Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ

    عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ

    عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ

    سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا تحریری فیصلہ جاری کردیا

    جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیلئے کافی مواد موجود ہے میری رائے میں عمران خان نے عدالتی احکامات کی حکم عدولی کی، عمران خان سے پوچھا جائے کیوں نہ آپ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے عمران خان کے بیان کی ویڈیو سپریم کورٹ میں چلائی گئی

    14 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے تحریر کیا 26 مئی کو عدالت نے گائیڈ لائن بعد میں جاری کرنے کے حکم کیساتھ کیس نمٹا دیا تھا اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے لانگ مارچ اور سڑکوں کی بندش سے متعلق درخواست دائر کی تھی

    عمران خان لانگ مارچ کیس میں سپریم کورٹ نے آئی جی پولیس، چیف کمشنر اسلام آباد سے ایک ہفتے میں جواب طلب کرلیا ،عدالت نے ڈی جی آئی بی اور ڈی جی آئی ایس آئی سے بھی ایک ہفتے میں جواب طلب کر لیا،عدالت نے سیکرٹری وزارت داخلہ سے بھی ایک ہفتے میں سات نکات پر جواب طلب کر لیا ،عدالت نے سوال کیا کہ کتنے مظاہرین ریڈزون میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے؟ ریڈ زون کی سکیورٹی کے انتظامات کیا تھے؟ ایگزیکٹو حکام کی جانب سے سکیورٹی انتظامات میں کیا نرمی کی گئی؟ کیا سیکورٹی بیریئر کو توڑا گیا؟

    واضح رہے کہ عمران خان نے لانگ مارچ کے دوران ڈی چوک جانے کا اعلان کیا ،عمران خان اسلام آباد آ رہے تھے تو سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ پر امن ہو گا اور سرینگر ہائی وے تک آئے گا، تا ہم عمران خان ڈی چوک پہنچے اور وہاں کارکنان سے خطاب کر کے واپس روانہ ہو گئے، گزشتہ سماعت پر عمران خان کی ویڈیوز بھی عدالت میں چلائی گئی تھیں

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کابینہ ارکان پر کرپشن کے الزامات ،خود کیسے اپنے حق میں رولز بدل سکتے ہیں؟سپریم کورٹ

  • عمران خان کو سپریم کورٹ کا حکم ماننا چاہیے تھا، شیخ رشید

    عمران خان کو سپریم کورٹ کا حکم ماننا چاہیے تھا، شیخ رشید

    اسلام آباد: عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ شہبازشریف کو غصے میں لانے والے اب اس کو بھگتیں، اگر لانا ہی تھا تو خواجہ آصف یا احسن اقبال کو لے آتے۔

    باغی ٹی وی : سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ باس کے گھر جا سکتا ہوں لیکن عمران خان نے منع کیا ہوا ہے تحریک انصاف بابو اور کمپیوٹر موبائل پارٹی تھی، اب جرات والی پارٹی بنی ہے۔

    ہمارے پاس عوام میں جانے کے حالات نہیں تھے،جس نے مراسلہ بنایا اس نے خان کو ہیرو بنا…

    ایک سوال کے جواب میں انہوں ںے واضح طور پر کہا کہ عمران خان کو سپریم کورٹ کا حکم ماننا چاہیے تھا، عدالت نے احتجاج کے لیے جو جگہ مختص کی تھی وہاں احتجاج کرنا چاہیے تھا۔

    شیخ رشید نے کہا کہ حکومت جا رہی ہے، دنیا کی کوئی طاقت آپ کو نہیں بچا سکتی، قلندر آئیں گے، یہ لوگ اندر جائیں گے، چلمن کے پیچھے بہت کچھ ہو رہا ہے، ادارے بھولتے نہیں ہیں، لوگ آتے ہیں چلے جاتے ہیں۔

    شیخ رشید احمد نے کہا کہ جس دن باپ پارٹی نے ساتھ چھوڑا اس دن سمجھ گیا کہ باپ کا باپ ہمارے ساتھ نہیں۔

    سابق حکومت کے اقدامات سے دوست ممالک ناراض ہیں، مریم نواز

    قبل ازیں شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ بجٹ موجود ہ یا دوسری حکومت پیش کرے گی سب معاملات زیر غور ہیں سب ملکر اچھا حل تلاش کریں گے،ملک کو آگے لیکر جائیں گے ،اللہ کو منظورہوا تو وقت سے پہلے الیکشن ہوں گے،بجٹ دینا کمال نہیں ،کوئی اور بھی دے سکتاہے کسی کو کوئی یقین دہانی نہیں ہے ،سب اپنا اپنا چورن بیچ رہے ہیں –

    سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حکومت ایک ووٹ پر کھڑی ہے الیکشن کی تاریخ کے لئے عمران خان سپریم کورٹ جارہے ہیں،پاکستان آگے بڑھے گا ،اچھے فیصلوں کےدن قریب ہیں ،الیکشن کی تاریخ کےلیے عمران خان سپریم کورٹ جارہے ہی

  • ججز تقرری کے معاملے پرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    ججز تقرری کے معاملے پرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    سپریم کورٹ میں ججز تقرری کے معاملے پرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھے گئے خط میں کہا کہ بار کونسلز سمیت جوڈیشل کمیشن ممبران نے کئی بار رولز میں ترمیم کا مطالبہ کیا،ججز تقرری میں سنیارٹی،میرٹ اور قابلیت کو دیکھنا ہوتا ہے،سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کی جگہ جونیئر جج کو تعینات کیا گیا، ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اور سینئر ججز نے سابق چیف جسٹس سابق نثار کی باتوں کی تردید کی سینئر ججز کے خود نہ آنے کی بات کر کے ثاقب نثار نے مکاری کی سابق چیف جسٹس گلزار احمد نے بھی چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ اور سینئر ججز کو نظر انداز کیا خط کی کاپی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور گلزار احمد کو بھی بھیج رہا ہوں بطور ممبر جوڈیشل کمیشن سابق جج جسٹس مقبول باقر کی رائے کو بھی نظرانداز کیا گیا، جوڈیشل کمیشن رولز میں ترمیم کیلئے قائم کمیٹی کی آج تک کوئی رائے نہیں آئی، جوڈیشل کمیشن اجلاس ان کیمرہ نہیں ہونا چاہیے،ججز تقرری کیلئے اجلاس سے متعلق عوام کو علم ہونا چاہیے،

    ملک اسلامی جمہوریہ مگریہاں اسلام کے مطابق کچھ نہیں ہورہا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس غلطی تھی، عمران خان نے تسلیم کر لیا

