Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • ہم تو 24 گھنٹے سپریم کورٹ بیٹھنے کیلئے حاضر ہیں،آپ رات 9 بجے بھی کہیں، چیف جسٹس

    ہم تو 24 گھنٹے سپریم کورٹ بیٹھنے کیلئے حاضر ہیں،آپ رات 9 بجے بھی کہیں، چیف جسٹس

     

    سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان کی طرف سے سپریم کورٹ میں دلائل دیئے گئے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں یہ کیس جلد ختم ہو،14 سماعتیں ہوچکی ہیں حامد خان جلد دلائل مکمل کریں،بینچ میں شامل دو ججز جولائی اور اگست میں ریٹائر ہورہے ہیں،ججز کی ریٹائرمنٹ سے قبل کیس ختم کرنا چاہتے ہیں،زیر التوا مقدمات کے بوجھ کے باعث لارجر بینچ مشکل سے بنتا ہے،وکیل حامد خان نے کہا کہ کیس دوپہر 12 بجے شروع ہو تو دلائل کیلئے زیادہ وقت مل جائے گا جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم تو 24 گھنٹے سپریم کورٹ بیٹھنے کیلئے حاضر ہیں،آپ رات 9 بجے بھی کہیں تو سپریم کورٹ میں کیس سننے کیلئے تیار ہیں،عدالت نے حامد خان کو، آج دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کل اٹارنی جنرل کو سن لیں گے،

    جسٹس شوکت صدیقی ملکی تاریخ کے دوسرے جج ہیں جن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی گئی ہے  اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

    اکتوبر 2018 میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے متنازع خطاب پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف

    جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا

    سابق جج شوکت عزیز صدیقی ایک بار پھر عدالت پہنچ گئے

    سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت عزیز صدیقی نے چیف جسٹس گلزار احمد کو خط لکھ دیا

    تین سال بیت گئے،ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزرچکی اب تو کیس سن لیں،سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا چیف جسٹس کو خط

    شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

  • سپریم کورٹ کا موسم گرما کی تعطیلات میں بھی کام جاری رکھنے کا فیصلہ

    سپریم کورٹ کا موسم گرما کی تعطیلات میں بھی کام جاری رکھنے کا فیصلہ

    اسلام آباد:سپریم کورٹ کا موسم گرما کی تعطیلات میں بھی کام جاری رکھنے کا فیصلہ،اطلاعات کے مطابق ترجمان سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ عوام کو بڑے پیمانے پر انصاف کی فراہمی کے لیے موسم گرما کی تعطیلات میں بھی بھرپور کام ہوگا۔

    ترجمان کا پریس ریلیز میں کہنا تھا کہ تعطیلات کے پہلے ہفتے میں 3 بینچز سمیت پرنسپل سیٹ پر کام کریں گے جبکہ ایک بینچ کراچی رجسٹری کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔ترجمان عدالت عظمیٰ کے مطابق 13 اور 14 جون کے لیے 2 لارجر بینچ بھی تشکیل دیے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ رواں سال موسم گرما کی تعطیلات میں اسی روٹین پر عمل کیا جائے گا۔

    ترجمان کے مطابق سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات میں کمی ہوئی ہے، گزشتہ چار ماہ کے دوران زیر التوا مقدمات میں ایک ہزار 182 کی کمی آئی ہے۔

    مزید بتایا گیا کہ 10 جون کو ختم ہونے والے ہفتے میں 183 نئے مقدمات کا اندراج ہوا جبکہ 568 مقدمات نمٹائے گئے، اس طرح زیر التوا مقدمات مزید کم ہو کر 385 رہ گئے۔

    یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں بلکہ عدلیہ کی تاریخ بھری پڑی ہے جس میں ہر دور میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے رواں سال موسمِ گرما میں بھی ‘انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے’ کام جاری رکھا

    2019 میں بھی سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ‘سپریم کورٹ کو زیرِ التوا مقدمات کا ادراک ہے اس لیے پرنسیپل سیٹ سمیت تمام برانچ رجسٹریوں میں گرمیوں کے دوران کام جاری رہے گا تاکہ عوام کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔’

    خیال رہے کہ پاکستان میں لگ بھگ ڈھائی ماہ تک چھوٹی بڑی تمام عدالتیں گرمیوں کی چھٹیوں کے باعث بند پڑی رہتی تھیں۔ عدالتوں سے منسلک سرکاری ملازمین کو حاصل یہ ‘سہولت’ ملک میں کسی دوسرے سرکاری ادارے کو حاصل نہیں ہے۔عموماً اس دوران اگر عدالتوں میں انتہائی ضروری نوعیت کے کیسز آئیں تو چھٹیوں میں مقدمات ڈیوٹی ججز سنتے تھے۔

