Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • مناسب ہوگا اگر کابینہ ہی ایسی بنے جس کا نام ای سی ایل پر نہ ہو،چیف جسٹس

    مناسب ہوگا اگر کابینہ ہی ایسی بنے جس کا نام ای سی ایل پر نہ ہو،چیف جسٹس

    مناسب ہوگا اگر کابینہ ہی ایسی بنے جس کا نام ای سی ایل پر نہ ہو،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں تفتیشی اداروں میں حکومتی مداخلت از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ای سی ایل میں نام ڈالنے کے لیے کون کہتا ہے، کبھی کسی سے پوچھا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ خط آتا ہے کہ متعلقہ شخص سے تفتیش جاری ہے نام ای سی میں ڈال دیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تفتیش ہورہی ہے تو نیب یا اداروں سے پوچھنا چاہیے ، نام نکال رہے ہیں اعتراض تو نہیں نام نکال رہے ہیں اس بارےمیں ہم نہیں پوچھ رہے ہیں، کیا پی پی سی اور نیب کے قانون میں کوئی فرق ہے ؟ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پی پی سی اور نیب کے قانون میں فرق ہے، نیب کے پاس اختیار ہے کہ ای سی ایل میں نام رکھنے کے لیے توسیع کا خط لکھے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کا نام ای سی ایل سے نکال رہے ہیں تو کسی کو نوٹس تو دیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا جلدی تھی کہ ای سی ایل سے 400 سے زائد نام نکالے گئے؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون واضح ہے کہ جب ذاتی مفاد ہو تو اس کو سامنے رکھنا چاہیے ایک شخص جس کا نام ای سی ایل میں ہے اور وزیر بن جاتا ہے کیا تو کیا ہوگا؟آپ ہمیں بتا رہے ہیں کہ معاملہ آزادانہ نقل و حرکت کا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ 22اپریل کو سب کمیٹی کی میٹنگ ہوئی جس میں رولز میں ترمیم کی گئی، جسٹس منیب اختر نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اس کے بعد کابینہ کی میٹنگ کب ہوئی ہے ؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایگزیکٹو کے فنکشنز میں مداخلت نہیں کررہے،ایک وزیر فنانشل معاملات پر کام کررہا ہے، ہم آپ کو 2ہفتے کا وقت دیتے ہیں ، قانون کے مطابق عمل کریں، ہم چاہتے ہیں قانون پر عملدرآمد کر کے سب سے یکساں انصاف ہو،ای سی ایل رولز میں ترمیم کا اطلاق ماضی سے کیوں کیا گیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ماضی سے ترمیم کے اطلاق کا مقصد مخصوص افراد کیلئے نہیں تھا، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ترمیم کرنے والوں کےرشتہ دار یا دوستوں کو فائدہ ہورہا تو کیا ایسی ترمیم ہونی چاہیے؟جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ آپ نے لکھا ہے کہ ملک سے باہر جانا ایک بنیادی حق ہے،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ہم نے کہا ہے کہ آزادانہ نقل و حرکت ایک شہری کا بنیادی حق ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے کی رپورٹ مطابق تبدیلیاں کی گئی ہیں،ایف آئی اے ہائی کلاسیفائیڈ کیسز کیسے کرتے ہیں؟ وکیل نے عدالت میں کہا کہ ہائی کلاسیفائیڈ کیسز مقرر کرنے کا ایک ایس او پی ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ملزمان کے نام ای سی ایل سے نکالنے کی کیا جلدی تھی؟ ای سی ایل رولز میں ترمیم کا اطلاق گزشتہ تاریخوں سے ہونے کا ذکر نہیں، ای سی ایل میں شامل وزرا نام نکالنے کا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ سعد رفیق کا نام عدالت نے شامل کرایا تھا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سعد رفیق کابینہ اجلاس میں موجود نہیں تھے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق سعد رفیق نے ای سی ایل رولز کی منظوری دی ہے،کیا وزرا کو خود معاملے سے الگ نہیں ہونا چاہیے تھا؟ ذاتی مفاد کیلئے کوئی کیسے سرکاری فیصلے کر سکتا ہے؟ کیا وزرا کیلئے ذاتی کیس سے متعلق کوئی ضابطہ اخلاق ہے ؟ ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر وزیر اعظم کا نام ای سی ایل میں ہو تو کیا کابینہ فیصلہ ہی نہیں کرے گی؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مناسب ہوگا اگر کابینہ ہی ایسی بنے جس کا نام ای سی ایل پر نہ ہو، کسی کو سزا دینے کیلئے کارروائی نہیں کر رہے،عدالت صرف چاہتی ہے کہ قانون پر عملدرآمد کیا جائے،

    سپریم کورٹ نے حکومت کو ای سی ایل ترمیم کو قانونی دائرہ میں لانے کیلئے ایک ہفتے کی مہلت دے دی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہیں ورنہ حکم جاری کریں گے ممکن ہے عدالتی حکم مشکلات پیدا کرے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ ایک ہفتے میں مناسب اقدامات کرلیں،ایگزیکٹو اختیارات میں فی الحال مداخلت نہیں کرنا چاہتے،نام نہیں لیتے ایک وزیر کا نام ای سی ایل سے نکالا گیا وہ اہم معاشی امور سرانجام دے رہا ہے،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر بیرون ملک جانا بنیادی حق ہے تو پھر ای سی ایل کا کیا جواز رہ گیا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میری رائے میں تو ای سی ایل ہونی ہی نہیں چاہیے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیس میں ذاتی رائے پر نہیں جائیں گے، اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایمانداری،انصاف اور شفافیت کو مد نظر رکھا جائے،عدالت نے جن خامیوں کی نشاندہی کی ہے انکو دور کیا جائے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی زبردستی کیس بنوانے کی بات کرے تو عدالت کو آگاہ کریں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ڈی جی ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ آپ سول سرونٹ ہیں کسی کی مداخلت تسلیم نہ کریں،کوئی دباو ڈالتا ہے تو عدالت کو بتائیں تحفظ فراہم کیا جائے گا،سپریم کورٹ نے ایف آئی اے اور نیب کے ہائی پروفائل مقدمات کا ریکارڈ طلب کر لیا اور کہا کہ تمام شواہد اور ریکارڈ کی سافٹ کاپی سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے،اگر ریکارڈ گم ہوا تو سپریم کورٹ سے آپکو مل جائے گا، ایف آئی اے تفتیشی افسر اور پراسیکیوٹر کے علاوہ دیگر کو تبدیل کر سکتا ہے، پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ نیب کو مقدمات کا جائزہ لینے کیلئے وقت دیا جائے، چیئرمین نیب کی تعیناتی کے بعد ہی احکامات پر عمل ممکن ہوگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ نیب پر اگر کوئی دباو ڈالے تو عدالت کو آگاہ کریں، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا چیئرمین نیب کا چارج کسی افسر کو دیا گیا ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توقع ہے حکومت سوچ سمجھ کر چیئرمین نیب کی تعیناتی کرے گی،معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں حکومت سے اچھی توقع ہے،توقع ہے صاف، ایماندار، قابل اور نیک نام شخص کو چیئرمین نیب لگایا جائے گا سسٹم کے باہر سے کوئی دباو قبول کیا جائے نہ ہی تعیناتی کی جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ توقع ہے جو کہنا چاہ رہا ہوں آپ سمجھ گئے ہونگے، نیب بھی یقینی بنائے کہ اس کا ادارہ کسی کیخلاف انتقام کیلئے استعمال نہ ہو،