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسلام آباد میں گورنر بلوچستان کے سکواڈ کی گاڑی کا چالان کروا دیا ۔

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    پولیس ملزمان کی ویڈیو کیوں نہیں بناتی؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اظہار برہمی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹرار سپریم کورٹ کے سیکریٹری جوڈیشل کمیشن ہونے پر اعتراض کیا اور کہا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ سرکاری ملازم ہے جس کا وزیر اعظم ہاوس سے تقرر ہوا،آرٹیکل 175/3 عدلیہ اور ایگزیکٹو کو الگ رکھنے سے متعلق ہے، رجسٹرار سپریم کورٹ جواد پال کو سیکرٹری جوڈیشل کمیشن کے عہدے سے ہٹایا جائے رجسٹرار سپریم کورٹ جواد پال کے مطابق وہ کسی کو جوابدہ نہیں ہیں رجسٹرار سپریم کورٹ کا رویہ متکبرانہ اور بددیانتی والا ہے عوام کے پیسے لینے والا سرکاری ملازم جوڈیشل کمیشن کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان ہے سابق وزیراعظم عمران خان کے مقدمات رجسٹرار سپریم کورٹ فوری سماعت کیلئے مقرر کر دیتا تھا وام کا یہ تاثر کہ عدلیہ آزاد نہیں عوام اعتماد کے بغیر عدالتی فیصلے اپنی ساکھ کھو دیتے ہیں

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”499452″ /]

  • کابینہ ارکان پر کرپشن کے الزامات ،خود کیسے اپنے حق میں رولز بدل سکتے ہیں؟سپریم کورٹ

    کابینہ ارکان پر کرپشن کے الزامات ،خود کیسے اپنے حق میں رولز بدل سکتے ہیں؟سپریم کورٹ

    کابینہ ارکان پر کرپشن کے الزامات ،خود کیسے اپنے حق میں رولز بدل سکتے ہیں؟سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں تفتیشی اداروں میں حکومتی مداخلت کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹس کو سے متعلق جو آرڈرہم نے کیے وہ قائم رہیں گے ،آپ ای سی ایل کی لسٹ سے متعلق رپورٹ پیش کریں،ہم چاہتےہیں کہ قانون کی عمل داری ہو،ہم ایگزیکٹو کے اختیارات میں مداخلت نہیں کرینگے،ہم ابھی کوئی آرڈر پاس نہیں کررہے، ایسا کوئی شخص جس کے خلاف مقدمہ ہو وہ ملک سے باہر نہیں جائیگا،ہمیں ایف آئی اے کی رپورٹ کے بارے میں بتایا جائے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ ای سی ایل رولز کی سیکشن دو میں کیسے ترمیم کی گئی؟ کیا ترمیم کرتے وقت متعلقہ اداروں سے مشاورت کی گئی؟کرپشن سمیت دیگر چیزوں کو نکال کر رولز تبدیل کر دیئے گئے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ وہ لوگ کیسے ای سی ایل رولز بدل سکتے جو خود مستفید ہوں ، جن کابینہ ارکان پر کرپشن کے الزامات ہیں وہ خود کیسے اپنے حق میں رولز بدل سکتے ہیں؟

    سپریم کورٹ نے ای سی ایل سے نکالے گئے ناموں پر تشویش کا اظہار کیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 22اپریل کو ای سی ایل رولز میں تبدیلی کی گئی ہم ایگزیکٹوز کے اختیارات میں مداخلت نہیں کرینگے،وہ نام نکالے گئے جن پرکرپشن اورٹیکس چوری کے مقدمات تھے،ای سی ایل سے نام نکالنے کیلئے رولز تبدیلی کا اطلاق ماضی سے کیسے ہوسکتا ہے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ رولز تبدیلی پر کابینہ سے منظوری کے نوٹیفکیشن میں یہ لکھا گیا اطلاق ماضی سے ہوگا؟ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے سوال کیا کہ رولز تبدیلی سے کس کس کو فائدہ ہوا؟ مقدمات کا سامنا کرنے والے وزراکی جانب سے رولز تبدیلی کی منظوری مفادات کا ٹکراؤ ہے، تفصیلات فراہم کریں کہ کابینہ میں شامل کن اراکین کو فائدہ پہنچا؟الزام کا سامنا کرنے والے کابینہ میں شامل وزیر خود کو الگ کر سکتا تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کا کہنا ہے 174 نکالے گئے ناموں سے قبل ہم سے مشاورت نہیں کی گئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ ای سی ایل رول 2010 کا سیکشن دو پڑھیں، رولز کے مطابق کرپشن، دہشتگردی، ٹیکس نادہندہ اور لون ڈیفالٹر باہر نہیں جا سکتے، کابینہ نے کس کے کہنے پر کرپشن اور ٹیکس نادہندگان والے رول میں ترمیم کی؟کیا وفاقی کابینہ نے رولز کی منظوری دی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کابینہ کی منظوری کے منٹس پیش کردوں گا، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا 120 دن بعد ازخود نام ای سی ایل سے نکل جائے گا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ 120دن کا اطلاق نام ای سی ایل میں شامل ہونے کے روز سے ہوگا،عدالت نے کہا کہ کابینہ کے ارکان خود اس ترمیم سے مستفید ہوئے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ کابینہ ارکان اپنے ذاتی فائدے کیلئے ترمیم کیسے کر سکتے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ معلوم ہے کہ وفاقی وزرا پر ابھی صرف الزامات ہیں،کیا کوئی ضابطہ اخلاق ہے کہ وزیر ملزم ہو تو متعلقہ فائل اس کے پاس نہ جائے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اپنے فائدے کیلئے ملزم کیسے رولز میں ترمیم کر سکتا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ملزم وزرا کو تو خود ہی ایسے اجلاس میں نہیں بیٹھنا چاہیے، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کیاسرکولیشن سمری کے ذریعے ایسی منظوری لی جا سکتی ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کے مطابق ان سے پوچھے بغیر ملزمان کے نام ای سی ایل سے نکالے گئے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم کسی انفرادیت کے مطابق تفصیلات نہیں چاہتے ، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ای سی ایل رولز میں ترمیم کے بعد ریویو کا طریقہ کار ہی ختم ہو گیا،ممبران کا نام ای سی ایل میں ہونا اور رولز میں کابینہ کی ترمیم کیا مفادات کا ٹکراو نہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ای سی ایل رولز میں ترمیم تجویز کی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ اعظم نذیر تارڑ جس شخص کے وکیل تھے اسی کو فائدہ پہنچایا، کیا طریقہ کار اپنا کر ای سی ایل رولز میں ترمیم کی گئی؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ای سی ایل رولز میں ترمیم کے طریقہ کار سے متعلق رپورٹ جمع کرائیں، فی الحال حکومت کے ای سی ایل رولز سے متعلق فیصلے کالعدم قرار نہیں دے رہے، قانون پر عمل کے کچھ ضوابط ضروری ہے، انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت کرنا نہیں چاہتے، ریاست کے خلاف کارروائیوں پر سپریم کورٹ کارروائی کرے گی، عرفان قادر نے کہا کہ میں وزیر اعظم شہباز شریف کی نمائندگی کر رہا ہوں مجھے سنا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تحریری طور پر ہمیں دلائل دیں ایسے نہیں سن سکتے،عرفان قادر نے کہا کہ اہم کیس ہے،دو جماعتوں میں کشیدگی ہے عدالت بھی بیچ میں ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے،

    وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کیس میں ایف آئی اے افسران کے تبادلے کی رپورٹ پر بحث کی گئی ،عدالت نے کہا کہ ایف آئی اے رپورٹ سے تاثر ملا کہ معاملات کو غیر سنجیدہ اقدامات سےکور کیا گیا ،وزارت قانون نے 13 مئی کو سکندر ذوالقرنین سمیت ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کومعطل کیا بظاہر ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کو کیس کی دو سماعتوں میں پیش نہ ہونے کی بنیاد پر معطل کیا گیا ،جن سماعتوں کی عدم پیشی پر پراسیکیوٹرز معطل ہوئے وہ نئی حکومت کے قیام کے بعد کی تھیں؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے پراسیکیوٹرز کو یہ کہا کہ آپ پیش ہو نا ہوں آپ فارغ ہیں؟ پراسیکیوٹرز کو تبدیل کرنے کے لیے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، انویسٹی گیشن افسر کو بھی بیماری کی وجہ سے تبدیل کیا گیا،انویسٹی گیشن افسر تبدیل ہونے کے مہینہ بعد بیمار ہوا،

    سپریم کورٹ نے ڈی جی ایف آئی اے کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ،عدالت نے ڈائریکٹر لا آپریشنز ایف آئی اے عثمان گوندل بھی ریکارڈ سمیت طلب کر لیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے پراسیکیوشن ٹیم بظاہر مقدمہ کی کارروائی رکوانے کیلئے تبدیل کی گئی،آرٹیکل 248 وزراء کو فوجداری کارروائی سے استثنٰی نہیں دیتا،چاہتے ہیں نظام قابل اعتماد انداز میں چلے، اعلیٰ حکام کیخلاف مقدمات میں مختلف سلوک زیادہ نوٹس میں آتا ہے،

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے مقدمات میں کیا پیشرفت ہوئی؟ کیا وزیراعظم پر فرد جرم عائد ہوچکی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ابھی تک فرد جرم عائد نہیں ہوئی،وزیراعظم سمیت کسی نے کوئی استثنیٰ نہیں مانگا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کا مقص کسی مقدمے کو تیزی سے چلانا نہیں ہے،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

  • ملک کی بہاروں کو آپس کی لڑائیوں میں خزاں میں تبدیل نہ کریں سیاست میں آج ایک اورکل دوسرا ہوگا

    ملک کی بہاروں کو آپس کی لڑائیوں میں خزاں میں تبدیل نہ کریں سیاست میں آج ایک اورکل دوسرا ہوگا

    ملک کی بہاروں کو آپس کی لڑائیوں میں خزاں میں تبدیل نہ کریں سیاست میں آج ایک اورکل دوسرا ہوگا ،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں لانگ مارچ روکنے کیلئے راستوں کی بندش اور چھاپوں کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    پی ٹی آئی وکیل سپریم کورٹ میں پیش ہوئے ،وکیل نے کہا کہ بابر اعوان سمیت دیگر وکلا کو بھی گرفتارکرنے کی کوشش کی گئی ماضی میں بھی ایسے حالات پیدا ہوئے لیکن ایسا نہیں جو اس بار ہوا،وکیل نے کہا کہ اطلاع آئی کہ انہوں نے شاہراہوں پر شیشے توڑ کر ڈالے گئے حکومت نے یہ اندازہ کرلیا کہ احتجاج کیسے روکیں گے،ہماری درخواست کسی سیاسی پارٹی کی جانب سے نہیں انتظامیہ نے ان کو بھی ہراساں کیا جن کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا دیگر ہائیکورٹس میں کوئی درخواستیں داخل ہوئی ہیں،

    جسٹس منیب اختر نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی بات کو ہم سمجھتے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آگر آپ احتجاج کا حق مانگتے ہیں تو آپ بھی کسی ضابطے کے پابند ہیں کچھ عرصہ قبل ایک سیاسی جماعت نے احتجاج کیا ،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت چاہتے ہیں،آپ نے اپنی درخواست میں آرٹیکل 15 پر عمل در آمد کی بات کی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل آپ یہاں موجود ہیں ،کیا کہیں گے؟ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت نے احتجاج کی درخواست کی ہے،یہ کہا جا رہا ہے کہ ایک خونی مارچ ہے

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک عام شہری جس کو مسائل کا سامنا ہوگا اس کا کیا ہوگا ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پریس کے مطابق اسکول بند ہوگئے ہیں، امتحانات ملتوی کردیئے گئے ہیں اسپتالوں میں ایمرجنسی لگائی گئی ،ایسی صورتحال میں عام آدمی کیا کرسکتا ہے؟ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ملکی معاشی صورتحال کا سب کو علم ہے،اگر لاک ڈاون ہوجائے تو کیا ہوگا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں مزید معلومات لے کر عدالت کو بتاونگا