    پاکستان جیسے ملک میں جہاں پہلے ہی اعلیٰ عدالتوں میں لاکھوں کیسز سالہا سال سے فیصلے کے منتظر ہیں وہاں ججوں کے تعطیلات پر ہونے کی وجہ سے ہزاروں سائلین کو مزید پریشانی اٹھانا پڑتی تھی اور اس حوالے سے کئی حلقوں کی جانب سے عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا چکا ہے۔

    چھٹیوں کی ابتدا کیسے ہوئی؟
    عدالتی چھٹیوں کی روایت کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قیام سے قبل یہاں موجود برطانوی حکام نے اس خطے میں گرم ترین مہینوں میں موسم کی سختی سے بچنے اور اپنی سہولت کے لیے گرمیوں کی چھٹیوں کا شیڈول بنایا تھا۔

    عمومی طور پر انگریز جج موسمِ گرما میں برصغیر سے واپس برطانیہ چلے جاتے تھے یا پھر کسی پرفضا پہاڑی مقام پر اپنا ڈیرہ لگاتے۔

    گورے جج تو چلے گئے مگر اپنی یہ روایت پاکستانی عدلیہ کے لیے ترکے میں چھوڑ گئے۔ ان کے جانے کے تقریباً 70 سال بعد بھی برصغیر کے دونوں بڑے ممالک انڈیا اور پاکستان آج بھی اس روایت پر عمل پیرا ہیں۔

  • جس زمین کا مسئلہ ہے اسے ریگولر کریں اورانہیں جرمانہ ٹھوکیں،سپریم کورٹ

    جس زمین کا مسئلہ ہے اسے ریگولر کریں اورانہیں جرمانہ ٹھوکیں،سپریم کورٹ

    جس زمین کا مسئلہ ہے اسے ریگولر کریں اورانہیں جرمانہ ٹھوکیں،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں پارک ویو سوسائٹی کی این او سی منسوخی کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی
    سپریم کورٹ نے اسلام آباد انتظامیہ کو سڑک کی تعمیر کیلئے حد بندی کی ہدایت کر دی ،عدالت نے پارک ویو سوسائٹی کو اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے سے ملکر راستہ ریگولر کرانے کی ہدایت کر دی، عدالت نے حکم دیا کہ سی ڈی اے چاہے تو پارک ویو پر قانون کے مطابق جرمانہ کر سکتا ہے، عدالت نے سی ڈی اے کو متاثرین کو ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایت کر دی، عدالت نے کہا کہ اسلام آباد انتظامیہ تعین کرے پارک ویو نے کسی کی زمین پر قبضہ کیا ہے یا نہیں،

    وکیل پارک ویو نے کہا کہ ہائیکورٹ احکامات کی وجہ سے بجلی اور گیس کے میٹر نہیں لگ رہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپنی نیک نیتی دکھانے کیلئے الاٹ شدہ مقام پر سڑک کی تعمیر شروع کریں،الاٹ شدہ زمین کا جو حصہ متنازع نہیں وہاں سڑک بنانی شروع کریں، وکیل پارک ویو نے کہا کہ سی ڈی اے متاثرین کیساتھ مسئلہ حل کرے تو فوری تعمیر شروع ہو جائے گی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ متاثرین کا مسئلہ حل کرنے میں پارک ویو سے زیادہ جلدی کسی کو نہیں ہو سکتی، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم درست نہیں، سی ڈی اے بھی سویا ہوا ہے،پارک ویو نے غیر قانونی کام اور سی ڈی اے نے مجرمانہ غفلت دکھائی،عدالت مسئلہ حل کرنے کی کوشش میں پھنس گئی ہے، اثاثے بنانا معیشت کیلئے بہت ابھی چیز ہے،اثاثے غلط بنے ہوں تو قصور بنانے والے کا ہوتا ہے، جو گھر بن چکے ہیں انہیں گرانا مسئلے کا حل نہیں ہے، جو تعمیرات ریگولر ہو سکتی ہیں انہیں کرنا چاہیے،

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نسلہ ٹاور کا بھی مسئلہ سڑک کا ہی تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے تو قرار دیا کہ سب کچھ مسمار کر دو ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے سوموٹو کا اختیار کیسے استعمال کر لیا، ہائیکورٹ کے حکم پر مقدمہ بھی درج نہیں ہوا، مقدمہ درج ہو جاتا تو حقائق سامنے آ جاتے، وکیل متاثرین نے کہا کہ نیشنل پارک کی زمین کسی سوسائٹی کو الاٹ نہیں ہو سکتی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانونی حل نکل رہا ہو تو اس پر فوکس کرنا چاہیے، پارک ویو نے سڑک بنا کر سی ڈی اے کا بھلا کیا، بے قاعدگیاں ہوتی رہتی ہیں، کیس کہیں سے شروع ہوتا ہے پہنچ کہیں اور جاتا ہے، جس زمین کا مسئلہ ہے اسے ریگولر کریں اور انہیں جرمانہ ٹھوکیں متاثرین کا اگر کوئی بند راستہ ہے تو انتظامیہ سے رجوع کریں، عدالت نے مزید سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی

    علیم خان کی سوسائٹی کیخلاف عدالت میں روزدرخواستیں آرہی ہیں،اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے ریمارکس

    علیم خان اتنے بااثر ہیں کہ ریاست نے اپنی زمین استعمال کیلئے دے دی؟

    آئی بی افسران کا ہاؤسنگ سکیم کے نام پر بڑا دھوکہ، رقم لیکر ترقیاتی کام کروانے کی بجائے مزید زمین خرید لی

    ہاؤسنگ سوسائٹیز میں لوگوں کو لوٹا جا رہا ہے، سپریم کورٹ نے دی حکومت کو مہلت

    فلمسٹار لکی علی کا فراڈ ہاوسنگ سوسائٹیوں سے عوام کو چونا لگانے کا اعتراف،نیب نے کی ریکارڈ ریکوری

    وفاقی انٹیلی جنس بیورو آئی بی کے افسران کی جانب سے اسلام آباد میں پراپرٹی کا کام شروع کئے جانے کا انکشاف

    وفاقی انٹیلی جنس بیورو آئی بی کے افسران کی جانب سے ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر اربوں کا فراڈ

    آئی بی کی ہاوسنگ اسکیم کے فراڈ پر پوسٹ لکھنے پر صحافی کا 15 سالہ پرانا فیس بک اکاؤنٹ ہیک

    آئی بی افسران کی ہاؤسنگ سکیم،دس سال پہلے پلاٹ خریدنے والوں کو قبضہ نہیں ملا، نیب کہاں ہے؟ عدنان عادل

    بنی گالہ کی حدود میں صحافیوں پر تشدد، مقدمے کے اندراج میں سیاسی اثرورسوخ حائل ہوگیا

  • امریکا: سپریم کورٹ کے جج کو قتل کرنے کی نیت سے آنیوالا مسلح شخص گرفتار

    امریکا: سپریم کورٹ کے جج کو قتل کرنے کی نیت سے آنیوالا مسلح شخص گرفتار

    امریکا میں سپریم کورٹ کے قدامت پسند جج جسٹس بریٹ کیوانا کو قتل کرنے کی نیت سے آنے والے مسلح شخص کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    باٍی ٹی وی : امریکی خبررساں ادارے "سی این این” کے مطابق محکمہ انصاف نے بدھ کی صبح میری لینڈ میں جسٹس بریٹ کیوانا کے گھر کے قریب سے گرفتار ہونے والے اس شخص پر امریکی جج کو اغوا یا قتل کرنے کی کوشش یا دھمکی دینے کا الزام عائد کیا ہے۔

    امریکا میں پُر تشدد واقعات کے خطرات ہیں، ہوم لینڈ سیکیورٹی نے انتباہ جاری کر دیا

    مجرمانہ شکایت کے مطابق، اس شخص، 26 سالہ، سمی ویلی، کیلیفورنیا کے، نکولس جان روسکے، نے حکام کو فون کیا تھا کہ وہ خودکشی کے خیالات رکھتا ہے اور اس کے سوٹ کیس میں آتشیں اسلحہ تھا، جس کی وجہ سے اس کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

    بدھ کو ایف بی آئی کے ایک حلف نامے کے مطابق، اس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بتایا کہ اس نے کیلیفورنیا سے "امریکی سپریم کورٹ کے ایک مخصوص جسٹس” کو قتل کرنے کے لیےسفر کیا تھاحلف نامے میں کہا گیا ہےکہ روسکے اسقاط حمل کے حقوق سے متعلق سپریم کورٹ کی رائے کے لیک ہونے، آنے والے گن کنٹرول کیس اور Uvalde، Texas میں گزشتہ ماہ اسکول میں ہونے والی فائرنگ سے پریشان ہیں۔

    انڈونیشیا: لاشوں کو دریا میں پھینکنے کے جرم میں فوجی افسر کو عمر قید کی سزا

    حراست میں لیے گئے مشتبہ شخص نے گرفتاری کے بعد پولیس کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس بریٹ کیونو کو قتل کرنے کے ارادے سے ان کے گھر کی جانب آیا تھا، جس پر ملزم کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش شروع کردی گئی ہے۔

