید کو گرفتار کرنے کا ارادہ تھا، بڑا ڈھونڈا ملا نہیں تھا۔

    نیوز کانفرنس میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ملک نے آئین کے مطابق چلنا ہے، سپریم کورٹ نے جو کہا ہے وہی سچ ہے، فواد چودھری جو کہہ رہے ہیں وہ سچ نہیں، نواز شریف کی سزا غلط ہے، ان کے ساتھ زیادتی ہوئی، نواز شریف کی سزا معطل کرکے پنجاب حکومت نے انہیں باہر بھیجا تھا، سابق وزیراعظم واپس آکر اپیلوں کی سماعت کروائیں، وہ بری ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کو آئین و قانون کے تحت چلانا ہے تو پھر کارروائی کرنا ہوگی، کل کابینہ کا اجلاس ہوگا اس میں یہ معاملہ ڈسکس ہوگا، میری ذاتی رائے میں اس فیصلے کے بعد ریفرنس اور ایکشن لینا چاہیے، میری رائے ہے سپیکر ان کیخلاف فوری ریفرنس بھیج سکتے ہیں، ہماری اتحادی حکومت ہے مشاورت سے ہی فیصلے ہوتے ہیں۔

    رانا ثنا اللہ نے اپنے کیس کے حوالے سے جواب دیا کہ شہریار آفریدی نے غلط قدم اٹھایا تھا، اصل ذمہ دار تو عمران خان اور شہزاد اکبر تھے۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی کے خلاف نہیں، کبھی ایک زمانہ تھا لوگ غائب ہوجاتے تھے، اب وہ زمانہ ہے لوگ اغوا ہوتے ہیں اور دو گھنٹے بعد بازیاب ہوجاتے ہیں، ابصارعالم پر حملہ کرنے والا شیخوپورہ سے پکڑا گیا تھا، شیخوپورہ سے پکڑے جانے والے نے خود کہا تھا ابصار عالم پرحملہ کیا تھا، پکڑے جانے والا مرکزی ملزم نہیں آلہ کار تھا۔

  • سپریم کورٹ کے فیصلے سے تکلیف ہوئی،عمران خان

    سپریم کورٹ کے فیصلے سے تکلیف ہوئی،عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے تکلیف ہوئی، عدلیہ نے کہا مراسلے سے متعلق تفتیش نہیں ہوئی، جب صدر نے عدالت عظمیٰ کو مراسلہ بھیجا تب چیف جسٹس نے تحقیقات کیوں نہیں کرائی۔

    سلیم صافی کی عمران خان اور بشری مانیکا کو 4 دن کی مہلت اسکے بعد چھپے راز فاش کرنے کا اعلان

    ڈیرہ غازی خان میں عوامی جلسہ سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ صدر پاکستان، اسپیکر نے مراسلہ چیف جسٹس کو بھجوایا تھا، امریکی انڈر سیکریٹری ڈونلڈ لو کس کو پیغام دے رہا تھا؟ سپریم کورٹ انکوائری کرے اور کمیشن بنائے۔انہوں نے کہا کہ منٹس موجود ہیں کہ میں نے وہ مراسلہ پہلے کابینہ، نیشنل سیکیورٹی کونسل، پارلیمنٹ کے سامنے رکھا جس میں واضح تھا کہ امریکی انڈر سیکریٹری ہمارے سفیر کو کہتا ہے عمران خان کو ہٹاؤ ورنہ مشکل میں آجاؤ گے۔

     

    سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر اتحادیوں کے کیس نیب منتقل کرنے میں سرگرم رہے۔ انکشاف

     

    عمران خان نے کہا کہ امریکا کی دھمکی میرے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے تھی، سوال کرتا ہوں کہ 22 کروڑ عوام کے حامل ملک کے لیے اس سے زیادہ توہین اور کیا ہوسکتی ہے۔

    واضح رہے کہ ایک روز قبل سپریم کورٹ نے اسپیکر رولنگ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کی وجہ سے وزیراعظم کی سفارش پر صدر مملکت نے اسمبلی توڑی جس پر اپوزیشن اور عوام کے بنیادی آئینی حقوق متاثر ہوئے۔

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے بھی فیصلے پر کہا ہے کہ عمران خان نے آئین شکنی کرتے ہوئے حکومت کی تبدیلی کو جس طرح سازشی بیانے کا رنگ دینے کے لیے جھوٹ گھڑا وہ انتہائی قابل شرم ہے

  • ڈپٹی سپیکر کا تحریک عدم اعتماد مسترد کرنیکا فیصلہ غیر آئینی قرار، سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ

    ڈپٹی سپیکر کا تحریک عدم اعتماد مسترد کرنیکا فیصلہ غیر آئینی قرار، سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ

    سپریم کورٹ نے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کیخلاف از خود نوٹس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے جس کے مطابق ڈپٹی سپیکر کی تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دیا گیا ہے۔

    86 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا، فیصلے کا آغاز سورہ الشعراء سے کیا گیا ہے۔

    سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلہ میں قرار دیا گیا کہ ڈپٹی سپیکر کی تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کا فیصلہ غیر آئینی ہے، وزیر اعظم کا اسمبلیاں تحلیل کرنے کا حکم غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا جاتا ہے، مبینہ بیرونی مراسلے کا مکمل متن عدالت کو نہیں دکھایا گیا، مراسلے کا کچھ حصہ بطور دلائل سپریم کورٹ کے سامنے رکھا گیا۔

    فیصلہ میں یہ بھی قرار دیا گیا کہ تحریک انصاف کے وکیل کے مطابق مراسلے کے تحت حکومت گرانے کی دھمکی دی گئی، مبینہ بیرونی مراسلہ ایک خفیہ سفارتی دستاویز ہے، سفارتی تعلقات کے پیش نظر عدالت مراسلے سے متعلق کوئی حکم نہیں دے سکتی، قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت کو تسلیم کیا گیا، قومی سلامتی اجلاس کے اعلامیے میں واضح تھا کہ اپوزیشن جماعتوں نے تحریک عدم اعتماد میں کوئی بیرونی سازش نہیں کی، بیرونی سازش کیخلاف کوئی انکوائری یا تحقیق نہیں کرائی گئی۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ عدالتیں مصدقہ حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہیں نہ کہ قیاس آرائیوں پر، سفارتی مراسلے سے متعلق فیصلہ کرنا ایگزیکٹیو کا کام ہے، چیف جسٹس پاکستان کے گھر پر ہونے والے اجلاس میں 12 ججز نے از خود نوٹس کی سفارش کی، سپریم کورٹ نے آئین کو مقدم رکھنے اور اسکے تحفظ کیلئے سپیکر رولنگ پر از خود نوٹس لیا۔

    فیصلہ کے مطابق ڈپٹی سپیکر کے غیر آئینی اقدام کی وجہ سے سپریم کورٹ متحرک ہوئی، ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کی وجہ سے وزیراعظم ایڈوائس اور صدر مملکت نے اسمبلی توڑی، ڈپٹی سپیکر رولنگ، وزیراعظم ایڈوائس اور صدر کے اقدامات کی وجہ سے اپوزیشن اور عوام کے بنیادی آئینی حقوق متاثر ہوئے، از خود نوٹس کی کارروائی کے دوران سائفر فریقین نے دلائل دیئے، سائفر عدالت کو دکھایا نہیں گیا، صرف سائفر کے اجزاء عدالت کو بتائے گئے۔

  • سپریم کورٹ میں منحرف ارکان اسمبلی کیخلاف پی ٹی آئی کی اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ میں منحرف ارکان اسمبلی کیخلاف پی ٹی آئی کی اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد:منحرفین کےخلاف گھیرا تنگ ہوتا جارہا ہے اوریہ کہ اس وقت یہ کیس پاکستان کی عدالت عظمیٰ کےپاس پہنچ چکا ہے،اطلاعات ہیں کہ اس حوالےسے پاکستان تحریک انصاف کے منحرف رکن قومی اسمبلی کیخلاف اپیلیں سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر کردی گئی ہیں۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق منحرف ارکان اسمبلی کیخلاف پی ٹی آئی کی اپیلیوں پر جسٹس عمرعطابندیال نے 3 رکنی بینچ تشکیل دیدیا ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ 19 جولائی کو پی ٹی آئی کی اپیلوں پر سماعت کرے گا۔ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ نے مقدمے کے فریقین کو نوٹس جاری کردیا۔

    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے 19 منحرف ارکان قومی اسمبلی کیخلاف چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا ریفرنس خارج کردیا تھا، پی ٹی آئی نے الیکشن کمشین کے فیصلے کیخلاف ارکان اسمبلی کی ڈی سیٹنگ کیلئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے درخواست وکیل فیصل چوہدری کے توسط سے دائر کی تھی، جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیر آئینی قرار دیا جائے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے 11 مئی کو قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کے خلاف ریفرنسز کو خارج کیا، جو کہ غیر آئینی فیصلہ ہے۔

    درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ الیکشن کمیشن کے سامنے تمام ثبوت موجود تھے، پھر بھی عدم شواہد کی بنیاد پر ریفرنسز خارج ہوئے، الیکشن کمیشن کو جمہوریت کی بقا کے لیے ہارس ٹریڈنگ اور فلور کراسنگ کے خلاف فیصلہ دینا چاہیے تھا۔عمران خان نے درخواست میں الیکشن کمیشن اور راجا ریاض کو فریق بنایا ہے۔

  • انحراف چھوٹی بات نہیں یہ انسان کے ضمیر کا معاملہ ہے،چیف جسٹس

    انحراف چھوٹی بات نہیں یہ انسان کے ضمیر کا معاملہ ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کے پنجاب اسمبلی کے منحرف اراکین کی الیکشن کمیشن فیصلے خلاف اپیلوں پرچیف جسٹس کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے سماعت کی.

