Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • شیرانی جنگلات میں آگ کا واقعہ:جسٹس جمال خان مندوخیل کی چیف جسٹس پاکستان سےازخود نوٹس کی درخواست

    شیرانی جنگلات میں آگ کا واقعہ:جسٹس جمال خان مندوخیل کی چیف جسٹس پاکستان سےازخود نوٹس کی درخواست

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جج جسٹس جمال خان مندوخیل نے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال سے شیرانی کے جنگلات میں لگی آگ پر از خود نوٹس لینے کی درخواست کردی۔

    باغی ٹی وی : جسٹس جمال خان نے چیف جسٹس کو یہ درخواست کوئٹہ رجسٹری میں ضلع شیرانی کے وکلاء کی جانب سے آگ کے حوالے سے دائر کیس کی سماعت کے دوران دی۔

    بلوچستان میں امدادی کاروائیوں کیلئےمولانا عبد الواسع وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی نامزد

    جسٹس جمال خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ شیرانی کے جنگلات میں لگی آگ بجھانے کے لیے اقدامات اور وسائل نا کافی ہیں، چیف جسٹس ازخود نوٹس لے کر حکومت کو آگ سے پیدا سنگین چیلنج سے مؤثر طور پر نمٹنے کی ہدایت دیں۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل کی جانب سے ازخود نوٹس کی تحریری درخواست چیف جسٹس کو کوئٹہ سے اسلام آباد ارسال کر دی گئی ہے۔

    دوسری جانب شیرانی کےجنگلات میں لگی آگ پر تاحال قابو نہیں پایا جاسکامحکمہ جنگلات کے حکام کا کہنا ہےکہ جنگلات میں لگی آگ کو بجھانے میں مشکلات کا سامنا ہے جس کے باعث آگ شیرانی کے علاقوں شرغلئی، سورلوکی اور چمازئی کے جنگلات میں لگی آگ مزید پھیلنے کاخدشہ ہے۔

    محکمہ جنگلات کے مطابق شیرانی کے جنگلات میں لگی آگ سے چلغوزے اور زیتون کے درخت شدید متاثر ہوئے لہٰذا جنگلات میں لگی آگ کو بجھانے کے لیے فضائی آپریشن تیز کرنے کی ضرورت ہے جنگلات میں لگی آگ کے باعث فضائی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے اور جنگلی حیات بھی متاثر ہوئی ہیں۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق ضلع شیرانی بلوچستان کے جنگلات میں آتشزدگی،پاک آرمی اور ایف سی کی امداد جاری ہے وفاقی حکومت کی طرف سے آگ پر قابو پانے کے لیے بلوچستان حکومت کی بھرپور امداد جاری ہیں-

    آصف زرداری کی مولانا فضل الرحمن سےملاقات’موجودہ سیاسی صورتحال پرغور

    ترجمان این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پاکستان رینجرز ونگ نے بلوچستان حکومت کے ماتحت امدادی کارروائیوں میں شرکت کی شیرانی بلوچستان کے جنگلات میں لگی آگ پرہیلی کاپٹر کے ذریعے قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں این ڈی ایم اے کی طرف سے بلوچستان حکومت کو آگ بجھانے کے لیے ضروری سامان فراہم کیا گیا ہے جبکہ وفاقی حکومت ،این ڈی ایم اے کی جانب سے بلوچستان کو ہر ممکن امداد کی یقین دہانی کرائی گئی ہے-

    ڈیرہ بگٹی:کلورینیشن کےبعد فعال تالابوں سے پانی کی پمپنگ شروع، 63 واٹر باؤزرفعال،آئی ایس پی آر

    واضح رہے کہ جمعرات کی صبح کوہ سلیمان میں شرغلئی کے علاقے میں چلغوے کے جنگلات میں نئی اگ لگ گئی تھی جسے بجھانے کی کوششوں کے درمیان آگ کی زد میں آکر تین افراد جھلس کرجاں بحق جبکہ سات زخمی ہوگئے تھے-

    ڈپٹی کمشنر شیرانی کا کہنا تھا کہ پہاڑی علاقہ اور دشوار گزار راستہ ہونے کی وجہ سے آگ بجھانے میں کافی دشواری پیش آرہی ہے پاک فوج کا ہیلی کاپٹر جنگلات میں لگی آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے-

    بنی گالہ کے اطراف پولیس کا سرچ آپریشن،پی ٹی آئی رہنما عالمگیر کے گھر چھاپہ

  • سپریم کورٹ کے احکامات ،چیئرمین نیب نے تبادلوں پر پابندی لگا دی

    سپریم کورٹ کے احکامات ،چیئرمین نیب نے تبادلوں پر پابندی لگا دی

    سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد ،چیئرمین نیب نے تبادلوں پر پابندی لگا دی

    چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال نے نیب میں ٹرانسفر پوسٹنگ پر فوری پابندی لگا دی

    نیب کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں کی گئیں پوسٹنگ اورٹرانسفرز پر عمل بھی فوری طور پر روک دیا گیا،چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال نے نیب ہیڈکوارٹرزاوربیوروز کو عدالتی فیصلے پر عمل کرنے کی ہدایت کر دی،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے از خود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے کئے جانے والے تبادلوں کا ریکارڈ طلب کیا تھا، نیب کی جانب سے بھی کچھ تبادلے حالیہ دنوں میں کئے گئے تھے جنکو آج چیئرمین نیب نے روک دیا ہے،

    دوسری جانب حکومت نے تکنیکی بنیادوں پر چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے نیب ترمیمی آرڈیننس کی میعاد 2 جون کو ختم ہو رہی ہے اور جب آرڈیننس ختم ہوگا تو موجودہ چیئرمین نیب اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکیں گے۔ نیب ترمیمی آرڈیننس میں موجودہ چیئرمین نیب کو اگلے چیئرمین کی تعیناتی تک کام جاری رکھنے کی شق شامل کی گئی تھی اور جسٹس (ر) جاوید اقبال عارضی انتطام کے تحت اس وقت بطور چیئرمین نیب کام کر رہے ہیں