    ملزم کے قبضے سے ایک پستول، مرچوں والا اسپرے اور دیگر اشیا بھی برآمد کرلی گئی ہیں۔ میری لینڈ کی وفاقی عدالت میں داخل کیے گئے مقدمے کی دستاویز کے مطابق ملزم نے یہ بھی بتایا کہ وہ جج کو قتل کرنے کے بعد خود کو بھی گولی مارنے کا ارادہ رکھتا تھا۔

    واضح رہے کہ امریکی ہوم لینڈ سیکورٹی کی جانب سے چند روز قبل ہی ایک ایڈوائزری جاری کی گئی تھی، جس میں آئندہ دنوں کے دوران ممکنہ دہشت گردی سے متعلق انتباہ جاری کیا گیا تھا۔

  • کیا ہم کبھی ایک فائل سے کاغذ ڈھونڈیں گے کبھی دوسرے سے؟ سپریم کورٹ

    کیا ہم کبھی ایک فائل سے کاغذ ڈھونڈیں گے کبھی دوسرے سے؟ سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں نئی حلقہ بندیوں کیخلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت 13 جون تک ملتوی کر دی گئی

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن جواب ملنے پر فیصلہ کرے گا حلقہ بندی کس مردم شماری پر ہوگی، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست میں ترمیم کی اجازت دی تھی لیکن درست انداز میں فائل نہیں ہوئی کیا ہم کبھی ایک فائل سے کاغذ ڈھونڈیں گے کبھی دوسرے سے؟ عدالت نے تحریک انصاف کو آئندہ پیر تک درخواستیں یکجا کرنے کی ہدایت کر دی عدالت نے پی ٹی آئی کو متفرق اور ترمیم شدہ درخواستیں یکجا کرکے جمع کرانے کی ہدایت کر دی

    وکیل پی ٹی آئی نے عدالت میں کہا کہ حلقہ بندیوں کے شیڈول پر تیزی سےعمل ہورہا ہے،نئی حلقہ بندیوں کو آرٹیکل 51(5) کا تحفظ حاصل نہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن متعلقہ حکام کی جانب دیکھ رہا ہے،الیکشن کمیشن پوچھ رہا ہے 2021 کی مردم شماری کب تک مکمل ہوگی، عدالت نے تحریک انصاف کو آئندہ سوموار تک درخواستیں یکجا کرنے کی ہدایت کر دی ،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 13 جون تک ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے نئی حلقہ بندیاں کرانے کے شیڈول کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، سیاسی جماعت کی جانب سے پارٹی کے جنرل سیکرٹری اسد عمر نے عدالت میں آرٹیکل184 تھری کے تحت درخواست دائرکی درخواست میں ادارہ شماریات، وفاق، الیکشن کمیشن، سیکرٹری الیکشن کمیشن ، صوبائی چیف سیکرٹریز اور سیکرٹری کابینہ کوفریق بنایا گیا ہے۔پی ٹی آئی نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہےکہ نئی مردم شماری ہونے تک نئی حلقہ بندیوں کی کوئی ضرورت نہیں، الیکشن کمیشن کا حلقہ بندیوں کا شیڈول آئین اور قانون کے خلاف ہے۔ درخواست میں اپیل کی گئی کہ الیکشن کمیشن کو کسی قسم کی انتخابی عمل میں تاخیرسے روکا جائےاور قرار دیا جائے کہ3 مئی 2018 میں کروائی گئی حلقہ بندیاں درست ہیں درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیا گیا شیڈول غیرآئینی اور غیر قانونی قراردیا جائے، الیکشن کمیشن اور سیکرٹری الیکشن کمیشن کو انتخابی عمل یقینی بنانے کا حکم دیا جائے-

    نیب کی غفلت سے میرا بازو مستقل ٹیڑھا ہو گیا، احسن اقبال نیب اور حکومت پر برس پڑے

    ناروال اسپورٹس کمپلیکس کیس،ریفرنس دائر ہونے کے بعد احسن اقبال نے کیا مطالبہ کر دیا؟