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی احتجاج کیلئے جگہ مختص کی گئی تھی،میڈیا کے مطابق تحریک انصاف نے احتجاج کی اجازت کیلئے درخواست دی تھی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ انتظامیہ سے معلوم کرتا ہوں کہ درخواست پر کیا فیصلہ ہوا،بار کے صدر نے کہا کہ پولیس وکلاء کو بھی گھروں میں گھس کر گرفتار کر رہی ہے، سابق جج ناصرہ جاوید کے گھر بھی رات گئے پولیس نے چھاپہ مارا،مظاہرین اور حکومت دونوں ہی آئین اور قانون کے پابند ہیں،
    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے کا اختیار کسی کو نہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مسلح افراد کو احتجاج کی اجازت کیسے دی جا سکتی؟ شعیب شاہین نے کہا کہ ابھی تو احتجاج شروع ہی نہیں ہوا تو مسلح افراد کہاں سے آ گئے؟ مولانا فضل الرحمان دو مرتبہ سرینگر ہائی وے پر دھرناُدے چکے ہیں، بلاول بھٹو بھی اسلام آباد میں لانگ مارچ کر چکے ہیں اب بھی مظاہرین کیلئے جگہ مختص کی جا سکتی ہے،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ معیشت کے حوالے سے عدالت کو ایسی بات نہیں کرنی چاہیے،معیشت کے حوالے ریمارکس میڈیا کو چلانے سے روکا جائے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ملک کی معاشی صورتحال تو ہر انسان کو معلوم ہے،

    دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جی اٹارنی جنرل بتائیں کیا ہدایات لی ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پی ٹی آئی نے سری نگر ہائی وے پر دھرنے کی اجازت مانگی،سیکیورٹی صورتحال کے باعث سری نگر ہائی وے کی اجازت نہیں دی گئی، سیکیورٹی ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کی جان کو خطرہ ہے،سیکیورٹی اداروں نےعمران خان پر خود کش حملہ کا خدشہ ظاہر کیا ہے،

    عدالت نے کہا کہ کیا حکومت نے جلسے کیلئے کوئی متبادل جگہ آفر کی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت نے جمہوری پارک سمیت کچھ جگہوں کی آفر کی تحریک انصاف صرف سری نگر ہائی وے پر جلسے کیلئے بضد ہے سری نگر ہائی وے بلاک ہونے سے پورا اسلام آباد متاثر ہوتا ہے, جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سری نگر ہائی وے تو پہلے بند کر دی گئی ہے سیکریٹری داخلہ بتائیں سڑکیں بند کیوں ہیں گرفتاریاں کیوں کی گئیں، سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ آئی جی پولیس اور صوبائی افسران گرفتاریوں کا جواب دیں گے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سپریم کورٹ چاہتی ہے عوام کے معمولات زندگی متاثر نہ ہوں سپریم کورٹ نے دونوں فریقین کو بیٹھ کر معاملے کے حل کی ہدایت کر دی

    سپریم کورٹ نے کہا کہ جلسے کیلئے ڈھائی بجے تک متبادل جگہ کا بتایا جائے،چیف کمشنر اسلام آباد متبادل پلان پیش کریں ،سپریم کو رٹ نے پی ٹی آئی کے وکیل کو اپنی جماعت سے ہدایت لینے کا حکم دے دیا اور کہا کہ پی ٹی آئی یقینی بنائے کہ جلسے سے عوامی حقوق متاثر نہیں ہونگے، سپریم کو رٹ نے کیس کی سماعت میں ڈھائی بجے تک وقفہ کردیا اور کہا کہ سری نگر ہائی وے کے علاوہ کسی اور جگہ کا تعین کیا جائے، عدالت نے چیف کمشنر اسلام آباد کو پی ٹی آئی کو لانگ مارچ کے لیے متبادل انتظامات کرنے کی ہدایت کر دی،کہا لانگ مارچ کے لیے مناسب جگہ فراہم کریں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ مظاہرین کو رسائی دینے کے لیے ٹریفک پلان بنایا جائے،مظاہرین اپنا احتجاج کریں اور گھروں کو جائیں،پی ٹی آئی سے یقین دہانی بھی لیں گے کہ احتجاج پر امن ہوگا،املاک کو نقصان نہ پہنچے، تشدد ہو نہ ٹریفک بلاک ہو،سیکریٹری داخلہ ،چیف کمشنر،ڈپٹی کمشنر،آئی جی اور اٹارنی جنرل معاملے کا حل نکالیں پی ٹی آئی کے وکیل ہدایات لیکر انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھیں، سب بہاریں پاکستان کے ساتھ ہیں،اگر پی ٹی آئی کو گرفتاری کا خدشہ تو لسٹ دے دیں،جنھیں گرفتاریوں کا خدشہ ہے انھیں تحفظ دینگے،سیاسی جماعتوں کے بھی مفادات ہیں،عوام اورملک کے سامنے سیاسی مفادات کی حیثیت نہیں،ملک کی بہاروں کو آپس کی لڑائیوں میں خزاں میں تبدیل نہ کریں سیاست میں آج ایک اور کل دوسرا ہوگا

    لانگ مارچ روکنے کیلئے راستوں کی بندش اور چھاپوں کیخلاف کیس کی تیسری بار سماعت ہوئی،پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان عدالت میں پیش ہوگئے ،بابر اعوان نے کہا کہ 23مئی کو جلسے کی اجازت مانگی گئی عدالت حکومت کو چند احکامات جاری کرے،سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور پی ٹی آئی وکلا کو دوبارہ بیٹھ کر حل نکالنے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ ایک گھنٹے میں عدالت کو مذاکرات سے متعلق آگاہ کیا جائے،ایک گھنٹے بعد دوبارہ کیس سنیں گے،دونوں فریقین ہدایات لیکر آگاہ کریں، سپریم کور ٹ نے کیس کی سماعت میں ایک گھنٹے کا وقفہ کردیا

    عدالت نے حکم دیا کہ پی ٹی آئی کے مطالبات سے متعلق حکومتی ہدایات سے آگاہ کیا جائے،عدالت نے پی ٹی آئی اور حکومت کو ایچ نائن گراونڈ میں جلسے کی اجازت پر مشاورت کر کے آگاہ کرنے کا حکم دیا، پی ٹی آئی نے جلسے کیلئے ایچ نائج گراونڈ دینے کی استدعا کر دی،بابر اعوان نے کہاکہ عمران خان نے چار مطالبات رکھے ہیں، پی ٹی آئی نے جے یو آئی کو دھرنے کیلئے ایچ نائن گراونڈ دیا تھا، تمام گرفتار کارکنان کو رہا کیا جائے، تمام کنٹینرز اور رکاوٹیں ہٹائی جائیں چادر اور چار دیواری کا تحفظ یقینی بنایا جائے ، وکلا کے چیمبرز پر ریڈ اور گرفتاری کو فوری روکا جائے

    جسٹس اعجاز الاحسن نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پوچھ کر بتائیں احتجاج کب تک رہے گا ؟ فیض آباد یا موٹروے بندکرنے سے کام نہیں ہوگا، کوئی فوڈ چین نہیں ٹوٹے گی ،