    دو سابق وزراء کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست پر اعتراض عائد

    شادی اس بات کا لائسنس نہیں کہ شوہر درندہ بن کر بیوی پر ٹوٹ پڑے،عدالت

    خواجہ سراؤں کا چار رکنی گروہ گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

  • ڈسکہ ضمنی الیکشن دھاندلی، دو افسران کیخلاف کاروائی کا فیصلہ معطل

    ڈسکہ ضمنی الیکشن دھاندلی، دو افسران کیخلاف کاروائی کا فیصلہ معطل

    لاہور ہائیکورٹ نے ڈسکہ ضمنی الیکشن دھاندلی میں دو افسران کے خلاف کاروائی کا فیصلہ معطل کردیا گیا

    جسٹس شجاعت علی خان نے کیس پر سماعت کی ،عدالت نے ڈی سی سیالکوٹ ذیشان جاوید اور اسسٹنٹ کمشنر آصف حسین کے خلاف کاروائی معطل کردی عدالت نے الیکشن کمیشن سمیت دیگر فریقین سے 30 جون کو تحریری جواب طلب کرلیا ،جسٹس شجاعت علی خان نے ڈی سی سیالکوٹ ذیشان جاوید اور اسسٹنٹ کمشنر آصف حسین کی درخواست پر فیصلہ سنایا

    دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے قانون کے برعکس انکوئری شروع کررکھی ہے, ڈسکہ الیکشن میں انتظامی امور کی ڈیوٹی تھی, الیکشن کمیشن نے سیشن جج سیالکوٹ پر استغاثہ بھی دائر کررکھا ہے, ضمنی الیکشن کا حصہ بھی نہیں تھےعدالت الیکشن کمیشن کی جاری انکوائری ختم کرنے کا حکم دے

    دوسری جانب لاہور سپریم کورٹ رجسٹری میں چیف الیکشنر کمشنر سکندر سلطان راجہ سمیت دیگر کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی ہے، درخواست گزار کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے مارچ 2021 میں سینٹ کے حوالے سے فیصلہ دیا تھا،عدالت نے حکم دیا کہ الیکشن صاف شفاف کروانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جاٸے,الیکشن میں جدید ٹیکنالوجی ابھی تک استعمال نہیں کی گئی ,ووٹنگ کیلے الیکڑونک ٹیکنالوجی استعمال شروع نہی کی گئی , الیکشن کمیشن کو کئی خط لکھے گیے مگر عمل درآمد نہ ہوا,الیکشن میں کرپشن اور دھاندلی کرنے والوں کیخلاف بھی تاحال کوئی کاروائی نہ کی گئی ,عدالتی احکامات پر عمل نہ ہونے چیف الیکشن کمشنر سمیت ذمہ داروں کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے,

    علاوہ ازیں سیالکوٹ کے رہائشی مجیب الرحمن اس کے بھائی دوست محمد اور ان کی 82 سالہ والدہ کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت آج ہوگی جسٹس ساجد محمود سیٹھی سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کریں گے .وکیل درخواست گزار کا کہنا ہے کہ نادرا نے غیر قانونی طور پر شناختی کارڈ بلاک کر رکھا ہے، لاہور ہائی کورٹ نے وزارت داخلہ کو معاملے کو اپیل تصور کرکے اس پر پر فیصلہ جاری کرنے کا حکم دیا،سیکریٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر نے عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے معاملہ ڈسٹرکٹ لیول کمیٹی سیالکوٹ کو بھجوا دیا،سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی،لاہور ہائیکورٹ کے حکم کی خلاف ورزی پر سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے،

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    عمران خان اگلے سال الیکشن کا انتظار کریں،وفاقی وزیر اطلاعات

    فارن فنڈنگ کیس،اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ میں معلومات قابل تصدیق نہیں ،وکیل

  • عمران خان کے بیان کا سپریم کورٹ نوٹس لے،پنجاب اسمبلی میں قرارداد

    عمران خان کے بیان کا سپریم کورٹ نوٹس لے،پنجاب اسمبلی میں قرارداد

    چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان ذوالفقارعلی بدر کی عمران خان کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے .ذوالفقار علی بدر کا کہنا ہے کہ خان صاحب آپ نے یہ ثابت کر دیا کہ آپ پاکستان دشمن طاقتوں کے نمائندے ہیں،عمران خان نے اپنی زبان سے زہر اگلا ہے، پاکستان کے خلاف ایسی زبان کاٹ دینی چاہیے،ایسی آنکھ کو بھی نکال دینا چاہئے جو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے.

    ذوالفقار علی بدرکا مزید کہنا تھا کہ ہمارے وطن پر اللہ کی خاص کرم نوازی ہے، پاکستان انشاءاللہ تا قیامت قائم ودائم رہے گا،پاکستان پیپلزپارٹی کی لیڈر شپ اور ورکرز نے پاکستان کے لئے ہمیشہ قربانی دی اور آگے بھی دریغ نہیں کریں گے، اس ملک کو ایٹمی طاقت شہید ذوالفقار علی بھٹو نے بنایا تھا اور ہم اس کے محافظ ہیں، ایٹمی پروگرام رول بیک کرنے کی باتیں ملک دشمن سوچ کی عکاسی ہیں،ہم نے ہمیشہ ڈکٹیٹرز کے خلاف جنگ کی کبھی اداروں کو متنازع نہیں کیا،ہمارے وطن پر اللہ کی خاص کرم نوازی ہے، پاکستان انشاءاللہ تا قیامت قائم ودائم رہے گا.