    لا کالج جگا گیری کر رہے ہیں، سسٹم کا تماشا بنا دیا گیا،لاہور ہائیکورٹ برہم

     لا کالجزقائم کرنے کے باقاعدہ طریقہ کارسے متعلق قائمہ کمیٹی کے قیام کا حکم

  • ایک ایک کمرے کےلا کالج، پیسہ کمانے کیلئے ایک کاروبار،سپریم کورٹ کے ریمارکس

    ایک ایک کمرے کےلا کالج، پیسہ کمانے کیلئے ایک کاروبار،سپریم کورٹ کے ریمارکس

    ایک ایک کمرے کےلا کالج، پیسہ کمانے کیلئے ایک کاروبار،سپریم کورٹ کے ریمارکس

    سپریم کورٹ میں بہاوالدین زکریا یونیورسٹی میں مبینہ جعلی داخلوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے بہاوالدین زکریا یونیورسٹی کے لا سٹوڈنٹس کو امتحان دینے کی اجازت دے دی ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ امتحانات کے بعد طلبا کا تمام ریکارڈ عدالتی حکم کے تحت قائم کمیٹی کو بھجوایا جائے گا ،سپریم کورٹ نے کمیٹی سے امتحانات کے بعد دو ہفتے میں داخلوں پر رپورٹ طلب کرلی،وزیر قانون نے کہا کہ بہاوالدین زکریا یونیورسٹی میں14ہزارجعلی ا سٹوڈنٹس کے داخلے سامنے آئے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بہاوالدین زکریا یونیورسٹی میں14ہزارجعلی داخلے تو سوچ سے باہر ہیں ،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 2018 میں 3سالہ لا ڈگری ختم کرنے کا حکم دیا تھا ،وکیل یونیورسٹی نے کہاکہ 2016 کے داخلے کے ہی اب امتحانات لیے جا رہے ہیں،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2016 کے داخلوں کا امتحان اب 2022 میں لینے کی سمجھ نہیں آتی ،ایک ایک کمرے کے لا کالج بنائے گئے، پیسہ کمانے کیلئے ایک کاروبار بن چکا ہے ،وکیل بار کونسل نے کہا کہ عدالتی حکم پر بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی نے کسی کالج کو ڈی ایفلیٹ نہیں کیا ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے 32 لا کالجز کو فوری طور پر ڈی ایفیلیٹ کرنے کا حکم دیا تھا عدالتی حکم کے باوجود جعلی کالجز کی یونیورسٹی سے ایفلی ایشن ختم نہیں کی گئی، اسکروٹنی کے عمل میں ایف آئی اے کو شامل کریں گے، جعلی داخلے چھوٹا اسکینڈل نہیں ،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے کو شامل کیا یا امتحانات روکے تو 6 سال کچھ نہیں ہوگا ،حقیقی طلبا کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے، سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کمیٹی رپورٹ آنے تک ملتوی کردی

    نواز شریف سے جیل میں نیب نے کتنے گھنٹے تحقیقات کی؟

    نیب کی غفلت سے میرا بازو مستقل ٹیڑھا ہو گیا، احسن اقبال نیب اور حکومت پر برس پڑے

    ناروال اسپورٹس کمپلیکس کیس،ریفرنس دائر ہونے کے بعد احسن اقبال نے کیا مطالبہ کر دیا؟