    پی ٹی آئی نے سری نگر ہائی وے پر دھرنے کی اجازت دینے کی استدعا کر دی وکیل نے کہا کہ جہاں جے یو آئی نے دو مرتبہ دھرنا دیا وہاں ہی احتجاج کرنا چاہتے ہیں پی ٹی آئی نے پرامن دھرنے اور امور زندگی متاثر نہ ہونے کی یقین دہانی کروا دی سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کی استدعاپر وزیراعظم سے ہدایات لینے کا حکم دیدیا،عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل ایک گھنٹے میں وزیراعظم سے ہدایات لیکر آگاہ کریں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ توقع ہے ایک گھنٹے میں فریقین کا اتفاق رائے ہو جائے گا، سپریم کورٹ سیاسی معاملات میں نہیں پڑے گی سیاسی معاملات کے لیے آئین نے اجازت دی ہے، سیاسی معاملات سے ہمارا لینا دینا نہیں، لیکن ہم نے آئنیی معاملات کو دیکھنا ہے،دونوں فریقین میں رابطے کا فقدان ہے، شائستگی کی کمی کی وجہ سے معاملات بگڑ رہے ہیں، وکلا کو ہراساں نہ کیا جائے اور نہ انکے دفاتر پر چھاپے مارے جائیں، عدالت اس معاملے میں ثالثی کا کردار ادا کررہی ہے،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے بابر اعوان سے کہا کہ تحریک انصاف دھرنے کا دورانیہ بتائے، جس پر بابراعوان نے جواب عدالت کو بتانے سے معذرت کر لی اور کہا کہ یہ سیاسی فیصلہ ہے اس کو سیاسی فورم پر ہی ہونے دیں،ہمارا مطالبہ نئے انتخابات کا ہے اس پر اٹارنی جنرل سے بات نہیں کروں گا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ احتجاج روکنے کیلئے چھاپے اور گرفتاریاں غیر قانونی عمل ہے، پی ٹی آئی کو موٹروے یا فیض آباد بند نہیں کرنے دینگے،شیلنگ اور لاٹھی چارج کے حوالے سے باضابطہ حکم جاری کرینگے،ایم پی او کے حوالے سے بھی حکمنامہ جاری کرینگے،

    سپریم کورٹ کی جانب سے پنجاب پولیس کے اقدامات پر اظہار برہمی کیا گیا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیاپولیس کا کام گاڑیاں توڑنا اور آگ لگانا ہے؟ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ لاہور میں ایک گھر سے اسلحہ برآمد ہوا، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ اسلحہ تو آج کل ہر گھر میں ہوتا ہے،صبح سے کیا اسلحے والی کہانی سنائی جا رہی ہےاسلحہ کہانی کو اب بند کر دیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ لاہور کو میدان جنگ بنایا ہوا ہے، پنجاب میں جو ہو رہا ہے وہ بدقسمتی ہے،

    پرامن احتجاج اور مارچ ہمارا قانونی اور آئینی حق ہے، شاہ محمود قریشی

    ملتان میں پولیس کریک ڈاون ،پی ٹی آئی کے 70 سے زائد کارکنان گرفتار

    پی ٹی آئی کارکنان اور قیادت کے گھروں پرچھاپے،عمران خان کا ردعمل

    ماڈٌل ٹاؤن میں پی ٹی آئی ایکٹیوسٹ کے گھر چھاپہ،دوران فائرنگ پولیس اہلکار شہید

    ’خونی مارچ ہوگا‘ کے اعلانانات کرنے والوں سے حساب لیں گے،وزیر داخلہ

    لال حویلی، پولیس چھاپے کے دوران رکن اسمبلی گرفتاری سے بچنے کیلئے پچھلے گیٹ سے فرار

    لانگ مارچ،متحرک کارکنان کی فہرستیں تھانوں کو مل گئیں

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

  • عدالت کا لانگ مارچ کے شرکاء کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

    عدالت کا لانگ مارچ کے شرکاء کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاری، راستوں کی بندش سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی عدالت نے پی ٹی آئی وکیل سے استفسار کیا کہ آپ بیان حلفی نہیں دے سکتے تو پھر عدالت کیسے عمومی آرڈر جاری کردے؟-

    دوران سماعت پی ٹی آئی وکیل بیرسٹر علی ظفر نےکہا کہ گزشتہ رات ملک بھر میں پی ٹی آئی کارکنوں اور رہنماوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا پی ٹی آئی قیادت اور کارکنوں کوگرفتاراور ہراساں کیا جارہا ہے –

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ دھرنوں اور جلسوں سے متعلق سپریم کورٹ کا احکامات واضح ہیں – بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ کارکنوں کو اکٹھے ہونے سے نہیں روکا جاسکتا -چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ دھرنا کیس میں قواعد و ضوابط واضح کر چکی ہے چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں قواعدِ و ضوابط پر عمل کیا جائے-چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بیرسٹر علی ظفر سے مکالمہ کیا کہ آپ پہلے ضلعی انتظامیہ سے اجازت لیں-

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مسئلہ اجازت کا نہیں کارکنوں کو گرفتار کیا جارہا ہے-چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پرامن احتجاج آپ کا حق ہے آپ عدالت سے عمومی حکم مانگ رہے ہیں عدالت عمومی حکم نامہ جاری نہیں کرسکتی کل کو خدانخواستہ کوئی واقعہ ہو جائے یہ عدالت عمومی آرڈر جاری نہیں کرسکتی سپریم کورٹ کے دھرنا کیس کے فیصلے کے مطابق ہدایات دے دیتے ہیں- بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ وکلا، سابق ججز کے گھروں تک پر چھاپے مارے جارہے ہیں -چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا بیان حلفی دے سکتے ہیں کہ کوئی واقعہ نہیں ہوگا اگر ہوا تو آپ ذمہ دار ہونگے؟ آپ بیان حلفی نہیں دے سکتے تو پھر عدالت کیسے عمومی آرڈر جاری کردے؟-

    پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے استدعا کی کہ میں عدالتی فیصلوں کا جائزہ لے کر عدالت کی معاونت کر دیتا ہو-عدالت نے بیرسٹر علی ظفر کو عدالتی فیصلوں کا جائزہ لینے کے لیے وقت دے دیا اسلام آباد ہائیکورٹ نے سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کردیا-

    وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی تو بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ لانگ مارچ کے حوالے سے اس کورٹ کے دائرہ کار سے گرفتاریوں کو روکا جائے، عدالت نے استفسارکیا کہ کیا آپ نے ضلعی انتظامیہ کو درخواست دے دی ہے؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم نے 25 مئی کو ریلی کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو درخواست دے دی ہے-

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ بلینکٹ آرڈر تو یہ عدالت نہیں دے سکتی کیونکہ یہاں پر حساس عمارتیں ہیں، یہاں پر ایمبیسیز ہیں اس طرح کا آرڈر تو جاری نہیں کر سکتے، عدالت یہ کہہ سکتی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کیا جائے یہ عدالت محض خدشے کے پیش نظر حکم جاری نہیں کرسکتی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے کارکنان اور لانگ مارچ کے شرکاء کو ہراساں نہ کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی نوعیت کی ہراسگی یا گرفتاری پر آئی جی پولیس سے جواب طلبی ہو گی

    معیشت اورعوام کوبچانےکےلیےریڈلائن لگانے کا وقت آگیا ہے،مریم اورنگزیب

    آپ بیان حلفی نہیں دے سکتے تو پھر عدالت کیسے عمومی آرڈر جاری کردے؟ ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی وکیل سے استفسار

    پرامن احتجاج اور مارچ ہمارا قانونی اور آئینی حق ہے، شاہ محمود قریشی

    ملتان میں پولیس کریک ڈاون ،پی ٹی آئی کے 70 سے زائد کارکنان گرفتار

    پی ٹی آئی کارکنان اور قیادت کے گھروں پرچھاپے،عمران خان کا ردعمل

    ماڈٌل ٹاؤن میں پی ٹی آئی ایکٹیوسٹ کے گھر چھاپہ،دوران فائرنگ پولیس اہلکار شہید

    ’خونی مارچ ہوگا‘ کے اعلانانات کرنے والوں سے حساب لیں گے،وزیر داخلہ

    لال حویلی، پولیس چھاپے کے دوران رکن اسمبلی گرفتاری سے بچنے کیلئے پچھلے گیٹ سے فرار

  • شیرانی جنگلات میں آگ کا واقعہ:جسٹس جمال خان مندوخیل کی چیف جسٹس پاکستان سےازخود نوٹس کی درخواست

    شیرانی جنگلات میں آگ کا واقعہ:جسٹس جمال خان مندوخیل کی چیف جسٹس پاکستان سےازخود نوٹس کی درخواست

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جج جسٹس جمال خان مندوخیل نے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال سے شیرانی کے جنگلات میں لگی آگ پر از خود نوٹس لینے کی درخواست کردی۔

    باغی ٹی وی : جسٹس جمال خان نے چیف جسٹس کو یہ درخواست کوئٹہ رجسٹری میں ضلع شیرانی کے وکلاء کی جانب سے آگ کے حوالے سے دائر کیس کی سماعت کے دوران دی۔

    بلوچستان میں امدادی کاروائیوں کیلئےمولانا عبد الواسع وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی نامزد

    جسٹس جمال خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ شیرانی کے جنگلات میں لگی آگ بجھانے کے لیے اقدامات اور وسائل نا کافی ہیں، چیف جسٹس ازخود نوٹس لے کر حکومت کو آگ سے پیدا سنگین چیلنج سے مؤثر طور پر نمٹنے کی ہدایت دیں۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل کی جانب سے ازخود نوٹس کی تحریری درخواست چیف جسٹس کو کوئٹہ سے اسلام آباد ارسال کر دی گئی ہے۔

    دوسری جانب شیرانی کےجنگلات میں لگی آگ پر تاحال قابو نہیں پایا جاسکامحکمہ جنگلات کے حکام کا کہنا ہےکہ جنگلات میں لگی آگ کو بجھانے میں مشکلات کا سامنا ہے جس کے باعث آگ شیرانی کے علاقوں شرغلئی، سورلوکی اور چمازئی کے جنگلات میں لگی آگ مزید پھیلنے کاخدشہ ہے۔

    محکمہ جنگلات کے مطابق شیرانی کے جنگلات میں لگی آگ سے چلغوزے اور زیتون کے درخت شدید متاثر ہوئے لہٰذا جنگلات میں لگی آگ کو بجھانے کے لیے فضائی آپریشن تیز کرنے کی ضرورت ہے جنگلات میں لگی آگ کے باعث فضائی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے اور جنگلی حیات بھی متاثر ہوئی ہیں۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق ضلع شیرانی بلوچستان کے جنگلات میں آتشزدگی،پاک آرمی اور ایف سی کی امداد جاری ہے وفاقی حکومت کی طرف سے آگ پر قابو پانے کے لیے بلوچستان حکومت کی بھرپور امداد جاری ہیں-

    آصف زرداری کی مولانا فضل الرحمن سےملاقات’موجودہ سیاسی صورتحال پرغور

    ترجمان این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پاکستان رینجرز ونگ نے بلوچستان حکومت کے ماتحت امدادی کارروائیوں میں شرکت کی شیرانی بلوچستان کے جنگلات میں لگی آگ پرہیلی کاپٹر کے ذریعے قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں این ڈی ایم اے کی طرف سے بلوچستان حکومت کو آگ بجھانے کے لیے ضروری سامان فراہم کیا گیا ہے جبکہ وفاقی حکومت ،این ڈی ایم اے کی جانب سے بلوچستان کو ہر ممکن امداد کی یقین دہانی کرائی گئی ہے-

    ڈیرہ بگٹی:کلورینیشن کےبعد فعال تالابوں سے پانی کی پمپنگ شروع، 63 واٹر باؤزرفعال،آئی ایس پی آر

    واضح رہے کہ جمعرات کی صبح کوہ سلیمان میں شرغلئی کے علاقے میں چلغوے کے جنگلات میں نئی اگ لگ گئی تھی جسے بجھانے کی کوششوں کے درمیان آگ کی زد میں آکر تین افراد جھلس کرجاں بحق جبکہ سات زخمی ہوگئے تھے-

    ڈپٹی کمشنر شیرانی کا کہنا تھا کہ پہاڑی علاقہ اور دشوار گزار راستہ ہونے کی وجہ سے آگ بجھانے میں کافی دشواری پیش آرہی ہے پاک فوج کا ہیلی کاپٹر جنگلات میں لگی آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے-

    بنی گالہ کے اطراف پولیس کا سرچ آپریشن،پی ٹی آئی رہنما عالمگیر کے گھر چھاپہ

  • سپریم کورٹ کے احکامات ،چیئرمین نیب نے تبادلوں پر پابندی لگا دی

    سپریم کورٹ کے احکامات ،چیئرمین نیب نے تبادلوں پر پابندی لگا دی

    سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد ،چیئرمین نیب نے تبادلوں پر پابندی لگا دی

    چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال نے نیب میں ٹرانسفر پوسٹنگ پر فوری پابندی لگا دی

    نیب کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں کی گئیں پوسٹنگ اورٹرانسفرز پر عمل بھی فوری طور پر روک دیا گیا،چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال نے نیب ہیڈکوارٹرزاوربیوروز کو عدالتی فیصلے پر عمل کرنے کی ہدایت کر دی،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے از خود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے کئے جانے والے تبادلوں کا ریکارڈ طلب کیا تھا، نیب کی جانب سے بھی کچھ تبادلے حالیہ دنوں میں کئے گئے تھے جنکو آج چیئرمین نیب نے روک دیا ہے،

    دوسری جانب حکومت نے تکنیکی بنیادوں پر چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے نیب ترمیمی آرڈیننس کی میعاد 2 جون کو ختم ہو رہی ہے اور جب آرڈیننس ختم ہوگا تو موجودہ چیئرمین نیب اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکیں گے۔ نیب ترمیمی آرڈیننس میں موجودہ چیئرمین نیب کو اگلے چیئرمین کی تعیناتی تک کام جاری رکھنے کی شق شامل کی گئی تھی اور جسٹس (ر) جاوید اقبال عارضی انتطام کے تحت اس وقت بطور چیئرمین نیب کام کر رہے ہیں

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    منحرف اراکین نااہلی کیس، پی ٹی آئی وکیل نے الیکشن کمیشن سے وقت مانگ لیا

  • ہائی پروفائل کیسز کی تفتیش کرنے والوں کے تبادلے تا حکم ثانی نہیں کیے جائینگے،سپریم کورٹ

    ہائی پروفائل کیسز کی تفتیش کرنے والوں کے تبادلے تا حکم ثانی نہیں کیے جائینگے،سپریم کورٹ

    ہائی پروفائل کیسز کی تفتیش کرنے والوں کے تبادلے تا حکم ثانی نہیں کیے جائینگے،سپریم کورٹ

    حکومتی عہدیداروں کی مداخلت سے متعلق سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کی سماعت،تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا، سپریم کورٹ کا تحریری حکم نامہ5صفحات پر مشتمل ہے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی تھی تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ تمام افسران تحریری طور پر اپنے جواب عدالت میں جمع کرائیں، سیکریٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے ، چیئرمین اور ریجنل ڈائریکٹرز نیب کو نوٹس جاری کئے گئے،چاروں صوبوں کے ایڈوکیٹ جنرلز اور پراسکیوٹر جنرلز اورایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو نوٹس جاری کئے گئے،نیب اور ایف آئی اے کے پراسیکیوشن سربراہوں کو بھی نوٹس جاری کئے گئے نیب اور ایف آئی اے میں ہائی پروفائل مقدمات میں گزشتہ6ہفتوں میں تبادلوں کی تفصیل جمع کرانے کا حکم دیا گیا تقرریوں اور افسران کے ہٹائے جانے سے متعلق بھی تفصیلات جمع کرانے کا حکم دیا گیا عدالت نے گزشتہ 6ہفتوں میں ای سی ایل سے نکالے گئے ناموں کی تفصیلات طلب کرلی ای سی ایل پر اسٹیسٹس کو آئندہ سماعت تک برقرار رہے گا نیب عدالتوں، اسپیشل کورٹس میں استغاثہ اور تحقیقات کا ریکارڈ محفوظ کرنے کا طریقہ کار طلب کر لیا گیا

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں حکومتی شخصیات کے کیسز میں مداخلت کے تاثر پر از خود نوٹس کی سماعت ہوئی ،چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے ازخودنوٹس کی سماعت کی سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل اشترواوصاف پیش ہوئے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے پیپر بک پڑھا ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی میں نے پیپر بک پڑھا ہے پیپر بک جج کی جانب سے مداخلت کے بارے میں ہے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ نوٹس لینے کی جو وجوہات ہیں، وہ صفحہ نمبر 2 پر موجود ہیں،

    پیپر بک نمبر 2 میں ڈی جی ایف آئی اے ثنا اللہ عباسی اور ڈاکٹر رضوان کی موت کا ذکر موجود ہے ازخود نوٹس کیس میں تیارکی گئی پیپر بک میں مختلف اخبارات کے تراشے شامل تھے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور میں ایک کیس کے دوران ایف آئی اے کے استغاثہ کو پیش نہ ہونے کی ہدایت کی گئی ہم آپ سے گارنٹی چاہتے ہیں کہ استغاثہ کا ادارہ مکمل آزاد ہونا چاہیے، ایسا کیوں ہوا، ڈی جی ایف آئی اے جوخیبرپختونخوا کے آئی جی تھے کاتبادلہ کیوں کیا گیا؟ ڈاکٹر رضوان قابل افسر تھے،ان کو کیوں ہٹایا گیا ،یہ سب پیش رفت بظاہر کریمنل جسٹس سسٹم میں مداخلت کے مترادف ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو ہدایت دی کہ آپ اس ساری صورتحال کا جائزہ لیں،ای سی ایل سے 4 ہزار سے زائد افراد کے نام نکالے گئے، ای سی ایل سے نام نکالنے کا طریقہ کار کیا تھا؟ہمارے ملک میں جوکرمنل جسٹس سسٹم ہے اس کے بارے میں خبریں آئیں، اس وقت ہم کوئی رائے نہیں دے رہے ہم نے لوگوں سے رول آف لا کا وعدہ کیا ہے اس کی حفاظت کرنے والے ہیں، میں امید کرتا ہوں کی وفاقی حکومت پولیس کے ساتھ تعاون کریگی،ان تمام کرمنل کیسز کو سنبھالنے رکھنا استغاثہ کی ذمے داری ہے،اس سماعت کا مقصد کسی کو خفا کرنا نہیں، عدالت نوٹس جاری کرتی ہے،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پیپر بک نمبر دو میں ڈاکٹر رضوان کو اچانک دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے موت کا ذکر ہے،ازخود نوٹس کیس میں تیارکی گئی پیپر بک میں مختلف اخبارات کے تراشے شامل ہیں، رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم کے خلاف تحقیقات کرنے والے افسران تبدیل کیے گئے، ڈی جی ایف آئی اے جیسے قابل افسر کو ہٹا یا گیا بتایا جائے ہائی پروفائل کیسز میں افسران کے تقرر تبادلے کیوں کیے گئے