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    منحرف اراکین نااہلی کیس، پی ٹی آئی وکیل نے الیکشن کمیشن سے وقت مانگ لیا

  • ہائی پروفائل کیسز کی تفتیش کرنے والوں کے تبادلے تا حکم ثانی نہیں کیے جائینگے،سپریم کورٹ

    ہائی پروفائل کیسز کی تفتیش کرنے والوں کے تبادلے تا حکم ثانی نہیں کیے جائینگے،سپریم کورٹ

    ہائی پروفائل کیسز کی تفتیش کرنے والوں کے تبادلے تا حکم ثانی نہیں کیے جائینگے،سپریم کورٹ

    حکومتی عہدیداروں کی مداخلت سے متعلق سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کی سماعت،تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا، سپریم کورٹ کا تحریری حکم نامہ5صفحات پر مشتمل ہے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی تھی تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ تمام افسران تحریری طور پر اپنے جواب عدالت میں جمع کرائیں، سیکریٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے ، چیئرمین اور ریجنل ڈائریکٹرز نیب کو نوٹس جاری کئے گئے،چاروں صوبوں کے ایڈوکیٹ جنرلز اور پراسکیوٹر جنرلز اورایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو نوٹس جاری کئے گئے،نیب اور ایف آئی اے کے پراسیکیوشن سربراہوں کو بھی نوٹس جاری کئے گئے نیب اور ایف آئی اے میں ہائی پروفائل مقدمات میں گزشتہ6ہفتوں میں تبادلوں کی تفصیل جمع کرانے کا حکم دیا گیا تقرریوں اور افسران کے ہٹائے جانے سے متعلق بھی تفصیلات جمع کرانے کا حکم دیا گیا عدالت نے گزشتہ 6ہفتوں میں ای سی ایل سے نکالے گئے ناموں کی تفصیلات طلب کرلی ای سی ایل پر اسٹیسٹس کو آئندہ سماعت تک برقرار رہے گا نیب عدالتوں، اسپیشل کورٹس میں استغاثہ اور تحقیقات کا ریکارڈ محفوظ کرنے کا طریقہ کار طلب کر لیا گیا

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں حکومتی شخصیات کے کیسز میں مداخلت کے تاثر پر از خود نوٹس کی سماعت ہوئی ،چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے ازخودنوٹس کی سماعت کی سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل اشترواوصاف پیش ہوئے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے پیپر بک پڑھا ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی میں نے پیپر بک پڑھا ہے پیپر بک جج کی جانب سے مداخلت کے بارے میں ہے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ نوٹس لینے کی جو وجوہات ہیں، وہ صفحہ نمبر 2 پر موجود ہیں،

    پیپر بک نمبر 2 میں ڈی جی ایف آئی اے ثنا اللہ عباسی اور ڈاکٹر رضوان کی موت کا ذکر موجود ہے ازخود نوٹس کیس میں تیارکی گئی پیپر بک میں مختلف اخبارات کے تراشے شامل تھے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور میں ایک کیس کے دوران ایف آئی اے کے استغاثہ کو پیش نہ ہونے کی ہدایت کی گئی ہم آپ سے گارنٹی چاہتے ہیں کہ استغاثہ کا ادارہ مکمل آزاد ہونا چاہیے، ایسا کیوں ہوا، ڈی جی ایف آئی اے جوخیبرپختونخوا کے آئی جی تھے کاتبادلہ کیوں کیا گیا؟ ڈاکٹر رضوان قابل افسر تھے،ان کو کیوں ہٹایا گیا ،یہ سب پیش رفت بظاہر کریمنل جسٹس سسٹم میں مداخلت کے مترادف ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو ہدایت دی کہ آپ اس ساری صورتحال کا جائزہ لیں،ای سی ایل سے 4 ہزار سے زائد افراد کے نام نکالے گئے، ای سی ایل سے نام نکالنے کا طریقہ کار کیا تھا؟ہمارے ملک میں جوکرمنل جسٹس سسٹم ہے اس کے بارے میں خبریں آئیں، اس وقت ہم کوئی رائے نہیں دے رہے ہم نے لوگوں سے رول آف لا کا وعدہ کیا ہے اس کی حفاظت کرنے والے ہیں، میں امید کرتا ہوں کی وفاقی حکومت پولیس کے ساتھ تعاون کریگی،ان تمام کرمنل کیسز کو سنبھالنے رکھنا استغاثہ کی ذمے داری ہے،اس سماعت کا مقصد کسی کو خفا کرنا نہیں، عدالت نوٹس جاری کرتی ہے،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پیپر بک نمبر دو میں ڈاکٹر رضوان کو اچانک دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے موت کا ذکر ہے،ازخود نوٹس کیس میں تیارکی گئی پیپر بک میں مختلف اخبارات کے تراشے شامل ہیں، رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم کے خلاف تحقیقات کرنے والے افسران تبدیل کیے گئے، ڈی جی ایف آئی اے جیسے قابل افسر کو ہٹا یا گیا بتایا جائے ہائی پروفائل کیسز میں افسران کے تقرر تبادلے کیوں کیے گئے

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر یہ لگتا ہے کہ تقرریاں اور تبادلے جان بوجھ کر کیے گئے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ ای سی ایل سے نام براہ راست نہیں نکال سکتے،ہم نے دیکھا ہے کہ ای سی ایل سے نام نکلوانے کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا جاتا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ای سی ایل میں نام ڈالنے کے لیے ایک طریقہ کار ہوتا ہے تو نکالنے کا بھی ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر کہتا ہوں کہ ازخود نوٹس لینے کا ہمارا مقصد کرمنل جسٹس سسٹم کی مضبوطی ہے،ہم یہاں پوائنٹ اسکور کرنے کے لیے اکٹھے نہیں ہوئے،ہم کسی کی تنقید سے گھبرانے والے نہیں ہیں،عدالت فیصلہ کرتے ہوئے کبھی نہیں گھبرائی،آج کئی سیاسی پارٹیوں کےمضبوط سوشل میڈیا سیکشنز ہیں، ہم سوشل میڈیا کی تمام چیزوں کو نوٹ کرتے ہیں اور آپس میں بات کرتے ہیں چاہتے ہیں آرٹیکل 10فوراے اور 25 پر عمل کیا جائےہم متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کررہے ہیں، یہ کارروائی کسی کو ملزم ٹھہرانے یا کسی کو شرمندہ کرنے کے لیے نہیں ہے یہ کارروائی فوجداری نظام اور قانون کی حکمرانی کو بچانے کے لیے ہے

    عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین نیب ، سیکریٹری داخلہ کو نوٹسزجاری کردیئے عدالت نے حکم دیا کہ سیکریٹری داخلہ بتائیں کہ کیوں استغاثہ کے کام میں مداخلت کرتے ہیں؟ وضاحت کریں مقدمات میں مداخلت کیوں ہورہی ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے مداخلت پر بیان دیا ،کراچی اور لاہور میں عدالتوں میں ججز موجود نہیں کیا آپ کواس بارے میں معلوم ہے ، ججز کو بھی جوڈیشل نظام میں محتاط رہنا ہوگا ، اس کا ہم قریب سے جائزہ لیتے ہیں،وہ نام جمع کرائے جائیں جن کے نام ای سی ایل سے اس دوران نکالے گئے،

    عدالت نے حکم دیا کہ ہائی پروفائل کیسز کی تفتیش کرنے والوں کے تبادلے تا حکم ثانی نہیں کیے جائینگے چھ ماہ میں استغاثہ اور تفتیشی اداروں میں تقرریوں کے بارے میں تفصیل جمع کرائی جائیں، حکومتی شخصیات کے کیسز میں مداخلت کے تاثر پر از خودنوٹس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی گئی

    شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا

    اداروں کے خلاف بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔جلیل احمد شرقپوری

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    خدارا ملک کا سوچیں،مجھے فخر ہے میں ایک شہید کا باپ ہوں،ظفر حسین شاہ

    ایک بیٹا شہید،خواہش ہے دوسرے کو بھی اللہ شہادت دے،پاک فوج کے شہید جوانوں کے والدین کے تاثرات

    شہادت سے سات ماہ پہلے بیٹے کی شاد ی کی تھی،والدہ کیپٹن محمد صبیح ابرار شہید

  • سابق بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی قاتل 30 سال بعد رہا

    سابق بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی قاتل 30 سال بعد رہا

    نئی دہلی :سابق بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی قاتل 30 سال بعد رہا،اطلاعات کے مطابق آج بھارت میں ایک عدالتی فیصلے نے سب کو حیران کرکے رکھ دیا ہے ، جس کے نتیجے میں بھارتی میڈیا اس وقت اس موضوع پرکھل کربات کررہا ہے، اطلاعات ہیں کہ بھارتی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کو قتل کرنے میں ملوث مجرم کو قید کے 30 سال بعد رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق سن1991 میں راجیو گاندھی کے قتل کے بعد اے جی پیراری ویلن کو گرفتار کیا گیا تھا ۔یہ بھی بتایا جارہاہے کہ اے جی پیراری ویلن پہلے ہی مارچ 2022 سے پیرول پر جیل سے باہر ہے اور بھارتی سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے اب اس کی رہائی کا حکم دیا ہے۔یہ حکم بڑے لمبے عرصے سے جاری سماعتوں کے بعد دیا گیاہے

    خیال رہے کہ راجیو گاندھی کو تامل ناڈو میں ایک انتخابی جلسے کے دوران خاتون خودکش بمبارنے خود کو دھماکے سے اڑا کر قتل کیا تھا اور اے جی پیراری ویلن کو بم میں استعمال ہونے والی بیٹریاں فراہم کرنے پر سزا سنائی گئی تھی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق یہ حملہ 1987 میں وزیراعظم راجیو گاندھی کی جانب سے سری لنکا میں قیام امن کی مبینہ کوششوں پر لبریشن ٹائیگر آف تامل ایلام نے کرایا تھا۔اے جی پیراری ویلن کو 1991 میں جب گرفتار کیا گیا تھا اس کی عمر 19 سال تھی اور پہلے اسے 1998 میں سزائے موت سنائی گئی مگر بعد ازاں اس سزا کو عمر قید سے بدل دیا گیا۔2015 میں اس کی جانب سے مرکز اور ریاستی حکومت کے پاس رحم کی درخواست جمع کرائی گئی تھی جس کے بعد سے یہ مقدمہ چل رہا تھا۔

    تامل ناڈو کے گورنر کی جانب سے رحم کی درخواست پر فیصلہ بھارتی صدر پر چھوڑ دیا گیا تھا مگر سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس کی کوئی آئینی حیثیت نہیں اور اے جی پیراری کی رہائی کے احکامات جاری کیے۔راجیو گاندھی قتل کیس کے 6 مجرم اب بھی جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں اور گزشتہ برسوں کے دوران ریاست تامل ناڈو کی حکومتوں سے ان سب کی رہائی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔

    ادھر بھارتی میڈیا کے مطابق راجیوگاندھی کے مبینہ قاتل اے جی پیراری ویلن سے قبل ریاستی گورنر نے کیس میں سزا پانے والی ایک خاتون نالنی کی سزائے موت کو ختم کردیا تھا جبکہ 2014 میں سپریم کورٹ نے تمام قیدیوں کی سزائے موت کو ختم کردیا تھا

  • سپریم کورٹ کا فیصلہ ، پی ٹی آئی کو پنجاب میں ایک بار پھر بڑا دھچکا لگنے کا امکان

    سپریم کورٹ کا فیصلہ ، پی ٹی آئی کو پنجاب میں ایک بار پھر بڑا دھچکا لگنے کا امکان

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیراعلی پنجاب کا الیکشن دوبارہ ہو گا ۔