    لا کالج جگا گیری کر رہے ہیں، سسٹم کا تماشا بنا دیا گیا،لاہور ہائیکورٹ برہم

     لا کالجزقائم کرنے کے باقاعدہ طریقہ کارسے متعلق قائمہ کمیٹی کے قیام کا حکم

  • مناسب ہوگا اگر کابینہ ہی ایسی بنے جس کا نام ای سی ایل پر نہ ہو،چیف جسٹس

    مناسب ہوگا اگر کابینہ ہی ایسی بنے جس کا نام ای سی ایل پر نہ ہو،چیف جسٹس

    مناسب ہوگا اگر کابینہ ہی ایسی بنے جس کا نام ای سی ایل پر نہ ہو،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں تفتیشی اداروں میں حکومتی مداخلت از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ای سی ایل میں نام ڈالنے کے لیے کون کہتا ہے، کبھی کسی سے پوچھا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ خط آتا ہے کہ متعلقہ شخص سے تفتیش جاری ہے نام ای سی میں ڈال دیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تفتیش ہورہی ہے تو نیب یا اداروں سے پوچھنا چاہیے ، نام نکال رہے ہیں اعتراض تو نہیں نام نکال رہے ہیں اس بارےمیں ہم نہیں پوچھ رہے ہیں، کیا پی پی سی اور نیب کے قانون میں کوئی فرق ہے ؟ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پی پی سی اور نیب کے قانون میں فرق ہے، نیب کے پاس اختیار ہے کہ ای سی ایل میں نام رکھنے کے لیے توسیع کا خط لکھے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کا نام ای سی ایل سے نکال رہے ہیں تو کسی کو نوٹس تو دیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا جلدی تھی کہ ای سی ایل سے 400 سے زائد نام نکالے گئے؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون واضح ہے کہ جب ذاتی مفاد ہو تو اس کو سامنے رکھنا چاہیے ایک شخص جس کا نام ای سی ایل میں ہے اور وزیر بن جاتا ہے کیا تو کیا ہوگا؟آپ ہمیں بتا رہے ہیں کہ معاملہ آزادانہ نقل و حرکت کا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ 22اپریل کو سب کمیٹی کی میٹنگ ہوئی جس میں رولز میں ترمیم کی گئی، جسٹس منیب اختر نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اس کے بعد کابینہ کی میٹنگ کب ہوئی ہے ؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایگزیکٹو کے فنکشنز میں مداخلت نہیں کررہے،ایک وزیر فنانشل معاملات پر کام کررہا ہے، ہم آپ کو 2ہفتے کا وقت دیتے ہیں ، قانون کے مطابق عمل کریں، ہم چاہتے ہیں قانون پر عملدرآمد کر کے سب سے یکساں انصاف ہو،ای سی ایل رولز میں ترمیم کا اطلاق ماضی سے کیوں کیا گیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ماضی سے ترمیم کے اطلاق کا مقصد مخصوص افراد کیلئے نہیں تھا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ترمیم کرنے والوں کےرشتہ دار یا دوستوں کو فائدہ ہورہا تو کیا ایسی ترمیم ہونی چاہیے؟جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ آپ نے لکھا ہے کہ ملک سے باہر جانا ایک بنیادی حق ہے،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ہم نے کہا ہے کہ آزادانہ نقل و حرکت ایک شہری کا بنیادی حق ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے کی رپورٹ مطابق تبدیلیاں کی گئی ہیں،ایف آئی اے ہائی کلاسیفائیڈ کیسز کیسے کرتے ہیں؟ وکیل نے عدالت میں کہا کہ ہائی کلاسیفائیڈ کیسز مقرر کرنے کا ایک ایس او پی ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ملزمان کے نام ای سی ایل سے نکالنے کی کیا جلدی تھی؟ ای سی ایل رولز میں ترمیم کا اطلاق گزشتہ تاریخوں سے ہونے کا ذکر نہیں، ای سی ایل میں شامل وزرا نام نکالنے کا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ سعد رفیق کا نام عدالت نے شامل کرایا تھا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سعد رفیق کابینہ اجلاس میں موجود نہیں تھے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق سعد رفیق نے ای سی ایل رولز کی منظوری دی ہے،کیا وزرا کو خود معاملے سے الگ نہیں ہونا چاہیے تھا؟ ذاتی مفاد کیلئے کوئی کیسے سرکاری فیصلے کر سکتا ہے؟ کیا وزرا کیلئے ذاتی کیس سے متعلق کوئی ضابطہ اخلاق ہے ؟ ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر وزیر اعظم کا نام ای سی ایل میں ہو تو کیا کابینہ فیصلہ ہی نہیں کرے گی؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مناسب ہوگا اگر کابینہ ہی ایسی بنے جس کا نام ای سی ایل پر نہ ہو، کسی کو سزا دینے کیلئے کارروائی نہیں کر رہے،عدالت صرف چاہتی ہے کہ قانون پر عملدرآمد کیا جائے،

    سپریم کورٹ نے حکومت کو ای سی ایل ترمیم کو قانونی دائرہ میں لانے کیلئے ایک ہفتے کی مہلت دے دی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہیں ورنہ حکم جاری کریں گے ممکن ہے عدالتی حکم مشکلات پیدا کرے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ ایک ہفتے میں مناسب اقدامات کرلیں،ایگزیکٹو اختیارات میں فی الحال مداخلت نہیں کرنا چاہتے،نام نہیں لیتے ایک وزیر کا نام ای سی ایل سے نکالا گیا وہ اہم معاشی امور سرانجام دے رہا ہے،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر بیرون ملک جانا بنیادی حق ہے تو پھر ای سی ایل کا کیا جواز رہ گیا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میری رائے میں تو ای سی ایل ہونی ہی نہیں چاہیے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیس میں ذاتی رائے پر نہیں جائیں گے، اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایمانداری،انصاف اور شفافیت کو مد نظر رکھا جائے،عدالت نے جن خامیوں کی نشاندہی کی ہے انکو دور کیا جائے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی زبردستی کیس بنوانے کی بات کرے تو عدالت کو آگاہ کریں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ڈی جی ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ آپ سول سرونٹ ہیں کسی کی مداخلت تسلیم نہ کریں،کوئی دباو ڈالتا ہے تو عدالت کو بتائیں تحفظ فراہم کیا جائے گا،سپریم کورٹ نے ایف آئی اے اور نیب کے ہائی پروفائل مقدمات کا ریکارڈ طلب کر لیا اور کہا کہ تمام شواہد اور ریکارڈ کی سافٹ کاپی سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے،اگر ریکارڈ گم ہوا تو سپریم کورٹ سے آپکو مل جائے گا، ایف آئی اے تفتیشی افسر اور پراسیکیوٹر کے علاوہ دیگر کو تبدیل کر سکتا ہے، پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ نیب کو مقدمات کا جائزہ لینے کیلئے وقت دیا جائے، چیئرمین نیب کی تعیناتی کے بعد ہی احکامات پر عمل ممکن ہوگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ نیب پر اگر کوئی دباو ڈالے تو عدالت کو آگاہ کریں، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا چیئرمین نیب کا چارج کسی افسر کو دیا گیا ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توقع ہے حکومت سوچ سمجھ کر چیئرمین نیب کی تعیناتی کرے گی،معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں حکومت سے اچھی توقع ہے،توقع ہے صاف، ایماندار، قابل اور نیک نام شخص کو چیئرمین نیب لگایا جائے گا سسٹم کے باہر سے کوئی دباو قبول کیا جائے نہ ہی تعیناتی کی جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ توقع ہے جو کہنا چاہ رہا ہوں آپ سمجھ گئے ہونگے، نیب بھی یقینی بنائے کہ اس کا ادارہ کسی کیخلاف انتقام کیلئے استعمال نہ ہو،