    علاوہ ازیں عمران خان کے افواج پاکستان کے متعلق غیر سنجیدہ بیان کے خلاف پنجاب اسمبلی میں مذمتی قراردادجمع کرائی گئی ہے ،قرارداد مسلم لیگ(ن) کی رکن سعدیہ تیمور اور سمیرا کومل کی جانب سے جمع کرائی گئی

    قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان عمران خان کے افواج پاکستان کے متعلق غیرسنجیدہ بیان کی شدید مذمت کرتا ہے،عمران خان سوچی سمجھی سازش کے تحت ملک میں انارکی پھیلانا چاہتے ہیں ، پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے ، افواج پاکستان کی ملک میں قیام امن کےلئے قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دینگے.

    قرارداد کے متن میں مزید کہا گیا کہ عمران خان قوم میں فوج کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں ، لیکن پاکستان کے بائیس کروڑ عوام عمران خان کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہونے دینگے،قرارداد مین سپریم کورت سے مطالبہ کیا گیا کہ عمران خان کے فوج مخالف بیان کا نوٹس لیا جائے.

  • چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال نے چارج چھوڑ دیا

    چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال نے چارج چھوڑ دیا

    چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے اپنے عہدے کا چارج چھوڑ دیا

    جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی مدت ملازمت ختم ہو گئی تھی جس کے بعد انہوں نے چارج چھوڑ دیا ہے،چارج چھوڑنے سے قبل چئیرمین نیب نے الوداعی ملاقاتیں بھی کی ہیں، نئے چیئرمین نیب کی تقرری کے لئے حکومت اور اپوزیشن کے مابین مشاورت جاری ہے، جلد وزیراعظم اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض سے حتمی مشاورت کے بعد چیئرمین نیب کا نام فائنل کر دیں گے،چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال نے 8 اکتوبر 2018 کو منصب سنبھالا تھا

    دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ر مقبول باقر کے نام پر حکومتی اتحادی جماعتوں میں آپس میں اتفاق کیا گیا ہے،مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور دیگر اتحادی جماعتوں کے مابین نئے چیئرمین نیب کے نام پر مشاورت ہوئی،مشاورت میں جسٹس ر مقبول باقر کے نام پر اتفاق کیا گیا ہے ،سابق صدر آصف زرداری اور وزیراعظم نواز شریف نے بھی اس نام پر اتفاق کیا ہے،

    قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر، پی ٹی آئی کے منحرف رکن راجہ ریاض بھی جسٹس ر مقبول باقر کے نام پر اتفاق کریں گے، قوی امکان ہے کہ وہی نئے چیئرمین نیب ہوں گے، جسٹس (ر) مقبول باقر سندھ ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ میں پروموٹ ہوئے تھے اور ان کے جج کے طور پر کردار پر کبھی کوئی اعتراض نہیں ہوا

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    منحرف اراکین نااہلی کیس، پی ٹی آئی وکیل نے الیکشن کمیشن سے وقت مانگ لیا

    آج تک کے قانون کے مطابق چیئرمین کے بغیر نیب کچھ بھی نہیں،نیب پراسیکیوٹر

  • عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ

    عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ

    عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ

    سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا تحریری فیصلہ جاری کردیا

    جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیلئے کافی مواد موجود ہے میری رائے میں عمران خان نے عدالتی احکامات کی حکم عدولی کی، عمران خان سے پوچھا جائے کیوں نہ آپ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے عمران خان کے بیان کی ویڈیو سپریم کورٹ میں چلائی گئی

    14 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے تحریر کیا 26 مئی کو عدالت نے گائیڈ لائن بعد میں جاری کرنے کے حکم کیساتھ کیس نمٹا دیا تھا اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے لانگ مارچ اور سڑکوں کی بندش سے متعلق درخواست دائر کی تھی

    عمران خان لانگ مارچ کیس میں سپریم کورٹ نے آئی جی پولیس، چیف کمشنر اسلام آباد سے ایک ہفتے میں جواب طلب کرلیا ،عدالت نے ڈی جی آئی بی اور ڈی جی آئی ایس آئی سے بھی ایک ہفتے میں جواب طلب کر لیا،عدالت نے سیکرٹری وزارت داخلہ سے بھی ایک ہفتے میں سات نکات پر جواب طلب کر لیا ،عدالت نے سوال کیا کہ کتنے مظاہرین ریڈزون میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے؟ ریڈ زون کی سکیورٹی کے انتظامات کیا تھے؟ ایگزیکٹو حکام کی جانب سے سکیورٹی انتظامات میں کیا نرمی کی گئی؟ کیا سیکورٹی بیریئر کو توڑا گیا؟

    واضح رہے کہ عمران خان نے لانگ مارچ کے دوران ڈی چوک جانے کا اعلان کیا ،عمران خان اسلام آباد آ رہے تھے تو سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ پر امن ہو گا اور سرینگر ہائی وے تک آئے گا، تا ہم عمران خان ڈی چوک پہنچے اور وہاں کارکنان سے خطاب کر کے واپس روانہ ہو گئے، گزشتہ سماعت پر عمران خان کی ویڈیوز بھی عدالت میں چلائی گئی تھیں

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کابینہ ارکان پر کرپشن کے الزامات ،خود کیسے اپنے حق میں رولز بدل سکتے ہیں؟سپریم کورٹ

  • عمران خان کو سپریم کورٹ کا حکم ماننا چاہیے تھا، شیخ رشید

    عمران خان کو سپریم کورٹ کا حکم ماننا چاہیے تھا، شیخ رشید

    اسلام آباد: عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ شہبازشریف کو غصے میں لانے والے اب اس کو بھگتیں، اگر لانا ہی تھا تو خواجہ آصف یا احسن اقبال کو لے آتے۔