    باغی ٹی وی : آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کا ووٹ کاسٹ نہیں ہو گا کیونکہ اب سپریم کورٹ فیصلہ دے چکی ہے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی خوشیاں منا رہی ہے کہ اب پنجاب میں ہمارا وزیر اعلی آئے گا تا ہم حقیقت اسکے برعکس ہے ۔

    پنجاب میں عثمان بزدار کےبعد حمزہ شہباز وزیراعلی بنے حمزہ شہباز کو ترین گروپ اوعلیم گروپ نے ووٹ دیئے تھے جو تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے اب موجودہ صورتحال میں پی ٹی آئی کے منحرف 25 اراکین کا ووٹ کاسٹ نہیں ہو گا۔

    عثمان بزدار بطور ایکٹنگ وزیراعلیٰ بحال ہو چکے ہیں، ایڈووکیٹ اظہر صدیق

    پی ٹی آئی کی پنجاب اسمبلی میں 180 سیٹیں ہیں اوراتحادی جماعت ق لیگ کی 10 ہیں اس طرح ٹوٹل 190 سیٹیں بنتی ہیں اگر منحرف اراکین کو نکالا جائے تو پی ٹی آئی کے پاس 165 سیٹ بشمول اتحادی باقی رہتی ہیں-

    جبکہ دوسری جانب ن لیگ کے پاس 166 سیٹیں ہیں اور ن لیگ اکیلی ہی وزیراعلی کا الیکشن جیت سکتی ہے ن لیگ کو پیپلز پارٹی اور آزاد امیدوار ان کی بھی حمایت حاصل ہے ۔راہ حق پارٹی ہے معاویہ اعظم طارق بھی ن لیگ کی حمایت کر رہے ہیں 4 آزاد اراکین پی پی پی کے 7 رکن ہیں اس طرح ن لیگ کو 178  ووٹ مل سکتے ہیں ۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پنجاب کی صورتحال انتہائی دلچسپ ہو چکی ہے ایسے لگ رہا ہے کہ پی ٹی آئی پنجاب سے جا چکی اب دوبارہ حمزہ شہباز ہی وزیراعلی منتخب ہوں گے پنجاب کے حوالہ سے ن لیگ نے مشاورتی اجلاس بھی بلایا ہے جس میں اراکین کو متحد رکھنے پر بات چیت کی جائے گی ۔

    پنجاب حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے مقرر کردہ 19 افسران کو فارغ کردیا

    پنجاب میں پی ٹی آئی ہے وزیر اعلی کے امیدوار پرویز الٰہی بھی وزیر اعلی بننے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں لیکن انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا کیوںکہ زمینی حقائق کے مطابق ن لیگ کے پاس اب بھی اکثریت ہے-

    اس سے قبل سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح سےمتعلق صدارتی ریفرنس پر عدالتی رائےکےبعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے کہا تھا کہ عثمان بزدار بطور ایکٹنگ وزیراعلیٰ بحال ہو چکے ہیں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد پنجاب اسمبلی کے منحرف 25 اراکین کو فارغ کر دیا جائے گا۔

    ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے کہا تھا کہ اب وزیراعلیٰ پنجاب کےانتخاب کےلیےالیکشن کےذریعے دوبارہ انتخاب ہو گا، فیصلہ صدارتی ریفرنس پر ہی نہیں 184 تین اور 186 کے تحت پڑھا جائے گاتاریخ کا سنہرا ترین دن ہے کہ آئین کوبحال کر دیا گیا جبکہ ووٹ بیچنے والوں کا راستہ ہمیشہ لے لیے روک دیا گیا منحرف اراکین کا ووٹ نہیں گنا جائے گا،حمزہ شہباز اکثریت کھو چکے ہیں۔

    خیال رہے کہ منحرف اراکین پارلیمنٹ سے متعلق آرٹیکل 63 اےکی تشریح کے صدارتی ریفرنس کا فیصلہ سپریم کورٹ نے سنادیا ہے۔

    اداروں کے خلاف بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔جلیل احمد شرقپوری

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ صدارتی ریفرنس نمٹایا جاتا ہے، سوال تھا کہ منحرف رکن کا ووٹ شمار ہو یا نہیں، آرٹیکل 63 اے اکیلا پڑھا نہیں جاسکتا، آرٹیکل 63 اے اور آرٹیکل 17سیاسی جماعتوں کےحقوق کے تحفظ کے لیے ہے، سیاسی جماعتوں میں استحکام لازم ہے، انحراف کینسر ہے، انحراف سیاسی جماعتوں کو غیرمستحکم اور پارلیمانی جمہوریت کو ڈی ریل بھی کرسکتا ہے، منحرف رکن کا ووٹ شمار نہیں ہوسکتا۔

    علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کا سوال واپس بھیج دیا چیف جسٹس نے کہا کہ ریفرنس میں انحراف پر نااہلی کا سوال بھی پوچھا گیا، انحراف پر نااہلی کےلیے قانون سازی کا درست وقت یہی ہے، ریفرنس میں پوچھا گیا چوتھا سوال واپس بھیجا جاتا ہے۔

    عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کی درخواستیں خارج کردیں اور منحرف ارکا ن تاحیات نا اہلی سے بچ گئے۔

  • آرٹیکل 63 اے کی تشریح ،سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنا دیا

    آرٹیکل 63 اے کی تشریح ،سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنا دیا

    آرٹیکل 63 اے کی تشریح ،سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنا دیا

    سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فیصلہ سنا دیا،سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آرٹیکل 63 اے اکیلا لاگو نہیں ہوسکتا ،فیصلہ 2-3 کی نسبت سے دیا گیا، فیصلے میں جسٹس جمال خان مندوخیل نے اختلافی نوٹ دیا فیصلے میں جسٹس جمال خان مندوخیل نے اختلافی نوٹ دیا ،فیصلے میں کہا گیا کہ آرٹیکل 63 اے سیاسی جماعتوں کو سیاسی میدان میں تحفظ فراہم کرتا ہے،آرٹیکل 63 اے سیاسی جماعتوں کو سیاسی میدان میں تحفظ فراہم کرتا ہے، آرٹیکل 17 کے تحت سیاسی جماعتوں کے حقوق ہیں، انحراف کرنا سیاست کیلئے کینسر ہے، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ منخرف رکن کا ووٹ شمار نہیں ہو گا ریفرنس میں انحراف پر نااہلی کا سوال بھی پوچھا گیا، اس حوالے سے پارلیمنٹ کو قانون سازی کرنی چاہیے،ریفرنس کا چوتھا سوال بغیر جواب کے واپس کرتے ہیں ،

    سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی تاحیات نااہلی کی درخواستیں خارج کر دیں

    عدالت میں جسٹس مظہر عالم اور جسٹس جمال خان مندوخیل کا اختلافی نوٹ پڑھا گیا اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ 3ججز کی رائے سے ہم متفق نہیں ہیں،آرٹیکل 63 ایک مکمل شق ہے،آرٹیکل 63 اے کے تحت نااہلی کے بعد اپیل کا حق ہوتا ہے ریفرنس میں پوچھے گئے سوالات پر رائے نہیں دے سکتے،

    چیف جسٹس کی سربراہی میں5 رکنی لارجر بینچ نے صدارتی ریفرنس پر سماعت کی تھئ 21 مارچ 2022 کو صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں داخل کیا گیا تھا اب تک ریفرنس پر لارجر بینچ نے 20 سماعتیں کیں وکلاء اور دیگر افراد کمرہ عدالت پہنچ گئے

    سپریم کورٹ اور اطراف میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے، عدالت کے کمرہ نمبر ایک کے باہر بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی سپریم کورٹ پارکنگ کو جانیوالے ایک راستے کو سیل کردیا گیا اعلی پولیس افسران سمیت پولیس کی بھاری نقری تعینات کردی گئی ، 5رکنی بینچ کے سربراہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال تھے بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظہر عالم خیل شامل تھے بینچ میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال مندوخیل بھی شامل تھے

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت مکمل ہوئی تھی، دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ عدالت کو ڈسٹرب نہ کریں ،اگر آپ دو منٹ بات کرنا چاہے ہیں، توہم یہاں بیٹھے ہیں،بابر اعوان نے عدالت سے استدعا کی کہ مجھے 10منٹ چاہیے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ،صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے ساڑھے 5 بجے سنائیں گے،

    قبل ازیں ن لیگی وکیل مخدوم علی خان کے معاون وکیل نے تحریری گزارشات جمع کرادیں مخدوم علی خان نے تحریری دلائل میں عدالت سے مہلت مانگ لی، ن لیگی وکیل کا کہنا تھا کہ حالات تبدیل ہو گئے حالات کی تبدیلی کے بعد مجھے موکل سے نئی ہدایات لینے کے لیے وقت دیا جائے، اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ کیا آرٹیکل 63 اےایک مکمل کوڈ ہے؟ کیا آرٹیکل63 اے میں مزید کچھ شامل کرنے کی ضرورت ہے؟ کیا پارٹی پالیسی سے انحراف کر کے ووٹ شمار ہو گا؟ا عدالت ایڈوائزی اختیار میں صدارتی ریفرنس کا جائزہ لے رہی ہے،صدارتی ریفرنس اور قانونی سوالات پر عدالت کی معاونت کروں گا،صدارتی ریفرنس میں قانونی سوال یا عوامی دلچسپی کے معاملہ پر رائے مانگی جاسکتی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا آرٹیکل 186 میں پوچھا سوال حکومت کی تشکیل سے متعلق نہیں ہے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت صدارتی ریفرنس کو ماضی کے پس منظر میں بھی دیکھیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت کو اٹارنی جنرل سے قانونی رائے لینے کی ضرورت نہیں، آرٹیکل 186 کے مطابق صدر مملکت قانونی سوال پر ریفرنس بھیج سکتے ہیں،کیا آپ صدر مملکت کے ریفرنس سے لاتعلقی کا اظہار کررہے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے حکومت کی طرف کوئی ہدایات نہیں ملی ہے،اپوزیشن اتحاد اب حکومت میں آچکا ہے، اپوزیشن کا حکومت میں آنے کے بعد بھی صدارتی ریفرنس میں موقف وہی ہو گا جو پہلے تھامیں بطور اٹارنی جنرل عدالت کی معاونت کروں گا، صدارتی ریفرنس میں قانونی سوال یا عوامی دلچسپی کے معاملہ ہر رائے مانگی جاسکتی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا آرٹیکل 186 میں پوچھا سوال حکومت کی تشکیل سے متعلق نہیں ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ماضی میں ایسے واقعات پر صدر مملکت نے ریفرنس نہیں بھیجا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ ریفرنس کو جواب کے بغیر واپس کر دیا جائے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سابق اٹارنی جنرل نے ریفرنس کو قابل سماعت قرار دیا ہے،بطور اٹارنی جنرل آپ اپنا موقف دے سکتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریفرنس سابق وزیراعظم کی ہدایت پر فائل ہوا،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا یہ حکومت کاموقف ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرا موقف بطور اٹارنی جنرل ہے،سابق حکومت کا موقف پیش کرنے کے لیے انکے وکلا موجود ہیں صدر مملکت کو قانونی ماہرین سے رائے لیکر ریفرنس فائل کرنا چاہیے تھا، قانونی ماہرین کی رائے مختلف ہوتی تو صدر مملکت ریفرنس بھیج سکتے تھے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدارتی ریفرنس پر کافی سماعتیں ہو چکی ہیں، آرٹیکل 17 سیاسی جماعت کے حقوق کی بات کرتا ہے، آرٹیکل 63 اے سیاسی جماعت کے حقوق کی بات کرتا ہے، آرٹیکل 63 اے سیاسی جماعت کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے،آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی پر 2 فریقین سامنے آئے ہیں، ایک وہ جو انحراف کرتے ہیں، دوسرا فریقین سیاسی جماعت ہوتی ہے،مارچ میں صدارتی ریفرنس آیا، تکنیکی معاملات پر زور نہ ڈالیں، صدارتی ریفرنس کے قابل سماعت ہونے سے معاملہ آگے نکل چکا ڈیڑھ ماہ سے صدارتی ریفرنس کو سن رہے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ ٹیکنیکل نہیں آئینی معاملہ ہے،