    دو سابق وزراء کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست پر اعتراض عائد

    شادی اس بات کا لائسنس نہیں کہ شوہر درندہ بن کر بیوی پر ٹوٹ پڑے،عدالت

    خواجہ سراؤں کا چار رکنی گروہ گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

  • ڈسکہ ضمنی الیکشن دھاندلی، دو افسران کیخلاف کاروائی کا فیصلہ معطل

    ڈسکہ ضمنی الیکشن دھاندلی، دو افسران کیخلاف کاروائی کا فیصلہ معطل

    لاہور ہائیکورٹ نے ڈسکہ ضمنی الیکشن دھاندلی میں دو افسران کے خلاف کاروائی کا فیصلہ معطل کردیا گیا

    جسٹس شجاعت علی خان نے کیس پر سماعت کی ،عدالت نے ڈی سی سیالکوٹ ذیشان جاوید اور اسسٹنٹ کمشنر آصف حسین کے خلاف کاروائی معطل کردی عدالت نے الیکشن کمیشن سمیت دیگر فریقین سے 30 جون کو تحریری جواب طلب کرلیا ،جسٹس شجاعت علی خان نے ڈی سی سیالکوٹ ذیشان جاوید اور اسسٹنٹ کمشنر آصف حسین کی درخواست پر فیصلہ سنایا

    دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے قانون کے برعکس انکوئری شروع کررکھی ہے, ڈسکہ الیکشن میں انتظامی امور کی ڈیوٹی تھی, الیکشن کمیشن نے سیشن جج سیالکوٹ پر استغاثہ بھی دائر کررکھا ہے, ضمنی الیکشن کا حصہ بھی نہیں تھےعدالت الیکشن کمیشن کی جاری انکوائری ختم کرنے کا حکم دے

    دوسری جانب لاہور سپریم کورٹ رجسٹری میں چیف الیکشنر کمشنر سکندر سلطان راجہ سمیت دیگر کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی ہے، درخواست گزار کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے مارچ 2021 میں سینٹ کے حوالے سے فیصلہ دیا تھا،عدالت نے حکم دیا کہ الیکشن صاف شفاف کروانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جاٸے,الیکشن میں جدید ٹیکنالوجی ابھی تک استعمال نہیں کی گئی ,ووٹنگ کیلے الیکڑونک ٹیکنالوجی استعمال شروع نہی کی گئی , الیکشن کمیشن کو کئی خط لکھے گیے مگر عمل درآمد نہ ہوا,الیکشن میں کرپشن اور دھاندلی کرنے والوں کیخلاف بھی تاحال کوئی کاروائی نہ کی گئی ,عدالتی احکامات پر عمل نہ ہونے چیف الیکشن کمشنر سمیت ذمہ داروں کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے,

    علاوہ ازیں سیالکوٹ کے رہائشی مجیب الرحمن اس کے بھائی دوست محمد اور ان کی 82 سالہ والدہ کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت آج ہوگی جسٹس ساجد محمود سیٹھی سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کریں گے .وکیل درخواست گزار کا کہنا ہے کہ نادرا نے غیر قانونی طور پر شناختی کارڈ بلاک کر رکھا ہے، لاہور ہائی کورٹ نے وزارت داخلہ کو معاملے کو اپیل تصور کرکے اس پر پر فیصلہ جاری کرنے کا حکم دیا،سیکریٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر نے عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے معاملہ ڈسٹرکٹ لیول کمیٹی سیالکوٹ کو بھجوا دیا،سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی،لاہور ہائیکورٹ کے حکم کی خلاف ورزی پر سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے،

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    عمران خان اگلے سال الیکشن کا انتظار کریں،وفاقی وزیر اطلاعات

    فارن فنڈنگ کیس،اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ میں معلومات قابل تصدیق نہیں ،وکیل

  • عمران خان کے بیان کا سپریم کورٹ نوٹس لے،پنجاب اسمبلی میں قرارداد

    عمران خان کے بیان کا سپریم کورٹ نوٹس لے،پنجاب اسمبلی میں قرارداد

    چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان ذوالفقارعلی بدر کی عمران خان کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے .ذوالفقار علی بدر کا کہنا ہے کہ خان صاحب آپ نے یہ ثابت کر دیا کہ آپ پاکستان دشمن طاقتوں کے نمائندے ہیں،عمران خان نے اپنی زبان سے زہر اگلا ہے، پاکستان کے خلاف ایسی زبان کاٹ دینی چاہیے،ایسی آنکھ کو بھی نکال دینا چاہئے جو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے.