    باغی ٹی وی : سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ باس کے گھر جا سکتا ہوں لیکن عمران خان نے منع کیا ہوا ہے تحریک انصاف بابو اور کمپیوٹر موبائل پارٹی تھی، اب جرات والی پارٹی بنی ہے۔

    ہمارے پاس عوام میں جانے کے حالات نہیں تھے،جس نے مراسلہ بنایا اس نے خان کو ہیرو بنا…

    ایک سوال کے جواب میں انہوں ںے واضح طور پر کہا کہ عمران خان کو سپریم کورٹ کا حکم ماننا چاہیے تھا، عدالت نے احتجاج کے لیے جو جگہ مختص کی تھی وہاں احتجاج کرنا چاہیے تھا۔

    شیخ رشید نے کہا کہ حکومت جا رہی ہے، دنیا کی کوئی طاقت آپ کو نہیں بچا سکتی، قلندر آئیں گے، یہ لوگ اندر جائیں گے، چلمن کے پیچھے بہت کچھ ہو رہا ہے، ادارے بھولتے نہیں ہیں، لوگ آتے ہیں چلے جاتے ہیں۔

    شیخ رشید احمد نے کہا کہ جس دن باپ پارٹی نے ساتھ چھوڑا اس دن سمجھ گیا کہ باپ کا باپ ہمارے ساتھ نہیں۔

    سابق حکومت کے اقدامات سے دوست ممالک ناراض ہیں، مریم نواز

    قبل ازیں شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ بجٹ موجود ہ یا دوسری حکومت پیش کرے گی سب معاملات زیر غور ہیں سب ملکر اچھا حل تلاش کریں گے،ملک کو آگے لیکر جائیں گے ،اللہ کو منظورہوا تو وقت سے پہلے الیکشن ہوں گے،بجٹ دینا کمال نہیں ،کوئی اور بھی دے سکتاہے کسی کو کوئی یقین دہانی نہیں ہے ،سب اپنا اپنا چورن بیچ رہے ہیں –

    سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حکومت ایک ووٹ پر کھڑی ہے الیکشن کی تاریخ کے لئے عمران خان سپریم کورٹ جارہے ہیں،پاکستان آگے بڑھے گا ،اچھے فیصلوں کےدن قریب ہیں ،الیکشن کی تاریخ کےلیے عمران خان سپریم کورٹ جارہے ہی

  • ججز تقرری کے معاملے پرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    ججز تقرری کے معاملے پرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    سپریم کورٹ میں ججز تقرری کے معاملے پرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھے گئے خط میں کہا کہ بار کونسلز سمیت جوڈیشل کمیشن ممبران نے کئی بار رولز میں ترمیم کا مطالبہ کیا،ججز تقرری میں سنیارٹی،میرٹ اور قابلیت کو دیکھنا ہوتا ہے،سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کی جگہ جونیئر جج کو تعینات کیا گیا، ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اور سینئر ججز نے سابق چیف جسٹس سابق نثار کی باتوں کی تردید کی سینئر ججز کے خود نہ آنے کی بات کر کے ثاقب نثار نے مکاری کی سابق چیف جسٹس گلزار احمد نے بھی چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ اور سینئر ججز کو نظر انداز کیا خط کی کاپی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور گلزار احمد کو بھی بھیج رہا ہوں بطور ممبر جوڈیشل کمیشن سابق جج جسٹس مقبول باقر کی رائے کو بھی نظرانداز کیا گیا، جوڈیشل کمیشن رولز میں ترمیم کیلئے قائم کمیٹی کی آج تک کوئی رائے نہیں آئی، جوڈیشل کمیشن اجلاس ان کیمرہ نہیں ہونا چاہیے،ججز تقرری کیلئے اجلاس سے متعلق عوام کو علم ہونا چاہیے،

    ملک اسلامی جمہوریہ مگریہاں اسلام کے مطابق کچھ نہیں ہورہا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس غلطی تھی، عمران خان نے تسلیم کر لیا

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسلام آباد میں گورنر بلوچستان کے سکواڈ کی گاڑی کا چالان کروا دیا ۔

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    پولیس ملزمان کی ویڈیو کیوں نہیں بناتی؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اظہار برہمی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹرار سپریم کورٹ کے سیکریٹری جوڈیشل کمیشن ہونے پر اعتراض کیا اور کہا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ سرکاری ملازم ہے جس کا وزیر اعظم ہاوس سے تقرر ہوا،آرٹیکل 175/3 عدلیہ اور ایگزیکٹو کو الگ رکھنے سے متعلق ہے، رجسٹرار سپریم کورٹ جواد پال کو سیکرٹری جوڈیشل کمیشن کے عہدے سے ہٹایا جائے رجسٹرار سپریم کورٹ جواد پال کے مطابق وہ کسی کو جوابدہ نہیں ہیں رجسٹرار سپریم کورٹ کا رویہ متکبرانہ اور بددیانتی والا ہے عوام کے پیسے لینے والا سرکاری ملازم جوڈیشل کمیشن کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان ہے سابق وزیراعظم عمران خان کے مقدمات رجسٹرار سپریم کورٹ فوری سماعت کیلئے مقرر کر دیتا تھا وام کا یہ تاثر کہ عدلیہ آزاد نہیں عوام اعتماد کے بغیر عدالتی فیصلے اپنی ساکھ کھو دیتے ہیں

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”499452″ /]

  • کابینہ ارکان پر کرپشن کے الزامات ،خود کیسے اپنے حق میں رولز بدل سکتے ہیں؟سپریم کورٹ

    کابینہ ارکان پر کرپشن کے الزامات ،خود کیسے اپنے حق میں رولز بدل سکتے ہیں؟سپریم کورٹ

    کابینہ ارکان پر کرپشن کے الزامات ،خود کیسے اپنے حق میں رولز بدل سکتے ہیں؟سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں تفتیشی اداروں میں حکومتی مداخلت کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹس کو سے متعلق جو آرڈرہم نے کیے وہ قائم رہیں گے ،آپ ای سی ایل کی لسٹ سے متعلق رپورٹ پیش کریں،ہم چاہتےہیں کہ قانون کی عمل داری ہو،ہم ایگزیکٹو کے اختیارات میں مداخلت نہیں کرینگے،ہم ابھی کوئی آرڈر پاس نہیں کررہے، ایسا کوئی شخص جس کے خلاف مقدمہ ہو وہ ملک سے باہر نہیں جائیگا،ہمیں ایف آئی اے کی رپورٹ کے بارے میں بتایا جائے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ ای سی ایل رولز کی سیکشن دو میں کیسے ترمیم کی گئی؟ کیا ترمیم کرتے وقت متعلقہ اداروں سے مشاورت کی گئی؟کرپشن سمیت دیگر چیزوں کو نکال کر رولز تبدیل کر دیئے گئے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ وہ لوگ کیسے ای سی ایل رولز بدل سکتے جو خود مستفید ہوں ، جن کابینہ ارکان پر کرپشن کے الزامات ہیں وہ خود کیسے اپنے حق میں رولز بدل سکتے ہیں؟