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    شادی کے جھانسے میں آ کر تعلق قائم کر لیا، اب بلیک میل کیا جا رہا،سٹیج اداکارہ

    آرٹیکل تریسٹھ اے اہم ایشو،رات تاخیر تک اس مقدمہ کو سننے کے لیے تیار ہیں،چیف جسٹس

  • آرٹیکل تریسٹھ اے اہم ایشو،رات تاخیر تک اس مقدمہ کو سننے کے لیے تیار ہیں،چیف جسٹس

    آرٹیکل تریسٹھ اے اہم ایشو،رات تاخیر تک اس مقدمہ کو سننے کے لیے تیار ہیں،چیف جسٹس

    آرٹیکل تریسٹھ اے اہم ایشو،رات تاخیر تک اس مقدمہ کو سننے کے لیے تیار ہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ اٹارنی جنرل کو لاہور میں تاخیر ہوگئی ہے ،اٹارنی جنرل اشتر اوصاف لاہور سے اسلام آباد روانہ ہوچکے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل کس ٹرانسپورٹ پر اسلام آباد آرہے ہیں؟ عامر رحمان نے کہا کہ اٹارنی جنرل موٹروے سے اسلام آباد آرہے ہیں، 3 بجے تک پہنچ جائیں گے پنجاب کی معاملات کی وجہ سے اٹارنی جنرل لاہور میں مصروف ہوگئے تھے،بابر اعوان نے کہا کہ اٹارنی جنرل آرہے ہیں یا جارہے ہیں یہ سنتے دو ہفتے ہوگئے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کام نہ کریں جس سے کوئی اور تاثر ملے ،اٹارنی جنرل نے پیر کو دلائل میں معاونت کرنے کی بات خود کی تھی،مخدوم علی خان کو بھی آج دلائل کیلئے پابند کیا تھا،ابھی ہمیں اطلاع ہوئی ہے کہ مخدوم علی خان بیرون ملک سے واپس نہیں آئے،یہ دونوں وکلا ایک فریق کے وکیل ہیں ایک سرکار دوسرے سیاسی جماعت کے نجی وکیل ہیں،اب لگتا ہے اپ اس معاملہ میں تاخیر کرنا چاہتے ہیں، ساڑھے گیارہ بجے دیگر مقدمات قربان کر کے کیس مقرر کیا، آرٹیکل تریسٹھ اے کا فیصلہ دینا چاہتے ہیں، اہم ایشو ہے، اگر اٹارنی جنرل 3بجے پہنچ رہے ہیں تو 4 بجے تک سن لیتے ہیں، رات تاخیر تک اس مقدمہ کو سننے کے لیے تیار ہیں یہ خدمت کا کام ہے ہم کرنا چاہتے ہیں عدالت تو رات تاخیر تک بیٹھی ہوتی ہے،

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت تو 24 گھنٹے دستیاب ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل کو 3 بجے سن لیں گے،اب لگتا ہے آپ اس معاملہ میں تاخیر کرنا چاہتے ہیں،معاون وکیل سعد ہاشمی نے کہا کہ مخدوم علی خان 17مئی کو آپس آجائیں گے مخدوم علی خان بیرون ملک مقدمہ میں دلائل دے رہے ہیں اٹھارہ مئی کے بعد ہوسکتا ہے بینچ دستیاب نہ ہو،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لارجر بینچ پورا ہفتہ دستیاب ہےمعذرت کے ساتھ مخدوم علی خان نے مایوس کیا ہے،مخدوم علی خان بڑے وکیل ہیں،تحریری طور پر بھی دلائل دے سکتے ہیں

    علیم خان کے وکیل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کے تحت پارلیمانی پارٹی ارکان کو ہدایات جاری کرتی ہے،پارلیمانی پارٹی اور چیئرمین میں واضح فرق ہے،ممبر ناصر درانی نے کہا کہ کیا پارلیمانی پارٹی کا لیڈر بھی پالیسی جاری کرسکتا ہے.، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پارٹی چیئرمین ہدایات جاری نہیں کرسکتا ارکان پنجاب اسمبلی کو پارلیمانی پارٹی کی جانب سے کوئی ہدایات نہیں دی گئیں16اپریل کو علیم خان کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا، 4اپریل کے نوٹیفکیشن کی بنیاد پر پورا کیس بنایا گیا ہے،پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کا ریفرنس میں کہیں زکر نہیں، وزیر اعلیٰ پنجاب کیلئے ووٹنگ شام 7 بجے تک جاری رہی،