    عدالت نے منحرف اراکین کو پارٹی پالیسی کے خلاف مسلم لیگ ن کو ووٹ دینے کے نکتے پر تیاری کر کے آنے کا حکم دے دیا، کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی، وکیل منحرف اراکین نے عدالت میں کہا کہ پی ٹی آئی نے وزیراعلی پنجاب کے انتخاب کیلئے کوئی ہدایات جاری نہیں کی تھیں،پی ٹی آئی کے وزیراعلی کے امیدوار پرویز الہی نے انتخاب کے روز اجلاس سے بائیکاٹ کر دیا تھا، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے ممبر ہوتے ہوئے آپ نے مسلم لیگ ن کو ووٹ دیئے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب آپ کی جماعت نے اجلاس سے بائیکاٹ کیا تو آپ نے شرکت کیوں کی؟ سپریم کورٹ آرٹیکل 63 اے کی تشریح میں انحراف کو پہلے ہی کینسر قرار دے چکی ہے،انحراف چھوٹی بات نہیں یہ انسان کے ضمیر کا معاملہ ہے،

    دوران سماعت پنجاب میں پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں سے ڈی سیٹ عظمٰی کاردار روسٹرم پر آگئیں اور کہا کہ مجھے پی ٹی آئی نے پارٹی سے نکالا میرا کیس انحراف سے ہٹ کر ہے،جس پر عدالت نے کہا کہ مخصوص نشستیں سیاسی جماعت کی اسمبلی میں ٹوٹل کے تناسب سے ہوتی ہیں، دیکھنا ہو گا کہ جب آپ کو پی ٹی آئی نے پارٹی سے ہی نکال دیا تو آپ ممبر کیسے تھیں؟ عظمیٰ کاردار نے کہا کہ میں نے پی ٹی آئی کیلئے خون پسینہ لگا کر محنت کی آج بھی پارٹی کی رکن ہوں پی ٹی آئی کی اندرونی سازشوں کی وجہ سے مجھے پارٹی سے بے دخل کیا گیا، مجھے آرٹیکل 63 اے نے تحفظ دیا کہ مجھ پر انحراف ثابت نہیں ہوا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کو نہیں معلوم تھا کہ آپ کو پارٹی سے نکال دیا گیا ہے؟ عظمیٰ کاردار نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے سامنے تمام دستاویزات موجود تھے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ واضح کر چکی کہ منحرف اراکین کا ووٹ شمار نہیں ہوگا،سیاسی جماعتوں کا بنیادی حق ہے کہ اس کا رکن اس سے وفاداری کرے،

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے برطانوی وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کا حوالہ دیا اور کہا کہ کیا آپ کو معلوم ہے بورس جانسن کو شکست کہاں ہوئی؟ بورس جانسن کے خلاف کوئی تحریک عدم اعتماد نہیں آئی تھی بورس جانسن کو ان کی پارلیمنٹری پارٹی نے فارغ کیا تھا یہ جمہوریت کی نشوونما ہے، عظمیٰ کاردار نے کہا کہ پی ٹی آئی میں کسی کی ہمت نہیں کہ پارٹی لیڈر کے خلاف بات کر سکے، کہتے رہے بزدار کو سپورٹ کرنا ہے جب بات نہیں بنی تو دوسری طرف چلے گئے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جماعت کا سربراہ اور پارلیمانی پارٹی لیڈر الگ الگ ہوتے ہیں، جماعت کے سربراہ نہیں پارلیمانی پارٹی لیڈر کی ہدایات پر عمل کرنا ہوتا ہے،منحرف اراکین کا معاملہ کیس ٹو کیس دیکھیں گے سپریم کورٹ کے سامنے پارٹی سربراہ کی ڈکٹیٹرشپ کا معاملہ بھی ہے،

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    یاد رہے کہ چند دن پہلے پاکستان تحریک انصاف کے 25 منحرف ارکان پنجاب اسمبلی کو ڈی سیٹ کر دیا گیا تھا ۔چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایاتھا ۔

    چیف الیکشن کمشنر نے فیصلے میں کہا کہ منحرف ارکان پنجاب اسمبلی سے متعلق فیصلہ اتفاق رائے سے کیا گیا ہے۔

    ڈی سیٹ ہونے والے منحرف اراکین پنجاب اسمبلی میں راجہ صغیر احمد، ملک غلام رسول سنگا، سعید اکبر خان، محمد اجمل، علیم خان، نذیر چوہان، محمد امین ذوالقرنین ، ملک نعمان لنگڑیال، محمد سلمان، زوار وڑائچ، نزید احمد خان، فدا حسین، زہرہ بتول، محمد طاہر، عائشہ نواز، ساجدہ یوسف، ہارون عمران گل، عظمی کاردار، ملک اسد، اعجاز مسیح، سبتین رضا، محسن عطا خان کھوسہ، میاں خالد محمود، مہر محمد اسلم اور فیصل حیات شامل ہیں۔