    سپریم کورٹ نے ای سی ایل سے نکالے گئے ناموں پر تشویش کا اظہار کیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 22اپریل کو ای سی ایل رولز میں تبدیلی کی گئی ہم ایگزیکٹوز کے اختیارات میں مداخلت نہیں کرینگے،وہ نام نکالے گئے جن پرکرپشن اورٹیکس چوری کے مقدمات تھے،ای سی ایل سے نام نکالنے کیلئے رولز تبدیلی کا اطلاق ماضی سے کیسے ہوسکتا ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ رولز تبدیلی پر کابینہ سے منظوری کے نوٹیفکیشن میں یہ لکھا گیا اطلاق ماضی سے ہوگا؟ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سوال کیا کہ رولز تبدیلی سے کس کس کو فائدہ ہوا؟ مقدمات کا سامنا کرنے والے وزراکی جانب سے رولز تبدیلی کی منظوری مفادات کا ٹکراؤ ہے، تفصیلات فراہم کریں کہ کابینہ میں شامل کن اراکین کو فائدہ پہنچا؟الزام کا سامنا کرنے والے کابینہ میں شامل وزیر خود کو الگ کر سکتا تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کا کہنا ہے 174 نکالے گئے ناموں سے قبل ہم سے مشاورت نہیں کی گئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ ای سی ایل رول 2010 کا سیکشن دو پڑھیں، رولز کے مطابق کرپشن، دہشتگردی، ٹیکس نادہندہ اور لون ڈیفالٹر باہر نہیں جا سکتے، کابینہ نے کس کے کہنے پر کرپشن اور ٹیکس نادہندگان والے رول میں ترمیم کی؟کیا وفاقی کابینہ نے رولز کی منظوری دی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کابینہ کی منظوری کے منٹس پیش کردوں گا، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا 120 دن بعد ازخود نام ای سی ایل سے نکل جائے گا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ 120دن کا اطلاق نام ای سی ایل میں شامل ہونے کے روز سے ہوگا،عدالت نے کہا کہ کابینہ کے ارکان خود اس ترمیم سے مستفید ہوئے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ کابینہ ارکان اپنے ذاتی فائدے کیلئے ترمیم کیسے کر سکتے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ معلوم ہے کہ وفاقی وزرا پر ابھی صرف الزامات ہیں،کیا کوئی ضابطہ اخلاق ہے کہ وزیر ملزم ہو تو متعلقہ فائل اس کے پاس نہ جائے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اپنے فائدے کیلئے ملزم کیسے رولز میں ترمیم کر سکتا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ملزم وزرا کو تو خود ہی ایسے اجلاس میں نہیں بیٹھنا چاہیے، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کیاسرکولیشن سمری کے ذریعے ایسی منظوری لی جا سکتی ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کے مطابق ان سے پوچھے بغیر ملزمان کے نام ای سی ایل سے نکالے گئے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم کسی انفرادیت کے مطابق تفصیلات نہیں چاہتے ، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ای سی ایل رولز میں ترمیم کے بعد ریویو کا طریقہ کار ہی ختم ہو گیا،ممبران کا نام ای سی ایل میں ہونا اور رولز میں کابینہ کی ترمیم کیا مفادات کا ٹکراو نہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ای سی ایل رولز میں ترمیم تجویز کی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ اعظم نذیر تارڑ جس شخص کے وکیل تھے اسی کو فائدہ پہنچایا، کیا طریقہ کار اپنا کر ای سی ایل رولز میں ترمیم کی گئی؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ای سی ایل رولز میں ترمیم کے طریقہ کار سے متعلق رپورٹ جمع کرائیں، فی الحال حکومت کے ای سی ایل رولز سے متعلق فیصلے کالعدم قرار نہیں دے رہے، قانون پر عمل کے کچھ ضوابط ضروری ہے، انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت کرنا نہیں چاہتے، ریاست کے خلاف کارروائیوں پر سپریم کورٹ کارروائی کرے گی، عرفان قادر نے کہا کہ میں وزیر اعظم شہباز شریف کی نمائندگی کر رہا ہوں مجھے سنا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تحریری طور پر ہمیں دلائل دیں ایسے نہیں سن سکتے،عرفان قادر نے کہا کہ اہم کیس ہے،دو جماعتوں میں کشیدگی ہے عدالت بھی بیچ میں ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے،

    وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کیس میں ایف آئی اے افسران کے تبادلے کی رپورٹ پر بحث کی گئی ،عدالت نے کہا کہ ایف آئی اے رپورٹ سے تاثر ملا کہ معاملات کو غیر سنجیدہ اقدامات سےکور کیا گیا ،وزارت قانون نے 13 مئی کو سکندر ذوالقرنین سمیت ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کومعطل کیا بظاہر ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کو کیس کی دو سماعتوں میں پیش نہ ہونے کی بنیاد پر معطل کیا گیا ،جن سماعتوں کی عدم پیشی پر پراسیکیوٹرز معطل ہوئے وہ نئی حکومت کے قیام کے بعد کی تھیں؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے پراسیکیوٹرز کو یہ کہا کہ آپ پیش ہو نا ہوں آپ فارغ ہیں؟ پراسیکیوٹرز کو تبدیل کرنے کے لیے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، انویسٹی گیشن افسر کو بھی بیماری کی وجہ سے تبدیل کیا گیا،انویسٹی گیشن افسر تبدیل ہونے کے مہینہ بعد بیمار ہوا،