    وکیل مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے میں تمام طریقہ کار موجود ہے،اگر طریقہ کار موجود نہ ہوتا تو عدالت آرٹیکل باسٹھ ، تریسٹھ کی طرف دیکھ سکتی تھی یہ ضروری نہیں ہر انحراف کسی فائدے کے لیے ہو،اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین سازوں نے ڈی سیٹ کی سزا رکھی ہے، انحراف خالصتاً سیاسی اختلافات پر بھی ہوسکتا ہے،آرٹیکل تریسٹھ اے میں ڈی سیٹ کی سزا فراہم کی گئی ہے جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں منحرف ارکان کیلئے ڈی سیٹ کی سزا کافی ہے، مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے کے طریقہ کار سے ہٹ کر مزید گہرائی میں نہیں جانا چاہتے،ڈی سیٹ کے ساتھ مزید سزا شامل کرنے سے سیاسی تقسیم میں اضافہ ہو گا،عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن قومی اسمبلی کے ارکان سے متعلق ریفرنس مسترد کر چکا ہے،وکیل نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کے آدھے ارکان نے ایک طرف آدھے نے دوسری طرف ووٹ دیا،اس سیاسی جماعت نے اپنے ارکان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا،آرٹیکل تریسٹھ اے پالیسی کا پابند کرتا ہے، انحراف سے منع کرتا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی رکن اسمبلی کے آخری چھ ماہ میں انحراف کرتا ہے،ایسی صورتحال میں اس رکن کی سزا تو نہ ہوئی،وکیل نے کہا کہ پارٹی سربراہ بھی منحرف ارکان کے خلاف کارروائی نہیں کرتے، عدالت پارٹی سربراہوں کے کنڈیکٹ کو بھی سامنے رکھے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے کندھے اتنے کمزور نہیں ہے،ہمارے کندھے آئین پاکستان ہے،تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کا ہے، عدالت کا کام آئین کا تحفظ اور تشریح کرنا ہے، دیکھنا ہے کہ درخواست میں کس نوعیت کا سوال اٹھایا گیا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے منحرف رکن اپنے پارٹی سربراہ کو اپنے اقدام پر راضی کر لے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جمہوریت کا فروغ کیسے ہو گا ہر رکن اپنی مرضی کرے گا، کسی فرد پر فوکس کرنے کی بجائے سسٹم پر فوکس کیوں نہ کیا جائے، آرٹیکل تریسٹھ اے کے تحت انفرادی نہیں پارٹی کا حق ہوتا ہے،کیا 10پندرہ ارکان سارے سسٹم کو تبدیل کرسکتے ہیں؟کیا چند افراد سسٹم کو ڈی ریل کر سکتے ہیں؟ وکیل مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ عدالت کی آبزرویشن بڑی اہم ہے،آرٹیکل 95 کے تحت ارکان کا حق ہے وہ مرضی سے ووٹ دیں،کسی منحرف رکن کا دفاع نہیں کروں گا،آرٹیکل تریسٹھ اے کی سزا بڑھانے سے جمہوریت کو فروغ ملے گا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اسطرح سے سیاسی پارٹی ٹی پارٹی بن جائے گی، ہم بحث سے ایک بات سمجھے ہیں کہ پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کو ختم کرسکتا ہے،کیا سربراہ پارٹی کے ساتھ ہوئے غلط اقدام کو معاف کرسکتا ہے؟ اگر پارٹی سربراہ رکن کے غلط کام کو معاف کردیں تو یہ آئین کے خلاف ہو گا؟کیا پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کی کوئی اہمیت نہیں

    وکیل بابر اعوان نے کہا کہ پارٹی سربراہ بھی پارلیمانی پارٹی کا حصہ ہوتا ہے،اگر اختلاف پر ارکان استعفیٰ دے دیں تو سسٹم تباہ نہیں ہو گا،جسٹس جمال خان نے کہا کہ ارکان کے انحراف سے سسٹم ختم نہیں ہوتا،وکیل مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے ایک مکمل کوڈ ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سماعت کل تک ملتوی کردیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ امید کرتے ہیں مخدوم علی خان کل پیش ہوں گے،اگر وہ پیش نہیں ہوتے تو تحریری دلائل سے دیں،کل صدارتی ریفرنس کی کارروائی کو مکمل کرنا چاہتے ہیں،

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    شادی کے جھانسے میں آ کر تعلق قائم کر لیا، اب بلیک میل کیا جا رہا،سٹیج اداکارہ

  • سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کی نئی حلقہ بندیوں سے متعلق درخواست پر سماعت 2 ہفتے تک ملتوی کر دی گئی

    سپریم کورٹ نے وکیل پی ٹی آئی کی الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرنے کی استدعا مسترد کردی ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست کو پہلے نمبر لگنے دیں،نمبر لگنے کے بعد نوٹس جاری کرنے کے معاملے کو دیکھا جائے گا،سپریم کورٹ نے فواد چودھری کو بطور وکیل بات کرنے سے روک دیا ،عدالت نے پی ٹی آئی کو الیکشن پلان سمیت دیگر اضافی دستاویزات جمع کرانے کی اجازت دے دی تحریک انصاف کی فریقین کو نوٹس جاری کرنے کی استدعا مسترد کر دی گئی، وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو نئی حلقہ بندیاں کرنے سے روکا جائے،غیر قانونی طور پر نئی حلقہ بندیوں کا عمل شروع کر دیا گیا

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے نئی حلقہ بندیاں کرانے کے شیڈول کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائرکر د ی سیاسی جماعت کی جانب سے پارٹی کے جنرل سیکرٹری اسد عمر نے عدالت میں آرٹیکل184 تھری کے تحت درخواست دائرکی- درخواست میں ادارہ شماریات، وفاق، الیکشن کمیشن، سیکرٹری الیکشن کمیشن ، صوبائی چیف سیکرٹریز اور سیکرٹری کابینہ کوفریق بنایا گیا ہے۔پی ٹی آئی نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہےکہ نئی مردم شماری ہونے تک نئی حلقہ بندیوں کی کوئی ضرورت نہیں، الیکشن کمیشن کا حلقہ بندیوں کا شیڈول آئین اور قانون کے خلاف ہے

    درخواست میں اپیل کی گئی کہ الیکشن کمیشن کو کسی قسم کی انتخابی عمل میں تاخیرسے روکا جائےاور قرار دیا جائے کہ3 مئی 2018 میں کروائی گئی حلقہ بندیاں درست ہیں۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیا گیا شیڈول غیرآئینی اور غیر قانونی قراردیا جائے، الیکشن کمیشن اور سیکرٹری الیکشن کمیشن کو انتخابی عمل یقینی بنانے کا حکم دیا جائے

    عدالت میں پیشی کے بعد سپرریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو ہر وقت انتخابات کے لیے تیار رہنا چاہیے نئی حلقہ بندیوں سے متعلق معاملے میں الیکشن کمیشن کی بدنیتی شامل ہے ملک میں 2 وزرئے اعظم ہیں، حکومت کو آئے ہوئے ایک ماہ بھی نہیں ہوا اور 4 غیر ملکی دورے ہوگئے ہیں ایک وزیر خزانہ لندن میں دوسرا پاکستان میں بیٹھا ہے ہم مستحکم معیشت چھوڑ کر گئے تھے، یہ لوگ پاکستان کو دیوالیہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ ثاثے غیر ملک چلے جائیں، اسٹاک ایکسچینج میں مندی ہےاور ڈالر 193 روپے کا ہوا ہے، ڈیڑھ ماہ میں پورے ملک کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے سری لنکا کے پاس تیل امپورٹ کرنے کے پیسے نہیں تھے یہاں بھی ایسی صورتحال پیدا کی جارہی ہے پاکستان کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی کے پیچھے کرپشن اور فارن فنڈنگ کیس کا خوف ہے،آصف زرداری