    ذوالفقار علی بدرکا مزید کہنا تھا کہ ہمارے وطن پر اللہ کی خاص کرم نوازی ہے، پاکستان انشاءاللہ تا قیامت قائم ودائم رہے گا،پاکستان پیپلزپارٹی کی لیڈر شپ اور ورکرز نے پاکستان کے لئے ہمیشہ قربانی دی اور آگے بھی دریغ نہیں کریں گے، اس ملک کو ایٹمی طاقت شہید ذوالفقار علی بھٹو نے بنایا تھا اور ہم اس کے محافظ ہیں، ایٹمی پروگرام رول بیک کرنے کی باتیں ملک دشمن سوچ کی عکاسی ہیں،ہم نے ہمیشہ ڈکٹیٹرز کے خلاف جنگ کی کبھی اداروں کو متنازع نہیں کیا،ہمارے وطن پر اللہ کی خاص کرم نوازی ہے، پاکستان انشاءاللہ تا قیامت قائم ودائم رہے گا.

    علاوہ ازیں عمران خان کے افواج پاکستان کے متعلق غیر سنجیدہ بیان کے خلاف پنجاب اسمبلی میں مذمتی قراردادجمع کرائی گئی ہے ،قرارداد مسلم لیگ(ن) کی رکن سعدیہ تیمور اور سمیرا کومل کی جانب سے جمع کرائی گئی

    قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان عمران خان کے افواج پاکستان کے متعلق غیرسنجیدہ بیان کی شدید مذمت کرتا ہے،عمران خان سوچی سمجھی سازش کے تحت ملک میں انارکی پھیلانا چاہتے ہیں ، پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے ، افواج پاکستان کی ملک میں قیام امن کےلئے قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دینگے.

    قرارداد کے متن میں مزید کہا گیا کہ عمران خان قوم میں فوج کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں ، لیکن پاکستان کے بائیس کروڑ عوام عمران خان کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہونے دینگے،قرارداد مین سپریم کورت سے مطالبہ کیا گیا کہ عمران خان کے فوج مخالف بیان کا نوٹس لیا جائے.

  • چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال نے چارج چھوڑ دیا

    چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال نے چارج چھوڑ دیا

    چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے اپنے عہدے کا چارج چھوڑ دیا

    جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی مدت ملازمت ختم ہو گئی تھی جس کے بعد انہوں نے چارج چھوڑ دیا ہے،چارج چھوڑنے سے قبل چئیرمین نیب نے الوداعی ملاقاتیں بھی کی ہیں، نئے چیئرمین نیب کی تقرری کے لئے حکومت اور اپوزیشن کے مابین مشاورت جاری ہے، جلد وزیراعظم اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض سے حتمی مشاورت کے بعد چیئرمین نیب کا نام فائنل کر دیں گے،چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال نے 8 اکتوبر 2018 کو منصب سنبھالا تھا

    دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ر مقبول باقر کے نام پر حکومتی اتحادی جماعتوں میں آپس میں اتفاق کیا گیا ہے،مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور دیگر اتحادی جماعتوں کے مابین نئے چیئرمین نیب کے نام پر مشاورت ہوئی،مشاورت میں جسٹس ر مقبول باقر کے نام پر اتفاق کیا گیا ہے ،سابق صدر آصف زرداری اور وزیراعظم نواز شریف نے بھی اس نام پر اتفاق کیا ہے،

    قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر، پی ٹی آئی کے منحرف رکن راجہ ریاض بھی جسٹس ر مقبول باقر کے نام پر اتفاق کریں گے، قوی امکان ہے کہ وہی نئے چیئرمین نیب ہوں گے، جسٹس (ر) مقبول باقر سندھ ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ میں پروموٹ ہوئے تھے اور ان کے جج کے طور پر کردار پر کبھی کوئی اعتراض نہیں ہوا

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    منحرف اراکین نااہلی کیس، پی ٹی آئی وکیل نے الیکشن کمیشن سے وقت مانگ لیا

    آج تک کے قانون کے مطابق چیئرمین کے بغیر نیب کچھ بھی نہیں،نیب پراسیکیوٹر