    سپریم کورٹ نے ڈی جی ایف آئی اے کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ،عدالت نے ڈائریکٹر لا آپریشنز ایف آئی اے عثمان گوندل بھی ریکارڈ سمیت طلب کر لیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے پراسیکیوشن ٹیم بظاہر مقدمہ کی کارروائی رکوانے کیلئے تبدیل کی گئی،آرٹیکل 248 وزراء کو فوجداری کارروائی سے استثنٰی نہیں دیتا،چاہتے ہیں نظام قابل اعتماد انداز میں چلے، اعلیٰ حکام کیخلاف مقدمات میں مختلف سلوک زیادہ نوٹس میں آتا ہے،

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے مقدمات میں کیا پیشرفت ہوئی؟ کیا وزیراعظم پر فرد جرم عائد ہوچکی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ابھی تک فرد جرم عائد نہیں ہوئی،وزیراعظم سمیت کسی نے کوئی استثنیٰ نہیں مانگا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کا مقص کسی مقدمے کو تیزی سے چلانا نہیں ہے،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

  • ملک کی بہاروں کو آپس کی لڑائیوں میں خزاں میں تبدیل نہ کریں سیاست میں آج ایک اورکل دوسرا ہوگا

    ملک کی بہاروں کو آپس کی لڑائیوں میں خزاں میں تبدیل نہ کریں سیاست میں آج ایک اورکل دوسرا ہوگا

    ملک کی بہاروں کو آپس کی لڑائیوں میں خزاں میں تبدیل نہ کریں سیاست میں آج ایک اورکل دوسرا ہوگا ،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں لانگ مارچ روکنے کیلئے راستوں کی بندش اور چھاپوں کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    پی ٹی آئی وکیل سپریم کورٹ میں پیش ہوئے ،وکیل نے کہا کہ بابر اعوان سمیت دیگر وکلا کو بھی گرفتارکرنے کی کوشش کی گئی ماضی میں بھی ایسے حالات پیدا ہوئے لیکن ایسا نہیں جو اس بار ہوا،وکیل نے کہا کہ اطلاع آئی کہ انہوں نے شاہراہوں پر شیشے توڑ کر ڈالے گئے حکومت نے یہ اندازہ کرلیا کہ احتجاج کیسے روکیں گے،ہماری درخواست کسی سیاسی پارٹی کی جانب سے نہیں انتظامیہ نے ان کو بھی ہراساں کیا جن کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا دیگر ہائیکورٹس میں کوئی درخواستیں داخل ہوئی ہیں،

    جسٹس منیب اختر نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی بات کو ہم سمجھتے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آگر آپ احتجاج کا حق مانگتے ہیں تو آپ بھی کسی ضابطے کے پابند ہیں کچھ عرصہ قبل ایک سیاسی جماعت نے احتجاج کیا ،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت چاہتے ہیں،آپ نے اپنی درخواست میں آرٹیکل 15 پر عمل در آمد کی بات کی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل آپ یہاں موجود ہیں ،کیا کہیں گے؟ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت نے احتجاج کی درخواست کی ہے،یہ کہا جا رہا ہے کہ ایک خونی مارچ ہے

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک عام شہری جس کو مسائل کا سامنا ہوگا اس کا کیا ہوگا ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پریس کے مطابق اسکول بند ہوگئے ہیں، امتحانات ملتوی کردیئے گئے ہیں اسپتالوں میں ایمرجنسی لگائی گئی ،ایسی صورتحال میں عام آدمی کیا کرسکتا ہے؟ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ملکی معاشی صورتحال کا سب کو علم ہے،اگر لاک ڈاون ہوجائے تو کیا ہوگا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں مزید معلومات لے کر عدالت کو بتاونگا

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی احتجاج کیلئے جگہ مختص کی گئی تھی،میڈیا کے مطابق تحریک انصاف نے احتجاج کی اجازت کیلئے درخواست دی تھی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ انتظامیہ سے معلوم کرتا ہوں کہ درخواست پر کیا فیصلہ ہوا،بار کے صدر نے کہا کہ پولیس وکلاء کو بھی گھروں میں گھس کر گرفتار کر رہی ہے، سابق جج ناصرہ جاوید کے گھر بھی رات گئے پولیس نے چھاپہ مارا،مظاہرین اور حکومت دونوں ہی آئین اور قانون کے پابند ہیں،
    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے کا اختیار کسی کو نہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مسلح افراد کو احتجاج کی اجازت کیسے دی جا سکتی؟ شعیب شاہین نے کہا کہ ابھی تو احتجاج شروع ہی نہیں ہوا تو مسلح افراد کہاں سے آ گئے؟ مولانا فضل الرحمان دو مرتبہ سرینگر ہائی وے پر دھرناُدے چکے ہیں، بلاول بھٹو بھی اسلام آباد میں لانگ مارچ کر چکے ہیں اب بھی مظاہرین کیلئے جگہ مختص کی جا سکتی ہے،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ معیشت کے حوالے سے عدالت کو ایسی بات نہیں کرنی چاہیے،معیشت کے حوالے ریمارکس میڈیا کو چلانے سے روکا جائے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ملک کی معاشی صورتحال تو ہر انسان کو معلوم ہے،

    دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جی اٹارنی جنرل بتائیں کیا ہدایات لی ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پی ٹی آئی نے سری نگر ہائی وے پر دھرنے کی اجازت مانگی،سیکیورٹی صورتحال کے باعث سری نگر ہائی وے کی اجازت نہیں دی گئی، سیکیورٹی ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کی جان کو خطرہ ہے،سیکیورٹی اداروں نےعمران خان پر خود کش حملہ کا خدشہ ظاہر کیا ہے،

    عدالت نے کہا کہ کیا حکومت نے جلسے کیلئے کوئی متبادل جگہ آفر کی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت نے جمہوری پارک سمیت کچھ جگہوں کی آفر کی تحریک انصاف صرف سری نگر ہائی وے پر جلسے کیلئے بضد ہے سری نگر ہائی وے بلاک ہونے سے پورا اسلام آباد متاثر ہوتا ہے, جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سری نگر ہائی وے تو پہلے بند کر دی گئی ہے سیکریٹری داخلہ بتائیں سڑکیں بند کیوں ہیں گرفتاریاں کیوں کی گئیں، سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ آئی جی پولیس اور صوبائی افسران گرفتاریوں کا جواب دیں گے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سپریم کورٹ چاہتی ہے عوام کے معمولات زندگی متاثر نہ ہوں سپریم کورٹ نے دونوں فریقین کو بیٹھ کر معاملے کے حل کی ہدایت کر دی