    عمران خان اگلے سال الیکشن کا انتظار کریں،وفاقی وزیر اطلاعات

    موجودہ سیاسی صورتحال میں فوج پر بلا وجہ الزامات،بلاوجہ منفی پروپیگنڈہ

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

  • خواتین کو نظراندازکریںگےتو معاشرے میں بہتری لانا ناممکن ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    خواتین کو نظراندازکریںگےتو معاشرے میں بہتری لانا ناممکن ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    خواتین کو نظراندازکریںگےتو معاشرے میں بہتری لانا ناممکن ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نیشنل جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1979میں ایک جابر نے فیصلہ کیا مسلمانوں کو بہتر مسلمان بنانے کی ضرورت ہے

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ہمارے تمام قوانین انگریزی میں ہوتے ہیں،میرا اس سے اختلاف ہے آئین میں واضح ہے کہ استعمال کی جانے زبان عام آدمی کے سمجھ میں آنی چاہیے، دیت کے قانون انگریزی میں لکھا گیا لیکن اس کی سزا عربی میں لکھی گئی،ریپ کو زنا بالجبر بنا دیا گیا،جابروں نے ہمارے قانون اور آئین کا مذاق بنا دیا،عورت کے بے آبرو ہونے کو اسلام نے سنگین جرم قرار دیا تھا،دفعات 375 اور 374 کی غلطی کو درست کرنے میں 27 سال لگے،اس دوران خواتین نے کتنا ظلم اور زیادتیاں برداشت کیں،دین اسلام کو غلط طریقے سے پیش کرنے پر افسوس ہوتاہے،یوں لگتا ہے جیسے دین اسلام میں خواتین کے ساتھ منصفانہ قانون نہیں،قرآن کریم میں 35 بار حضرت مریم کا ذکر کیا گیا ہے،جب تک ہم خواتین کو نظر انداز کریں گے خواتین پر خود کو سبقت دیتے رہیں گے معاشرے میں بہتری لانا ناممکن ہے ہمارے ہاں جابر کو سزائیں نہیں دی جاتیں،

    ملک اسلامی جمہوریہ مگریہاں اسلام کے مطابق کچھ نہیں ہورہا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس غلطی تھی، عمران خان نے تسلیم کر لیا

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسلام آباد میں گورنر بلوچستان کے سکواڈ کی گاڑی کا چالان کروا دیا ۔

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    پولیس ملزمان کی ویڈیو کیوں نہیں بناتی؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اظہار برہمی

  • تحریک انصاف کا الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان

    تحریک انصاف کا الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان

    تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا

    منحرف اراکین کے خلاف الیکشن کمیشن کی جانب سے ریفرنس کو مسترد کئے جانے پر تحریک انصاف عدالت جائے گی، سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف اسد عمر نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو انتہائی جانبدارانہ اورمتعصبانہ قرار دیتے ہوئے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا

    دوسری جانب سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی سید نیر حسین بخاری کا کہنا ہے کہ صدر عارف علوی صدر مملکت کی بجائے عمران خان کے کٹھ پتلی بن گئے ہیں عمران خان میگا سیکنڈلز کے احتساب اور حساب سے خوفزدہ ہوکر اداروں کو متنازعہ بنانے کی ناکام کوشش میں ہے اتحادی حکومت انتخابی اصلاحات کے بعد آزادانہ صاف اور شفاف انتخابات کرائے گی الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کے وکیل کا فارن فنڈنگ گڑ بڑ تسلیم کرنا اعتراف جرم ہے پی ٹی آئی وکیل نے الیکشن کمیشن کے سامنے عمران خان کے با خبر ہونے کی گواہی دیکر ٹھوس ثبوت فراہم کر دیا ہے آئین کے تحت ملک دشمن ممالک کے شہریوں سے فنڈنگ لینے والا پارٹی سربراہ غداری کے زمرے میں آتا ہے پی ٹی آئی دور میں 3 اپریل سے اب تک آئین شکنی عناصر کے خلاف آئین اور قانون کے تحت فیصلہ کن کارروائی ہوگی آئینی ہتھیار کے زریعے نکالے گئے آئین شکن عناصر کیساتھ آئین اور قانون کے مطابق نمٹا جائے الیکشن کمیشن نے قانون اور قوائد کے تحت پی ٹی آئی منحرف اراکین کے خلاف ریفرینس مسترد کیا ہے،

    گزشتہ روز الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنایا تھا، قائم مقام سپیکر کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو پی ٹی آئی کے 20 منحرف ارکین قومی اسمبلی کیخلاف ریفرنسز دائر کیے گئے تھے، الیکشن کمیشن نے راجہ ریاض، نورعالم خان، فرخ الطاف، احمد حسین ڈیہڑ، رانا قاسم نون، غفار وٹو، سمیع الحسن گیلانی، مبین احمد، باسط بخاری، عامر گوپانگ، اجمل فاروق کھوسہ، ریاض مزاری، جویریہ ظفر آہیر، وجیہہ قمر، نزہت پٹھان، رمیش کمار، عامر لیاقت حسین، عاصم نذیر،نواب شیر وسیر، افضل ڈھانڈلہ ریفرنس دائر کیے گئے تھے۔

    الیکشن کمیشن کی طرف سے متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان قومی اسمبلی پر آرٹیکل 63 اے کا اطلاق نہیں ہوتا۔ منحرف اراکین اسمبلی ڈی سیٹ ہونے سے بچ گئے

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    عمران خان اگلے سال الیکشن کا انتظار کریں،وفاقی وزیر اطلاعات