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر یہ لگتا ہے کہ تقرریاں اور تبادلے جان بوجھ کر کیے گئے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ ای سی ایل سے نام براہ راست نہیں نکال سکتے،ہم نے دیکھا ہے کہ ای سی ایل سے نام نکلوانے کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا جاتا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ای سی ایل میں نام ڈالنے کے لیے ایک طریقہ کار ہوتا ہے تو نکالنے کا بھی ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر کہتا ہوں کہ ازخود نوٹس لینے کا ہمارا مقصد کرمنل جسٹس سسٹم کی مضبوطی ہے،ہم یہاں پوائنٹ اسکور کرنے کے لیے اکٹھے نہیں ہوئے،ہم کسی کی تنقید سے گھبرانے والے نہیں ہیں،عدالت فیصلہ کرتے ہوئے کبھی نہیں گھبرائی،آج کئی سیاسی پارٹیوں کےمضبوط سوشل میڈیا سیکشنز ہیں، ہم سوشل میڈیا کی تمام چیزوں کو نوٹ کرتے ہیں اور آپس میں بات کرتے ہیں چاہتے ہیں آرٹیکل 10فوراے اور 25 پر عمل کیا جائےہم متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کررہے ہیں، یہ کارروائی کسی کو ملزم ٹھہرانے یا کسی کو شرمندہ کرنے کے لیے نہیں ہے یہ کارروائی فوجداری نظام اور قانون کی حکمرانی کو بچانے کے لیے ہے

    عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین نیب ، سیکریٹری داخلہ کو نوٹسزجاری کردیئے عدالت نے حکم دیا کہ سیکریٹری داخلہ بتائیں کہ کیوں استغاثہ کے کام میں مداخلت کرتے ہیں؟ وضاحت کریں مقدمات میں مداخلت کیوں ہورہی ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے مداخلت پر بیان دیا ،کراچی اور لاہور میں عدالتوں میں ججز موجود نہیں کیا آپ کواس بارے میں معلوم ہے ، ججز کو بھی جوڈیشل نظام میں محتاط رہنا ہوگا ، اس کا ہم قریب سے جائزہ لیتے ہیں،وہ نام جمع کرائے جائیں جن کے نام ای سی ایل سے اس دوران نکالے گئے،

    عدالت نے حکم دیا کہ ہائی پروفائل کیسز کی تفتیش کرنے والوں کے تبادلے تا حکم ثانی نہیں کیے جائینگے چھ ماہ میں استغاثہ اور تفتیشی اداروں میں تقرریوں کے بارے میں تفصیل جمع کرائی جائیں، حکومتی شخصیات کے کیسز میں مداخلت کے تاثر پر از خودنوٹس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی گئی

    شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا

    اداروں کے خلاف بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔جلیل احمد شرقپوری

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    خدارا ملک کا سوچیں،مجھے فخر ہے میں ایک شہید کا باپ ہوں،ظفر حسین شاہ

    ایک بیٹا شہید،خواہش ہے دوسرے کو بھی اللہ شہادت دے،پاک فوج کے شہید جوانوں کے والدین کے تاثرات

    شہادت سے سات ماہ پہلے بیٹے کی شاد ی کی تھی،والدہ کیپٹن محمد صبیح ابرار شہید

  • سابق بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی قاتل 30 سال بعد رہا

    سابق بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی قاتل 30 سال بعد رہا

    نئی دہلی :سابق بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی قاتل 30 سال بعد رہا،اطلاعات کے مطابق آج بھارت میں ایک عدالتی فیصلے نے سب کو حیران کرکے رکھ دیا ہے ، جس کے نتیجے میں بھارتی میڈیا اس وقت اس موضوع پرکھل کربات کررہا ہے، اطلاعات ہیں کہ بھارتی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کو قتل کرنے میں ملوث مجرم کو قید کے 30 سال بعد رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق سن1991 میں راجیو گاندھی کے قتل کے بعد اے جی پیراری ویلن کو گرفتار کیا گیا تھا ۔یہ بھی بتایا جارہاہے کہ اے جی پیراری ویلن پہلے ہی مارچ 2022 سے پیرول پر جیل سے باہر ہے اور بھارتی سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے اب اس کی رہائی کا حکم دیا ہے۔یہ حکم بڑے لمبے عرصے سے جاری سماعتوں کے بعد دیا گیاہے

    خیال رہے کہ راجیو گاندھی کو تامل ناڈو میں ایک انتخابی جلسے کے دوران خاتون خودکش بمبارنے خود کو دھماکے سے اڑا کر قتل کیا تھا اور اے جی پیراری ویلن کو بم میں استعمال ہونے والی بیٹریاں فراہم کرنے پر سزا سنائی گئی تھی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق یہ حملہ 1987 میں وزیراعظم راجیو گاندھی کی جانب سے سری لنکا میں قیام امن کی مبینہ کوششوں پر لبریشن ٹائیگر آف تامل ایلام نے کرایا تھا۔اے جی پیراری ویلن کو 1991 میں جب گرفتار کیا گیا تھا اس کی عمر 19 سال تھی اور پہلے اسے 1998 میں سزائے موت سنائی گئی مگر بعد ازاں اس سزا کو عمر قید سے بدل دیا گیا۔2015 میں اس کی جانب سے مرکز اور ریاستی حکومت کے پاس رحم کی درخواست جمع کرائی گئی تھی جس کے بعد سے یہ مقدمہ چل رہا تھا۔

    تامل ناڈو کے گورنر کی جانب سے رحم کی درخواست پر فیصلہ بھارتی صدر پر چھوڑ دیا گیا تھا مگر سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس کی کوئی آئینی حیثیت نہیں اور اے جی پیراری کی رہائی کے احکامات جاری کیے۔راجیو گاندھی قتل کیس کے 6 مجرم اب بھی جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں اور گزشتہ برسوں کے دوران ریاست تامل ناڈو کی حکومتوں سے ان سب کی رہائی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔

    ادھر بھارتی میڈیا کے مطابق راجیوگاندھی کے مبینہ قاتل اے جی پیراری ویلن سے قبل ریاستی گورنر نے کیس میں سزا پانے والی ایک خاتون نالنی کی سزائے موت کو ختم کردیا تھا جبکہ 2014 میں سپریم کورٹ نے تمام قیدیوں کی سزائے موت کو ختم کردیا تھا