    سپریم کورٹ نے کہا کہ جلسے کیلئے ڈھائی بجے تک متبادل جگہ کا بتایا جائے،چیف کمشنر اسلام آباد متبادل پلان پیش کریں ،سپریم کو رٹ نے پی ٹی آئی کے وکیل کو اپنی جماعت سے ہدایت لینے کا حکم دے دیا اور کہا کہ پی ٹی آئی یقینی بنائے کہ جلسے سے عوامی حقوق متاثر نہیں ہونگے، سپریم کو رٹ نے کیس کی سماعت میں ڈھائی بجے تک وقفہ کردیا اور کہا کہ سری نگر ہائی وے کے علاوہ کسی اور جگہ کا تعین کیا جائے، عدالت نے چیف کمشنر اسلام آباد کو پی ٹی آئی کو لانگ مارچ کے لیے متبادل انتظامات کرنے کی ہدایت کر دی،کہا لانگ مارچ کے لیے مناسب جگہ فراہم کریں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ مظاہرین کو رسائی دینے کے لیے ٹریفک پلان بنایا جائے،مظاہرین اپنا احتجاج کریں اور گھروں کو جائیں،پی ٹی آئی سے یقین دہانی بھی لیں گے کہ احتجاج پر امن ہوگا،املاک کو نقصان نہ پہنچے، تشدد ہو نہ ٹریفک بلاک ہو،سیکریٹری داخلہ ،چیف کمشنر،ڈپٹی کمشنر،آئی جی اور اٹارنی جنرل معاملے کا حل نکالیں پی ٹی آئی کے وکیل ہدایات لیکر انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھیں، سب بہاریں پاکستان کے ساتھ ہیں،اگر پی ٹی آئی کو گرفتاری کا خدشہ تو لسٹ دے دیں،جنھیں گرفتاریوں کا خدشہ ہے انھیں تحفظ دینگے،سیاسی جماعتوں کے بھی مفادات ہیں،عوام اورملک کے سامنے سیاسی مفادات کی حیثیت نہیں،ملک کی بہاروں کو آپس کی لڑائیوں میں خزاں میں تبدیل نہ کریں سیاست میں آج ایک اور کل دوسرا ہوگا

    لانگ مارچ روکنے کیلئے راستوں کی بندش اور چھاپوں کیخلاف کیس کی تیسری بار سماعت ہوئی،پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان عدالت میں پیش ہوگئے ،بابر اعوان نے کہا کہ 23مئی کو جلسے کی اجازت مانگی گئی عدالت حکومت کو چند احکامات جاری کرے،سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور پی ٹی آئی وکلا کو دوبارہ بیٹھ کر حل نکالنے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ ایک گھنٹے میں عدالت کو مذاکرات سے متعلق آگاہ کیا جائے،ایک گھنٹے بعد دوبارہ کیس سنیں گے،دونوں فریقین ہدایات لیکر آگاہ کریں، سپریم کور ٹ نے کیس کی سماعت میں ایک گھنٹے کا وقفہ کردیا

    عدالت نے حکم دیا کہ پی ٹی آئی کے مطالبات سے متعلق حکومتی ہدایات سے آگاہ کیا جائے،عدالت نے پی ٹی آئی اور حکومت کو ایچ نائن گراونڈ میں جلسے کی اجازت پر مشاورت کر کے آگاہ کرنے کا حکم دیا، پی ٹی آئی نے جلسے کیلئے ایچ نائج گراونڈ دینے کی استدعا کر دی،بابر اعوان نے کہاکہ عمران خان نے چار مطالبات رکھے ہیں، پی ٹی آئی نے جے یو آئی کو دھرنے کیلئے ایچ نائن گراونڈ دیا تھا، تمام گرفتار کارکنان کو رہا کیا جائے، تمام کنٹینرز اور رکاوٹیں ہٹائی جائیں چادر اور چار دیواری کا تحفظ یقینی بنایا جائے ، وکلا کے چیمبرز پر ریڈ اور گرفتاری کو فوری روکا جائے

    جسٹس اعجاز الاحسن نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پوچھ کر بتائیں احتجاج کب تک رہے گا ؟ فیض آباد یا موٹروے بندکرنے سے کام نہیں ہوگا، کوئی فوڈ چین نہیں ٹوٹے گی ،

    پی ٹی آئی نے سری نگر ہائی وے پر دھرنے کی اجازت دینے کی استدعا کر دی وکیل نے کہا کہ جہاں جے یو آئی نے دو مرتبہ دھرنا دیا وہاں ہی احتجاج کرنا چاہتے ہیں پی ٹی آئی نے پرامن دھرنے اور امور زندگی متاثر نہ ہونے کی یقین دہانی کروا دی سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کی استدعاپر وزیراعظم سے ہدایات لینے کا حکم دیدیا،عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل ایک گھنٹے میں وزیراعظم سے ہدایات لیکر آگاہ کریں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ توقع ہے ایک گھنٹے میں فریقین کا اتفاق رائے ہو جائے گا، سپریم کورٹ سیاسی معاملات میں نہیں پڑے گی سیاسی معاملات کے لیے آئین نے اجازت دی ہے، سیاسی معاملات سے ہمارا لینا دینا نہیں، لیکن ہم نے آئنیی معاملات کو دیکھنا ہے،دونوں فریقین میں رابطے کا فقدان ہے، شائستگی کی کمی کی وجہ سے معاملات بگڑ رہے ہیں، وکلا کو ہراساں نہ کیا جائے اور نہ انکے دفاتر پر چھاپے مارے جائیں، عدالت اس معاملے میں ثالثی کا کردار ادا کررہی ہے،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے بابر اعوان سے کہا کہ تحریک انصاف دھرنے کا دورانیہ بتائے، جس پر بابراعوان نے جواب عدالت کو بتانے سے معذرت کر لی اور کہا کہ یہ سیاسی فیصلہ ہے اس کو سیاسی فورم پر ہی ہونے دیں،ہمارا مطالبہ نئے انتخابات کا ہے اس پر اٹارنی جنرل سے بات نہیں کروں گا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ احتجاج روکنے کیلئے چھاپے اور گرفتاریاں غیر قانونی عمل ہے، پی ٹی آئی کو موٹروے یا فیض آباد بند نہیں کرنے دینگے،شیلنگ اور لاٹھی چارج کے حوالے سے باضابطہ حکم جاری کرینگے،ایم پی او کے حوالے سے بھی حکمنامہ جاری کرینگے،

    سپریم کورٹ کی جانب سے پنجاب پولیس کے اقدامات پر اظہار برہمی کیا گیا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیاپولیس کا کام گاڑیاں توڑنا اور آگ لگانا ہے؟ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ لاہور میں ایک گھر سے اسلحہ برآمد ہوا، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ اسلحہ تو آج کل ہر گھر میں ہوتا ہے،صبح سے کیا اسلحے والی کہانی سنائی جا رہی ہےاسلحہ کہانی کو اب بند کر دیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ لاہور کو میدان جنگ بنایا ہوا ہے، پنجاب میں جو ہو رہا ہے وہ بدقسمتی ہے،

    پرامن احتجاج اور مارچ ہمارا قانونی اور آئینی حق ہے، شاہ محمود قریشی

    ملتان میں پولیس کریک ڈاون ،پی ٹی آئی کے 70 سے زائد کارکنان گرفتار

    پی ٹی آئی کارکنان اور قیادت کے گھروں پرچھاپے،عمران خان کا ردعمل

    ماڈٌل ٹاؤن میں پی ٹی آئی ایکٹیوسٹ کے گھر چھاپہ،دوران فائرنگ پولیس اہلکار شہید

    ’خونی مارچ ہوگا‘ کے اعلانانات کرنے والوں سے حساب لیں گے،وزیر داخلہ

    لال حویلی، پولیس چھاپے کے دوران رکن اسمبلی گرفتاری سے بچنے کیلئے پچھلے گیٹ سے فرار

    لانگ مارچ،متحرک کارکنان کی فہرستیں تھانوں کو مل گئیں

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

  • عدالت کا لانگ مارچ کے شرکاء کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

    عدالت کا لانگ مارچ کے شرکاء کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاری، راستوں کی بندش سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی عدالت نے پی ٹی آئی وکیل سے استفسار کیا کہ آپ بیان حلفی نہیں دے سکتے تو پھر عدالت کیسے عمومی آرڈر جاری کردے؟-

    دوران سماعت پی ٹی آئی وکیل بیرسٹر علی ظفر نےکہا کہ گزشتہ رات ملک بھر میں پی ٹی آئی کارکنوں اور رہنماوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا پی ٹی آئی قیادت اور کارکنوں کوگرفتاراور ہراساں کیا جارہا ہے –

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ دھرنوں اور جلسوں سے متعلق سپریم کورٹ کا احکامات واضح ہیں – بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ کارکنوں کو اکٹھے ہونے سے نہیں روکا جاسکتا -چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ دھرنا کیس میں قواعد و ضوابط واضح کر چکی ہے چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں قواعدِ و ضوابط پر عمل کیا جائے-چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بیرسٹر علی ظفر سے مکالمہ کیا کہ آپ پہلے ضلعی انتظامیہ سے اجازت لیں-

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مسئلہ اجازت کا نہیں کارکنوں کو گرفتار کیا جارہا ہے-چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پرامن احتجاج آپ کا حق ہے آپ عدالت سے عمومی حکم مانگ رہے ہیں عدالت عمومی حکم نامہ جاری نہیں کرسکتی کل کو خدانخواستہ کوئی واقعہ ہو جائے یہ عدالت عمومی آرڈر جاری نہیں کرسکتی سپریم کورٹ کے دھرنا کیس کے فیصلے کے مطابق ہدایات دے دیتے ہیں- بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ وکلا، سابق ججز کے گھروں تک پر چھاپے مارے جارہے ہیں -چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا بیان حلفی دے سکتے ہیں کہ کوئی واقعہ نہیں ہوگا اگر ہوا تو آپ ذمہ دار ہونگے؟ آپ بیان حلفی نہیں دے سکتے تو پھر عدالت کیسے عمومی آرڈر جاری کردے؟-

    پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے استدعا کی کہ میں عدالتی فیصلوں کا جائزہ لے کر عدالت کی معاونت کر دیتا ہو-عدالت نے بیرسٹر علی ظفر کو عدالتی فیصلوں کا جائزہ لینے کے لیے وقت دے دیا اسلام آباد ہائیکورٹ نے سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کردیا-

    وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی تو بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ لانگ مارچ کے حوالے سے اس کورٹ کے دائرہ کار سے گرفتاریوں کو روکا جائے، عدالت نے استفسارکیا کہ کیا آپ نے ضلعی انتظامیہ کو درخواست دے دی ہے؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم نے 25 مئی کو ریلی کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو درخواست دے دی ہے-

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ بلینکٹ آرڈر تو یہ عدالت نہیں دے سکتی کیونکہ یہاں پر حساس عمارتیں ہیں، یہاں پر ایمبیسیز ہیں اس طرح کا آرڈر تو جاری نہیں کر سکتے، عدالت یہ کہہ سکتی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کیا جائے یہ عدالت محض خدشے کے پیش نظر حکم جاری نہیں کرسکتی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے کارکنان اور لانگ مارچ کے شرکاء کو ہراساں نہ کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی نوعیت کی ہراسگی یا گرفتاری پر آئی جی پولیس سے جواب طلبی ہو گی

    معیشت اورعوام کوبچانےکےلیےریڈلائن لگانے کا وقت آگیا ہے،مریم اورنگزیب

    آپ بیان حلفی نہیں دے سکتے تو پھر عدالت کیسے عمومی آرڈر جاری کردے؟ ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی وکیل سے استفسار

    پرامن احتجاج اور مارچ ہمارا قانونی اور آئینی حق ہے، شاہ محمود قریشی

    ملتان میں پولیس کریک ڈاون ،پی ٹی آئی کے 70 سے زائد کارکنان گرفتار

    پی ٹی آئی کارکنان اور قیادت کے گھروں پرچھاپے،عمران خان کا ردعمل

    ماڈٌل ٹاؤن میں پی ٹی آئی ایکٹیوسٹ کے گھر چھاپہ،دوران فائرنگ پولیس اہلکار شہید

    ’خونی مارچ ہوگا‘ کے اعلانانات کرنے والوں سے حساب لیں گے،وزیر داخلہ

    لال حویلی، پولیس چھاپے کے دوران رکن اسمبلی گرفتاری سے بچنے کیلئے پچھلے گیٹ سے فرار